Hijaab Apr 19

لو برڈ

سویرا فلک

صبح سے ہی اس کا مزاج برہم تھا۔ وجہ وہی ازلی تھی۔ وہ ہر چھوٹی بڑی خوشی کو انجوائے کرنے والی، ہر نئے پل سے امیدیں باندھنے والی اور سامنے والے سے اپنی توقعات پر پورا اترنے کی خواہش رکھنے والی عادت تھی اور ایسے لوگوں کے ساتھ جب بھی ان کی توقعات کے برعکس ہوتا ہے تو نتیجہ ہمیشہ دل ٹوٹنے اور آزردگی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ جب کہ چھ سال گزر جانے کے بعد وہ جبران کے مزاج، رویے، عادت اور پسند ناپسند سے اچھی طرح واقف ہوچکی تھی مگر اپنی عادت سے مجبور تھی تو اس بار بھی حماقت کر بیٹھی کہ جبران کو ان کی شادی کی سالگرہ یاد رہے گی اور رات بارہ بج کر پانچ منٹ پر وہ اسے بانہوں کے حصار میں لے کر وش کرے گا مگر وہ تو روز مرہ کے برعکس رات گیارہ بجے ہی نیند کی آغوش میں جا سمایا اور پھر صبح کی پھوٹتی کرنوں نے نئے دن کے آغاز کی نوید دی تو وہ پھر خوش فہمی میں مبتلا ہوئی کہ شاید آج وہ آفس ہی نہ جائے اور سارا وقت اس کے ساتھ گزارنے کی خواہش کا اظہار کرے یا کم از کم آفس سے جلد لوٹ آئے تو اس کو شاپنگ کرائے، من پسند گفٹ دلائے پھر سی ویو پر موجود خوب صورت ہوٹل میں کینڈل لائٹ ڈنر کروائے اور واپسی پر اس کے ہاتھوں میں مہکتے گجرے پہنا کر، اس کے نرم و نازک ہاتھ تھام کر اسے اپنی زندگی کا خطاب دے مگر ہائے رے دل کے ارمان… وہ لیٹ ہورہا تھا تو ناشتہ کیے بغیر ہی آفس کے لیے نکل گیا تھا۔
اس نے دل کے بہلانے کو ایف ایم آن کیا مگر ہر طرف دھوم دھڑکے سے بھرپور گانے چل رہے تھے کیونکہ شادیوں کا سیزن تھا اور اس نے اداسی کا ہفتہ منانا تھا تو اپنے اداس مزاج کی طرح غمگین گانوں کی تلاش میں اس نے باری باری سارے چینل ٹیون کر ڈالے مگر نتیجہ لاحاصل ہی رہا۔ اس نے منہ بناتے ہوئے ایف ایم آف کردیا۔ پھر منہ بسورتی کچن کی طرف آئی اور چائے کا پانی رکھ دیا کیونکہ بیزاری کی وجہ سے سر میں درد ہونے لگا تھا۔ چائے پکنے تک وہ منہ دھو آئی۔ چائے کپ میں نکالی۔ ٹرے سجا کر وہ ٹیرس پر چلی آئی۔ موسم خوشگوار تھا۔ موسم بہار کی آمد کا پتہ دیتی من موجی ہوائیں اس کی زلفوں سے چھیڑ چھاڑ میں مصروف تھیں، وہ سوکھے توس کو نوالہ بہ نوالہ چائے کے ہمراہ حلق میں اتارنے لگی۔ چائے اندر گئی اور ہوا کے نرم ملائم جھونکوں نے اس کے چہرے کو چھوا تو اس کا موڈ خوشگوار ہوگیا اور وہ ٹیرس سے نظر آنے والے نظاروں میں مگن ہوگئی۔ وہ جہاں رہتی تھی، ان اپارٹمنٹس کا اندرونی احاطہ خاصا وسیع تھا۔ پارکنگ کے لیے علیحدہ جب کہ بچوں اور فیملیز کے لیے چھوٹا سا پارک علیحدہ بنا تھا۔ جب کہ دائیں بائیں اور سامنے فلیٹس میں بنی بالکونیوں میں بھی مختلف مناظر زندگی کے رواں دواں ہونے کا پتہ دیتے تھے۔ کہیں کوئی عورت دھلے ہوئے کپڑے رسی پر پھیلانے میں مصروف تھی تو کہیں اسکول نہ جانے والے چھوٹے بچے بالکونی میں ٹنگے اس کی طرح دل بہلانے اور ٹائم پاس کرنے میں مصروف تھے۔
