Naeyufaq Apr 19

خوں ریز(حصہ۶)

امجد جاوید

مکھ مل نے جھومتے ہوئے سرسری انداز میں بات کی تھی لیکن میں سمجھ گیا ،وہ کوئی اہم انکشاف کرنے والی تھی ۔ میں نے اپنی بدلتی ہوئی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
’’ مکھ مل، تم ہوش میں نہیں ہو، اس لئے بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔ چھوڑو ان باتوں کو، مزید پینی ہے تو بتاؤ؟‘‘
’’ میں نے کہا ہے نا ،میں نشے میں نہیں ہوں۔ اتنی اور بھی پلا دو نا تب بھی مجھے نشہ نہیں ہو گا ۔‘‘اس نے پھر سے جھومتے ہوئے کہا تو میں نے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوئے بخشو کو مخصوص اشارہ کیا۔ وہ میری جانب بڑھا تو میں نے مکھ مل کی طرف دیکھا ۔ وہ میرے چہرے پر یوں دیکھ رہی تھی جیسے اپنی کسی حسرت کا اظہار کر رہی ہو۔ اس کے چہرے پر آگ کی روشنی جھلملا رہی تھی۔ جس میں اس کے تیکھے ناک کا لونگ بھی ستارے کی مانند دمک رہا تھا۔ بلاشبہ وہ خوبصورت تھی۔ اس پر جوانی کا خمار تھا۔ اس کا بدن تراشا ہوا تھا۔ ایک ایک خم جیسے بنایا گیا ہو۔ چولی سے اُبھرتا ہوا جو بن ہی مدہوش کر دینے کے لیے کافی تھا لیکن اس کے بدن سے اٹھنے والی ناگوار بُو نے اسے شجرِ ممنوعہ بنایا ہوا تھا۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔ اس کے ہاتھ کی نرماہٹ اس کے نسوانی گدا ز کا احساس دے رہی تھی۔ تبھی میں نے پوچھا۔
’’اچھا چلو بتاؤ، کیا جانتی ہو تم؟‘‘
میرے یوں کہنے پر وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’ سائیں یہ ایک راز ہے ممکن ہے اس راز کو کہنے کی مجھے سزا بھی مل جائے لیکن سائیں جو چند لمحے تم نے مجھے دئیے، ان کے صدقے بتا رہی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی پھرکھوئے ہوئے لہجے میں بولی،’’ تم نے میرے دل کو چھو لیا ہے سائیں…‘‘
’’ اچھا…؟‘‘ میں نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے مصنوعی حیرت سے پوچھا۔
’’ ہاں سائیں، کچھ دن مجھے رکھو اپنے پاس۔ یاد کرو گے کبھی مکھ مل ملی تھی۔‘‘ اس نے خمار آ لود لہجے میں کہا تو مجھے لگا وہ پٹڑی سے اُتر رہی ہے۔ اتنے میں بخشو پیتل کے گلاس میں جام بنا کے لے آیا۔ اس نے وہ جام مکھ مل کو دے دیا۔ وہ آدھے سے زیادہ ایک ہی سانس میں پی گئی پھر گلاس ایک طرف رکھ کر بولی۔
’’ میری بستی کا ایک لڑکا ہے ساگر، وہ کام دھندا تو وہی کرتا ہے جو سبھی کرتے ہیں لیکن بارڈر سے پار سے بہت سے لوگ اس کے پاس آتے ہیں۔ پچھلے برس تین غیر ملکی اس کے پاس کافی دن رہے تھے۔ ان میں دو لڑکے تھے اور ایک لڑکی تھی۔ اس کے بعد ہی اس نے جیپ خرید لی اور اپنا ڈیرہ بنا لیا تھا۔ دن رات وہیں رہتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی غیرملکی اس کے پاس آتا ہے اور ایک دو دن رہ کر چلا جاتا ہے۔‘‘
