Hijaab Apr 19

عشق دی بازی(قسط ۱۶)

ریحانہ آفتاب

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

عیشال جہانگیر چودھری حشمت کی بات پر ساکت رہ جاتی ہے۔ سمہان آفندی اس کی خاموشی کو کسی طوفان کی آمد سمجھتا ہے۔ چودھری آفندی چودھری جہانگیر کی بات پر خوش ہوتے ہیں۔ فریال کے لیے عیشال بیٹیوں جیسی تھی اور انہوں نے ہمیشہ ہی سمہان اور اسے ہی سوچا تھا لیکن چودھری حشمت کے سامنے وہ بولنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ منزہ اپنی بیماری سے خوفزدہ ہوتی ہیں اور اس لیے چاہتی ہیں کہ انوشا کی شادی جلدی ہوجائے جبکہ ماورا، منزہ کا علاج کرانا چاہتی ہے لیکن منزہ، ماورا یحییٰ اور انوشا کو شادی کی شاپنگ کرنے بازار بھیج دیتی ہیں۔ تب ماورا انوشا کو یونیورسٹی میں ایشان جاہ کی حیرت کا بتاتی ہے۔ چودھری بخت، شنائیہ کی حرکت سے خفا ہوتے ہیں اور ساتھ ہی شاہ زر شمعون سے شرمندہ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ شاہ زر شمعون سے شنائیہ کی حرکت پر معافی مانگتے اسے گھر چلنے پر راضی کرلیتے ہیں۔ ماورا اپنے گھر میں ایشان جاہ کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ عیشال کا دل چاہتا ہے کہ کہیں دور چلی جائے۔ اس کی ان کہی محبت نرمین نے دھڑلے سے ہتھیالی تھی۔ سمہان کی خاموشی پر وہ اپنی محبت کا سوگ منا رہی ہوتی ہے تب سمہان چھت پر آتا ہے اور اسے روتا دیکھ کر اسے بھی افسوس ہوتا ہے۔ نرمین، صہبا سے چودھری جہانگیر اور ان کے درمیان ہونے والی بات کی بابت پوچھتی ہے جس پر صہبا، چودھری جہانگیر کی خوشی اور حویلی میں رشتہ طے ہوجانے کی خبر سناتی ہیں اور اسے سمہان سے با ت کرنے کا بھی کہتی ہیں تب وہ سمہان کا نمبر صہبا سے مانگتی ہے۔ منزہ ماورا اسے ایشان جاہ کے حوالے سے بات کرتی اسے چونکا جاتی ہیں۔ ماورا انہیں مختصراً ایشان کے بارے میں بتاتی ہے۔ تب منزہ الجھی ہوئی باتیں کرتی ماورا کو پریشان کرجاتی ہیں۔ نرمین حویلی فون کرکے سمہان سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے دوسری طرف عیشال جہانگیر، سمہان کے موبائل پر رابط کرنے کا کہتی اسے تلملاہٹ میں مبتلا کردیتی ہے۔ ندا بے بسی کی تصویر بنی ملازموں کو راحیل پر ظلم کرتے دیکھ رہی تھی تب ہی عیشال جہانگیر آگے بڑھ کر ملازموں کو منع کرتی ہے۔ سمہان یہ منظر دیکھ کر عیشال جہانگیر کو حویلی کے اندر لے جاتا ہے اور اسی وقت گولیوں کی آواز فضا میں بلند ہوتی ہے۔ جس پر عیشال جہانگیر ساکت رہ جاتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

’’راحیل سے ملاقات ایک سال پہلے ہوئی تھی‘ وہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں نیا مائیگریٹ ہوکر آیا تھا۔ سُلجھی ہوئی طبیعت کا بہت ذہین لڑکا تھا۔ جلد ہی اس نے اساتذہ کی نظروں میں عزت حاصل کرلی تھی… باقی تمام لڑکوں کی طرح میں اس سے بھی لیے دیے رہتی تھی لیکن اس نے جیسے میرا پیچھا پکڑ لیا تھا… اس نے کبھی کوئی اوچھی حرکت نہیں کی تھی… ہر بار اظہار کرتا کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے لیکن میں اسے جھڑک کر نظر انداز کرتی رہی۔ وہ پیچھے نہیں ہٹا… ہر بار پوری شدت سے اظہار کرتا اور پتا نہیں کب مجھے بھی اس سے مُحبت ہوگئی… حویلی کے اُصولوں کو جانتے بُوجھتے اس جُرم کا اِرتکاب کر بیٹھی۔ داجان نے میرے رشتے کی بات کی تو راحیل کو سچ بتا کر پیچھے ہٹ جانے کا کہا مگر اس کی ضد تھی کہ وہ ایک بار اپنی فیملی کو رشتے کے لیے حویلی ضرور بھیجے گا۔ میں اسے اس ضد سے باز رہنے کا کہہ رہی تھی… مجھے نہیں پتا ڈرائیور کی کب نظر پڑی اور وہ کب سے دا جان کو رپورٹ دے رہا تھا۔ وہ ان غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ میں نے سختی سے کہا کہ وہ دور رہے لیکن وہ بضد تھا۔ آج راحیل کو یونیورسٹی پہنچنے سے پہلے ہی راستے سے اغوأ کر لیا گیا… اس کی غیر حاضری پہ مجھے شک ہوا اور حویلی آکر شک یقین میں بدل گیا کہ داجان ساری حقیقت جان گئے ہیں۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ لوگ راحیل کو مار رہے تھے اور مجھ میں تم جتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اس زیادتی پہ دو لفظ بھی کہہ سکوں… میری آنکھوں کے سامنے اس کے جسم میں گولیاں اُتار دی گئیں اور میں کچھ نا کر سکی… ایک بے گناہ مجھ سے محبت کے جرم میں جان کی بازی ہار گیا۔‘‘ عیشال جیسے ڈھے سی گئی تھی۔ کہانی کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آگئی تھی۔ ندا کا رشتہ طے ہونا… اس کے چہرے کا رنگ بدلنا اس کا اداس‘ پریشان پھرنا اور استفسار پہ مسکرا کے مطمئن کرنا سب کچھ نظروں کے سامنے گھوم گیا تھا۔
وہ ذرا سنبھلی تو عیشال دوڑ کر بالکنی تک آئی۔ نیم کا پیڑ سامنے تھا لیکن اس پیڑ سے اب کوئی بندھا ہوا نہیں تھا… ہاں کچی زمین سے خون کے نشان صاف کرتے ملازم اور سمہان کی گاڑی کو گیٹ سے نکلتے اس نے نفرت سے دیکھا تھا… وہ لاش ٹھکانے لگانے جاچکا تھا اور حویلی کے غلام اس قتل کے نشانات مٹانے میں مصروف تھے۔ حویلی کے باقی مکین اپنے معمولات میں پہلے کی طرح یوں مگن تھے جیسے ان کے کانوںنے نا کوئی فریاد‘ سُنی‘ نا گولیوں کی تڑتڑاہٹ… سمہان آفندی کا پرسکون خوابیدہ کمرہ اسے جلتی بھٹی لگنے لگا تھا۔ وہ پہلی فرصت میں ندا کے پاس آئی جو اپنے کمرے میں نیم مردہ حالت میں ساکت بیٹھی تھی۔ عیشال کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اور کن لفظوں میں اسے دلاسا دے۔ اس کی اپنی آنکھیں پانی سے بھرنے لگی تھیں۔ ندا نے سسکیوں کے بیچ حالِ دل کہا تو عیشال کا دل جیسے بند ہونے لگا تھا۔
’’اتنا بڑاظلم… محبت کرنے کی اتنی کڑی سزا…؟ راحیل کا قصور ہی کیا تھا… صرف محبت …‘‘
’’چُپ کر جائیں ندا آپی۔‘‘ مارے کرب کے وہ بس یہی کہہ سکی۔ ندا کے آنسو نرمی سے صاف کرتے وہ اسے سمجھانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔
’’عیشال… داجان تمہیں یاد کررہے ہیں۔‘‘ ساری حویلی میں اسے ڈھونڈتے سمہان آفندی کو جیسے یقین تھا کہ وہ ندا کے پاس ہی ملے گی اور وہی ہوا۔ ہلکی سی دستک دے کر وہ دروازے پہ موجود تھا۔ عیشال جہانگیر نے شرر بار نظروں سے اسے دیکھا‘ جیسے ان سب کا ذمہ دار وہی ہو‘ جانے کیوں عیشال جہانگیر کو وہ کچھ پریشان سا لگا۔ ورنہ بڑی سے بڑی بات پر بھی اس کے چہرے پہ پریشانی کے تاثر کم ہی دیکھنے کو ملتے تھے۔ ایک خاموش نظر ندا پہ ڈال کر سمہان آفندی نے اسے دیکھا کہ اس کے پیغام کے بعد اس کے کیا تاثرات ہیں۔ وہ یوں اُٹھی جیسے خود ہی اس بُلاوے کی منتظر ہو۔
’’تم نے جس مُحافظ کو پتھر مارا اس نے داجان سے شکایت کردی ہے… میں نے بات سنبھال لی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا… تم بھی داجان سے یہی کہنا… ان کے سامنے کچھ بھی اُلٹا سیدھا بولنے سے پرہیز کرنا اسی میں تمہاری بہتری ہے۔‘‘ سمہان آفندی اس سے قدرے فاصلہ رکھے چل رہا تھا‘ ساتھ ساتھ اسے سمجھا بھی رہا تھا‘ بلاوے کا مقصد بھی گوش گزار کردیا۔
’’لاش ٹھکانے لگا دی جلاد؟‘‘ چبھتے لہجے میں استفسار کرتی گویا اس کی ہدایت ان سُنی کر گئی تھی۔
’’میری ذمہ داری تھی۔‘‘ وہ ایک ثانیے کو چُپ ہوا اور پھر ہولے سے اعتراف کر گیا۔
’’نفرت ہے مجھے تم سے۔‘‘ سرخ آنکھیں اس پہ گاڑ دیں۔
’’بہتر۔‘‘ وہ سعادت مندی کا مظاہرہ کرتا ہم قدم تھا۔ چودھری حشمت کے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر چند سیکنڈ کو رکا۔
’’مجھ سے نفرت اپنی جگہ لیکن جو سمجھایا ہے‘ وہی کرنا۔‘‘ لاک کھولنے سے پہلے وہ ایک بار پھر یاددہانی کروا رہا تھا۔
اندر داخل ہونے پر چودھری حشمت اسے اپنی مخصوص کرسی پہ براجمان نظر آئے‘ کمرے میں اس وقت وہ اکیلے تھے یا ان کے حقے کی گڑگراہٹ۔ ان دونوں کی آمد پہ انہوں نے نظر اٹھائی‘ چودھری حشمت کے اشارے پہ سمہان آفندی ان کے ساتھ والی کرسی پہ براجمان ہوگیا اور وہ مجرم کی طرح کھڑی رہی۔
’’تمہیں خبر نہیں کہ حویلی کے معاملات میں بولنے کا اختیار مردوں کے پاس نہیں اور تم تو لڑکی ہو… پھر بھی اتنی جرأت؟‘‘ چودھری حشمت خشک لہجے میں کہتے سخت نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ سمہان آفندی خاموشی سے آنکھوں کے سامنے ساری کارروائی ہوتے دیکھ رہا تھا۔
’’نا صرف تم بیچ میں آئیں بلکہ تم نے ہمارے محافظ کو پتھر بھی مارا۔‘‘ انداز سے برہمی جھلک رہی تھی۔
’’افسوس کہ اس وقت میرے ہاتھ میں پسٹل نہیں ورنہ تمام جلادوں کو شوٹ کردیتی۔‘‘ اس کے چُپ رہنے پہ سمہان آفندی نے شکر کا سانس لیا لیکن اس کے تند لہجے نے لب کچلنے پہ مجبور کردیا۔
’’مطلب جانتی ہو اپنی باتوں کا؟‘‘ چودھری حشمت جیسے چونک کر غصہ سے غرائے۔
’’بہت اچھی طرح۔‘‘ وہ نڈر نظر آرہی تھی۔
’’یعنی تم حویلی سے بغاوت کرنا چاہ رہی ہو؟‘‘ چودھری حشمت مزید چراغ پا ہوئے۔
’’اگر ظلم کے خلاف بولنا بغاوت ہے تو ہاں میں باغی ہوں… ندا آپی اور راحیل کا قصور ہی کیا تھا صرف محبت…؟ آپ کے پیش کردہ انکل کے رشتے سے لاکھ درجے بہتر وہ راحیل تھا جسے آپ لوگوں نے سفاکی سے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔‘‘ سمہان آفندی نے مارے خوف کے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔ اس کی بے خوفی پہ چودھری حشمت نے گھورنے کا عمل جاری رکھا۔
’’طاقت کے زعم میں اتنا ظلم مت کریں داجان… مت لیں معصوم دلوں کی ہائے‘ مر کے آپ نے اور ہم سب نے اللہ کو ہی جواب دینا ہے‘ کسی دوسرے تیسرے بندے کو نہیں۔‘‘
’’جہانگیر ٹھیک ہی کہتا رہا کہ تم اپنا رنگ ضرور دکھاؤ گی مگر ہم نے ہی بن ماں کی بچی کہہ کر تمہاری ہر گستاخی کو درگزر کیا مگر اب… ہم یہ فیصلہ کرنے پہ مجبور ہوگئے ہیں کہ تم جیسی گستاخ لڑکی کے لیے حویلی میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘ اس کے لیکچر کو باریکی سے جانچ کے انہوں نے بولنا شروع کیا تو لہجہ حد سے زیادہ سرد تھا۔ دونوں ہی چونک گئے تھے۔
’’تمہارے لیے کیا فیصلہ کرنا ہے اس سے ہم جلد ہی آگاہ کرتے ہیں تمہیں‘ اب جاؤ یہاں سے۔‘‘ ان کے لہجے میں ناگواری سی ناگواری تھی۔
’’سمہان… اس گستاخ لڑکی کو لے جاؤ یہاں سے اور جاتے ہوئے اپنی دی جان کو پیغام دو کہ ہمیں ضروری بات کرنی ہے جلد ی تشریف لائیں۔‘‘ وہ پتھرائی ہوئی کھڑی تھی اسے بدستور موجود دیکھ کر انہوں نے خاموش بیٹھے سمہان آفندی کو حکم دیا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس تک آتے دروازے کی سمت اشارہ کر گیا تو وہ اس کے کہنے سے پہلے ہی قدم بڑھا گئی۔
’’کہہ دیا جو کہنا چاہتی تھی… مل گیا سکون…؟ بھگتنا اب جو سزا ملے۔‘‘ وہ جھنجلایا۔
’’بھگت لوں گی… تم سے مدد مانگنے نہیں آؤں گی… زندگی کی ہوس تمہیں ہوگی۔ مجھے موت کا خوف نہیں۔ ایک ہی چیز خوف کی وجہ تھی اب وہ خوف بھی نہیں تو ہار جیت‘ زندگی موت کوئی معنی نہیں رکھتی… لیکن اتنی آسانی سے حویلی والوں کے ظلم کی بھینٹ نہیں چڑھوں گی کہ اس حویلی کے جلاد مجھ پہ گولیاں چلائیں اور حویلی کا غلام میری لاش ٹھکانے لگا دے۔ اتنی آسانی تو میں کسی صورت مرنے والی نہیں… مرنے سے پہلے اس حویلی کی دیواریں تک ہلا کے مروں گی تاکہ اس حویلی کی بنیاد جب جب اٹھے انہیں یاد آئے کہ انہوں نے کسی عیشال کو جنم دینے کی غلطی کی تھی۔‘‘ اس سے کہیں زیادہ کڑوے لہجے میں سابقہ بے خوفی سے وہ بولی‘ اپنی بات پوری کرکے وہ رکی نہیں بلکہ تیزی سے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’ایک ہی چیز خوف کی وجہ تھی اب وہ خوف بھی نہیں تو ہار جیت‘ زندگی موت کوئی معنی نہیں رکھتی۔‘‘ اس کا کہا جملہ بازگشت بن کے اسے ساکت کر گیا تھا۔ جہاں اس کا دبنگ اعلان جنگ اسے پژمردہ کرنے کے لیے کافی تھا‘ وہیں چودھری حشمت کی طرف سے فکر مندی تھی جانے وہ کیا فیصلہ کرنے والے تھے۔ وہ اس گھڑی اپنی پریشانی تو کہیں بھول ہی گیا تھا۔
