Hijaab Apr 19

شب ہائے ویرانی دل(حصہ سوم)

ڈاکٹر ہما جہانگیر

(گزشتہ قسط کاخلاصہ)

ایاز کے والدین ندرت کے بارے میں جان کر سخت غصے میں آجاتے ہیں۔ مگر ایاز کی ضد اور اس کی بہنوں کے سمجھانے پر ندرت کو دیکھنے جاتے ہیں۔ ایاز کسی نہ کسی طرح اپنے والدین کو منا لیتا ہے مگر ندرت کے والد کسی صورت راضی نہیں۔ وہ ایاز کے والد کو رسم و رواج، رہن سہن اور دیگر باتوں کے فرق سے آگاہ کرتے ہوئے دو ٹوک انکار کردیتے ہیں اور ندرت کا رشتہ خاندان میں طے کردیتے ہیں۔ ندرت رات گئے ایاز سے ملنے آتی ہے اور اسے کورٹ میرج پر مجبور کرتی ہے مگر ایاز کو ندرت کے وقار اور اس کی عزت کا بے حد خیال ہے۔ وہ ندرت کو والدین کے مرتبے اور ان کی عزت کا احساس دلاتے ہوئے واپس اسے گھر چھوڑ آتا ہے۔ ندرت، ایاز پر واضح کرتی ہے کہ اس کے انکار کے بعد ندرت سچے دل سے اپنے شوہر کو اپنا لے گی اور اسے ہمیشہ کے لیے بھلا دے گی وہ اس کا دیا ہوا تحفہ جو ایک چابی کی شکل میں تھا واپس دے جاتی ہے۔ کموڈور صدیقی کی پسند کی شادی کرنے پر ان کی والدہ نے خود کو گولی مار لی تھی۔ ان کے سارے رشتے چھوٹ گئے اور خود دونوں بھی اس رشتے کو خوش گوار نہ رکھ پائے۔ ایک تلخی دونوں کے درمیان ہمیشہ رہتی۔ وہ ندرت کو اس تلخی سے بچانا چاہتے ہیں۔ ایاز کی پوسٹنگ سیاچن میں ہوجاتی ہے انتہائی سرد موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا ملازم اسے تلخ سیال پینے پر مجبور کرتا ہے۔ سیاچن کی تنہائی میں اسے گزرے دنوں کی باتیں، ندرت کا اکسانا، اس کا رونا بے طرح یاد آتا ہے۔ موسم اور یادوں کا مقابلہ کرتے کرتے وہ مے نوش بن جاتا ہے۔ اس کی ذات ساتھیوں کے لیے معمہ ہے مگر کسی کو اس سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ سیاچن پر اس کی پوسٹنگ سالوں پر محیط ہوگئی تھی کیونکہ وہ ہر دفعہ اپنا ٹرانسفر رکوا دیتا تھا۔

(اب آگے پڑھیے)