’’ مکھ مل تجھے زیادہ چڑھ گئی ہے اس طرح آناجانا تو اس علاقے میں عام سی بات ہے ۔یہ جو اس دھندے میں ہیں ،ایساکرتے رہتے ہیں۔ جانے کس کس ملک کے لوگ یہاں آتے ہیں۔ اس کا آسمانی بجلی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ؟‘‘میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
اس نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔
’’ساگر کی ایک معشوق ہے، سَجّاں۔ وہ اکثر راتوں میں اس کے پاس جاتی ہے۔ وہ میری بڑی گہری سہیلی ا ور رازدار بھی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہاں پر کچھ مشینیں پڑی ہوئی ہیں، جن میں نیلے پیلے بلب روشن رہتے ہیں ۔مجھے یقین ہے ان مشینوں کا بجلی سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔‘‘
’’ یہ جو تم نے بات بتائی ہے نا سمجھو کہ مجھے نہیں بتائی۔ بھول جاؤ سب۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے گلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’اسے خالی کرو اور جاکر سو جاؤ۔‘‘
’’ میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘ اس نے اپنی بات منوانے والے انداز میں کہا۔
’’میں مانتا ہوں تم سچ کہہ رہی ہو لیکن میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ۔بس تم نے مجھے نہیں بتایا ۔‘‘میں نے کہا تو وہ سر ہلانے لگی ۔ پھر اس نے گلاس اٹھایا اور دھیرے دھیرے پینے لگی۔ وہ گلاس خالی کرچکی تو میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایاتو وہ مجھ پر گر گئی۔ بد بو کا ایک بھبکا اٹھا۔ جس نے مجھے چکراکر رکھ دیا۔میں نے برداشت کیا اور اسے لے کر ایک کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔ایک خالی چارپائی پر بستر لگا ہوا تھا۔ میں نے اسے لٹایا تو اس نے میرا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ میں نے پیار سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے دھیمے سے کہا،’’ پاگل ہو، اتنے لوگ ہیں یہاں، تھوڑا صبر کرو۔‘‘
’’ ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے ایک دم سے مانتے ہوئے میرا بازو چھوڑ دیا۔ میں نے اسے دیکھا اس کے پاس خالی چارپائی پڑی تھی۔ میں اس پر لیٹ گیا۔ جلد ہی مکھ مل کے خراٹے گونجنے لگے۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر مصدق ،ڈاکٹر سہیل عارف اور میں ڈیرے کے صحن میں کھڑے تھے۔ میری ساری بات سن کر ڈاکٹر مصدق نے سوچتے ہوئے بڑے تحمل بھرے لہجے میں کہا۔
’’ اب بات تھوڑی بہت سمجھ میں آ رہی ہے۔‘‘
’’ یہ وہی بات ہے جس پر ہم تھوڑی دیر پہلے بات کر چکے ہیں۔‘‘ ڈاکٹرسہیل نے سامنے کھڑے ڈاکٹر مصدق سے کہاتو وہ سر ہلا کر رہ گیا ۔
’’ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟‘‘ عارف نے دبے دبے انداز میں پوچھا جس پر ڈاکٹر مصدق کندھے اُچکاتے ہوئے بولا۔
’’ ہم تو فوری طور پر وہاں پہنچنا چاہیں گے۔ اب آپ ہمیں کب اور کیسے وہاں تک لے جاتے ہیں، یہ تو آپ ہی نے دیکھنا ہے۔‘‘
عارف نے سنا اور میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا خیال ہے، ابھی چلیں؟‘‘