خ…٭…ز
محفل طویل سے طویل تر ہوتی جارہی تھی اور یہاں ایک سیکنڈ بیٹھنا عیشال کو محال لگ رہا تھا۔ نرمین اور سمہان کے قصّے سے نبٹ کے چودھری حشمت ندا کے سسرالیوں کی جلد آمد کا مژدہ سُنا رہے تھے کہ وہ لوگ اسی ماہ شادی کی تاریخ رکھنے کے خواہش مند تھے۔ ندا کے چہرے پہ سپاٹ تاثرات پھیل گئے تھے۔ فائزہ اور فیروز دلچسپی سے سن رہے تھے۔ بیٹے کے بعد بیٹی کی شادی جلد ہونے پہ ایکسائیٹڈ نظر آرہے تھے۔
بالآخر محفل برخاست ہوئی۔ چودھری فیروز اور اسفند اپنے اپنے کمروں کی طرف چل دیے کہ رات کی چائے، کافی اپنے اپنے کمروں میں ہی پیتے تھے۔ چودھری حشمت اُٹھے تو سمہان کو اپنے کمرے میں آنے کا حکم دیا کہ حساب کتاب کا دن تھا اور ان کا بلاوا ایک طرح سے اس کے لیے نجات کا واحد راستہ بھی تھا۔ وہ ان کے پیچھے نظریں چُرا کر نکل گیا عیشال مزید مشتعل ہوگئی۔
’’اس ماہ ندا آپی کی ڈیٹ فکس ہوگی، یعنی دو تین ماہ میں ہی شادی چلو جی کچھ تو بوریت دور ہوگی۔‘‘ یمنیٰ نے خوشی کا اظہار کیا۔
’’بے وقوف اصل بات کی طرف تو آئو۔ میرے ویر کی شادی اور اس نرمین سے قسم سے میرا تو خود کشی کا دل چاہ رہا ہے اتنی فضول بھابی۔‘‘ زرش کا صدمہ ہی کم نہیں ہورہا تھا۔
’’یہ بیٹھے بٹھائے چچا جہانگیر کو کیا سوجھی جو اپنی بیٹی کے لیے ویر سمہان کا رشتہ اچانک مانگ لیا۔‘‘ شازمہ کی حیرانی بھی کم ہونے میں نہیں آرہی تھی۔
’’دیکھا نہیں تھا نکاح کی تقریب میں کیسے ویرے کے آس پاس نظر آرہی تھی، مجھے تو اسی وقت دال میں کچھ کالا لگا تھا ہو نہ ہو چچا جہانگیر کی آزرو ضرور ہے لیکن پسند نرمین کی ہے۔ پہلی بار اپنے ویر کی ہینڈسم پرسنالٹی پہ افسوس ہورہا ہے۔ اسی کے طُفیل تو اتنی بُری بھابی متھے پڑ رہی ہے۔ میرا اکلوتا ویر ہے، دو چار ہوتے تو قربانی بھی دے دیتی۔ دی جان… پلیز آپ ہی کچھ کریں۔‘‘ زرش کا قلق بڑھتا ہی جارہا تھا۔ مردوں کے جاتے ہی لڑکیوں کا رونا شروع ہوچکا تھا۔
’’زرش کیا بکواس ہے‘ کیوں شور کررہی ہو۔ سنا نہیں تمہارے ڈیڈ نے کیا کہا؟ بابا جان کا فیصلہ ہی حرفِ آخر ہے۔ اب میں کوئی فُضول جملہ تمہارے منہ سے نہ سُنوں۔ سمہان مرد ہے جب اسے کوئی اعتراض نہیں تو تم کیوں شور کر رہی ہو اور آئندہ ایسی گفتگو نہ سُنوں جتنی عمر ہے اتنی ہی بات کرو۔‘‘ فریال نے سنجیدگی سے زرش کو لتاڑ کر حقیقت کا آئینہ دکھایا۔ ساتھ ہی بڑوں کے سامنے زبان پھسلنے والی بات پہ جھاڑ بھی پڑگئی زرش منہ بسور گئی تو یمنیٰ اور شاذمہ بھی افسوس سے ایک دوسرے کو دیکھ کے رہ گئیں۔
’’سوری مما…‘‘ زرش منمنا کے رہ گئی۔
’’رہنے دو بچی ہے، حیرانی والی بات تو یہ ہے کہاں تو جہانگیر اور صہبا نے گاؤں میں رہنا کبھی پسند ہی نہیں کیا اور اب بیٹی کو حویلی میں بیاہنا‘ سمجھ سے باہر ہے آپ کیا کہتی ہیں اس بارے میں اماں؟‘‘ فریال کو سنجیدہ دیکھ کر فائزہ نے حیرت کا اظہار کرتے ساتھ ہی زمرد بیگم کا عندیہ لینا چاہا۔
’’ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہو۔‘‘ زمرد بیگم نے اختصار سے ہامی بھری۔ ساتھ ہی ان کی نظر عیشال پہ جمی ہوئی تھی وہ بہت چُپ تھی۔ بولتی تو اپنے موڈ سے ہی تھی لیکن اس وقت زمرد بیگم اس فیصلے کے تناظر میں افسوس سے دیکھ رہی تھیں انہوں نے تو سمہان کے لیے عیشال کی بات کی تھی لیکن شاید اﷲ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
’’شہری بہو تمہیں بھی مبارک ہو۔‘‘ ہال سے نکلتے فائزہ، فریال کو چھیڑ گئیں۔
’’بہو تک تو ٹھیک ہے بھابی لیکن شہری سمدھن تباہ نہ کردے۔‘‘ فریال اس سے زیادہ شوخی سے صہبا کی طرف اشارہ کر گئیں تو دونوں ہنسیں۔
’’نرمین حویلی میں آجائے گی اور عیشال کی ویسے ہی جہانگیر چچا کی فیملی سے نہیں بنتی۔ حویلی میں خوب تماشا ہونے والا ہے‘ لکھ لو میری بات۔‘‘ زرش کو اس کی خاموشی محسوس ہوئی اور سب نے ہی یہی اندازہ لگایا‘ زرش نے آہستگی سے یہ جملہ کہا تھا لیکن عیشال نے سب کا ایک ایک لفظ خاموشی سے سنا تھا۔
’’تو پھر طے ہوا کہ آخری بازی بھی میرے ہاتھوں سے نکل گئی میرے حصے کی خوشیاں، میرے ہی نام نہاد باپ نے اپنی عزیز بیٹی کی خواہش پہ اس کی جھولی میں ڈال دیں۔‘‘ نرمین اس لیے جیت گئی تھی کہ اس کے ساتھ جہانگیر اور صہبا کی مضبوط بیک ہے اور میں اس لیے ہار گئی کہ میری ماں منوں مٹی تلے جاسوئی‘ گرم پانی رخسار پہ پھسل آیا تھا۔ اس کے اندر پکتا لاوا پُھوٹنے لگا تھا۔
خ…ز…/
چودھری بخت جہاز کے لینڈ کرنے سے پہلے ہی ایمبولینس اور اس کے عملے کے ساتھ موجود تھے۔ شنائیہ کو یہاں سے سیدھا ہاسپٹل لے جانا چاہتے تھے تاکہ ٹریٹمنٹ میں تاخیر نہ ہو۔ ان کی دانست میں پہلے ہی بہت دیر ہوچکی تھی۔ دیا بھی ماہم کو ساتھ لیے فکر مند کھڑی اسٹریچر کے نکلنے کا انتظار کررہی تھیں لیکن ان سب کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا جب انہوں نے شنائیہ چودھری کو ہشاش بشاش اپنی ٹانگوں پہ چل کر باہر آتے دیکھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ شاہ زرشمعون ٹرالی دھکیل کر ان تک آیا۔ شنائیہ اس سے پہلے پہنچ گئی تھی۔
’’یہ…؟‘‘ چودھری بخت آنکھیں پھاڑے شنائیہ کو دیکھ رہے تھے۔
’’چچا جان زیادہ حیران نہ ہوں آپ کی دُختر نیک اختر ہی ہیں نہ کوئی معجزہ ہے، نہ کسی بنگالی بابا کا تعویذ کام کر گیا جو یہ اپنے پیروں پہ کھڑی ہیں۔ قصّہ مختصر انہیں حویلی میں نہیں رہنا تھا اس لیے انہوں نے جان بوجھ کر گرنے کا ڈرامہ کرکے حویلی سمیت آپ لوگوں کو بھی پریشان کیا‘ سب کو لگا کہ انہیں شدید چوٹ لگی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘ شاہ زرشمعون کے اس سچ اور ماں باپ کے بدلتے تیوّر پہ وہ گڑبڑائی۔ اسے شاہ زرشمعون سے اس حد تک سچائی کی امید نہیں تھی۔ خود اس کا مقصد تو یہی تھا کہ وہ گھر جاکے بھی ناٹک کرتی رہے گی تاکہ بھرم رہ جائے لیکن جیت کے نشے میں قبل از وقت، شاہ زرشمعون پہ حقیقت کھول کر وہ کتنی بڑی حماقت کر گئی تھی اس کا اندازہ اسے اب ہورہا تھا۔
’’سر… پھر اسٹریچر کا کیا کرنا ہے اور ایمبولینس واپس لے جاؤں؟‘‘ قدرے نزدیک کھڑے دو بندوں نے اسٹریچر کی طرف اشارہ کیا جو وارڈ بوائے والے حلیے میں تھے۔ لبوں پہ مسکراہٹ تھی۔ شنائیہ شرمندہ ہوتی نظریں چُرانے لگی۔
’’وہ پپا… چوٹ لگی تو مجھے لگا ہڈی ٹوٹ گئی۔‘‘ چودھری بخت کی سرد نظروں نے اسے جملہ مکمل نہیں کرنے دیا۔
’’تم سے تو میں گھر چل کے بات کرتا ہوں‘ اسٹریچر اور ایمبولینس ہاسپٹل واپس لے جاؤ اور کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ چودھری بخت کو زندگی میں کبھی اتنی شرمندگی نہیں ہوئی تھی جتنی اب شنائیہ کی حرکت کے باعث ہوئی تھی کتنے ہی اعصاب شکن گھنٹے گزارنے کے بعد انہیں شنائیہ پہ بے حد غصّہ آرہا تھا لیکن پبلک پلیس پر وہ کوئی تماشا نہیں کرسکتے تھے۔
’’مما…‘‘
’’بات مت کرو مجھ سے۔‘‘ ہمدردی کے لیے وہ دیا کی طرف متوجہ ہوئی تو وہ سخت ناراضی کا اظہار کر گئیں انہیں اس سے اس درجہ حماقت کی اُمید نہیں تھی۔ ماں سے بھی عزت افزائی کروا کے وہ منہ بسور کر ماہم کو دیکھنے لگی۔ وہ بھی سر نفی میں ہلاتی غالباً اس کی عقل کو رو رہی تھی۔
’’مجھے اجازت دیں آپ لوگ… یہ ان کا سامان۔‘‘ شاہ زرشمعون ٹرالی کی سمت اشارہ کرکے اجازت کا طالب تھا۔
’’کہاں واپس جا رہے ہو؟‘‘ چودھری بخت چونکے۔
’’دا جان کا حکم ہے جب تک ان کی پوتی کا مکمل تسلی بخش علاج نہیں ہوجاتا، تب تک میں آپ سب کے ساتھ رہوں کہ محترمہ اب میری ذمّہ داری ہیں اتنی جلدی واپس گیا تو انہیں شک ہوگا کہ ہڈی نا ٹوٹی ہو ڈسک ہلنے پر ہی دو تین دن تو ہاسپٹل میں گزر ہی جاتے ہیں۔ دا جان کو سچ بتا کر آپ کو مشکل میں نہیں ڈال سکتا اس لیے آتے ہوئے ہوٹل میں اپنی ریزرویشن کرواتا آیا ہوں۔ دو دن رکوں گا پھر واپس حویلی چلا جاؤں گا۔‘‘
’’جب گھر موجود ہے تو ہوٹل میں کیوں رہوگے؟‘‘ چودھری بخت کو معاملہ گڑبڑ لگا۔
’’سیلف میڈ بندہ ہوں چچا جان… سسرال میں رہنا مناسب نہیں لگتا، جب لوگ باپ، دادا، پرکھوں کی حویلی میں رہنا گوارا نہیں کرتے تو میں سسرال میں گھر داماد کا رول پلے کرتا خاک اچھا لگوں گا دا جان کی کال آئے تو سنبھال لیجیے گا‘ چلتا ہوں سلام چچی جان۔‘‘ وہ سرعت سے آگے بڑھا‘ چودھری بخت کو اسے روکنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ کس مقام پہ اسے چِت کر گیا تھا۔ ماں باپ کی گھورتی نگاہوں کو دیکھ کر شنائیہ چودھری چور سی بن پچھلی باتیں سوچ رہی تھی۔
خ…ز…/

کسی کے ہوگئے جب سے ہمیں فرصت نہیں ملتی
محبت ایسا پیشہ ہے، جہاں رُخصت نہیں ملتی
کہا ہے شاہ نے مانگو، مگر اب مانگنا بھی کیا
ہمیں تو اک سوا تیرے کوئی حاجت نہیں ملتی
وہ ایسے مان سکتا تھا، میں ایسے کر بھی سکتا تھا
یہاں جب عقل آتی ہے تو مُہلت نہیں ملتی
تمہاری خوش نصیبی ہے تمہیں ہم راس نہ آئے
اگر ہم تم کو مل جاتے، تمہیں شہرت نہیں ملتی

’’کل کو دا جان تمہاری شادی ایسی ویسی لڑکی سے کردیں گے تو کیا تم اپنی باری میں بھی چُپ رہوگے؟‘‘
’’اور میرا جواب ہے شاید ہاں۔‘‘ چند روز قبل یہ سوال شنائیہ نے کیا تھا تب جواب دیتے اس نے سوچا نہیں تھا کہ وقت اتنی جلدی آجائے گا۔
عیشال سے کیسے سامنا کرے گا… اس کے دکھوں کا کیوں کر مداوا ہوسکے گا‘ اس کی محرومیوں کا اور وہ جب آس سے اس کی طرف دیکھتی تھی پھر اس دل کا کیا… جہاں کوئی نرمین تو کیا کسی اور لڑکی کے لیے بھی کچھ نہیں تھا فقط اُڑتی ریت تھی جو گلاب تھے وہ صرف عیشال کے لیے تھے۔
لیپ ٹاپ اُٹھا کر اپنے کمرے سے چودھری حشمت کے کمرے میں جانے تک ذہن اتنا پراگندا ہورہا تھا کہ اگر اسے خود پہ اختیار نہ ہوتا تو ضبط سے چھلکتا سُرخ چہرہ اسے سب کے سامنے عیاں کر جاتا۔ تاثرات پہ قابو پاکر اس نے چودھری بخت کے کمرے میں قدم رکھا‘ جہاں وہ چودھری جہانگیر کو کال پہ خوش خبری سُنا رہے تھے۔ وہ انجان بن کے لیپ ٹاپ آن کرنے لگا۔
’’ماشاء اللہ… بہت اچھے سے سب کچھ سنبھالا ہوا ہے تم نے… اتنا ہی قابل ہمارا جہانگیر ہوا کرتا تھا۔ جب حویلی میں رہتا تھا تو ہمیں ہر کام کے لیے اس کو یاد کرنا پڑتا تھا۔ پھر وہ شہر میں بس گیا لیکن اب امید ہے کہ وہ لوٹ آئے گا اس کے لیے ہم تمہارا جتنا شکر ادا کریں کم ہے تم میں اسے کچھ نظر آیا تب ہی تو وہ جو گاؤں سے بے زار ہوگیا تھا، بیٹی بیاہنے کو تیار ہوگیا۔‘‘ چودھری بخت اسے سمیٹ لینے کا اشارہ کرتے اس کی صلاحیتوں کی تعریف کرکے چودھری جہانگیر کی تعریف کرنے لگے سب کو خبر تھی کہ اسی محبت پہ وہ اکثر ان کے سامنے کمزور پڑ جاتے تھے۔ نرمین کے لیے ہاں کرتے خود غرضی سے وہ سارے عوامل فراموش کر گئے تھے۔ جس میں نرمین کی شہری پرورش، صہبا کا آج تک حویلی میں کسی سے مزاج نہ ملنا بیٹے کی چاہ میں وہ سمہان کے مزاج تک کو فراموش کرکے اس کی رائے تک سے بے پروا ہوگئے تھے۔
