Aanchal Feb 15

پڑھی لکھی

ام اقصیٰ

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا، جو دکھائی دے اسے خواب کر
میرے صبر پہ کوئی اجر کیوں، میری دوپہر پہ کوئی ابر کیا
مجھے اوڑھنے دے اذتیں، میری عادتیں نہ خراب کر

خواہش تھی تو عجیب ہی لیکن تھی اتنی شدید کہ روز بروز میرے اندر جڑ پکڑتی جارہی تھی خاص طور پر جب جب میں انعم بھابی کی خواہش پوری ہوتے دیکھتی میری اندر کی خواہش بھی حسرت کا روپ دھارنے لگتی۔ ہاں تو خواہش یہ تھی کہ کاش میں جاہل ہوتی‘ ان پڑھ ہوتی۔ لفظوں‘ حرفوں‘ حکمتوں سے ناآشنا ہوتی بالکل انعم بھابی کی طرح… یہ خواہش میرے اندر انعم کی شادی… نہیں بلکہ میری اپنی شادی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ انعم میرے چاچو کی بیٹی اور الف ب سے ناآشنا تھی۔ ہمارا اپنے چاچو سے ملنا ملانا کم تھا ویسے بھی پاپا اپنی جاب اور ہم سب بہن بھائی اپنی اپنی پڑھائی میں اس قدر مگن ہوتے کہ کہیں آنے جانے کا وقت بہت کم نکال پاتے یوں رشتہ داروں سے ہماری ملاقاتیں کئی سالوں بعد چند لمحوں کے لیے ہوتیں۔ شادی سے پہلے انعم سے میری دوچار واجبی سی ملاقاتیں ہوئیں تھیں پھر جنید سے اس کی شادی ہوگئی۔ جنید ان کی فیملی فرینڈز میں سے تھا بمشکل انٹر پاس جنید کسی پرائمری اسکول میں نائب قاصد تھا۔ میں نے انعم کی شادی پر ہی اس فیملی کو دیکھا تھا خاصے ڈیسنٹ لوگ تھے۔ انعم یقینا خوش قسمت تھی آج کل کے دور میں جب ایم اے پاس لڑکیاں گھر بیٹھی رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں وہیں انعم وقت پر اور نسبتاً اچھی فیملی میں گھر بار کی ہوگئی تھی۔
انعم کی شادی کو دو سال ہوچلے تھے ہمارا اتنا آنا جانا چونکہ نہیں تھا سو ادھر اُدھر سے اس کے اپنے گھر خوش ہونے کی خبریں ملتیں اور پھر جنید سے چھوٹے برہان کا میرے لیے رشتہ آگیا میں ایم کام کے پیپرز سے فراغت کے بعد کچھ اور کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ نہ صرف برہان کا رشتہ آیا بلکہ ان لوگوں نے بہت جلدی بھی مچائی ہوئی تھی۔ انعم نے تو خاص طور پر پاپا کو کال کرکے آنکھیں بند کرکے اس رشتے کے لیے حامی بھرنے کا کہا۔ برہان نجی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر تھے‘ تعلیم بھی اچھی خاصی تھی۔ پاپا نے رسمی طور پر سوچنے کا کہا اور چاچو سے مشورہ کرکے رشتے کے لیے حامی بھرلی۔ برہان کو اگرچہ انعم کی شادی پر میں نے دیکھ رکھا تھا مگر مجھے خاص شکل یاد نہ تھی نہ ہی شکل پھر سے دیکھنے کی آرزو‘ مجھے پاپا مما پر مکمل بھروسہ تھا۔ محض تین ماہ کے قلیل عرصے میں میں بیاہ کر برہان کے سنگ چلی آئی۔ پہلے دو تین ماہ تو دعوتوں‘ ملاقاتوں اور ہنی مون میں گزر گئے اور راوی گھر بیٹھے چین لکھتا رہا پھر سسرال اور خاص طور پر انعم بھابی کی اصلیت سامنے آنے لگی۔ انعم بھابی کو بات منوانا آتی تھی اور اپنی منوانا بھی… وہ رو پیٹ کر شور ڈال کر بھڑاس نکال کر جو چاہے منوالیتی اور میری دفعہ میں ایک ہی بات کہی جاتی تم تو پڑھی لکھی ہو ناں… اور برہان نے تو پہلے دن ہی مجھے باور کروادیا تھا کہ آنسو لاکھ عورت کا ہتھیار سہی لیکن اسے سخت چڑ تھی‘ سو رونا دھونا ان سے بالکل برداشت نہیں ہوتا تھا۔