یوں ہی بالکونیوں پر نظر دوڑاتے ہوئے اس کی نظر سارہ کی بالکونی پر پڑی۔ سارہ سے اس کی دوستی چند دن قبل پارک میں واک کرتے ہوئے ہوئی تھی۔ وہ تین ماہ پہلے شادی ہوکر یہاں آئی تھی۔ سارہ کی نظر البتہ اس پر نہیں پڑی تھی۔ وہ خوب بنی سنوری کسی کو ہاتھ ہلا رہی تھی۔ اس نے نظریں دوڑائیں تو حسب توقع کاشف، سارہ کا شوہر پارکنگ سے گاڑی نکال کر اپنے ٹیرس کے رخ پر کھڑی کرکے، کھڑکی سے اپنا چہرہ نکال کر اپنی وائف کو جواباً اللہ حافظ کہہ رہا تھا اور پھر شاید فلائنگ کس کا اشارہ بھی کیا تھا کیونکہ سارہ نے پہلے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا اور پھر شرما کر چہرہ ہتھیلیوں سے ڈھانپ لیا تھا اور بھاگتی ہوئی واپسی اندر چلی گئی تھی۔ کاشف بھی اسٹیئرنگ گھماتا ہوا گاڑی اپارٹمنٹ سے باہر لے گیا تھا۔ ’’لوبرڈ‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا اور وہ گہری سانس لے کر خالی کپ اور خالی دل لیے ٹیرس سے واپس اندر کمرے میں آگئی۔ اس نے کپ سامنے ڈائننگ ٹیبل پر رکھا اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ٹیبل پر ہی رکھا ہوا ریمورٹ اٹھا کر سامنے دیوار پر لگا ایل ای ڈی آن کردیا۔ نیوز چینل پر نیوز کاسٹر خبریں پڑھ رہی تھی۔ اس نے ریمورٹ واپس ٹیبل پر رکھ کر صوفے کی پشت سے سر ٹکایا نگاہیں اسکرین پر جمادیں۔ وہ بہ غور نیوز اینکر کے ہلتے ہونٹ اور چہرے کی حرکات و سکنات دیکھ رہی تھی مگر وہ کیا کہہ رہی ہے، اس طرف اس کا بالکل بھی دھیان نہیں تھا کیونکہ اس کے کانوں میں سارہ کے چند ہفتے پہلے ادا کیے جملے بازگشت کررہے تھے۔
’’میں کیا بتائوں رابیل۔ سچ میں کبھی کبھی تو مجھے الجھن ہی ہونے لگتی ہے۔ ذرا جو ان کا دھیان مجھ سے ہٹا ہو۔ حالانکہ صبح اٹھتے ہی تیار ہونا تو عجیب ہی لگتا ہے۔ مگر یہ کہتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ پورا دن میرے دھیان میں، میرے تصور میں صرف میری بیوی رہے۔ اب آفس میں تو خواتین تیاری سے ہی آتی ہیں، اگر تمہارا تصور ان کے مقابلے میں باندھوں گا تو کمزور پڑجائے گا ناں۔ بس اسی لیے کہتا ہوں کہ صبح میرے آفس جانے سے پہلے ضرور تیار ہوا کرو اور پھر سارا دن فون کرکے الگ تعریفیں کرتے ہیں کہ تمہارا تصور بے چین کیے ہوئے ہے کب گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھیں اور میں آجائوں اور معلوم ہے اگر کبھی میں کہہ دوں کہ میں فلاں کام کررہی تھی تو ناراض ہوجاتے ہیں کہ صرف کھانا تمہارے ہاتھ کا کھاتا ہوں کہ تمہارے ہاتھوں جیسی لذت کہیں ہو ہی نہیں سکتی، مگر تم ہو میرے دل کی رانی۔ خبردار جو کسی کام کو ہاتھ لگایا وہ تو مجھے ہی ماسیوں کا کام پسند نہیں وگرنہ میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ ماسی رکھو تم آرام کرو۔‘‘ اور پھر رابیل کی آنکھوں کے سامنے سارہ کا شرماتا لجاتا وجود اور محبت و چاہت کے رنگوں سے سجا چہرہ آگیا پھر اس نے زیرلب انہی جملوں کو دہرانا شروع کردیا جو اس نے اس دن سارہ کی ان باتوں کا سن کر کہے تھے۔
’’واقعی سارہ تم بہت خوش قسمت ہو کہ تمہیں اتنا چاہنے اور سراہنے والا شوہر ملا کیونکہ عورت کو جب چاہا جاتا ہے تو وہ کلی کی مانند نوخیز دوشیزہ بن جاتی ہے مگر جب سراہا جاتا ہے، اعتراف اور اظہار کیا جاتا ہے تو وہ مکمل پھول بن جاتی ہے۔کھلا ہوا تر و تازہ، اعتماد سے اپنی بہار دکھاتا، فخر سے اپنے رنگ و بو کی پذیرائی سمیٹتا وہ کئی چہروں پر خوشی لانے کا باعث بن جاتا ہے۔ مگر پتہ نہیں کیوں اکثر مرد عورت کی اس عادت کو سمجھتے ہی نہیں۔ خصوصاً شوہر، وہ کہتے ہیں یہ بچکانہ اور افسانوی باتیں چھوڑ دو۔ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ یہ عورت کی فطرت ہے۔ بدصورت سے بدصورت عورت بھی اپنے شوہر سے محبت بھرے بولوں کا اقرار چاہتی ہے‘ اپنی پذیرائی چاہتی ہے‘ خود کو اپنے شوہر کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو کیا حرج ہے اگر شوہر بیوی کی دلجوئی کے لیے، اس کی ذرا سی تعریف کردیا کرے، کبھی اس کی صورت کی، کبھی سیرت کی، کبھی اس کے ہاتھ کے پکے کھانوں کی، کبھی اس کے ہاتھوں سے کی گئی سجاوٹ کی‘ کیا ہے جو کبھی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہہ دیا کرے کہ تم میری زندگی ہو۔ عورت تو ویسے ہی مرد کے نکاح میں آکر اپنی زندگی جینا چھوڑ دیتی ہے۔ وہ تن من دھن اپنی محبت اپنا آپ شوہر کو سونپ دیتی ہے۔ وہ بھی خوشی خوشی مگر پتا نہیں کیوں شوہر اسے اپنا نہیں سمجھتے۔‘‘
’’بس رابیل ہر شخص کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے تم حساس ہو اس لیے زیادہ فیل کرتی ہو یہ سب۔ بہت سے مرد لفظوں سے اظہار نہیں کرتے، جیسے جبران بھائی مگر وہ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہوتے ہیں۔ جبران بھائی بھی اپنی جانب سے تمہیں اچھی زندگی مہیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں یہ کوئی کم تو نہیں۔ بہت سے مرد تو اپنی ذمہ داریوں سے بھی غافل رہتے ہیں۔ ان بیویوں کا سوچو جن کے شوہر نہ ان کی محبت کا دم بھرتے ہیں نہ ان کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ ایسی عورتیں تو دوہرے عذاب میں مبتلا رہتی ہیں۔‘‘ سارہ نے رسان سے کہا تھا۔