وہ کافی دیر تک ان کے دل کی باتیں سنتا رہا۔ پھر جب انہیں وقت گزرنے کا احساس ہوا تو اسے آرام کا مشورہ دے کر جانے کا حکم دیا۔ کمرے سے نکلا ہی تھا کہ شاہ زرشمعون کی کال اس کے نمبر پہ آنے لگی۔ وہ پہنچنے کی اطلاع دینے کے ساتھ حویلی کی خیریت دریافت کررہا تھا۔
’’کچھ ہوا ہے سمہان… تو ٹھیک نہیں لگ رہا۔‘‘ جانے کیسے اسے محسوس ہوگیا۔
’’ٹھیک ہوں ویرے، مجھے کیا ہونا ہے۔‘‘ وہ اُلٹا پوچھنے لگا۔
’’تیری طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘
’’دل ٹھیک نہیں۔‘‘ دل تو یہی جواب دینے کو چاہ رہا تھا لیکن وہ لہجہ بدل کر اسے مطمئن کرکے شنائیہ کی طبیعت کے حوالے سے پوچھنے لگا۔ وہ سب سے سچائی چُھپا سکتا تھا لیکن اس سے نہیں۔
’’شک تو مجھے بھی ہوا تھا کہ چوٹ نہیں لگی لیکن بھابی سے ایسی حماقت کی اُمید نہیں تھی۔‘‘ سمہان آفندی کو بھی افسوس ہوا کہ اتنے اچھے بندے کی شنائیہ قدر نہیں کر رہی۔
’’آنے والے دنوں میں اس سے زیادہ کی امید رکھو۔ حویلی میں کسی کو نہ بتانا‘ تو جگر ہے اپنا اس لیے بتا دیا کہ داجان ہاسپٹل کی نیوز لینا چاہیں تو تُو آگے سے سنبھال لینا‘ تجھے اندھیرے میں رکھ کے مجھے ویسے بھی مرنا نہیں ہے۔‘‘ شاہ زرشمعون ہلکے پھلکے لہجے میں کہہ گیا تو وہ مسکرا دیا اور اس کی مسکراہٹ عیشال پہ بجلی بن کے گری تھی۔
’’بے فکر رہو‘ اپنا خیال رکھنا اور ہوٹل کی بجائے بہتر ہے چچا جان کے گھر ہی چلے جاؤ۔‘‘ سمہان آفندی کی نظر بھی اس پہ پڑ گئی تھی۔ سو آواز دبا کے بولتے اس کی ساری حسیات بے دار ہوگئی تھیں۔ شاہ زرشعمون جواب میں نجانے کیا کہہ رہا تھا لیکن اس کا ذہن تو عیشال کو دیکھ کر الجھ گیا تھا‘ کال بند کردی تھی۔
’’مجھے دیکھ کر بڑی جلدی کال کاٹ دی، کرتے رہتے بات، میں نے کیا کہنا تھا اور ویسے بھی کون سا تمہاری نرمین آن لائن تھی جو پرائیویسی کا خیال آڑے آگیا۔‘‘ وہ چھوٹتے ہی جس کڑوے لہجے میں گویا ہوئی اس نے سمہان آفندی جیسے مستعد کھلاڑی کو بھی سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔
’’تمہاری نرمین…‘‘ کا طعنہ الگ بلبلانے پہ مجبور کر گیا۔
’’روم میں جاکر تسلی سے بات کرلوں گا۔ تم بھی یقینا کوئی بات کرنے کی نیت سے رُکی ہو اس لیے بھی الوداعی کلمات کہہ دیے کہ تمہیں انتظار کی زحمت نا ہو۔‘‘ وہ نرمی سے مسکرایا۔ عیشال جہانگیر بڑے غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی کہ شاید ڈھونڈنے سے بھی کوئی ندامت یا پریشانی نظر آئے لیکن اسے ہمیشہ کی طرح مطمئن دیکھ کر اس کا وجود شعلوں میں گھر گیا۔
’’بے فکر رہو‘ زیادہ وقت نہیں لوں گی، نظر پڑگئی تو سوچا تمہیں مبارک باد دے دوں۔‘‘ اس پہ کٹیلی نظر ڈال کر تمسخرانہ لہجہ اختیار کیا۔ اس نے کتنا چاہا تھا کہ سامنا نہ ہو یا اس وقت ہو جب وہ اسے ہینڈل کرنے کے لیے ذہنی طور پہ تیار ہو لیکن وہ اس کے ضبط کا امتحان لینے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔
’’خیر مبارک۔‘‘ وہ اس پر کچھ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے ہولے سے مسکرایا۔
’’کہاں گئیں تمہاری فلسفیانہ باتیں… اچھی لڑکی بنو‘ انتظار کرو‘ قبل ازوقت کے ڈرامے وہ باتیں تھیں، محض باتیں اور حقیقت یہ ہے۔‘‘ اس کی ماضی کی کہی باتوں کو دُہراتے اس کے تیوّر جارحانہ ہوگئے تھے۔
’’پھر کبھی انتظار، آس کا درس دے کر صبر کا فتویٰ مت دینا کیونکہ بزدلوں کے پاس صبر کا پھل کڑوا ہی نکلتا ہے۔‘‘ اس پہ ایک سرد نظر ڈال کر وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی۔ سمہان آفندی کئی ثانیے تک حیران اپنی جگہ سے ہل بھی ناسکا کہیں اس کی ذات بزدلوں میں شمار تھی تو کہیں اس کے طُفیل بوڑھا دادا بیٹے کی واپسی پہ واری صدقے تھا کئی محاذ پہ وہ فاتح ٹھہرایا گیا تھا تو کہیں مفتوح کی نظر سے بھی واسطہ پڑا تھا۔
اسے عیشال کے انداز پر بھی حیرت ہوئی تھی اس نے سوچا تھا کہ عیشال اس کی ذات کو لفظوں سے روند جائے گی اور کہاں وہ اُلٹا نصیحت کر گئی تھی۔ اس کے مزاج کا ٹھہراؤ اسے حیران کر گیا تھا۔
خ…٭…ز
’’سسرالی بھتیجے کی باتوں میں آکر آپ سگی بیٹی سے ناراض ہیں معاف کردیں ناں مما‘ دیکھیں اب تو میں نے کان بھی پکڑ لیے۔‘‘ دیا کو زبردستی بٹھائے وہ معافی تلافی کر رہی تھی‘ اوور کوٹ ہاتھ میں تھامے دیا بنا بولے کئی بار اٹھنے کی کوشش کرچکی تھیں لیکن وہ ان کے قدموں میں دونوں گھٹنے تھامے کچھ ایسے بیٹھی تھی کہ ان کی کوشش ناکام ہورہی تھی۔ بولنے کے ساتھ اس نے کان پکڑ کے میسنی سی شکل بنائی تو دیا بے ساختہ گھور کے رہ گئیں۔
’’شاہ نا صرف سسرالی بھتیجا ہے بلکہ بھانجے کا رشتہ بھی ہے میرا اس سے اور اس سے بڑھ کے اب وہ میرا داماد اور تمہارا شوہر ہے شاید اتنی بڑی حقیقت تم بھول رہی ہو۔‘‘
’’ڈراؤنی کہانی بھی بھولنے کی ہوتی ہے بھلا۔‘‘ وہ سر جھٹک کے رہ گئی۔
’’اچھا‘ معاف کردیں ناں‘ آپ سب کو بہت مس کررہی تھی اسی لیے یہ سب کیا… لیکن پرامس اب سے کوئی پلاننگ نہیں ہوگی‘ میری جنت مجھ سے روٹھ گئی ہے‘ میری تو دنیا ہی اندھیر ہوگئی۔‘‘ لجاجت سے کہتے شنائیہ ہاتھ جوڑ گئی تو دیا کا دل بھی پگھلنے لگا۔ ماہم بھی گال پہ ہاتھ ٹکائے سارے منظر سے محظوظ ہورہی تھی۔
’’اس بار معاف کررہی ہوں لیکن پھر سے تم نے ہمیں شرمندہ کیا تو معافی کی توقع مت رکھنا۔‘‘
’’سو سوئیٹ مام…‘‘ وہ جھٹ دیا کے قدموں سے اٹھ کے گلے کا ہار بن گئی‘ دیا نے ایک ہاتھ بیڈ پہ رکھ کر خود کو نا سنبھالا ہوتا تو چت ہوجاتیں۔
’’جو کہا ہے اسے یاد بھی رکھنا۔‘‘ خود سے لپٹاتے دیا نے یاد دلایا۔
’’آپ فکر ہی نا کریں۔‘‘ اس نے یقین دلایا۔
’’شکر ہے آپ دونوں کی صلاح تو ہوئی… کبوتر والی فیلنگ سے کم از کم مجھے نجات ملے گی۔‘‘ ماہم نے اتنے دلسوز لہجے میں کہا کہ ان کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’آپ مان ہی گئی ہیں تو لگے ہاتھوں انگیجمنٹ میں جانے کی اجازت بھی دے دیں۔‘‘ راہ ہموار دیکھ کے وہ اصل بات کی طرف آئی۔
’’کس کی انگیجمنٹ؟‘‘ استعجابیہ نظریں کیں اس کی طرف۔
’’ناعمہ کے بھائی کی‘ ایک ہی تو بیسٹ فرینڈ ہے میری کتنے اصرار سے آپ سب کو انوائیٹ کرنے گھر آکر کارڈ تک دے گئی۔ حویلی سے بھاگ کر آنے کی ایک بڑی وجہ تو یہ بھی تھی کہ کیسے پارٹی انجوائے کرتی۔‘‘
’’ہاں یاد آگیا۔‘‘ اس کی تفصیل پہ ان کی گھوری بے ساختہ تھی۔
’’یہ زبان ناں، مروائے گی ایک دن مجھے۔‘‘ لب دانتوں تلے دبا کے اپنی بے اختیاری پہ وہ جھٹ کان پکڑ کے خود کو لعنت ملامت کرنے لگی۔
’’تمہارے پپا تقریبات میں جانا پسند نہیں کرتے اور میری ڈیوٹی ہے آج‘ کس کے ساتھ جاؤ گی۔‘‘
’’ماہم ہے ناں میں اور ماہم چلے جائیں گے۔‘‘ اس نے فوراً حل پیش کیا۔
’’دو لڑکیاں اکیلی جائیں مناسب نہیں لگتا‘ پھر شاہ بھی آج کل یہاں ہے‘ اس نے بابا جان تک خبر پہنچا دی کہ تم دونوں اکیلی پارٹی میں جاتی ہو تو سمجھو میری اور بخت کی شامت آجائے گی۔‘‘ دیا نے دہل کر کہا۔
’’وہ سڑیل اندرونِ سندہ دوستوں میں گئے ہوئے ہیں۔ واپسی کل تک ہی ممکن ہوگی اور تب تک ہم تقریب اٹینڈ کرکے آبھی جائیں گے اور انہیں کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔‘‘ شنائیہ چودھری اپنا کیس بہ خوبی لڑ رہی تھی۔
’’مجھے مناسب حل نہیں لگ رہا۔‘‘ دیا انکاری تھیں۔
’’پھر جانا کینسل۔‘‘ منہ لٹک گیا۔
’’دیکھتی ہوں‘ اگر بخت پک اینڈ ڈراپ کردیتے ہیں تم لوگوں کو تو چلی جاؤ۔‘‘
’’اور جو پپا نے انکار کردیا؟‘‘
’’پھر جانا کینسل۔‘‘ دیا آرام سے جواب دے کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’جانے یہ ملک الموت کیوں جان کو چمٹ گیا ہے۔ جاکے حویلی میں فصلیں کٹوائے‘ یہاں مخبر بنا بیٹھا ہے۔‘‘ اس کی لن ترانیاں جاری تھیں جنہیں سن کر مسکرانے کے لیے اکیلی ماہم ہی اب وہاں موجود تھی۔
خ…٭…ز
انتظار کرنا جیسے ماورا کے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔ ہاسپٹل کے بینچ پہ بیٹھی ناچاہتے ہوئے بھی وہ ماں کی خاطر محو انتظار تھی‘ فکر مندی کے ساتھ دعا گو بھی تھی کہ جس ڈاکٹر کے پاس امید لے کر آئی ہے‘ وہ نامراد نا کریں‘ منزہ کو ہاسپٹل چلنے کے لیے اس نے بہت اصرار کیا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھیں بلکہ اسے بھی سختی سے ہدایت کی کہ وہ بھی ہاسپٹل کا خیال دل سے نکال کر شادی کی تیاری کرے۔ ماں کی بات کو حرفِ آخر ماننے والی ان کے حکم کی بجا آوری نا کرسکی تھی کیونکہ مسئلہ منزہ کی زندگی کا تھا۔ منزہ تو نہیں مانی تھیں۔ سو وہ اکیلی ہی چلی آئی اور اب انتظار جاں گسل لگ رہا تھا۔ اس کے نام کی پکار ہوئی تو وہ تیزی سے ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھی۔ سامنے بیٹھا شخص فون پہ مصروف تھا۔ باتوں سے ظاہر تھا کوئی مریض دوسری طرف تھا۔ ڈاکٹر بخت اپنی پرسنالٹی سے متاثر کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ان کی نظر ابھی اس پہ نہیں پڑی تھی‘ ساری توجہ فون کی طرف مبذول تھی۔ وہ شش وپنج میں مبتلا کھڑی تھی کہ ان کا پی اے جو تھوڑے فاصلے پہ اپنی کرسی پہ براجمان تھا اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔
وہ دھیرے سے شکریہ کہہ کر وہ بیٹھ گئی‘ سرخ وسپید رنگت‘ چاکلیٹی براؤن آنکھیں جن پہ گلاسز کا پہرا تھا‘ ظاہر کررہے تھے کہ جوانی میں وجاہت کا کیا عالم ہوگا۔ وہ دزدیدہ نظروں سے انہیں دیکھتی سوچے بنا نا رہ سکی تھی۔
’’جی بیٹا بتائیں کیا مسئلہ ہے آپ کا؟‘‘ وہ ارد گرد کا جائزہ لینے کی نیت سے چہرہ موڑ گئی تھی‘ فون سے فارغ ہوتے چودھری بخت نے مخاطب کیا تو وہ انہیں دیکھنے لگی۔
’’سر… یہ میری والدہ کی میڈیکل رپورٹس ہیں۔ انہیں بلڈ کینسر آپ کے ہاسپٹل میں ہی تشخیص ہوا ہے‘ آپ کی بڑی تعریف سنی ہے‘ اس لیے بہت آس لے کر آپ کے پاس آئی ہوں کہ شاید آپ کے تجربے کے طفیل میری ماں کو نئی زندگی مل جائے‘ جنہیں موت سے پہلے‘ موت کی خبر مل گئی ہے۔‘‘ وہ ایک سانس میں اپنے آنے کی وجہ گوش گزار کر گئی تھی۔ چودھری بخت اسے دیکھ کر سوچ میں پڑ گئے تھے‘ انہیں یہ چہرہ کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔ تب ہی وہ جب تک بولتی رہی ان کی نظریں اس کے چہرے سے نا ہٹیں لیکن اس کی باتوں اور انداز میں اتنا درد تھا کہ وہ چہرے سے زیادہ اس کی باتوں کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ اس کے لہجے کی حسرت اور ان کی ذات سے بندھی آس نے انہیں رپورٹس کی طرف ہاتھ بڑھانے پہ مجبور کردیا تھا۔
’’آپ ہی ہیں جو بار بار کال کرکے میری آمد کے متعلق پوچھ رہی تھیں؟‘‘ گلاسز آنکھوں پہ ٹھیک کرتے انہیں استفسار کیا۔
’’جی سر۔‘‘ وہ ہولے سے اعتراف کر گئی تھی‘ چودھری بخت کئی ثانئے رپورٹس پہ نظریں جمائے صفحات الٹ پلٹ کرتے رہے اور وہ بے قرار دل کے ساتھ ان کے گمبھیر چہرے سے کوئی امید کی کرن ڈھونڈنے کی کوشش میں انہیں تکتی رہی۔
’’آپ کی والدہ ساتھ نہیں آئیں؟‘‘ گلاسز اتار کے میز پہ رکھتے انہوں نے پوچھا‘ نظریں اب بھی کاغذ کے ان بے جان صفحوں پر تھیں جن پہ لکھے تفصیلات میں منزہ کی زندگی کے دن درج تھے۔