’’تمہارا پیار اور تمہارے دل کی چابی واپس کیے جارہی ہوں۔‘‘ اس نے آنسو گالوں سے صاف کیے اور خاموشی سے گاڑی سے اتر گئی۔ ایاز نے سختی سے چابی مٹھی میں دبالی… وہ اس کے دل کا دروازہ بند کرکے جاچکی تھی۔ ایاز نے چابی کو غور سے دیکھا۔ دونوں نے مذاق میں ایاز کے دل کی چابی بنوائی تھی جو ایاز نے اس کے گلے میں ڈال دی تھی۔ وہ اس کے دل کی چابی اسے واپس کر گئی تھی‘ ایاز نے مٹھی دوبارہ بند کرلی۔ وہ سیاچن چلا آیا اور وہاں کی گہری منجمد برف کا حصہ بن گیا تھا۔
خ…ز…ز…خ
سر آپ میجر ایاز کے آفس میں بیٹھیں وہ بریگیڈیئر اشرف کے پاس گئے ہیں‘ آتے ہی ہوں گے۔‘‘ نائیک نوید نے عامر کو ایاز کے کمرے میں بٹھادیا۔
’’ٹرن ٹرن ٹرن۔‘‘ عامر نے منہ بنایا اور کال ریسیو کی۔
’’آپ کب تک گھر آئیں گے۔‘‘ عامر کے ہیلو کہنے سے پہلے ہی فائزہ بول پڑی۔
’’یار ابھی تو آفس کا ٹائم بھی ختم نہیں ہوا اور تم نے فون کھڑکا دیا۔‘‘ اس کی بیوی ہر وقت اسے فون کرتی رہتی تھی۔ عامر کو ہنسی آگئی۔ ان کی شادی کو سال سے زیادہ ہوگیا تھا مگر فائزہ کی اب بھی یہی روش تھی۔
’’اچھا ناں، یہ بتائیں کب نکلیں گے وہاں سے؟‘‘
’’یار ابھی ذرا ایاز کے پاس آیا ہوں‘ کچھ دیر تو لگے گی ناں۔ تم کھانا کھالو۔‘‘
’’ایاز بھائی… وہ شرط والے؟ جن کا آپ بہت ذکر کرتے ہیں؟‘‘ فائزہ کو تجسس ہوا۔
’’ہاں وہی‘ اب اللہ کا واسطہ کبھی اس کے سامنے نہ کہہ دینا‘ وہ اس معاملے کو مذاق میں بھی برداشت نہیں کرتا۔‘‘ عامر کو فائزہ کی بے وقوفانہ حرکات سے کافی ڈر لگتا تھا۔ وہ ایاز کے سامنے ایسا ویسا کچھ کہہ دیتی تو عامر کی شامت آجاتی۔ ایاز اس معاملے میں بہت حساس تھا۔ اس وقت سیاچن وہ دونوں اکھٹے تعینات تھے۔ عامر تو ایک سال کی پوسٹنگ کے بعد جان چھڑا کر وہاں سے دوسری جگہ تعینات ہوگیا تھا مگر ایاز نے مزید دو سال کی اور پوسٹنگ وہاں کروالی تھی۔ عامر کو سب معلوم تھا کہ کیسے ایاز کی مے نوشی سیاچن میں شروع ہوئی تھی مگر وہ خاموش رہا۔ عامر اور ایاز ہمیشہ رابطے میں رہے‘ عامر کی شادی پر سب نے خوب ہنگامہ کیا تھا‘ تب ہی ایاز کی حرکتوں سے عامر اور بلال جان گئے تھے کہ وہ ندرت کو بھول نہیں پایا‘ تینوں کے درمیان ان کہا سا عہد ہوگیا تھا کہ وہ کبھی ندرت کی بات نہیں کریں گے۔ فائزہ کے والدین راولپنڈی میں رہتے تھے۔ عامر نیا نیا یہاں تعینات ہوا تھا‘ آج وہ ایاز کے آفس چلا آیا تھا۔
’’پتا نہیں کہاں رہ گیا ہے؟‘‘ عامر نے بور ہوکر سوچا‘ پچھلے ایک سال میں اس کا ایاز سے رابطہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔
’’یار میجر صاحب کب تک آئیں گے؟‘‘ اس نے اندر آتے سپاہی سے پوچھا۔
’’سر یہ تو پتا نہیں۔‘‘
’’میجر صاحب رہتے کہاں ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’سر وہ پاس ہی کے میس میں ہیں۔‘‘ سپاہی نے کمرہ نمبر بتا کر عامر کو راستہ سمجھایا۔
’’اچھا وہ آئیں تو بتانا کہ میں ان کے میس کے کمرے میں انتظار کررہا ہوں۔‘‘ وہ سپاہی کو بتا کر ایاز کے میس آگیا۔ اسلم اسے دیکھ کر خوش ہوگیا۔ وہ عامر سے سیاچن میں ملا تھا۔ دونوں بغلگیر ہوگئے۔
’’سر بہت خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔‘‘ وہ خوشی خوشی اسے اندر لے آیا۔
’’یار اسلم… کچھ کھانے کا بندوبست کرو‘ سخت بھوک لگی ہے۔‘‘
’’جی سر، ابھی لے کر آیا۔‘‘ اسلم جلدی سے باہر کی طرف بڑھا۔
’’ارے، ایاز آئے گا تو لے کر آنا۔‘‘ عامر ہنس کر بولا۔
’’وہ تو پتا نہیںکب آتے ہیں سر‘ آپ کھالیں۔‘‘
’’اچھا…‘‘ اسلم کمرے سے نکل گیا‘ عامر ٹہلتا ہوا ایاز کے بیڈ روم میں آگیا‘ جانے کیا سوچ کر اس نے ادھر ادھر ندرت کی تصویر ڈھونڈی۔
’’کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ ندرت کی تصویر؟ اس کی کوئی تصویر میرے پاس کبھی تھی ہی نہیں۔‘‘ ایاز کی آواز پر عامر چونک کر مڑا۔ وہ شرمندہ ہوا۔
’’میں تو ویسے ہی…‘‘ اس نے بہانہ بنانے کی کوشش کی۔
’’یہ کسی اور کو بتانا… میں تجھے اچھی طرح جانتا ہوں۔‘‘ ایاز نے ہنس کر کہا اور آگے بڑھ کر عامر کے گلے لگ گیا۔
’’تجھے تو اگلے ہفتے جوائن کرنا تھا…‘‘ اچانک عامر کی آمد کا سن کر وہ آفس سے سیدھا کمرے میں آگیا تھا۔
’’یار، بیوی صبح سے سر کھا رہی تھی‘ میں آفس کی ڈیوٹی کا بہانہ کرکے نکل آیا۔ اس کا آرمی سے کبھی واسطہ نہیں رہا تو آرمی کے نام پہ کافی جھوٹ چل جاتے ہیں۔‘‘ عامر ہنس دیا۔
’’بڑا ہی بدمعاش ہے تو۔‘‘ ایاز کو بھی ہنسی آگئی۔ جب سے اسے عامر کی پنڈی پوسٹنگ کا پتا چلا تھا وہ بے حد خوش ہوا تھا۔
’’ابھی بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا‘ اب تو گھر والی آگئی ہے۔‘‘ دونوں لائونج میں آکر بیٹھ گئے تھے۔
’’یار، گھر والی اپنی جگہ باہر والی اپنی جگہ۔‘‘ عامر نے آنکھ ماری تو ایاز نے اسے گھورا۔
’’اس بات کا کیا مطلب اخذ کروں؟ اگر یہ مذاق تھا تو کافی بھونڈا مذاق ہے عامر۔‘‘ ایاز نے عامر کو جھاڑ پلائی۔
’اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے، تو بھی عجیب شخص ہے یار‘ پارٹیز وغیرہ تو چلتی رہتی ہیں۔ اب وہاں بیوی کو تو لے کر نہیں جاسکتے ناں۔ وہاں اگر چند لمحوں کو کوئی پری مل جائے تو ذرا شغل لگ جاتا ہے۔‘‘
’’یہ غلط بات ہے عامر… شادی سے پہلے تو چلو خیر تھی مگر اب یہ ٹھیک نہیں۔‘‘ ایاز سنجیدہ ہوا۔
’’اچھا زیادہ لیکچر نہ دو، میں کون سا کوئی افیئر چلا رہا ہوں۔ یہ تو وقتی شغل میلہ ہوتا ہے، رات گئی بات گئی۔‘‘
’’چل کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ اسلم کو کھانے کی ٹرے اندر لاتے دیکھ کر ایاز نے شکر ادا کیا۔
رات عامر آکر اسے ساتھ لے گیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ رات کا وعدہ لے کر چلا گیا تھا۔ پوری شام وہ ایاز کو مختلف لڑکیوں سے ملواتا رہا۔ ایاز اسے بار بار کہتا رہا کہ وہ ان لڑکیوں میں انٹرسٹڈ نہیں مگر عامر نے اس کی ایک نہ سنی۔ اب بھی اگر صبح ایاز کا آفس نہ ہوتا تو عامر نے اسے واپس آنے نہیں دینا تھا۔
’’وینک اینڈ پہ واپس آنے کے بہانے نہیں چلیں گے۔ ایک زبردست پارٹی ہے، وہاں چلیں گے۔‘‘ وہ جاتے جاتے کہہ گیا تھا‘ ایاز اندر آگیا۔
’’سر دروازہ لاک کردوں؟‘‘ اسلم بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا۔
’’میں نے لاک کردیا ہے۔ تم بوتل اور گلاس لے آئو۔‘‘ وہ صوفے پہ بیٹھ گیا‘ اسلم نے برا سا منہ بنایا۔
’’سر برا نہ ماننا مگر لگتا ہے آپ پہلے ہی پی کر آئے ہیں۔‘‘
’’کم بولا کرو اسلم‘ جو کہا ہے وہ کرو۔ ابھی مجھے پورا ہوش ہے۔‘‘ اسلم ناگواری سے باہر نکل گیا تو ایاز ویسے ہی وہاں نیم دراز ہوگیا۔
’’سر کپڑے تو بدل لیں۔‘‘ گلاس بوتل اور برف رکھ کر اس نے ایاز کو آواز دی۔ ایاز نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر میز کی جانب دیکھا۔ ساری چیزیں موجود تھیں۔ اس نے گلاس بھر لیا۔ رات بڑھتی جارہی تھی۔ ندرت کی آواز اس کے اردگرد پھیل رہی تھی۔
’’کیسی تھی پارٹی؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی۔ ایاز نے پورا گلاس حلق میں انڈیل کر اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کی تھی۔
خ…ز…ز…خ
’’ہیلو…‘‘ لڑکی کی آواز پہ اس نے اپنے گلاس سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’آپ کو پہلے بھی دو تین پارٹیز میں دیکھا‘ آپ اکیلے ہی پیتے ہیں‘ کوئی دوست نہیں ہے کیا؟‘‘ وہ پاس ہی بیٹھ گئی۔
’’میں صرف پینے آتا ہوں۔‘‘ اس نے خشک لہجے میں دو ٹوک بات کی۔ وہ مزید باتوں کے موڈ میں نہیں تھا۔
’’اوہ مفت کی پینے کا شوق ہے۔‘‘ وہ ہنس دی۔
’’کہہ سکتی ہیں‘ ویسے جتنا وقت میں یہاں برباد کرتا ہوں‘ اس کے بدلے میں یہ دو گلاس مجھے کافی مہنگے پڑتے ہیں۔‘‘
’’تو آتے کیوں ہو یہاں؟‘‘ لڑکی نے طنز کیا۔
’’دماغ خراب ہے میرا۔‘‘ ایاز نے گلاس لبوں سے لگا لیا۔
’’میرا نام نتاشا ہے۔‘‘ اس نے خود ہی کہا۔
’’تو؟‘‘ وہ روڈ ہوا۔
’’اتنے اداس کیوں لگتے ہو؟‘‘
’’تم سے مطلب؟‘‘
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ وہ پھر بولی۔
’’بڑی ڈھیٹ ہو یار‘ تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔‘‘ ایاز چڑ گیا۔
’’سمجھ تو آرہی ہے مگر تم سے دوستی کرنے کا دل کررہا ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی اور ایاز کے ہاتھوں سے جام لے کر اپنے لبوں سے لگا کر گھونٹ بھرا اور گلاس اس کے ہاتھ میں واپس دے دیا۔ ایاز نے اسے سپاٹ نگاہوں سے دیکھا اور گلاس میز پر رکھ دیا۔
’’دوستی کرنا چاہتی ہو؟‘‘
’’ہاں…‘‘
’’سوچ لو… اتنے سارے لوگ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
’’مجھے لوگوں کی پروا نہیں۔‘‘ وہ ہنس دی۔
’’چلو تو پھر میرے روم میں چلتے ہیں۔ یہاں اتنے لوگوں کے درمیان میں بات نہیں کروں گا۔‘‘
’’چلو…‘‘ وہ مزے سے بولی۔ ایاز کھڑا ہوگیا۔
’’ارے اپنا جام تو ختم کرلو۔ کافی مہنگی ڈرنک ہے خوامخواہ ضائع ہوگی۔‘‘
’’میں جھوٹا نہیں پیتا۔‘‘ اس نے ہنوز سنجیدگی سے کہا۔
’’اور اگر میں کسی اور کی گرل فرینڈ ہوئی تو؟‘‘
’’تو میرے کسی کام کی نہیں۔‘‘ میز سے اپنی گاڑی کی چابی اور اپنا موبائل اٹھا کر وہ باہر نکل گیا۔ نتاشا حیرت سے اسے جاتا دیکھتی رہ گئی۔ عجب شخص ہے‘ اس نے سوچا۔
مجھ سے میری اداسیوں کی وجہ پوچھتی ہے
کتنی پاگل ہے رات کے سناٹے کی وجہ پوچھتی ہے
آج یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ عامر کے کہنے پہ وہ چلا تو آتا تھا مگر اس طرح کا کوئی واقعہ ہوجائے تو وہ ڈسٹرب ہوکر رہ جاتا تھا۔ ندرت اس کی زندگی کا محور تھی۔ وہ اپنے محور سے ہٹنے کو ہرگز تیار نہیں تھا۔ کسی دوسری لڑکی کا وجود اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا… اس کے دل کے ویران سناٹوں کو اب آباد ہونے کی خواہش ہی کہاں تھی۔ وہ تو صرف ان یادوں کو ڈبونے عامر کے ساتھ چلا آتا تھا۔
خ…ز…ز…خ
’’تم لاہور کب آؤ گے؟‘‘ عرشہ کا اس ہفتے میں یہ تیسرا فون تھا۔
’’خیر تو ہے… میری اتنی یاد کیوں آرہی ہے؟‘‘ اس نے ہنس کر پوچھا۔
’’تم تو کبھی شکل تک نہیں دکھاتے‘ میں ہی تمہیں بار بار فون کرتی ہوں۔‘‘ عرشہ نے گلہ کیا۔
’’یار بس کاموں میں اتنا مصروف رہتا ہوں کہ وقت ہی نہیں ملتا مگر آئندہ خیال رکھوں گا۔‘‘ وہ جانتا تھا کہ یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے‘ بہنیں بے چاریاں تو اسے آئے دن فون کرتی رہتی تھیں۔
’’چلو تم کرو یا میں ایک ہی بات ہے۔ اچھا اگلے ہفتے آسکتے ہو لاہور؟ سوچا تھا سب کافی عرصہ سے ملے نہیں… بچوں کی کچھ دنوں کی چھٹیاں ہیں تو آجاتے ہیں… تم بھی آجائو۔‘‘ عرشہ نے فون کا مقصد بیان کیا۔
’’اچھا کوشش کروں گا۔‘‘ اس نے ٹال دیا اور پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں۔ کمرے کے وسط میں پہنچ کر ایاز نے اپنے اطراف نگاہ دوڑائی۔
’’یہ کس کا فلیٹ ہے؟‘‘ اس نے پیچھے آتی لڑکی سے پوچھا۔
’’زیادہ تر میری دوست رہتی ہے مگر کرایہ ہم مل کردیتے ہیں تو کبھی کبھی میں بھی آجاتی ہوں یہاں۔‘‘ وینا نے پرس لاپروائی سے صوفے پر پھینکا۔ ایاز اس سے آج شام ہی ایک پارٹی پہ ملا تھا۔ عامر اسے آج کل زبردستی اپنے ساتھ لے آتا تھا۔ پارٹی میں عامر تو لوگوں سے باتوں میں لگ جاتا اور ایاز صرف اور صرف پیتا رہتا تھا۔ آج تو عامر نے سخت لفظوں میں اسے پینے سے منع کیا تھا۔ عامر خود بھی اس سے دور ہی رہتا تھا‘ شغل مستی اپنی جگہ مگر پینا اسے ہرگز پسند نہیں تھا۔
’’آج صرف لوگوں سے میل جول بڑھانا ہے۔ میں تجھے اس لیے لے کر آتا ہوں کہ تو اپنے خول سے باہر نکلے… اگر تجھے یہی کرنا ہے تو پھر اپنے کمرے میں ہی ٹھیک ہے۔‘‘ وہ ایاز سے ناراض ہوا‘ پارٹی میں آکر ایاز نے فوراً ہی جام نہیں پکڑا تو عامر کو تسلی ہوئی۔ وہ کچھ لوگوں سے ایاز کو متعارف کروا کر کمرے کے دوسری طرف چلا گیا تھا۔
اس کے جاتے ہی ایاز نے فوراً گلاس اٹھایا اور کمرے کے ایک کونے میں کھڑا ہوکر لاتعلقی سے لوگوں کو دیکھنے لگا۔ اسے ان لوگوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کافی دیر سے اسے محسوس ہورہا تھا کہ ایک لڑکی بار بار اسے دیکھ رہی ہے۔ ایاز اسے نظر انداز کرتا رہا… اس کا کوئی موڈ نہیں تھا کسی سے بھی بات کرنے کا‘ ساری شام وہ اکیلا ہی بیٹھا رہا‘ ایک دو بار عامر نے اسے بلایا بھی مگر اس نے نظروں سے اسے منع کردیا۔ عامر ابھی ابھی گھر گیا تھا‘ ایاز ابھی واپس نہیں جانا چاہ رہا تھا‘ سو وہ وہاں اکیلا ہی رک گیا۔
’’وینا…‘‘ قریب سے آواز ابھری۔ اسی لڑکی نے اپنا نام بتایا۔