’’شاید تم صحیح کہہ رہی ہو مگر کچھ تقاضے فطری اور جبلی ہوتے ہیں۔ ان پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا مگر عجیب بات ہے کہ انسان ہی انسان کی فطرت کو نہیں سمجھتا۔‘‘ رابیل نہ چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر بیٹھی تو سارہ نے موضوع ہی بدل دیا تھا۔
رابیل سارا اور اپنی زندگی کا موازنہ کرتی مسلسل الجھ رہی تھی۔
٭…٭…٭
بہت دنوں کے حبس اور گرمی کے بعد آج صبح سے ہی موسم خوشگوار تھا۔ کچھ اس کی اپنی طبیعت بھی فریش تھی تو اتوار ہونے کے باوجود وہ جلدی اٹھ گئی اور یہ سوچ کر کچن میں آکر آلو ابالنے رکھے کہ موسم اچھا ہے اور جبران بھی گھر پر ہے تو آلو کے پراٹھے بنالے گی۔ روز انڈا پراٹھا کھا کر ویسے بھی دل بھر جاتا ہے۔ آٹا تو وہ رات میں ہی گوندھ کر رکھ دیا کرتی تھی۔ آلو ابلنے تک اس نے دھنیا، پودینہ کی پتیاں چن کر مہین زیرہ اور لیموں ڈال کر چٹنی بھی پیس لی تھی۔ آلو ابل گئے تو چھلکا اتار کر کانٹے سے میش کرکے مصالحہ ملانے ہی والی تھی کہ جبران بھی اٹھ کر چلا آیا۔
’’کیا بات ہے آج صبح صبح کون سا معرکہ سر کرنے چلی ہیں ہماری بیگم صاحبہ۔‘‘
’’ارے آپ آٹھ گئے؟‘‘ وہ چونکی کیونکہ ابھی صبح کے ساڑھے نو بجے تھے، جب کہ جبران چھٹی والے دن گیارہ بجے تک اٹھتا تھا۔
’’بس آپ کے مزیدار ناشتے کی خوشبو نے سونے ہی نہیں دیا۔‘‘ جبران نے شرارت سے اس کی ستواں ناک دبائی۔
’’اچھا جی تو یہ بات ہے۔ چلیں آپ منہ ہاتھ دھوکر ٹیبل پر آئیں میں گرما گرم پراٹھے اور چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ رابیل نے پیڑے بناتے ہوئے کہا تو جبران نے جھک کر ایک شوخ جسارت کر ڈالی۔
’’جیو میری جان آج تو خوب مزے کروا رہی ہو تم۔ بیوی ہو تو ایسی۔‘‘ وہ ترنگ سے کہتا ہوا کچن سے نکل گیا اور وہ بلش ہوکر سوچنے لگی۔ کیا واقعی مرد کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہوکر جاتا ہے یا پھر موسم موڈ کو بدل دیتا ہے۔
٭…٭…٭
’’کیا ہوا طبیعت زیادہ خراب ہورہی ہے تو امی کے گھر چلتے ہیں؟‘‘ جبران نے آنکھیں بند کیے لیٹی رابیل کے ماتھے کو چھو کر پوچھا۔ رابیل امید سے تھی اور اس کا آٹھوں مہینہ تھا۔ رات سے لائٹ نہیں تھی اور اب صبح کے دس بج رہے تھے جب کہ مئی کے مہینے کی وجہ سے گرمی اپنے جوبن پر تھی اور شدید گرمی کے باعث اب رابیل کی طبیعت بگڑ رہی تھی۔ اسی لیے جبران آفس بھی نہیں گیا تھا۔
’’نہیں جبران… اللہ کے لیے، نہ میں اپنی امی کے گھر جاسکتی ہوں نہ آپ کی امی کے آپ حال دیکھ رہے ہیں میرا۔ رحم کریں مجھ پر اور مرنے کے قریب ہوجائوں گی یہاں سے ہلی تو…‘‘ وہ چڑچڑی ہورہی تھی۔