’’بہت کوشش کی کہ کسی طرح منا کر انہیں لاسکوں لیکن موت کے انتظار میں وہ زندگی سے اس حد تک مایوس دل ہوچکی ہیں کہ انہیں قائل کرنے میں ناکام رہی۔ اس آس سے آپ کے پاس آئی ہوں کہ آپ نے امید کی کوئی کرن تھمائی تو اگلی بار کسی نا کسی طرح انہیں راضی کرکے لے آؤں گی۔‘‘ پیشنٹ کی غیرموجودگی پہ اس سے پہلے کہ وہ کوئی سخت بات کہتے اس نے دلسوز لہجے میں ساری کتھا سنا دی‘ جسے سن کے ایک پل کو چودھری بخت بھی چپ سے ہوگئے۔
’’اس قسم کی صورت حال میں پیشنٹ ایسا ہی ری ایکٹ کرتا ہے‘ تب ہی ہم پیشنٹ کو اس طرح کی خبر دینے سے گریز کرتے ہیں کہ موت سے پہلے موت کی خبر ہی انسان کو لے ڈوبتی ہے۔‘‘ پرسوچ انداز سے کہہ کر چودھری بخت نے اب کے رپورٹس اس کی طرف بڑھائیں۔
’’سر کوئی امید افزا خبر؟‘‘ ماورا یحیی بڑی آس سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’سوری بیٹا… ان رپورٹس کے اکارڈنگ آپ کو کوئی بھی امید افزا خبر سنانے سے قاصر ہوں‘ رپورٹ ہمارے ہاسپٹل اور مستند ڈاکٹر کی ہے‘ جس میں غلطی کی کوئی گنجائش ہوگی ایسا سمجھ کے دل کو جھوٹی تسلی دینا بے کار عمل ہوگا۔‘‘ چودھری بخت نے کہا اور اس کے چہرے پہ مردنیٰ سی چھا گئی۔ ساری آس امید ایک ایک کرکے رخصت ہوتی گئی۔ منزہ تو پہلے ہی موت کو قبول کرچکی تھیں‘ ایک وہی بضد تھی اور اب جیسے کچھ کہنے سننے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔
’’پھر بھی اپنی تسلی کے لیے آپ کی والدہ کے کچھ ٹیسٹ کرنا چاہتا ہوں‘ شاید بہتری کی کوئی صورت نکل آئے۔ فی الحال آپ کی والدہ جو دوائیں لے رہی ہیں انہیں چینچ کرا رہا ہوں‘ اب سے انہیں یہ دوائیں دیں اور کل ہی انہیں ساتھ لے کر آئیں تاکہ ٹیسٹ ہوسکے۔ یہ کام جتنی جلدی ہوجائے‘ اتنا اچھا ہے۔‘‘ چودھری بخت پیڈ پہ دواؤں کے نام درج کرتے‘ ہدایت بھی جاری کررہے تھے۔
’’بہتر سر۔‘‘ نسخہ ہاتھ میں لے کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ناامید نہیں ہوتے‘ مانا موت کی آگاہی سے بڑی کوئی آگاہی نہیں لیکن یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ خدانخواستہ آپ کی والدہ کا مرض زندگی میں تشخیص ہی نا ہو پاتا‘ بعد مرگ افسوس دامن گیر رہتا کہ زندگی میں خبر ہوجاتی تو علاج کروا لیتے… شکر ادا کریں کہ اللہ نے آپ کو کوشش کرنے کا موقع دیا‘ بہت سوں کو تو موقع بھی نہیں مل پاتا۔‘‘ اس کی زود رنجی چودھری بخت کو دلاسا دینے پہ مجبور کر گئی تھی اور ان کی حوصلہ افزا باتوں کا ہی اثر تھا جو اس کے چہرے پر پھر سے امید کے رنگ جھلکنے لگے تھے۔
’’بہت شکریہ سر۔‘‘ وہ خارجی راستے کی طرف بڑھ گئی۔
’’کتنے دکھ کا مقام ہے سر کہ ایک بیٹی اپنی ماں کی زندگی کی آس لیے پھر رہی ہے۔‘‘ پی اے نے بھی ان کی تمام گفتگو بہ غور سنی تھی۔
’’جوان بیٹی کے شکستہ قدم اور نا امیدی کی کیفیت اس بوڑھی ماں کے لیے کس قدر دکھ کا باعث ہوگی۔‘‘ چودھری بخت یاسیت سے گویا ہوئے تھے۔
خ…٭…ز
’’موٹی… میری پارٹنر نہیں بن رہی ناں‘ ٹھیک ہے یاد رکھنا اپنی اس غداری کو‘ ایک دن آئے گا جب تم میرا پارٹنر بننے کو روؤ گی۔ میں تمہیں گھاس ڈالے بنا کسی اور کو اپنا پارٹنر بنالوں گا اور تم دیکھ کر جلتی سڑتی رہنا۔‘‘ کیرم بورڈ سجا ہوا تھا۔ گوٹیں سیٹ کی جارہی تھیں۔ سب بچہ پارٹی اس کے ارد گرد تھی۔ کچھ سولو گیم ہوئے تو کچھ پارٹنرز کے ساتھ۔ کیرم بور ڈ کے گیم میں سمہان کو ہرانا مشکل کام تھا۔ عیشال بھی اچھی کھلاڑی تھی لیکن اس کے اسٹرائیکر ہاتھ میں آجانے کے بعد دوسرا کھلاڑی اپنی باری کا انتظار کرتا تھا۔ وہ باری پہ باری لیے اپنی گوٹیں ایک کے بعد ایک کور میں ڈالتا جاتا تھا۔ سب کو ہرا کے اب دونوں مقابل تھے اور حسب روایت وہ ہار چکی تھی جب کہ گیم شروع ہونے سے پہلے اس کی کتنی منت کی تھی۔
’’پلیز مجھے جیتنے دو‘ میں تمہیں ہرا کے جیت کا مزا لینا چاہتی ہوں۔‘‘ لیکن وہ تھا کہ اسٹرائیکر چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
’’کیا کروں‘ آؤٹ ہوں گا تو تمہیں اسٹرائیکر دوں گا ناں۔‘‘ بڑا شاہانہ جواب تھا۔ وہ کلستی رہ گئی لیکن اس کی باری آنے سے پہلے ساری گوٹیں اس کے کور میں جا چکی تھیں۔
وہ بکتی جھکتی رہ گئی اس لیے جب اگلا میچ پارٹنر کے ساتھ ہونے کا اعلان ندا نے کیا تو سمہان آفندی اس کی خوشامد کرنے لگا کہ وہ اس کی پارٹنر بن جائے تاکہ جیت یقینی ہو لیکن تازہ تازہ ہار کا دکھ اتنا تھا کہ اس نے پارٹنر بننے سے صاف انکار کردیا تھا اور یہی انکار سمہان آفندی کی انا کا مسئلہ بن گیا تھا۔
’’اچھا کسے بناؤگے اپنی پارٹنر…؟‘‘ بڑی بڑی آنکھوں میں استہزا کا رنگ گہرا ہوگیا تھا جیسے ان آنکھوں کو یقین ہو کہ اس کے علاوہ کوئی پارٹنر بننے کو تیار ہی نہیں ہوگا اور سمہان آفندی کو اس کی ہنسی اڑاتی نظریں غصہ دلانے کے ساتھ جواب دینے پر بھی مجبور کر گئی تھیں۔
’’نرمین کو بنا لوں گا… کیوں نرمین بنو گی ناں میری پارٹنر؟‘‘ اس نے جھٹ نرمین کا نام لے کر استفسار بھی کرلیا۔
’’شیور‘ وائے ناٹ۔‘‘ حویلی میں دو دن چھٹیاں گزارنے کے خیال سے جہانگیر اور صہبا کے ساتھ آئی نرمین پونی ہلا کر شد ومد سے حامی بھر گئی تھی۔
’’اب بولو۔‘‘ داد طلب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ نرمین سے بغض سے آگاہ تھا لیکن جانے کیسے بے دھیانی میں اسی کا نام نکل گیا اور وہ ساتھ دینے کی حامی بھی بھر گئی۔
’’بناؤ پارٹنر‘ میں بھی دیکھتی ہوں اب کوئی کیسے کھیلتا ہے۔‘‘ نرمین کو مقابل کھڑا کرنے پر اسے بے حد غصہ آیا تھا کہ کہنے کے ساتھ گوٹیں مُٹھی میں بھر کے کچھ دور موجود کنویں کی طرف اچھال دیں۔ چند ایک نیچے بکھر گئی تھیں باقی کنویں کے اندر چلی گئی تھیں۔ وہ ارے ارے کرتا رہ گیا تھا۔
’’کھیلو اب آرام سے۔‘‘ تنتناتی ہوئی چلی گئی تھی۔
’’سمہان… میں تمہاری پارٹنر ہوں ناں؟‘‘ نرمین کو اسی بات کی فکر تھی۔ تب ہی سر پکڑے سمہان کے جذبات کو سمجھے بنا سوال کر گئی۔
’’جب گیم ہی نہیں کھیل سکتے تو کیسی پارٹنر۔‘‘ اس کے بے وقوفانہ سوال پہ منہ بگڑ گیا تھا۔
’’کتنی غلط حرکت کی ہے اس عیشال نے۔ تم فکر نا کرو‘ پپا سے کہہ کر امریکا سے کیرم بورڈ منگوا دوں گی تمہیں۔‘‘
’’منگوالو‘ اکیلی کھیلتی رہنا۔‘‘ وہ منہ بنا کے اس کی تلاش میں پیچھے گیا تھا۔ خبر تھی سیڑھیوں پہ بیٹھی رو رہی ہوگی اور ہزار معافی مانگنے کے بعد ہزاروں صلواتیں سناکر معاف کرے گی۔ معافی مانگے بنا کوئی چارہ بھی نہیں تھا کیونکہ جب تک وہ ناراض رہتی‘ وہ بھی بے سکون رہتا۔
ناراض تو وہ اب بھی تھی اور وہ بے سکون تھا لیکن چاہ کر بھی نا منا سکتا تھا نا اپنی بے سکونی کو سکون میں بدلنے پہ قادر تھا… کچی عمر کی محبت کے نشان اتنے پکے تھے کہ مٹائے نا مٹتے تھے۔ مذاق مذاق میں بنائی گئی پارٹنر اب حقیقی ساتھی بننے کو تیار تھی۔ ابھی یہ پریشانی ہی بہت تھی۔ دوسری طرف چودھری حشمت کافی برہم تھے۔ اپنی ٹینشن بھول کر وہ عیشال کی فکر میں مبتلا ہوگیا تھا۔ بالکنی میں سب سے منہ موڑے وہ ریشمی پردے کو اڑتے دیکھ رہا تھا۔ سیل فون بجنے لگا تو بے دھیانی میں اس کی نظر جھولے کی طرف گئی۔ جھولے پہ رکھا سیل فون مسلسل شور کررہا تھا۔ آگے بڑھ کر اس نے سیل فون اٹھایا۔ اجنبی نمبر دیکھ کر پہلا خیال نرمین کا ہی آیا تھا۔ اس نے ایک لمحے کی دیر کیے بنا کال پک کر لی۔
’’السلام علیکم! سمہان آفندی ہیئر۔‘‘
’’ہائی سمہان‘ تمہیں کیا لگا تھا تم نمبر نہیں دو گے تو مجھے تمہارا نمبر نہیں ملے گا؟‘‘ شک کی تصدیق ہوگئی تھی۔ اپنے مخصوص انداز میں کال ریسیو کرتے نرمین کی چہکتی آواز سنائی دی تو جبڑے بھنچ سے گئے۔
’’ایسی کون سی خاص بات کرنی تھی جو نمبر حاصل کرنے کے لیے آپ کو اتنی مشقت اٹھانا پڑی۔‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی لہجے کی کڑواہٹ پہ قابو نہ پاسکا۔
’’ارے بھئی رشتہ ہونے جارہا ہے‘ نرمین جہانگیر کا تم سے اور تم خاص بات پوچھ رہے ہو…؟ تمہیں تو پرائوڈ فیل کرنا چاہیے کہ نرمین جہانگیر نے نا صرف تمہیں پسند کیا بلکہ پپا سے کہہ کر منٹوں میں تمہیں اپنے نام پہ انگیج بھی کروالیا۔ اب کوئی دعویدار آئے سامنے؟‘‘ وہ فخریہ لہجے میں اپنا کارنامہ بیان کررہی تھی اور جسم کا سارا خون اس لمحے سمہان آفندی کے چہرے پہ سمٹ آیا تھا۔ کس شان سے وہ اعلان کررہی تھی کہ اس کی خواہش پہ کیسے منٹوں میں سمہان آفندی کا وجود اسے پیش کردیا گیا تھا کہ وہ اپنے نام کی مہر لگا لے۔ تقریب اور رِنگ کا تبادلہ تو ایک فارمیلٹی تھی جو مناسب وقت تک ہوجاتی اصل تو زبان تھی‘ جو چودھری حشمت دے چکے تھے۔ جس کا اعلان حویلی میں ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ہر شے کی اہمیت ثانوی تھی۔
’’بے شک من پسند چیز کے حصول کی طرح اپنے والد سے کہہ کر بازی تو اپنے نام کرلی لیکن اس جیت میں ایسا کہیں درج نہیں کہ میں آپ کی مرضی سے پرفارم کروں گا۔ آپ آزاد فضاؤں کی باسی ہیں لیکن میں جس ماحول کا پروردہ ہوں‘ وہاں قطعاً اس بات کی گنجائش نہیں کہ آپ سے گفت وشنید کا سلسلہ رکھوں… کال بند کررہا ہوں اور بند کرنے سے پہلے ایک بات گوش گزار کردوں کہ دوبارہ کال کر کے آپ نے ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی تو پہلی فرصت میں نمبر بلاک کردوں گا‘ اللہ حافظ۔‘‘ اپنی سنا کر اس نے نا صرف لائن منقطع کی بلکہ اگلے ہی لمحے اسے بلاک لسٹ کی زینت بھی بنادیا کہ اسے خبر تھی‘ لفظ عمل کے بعد ہی سمجھ میں آئیں گے۔
خ…٭…ز
وہ بڑی بے تابی سے ڈاکٹر بخت کے لوٹ آنے کا انتظار کررہی تھی۔ ایک امید تھی کہ شاید وہ کوئی خوش خبری سنائیں گے لیکن ان کے انداز میں مایوسی دیکھ کر آس کا دیا مدھم پڑنے لگا تھا۔ بس ایک آخری کوشش کرنا تھی‘ منزہ کو مزید ٹیسٹ کے لیے کسی نا کسی طرح تیار کرنا تھا شاید کوئی معجزہ ہوجاتا۔ اپنی انہی سوچو میں مگن وہ گھر کے دروازے تک آئی لیکن دروازے پہ کھڑے بندے کو بائیک سے ٹیک لگائے دیکھ کر چونک سی گئی۔ شکل کچھ دیکھی بھالی لگ رہی تھی۔ مقابل بھی سیدھا ہوگیا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ اسے اپنی طرف متوجہ پاکے دروازے پہ دستک دیتے دیکھ کر جان گیا تھا کہ اسی گھر کی مکین ہے۔
’’وعلیکم السلام‘ معاف کیجیے گا آپ کو پہچانا نہیں۔‘‘ دروازے پہ موجود دیکھا بھالا بندہ یاد کرنے پہ بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ انداز سے ظاہر تھا کہ وہ کسی کا انتظار کررہا ہے۔ ان کے دروازے پہ وہ کس کا منتظر تھا یہ اچنبھے کی بات تھی۔
’’میں یاسر ہوں‘ اماں آئی ہیں بری کی چیزیں لے کر۔ آپ غالباً ماورا ہیں۔‘‘
’’اوہ…‘‘ یاسر نے تعارف کروا کر باہر رہنے کی توجیہ دیتے سوالیہ نظریں جمادیں تو اس کے حواس بھی جیسے جاگنے لگے۔ تصویر میں دیکھے شخص کو روبرو دیکھ کر بھی اسے یاسر کا خیال نہیں آیا تھا۔ آتا بھی کیسے‘ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ منزہ اسے لے کر نہیں گئی تھیں۔
’’جی میں ماورا‘ ٹھیک پہچانا آپ نے‘ معذرت میں آپ کو نہیں پہچان سکی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔ ہم پہلے ملے ہی کب تھے۔‘‘
’’آنٹی آئی ہوئی ہیں؟‘‘
’’جی… ان کا ہی منتظر ہوں لیکن لگتا ہے وہ اندر جاکے بھول گئی ہیں پلیز انہیں یاد دلادیں کہ میں باہر انتظار کررہا ہوں۔‘‘ اس کی بے چارگی پہ اس کے لبوں پہ مسکراہٹ آگئی۔
’’آپ بھی اندر چلے جاتے ناں۔‘‘ شرارت سے مسکرائی۔
