Hijaab Apr 19

اور چاند مسکرایا

اُم ایمان قاضی

’’میں کہتا ہوں جلدی سے پیسے نکال ورنہ زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ حنیف نے اتنی زور سے اس کا گلا دبا رکھا تھا کہ سائرہ کی آنکھیں ابل پڑی تھیں۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ نشے کے حصول کے لیے رقم کا تقاضا دھان پان سے حنیف میں اتنی طاقت بھر دیتا تھا کہ جب وہ اسے مارنے کو آتا تو نیلو ونیل کر ڈالتا تھا ورنہ تو نشے کی حالت میں یہاں وہاں لڑھکتا پھرتا تھا۔ بعض دفعہ تو دروازے پر ہی گرا پڑا ملتا تھا۔ سائرہ کے لیے اسے اندر گھسیٹ کر لانا تک محال ہوجاتا تھا۔ گھر کے اندر داخل ہوتی دعا کے منہ سے بے ساختہ ایک چیخ نکلی تھی۔ وہ بھاگ کر ان کے قریب آئی۔
’’چھوڑیں… چھوڑیں امی کو… پاگل ہوگئے ہیں کیا… مار ڈالیں گے کیا…؟‘‘ امی کو حنیف سے چھڑاتے ہوئے وہ رو بھی رہی تھی اور اس کی سانس بھی بری طرح پھول رہی تھی۔
’’ہاں مار ڈالوں گا… ایسی عورت مر جائے تو زیادہ بہتر ہے‘ جس کے نزدیک شوہر سے زیادہ پیسہ اہم ہے… تماشا دیکھتی ہے میری بے بسی کا…‘‘ اس نے زور سے دھکا دے کر سائرہ کو چارپائی پر گرا دیا… اب اس کے منہ سے مغلظات کا ایک طوفان ابل رہا تھا… سائرہ گہرے گہرے سانس لیتی گلا مسل رہی تھی۔
’’اللہ کو تو مانتے ہو ناں‘ اسی کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہے صرف ہزار کا ایک نوٹ تھا۔ کامران کا داخلہ جانا ہے اور آج آخری تاریخ تھی‘ صبح وہی لے گیا ہے۔‘‘ سائرہ گھٹی گھٹی آواز میں کہہ کر رونے لگی۔
’’بکواس کرتی ہے جھوٹی عورت… چالیس ہزار تیری تنخواہ ہے‘ ہزاروں روپے تیری بیٹی کی بچوں کی فیس آتی ہے‘ کہاں جاتا ہے سارا روپیہ آخر… مجھے دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے تجھے‘ میں سب جانتا ہوں۔‘‘ غصے میں حنیف نے میز پر رکھا جگ اٹھا کر فرش پر دے مارا‘ دعا نے جلدی سے پرس کھنگالا… تین سو روپے چھوٹے پائوچ میں تھے… وہ بھاگ کر اندر کمرے میں گئی‘ الماری کھول کر کپڑوں کے نیچے سے ننھا منا پرس نکال کر کل پونجی گنی‘ ٹوٹل ستائیس سو روپے تھے… تین چار ماہ کی بچت صرف ستائیس سو روپے ہی جمع کر پائی تھی وہ… جلدی سے باہر آکر حنیف کے ہاتھ میں پکڑا دیے۔
’’یہ لیں… یہ ہے وہ خزانہ جس کے لیے آپ میری ماں کی جان لینے کو تل گئے ہیں۔‘‘ وہ تلخی سے بولی۔
’’دیکھ لو سائرہ بیگم‘ اب کہاں گئی وہ قسمیں تمہاری کہ ایک روپیہ بھی نہیں گھر میں۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں پیسے سائرہ کو دکھا کر بولا۔
’’امی کے پاس واقعی نہیں ہیں پیسے… یہ میرے پاس بچوں کی فیس کے پیسے رکھے تھے کچھ… وہ دیے ہیں۔‘‘ اس نے ماں کا دفاع کیا۔
’’جانتا ہوں… جانتا ہوں… تم دونوں ماں بیٹیاں ایک ہی تھیلی کی چٹی بٹی ہو… سیدھی طرح مانتی کہاں ہو؟ جو آج مان جاتیں۔‘‘ پیسوں کو چومتے‘ فاتحانہ نظروں سے دونوں کو دیکھتے وہ گھر کی دہلیز پار کرکے جاچکا تھا۔
r…٭…r
’’تمہیں سکون نہیں ملتا اپنے گھر میں، جب دیکھو یہاں ڈیرہ جمائے نظر آتی ہو۔‘‘ صوفے میں دھنسے اسے چینلز سرچ کرتے دیکھ کر عبدالمنان نے چھیڑا۔
’’ضرور آئوں گی… میری خالہ کا گھر ہے… جلنے والے جلتے رہیں۔‘‘
’’جلنے والے فی الحال بھوک سے مر رہے ہیں… تمہارے تو ایک آرڈر پر ملازم من وسلویٰ لے کر حاضر ہوجاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں چونکہ ملازمین کا رواج نہیں ہے تو خواتین کو ہی سب کام کرنا پڑتے ہیں… تمہاری اماں حضور کے آئے دن کے پروگرام ہماری روٹین ڈسٹرب کرنے لگے ہیں۔ اب چونکہ یہ تمہاری خالہ کا گھر ہے تو اٹھو اور تازہ روٹیاں پکائو… سالن شکر ہے امی پکا کر گئی ہیں۔ دادا بھی آتے ہی ہوںگے اور وہ تازہ روٹی کھانا پسند کرتے ہیں۔‘‘ عبدالمنان نے ریموٹ اس کے ہاتھ سے لے کر میز پر رکھا اور ناصحانہ انداز میں کہا۔ فروا کی تو آنکھیں پھٹ گئیں اتنے مشکل کام کا سن کر۔
’’مم… میں نے تو کچن میں کبھی کام نہیں کیا اور روٹیاں پکانا تو اتنا مشکل کام ہے… مجھے نہیں آتا‘ تم ایسا کرو بازار سے جاکر لے آئو روٹیاں۔‘‘
’’دیکھ لو بی بی‘ یہ جو مستقبل کے حوالے سے کچھ رنگین خواب تمہاری ان میک اپ زدہ آنکھوں میں سے جھانک کر مجھے دیکھ رہے ہیں، ان میں اس گھر کی تین ٹائم کی روٹیاں پکانا شامل ہیں‘ اب بھی وقت ہے یا تو کچن کے کام سیکھ لو یا ان خوابوں کو اپنی خوب صورت آنکھوں سے نوچ پھینکو اور آج کے دن اگر روٹیاں نہ پکیں تو ہوسکتا ہے دادا یہ بہناپا پروگرام جو ہر دوسرے دن چلتا ہے اسے ختم کرتے ہوئے ہماری امی کا تمہارے ہاں جانا اور تمہاری امی یعنی ہماری خالہ کا یہاں آنا بند کردیں اور اصل مزہ تو تب آنے والا ہے جب دادا دیکھیں گے کہ گھر میں ایک عدد خاتون بھی موجود ہے اور اس کی موجودگی میں روٹیاں بازار سے آئی ہیں پھر تمہارے ان خوابوں کا وہ خود ہی بندوبست کرلیں گے۔‘‘
’’کیا مطلب…! یہ خاتون تم نے کسے کہا…؟‘‘ اس ساری تقریر میں سے لفظ خاتون اس کی سماعت پر ہتھوڑے کی طرح لگا تھا۔
’’بس بھی کرو عبدالمنان یہ فضول ہانکنا اور فروا پلیز تم اٹھ کر کچن میں چلی جائو‘ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ روٹی پکانا کسی کو نہ آتا ہو… جیسی بھی آتی ہے پکادو… مجھے خود بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ برہان جو اب اس تکرار سے بے زار ہو گیا تھا نے دونوں کو مخاطب کیا‘ ویسے بھی وہ آفس سے تھک کر آیا تھا اور اس کا معمول تھا کہ کھانا کھا کر تھوڑی دیر آرام کرتا تھا۔
’’اچھا کوشش کرتی ہوں… آئو ناں عبدالمنان تم بھی میرے ساتھ کچن میں آئو۔‘‘ اس کا موڈ دیکھ کر فروا مرے مرے لہجے میں کہہ کر اٹھی… عبدالمنان بھی سیٹی بجاتا اس کے ساتھ چل دیا اور کچن میں آکر کائونٹر پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور سبزی کی ٹوکری سے ایک سرخ گاجر نکال کر کھانا شروع کردی۔
’’کیا مطلب عبدالمنان کے بچے‘ میں تمہیں یہاں گاجر کھانے کے لیے نہیں لائی… نیچے اترو اور میری ہیلپ کرو…‘‘ وہ چڑ کر بولی۔
’’جھوٹ مت بولنا کیونکہ مجھے پتا ہے تمہیں خالہ کو دیکھ دیکھ کر روٹی پکانا آگئی ہے اور جب تمہارا موڈ ہوتا ہے تم سب کو پراٹھے بنا کر بھی کھلاتے ہو اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ مجھے روٹی پکائی تو کیا انڈا ابالنا بھی نہیں آتا…‘‘ اس کے لہجے میں بے چارگی تھی اور وہ واقعی ٹھیک کہہ رہی تھی۔ اتنے میں باہر سے دادا جان کی آواز سن کر فروا سچ مچ گھبرا گئی۔
’’جلدی کرو عبدالمنان… پلیز جلدی کرو… لنچ بھی کرائوں گی تمہاری پسند کا جہاں تم کہو گے… تمہارے دادا جان سے مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’ہمم… ان فیکٹ یہی بات میں سب سے پہلے سننا چاہ رہا تھا تمہارے منہ سے‘ جو تم نے آدھا کلو خون خشک کروا کے مجھ سے دو سو جھوٹ بلوا کے بولی ہے… اب تم جیسی نکمی لڑکی کی سزا یہ ہے کہ جب تک میں روٹیاں پکاتا ہوں‘ سلاد کے لیے سبزیاں کاٹو… اب یہ مت کہنا کہ تمہیں یہ کام بھی نہیں آتا۔‘‘ کائونٹر سے چھلانگ لگا کر اترنے کے بعد اس نے مہارت سے چولہا جلا کر توا رکھا اور فریج سے گندھا ہوا آٹا نکالا۔
’’ایک بات میری سمجھ میں آج تک نہیں آئی کہ کھاتے پیتے لوگ ہو‘ مالی پریشانی بھی کوئی نہیں ہے مگر ملازم مجھے ایک بھی نظر نہیں آیا تمہارے گھر میں… مرد ملازمین‘ چلو مان لیا تمہارے دادا جان سخت ہیں‘ اس لیے ملازم اجازت نہیں دیتے‘ کم از کم ملازم خواتین تو افورڈ کر ہی سکتے ہو… کتنے کام ہوتے ہیں گھر میں… پتا نہیں ایک خالہ جان کیسے مینج کرتی ہیں سب کچھ اکیلے۔‘‘
’’وہ اس لیے مائی ڈیئر کہ میرے دادا جان کے نزدیک یہ سب امیر لوگوں کے وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے چونچلے ہیں۔ ان کے خیال میں گھر داری ایک عورت کا گہنا ہے۔ اس کے بغیر عورت کا سنگھار ادھورا ہے‘ دوسرا جتنا دل سے ایک عورت اپنے شوہر‘ بچوں اور اپنے گھر والوں کے لیے ہر کام سر انجام دیتی ہے اس میں اس کی محبت اور خوشی چھپی ہوتی ہے… جو کہ محبتوں ارو رشتوں کو مضبوط کرتی ہے جب کہ ملازمین کے کام میں نیت اور دلچسپی کا کوئی بھروسا نہیں وہ صرف پیسے کے لیے کام کرتے ہیں… جس گھر میں ملازمین ہوتے ہیں۔ وہاں محبت اور سکون عنقا ہوتی ہے اور اس بات پر ہم سب متفق ہیں۔‘‘ مہارت سے اس نے دوسری روٹی اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھی اور تیسری بیلنے لگا۔
’’کتنی دیر ہے یار… دادا‘ دستر خوان پر تشریف فرما ہیں۔‘‘ برہان نے کچن کے دروازے سے جھانکتے ہوئے کہا۔
’’بس بھائی… آپ یہ ہاٹ پاٹ لے کر چلیں‘ فروا اور میں باقی چیزیں لے کر پہنچ رہے ہیں… بس یہ دادی اماں کے لیے نرم اور موٹی روٹی ڈال دوں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے پھر میں دادی جان کو خود ہی کھانا کھلا کے آتا ہوں… پھر آکر تم لوگوں کے ساتھ شامل ہوتا ہوں… چلو فروا… اٹھائو یہ سلاد اور پانی وغیرہ رکھو دستر خوان پر اور ہاں دوپٹا کہاں ہے تمہارا…؟ نہیں ہے تو امی کی الماری سے ان کا کوئی نکال کر سر کو ڈھانپ لو‘ دادا ابا کو عورت دوپٹے کے بغیر ہرگز پسند نہیں اور دستر خوان پر تو بالکل بھی نہیں۔‘‘
’’شادی کے بعد سب سے پہلے تو میں دادا کا کوئی بندوبست کروں گی… یہ تو طے ہے…‘‘ جبری مسکراہٹ چہرے پر سجاتے فروا نے اثبات میں سر ہلایا اور دل میں عہد کیا۔
r…٭…r
آج شہزاد لالہ کو گھر آنا تھا‘ سو وہ بہت دیر سے ان کے انتظار میں بیرونی دروازے کے چکر کاٹ رہی تھی کیونکہ پتا تھا اکیلے وہ صرف اسی وقت ہی مل سکیں گے اس کے بعد گھر میں یہ بات کہنا ناممکن تھی۔
’’ادھر آئیں ناں جلدی سے‘ مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’ارے ارے گڑیا… کون سی ایسی بات ہے جس کے لیے میری گڑیا نے اتنا انتظار کیا اور چائے پانی کا پوچھنا بھی بھول گئی۔‘‘
’’اوہ… آئی ایم سوری لالہ‘ چائے پانی کیا سب کچھ ملے گا بس جو بات میں آپ سے کہہ رہی ہوں وہ صرف آپ ہی پوری کرسکتے ہیں اور کوئی نہیں… کیونکہ اس گھر میں صرف آپ ہی میری بات سمجھتے ہیں۔‘‘ اس کی عجلت پر وہ ہنس دیے مگر جیسے ہی اس نے اپنی فرمائش بتائی وہ سنجیدہ ہوگئے۔
’’تم اپنا ماحول‘ روایات اور بابا جان کے اصولوں کو جان کر بھی یہ بات کررہی ہو گڑیا؟‘‘
’’لیکن میں آپ کی محبت بھی جانتی ہوں کہ جیسے بھی ہو آپ اس خواہش کو اس گھر میں میری آخری خواہش سمجھ کر پوری کریں گے۔‘‘ وہ اصرار کرکے بولی اور حسب معمول وہ اس کی بات سے اختلاف نہ کرسکے تھے۔
r…٭…r
’’یہ نہیں ہوسکتا شہزاد…؟ ہم نے اس کی ہر جائز ناجائز خواہش پوری کی ہے اور تو اور اسے شہر بھیج کر کالج تک میں پڑھایا‘ برادری کی ناراضی کے باوجود… اب لڑکوں کے ساتھ نہیں پڑھا سکتے اسے‘ ویسے بھی ادا جلال کی خواہش ہے کہ فصل کی کٹائی کے بعد انہیں شادی کی تاریخ دے دی جائے… شادی کے بعد ویسے بھی یہ سارے شوق دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔‘‘ دلاور خان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔
’’پتا نہیں کیوں مجھے اپنے خاندان کے ان فضول رواجوں سے سخت اختلاف ہے کہ مرد جو مرضی کرتا پھرے کوئی قدغن نہیں اور عورت بے چاری کھل کر سانس بھی لے تو دنیا انگلی اٹھانے کو تیار ہوجاتی ہے… اب یہی دیکھ لیں‘ سجاول جیسا اجڈ گنوار کسی طور بھی ہماری نازوں پلی گڑیا کے قابل نہیں… مگر صدیوں سے یہی رواج چلا آرہا ہے کہ لڑکی کو اپنے خاندان میں ہی بیاہنا ہے تو یہ نہیں دیکھنا کہ اگلا آپ کی بیٹی کے قابل ہے بھی یا نہیں۔‘‘ شہزاد لالہ پھٹ پڑے۔
’’میری بچی… میری گڑیا کے الفاظ میرا دل چیر گئے بابا‘ جب اس نے کہا کہ لالہ اس گھر میں میری آخری خواہش پوری کردیں… گویا وہ جانتی ہے کہ خواہشوں اور خوابوں کا سفر یہیں تمام ہوجائے گا… آگے جو کچھ ہوگا وہ صرف زندگی بسر کرنے کا ایک عمل ہوگا بس… اس میں خواب‘ خواہش یا خوشی جیسی کسی چیز کا کوئی گزر نہیں ہوگا کہ سجاول جیسے شخص کے ساتھ صرف سمجھوتہ ہوگا اور بس…‘‘
’’میں کیا کرسکتا ہوں شہزاد؟ میں بھی جانتا ہوں یہ سب اور تم سے زیادہ سمجھتا ہوں مگر زیادہ تعلیم، زیادہ شعور اجاگر کرتی ہے اور زیادہ شعور ہماری بچی کی زندگی کو اور اجیرن کردے گی… میں نہیں چاہتا کہ نئی دنیا اسے نئے خواب دکھائے کیوں کہ جب اسے ان خوابوں کی حسب منشاء تعبیر نہیں ملے گی تو وہ ٹوٹ جائے گی اور یہ میں برداشت نہیں کرسکوں گا۔‘‘ اونچے لمبے رعب داب والے دلاور خان اس پل بیٹے کے سامنے کمزور پڑگئے تھے۔
’’تو توڑ دیں رواجوں کی ایسی زنگ آلود اور بوسیدہ زنجیریں جن کے بوجھ تلے انسان گھٹ گھٹ کے مر جائیں۔ کیا کررہے ہیں آپ یہاں… میرے ساتھ شہر چلیں آپ گڑیا اور اماں، وہاں کم از کم یہ برادری نہیں ہوگی ہم پر روک ٹوک کرنے والی کہ ایسے کیوں کیا… ویسے کیوں کیا…؟‘‘
’’بچوں جیسی باتیں مت کرو شہزاد‘ یہ طوق اور بوجھ نہیں ہے بلکہ روایات اور رواجوں کی امانت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے اور اس بار اس کا امین تمہارا باپ ہے… دعا کرو کہ میں اس امانت کی پاسداری میں سرخرو ہوسکوں… میں تمہیں مجبور نہیں کرتا لیکن مجھے یہاں سے جانے کا مت کہو اور جائو اپنی بے وقوف بہن کو سمجھائو کہ ایسی ضد مت کرے جس کو پورا کرنے میں اس کے بوڑھے باپ کے ایمان پر حرف آئے۔‘‘ وہ رنجیدگی سے بولے۔
بابا جان کے فیصلے کے بعد گڑیا کو ایسا بخار چڑھا کہ ہفتوں مدہوش رہی… شہر بھر کے ڈاکٹروں کے نسخہ آزما لیے گئے مگر فرق نہیں پڑا‘ جو چپ اسے لگی تھی وہ الگ تھی۔ انہی دنوں سجاول نے بھی پانی کے جھگڑے پر کسی پر قاتلانہ حملہ کیا تھا اور دوسرا فریق جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ سجاول پولیس کے قبضے میں تھا اور اس کے ابا کی کوشش تھی کہ مسئلہ عدالت تک جانے سے پہلے ہی نپٹا لیا جائے سو اسی سلسلے میں مقتول کے گھر والوں سے مفاہمت کی کوششیں جاری تھیں… ایسے میں شہزاد کے کہنے پر بابا جان گڑیا کی مزید تعلیم کے لیے راضی ہوگئے اور یہ خبر سن کر اس کا بخار یوں اترا گویا اس خبر کا منتظر تھا۔ جس دن سجاول کی پہلی پیشی تھی گڑیا کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا اور وہ شہزاد کے ساتھ ہی شہر میں مقیم تھی۔