’’ابھی اور پیوگے؟‘‘ نسوانی آواز پر اس نے چہرہ موڑ کر لڑکی کی طرف دیکھا… جس کو وہ ساری شام نظر انداز کرتا رہا تھا وہی لڑکی اب اس کے پاس کھڑی تھی۔
’’شاید…‘‘ اس نے چسکی لی۔ جانے کیوں اس دفعہ اس نے لڑکی کو نظر انداز نہیں کیا۔ شاید تنہائی سے تنگ آگیا تھا۔
’’تو چلو میرے اپارٹمنٹ میں چل کر پیتے ہیں۔‘‘ وہ بولی۔ ایاز نے حیرت سے اس کی جرأت پر اسے دیکھا۔
’’میں ایاز…‘‘ اس نے اپنا نام بتایا اور غور سے اس لڑکی کو دیکھا۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ وہ مسکرائی۔
’’تم پہ میرا دل آگیا ہے اور جس پہ وینا کا دل آجائے وہ اسے پاکرہی رہتی ہے۔‘‘
’’اچھا…؟ پھر تو وینا آپ کافی خوش قسمت ہیں۔‘‘ ایاز نے طنز کیا۔
’’یہ قسمت وغیرہ سب فضول ہے۔ کسی چیز کو حاصل کرنا ہو تو انسان خود اسے پانے کے طریقے ڈھونڈتا ہے۔ جیسے میں… شام سے تم مجھے اگنور کررہے ہو‘ اب دیکھو بات ہو ہی رہی ہے ناں؟‘‘ وہ بال جھٹک کر ہنس دی۔
’’بڑی خود اعتماد ہو۔‘‘ ایاز نے اسے غور سے دیکھا۔
’’ہاں…‘‘ وہ بڑے غرور سے بولی۔
’’اب چلو گے یا بس باتیں ہی کرتے رہوگے؟‘‘ ایاز نے خالی جام پاس کی میز پر رکھ دیا۔
’’چلو…‘‘
’’کار ہے تمہارے پاس؟‘‘ وینا نے پوچھا۔
’’کیوں؟ تمہارے پاس نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں… میں اپنی دوست کے ساتھ آئی تھی۔ وہ کب کی جاچکی ہے۔‘‘ وینا بولی۔
’’اور تم مجھ سے بات کرنے کے لیے رک گئیں؟‘‘
’’ہاں ظاہر ہے۔‘‘
’’پھر تو واقعی مجھے تمہارے ساتھ جانا چاہیے۔‘‘ فلیٹ میں وینا نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پاس ہی بنی چھوٹی سی بار کی طرف بڑھ گئی۔
’’تم نے اپنی ڈرنک چھوڑ دی تھی وہاں۔‘‘ ایاز نے اسے دیکھا۔ اتنی چھوٹی سی بات بھی اس نے ایاز کی نوٹ کی تھی۔
’’ویسے یہاں آتے ہوئے میں نے بارہا سوچا کہ کیا یہ صحیح ہے؟ مگر اب اندازہ ہورہا ہے کہ یہ جگہ کافی بہترین ہے اس مقصد کے لیے۔‘‘ وہ ڈھکے چھپے الفاظ میں بولا۔ ’’میں کافی متاثر ہورہا ہوں۔‘‘ اس نے طنز کیا۔
’’اچھا…؟ اس میں متاثر ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ وہ لاپروائی سے بولی۔
’’ویسے ہی مجھے ذرا ہچکچاہٹ سی محسوس ہورہی تھی کہ مجھے یوں تمہارے ساتھ ایک رات کا ساتھ قبول نہیں کرنا چاہیے‘ یہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوگی۔‘‘
’’مجھے میری مرضی کے بغیر کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا مسٹر ایاز‘ تم مجھے پسند آگئے ہو۔‘‘ کافی گھاک لڑکی تھی۔
’’نائیس…‘‘ ایاز نے ابرو اُچکا کرکے کہا۔
’’تم بھی کافی خُوب صورت ہو۔‘‘ اس نے وینا کے سراپے کا مکمل جائزہ لیا۔ وینا نے گلاس بھر کر اپنے پاس بار پر ہی رکھ دیا۔
’’آکر لے لو۔‘‘ وہ بڑی ادا سے بولی۔ ایاز ٹہلتا ہوا اس کے قریب چلا آیا اور گلاس اٹھا کر اس نے گھونٹ بھرا۔
’’پرفیکٹ…‘‘ وہ جانے کس بات پر کہہ رہا تھا‘ وینا سمجھی نہیں۔
’’پی لو پوری۔‘‘ وہ بولی۔
’’میں بہت پی چکا ہوں۔‘‘ اس نے وینا کے بازو پہ ہاتھ رکھا۔
’’زیادہ چڑھ گئی ہے کیا؟‘‘ وہ اس کے کان کے پاس جھک کر بولی۔
ایاز نے اسے اپنے قریب کرلیا… شراب نے اس کے تمام احساسات دھندلا دیئے تھے۔ وہ مسکرا رہی تھی۔
’’مجھے کبھی نہیں چڑھتی۔‘‘ وہ سرگوشی میں بولا۔ وینا کو بالکل قریب چہرہ کرنا پڑا‘ ایاز کی بات سننے کے لیے۔
یہ کس کے نقوش تھے؟ دماغ نے سوال کیا۔ ندرت تو ہمیشہ پونی کرتی ہے‘ تو یہ بال کھلے ہوئے کیوں ہیں؟ ایاز نے غائب دماغی سے وینا کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھا۔
’’کون ہو تم؟‘‘ وہ سرد آواز میں بولا۔
’’ایاز؟‘‘ وینا کی آواز چابک کی طرح ایاز کی سماعت پر لگی۔
’’یہ کیسا عجیب سا طریقہ ہے تمہارا؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے تم سے۔‘‘ وہ ڈر گئی۔
’’اوہ میرے اللہ! یہ میں کیا کررہا ہوں۔‘‘ ایاز نے وینا کی بات سنی ہی نہیں… اس کا ذہن مفلوج ہورہا تھا۔
’’ایاز پلیز…‘‘ وینا کی آواز پر اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے بازو سے ہٹا کر اسے پرے دھکیل دیا۔
’’یہ کیا کررہے ہو تم؟‘‘ وہ زور سے بولی‘ ایاز کو وینا کے وجود سے وحشت ہورہی تھی۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹا۔
’’میرے خیال میں مجھے اب چلنا چاہیے۔‘‘ وہ آہستہ سے بولا۔
’’تم مذاق کررہے ہو کیا؟‘‘ وینا کو اس کا رویہ انتہائی توہین آمیز لگا… اس جیسی خوب صورت اور ہر دلعزیز لڑکی کی وہ توہین کررہا تھا۔ وہ تو ایسی تھی کہ ہر شخص اس کے ساتھ کا خواہش مند تھا۔ وینا کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
ایاز نے غور سے اس کے خدوخال کا جائزہ لیا۔ یہ لڑکی کہیں سے بھی ندرت سے مشابہت نہیں رکھتی تھی۔ وہ اپنا کوٹ اٹھا کر جانے کے لیے مڑا۔
’’تمہاری اتنی جرأت… تم نے مجھے سمجھا کیا ہے۔‘‘ وینا بھڑک اُٹھی۔
’’سوری میں شاید تمہیں کوئی اور سمجھا…‘‘ ایاز کو واقعی افسوس ہوا اور وہ دروازے کی طرف بڑھا۔
’’گیٹ آئوٹ۔‘‘ وینا نے شدید غصے اور جھلاہٹ کے ساتھ چیخ کر کہا۔ ایاز خاموشی سے فلیٹ سے باہر نکل آیا تھا۔
خ…ز…ز…خ
’’سر کچھ دن کی چھٹی چاہیے۔‘‘ ایاز نے اتنے عرصے میں پہلی بار چھٹی مانگی تھی۔ برگیڈیئر اشرف نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ کچھ پریشان سا لگ رہا تھا۔
’’ضرور… ضرور کتنے دن کی؟‘‘ بریگیڈیئر اشرف نے کوئی سوال کیے بغیر ہی ہامی بھری۔
’’پندرہ دن کی۔‘‘
’’خیریت تو ہے ایاز؟ تم کافی پریشان لگ رہے ہو۔‘‘
’ابو کی طبیعت کافی خراب ہے سر… ان کے سارے ٹیسٹ وغیرہ کروائوں گا۔‘‘ وہ واقعی پریشان تھا۔ جب سے امی کا فون آیا تھا‘ وہ سخت بے چین تھا۔
’’کب جانا چاہتے ہو؟‘‘
’’سر اگر آج آپ سائن کردیں تو کل شام تک نکل جائوں گا۔‘‘
’’تم آج ہی چلے جائو۔ میں بھجوادوں گا تمہاری چھٹی کی درخواست۔‘‘
’’تھینک یو سر۔‘‘ وہ آفس سے نکل آیا‘ شام کو وہ لاہور میں تھا۔
’’السلام علیکم امی ابو۔‘‘ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سلام کیا۔
امی ابو کے لیے شاید کھانا لائی تھیں۔ وہ ابو کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ کتنے کمزور ہوگئے تھے۔
’’میر اشیر پتر آیا ہے۔‘‘ والد کی خوشی بھری آواز سن کر ایاز شرمندہ ہوگیا۔ پچھلے دو ماہ سے وہ گھر نہیں آیا تھا۔ آج ابو کو دیکھ کر اسے دھچکا لگا۔ وہ نہایت کمزور اور برسوں کے بیمار لگ رہے تھے۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ہوگئے ہوئے تھے۔ امی نے انہیں تکیے کے سہارے بٹھایا ہوا تھا۔
’’ابو جی…! یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘ وہ تیزی سے باپ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
’’میرا کڑیل جوان پتر… ٹھنڈ پڑ گئی کلیجے میں۔‘‘ انہوں نے جیسے ایاز کی بات سنی ہی نہیں۔
’’اللہ نظر بد سے بچائے۔‘‘ سنبل بھی بیٹے کے پاس آگئیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ ایاز اٹھ کر ان کی سینے سے لگ گیا۔ وہ سسک اٹھیں‘ اس نے ماں کو چوم لیا۔
’’آئو ابو کے پاس بیٹھو۔‘‘ سنبل نے ایاز کو باپ کے پاس بٹھایا اور آنسو پونچھے۔
’’کیا ہوگیا ہے ابو…؟ آپ اتنے بیمار ہیں… مجھے خبر تک نہیں کی۔‘‘
’’بس یار یہ کھانسی بہت تنگ کرتی ہے۔‘‘
’’ہاں کھانسی تنگ کرتی ہے مگر سگریٹ نہیں چھوڑنی۔‘‘ سنبل بیگم جل کر بولیں۔ میاں کو منع کرکرکے وہ تھک چکی تھیں۔
’’چلیں اب سوپ پئیں… آپ کے لیے مفید ہے۔‘‘ وہ پیالہ لے کر آگے بڑھیں۔
’’یار بعد میں پی لوں گا… ابھی ابھی تو میرا بیٹا آیا ہے۔‘‘ وہ پیار سے ایاز کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر بولے۔
’’لائیں امی مجھے دیں… میں پلاتا ہوں۔‘‘ ایاز نے امی کے ہاتھ سے سوپ کا پیالہ لے لیا۔ سنبل بیگم بیٹے کے ہاتھ میں پیالہ دے کر باہر نکل گئیں۔ گھر میں اب صرف مانی رہ گئی تھی۔ عاطفہ کی بھی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوگئی تھی۔ اب تو مانی کا بھی رشتہ طے ہوگیا تھا۔ اب تو دونوں ماں باپ کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ بیٹے کے لیے کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈ کر اس کے فرض سے بھی سبکدوش ہوجائیں۔ ایاز باپ کو سوپ پلانے لگا۔
’’ابو… کل سی ایم ایچ چلیں گے۔ آپ کے تمام ٹیسٹ کروائیں گے۔‘‘ باپ کی حالت دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوگیا تھا۔
’’ایاز؟‘‘ افراز صاحب نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں تھی۔
’’جی ابو۔‘‘
’’یار اب تک ناراض ہو اپنے ابو سے؟‘‘ ان کی آواز میں اتنا رنج تھا کہ ایاز تڑپ گیا۔
’’یہ کیسے سوچ لیا آپ نے؟ میں اور اپنے ابو سے ناراض ہوجائوں‘ یہ ہوہی نہیں سکتا۔‘‘
’’تو پھر یار شادی کے لیے مان کیوں نہیں جاتا۔ پتا نہیں زندگی کے کتنے دن اور ہیں ایاز؟ مجھے تمہاری اولاد دیکھنے کی بہت آرزو ہے۔‘‘ وہ بہت سنجیدہ تھے۔
’’ابو…‘‘ ایاز کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے‘ کتنے ہی برس سے وہ اس موضوع سے گریز کرتا آرہا تھا۔ امی ابو نے اسے بارہا مجبور کیا‘ بہنوں نے اپنے ارمانوں کا واسطہ دیا مگر ایاز کیا کرتا‘ وہ ان سب کی خوشی کے لیے ہر چیز کرتا تھا بس ایک یہ خواہش تھی جس کو پورا کرنے سے وہ قاصر رہا تھا۔ اس کا دل تو جیسے ابد تک کے لیے خزاں کی زد میں آگیا تھا۔ بہار آنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔
’’ابو آپ ٹھیک ہوجائیں پہلے پھر خوب باتیں کریں گے اس موضوع پہ۔‘‘ اس نے بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
’’یار زندگی کا بھروسہ نہیں مجھے۔‘‘
’’آپ ناامیدی کی باتیں کیوں کررہے ہیں ابو؟ ابھی تو برس ہا برس جئیں گے ان شاء اللہ۔‘‘ وہ باپ کے سینے سے لگ گیا۔
’’کل ہی آپ کے سارے ٹیسٹ کروائوں گا۔‘‘
’’مجھے کینسر ہے ایاز۔‘‘ وہ اتنی آہستہ سے بولے کہ ایاز کو لگا اس نے غلط سنا ہو۔
’’ابو…؟‘‘ اس نے ناسمجھی سے ابو کو دیکھا۔
’’ہاں تم نے صحیح سنا ہے‘ مجھے پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا ہے‘ مجھے کافی دنوں سے پتا ہے۔ کھانسی اتنی آرہی تھی کہ تنگ آکر میں خود چلا گیا تھا‘ سی ایم ایچ۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ اسے بتارہے تھے۔
’’مگر ابو یہ کیسے ہوسکتا ہے‘ اتنی زیادہ کھانسی تو نہیں تھی آپ کو۔‘‘ ڈاکٹر ہونے کے باوجود اسے یقین نہیں آیا۔
’’مجھے کھانسی میں خون آرہا تھا‘ مجھے لگا ٹی بی ہوگئی ہے۔ ٹیسٹ تو ٹی بی کے لیے کروائے مگر ڈاکٹرز نے ساتھ اور بھی ٹیسٹ کیے‘ ان سے ہی معلوم ہوا۔ سگریٹ کا کچھ تو نتیجہ نکلنا تھا۔‘‘ وہ نقاہت سے ہنسے تو ایاز کا دل دکھ سے بھرگیا۔
’’دیکھو ایاز… تمہاری امی کو ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے‘ میں نہیں چاہتا کہ ابھی اسے کچھ معلوم ہو‘ مانی کی شادی خیریت سے ہوجائے تب بتائوں گا اگر اللہ نے اتنی مہلت دی۔‘‘
’’ابو پلیز ایسی باتیں نہ کریں۔ اب یہ کوئی ایسی بیماری نہیں جو لاعلاج ہو۔‘‘ وہ کچھ ماننے کو تیار نہیں تھا۔ افراز صاحب نے اس کی بات ان سنی کردی۔
’’مانی کی شادی کے بعد سنبل اکیلی رہ جائے گی۔ اسے میرے بغیر جینا بہت مشکل لگے گا… کچھ لڑکیاں تمہاری ماں نے تمہارے لیے دیکھ رکھی ہیں میری خواہش ہے کہ تم اب شادی کے لیے رضامند ہوجائو۔‘‘
’’مگر ابو…‘‘ ایاز کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ باپ سے کیا کہے۔
’’ابو کی جان‘ اپنے ابو کو اب معاف کردے‘ یقین کرو میں نے پوری کوشش کی کہ تمہیں ندرت مل جائے مگر شاید قدرت نے تمہارے لیے کچھ اور لکھا تھا۔ اس بات کو ختم ہوئے کتنے ہی سال گزر گئے ہیں۔ اسے بھول جائو اور زندگی کو نئے سرے سے شروع کرو۔‘‘ انہوں نے اسے سمجھایا۔
’’ہاں ایاز میری بھی خواہش ہے‘ بہو ہو‘ پوتے پوتیاں ہوں۔‘‘ مسز افراز ابھی کمرے میں داخل ہوئیں۔
’’امی پلیز اس موضوع پر پھر کبھی بات کریں گے۔‘‘
’’مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا ایاز۔ تمہیں شادی کرنا ہی ہوگی۔‘‘
’’جی اچھا امی۔‘‘ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا۔ کسی کو کیا الزام دیتا‘ سب کیا دھرا تو اس کا اپنا تھا‘ اس وقت وہ اگر ہمت کرلیتا تو آج ندرت اس کی ہوتی‘ مگر اب ان باتوں کو سوچنے کا کیا فائدہ تھا… اپنی غلطی کی سزا وہ اپنے سارے خاندان کو دے رہا تھا۔ اس نے اپنے اردگرد دیکھا‘ اس کا کمرہ اتنے سال بعد بھی ویسے کا ویسا تھا۔

