Aanchal Feb 15

ستارۃ سحر

سمیرا غزل صدیقی

رات کے خواب سنائیں کس کو، رات کے خواب سہانے تھے
دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے
ہم کو ساری رات جگایا جلتے بجھتے تاروں نے
ہم کیوں ان کے در پر اترے کتنے اور ٹھکانے تھے

خنک ہَوا کے سرد جھونکوں نے اسے سخت اذیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ صبح کے چھ بج رہے تھے چار سو چھائی دھند کی وجہ سے اسے گاڑی چلانے میں سخت دشواری پیش آرہی تھی۔ وہ جلد سے جلد مشہور و نامی گرامی آسٹرالوجسٹ کے پاس پہنچنا چاہتا تھا وہ اس وقت سخت جھنجلایا ہوا تھا وہ ایسا ہی تھا بہت جلد باز عجلت میں فیصلے کرنے والا بلکہ اسے تو فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہ تھا نہ ہی اس کے پاس اتنا حوصلہ تھا کہ وہ خود سے کوئی فیصلہ کر پاتا اور اگر کبھی بھولے بھٹکے سے وہ کوئی فیصلہ کر بھی لیتا تھا تو اپنے عزیزی آسٹرالوجسٹ سے رائے لینا ضروری سمجھتا تھا نجانے کیوں اسے ان ستاروں کی دنیا سے دلچسپی رکھنے والوں پر بھروسہ تھا بجائے اپنے رب کی رضا کے۔ وہ اس وقت شدید پریشان تھا۔ اس کا بزنس سخت خسارے میں جارہا تھا ایسا کیونکر ہورہا تھا یہی سوچ کر وہ مزید پریشان ہوگیا تھا جبکہ اس کے خیال میں اس نے اپنے بزنس و زندگی سے متعلقہ ہر فیصلہ نجومی و آسٹرالوجسٹ کی رائے سے مل کر طے کیا تھا وہ انہی سوچوں میں گم گاڑی چلا رہا تھا کہ ڈیش بورڈ پر رکھا سیل فون بجنے لگا۔
’’اف اس مصیبت کو بھی ابھی بجنا تھا۔‘‘ اس نے گاڑی کی اسپیڈ آہستہ کرنے کے بجائے مزید بڑھاتے ہوئے سیل فون اٹھایا تھا سامنے دھند کی وجہ سے اسے شیشے کے اس پار کا منظر بھی صاف طور پر دکھائی نہیں دے رہا تھا اس سے پہلے کہ وہ کال ریسیو کرتا اس کی گاڑی سامنے سے آتی گاڑی سے بری طرح ٹکرائی تھی اور پھر اس کے ارد گرد اندھیرا چھا گیا تھا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے پائوں کو پٹیوں میں جکڑا ہوا اور خود کو اسپتال کے کمرے میں موجود پایا‘ چند سیکنڈ لگے تھے اس کو ایکسیڈنٹ سے پہلے کا منظر یاد کرنے میں اس نے غصے سے اپنی مٹھیوں کو بھینچا تھا۔
’’اس آسٹرالوجسٹ نے تو ایسا کچھ نہیں بتایا تھا کہ میرے ستارے آج کل خراب چل رہے ہیں یا پھر میرا کوئی ایکسیڈنٹ ہوگا پھر کیسے یہ سب ہوگیا اور میرا بزنس اف خدا…!‘‘ وہ اب بھی ان ہی نام نہاد آسٹرالوجسٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا کچھ سوچ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔
’’یہ کیا کر رہے ہیں آپ پلیز آرام سے لیٹے رہیں۔ ڈاکٹر نے آپ کو آرام کرنے کا کہا ہے۔‘‘ اس کی عزیز از جان بیوی مریم جو کب سے پریشانی میں مبتلا اپنے محبوب کی اس حالت پر اشک بار تھی اسے اٹھتے دیکھ کر اس کے پاس چلی آئی۔