انعم بھابی کبھی اپنی کسی ضد کی خاطر رو رہی ہوتیں تو برہان اندر مجھے سنا رہے ہوتے سو اپنا یہ ہتھیار میں نے اندر کہیں دفن کردیا تھا ناقابل استعمال کا ٹیگ لگا کر‘ گھر کی بیشتر ذمہ داریاں بھی مجھ ہی پر ڈال دی گئیں میں پڑھی لکھی جو تھی۔
صفائی ستھرائی کے لیے تو ملازمہ آجاتی تھی مگر کھانے کی کلی ذمہ داری میری تھی‘ کہنے کو تو یہ ایک ہی کام تھا مگر میں دن بھر ہلکان ہوئی رہتی۔ صبح سب کو الگ الگ ان کی پسند کا ناشتا بنا کر دینا‘ حقیقتاً مجھے تھکا دیتا۔ بھاگ بھاگ کے ہلکان ہوجاتی‘ صبح اٹھتے ہی سسر کو چائے دینا‘ ساس کو وضو کرواکے جائے نماز بچھا کردینا پھر میں خود نماز پڑھتی‘ برہان کے کپڑے نکال کر رکھتی۔ دیور کے کپڑے پریس کرتی تب تک ساس نماز و اذکار سے فارغ ہوچکی ہوتی انہیں چائے پاپوں کے ساتھ دیتی۔ دیور جی کو ہر روز پراٹھا چاہیے ہوتا‘ سسر جی کو پراٹھا رات کے بچے سالن کے ساتھ اور ساتھ میں کچھ میٹھا بھی چاہیے ہوتا تھا اور پھر سے چائے ابھی یہ سب نپٹا ہی رہی ہوتی کہ برہان کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی تھیں۔ کبھی میچنگ ٹائی نہیں تو کبھی جرابیں اور ناشتا بھی ہر روز مختلف کبھی پراٹھا اچار‘ دہی کبھی کھچڑی شوربے کے ساتھ تو کبھی دلیہ یا بریڈ ہاف فرائی‘ اوپر سے ان کے نخرے الگ‘ پراٹھا موٹا ہے‘ انڈے میں نمک زیادہ ہے۔ شرٹ ٹھیک پریس نہیں اگر کبھی یہ سب ٹھیک ہو بھی تو میرے حلیے میں کوئی نہ کوئی نقص نظر آجاتا۔ ہاتھ ٹھیک سے نہیں دھوئے پیاز کی بدبو آرہی ہے‘ آٹا لگا ہے‘ بال الجھے ہیں غرض نو بجے جب وہ آفس کے لیے نکلتے تو میں تھک کے چُور ہوچکی ہوتی اور انعم خراماں خراماں کمرے سے نکلتی اپنے لیے اور جنید بھائی کا ناشتا بناتی‘ جنید بھائی حسب معمول روز لیٹ ہوتے اور ناشتا کرتے ہی انعم غڑاپ سے بستر میں اور میں ماسی کے سر پر… سب کام اپنی نگرانی میں کرواتی اور لنچ کا ٹائم ہوجاتا‘ سبزی‘ چکن‘ سالن‘ چاول‘ سلاد‘ کباب سب میری ذمہ داری ہوتے۔ انعم عین ٹائم پر نکلتی آٹا گوندھتی روٹیاں پکاتی‘ نہا دھوکر فریش نکھری ستھری ڈائننگ ٹیبل پر آتی جبکہ مجھے اکثر نہانے کا وقت نہ ملتا۔ کھانے میں کچھ نقص ہوتا تو بھی کلی الزام مجھ پر۔ انعم ذمہ داریوں سمیت ہر چیز سے بری الذمہ تھی‘ پڑھی لکھی جو نہ تھی۔ کبھی کسی بات پر میں ناسمجھی کا اظہار کرتی تو حیرت سے ٹوکا جاتا’’ ارے تم تو پڑھی لکھی ہو تب بھی نہیں پتا‘‘ اکلوتی نند کے نخرے اٹھانا بھی میری ذمہ داری تھی اور اکلوتی نند کی اکلوتی بیٹی کے نخرے تو الامان ایک بار مجھے مہندی لگانے کا کہا۔
’’بیٹا! مجھے تو مہندی لگانی نہیں آتی۔‘‘ میں نے شائستگی سے اسے گود میں بھر کے کہا۔
’’ہائیں… تمہیں مہندی لگانی نہیں آتی‘ اتنی پڑھی لکھی ہو۔‘‘ ساس نے ناک پر انگلی رکھ کر اس درجے تعجب سے کہا کہ میں ناک تک شرمندہ ہوگئی۔ غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی… اب بندہ پوچھے اسکول کالجز میں مہندی لگانا کب سے سکھلانے لگے‘ نہ میں نے کوئی بیوٹیشن کورس کر رکھا تھا۔