بہت مدت کے بعد کل جب
کتاب ماضی کو میں نے کھولا
اک ایسا صفحہ بھی اس میں آیا
لکھا ہوا تھا جو آنسوئوں سے
کہ جس کا عنوان تھا ’’ہمسفر‘‘

وہ آہستہ سے اٹھا اور اپنی الماری کے آگے کھڑا ہوگیا۔ ایک مدت سے اس الماری کا ایک خانہ مقفل تھا۔ آج تک اس نے اس کا قفل نہ کھولا تھا۔ ایاز نے ہاتھ بڑھا کر الماری کے پٹ کھول دیے۔ نگاہ اس دراز پر جا ٹھہری۔ اس نے دھیرے سے کپڑوں تلے اس چابی کو تلاش کیا جو اس نے آج تک چھوئی بھی نہیں تھی۔ دراز کھول کر اس نے لمحے بھر کو آنکھیں موند لیں۔ وہ خوب جانتا تھا اس میں کیا تھا۔ ایک گہرا سانس بھر کر اس نے دراز کے اندر نظر کی‘ ریشم کے کالے کپڑے پر پڑی ندرت کی تصویر کے ساتھ وہ چھوٹی سی چابی جو کبھی ہمیشہ ندرت کے پاس ہوتی تھی ویسے ہی رکھی تھی۔ اس نے چابی اٹھا کر اپنی مٹھی میں بند کرلی۔ ندرت کی گلہ کرتی نگاہیں‘ تصویر میں سے اسے ٹکر ٹکر تک رہی تھیں۔ اس نے تصویر اٹھا کر کالے کپڑے کے نیچے کردی۔

آج زخموں کو کریدا‘ تم یاد آئے
کون وہ مرہم بنے جو تمہیں بھلا پائے
بھول جاتے ہیں تمہیں دن کی دوڑ دھوپ میں
رات کی تنہائی میں پھر تم یاد آئے
اس نے چابی ڈسٹ بن میں پھینک دی تھی۔

خ…ز…ز…خ
’’امی پلیز ذرا ابو کو تیار کروا دیں۔ میں نے ان کے لیے سی ایم ایچ میں اپائنمنٹ لیا ہوا ہے۔‘‘ ایاز صبح ہی صبح تیار ہوگیا تھا۔
’’میں تو کب سے کہہ رہی ہوں مگر یہ ہاسپٹل جانے کو تیار ہی نہیں۔‘‘ مسز افراز رو دینے کو ہوئیں۔
’’اچھا کوئی بات نہیں میں خود دیکھتا ہوں۔ یہ مانی کہاں ہے‘ کل بھی مجھے نظر نہیں آئی؟‘‘ ایاز نے پوچھا۔
’’پھوپو کی طرف گئی ہوئی ہے‘ فون کیا ہے میں نے اسے‘ بس آتی ہی ہوگی۔ تم ناشتہ کرلو۔‘‘ انہوں نے ملازم کو میز لگانے کو کہا۔
’’ابو نے کرلیا ناشتہ؟‘‘ ایاز نے پوچھا۔
’’نہیں‘ کہہ رہے تھے ابھی انہیں بھوک نہیں ہے۔‘‘ مسز افراز کچن میں جانے لگیں۔
’’اچھا ایسا کریں ابو کے کمرے میں بھجوادیں ناشتہ۔‘‘
’’اچھا تم چلو… میں شیدے کو کہتی ہوں وہ وہاں کمرے میں ہی ناشتہ لگا دے گا۔‘‘ وہ کچن میں چلی گئیں۔
’’السلام علیکم ابو۔‘‘ وہ دستک دے کر افراز صاحب کے کمرے میں داخل ہوا۔
’’وعلیکم السلام۔ آجائو یہاں میرے پاس ہی۔‘‘ ابو نے ذرا کھسک کر اپنے پاس بیڈ پر جگہ بنائی۔ وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
’’ابو ہم آج اکھٹے ناشتہ کریں گے۔‘‘ وہ لاڈ سے بولا۔
’’ہاں بڑے دن ہوگئے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولے اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔
’’ایاز…‘‘
’’جی ابو؟‘‘
’’تم سے کل کچھ بات کی تھی میں نے۔‘‘ انہوں نے بات شروع کی۔
’ارے ابو‘ صبح صبح…‘‘ وہ ہنس دیا۔
’’بات کو ہنسی میں مت اڑائو ایاز… میرے پاس زیاوہ وقت نہیں ہے۔‘‘ افراز نے صاحب بہت سنجیدگی سے کہا۔
’’کیسی باتیں کررہے ہیں ابو۔ ناشتے کے بعد ہاسپٹل چلیں گے۔‘‘ ایاز نے پیار سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔
’’تم شادی کے لیے راضی ہوجائو۔‘‘ انہوں نے کل والی بات دہرائی… جسے ایک ضد سی تھی جو ان کے لہجے میں عود آئی تھی۔
’’شادی بھی کرلوں گا‘ آپ پہلے ٹھیک تو ہوجائیں۔‘‘ ایاز پیار سے بولا۔
’’مجھے کچھ معلوم نہیں‘ بس تم شادی کرلو۔‘‘ وہ بچے کی طرح ضدی لہجے میں بولے۔ ایاز کو ہنسی آگئی۔
’’ابو ضرور کرلوں گا… آپ صحت یاب تو ہوجائیں۔‘‘
’’تمہاری شادی ہوجائے میں خودبخود ٹھیک ہوجائوں گا۔‘‘ افراز صاحب کی ایک ہی ضد تھی۔
’’پلیز ابو… ایسی بھی کیا جلدی ہے‘ میں وعدہ کرتا ہوں شادی بھی کرلوں گا… پہلے آپ کا علاج ضروری ہے۔‘‘
’’بہت جلد ناں… وعدہ؟‘‘ وہ تو بچہ ہی بن گئے تھے۔
’’افوہ ابو‘ آپ کا علاج ہو تو جائے۔‘‘ ایاز چڑ گیا۔
’’تم شادی کے لیے ہاں کرو‘ میں علاج کے لیے چل پڑوں گا۔‘‘ ان کی بھی ایک ہی ضد تھی۔
’’ابو آپ نے یہ کیا ضد لگالی ہے‘ صرف شادی ہی زندگی کا مقصد نہیں۔‘‘
’’باقی سب مقاصد تو پتر تو پورے کررہا ہے‘ بس یہ ایک فریضہ ہے جو رہ گیا ہے۔‘‘
’’ابو پلیز۔‘‘ ایاز کے لہجے میں تھکن اتر آئی تھی۔
’’شادی ہوگی تو میرا علاج ہوگا سوچ لو۔‘‘ وہ آنکھیں موند کے دوبارہ لیٹ گئے۔ ایاز تڑپ کر رہ گیا۔ یہ کیسی شرط رکھ دی تھی ابو نے؟ وہ بے بس ہوگیا۔
’’جیسے آپ کا حکم ابو‘ مانی کی شادی کے بعد آپ میرے لیے جو انتخاب کریں گے مجھے منظور ہوگا۔‘‘ بولتے ہوئے ڈھیروں ویرانی اس کے دل میں اتر آئی تھی۔ ابو خوشی سے اٹھ بیٹھے۔ ایاز بوجھل دل کے ساتھ مسکرایا۔ ندرت کے سامنے وہ اپنے آپ کو مجرم محسوس کررہا تھا۔ خود سے جدا کرکے جو تکلیف اس نے ندرت کو دی تھی اس کے بعد اسے اب کسی خوشی کا حق نہ تھا مگر آج اپنے والدین کے لیے وہ جھک گیا تھا۔ ایک دفعہ اس نے ندرت کے والد کی عزت کے لیے اپنے پیار کی قربانی دی تھی‘ آج اپنے والدین کی خوشی کے لیے ایک بار پھر قربان ہونا پڑرہا تھا۔ شاید یہی ندرت سے بدسلوکی کرنے کی سزا تھی۔ آج ابو کی ضد کے آگے وہ مجبور ہوگیا تھا۔ جس خوشی کے لیے اس نے ندرت کو مجبور کیا تھا کہ وہ اپنے والد کا فیصلہ مان لے‘ آج اس دوراہے پر وہ خود کھڑا تھا۔ ایک طرف اس کی محبت تھی‘ ندرت سے ہمیشہ وفا کرنے کا وعدہ تھا اور دوسری طرف والدین کی خوشی‘ آج پھر ماں باپ کی محبت جیت گئی۔ وہ ہار گیا تھا‘ دل پھر ماتم کناں تھا لیکن یہ ماتم تو ندرت کے دل نے بھی کیا ہوگا ناں… تو پھر آج ایاز کو بھی کوئی حق نہ تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کے حکم کے آگے سر نہ جھکاتا۔ فیصلہ ہوچکا تھا‘ کاتب تقدیر اس کی تقدیر لکھ چکا تھا۔
خ…ز…ز…خ
افراز صاحب کا علاج آخری مراحل میں تھا جب انہوں نے مانی کی شادی کی تاریخ رکھ دی۔ جب سے ایاز نے شادی کے لیے رضا مندی ظاہر کی تھی۔ مسز افراز کے تو پائوں خوشی سے زمین پہ نہیں پڑرہے تھے۔ وہ روز نت نئی تصاویر ایاز کو دکھا رہی تھیں۔
’’کمال ہے امی… آخر آپ کو اتنی تصاویر کہاں سے مل جاتی ہیں لڑکیوں کی؟‘‘ وہ حیران ہی رہ جاتا تھا۔
’’لو بھلا اس میں کیا مشکل‘ اتنا خوبرو اور کڑیل جوان بیٹا ہے میرا ماشاء اللہ… لڑکیوں کی مائیں مجھے خود دیتی ہیں۔‘‘ امی کا سر فخر سے بلند ہوا۔ ایاز کو ہنسی آگئی۔
’’بڈھا ہوگیا ہے آپ کا بیٹا امی۔‘‘ اس نے ماں کو تنگ کیا۔
’’چل جا… یہ تصویریں مائوں نے خود دی ہیں۔‘‘
’’خیر امی یہ تو ہوہی نہیں سکتا۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’لو جی‘ میں بھلا جھوٹ بول رہی ہوں کیا؟‘‘ مسز افراز کو غصہ آگیا۔
’’نہیں نہیں‘ میری پیاری امی… اتنا حسین‘ خوبرو نوجوان بیٹا ہے آپ کا… ظاہر ہے یہ تو ہوگا… بلکہ میرے خیال میں لڑکیاں تو کیا لڑکیوں کی امائیں بھی مجھ پہ فدا ہوتی ہوں گی۔‘‘ اس نے ماں کا مذاق اڑایا۔
’’ایاز…!‘‘ مسز افراز نے چپل اٹھالی۔ ایاز ہنستا ہوا کمرے سے نکل گیا۔
’’یااللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں اپنے بچے کی خوشیاں لوٹا دیں۔‘‘ ایاز کے لبوں کی ہنسی پر وہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتیں کم تھا۔
خ…ز…ز…خ
رنگین لہراتے آنچل‘ خوب صورت کھلکھلاتی لڑکیاں‘ ہنستے مسکراتے رشتہ دار‘ لان میں ہر طرف موجود تھے۔ ڈھلتے سورج کی نارنجی روشنی میں ابھی قمقموں سے آراستہ لان میں ان قمقموں کی جگمگاہٹ نظر نہیں آرہی تھی۔ ابٹن کی رسم مغرب کے بعد ہونا تھی۔ لڑکے والے ابھی آئے نہ تھے۔ کچھ مہمان ابھی بھی شام کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ اس نے ایک آخری نظر تمام انتظامات پر ڈالی۔ لان کے وسط میں خوب صورت پیلی چادریں اور گائوں تکیے نفاست سے رکھے ہوئے تھے۔ ہر طرف گیندے کے پھول اور برقی قمقمے سجاوٹ کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ تمام انتظام اس نے اپنی نگرانی میں کروایا تھا‘ ہر چیز خوب صورت لگ رہی تھی۔ وہ مطمئن ہوکر شاور لینے چل دیا۔ مہمانوں کے آنے سے پہلے ہی وہ تیار ہوکر باہر آنا چاہتا تھا‘ اسے لڑکے والوں کا استقبال کرنا تھا۔
’’بھیا؟‘‘ کمرے کے دروازے سے عاطفہ کی آواز آئی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ایاز نے برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا اور اسے دیکھا۔
’’کیا ہوا عاطفہ؟‘‘
’’پھولوں کے ہار ابھی تک نہیں آئے۔ جلدی سے آئو ناں باہر۔‘‘
’’وہ ڈرائیور کو کہا تھا میں نے۔ آنے ہی والا ہوگا۔‘‘ ایاز بیڈ پر بیٹھ کر موزے پہننے لگا۔
’’اچھا بھائی اب تم بھی جلدی سے باہر آجائو۔ لڑکے والے گھر سے نکل چکے ہیں۔‘‘ وہ اسے جلدی آنے کی تاکید کرکے واپس مڑگئی۔ ایاز جلدی جلدی جوتے پہن کر باہر آگیا۔ لان میں آکر اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑا کر جائزہ لیا‘ ساری جگہ خوب صورتی سے سجی ہوئی تھی۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا‘ مہمان آنا شروع ہوگئے تھے۔
’’اف کتنا خوب صورت ارینجمنٹ ہے ناں؟‘‘ پاس سے کھنکتی ہوئی آواز پر ایاز نے چونک کر اسے دیکھا۔ نازک سی‘ بوٹا سا قد‘ بڑے اسٹائل میں نفاست سے کیے گئے میک اپ سے آراستہ روشن چہرہ… وہ شاید کوئی مہمان تھی۔
’’آپ کے خیال میں اچھا لگ رہا ہے؟‘‘ ایاز نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔
’’کمال کا ہے جناب۔‘‘ وہ چہکی۔
’’شکریہ۔‘‘ ایاز ہلکا سا مسکرایا۔
’’آپ نے کروایا ہے؟‘‘ کافی خود اعتماد لڑکی لگ رہی تھی۔
’’جی میری ہی خدمات لی گئی ہیں اس کام کے لیے۔‘‘
’’آپ کیا ایونٹ منیجر ہیں؟‘‘ لڑکی نے بڑی ادا سے بال چہرے سے پیچھے کرتے ہوئے سوال کیا۔
’’کچھ ایسا ہی سمجھ لیں اور آپ؟‘‘ ایاز نے تعارف چاہا۔
’’میں…؟ میں دلہن کی فرینڈ ہوں‘ ارم نام ہے میرا۔‘‘ وہ اترا کر بولی۔
’’بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔‘‘ ایاز مسکرایا۔
’’کیوں؟ خوشی کی کیا بات ہے۔‘‘ ارم نے بڑے نخرے سے مسکرا کر پوچھا۔ ایاز نے اب کی بار ایک گہری نظر اس پر ڈالی۔ وہ اس کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی تھی۔
’’آں… ویسے ہی… خوب صورت لوگوں سے مل کر خوشی ہوتی ہے ناں؟ آپ کو مجھ سے مل کر خوشی نہیں ہوئی کیا؟‘‘
’’آپ خوب صورت ہیں؟‘‘ وہ ہنس کر اسے چھیڑ گئی۔ ایاز نے بھرپور قہقہہ لگایا۔
’’واقعی میں تو خوب صورت نہیں‘ پھر آپ مسکرا کیوں رہی ہیں مجھ سے بات کرکے؟‘‘ ارم کو تنگ کرکے ایاز کو مزا آرہا تھا۔ ایک عرصے کے بعد اس نے یوں کسی لڑکی سے بے تکلفی سے بات کی تھی۔
’’مجھے تو ماحول دیکھ کر خوشی ہورہی ہے … دیکھیں ناں کتنا پر رونق اور رنگین ماحول ہے۔ ہر طرف بہار ہی بہار ہے‘ فضاء معطر اور حسین۔‘‘ ارم کے کہنے پر ایاز نے نظر گھما کر اپنے چاروں طرف دیکھا۔
’’کیا یہاں رنگ پھیلے ہوئے ہیں‘ فضا رنگین ہے؟‘‘ اس نے حیرت سے سوچا… چند لمحوں پہلے والا موڈ بالکل پس پردہ جاچکا تھا‘ اب وہ سنجیدہ ہوگیا تھا۔
’’واقعی اچھا ڈیکوریٹ کیا ہے اس کمپنی نے‘ کافی لوگوں کے مشورے کے بعد میں نے انہیں منتخب کیا تھا‘ ان کی ڈیوٹی تھی ایسا ماحول بنانے کی۔‘‘ وہ خشک لہجے میں بولا۔
’’آپ تو بڑے ہی بور انسان ہیں۔ اتنا تو رومانٹک ماحول ہورہا ہے۔‘‘ وہ چمکتی آنکھوں سے اپنے اردگرد کے ماحول کو انجوائے کررہی تھی۔ ایاز کو اپنے اردگرد ایک دم سناٹا سا محسوس ہونے لگا تھا۔
’’آئیے میں آپ کو مانی کے پاس لیے چلتا ہوں۔‘‘ وہ اندر کی طرف چل دیا۔ ساتھ اٹھلاتی ارم اب اس کی توجہ کا مرکز نہیں تھی مگر ارم کو ایاز بھا گیا تھا۔ شادی کے فنکشنز میں وہ ایاز کے آس پاس منڈلاتی رہی۔ ایاز کو وہ کیوٹ لگی تھی‘ جیسے کوئی چھوٹی سی بگڑی ہوئی بچی… چاہنے کے باوجود وہ ارم سے بدمزاجی کا اظہار نہیں کرسکا تھا۔
مسز افراز کی نظروں سے کچھ پوشیدہ نہ تھا۔ اتنے سالوں میں پہلی بار انہوں نے ایاز کو یوں کسی لڑکی سے بات کرتے دیکھا تھا۔ وہ نہال ہوگئی تھیں۔ شادی کے ہنگامے سرد پڑے تو گھر میں اداسی پھیل گئی۔ مانی کی کمی سب شدت سے محسوس کررہے تھے۔
’’مانی کے بغیر گھر کتنا سونا سونا ہوگیا۔‘‘ وہ میاں کو سوپ دیتے ہوئے بولیں۔
’’میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ بس اب جلدی سے ایاز کے لیے لڑکی ڈھونڈو… ابھی میں نے اسے منایا ہوا ہے‘ یہ نہ ہو کہ وہ پھر مکر جائے۔ اس نے شادی کے لیے ہامی صرف میری خواہش پوری کرنے کے لیے بھری ہے۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ وہ ابھی تک ندرت کو نہیں بھولا۔ سنبل بس تم اس کام میں دیر مت کرو۔‘‘
’’افراز میں بھی ماں ہوں‘ خوب جانتی ہوں بیٹے کے دل کا حال… مجھے لگتا ہے وہ ندرت کو کبھی بھی نہ بھول پائے گا۔ بس دعا تو یہ ہے کہ وہ اپنا گھر بسالے… ایک دفعہ شادی ہوجائے تو اپنی زندگی میں مصروف ہوجائے گا۔‘‘ دونوں ماں باپ سوچ میں پڑگئے تھے۔
’’سنیں؟‘‘ سنبل کچھ سوچ کر بولیں۔
’’ہاں بولو۔‘‘
’’مانی کی دوست ارم سے تو ملے ہیں ناں آپ؟‘‘
’’ہاں اور اس کے والدین سے بھی کافی ملاقات رہی شادی کے دوران۔‘‘ وہ کچھ کچھ بیوی کی بات سمجھ رہے تھے۔
’’میں نوٹ کررہی تھی کہ ان تمام دنوں میں ایاز کی ارم سے کافی دوستی ہوگئی ہے۔ آپ مناسب سمجھیں تو بات کروں ارم کے لیے؟‘‘ انہوں نے میاں سے مشورہ کیا۔
’’کافی پیاری بچی ہے‘ مناسب رہے گی ایاز کے لیے۔ بس تم پہلے ایاز سے بات کرلو بلکہ آج ہی کرلینا۔ کل اسے واپس جانا ہے۔‘‘
’’ہاں شام کو ہی کرتی ہوں۔‘‘ وہ خالی سوپ کا پیالہ لے کر اٹھنے لگیں۔
’’سنبل۔‘‘ میاں کی آواز پر انہوں نے رک کر انہیں دیکھا۔
’’یار ابھی کرلو… ایسا نہ ہو کہ بعد میں تمہیں موقع ہی نہ ملے۔‘‘ افراز صاحب کے لہجے میں بے چینی تھی۔
’’افراز اتنی جلدی بھی ٹھیک نہیں… ویسے بھی وہ ابھی اپنے دوستوں سے ملنے اسپتال گیا ہوا ہے۔‘‘ وہ ہنس دیں… افراز صاحب بھی ہنس دیے۔ شام ہوتے ہی مسز افراز بیٹے کے کمرے میں موجود تھیں۔
’’تم سے ضروری بات کرنا تھی ایاز۔‘‘ وہ کمرے میں داخل ہوئیں تو ایاز تولیے سے بال خشک کررہا تھا۔ شاید نہا کر نکلا تھا۔
’’امی آپ باہر لان میں چائے لگوائیں‘ بس میں دو منٹ میں آیا۔‘‘ اس نے تولیہ کرسی پر پھینکا… مسز افراز نے تنبیہی نظر اس پر ڈال کر تولیے کو دیکھا… ایاز شرمندگی سے مسکرادیا۔
’’اچھا بابا… ابھی باتھ روم میں لٹکادوں گا۔‘‘
’’تیرے لیے بیوی کا ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘ وہ کہتی ہوئی چائے لگوانے چل دیں۔
’’صرف ایک تولیے کے پیچھے۔‘‘ ایاز نے ان کے پیچھے سے آواز لگائی۔ وہ ہنس دیں۔
لان میں ابو کو بھی بیٹھے دیکھ کر وہ مسکرادیا۔
مانی کی شادی میںتمام وقت ابو کی طبیعت گری گری سی تھی۔ دوائوں کے اثر سے نڈھال رہتے تھے۔ مگر اب آہستہ آہستہ وہ پہلے سے بہتر لگ رہے تھے۔ عرشہ اور عاطفہ کے جانے کے بعد وہ زیادہ تر کمرے میں ہی رہتے تھے۔ ایاز نے مزید ایک ماہ کی چھٹی لے لی تھی۔ آج کتنے عرصہ بعد ابو باہر لان میں آئے تھے۔ ایاز کو تسلی ہوئی۔ کل اسے واپس جانا تھا اور وہ ابو کے لیے کافی فکرمند تھا۔
’’ابو آپ کو لان میں دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔‘‘ ایاز کا موڈ خوش گوار تھا‘ ابو بھی مسکرادیے۔
’’ہاں تو امی‘ آپ کچھ بات کرنا چاہ رہی تھیں؟‘‘ اس نے ماں کی جانب دیکھا۔
’’تم سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھیں۔‘‘ مسز افراز نے تمہید باندھی۔
’’جی پوچھیں۔‘‘
’’وہ… تمہیں ارم کیسی لگی؟‘‘ انہوں نے یک دم ہی پوچھ لیا۔
’’کون ارم؟‘‘ ایاز نے حیرت سے ماں کو دیکھا۔ اسے واقعی یاد نہیں آیا۔
’’اس کا کیا مطلب ہے؟ میں نے خود تمہیں اس سے بارہا باتیں کرتے دیکھا ہے۔‘‘ مسز افراز کو شک ہوا کہ وہ انجان بن رہا ہے۔
’’ مجھے بات کرتے دیکھا…! کب؟‘‘
’’زیادہ بنو مت۔‘‘ وہ خفا ہوئیں۔
’’قسم سے امی مجھے یاد نہیں۔‘‘ ایاز واقعی کنفیوز ہوا۔
’’مانی کی شادی میں‘ وہ جو مانی کی دوست تھی ارم‘ تب تو اس سے بڑا ہنسی مذاق ہورہا تھا۔‘‘ وہ تھوڑا جل کر بولیں۔
’’اوہ… وہ لڑکی… ارے امی آپ بھی کمال کرتی ہیں وہ تو چھوٹی بچی ہے۔‘‘ ایاز ایک دم یاد کرکے بولا۔
’’بچی کا کیا مطلب ہے‘ مانی کی ہم عمر ہے‘ ہم بھی تو ابھی اپنی مانی کی شادی سے فارغ ہوئے ہیں۔ اس کی شادی کی عمر ہے‘ ظاہر ہے اس کے والدین بھی اس کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے۔‘‘ افراز صاحب نے بات بڑھائی۔
’’مگر ابو مانی مجھ سے دس سال چھوٹی ہے۔‘‘ ایاز نے حیرت سے اپنے والدین کو دیکھا۔ وہ نہایت سنجیدہ تھے۔
’’تو…؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اچھی پیاری لڑکی ہے‘ خوب صورت ہے‘ ہمارے اسٹیٹس کی ہے‘ جٹ فیملی ہے اور کیا چاہیے۔‘‘ مسز افراز بولیں۔
’’امی پلیز… اس کی اور میری عمر میں کافی فرق ہے۔ میں نے اس طرح بالکل بھی نہیں سوچا۔‘‘ ایاز نے ابھی اتنا اس بارے میں سوچا ہی نہ تھا۔
’’تو اب سوچ لو۔ ہم کون سا ابھی رشتہ لے کر جارہے ہیں۔ بات ہی تو کررہے ہیں بس تم سوچو تو سہی۔‘‘ مسز افراز نے جلدی سے کہا۔
’’امی پلیز اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے۔ مجھے کچھ وقت اور دیں۔‘‘ ایاز گھبرا گیا۔ وہ ابھی تک ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہ تھا۔ دل کی دنیا پر تو ابھی تک ندرت قابض تھی۔ ایسے میں وہ کسی اور سے کوئی رشتہ کیسے قائم کرتا… اسے وقت چاہیے تھا۔
’’ہیں… یہ بھی جلدی ہے۔ اتنے سال گزر گئے‘ بتیس سال کے ہوگئے ہو اور کتنا وقت چاہیے تمہیں۔‘‘ مسز افراز کو غصہ آگیا۔ کتنی فضول باتیں کررہا تھا وہ۔ ایاز کا بھی منہ بن گیا۔
’’سنبل پلیز… جلد بازی کی ضرورت نہیں۔‘‘ افراز نے صاحب کہا۔
’’ایاز تم ماں کی بات کو ذہن میں رکھو‘ ابھی کسی فیصلے کی ضرورت نہیں‘ تم اچھی طرح سوچو اس بارے میں‘ پھر ہم دوبارہ اس پر بات کریں گے۔‘‘ افراز صاحب کی بات پر ایاز مطمئن ہوا۔ تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔
’’افراز…؟ مگر… ایاز…‘‘ سنبل نے دونوں کو دیکھا۔
’’میں تنگ آگئی ہوں آپ دونوں سے۔‘‘ انہوں نے غصے سے کہا اور میاں کے لیے چائے انڈیلنے لگیں۔ دونوں باپ بیٹا مسکرادیے۔
خ…ز…ز…خ

ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں طاقت جگر میں حال کہاں

ایاز اپنا سامان پیک کرکے بستر پر آلیٹا۔ کل اس کی واپسی تھی۔ امی ابو کی باتیں اس کے دماغ میں گونج رہی تھیں۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ سوچیں بار بار ماضی کی جانب رخ کررہی تھیں اور وہ مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا… ندرت کی شبیہہ اس کی آنکھوں میں اتر آئی۔ اس نے آنکھیں موند کر ارم کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی مگر اس کے خدوخال ندرت میں گڈمڈ ہو کر رہ گئے۔ وہ بے چینی سے اٹھ بیٹھا۔ اس وقت اسے ایک جام کی شدت سے طلب ہورہی تھی وہ ان سوچوں کو دھندلا دینا چاہتا تھا‘ مگر یہاں اس کے ماں باپ تھے‘ وہ یوں انہیں ٹھیس نہیں پہنچا سکتا تھا۔ وہ دوبارہ لیٹ گیا‘ نگاہیں چھت کو گھور رہی تھیں۔ ماضی کے در ایک کے بعد ایک کھلتے چلے جارہے تھے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ٹیبل لیمپ آف کردیا۔ ساری رات اب آنکھوں میں کٹنا تھی۔
صبح اس کی بے حد سرخ آنکھیں اس کی بے خوابی کی چغلی کھا رہی تھیں۔ مسز افراز نے ان آنکھوں سے نگاہیں چرالیں… جانتی تھیں بیٹا کس مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے مگر کیا کرتیں‘ وہ یوں اپنے بیٹے کو کب دیکھ سکتی تھیں… وہ اس لڑکی کے پیچھے اپنی زندگی برباد کررہا تھا۔ اس کی شوخیاں‘ چلبلاپن‘ مستیاں جانے کہاں گم ہوگئی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہے‘ جو اس کی خوشیوں کو کھا گئی تھی۔
ماں کا دل بیٹے کی حالت پہ زار زار روتا تھا۔ اس لڑکی پہ انہیں آج بھی شدید غصہ تھا۔ وہ تو شکر ہوا کہ اس کے والد کی ضد سے ایاز ہار گیا ورنہ آج وہ مصیبت ان کے گلے پڑی ہوتی۔ ایاز کے لیے وہ چارو ناچار مان تو گئی تھیں مگر اندر ہی اندر وہ اس رشتے کے سخت خلاف تھیں۔ مگر بیٹے کا یہ حال ہوجائے گا‘ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا چند ماہ میں ایاز بھول بھال جائے گا‘ کون سی دونوں کی عرصہ دراز کی محبت تھی‘ چند دن کی دوستی ہی تو تھی… مگر ایاز نے تو روگ ہی لگا لیا تھا۔
انہیں اچھی طرح یاد تھا کہ عاطفہ کی شادی پہ انہوں نے کتنا ایاز کو شادی کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ اس ذکر پر ایسے بن جاتا جیسے اسے موت کا حکم سنا دیا گیا ہو۔ عجیب سی حالت ہوگئی تھی اس کی۔ شادی کے اگلے ہی دن وہ واپس چلا گیا تھا۔ تب سے انہوں نے یہ ذکر ہی ختم کردیا تھا مگر اب میاں کی اس خطرناک بیماری کا سن کر ان کی دنیا ہی ہل گئی تھی۔ دونوں میاں بیوی اب اپنے بیٹے کی خوشی دیکھنا چاہتے تھے‘ اسے آباد اور ہنستا بستا دیکھنا چاہتے تھے‘ اب یہ متورم آنکھیں اور اجڑا حلیہ انہیں ڈگمگا نہیں سکتا تھا۔
’’امی میں ذرا باہر جارہا ہوں۔‘‘ ایاز ملگجے شلوار کرتے میں ہی بکھرے بالوں کو ہاتھوں سے ٹھیک کرتا ان کے پاس کچن میں آیا۔
’’اتنی صبح… کہاں جارہے ہو؟‘‘ انہوں نے مڑ کر اسے دیکھا۔ رات کے مسلے کپڑوں میں بھی اس کی وجاہت نمایاں تھی‘ ماں کی نظروں نے جلدی جلدی اس کی بلائیں لیں‘ وہ اس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکنے لگیں۔
’’ابھی تک آپ کی یہ عادت نہیں گئی۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرایا۔
’’ماں ہوں ناں… کیا کروں؟‘‘
’’بس ابھی آیا۔‘‘ وہ ماں کے ماتھے پہ بوسہ دے کر باہر نکل گیا۔
’’ناشتہ تو کرتے جائو۔‘‘ انہوں نے آواز دی مگر وہ جاچکا تھا۔ آج جانے کتنے سالوں بعد وہ اس کے گھر کے گیٹ کے باہر کھڑا تھا۔ گاڑی اس نے اسی جگہ روک دی جہاں اس نے آخری بار ندرت کو اتارا تھا۔ وہ دیر تک گھر کو تکتا رہا‘ گھر کے چاروں طرف پھول کھلے تھے مگر کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔
’’ظاہر ہے اتنی صبح کون اٹھ کر باہر آتا۔‘‘ اس نے سوچا۔
’’اور جس کی ایک جھلک دیکھنے میں یہاں بے وقوفوں کی طرح چلا آیا ہوں… وہ بھلا کب اب یہاں رہتی ہے۔‘‘ ایاز کو اپنے پاگل پن پر ہنسی آئی۔ وہ تو کب کی شادی کرکے یہاں سے جاچکی تھی یہ اطلاع بھی امی نے ہی اسے دی تھی۔ اس کے بارے میں ہر خبر امی گاہے بگاہے اسے دیتی رہتی تھیں کہ وہ کتنی شاد وآباد ہے اور اب ایاز کو بھی گھر بسا لینا چاہیے۔
ایاز نے ایک نگاہ دوبارہ گھر پر ڈالی اور گاڑی آگے بڑھادی۔ قائد اعظم لائبریری کی پارکنگ میں گاڑی مقفل کرکے وہ اندر آگیا۔ لائبریری میں صفائی ہورہی تھی۔ وہ سیدھا اس میز کی طرف بڑھا جو ندرت نے اپنے لیے مخصوص کی ہوئی تھی۔ لائبریری کے ملازم حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے مگر اسے کسی کی پروا نہیں تھی۔ یادیں ابھرتی چلی آرہی تھیں۔ کتنی گھبراتی تھی وہ جب وہ یہاں چلا آتا تھا‘ اور خوب شور کرتا تھا۔ ایاز مسکرادیا۔ اف آج عرصے بعد وہ یہاں آیا تھا‘ اس سے پہلے تو وہ اسی رستے کا سوچتا بھی تھا تو اس کا دم گھٹنے لگتا تھا لیکن آج یہاں آکر اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے اسی میز پر کب سے بیٹھا تھا۔
’’سر آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘ نسوانی آواز پر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔
’’آپ؟‘‘ ایاز نے اس سے سوال کیا۔
’’میں یہاں کی لائبریرین ہوں۔‘‘
’’مگر یہاں تو میڈم عنبرین ہوا کرتی تھیں۔‘‘ وہ کھڑا ہوا۔
’’انہیں تو گئے ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں۔ اب تو میں یہاں کی انچارج ہوں۔‘‘
’’اچھا… اچھا…‘‘
’’مجھے لگا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں‘ سوری میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا۔‘‘
’’ارے نہیں‘ میں بس جانے ہی والا تھا۔ تھینک یو۔‘‘ وہ باہر نکل آیا‘ اب وہاں سب نئے چہرے تھے۔ اس کا کوئی کام نہیں تھا وہاں۔ زندگی کتنی آگے نکل آئی اسے پتا ہی نہ چلا۔ اتنے سال جس کے تصور میں اس نے گزار دیے وہ اب کہاں تھی؟ وہ تو بس اس کی یادوں میں ہی رہ گئی تھی۔ اداسی کی چادر اس کے گرد لپٹنے لگی۔ اس نے گاڑی گھر کی طرف موڑ دی۔

وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز ماہ و سال کہاں
تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی خیال کہاں