’’مریم میں اٹھ کیوں نہیں پا رہا ہوں کیا ہوا ہے میرے پائوں میں بتائو مجھے میرا جانا بہت ضروری ہے تم جانتی ہو نا۔‘‘ مریم نے گہری سانس خارج کی پھر نہایت محبت سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’کچھ نہیں آپ پریشان مت ہوں، چھوٹا سا آپریشن ہوگا پھر سب صحیح ہوجائے گا۔ میں نے بات کی ہے ڈاکٹر سے آپ ریلیکس رہیں۔‘‘ مریم کی بات مکمل ہوتے ہی نمیر کے چہرے پر سیاہی پھیل گئی تھی ایک کے بعد ایک مصیبت نے اسے تھکا ڈالا تھا۔ اس نے کرب سے آنکھیں موندلی تھیں۔ حقیقت سے نظریں ملانا اسے سخت مشکل لگ رہا تھا۔
ؤ …/…ؤ
’’تمہارا اسٹار کیا ہے؟‘‘ جب وہ نویں جماعت میں تھا تو اس کے ٹیچر نے اس سے یہ سوال کیا تھا۔
’’سر آئی ایم اسکورپین۔‘‘ گول گول آنکھیں گھماتے ہوئے اس نے جواب دیا تھا۔
’’وائو، زبردست جب ہی تو میں کہوں تم اتنے ذہین کیوں ہو عقرب اسٹار کے لوگ بہت ہی ذہین اور جذباتی ہوتے ہیں اور لکی بھی تم دیکھنا تم بہت ترقی کرو گے۔‘‘ یکدم ہی سر کے لہجے و آنکھوں میں اس کے لیے ستائش ہی ستائش تھی اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس کے کچے ذہن میں ستاروں کے حوالے سے دلچسپی کی ایک لہر جاگی تھی اسے سب اللہ نے نوازا تھا مگر اس وقت اسے یہ سب صرف اپنے اسٹار کا کمال لگ رہا تھا۔ وہ بہت لکی ہے یہ بات اس کے دل میں گانٹھ کی طرح بندھ گئی تھی اسی دن سے اس نے اپنے اسٹار کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کردی تھیں۔ وہ جیسے جیسے بڑا ہو رہا تھا اس کی شدت پسندی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا وہ اپنے ماں باپ آزر احمد رائمہ آزر کی اکلوتی اولاد نرینہ تھا۔ بہت زیادہ امیر نہ سہی لیکن ان کا تعلق ایک کھاتے پیتے اور خوش حال گھرانے سے تھا آزر کا کپڑے کا چھوٹا سا کاروبار تھا جو انہوں نے اپنا ایک گھر اور بیوی کے زیورات بیچ کر شروع کیا تھا والد اور والدہ کی کئی سال پہلے ہی ڈیتھ ہوچکی تھی ایک بہن تھی جو شہر سے باہر مقیم ہونے کی وجہ سے سالوں میں ہی چکر لگاتی تھی وقت جیسے جیسے گزر رہا تھا نمیر نہ صرف پڑھائی میں اعلیٰ مقام پیدا کرتا جا رہا تھا بلکہ اسٹارز کے حوالے سے اس کی شدت پسندی بھی جنون کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ یہ بات آزر اور رائمہ دونوں کے لیے کافی پریشانی کا باعث تھی اور تو اور اب تو وہ کام بھی اپنے لکی ڈے کے حساب سے کرنے لگا تھا۔ رائمہ نے اسے کتنی بار سمجھایا تھا۔
’’بیٹا تم اتنا ٹائم ضائع کرتے ہو ان سب میں یہ سراسر گناہ ہے نماز پڑھو قرآن پڑھو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے میں دیکھ رہی ہوں کہ تم دن بدن نماز سے غفلت برت رہے ہو یہ ٹھیک بات نہیں ہے بیٹا۔‘‘ رائمہ کی ڈانٹ و نصیحت بھی اس نے ہر بار کی طرح چٹکیوں میں اڑائی تھی پھر وقت کے ساتھ ساتھ نمیر کے پاس ماں باپ کے لیے وقت کی کمی ہوتی گئی۔ رائمہ نے تو اپنا تعلق اللہ سے مزید بڑھایا تھا۔ اب ان کا زیادہ تر وقت نمیر کی ہدایت و سلامتی کی دعائوں میں گزرنے لگا تھا۔ نمیر کے ایم بی اے کرتے ہی آزر صاحب ہارٹ اٹیک سے اس دنیا کو داغِ مفارقت دے گئے تھے ان کی وفات نے رائمہ کو مزید تھکا ڈالا تھا اب کاروبار نمیر نے سنبھال لیا تھا۔ رائمہ کو اب نمیر کی شادی کی جلدی تھی ایسے میں ان کی نگاہ انتخاب آزر کی بہن کی بیٹی مریم پر ہی ٹھہری تھی۔ انہوں نے فوراً نمیر سے رائے لی تھی اور نمیر کا جواب سن کر وہ حیرت سے اس کا منہ تکتی رہ گئی تھیں۔