انعم بھابی ہر ویک اینڈ پر جنید بھائی کے ساتھ ہوٹلنگ کرنے جاتی یا کہیں گھومنے پھرنے‘ میں باوجود خواہش کے ایسا نہ کرپاتی ایک تو برہان کو پسند نہ تھا اور ویسے بھی میں تو…
ء…/…ء
انعم کی شادی‘ میری شادی سے دو سال پہلے ہوئی تھی مگر اللہ ہم پر بیک وقت مہربان ہوا تھا‘ خوش خبری سن کر انعم کے پائوں تو زمین پر نہ ٹکتے تھے گھر بھر میں وہ اڑتی پھرتی میں البتہ ایسی کسی بے پایاں خوشی کا اظہار بے ساختہ نہ کرسکتی تھی ظاہر ہے پڑھی لکھی جو تھی۔ انعم ہر پندرہ دن بعد چیک اپ کرواتی‘ ڈرپس‘ مقوی صحت ادویات‘ پھل‘ دودھ سب انعم بھابی کے لیے وافر تھا جبکہ مجھے چیک اپ کروائے ڈیڑھ ماہ ہو چلا تھا ساس برملا کہتی تھیں۔
’’بھئی تم تو پڑھی لکھی ہو ناں‘ اپنا خیال خود رکھ سکتی ہو تمہیں ڈاکٹرز اور ادوایات کی کیا ضرورت؟‘‘ ایسے میں‘ میں سوچتی‘ پڑھا لکھا ہونا انسان کو انسانیت سے نکال دیتا ہے کیا؟ علم کے فائدے تو بہت سن رکھے تھے علم کا کوئی نقصان بھی ہوتا ہے مجھے اب کہیں جاکر اندازہ ہورہا تھا۔
پاپا کہتے تھے علم پُل ہوتا ہے جیسے ایک پل کے نیچے چھلنی لگتی ہوتی ہے کہ صاف پانی گزر جائے گند وہیں رک جاتا ہے ایسے ہی علم انسان کے اندر پل کا کام کرتا ہے‘ صاف ایک طرف گند ایک طرف… لیکن مجھے لگ رہا تھا علم واقعی پل ہے رکاوٹ ہے جو کبھی پانی تک کو بھی گزرنے نہیں دیتا۔ میرا شدید جی چاہتا کسی بات پر ضد کرنے کو‘ کسی خواہش کی تکمیل تک مچلتے رہنے کو‘ رو کے بھڑاس نکالنے کو اپنی من مانی کو لیکن میں یہ سب نہ کرسکتی تھی کیونکہ میں ’’علم والی‘‘ تھی ناں ایسے میں ایک ہی حسرت میرے اندر سر اٹھاتی کاش میں بھی جاہل ہوتی… پڑھی لکھی نہ ہوتی… چلو ماں باپ نے اسکول ڈال ہی دیا تھا تو کند ذہن نکلتی‘ پڑھ کے نہ دیتی لیکن میں تو ایسی ذہین تھی کہ ابتدائی جماعتیں سال میں دو پاس کرجاتی تھی۔ ذہانت ہر جگہ فائدہ دیتی ہے پر سسرال میں نہیں۔ سسرال میں بھلا ذہانت کا کیا کام؟ سسرال میں تو علم بھی بے فائدہ ہوتا ہے‘ سسرال کے لیے تو ایک ہی چیز کافی ہوتی ہے‘ سمجھوتہ… بے زبان ہونا۔
مجھے لگتا اگر میں جاہل ہوتی تو اب سے کہیں خوش حال ہوتی‘ وقت کی ایک ہی اچھی روش ہے جو ازل سے قائم ہے اور تا ابد رہے گی کہ ’’گزر جاتا ہے‘‘ اب بھی بُرا یا بھلا گزر گیا تھا خدا نے مجھے رحمت اور نعمت دونوں سے نوازا تھا۔ انعم بھابی کے ہاں بیٹا ہوا تھا‘ میری ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا پہلی ہی بار میں جڑواں بچوں کو سنبھالنا بے حد کٹھن تھا‘ اوپر سے میری اکلوتی نند بیوہ ہوکر یہیں آگئی تھی۔ میں نے اپنی زندگی تیاگ دی تھی‘ اب فقط میری ایک ہی حسرت تھی کہ میرا علم کبھی تو مجھے فائدہ دے کبھی تو کسی بات کا ایڈونٹیج ملے کہ ہاں یہ پڑھی لکھی تھی۔ انعم مجھ سے کہیں بہتر زندگی گزار رہی تھی‘ علم اگر اپنا خراج مانگتا ہے تو یقین مانیے میں دے رہی تھی علم کا تاوان بھگت رہی تھی۔ سارا دن جڑواں بچوں کے پیچھے بھاگنا مجھے بے حال کردیتا تھا تبھی سسر نے جائیداد سب میں بانٹ دی‘ میری دلی خواہش تھی کہ شہر کے وسط والا پلاٹ ہمیں ملتا میں اپنی مرضی سے تعمیر کرواتی‘ اسے سجاتی سنوارتی اپنے بچوں اور میاں کے ساتھ اکیلی رہتی اور سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کی تربیت اپنی مرضی سے کر پاتی مگر انعم بھابی نے اپنی مشہور زمانہ رونے اور ضد والی عادت سے پلاٹ اپنے حصے میں کروالیا‘ ایک جو چھوٹی سی سسرال سے جان چھوٹنے کی امید بندھی تھی وہ بھی معدوم ہوگئی۔ انعم نے پلاٹ تعمیر کروایا اور وہیں شفٹ ہوگئی‘ برہان نے اوپری پورشن تعمیر کروادیا۔ ہم لوگ اوپر شفٹ ہوگئے مگر کاموں کے سلسلے میں بیشتر وقت میرا نیچے گزرتا‘ عبیر اور احمد اپنی پھوپو کی بیٹی سے دن بھر کھیلتے‘ وہ گائوں کی پلی بڑھی میرے سکھلائے سب مینرز میرے بچوں سے چھین چھان مٹی میں دبا دیتی‘ دن بھر لان کی کھدائی میں بچوں کو ساتھ لگائے رکھتی۔ عبیر اور احمد دن بھر مٹی میں لت پت نظر آتے اور آنکھ بچاتے باہر نکل جاتے اور گلی کے بدتمیز بچوںکے ساتھ کھیلتے‘ میں کچن سے جھٹ پٹ سب چھوڑ کے آتی ان کو نہلا کے کپڑے بدلواتی۔ دن میں کوئی چار بار میں ان کے کپڑے بدلواتی اور ایسے میں ساس کی باتیں کہ بھئی چھوڑو بچے ہیں‘ وہ واقعی بچے تھے مگر ان کی ماں تو پڑھی لکھی ناں…
ء…/…ء
عبیر اور احمد اسکول جانا شروع ہوگئے تھے میری ذمہ داریاں جوں کی توں تھیں۔ دن بھر کام نپٹاتی بچوں کی فرمائشیں پوری کرتی اور شام کو اپنی نگرانی میں ہوم ورک کرواتی۔ دونوں ذہین تھے اور پڑھائی کے شوقین بھی اب شرارتیں بھی کم ہوچلی تھیں۔ رات میں اکثر انعم بھابی چلی آتیں ان کی بے فکری دیکھ کر مجھے رشک آتا۔ اکثر تو اکیلی چلی آتیں کہ دل گھبرا رہا تھا‘ چار سالہ جاثم کی بابت استفسار پر بتاتی کہ کھیل رہا تھا۔
تبھی فرحان کی شادی کا غلغلہ مچا‘ عنثیٰ دور پار کی رشتے دار تھی‘ آخر چھوٹے بیٹے کی شادی تھی سو گھر میں خوب رونق لگی تھی‘ مہندی کی رات تھی میں الٹا سیدھا تیار ہوئی‘ مہمانوں کو بھگتا رہی تھی۔ عبیر سبز اور گلابی غرارہ پہنے دادی کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ احمد اپنے چاچو کے ساتھ ساتھ تھا۔ انعم حسبِ معمول خوب بھڑکیلے لباس و میک اپ میں محفل کے درمیان بیٹھی قہقہوں میں مصروف تھی۔ جاثم خوب تنگ کرتا پھر رہا تھا‘ مہندی کی پلیٹوں سے بھربھر مہندی لاتا اور خواتین پر اچھال دیتا۔ کنیز خالہ نے بغیر کسی کا لحاظ کیے انعم کو خوب سنائی مگر وہ ان سنی کرتی بیٹھی رہی۔ میں اپنی ساس اور کنیز خالہ کو چائے دینے آئی تو دونوں باتوں میں مصروف تھیں‘ کپ پکڑکے مجھے بھی پاس بٹھالیا۔ تبھی کنیز خالہ بولی۔
’’کشور! تمہاری یہ بہو تو ہیرا ہے‘ اتنی تمیز والی‘ ذمہ دار فرض شناس اور بچے ماشاء اللہ تربیت تو صاف نظر آرہی ہے۔‘‘
’’ظاہر ہے پڑھی لکھی جو ہے۔‘‘ میری ساس میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکراتے کہہ رہی تھیں۔
وہ اور بھی میری تعریفیں کررہی تھیں مگر مجھے تو صرف ایک لفظ کی تکرار سمجھ آرہی تھی‘ پڑھی لکھی… پڑھی لکھی… اور مجھے لگ رہا تھا آج میں نے علم کا خراج مکمل چکا دیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close