خ…ز…ز…خ
امی ابو دونوں ناشتے پہ اس کا انتظار کررہے تھے۔ انہوں نے امید بھری نگاہوں سے اسے دیکھا… ایاز شرمندہ ہوگیا۔ کتنی امیدیں لگائے بیٹھے تھے وہ دونوں۔
’’ابو…‘‘ وہ کچھ کہنے لگا‘ تب ہی افراز صاحب نے اسے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
’’پہلے ناشتہ کرلو۔‘‘ وہ خاموشی سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ وہ فیصلہ کرچکا تھا‘ پہلے اس نے ندرت کے والدین اور ندرت کی خوشی کے لیے ایک فیصلہ کیا تھا اور آج اسے اپنے ماں باپ کے لیے فیصلہ کرنا تھا اور وہ کرچکا تھا۔ اب اس کا ضمیر مطمئن تھا مگر دل بری طرح بے چین تھا۔
’’کتنے خود غرض ہو ایاز… صرف ضمیر کا خیال کرتے ہو۔ میرا کبھی سوچا؟‘‘ دل نے دہائی دی۔
’’پہلے ندرت کا دل توڑا مگر اس کی اور اس کے والدین کی خوشی کے لیے میرے جذبات کی قربانی دے دی اب اپنے والدین کی خوشی کا خیال ہے مگر میں… میری خوشی کا کون سوچے گا؟‘‘ دل کہہ رہا تھا مگر ایاز نے کان بند کرلیے تھے۔ آج تک اس نے اپنے دل کی سنی ہی کب تھی۔ وہ تڑپتا رہا اور ایاز آرام سے ناشتہ کرتا رہا۔
’’ابو مجھے بس ایک ہفتے کی مہلت دے دیں۔ فیصلہ آپ کی مرضی کا ہی ہوگا‘ بس یہ چند دن مجھے درکار ہیں۔‘‘ وہ ان دونوں کو بتاکر کمرے میں آگیا۔ دونوں ماں باپ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ ایک ہفتہ تو پلک جھپکتے گزر جاتا۔ ایاز دوپہر تک واپس چلا گیا مگر وہ دونوں ہرگز اداس نہیں تھے۔ اچھے دنوں کی آس ان کے دل کو منور کیے ہوئے تھی۔
خ…ز…ز…خ
وہ صبح سے مریض دیکھ رہا تھا۔ جب عامر اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ ایاز نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر مریض کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’کیسا رہا لاہور کا چکر؟‘‘ عامر اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ایاز نے جواب دینے سے پہلے سامنے بیٹھے مریض کو فارغ کیا۔
’’ویسے عامر تو بالکل نہیں بدلا… مریض بیٹھا ہے اور تو شروع ہوگیا‘ تو کبھی نہیں بدلے گا کیا؟ یار اب تو بڑا ہوجا۔‘‘ ایاز ہنس کر بولا۔
’’تو جو اتنا بدل گیا ہے‘ کیا یہ کافی نہیں؟‘‘ عامر ڈھیٹ بن کر بولا۔ ’’اچھا یہ بتائو فارغ کب تک ہوجاؤ گے؟‘‘ عامر نے اس سے پوچھا۔
’’تم فارغ ہوگئے؟‘‘ ایاز نے جواباً اس سے پوچھا۔
’’میں تو فارغ ہی رہتا ہوں۔‘‘
’’یہ بھی ہے۔‘‘ اسے دیکھ کر ایاز کو خوشی ہوئی‘ اگرچہ ابھی اس کے کافی مریض رہتے تھے مگر وہ بریک لینا چاہ رہا تھا۔
’’چل تو پھر اچھی سی کافی پیتے ہیں چل کر۔‘‘ ایاز نے اپنا اسٹیتھسکوپ میز پر رکھا اور کھڑا ہوگیااور پھر وہ دونوں کمرے سے نکل گئے۔ بلال بھی آنے والا تھا۔ عرصے کے بعد تینوں دوست اکھٹے ہورہے تھے۔
خ…ز…ز…خ
’’آصف پلیز سونو کو کاٹ میں لٹا دیں گے۔‘‘ ندرت نے بیٹا میاں کے حوالے کیا۔
’’کیا کرنے لگی ہو؟‘‘ اس نے بیٹے کو گود میں لے لیا مگر کاٹ میں نہیں لٹایا۔ وہ کچھ دیر اسے گود میں لیے رہنا چاہتا تھا۔
’’ویسے ہی کچھ لکھنے کو دل کررہا تھا۔‘‘ وہ اپنی ڈائری اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔
’’وہ یاد آرہا ہے؟‘‘ آصف نے دھیرے سے ڈائری اس کے ہاتھ سے لے لی۔
’’ہاں…‘‘ مختصر سا جواب دیا۔
’’تو پھر مجھ سے باتیں کرو… بعد میں لکھ لینا…‘‘ وہ سونو کو گود میں لیے ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔ وہ بھی پاس ہی بیٹھ گئی۔
’’ایک بات پوچھوں؟‘‘ سونو کو میاں کی گود میں دیکھتے ہوئے ندرت نے آصف سے سوال کیا۔
’’ہاں پوچھو۔‘‘
’’سونو کا نام آپ نے ایاز کیوں رکھنے دیا؟‘‘
’’کیونکہ تمہیں یہ نام پسند ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔
’’مگر آپ نے اجازت ہی کیوں دی؟ آپ تو سب کچھ جانتے ہیں اور اس وقت میں آپ سب کو ستانے کے موڈ میں تھی۔‘‘
’’تم یہ نام بدلنا چاہتی ہو؟‘‘ آصف نے سوال کے جواب میں سوال کیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’تو پھر اس سوال کا کیا مقصد؟‘‘
’’بس آپ جواب دیں۔‘‘ اس نے ضد کی۔
’’اس لیے کہ میڈم ندرت‘ آپ مجھے بے حد پسند ہیں اور آپ کو ایاز‘ تو اس طرح مجھے بھی ایاز پسند ہوا ناں۔‘‘ آصف نے بیٹے کو پیار سے چوما… ندرت نے غور سے میاں کو دیکھا۔ کیا وہ طنز کررہے تھے؟ مگر آصف کے چہرے پر صرف پیار کے تاثرات تھے۔
’’میں اسے بھول جانا چاہتی ہوں۔‘‘ ندرت نے سنجیدگی سے کہا۔
’’اور میں یہ نہیں چاہتا۔‘‘ آصف نے بھی سنجیدگی سے کہا۔
’’مگر کیوں؟ آخر آپ کس قسم کے مرد ہیں۔‘‘ وہ زچ ہوئی۔
’’اس لیے کہ وہ تمہاری زندگی کا ایک اہم حصہ تھا اور آج بھی ہے‘ اگر تم اس سے جدا ہوگی تو ادھوری رہ جائو گی اور مجھے اپنی ندرت مکمل چاہیے۔‘‘
’’تو کیا آپ کے خیال میں‘ میں مکمل ہوں؟ کیا آپ کو ایک مکمل بیوی ملی ہے؟‘‘ اس نے افسردگی سے پوچھا‘ اس کا ضمیر اسے ہمہ وقت ستاتا رہتا تھا۔ اتنے عظیم انسان کے لیے ایک مکمل عورت ہونی چاہیے تھی۔
’’سنو ندرت…‘‘ آصف اس کے چہرے کے اتار چڑھائو کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔
’’تم نے مجھے سچے دل سے اپنایا ہے۔ مجھے کسی دھوکے میں نہیں رکھا… مجھے مکمل پیار اور عزت دی‘ ایک اچھی بیوی ہونے کا پورا پورا حق نبھایا‘ تو پھر تم مکمل ہی ہوئیں ناں؟‘‘ آصف نے بڑے پیار سے انگلیاں مروڑتی ندرت کو دیکھا۔
’’اور وہ پیار جو میں نے ایاز سے کیا؟‘‘ پتا نہیں وہ کیا سننا چاہ رہی تھی۔ وہ یہ سوال آصف سے کررہی تھی یا کہ اپنے آپ سے اس کی سمجھ میں خود نہیں آرہا تھا۔
’’کبھی سمندر سے پانی نکال کر کسی نے سوچا ہے کہ اس کا پانی کم تو نہیں ہوگیا۔ بس بالکل اسی طرح تمہارا پیار بھی ہے ندرت… تم نے اسے چاہا تو پورے دل کے ساتھ‘ مجھے پیار دیا تو پوری دیانت داری کے ساتھ۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ وہ بدقسمت تھا‘ تمہارا پیار نہ پاسکا اور میں خوش قسمت ہوں کہ وہ سارا پیار میری جھولی میں آگیا۔‘‘
’’نہیں آصف… ایسے نہ کہو… اللہ نہ کرے کہ وہ بدقسمت ہو‘ میں نے برسوں اس سے نفرت کرنے کی کوشش کی‘ اسے مورد الزام ٹھہرانا چاہا مگر ایسا کر نہیں پائی۔ ہمیشہ اسے بے وفا کہا‘ خود غرض سمجھا‘ ڈرپوک جانا مگر وہ یہ سب نہیں تھا آصف‘ وہ بہت کھرا تھا‘ اس نے میرے باپ کی انا کی خاطر اپنا پیار قربان کردیا۔ وہ جانتا تھا کہ اپنے ڈیڈ کو دکھی کرکے میں کبھی خوش نہ رہ پائوں گی مگر مجھ میں فیصلہ کرنے کی ہمت نہ تھی۔ وہ مجھے فیصلہ کرنے کے عذاب سے بھی بچا گیا تھا۔ مجھے اپنے ماں باپ کی حکم عدولی کرنے کے گناہ سے بچا گیا تھا۔ اس نے مجھے اپنے رب کے آگے سرخرو ہونے کا موقع دیا۔ آصف اس نے خود کو میری نظروں میں گرا دیا مگر مجھ پر آنچ نہ آنے دی۔ وہ اچھا ہے آصف بہت اچھا… اسے بدقسمتی کی بددعا نہ دو۔‘‘ ندرت ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو دی۔
آصف نے سوئے ہوئے سونو کو کاٹ میں لٹایا اور ندرت کے بالکل قریب بیٹھ کر اس کے ہاتھ تھام لیے۔ ندرت کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے گالوں پہ بہہ رہے تھے۔ آصف کو بہت دکھ ہوا۔ یہ پیاری سی لڑکی کتنی دکھی تھی۔ ایک ہاتھ سے اس نے دھیرے سے ندرت کا چہرہ اوپر کیا اور اس کے آنسو پونچھے۔
’’اب میں تم سے ایک بات پوچھوں؟‘‘
’’جی؟‘‘ وہ اب بھی سسک رہی تھی۔
’’کیا تم اب بھی اس سے پیار کرتی ہو؟‘‘ ندرت نے چونک کر آصف کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں جھک گئیں۔
’’ندرت… میری آنکھوں میں دیکھ کر جواب دو… بالکل اسی طرح جیسے منگنی سے ایک رات پہلے مجھ سے مل کر مجھے بتایا تھا کہ تم ایاز سے پیار کرتی ہو اور ہمیشہ کرتی رہوگی۔ کسی اور کے لیے تمہارے دل میں کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
’’آصف پلیز‘ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں؟‘‘ وہ سہم گئی۔ یہ کس رخ پہ بات چل نکلی تھی۔ اس سے پہلے آج تک یوں کھلم کھلا ایاز کا ذکر صرف منگنی سے ایک رات پہلے ہوا تھا اور تب وہ اس شخص کی بیوی نہیں تھی۔ اس کے بچے کی ماں بھی نہیں تھی۔
’’تم نے آج تک کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولا ندرت… تمہاری خاموشی کا کیا مطلب سمجھوں؟‘‘
’’آصف آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘
’’کیا تم اس سے پیار کرتی ہو؟‘‘
’’آصف…‘‘
’’کرتی ہو؟‘‘
’’ہاں کرتی ہوں‘ بہت زیادہ۔‘‘ وہ سسک پڑی۔ آصف کا چہرہ زرد پڑگیا۔
’’تمہارے دل میں اب بھی کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہیں؟‘‘ وہ آج اپنے ہر سوال کا جواب چاہتا تھا۔
’’آج؟‘‘ اب ندرت ہر آنے والے طوفان کا سامنا کرنے کو تیار تھی۔
’’آج بھی میرے دل میں صرف ایک ہی شخص کی جگہ ہے آصف‘ میں بٹی ہوئی محبت نہیں کرسکتی۔‘‘ ندرت نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال کر خود اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
’’میں نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا… ہاں مجھے آج بھی ایاز پیارا ہے… اس نے میرا بھرم رکھا… میرے ماں باپ کی عزت کی حفاظت کی… اس نے مجھے دوسروں کے لیے جینا سکھایا۔ میں کیسے اس سے پیار نہ کروں آصف اس نے…‘‘ وہ بولتے ہوئے رکی۔ آصف کی آنکھوں میں اترتے حزن کے بادل اسے صاف نظر آرہے تھے مگر آج اسے بولنا تھا۔
’’اس نے پتا ہے کیا کیا آصف؟‘‘
’’کیا؟‘‘ آصف نے سرگوشی میں پوچھا۔ اس کے دل ودماغ میں طوفان تھا۔ اس لڑکی کو آصف نے ٹوٹ کر چاہا تھا‘ ندرت سب دیکھ رہی تھی۔
’’آصف سن رہے ہیں ناں‘ میں آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں کہ اس نے مجھ پر کیا احسان کیا؟‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ ہنوز سکتے میں تھا۔
’’اس نے مجھے چھوڑ دیا آصف‘ یہ اس کا مجھ پر سب سے بڑا احسان تھا۔‘‘
’’کیا…! یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ آصف نے ناسمجھی سے بیوی کو دیکھا۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہوں‘ میں تاعمر اس سے پیار کروں گی‘ اس کی احسان مند رہوں گی کیونکہ اس کی وجہ سے مجھے آپ جیسا انسان مل گیا‘ میرے دل میں اب سوائے آپ کے نہ تو کسی اور کی جگہ ہے نہ گنجائش ہے اور نہ کبھی ہوگی۔‘‘ اور آصف کا دل جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا۔
’’ندرت…!‘‘ اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے‘ ندرت نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کرادیا۔
’’آج بس آخری بار ہم اس موضوع پر بات کریں گے۔ ہر بات… اس کے بعد یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔ وعدہ کریں آصف۔‘‘ وہ آج سب کچھ کہہ دینا چاہتی تھی۔
’’میں وعدہ کرتا ہوں۔‘‘
’’پاپا کو میں نے کبھی معاف نہیں کیا۔ انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی مجھ سے میری خوشیاں چھین لیں۔ اگر کوئی انکار کی ٹھوس وجہ ہوتی تو میں خود ہی ان کے ہر فیصلے پر سر جھکا دیتی مگر ایسا کچھ بھی نہیں تھا آصف‘ انہوں نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا تھا مگر اب میں نے انہیں بھی معاف کردیا ہے۔ آپ کو میرے رب نے مجھے تحفے میں عطا کیا ہے‘ اب نہ تو مجھے کوئی شکایت ہے نہ گلہ۔‘‘ ندرت نے محبت لٹاتی نگاہوں سے اپنے شوہر کو دیکھا… آصف نے اسے سینے سے لگا لیا۔ آج کا دن اس کے لیے خوشیاں لے کر آیا تھا۔
’’اوہ… ایک بات رہ گئی۔‘‘ اس نے ذرا پیچھے ہٹ کر ندرت کی ٹھوڑی اوپر کی۔
’’وہ کیا…؟‘‘ ندرت نے استفہامیہ نگاہ سے اسے دیکھا۔
’’تو کیا اب یہ ڈائری لکھنا بند کردو گی۔‘‘ آصف نے اسے چھیڑا۔
’’ہرگز نہیں۔‘‘ اس نے برجستہ جواب دیا۔
’’یعنی کہ ایاز کو یاد کرتی رہوگی۔‘‘ وہ خوشدلی سے ہنس دیا۔
’’بالکل وہ میری شاعری‘ میری لکھائی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
’’اور میں؟‘‘
’’آپ میری زندگی‘ میری روح اور…‘‘ وہ رکی۔
’’اور…؟‘‘
’’اور میری وکالت کا۔‘‘ آصف نے زور دار قہقہہ لگایا۔
’’ویسے یار جہاں سے بات شروع ہوئی تھی اب سوچتا ہوں ایاز نام رکھ کر اچھا ہی کیا‘ ہمارا بیٹا فرماں بردار ہوگا۔‘‘
’’اور شوخ بھی۔‘‘ ندرت نے مسکرا کر کہا۔
’’پھر تو اس پر نظر رکھنی پڑے گی… دیکھو ناں نام کا اثر آتا ہے۔‘‘ دونوں ہنس دیے۔
خ…ز…ز…خ
بلال کی شادی ہونے والی تھی۔ فائزہ بھابی مسلسل اسے چھیڑ رہی تھیں۔ ساتھ ساتھ وہ ایاز کو بھی شادی کے مشورے دے رہی تھیں۔ بلال تو ڈھیٹ بن کر اپنی منگیتر کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہا تھا مگر ایاز بس خاموش بیٹھا مسکراتا رہا کہہ بھی کیا سکتا تھا… عامر نوٹ کررہا تھا کہ وہ اس موضوع سے کچھ گھبرا رہا ہے مگر فائزہ کے احترام میں کچھ بول نہیں رہا۔ اب بھی وہ ایاز کے پیچھے پڑی ہوئی تھی۔
’’آخر بھائی آپ شادی کرتے کیوں نہیں؟‘‘
’’کرلوں گا بھابی‘ کوئی ملے بھی تو۔‘‘ اس نے ہنس کر بات ٹالی۔
’’خیر یہ تو کوئی وجہ نہیں‘ عامر بتاتے رہتے ہیں کہ آپ کی خواتین کے حلقے میں کافی جان پہچان ہے اور لڑکیاں آپ پر مرتی ہیں۔‘‘ ایاز کچھ بول نہ پایا۔
’’کچھ کہا نہیں آپ نے…‘‘
’’یہ تو پرانی باتیں ہیں بھابی۔‘‘ اس نے اپنے گرد بڑھتی یادوں کو پرے دھکیلا۔
’’اچھا اب بس بھی کرو… تم تو پیچھے ہی پڑگئی ہو۔‘‘ عامر سے ایاز کی سوچیں پوشیدہ نہ تھیں۔
’’میں تو بس یہی…‘‘ فائزہ شرمندہ ہوئی۔
’’کوئی بات نہیں بھابی… عامر کی پروا نہ کریں‘ یہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ میری شادی نہ ہو۔‘‘ ایاز کو عامر کی معصوم سی بیوی پہ ترس آگیا۔ میاں سے ڈانٹ کھا کر اس کا منہ بن گیا تھا۔
عامر نے تشکرانہ نگاہوں سے دوست کو دیکھا۔ اس کے نرم دل ہونے سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ جانتا تھا کہ ایاز کسی کا دل نہیں توڑ سکتا۔
’’بس کہیں کر ہی نا لینا تم شادی۔‘‘ بلال نے ہنس کر اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
’’یہ نہ ہو میں تجھ سے بھی پہلے کرلوں شادی۔ تو تیاریاں ہی کرتا رہ جائے۔‘‘ ایاز کی بات پر سب ہنس دئیے۔ رات گئے تک سب انجوائے کرتے رہے۔ فائزہ انہیں کافی دے کر سونے چلی گئی تھی۔ رات کے دو بجے کے قریب ایاز واپس کمرے میں آیا۔ اب تک ذہن پر شام کا خوش گوار اثر تھا۔ آتے ہی اس نے جوتے اتارے اور صوفے پہ نیم دراز ہوگیا۔
’’سر بوتل اور گلاس لائوں؟‘‘ اسلم جن کی طرح حاضر ہوا۔
’’آج نہیں یار‘ نیند آرہی ہے۔‘‘ ایاز نے کسلمندی سے جمائی لی اور اٹھ کر غسل خانے میں کپڑے بدلنے گھس گیا۔ اسلم نے حیرت سے اپنے صاحب کو جاتے دیکھا‘ یہ آج پہلی بار ہوا تھا۔
’’یااللہ تیرا شکر… تو میرے صاحب کو سکون عطا فرما۔‘‘ وہ اپنے پیارے سے صاحب کے لیے دعا کرتا اپنے کوارٹر میں چلا گیا تھا۔
خ…ز…ز…خ
’’آج کل بڑے لاہور کے چکر لگ رہے ہیں‘ کیا بات ہے؟‘‘ سی او نے چھٹی کی درخواست سن کر ایاز سے پوچھا۔ ایاز دو ہفتے سے لاہور نہیں گیا تھا۔
’’سر بس ابو کو دیکھنے جانا تھا‘ اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘ ایاز ہنس دیا۔ ’’کوئی چکر نہیں ہے۔‘‘
’’تو یار اب شروع کر بھی دو کوئی شادی وادی کا چکر۔‘‘
’’دیکھیں سر کیا ہوتا ہے۔‘‘ ایاز مسکرایا۔
’’چھٹی کے درخواست یہاں رکھ دو… میں اوکے کردوں گا۔‘‘ اس نے درخواست ان کی میز پر رکھ دی اور باہر نکل آیا۔ سوچ رہا تھا امی کو فون کرکے بتادے اپنے آنے کا مگر آفس میں آکر وہ کاموں میں بھول ہی گیا۔
فون کی بیل پر اس نے چونک کر موبائل اٹھایا۔ اس پر عرشہ کا نام چمک رہا تھا۔ اس نے فائل بند کی اور آفس کی کرسی پر نیم دراز ہوگیا۔ جانتا تھا اب اگلے ایک گھنٹے تک اور کچھ نہیں ہونے والا۔ عرشہ کی کال ہمیشہ بہت لمبی ہوتی تھی۔
’’تم لاہور کب آرہے ہو۔‘‘ فون آن کرتے ہی اسے عرشہ کی آواز سنائی دی۔
’’اب اس کا لیکچر شروع ہوجائے گا۔‘‘ ایاز نے سوچا۔
’’ہیلو… ایاز؟‘‘ وہ خاموشی پاکر اب ہیلو ہیلو کررہی تھی۔
’’جی عرشہ… میں سن رہا ہوں بولو۔‘‘
’’افوہ او ایاز بولو تو سہی ناں خیر… بتائو لاہور کا کیا پروگرام ہے۔‘‘ اس نے اپنا سوال دہرایا۔
’‘’سانس تو لے لو۔‘‘ ایاز مسکرا کر بولا۔
’’بتائو بھی ناں۔‘‘
’’یار خیر تو ہے۔ یہ تم اتنی دیر فون کیسے کرلیتی ہو‘ تم دو بچوں کی ماں بھی ہو… اتنا فالتو وقت کہاں سے نکل آتا ہے تمہارے پاس…؟‘‘ ایاز نے اسے چھیڑا۔
’’زیادہ بنو نہیں‘ جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔ میرے پاس واقعی فالتو وقت نہیں ہے۔‘‘ وہ چڑ گئی۔
’’ہیں… سچ؟ اس کا مطلب ہے آج کی کال زیادہ لمبی نہیں ہوگی۔‘‘ اس نے اسے مزید تنگ کیا۔
’’ایاز مار کھائو گے۔‘‘ عرشہ فون پر چیخی۔
’’اوہو… آہستہ چیخو بھئی‘ کان میرے ذاتی ہیں۔‘‘ ایاز نے ہنس کر موبائل کان سے تھوڑا دور کیا۔
’’بتائو ناں کب آئو گے؟‘‘ وہ زچ ہوئی۔
’’وجہ تو بتائو پوچھنے کی… دو ہفتے پہلے تو واپس آیا ہوں۔‘‘ اس نے اپنی چھٹی کی بات عرشہ کو نہیں بتائی۔
’’امی کا فون آیا تھا۔ ابو امی‘ ارم کے والدین سے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’اوہ مائی گاڈ… میں بالکل بھول ہی گیا اس قصے کو؟‘‘ جب سے ایاز واپس آیا تھا عامر اور بلال کے ساتھ اتنا مصروف رہا تھا کہ یہ قصہ اس کے دماغ سے ہی نکل گیا تھا۔ امی سے تو روز ہی بات ہوتی تھی مگر انہوں نے بھی ذکر نہیں کیا تھا۔
’’ابو کیسے ہیں؟‘‘ اس نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔ وہ ابھی اس بات پر بحث نہیں کرنا چاہتا تھا‘ ویسے بھی اس نے اس بارے میں کچھ سوچا ہوتا تو ہی کوئی بات کرتا۔
’’میں خوب سمجھ رہی ہوں ایاز‘ تم آخر کب تک اس موضوع سے بھاگو گے۔‘‘
’’میں کوئی نہیں بھاگ رہا کسی بھی چیز سے… کہا ناں یاد نہیں رہا۔‘‘ وہ تھوڑی سی اونچی آواز میں بولا۔
’’موڈ آف مت کرو‘ میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ اس ویک اینڈ لاہور کا چکر لگالو‘ امی ابو خوش ہوجائیں گے۔‘‘ عرشہ نے پیار سے بھائی کو سمجھایا۔ اتنے سال گزرنے کے بعد تو یہ وقت آیا تھا کہ وہ شادی کی بات کررہا تھا۔ کوئی اسے تنگ نہیں کرنا چاہ رہا تھا مگر مسز افراز ماں تھیں ناں‘ جلد از جلد اپنے بیٹے کا گھر آباد دیکھنا چاہتی تھیں۔
’’موڈ آف نہیں کررہا عرشہ‘ مجھے واقعی یاد نہیں رہا۔‘‘ ایاز نے اپنا لہجہ دھیما کیا۔ ’’میں نے صبح ہی سر سے بات کی ہے‘ ویک اینڈ پہ لاہور جائوں گا‘ تم فکر نہ کرو۔‘‘ چند رسمی باتوں کے بعد اس نے فون رکھ دیا۔