’’بس تم اب فضول باتیں شروع کردو۔ یار میں تمہاری مشکل حل کرنے کی تدبیر کررہا ہوں، نہیں مل رہا۔‘‘ اب جبران کا بھی موڈ بگڑنے لگا۔ وہ خود رات بھر کا جگا ہوا تھا۔ اپنے طور پر اس نے رابیل کا ہر ممکن خیال رکھنے کی بھرپور کوشش بھی کی تھی۔
’’آپ کو میرا خیال ہوتا تو یو پی ایس نہ لگوا لیتے، میں کون سا اے سی کے لیے کہہ رہی تھی مگر آپ کو تو میری ضرورتیں بھی فرمائشیں لگتی ہیں۔‘‘ اس کا لہجہ ہنوز بگڑا ہوا تھا اب وہ روہانسی بھی ہونے لگی تھی۔
’’یار پلیز سمجھنے کی کوشش کرو۔ مجھے اچھا تھوڑی لگ رہا ہے تمہیں یوں تکلیف میں دیکھ کر مگر ابھی سب سے اہم ضرورت تمہاری ڈلیوری کا خرچہ ہے بتائو کون دیتا ہے قرضہ… پھر آگے تو اخراجات اور بڑھیں گے، قرضہ لے بھی لیا تو واپس کیسے کریں گے اور ابھی بھی ڈاکٹر کی فیس، دوائیں، ٹیسٹ، تمہاری غذا اور پھر ڈاکٹر نے آپریشن کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ اچھا ایسا کرو اب ٹینشن مت لو میں تمہیں سارہ کے گھر چھوڑ دیتا ہوں پلیز مان جائو۔ اس کے یہاں یو پی ایس بھی ہے۔ تمہاری اچھی دوست بھی ہے دل بھی بہل جائے گا اور اس کے گھر کوئی ہوتا بھی نہیں اس وقت۔ ان کی طرف تو لائٹ جاتی ہی نہیں اور چلی بھی جائے تو یو پی ایس تو ہے۔ پلیز یار تھوڑے دن کے لیے تعاون کرلو ہمارے منے کی خاطر۔‘‘ جبران نے معصوم شکل بناکر دیوار پر لگی خوب صورت سے بچے کی تصویر کی طرف اشارہ کیا تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرادی اور پھر جبران اسے سارہ کے گھر چھوڑ کر خود ضروری کام کا کہہ کر چلا گیا تھا۔
٭…٭…٭
سارہ نے حسب توقع اس کی دیکھ بھال میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اسے جوس بناکر دیا، سیب کاٹ کر زبردستی کھلایا اور اِدھر اُدھر کی باتیں کیں تو وہ بہل گئی۔ ساتھ ہی وہ خود پر اتنی توجہ دینے پر شرمندہ ہورہی تھی۔
’’سوری سارہ بلاوجہ تمہیں مصروف کردیا اور تم بھی بس کردو میری آئو بھگت شرم آرہی ہے قسم سے۔‘‘
’’ارے دوست ہوں تمہاری اور سچ مانو اب تو بہن لگنے لگی ہو تم، یہ بتائو کہ اب طبیعت بہتر ہے تمہاری۔ شاور لے کر بھی کافی سکون ملا ہوگا؟‘‘ سارہ کے لہجے میں خلوص اور چاشنی بھری ہوئی تھی۔
’’ہاں اب کافی بہتر فیل کررہی ہوں، اصل میں پنکھا بھی تو ہے نا ورنہ ادھر شاور لو ادھر حبس اور گرمی سے پسینے سے نہا جائو۔ ویسے سچ کہوں آج کل طبیعت میں بے چینی بہت بڑھنے لگی ہے۔ سچ کہتی ہیں بڑی بوڑھیاں۔ ماں بننا آسان کام نہیں۔‘‘
’’ظاہر ہے ایسے تو ماں کے قدموں تلے جنت نہیں رکھ دی اللہ نے مگر سوچو اس تکلیف کے بدلے کتنی بڑی راحت اور خوشی ملنے والی ہے تمہیں۔‘‘ سارہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی تھی۔ وہ خود اب تک اس خوشی سے محروم تھی۔
