Aanchal Feb 15

کام کی باتیں

حنا احمد

موسم سرما میں بچوں کی حفاظت
موسم سرما والدین کے لیے خصوصاً نومولود بچوں کی مائوں کے لیے بہت پریشان کن ہوتا ہے۔ اس موسم میں اکثر بچوں کو نزلہ و زکام کے علاوہ سینے کی تکالیف لاحق ہوجاتی ہیں جن پر اگر فوری توجہ نہ دی جائے تو یہ بچے کی زندگی کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوتی ہیں لہٰذا بہتر ہے کہ سردیوں میں بچے کو موسمی اثرات سے جتنا زیادہ ہوسکے بچایا جاسکے تاکہ اس کی صحت اور زندگی خطرات سے بچ سکے۔
موسم سرما کے اوائل سے ہی عموماً نزلہ‘ زکام‘ کھانسی اور سینے کی بیماریاں بچوں پر حملہ آور ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ بیماریاں وائرس کے باعث پھیلتی ہیں اگر حملہ زیادہ شدید ہو تو بیماریاں ورم نرخرہ (گلے کی سوزش) اور نمونیا کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ موسم سرما ہر قسم کے وائرس خصوصاً تنفس کی بیماریوں‘ انفلوئنزا اور کئی دوسری بیماریوں کے وائرس کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے۔ یہ وائرس مریض کے منہ اور ناک کی رطوبت میں موجود ہوتے ہیں جب مریض کھانستا یا چھینکتا ہے تو وائر س والی رطوبت کے ننھے ننھے قطرات سانس کے راستے دوسرے لوگوں کے جسم میں پہنچ کر انہیں بھی بیمار کردیتے ہیں۔ فلو دراصل شدید نوعیت کی تنفسی بیماری ہے جو سینے اور گلے کو متاثر کرتی ہے۔ فلو ہر عمر کے لوگوں کو لاحق ہوسکتا ہے لیکن چھوٹی عمر کے بچے اور بوڑھے افراد اس کی زد میں آکر سانس کی بیماریوں میں زیادہ مبتلا ہوسکتے ہیں۔
وائرس والی بیماریاں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ سادہ نزلہ و زکام میں ناک اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے جس کے بعد خشک یا بلغمی کھانسی ہوسکتی ہے۔ مرض میں شدت ہو تو سانس کی نالیوں کی سوزش‘ سینے کی جکڑن‘ نمونیا اور کان کی تکالیف بھی لاحق ہوسکتی ہیں۔
موسم میں تبدیلی دمے کا باعث بھی بن سکتی ہے‘ ابتدائی قدم کے طور پر ضروری ہے کہ موسم سرما کی بیماریوں کے خلاف شروع ہی میں حفاظتی تدابیر اختیار کرلی جائیں تاکہ ان کے حملے سے بچا جاسکے۔
عام طور پر شدید تنفسی بیماریاں وائرس سے پیدا ہوتی ہیں اور چند ہی دنوں میں ان کا زور کم ہوجاتا ہے تاہم کمزور افراد میں جراثیمی بیماریاں مختلف پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں جس بیماری کو ہم عام طور پر سادہ فلو کہتے ہیں وہ بخار‘ کھانسی‘ ناک کا بہنا اور ناک کی بندش جیسی تکالیف کا مرکب ہے۔ یہ شکایات تین چار روز تک رہتی ہیں جس کے بعد ان میں کمی آجاتی ہے۔ ایسی صورت میں علامات کے مطابق علاج موثر ثابت ہوتا ہے‘ عموماً سادہ بخار سانس کی نالیوں میں سوزش و رکاوٹ کو دور کرنے والی دوائیں مرض کی علامات میں افاقہ لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں تاہم اگر کسی جراثیمی بیماری کا حملہ شدید ہو تو مریض کو تیز بخار ہوجاتا ہے۔ کھانسی آتی ہے‘ سینے میں بلغم بننے لگتا ہے اور حلق متورم ہوجاتا ہے‘ اس کیفیت کو گلے کی سوزش کہتے ہیں۔
انفیکشن‘ کان کے وسطی پردے اور گلے کی درمیانی نالیوں کو متاثر کرسکتا ہے‘ ان نالیوں کا تعلق گلے اور کان سے ہوتا ہے اس لیے گلا دکھنے کے ساتھ ساتھ کان میں درد کی شکایت بھی لاحق ہوسکتی ہے۔ کان کے انفیکشن میں عام طور پر اینٹی بائیوٹک ادوایات سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے اگر بروقت مناسب علاج نہ کیا جائے تو جلد ہی کان سے پیپ بہنے لگتی ہے اور کان کے پردے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بالخصوص اگر مریض بچہ ہو اور اسے کان کی تکلیف بھی شروع ہوجائے تو فوراً معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ بچوں اور بوڑھوں میں انفیکشن پھیپھڑوں تک پھیل کر انہیں نمونیا میں مبتلا کرسکتا ہے اس صورت میں مریض کو تیز بخار‘ شدید کھانسی‘ بلغم اور سانس تک میں دشواری کی شکایت لاحق ہوسکتی ہے۔ سانس کی آمدورفت‘ تیزی اس بات کی علامت ہے کہ مریض سینے کے شدید انفیکشن میں مبتلا ہے۔