آرزو ہر کیفیت میں اک نئے جلوے کی ہے
مضطرب ہوں‘ دل سکوں ناآشنا رکھتا ہوں
گو حسن تازہ ہے ہر لحظہ مقصود نظر
حسن سے مضبوط پیمان وفا رکھتا ہوں
جستجو کل کی لیے پھرتی ہے اجزا میں مجھے
حسن پایاں ہے‘ درد لادوا رکھتا ہوں
(اقبال)

شام دھیرے دھیرے چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ تمام دفاتر تقریباً خالی ہوچکے تھے۔ عرشہ سے بات کرنے کے بعد کسی بھی کام میں اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ دوپہر والی فائل اب بھی اسی طرح اس کے سامنے کھلی تھی۔
’’کیوں یہ سب میرا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ بار بار ان تمام یادوں کو تازہ کردیتے ہیں جن کو میں ہمیشہ کے لیے بھول جانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ پیشانی کو ہلکے ہلکے دباتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ آج وہ پھر اسی موڑ پہ کھڑا تھا جہاں دو ہفتے پہلے اس کے والدین نے اسے لاکھڑا کیا تھا۔ گہری سوچیں اس کے گرد جال بن رہی تھیں۔ فون کی بیل پر اس نے غیرارادی طور پر ریسیور اٹھایا۔
’’ہیلو؟‘‘
’’کہاں مرا پڑا ہے تو؟‘‘ اس کے ہیلو کہنے پر عامر کی آواز نے اس کے پرخچے اڑائے۔
’’یار… کیا مصیبت ہے‘ تم سب موبائل پر اتنا اونچا کیوں بولتے ہو؟‘‘
’’زیادہ بکواس نہ کر… گھنٹے سے تیرا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ عامر نے اس کی بات کی پروا تک نہ کی۔
’’میرا انتظار…! وہ کیوں؟‘‘ ایاز نے حیرت سے پوچھا۔
’’کیا…! اس کا کیا مطلب ہے‘ تو بھول گیا ہے کیا؟ بھئی نہایت فضول شخص ہے تو‘ بلال نے واپس جانا ہے‘ آج ہم سب کو باہر کھانا کھانا تھا۔۔‘‘ عامر کو آگ لگ گئی۔
’’اوہ…؟‘‘ ایاز نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
’قسم سے یار بالکل بھول گیا۔ کیا وقت ہوگیا؟‘‘ اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی پہ نگاہ ڈالی۔
’’تیری موت کا وقت ہوگیا ہے گھٹیا انسان۔ اب فوراً پہنچ۔‘‘ عامر نے کھڑاک سے فون بند کردیا۔
’’اف اب یہ دونوں میری جان کھا جائیں گے۔‘‘ ایاز نے سوچا مگر قصور ان کا بھی نہیں تھا۔ پروگرام سات بجے ملنے کا تھا اور اس وقت نو بج رہے تھے۔ اس نے جلدی جلدی فائلز سمیٹیں اور اپنے میس کی طرف بھاگا۔
’’یہ کن بکواس کاموں میں خود کو پھنسا لیا ہے تم نے ایاز۔‘‘ عامر نے اس کے کار میں بیٹھتے ہی چڑھائی کردی۔
’’بس یار، آفس کے کاموں میں ایسا پھنسا کہ یاد ہی نہیں رہا۔‘‘ ایاز نے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔
’’میری سمجھ میں تو آج تک یہ نہیں آیا کہ تو نے پوسٹ گریجویٹ کیوں نہیں کیا۔ یہ انتظامی بکھیڑوں میں کہاں پڑگیا تو۔‘‘
’’بس یار، شاید قسمت میں یہی تھا اور سچ تو یہ ہے کہ جتنی محنت اور توجہ آگے پڑھنے کے لیے چاہیے تھی میرے بس کی بات نہیں تھی۔‘‘
’’یار جانے دے‘ یہ باتیں کسی اور کو سنانا۔ تم کلاس کے ٹاپر میں سے تھے۔ کام سے کبھی نہیں گھبرائے۔ وہ اب جو یہ ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن میں آگئے ہو‘ سارا سارا دن ان کاموں میں لگے رہتے ہو، یہ محنت نہیں؟‘‘ بلال نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے کہا۔
’’اچھا چھوڑ ناں‘ یہ بتائو جا کہاں رہے ہیں۔‘‘ ایاز نے موضوع بدلا۔
’’ہم دونوں نے سوچا عرصہ ہوا پرل کانٹینیٹل (پی سی) نہیں گئے کیوں نہ آج وہاں ڈنر کریں۔‘‘ عامر نے بلال کو آنکھ ماری۔
’’تم ٹریٹ دے رہے ہو؟‘‘ ایاز ہنس دیا۔
’’نہیں تم دے رہے ہو۔‘‘ عامر اور بلال ہاتھ پر ہاتھ مار کر اکھٹے بولے۔ گاڑی پی سی کی پارکنگ میں کھڑی کی اور اندر آگئے۔ ایاز ان کے پیچھے بھاگا۔
’’اوئے… اوئے مہینے کا آخر ہے یاروں۔‘‘ اس نے دہائی دی۔
’’تو پھر شرط لگا لے ناں کوئی۔‘‘ انہوں نے کرسیاں کھینچ کر ایک میز پر قبضہ کیا۔ اگرچہ یہ راولپنڈی کا پی سی تھا مگر پرانی یادیں تازہ ہوگئی تھیں۔ سب مذاق کے موڈ میں تھے۔
’’میں نے شرط لگانا چھوڑ دی۔‘‘ ایاز یک دم سنجیدہ ہوا۔
’’ارے یار میں تو مذاق کررہا تھا۔‘‘ عامر شرمندہ ہوگیا۔ بلال نے غور سے دونوں کو دیکھا۔
’’ایاز تم اب بھی…!‘‘ وہ حیران رہ گیا۔ کیا اتنے سالوں بعد بھی ایاز اس لڑکی کو بھول نہ پایا تھا۔ یہ تو وہ جانتا تھا کہ ایاز اب تک شادی کرنے کے لیے تیار نہیں تھا مگر اتنی چھوٹی بات بھی اس نے اب تک دل سے لگائی ہوئی تھی۔ اس کا اسے اندازہ نہیں تھا۔
’’ایاز تمہیں اب وہ سب بھول جانا چاہیے۔ زندگی جینا شروع کرو میرے دوست۔ یہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔‘‘ بلال نے ایاز کو سمجھایا اور تائید کے لیے عامر کو دیکھا‘ عامر نے کندھے اچکائے۔ وہ ایاز کے دل کی حالت سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے خاموش رہا۔ گزرے اتنے ماہ میں اس نے بارہا ایاز کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
’’ایسی بات نہیں بلال… مانتا ہوں کہ پہلے ایک عرصہ میں ماضی میں ہی رک گیا تھا مگر اب ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘ ایاز نے کہا۔ ایسا کہتے وہ دوست سے نظریں چرا رہا تھا۔ دونوں یہ سب دیکھ رہے تھے مگر انہوں نے نظر انداز کرتے ہوئے موضوع ختم کردیا۔
’’یار آرڈر تو دو ناں۔‘‘ عامر کے کہنے پر انہوں نے ویٹر کو آواز دی۔
’’ویسے یار، میری مانو تو تم بھی اب شادی کر ہی لو۔‘‘ آرڈر دے کر بلال پھر شروع ہوگیا۔ اسے یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ ایاز اور عامر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس دئیے۔
’’کیا…؟‘‘ بلال برامان گیا۔
’ارے کچھ نہیں بلال‘ ویسے آج کمال کا دن ہے۔ آج صبح کا آغاز ہی سی او کے اس مشورہ سے ہوا کہ تمہیں شادی کرلینی چاہیے۔‘‘ ایاز ہنس کر انہیں صبح کی رو داد سنانے لگا۔
’’دوپہر کے بعد کوئی شام کے قریب عرشہ کا فون آگیا۔ اس کا بھی سارا لیکچر تھا اور موضوع میری شادی تھی اور اب تم دونوں‘ مجھے لگتا ہے میرے خلاف کوئی سازش ہورہی ہے۔ یہ تم سب کی ملی بھگت ہے۔‘‘ وہ کچھ اس طرح بولا کہ تینوں ہنس دیے۔
’’عرشہ کیا کہہ رہی تھی؟‘‘ بلال کو تجسس ہوا۔
’’یہی کہ شادی کرو۔ آئو لڑکیاں دیکھو… امی ابو کی خواہش ہے وغیرہ وغیرہ۔‘‘
’’پھر کیا سوچا تم نے؟‘‘ عامر نے آگے بڑھ کر ایاز سے پوچھا۔ کتنے عرصے سے وہ خود بھی اسی کوشش میں لگا ہوا تھا کہ ایاز کو کوئی لڑکی پسند آجائے۔ آج پہلی بار ندرت کے بعد اس نے ایاز کو یوں شادی کے موضوع پہ بات کرتے دیکھا تھا۔ اسے اپنے دوست کی زندگی میں خوشیوں کے آنے کی امید ہوئی۔
’’سوچ ہی رہا ہوں‘ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کروں‘ اب اس عمر میں لڑکیاں دیکھوں گا؟‘‘
’’ہیں…! یعنی کہ کمال ہے‘ تم کہنا کیا چاہتے ہو‘ شادی تو میری بھی ابھی نہیں ہوئی اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور شادی کر ہی نہیں سکتا۔‘‘ بلال تڑپ گیا۔
’’تم تو چپ ہی کر جائو۔ ایاز کی تو پھر بھی ہوجائے گی تمہاری تو ویسے ہی پتا نہیں ملے گی کہ نہیں۔ تمہارے ماں باپ بہنوں بھائیوں کو کوئی پسند آتی ہی نہیں۔‘‘ عامر نے منہ بنایا‘ بلال گھر میں سب سے چھوٹا اور لاڈلہ تھا اور واقعی ہر رشتے میں سب اتنی مین میکھ نکالتے تھے۔ کسی نہ کسی کو لڑکی ناپسند ہوتی تھی، تو کسی کو گھرانہ۔ سو رشتہ رد ہوجاتا تھا۔ اب بلال کی مرضی کی لڑکی سے شادی ہورہی تھی‘ ماں باپ خوش نہیں تھے۔
’’یار میں بتیس سال کا ہوگیا ہوں‘ تم صحیح کہتے ہو۔ پتا نہیں اب میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔‘‘ بلال کو اپنی پڑ گئی۔ ایاز اور عامر کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’بلال…!‘‘ دونوں اکھٹے اس پر چیخے۔
’’اچھا…اچھا… ہاں تو ایاز تم کہہ رہے تھے…‘‘ بلال کھسیانا ہوا۔
’’میں تو بس یہ سوچ رہا ہوں کہ اب کروں کیا؟ ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں… بہنیں ساری بیاہی گئی ہیں‘ امی بہت اکیلی ہوگئی ہیں۔ اگر میں یہ شادی والی بات مان لوں تو کم از کم میرے والدین کی خواہش پوری ہوجائے گی۔ ان کی زندگی میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔‘‘ ایاز سوچتے ہوئے بولا۔
’’واہ یار… تو کوئی لڑکی ہے کیا نظر میں؟‘‘ بلال نے اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر پوچھا۔
’’نہیں بھئی‘ ایسی کوئی بات نہیں۔ تم بے شک عامر سے پوچھ لو۔‘‘ ایاز ہنس دیا۔
’’تو پھر؟‘‘
’’بس جو امی کو پسند آجائے گی کرلوں گا۔ وہ آج کل کافی لڑکیاں دیکھ رہی ہیں۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی۔ شادی تمہیں کرنی ہے کم از کم آنٹی کے انتخاب میں سے ہی کوئی پسند کرلو۔‘‘ عامر کو پورا اندازہ تھا اس کی ذہنی حالت کا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایاز اب اس اذیت سے نکل آئے۔
’’کیا فرق پڑتا ہے یار۔ وہ کوئی بھی ہو‘ کمپرومائز ہی کرنا ہے تو پھر جو بھی لڑکی ہو، گزارا ہوجائے گا۔‘‘ ایاز نے لاپروائی ظاہر کی۔
’’یہ غلط بات ہے ایاز… جس سے شادی کروگے اس لڑکی کا کیا قصور ہے۔ تمہیں تو پوری دیانت داری سے شادی کے بندھن میں بندھنا چاہیے۔‘‘ بلال کو افسوس ہوا۔
’’میں نے کب کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اس کا مجھ پر پورا حق ہوگا۔ ہاں میرے دل کا معاملہ میرا پرسنل ہے۔ اس میں دخل اندازی کی کسی کو اجازت نہیں۔‘‘
’’ایاز…! یہ زیادتی ہے۔‘‘ عامر نے کہا۔
’’یہ مجبوری ہے۔‘‘ ایاز نے بات ختم کردی۔ کھانا کھا کر عامر نے بل ادا کرنا چاہا تو ایاز نے اسے روک دیا۔
’’اب بہت پیسے ہوتے ہیں میرے پاس… شرط لگانے کی ضرورت نہیں رہی۔ چاہے مہینے کا آخر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ ایاز نے ہنس کر کہا اور بل ادا کردیا۔
خ…ز…ز…خ
صبح وہ بریگیڈیئر اشرف کے آفس میں موجود تھا۔
’’سر آج لاہور نکل جائوں گا۔ وہ کل چھٹی کی بات کی تھی میں نے آپ سے۔‘‘
’’ہاں ہاں مجھے یاد ہے‘ خیریت ہے ناں… دوبارہ یاددہانی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ تمہارے والد کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ سر اشرف کو فکر ہوئی۔
’’جی سر اب مرض کافی آگے بڑھ گیا ہے مگر وہ علاج کو کافی پوسٹ پونڈ کررہے ہیں۔ کافی بہتر ہیں پہلے سے۔ کینسر ختم تو نہیں ہوگا مگر ہماری کوشش ہے کہ وہ اس اسٹیج سے آگے نہ بڑھے اور ان کی تکلیف میں کمی رہے۔‘‘
’’ہاں یہ تو ٹھیک ہے۔ تم بیٹھو۔‘‘ انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ ایاز بیٹھ گیا۔
’’پھر ایسی بھی کیا ایمرجنسی‘ آج چھٹی کا آڈر آجائے گا‘ کل صبح صبح نکل جانا۔‘‘
’’سر سوچ رہا تھا‘ جب آپ اور بھابی میری شادی کے بارے میں اتنے پریشان ہیں تو آپ کی پریشانی جلد از جلد ختم کردوں۔ امی کو بولوں کہ یار امی جلدی کوئی لڑکی ڈھونڈیں میرے لیے۔‘‘ ایاز نے مذاق کیا۔
’’ہاہاہاہا…‘‘ بریگیڈیئر اشرف نے دل کھول کر قہقہہ لگایا۔ ’’پھر تو تمہاری چھٹی بنتی ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولے۔
’’نوازش سر۔‘‘ ایاز بھی مسکرادیا۔
’’تم شام کو نکل جانا… میں چھٹی پر دستخط کردوں گا۔‘‘
’’تھینک یو سر۔‘‘
’’تمہاری شادی ہو تو میری بھی جان چھوٹے۔ بیگم ہر دوسرے روز تمہارا ذکر لے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ روز ایک نیا رشتہ ان کے دماغ میں آتا ہے۔ یہ تو میری وجہ سے تم آج تک بچے ہوئے ہو ورنہ وہ تو کب کی تمہاری شادی کرواچکی ہوتیں۔‘‘ ایاز زور سے ہنس دیا۔ زندگی شاید ایک نیا موڑ مڑ رہی تھی۔ وہ اٹھ کر آفس آگیا۔ شام کو اس نے سوچا امی کے لیے کچھ شاپنگ کرلے تاکہ رات کو آرام سے نکل جائے۔
’’اسلم میرا بیگ تیار کردو لاہور کے لیے… میں ذرا بازار سے ہوکر آتا ہوں۔‘‘ اس نے اسلم کو آواز دی۔ اسلم خوشی خوشی الماری میں سے سفری بیگ نکالنے لگا۔ پچھلے ایک ماہ سے صاحب خوش نظر آرہے تھے۔ اداسی اور یاسیت کے دورے کم کم ہی پڑتے تھے۔ اکثر پیئے بغیر ہی سو جاتے تھے… وہ کپڑے نکالنے لگا۔ ایاز نے لائونج میں بیٹھ کر عامر کو فون کیا۔
’’بازار تک چل رہے ہو؟‘‘ اس نے عامر کے فون اٹھاتے ہی پوچھا۔
’’ابھی…؟ یہ کون سا ٹائم ہے بازار کا۔ رات کے آٹھ بج رہے ہیں۔‘‘ عامر نے گھڑی دیکھی۔
’’زیادہ چیزیں نہیں لینی… بس امی کے لیے ایک دو…‘‘ ایاز بولا۔
’’اوہ اچھا‘ کل کرلیں گے۔ کل ہفتہ ہے‘ تمہاری چھٹی بھی ہوگی۔‘‘
’’نہیں عامر… امی کے پاس دو دن تو رہ سکوں ناں۔ آدھا دن تو سفر میں نکل جائے گا… آج رات کو ہی نکل جائوں گا۔‘‘
’’او اللہ کے بندے تو آج دوپہر کو ہی نکل جاتے‘ اب اتنی رات کو سفر کرو گے۔‘‘ عامر کو اس پر غصہ آیا۔ اس شخص کو بالکل بھی اپنی پروا نہیں تھی۔
’’اصل میں آفس میں کام اتنا تھا کہ ختم کرتے کرتے شام ہوگئی‘ مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا۔ خیر کوئی بات نہیں میں رات کو ڈرائیو کرکے انجوائے کرتا ہوں۔‘‘
’’اف ایاز‘ تم بالکل پاگل ہو۔‘‘ عامر اس کے اتنا کام کرنے سے سخت الرجک تھا۔
’’لیکچر بند کر اور بتا چلے گا؟‘‘
’’اچھا آتا ہوں۔‘‘ عامر مان گیا۔
’’ارے سن سن…‘‘ ایاز فون بند کرنے لگا کہ عامر کی آواز آئی۔
’’مجھے پک کرلے‘ فائزہ نے گاڑی اپنی امی کے لیے بھیجی ہوئی ہے۔‘‘ عامر کو یاد آیا۔
’’اچھا میں آجاتا ہوں۔‘‘ ایاز نے فون آف کردیا۔ اسلم کو بتا کر وہ نکل آیا۔ شاپنگ کرتے ہوئے انہیں رات کے گیارہ بج گئے تھے۔
’’یار بہت لیٹ ہوگیا ہے‘ صبح نکل جانا۔‘‘ ایاز نے گاڑی عامر کے گھر کے دروازے کے سامنے روکی تو وہ بولا۔
’’نہیں یار… اب لاہور جاکر ہی سوئوں گا۔‘‘ عامر نے کافی کوشش کی مگر ایاز نہ مانا‘ میس میں آکر اس نے جلدی سے اسلم کو بلا کر سامان گاڑی میں رکھوایا۔
’’سر آپ بھی سو جاتے… میں آپ کو صبح جلدی جگادوں گا۔‘‘ اسلم جانتا تھا کہ وہ اس وقت سارے دن کا تھکا ہوا ہے۔
’’مجھے نیند نہیں آئے گی ابھی۔‘‘ ایاز کھانا کھا کر ہاتھ دھو کر کلائی پر گھڑی باندھنے لگا۔
’’تو پھر سر کوئی ڈرائیور بلا لیتے ہیں یونٹ سے۔ آپ کافی تھکے ہوئے ہیں۔‘‘ اسے اپنے صاحب کی فکر کھائے جارہی تھی۔
‘‘خدانخواستہ گاڑی چلاتے ہوئے نیند کا جھونکا ہی نہ آجائے۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔
’’فکر نہ کرو اسلم… پی نہیں رکھی‘ پورے ہوش وحواس میں ہوں۔‘‘ ایاز نے ہنس کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
’’میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا صاحب۔‘‘ وہ شرمندہ ہوا۔
’’ارے مذاق کررہا ہوں یار تم بھی ناں… ہر بات میں سنجیدہ ہوجاتے ہو۔ سامان رکھ دیا؟ پہلے ہی کافی دیر ہوچکی ہے۔‘‘ ایاز اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
’’جی جناب…‘‘ اسلم جواب دیتا باہر نکل گیا۔
رات کی ڈرائیونگ ایاز کو ہمیشہ سے پسند تھی اور اس وقت تو اتنی دیر ہوچکی تھی اس لیے سڑک کافی سنسان تھی۔ اکادکا گاڑیاں نظر آرہی تھی۔ ایاز نے کار کی رفتار بڑھائی… گاڑی میں چھائی خاموشی جگجیت کی خوب صورت آواز سے ٹوٹ رہی تھی۔
جگجیت کی آواز میں غالب کی غزلیں ایاز کی پسندیدہ تھیں۔ کبھی کبھی تو اسے خود پہ بھی حیرت ہوتی تھی‘ وہ جو ہمیشہ مستی سے بھرے پاپ گانے سنتا تھا… اب غزلوں کا شوقین تھا۔ اس کی سوچ کتنی بدل گئی تھی۔ عادات کتنی مختلف ہوگئی تھیں۔ پہلے کی زندگی کتنی پیچھے رہ گئی تھی۔ وہ ہمہ وقت شور شرابہ‘ موج مستی جیسے کوئی خواب سا تھا‘ خوش مزاجی اس کا خاصہ تھا اور اب… اب تو وہ پوری آرمی میں بد دماغ ڈاکٹر مشہور تھا‘ اگر وہ اپنے کام میں اتنا مستعد نہ ہوتا تو شاید کب کا نکال دیا گیا ہوتا اور لڑکیوں سے تو جیسے اسے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ ایاز کے لبوں پہ درد بھری مسکراہٹ دوڑ گئی۔
پوری موٹر وے ایک کالے لمبے سانپ کی طرح اس کے آگے تھی کچھ نیند کا سا احساس ہورہا تھا اس نے‘ نگاہ کلائی پہ بندھی ہوئی گھڑی پہ ڈالی‘ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔
’’اب اگلے ریسٹ ایریہ میں رک جائوں گا‘ چائے یا کافی پیتا ہوں۔‘‘ اس نے نگاہ گھڑی سے ہٹا کر دوبارہ سڑک پر ڈالی اور ایک دم گھبرا کر بریک پر پیر رکھ دیا۔ سڑک کی عین درمیان میں کوئی کھڑا تھا… سنسان خاموش رات کی تاریکی میں پہیوں کی چڑچڑاہٹ کسی چیخ کی طرح گونجی تھی۔ اس کی رفتار تیز تھی اور بریک وقت پہ لگانے کے باوجود گاڑی رکتے رکتے بھی اسے تقریباً چھوتی ہوئی سائیڈ پہ جاکر رکی تھی‘ لڑکی لڑکھڑا کر بھی وہیں ہی کھڑی رہی۔
’’دماغ ٹھکانے ہے تمہارا؟‘‘ ایاز گاڑی کے رکتے ہی باہر نکلا اور تیزی سے اسے سڑک کے درمیان سے کھینچ کر گاڑی کے پاس لایا اور اس پر برس پڑا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایاز کو دیکھ رہی تھی۔
’’او اللہ کی بندی، خودکشی کرنے کے لیے میری ہی کار ملی تھی؟‘‘ اس کی خاموشی پر ایاز کو غصہ آیا۔ وہ بت بنی کھڑی تھی۔
’’کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘ ایاز کو خیال آیا۔
’’او میڈم آپ ٹھیک تو ہیں‘ کہیں چوٹ وغیرہ تو نہیں آئی؟‘‘ اس نے قریب ہوکر اسے غور سے دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ ہنوز پتھرائی ہوئی سی کھڑی تھی۔ آنکھیں جیسے خلامیں گھور رہی تھیں‘ ایاز کو شدید گڑبڑ کا احساس ہوا۔
’’مس…؟‘‘ اس نے اپنا لہجہ نرم کیا۔
’’آپ ٹھیک ہیں؟‘‘ ایاز نے تھوڑا سا پیچھے ہوکر ہیڈ لائٹ کی روشنی میں اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی… لڑکی کے ماتھے پہ گہرا زخم تھا‘ جس سے خون تیزی سے اس کی کنپٹی پہ بہہ رہا تھا… ہونٹ بھی پھٹا ہوا تھا۔
’’اوہ مائی گاڈ…! آپ تو شدید زخمی ہیں…‘‘ وہ ہنوز سن سی کھڑی تھی‘ شاید شاک میں تھی۔
’’محترمہ یہ سب کیسے ہوا؟‘‘ اس نے ہلکے سے لڑکی کو جھنجوڑا۔
’’وہ…‘‘ ایک سسکی سی لڑکی کے لبوں سے نکلی۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر سڑک کے دوسر ے کنارے کی طرف اشارہ کیا… ایاز نے اشارے کی جانب دیکھا تو لمحہ بھر کو اسے چکر سا آگیا… مہران سوزکی تقریباً تباہ حالت میں کھڑی تھی۔
’’کوئی اور ہے اس میں؟‘‘ اس نے جلدی سے لڑکی سے پوچھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا… ایاز نے لڑکی کو چھوڑا اور تیزی سے گاڑی کی طرف جانے کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے کہ ایک دھماکہ کے ساتھ اس میں آگ لگ گئی… شاید گاڑی کی پٹرول کی ٹنکی پھٹ گئی تھی۔ لڑکی نے خوفزدہ ہوکر اس کا بازو سختی سے تھام لیا۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ ایاز نے مایوسی سے سر ہلا کر لڑکی کی جانب دوبارہ دیکھا… اگر یہ لڑکی جان پر کھیل کر اسے نہ روکتی تو وہ اپنے خیالوں میں اتنا مگن تھا کہ رات کے اندھیرے میں اس گاڑی کی طرف اس کی نگاہ جاتی ہی نہیں‘ مگر اب اس میں موجود ہر کوئی ہر مدد سے بے نیاز ہوچکا تھا… آگ نے بری طرح گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