’’دونوں بارڈرز پہ اس کی اجازت نہیں ہے‘ پرمٹ کے بنا۔‘‘ اس کے انداز سے وہ بھی شوخ ہوا تو اس کی حسِ لطیف بھی بیدار ہوگئی۔
’’دروازہ ہی کھٹکھٹا کر پیغام دے دیتے‘ شاید اسی بہانے اس کی جھلک ہی نظر آجاتی۔‘‘ باہر رہنا اس کی مجبوری تھی لیکن اسے تو اندر جانا تھا۔ دروازے پہ دستک دیتے شریر ہوئی تو یاسر کچھ جھینپ سا گیا۔
’’جب مستقل دیکھنے کے دن پکے ہوگئے ہیں تو تانکا جھانکی کے لیے کیا جتن کرنا۔ ایک ہی بار جی بھر کے دیکھ لیں گے۔‘‘ شرمیلا تھا لیکن جواب پورے آتے تھے۔
’’ویل سیڈ جناب۔‘‘ مسکراتے ہوئے سراہے بنا نہ رہ سکی۔
’’اندر آجاؤ۔‘‘ اسی اثناء میں دروازہ کھل گیا تھا۔ انوشا کی ہلکی سی جھلک نظر آئی اور وہ چلتی بنی۔
’’رکو تو۔‘‘ وہ آواز دیتی رہ گئی لیکن یاسر سامنے ہی تو کھڑا تھا‘ ایک ثانیے کو دونوں کی نظر ملی اور انوشا یہ جا وہ جا۔
’’غالباً محترمہ نے بھی مستقل دیکھنے والا پہاڑا پڑھ رکھا ہے۔ محترمہ راضی ہوجاتی ہیں تو ملاقات کی کوئی سبیل نکالتی ہوں۔‘‘ رُخ یاسر کی طرف کیا۔
’’رہنے دیں شاید وہ اچھا محسوس نا کریں۔ جس میں ان کی خوشی میں اسی میں مطمئن ہوں۔ اصرار کرکے انہیں مشکل میں نا ڈالیے گا۔‘‘ ایک نظر کی سرشاری لہجے میں بول رہی تھی۔
’’کیا کہنے‘ ابھی سے محترمہ کا اتنا خیال‘ میں کوشش کرتی ہوں۔‘‘ وہ چھیڑے بنا نا رہ سکی اور اندر چلی گئی۔ سلجھا ہوا سا یاسر بہت بھلا لگا تھا۔
’’کیا تھا جو دو گھڑی رک جاتیں دروازے پہ۔‘‘ وہ سیدھی کچن میں چلی آئی جہاں گلال چہرہ لیے انوشا شربت بنا رہی تھی۔
’’تم کیا دروازے پہ کھڑی باتیں بنا رہی تھی۔‘‘ انوشا نے ابرو چڑھائے۔
’’اوہووو… جیلسی۔‘‘ وہ چھیڑنے سے باز نا آئی۔
’’مار کھاؤ گی۔‘‘ انوشا کی شکل دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔
’’میں جب تک آنٹی کو سلام کرکے باتوں میں لگاتی ہوں‘ تب تک تم جاکے مل ہی لو۔‘‘ راہ دکھائی۔
’’ہاں ملنے چلی جاؤں اور کسی نے گزرتے ہوئے دروازے پہ دیکھ لیا تو سبکی الگ۔ نا بابا معاف رکھو مجھے۔ ایک ہی بار دیکھ لوں گی۔‘‘ انوشا نے ہاتھ کھڑے کردیے۔
’’ہائے ظالم سماج کا ڈر… ورنہ دل ہے ناں؟‘‘ ٹھنڈی آہ بھر کے شریر ہوئی تو انوشا چینی گھولتے شرما کر مزید سر جھکا گئی۔
’’جا رہی ہوں آنٹی یسریٰ کو سلام کرنے۔ بہت گرمی ہے‘ ہوسکے تو باہر کھڑے بندے کو بھی ایک گلاس شربت دے دینا‘ شاید شربت کی مٹھاس وہ بھی محسوس کرلیں‘ جن کا تصور کرکے جانے تم کب سے چینی گھول رہی ہو۔‘‘ اس سے پہلے کہ انوشا تشدد کی راہ اپناتی اس نے چھپاک سے نکلنے میں ہی عافیت جانی۔
’’واقعی اتنی دھوپ میں کب سے باہر کھڑے ہیں‘ پیاس محسوس ہورہی ہوگی‘ ماورا بھی اتنی بدتمیز ہے خود دے آتی مجھے ہی کام سونپ گئی۔ ماورا کی واپسی کا انتظار کروں؟ نہیں جانے وہ کب آئے‘ آواز دے کے کہوں کہ باہر انہیں شربت دے آئے…؟ نہیں‘ بدتمیز لڑکی مذاق اڑاتی رہے گی۔‘‘ ٹرے میں شربت رکھتے خود ہی سوال و جواب کرتی جھنجلانے لگی۔
’’خود تو جاکے چین سے اندر بیٹھ گئی اور میرے لیے مشکل کھڑی کردی اب کیسے بے حس بن کے بیٹھی رہوں؟‘‘ گلاس پہ نظر جمائے وہ اس پہ جھنجلانے لگی۔
’’بڑی ہی سست ہو ابھی تک گئی نہیں شربت دینے؟ جائو دے بھی آؤ… لاؤ اندر والی ٹرے میں لے جاتی ہوں۔ بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں… جلدی جاؤ تاکہ اسی حساب سے اندر اپنی ٹائمنگ سیٹ کروں۔‘‘ وہ احسان جتاتے انداز میں گویا ہوئی۔
’’بھلائی کی بچی۔‘‘ ٹرے تھماتے انوشا دھیمی آواز سے چلائی۔
’’اب پکا جارہی ہوں۔‘‘ ٹرے اٹھا کر وہ ہنستی ہوئی چلی گئی۔
’’السلام علیکم آنٹی۔‘‘ اندر داخل ہوئی تو یسریٰ خوش گوار موڈ میں منزہ سے باتیں کررہی تھیں۔ پلنگ پہ کچھ ڈبے رکھے ہوئے تھے۔
’’وعلیکم السلام بچے‘ آگئیں پڑھ کے؟‘‘ یسریٰ نے کچھ اتنی بے ساختگی سے کہا جیسے وہ چھوٹی سی بچی ہو اور مدرسہ سے لوٹی ہو۔
’’جی آگئی۔ آپ شربت لیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ کو منزہ نے ٹھہر کے دیکھا‘ بہت کم ہی ان کی بیٹیوں کے چہرے پہ خوشی آتی تھی۔ خود انہوں نے اتنے سخت انداز میں دونوں کی پرورش کی تھی کہ بلاوجہ اونچے قہقہے لگانے اور باآوازِ بلند باتیںکرنے کی نا ان کی عادت تھی نا منزہ نے کبھی اجازت دی‘ بے اختیاری میں کبھی آواز اُونچی ہو بھی جاتی تو منزہ کی تنبیہی ’’ہوں‘‘ انہیں سمٹنے پہ مجبور کردیتی تھی۔ آج بھی اندازہ تھا کہ ان کے منع کرنے کے باوجود وہ ڈاکٹر کے پاس گئی ہوگی‘ شکستہ دل لوٹے گی لیکن اس کی مسکراہٹ دیکھ کر انہیں سکون محسوس ہوا تھا کہ وہ نہیں گئی۔
’’انوشا کے لیے بری لے کر آئی تھی‘ دیکھ کر بتاؤ کیسی ہے۔‘‘ یسریٰ محبت سے چیزوں کی طرف اشارہ کر گئیں تو وہ بھی اشتیاق سے چیزوں کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’چیزیں تو بہت پیاری ہیں آنٹی… آپ کی بہو ان میں بہت حسین لگے گی۔‘‘ اس نے پسندیدگی بھری نظروں سے سراہا۔
’’ماشاء اللہ‘ میری بہو تو ہے ہی اتنی حسین کہ کچھ بھی پہن لے پیاری ہی لگے گی۔ بس اللہ پہننا نصیب کرے۔‘‘ یسریٰ محبت سے انوشا کا ذکر کر گئیں تو منزہ نے دل ہی دل میں آمین کہا۔
’’بیٹا‘ شربت کا ایک گلاس یاسر کو بھی دے آو‘ باہر کھڑا ہے کب سے۔ بلا لیتیں بچے کو اندر۔‘‘ اسے ہدایت کرتے منزہ آخر میں یسریٰ سے ہمکلام ہوئیں۔
’’رہنے دیں منزہ بہن‘ کچھ ہی دنوں کی تو بات ہے‘ پھر تو آنا جانا لگاہی رہے گا یاسر کا آپ کے گھر‘ بلاوجہ آپ کے اُصول کیوں توڑتی پھروں۔ ہاں بچہ باہر دھوپ میں کھڑا ہے بس اس کی فکر ہے۔‘‘ یسریٰ نے خیال کرتے جواب دیا تو منزہ مسکرا دیں۔
’’جی شربت مل گیا ہے یاسر بھائی کو امید ہے اب اچھا محسوس کررہے ہوں گے۔‘‘ وہ دروازے کا منظر تصور کرتے زیرِ لب مسکرا دی تھی۔
خ…٭…ز
’’کہاں ہوتے ہو؟ شکل ہی دیکھنے کو نہیں مل رہی تمہاری۔‘‘ ایشان جاہ باہر سے آکر براجمان ہوا تو صہبا دیکھتے ہی گلہ کرنے لگیں۔
’’میں نے کہاں جانا ہے مام۔ سمسٹر نزدیک آرہے ہیں… اس لیے پڑھنا تو ہے۔ ایم بی اے آسان کب ہے اور اس وقت‘ جب ٹاپ کرنا خواہش سے زیادہ عزت کا معاملہ بن جائے۔‘‘ وہ اطمینان سے پیر پھیلا کے بیٹھ گیا۔
’’عزت کا معاملہ‘ وہ لڑکی راستے سے نہیں ہٹی؟ مجھے تو لگا تھا جہانگیر کے نوٹس میں بات آگئی ہے وہ نبٹ لیں گے… شاید بھول گئے ہوں گے‘ آج ہی یاد دلاتی ہوں انہیں… تمہاری ٹینشن تو دور ہو۔‘‘ صہبا نے حیرانی کے ساتھ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا۔
’’ڈیڈ کو یاددہانی کی ضرورت نہیں ہے مام… وہ مل چکے ہیں اس سے اور وہ افلاطون کے خاندان کی لڑکی ڈیڈ کو بھی چیلنج کرچکی ہے۔‘‘ اس نے آرام سے گوش گزار کیا۔
’’جہانگیر کو چیلنج…! اور انہوں نے بخش دیا اس لڑکی کو…؟‘‘ صہبا کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔ ’’حد ہوگئی… کس تیس مار خان کی بیٹی ہے آخر؟‘‘
’’بے حد معمولی حیثیت کی سفید پوش لڑکی ہے لیکن آپ ٹینشن نا لیں۔ پہلے ٹاپ کرکے مجھے اس کا غرور توڑنے دیں بعد میں ڈیڈ اس سے خود نبٹ لیں گے۔ آخر انہیں چیلنج کرنے کی گستاخی کی ہے اس نے… سمجھیں اس شہر سے تو دانا پانی بند اس کا۔‘‘ ایشان جاہ نے فکر دور کرنے کے لیے سارا ماجرا کہہ سنایا۔
’’ہونا بھی چاہیے۔ میں تو اب بھی چھوٹ دینے کو تیار نہیں۔ سر اٹھانے سے پہلے ہی کچل دینا چاہیے ان کیچڑ میں رہنے والوں کا۔ جیب میں دھیلا نہیں اور ہم سے بھڑنے چلی ہے۔‘‘ نفرت ونخوت سے بولتی صہبا کے لیے پیسہ اور پاور ہی سب کچھ تھا لیکن وہ بھول گئی تھیں کہ بھڑنے کے لیے پیسہ اور پاور سے زیادہ ہمت اور حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کی کمی ماورا یحییٰ میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی تھی۔
’’اگنور کردیں اسے… وہ بات بتائیں جس کے لیے آپ میری منتظر تھیں۔‘‘ اس نے صہبا کی توجہ دوسری طرف مبذول کی وہ ان کے انداز سے بھانپ گیا تھا کہ کوئی بات بتانا چاہ رہی تھیں۔
’’اچھا ہوا یاد دلا دیا ورنہ میں تو غصے میں بھول ہی گئی تھی۔ تمہارے ڈیڈ اور میں نے نرمین کا رشتہ سمہان سے طے کردیا ہے۔‘‘
’’نرمین کا رشتہ…! سمہان سے…؟‘‘ ایشان جاہ کو جیسے شاک لگا۔
’’ہاں… تمہارے ڈیڈ تو بابا جان سے بات بھی کرچکے ہیں‘ جلد ہی انگیجمنٹ کی تیاری شروع کریں گے۔‘‘
’’داجان تک بھی بات پہنچ گئی اور میں ہی بے خبر رہا… اسٹرینج۔‘‘ اسے حیرانی ہوئی۔
’’جہانگیر نے جھٹ پٹ ہی راضی کیا ہے بابا جان کو‘ کوئی لمبا چوڑا وقت نہیں دیا۔ تمہیں اتنی حیرانی کیوں… کیا سمہان پسند نہیں؟‘‘ وہ مطمئن کرنے کے ساتھ سوال کر گئیں۔
’’سمہان بھی کوئی ناپسند کرنے والا بندہ ہے۔ ہی از دا بیسٹ۔ بے حد خوشی ہورہی ہے کہ اتنا شاندار بندہ کزن کے بعد بہنوئی بننے والا ہے لیکن یہ نادر انتخاب ہے کس کا… آپ کا یا ڈیڈ کا…؟‘‘ وہ کھلے دل سے تعریف کرتے سوال کر گیا۔
’’چلو شکر ہے تمہیں بھی پسند ہے سمہان… انتخاب تو نرمین کا ہی ہے‘ ہمارا تو دھیان ہی نہیں گیا تھا اس کی طرف۔‘‘ صہبا صاف گوئی سے کہہ گئیں تو وہ لبوں کو اُو کی شکل میں سکیڑ گیا۔
’’حویلی میں سب راضی ہیں۔ مطلب اسفند چچا‘ فریال چاچی اور سمہان…؟‘‘ اسے اب تفصیل سے معلومات درکار تھیں۔
’’حویلی میں چلتی کب ہے کسی کی… بابا جان نے حامی بھرلی‘ فیصلہ سنا دیا۔ ہوگئے سب راضی۔ ان سب کی اپنی مرضی کب ہوتی ہے۔‘‘ صہبا کا غرور ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ حویلی والوں کا ذکر وہ کیڑے مکوڑوں کی طرح کرتی تھیں جیسے ان کی ناکوئی حیثیت تھی ان کی نظر میں نا اہمیت۔ ہوش و خرد سے عاری ذہنی غلام سمجھتی تھیں انہیں اور ان کا سمجھنا کچھ بے جا بھی نہیں تھا۔ من مانی کی زندگی تو انہوں نے گزاری تھی چودھری جہانگیر کی رفاقت میں‘ حویلی والے تو آج تک وہاں اصول و ضوابط پہ چلتے تھے۔
’’جب نرمین لڑکی ہوکر اپنی پسند ظاہر کرسکتی ہے تو سمہان تو پھر مرد ہے۔ اس کی بھی کوئی پسند ہوسکتی ہے؟‘‘ اسے عجیب لگا۔
’’حویلی والوں کی کوئی پسند نہیں ہوتی… ہوگی بھی تو کون سا پوری ہوجائے گی‘ کمپرومائز کی کڑوی گولی ہی نگلنا پڑتی ہے آخر میں انہیں۔‘‘
’’یعنی سمہان کی کہیں دلچسپی تھی…؟‘‘ صہبا کے انداز سے اس نے یہی اخذ کیا کہ کوئی بات ضرور ہے۔
’’سمہان کی تو نہیں البتہ عیشال کی دلچسپی تھی سمہان میں۔‘‘ وہ کمالِ لاپروائی سے کہہ گئیں۔
’’واٹ…! آپ کے علم میں تھی یہ بات پھر بھی آپ نرمین کا رشتہ کررہی ہیں؟‘‘ اسے اچنبھا ہوا۔
’’عیشال کی پسند ناپسند سے کیا ہوتا ہے اصل تو سمہان کی رائے ہے‘ اگر اسے انکار ہوتا تو اب تک بات سامنے آجاتی لیکن وہ بابا جان کے فیصلے کو مان چکا ہے تو کسی ایرے غیرے کی پسند کیا معنی رکھتی ہے۔‘‘
’’ہوسکتا ہے سمہان کی مرضی بھی عیشال کے لیے ہو۔ آپ بات کی تحقیق کرکے دیکھیں یا پھر میں کرلیتا ہوں۔‘‘ اسے اچھا نا لگا تھا۔
’’ چلو‘ بالفرض ایسا ہوا بھی کہ سمہان بھی عیشال میں انٹرسٹڈ ہوا تو کیا کرو گے؟ سوتیلی کے لیے اپنی سگی بہن کا دل توڑ دو گے؟‘‘ صہبا کو عیشال کی طرف اس کا جھکاؤ گراں گزرا۔
’’دل کیا توڑوں گا بلکہ دل ٹوٹنے سے بچاؤں گا… اگر سمہان کے دل میں عیشال یا کسی اور لڑکی کا خیال ہے تو وہ نرمین کو کیسے خوش رکھ سکے گا‘ سگی بہن کے حق میں بہترین فیصلہ ہونے کے ساتھ دو دلوں کو الگ ہونے سے بچانے کا ثواب الگ ملے گا۔‘‘ وہ تدّبر سے کہہ گیا۔