r…٭…r
دادی اماں نے صبح سویرے اسے بلا بھیجا تھا اور ہمیشہ والی راز داری کا وعدہ کرتے ہوئے مطلوبہ چیز اسے پکڑائی کہ کسی کو خبر کیے بغیر یہ پہنچا آئے… اس نے بھی ہامی بھرلی تھی مگر جب وہ گھر پہنچا تو سائرہ کی نک چڑھی بیٹی گھر میں اکیلی تھی اور اسے دروازے سے ہی چلتا کردیا تھا اس نے… وہ کہتا رہ گیا کہ وہ سائرہ آنٹی کے لیے ایک امانت لے کر آیا ہے کم سے کم وہ تو لے لے ورنہ اسے اتنا لمبا سفر کرکے دوبارہ آنا پڑے گا مگر اس کا جواب سن کر غصے میں تن فن کرتا گاڑی بھگا لے گیا تھا۔
’’سوری جی‘ میں اس وقت نہ تو کسی کے لیے دروازہ کھول سکتی ہوں‘ نہ ہی کچھ لے سکتی ہوں‘ اگر آپ اپنی سائرہ آنٹی کو اتنا ہی جانتے ہیں تو یہ بھی جانتے ہوں گے کہ وہ اس وقت اسکول میں ہوتی ہیں۔‘‘ اس نے دو ٹوک کہا تھا اور اندر چلی گئی تھی اس کے کئی بار دستک دینے کے بعد بھی اس نے نہ تو اس کی بات سنی تھی نہ دروازہ کھولا تھا۔ اس میں دعا کا بھی کوئی قصور نہیں تھا جب سے حنیف نے اپنے جواری دوستوں کو گھر میں لانا شروع کیا تھا… سائرہ نے اسے سختی سے منع کردیا تھا کہ اس کی موجودگی میں وہ اپنا کمرہ بند کرکے بیٹھی رہا کرے اور اس کے گھر سے باہر ہونے کی صورت میں دروازہ ہرگز نہ کھولے۔
برہان یہاں پچھلے سال سے آرہا تھا اور جب بھی آتا سائرہ گھر پر ہی ملتی تھی کہ وہ آفس کے بعد ہی یہاں آتا تھا… حنیف چونکہ پیسے ملنے کے بعد کئی کئی دن گھر سے باہر رہتا تھا سو اسے کبھی بھی برہان کے آنے کا پتا نہ چل سکا تھا… ہاں دعا کے پوچھنے پر سائرہ نے بتایا تھا کہ وہ اس کی دور پرے کی کزن کا بیٹا ہے اور دعا کو کیونکہ سائرہ کی طرف سے کسی کے بھی سامنے نہ آنے کی سختی سے ہدایت تھی سو اس نے ایک دو بار اس نوجوان کو سائرہ کے پاس آتے دیکھا تھا۔ ہاں ہر بار اس کے جانے کے بعد سائرہ مضطرب اور بے قرار سی لگتی اور ہفتوں گم صم رہتی تھیں۔ سائرہ کی گھر واپسی پر اس نے کسی اجنبی کی آمد کا بتایا تھا۔
’’برہان آیا تھا…؟ اتنی دور سے سفر کرکے آیا ہوگا… چلو خیر اچھا ہوا تم نے اندر نہیں بلایا… یہی چھوٹی چھوٹی لاپروائیاں آگے جاکر انسان خصوصاً لڑکیوں کی زندگی کے لیے کبھی کبھی روگ بن جاتی ہیں۔‘‘ خود کلامی کرتے ہوئے وہ چادر اتار کر وضو کرنے چلی گئی۔ کامران کے آنے پر تینوں نے کھانا کھایا اور ابھی وہ چائے لے کر آئی تھی‘ جب ایک بار پھر دستک پر کامران باہرگیا اور برہان کی آمد کی نوید سنائی۔
’’چائے بنا کر کامران کے ہاتھ بھجوا دو دعا اور کامران کو بھی اپنے پاس بلا لینا… تم بھائی کو بلا لائو کامران۔‘‘ سائرہ کے کہنے پر دعا اپنا کپ اٹھا کے وہاں سے چلی گئی۔
’’امی… برہان کون ہے؟ اور ہر ماہ یہاں کیا کرنے آتا ہے؟ آپ سے کئی بار یہ بات پوچھ چکی ہوں مگر آپ کچھ بتاتی ہی نہیں… مجھے تکلیف ہوتی ہے آپ کو پریشان دیکھ کر… آپ کو بڑی سے بڑی بات پر ہمیشہ پرسکون دیکھا ہے لیکن آپ کو مضطرب دیکھتی ہوں اور اگر آپ مجھے نہیں بتائیں گی تو آئندہ میں اسے یہاں آنے سے منع کردوں گی۔‘‘ اس کے خفا انداز پر سائرہ مسکرائیں اور اسے اپنے قریب کرلیا۔
’’ماں باپ جب آپ سے کوئی بات پوشیدہ رکھ رہے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہر بار اولاد سے کچھ چھپانا مقصود نہیں ہوتا… بعض دفعہ وہ آپ کو اس بات کی آگہی سے ملنے والی تکلیف سے بچانا چاہتے ہیں… میں بہت خواہش اور کوشش کے بعد بھی تمہیں ویسی زندگی نہیں دے پائی جیسی ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے چاہتی ہے لیکن جس طرح تم مجھے تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہوتی ہو… اس طرح میں جانتی ہوں کہ میری زندگی کے کچھ حقائق تمہیں تکلیف دیں گے اور میں اس تکلیف سے تمہیں بچانا چاہتی ہوں… بس اتنا جان لو کہ حنیف کی مار‘ الفاظ اور رویے کے بعد میرا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر برہان کی آمد پر آنکھیں کچھ پرانے رشتوں کی تجدید پر برس پڑتی ہیں۔‘‘
’’مگر امی میرے لیے حقائق سے لاعلمی زیادہ تکلیف دہ ہے‘ میں جاننا چاہتی ہوں کہ ایک اچھی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لڑکی ابا جیسے شخص کے پلے کیوں بندھی؟ اور اگر ایسا ہونے کو آپ قسمت کا لکھا کہیں گی تو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر تو جانور بھی احتجاج کرتا ہے‘ آپ انسان ہوکر کیوں چپ ہیں…؟ اگر آپ کے رشتہ دار موجود ہیں تو وہ کیوں نہیں آتے یہاں‘ آپ کیوں نہیں جاتیں وہاں؟ اس برہان نامی شخص سے یہ چوری چھپے کا تعلق کیوں…؟ یقین کریں سوچ سوچ کر میرا دماغ پھٹنے لگتا ہے۔‘‘ سائرہ نے بہت اذیت سے اس کے تلخ سوالات برداشت کیے اور پھر آہستہ آہستہ اسے سب کچھ بتادیا تھا۔
r…٭…r
چٹاخ کی آواز جتنی دور تک سنی گئی تھی، اتنی ہی چہ میگوئیوں نے یونیورسٹی کے درو بام پر اپنا نقش چھوڑا تھا… غصے کا طوفان تھمتے ہی گڑیا کو اپنی زیادتی کا احساس ہوا تھا… کیا تھا جو وہ صبرو تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتی۔ ارسلان اس سے سنیئر تھا اور بڑے باپ کا بیٹا تھا۔ پہلے پہل تو اس نے گڑیا کو بھی ہر نئے آنے والے اسٹوڈنٹ کی طرح اپنی شرارتوں سے زچ کیا تھا مگر ڈری سہمی بڑی سی چادر میں خود کو لپیٹے ہوئے‘ جلد ہی وہ لڑکی اسے نہ جانے کیوں اچھی بھی لگی تھی اور شرارتاً ہی جہاں کہیں وہ ملتی فوراً سلام جھاڑ دیتا تو کہیں کوئی اور شرارت کر بیٹھتا… ایسے میں اس کے چہرے پرچھائے خوف کے رنگ اسے اتنا بھائے کہ دل کرتا کہ وہ یونہی شرارتیں کرکے ان رنگوں سے محظوظ ہوتا رہے… گڑیا جسے یونیورسٹی آنے کی اجازت بہت سے وعدوں کے عوض ملی تھی جن کا بوجھ وہ ہمہ وقت اپنے نازک کندھوں پر محسوس کرتی‘ اسے اس قسم کی غیر سنجیدگی پسند تھی نہ غیر سنجیدہ لوگ… وہ سوچتی کہ پتا نہیں کیسے لوگ ہیں جو زندگی اور اس میں مشکل سے حاصل ہوئے اپنے قیمتی وقت کو ایسے کھیل تماشوں میں نہ صرف ضائع کررہے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ وہ خوف سے لرز جاتی جب سوچتی کہ اگر جو بابا جان اس یونیورسٹی کا چکر لگائیں اور کسی بھی قسم کا ایسا رویہ ان کی نظر سے گزرا تو شاید وہ آگے پڑھنے کی اجازت تو ایک طرف‘ کھڑے کھڑے اسے وہیں دفن کردیں۔
r…٭…r
ایک دن وہ اپنے خیالوں میں تیزی سے کلاس روم کی طرف جارہی تھی جب ارسلان نے ہائو کرکے اسے پیچھے سے ڈرایا… اس کے ہاتھوں میں موجود ساری کتابیں نیچے گر پڑیں‘ شرمندگی کے بعد دوسرا جذبہ انتہائی غصے کا تھا جس نے اس پر ایسا غلبہ پایا کہ سامنے کھڑے شرارت سے مسکراتے ارسلان پر اس کا ہاتھ اٹھ گیا‘ کئی چہرے یک لخت ان کی طرف مڑے تھے… ارسلان کا چہرہ غصے سے لالا پیلا ہوا تھا یا بے عزتی کے شدید احساس کے تحت‘ یہ جاننے کی پروا کیے بغیر وہ اپنی کتابیں وہاں سے اٹھا کر چلتی بنی تھی۔
r…٭…r
’’واہ بھئی واہ مجھ پر تو اتنی پابندی کہ گھر میں غیر مردوں کو لے کر آتا ہوں… گھر میں جوان بچی پر کیا اثر پڑے گا‘ اور یہاں میری غیر موجودگی میں جوان مرد کو بٹھا کر جو گل چھرے اڑائے جارہے ہیں ان کا کیا… یہ تم لوگوں کا ماما لگتا ہے جو اندر کمرے میں بٹھا کر خاطر مدارت کی جارہی ہے‘ باپ کے سامنے بیٹی کو چھپا کر رکھتی ہو اور غیر مرد کے سامنے چائے بھی تمہاری بیٹی لاکر رکھ رہی ہے‘ مگر میرے گھر میں یہ سب نہیں چلے گا۔ ہاں میاں؟ کون ہو تم اور یہاں کس خوشی میں ڈیرہ جمائے بیٹھے ہو…؟‘‘ حنیف بہت دنوں بعد آج معمول کے خلاف گھر آیا تھا‘ اس کا رخ اب برہان کی طرف تھا جو اس شخص کی اخلاق سے عاری باتوں پر بوکھلا کر جلدی سے کھڑا ہوگیا اور پریشانی سے سائرہ کو دیکھا جس کا چہرہ ایک دم سپید پڑ گیا تھا… دعا جو زندگی میں پہلی بار اس کے سامنے آئی تھی۔ اتنی گھٹیا باتوں کے بعد خفت سے زمین میں گڑ گئی۔
’’برہان بیٹا تم جائو…‘‘ سائرہ نے بہت ضبط کے بعد برہان سے کہا۔
’’مگر آنٹی…؟‘‘ وہ متذبذب ہوا کہ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اتنی خوب صورت‘ سمجھدار اور پڑھی لکھی آنٹی کی شادی کسی ایسے شخص سے ہوئی ہوگی جو کسی لحاظ سے بھی ان کے قابل نہیں تھا‘ خیر سائرہ آنٹی کے دوبار کہنے پر وہ بادل نخواستہ گھر چلا آیا تھا… اس کے گھر میں تو ہر کسی سے انتہائی ادب سے بات کرنے کا رواج تھا… عبدالمنان چھوٹا ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی امی یا برہان سے شرارت سے بات کر جاتا تو دادا سے سخت سننے کو ملتی اور اب ان موصوف کی باتیں یاد کرکے اسے بے حد غصہ آرہا تھا… گھر آیا امی کچن میں مصروف ملیں‘ وہ سیدھا دادی کے پاس آگیا… دروازہ کو اچھی طرح سے بند کرکے وہ ان کے پاس آبیٹھا۔
’’دے آئے… خود ملی تھی وہ اور دعا کیسی تھی…؟‘‘ اسے دیکھ کر انہوں نے کئی سوالات ایک ساتھ دہرائے جو وہ اس کے لوٹنے پر ہمیشہ پوچھتی تھیں۔
’’اتنا پیار تھا تو کیوں ایسے شخص کے ساتھ بیاہا جس کے ساتھ پر آپ مطمئن ہی نہیں ہیں کہ وہ وہاں خوش ہوں گی یا پھر ایسے سوالات سے ہی گریز کیا کریں جن کے جواب بھی شاید آپ کو پتا ہیں۔‘‘ پتا نہیں کیوں وہ ان کے سوالات پر تلخ ہوا۔
’’کیا ہوا برہان‘ کوئی بات ہوئی ہے کیا…؟‘‘ ان کے تشویش بھرے سوالات پر اس نے آہستہ آہستہ وہ سب کہہ سنایا جسے سن کر وہ کتنی ہی دیر چپ بیٹھی رہ گئیں۔
’’ایک تو اس بارے میں نہ کوئی بات کرتا ہے نہ کچھ بتاتا ہے… سچ بتائیں سگی بیٹی ہی ہیں ناں وہ آپ کی؟ بھئی ایسا مشوک رویہ ہوگا تو سوالات تو جنم لیں گے ناں ذہن میں… اولاد ہے آپ کی‘ نہ کبھی انہیں یہاں آتے دیکھا‘ نہ آپ لوگ کبھی وہاں گئے… کچھ بھجواتی بھی ہیں تو اتنی راز داری سے۔‘‘
’’کون سی راز داری چل رہی ہے دادی اور پوتے کے درمیان؟‘‘ دادا ابا اچانک ہی دروازہ کھول کر داخل ہوئے… برہان ان کی آواز سن کر چونکا‘ دادی اماں بھی بوکھلائیں۔
’’کک… کچھ نہیں… بس میں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہیں یا میرے بابا سے زیادہ پیار کرتی تھیں… دادی کہہ رہی تھیں کہ یہ راز داری کی بات ہے… آپ بتائیں آج جلدی نہیں آگئے آفس سے؟‘‘
’’ہاں ہڑتال کے باعث روڈ بلاک تھا… میں نے سوچا زیادہ مسئلہ بننے سے پہلے ہی نکل لوں تو اچھا ہے مگر تم یہ بتائو صاحب زادے یہ جو مہینے میں ایک آدھ دفعہ مجھے چکمہ دے کر غائب ہوجاتے ہو تو یہ کیا چکر ہے…؟ مجھے لگتا ہے آپ کا پوتا کسی اور ہی چکر میں ہے۔‘‘ دادا ابا جو اس کے اس اچانک غائب ہونے سے کئی ماہ سے شک کا شکار تھے نے اچانک ہی اسے پکڑا تھا۔
’’ارے دادا ابا کیسا اور کہاں کا چکر… وہ حمید ہے ناں اس کی اچانک کال آگئی تھی‘ اس کی امی کو ہاسپٹل لے کر جانا تھا… گاڑی تھی نہیں اس کے پاس تو انہیں لے کر ہاسپٹل گئے پھر واپسی پر گھر ہی آگیا۔‘‘ اس نے اچانک بات بنائی۔ یہ اور بات تھی کہ حمید والا واقعہ ایک ہفتہ پرانا تھا۔
’’ہمم… تو میاں بتا کر چلے جاتے تو میں نے کون سا روک لینا تھا تمہیں‘ پھر تمہاری عمر بھی تو ایسی کہ اگلا بندہ خوامخواہ مشکوک ہوکر رہ جاتا ہے۔ خوامخواہ کی راز داری برتنے پر۔‘‘
’’جی جی دادا ابا‘ آئندہ بتا کر جائوں گا آپ کو اور بے فکر رہیں آپ کا برہان کبھی بھی کوئی ایسی حرکت نہیں کرسکتا جس سے آپ کو تکلیف ہو۔‘‘
’’شاباش… ایسی ہی امید رکھتا ہوں میں تم سے‘ جائو اور اپنی ماں سے کہو مجھے چائے بنا دے ایک کپ اور بیگم صاحبہ‘ کیسا گزرا دن آپ کا…؟‘‘ انہوں نے بیک وقت دادی پوتا‘ دونوں کو مخاطب کیا‘ برہان جی کہہ کر باہر نکل گیا تو وہ اپنی شریک حیات کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’ہم جیسے بیکار لوگوں کا کیا دن گزرنا ہے… یہ باتیں تو کام کاج والے لوگوں کے لیے اچھی لگتی ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے صدیاں گزر گئیں اسی کمرے اور اسی بستر پر۔‘‘ یاسیت ان کے لفظ لفظ سے ہویدا تھی۔
’’بہو بے چاری بھی گھر کے کام دھندوں میں لگی رہتی ہے‘ کتنی نرسز کا بندوبست کیا… آپ کو پسند ہی نہیں آتیں… کم سے کم آپ کو کچھ دیر باہر لے آتی تھیں… اٹھا کر بٹھا دیتی تھیں۔ یہ مایوسی اور قنوطیت تو آپ کے مزاج کا حصہ نہیں تھی۔‘‘
’’ہاں تو اچھے لوگ بھی تو ناپید ہوگئے ہیں دنیا میں‘ پہلے والی نے میری نیند کا فائدہ اٹھا کر الماری سے اتنی بڑی رقم نکال لی… دوسری کو مجھ سے زیادہ برہان سے دلچسپی تھی… ایسوں سے تو میں بستر پر ہی بھلی۔‘‘
’’ہاں مگر دنیا میں ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا… ڈاکٹرز کے مطابق دن میں ایک بار آپ کا سہارے سے چلنے کی مشق کرانا نہایت ضروری ہے ورنہ علاج کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے… ہفتہ ہوگیا نرس کو جواب دیے ہوئے‘ یہ بتائیں کب کب ایکسر سائز کی آپ نے… کب سہارے سے چلنے کی مشق کرائی گئی آپ کو…‘‘
’’کرا رہے ہیں بچے بھی اور بہو بھی اور آج تو کوشش کرکے میں خود ہی اٹھ کر بیٹھی بھی تھی۔‘‘
’’واہ بھئی یہ تو بہت اچھی بات ہے… بہت بہتری ہے پھر تو آپ کی حالت میں… ایسی حالت میں تو زیادہ ضرورت ہے کسی نرس کی یا ملازمہ کی جو اچھی طرح آپ کا خیال رکھ سکے اور وقت پر دوا اور ورزش کا دھیان بھی رکھ سکے‘ ہم سب آپ کو دوبارہ سے چلتے پھرتے دیکھنا چاہتے ہیں… پہلے کی طرح۔‘‘ وہ ان کے پاس بیٹھ کر انہیں تسلی دلانے والے انداز میں کہہ رہے تھے۔
r…٭…r
نہ جانے ارسلان کو کیا ہوا تھا کہ اس واقعے کے بعد بالکل چپ ہی ہوکر رہ گیا تھا۔ نہ تو پہلے کی طر ح اپنے گروپ کی شرارتوں میں حصہ لیتا‘ نہ ہی کلاس فیلوز سے معمول کی نوک جھونک چلتی‘ اس کی اس روش اور رویے سے گڑیا سکون میں آگئی تھی جبکہ باقی سب بے سکون ہوکر رہ گئے تھے مگر گڑیا نہیں جانتی تھی کہ خاموشی ہر دفعہ پرسکون نہیں ہوتی۔ اس کی آڑ میں بعض اوقات بھیانک طوفان چھپے ہوتے ہیں۔ گڑیا کے (منگیتر) سجاول کا کیس کچھ لمبا ہوگیا تھا۔ سو اس طرف سے وہ سکون میں تھی کہ کم از کم اس مسئلے سے نکلنے میں سجاول کو کچھ دن لگتے اتنے میں اس کا ماسٹرز بھی مکمل ہوجاتا… نہ چاہتے ہوئے بھی شہزاد لالہ کو خاندان کی ظالم اور فرسودہ روایتوں پر قربان ہونا پڑا تھا اور اس وقت ان کے سارے دعوے اور خواب دھرے کے دھرے رہ گئے جب خاندان اور برادری کے دبائو پر انہیں سجاول کی بہن سے شادی کرنا پڑی اور اس بات کا بدلہ انہوں نے اپنے باپ سے یوں لیا کہ اس گائوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر شہر آبسے۔ اپنے حصے کی زمین بیچ کر بزنس شروع کیا اور زندگی بھر کے لیے گائوں کا رخ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ بابا جان اس فیصلے پر انتہائی دکھی تھے‘ گڑیا کی زندگی میں تھوڑی تبدیلی یوں آئی تھی کہ پہلے وہ گھر میں اکیلی بور ہوتی تھی اب اس کی تنہائی دور کرنے کے لیے بھابی آگئی تھیں۔ پہلے شہزاد لالہ اسے یونیورسٹی چھوڑ دیا کرتے تھے مگر نیا نیا بزنس تھا تو اسے زیادہ وقت دینا پڑرہا تھا… اسی لیے انہوں نے کالج جانے والی وین کا بندوبست کردیا تھا۔