اگر سانس میں شدت ہو اور پسلیاں چلتی ہوئی محسوس ہوں تو یہ نمونیا کے حملہ آور ہوجانے کی نشانی ہے۔ نمونیے کی صورت میں فوری طور پر معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے‘ نمونیے کے مریض کو اینٹی بائیوٹک ادویات کے ساتھ ساتھ خصوصی نگہداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مرض شدت اختیار کرلے تو مریض کو ہسپتال میں داخل کرانا ضروری ہوسکتا ہے اگر دونوں پھیپھڑے کی ہوائی نالیاں متاثر ہوں تو اسے ورم نرخرہ (سانس کی نالیوں کی سوزش) کا نام دیا جاتا ہے عام طور پر بچے اس انفیکشن کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
سینے کے ہر قسم کے انفیکشن میں مریض کو ادویاتی علاج کے ساتھ ساتھ خصوصی نگہداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصی نگہداشت میں مریض کو بھاپ دینا بھی شامل ہے‘ سینے کے امراض میں بھاپ دینے سے مریض کو سہارا مل جاتا ہے۔ یہ طریقۂ علاج مرض کے خلاف ایک اہم حفاظتی تدبیر بھی ہے‘ واضح رہے کہ سردیوں میں خشک کھانسی کی روک تھام اور اس کے انسداد کے لیے سینے کی ہوائی نالیوں کو مرطوب رکھنا ضروری ہے۔
سانس کی نالیوں کی سوزش میں سینے کے بلغم کو کھانس کر باہر نکالنا ضروری ہے۔ بھاپ میں گہرے سانس لینے سے جما ہوا بلغم پتلا ہوجاتا ہے اور اسے کھانس کر آسانی سے خارج کیا جاسکتا ہے۔ پانی میں اگر نمک بھی شامل کرلیا جائے تو اس کے بخارات سینے اور گلے کی جمی ہوئی مضر صحت رطوبتوں کے جلد اور باآسانی اخراج میں مدد دیتے ہیں۔
گہرے سانس لینا اور کھانسنا سینے کی بہترین ورزش ہے‘ کھانسنے سے سینے کی رطوبتیں بآسانی خارج ہوجاتی ہیں۔ امراض سینہ میں مبتلا مریضوں کے لیے طبعی طریقہ علاج فیزیوتھراپی بہت سود ثابت ہوتا ہے۔اس طریقۂ علاج میں مریض کی مالش کرنا اور اسے ورزش کرانا شامل ہے۔
دمے کے مریضوں کو عموماً سردیوں میں اس مرض کے دورے پڑتے ہیں‘ ان کے لیے مناسب ہوتا ہے کہ وہ موسم سرما کے دوران حفاظتی تدابیر پر باقاعدہ عمل کریں۔ ان تدابیر میں حفاظتی ادویات کا باقاعدہ استعمال بھی شامل ہے‘ اسپرے اور بذریعہ سانس اندر کھینچنے والی دوائیں ہمارے جسمانی نظام میں داخل نہیں ہوتی ہیں اس لیے ان کا استعمال کھانے والی دوائوں سے بہتر ہے جب کوئی ماں محسوس کرے کہ اس کے بچے کو دمے کا دورہ پڑنے والا ہے تو اسے بلا تاخیر بذریعہ سانس اندر لے جانے والے ادویاتی اسپرے کا استعمال کرادینا چاہیے تاکہ مرض کے حملے کا سدباب ہوسکے‘ تاہم ضروری ہے کہ یہ ادویات معالجین کی تجویز کردہ ہوں اور ان کا استعمال معالجین کی ہدایت کے مطابق ہی کیا جائے۔
مریض بچے کی ماں کو چاہیے کہ اسے باقاعدہ سے بھاپ میں سانس دلائے اور اسے پالتو جانوروں سے دور رکھے۔ بچے کے کمرے میں قالین نہیں ہونے چاہئیں‘ دمے کا مرض گرد و غبار سے یا موسم کی تبدیلی خصوصاً برسات شروع ہونے پر شدت اختیار کرلیتا ہے اس کے لیے بچے کو گردو غبار اور بارشوں سے بچانا چاہیے۔موسم تبدیلی ہونے پر ماں کو فوراً چوکس ہوجانا چاہیے اور حفاظتی تدابیر پر عمل شروع کردینا چاہیے اگر ماں محسوس کرلے کہ بچے پر مرض کا حملہ ہونے والا ہے تو مزید پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے فوراً معالجین سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
عبیرہ احمد… خانیوال

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close