’’ جانا تو ابھی پڑے گا لیکن بہت سوچ سمجھ کر۔ اگر ہمیں وہاں سے کچھ نہیں ملا توبہت مشکل ہو جائے گی ۔‘‘ میں نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’ایسا کیوں…‘‘ عارف نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
’’ دیکھ مکھ مل یہاں پر ہے۔ اگر ہم نے اچانک چڑھائی کی تو وہاں سے کچھ نہ ملا تو مکھ مل کا خاندان مارا جاسکتا ہے یہ قبائلی لوگوں کی دشمنیاں بھیانک ہوتی ہیں۔‘‘ میںنے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’لیکن ہم نے تو ساگر کے ڈیرے …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو میں ڈاکٹر مصدق سے کہا۔
’’ہمیںپلان کرنا ہے، کچھ وقت لگے گا ۔ آپ ا بھی آرام کریں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے میری بات سن کر اثبات میں سر ہلایا اور وہ دونوں ڈاکٹر واپس اپنے کمرے کی طرف چلے گئے ،جہاں وہ سو رہے تھے۔ ان کے اندر جانے کے بعد عارف نے کہا۔
’’ اگر وہاںسے کچھ مل گیا تو پھر مکھ مل اور اس کے خاندان کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔‘‘
’’ پھر بھی مکھ مل کا خاندان بستی کے لوگوں کی دشمنی کا شکار ہوجائے گا۔ انہیں بچانا ہو گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ کیسے بچائیں ۔‘‘عارف نے الجھتے ہوئے پوچھا۔
’’تم اپنے بندے تیار کرو۔ میں کوئی راستہ نکالتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا تو وہ میری طرف الجھے ہوئے انداز میں دیکھتا ہوا پلٹ گیا۔
مجھ سے کچھ فاصلے پر بخشو کھڑا تھا۔ میں نے اسے قریب بلا کر سمجھایا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اس نے میری ساری بات سمجھ کر اپنی جیب سے فون نکالا اور سا ز ند و ں کا نمبر ملا کر اسپیکر آن کر دیا۔ رابطہ ہوتے اس نے کہا۔
’’ یار وہ مکھ مل نے بڑی دارو پی لی ہے کیا کریں اس کا؟‘‘
’’کیا کر رہی ہے، تنگ تو نہیں کر رہی۔‘‘ دوسری جانب سے پوچھا گیا۔
’’ نہیں، اب تو سوئی پڑی ہے۔‘‘ بخشو نے بتایا۔
’’ تیرے سائیں نے کچھ کیا بھی ہے یا نہیں؟‘‘ سازندے نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’تجھے تو پتا ہے کہ مکھ مل کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے یا نہیں ۔ سائیںتو اس کے ناچ کے بارے میں پوچھ رہے تھے لیکن یہ مکھ مل پینے پر لگی رہی۔ ورنہ سائیں اگر چاہیں تو لاکھوں کمانے لگ جاؤ تم لوگ۔‘‘
’’ ایسا ہے کیا؟ ‘‘ دوسری طرف سے حیرت میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری۔
’’ تو اور کیا۔ سائیں کے بڑے تعلقات ہیں۔ بڑی اونچی جگہوں پر اسے موقعہ دلوا سکتے ہیں جس سے تم لوگ لاکھوں کماسکتے ہو۔‘‘
’’ایسا ہے تو کہو، نا اُن سے۔‘‘ دوسری طرف سے لجاجت سے کہا گیا تو بخشو نے پوچھا۔
’’ تم کرلینا آ کر بات۔ خیر بتائو چھوڑ جائیں مکھ مل کو یا آ کر لے جاؤ گے؟‘‘
