Hijaab Apr 19

آنگن کی چڑیا

کوثر ناز

جوابات
۱:۔ نہیں کبھی نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ امی یا بابا نے کوئی فرق کیا ہو بلکہ ہم بہنوں کے زیادہ لاڈ اٹھائے سو احتجاج کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
۲:۔ بالکل سمجھا جاتا ہے۔ میں ایسے کئی گھرانوں کو جانتی ہوں جن کے ہاں ذہین ترین بیٹیاں ہیں لیکن وہ مزید تعلیم کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ آگے جاکر کرنا وہی ہے ہانڈی روٹی ، لیکن الحمدللہ ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ میرے بابا نے تو مجھے پڑھانے کے لیے میرے اسکول پرنسپل کے کہنے پر ایک کلاس بھی اسکپ کروا دی تھی کہ بچی کم عمری میں زیادہ پڑھ سکے گی اور اب ماسٹرز مکمل ہونے کے بعد بھی میں نے بیچلرز آف ایجوکیشن میں ایڈمیشن لے لیا ہے۔
۳:۔ ہماری انگریزی کی ٹیچر کہا کرتی تھیں کہ لڑکیاں سائنس اس لیے پڑھتی ہیں تاکہ رشتہ اچھے گھرانے میں ہوجائے (تلخ بات کہتی تھیں لیکن سچ کہتی تھیں یہ اب سمجھ آیا ہے) لیکن میرے نزدیک تعلیم حاصل کرنا آپ پر فرض ہے۔ دینی بھی اور دنیاوی بھی تاکہ آپ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہاں اپنے مطابق جی سکیں کیونکہ سائنس لینا تو کافی نہیں ہوتا نا۔
اور خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے اپنی جیب چاہے نہ بھریں لیکن معاشرے کو ایک اچھا انسان ضرور بن کر دکھائیں۔
۴:۔ اصولی طور پر میں کبھی ملازمت کے حق میں نہیں رہی کیونکہ میرا ماننا ہے کہ کمانا مرد کو چاہیے لیکن اگر عورت کسی مجبوری یا ضرورت کے تحت کرنا چاہتی ہے تو پھر لازمی کرے لیکن شوقیہ ملازمت کرنے کے میں سراسر خلاف ہوں۔
۵:۔ روشن خیال لازمی ہونا چاہیے تاکہ آپ کے سائے میں پرورش پانے والے افراد اپنا دم گھٹتا ہوا نہ محسوس کریں لیکن روشن خیال اتنے ہی ہوں کہ آپ اسلام اور معاشرے کی متعین کردہ حدود کو نہ پھلانگیں۔
لبرل ہونے کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔ میرے نزدیک لبرل ہونا بس ایک فیشن ہے جس کی اندھا دھند تقلید کی جاتی ہے۔
۶:۔ بالکل میں تو پوری طرح سے آگاہ ہوں اور بہت اصول پسند ہوں سو مکمل پیروی کرتی ہوں کیونکہ اسی میں فلاح ہے اور یہی میرا حفاظتی حصار ہے۔
۷:۔ بھرپور موقع ملنا چاہیے لیکن خواب لڑکیوں والے ہی ہوں۔ میں کبھی ایسے خواب دیکھنا پسند نہیں کرتی جنہیں شرمندہ تعبیر کرنے کی چاہ میں میرے ارد گرد کے لوگوں کو شرمندہ ہونا پڑے۔
۸:۔ زندگی گزارنے کے لیے لازم ہے کہ آپ بہت خالص رہیں۔ جو رشتہ نبھائیں پورے دل اور ایمانداری سے نبھائیں۔ دل میں برائی کو جگہ نہ دیں۔ نفرت نہ پالیں کیونکہ وہ جو تمام جہانوں کا مالک ہے اس نے آپ کے لیے سب الگ سے لکھ رکھا ہے جو آپ کا ہے وہ بس آپ ہی کے لیے مختص ہے بس مثبت سوچ کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ اور خوش باش رہیں۔
یہی میرا زندگی گزارنے کا ڈھنگ ہے اور یہی مشورہ بھی۔
۹:۔ ذرا سی دلچسپی ہے جو کام میرے ذمہ ہیں وہ وقت پر اور خوش اسلوبی سے نبٹا لیتی ہوں اور پھر ابھی تو ان ہیں اس لیے من مانیاں بھی چلتی ہیں کبھی کرلیتی ہوں کبھی نہیں بھی کرتی۔