یک لخت ایاز کو اپنے بازو پہ لڑکی کی گرفت مزید سخت ہوتی محسوس ہوئی۔ اس کے ناخن ایاز کے بازو میں کھب سے گئے تھے۔ اس نے ہولے سے لڑکی کا ہاتھ اپنے بازو سے الگ کرنا چاہا مگر اس کی گرفت آہنی تھی۔ اس کی آنکھیں خوف سے پھٹی پھٹی سی تھیں… آنسو آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گالوں پہ بہہ رہے تھے۔ ایاز نے ہمدردی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور وہ اس کے سینے سے آلگی… وہ بری طرح کانپ رہی تھی… ایاز اس صورت حال سے گھبرا سا گیا۔ لڑکی کی حالت غیر تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے بازوں نے لڑکی کو اپنی پناہ میں لے لیا۔ کتنے ہی پل ایسے ہی گزر گئے۔ ایاز کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا۔ یہ تو ظاہر تھا کہ جو بھی گاڑی میں لوگ تھے وہ اب حیات نہ تھے‘ مگر اسے پولیس اور ایمبولینس کو بلانا تھا‘ لڑکی بھی زخمی تھی۔ اس کے ماتھے‘ ہونٹ اور ناک سے اب بھی خون بہہ رہا تھا‘ اندھیرے میں اسے صحیح سے اس کی چوٹوں کا اندازہ بھی نہیں ہورہا تھا‘ گاڑی کی ہیڈ لائٹ میں جو کچھ نظر آیا تھا‘ اس سے اصل حالت کا اندازہ ممکن نہیں تھا… اس نے لڑکی کو تھوڑا سا پرے کرکے اسے دیکھنے کی کوشش کی‘ اس کے کندھوں پر پڑا دوپٹا ایاز کے ہاتھ میں آگیا۔
’’یااللہ… یہ تو کوئی دلہن ہے۔‘‘ وہ کھینچ کر لڑکی کو کار کی لائٹ کے سامنے لے آیا… اس کا سرخ جوڑا خون سے تربتر تھا۔ کھینچنے سے لڑکی کا گوٹے کناری والا دوپٹا اس کے ہاتھ میں آگیا تھا۔ ایک سرد لہر ایاز کے پورے وجود میں اٹھی مگر وہ ایک ڈاکٹر تھا… اس وقت اسے پورے حواس میں رہنا تھا‘ یہ وقت اس کی قابلیت کا امتحان تھا… لڑکی اب جھول رہی تھی۔
’’پلیز تھوڑا حوصلہ کریں‘ میں ڈاکٹر ہوں‘ آپ کا معائنہ بہت ضروری ہے۔‘‘ مگر ایاز کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ لہرا کر اس کے ہاتھوں میں آگری‘ وہ مکمل بے ہوش ہوگئی تھی۔
دھان پان سی لڑکی کو ایاز نے تیزی سے اپنے بازوئوں میں اٹھایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا‘ پھر فون نکال کر موٹروے کی ایمرجنسی کو فون کرنے لگا… کال ملتے ہی انہیں جائے وقوعہ کا بتا کر وہ تیزی سے لڑکی کی طرف بڑھا‘ اس نے جلدی جلدی لڑکی کا معائنہ کیا‘ چہرے کے زخموں کے علاوہ پیٹ کے پاس کمر کی طرف ایک لمبا زخم تھا‘ جو بہت گہرا تھا اور اس سے خون بڑی تیزی سے بہہ رہا تھا‘ جوڑے کے لال رنگ اور کم روشنی کی وجہ سے وہ پہلے یہ زخم دیکھ نہ پایا تھا۔ ایاز نے جلدی سے گاڑی کے دروازے کے پاس والی جیب سے کپڑا نکال کر اس زخم پر دبائو دے کر اسے کس کر باندھ دیا۔ لڑکی کا بہت خون ضائع ہوچکا تھا‘ گاڑی کی چھت پہ لگی بتی کی ہلکی روشنی میں اس کے چہرے پر کھنڈی موت کی سپیدی صاف نظر آرہی تھی۔
اگرچہ ایاز کافی عرصہ سے ہسپتال کی انتظامیہ کے فرائض انجام دے رہا تھا مگر اتنے عرصہ کا ڈاکٹری تجربہ اور اس کی سیاچن کی ٹریننگ کی وجہ سے اس کے حواس پوری طرح قابو میں تھے۔ ایمرجنسی علاج کا وہ ماہر تھا‘ فرسٹ ایڈ دے کر اس نے جلدی جلدی موٹر وے پولیس کو بھی اطلاع دی‘ بس اب اسے ایمبولینس کا انتظار تھا‘ لڑکی ہنوز گہری بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ ایاز نے بے چینی سے گھڑی دیکھی وہ سخت بے بسی محسوس کررہا تھا۔ اگر اپنے سی ایم ایچ میں ہوتا تو وہ کب کا اسے شفٹ کرچکا ہوتا مگر یہاں اس سنسان جگہ وہ کچھ بھی نہیں کرپا رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اپنی گھڑی کو دیکھا‘ ہر بڑھتا لمحہ اس لڑکی کو موت کے قریب کررہا تھا‘ پیٹ پہ باندھا ہوا کپڑا خون سے بھرچکا تھا… ایاز نے تیزی سے اگلا دروازہ کھول کر مزید کوئی اور کپڑا تلاش کیا اور جلدی سے زخم پر نیا کپڑا باندھ دیا… لڑکی کا پورا چہرہ پسینے سے تر تھا‘ تنفس تیز ہوتا جارہا تھا… ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے ہورہے تھے۔
’’سنو…!‘‘ اس نے لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔
’’مرنا نہیں… تمہیں موت سے لڑنا ہے۔‘‘ اس نے اپنے رومال سے اس کا ماتھا صاف کیا۔
’’کیا کروں؟ کیا خود کسی ہسپتال کی تلاش کروں؟‘‘ وہ اس علاقے سے واقف نہ تھا‘ دور دور تک کوئی بستی نظر نہیں آرہی تھی۔ ایاز کی گاڑی میں میڈیکل کی کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی جس سے وہ لڑکی کی مدد کرسکتا… اسے یہاں رہ کر ہی ایمبولینس کا انتظار کرنا تھا‘ اس نے لڑکی کی کلائی تھام کر اس کی نبض چیک کی‘ نبض اس کی کمزور پڑتی دھڑکن کا پتا دے رہی تھی… اس کا جسم ٹھنڈا پڑرہا تھا… وہ تیزی سے بھاگ کر گاڑی کی ڈگی سے ایک چھوٹا سا کمبل نکال لایا جو ہمیشہ اس کی گاڑی میں رہتا تھا۔ کمبل لڑکی کے چاروں طرف لپیٹ دیا مگر کمبل کے باوجود وہ ٹھنڈی پڑ رہی تھی۔ ایاز خود پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور لڑکی کو کھینچ کر اپنی آغوش میں لے لیا‘ اسے اس وقت حرارت کی ضرورت تھی‘ اچانک وہ کانپنا شروع ہوئی۔
’’شاک میں جارہی ہے‘ مگر شاید اس کا جسم خود شاک سے مقابلہ کررہا ہے۔‘‘ یہ اچھا اشارہ تھا مگر ایاز جانتا تھا کہ چند لمحوں کی اور بات ہے پھر اس میں اتنی قوت بھی نہ رہے گی۔ ایاز کو اپنی بانہوں میں وہ سرد پڑتی محسوس ہورہی تھی۔
’’نہیں… نہیں… پلیز ہمت نہ ہارنا… میں ہوں ناں تمہارے پاس‘ تم اکیلی نہیں ہو… سنو پلیز، تم میرے جسم سے حرارت لو۔‘‘ وہ اس کے دماغ کو ہوش میں لانا چاہ رہا تھا۔
’’تمہیں زندہ رہنا ہے‘ دیکھو یہ زندگی بہت بڑی نعمت ہے اللہ کی‘ اسے یوں نہ گنوا دینا‘ پلیز آنکھیں کھولو۔‘‘ ایاز نے تیزی سے اس کے ہاتھ ملتے ہوئے کہا‘ اس نے لڑکی کے پائوں اونچے کیے تاکہ خون اس کے دماغ تک جاتا رہے۔ اب لڑکی بالکل ساکت تھی… ایاز سخت پریشان ہوا۔
’’آخر یہ ایمبولینس کہاں رہ گئی۔‘‘ اسے لگ رہا تھا جیسے ایک مدت گزر گئی ہو اسے فون کیے ہوئے‘ لڑکی کی جان اس کی آنکھوں کے سامنے نکل رہی تھی اور وہ نہایت بے بس تھا۔
’’تمہیں زندہ رہنا ہوگا‘ میں تمہیں یوں مرنے نہیں دوں گا۔‘‘ اس نے بے بسی سے لڑکی کو جھنجوڑا۔ اسی وقت اسے ایمبولینس کا سائرن سنائی دیا۔
’’اوہ میرا اللہ، تیرا شکر ہے۔‘‘ ایاز نے عاجزی سے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
’’سر… جگہ کافی دور ہے ہماری… چوکی سے اس لیے تھوڑی دیر ہوگئی۔ ‘‘ میل نرس نے آتے ہی کہا مگر ایاز کو اس کی بات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
ایمبولینس میں آئے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر اس نے جلدی سے لڑکی کو لائف سپورٹ سسٹم پہ لگایا اور ایمبولینس روانہ ہوگئی۔
’’سر آپ کو کچھ سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔‘‘ پولیس والے بھی پہنچ چکے تھے۔
’’ضرور آفیسر… ابھی ہم ایمبولینس کے ساتھ چلتے ہیں میں وہاں آپ کے سوالوں کے جواب بھی دے دوں گا۔‘‘ ایاز انہیں ایک طرف کرتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔
’’مگر سر…‘‘
’’آفیسر میں میجر ایاز ہوں‘ آرمی میں ڈاکٹر ہوں‘ آپ ساتھ چلیں ہاسپٹل جاکر بات ہوتی ہے۔‘‘ ایاز نے اپنی گاڑی ایمبولینس کے پیچھے لگادی‘ پاس ہی پنڈی بھٹیاں کا خروج تھا۔ ایمبولینس وہاں سے نکل کر پاس کے ہسپتال پہنچ گئی‘ یہ شاید ڈسٹرکٹ ہسپتال تھا۔ وہاں کا عملہ بہت مستعد تھا۔ انہوں نے فوراً وہاں کے ڈاکٹر کو بلایا۔ اب اس کے ضروری ٹیسٹ ہورہے تھے‘ وہ اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی اسے خون چڑھانے کا انتظام کیا جارہا تھا‘ ایاز اسے ڈاکٹروں کے حوالے کرکے خود باہر آگیا۔ پولیس والے باہر ہی کھڑے تھے۔
’’جی آفیسر اب پوچھیے۔‘‘ ایاز تھکا تھکا سا ان کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ ان کے سوالوں کے جواب جس حد تک اس نے دیکھا تھا بتاتا رہا… پولیس والے صبح آنے کا کہہ کر چلے گئے۔ کچھ سپاہی تباہ ہوئی گاڑی کا معائنہ کررہے تھے۔
لڑکی کو آپریشن تھیٹر میں لے گئے تھے۔ ہسپتال اگرچہ بہت بڑا نہ تھا مگر ہر سہولت سے آراستہ تھا… وہاں کے سرجن نے تندہی کے ساتھ لڑکی کا زخم بند کیا‘ تمام زخم صاف کرکے مرہم پٹی کرکے لڑکی کو روم میں شفٹ کردیا گیا‘ یہ وہاں کی آئی ٹی سی کے ساتھ والا کمرہ تھا‘ ایاز اس کے پاس کرسی پہ بیٹھ گیا اور آہستہ سے اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا… اس کا ماتھا تپ رہا تھا‘ شاید اسے بخار تھا۔
خ…ز…ز…خ
’’ایاز…‘‘ اس کے کانوں میں ندرت کی آواز گونجی۔ ایاز سوچوں میں گم ہوگیا۔
’’ایاز مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔‘‘ ندرت کانپ رہی تھی‘ بخار کی حدت سے اس کے گال سرخ ہورہے تھے‘ زکام تو اسے دو دن سے تھا مگر اب تو تیز بخار ہوگیا تھا۔
’’تو میں کیا کروں؟‘‘ وہ ریموٹ کو گھماتا ہوا ایکس بکس پر گیم کھیل رہا تھا۔ دونوں ندرت کے ٹی وی لائونج میں بیٹھے تھے۔
’’پلیز مجھے پیاس لگ رہی ہے‘ کچن سے پانی ہی لادو۔‘‘ وہ کراہی۔
’’خود لے لو‘ زکام ہی ہے ناں بھئی‘ میرا اس وقت میچ بڑی مشکل لیول پر ہے۔‘‘ ایاز نے توجہ ٹی وی پر رکھی۔
’’کیسے ڈاکٹر ہو؟ مریض کے لیے کچھ بھی نہیں کررہے‘ اپنے گیم میں بزی ہو۔‘‘ ندرت کو رونا آنے لگا۔ چھینکیں مار مار کر اس کا براحال ہوگیا تھا‘ ناک بالکل بند تھی اور آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔
’’پتا ہے مجھے ایک سو ایک بخار ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے‘ اسے خود پر شدید ترس آرہا تھا۔
’’مجھے پتا ہے‘ میں نے تھرمامیٹر لگا کر تمہیں بتایا تھا۔ اس لیے تو میڈیسن دی ہے اتر جائے گا گھنٹے تک۔‘‘ ایاز نے ذرا پروا نہ کی‘ اسے ندرت کی امی نے کوئی آھا گھنٹا پہلے فون کرکے بلایا تھا۔ ندرت کی طبیعت صبح سے کافی خراب تھی اور انہوں نے ضروری کہیں جانا تھا‘ ایاز سے انہوں نے درخواست کی تھی کہ ندرت کو آکر دیکھ بھی لے‘ کوئی دوائی وغیرہ دے دے اور کچھ دیر اس کے پاس بیٹھ جائے‘ وہ ندرت کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں‘ ان کے فون پر ایاز کی باچھیں کھل گئی تھیں۔
’’شیور آنٹی میں ابھی آیا۔‘‘ اس نے جلدی سے آدھی چھٹی لی اور فوراً ان کے گھر پہنچ گیا۔ آنٹی دونوں کو لائونج میں بٹھا کر چلی گئی تھیں‘ گھر کے ملازم نے انہیں چائے لاکر دی تھی۔ ایاز نے ندرت کا بخار چیک کرکے اسے دوائیاں دے دیں‘ فلو کی وجہ سے ندرت بہت چڑچڑی ہورہی تھی۔ بات بات پر غصہ کررہی تھی‘ بور ہوکر ایاز نے ویڈیو گیم لگالیا اور اب اس میں مگن تھا۔ ندرت کو اس کی یہ بات بھی بری لگ رہی تھی۔
’’تم دفع ہی ہوجائو‘ کیا فائدہ ہے تمہارا۔‘‘ ایاز اسے مسلسل ٹشو پکڑا رہا تھا۔ ٹشو اس کے ہاتھ سے چھینتے ہوئے چڑ کر بولی۔
’’’نہیں یار میں کیسے اپنی ندرت کو چھوڑ کر جاسکتا ہوں۔‘‘ اس کی نگاہیں اب بھی ٹی وی پر ہی تھیں۔
’’یہ گیم تو بند کرو۔‘‘ ندرت اس کے ریموٹ پر جھپٹی۔
’’نا… نا… بری بات… تھک جائوگی‘ تم بس ریسٹ کرو۔‘‘ ایاز نے ہاتھ اوپر کرکے ریموٹ اس سے دور کردیا۔
’’اف ایاز… پانی دو۔‘‘ وہ زور سے چیخی۔
’’پانی…‘‘ کراہتی ہوئی آواز نے ایاز کو یادوں سے باہر نکالا۔
اس نے ایک دم آنکھیں کھول کر لڑکی کو دیکھا‘ اس کے ہونٹ خشک ہورہے تھے… وہ ہولے ہولے کراہ رہی تھی۔ ایاز نے کمرے میں نگاہ دوڑا کر پانی تلاش کیا‘ وہاں کچھ نہ تھا۔ ایاز کرسی سے اٹھا تو اسے پتا چلا کہ اس کا تمام جسم اکڑ چکا ہے‘ کمرے میں دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی‘ اس نے ایک نگاہ کلائی پہ بندھی گھڑی پہ ڈالی‘ صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔
’’شاید آنکھ لگ گئی تھی۔‘‘ اس نے اپنی گردن دباتے ہوئے سوچا اور کمرے سے باہر آگیا۔
’’سسٹر پلیز آپ ذرا مریض کے پاس جائیں تو میں کچھ چیزوں کا بندوبست کر آئوں۔‘‘ اس نے پاس سے گزرتی ایک نرس سے درخواست کی۔
’’جی ضرور… مگر جلدی آئیے گا… میرا آف ہوگیا ہے‘ میں گھر جارہی تھی۔‘‘ نرس اس کی سرخ آنکھیں اور تھکن زدہ حال دیکھ کر رک گئی۔
’’بس ابھی آیا۔‘‘ وہ جلدی سے پاس کے کیفے میں گھس گیا۔ پانی کے ساتھ وہ اپنے لیے چائے بھی لے آیا تھا۔
’’سر آپ کی مریضہ کا بخار بہت تیز ہے۔ آپ یہاں رکیں، میں جاتے ہوئے کسی نرس اور ڈیوٹی ڈاکٹر کو بھیجتی ہوں۔‘‘ نرس باہر نکل گئی۔ ایاز نے قریب آکر لڑکی کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا‘ وہ آگ کی طرح جل رہی تھی‘ اس نے جلدی سے اس کی نبض دیکھی‘ بہت تیز چلتی نبض بخار کا پتا دے رہی تھی۔ وہ شاید پھر بے ہوش ہوگئی تھی یا تیز بخار کی غنودگی میں تھی۔ وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ کمرے میں ایک ڈاکٹر اور نرس داخل ہوئے۔
’’سر پلیز آپ باہر انتظار کریں۔‘‘ ان کے کہنے پر ایاز کمرے سے باہر نکل آیا۔ اچانک جیب میں رکھا موبائل اسے تھرکتا ہوا محسوس ہوا۔
’’اف رات کو اسے سائلنٹ پر کردیا تھا‘ پھر اسے سائلنٹ سے ہٹانا ہی بھول گیا۔‘‘ اس نے سر پر ہاتھ مارا‘ عرشہ کا نام فون پر پڑھ کر اس نے جلدی سے فون ریسیو کیا۔
’’ایاز… تم ٹھیک تو ہو ناں؟‘‘ عرشہ کی فکرمند آواز پر ایاز شرمندہ ہوا۔ اسے گھر فون کردینا چاہیے تھا۔
’’ہاں… ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں‘ آئی ایم سوری یار۔‘‘
’’تم ہو کہاں آخر‘ امی کا صبح سے رو رو کر برا حال ہے۔ تمہیں تو رات کو پہنچنا تھا‘ صبح سے فون کا جواب بھی نہیں آرہا‘ فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔ رات امی نے اسلم سے بات کی تھی تو تب تم نکل چکے تھے…‘‘ اس نے پے درپے سوال کیے‘ وہ سب نہایت پریشان تھے۔
’’اوہ بس یار ایک چکر میں پھنس گیا تھا۔‘‘ ایاز نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور عرشہ کو رات کا قصہ سنانے لگا۔
’’تو اس کے گھر والوں کو اطلاع کرو اور اب گھر پہنچو۔ ابو امی سخت پریشان ہیں۔ آج ہم نے ارم کی گھر والوں کو مدعو کیا ہوا ہے۔‘‘ عرشہ نے اسے بتایا۔
’’یار عرشہ پلیز‘ میں ابھی بہت پریشان ہوں‘ بعد میں بات کرتے ہیں۔‘‘ اس نے فون آف کردیا۔ عرشہ نے غصے سے فون کو گھورا۔
’’کیا ہوا عرشہ میرے بچے کو۔‘‘ سنبل نے تڑپ کر بیٹی سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں ہوا آپ کے لاڈلے کو… ہیرو بن رہا ہے۔‘‘ عرشہ نے فون اپنے پرس میں رکھا‘ دوبارہ کال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ جانتی تھی وہ نہیں ریسیور کرے گا‘ وہ ماں کے پاس بیٹھ کر سارا قصہ سنانے لگی۔
’’تو اب ارم وغیرہ کو کیا کہیں؟‘‘ سارا قصہ سن کر انہوں نے میاں سے پوچھا۔
’’یہی سب جو پتا چلا ہے‘ کوئی اور وقت لے لینا جب وہ آئے گا۔‘‘ افراز صاحب کی بات پر سب خاموش ہوگئے۔ مسز افراز فون ملانے لگی تھیں۔
خ…ز…ز…خ
’’السلام علیکم سر…‘‘ پولیس والے نے آکر ایاز کو سلیوٹ کیا۔
’’سر جائے وقوع سے حاصل کی گئی معلومات کے بعد ہم نے پتا لگا لیا ہے‘ گاڑی میں لڑکی کے علاوہ ایک مرد اور ایک عورت تھی… مرد اس لڑکی کا میاں تھا‘ کل ہی شادی ہوئی تھی‘ ساتھ میں لڑکی کی والدہ تھیں‘ دونوں اگلی سیٹ پر تھے اور حادثے کے وقت ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔‘‘ اس نے ایاز کو تفصیل سے بتایا۔
’’اوہو… بہت افسوس ہوا۔‘‘ ایاز کو واقعی بہت افسوس ہوا تھا اور اب لڑکی کی جان بھی خطرے میں تھی۔
’’کچھ اور معلومات ملیں‘ اس کے والد یا گھر والے؟‘‘ ایاز نے پوچھا۔
’’جی سر اس کے والد لاہور میں رہتے ہیں۔ ہم نے اطلاع دے دی ہے کچھ ہی گھنٹوں میں پہنچ جائیں گے‘ آپ جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں۔‘‘
’’نہیں اس کے گھر والے آجائیں پھر جائوں گا۔‘‘ پولیس والا ایاز سے ہاتھ ملا کر واپس چلا گیا… ایاز کمرے میں داخل ہوا‘ ڈاکٹر جاچکا تھا نرس اب پاس بیٹھی تھی۔
’’ان کا بخار کم ہوچکا ہے۔ آپ یہاں بیٹھیں میں ذرا باقی مریض دیکھ لوں۔‘‘ وہ ایاز کے داخل ہوتے ہی اٹھ گئی۔ ایاز لڑکی کے بیڈ کے قریب آگیا۔
رات میں تو اس نے لڑکی کا چہرہ غور سے دیکھا ہی نہیں تھا اس کے چہرے پہ اتنا خون تھا کہ کچھ واضح نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ ویسے تو اب بھی شکل کا کچھ اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ اس نے بغور اسے دیکھتے ہوئے سوچا‘ ماتھے کے پاس لمبا زخم تھا اور کچھ زخم ہونٹ اور ناک کے پاس تھے‘ پورے چہرے پہ جابجا خراشیں تھیں‘ تمام چہرہ بری طرح سوجا ہوا تھا مگر سب سے گہرا زخم پیٹ پہ تھا‘ کسی سریے کی وجہ سے پیٹ کٹ گیا تھا اور بے تحاشہ خون ضائع ہونے کی وجہ سے وہ اب تک بے ہوش تھی۔ اسے خون کی بوتل رات کو ہی لگا دی گئی تھی۔ وہ کرسی کھینچ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ لڑکی کے ہونٹوں پہ پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔
ایاز نے روئی پانی میں بھگو کر اس کے ہونٹوں کو نم کیا‘ لڑکی میں ہلکی سی جنبش ہوئی‘ اس نے زبان سے تر ہونٹوں کو چھوا تو ایاز نے ذرا سا اس کا سر اٹھا کر پانی کے چند قطرے اس کے منہ میں بھی ٹپکا دیے۔ لڑکی کی پلکوں میں ہلکی سی حرکت ہوئی‘ اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔
’’شکر الحمدﷲ۔‘‘ ایاز نے زیرلب اس کے ہوش میں آنے پہ اللہ کا شکر ادا کیا۔
’’پانی لو گی؟‘‘ اس نے اثبات میں ہولے سے سر ہلایا‘ قطرہ قطرہ پانی وہ اس کے منہ میں ٹپکانے لگا‘ شاید اسے شدید پیاس تھی‘ وہ پیتی چلی گئی‘ پانی پلا کر ایاز گلاس واپس رکھ کر مڑنے لگا کہ لڑکی نے اس کی کلائی تھام لی‘ ایاز نے استفہامیہ نگاہ لڑکی پہ ڈالی اور کچھ کہنے ہی لگا تھا۔
’’کیسی ہے میری بچی؟‘‘ مردانہ آواز پر وہ کہتے ہوئے رک گیا اور مڑ کر آنے والے کی جانب دیکھا۔ ایک صاحب اور ان کے ساتھ ایک لڑکا کمرے میں داخل ہورہے تھے۔
’’جی ابھی ہوش آیا ہے انہیں۔‘‘ ایاز پیچھے ہٹنے لگا مگر لڑکی کی گرفت اس کی کلائی پر مضبوط ہوگئی۔ اس نے چونک کر لڑکی کی جانب دیکھا مگر وہ آنکھیں موندے بے دم سی لیٹی تھی۔ عجیب سی صورت حال تھی وہ لوگ دیوانہ وار لڑکی کی جانب بڑھے… ایاز انہیں جگہ دینا چاہتا تھا مگر لڑکی ہنوز اس کی کلائی تھامے ہوئے تھی جیسے کبھی نہ چھوڑنے کا ارادہ ہو۔
ایاز نے اس کی انگلیوں کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ شکر ہے اس کے لواحقین آپہنچے۔ باہر رکھی کرسیوں میں سے ایک پر جا بیٹھا… وہ اب جلد اپنے گھر پہنچنا چاہ رہا تھا۔ دس پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد لڑکا کمرے سے باہر نکلا اور اس کی جانب بڑھ آیا‘ ایاز جلدی سے کھڑا ہوگیا۔
’’سر آپ کا بہت بہت شکریہ… اگر آپ نہ ہوتے تو ہماری بجو…‘‘ وہ آگے بول نہ پایا۔

(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close