اس دن یونیورسٹی آنے کے بعد موسم بہت خراب ہوگیا تھا‘ موسم کی خرابی کے باعث باقی لڑکیوں سمیت اسے بھی گھر جانے کے سلسلے میں پریشانی کا سامنا تھا کہ وین نہ آسکی تھی‘ یونیورسٹی پوائنٹ بھی نکل چکی تھی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر خود ہی جانے کی ٹھانی کہ اس کے علاقے کی کوئی اور لڑکی نہ تھی۔ اطمینان تھا کہ بیگ میں کچھ پیسے بھی موجود تھے اور وہ کچھ کچھ شہر کے راستوں سے بھی واقف ہوچکی تھی۔ اس سے پہلے اس نے کلیئریکل آفس جاکر شہزاد بھائی سے بھی بات کرنے کی کوشش کی مگر نمبر بھی شاید موسم کی خرابی کے باعث بند تھا‘ پانچ سات منٹ کے پیدل سفر کے بعد ہی مرکزی سڑک تھی جہاں سے رکشہ اور ٹیکسی آسانی سے مل سکتی تھی مگر اس سے پہلے ہی وہ ہوگیا جو اس کے گمان میں بھی نہیں تھا… بادل زور و شور سے گرج رہے تھے… دوپہر ساڑھے بارہ بجے بھی رات کا سماں طاری تھا‘ راستہ بالکل سنسان تھا‘ کوئی اکادکا گاڑی ہی کبھی کبھار دکھائی دے جاتی تھی‘ اسے مرکزی سڑک پر پہنچنے کی جلدی تھی اس لیے تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی… جب ایک سیاہ گاڑی نے اس کا راستہ روکا تھا اور پلک جھپکنے میں کسی نے اسے گاڑی کے اندر گھسیٹ لیا تھا‘ بادلوں کی گھن گرج میں اس کی چیخ و پکار دب کر رہ گئی تھی۔
r…٭…r
’’ماں باپ کا حق ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے خُود کریں یا کم از کم اپنی رائے ہی دے سکیں۔ ان کا باپ ہمارے درمیان نہیں ہے… میں نے حتیٰ المقدور کوشش کی کہ دونوں کو باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دوں لیکن بہرحال ماں اور باپ دو ایسے انمول رشتے ہیں کہ ان کا نعم البدل دنیا میں نہیں ہے‘ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ حق اب تمہارا ہے کہ تم ان کے بارے میں فیصلہ کرو… میں مانتا ہوں کہ سلطانہ تمہاری بہن ہے مگر وہ کافی عرصہ ملک سے باہر رہی ہے… اس لیے بچوں پر بھی وہاں کی ثقافت کا گہرا اثر ہے… میں بہت عرصہ پہلے وہ گائوں وہ گلیاں چھوڑ آیا تھا مگر بزرگوں کی روایات آج بھی میری رگوں میں خون کے ساتھ دوڑ رہی ہیں… میں چاہتا ہوں کہ میرے بچوں کے حوالے سے اس گھر میں آنے والی عورتیں بھی ان روایات کی امین ہوں‘ جن کا حکم قرآن دیتا ہے کیونکہ جن نسلوں کی آبیاری میں دین نہ ہو وہ ماں باپ کی نجات کا ذریعہ نہیں بنتیں اور ایک دین دار ماں ہی اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرسکتی ہے… آگے تم خود سمجھدار ہو… ہم تو اپنی عمر گزار چکے… چل چلائو کا وقت ہے اب تو… بس اس گھر کا بھلا چاہ رہا تھا۔‘‘
’’ابا جی‘ آپ کا سایہ تا دیر سلامت رہے ہمارے سروں پر… اللہ گواہ ہے میں نے آپ کو اپنے والد کی جگہ سمجھا ہے… آپ کا ہر لفظ میرے لیے مقدم ہے… فروا بے شک آزاد ماحول میں پلی بڑھی ہے مگر لڑکیوں میں بہت گنجائش ہوتی ہے خود کو ڈھال لینے کی‘ وہ اس ماحول میں خودبخود ڈھل جاتی ہیں جہاں بسیرا کرتی ہیں اور کچی عمر کی بچیاں تو ویسے بھی موم کی مانند ہوتی ہیں جس سانچے میں ڈھالو‘ ڈھل جاتی ہیں‘ میں وعدہ کرتی ہوں کہ فروا سے آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی… پھر آج کل کا دور بھی تو مختلف ہے‘ بچوں کی پسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے… مجھے ایسا لگتا ہے جیسے دونوں بچوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘
’’چلو پھر ٹھیک ہے… بسم اللہ کرو… میں اپنے بچے کے سر پر سہرا دیکھنے کا خواہش مند ہوں جلد از جلد۔‘‘
’’جی اباجی ضرور۔‘‘ وہ ان کے اتنی جلدی اور آسانی سے مان جانے پر نہال ہوتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں… عبدالمنان یونیورسٹی سے آچکا تھا جبکہ برہان کی آج کوئی میٹنگ تھی سو ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ سو پہلے پہل یہ خوش خبری اسے ہی سنائی تھی۔
’’ہمم… وہ تو سب ٹھیک ہے والدہ محترمہ مگر مجھے آپ کے فیصلے سے تھوڑا سا اختلاف ہے‘ فروا بہت اچھی ہے بحیثیت کزن ہماری دوستی بھی ہے مگر اس کے مزاج میں جو طنطنہ اور خود سری ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایک اچھی خاتون خانہ ثابت ہوسکے گی… ڈھنگ کی چائے بھی نہیں بناسکتی اور برہان گھر کے علاوہ باہر کا کبھی کچھ پسند ہی نہیں کرتا‘ ساری زندگی آپ کا ہی کچن اور گھر سنبھالے رکھنے کا ارادہ ہے تو بے شک لے آئیں بھانجی محترمہ کو۔‘‘
’’اپنے دادا جان جیسی باتیں مت کریں عبدالمنان میں نے اپنی بہن کو زبان دی تھی فروا اور برہان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں… جس سے انسان محبت کرتا ہے اس کے لیے تو بڑی سے بڑی قربانی دے سکتا ہے یہ تو صرف گھر کے معمولی سے کام کاج ہیں… جب تک ہمت اور صحت ہے‘ خود ہی کروں گی ہر کام کہ مجھے خوشی ہوتی ہے اپنے بچوں کے لیے کام کرکے… ایسی عمر میں ہر بچی لاابالی ہوتی ہے‘ خود ہی سیکھ جاتا ہے انسان‘ میری شادی تو اس سے بھی زیادہ کم عمری میں ہوئی تھی اور اپنے گھر میں تو میں نے بھی انڈہ تک نہ ابالا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے والدہ… آپ طے کرچکی ہیں اور بات برہان کی پسندیدگی کی ہے تو پھر ٹھیک ہے‘ میں تو اپنے گھر کے ماحول اور فروا کے گھر کے ماحول کو دیکھ کر بات کررہا تھا کہ کبھی کبھی کسی کے گھر آنے میں اور مستقل ایک گھر کا فرد بن کر ذمہ داری کا احساس کرنے میں بہت فرق ہے۔‘‘ لاپروائی سے کہتا ہوا وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔
r…٭…r
’’پتا نہیں کیوں بہت دنوں سے مجھے حنیف کے انداز کھٹک رہے ہیں۔ خدا خیر کرے‘ روزانہ کی چخ چخ بھی نہیں ہے اور پیسہ بھی نظر آرہا ہے اس کے ہاتھ میں… دو تین بار گھر کا سودا سلف بھی لایا ہے۔‘‘
’’گالیاں دیتے ہیں‘ مار پیٹ کرتے ہیں‘ کما کے نہیں لاتے‘ تب بھی آپ تشویش میں مبتلا ہوتی ہیں‘ اب کچھ دنوں سے یہ سب نہیں ہے تو بھی آپ پریشان ہیں۔‘‘ کتاب سے سر اٹھا کر اس نے کہا… سائرہ طویل سانس لے کر رہ گئیں۔
’’تم نہیں سمجھوگی دعا‘ اس شخص کی فطرت کو جتنا میں جانتی ہوں کوئی اور نہیں جانتا‘ تمہارا کیا خیال ہے یہ پیسے وہ اپنے زور بازو سے کما کر لایا ہوگا…؟ ایسا ہوتا تو میں اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت ترین عورت گردانتی… یا تو وہ جوئے میں کوئی بڑی رقم جیتا ہے یا پھر اس بار کسی قیمتی چیز کو ٹھکانے لگایا ہے اس نے… قیمتی چیز تو اب گھر میں کوئی بچی نہیں‘ سو جوئے والا قیاس ہی صحیح ہے اور یہ پیسے ختم کرنے کے بعد اسے ایک اور لمبا ہاتھ مارنے کے لیے پھر پیسوں کی ضرورت پڑے گی اور ایک بار پھر میری جان اور زندگی وبال میں آئے گی… میری تو گزر گئی جیسی گزرنی تھی‘ کامران بھی اس کا اپنا خون ہے‘ کبھی نہ کبھی جوان ہوکر اپنے پائوں پر کھڑا ہوجائے گا‘ بس تمہاری فکر راتوں کو سونے نہیں دیتی دعا‘ اس گھر میں میری سب سے قیمتی متاع تم ہو جسے میں جلد از جلد رخصت کردینا چاہتی ہوں… میں جانتی ہوں کہ میں نے اتنے سال کیسے تمہیں اپنے پروں میں چھپا کر رکھا ہے۔ مائیں اپنی اولاد کو باہر کی بلائوں سے چھپا کر رکھتی ہیں لیکن میرے تو اپنے گھر میں میری بچی محفوظ نہیں ہے… وہ تمہاری ٹیچر جو ایک بار آئی تھیں‘ انہوں نے پھر کچھ کہا…‘‘ انہوں نے ایک امید سے پوچھا۔
’’نہیں امی‘ جو تماشا وہ یہاں دیکھ کر گئی تھیں اس کے بعد کوئی ذی ہوش دوبارہ رشتے کی بات نہیں کرسکتا۔‘‘ اس کے جواب پر سائرہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی‘ چھ ماہ پہلے جب دعا کی کیمسٹری کی ٹیچر اپنے انجینئر بیٹے کے لیے دعا کا رشتہ لے کر آئیں تو حنیف نشے میں دھت گھر آیا تھا اور ایسی حالت میں کیا جانے والا تماشا اس روز بھی کیا تھا جو کہ عموماً اس حالت میں وہ کرتا تھا۔ وہ خاتون تو یہ سب دیکھ کر پریشان ہوگئی تھیں اور واپس جانے کے بعد پھر آنے کا نام تک نہ لیا تھا۔
r…٭…r
’’ویسے آپ کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ آپ بھی اس بیک گرائونڈ سے بی لونگ کرتی ہیں جس سے آنٹی وغیرہ اف ممی… ان کے گھر کا ماحول… توبہ ایسا لگتا ہے کسی قید خانے میں آگیا ہو انسان… اونچی آواز میں قہقہہ لگا کر مت ہنسو… گز گز کا دوپٹا وہ بھی سر پر لے کر پھرو… اف میرا تو دم گھٹ جائے وہاں اگر جو برہان کا خیال نہ ہو تو…‘‘
’’ہاں ہمارے چچا کافی سخت ہیں اس حوالے سے… وہ تو شکر ادا کرو تم لوگ جو میں ضد کرکے تمہارے بابا کے ساتھ ملک سے باہر چلی گئی ورنہ آج تم لوگ بھی اسی ماحول کا حصہ ہوتے… چچا جان تو چچا جان‘ شہزاد مرحوم بھی اپنے ابا کا پر تو تھا… سلیمہ (خالہ) کو عمر بھر دبا کر رکھا اور پھر جب اس کی وفات کے بعد چچا جان مستقل شہر آگئے‘ چچی کو بھی لے آئے تو یہاں شہر میں وہ اکیلے نہیں آئے تھے‘ ایک پوری تہذیب ہی ان کے ساتھ آئی تھی جس پر آج تک پورا خاندان عمل پیرا ہے… مگر خیر تمہیں کون سا عمر بھر ان لوگوں کے ساتھ رہنا ہے… بڑے میاں اور چچی جان کا تو آخری وقت ہے‘ باقی برہان کو فورس کرنا کہ تمہیں الگ گھر لے کر دے… ایک لڑکی چاہے تو اپنی عقل اور منصوبہ بندی سے کیا کچھ نہیں کرسکتی۔ تم بھی برہان کو لے کر الگ ہوجانا… ویسے بھی برہان کے رویے میں میں نے بہت لچک دیکھی ہے‘ دوسرے مجھے لگتا ہے کہ جیسے اسے بھی اپنے گھر کا اس قدر سخت ماحول پسند نہیں ہے بس تمہیں تھوڑی سی پلاننگ اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا… مجھے دیکھو کوئی کہہ سکتا تھا کہ چک ۸۳ کی لڑکی ملک سے باہر بھی جاسکتی ہے… ارادے پکے اور عقل کا بروقت استعمال کیا جائے تو پھر انسان کو منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا… خوب اچھی طرح سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو کیونکہ یہ تمہاری پوری زندگی کا معاملہ ہے… وہ تو تمہیں برہان پسند ہے ورنہ ہمارے سرکل میں بھی ایک دو بہترین رشتے ہیں تمہارے لیے۔‘‘ اس روز انہوں نے اسے بیٹھ کر بہت دیر سمجھایا تھا اور رشتے ناتوں کے حوالے سے ساری اونچ نیچ بتائی تھی۔
r…٭…r
وہ واپس آگئی تھی۔ اگرچہ بہت دیر ہوچکی تھی مگر بات رہ گئی تھی کہ بھیا اور بھابی اس روز گائوں گئے ہوئے تھے اور راستے میں گاڑی خراب ہوجانے کے باعث بہت دیر ہوگئی تھی‘ اس لیے ان دونوں کو اس پر گزرنے والی قیامت کا پتا نہ چل سکا تھا… یہ اور بات تھی ساری رات اپنے ساتھ ہونے والے سانحے کا غم اپنی تنہا جان پر جھیل کر وہ صبح صحیح سلامت نہیں اٹھ سکی بھابی جب اسے اٹھانے آئیں تو وہ بخار میں تپتی اپنے بستر پر انہیں بے ہوش ملی تھی۔ اسے شدید قسم کا نروس بریک ڈائون ہوا تھا… سترہ دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جب وہ گھر آئی تو اپنے ساتھ گزرنے والی قیامت کے بعد دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو پہلی فرصت میں وہ اس شخص سے ملنا چاہتی تھی… مگر یونی آکر اسے پتا چلا تھا کہ ارسلان ایک ماہ سے یونیورسٹی نہیں آرہا اور کچھ نے تو یہ بھی کہا تھا کہ وہ یہ ملک چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ یہ سن کر اس کا دل چاہا کہ اس پل کچھ ایسا ہو کہ اس کا سانس بند ہوجائے مگر زمین وآسمان اسے اپنی آغوش میں پناہ دینے کو تیار نہیں تھے کہ ابھی اس نے زندگی کی پہلی اور بدترین ٹھوکر کھائی تھی اور آگے یہ سلسلہ نہ جانے کب تک چلنا تھا۔
r…٭…r
’’کل دعا سے کہنا کالج نہ جائے‘ کچھ لوگ اسے دیکھنے آرہے ہیں۔‘‘ رسک کو چائے میں ڈبوتے حنیف نے سائرہ سے کہا… سائرہ کا چائے کی طرف بڑھتا ہاتھ وہیں رک گیا۔
’’کیوں…؟‘‘ اس کا لہجہ خودبخود روکھاہوا مگر دل اندر ہی اندر لرز کے رہ گیا تھا۔
’’لڑکی والے گھر میں لوگ کیوں آتے ہیں… دنیا دیکھی ہوئی ہے اتنا بھی نہیں پتا۔‘‘ وہ بے ہنگم طریقے سے ہنسا۔
’’مگر میں نے ایسی کوئی ذمہ داری تمہیں نہیں سونپی۔‘‘
’’او تم نے نہیں سونپی مگر… تم مانو یا نہ مانو ہے تو وہ میری ذمہ داری ناں… میرے گھر میں رہتی ہے‘ جوان ہوگئی ہے‘ میں نے ہی کچھ کرنا ہے اور کوئی ماں ہوتی تو خوشی سے اچھل پڑتی… ایک تم خر دماغ عورت ہو کہ بحث کرنے کھڑی ہوگئی ہو… جاکے بتادو اسے اور خاطر مدارت میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے… میں سارا سامان لے آئوں گا۔‘‘ سائرہ کو جواب دینے کا موقع دیے بغیر وہ آستین سے منہ پونچھتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ دعا کالج جاچکی تھی جبکہ وہ اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد نکلتی تھیں مگر آج انہیں اسکول بھول چکا تھا‘ وہ سر ہاتھوں میں تھامے کرسی پر بیٹھی تھیں… حنیف کے دوست کیسے تھے اور اس کے توسط سے کیسا رشتہ آسکتا تھا… وہ یہ بات بخوبی جانتی تھیں۔
’’میرا پردہ رکھنے والے… میری بیٹی کو ہر بری آہٹ اور برے فیصلے سے محفوظ رکھنا۔‘‘ ان کا رواں رواں اس وقت سراپا دعا تھا۔
r…٭…r
منگنی بہت دھوم دھام سے نہ سہی تو بہت سادگی سے بھی نہیں کی گئی تھی تاہم وہ اور اس کی اماں مطمئن نہیں تھیں… انہیں نہ تو گھر میں رکھا گیا وہ معمولی فنکشن پسند آیا تھا نہ سلیمہ کا دیا گیا بھاری سیٹ‘ سو ان ماں بیٹی کا مزاج کچھ دن تو بگڑا رہا مگر پھر کچھ سوچ کر خود ہی ٹھیک بھی ہوگیا تھا… فروا اب تقریباً روز ہی آجاتی تھی ان کی طرف مگر ابھی تک اس کا رویہ وہی بچگانہ اور لاڈ اٹھوانے والا تھا۔ یہ اور بات تھی کہ برہان کے دادا ابا کی وجہ سے وہ اس کے آفس جانہیں سکتی تھی کہ وہ اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے کہ گھر کی خواتین دفتروں تک آئیں۔ ہاں برہان سے ملنے گھر ضرور آٹپکتی کہ برہان اور دادا اور ابا دوپہر کا کھانا گھر آکر کھاتے تھے پھر واپسی کی راہ لیتے کبھی برہان اکیلا جاتا اور دادا ابا کا دوپہر کا کھانا لے جایا کرتا تھا… شادی کے بعد پہلی فرصت میں اس کا ان دونوں بزرگوں (دادا دادی) سے جان چھڑانے کا ارادہ تھا جو اس کی دانست میں گھر کے سخت اور گھٹے ہوئے ماحول کا سبب تھے… ورنہ آنٹی تو اپنی ہی تھیں… وہ تو شکر کا کلمہ پڑھتی کہ بیماری کے باعث کچھ عرصہ سے دادی اماں اپنے کمرے اور بستر تک محدود تھیں ورنہ اسے ان کا تنقیدی رویہ سخت ناپسند تھا۔