۱۰:۔ ہر رشتے سے بن کر دکھائیں ہر رشتے کو مکمل ایمانداری سے اور مکمل محبت سے اپنا کر نبھاتی ہوں۔ ہر رشتے کی خوب صورتی سے آگاہ ہوں لیکن اپنے والد صاحب سے بے انتہا عقیدت اور محبت ہے۔(اب یہ نہ سمجھا جائے کہ امی سے کسی طور بھی کم ہے۔ ماں تو حیات ہوتی ہے آپ کی )
۱۱:۔ ہاہاہاہا سسرال نیا نیا ملا ہے یعنی کہ ابھی منگنی ہوئی ہے گو کہ شادی مارچ میں ہے اور سسرال کوئی اتنا لمبا چوڑا بھی نہیں ہے۔ سو خدشات یا توقعات نہیں ہیں بس یہ خواہش ہے کہ میں کبھی کچھ ایسا نہ کروں جو ان میں سے کسی کو بھی ذرا سی بھی تکلیف دے یا وہ لوگ مایوس ہوں( کیونکہ مائیں بہت امید کے ساتھ بیٹے کے لیے بہو کا انتخاب کرتی ہیں)۔
۱۲:۔ میں دوستی میں کبھی پہل نہیں کرتی۔ خود میں رہنے والی لیکن خوش مزاج لڑکی ہوں۔ سب ہی سے دوستی ہوجاتی ہے لیکن گہری والی دوستی کالج کی دوست فرحین نور سے ہے یا تو بہنوں سے ہے اور ان سے بھی زیادہ گہری دوستی خود سے ہے یا پھر اللہ جی سے ہے۔
۱۳:۔ ڈائجسٹ پڑھنا پہلے شوق تھا پھر عادت بن گیا اور اب تو زندگی کا حصہ ہے۔ ڈائجسٹ پڑھتے ہوئے زندگی کا وہ سہانا دور گزرا جب لڑکیاں گڑیا سے کھیلنا چھوڑ کر خواب دیکھنا شروع کرتی ہیں۔
۱۴:۔ گریجویشن تک بہت بہت شرارتیں کیں۔
یہ گریجویشن کے فائنل ائیر کی بات ہے کہ آخری کلاس تھی جو کہ عموماً پریکٹیکل کی ہوتی تھی اور لیکچرر جرنلز چیک کرتے ہوئے سارا وقت گزارا کرتی تھیں کیونکہ میں ان کے چہیتے بچوں میں سے ایک تھی اس لیے کوئی بھی شرارت ہوتی تو میرا نام کبھی نہ آتا جب کہ ہر شرارت تقریباً میں ہی کیا کرتی تھی۔
اس روز بھی لیکچرر نے سب کو خاموشی سے کام کرنے کو کہا میں اپنی تینوں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بلی کی آواز نکال کر پوری کلاس کو ہنساتی رہی وہ ایک دو بار دیکھتیں کہ کس نے نکالی ہے اور سب کو آئیں بائیں شائیں کرتے دیکھ کر کھڑا کردیا سوائے میرے اور ایک دو لڑکیوں کے۔ آواز پھر بھی آتی رہی اور آخر انہوں نے پکڑ لیا کہ اس طرف سے آواز آئی ہے۔ میں تو تھی ہی معصوم ٹیچر نے ہنستی ہوئی دوست کو پکڑ لیا (ہی ہی ہی) اور پھر وہ عزت افزائی ہوئی کہ رونے والی شکل کے ساتھ منمناتی رہی لیکن ٹیچر تھوڑی نرم مزاج تھیں (ہی ہی ہی)
اس دن بہت مزہ آیا تھا اور دوست نے بعد میں مجھے بہت کوسا تھا۔
۱۵:۔ ویسے تو میں ہمیشہ ہی مثبت سوچتی ہوں ہر بندے اور ہر چیز سے مثبت سبق ہی لیتی ہوں لیکن پچھلے تین سال سے میں ایک ایسی شخصیت سے بے حد متاثر ہوں جو جیسے اندر سے ہیں ویسے ہی باہر سے بھی ہیں جو بس محبت کو جانتے ہیں اور محبت ہیں جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ جانتے ہوں گے میں بہترین انسان اور بہترین ناولسٹ سر محمود ظفر اقبال ہاشمی کا ذکر کررہی ہوں۔
جنہیں جاننے پر مجھے فخر ہے الحمدللہ۔
جو ہمیشہ دعاؤں میں شامل رہتے ہیں۔
جن کے لیے میرے دل میں بے حد احترام بھی ہے!

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close