’’ارے یار ہم کہاں سے اٹھا کے لائیں گے اسے۔ تم لوگوں کے پاس جیپ ہے۔ چھوڑ جاؤ ادھر۔‘‘ دوسری طرف سے وہی کہا گیا جو میں چاہتا تھا۔
’’ چل میں چھوڑ جاتا ہوں اور تم بستی کے باہر آجانا، مجھے تیرے یا مکھ مل کے گھر کا نہیں پتہ۔‘‘ بخشو نے کہا۔
’’آ جائوں گا ۔‘‘ اس نے کہا تو بخشو نے کال ختم کر کے فون جیب میں ڈال لیا ۔ میں نے اُسے مکھ مل کو لانے کا اشارہ کیا۔ وہ تیزی سے کمرے کی طرف چلا گیا اور کچھ دیر بعد سوئی ہوئی مکھ مل کو اٹھا کر لے آیا۔ وہ اس کے ہاتھوں پر تھی۔ میں نے اپنی فوروہیل کا پچھلا دروازہ کھولا اور اسے پچھلی نشست میں ڈال دیا۔ جب تک میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا، بخشو اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔عارف اپنی جیپ میں تھا۔ اس کے ساتھ کچھ بندے تھے۔ تین آدمی میرے ساتھ آ گئے۔ کچھ دیر بعد ہم مکھ مل کو لے کر اس کی بستی کی جانب چل پڑے۔
رات کا دوسرا پہر ختم ہونے کو تھا جب ہم مکھ مل کی بستی کے پاس پہنچ گئے۔ بخشو نے جان بوجھ کر فون نہیں کیا تھا بستی کے باہر کوئی نہیں تھا۔ بخشو کو ساگر کے ڈیرے کا اندازہ تھا۔ میں نے فور وہیل اس جانب دوڑا دی۔ کھلی کھلی گلیوں میں چار دیواری بالکل نہیں تھی۔ ایک جانب کچی دیواروں کا ڈیرہ بنا ہوا تھا۔
’’یہی ساگر کا ڈیرہ ہے۔‘‘ بخشو نے بتایا۔
اس طرح کی چھوٹی بستیوں میں لوگ بڑے خبر دار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر رات کے وقت کوئی اجنبی آجائے تو اسے مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجنبی پہچان میں نہ آجائے ۔ہم بستی میں داخل ہوئے تبھی ایک جھونپڑی میں سے بوڑھے باہر نکل آئے ممکن ہے ان کے پیچھے کچھ لوگ ہوں گے۔ میں نے فورا ہی ان کے پاس فور وہیل روک دی۔ میں نے دائیں جانب کھڑے ایک بوڑھے سے پوچھا۔
’’بابا یہ مکھ مل کا گھر کس طرف ہے ؟‘‘
’’ خیر ہے؟ تم کون ہو؟‘‘ بابے نے وہی کہا جس کی مجھے توقع تھی۔ تب میں نے پیچھے پڑی مکھ مل کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
’’ اُوبابا پیچھے مکھ مل پڑی ہے ۔اسے گھر پہنچانا ہے ۔‘‘میں نے کہاتواس دوران مجھے سامنے کچھ لوگ بھی دکھائی دینے لگے ۔ وہ پوری طرح سامنے نہیں آئے تھے۔ بابا نے فو روہیل میں جھانکا تو مکھ مل پچھلی نشست پر آنکھیں موندے پڑی تھی۔بابا کے چہرے پر پہلے تو ہوائیاں اڑنے لگیں پھر اس نے پوچھا۔
’’ یہ مر تو نہیں گئی؟‘‘
’’ اُو نہیں بابا، بس سوئی پڑی ہے۔ اگر تم نے بتانا ہے تو بتاؤ ورنہ میں کسی دوسرے سے پوچھ لوں گا۔ میں نے غصے میں کہا تو بابا نے غور سے میری طرف دیکھا۔ وہ لمحہ بھر کے لئے خاموش ہوا تو میں نے فور وہیل ہی آگے بڑھا دی۔ میں سیدھا کچی دیواروں والے ڈیرے پر جاپہنچا ۔میں نے ہارن دیا تو اردگرد سے چند لوگ نکل کر آ گئے۔ میرے سامنے گیٹ کھلا ہوا تھا ۔جس میں سے ایک بندہ نکل کر میرے پاس آیا تو میں نے اس سے بھی یہی سوال کیا۔
’’ کیوں خیر ہے اس وقت ؟‘‘ اس نے جواب دینے کی بجائے مجھ سے پوچھاتو میں نے بھنا کر کہا۔
