Aanchal Feb 15

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

جہنم
عذابِ الٰہی پانے والوں کا ٹھکانا…!
جہنم ( HELL) دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ جہنام کے معنی بہت زیادہ گہرائی کے ہیں جہنم کا لفظ اسی سے نکلاہے۔ جہنم دراصل آگ کا وہ گھر ہے جہاں اللہ کے نافرمان اور بداعمال ‘کفّار مشرکین کو روزِ آخرت میدانِ حشر سے ان کاحساب کتاب کرکے سزا بھگتنے کے لئے بھیجا جائے گا۔ قرآنِ حکیم میں جہنم کا جو نقشہ پیش کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہنم آگ کی بھٹی کانام ہے۔
جہنم کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ میں ہزار برس تک آگ پھونکی گئی‘ یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر ہزار برس تک مزید تیز کردی گئی جس پر اس کا رنگ سفید ہوگیا پھر ہزار برس تک مزید تیز کردی گئی حتیٰ کہ وہ سیاہ ہوگئی‘ سو دوزخ کی آگ سیاہ تاریک ہے اس میں روشنی ہرگز نہیں ہے۔(مشکوٰۃ)
جہنم کی گہرائی کے بارے میں ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر اس میں کنکرپھینکاجائے تووہ کنکر ستر برس میں بھی اس کی (تھاہ) نیچے بالکل آخر تک نہیں پہنچے گا۔ (مسلم شریف)
جیسا کہ آپ گزشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ روز ِآخرت تمام انسانیت کو مرنے کے بعد زندہ کرکے ان ہی جسموں کے ساتھ جو انہیں دنیا کی زندگی میں حاصل تھے میدانِ حشر میں جمع کرے گا جہاں ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق ہی جز ایاسزا سنائی جائے گی اللہ تعالیٰ جوبڑاہی عادل منصف ہے جو اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے پوری طرح باخبر ہے وہ اس روز کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کا معمولی سے معمولی ظلم وزیادتی بھی نہیں کرے گا ہر مجرم کو اس کے جرم کے مطابق ہی سزا سنائے گا۔
اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے نہایت واضح الفاظ میں آخرت میں مکافات وعقوبت کا عقیدہ بیان کیاہے اور جہنم کا ذکر بھی بار بار واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔قرآن حکیم کے مطابق جہنم بے ایمان مرنے والوں اور ایسے گناہ گاروں کاٹھکانہ ہے جن کے جرم ناقابل معافی ہیں۔ جہنم کا سب سے نمایاں وصف آگ ہے۔ قرآن کریم میں جہنم کی جگہ ناربھی جہنم کے ہی معنوں میں آیاہے۔
قرآن کریم اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے نازل فرمائی ہے تاکہ اس کے بندے یہ جان لیں کہ کیا غلط ہے کیا درست ہے اور وہ اپنی زندگی راہ راست پر بسر کرنے کے لئے قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کریں۔ قرآن کریم اور نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ کے محبوب رسول ہیں کو بھی اللہ نے بشیر یعنی خوش خبری دینے والا اور نذیر یعنی ڈرانے والابناکر بھیجا تاکہ احکامِ الٰہی کوعملی طور پر نافذ کرکے لوگوں کوآگاہ کرسکیں اور بتاسمجھاسکیں کہ غلط کیاہے اور درست کیاہے۔قرآن کریم مکمل اور آخری ہدایات نامہ ہے جو تمام انسانیت کی فلاح و بھلائی کا ضامن بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ بڑاہی انصاف کرنے والا عادل اور رحیم و کریم ہے۔ وہ اپنے کسی بھی بندے کے ساتھ نہ کسی کی زیادتی وظلم کو پسند فرماتا ہے نہ خود کسی پر کسی بھی طرح سے ظلم فرماتا ہے یہی وجہ ہے روزِ آخرت جب وہ مجرمینِ الٰہی کا فیصلہ ان کے اعمال واقوال کے مطابق فرمائے گا تو سب مجرمین کونہ تو برابر کی سزاملے گی نہ ایک ہی لکڑی سے ہانکاجائے گا۔اسی وجہ سے جہنم کے بھی کئی درجات وطبقے ان سزائوں کے اعتبار سے ہوں گے جن کی تحقیق مفسرین اور محققین نے کی ہے جس کاذکر قرآن کریم میں بھی ہے۔جہنم کے سات طبقے ہوں گے۔