’’فروا بچے‘ ایسا کرو یہ ٹرے اٹھا کر اندر اماں بی کو دے آئو… وہ کھانا کھالیں گی تو پھر میں انہیں دوا کھلا آئوں گی۔ برہان آنے ہی والا ہے‘ میں تب تک تازہ روٹیاں پکا لوں۔‘‘ انہوں نے ہلکی پھلکی چیزوں پر مشتمل ڈش اسے پکڑائی کہ جب سے دادی اماں بستر پر تھیں، ڈاکٹرز کی طرف سے تاکید تھی کہ انہیں ٹھوس غذا کم سے کم دی جائے… دادی اماں اسے سخت ناپسندید تھیں اس نے طوعاً و کرہاً ٹرے پکڑی اور ان کے کمرے کی جانب چل دی۔
’’یہ آپ کھالیں… آنٹی ابھی آپ کو دوائی دے دیں گی۔‘‘
’’تمہارے ہاں بڑوں کو سلام کرنے کا رواج نہیں ہے؟‘‘ وہ جیسے ہی ٹرے ان کے سامنے رکھ کر پلٹنے کو تھی‘ ان کی سادہ سی بات پر ایک دم مڑی۔
’’وہ… السلام علیکم!‘‘ گڑبڑا کر کہا۔
’’وعلیکم السلام! کھانا پیش کرنے سے لے کر کھلانے تک کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ بیڈ کے نیچے سے چھوٹا ٹب نکالو… جگ میں پانی لے آئو‘ میرے ہاتھ دھلوائو۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ اس کا موڈ ازحد خراب ہوگیا تھا۔
’’ممی ٹھیک کہتی تھیں، مجھے اس رشتے پر بار بار غور کرنا چاہیے… لو بھلا میرے اپنے ہاتھ ملازم دھلواتے ہیں اور میں یہاں محترمہ کے ہاتھ دھلوائوں۔‘‘ دل ہی دل میں کڑھتے ہوئے اس نے جلدی سے بھگتانے والے انداز میں سب کچھ کیا اور دوسری کوئی بات سنے بغیر باہر آگئی‘ مبادا بڑی بی کسی اور کام کا کہہ دیں۔
’’اف آنٹی میں آپ کو دیکھ کر تھک جاتی ہوں اور آپ اتنے کام کرکے نہیں تھکتیں… سب سے زیادہ یہ جو اولڈ پیپل ہیں آپ کے گھر میں… انہیں برداشت کرنا… اٹس ویری ڈیفیکلٹ۔‘‘ کچن میں آتے ہی اس نے اپنا بیان جاری کیا… جسے سن کر وہ مسکرادیں۔
’’اپنے گھر کے کاموں سے جو تھکن ہوتی ہے ناں‘ اس میں بھی ایک سکون ہوتا ہے اور بزرگ تو گھر کی رونق اور برکت ہوتے ہیں… یہ تو اماں جی کو بیماری نے مجبور کر رکھا ہے ورنہ مجھ سے زیادہ ایکٹو ہیں اس عمر میں بھی… چلو تم ٹیبل پر چلو… میں کھانا لگا رہی ہوں بلکہ بیل بج رہی ہے، دروازہ کھول دو جاکر برہان ہوگا۔‘‘ فروا سر ہلاتی وہیں سے مڑ گئی تھی۔
r…٭…r
آج پھر حنیف گھر میں خوب ہنگامہ کرکے اور سائرہ کو مار کر گیا تھا‘ جوئے میں اس بار وہ جو رقم ہارا تھا وہ معمولی ہرگز نہ تھی بلکہ لاکھوں میں تھی اور اس بار اس نے گھر کی سب سے قیمتی چیز کا سودا کیا تھا… اس بار اس نے سائرہ کے کلیجے پر ہاتھ ڈالا تھا اور پانچ لاکھ کے عوض دعا کو بیچ دیا تھا اور اس دن چھٹی کا دن تھا جب دعا اور سائرہ گھر پر تھیں‘ برہان آیا تھا‘ ہاں مختلف یہ تھا کہ اس بار اس کے ہاتھ میں مٹھائی کے ساتھ رقم کا لفافہ بھی تھا… اس کی منگنی کی خبر سن کر نجانے کیوں سائرہ کی آنکھیں کچھ سوچ کر بھر آئیں اور انہوں نے دعا کے بند کمرے کو حسرت سے دیکھا۔ ابھی برہان اٹھنے کے لیے پرتول ہی رہا تھا کہ حنیف کی آمد ایک ادھیڑ عمر شخص اور اس کے باراتیوں اور مولوی کے ہمراہ ہوئی… وہ لوگ دعا سے نکاح کی غرض سے آئے تھے۔
’’واہ بھئی… آج تو سائرہ بیگم کے قریبی عزیز بھی موجود ہیں… چلو دلہن کی طرف سے ایک گواہ یہ بن جائیں گے… جلدی کرو… دعا سے کہو‘ تیار ہوجائے… میں جب تک مہمانوں کی تواضع کا بندوبست کرلوں۔‘‘ برہان کو دیکھ کر اندر آئے حنیف نے طنزیہ انداز میں کہا۔
’’ہوش میں تو ہو حنیف تم‘ میں نے کہا تھا کہ میری بیٹی کی شادی میرا اپنا فرض اور میری ذمہ داری ہے‘ ابھی کہ ابھی اپنے ان فضول مہمانوں کو رخصت کرو… ورنہ میں حشر کردوں گی…‘‘ سائرہ جیسے ایک دم شیرنی بن گئی تھی۔
’’ہوش میں ہی ہوں سائرہ بیگم‘ زبان دے چکا ہوں میں اور یہ لوگ ایسے نہیں جانے والے دلہن لے کر ہی جائیں گے۔ ماننا تو تم نے ویسے بھی ہے‘ آرام سے مان جائو تو اچھی بات ہوگی۔‘‘
’’آپ ایسے نہیں کرسکتے انکل‘ شادی سب کے مشورے اور رضا مندی سے ہوتی ہے… ایسے کیسے آپ اچانک یہ سب کرسکتے ہیں؟‘‘ برہان کے ایک دم بولنے پر حنیف نے پہلے چونک کر اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا پھر بولا۔
’’دیکھو میاں… یہ میرے گھر کا معاملہ ہے اس لیے تمہارا جو کام تھا وہ ہوگیا‘ تو تم چلتے پھرتے نظر آئو… بڑا آیا مجھے سبق پڑھانے والا۔‘‘ اتنی تذلیل پر برہان کا چہرہ سرخ ہوگیا… وہ کھڑا ہوا۔
’’او حنیفے جلدی کر‘ مولوی صاحب کو دیر ہورہی ہے۔‘‘ دفعتاً بیٹھک کا دروازہ بجا کر کسی نے آواز دے کر کہا۔
’’میں کہتی ہوں تم سب چلے جائو یہاں سے… ورنہ میں پولیس کو بلائوں گی کہ تم لوگ زبردستی میرے گھر میں گھس کر ہم پر زبردستی کررہے ہو۔‘‘ سائرہ زور سے چیخ کر بولی جب حنیف نے الٹے ہاتھ کا تھپڑ گھما کر اس کے منہ پر مارا۔
’’بکواس مت کر خبیث عورت… تیرا باپ بھی مجھے آج تیری بیٹی کی رخصتی سے نہیں روک سکتا۔‘‘
’’اور اب اگر آپ نے ایک لفظ بھی اور کہا یا انہیں ہاتھ لگایا تو پھر میں بھی اپنی تربیت اور خاندانی حیثیت سے بہت نیچے آپ کے لیول پر آکربات کروں گا۔‘‘ برہان اب سائرہ اور حنیف کے درمیان میں آگیا تھا اتنے میں بیٹھک سے دولہا اور اس کے دو ساتھی بیٹھک سے باہر نکل آئے۔
’’او بی بی… نکاح تو آج ہی ہوگا… حنیفے کو پورے پانچ لاکھ دیے ہیں لڑکی کے… مفت میں لڑکی لینے نہیں آئے۔‘‘ ادھیڑ عمر چالاک شخص کے منہ سے یہ روح فرسا خبر سن کر سائرہ پر قیامت گزر گئی۔
’’ذلیل آدمی‘ بیٹی کا سودا کردیا تم نے… زمانہ جاہلیت کے جاہل لوگوں سے بھی بدتر نکلے تم…‘‘ سائرہ نے حنیف کو پیٹ ڈالا۔
’’او بی بی‘ ہم یہاں تمہارا میاں بیوی کا ڈراما دیکھنے نہیں آئے… جلدی سے نکاح چاہتے ہیں‘ مولوی ساتھ ہے ہمارے۔‘‘
’’دیکھیں جی… نکاح تو کسی صورت نہیں ہوسکتا… اس لیے آپ یہاں سے تشریف لے جاسکتے ہیں اور آپ کی رقم آپ کو ایک دو دنوں میں مل جائے گی جو آپ حنیف صاحب کو دے چکے ہیں۔‘‘ دو ٹوک کہنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے انسپکٹر دوست کو فون کرکے فوری مدد کے لیے طلب کرچکا تھا۔
’’تو کون ہے‘ خوامخوا بول رہا ہے لڑکی کا باپ ہے وہ کوئی ایرا غیرا نہیں ہے جس نے زبان دی ہے۔ ہم تو ایسے نہیں جاسکتے… شریفوں کے ساتھ شریف اور بدمعاشوں کے ساتھ ان ہی کی زبان میں بات کرتے ہیں ہم۔‘‘ وہ تن کر برہان کے سامنے آیا اور مونچھوں کو بل دیتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
’’ٹھیک ہے پھر انتظار کیجیے کیونکہ شرافت کی زبان آپ نے سمجھی نہیں… اب پولیس آتی ہے تو وہی آکر آپ کو سمجھائے گی۔‘‘ وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اطمینان سے بولا۔
’’برہان…! میرے بچے… تم… تم پرائی آگ میں مت کودو… اللہ تمہیں سلامت رکھے۔ جائو، جائو میرا بچہ‘ میں خود دیکھ لوں گی انہیں۔‘‘ سائرہ نے ایک تالا ڈھونڈ ڈھانڈ کر دعا کے کمرے کے باہر لگایا اور برہان کو آکر کہا۔
’’کیسی باتیں کرتی ہیں آپ آنٹی… میں ایسی صورت حال میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جائوں گا اور آپ پلیز اندر جائیں میں ان سے خود ڈیل کرلیتا ہوں۔‘‘
’’دیکھا ان ماں بیٹیوں کے چلن‘ سب محلے والوں میں مجھے نشئی جواری مشہور کر رکھا ہے‘ اب خود دیکھ لو کہ جوان مرد کو بٹھا کر گلچھڑے اڑانے پر کوئی اعتراض نہیں انہیں اور نکاح پر بڑھ بڑھ کر بول رہی ہے بے غیرت عورت…‘‘ حنیف نے تمام حاضرین کو مخاطب کیا جو بیٹھک سے باہر آچکے تھے۔
’’زبان کو لگام دیں حنیف صاحب‘ اللہ کے لیے رشتوں کے تقدس کا پاس رکھیں…‘‘ برہان کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔
’’رشتوں کے تقدس کا خیال ہے تو نکاح کروانا چاہ رہا ہوں ناں… تمہیں بھی تو عرصہ ہوا اس گھر میں آتے جاتے دیکھ رہا ہوں‘ لفافوں کا ہی لین دین چل رہا ہوتا ہے… شرعی رشتہ بنانے کا خیال تو کبھی نہیں آیا تمہاری آنٹی کو اور تمہیں… باتیں بنانے کے لیے سب آجاتے ہیں… جائو میاں جائو اپنا رستہ ناپو۔‘‘ حنیف بڑھ بڑھ کر بولا۔
’’حنیف صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں بیٹے‘ یہ بچی کے سرپرست ہیں اور اچھی سوچ ہے بچی کے لیے ان کی… انہیں حق ہے وہ اپنی بچی کی شادی کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔‘‘ مولوی صاحب نے گفتگو میں حصہ لیا۔
اتنے میں احمد بھی پولیس کی وردی میں پہنچ چکا تھا‘ اسے دیکھ کر دولہا اور باقی لوگ ذرا دھیمے پڑگئے تھے خصوصاً جب احمد کو برہان نے مختصراً سی صورت حال بتائی۔
’’دیکھیے جناب‘ مجھ سے قرضہ لیا تھا حنیف نے‘ اس کی تو اوقات نہیں ہے دینے کی‘ بار بار مانگنے پر اپنی بیٹی کا رشتہ دے دیا‘ میرے پیسے دلوا دیں‘ مجھے نہیں ضرورت پرائے پھڈے میں ٹانگ اڑانے کی۔‘‘ دلہا نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے تائیدی انداز میں احمد اور برہان سے کہا۔
’’ٹھیک ہے آپ کو ایک ہفتے کے اندر اندر اپنی پے منٹ مل جائے گی‘ اب آپ تشریف لے جاسکتے ہیں۔‘‘ برہان نے سپاٹ انداز میں کہا۔
’’لیکن میری ایک شرط ہے کہ اب اگر تم اس مسئلے میں ٹانگ اڑا ہی رہے ہو تو پورا مسئلہ حل کرو… اتنی ہی ہمدردی ہے اپنی آنٹی سے تو تم کیوں نہیں نکاح کرلیتے بچی سے‘ گواہ اور مولوی بھی موجود ہیں۔‘‘ حنیف نے کمینے پن کی انتہا کرتے ہوئے خباثت سے کہا تو برہان گڑبڑا کر رہ گیا جبکہ احمد نے معاملہ رفع دفع کرانا چاہا۔
’’دیکھیے جناب… یہ اتنے اہم فیصلے ایسے نہیں ہوتے یوں کھڑے کھڑے…‘‘
’’عزت اور غیرت کے معاملے ایسے ہی ہوتے ہیں صاحب… صرف پیسوں سے کام نہیں چلے گا‘ نکاح بھی کرنا ہوگا ورنہ پھر مجھے اپنی بچی کا نکاح کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘ حنیف نے معاملے میں بگاڑ پیدا کرنا چاہا۔
آخر حنیف کی شر پسندی نے برہان کو ایک ان چاہے بندھن میں بندھنے پر مجبور کردیا… جب وہ گھر واپس آیا تو دماغ ایک نئے مسئلے کے بوجھ سے پھٹ رہا تھا۔
r…٭…r
’’کیا ہوگیا ہے بابا کی جان؟ اتنی کمزور‘ اتنی خاموش اور گم صم… تم تو میرے آنگن کی چہکتی مینا ہوا کرتی تھی‘ پوری برادری سے ٹکر لے کر تمہیں لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی… اب تو ہر خواہش پوری ہوگئی ہے میری گڑیا کی… اب کس بات پر خاموش ہے میری بیٹی؟‘‘ بابا اسے پیار سے دیکھتے ہوئے بولے۔
گڑیا کا جی چاہا وہ ان کے شفیق سینے میں چھپ جائے اور کہے کہ کاش وہ اسے اجازت نہ دیتے یہاں آنے کی‘ کاش وہ اس کی ہر ضد نہ مانتے‘ اسے پتا بھی نہ چلا کب اس کی آنکھیں اس شدت سے برسیں کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔
’’میں تو کہتی ہوں شہزاد کے ابا‘ میری دھی کو کوئی بری نظر لگی ہے… ایسی بیمار ہوئی کہ ہسپتال ہی جاپڑی میری بچی‘ کیسا پھول سا چہرہ تھا‘ اب مرجھا کے کیسا کملایا ہوا لگ رہا ہے… اسے آج ہی شاہ صاحب کے پاس دم کے لیے لے چلیں…‘‘ اماں جی جو ابھی کمرے میں آئی تھیں اس کی ایسی حالت برداشت نہ کرسکیں اور روہانسی ہوکر بولیں۔
’’نہیں اماں جی‘ بس بہت دن بعد آپ لوگوں کو دیکھا تو رونا آگیا… ٹھیک ہوں میں اب…‘‘ وہ بمشکل خود کو سنبھال کر بولی مگر اماں جی اس کی حالت سے مطمئن نہیں تھیں۔ اسے ساتھ لے جانے پر بضد تھیں آخر بابا جان نے مشورہ دیا کہ اماں جی کو اس کے پاس یہیں رک جانا چاہیے جبکہ وہ خود زیادہ دیر رک نہیں سکتے تھے… سو واپس گائوں چلے گئے تھے… اماں جی اسے گھر پر آرام کے لیے روکنے پر بضد تھیں مگر وہ بھی ان سنی کیے یونیورسٹی کے لیے نکل جاتی۔
’’توبہ ہے… ایسی بھی کیا پڑھائی کی ہڑک کہ اپنی صحت کی بھی فکر نہیں۔‘‘ اماں جی بڑبڑاتیں۔
’’آپ کیا جانیں اماں جی‘ صحت اور زندگی کی باتیں تو اب خواب ہوئیں… اب تو آپ کی لاڈلی کو عزت کے لالے پڑے ہوئے ہیں… کاش میں بھی دوسرے تمام اسٹوڈنٹس کی طرح اس ذلیل انسان کی شرارتوں کو ہلکا لے لیتی چپ کر جاتی… مر تو نہیں جاتی… مذاق ہی تھا ناں ختم ہوجاتی بات… کاش اپنے ہر بول اور عمل سے پہلے ایک بار انسان نظر ثانی کرلے‘ تو زندگی کے کئی آزار جان لینے سے پہلے ہی دم توڑ جائیں مگر ارسلان کو تو جیسے زمین کھا گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا… وہ دن وہ مناظر اس کی آنکھ کی پتلیوں میں ٹھہر کر اس کی زندگی کو وہیں منجمد کر گئی تھی۔
’’پسند کرنے لگا تھا میں تمہیں اور میرے چھوٹے سے مذاق کا تم نے اتنا تماشا بنایا کہ وہ ارسلان جو یونیورسٹی کی شان سمجھا جاتا تھا اسے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا تم نے… اب ارسلان تمہیں بتائے گا کہ ذلت کیا ہوتی ہے… وہ رشتہ جسے میں فخر کے ساتھ بنانا چاہتا تھا اسے اب تمہارے لیے ایسا بنادوں گا کہ ایک وقت ایسا آئے گا نہ تمہیں زمین پناہ دے گی نہ آسمان… مولوی صاحب آکر تمہاری رائے لیں گے ابھی… جواب ہاں میں ہونا چاہیے ورنہ ذہن میں رکھنا کہ میری کسٹڈی میں تم ہوہی‘ نکاح بھی صرف اس لیے کررہا ہوں کہ تمہیں مرنے میں آسانی ہوسکے کہ تم کسی کی بیوی ہوکر مری ہو…‘‘
’’گڑیا… گڑیا… کیا ہوا میری بچی کیوں رو رہی ہو؟ خواب میں ڈر گئی کیا… ادھر آ… میں آیت الکرسی پڑھ کر پھونک دوں…‘‘ قسمت سے دو پل کو نیند مہربان ہوئی تھی کہ گزرے مناظر شعور کی سطح پر آکر اسے رونے پر مجبور کر گئے… کبوتر کی طرح منہ چھپائے وہ اماں جی سے لپٹ گئی۔
’’اماں جی مجھے چھپالیں‘ مجھے دور لے جائیں‘ بہت دور‘ میں نے کچھ نہیں کیا…‘‘
’’ہاں ہاں میرا بچہ میں لے جائوں گی اپنی بچی کو…‘‘ ماں جی کسی سوچ میں گھر کر بولی تھیں۔
r…٭…r