’’بڑی سمجھداری کی بات کررہے ہو آج لیکن بے کار ہے کہ تمہارے ڈیڈ نے بابا جان کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ عیشال کو حویلی سے باہر بیاہیں‘ ورنہ وہ کسی دن اسے شوٹ کردیں گے۔‘‘
’’رئیلی…! ڈیڈ نے اتنی نفرت سے کہا…؟‘‘ وہ حیران تھا صہبا نے شد ومد سے سر اثبات میں ہلایا۔
’’ڈیڈ عیشال سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں۔ ڈو یو نو مام…؟‘‘ وہ استعجاب سے سوال کر گیا۔
’’اس کا صحیح جواب تو مجھے بھی معلوم نہیں۔‘‘ وہ کندھے اچکا گئیں۔
’’آپ نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی… نا ان کے بیچ محبت پیدا کرنے کی کوشش کی؟‘‘
’’مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے جو ان کی نفرت کی وجہ ڈھونڈ کر بیٹی سے محبت کرنے پہ مائل کروں۔ میرے لیے تو تسلی کی بات ہے کہ سوکن کی بیٹی سے نفرت سے پیش آتے ہیں… یہ آج تمہیں ہو کیا گیا ہے جو ایسی باتیں کررہے ہو؟‘‘ انہیں تشویش لاحق ہوئی۔
’’یہ بات غلط ہے مام اگرچہ اس کا ادراک دیر سے ہوا لیکن صحیح کرنے میں کیا ہرج ہے… ڈیڈ کی اولاد تو عیشال بھی ہے لیکن نرمین اور میرے ساتھ ڈیڈ کا الگ رویہ ہے جب کہ عیشال کے سر پہ ڈیڈ کو آج تک ہاتھ رکھتے بھی نہیں دیکھا میں نے‘ جب کہ بے چاری کی ماں بھی بچپن میں چلی گئی۔‘‘ اسے کسی حد تک احساس تھا۔ صہبا کو خطرے کی گھنٹی سنائی دے رہی تھی۔
’’جان سے مار دوں گی‘ اس سمہان کو آخر خود کو سمجھتا کیا ہے۔‘‘ نرمین تلملاتی ہوئی داخل ہوئی۔ جس انداز سے آئی تھی دونوں چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
’’کیا ہوا… کیا کردیا سمہان نے جو میری بیٹی کا غصہ کم نہیں ہورہا؟‘‘ صہبا متعجب ہوئیں۔
’’پہلے تو نمبر نہیں مل رہا تھا اس کا، حویلی کال کی تو پہلے عیشال سے بحث ہوئی بعد میں سمہان سے بات ہوئی تو لائن میں پرابلم… بعد میں گھنٹوں لائن بزی رہی۔ آج ڈیڈ کے سیل سے اس کا پرسنل نمبر نکال کے کال کی تو صاف کہہ کر نمبر بلاک کر گیا کہ حویلی میں کالز پہ باتیں کرنا الاؤ نہیں اور یہ کہ میں آئندہ کال نا کروں اتنا روڈ بی ہیو کررہا تھا۔‘‘
’’تمہیں حویلی کا مزاج پتا ہے پھر بھی تم نے اسے کال کی‘ وہ تمہارے مزاج کا نہیں ہے۔‘‘ ساری تفصیل سن کر ایشان جاہ نے سختی سے کہا۔
’’بھلے وہ جس بھی ماحول اور مزاج کا ہو‘ اسے میرے مزاج تک آنا ہوگا۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے گویا ہوئی تو ایشان جاہ کی نظر بے ساختہ صہبا پہ گئی۔ اس کی نظروں کا مفہوم پا کر صہبا سر جھٹک کر نرمین کو تسلی دینے لگیں۔
’’سمہان کیا اس کے تو اچھے بھی بات کریں گے میری بیٹی سے۔ آجائیں جہانگیر کرتی ہوں بات ان سے کہ سمجھائیں اپنے بھتیجے کو… میری بچی کا دل توڑ دیا۔‘‘
’’میرا نمبر بلاک کردیا مام۔‘‘ اس نازک حسینہ کا درد کم نہیں ہورہا تھا۔ بے عزتی الگ محسوس ہورہی تھی۔ صہبا ساتھ لگا کر تسلی دے رہی تھیں ساتھ ہی سمہان کے کس بل نکال دینے کے جھوٹے دعوے بھی کررہی تھیں۔ جیسے وہ حویلی کا نہیں ان کے حکم کا غلام ہو۔
خ…٭…ز
بظاہر سب معمولاتِ زندگی میں مصروف تھے لیکن اپنی اپنی جگہ ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔ ندا کمرے میں بند تھی اور کسی نے اس کی غیر موجودگی محسوس بھی نہیں کی تھی۔ ندا کی زندگی میں کسی لڑکے کی موجودگی اور پھر اس لڑکے کا جان سے گزر جانا۔ ہر کوئی چکرا کے رہ گیا تھا۔ فائزہ ماں تھیں‘ ندا کے عمل سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ وہ زمرد بیگم کی آغوش میں سر رکھے کتنی ہی دیر رنجیدہ بیٹھی رہیں۔ اپنی تربیت پہ شرمندہ خود کو کسی سے آنکھ ملانے کے قابل نہیں سمجھ رہی تھیں۔ زمرد بیگم بنا کچھ کہے سر تھپکتی رہیں۔ چودھری فیروز بھی بے حد چراغ پا تھے۔ ساری بھڑاس فائزہ پہ نکال کے گئے تھے اور وہ بیٹی کے کیے کی سزا چپ چاپ سننے پر مجبور تھیں۔ عورت تھیں‘ ماں تھیں کچھ نا کرکے بھی مجرم بن گئی تھیں۔ دیگر معمولات دیکھتے بھیگتی آنکھوں کو بار بار خشک کررہی تھیں۔ فریال کے پاس دلاسہ کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ وہ خاموشی سے فائزہ کو تھپک رہی تھیں۔
ندا سے جتنی بڑی غلطی ہوچکی تھی لڑکیاں بھی اپنی اپنی جگہ سہمی ہوئی ہر ایک سے نظریں چرا رہی تھیں۔ جیسے مجرم ندا نہیں بلکہ وہ خود ہوں۔ کھانے کی میز پہ ندا کے علاوہ سب موجود تھے۔ کسی نے اسے بلانے کی زحمت نہیں کی نا کسی کی زبان پر اس کا نام تھا۔ کھانے کی میز انواع واقسام کی چیزوں سے بھری ہوئی تھی لیکن سب زہر مار کررہے تھے۔ فائزہ ملول سی بیٹھی تھیں اور چودھری فیروز کی کڑی نظریں ان کا پتا پانی کررہی تھیں۔
’’آپ سب تیاری کرلیجیے گا۔ رئیس کی تصویر ہم نے آپ سب کو دکھائی تھی۔ کل رئیس اپنی فیملی کے ساتھ آرہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ سب کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔ حویلی کی لڑکیوں کی روش دیکھ کر ہم یہ فیصلہ کرنے پہ مجبور ہوگئے ہیں کہ لڑکوں کو چھوڑ کر جتنی جلدی ممکن ہو حویلی کی لڑکیوں کو رخصت کیا جائے تاکہ حویلی کی لڑکیوں نے جو ہمارا شملہ نیچے کرنے کی ٹھان رکھی ہے کم ازکم ہم اس کی حفاظت تو کر سکیں۔‘‘ اس سارے قصے میں چودھری حشمت نے بالا ہی بالاکام کروائے تھے۔ حویلی میں کسی کو بھنک بھی نہیں پڑی تھی کہ وہ ندا کی زندگی میں راحیل کی موجودگی سے واقف ہیں۔ ہاں صرف سمہان آفندی تھا‘ جو راحیل کے اغوا سے لے کر اس کے قتل کا نا صرف چشم دید گواہ تھا بلکہ لاش ٹھکانے لگا کر برابر کا مجرم بھی بن گیا تھا۔ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی چودھری حشمت نے چودھری فیروز اور فائزہ کی کلاس نہیں لی تھی لیکن اس وقت وہ جس طرح خشک انداز میں سب کی بلاواسطہ کلاس لے رہے تھے۔ سب ہی کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ لڑکیاں سوکھے گلے کے ساتھ نظریں چرانے لگی تھیں تو فائزہ کا سر اوپر نہیں اٹھ رہا تھا۔ چودھری حشمت تمام لڑکیوں پہ نظر ڈال کر آخر میں عیشال پہ سختی سے نظر جماگئے تو سمہان آفندی کچھ بے چین سا ہوگیا۔
برائے نام کھانا چکھ کر چودھری حشمت اٹھ کر چلے گئے تو ایک کے بعد دوسرے مرد بھی اٹھنے لگے۔ لڑکیاں ملول سی ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھ رہی تھیں۔ سب کو موت کے بعد کے سوگ کا سامنا تھا۔ مرد بھی اٹھ کر چلے گئے تو فائزہ پھپھک کر رو دیں۔
’’تم سب اپنے اپنے کمرے میں جاؤ‘ کسی بھی سلسلے میں کوئی بات نا ہو۔‘‘ فریال تمام لڑکیوں پہ طائرانہ نگاہ ڈالنے کے ساتھ تنبیہی انداز سے ان سب کو اٹھنے کا اشارہ کرچکی تھیں۔ ان کے انداز میں بھی دبا دبا غصہ تھا۔ جس طرح چودھری حشمت لڑکیوں اور شملے کا ذکر کر گئے تھے درپردہ ان سب کی تربیت پہ ہی انگلی اٹھا کر غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ہر گھڑی بذلہ سنجی سے پھلجڑیاں چھوڑنے والی فریال کے خشک لہجے پہ لڑکیاں چپ چاپ اٹھ کر چل دی تھیں۔ ہال سے نکلتے سمہان آفندی نے عیشال جہانگیر کے انداز ملاحظہ کیے تھے۔ چودھری حشمت کے لہجے کی تلخی محسوس کرنے کے بعد بھی اس کے انداز میں بے باکی اب بھی موجود تھی۔ وہ اب بھی پسپائی اختیار کرنے کی بجائے‘ بھڑنے کو تیار نظر آرہی تھی۔
’’پریشان نا ہو بہو… ندا کو کھانا کھلا دو جاکے۔ اس وقت اسے ماں کی کمی محسوس ہورہی ہوگی… فریال، ندا کے لیے کھانا نکال کر بہو کو دو۔‘‘ زمرد بیگم روایتی ساس سے قطعی مختلف تھیں۔ چودھری حشمت کی رفاقت میں برسوں گزرے تھے لیکن وہ آج بھی اتنی ہی نرم مزاج تھیں۔ ان کی ہدایت پہ فریال سر ہلاتی کھانا نکالنے لگیں۔
’’اس لڑکی نے میری تربیت کو شرمندہ کردیا اماں۔‘‘ فائزہ کو قلق ہوا۔ جہاں شاہ زرشمعون جیسا بیٹا حویلی والوں کی شان بڑھاتا تھا‘ وہیں بیٹی نے آج ان کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔
’’ایسا کیوں سوچتی ہو۔ تمہاری تربیت کا قصور ہوتا تو شاہ حویلی کے لیے قابلِ فخر کیسے بنتا…؟ کسی ایک بچے کی نادانی پہ ماں کو قصور وار ٹھہرانا کسی طور مناسب عمل نہیں۔ ایک ہی ماں کی کوکھ میں پلنے والے تمام بچے ایک جیسی فطرت لے کر پیدا نہیں ہوتے۔ تم خود کو قصوار وار نا ٹھہراؤ۔ حویلی کی بچیاں ایسی نہیں ہیں‘ جانے کس کی نظر لگ گئی۔‘‘ ناصحانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے زمرد بیگم بھی ملول سی اٹھ گئی تھیں۔
فریال نے ہمت بندھاتے ٹرے تھمائی تو فائزہ بوجھل قدموں سے ندا کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ ندا آنکھیں موندے لیٹی تھی یا سو رہی تھی انہیں اندازہ نہیں ہوا۔ کمرے میں ناکافی روشنی تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کے کمرا روشن کردیا اچانک تیز روشنی پڑی تو ندا نے بے ساختہ آنکھوں پہ بازو رکھ لیا۔
’’کھانا کھالو۔‘‘ فائزہ کو اس کی حالت دیکھ کے افسوس ہوا۔ لاکھ غصہ سہی لیکن چند گھنٹوں میں اس کی جو حالت ہوچکی تھی اسے دیکھ کر ان کا دل پھٹنے لگا۔ اپنی سب سے سمجھدار بچی سے انہیں اس طرح کی بیوقوفی کی امید نہیں تھی۔ سارے قصے پہ دل ہول رہا تھا کہ جانے چودھری حشمت کون سی سزا اس جرم کی پاداش میں سنائیں لیکن لڑکے والوں کی آمد کا سنا کر وہ کسی حد تک ان کا تردد دور کر گئے تھے۔ یعنی وہ جلد سے جلد ندا کی شادی کرکے اسے رخصت کرنے کے چکر میں تھے۔
ماں کو کھانے کی ٹرے سمیت دیکھ کر ندا کچھ نہیں بولی‘ تواتر سے آنسو بہنے لگے تھے۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے بھوکی پیاسی اکیلی پڑی ہوئی تھی۔ عیشال کے علاوہ کوئی اس کے قریب نہیں پھٹکا تھا‘ باخبر تھی کہ نادیدہ بیڑیاں ان سب کے پیروں میں ڈال دی گئی ہوںگی۔ وہ اٹھی نہیں تھی‘ نا ہی کھانے کی طرف متوجہ ہوئی۔ فائزہ نے ممتا سے مجبور ہوکر چھوٹا سا نوالہ بنا کر اس کی طرف بڑھایا تو نفی میں سر ہلاتے وہ ان کا ہاتھ تھام کر سر ان کی آغوش میں رکھ کر آنسو بہانے لگی۔ اس کے آنسوئوں سے فائزہ کا کلیجہ پھٹنے لگا تھا۔
خ…٭…ز
چودھری بخت ہاسپٹل سے لوٹے تو کاریڈور میں ہی ماہم اور دیا انہیں پریشان سی مل گئیں۔
’’کیا ہوا سب خیر ہے؟‘‘ ان کی گاڑی اندر داخل ہونے پہ دیا جس طرح لپکی تھیں۔ اسے دیکھ کر چودھری بخت کا سوال کچھ غیر مناسب بھی نہیں تھا۔
’’جی… وہ…‘‘ دیا ان کی آمد پہ کچھ گڑبڑا سی گئیں۔
’’شنائیہ کہاں ہے؟‘‘ دیا کی بوکھلاہٹ اور ماہم کو سہما ہوا دیکھ کر ان کا سوال بنیادی تھا۔
’’شنائیہ‘ ناعمہ کے بھائی کی انگیجمنٹ میں گئی ہے۔ ابھی تک لوٹی نہیں‘ اسی کا ویٹ کررہے تھے ہم۔‘‘ کتنی دعا کی تھی انہوں نے کہ شنائیہ‘ چودھری بخت کے گھر آنے سے پہلے لوٹ آئے لیکن دعا قبول نہیں ہوئی تھی۔ ان کے جواب پہ چودھری بخت نے خشمگیں نظروں سے دیا کی طرف دیکھا۔
’’کس کی اجازت سے آپ نے اسے اکیلا بھیج دیا؟ آپ خود ساتھ نہیں جاسکتی تھیں؟‘‘ شنائیہ کے حوالے سے ابھی ان کا غصہ نہیں اترا تھا کہ نئی حرکت پہ ان کے ماتھے پہ بے شمار بل پڑگئے۔