کیونکہ جہنم کے بارے میں ایک یہ رائے بھی ہے کہ وہ قید خانہ نہیں بلکہ شفاخانہ ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کی خیال ومنشا کے مطابق وہاں روحِ انسانی اپنی غلط کاریوں کو نتائج بد کودور کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گی اور جوں ہی وہ ان سے عہدہ برآہوگی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سرفرازی پاکراس عذاب سے نکال کر بہشت میں داخل کردی جائے گی۔ علامہ سید سلیمان ندوی کے اس خیال کی تصدیق بخاری شریف کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہاں تک جب دوزخیوں کو گناہوں سے خالص کرلیاجائے گا اور وہ پاک وصاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ ایک روایت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ جہنم پر ایک وقت ایسابھی آئے گا جب اس میں کوئی نہ ہوگا اوراس کے خالی دروازے کھڑکھڑائیں گے۔(مسلم۔مسند احمد)
دوزخ کے سات طبقات جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی ملتاہے۔
(۱)جہنم۔دوزخ کاایک درجہ جہنم ہے ۔ جہنم کا لفظ قرآن حکیم کی ۷۷ آیات میں آیا ہے جو اس امتِ مرحومہ کے عذاب وعتاب کامکان ہے۔ جہنم ان کافروں کو دور سے ہی میدان حشر میں دیکھ کر غصے سے کھول اٹھے گی اوران لوگوںکو اپنے دامنِ غضب میں لینے کے لئے چلائے گی اور جھنجلائے گی‘ جہنم کی اس کیفیت کواللہ ذوالجلال نے سورۃالفرقان میں اس طرح ارشاد فرمایا۔
ترجمہ:۔جب وہ(جہنم) انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ اُس کاغصے سے بُپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے۔ (الفرقان۔۱۲)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کی کیفیت کااظہار فرمادیاہے کہ جہنم اپنی آگ اپنی شدت میں کیسی غضب ناک جگہ ہوگی کہ وہ اپنی خوراک کے لئے کیسیبے چین وبے قرار ہوگی اس کیفیت کا سورۂ الملک میں بھی اظہار ہوا ہے۔
ترجمہ:۔ جب جہنمی ‘جہنم میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دھاڑناسنیں گے اور وہ جوش غضب سے اچھلتی ہوگی‘ ایسے لگے گا کہ وہ غصے سے پھٹ پڑے گی۔ جب کبھی اُس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اُس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ (الملک۔۷ اور۸)
جہنم کا دیکھنا اور چلانا ایک حقیقت ہے یہ کوئی استعارہ نہیں ہے۔ اللہ جو بڑا قادر مطلق ہے اس کے لئے ہر چیز ممکن ہے۔ اللہ کے لئے اس کے اندر احساس وادراک کو قوت پیدا کرنا کون سامشکل کام ہے وہ جو چاہے کرسکتاہے۔ آخر اسی خالق نے آگ کے شعلے سے جنوں کو ایک صاحب اختیار مخلوق کے طور پر پیدا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کو بھی قوت گویائی عطافرماسکتاہے جہنم کے بارے میں سورۃ ق میں ہے کہ جہنم اُس روز۔ ’’ھل من مزید‘‘ یعنی کیاکچھ اور بھی ہے؟ کی صدابلند کرے گی۔
ترجمہ:۔درحقیقت جہنم ایک گھات ہے‘ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے‘ جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ (النباء۔۲۱ تا۲۳)
گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں جو شکار پھانسنے کے لئے بنائی جاتی ہے یا جہاں چھپ کر دشمن کاانتظار کیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ بے خبری میں آئے تو اچانک حملہ آور ہو کر قابو پالیاجائے۔ انسان دنیا میں احکامِ الٰہی عذابِ الٰہی سے بے خوف وخطر ہو کر خوب اچھلتا کودتا پھرتاہے اسے کسی گرفت کا کوئی خطرہ محسوس ہی نہیں ہوتا لیکن جہنم ان کے لئے ایک ایسی ہی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ روز آخرت پھنسنے والے ہیں اور وہ وہیں پھنس کررہ جائیںگے۔