حالات ایسے ہوگئے تھے کہ وہ اس وقت حنیف کے بچھائے جال میں کچھ ایسے بری طرح پھنسا تھا کہ پانچ لاکھ کا چیک اسے اس خبیث دلہا کے منہ پر مارنا پڑا تھا اور لاکھ روپے کا چیک مزید حنیف نے اس سے یہ کہہ کر بٹور لیا تھا کہ شادی کے لیے رشتے سے لے کر اب تک جو انتظامات ہوئے تھے اس پر اس کی اتنی رقم خرچ ہوچکی تھی‘ احمد نے اپنے رعب اور اثر ورسوخ سے برہان کی جان چھڑانی چاہی تھی مگر حنیف ایک گھاگ اور کائیاں آدمی تھا‘ عزت اور غیرت کا معاملہ کہہ کر بات بڑھائی تھی اور سب کو چپ کرادیا تھا۔ سائرہ جو برہان کو اس طرح سے بلیک میل کیے جانے پر پہلے پہل بہت پریشان تھی‘ کچھ سوچنے پر شانت ہوگئی تھی کہ کیسے بھی حالات رہے ہوں اس کی بیٹی بالآخر اپنوں میں ہی جارہی تھی اور بالکل صحیح ہاتھوں میں… اس نے برہان پر رخصتی کے لیے دبائو ڈالا کیونکہ حنیف جیسے سازشی اور گھٹیا انسان سے کچھ بعید نہ تھا کہ اس کے بعد کوئی نیا مسئلہ نکال کر لے آتا‘ اگرچہ برہان اس کے لیے فی الحال تیار نہیں تھا مگر سائرہ بھی اپنی جگہ حق پر تھی… سو طوعاً وکرہاً وہ دعا کو اپنی ساتھ لے آیا۔ یہاں بھی احمد اس کے کام آیا تھا اور اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا تھا جہاں وہ بوجہ جاب اکیلا رہتا تھا‘ جبکہ رہنے والا وہ دوسرے شہر کا تھا‘ یونیورسٹی تک دونوں ساتھ تھے۔
’’ہاں بھئی‘ دولہا میاں جب تک یہاں ہو‘ سنبھالو اپنا گھر… ضرورت کی ہر چیز گھر میں موجود ہے‘ آج کا کھانا بھی آرڈر کردیا ہے… میں تو اب چلا۔‘‘
’’ہیں…! تم کہاں؟‘‘ برہان جو دعا کو ایک کمرے میں چھوڑ کر باہر آیا تو احمد جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔
’’ایک کیس پر کام ہورہا ہے تو بہت دفعہ رات کو گھر ہی نہیں آپاتا… آج بھی تمہاری ایمرجنسی کا سن کر نکل آیا تھا‘ ضروری جانا ہے… پھر ملتے ہیں… فون پر تو رابطہ رہے گا ناں۔‘‘ احمد عجلت میں کہہ کر چلا گیا تھا‘ جب برہان کے سیل پر دادا ابا کی کالز آنی شروع ہوئیں۔ اس نے سائرہ آنٹی کے گھر صورت حال کی کشیدگی کے پیش نظر موبائل کافی دیر سے بند کر رکھا تھا اور وہ صبح کا گھر سے نکلا ہوا تھا… کاروباری مصروفیات میں اکثر وبیشتر اسے دیر ہوجایا کرتی تھی مگر ایسی صورت حال میں دادا کو علم ہوتا تھا کہ وہ کہاں ہے اور اس کی مصروفیات کیا ہیں… آج مسلسل چھ سے سات گھنٹے کا غائب ہونا یقینا گھر والوں کو پریشانی میں مبتلا کررہا ہوگا… یہ اندازہ اسے دادا کی پریشان آواز سے ہوا… اس نے انہیں بتایا کہ اس کے ایک دوست کا شدید قسم کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہ اس کے ساتھ ہسپتال میں ہے دادا فوراً ہی وہاں آنے پر بضد ہوئے… بڑی مشکل سے انہیں اس امر سے باز رکھتے ہوئے جب اس نے بات ختم کرکے موبائل میز پر رکھا۔ وہ تو سامنے والے کمرے سے سسکیوں کی آواز پر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ دادا ابا کے بعد اگلی کال امی کی تھی اور پھر دادی ماں… سب کو فرداً فرداً وہی کہانی سنا کر وہ کمرے میں پہنچا تو موصوفہ صوفے پر آلتی پالتی مارے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر ابھی تک رونے میں مصروف تھیں۔
’’وہ بھئی کیا نام ہے تمہارا… دیکھو پلیز چپ ہوجائو… مجھے روتے ہوئے لوگوں خصوصاً خواتین کو چپ کرانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔‘‘ کسی قدر کوفت سے کہتا وہ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا… اس کی بات سن کر دعا نے جلدی جلدی منہ اور آنکھیں دوپٹے سے رگڑ ڈالیں… مگر سوں سوں بدستور جاری تھی۔
’’دیکھو اب میری بات غور سے سنو‘ میں تمہیں اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا‘ کہیں اور ساتھ لے جانے میں بھی قباحت ہے لیکن میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا ہے اس پر عمل کرکے کچھ دنوں تک کام چل سکتا ہے… پھر دیکھتا ہوں کہ آگے کیا کرنا ہے۔‘‘ وہ کچھ سوچ کر بولا تو دعا بھی پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’جی کہیں۔‘‘ بھرائی آواز میں اس نے کہا اور جیسے جیسے وہ اسے اپنا خیال بتاتا گیا‘ اس کے چہرے پر بھی کچھ طمانیت نظر آئی۔
’’اچھا… اب کچن میں دیکھو جاکر، کچھ کھانے کو ہے تو… پیٹ میں چوہوں نے اودھم مچا رکھا ہے‘ نہیں تو میں باہر جاکر کچھ لے آتا ہوں… وہ گھامڑ تو کہہ رہا تھا کہ کچھ آرڈر کیا ہے مگر ابھی تک آرڈر کی تعمیل کے کوئی آثار نہیں ہیں… مجھ سے تو صبر نہیں ہورہا اورتم بھی یقینا صبح سے بھوکی ہوگی…‘‘ اس کی بات سن کر دعا وہاں سے اٹھ گئی۔ ابھی وہ کچن کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ برہان نے اسے آواز دے کر بلایا کھانے کا سامان پہنچ چکا تھا اور اس کے باہر آنے تک برہان ٹیبل پر سب کچھ نکال کر رکھ چکا تھا۔ شاید اسے زیادہ ہی بھوک لگ رہی تھی۔ چائے بنانے کے لیے دعا نے خود ہی اس سے پوچھا اور جب وہ چائے بنا کر لائی تو وہ بے تکلفی سے شاید کسی لڑکی سے بات کررہا تھا مگر اسے دیکھ کر محتاط ہوکر گفتگو مختصر کرتے ہوئے بات ختم کردی تھی تاہم کل ملنے کا وعدہ ضرور کیا تھا۔
’’فروا کا فون تھا… میری کزن بھی ہے اور منگیتر بھی… کچھ دنوں میں ہماری شادی ہونے والی ہے۔‘‘ اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا… کوئی جذباتی وابستگی نہ ہوتے ہوئے بھی دعا کی تھوڑی سی چائے چھلک گئی تھی… تاہم اس نے اس کے جواب میں کچھ نہیں کہا اور خاموشی سے چائے پیتی رہی۔
r…٭…r
رات کے کسی پہر ایک عجیب سے احساس نے دعا کو جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا اور برہان کو اپنے بے حد قریب اس قدر استحقاق سے بیٹھے دیکھ کر وہ حیران بھی نہ ہوسکی۔ تکیے کے نیچے سے اپنا دوپٹا نکال کر اوڑتے وہ سیدھی سوئچ بورڈ کی طرف گئی لمحوں میں کمرہ دودھیا روشنی سے نہا گیا تھا۔
’’آپ اس وقت یہاں کیا کررہے ہیں…؟‘‘ اس کا لہجہ بے حد درشت تھا اور وہ وہیں دروازے کے پاس ہی کھڑی رہ گئی تھی تاہم دل دھڑدھڑ کرتا گویا پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے تاب تھا۔ برہان بیڈ سے اٹھ کر اس کے بے حد قریب آیا۔
’’کیا تم نہیں جانتیں کہ میں اس وقت یہاں کیوں ہوں بلکہ ہم دونوں یہاں کیوں ہیں؟ اگر نہیں تو یاد دلادوں کہ چند گھنٹے قبل ہی تم مجھ سے ایک ایسے رشتے میں جڑ گئی ہو کہ مجھے تمہارے اس سوال پر حیرت ہورہی ہے… میاں بیوی ہیں ہم… ہر طرح کا حق رکھتا ہوں میں تم پر…‘‘ اس کا بازو نرمی سے تھام کر میاں بیوی پر زور دیا۔
’’ہاں ہیں میاں بیوی… مانتی ہوں اور جانتی ہوں اس حقیقت کو‘ آپ کا حق اور اپنا فرض ہر چیز کی سمجھ ہے مجھے لیکن جس حق کو رات کے اندھیرے میں جتانے آئے ہیں آپ اس کا دن کے اجالے میں اعتراف کرسکتے ہیں… اپنے گھر والوں کے سامنے مجھے بیوی متعارف کراسکتے ہیں؟ یقینا نہیں۔‘‘ وہ اپنا بازو چھڑا کر طنز سے بولی۔
’’کیونکہ کچھ گھنٹے قبل آپ مجھے بتاچکے ہیں کہ صحیح فیصلہ ہونے تک کس حیثیت سے مجھے اپنے گھر لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں… میں آپ کے اس احسان کے لیے تاعمر آپ کی زیر بار رہوں گی جو آپ نے حنیف کے ظلم سے بچا کر مجھ پر کیا مگر اس کا تاوان میں آپ کو خود پر حق جتا کر نہیں دے سکتی کیونکہ رشتہ چاہے شرعی اور جائز کیوں نہ ہوں اسے گناہ کی طرح چھپایا جائے تو مرد تو پاک رہتا ہے صرف عورت کی زندگی ہی گناہ سے لتھڑ جاتی ہے۔‘‘ اس کی آواز رندھ گئی۔
’’آپ جاسکتے ہیں باہر… سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجیے‘ میں آپ کے ہر فیصلے کا خیر مقدم کروں گی لیکن ہر وہ فیصلہ جس میں میری عزت نفس مجروح نہ ہو۔‘‘ برہان بھناتا ہوا باہر لائونج میں آگیا مگر اس کمرے کا دروازہ زور سے بند کرنا نہ بھولا تھا۔
’’ہونہہ… سمجھتی کیا ہے خود کو… جیسے میں اس کے لیے مرا جارہا ہوں اور یہ مجھے کیا ہوگیا تھا… میں کیوں گیا اس کے پاس… جب مجھے اسے اپنی زندگی میں اس حیثیت سے رکھنا ہی نہیں ہے تو کسی قسم کا تعلق بھی نہیں رکھنا چاہیے لیکن کسی فیصلے کے حتمی ہونے تک تو وہ میری بیوی ہے… اس کی جرأت کیسے ہوئی مجھ پر کوئی حکم چلانے کی۔‘‘ برہان کا دل اور دماغ آپس میں نبرد آزما تھے۔
r…٭…r
’’اللہ کے لیے ایسا مت کریں… میں ماں بننے والی ہوں۔‘‘ اس کے منہ سے پھٹی پھٹی سی آواز نکلی جس نے بھابی کے سر پر ساتوں آسمان گرا دیے تھے۔
’’کیا کہہ رہی ہو گڑیا‘ اس وقت… اس وقت ایسا مذاق مت کرو جب میرے ماں باپ کے گھر خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں… شادی سے پندرہ دن پہلے کی دلہن کہے کہ وہ ماں بننے والی ہے تو کیسی کیسی قیامتیں نہ ٹوٹیں گی ہم سب پر۔‘‘ بھابی اسے کندھوں سے جھنجوڑ کر کہہ رہی تھیں۔
’’مذاق میں نہیں کررہی… مذاق تو میرے ساتھ ہوا ہے… مگر… مگر زبردستی ہی سہی اس نے نکاح کیا تھا میرے ساتھ۔‘‘ وہ چیخ کر بولی۔
’’اس کا مطلب تمہاری مرضی شامل تھی اس میں… اپنے باپ اور بھائی کا منہ کالا کرنے سے پہلے ایک لمحے کو سوچ لیتیں کہ وہ تم سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ تمہاری اس فضول ضد کی وجہ سے ساری دنیا کے سامنے ڈٹ گئے۔ بڑے بڑے دعوے کیے تھے ناں تم نے باپ کے شملے کو سنبھالنے کے‘ کہاں گئے وہ سب‘ اف میرے اللہ! آج جب پورا خاندان شادی کی پہلی رسم کا شگن لے کر آرہا ہے تو تم کیا گل کھلا کر بیٹھی ہو؟‘‘ بھابی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
’’میں نے کچھ نہیں کیا بھابی‘ اللہ کی قسم میں نے کچھ نہیں کیا‘ میں نے تو کسی کو اس کی بدتمیزی کا سبق سکھانا چاہا تھا‘ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ مجھے ہی ایسا سبق سکھائے گا کہ میری زندگی کو میرے لیے سزا بنادے گا۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور ہچکیوں کے درمیان بھابی کو سارا قصہ کہہ سنایا مگر ان کی آنکھوں اور چہرے کے تاثرات نے اسے جیسے ہی باور کرایا کہ وہ اس کی کہانی کو من گھڑت سمجھ رہی ہیں تو اس کی آواز حلق میں گھٹ گئی۔
’’اماں جی کو بلائیں‘ میں انہیں بتائوں گی… وہ میری بات مانیں گی… انہیں تو پتا ہے ان کی گڑیا کیسی ہے۔‘‘ وہ تڑپ کر روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور بھابی اسے تنفر سے دیکھتے ہوئے باہر نکل گئی تھیں۔
r…٭…r
’’مجھے تمہارا یہ فیصلہ ہرگز پسند نہیں آیا برہان! لو بھلا بتائو تم نے نہ دنیا دیکھی نہ پرکھی… عمر بھر پڑھائی اور بزنس میں رہے… تمہیں کیا پتا لوگ کیسے کیسے بہروپ بنا کر پھرتے ہیں اور موقع ملنے پر کیسے کیسے رنگ نہیں دکھاتے‘ جوان جہان خوب صورت لڑکی کو ہمارے سروں پر لا بٹھایا کہ دادی کی کیئرٹیکر ہے، اچھے خاندان کی ہے… خاندان والے کسی حادثے کی بھینٹ چڑھ گئے… بھلا بتائو تمہیں کیسے پتا کہ جو کہانی تمہیں تمہارے اس پولیس والے دوست نے سنائی‘ وہ سچ بھی ہے کہ نہیں‘ اس نے خود کیوں نہیں ہمدردی کمالی…‘‘ وہ سخت غصے میں تھیں اور اٹھتے بیٹھتے اسے اس لڑکی کے گھر لے آنے پر خوب سناتیں۔ دادا نے فیصلے کا سارا اختیار اس کی امی کو دیا تھا کہ وہ جو مناسب سمجھیں وہ کریں جب کہ دادی بہت خوش تھیں کچھ ماہ سے یہ جو نرسز کے آنے اور جانے کا سلسلہ چلا تھا اس نے انہیں پریشان کر رکھا تھا پچھلے دنوں خود سے بستر سے اٹھنے کی کوشش میں وہ چوٹ بھی لگوا چکی تھیں‘ اب اس معصوم اور سادہ لڑکی کو دیکھ کر نجانے کیوں دل پسیج گیا تھا اور بے ساختہ دل نے گواہی دی کہ وہ ان نرسز کی طرح ہرگز نہیں ہے۔ برہان تو بس کان لپیٹے امی کی بری بھلی سن رہا تھا اگلے دن ہی فروا آن دھمکی لیکن دعا کے مسلسل دادی کے کمرے میں رہنے کی وجہ سے اسے پتا نہیں چل سکا تھا تاہم گھر کی فضا کچھ مکدر ضرور لگی تھی… عبدالمنان آج کل ٹرپ پر شمالی علاقہ جات کی طرف گیا ہوا تھا سو اس کی طرف سے خاموشی تھی… مگر اگلی بار دعا کی موجودگی اس سے چھپی نہ رہ سکی کہ دادی کے چھوٹے موٹے کام اس کے ذمہ تھے‘ تو کچن میں اسے دیکھ کر فروا ٹھٹک گئی تھی۔
’’آنٹی… یہ کون محترمہ ہیں‘ آپ نے تعارف ہی نہیں کروایا۔‘‘ گھوم پھر کر اس کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد اس نے سلیمہ بیگم سے پوچھا جو ساتھ والے چولہے پر چڑھا رہی تھیں جب کہ دعا دادی کے لیے یخنی بنارہی تھی۔
’’ملازمہ ہے تم باہر چلو… میں وہیں آرہی ہوں۔‘‘ سلیمہ کا لہجہ خاصی سنگ دلی لیے ہوئے تھا۔ فروا اچھل ہی تو پڑی یہ سن کر۔
’’ارے واہ…! ملازمہ رکھ لی‘ مطلب میری بار بار کی جانے والی فرمائش پر آخرکار غور کر ہی لیا گیا مگر آنٹی ملازمہ تو درمیانی عمر اور معمولی شکل کی ہی رکھنی چاہیے، آخر کو مردوں والا گھر ہے۔‘‘
’’فروا، یہ گھر کی ملازمہ نہیں ہے‘ اماں جی کی دیکھ بھال کے لیے رکھی ہے۔‘‘ انہوں نے ٹرے لے کر جاتی دعا کو بغور دیکھا‘ اب ان کے دل کو اور ہی طرح کا دھڑکا لگ گیا تھا۔ تین چار دن سے وہ یہ تو سوچ رہی تھیں کہ پتا نہیں کیسی لڑکی ہے‘ کس خاندان سے ہے؟ کس مقصد سے یہاں آئی ہے یہ تو آج فروا نے نیا اندیشہ ان کے ذہن میں جگایا تھا۔
r…٭…r
’’بہت اچھی چائے بنائی ہے… جیتی رہو۔‘‘ انہوں نے خالی کپ اس کے ہاتھ میں پکڑایا۔
بہت دن بعد دادا کو اتنی فراغت ملی تھی کہ دادی اماں کے پاس بیٹھ کر چائے پی سکیں ورنہ وہ تو مصروف ہی اتنے رہتے تھے کہ بس کھانے کے اوقات میں ہی گھر آتے اور دادی اماں کی طبیعت پوچھ کر یہ جا‘ وہ جا… کچھ اس لڑکی کی وجہ سے بھی اب ان کے کمرے میں رکنے سے گریز کرتے تھے۔
’’فون بند ہے برہان کا‘ بہت ضروری بات کرنا تھی… جائو بچے‘ برہان بھائی کو بلا لائو کہو دادا ابا بلا رہے ہیں۔‘‘ دادی اماں کی الماری کے کپڑے ٹھیک کرتی دعا سر ہلا کر مڑی اور باہر چلی گئی۔ دادا ابا‘ دادی اماں کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’ہاں بھئی بیگم صاحبہ، شکل اور اطوار سے تو بچی شریف خاندان کی لگتی ہے‘ کیسی کررہی ہے آپ کی تیمار داری…؟‘‘
’’وقت کیسے کیسے ہیرے دوسروں کے در پر رلنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے… ایسا ایکسیڈنٹ ہوا کہ کچھ نہ بچا‘ ماں باپ کا بھی آگے پیچھے کوئی نہیں تھا… یہ اچھا اجر کمایا میرے برہان نے کہ بے سہارا کو سہارا دینے کا وسیلہ بنا… میں تو کہتی ہوں ثواب کمائیں تو پورا کمائیں… اچھی اور شریف بچی ہے… اپنے آفس میں اور ادھر ادھر ملنے جلنے والوں میں کوئی اچھا لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کرادیں گے۔ بہو بھی کچھ خاص خوش نہیں ہے اس بچی کے یہاں رہنے پر…‘‘