’’اچھی بات ہے ماما اسکورپین ہوں اور وہ سرطان ہم دونوں کا اسٹار میچ کرتا ہے تو اور سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ ان کا لائق فائق بیٹا شریک حیات کے معاملے میں بھی اسٹار کو اہمیت دے رہا تھا۔
انہوں نے گہرے دکھ اور ملال سے اسے دیکھا تھا پھر اٹھ کر چلی گئی تھیں انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ نمیر مریم سے شادی کے لیے مان گیا ہے۔ دوسری طرف یہ امید تھی کہ مریم جیسی نیک اور سلجھی ہوئی لڑکی ہی اسے بدل سکتی ہے یوں ان دونوں کی شادی بھی ہوگئی تھی اور جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا مریم بھی نمیر کی حرکتوں سے پریشان ہونے لگی تھی نمیر کا بزنس کافی ترقی کرنے لگا تھا اور وہ ان ترقیوں کا سہرا صرف اپنے اسٹار کو دیتا تھا مریم نے بہت کوشش کی اسے راہِ راست پر لانے کی مگر وہ اس کی بات چٹکیوں میں اڑا دیتا تھا اب جیسے جیسے نمیر کے پاس پیسہ آرہا تھا اس کا تعلق بڑے بڑے آسٹرالوجسٹ و نجومیوں سے بڑھتا جا رہا تھا رائمہ اور مریم دونوں ہی اس کے جنون سے ڈرنے لگی تھیں۔ ڈر اس بات کا تھا کہ وہ اللہ سے دور چلا گیا تھا۔ مریم امید سے تھی نمیر باپ بننے جا رہا تھا اس خبر نے رائمہ کو خوشی سے سرشار کر ڈالا تھا مگر نمیر کی بات نے مریم کو گہرے غم و دکھ سے دوچار کیا تھا۔
’’افوہ، یہ بچہ ابھی اس دنیا میں آیا نہیں کہ مجھے بزنس میں اتنا بڑا نقصان ہوگیا جب آجائے گا تو پتا نہیں کتنا نقصان کرائے گا۔‘‘ ظالم سفاک لہجے نے اسے توڑ ڈالا تھا پھر اس نے نمیر سے کوئی بات نہیں کی تھی پھر کچھ دن بعد اب یہ نمیر کا ایکسیڈنٹ رائمہ اور مریم کو نڈھال کر گیا تھا۔
ؤ …/…ؤ
حد نگاہ تک پھیلی ویرانی و سناٹے اور گہری تاریکی نے اس کے اعصاب میں بجلی سی دوڑا دی تھی۔ دور دور تک روشنی کا نام و نشان تک نہ تھا۔
’’اف یہ کہاں پھنس گیا میں گاڑی کو بھی ابھی خراب ہونا تھا۔‘‘ نمیر نے دل ہی دل میں گاڑی کو کوسا تھا پھر گاڑی سے باہر نکل کر گاڑی کا جائزہ لیا تھا۔
’’ڈیمٹ، یہاں تو دور دور تک کوئی مکینک بھی نہیں ملے گا۔‘‘ ہاتھ کا مکا بنا کر اس نے گاڑی پہ مارا تھا اس نے اب پیدل چلنا شروع کردیا تھا کہ شاید کوئی مکینک مل جائے رات کافی گہری ہوچکی تھی دور دور تک کوئی روشنی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے اسے شروع سے ہی اندھیرے سے وحشت ہوتی تھی اس لیے وہ ہمیشہ ہی روشنی میں سونے کا عادی تھا۔ اس وقت اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کہیں سے بھی روشنی لا کر یہاں اجالا کردے جیسے جیسے وہ آگے جا رہا تھا اسے بہت ڈر لگنے لگا تھا موبائل فون کی ٹارچ لائٹ بھی اب جواب دینے لگی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید آگے بڑھتا اسے اپنے پیر پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ اس نے جیسے ہی ٹارچ اپنے رائٹ پیر پر ماری اس کے پسینے چھوٹنے لگے تھے بہت بڑا ایک سانپ اس کے پائوں سے چمٹا اسے ڈسنے کو تیار تھا۔ مارے خوف کے اس کی ایک دل خراش چیخ ویرانے میں گونجی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ صرف ایک خواب تھا آج ہی اسے اسپتال سے ڈسچارج ملا تھا اس کے آپریشن کی ڈیٹ تین دن بعد کی تھی سو اس نے اسپتال میں رہنا پسند نہیں کیا مگر جب سے وہ گھر آیا تھا اس کا دل گھبراتا جا رہا تھا اور اب یہ خواب وہ سچ مچ اب تھک سا گیا تھا خوف سے آنکھیں بند کر کے اس نے بمشکل سونے کی کوشش کی تھی۔
ؤ …/…ؤ
’’جب قیامت واقع ہوگی جس کا واقع ہونا جھوٹ نہیں ہے (وہ بہت سے لوگوں کو) پست کردے گی (اور بہتوں کو) اونچا کر دے گا جب زمین پر خوب زلزلہ آئے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے۔‘‘ (سورۃ الواقعہ آیت نمبر 1 تا 4)
’’کیا تمہیں اپنے رب کے وعدے پر بھی یقین نہیں ہے نمیر کیا تم اس قدر اپنے رب سے دور ہوگئے ہو کہ تمہیںاس کے عذاب سے بھی ڈر نہیں لگتا جو کچھ تم نے مجھے اپنے بارے میں بتایا ہے میں بہت پریشان اور غم زدہ ہوگیا ہوں کہ تم کس قدر گمراہ ہوگئے ہو۔‘‘ ایک مہینے کے آرام کے بعد اس نے گھر سے باہر کی دنیا دیکھی تھی۔ ضروری بزنس امور میں رائے لینے اور اپنی پریشانیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے اور مشہور آسٹرالوجسٹ کی پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے پر اس سے استفسار کرنے کی غرض سے اس کی جانب آیا تھا کہ وہاں دروازے پر اسے اس کے وہی فیورٹ ٹیچر مل گئے تھے جنہوں نے اس کے اسٹار کی اس کی ذہانت کی تعریف کی تھی لمبی داڑھی اور رعب دار شخصیت اب بھی ویسی ہی تھی ہاں داڑھی کا اضافہ ہوگیا تھا اس نے فوراً انہیں پہچان کے دعا سلام کی تھی جواباً وہ قریبی واقع اپنے روحانی سینٹر میں اسے اپنے ساتھ لے آئے تھے انہیں از حد حیرت ہوئی تھی کہ ان کا بہت ہی ذہین و فطین اسٹوڈنٹ یوں نجومیوں و آسٹرالوجسٹ کے پیچھے اپنا وقت اور پیسہ برباد کر رہا ہے ان کے بارہا پوچھنے پر نمیر نے اپنے تمام حالات ان کے سامنے رکھ دیے تھے۔
’’مگر سر آپ ہی تو ہمیشہ کہتے تھے کہ تم اسکورپین ہو تم بہت ذہین ہو بس جب سے ہی مجھے یہ لگنے لگا کہ میں اسٹار کی وجہ سے ہوں، جو ہوں۔‘‘ سر جھکائے اس نے وضاحت کی تھی۔
’’میری اس غلطی نے تمہیں گمراہ کردیا خدا مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا بیٹا مگر میں نے تمہیں کبھی ایسا نہیں کہا کہ تم ان کو اپنے اوپر حاوی کرلو ایک وقت تھا جب مجھے ان اسٹارز پر یقین تھا۔ مگر میں نے کبھی غلط راستہ اختیار نہیں کیا‘ کیا تمہیں نہیں پتا کہ حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ ’’تم غیب کی خبریں بتانے والوں کے پاس نہ جایا کرو۔‘‘ یہاں تک کہ اللہ خود اپنے قرآن کریم کی سورۃ الجن کی آیت نمبر ۲۵ تا ۲۷ میں ارشاد فرماتا ہے کہ۔