’’ یار تم لوگ سوال جواب بہت کرتے ہو ۔میں نے تم سے مکھ مل کے گھر کا پوچھا ہے۔ بتانا ہے تو بتاؤ ۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے اونچی آ واز میں بخشو سے کہا،’’ اس سازندے کو فون کرو وہ جاگتا ہے یا نہیں۔‘‘
’’ جی میں کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا اور فون نکال کر نمبر ملا نے لگا۔ میں نے دیکھا کچھ لوگ غیر محسوس انداز میں ہمیں گھیرے میں لینے کی کوشش کرنے لگے تھے۔ مجھے یقین تھا عارف بھی یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوگا۔بخشو کی کال مل گئی تھی ۔ وہ اسے بتا رہا تھا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہم فور ہیل سے نیچے اتر آ ئے تھے ۔ ہمارے ساتھ دو آدمیوں کے پاس گنیں تھیں۔ کچھ دیر بعد وہ سازندہ آ گیا۔ اس دوران ہمیں گھیرے میں لیا جا چکا تھا ۔ سازندے نے آتے ہی مکھ مل کو جگایا تو وہ کسمسانے لگی۔ میںنے ڈیش بورڈ پر پڑی پانی کی بوتل اٹھا کر دی ۔ اس نے مکھ مل کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو وہ اٹھ گئی۔ اٹھتے ہی اس نے حیرت سے ادھر اُدھر دیکھا۔ وہ ابھی تک نشے میں تھی ۔سازندہ اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ جیسے ہی انہوں نے بستی کی جانب قدم بڑھایا میں نے جان بوجھ کر قریب کھڑے لوگوں کو غصہ دلانے کے لیے کہا۔
’’اس بستی کے لوگ بڑے بے غیرت ہیں۔ اپنی لڑکیا ں بھی نہیں سنبھال نہیں سکتے۔ لوگوں کو ہی لانا پڑتی ہیں۔‘‘
میری توقع کے مطابق انہی لمحات میں ایک جذباتی نوجوان نے مجھے گالی دیتے ہوئے کہا۔
’’ تم اس سے بڑے بے غیرت ہے جو اس کے ساتھ یہاں چھوڑنے آگئے ہو۔‘‘
اس کے اتنا ہی کہنے کی دیر تھی میرے ساتھ آئے لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔ چند لمحوں میں ہی اچھی خاصی جھڑپ ہو گئی۔ ایسے میں کھلے ہوئے گیٹ سے ایک دم سے فائرنگ ہوئی۔ ہم بھی یہی چاہتے تھے ۔ہم نے اردگرد کے لوگوں کو چھوڑا اور انتہائی تیزی سے گیٹ کی جانب بڑھ گئے۔ میرے پیچھے کور پر کھڑے لڑکوں نے ایک دم سے فائرنگ شروع کر دی تھی ۔ شاید انہیں امید نہیں تھی کہ اس قدر بھاری فائرنگ بھی ہو سکتی ہے ۔ گیٹ کی جانب مزید کوئی فائر نہیں ہوا لیکن ہم چند لمحوں ہی میں گیٹ کے اندر تھے ۔ ڈیرے میں ایک بلب روشن تھا ، جس سے صحن میں بھی روشنی ہو رہی تھی ۔ وہ فائرنگ والا جوان قدرے پیچھے ہو گیا تھا ۔شاید اسے سمجھ میں نہیںآ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ بلب اگر بند ہوتا تو اندھیرے میں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔ ایسے میں ہمارے لڑکوں میں سے کسی نے اونچی آ واز میں زور سے کہا۔
’’ گن پھینک دے اُوئے ۔‘‘
صحن میں کھڑے اس شخص نے گن پھینک دی تو اندر آ ئے لڑکے پھیل کر آ گے بڑھنے لگے ۔