دوسری آیتِ کریمہ میں لفظ احقاب استعمال ہوا ہے جس کے معنی پے درپے آنے والے طویل زمانے ایسے مسلسل ادوار کہ ایک دورختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجائے۔ اس لفظ سے بعض نے استدلال کرتے ہوئے ہمیشگی کے معنی لئے ہیںجبکہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہوگی ہی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہوگی‘ کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں‘ آیت میں جب اللہ تعالیٰ نے مدتوں کا لفظ استعمال فرمایاہے تو اس سے یہی تصور ابھرتاہے کہ وہ لامتناہی نہیں ہوں گی طویل بہرحال ضرورہوں گی کیونکہ جب جس کی سزا پوری ہوجائے گی اللہ رحیم اس پر رحم فرمائے گااور سزا ختم ہونے پر اسے جہنم سے نجات مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی انصاف کرنے والا عادل ہے۔
(۲)سعیر۔ یہ دوزخ کا دوسرا درجہ ہے یہ نصاریٰ کا مقامِ خاص ہے ۔سعر کے معنی آگ بھڑکانے کے ہیں۔ یہ سعیر کی جمع ہے جس کے معنی جنون بے عقلی‘ جب انسان کے دماغ میں گرمی بھڑک اٹھتی ہے تووہ پاگل ہوجاتا ہے سعیر کے معنی آگ کے ہیں۔سورۂ لقمان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ:۔اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرواُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایاہے۔ کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان ان کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہاہو۔ (لقمٰن۔۲۱)
آیتِ مبارکہ میں دوزخ کے دوسرے طبقے السعیر کا ذکر آیا ہے قرآن حکیم میں جہنم کے اس درجے کاذکر نو مقامات پر آیاہے۔سورۂ الملک میں تین بار اور سورۂ الحج‘ لقمان‘ سبا‘ الاحزاب ‘فاطر اور شوریٰ میں ایک ایک بارہوا ہے۔
ترجمہ:۔اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اوران کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔ (الاحزاب۔۶۴)
آیتِ مبارکہ میں ارشادِ باری تعالیٰ جس سے واضح ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لئے کفر کرنے والوں کو ناصرف لعنت کی بلکہ ان کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ بھی دھکارکھی ہے۔ انسان دنیاکی زندگی لاکھ اپنی مرضی ومنشا کے مطابق بسر کرے لیکن اسے ایک روز تو اپنے ربّ کے حضور پیش ہونا ہی ہونا ہے اور وہ دن اس کے اعمال کے حساب کتاب کا دن ہوگاایسے ہی لوگوں کو جوبے پرواہ زندگی بسر کرتے ہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ناصرف ان کو بلکہ ان کی آخرت کو بھی اللہ تعالیٰ نے لعنتی قرار دے دیا اگر زندگی کے وقفے سے فائدہ نہیں اٹھاسکے تو پھر ان کا مقدرجہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوگااور جب وہ اس آگ میں پھینک دیئے جائیں گے تو اس وقت کی کیفیت سے بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرمارہاہے تاکہ اگر کوئی پلٹناچاہے‘ سدھرناچاہے تو ابھی وقت ہے دنیا میں ہی سدھرجائے۔
ترجمہ:۔اور وہ کہیں گے کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں شامل نہ ہوتے۔ (الملک۔۱۰)
جب روزِ آخرت اللہ جل شانہ‘ فیصلہ صادر فرمادے گا اس وقت پچھتاوے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا جب آگ میں ڈالے جانے کا حکم ہوجائے گا تب احساس ندامت پچھتاواہونا بے معنی ہوگا۔ اسی سبب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کیفیت کو بھی قبل از وقت ہی اپنے بندوں کے سامنے کھول کررکھ دیا ہے تاکہ کل بندہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اگر خبر ہوتی کہ میرے ساتھ ایسا ہوگا تو میں ہرگز کفر نہ کرتا۔ اللہ تعالیٰ بڑاہی رحیم و کریم ہے وہ اپنے بندوں سے بے پناہ بے حد وحساب شفقت ومحبت فرماتا ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو جوآزادی دی ہے اس میں وہ مداخلت نہیں کرتا وہ تو چاہتا ہے کہ بندہ پوری آزادی کے ساتھ بغیر کسی دبائو کے اس کی بندگی و اطاعت کرے اور اپنی آخرت کی دائمی زندگی کا خود بندوبست کرے۔ نیک وبدیکساں نہیں ہوسکتے جب وہ نیکوکار متقی افراد کو جزا وانعام دے گا تو لازمی بات ہے بغاوت وکفر کرنے والوں کو سزا بھی دے گا تب ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔
(۳)حطمہ۔یہ بھی دوزخ کا ایک طبقہ ایک درجہ ہے حطمہ کے معنی روندنے والا ریزہ ریزہ کردینے والا یہ حطم سے متشق ہے‘ صیغہ مبالغہ واحد اس سے مراد دوزخ ہے ۔ قرآن حکیم میں سورۃ الھمزہ میں دوبار استعمال ہوا ہے۔ مفسرین نے اسے یہودیوں کا ٹھکانا لکھا ہے۔
ترجمہ:۔ ہر گز نہیں وہ شخص تو چکنا چور کردینے والی آگ میں پھینک دیاجائے گا اور تم کیا جانو کہ وہ کیاہے چکنا چور کردینے والی۔ (الھمزہ۔۴۔۵)
نَبد کی تشریح کرتے ہوئے علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کسی چیز کو حقیر سمجھتے ہوئے پھینک دینا ‘ننگ ِانسانیت کو دوزخ میں پھینکنے کا ذکر کرتے ہوئے اس لفظ حطمتہ کااستعمال ہوا ہے جو اس مفہوم کوادا کرنے کے ساتھ اس کی تحقیر اور تذلیل کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ حطمتہ حطم سے ہے جس کے معنی توڑنا پیس ڈالنا اور ریزہ ریزہ کردینا ہے یہ دوزخ کے اس طبقے کانا م ہے جس کی آگ انتہائی تیز ہوگی جو بھی چیز اس آگ میں پھینکی جائے گی وہ آنِ واحد میں اس کو پیس کرراکھ بنا دے گی اس آگ کی شدت کے اظہار کے لئے ہی اس سورۃ کی چھٹی آیت میں اس آگ کو اللہ کی آگ کہا گیاہے یہ وہ آگ ہے جسے اللہ نے جلایا ہے جوہمیشہ بھڑکتی ہی رہے گی کبھی بجھے گی نہیں۔ یہ آگ اتنی شدید ہوگی کہ انسانی فہم وادراک اس کی شدت کو سمجھ نہیں سکتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تو انسانوں کو ہر چیزکے بارے میں خوب کھول کھول کر بار بار انداز بدل کرسمجھا رہا ہے کہ احکامِ الٰہی کو نہ ماننے کا کیسا شدید انجام ہونے والا ہے ابھی وقت ہے کہ عقل سے کام لے کر سنبھل سکتے ہو تو سنبھل جائو۔
(۴)الظیٰ ۔ دوزخ کے ایک طبقے کانام ہے۔ دہکتی ہوئی آگ‘ دہکنا‘ شعلہ زن ہونا‘ بغیر دھوئیں کے اٹھتا ہوا شعلہ‘ لّپٹ‘ بھڑک اس سے دوزخ مراد ہے۔ یہ دیوں اور (جنوں) اور ابلیس کا ٹھکانا ہوگا کیونکہ جن کو بھی اللہ تعالیٰ نے آگ کے شعلے یعنی لّپٹ سے ہی پیدا فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں صرف دوہی جگہ استعمال ہوا ہے۔
ترجمہ:۔(مگر) ہرگزیہ نہ ہوگا۔ یقینا وہ شعلہ والی آگ بھڑک رہی ہوگی۔ (المعارج ۔۱۵)
آیتِ کریمہ میں ربِّ ذوالجلال نے جہنم کے اس طبقے کی آگ کی شدت کا اظہار فرمایا ہے یہ بڑی ہی شدید بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی جو آگ سے پیدا شدہ مخلوق کو بھی جلاڈالے گی اس آگ کی شدت جہنم کے دوسرے طبقات سے کہیں زیادہ تیز اور شدید ہوگی۔
ترجمہ:۔ میں نے تمہیں شعلے مارتی آگ سے ڈرادیاہے۔ (الیل۔۱۴)
اللہ تعالیٰ سبھی انسانوں کا خالق ومالک ہے وہ اپنی حکمت ومشیت اور اپنے عدل اور رحمت کی بنا پر اس بات کا ذمہ دارہے کہ انسان کو دنیا میں بے خبر نہ رہنے دے۔ اسے باخبر کردے۔ اسے بتادے ‘سمجھادے کہ کونسی راہ راست ہے اور کونسی غلط ‘ نیکی کیا ہے‘ بدی کیا ہے‘ حلال کیا ہے‘ حرام کیا ہے‘ کونسی روش اختیار کرکے فرمانبردار بندہ بنوگے اور کونسا رویہ اختیار کرکے نافرمان بن جائوگے اور یہ بھی بتادیا سمجھادیا کہ دنیا سے آخرت تک کہیں بھی اس مالک کی گرفت سے باہر نہیں ہو‘ خواہ تم اللہ کی بتائی ہوئی راہ پر چلو یا نہ چلو۔گمراہی اختیار کروگے تو خود اپنے آپ پرظلم کروگے‘ اپناہی نقصان کروگے اور اگر راہ راست اختیار کروگے تو بھی تمہیں ہی نفع پہنچے گا خود ہی نفع کمائوگے یہ کام تمہارا ہے کہ تم آخرت کی بھلائی چاہو یا دنیا کی بھلائی سب اختیار اللہ تعالیٰ کوہی ہے۔ اللہ تمام باتیں کھول کر بتارہاہے کہ اگر تم نافرمانی کروگے جس درجے کا تمہارا جرم ہوگا ویسی ہی تمہیں سزا ملے گی۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close