’’آپ سے ذکر کرنے ہی والی تھی لیکن ہاسپٹل پہنچ کر ذہن سے نکل گیا۔ ماہم کو شنائیہ کے ساتھ جانے کو کہا تھا لیکن عین موقع پہ ماہم کی فرینڈ کمبائن اسٹڈی کے لیے آگئی تو شنائیہ ڈرائیور کے ساتھ اکیلی ہی چلی گئی۔ ڈرائیور کو یہ کہہ کر بھیج دیا کہ واپسی میں ناعمہ خود چھوڑ دے گی۔ آپ برا مانیں گے اسی لیے اسے ڈرائیور اور محافظوں کے ساتھ جانے کو کہا تھا‘ ماہم عین موقع پہ نہیں جاسکی اس کا علم مجھے بھی گھر آکر ہوا۔‘‘ دیا مجرموں کی طرح سارا احوال کہہ گئیں تو چودھری بخت کی سخت نظر محسوس کرکے ماہم مجرم کی طرح نظر چرا گئی۔
’’یہ ساری کہانی آپ مجھے اب سنا رہی ہیں۔‘‘ وہ غصے میں آپ جناب کے طنزیہ پیرائے میں داخل ہوئے۔
’’آپ اور آپ کی بیٹی نے یہ سب پلان کرتے، میرے علم میں بات لانے کی ضرورت محسوس کی نا ہی یہ خیال کیا کہ شاہ رکا ہوا ہے اس کے سامنے کسی طرح کا تماشا نا ہو۔ پہلے ہی آنکھ ملانے کے قابل نہیں چھوڑا آپ کی بیٹی نے۔‘‘ چودھری بخت کا غصہ بڑھتا ہی گیا۔
’’بس مصروفیت کے باعث ذہن میں نہیں رہا آپ کو بتانا۔ شاہ اندرونِ سندھ کے لیے نکلا ہوا ہے صبح سے اور شاید اس کی واپسی بھی صبح ہی ہو۔‘‘ دیا دھیمی آواز میں گوش گزار کررہی تھیں۔
’’جی شاہ نے اپنے پروگرام سے آگاہ کیا ہے مجھے‘ لیکن آپ کی بیٹی بھول گئی۔ دیا بیگم آپ کچھ زیادہ بھولنے لگی ہیں تو ایسا کریں ہاسپٹل سے ریزائن کرکے گھر پہ توجہ دیں۔ ہاسپٹل کے مریضوں سے زیادہ ہماری بیٹیوں کو آپ کی ضرورت ہے۔‘‘ چودھری بخت کم ہی غصہ کرتے تھے لیکن کسی بات پہ غصہ آجاتا تو مہینوں لگ جاتے انہیں رام کرنے میں اور ابھی تو شنائیہ کے پچھلے کارنامے کے اثرات تازہ تھے کہ نئی صورتِ حال درپیش ہوگئی تھی۔ دیا خفت سے چپُ سی رہ گئیں۔
’’کیوں واپسی نہیں ہوسکی اب تک۔ دیر ہورہی تھی تو ڈرائیور کے ساتھ آپ لینے چلی جاتیں۔‘‘
’’کہا تھا میں نے لیکن وہ نکل چکی تھی‘ ناعمہ بھی ساتھ ہے۔ ایک بار پھر پوچھتی ہوں۔‘‘ جواب تو دینا تھا۔ دیا‘ شنائیہ کو کال ملانے لگیں۔ وہ گھنٹوں سے ٹریفک میں پھنسنے کا رونا رو رہی تھی۔
’’شہر میں آج شام سے ہی غیر معمولی ٹریفک جام کے مسائل ہیں‘ میں خود کافی دیر بعد گھر پہنچی تھی۔‘‘ جلدی پہنچنے کی ہدایت دیتے فون بند کرکے دیا منمنا کر چودھری بخت کا غصہ دور کرنا چاہ رہی تھیں۔
’’آپ جاکے فریش ہوں… میں کھانا لگواتی ہوں آپ کے لیے۔ آجائے گی تب تک۔‘‘ دیا ان کی تھکن کے پیشِ نظر مشورہ دینے لگیں بھلے جتنی دیر سے لوٹتے‘ کھانا گھر آکر ہی کھاتے تھے۔
’’بیٹی رات گئے اجنبی لوگوں کے ساتھ ٹریفک جام میں پھنسی ہے اور میں ریلیکس ہوکر کھانا کھاؤں‘ ویسے جواب نہیں آپ کا دیا بیگم۔ کبھی کبھی آپ بھی کمال کردیتی ہیں۔‘‘ ان کے طنزیہ لب ولہجے اور خشمگیں نظروں سے خائف ہوکر دیا لب کاٹنے لگیں۔ ماہم والدین کو الجھتے دیکھ کر خود کو مجرم سمجھ رہی تھی‘ اس نے کہا بھی تھا شنائیہ سے کہ وہ جانے سے پہلے دیا کو انفارم کردے لیکن شاید وہ بھول گئی تھی اور اب دونوں ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔
’’کب تک بیٹھ کر انتظار کرتار ہوں صاحبزادی کے لوٹ آنے کا۔ نکلتا ہوں انہیں ڈھونڈنے کے لیے۔‘‘ چودھری بخت کو بیٹھ کر انتظار کرنا وقت کا ضیاع لگا تو تھوڑی ہی دیر بعد اٹھ گئے۔ اسی وقت ہارن کی تیز آواز سے ان سب نے سکون کا سانس لیتے نظریں مین گیٹ پہ جمادی تھیں‘ وہ سب چند قدم آگے آگئے تھے۔ دروازہ کھلا اور ناعمہ کی بجائے شاہ زر شمعون کی گاڑی کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر چودھری بخت کے چہرے پہ جس طرح فکر مندی کے ساتھ غصہ چھلکنے لگا تھا۔ دیا بھی پریشان ہوگئیں۔ وہ بھی ان سب کو مستعد دیکھ چکا تھا‘ اب وہ بات بھی نہیں بنا سکتے تھے۔
’’السلام علیکم۔‘‘ وہ ان تک آیا۔
’’وعلیکم السلام! لوٹ آئے… تمہارا ارادہ تو صبح لوٹنے کا تھا۔‘‘ چودھری بخت کوشش کرکے خود کو نارمل کررہے تھے۔
’’ارادہ تو صبح کا ہی تھا چچا جان لیکن کام جلدی ہوگیا تو لوٹ آیا۔ اب سوچ رہا ہوں‘ صبح گاؤں چلا جاؤں۔‘‘
’’اتنی جلدی کیا ہے‘ رکو کچھ دن۔‘‘ لہجہ بدل کے اصرار کیا لیکن ان کے چہرے کی گھبراہٹ جواب دینے کی بجائے سوال پہ مجبور کر گئی۔
’’اتنی رات کو آپ سب یوں اس طرح کھڑے کس کے منتظر ہیں…؟ سب خیریت ہے چچا جان۔‘‘ وہ سب کے چہرے دیکھ رہا تھا۔ پہلی نظر میں ہی شنائیہ کی غیر موجودگی کا احساس ہوگیا۔
’’بیٹا… شنائیہ اپنی بیسٹ فرینڈ کے بھائی کی انگیجمنٹ پہ گئی ہوئی ہے لیکن ٹریفک جام میں پھنس گئی ہے‘ ابھی تک لوٹی نہیں‘ اسی کا انتظار کررہے ہیں ہم سب۔‘‘ ایک ہی گھر میں رہ کے کب تک بات چھپاتے‘ انہوں نے شرمندگی میں ڈوب کے سچ کہہ دیا۔ ان کی بات کو سنتے ہی شاہ زرشمعون کے ماتھے پہ لکیریں ابھری تھیں‘ ساتھ ہی کلائی میں بندھی رسٹ واچ کو اس نے نظروں کے سامنے کیا اور جبڑے بھنچ گئے تھے۔
خ…٭…ز
’’یہ تو بابا جان ہیں جن کی وجہ سے چپ ہوں‘ ورنہ جو حرکت ندا نے کی ہے اس کے بعد تو اسے گولی مارنے کو دل چاہ رہا ہے۔ سب سے سمجھدار بچی سمجھتا رہا اسے اور اس نے ہی کالک ملنے کا سامان کردیا۔‘‘ چودھری فیروز کمرے میں دائیں بائیں ٹہلتے فائزہ پہ برس رہے تھے۔
’’غلطی کی جو شاہ کے نکاح سے پہلے اس کی رخصتی نہیں کی… جانے کب سے ہماری عزت سے کھیل رہی تھی۔ اچھا ہے جلد شادی کرکے نکال باہر کریں بابا جان حویلی سے‘ شکل نہیں دیکھوں گا عمر بھر اس لڑکی کی۔‘‘ ان کا غصہ کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔
’’مجھے خود اس سے ایسی امید نہیں تھی۔ میرا دل کٹ رہا ہے۔‘‘ فائزہ آنسو بہارہی تھیں۔
’’امید نہیں تھی‘ لیکن بیٹی نے چاند چڑھا دیا۔ بابا جان کو اس لڑکے کے ساتھ ندا کو بھی شوٹ کروا دینا تھا۔‘‘ ان کی سفاکی پہ فائزہ دہل کر دیکھنے لگیں لیکن ان کی نظریں خود پہ جمی دیکھ کر نظریں جھکا گئیں۔
’’باقی کی دونوں بیٹیوں سے باز پرس کریں‘ کہیں وہ بھی تو ہماری آنکھوں میں دھول نہیں جھونک رہیں۔‘‘ ندا کے کیے کی پاداش میں شاذمہ اور یمنیٰ کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جارہا تھا۔
’’یاد رہے فائزہ بیگم… اس بار تو آپ کو معاف کررہا ہوں۔ اس کے بعد اگر دونوں بیٹیوں میں سے کسی ایک نے بھی شکایت کا موقع دیا تو پھر مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ آپ بھی پھر خیر منائیے گا‘ بڑھاپے میں بیوہ ہونا یا طلاق لینا آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا یقینا۔‘‘ انتہائی لہجے پہ فائزہ سہم کر مجازی خدا کی شکل دیکھنے لگیں۔ جہاں رعایت کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ بیٹی کی نادانی نے کیسا دن دکھایا تھا۔
خ…٭…ز
’’رات بیت رہی ہے‘ یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھے رہنے سے اچھا ہے کہ میں شنائیہ کی تلاش میں نکلوں۔‘‘ رِسٹ واچ کی طرف دیکھتے اس نے کہا‘ اب تو واقعی انتہا ہوگئی تھی۔
’’کہہ تو ٹھیک رہے ہو‘ اب تو میرا دل بھی گھبرا رہا ہے‘ میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ چودھری بخت بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’آپ ہاسپٹل سے تھکے ہوئے آئے ہیں چچا جان‘ آرام کریں‘ میں دیکھ لیتا ہوں۔‘‘ وہ ان کی تھکاوٹ کو دیکھتے انکاری ہوا۔
’’تمہیں یہاں کے راستوں کا زیادہ علم نہیں۔ مشکل پیش آجائے گی۔ اکثر تو سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں جن کے باعث ٹریفک کا رش ہوتا ہے۔ میں چل رہا ہوں ساتھ… شنائیہ سے پوچھ لو کس ایریا میں ہے۔‘‘ چودھری بخت‘ شاہ زرشمعون سے کہتے دیا کو ہدایت دینے لگے۔
’’اس کی ضرورت نہیں ہے چچی جان‘ شنائیہ کے پاس سیل فون تو ہے ہی‘ لوکیشن ٹریس کرلوں گا راستے میں۔ آپ سب اندر جاکے آرام کریں۔ میں بچہ نہیں ہوں‘ شہر ضرور اجنبی ہے لیکن ہمیشہ نہیں رہتا۔‘‘ جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم سے مالامال انہیں مطمئن کرکے وہ ایک بار پھر پورچ کی طرف بڑھ گیا تھا۔
گاڑی اسٹارٹ کرکے اس نے سیل فون نکالا چوکیدار گیٹ وا کرکے ایک طرف ہوگیا‘ سامنے ہی گیٹ کے باہر شنائیہ چودھری کسی گاڑی کی کھڑکی پہ جھکی باتیں کرتی نظر آئی۔ ڈرائیونگ سیٹ پہ کوئی شخص براجمان تھا اور فرنٹ سیٹ پہ یقینا نائمہ تھی جس کی گاڑی سے اتر کے وہ اب باتیں کررہی تھی۔ ہارن دیے بنا اچانک دروازے کا وا ہونا اس کے لیے حیرت کی بات تھی۔ تیز ہیڈ لائیٹس کی روشنی نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر سیدھا ہونے پہ مجبور کردیا تھا۔
’’شاہ…!‘‘ آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر سامنے دیکھنے کی کوشش کی تو ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے شاہ زرشمعون کو اپنی طرف شرر بار نظروں دیکھتے پاکر اس کی روح فنا ہونے لگی۔ اس کے منہ سے شاہ سن کر نائمہ کھڑکی سے سر نکال کر تسلی سے دیکھنے لگی۔
’’بائے شنائیہ…‘‘ نائمہ کہہ کر گاڑی والے کو اشارہ کر چکی تھی۔
اس کے اندر ہاتھ ہلانے تک کی ہمت نہیں بچی تھی۔ سن ہوتے قدم اندر کی طرف بڑھنے لگے۔ جیسے جلدی سے اس کی نظروں سے ہٹنا چاہ رہی ہو۔ تب ہی گاڑی کا انجن بند کرکے چوکیدار کو گیٹ بند کرنے کا اشارہ کرتے‘ وہ ڈرائیونگ سیٹ سے اتر آیا تھا۔ پہلے ہی چودھری بخت اور دیا کی ناراضی کا سوچ سوچ کر ہول اٹھ رہے تھے اور یہاں تو سامنا ہی ہلاکو سے پہلے ہوگیا تھا۔ وہ جل تو جلال تو کا وِرد کرتی نظر بچا کے آرہی تھی‘ جانا تو اس کے پاس سے ہی گزر کے تھا‘ جہاں وہ پھیل کے کھڑا تھا۔ چند قدموں کا فاصلہ طویل ہوگیا تھا کہ قدم ہی نہیں اٹھ رہے تھے۔ چوکیدار دروازہ بند کرکے اپنے کمرے میں جاچکا تھا۔
’’السلام علیکم اور گڈ نائیٹ۔‘‘ اس کے سامنے سے آنکھیں بند کرکے تو نہیں گزر سکتی تھی‘ کچھ تو کہنا تھا۔ تیزی سے کہہ کر وہ چھپاک سے نکلنے لگی‘ ابھی قریب سے گزری بھی نہیں تھی کہ وہ بھوکے شیر کی طرح بازو دبوچ کر سختی سے کھینچتے اس کا وجود گاڑی سے لگا گیا۔
’’اف…‘‘ اس تیز رفتاری پہ اسے چکر آگیا اور چوٹ لگ گئی۔
’’آپ کی لاپرواہیوں کو مزاج کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کرتا رہا‘ خبر نہیں تھی وہ لاپرواہیاں نہیں آپ کی سرکشی تھی۔ رات گئے اجنبیوں کی گاڑی میں غیر مرد کی موجودگی میں ٹریفک جام کا بہانہ‘ جانے اس گھنٹوں کے جھوٹ میں کتنے سیکنڈ کی سچائی چھپی ہو۔ اس آزادانہ روش پہ آپ کی فیملی آپ کے کردار سے مطمئن ہوگی‘ میں نہیں… خود کو پاک باز کہہ دینے سے کچھ نہیں ہوتا‘ حقیقت وہی ہے جو کچھ دیر پہلے میری آنکھوں نے دیکھی۔ اتنی رات تک تو حویلی کے مردوں کو بلاوجہ باہر رہنے کی اجازت نہیں اور آپ ان سے بھی آگے کا سفر کررہی ہیں…‘‘ اس کے دونوں شانے سختی سے دبوچے وہ چنگھاڑ رہا تھا۔ شنائیہ کے چہرے سے غصہ چھلکنے لگا جو اسے مزید مشتعل کررہا تھا۔ اپنے دفاع میں بولنے کے لیے اس نے لب کھولے ہی تھے کہ جبڑا اس کے ہاتھ میں آگیا۔
’’یہ آخری وارننگ ہے اور آپ کی آزادی کا آخری سفر‘ جو اختتام پذیر ہوا۔ حویلی چلنے کی تیاری کریں۔ میں قطعاً اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ پھر سے میری عزت رولنے کو دن اور رات کی تمیز بھول کر سڑکوں پہ ماری ماری پھریں۔ ختم آزادی کے دن… اب سے آپ وہی کریں گی جو میں کہوں گا‘ میری اجازت کے بنا گھر سے ایک قدم بھی باہر نکالا تو ساری عمر بیساکھی پہ گزرے گی… جائیں‘ جاکے اپنا چاند چہرہ اپنے والدین کو دکھائیں‘ جن کی عزت کا جنازہ نکالنے کو آپ سڑکوں پہ خوار ہورہی ہیں۔‘‘ اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بنا وہ غیض وغضب کا نشان بنا اس کے وجود کو بری طرح دھکیل کے آگے بڑھ گیا تھا۔