’’ہمم… اصل میں زمانے کی ہوا ہی ایسی چل پڑی ہے کہ بھروسے لائق کوئی رہا ہی نہیں‘ لڑکی ذات ہے… بہو کی بات بھی ٹھیک ہے… چلو دیکھتے ہیں‘ اللہ جو کرے گا بہتر کرے گا۔‘‘ دادا نے طویل سانس لیتے ہوئے کہا تھا۔
r…٭…r
’’یس…‘‘ دستک پر جواب دے کر وہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا جب وہ اندر آئی۔
’’وہ آپ کے دادا جان آپ کو بلا رہے ہیں۔‘‘ آہستہ سے کہہ کر وہ مڑنے لگی جب برہان نے اسے روکا۔
’’سنو…‘‘
’’کیسی ہو ٹھیک تو ہو ناں؟ مجھے اندازہ ہے کہ امی کا رویہ کافی روکھا ہے تمہارے ساتھ لیکن میرے خیال میں وہ حق پر ہیں… برداشت کرلیا کرو… یہ لو کچھ پیسے رکھو‘ ضرورت پڑ سکتی ہے اور یہ میں موبائل لایا تھا تمہارے لیے… سائرہ آنٹی سے رابطہ کرلینا‘ بہت پریشان تھیں تمہاری طرف سے…‘‘ دروازے کی طرف بار بار دیکھتا ہوا وہ جلدی جلدی کہہ رہا تھا مبادا امی دیکھ نا لیں۔
’امی…! امی سے ملے آپ… کیسی ہیں وہ…؟‘‘
’’ٹھیک ہیں‘ بالکل ٹھیک… میں گیا تھا کل ان کی طرف‘ تمہیں یاد کررہی تھیں اور اللہ کے لیے یہ رونا بند کرو… امی آگئیں تو پتا نہیں کیا سوچیں گی تمہاری حیثیت ویسے بھی مشکوک ہے ان کے نزدیک۔‘‘ وہ بوکھلا کر اس کے قریب آیا اور جلدی جلدی اس کے آنسو پونچھ ڈالے… نجانے کیا بات تھی اس لڑکی میں کہ زبردستی مسلط ہوجانے کے باوجود وہ اس سے بیزاری محسوس نہیں کررہا تھا… فروا کی کمپنی میں وہ ہر چیز بھول جاتا تھا مگر اس لڑکی کے سامنے آتے ہی فروا کہیں پس پشت چلی جاتی… بس یہی احساس دل ودماغ پر حاوی ہوتا کہ حالات کے تحت ہی سہی ان کے درمیان ایک اہم رشتہ موجود ہے۔ دعا بدک کر پیچھے ہٹی تھی۔
’’میں یہ روپے نہیں رکھ سکتی… یہ آپ واپس لے لیں… موبائل لے رہی ہوں کہ اس وقت یہ لے لینا میری مجبوری ہے۔‘‘ جلدی سے آنسو پونچھ کر وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
r…٭…r
تھوڑی دیر بعد جب وہ دادی اماں کے کمرے میں پہنچا تو دعا وہاں موجود نہیں تھی مگر چند لمحوں بعد اس نے اسے چائے لے کر آتے دیکھا جو اس نے دادی اماں کو اور اسے دی اور خود کونے میں جاکر جائے نماز بچھالی تھی۔
’’دیکھو برہان تم جانتے ہو کہ میں نے تم پر کسی بھی معاملے میں بے جا سختی روا نہیں رکھی کہ میرا خیال ہے کہ سختی اور پابندی اگر حد سے بڑھ جائے تو بغاوت کو جنم دیتی ہے۔‘‘ ان کا لہجہ افسردہ تھا۔
’’جی جی دادا ابا… میں جانتا ہوں اور مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں۔‘‘
’’لیکن میری جان… انسان کی ترجیحات اس کی عمر کے لحاظ سے بدلتی ہیں اور تمہاری جو عمر ہے اس میں ہر چمکتی چیز سونا لگتی ہے… ماں باپ سے زیادہ دوست خیر خواہ لگتے ہیں مگر لازمی نہیں کہ آپ کا ہر دوست آپ کا خیر خواہ بھی ہو۔‘‘ اس بار برہان نے کوئی جواب نہیں دیا مگر پوری طرح ان کی طرف متوجہ ضرور ہوگیا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔
’’یہ بزنس‘ جائیداد سب کچھ تم دونوں کا ہی ہے لیکن اپنی زندگی کے معمولی سے بھی معمولی فیصلے میں مجھے شامل کرنے والا میرا بچہ میرے علم میں لائے بغیر اکائونٹ سے لاکھوں نکلواتا ہے تو تشویش تو بنتی ہے ناں یار…‘‘ دادا کا انداز آخر میں ہلکا پھلکا ہوا تھا… برہان کے حلق سے بے ساختہ طویل سانس خارج ہوئی۔ واقعی اس نے دعا کی شادی والا مسئلہ نمٹانے کے لیے آٹھ نو لاکھ کی رقم کا استعمال کیا تھا اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا‘ مختلف رقوم مختلف کاموں کی مد میں خرچ ہوتی رہتی تھی مگر ان سب کا لین دین دادا ابا کے علم میں ہوتا تھا۔
’’وہ… دادا ابا… اصل میں بات کچھ ایسی تھی کہ میں جلدی میں آپ کو بتا نہ سکا… میرا دوست کامران… لیکن اسے تو آپ جانتے ہی نہیں…‘‘ اب وہ رقم کے حوالے سے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس کے ایک دوست کو گاڑی کی پے منٹ کے لیے فوری کیش چاہیے تھا تو اس نے مدد کردی‘ ایک دو دن میں وہ رقم دوبارہ ان کے اکائونٹ میں منتقل ہونے والی تھی۔ اس کی وضاحت پر دعا کا اٹکا ہوا سانس بحال ہوا اور اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے تھے۔
r…٭…r
سائرہ سے بات کرکے اسے بہت سکون ملا تھا وہ واقعی اس کے لیے بہت پریشان تھیں مگر اس سے بات کرکے اور یہ جان کر کہ برہان اسے گھر لے آیا تھا‘ مطمئن ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اسے کہا تھا کہ برہان کے دادا‘ دادی کی پوری جی جان سے خدمت کرے اور ان کی عزت اس کے دل میں ہونی چاہیے‘ صرف یہ سوچ کر نہیں کہ برہان نے اسے دادی اماں کا کیئر ٹیکر رکھا ہے وقتی طور پر حالات کو قابو کرنے کے لیے تو وہ بھی وقتی طور پر ان کی عزت اور خدمت کرے… فون اس کے پاس ظاہری طور پر نہیں تھا تو واش روم میں بس اتنی ہی بات کرسکی تھی وہ۔ اگلی صبح دادی اماں نے اسے ایک لفافہ پکڑانا چاہا تو اس نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے۔
’’یہ…! یہ کیا ہے…؟‘‘
’’میں جانتی ہوں بچے تم ایک اچھے گھر کی بچی ہو… شریف اور عزت دار ماں باپ کی اولاد ہو… حالات نے تمہیں ایک بوڑھی‘ معذور کی دیکھ بھال پر مجبور کردیا ہے لیکن بیٹا اسے اپنا معاوضہ مت سمجھو… دل سے کی گئی محبت اور خدمت کا معاوضہ کوئی دے بھی نہیں سکتا… یہ تمہاری ضرورت کے لیے کچھ رقم ہے… استعمال میں لائوگی تو مجھے خوشی ہوگی… میری اپنی پوتی یا نواسی ہوتی تو تمہاری عمر کی ہوتی بلکہ وہ تو مجھ سے مانگ کر لیتی‘ جیسے عبدالمنان لے جاتا ہے‘ مختلف بہانے کرکے مجھ سے‘ اپنے دادا سے‘ جب برہان کی دی گئی پاکٹ منی ختم ہوجاتی ہے اس کے پاس۔‘‘ انہوں نے بہت محبت سے اپنے پوتے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تو دعا کی آنکھیں بھر آئی تھیں اور اس نے ان سے وہ لفافہ لے لیا تھا… اسی لمحے دستک دے کر عبدالمنان کمرے میں داخل ہوا۔
’’آداب دادی اماں… آپ کے کمرے میں آنے پر پابندی لگادی والدہ محترمہ نے آتے ہی وجہ پوچھنے پر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا کر خاموش ہوگئیں مگر پھر سے سختی سے کہا کہ خبردار جو دادی کے کمرے کے اردگرد بھی گھومتے نظر آئے… وہ تو برہان بھائی نے پھر بلا کر بتایا کہ دادی اماں کی نئی کیئرٹیکر کی وجہ سے یہ سخت آرڈر جاری کیا گیا ہے… ارے یہ تو خود دھان پان سی ہیں… انہیں تو خود سہارے کی ضرورت لگتی ہے‘ اتنی کمزور ہیں آپ کی دیکھ بھال کیسے کریں گی…؟‘‘
’’ویسے میں تو آپ کو نام سے ہی بلائوں گا‘ اتنی چھوٹی سی تو ہیں‘ یہ میڈم اور سسٹر والے الفاظ جچیں گے نہیں آپ پر… میڈم تو ہم موٹی مس صوفیہ کو بلاتے تھے ان کے وسیع وعریض سراپے کی وجہ سے جو دادی اماں کا کم اور اپنا خیال زیادہ رکھتی تھیں‘ مطلب کھانے پینے کے حوالے سے اور سسٹر مس رافیہ کو اس کی کرخت شکل اور آواز کی لیے سوٹ کرتا تھا‘ ٹوٹلی ٹپیکل نرس… کیا نام ہے آپ کا؟‘‘ عبدالمنان جو بولنا شروع ہوا تو چپ ہونے کا نام نہ لیا۔
’’دعا… دعا نام ہے اس کا اور یہ میرا وہی پوتا ہے جس کا ذکر کیا تھا میں نے۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر ان دونوں کا تعارف کرایا۔
’’ویسے بری بات ہے دادی اماں… ہمیں تو غیبت کرنے سے منع کرتی ہیں خود مجھے پتا ہے کہ میری تعریف میری پیٹھ پیچھے کن لفظوں میں کرتی ہیں۔‘‘ وہ مصنوعی ناراضی سے بولا۔
’’اچھا اچھا زیادہ مسخریاں نہ کرو… شرمیلی سی بچی ہے‘ زیادہ بے تکلفی اسے نہیں پسند اور تمہاری ماں نے دیکھ لیا تو غصہ کرے گی۔‘‘
’’ارے دادی حضور آپ کی بہو بیگم کی اولاد نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں… انہیں مطمئن کرنے کے لیے اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گیا جیسے ہی خاتون خالہ کے ساتھ بازار سدھاریں… میں بھی یہاں آگیا… چلو بھئی دعا‘ اب ذرا تمہارا کوکنگ ٹیسٹ ہوجائے کہ کچھ آتا جاتا بھی ہے یا سسرال میں جاکر ماں باپ کی تربیت پر انگلی اٹھوانی ہے۔‘‘ اس کی بات پر دعا کی مسکراہٹ بے ساختہ تھی۔
’’بری بات عبدالمنان‘ ہر وقت اور ہر بندے سے شرارت اچھی بات نہیں ہوتی۔‘‘
‘’’شرارت نہیں کررہا دادی جان‘ لڑکی کا سگھڑپن چیک کررہا ہوں… ہاں بھئی فریج میں قیمہ موجود ہے‘ قیمے والا پراٹھا اور آملیٹ ہری مرچوں اور ہرے پیاز والا بنائو ساتھ میں دودھ پتی کا بڑا مگ صرف بیس منٹ میں لے کرائو… جائو جائو… خاتون اول بلکہ خاتون دوئم باہر گئی ہیں اس لیے گھبرانا مت۔‘‘ اسے جھجکتا ہوا دیکھ کر وہ آرام سے بولا۔
’’اب بتائیں دادی جان کہ یہ سارا قصہ کیا ہے؟ اور برہان بھائی جیسے محتاط اور سنجیدہ بندے سے میں ایکسیپٹ نہیں کررہا تھا ایسی بے وقوفی۔‘‘ اس کے جانے کے بعد وہ راز داری سے بولا۔
’’تم بھی اپنی ماں کی زبان بول رہے ہو…‘‘ وہ سنجیدگی سے بولیں۔
’’نہیں حقیقت بیان کررہا ہوں… یہ بہت بڑی اور نازک ذمہ داری ہے… امی ناراض ہیں‘ فروا کو تحفظات ہیں‘ داد ابا کے بھی کچھ ایسے ہی خیالات ہوں گے۔‘‘
’’تم سے کچھ کہا فروا نے…؟‘‘
’’ہاں جی کالز کرکرکے دماغ کھا لیا میرا۔‘‘
’’میں نے اب ذمہ داری لی ہے تو پوری طرح نبھائوں گی بھی… تمہارے دادا ابا سے بھی کہہ دیا ہے کہ اب بچی ہماری ذمے داری ہے تو جلدی سے اچھا رشتہ ڈھونڈ کر اسے اپنے گھر کا کردیں۔‘‘
’’یہ ہوئی ناں مردوں والی… گریٹ دادی ماں…‘‘ وہ خوش ہوکر ان سے لپٹ گیا تھا۔
r…٭…r
بات کو پھیلنے میں دیر نہیں لگی تھی… بابا جان غش کھا کر گر پڑے… اماں جی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔
’’ہائے گڑیا… یہ کیا کر ڈالا… میں مر کیوں نہ گئی یہ دن دیکھنے سے پہلے۔‘‘
’’بابا جان کے اندیشے ٹھیک تھے۔ لڑکیوں کو آزادی دی جائے تو آخر ایک دن باپ بھائیوں کی عزت کے شملے تار تار کردیتی ہیں… اسے کہو بلائے اس کمی کمین کو‘ تاکہ دفع کریں اسے اس کے ساتھ… اس کے بعد اس کم بخت کا ہم سے کوئی رشتہ نہ ہوگا بلکہ یہ آج سے ہمارے لیے اور ہم اس کے لیے مر گئے۔‘‘
یہ وہ بھائی تھا جس نے اسے ساری زندگی پلکوں پر بٹھا کر رکھا تھا… بات بھابی سے ہوتی ہوئی ان کے میکے تک اور پھر پورے گائوں میں پھیل گئی تھی۔ برادری والوں نے سرداری کی پگ بابا جان کے سر سے اتارنے کا فیصلہ کیا تھا کہ جو شخص آج تک ان کے خاندان اور روایتوں سے اس آوارہ لڑکی کی خاطر ٹکراتا آیا تھا آج اس لڑکی نے اپنے کرتوتوں سے اس کی پگڑی کو ہی سر کے بجائے قدموں کی زینت بنا ڈالا تھا… اماں جی کے کہنے پر بھابی اسے لے کر کئی ڈاکٹروں کے پاس گئی تھیں مگر زیادہ وقت گزر چکا تھا تو اس کی جان کو خطرہ تھا… وہ رو رو کر چیخ چیخ کر اپنے ساتھ ہونے والا ظلم بتاتی رہی کہ اسے پامال کرنے کی دھمکی دی گئی تھی اس نے عزت بچانے کے لیے مجبوراً اس نکاح کو قبول کیا تھا مگر یقین کرتا بھی کون… ارسلان کا کیا کم تھا کہ گھر والوں کی بے رخی بھی ستم ڈھانے لگی تھی… باپ‘ بھائی سمیت سارا خاندان ہی منہ چھپا کر شہر آن بسا تھا… ساتویں مہینے اس نے ایک نہایت کمزور سی بچی کو جنم دیا تھا… گھر والوں کو اس کی نکاح والی کہانی پر یقین ہی نہیں تھا کہ اس کے پاس بتانے کو چند الفاظ تھے جبکہ دنیا کا ہر قانون ہر عمل کا ثبوت مانگتا ہے… اس کے اعمال کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔
ان ہی دنوں حنیف کا رشتہ کسی نے بتایا تھا اور بابا جان اس کی کہانی پر یقین نہ کرتے ہوئے بضد تھے کہ اس کی شادی کردی جائے کہ عرصہ ہوا بند موبائل ایک روز اس نے دوبارہ کھولا تو موبائل آن کرنے کے چند گھنٹے بعد ہی اسے ارسلان کی کال موصول ہوئی تھی۔
’’میں اپنی زندگی کے نئے سفر کے آغاز پر نہ کوئی مسئلہ چاہتا ہوں نہ پریشانی… تمہارے ساتھ جو ہوا‘ اس کی قصور وار تم خود تھیں‘ پہلے میرا عمر بھر تمہیں اس رشتے میں باندھے رکھنے کا ارادہ تھا کہ ثبوت کے بغیر کسی کو بتانا بھی چاہو تو کوئی تم پر یقین نہ کرے اور یہی تمہارے اس غرور کی سزا ہوگی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے لگا کہ میرا غصہ جائز صحیح مگر ردعمل کچھ زیادہ شدید تھا… میں تمہیں اس رشتے سے آزاد کرتا ہوں جس کو عمر بھر تمہارے لیے آزار بنانے کا ارادہ رکھتا تھا‘ میں تمہیں اس بندھن سے آزاد کرتا ہوں جو انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے باندھا گیا۔‘‘ ساتھ ہی اس نے وہ تین الفاظ ادا کیے جنہوں نے پل بھر میں ان دونوں کو پھر سے اجنبی کردیا تھا… سیل فون کی اسکرین تاریک ہوتے ہی اس نے خالی خالی نظر سے روتی بلکتی بچی کو دیکھا اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا‘ دو آنسو اپنی بے بسی کے تھے یا بچی کی کسمپرسی کے‘ اس کے برائون بالوں میں کہیں گم ہوگے تھے۔
’’دیکھا‘ نکاح ہوا ہوتا تو اب اس رشتے پر کیوں دم سادھ کے بیٹھی رہتی…‘‘ اس کی مسلسل چپ پر بھابی نے طنزیہ کہا تھا۔ یوں حنیف کو بھی کچھ اس کے حوالے سے سن گن مل گئی تھی… بری عادات میں تو تب بھی مبتلا تھا مگر بہرحال دبئی میں کچھ کام کاج بھی کرتا تھا… سو ان حالات میں یہ رشتہ بہت مناسب تھا۔ حنیف کے ہاتھ میں بابا جان نے ایک بڑی رقم رکھ کر کہا تھا کہ آئندہ وہ اپنی بیوی سمیت انہیں اپنی شکل نہ دکھائے اور اس کی رخصتی یوں ہوئی تھی‘ کیا ہی کسی کا جنازہ… یوں گڑیاں کی زندگی کا باب ان کے گھر میں پڑھنے کے لیے ممنوع ٹھہرا تھا… عمربھر کے لیے۔
r…٭…r