سامنے ایک دوسرے سے پیوستہ چھوٹے چھوٹے کمرے تھے ۔یہ بالکل اس سے مختلف طرز پر بنائے ہوئے تھے جیسے عام طور پر صحرا میں بنائے جاتے ہیں ۔ ان کمروں کے چاروں جانب برآمدہ تھا ۔بڑا سارا صحن پار کر کے ہم جیسے ہی برآمدے میں پہنچے تو سامنے سے درواز کھل گیا ۔ ایک درمیانے قد کا بھاری جسامت والا نوجوان برآمد ہوا ۔ اس نے سرسراتے ہوئے انداز میں تیزی سے پوچھا۔
’’ کون ہیں ، بات کیا ہے ؟‘‘
’’ تیرے ڈیرے سے ہم پر فائرنگ ہو ئی ہے ؟‘‘ ایک لڑکے نے کہا۔
’’ فائرنگ ، کس نے کی میرے بندے نے ؟‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے ارد گرد دیکھا ، پھر سامنے کھڑے نوجوان پر اس کی نگاہ ٹک گئی ۔ اس کے سامنے زمین پر گن پڑی ہوئی تھی ۔ وہ لمحوں میں بات سمجھ گیا تھا ، اسی لئے حیرت سے بولا ،’’ سائیں با ت کیا ہوئی ہے ، یہ میرا ملازم ایسے کیوں کھڑا ہے ؟‘‘
’’ تم نے فائرنگ کی آواز نہیں سنی ؟‘‘ عارف نے دبے دبے غصے میں کہا۔
’’ سنی تو ہے سائیں ، تبھی جاگا ہوں ۔پر یہ ہوا کیسے ؟‘‘ اس نے پھر حیرت سے کہا لیکن میں جانتا تھا کہ ہو صرف ڈرامہ کر رہاہے ۔ اس کا لہجہ بالکل مصنوعی تھا ۔
’’ اپنے بندے کو بلا کر پوچھ، بات کیا ہوئی ہے ؟‘‘ عارف نے پھر کہا تو اس نے ملازم کو اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا۔
’’ اُوئے ادھر آ اُوئے۔‘‘
وہ نوجوان چلتا ہوا ہمارے پاس آ گیا ۔
’’ جی بھائی ۔‘‘ اس نے قریب آ کر کہا۔
’’ کیا ہوا تھا ؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’بھائی یہ باہر آ کر رُکے تھے ۔ وہیں ان کا جھگڑا ہوا ۔میں نے سمجھا کوئی ڈکیت ہیں ، ڈرانے کے لئے فا ئرنگ کی تھی لیکن آگے سے …‘‘ وہ کہتے کہتے رُک گیا تو وہ بھاری جسامت والا بولا۔
’’ سائیں غلطی ہو گئی ، اس نے غلط فہمی میں فائرنگ کر دی ۔ اب جانیں دیں ۔‘‘ اس نے منت بھرے انداز میں کہا تو عارف نے پوچھا۔
’’وہ تو چلے جاتے ہیں ، پر یہ کس کا ڈیرہ ہے؟‘‘
’’ میرا ہے ، میرا نام ساگر ہے جی ، اسی بستی میں رہتا ہوں ۔یہیں کا ہوں ۔‘‘اس نے قدرے اعتماد سے کہا۔
’’ہر بندہ ڈکیت نہیں ہوتا یار ، اپنے بندوں کو سمجھایا کر ۔‘‘ میں نے پہلی بار کہا تو وہ بولا۔
’’ اس ویرانے میں ایسا نہیں ہوتا ، اس نوجوان نے تو شاید ایسا پہلی بار دیکھا ہوگا ۔بس غلطی ہو گئی یار ۔‘‘ اس نے پھر اسی لہجے میں کہا تو میںنے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ یار بھی کہتے ہو اور جانے کا بھی کہہ رہے ہو ۔یہ نہیں پوچھو گے کہ ہم کون ہیں ،؟ اپنا تعارف نہیں کروائو گے ؟‘‘
میرے یوں کہنے پر ایک دم سے ٹھٹک گیا ۔ اس نے غور سے ہماری جانب دیکھا ۔ شاید اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ ہم کچھ ’’ دوسرے ‘‘ لوگ بھی ہو سکتے ہیں ۔ عارف غیر محسوس انداز میں پوزیشن لے چکا تھا۔
’’چلیں گھر چلتے ہیں ، یہاں تو ڈیرہ ہے ، یہاں کھانے پینے کو کچھ نہیں ملے گا ۔‘‘ اس نے خالی سے لہجے میں کہا تو ہمیں پوری تصدیق ہو گئی ۔
’’ کیا دھندہ کرتے ہو؟‘‘ میںنے پوچھا تو وہ پر سکون سے لہجے میں بولا۔
’’ وہی جو سب یہاں کرتے ہیں ۔‘‘