وہ اس وحشیانہ سلوک اور اس کے انتہائی الفاظ پہ روہانسی ہوگئی تھی۔ اتنی تکلیف پہ آنسو تیزی سے آنکھوں میں آرہے تھے۔ اس کا یوں دھتکارنا‘ اس کے کردار پہ سوال اٹھانا اور تنبیہ کرنا کچھ بھی نظر انداز کرنے کے قابل کب تھا۔ حواس جامد ہوگئے تھے۔ ایسا سلوک کبھی کسی نے کیا جو نہیں تھا۔
خ…٭…ز
صبح سے ہی حویلی میں چہل پہل تھی۔ لڑکیوں کو کالج‘ یونیورسٹی جانے سے روک دیا گیا تھا کہ مہمانوں کی آمد کسی بھی وقت متوقع تھی اور ندا والے واقعے کے بعد ابھی ان سب کی قسمتوں کا فیصلہ ہونا باقی تھا کہ اب ان سب کو مزید تعلیم کی اجازت بھی ملنا تھی یا نہیں۔ ناشتے سے فارغ ہوکر لڑکیاں ملازماؤں کے ساتھ صفائی ستھرائی میں مصروف ہوگئی تھیں۔ ندا کمرے سے نہیں نکلی تھی۔ اس کے کمرے میں ناشتہ بھجوا کر فائزہ اس کے لیے سوٹ نکال لائی تھیں جو اسے مہمانوں کے سامنے پہن کر آنا تھا۔ فائزہ کے لائے ہوئے سوٹ کو دیکھتے ندا نے دکھی دل سے ان کا پیغام سنا تھا۔ بولی کچھ نہیں تھی۔ آواز تو ان گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے نگل لی تھی۔
چودھری فیروز آتے جاتے فائزہ کو تنبیہہ کررہے تھے کہ مزید کوئی تماشا نا ہو۔ سمہان آفندی کے ذمہّ مہمانوں کی ضروریات سے لے کر کھانے پینے کے انتظامات دیکھنے تک کی ذمہ داری تھی۔ اگر وہ قیام کرتے تو سیر وتفریح کے امور بھی توجہ کے طالب تھے۔ اس کی مستعدی اور حویلی میں پھیلی افراتفری کو عیشال جہانگیر نے نفرت سے دیکھا تھا۔ ایک جیتی جاگتی لڑکی کے وجود کو مزار بنا کر سب اس پہ چادر چڑھانے کی تیاری کررہے تھے۔
’’میرا تو کچھ کھا کے مر جانے کو دل کررہا ہے‘ سب ہمیں ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہیں جیسے ہم حویلی سے بھاگنے کی سازش کررہی ہوں۔‘‘ شازمہ نے اسے دیکھا تو اس کا دل پھٹنے لگا۔
’’سہی کہہ رہی ہیں۔ مما نے تو مجھ سے فون تک چھین لیا تھا‘ وہ تو ویرے سمہان نے مما سے کہا کہ انہیں مجھ پہ بھروسہ ہے‘ تب ان کی سفارش پہ مما نے فون واپس کیا۔ ساتھ ہی ویرے کو تنبیہہ بھی کی کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی تو اس کے ذمہ دار ویرے ہوں گے… سچی اتنی شرمندگی ہوئی کہ خود کشی کو دل چاہنے لگا۔‘‘ ڈسٹنگ کرتی زرش بھی صدمہ میں گھری آپ بیتی شیئر کرنے لگی۔ ہنس مکھ سی فریال کی اتنی سختی اسے ہضم نہیں ہورہی تھی۔
’’سر جوڑے کون سی کانفرنس ہورہی ہے؟ اپنا اپنا کام کرو۔‘‘ فائزہ نے گھرکا تو سب ایک دوسرے کو اداسی سے دیکھتی اپنے اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئی تھیں۔
خ…٭…ز
’’اماں صرف ایک بار ہاسپٹل چلیں… اس کے بعد میـں اصرار نہیں کروں گی لیکن پلیز ایک بار۔‘‘ ان کے بازو پہ موجود نیل کو افسردگی سے دیکھتے وہ کب سے ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی۔
’’کیوں بچوں کی طرح بار بار ایک ہی بات کررہی ہو ماورا… میں نے کہہ دیا نا انوشا کی شادی سے پہلے میں کہیں نہیں جانے والی۔ دو دن بعد بہن کی بارات آنی ہے۔ کوئی دوست احباب نہیں کہ تقریب میں انوشا کو دھوم دھام سے مایوں بٹھائے‘ لے دے کے ایک میں اور تم ہیں انوشا کی خوشی میں… بجائے اس کے کہ تم بہن کو ابٹن ملو۔ مجھے بھی ہاسپٹل لے جانے کی ضد کررہی ہو۔ بہن سے محبت ہے بھی کہ نہیں…؟‘‘ ابٹن میں چنبیلی کا تیل شامل کرتی منزہ نے جذباتی انداز میں کچھ اس طرح کہا کہ ماور بھی جذباتی ہوگئی۔
’’بہن کے لیے جان بھی قربان ہے لیکن ماں کی تکلیف بھی فراموش نہیں کرسکتی۔ انوشا حقیقت سے آگاہ ہوتی تو شادی روک کر خود آپ کو ہاسپٹل لے جاتی۔‘‘
’’تم حقیقت سے آگاہ ہوکر میرے کان کھا رہی ہو ناں بس یہ ہی بہت ہے میرے لیے۔‘‘ منزہ جھلائیں۔
’’پلیز اماں مان جائیں ناں۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی۔ منزہ نے غور سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ بے بسی کی داستان درج تھی۔ وہ بہت آس سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ان کی بھلائی کے لیے وہ ان کی جھڑکیاں برداشت کرتی تھی لیکن پیچھے نہیں ہٹتی تھی۔
’’ٹھیک ہے چلی چلوں گی۔ جس ڈاکٹر کے پاس کہو گی چلنے کو تیار ہوں لیکن ابھی نہیں… دو دن بعد انوشا کو رخصت کرکے۔ اب اس میں مین میخ نکالی تم نے تو پھر میں نہیں جائوں گی۔‘‘ ماورا کو ان کے مان جانے پہ خوشی ہوئی ساتھ ہی ان کی شرط پہ اعتراضات بھی تھے۔ اسے بولنے کے لیے پر تولتے دیکھ کر منزہ پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر گئیں تو وہ چپ سی ہوگئی۔
’’زندگی لکھی ہوئی ہے تو دو دن سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ انوشا کو ابٹن لگا کے اسے گھر کے کونے میں بٹھا دو‘ کوشش کرنا کہ اب سے وہ کوئی کام نا کرے۔ ہم دونوں دیکھ لیں گے۔‘‘ ابٹن کی کٹوری تھماتے انہوں نے ہدایت کی تو وہ سر ہلا کر کٹوری تھام گئی۔ اس کے لیے یہی بہت تھا کہ منزہ نے چلنے کی حامی بھرلی تھی اور اب اسے خیر وعافیت سے شادی کے گزرنے کا انتظار تھا۔
خ…٭…ز
مہمان آگئے تھے۔ لذیذ کھانوں کی خوشبو چہار سو پھیلی ہوئی تھی۔ ہر کوئی اپنی جگہ بہترین لباس میں ملبوس تھا۔ چودھری حشمت کی خاص ہدایت تھی کہ ایسا کوئی عمل نا ہو جس سے ان کے خاندان پہ انگلی اٹھے۔ فائزہ اور فریال نے اپنی نگرانی میں لڑکیوں کے لباس سے لے کر ایک ایک چیز پہ نظر رکھی ہوئی تھی کہ دوپٹا تک سرک کر عامیانہ پن نا جھلکے۔ فائزہ کے حکم پہ ندا نے لباس تبدیل کرلیا تھا۔ انہوں نے سکون کا سانس لیا کہ اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ فائزہ کی ہدایت پہ عیشال جہانگیر اپنا بیوٹی بکس اُٹھا کر اس کے کمرے میں آگئی تاکہ اسے سنوار سکے۔
’’ندا آپی… تائی جان نے آپ کا میک اُوور کرنے کو بھیجا ہے۔‘‘ یہ سب کہتے خود اسے غصے کے ساتھ شرمندگی محسوس ہورہی تھی لیکن فائزہ کی ہدایت پہ عمل کرنا بھی ضروری تھا اور بنا کچھ کہے ندا مشینی انداز میں اُٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکر بیٹھ گئی۔ عیشال جہانگیر کو اس کے برفیلے انداز اور سرد وسپاٹ چہرے کی طرف دیکھتے خوف محسوس ہورہا تھا۔ محبوب کے قتل پر ماتم کرتے چوبیس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ کسی اور کے لیے اسے سجایا جارہا تھا۔
’’اس سے تو بہتر تھا حویلی والے ان کی تدفین کی تیاری کرلیتے لیکن یہ تدفین سے کیا کم ہے… جب جذبات‘ احساست‘ محب اور حُب کو ہی زندان میں ڈال دیا گیا تو باقی کیا بچا‘ یہ بے حس وجود؟‘‘ اس کے بال بناتے وہ تلخی سے سوچ رہی تھی۔ سمہان اور نرمین کا ایک ہونا۔ ابھی اس کا ماتم کم نہیں ہوا تھا کہ ندا کا غم‘ کس کس چیز کو روئے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ندا خاموش بیٹھی تھی‘ ایسا پہلی بار تھا۔ عمر میں فرق کے باوجود دونوں میں بہت ذہن ہم آہنگی تھی لیکن آج بولنے کو جیسے کچھ نہیں تھا۔ عیشال کو اس کا دکھ کھائے جارہا تھا۔ اس کی برداشت پہ رشک آرہا تھا اور ایک پل کو خیال آیا اگر ندا کی جگہ وہ ہوتی اور راحیل کی جگہ سمہان اس دنیا میں نا ہوتا پھر اور اس ایک خیال سے بہت سے خیال جڑنے لگے تھے۔ حویلی کے اصول‘ حویلی کے رنگ ڈھنگ اپنانے کی اس کی نصیحتیں، سب کچھ یاد آیا۔
’’حویلی میں من مانی کی سزا موت ہے‘ کیوں نہیں سمجھتیں تم۔‘‘ اس کی بات سماعت میں گونجی تھی۔
راحیل کو موت کے گھاٹ اتار کر اس کی لاش کیڑے مکوڑوں کے کھانے کے لیے پھینک دی گئی تھی۔ بظاہر زندہ لیکن مردوں سے بدتر ندا اس کے سامنے تھی۔ اموات تو دو ہوئی تھیں دیکھنے والے کو بھلے ایک لگتی… گویا وہ ہر ایک بات سے باخبر تھا۔ اس کی تنبیہ اسے رہ رہ کے یاد آرہی تھی۔ وہ بزدل نہیں تھا لیکن شاید خود غرض بھی نہیں تھا جو مر کے بھی اسے تنہا چھوڑ جاتا۔ ندی کے کنارے بھلے کبھی نا ملیں لیکن ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کے ہاتھ سست پڑنے لگے تھے۔ جیسے تیسے کرکے اس نے کام مکمل کیا اور اپنا ساز و سامان سمیٹ کر کمرے میں رکھ آئی۔ مہمان خواتین ہال میں براجمان تھیں۔ زمرد بیگم کے اشارہ کرنے پہ وہ ان کے پہلو میں آبیٹھی تھی۔ مناسب حلیے والی تینوں خواتین کچھ اتنی نامعقول بھی نہیں تھیں۔ ندا کو چھوڑ کے باقی تمام لڑکیاں فائزہ اور فریال سمیت اچھے میزبان کا رول بہ خوبی نبھا رہی تھیں۔ ملازمائیں اشارہ ملنے پہ لمبی سی میز سجانے لگی تھیں اور اسی اثناء میں چودھری حشمت ان کے ساتھ حویلی کے مرد اور مہمان حضرات آنے لگے تو خواتین کچھ سمٹ سی گئیں۔
’’کھانے سے پہلے اگر رسم ہوجائے تو زیادہ مناسب ہے۔ رئیس میاں تشریف لائیں۔‘‘ مردوں کی جھرمٹ میں داخل ہوتے چودھری حشمت نے مخاطب کیا تو مردوں میں سے نکل کر رئیس میاں سامنے آگئے۔ آدھے سر کے بال غائب تھے‘ چکنی کھوپڑی چمک رہی تھی جس پہ جانے کون سا تیل ڈال کر اس کی ضوفشانی کو بڑھانے کا فریضہ سر انجام دیا گیا تھا۔ پکا سا رنگ‘ جس پہ کمان کی طرح تنی لمبی سی مونچھوں نے چھوٹا سا چہرہ مکمل چھپا دیا تھا۔ منحنی سا وجود۔ سب کو ہی جیسے اس ’’انتخاب‘‘ پہ صدمہ ہوا تھا۔ تصویر جانے کون سی صدی کی تھی جس میں کسی حد تک مناسب بھی لگا تھا مگر روبرو تو تابِ دید نہیں تھی۔ چودھری حشمت کے اشارے پہ رئیس میاں بیٹھنے لگے تو سمہان نے آگے سے میز کو ذرا سا کھسکا دیا کہ نازک گھٹنے چھل ناجائیں۔
اگلے ہی لمحے چودھری حشمت نے سائے کی طرح ساتھ کھڑے سمہان آفندی کی سمت ہاتھ بڑھائے اور اس نے مسُتعدی سے جیب میں ہاتھ ڈال کر انگوٹھی انہیں تھمائی‘ جسے چودھری حشمت نے رئیس میاں کی پتلی سی انگلی میں پہنا دی۔
’’چلیں بہن اب آپ اپنی بہو کو انگوٹھی پہنانے کی تیاری کریں۔‘‘ چودھری حشمت نے کتھے‘ چونے سے رنگین دانتوں والی خاتون کو مخاطب کیا جو کہ اس کی والدہ ماجدہ تھیں۔
’’ندا کو لے کر آتی ہوں۔‘‘ فائزہ کہنے کے ساتھ تیزی سے نکلنے لگیں لیکن چودھری حشمت کے ہاتھ اٹھا کر روکنے پر ٹھٹھک کر رک گئیں۔
’’زمرد بیگم… عیشال کو آگے لائیں تاکہ ناہید بہن اسے منگنی کی انگوٹھی پہنا سکیں۔‘‘ سب کے سروں پہ آسمان آگرا تھا۔ ہر کوئی اپنی جگہ ہکابکا چودھری حشمت کی بات سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’یہ عیشال ہے‘ ہماری پوتی۔ آج سے آپ کی بہو۔‘‘ چودھری حشمت کہہ رہے تھے‘جانے اس کے پہلو میں بیٹھنے والی رئیس کی ماں کیا کہہ رہی تھی۔ سائیں سائیں کرتے دماغ کے ساتھ اس نے الٹے ہاتھ کی مٹھی کو سختی سے بھینچ لیا جیسے وہ زبردستی اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنا دیں گی لیکن زبردستی تو نہیں نرمی سے ہی سہی انہوں نے سیدھے ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی پہنا کر چٹا چٹ بلائیں لیں۔
’’منگنی مبارک ہو چودھری صاحب۔‘‘ لڑکے والے منہ میٹھا کرنے کے ساتھ گلے مل کے مبارک باد دے رہے تھے۔ حویلی کی عورتیں ساکت کھڑی تھیں تو وہ خون آشام نگاہوں سے سمہان آفندی کو دیکھ رہی تھی۔ استعجاب اس کی آنکھوں میں بھی صاف پڑھا جاسکتا تھا۔
’’اتنی راز داری… اتنی بے خبری۔‘‘ اس کے فرشتوں کو بھی خبر ناہوسکی کہ چودھری حشمت ایسا کوئی سرپرائز دیں گے۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close