وہ فروا کی چھٹی حس تھی یا دعا کی معصومیت‘ جس نے بے شمار خدشات اس کے دل میں جگا دیے تھے… اگرچہ دعا دادی ماں کے کمرے تک ہی محدود رہتی جب تک گھر کے مرد گھر میں موجود ہوتے وہ باہر تک نہیں نکلتی تھی… پھر بھی… فروا کی ضد تھی کہ اتنی دیر تک جوان جہان لڑکی کا گھر میں رہنا ٹھیک نہیں… اسے جتنی جلدی ہوسکے واپس بھیج دیا جائے اس کی بلا سے کہیں بھی… بس وہاں اس گھر میں نہیں… ہونے والی ساس اس کی ہمنوا تھیں اور اپنے ساس سسر پر دبائو ڈال رہی تھیں کہ اس کا مطالبہ جائز ہے… بھلے وہ اس لڑکی کی مالی مدد کررہے ہیں کرتے رہیں‘ مگر اسے کسی ہوسٹل میں یا دارالامان میں بھجوا دیں… برہان بھی اس صورت حال سے خاصا پریشان تھا کہ بھلے وہ حالات کی سازش کے تحت اس سے جڑا تھا مگر فی الوقت وہ تھی تو اس کی منکوحہ… ان گزرے تین ماہ سے کچھ لطیف سے احساسات اس کی موجودگی کے احساس سے دل میں جنم لیتے محسوس ہوتے تھے… وہ اسے کسی ہوسٹل میں رلنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا جبکہ گھر میں اس کی شادی کی تیاریاں بھی زوروں پر تھیں اور فروا کی ضد بھی دن بدن زور پکڑ رہی تھی۔ ایسے میں عبدالمنان تھا جو اپنی امی کی ہدایات بھلائے دعا کے ساتھ اتنا بے تکلف ہوچکا تھا کہ ان کی ہزار تاکید اور ہدایات کے باوجود بڑے آرام سے دادی کے کمرے میں چلا آتا تھا پہلے پہل تو دعا جیسے ہی دادا یا عبدالمنان کو اندر آتے دیکھتی تو فوراً جائے نماز بچھا لیتی تھی مگر اب زیادہ دیر اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کی سادہ اور بے تکلف باتیں اب اسے بولنے پر تو نہیں البتہ مسکرانے پر مجبور کردیتی تھیں… دعا کا رابطہ اپنی امی سے ہوچکا تھا اور ایک دفعہ برہان کسی بہانے سے اسے لے جاکر اس کی امی سے بھی ملا لایا تھا جس پر دعا کے دل میں بھی اس کے لیے شکر گزاری کا جذبہ پروان چڑھا تھا ورنہ دل تو اسے اسی روز ہی دے چکی تھی جب اس کے نام کا آنچل اپنے سر پر اوڑھا تھا۔
r…٭…r
’’تمہیں آخر اس کے بے ضرر وجود سے تکلیف کیا ہے…؟‘‘ فروا کی بے جا ضد پر وہ ایک دن غصے میں آگیا۔
’’لڑکیاں کبھی بھی بے ضرر نہیں ہوتیں اور وہ بھی خوب صورت لڑکیاں… بس مجھے اس لڑکی کو اس گھر میں نہیں دیکھنا۔‘‘
’’سمجھنے کی کوشش کرو فروا… اس کا تعلق صرف دادی اماں تک محدود ہے… عرصہ بعد ہم دادی اماں کے حوالے سے کسی سے مطمئن ہوئے ہیں… بہت اپروومنٹ آئی ہے اس کی کیئر کے بعد دادی اماں کی کنڈیشن میں… امی بہت کوشش بھی کریں تب بھی پراپر دھیان نہیں دے پاتیں‘ دادی اماں کی دوائوں اور تھراپی پر… ہاں تم اگر ذمہ داری قبول کرتی ہو دادی اماں کی دیکھ بھال کی شادی کے بعد تو میں آج ہی اس کا بندوبست کہیں اور کردیتا ہوں۔‘‘
’’کیا…! میں…؟ میں کروں گی تمہاری اس دادی کی خدمت جن کے ماتھے پر مجھے دیکھتے ہی بل پڑجاتے ہیں‘ ایک بار غلطی سے کیا چلی گئی ان کے کمرے میں‘ باتیں الگ سنائیں میرے لباس پر اور ہزار کام الگ بتادیے… مجھے تو بوڑھے لوگوں کی کمپنی ویسے بھی اریٹیٹ کرتی ہے‘ اوپر سے تمہاری دادی کو میں ہی اسپیشل کیس…‘‘
’’مائنڈ یور لینگویج فروا… کیسے اور کس انداز میں بات کررہی ہو تم دادی اماں کے لیے… بوڑھے لوگ لاکھ تمہیں پسند نہ ہوں مجھ سے ریلیٹڈ لوگوں کا ہی کچھ خیال کرلیا کرو… ویسے بڑے دعوے ہیں تمہارے مجھ سے محبت کے اور اگر اس مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈ سکتیں تو ایک فضول ضد کے پیچھے اپنا اور میرا وقت اور دماغ برباد مت کرو۔‘‘ اس کی بات سے اسے اتنا دکھ پہنچا تھا کہ غصے میں آکر اس نے رابطہ ہی منقطع کردیا تھا امی سے جب وہ ملتا وہ یہی کھاتہ کھولے بیٹھی نظر آتیں… دادا بھی ایک دو بار دبے لفظوں میں کہہ چکے تھے کہ یا اس لڑکی کو ہوسٹل منتقل کردیا جائے یا اس کی فی الفور شادی ہی مسئلے کا حل تھی کیونکہ اس کی وجہ سے گھر کا ماحول خاصا کشیدہ رہنے لگا تھا۔
ایک دادی ہی تھیں جو کہتی تھیں کہ وہ خوب دیکھ بھال کر اس کی شادی کسی اچھی جگہ اور اچھے لڑکے سے کرنے کی خواہاں ہیں کیونکہ وہ گزرے اس عرصہ میں ان کے بہت قریب آچکی تھی اور ان کی خدمت اور اپنی اچھی عادات کی وجہ سے ان کے دل میں گھر کرلیا تھا اس نے… گھر آکر ایک نیا مسئلہ منتظر تھا اس کا… امی نے فوراً ہی اسے بلا بھیجا تھا۔
’’یہ تم نے فروا کو کیوں اس لڑکی کے لیے برا بھلا کہا ہے اور ڈانٹا ہے؟‘‘ وہ تیکھے چتون سے اسے گھور رہی تھیں۔
’’میں… میں نے کب ڈانٹا اسے امی… بس یہی کہا تھا کہ وہ فضول ضد نہ کرے۔‘‘
’’فضول ضد وہ نہیں تم کررہے ہو برہان‘ ایک معمولی لڑکی کی خاطر گھر کا سکون درہم برہم ہو چلا ہے‘ وہ نظر نہیں آرہا تمہیں… بہرحال میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اگلے ہفتے تمہاری شادی کے فنکشنز شروع ہونے سے پہلے یہ لڑکی مجھے اس گھر میں نظر نہ آئے… آج ہی تمہاری آنٹی نے فون کرکے خصوصی تاکید کی ہے کہ فروا نے اس معاملے کو بہت سیریس لے لیا ہے‘ وہ اس لڑکی کو اب مزید گھر میں دیکھنے کے لیے تیار نہیں…‘‘ برہان نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا۔
’’ٹھیک ہے امی…‘‘ اتنا کہہ کر وہ رکا نہیں تھا‘ کمرے سے باہر نکل گیا تھا… اسے تسلی سے بیٹھ کر اس سارے معاملے کا از سر نو جائزہ لے کر اس کا حل نکالنا تھا۔
r…٭…r
اگلا دن خاصی مصروفیت لیے نمودار ہوا تھا۔ برہان کی ہاں کے بعد تسلی ہوتے ہی سلیمہ کا موڈ آج کچھ بہتر تھا تو دعا کو دادی کے کمرے سے اس وقت بلا کر لے گئیں جب سارے مرد دفتر چلے گئے‘ دعا سے ناپسندیدگی ایک طرف‘ اس کی عادات وفطرت کو تو وہ بھی اس عرصہ میں جان ہی گئی تھیں۔ اب بھی جو کچھ شادی کی خریداری کی تھی وہ دعا سے دادی کے کمرے میں رکھوا رہی تھیں کہ دادی بھی دیکھ لیں گی اور وہ دعا کے ساتھ مل کر پیکنگ وغیرہ کروالیں گی اور آج پہلی بار وہ دعا سے ٹھیک طریقے سے بات بھی کررہی تھیں اور دل میں کہیں اندر اندر اس کی کم گوئی اور سگھڑپن سے متاثر بھی ہو رہی تھی کہ ایک بار کی ہدایت کے بعد اس نے بہت اچھے طریقے سے وہ چند سوٹ پیک کردیے تھے۔ دادی کے کہنے پر دعا چائے بھی بنالے آئی اور ابھی وہ دونوں خواتین چائے پینے کی ساتھ ساتھ زیورات کے ڈبے کھولے ان پر بات کر ہی رہی تھیں کہ دادا عبدالمنان کی معیت میں اندر داخل ہوئے۔
’’واہ بھئی… آج لگ رہا ہے کہ خیر سے شادی والا گھر ہے۔‘‘ خوش گوار حیرت میں گھر کر انہوں نے یہاں وہاں بکھرے شادی کے لوازمات دیکھے۔
’’اور بھئی… دعا بیٹی اپنے ہاتھوں کی مزیدار سی چائے تو پلائو۔‘‘ انہوں نے مہارت سے ایک ڈبے کو خوبصورتی سے پیک کرتی دعا سے کہا… اس نے چونک کر سر اٹھایا اور ڈبا وہیں چھوڑ کر سر ہلاتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئی تھی۔
’’آپ دونوں گھر کی بڑی یہاں موجود ہیں… تو بات ہوجائے۔ وقت اور حالات کا تقاضا بھی ہے اور بہو کی خواہش بھی کہ گھر کی بہو کے یہاں آنے سے پہلے اس بچی دعا کا کوئی نہ کوئی بندوبست ہوجائے مگر میں اب تک اس لیے چپ تھا کہ بھلے اس گھر میں اس بچی کو لانے کا ذریعہ برہان بنا تھا مگر یہ بھاری ذمہ داری بالواسطہ مجھ پر آپڑی ہے… میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آج میرے مالک نے ایک خیال میرے ذہن میں ڈالا‘ وسیم میرا پی اے ہے‘ یتیم بچہ ہے، نہایت شریف اور ایمان دار… آج شرماتے گھبراتے ہوئے مجھ سے درخواست کی کہ کوئی شریف اور سمجھدار لڑکی ہو تو وہ شادی کا خواہاں ہے‘ میرے ذہن میں فوراً دعا کا خیال آیا… اسے تو میں نے ابھی کچھ نہیں کہا لیکن اگر ایسا ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہوگا۔‘‘
’’ارے یہ تو بہت خوشی کی خبر سنائی آپ نے ابا جی…! کیوں اماں جی؟‘‘ سلیمہ نے بے ساختہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دادی سے تائید چاہی۔
’’ہاں بیٹا‘ بس اللہ اس کے نصیب اچھے کرے‘ مجھے تو اپنی بچی کی طرح عزیز ہوگئی ہے وہ…‘‘ دادی اماں نجانے کیوں آبدیدہ ہوگئی تھیں۔
’’اور اگر میں کہوں کہ آپ سب دعا کے لیے اتنے ہی پریشان ہیں اور اس کا اچھا سوچنا چاہتے ہیں تو…‘‘ وہ تھوڑا رک کر بولا۔
’’تو دعا کے لیے میرے حوالے سے کیوں نہیں سوچ لیتے… میں اس سے محبت کرتا ہوں نہ کوئی لمبا چوڑا افیئر چلا ہے ہمارا لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ اچھی لڑکی ہے… ایک اچھے گھر کی بہو بننا ڈیزرو کرتی ہے اور ایسا ہوجائے تو بہت اچھی گزرے گی ہماری… ویسے بھی امی…‘‘ اب وہ خصوصاً ان کی طرف مڑا۔
’’جس قسم کی پہلی بہو اس گھر میں آرہی ہے تو اس کی عادات وفطرت کے حوالے سے توازن دعا کو ہی اس گھر کی دوسری بہو بنا کر کیا جاسکتا ہے… ویسے بھی خاندان‘ حسب نسب اور شکل وصورت میں وہ فروا سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔‘‘ وہ ایک کے بعد ایک دلائل دیتا چلا گیا… جن میں وزن بھی تھا اور مضبوطی بھی… سو دادی اماں اور دادا ابو کے تو چہرے خوشی سے کھل گئے تھے مگر سلیمہ کے ماتھے پر پڑی سلوٹیں بتارہی تھیں کہ انہیں یہ بات ہرگز پسند نہیں آئی۔
’’مجھے تو اس بات میں کوئی حرج نہیں لگتا کیونکہ گائوں سے تو تعلق آج سے کئی برس پہلے کا ٹوٹ چکا ہے ہمارا… تمہارے لیے لڑکی تمہاری ماں جب اور جہاں بھی دیکھے گی‘ بہت کچھ دیکھنا‘ جانچنا اور پرکھنا پڑے گا جبکہ دعا سب کی دیکھی بھالی بچی ہے‘ باقی آخری فیصلہ تو تمہاری ماں کا ہی ہونا ہے۔‘‘ دادی اماں نے ایک آس سے کہہ کر گیند بہو کے کورٹ میں ڈال دی۔
’’اماں پہلے ایک شادی سے تو نپٹ لیں خیر سے… پھر ایسے معاملے یوں ہتھیلی پر سرسوں جما کر نہیں کیے جاتے… آپ اس رشتے پر غور کرکے بسم اللہ کریں دعا کے لیے… عبدالمنان کے لیے ابھی بہت ٹائم پڑا ہے، دیکھ لیں گے۔‘‘
’’لیکن اماں جب دعا مجھے پسند ہے اور میرے خیال میں جس قسم کی بہو کی خواہش کا اظہار آپ آج تک کرتی آئی ہیں‘ وہ ان تقاضوں پر پورا بھی اترتی ہے‘ اس رشتے کے بعد آپ کا اور فروا کا اعتراض بھی ختم ہوجائے گا کہ ایک جوان لڑکی بغیر کسی شرعی رشتے کے یہاں کیوں ہے؟ تو پھر تو کسی بات یا اعتراض کا جواز ہی نہیں بنتا۔‘‘
’’دیکھ لیں اماں‘ آپ کہتی ہیں کہ یوں شریف ہے، ایسی خاندانی ہے… کیسے دنوں میں لڑکا پھنسالیا… لڑکیوں کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھتا تھا یہ اور آج کیسے ماں‘ دادا‘ دادی کا لحاظ کیے بغیر اپنی شادی کی بات کررہا ہے۔‘‘
’’بس کرو بہو… کسی بھی بچی پر ایسے تہمت لگانا بری بات ہے اور اپنی شادی کی بات کرنے میں کوئی برائی نہیں… یہ اب ہمارا تمہارا والا زمانہ نہیں… وقت بدل گیا ہے اور اس کے تقاضے بھی ہمارے بچے پھر بھی فرماں بردار اور نیک ہیں… تمہیں رشتہ نہیں کر نا کرو‘ بچی پر الزام تراشی مت کرو۔‘‘ دادا نے تنبیہی انداز میں کہا۔
’’اور میں بھی کہہ رہا ہوں دادا ابا اور اماں کہ میں بھی شادی دعا سے ہی کروں گا…‘‘ دروازے کے باہر کھڑی دعا لرز کر رہ گئی تھی۔
’’بے وقوف لڑکے مت میری مشکلات بڑھائو…‘‘ اس نے دل میں سوچا اور ٹرے واپس کچن میں لے گئی۔
برہان چونکہ دادا ابا کی ہدایت پر ایک کاروباری سودے کے سلسلے میں باہر تھا سو گھر میں پکتی اس کھچڑی سے بے خبر تھا… سلیمہ نے بہت سوچا تھا عبدالمنان کی ضد کے بارے میں اور ٹھنڈے دل سے سوچتے ہوئے انہیں احساس ہوا کہ واقعی اگر ایسا ہوجائے تو سودا مہنگا نہیں تھا‘ دعا ایک خاموش طبع انتہائی سگھڑ اور سنجیدہ طبیعت کی تھی… صرف جہیز میں ہی فروا کا پلڑا بھاری تھا باقی ہر لحاظ سے دعا ہی اس گھر کے لیے بہتر نظر آرہی تھی… انہوں نے عبدالمنان کو بلا کر کہا کہ برہان کی شادی کے بعد وہ اس پر غور کرنے والی ہیں اور یہی بات اپنی ساس سے کرکے انہیں بھی خوش کردیا تھا۔
جیسے ہی دادی اماں نے دعا کو خود سے لپٹا کر بے شمار دعائوں سے نوازا وہ کھٹک گئی… چھت پر جاکر موبائل آن کرکے برہان کا نمبر ملایا… میٹنگ میں ہونے کے سبب اس نے اپنا موبائل بند رکھا تھا‘ اس نے سائرہ سے بھی بات کی… انہوں نے بتایا تھا کہ حنیف کا وہی وطیرہ ہے‘ کامران ہوسٹل میں تھا اور سائرہ اس سے ملنا جاتی تھیں… دعا نے تسلی کراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ برہان کے آتے ہی ان سے ملنے آئے گی۔
r…٭…r
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آنٹی… آپ کیسے ایک بے نام ونشان لڑکی کو میرے مقابل لاسکتی ہیں… دیکھا اب چل گیا ناں اس کا جادو آپ پر بھی جو اسے بہو بنانے پر تل گئیں۔‘‘ فروا نے اپنی خالہ کا خیال سنتے ہی ناگواری سے کہا۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہے فروا‘ تمہیں کیا پڑی ہے کہ ایک بغیر حسب نسب والی لڑکی کو گھر کی بہو بنانے چلی ہو‘ یاد بھی ہے کہ گھر کی بہو نسلوں کی امین ہوتی ہے… نہ اتا نہ پتا‘ نہ آگا پیچھا… چچا میاں کیسے راضی ہوگئے… انہوں نے تو آج تک گھر میں خاندان اور نسل کی پرکھ کے بغیر نوکر نہیں رکھا‘ بہو کیسے بناسکتے ہیں۔‘‘
’’وہ دونوں راضی ہیں‘ سچ تو یہ ہے کہ اس لڑکی کی خدمت اور عادات وکردار نے ہم سب کو پہلے متاثر کیا اور اس کی اچھی عادات اور تربیت اس کے خاندانی ہونے کا پتا دے گئی ہے… برہان نے تو بعد میں تصدیق کی‘ اس کا تعلق ایک شریف اور متمول خاندان سے ہونے پر…‘‘
’’لیکن میں راضی نہیں ہوں آنٹی‘ جس لڑکی کو میں کبھی ملازمہ کا بھی درجہ نہ دوں وہ میرے ساتھ میرے گھر میں میرے برابر کی حیثیت سے رہے… آپ چھوڑیں اسے… میں خود عبدالمنان کا رشتہ تلاش کروں گی اور آنٹی ایک اور بات بھی کرنا تھی مجھے آپ سے… گائوں سے نکلے آپ کو برسوں گزر گئے مگر سوچ اور طور طریقے وہی ہیں… آپ کو نہیں پتا کہ آج کل کپڑے سے لے کر زیور تک مین پسند اسی کی ہونی چاہیے جس نے وہ سب یوز کرنا ہے‘ آپ نے کیا کیا پرانے زمانے کے زیورات اٹھا کر پالش کرانے دے دیے اور میں تو بوتیک سے ڈیزائنر سوٹ لینا اور پہننا پسند کرتی ہوں‘ میں نے تو گھر میں پہننے والے ڈریسز کبھی بازاروں سے نہیں لیے… وہ ڈریسز آپ اپنی دوسری بہو کے لیے رکھ لیں‘ مجھے تو ان کی نہ کوالٹی پسند ہے نہ کلرز… برہان آجائے تو ہمیں کیش دے دیں ہم خود ہی لے آئیں گے سب کچھ۔‘‘
’’یہ سب کچھ ایک طرف مگر ایک چیز ہوتی ہے چھوٹے بڑے کی تمیز اور ان سے بات کرنے کا طریقہ جو یقینا تمہاری ماں نے تمہیں نہیں سکھایا… جو یہاں اس گھر میں بھلے تمہاری پہچان اور فخر ہو، ہمارے یہاں اسے بدتمیزی اور بدتہذیبی سمجھا جاتا ہے… چلتی ہوں۔‘‘ وہ چادر اور پرس سنبھال کر کھڑی ہوئیں تو فروا تو ہونہہ کرنے والے انداز میں بیٹھی رہی ہاں بہن ضرور بوکھلا کر کھڑی ہوگئیں۔
’’تم تو برا ہی مان گئیں‘ پتا تو ہے اس کی عادت کا تمہیں کہ اپنی پسند اور معیار پر کم ہی سمجھوتا کرتی ہے‘ بچی ہے اور تمہاری لاڈلی ہے‘ خود تو کہتی ہو کہ اسی سے تمہارے گھر میں رونق ہوجاتی ہے۔‘‘
’’ہاں کہتی تھی کیونکہ واسطہ اتنا زیادہ نہیں تھا اور شخصیت وک ردار کے تالے تو تعلق کی گہرائی کی کنجیوں سے ہی کھلتے ہیں… جس چیز کو میں اس کا بچپنا سمجھ رہی تھی وہ شاید اس کی خود سری اور بے ادبی ہے۔‘‘ کہہ کر وہ رکی نہیں گھر آگئی تھیں‘ وہ تو بہن کو چہمدرد سمجھ کر ان سے حال احوال کرلیا کرتی تھیں جواب میں فروا اور ان کی بہن دادا ابا‘ دادی اماں اور ان کے گھر کے ماحول کو خوب خوب برا کہتیں‘ آج ان دونوں نے وہی حال ان کا کیا تو انہیں بے حد برا محسوس ہورہا تھا۔