’’مایوس مت ہو۔ اللہ کرم کرنے والا ہے اور ابھی فقط آٹھ ماہ تو ہوئے ہیں تمہاری شادی کو کسی اچھی لیڈی ڈاکٹر کو دکھائو۔‘‘ رابیل نے اس کے ہاتھ تھام کر تسلی دی تو وہ نم آنکھوں سے مسکرادی۔
٭…٭…٭
رابیل پندرہ دن امی کے گھر گزار کر واپس آئی تھی۔ موسم اور اس کی طبیعت بھی اب کافی بہتر تھے۔ اس کا نواں مہینہ شروع ہوگیا تھا۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق وہ پابندی سے واک کررہی تھی اسے آئے ہوئے تین دن ہوئے تھے اور وہ باقاعدگی سے رات کو ٹہلنے جا رہی تھی مگر سارہ کو نہ پاکر اسے حیرت ہورہی تھی۔ کیونکہ وہ تو ویسے ہی فٹنس کانش تھی اور واک اس کی عادت اور روٹین میں شامل تھا۔ سارہ کا سیل نمبر بھی بند تھا۔ جبران بھی آفس سے لیٹ آرہا تھا۔ اس لیے وہ کسی طرح اس کی خیر، خیریت معلوم نہیں کر پارہی تھی۔ ویک اینڈ پر جبران نے اسے اچانک یو پی ایس اور روم کولر لاکر حیران کردیا، گھر میں کچھ مرمت کا کام بھی تھا تو اس نے ایک آدھ دن کی چھٹی بھی لے لی تھی۔ رابیل گو کہ بہت خوش تھی مگر اسے سارہ کی فکر کھائے جا رہی تھی اس دن وہ جبران کو ناشتہ دے کر فوراً ہی نکل آئی کہ دوپہر کے لیے رات کا سالن بچا ہوا تھا، اس لیے وہ تسلی سے سارہ کے پاس بیٹھ سکتی تھی۔ انہی سوچوں میں گھری وہ سارہ کے گھر پہنچی اور ڈور بیل بجائی تو دروازہ کھلنے پر سارہ کو دیکھ کر بری طرح چونک گئی۔ نک سک سے تیار رہنے والی سارہ آج شکن زدہ لباس اور اجاڑ حلیے میں کھڑی تھی۔
’’سارہ کیا ہوا…! خیریت تو ہے؟‘‘ رابیل نے فکر مندی سے پوچھا تو سارہ کے رخسار تیزی سے نم ہونے لگے۔ تب رابیل نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اسے شانوں سے تھاما پھر اندر کی طرف آگئی، دروازہ بند کیا۔ اس کا شوہر گھر پر نہیں تھا۔ سب سے پہلے رابیل نے سارہ کو صوفے پر بٹھا کر پانی پلایا، کیونکہ اب اس کی باقاعدہ ہچکیاں بندھ چکی تھیں، اس کے بعد اس کے دونوں ہاتھ اپنی گود میں رکھے اور پھر آہستگی سے بولی۔
’’کیا ہوا سارہ۔ تم اتنے دن سے نظر نہیں آئیں۔ تمہارا سیل فون بھی آف جارہا ہے۔ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟ کیا ہوا ہے بتائو مجھے۔ یوں چپ نہ رہو پلیز۔‘‘
’’کیا کہوں رابیل۔ کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں۔‘‘ سارہ نے بہ مشکل ٹوٹے پھوٹے لہجے میں جواب دیا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ رابیل الجھنے لگی پھر وہ کسی خیال کے تحت بولی۔
’’کیا تم ڈاکٹر کے پاس گئی تھیں؟‘‘
’’اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔‘‘ سارہ نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔
’’تو پھر… یار پلیز کھل کر کہو، یوں پہیلیاں نہیں بھجوائو ٹینشن ہورہی ہے مجھے۔‘‘
تب رابیل کی طبیعت کے پیش نظر اس نے سچائی بتانے کا ارادہ کیا اور موبائل آن کرکے گیلری اوپن کی اور اسکرین رابیل کی آنکھوں کے سامنے کردی تو رابیل نے بے اختیار اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’معلوم نہیں۔ شاید میری قسمت۔‘‘
’’کیا یہ ان کی پہلی بیوی ہے؟‘‘
’’نہیں یہ محض چار دن پہلے کی تصویر ہے۔‘‘
’’مگر کاشف بھائی تو ایسے بالکل نہیں لگتے تھے۔ بہت لونگ اور کیئرنگ بندے تھے۔‘‘ رابیل اب تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
’’ہاں اوپر سے بے شک وہ ایسے ہی دکھتے تھے مگر وہ جو کہتے ہیں ناں کہ دلوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے بس یہ ہم بے وقوف انسان ہی ہیں کہ جو کچھ جیسا نظر آتا ہے اندھے بن کر من و عن یقین کرلیتے ہیں۔ تم اپنا ہی حال دیکھ لو، جبران بھائی کو تم لاپروا اور کنجوس سمجھتی تھیں اور اب کیسے حیران کردیا انہوں نے تمہیں اور جہاں تک کاشف کی لونگ اور کیئرنگ فطرت کی بات ہے اور فطرت نہیں بدلتی تو انہوں نے اپنی رحم دل طبیعت کے باعث ہی افراح سے شادی کا فیصلہ کیا جو ان کی پہلی محبت تھی اور پہلی محبت کو بیوہ کے روپ میں دیکھنا ان سے برداشت نہ ہوا۔‘‘ رابیل کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ جس جوڑے کو لو برڈ سمجھتی رہی وہ تو ان آسٹریلین طوطوں کی طرح تھے جو آپس میں ساتھ رہ کر بھی لڑتے رہتے ہیں اور کسی ایک کو بھی فرار کا موقع ملے تو وہ دوسرے کی پروا کئے بغیر ہی اڑ جاتا ہے۔ اتنے میں رابیل کا موبائل بجا۔ جبران کا فون تھا۔ اس نے کال سن کر موبائل آف کیا اور سارہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
’’ماسی آگئی جبران کہہ رہے ہیں، گھر میں کام کے باعث مٹی دھول بہت ہوگئی ہے آکر اچھی طرح صفائی کرالو۔ میں شام میں آتی ہوں۔‘‘
’’نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ تم آرام کرو یا پھر شام میں پارک میں ہی مل لیں گے اور سنو جبران بھائی کی قدر کرو، کیونکہ بعض اوقات جو چیزیں ہمارے پاس ہوتی ہیں ہمیں ان کی قدر نہیں ہوتی اور شاید اسی ناشکری کا نتیجہ ہمیں بھگنا پڑتا ہے، جیسے میں کاشف کی بے پناہ چاہتوں سے بیزار ہونے لگتی تھی اور آج اسی چاہ بھرے لمحے کی چاہ میں سسک اور تڑپ رہی ہوں اور ہاں ایک درخواست اور… جبران بھائی کو یہ تفصیل نہ بتانا کہ کچھ تو محبت اور محبت کرنے والوں کا بھرم قائم رہ جائے۔‘‘ سارہ نے نم آنکھوں سے التجا کی تو رابیل نے اپنی پیاری دوست کو گلے لگا لیا کہ شاید یوں اس کا دکھ کچھ کم ہوسکے۔
ء…ض…ء

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close