’’وہی غیب جانتا ہے تو وہ کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا مگر اپنے برگزیدہ پیغمبر کو غیب کی باتیں بتا دیتا ہے اور اس کے آگے پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے۔‘‘ کیا تم قرآن کو بھی جھٹلائو گے بولو اللہ نے تمہیں ہر نعمت سے نوازا مگر تم نے اس کا شکر ادا نہ کیا فرض عبادات سے منہ موڑ لیا تو پھر وہ تمہیں کیوں عذاب سے دور رکھے گا اور یہ جو تم رزق کی تنگی کا رونا رو رہے ہو سچ بتائو کبھی صدقہ دیا ہے زکوۃ دی ہے اپنے رزق سے۔‘‘ سر آج اس کو راہِ راست پر لانا ہی چاہتے تھے ان کی آنکھوں میں غم تھا۔
’’نہیں کبھی نہیں۔‘‘ نہایت دھیمی آواز میں سر جھکا کر اس نے اعتراف جرم کیا تھا۔
’’تو پھر خود سوچو کیوں نہ نقصان ہوگا بزنس میں ابھی بھی وقت ہے نمیر راضی کرلو رب کو نماز پڑھو اپنی ماں کی خدمت کرو بیوی کو خوش رکھو وہ بھی پریشان ہوں گی تمہاری حرکتوں سے گمراہی کی وجہ سے ہی تم بے چین رہتے ہو اور ابھی ایکسیڈنٹ ہوا ہے موت کو تو قریب سے دیکھ بھی چکے ہو زندگی کا بھروسہ نہیں ہے۔‘‘ اسے گلے لگا کر انہوں نے اسے سمجھایا تھا نجانے کیا تھا ان کی نصیحت میں کہ وہ اپنے آنسوئوں پر قابو ہی نہ رکھ سکا اور اپنی گمراہیوں پر روتا چلا گیا۔
’’تم جانتے ہو کل بارہ ربیع الاول ہے ہر سو چراغاں ہو رہا ہے ہم لوگ کتنے بد نصیب ہیں کہ صرف چراغاں کر کے بیٹھ جاتے ہیں اپنے نبی کریمﷺ کی سنتوں کو ان کے پیغام کو بھلا بیٹھے ہیں۔ اسی لیے تباہ و برباد ہوگئے ہیں، اسی لیے میں نے یہ مدرسہ اور روحانی سینٹر کھولا ہوا ہے تاکہ لوگوں کو صحیح راہ ہی دکھا سکوں۔‘‘ اب وہ اسے اپنے کام سے آگاہ کر رہے تھے پینتالیس سالہ اس شخص کی آنکھوں میں جوش و جذبہ تھا محبت تھی اپنے رب سے۔ اپنے رسولﷺ سے۔
’’کیا میں بھی یہاں روز آسکتا ہوں سر‘ مگر ابھی اجازت چاہوں گا۔‘‘ گھڑی پر نظر دوڑا کر اس نے اجازت چاہی تھی۔
’’بالکل ضرور مجھے خوشی ہوگی تمہیں یہاں دیکھ کر۔‘‘ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اسے دعائوں سے نوازا تھا۔
برسوں پہلے جو ان سے غلطی ہوئی تھی آج اس کا ازالہ کردیا تھا انہوں نے وہاں سے باہر نکلتے ہوئے نمیر نے پیچھے مڑ کر اس جگہ کو دیکھا تھا اسے اب جلد از جلد گھر جانا تھا تاکہ اپنے رب کے روبرو ہو کر معافی مانگ سکے ابھی تو اسے ماں اور مریم سے بھی معافی مانگنا تھی باپ بننے کی نعمت کا شکر ادا کرنا تھا اس نے مسکراتے ہوئے آسمان کی جانب دیکھا تھا جہاں ڈوبتا سورج اپنے ساتھ ساتھ اس کی گمراہیاں بھی لے ڈوب رہا تھا اسے یقین تھا کہ کل کا سورج اس کے لیے نور رحمت اور توبہ لے کر نکلے گا اس کا دل اپنے رب کی رحمت پر مطمئن ہوچلا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close