r…٭…r
وہ سب پتھرائے ہوئے میز پر پڑے ان بوسیدہ کاغذات پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے جو اس وقت ان کی بیٹی کی گواہی بن کر سامنے آئے تھے جب کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہ رہا تھا۔ نہ وقت کو پلٹانا نہ اپنی بیٹی کا نصیب بدلنا۔ دادا ابا نے اذیت سے آنکھیں بند کیں جبکہ کئی بے بس آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر دادی اماں کی آنکھوں سے بہہ کر ان کے چہرے کی جھریوں میں جذب ہورہے تھے۔
’’کیا کیا تھا اس معصوم لڑکی نے… صرف میری بدتمیزی پر میرے منہ پر تھپڑ ہی تو مارا تھا‘ میں نے… کیا کیا اس کے ساتھ… اس کی زندگی ہی برباد کردی… پہلے زبردستی نکاح… پھر اس کا ثبوت بھی چھپا لیا اور جب خود زندگی کے نئے راستے پر قدم رکھا تو جیسے چپ چاپ اسے زندگی میں شامل کیا تھا ویسے ہی چپ چاپ اسے نکال باہر کیا… ان بدترین اقدامات کے انجام کو سوچے بغیر میں وہ سب کچھ بھول چکا تھا اور کبھی بھی زندگی بھر یاد نہ رکھ پاتا اگر جو اللہ مجھے اولاد کی خوشی بار بار دے کر واپس نہ لے لیتا… زندگی کے ان دنوں میں جب میاں بیوی ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں اگر میری بیوی اچانک مجھے چھوڑ کر اپنے ابدی سفر پر روانہ نہ ہوجاتی اور اگر میں کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوکر زندگی کی آخری سانسیں نہ گن رہا ہوتا۔ آپ کو میں تلاش تو کرچکا تھا مگر ہمت ہی نہیں کر پارہا تھا کہ آپ لوگوں سے اور اس سے معافی طلب کروں… میرے پاس وقت بہت کم ہے اور میں اس کی معافی کے بغیر مرنا نہیں چاہتا… خدارا مجھے اس سے معافی دلا دیں… معافی دلا دیں تاکہ میں سکون سے مر تو سکوں۔‘‘ کہہ کر وہ نحیف ونزار وجود پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔
r…٭…r
آج انہیں دعا بہت یاد آرہی تھی… دل چاہ رہا تھا اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائیں… چار ماہ ہوگئے تھے اس کے نکاح کو درمیان میں دو بار وہ برہان کے ساتھ بہت مختصر وقت کے لیے آئی تھی اور ان کے سوالات کے تسلی بخش جواب نہ دے پائی تھی۔ ان کے لیے یہ ہی تسلی کافی تھی کہ وہ ان کے اپنوں کے گھر تھی مگر ابھی تک نہ تو اس کا رشتہ ان پر عیاں ہو پایا تھا نہ ہی اس کا نکاح کہ برہان کی بات اس کی خالہ زاد سے تقریباً طے تھی اور عنقریب شادی بھی ہونے والی تھی۔
’’اللہ نہ کرے جو میری بیٹی کا نصیب بھی مجھ جیسا ہو۔‘‘ انہوں نے جھرجھری لے کر دعا کی… دفعتاً دروازے پر ہونے والی زور دار دستک نے انہیں چونکا دیا۔
’’یاالٰہی خیر…‘‘ وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھیں… دروازہ کھول کر جو چہرے انہیں نظر آئے وہ وقت کی دھول میں اس قدر دھندلاچکے تھے کہ ان کے نقوش بھی انہیں یاد نہ تھے مگر ان سے جڑی یادیں بہت ظالم تھیں‘ ان میں سے ایک فرد سے اس کا شدید محبت اور دوسرے سے شدید نفرت کا سلسلہ جڑا تھا۔
’’بابا جان…‘‘ کسی سسکی کی صورت منہ سے نکلا اور وہ ان کی بانہوں میں بے ہوش ہوکر جھول گئی تھیں۔
r…٭…r
’’دعا تمہاری بیٹی ہے…؟‘‘ ان کے منہ سے سرسراتے ہوئے نکلا۔
’آج تو دادی جان بھی بصد اصرار دادا ابا کے ساتھ بیٹی کے گھر آئی تھیں۔ گھنٹوں گزرے وقت کا‘ سارے سودو زیاں کا حساب لگاتے گزر گئے ارو جب سائرہ نے روتے ہوئے بتایا کہ دعا ان کی بیٹی ہے اور حنیف کے ناروا رویے سے تنگ آکر وہ برہان کے ہمراہ اسے بھیجنے پر مجبور ہوئی تھیں۔
’’ہائے میری اپنی بچی…! میری پیاری بیٹی‘ اپنے نانی‘ نانا کے گھر غیروں کی طرح رہنے پر مجبور تھی… میں بھی کہوں کیوں اس سے مجھے اپنوں جیسی خوشبو آتی ہے؟ یہ تمہارے ابا کسی غیر محرم سے بات تک نہ کی آج تک دعا کو دیکھ کر جیسے پگھل سے گئے… اب تو یہ حال ہے کہ دعا کے ہاتھ کی چائے پیے بغیر انہیں چین نہیں آتا۔‘‘ دادی اماں روتے روتے کہہ رہی تھیں۔
’’کفارے کا وقت تو گزر گیا بچے… بس اب اپنے احساس جرم کو اگر ہم لوگ کچھ کرسکتے ہیں تو دعا بیٹی کو ہماری بیٹی بنادو… ہمارے عبدالمنان کی زندگی کا ساتھی بنادو… میرے مالک کا کوئی بھی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا… دعا بیٹی کا ایسے ہمارے گھر آنا طے تھا اور اسی حوالے سے ہمیں ملنا بھی۔‘‘ باباجان نے کہا تو سائرہ کچھ لمحے کے لیے بالکل چپ ہوگئیں۔
’’دعا کا آپ کے گھر کی بہو بننا بھی ازل سے طے تھا باباجان… مگر…‘‘ وہ کہہ کر رک گئیں‘ دادا ابا اور دادی اماں کے چہرے خوشی سے کھل گئے۔
’’مگر… مگر کیا بیٹا‘ تمہیں کوئی اندیشہ ہے؟ کوئی شبہ ہے تو ابھی بتائو‘ ہم ابھی دور کیے دیتے ہیں‘ ہمارا سب کچھ ہمارے بچوں کا ہی ہے۔‘‘ بابا جان کے لہجے میں آج وہی برسوں پہلے والی محبت اور شفقت تھی جو عرصہ ہوا سائرہ کے لیے مفقود ہوچکی تھی۔
’’اس میں میرا یا برہان کا قطعاً ارادہ یا مرضی نہیں تھی مگر حالات ایسے بن گئے تھے کہ…‘‘ اس کے بعد جیسے جیسے سائرہ بتاتی چلی گئیں ان کے منہ حیرت سے کھلتے چلے گئے تھے۔
r…٭…r
اس بار اسے تین دن سے زیادہ لگ گئے تھے اور گھر واپس آتے آتے رات ہوگئی تھی۔ گھر میں کوئی دکھائی نہ دیا‘ بریف کیس رکھ کر ہاتھ منہ دھو کر فریش ہوکر دادی اماں کے کمرے میں آگیا۔ ایک عرصہ بعد گھر کے سب لوگ بشمول دعا کے وہیں تھے… خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا جارہا تھا۔ دادا ابا نے بڑے خوش گوار انداز میں اسے کھانے میں شامل ہونے کو کہا۔ اس نے خاصی حیرت سے دستر خوان پر امی کے بالکل سامنے بیٹھی دعا کو دیکھا۔
’’یہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر کیسے پانی پی سکتے ہیں؟‘‘ دل ہی دل میں سوچتے ہوئے اس نے بریانی کی پلیٹ آگے کھسکائی۔
’’جلدی سے کھانا کھائو ڈیئر برادر… اس گھر کی تاریخ کے سب سے بڑے سرپرائز تمہارے منتظر ہیں… کھانے کے ساتھ اس لیے نہیں بتا رہے کہ زیادہ کھا لینے سے بدہضمی کا خطرہ ہوتا ہے۔‘‘
’’خاموش رہو عبدالمنان… کتنی بار کہا ہے کہ کھانے کے وقت نہیں بولتے۔‘‘ دادی کی تنبیہہ پر دعا نے بے ساختہ اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی… برہان نے ایک نظر نہ آنے کیمسٹری دعا اور عبدالمنان کے درمیان محسوس کی تو اس کا موڈ اچھا خاصا برہم ہوگیا۔
’’ہونہہ‘ میں جو اصل محرم ہوں… اس سے بات بھی دو فٹ دور ہوکر کرتی ہے‘ باقی ہر کسی سے گہری دوستی ہے۔‘‘ اس نے خوامخواہ مسکراتی دعا کو گھورا اور پلیٹ دور کردی… کھانے کے بعد امی کا دعا کو پیار سے چائے بنا لانے کا کہنا اس کی حیرت میں مزید اضافہ کر گیا‘ دعا چائے بنا کر لے آئی اور سب کو دی پھر مزے سے دادی اماں کے پاس ان کی رضائی میں دبک کر بیٹھ گئی۔ برہان نے ایک بار پھر اسے کڑی نظروں سے دیکھا۔
’’کل تمہاری خالہ آئی تھیں فروا کو ساتھ لے کر… دعا کی موجودگی کا بہت ایشو بنایا اور واضح طور پر کہا کہ اگر دعا یہاں رہی تو وہ لوگ اس رشتے پر قطعاً راضی نہیں ہیں۔‘‘ اور واقعی یہ بات بالکل ٹھیک تھی… خالہ اور فروا نے واقعی تماشا لگایا تھا اور جب سلیمہ نے ساری بات بتائی کہ دعا کا باپ ارسلان آکر اپنے سارے گناہ قبول کرچکا ہے کہ گڑیا اس سارے قصے میں بے قصور تھی‘ ان کا واقعی نکاح ہوا تھا اور دعا سائرہ عرف گڑیا کی بیٹی تھی تو خالہ اس بات سے مزید بپھر گئی تھیں۔ اب تو وہ سائرہ کے ساتھ ساتھ دعا کے کردار کو بھی زیر بحث لے آئی تھیں۔ تب سلیمہ ہی بول اٹھی تھیں۔
’’دعا اس گھر کی بیٹی ہے سلطانہ‘ نہ ہی ہوتی تب بھی کسی لڑکی کی کردار کشی کی میں تمہیں اجازت ہرگز نہیں دے سکتی تھی۔ تمہیں اپنی بیٹی کا اس سے اچھا اور بہتر رشتہ مل رہا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور ہاں دعا کو اس گھر کی بہو بنانے کا بھی ہم فیصلہ کرچکے ہیں۔‘‘ بہت ٹھنڈے لہجے میں انہوں نے کہا تو خالہ اور فروا کے منہ حیرت سے کھلے رہ گئے تھے۔ تاہم ہوش آنے پر وہ دونوں خوب بکتی جھکتی سارے رشتے ناتے توڑ کر چلتی بنی تھیں۔
’’اب تم فروا کو منا سکتے ہو تو ٹھیک ورنہ میں پھر تمہارا کچھ اور سوچتی ہوں کیونکہ میں تمہاری اور عبدالمنان کی شادی اسی تاریخ پر ہی کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں جو شروع سے طے تھی۔ دعا کی منگنی ہم نے عبدالمنان کی خواہش پر اس کے ساتھ کردی ہے۔‘‘ امی کے کہنے پر اس کے چہرے پر زلزلے کے آثار نمودار ہوئے‘ وہ بیٹھے سے کھڑا ہوگیا‘ ایک نظر شرارت سے مسکراتے عبدالمان کو اور پھر اس پر ڈالی جو منظر سے غائب ہوکر رضائی میں محصور تھی۔
’’یہ…! یہ کیسے ممکن ہے امی؟‘‘ اضطراری کیفیت میں اس نے کہا۔
’’کیوں…؟ اب تمہیں بھی اعتراض ہونے لگا فروا کی طرح۔‘‘ امی کا لہجہ تیکھا ہوا۔ دادا ابا اور دادی اماں خاموش بیٹھے ان دونوں ماں بیٹے کے مکالمات سن رہے تھے۔
’’نہیں اعتراض نہیں ہے لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور آپ پہلے دعا سے تو پوچھ لیں‘ وہ بھی تو راضی ہو۔‘‘
’’تمہارا کیا خیال ہے کہ نہ پوچھا ہوگا‘ بچی کی رضا مندی ہی معلوم کی تھی میں نے سب سے پہلے۔‘‘
’’وہ کیسے ہاں کرسکتی ہے عبدالمنان یا کسی کے بھی رشتے کے لیے…‘‘ وہ ایک دم چلایا‘ سارا ضبط اسی پل رخصت ہوتا محسوس ہوا تھا۔
’’تحمل سے یار… کیا ہوگیا ہے؟ کیوں پریشان ہورہے ہو… کوئی مسئلہ ہے تو بتائو‘ کس وجہ سے منع کررہے ہو تم۔‘‘ دادا ابا کو اس پر ترس آیا‘ اس پل وہ ہارنے کے سے انداز میں دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر بیٹھ گیا۔
’’کیونکہ دعا میری منکوحہ ہے دادا ابا… وہ کیسے کسی اور سے منگنی کرسکتی ہے…؟‘‘
’’وہ مارا… دیکھا، اب آئی ناں بلی تھیلے سے باہر… میں کہہ رہا تھا ناں آپ سب سے‘ آپ لوگ مان ہی نہیں رہے تھے۔‘‘ عبدالمنان خوشی سے اچھل کر ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولا۔ برہان جو اعصابی طور پر بہت تھک چکا تھا نے سر اٹھا کر عبدالمنان کو دیکھنے لگا‘ عبدالمنان آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آیا۔
’’اور ہوا یوں کہ آپ جیسے بندے کا کسی لڑکی کو لے کر آنا ہمارے لیے اچنبھے کا باعث تھا… فروا کے لیے ہر ضروری کام پس پشت ڈال دینے والا میرے بھائی، دعا کے معاملے میں کچھ بھی سننے کو تیار نہ تھا‘ دو بار دادا ابا کے لائے گئے رشتے سے آپ کا انکار اور فروا سے دعا کے حوالے سے بدمزگی مجھے ٹھٹکا گئی تھی اور آپ کے سامان کی تھوڑی سی تلاشی کے بعد مجھے ثبوت مل گیا تو میں نے بہت ادب سے لاکر سب کے سامنے پیش کردیا… تھوڑی سی پس وپیش کے بعد دعا بھی مان گئی اور آپ سے اگلوانے کے لیے یہ سارا ڈراما میں نے تیار کیا… فروا میڈم تو ویسے ہی میدان چھوڑ کر بھاگ چکی ہیں‘ آگے کی ساری کہانی آپ کے سامنے ہے۔‘‘ برہان نے دزدیدہ نظروں سے ماں کو دیکھا جو خشمگین نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔
’’آپ کیوں غصے میں دیکھ رہی ہیں مجھے… بتائی تو ہے جس قسم کی صورت حال تھی۔‘‘ وہ گڑبڑا کر بولا۔
’’ہاں تھی مگر تمہارا فرض نہیں بنتا تھا کہ سب کچھ آکر ہمیں بتاتے۔‘‘
’’اور ایک اور اہم اور ضروری بات جو اس سارے قصے میں سب سے اہم ہے۔ بھلے ہی جو تم نے اس وقت کیا وہ تمہاری تربیت اور خاندانی نجابت کا تقاضا تھا مگر تم عمر بھر اس رشتے کو ان چاہا رشتہ سمجھ کر برتو یہ ہمیں قبول نہیں… ابھی بھی وقت ہے اور بات بھی گھر میں ہے… تم دعا سے علیحدگی اختیار کرسکتے ہو تاکہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے شادی کرسکو اور ہم اپنی بچی کا جہاں چاہیں رشتہ کرسکیں تاکہ وہ بھی ان چاہے اور زبردستی مسلط ہونے کے خوف میں عمر بھر زندگی نہ گزارے۔‘‘ دادی اماں کا لہجہ اور انداز بہت سنجیدہ تھا اور اب تو وہ بھی ان کے ساتھ جڑی بیٹھی بالکل سنجیدہ تھی۔
’’نہیں دادی اماں… آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں… آپ تو خود کہتی ہیں کہ ہماری زندگی میں جو بھی ہوتا ہے من جانب اللہ ہوتا ہے۔ حالات وواقعات کی ترتیب جو بھی ہو اور اللہ کے کام بھلا کب حکمت سے خالی ہوتے ہیں اور یہ رشتہ تو ویسے بھی میں نے ایک معصوم لڑکی کی زندگی خراب ہونے سے بچانے کے لیے کیا تھا اس سے میں کیسے انحراف کرسکتا ہوں۔‘‘ دعا کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے… وہ اس شخص کی اچھائی کی معترف ہوگئی تھی۔
’’مجھے دعا کے ساتھ پر کوئی اعتراض نہیں‘ میں فروا سے کیا گیا کمٹ منٹ توڑنا نہیں چاہتا تھا نہ ہی دعا کو… بس اسی کشمکش میں آپ سب کو اپنا فیصلہ سنا نہ سکا نہ ہی کوئی حتمی فیصلہ کرسکا اور کسی کے بھلے کے لیے جو کام کیا جائے اس میں اللہ کی مدد بھی شامل ہوجاتی ہے پھر اللہ ہی راستے کھولتا اور آسان کرتا چلا جاتا ہے… مجھے فروا سے شرمندہ نہیں ہونا پڑا… اس نے بغیر وجہ کے اپنے راستے خود ہی الگ کرلیے… تو اس میں ہم سب کیا کرسکتے ہیں۔‘‘ اس کا انداز ایسا ہلکا پھلکا تھا جیسے منوں بوجھ سر سے اتر گیا ہو۔
’’جا میرا بچہ… دعا کو بھی ساتھ لے جائو اور اپنی پھپو کو لے آئو… عرصہ ہوا میکے کا سکھ دیکھے میری بچی کو… اس کا دل یہیں اٹکا ہوگا… کہہ رہی تھی اماں جلد ہی کوئی اچھی خبر سنائیے گا۔ میری بچی نے بہت کم عمری سے ہی صبر کرنا سیکھ لیا تھا۔‘‘ دادی اماں نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا تو برہان سر ہلاتا ہوا اٹھ گیا۔
’’آئو دعا۔‘‘ سنجیدگی سے کہتا ہوا وہ باہر آگیا تھا۔
r…٭…r
باہر آکر اس نے ساتھ چلتی دعا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما۔
’’اب تو تمہیں میری اس جسارت پر غصہ نہیں آنا چاہیے‘ اب تو دنیا کی سامنے تمہارا نام اپنے نام سے جڑے ہونے کا باقاعدہ اعتراف کرلیا ہے۔‘‘ اس کے کترائے ہوئے انداز کو دیکھ کر وہ مسکرا کر بولا۔ ’’وہ دیکھو چاند بھی ہمیں دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔‘‘ سڑک پر آکر اس نے دعا سے مخاطب ہوکر کہا تو اس نے بھی سر اٹھا کر روشن چاند کو دیکھا پھر کچھ سوچ کر مسکرادی تھی… چاند نے اپنی روشنی ایک دم تیز کردی تھی اور ان کے ساتھ ہی مسکرا دیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close