میںنے عارف کی طرف دیکھا ۔ وہ تیار تھا ، اگلے ہی لمحے اس نے پسٹل نکالا اور ساگر کے ماتھے پر رکھ دیا ۔ پھر غراتے ہوئے بولا۔
’’ اندر چل ۔‘‘
ساگر نے ادھر ادھر دیکھا ۔ اس کے پاس حکم ماننے کے علاوہ چارہ نہیں تھا ۔ اس لئے وہ واپس مڑ گیا ۔ ہمارے ساتھ دو لڑکے اندرآئے تھے ۔ باقی باہر کور کئے ہوئے تھے ۔ ہم کمرے کے اندر گئے ، وہاں ائیر کنڈیشنڈ کی خنکی کا احساس ہوا ۔ اگر چہ موسم نہیں تھا لیکن پھر بھی رات کے وقت یوں اے سی کا چلنا اور وہ بھی اس ویرانے میں عجیب سی بات تھی ۔وہاں کمرے میں سوائے ایک چار پائی کے تھوڑا بہت سامان پڑا تھا ۔ کمرے سے ایک دروازہ کھل رہا تھا ۔بلاشبہ وہاں مزید کمرہ تھا ۔کمرے کے وسط میں جاتے ہی عارف نے اپنے لڑکوں کو اشارے کرتے ہوئے کہا۔
’’ تلاشی لو ، دیکھو اندر۔‘‘
’’ اندر کوئی بھی نہیں ہے جی ، میں اکیلا ہی ہوں یہاں پر ۔‘‘ ساگر نے تیزی سے کہا لیکن کسی نے بھی اس کی نہیں سنی ۔ لڑکے اندر کمرے میں گھس گئے ۔عارف نے مجھے ساگر پر نگاہ رکھنے کا کہا تو میںنے اپنا پسٹل نکال کر اس کے سر پر رکھ دیا ۔ تبھی عارف بھی ان لڑکوں کے پیچھے چلا گیا ۔تقریباً پانچ منٹ بعد جب وہ واپس آ ئے تو عارف کا چہرہ جوش سے سرخ تھا۔ اس کے پیچھے لڑکے تھے ۔ اس نے باہر آ تے ہی کہا۔
’’ باندھو اسے ۔‘‘
اس نے کہا ہی تھا کہ لڑکے آ گے بڑھے ، انہوں نے اپنی جیبوں میں سے نائیلون کی رسیاں نکالیں اور دو منٹ سے بھی کم وقت میں اسے باندھ دیا ۔ میرے دماغ میں ایک بات چھبنے لگی تھی کہ ساگر مزاحمت کیوں نہیں کر رہا ہے؟
’’ تم جائو، اندر تہہ خانہ ہے ، وہاں دیکھو کیا ہے ۔‘‘ عارف نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تو میں تیزی سے اندر چلا گیا ۔ سامنے سیڑھیاں تھیں ۔ میں اُتر کر نیچے گیا تو ٹھنڈ بڑھ گئی ۔ سامنے مختلف بورڈ تھے ۔ ان میں مختلف میٹر لگے ہوئے تھے ، نیلے پیلے چھوٹے چھوٹے بلب بھی تھے ۔یوں لگے رہا تھا جیسے یہ کوئی کنٹرول روم ہو ۔میں ایک منٹ کھڑا دیکھتا رہا ، مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ یا تو واپس اسی کمرے میں آ گیا ۔ میں نے ساگر کے قریب آ کر اس کے بال پکڑتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
’’ سچ بتا ئو گے تو ممکن ہے، تیرے ساتھ رعایت ہو جائے ، ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتے تیرے ساتھ کیا ہو نے والا ہے۔‘‘
’’میں سب بتا دوں گا ۔‘‘ اس نے سہمے ہو ئے انداز میں کہا تو عارف نے کہا۔
’’ تو بولو۔‘‘
’’میں نہیں جانتا یہ کیا ہے ، لیکن کچھ غیر ملکی دوستوں نے یہ سیٹ اپ لگایا ہے ۔اس کے مجھے پیسے دیتے ہیں ۔‘‘
’’ جانتے ہو یہ کیوںلگایا ہے سیٹ اپ ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ موسم کے بارے میں ، حکومت کی اجازت سے لگایا ہے ۔ کسی ادارے کا ہے ۔‘‘ اس نے کہا تو میںنے اس کے بال چھوڑ دئیے ۔وہ سیدھا کھڑا ہو گیا ۔ عارف نے اپنا سیل فون نکالا اور باہر چلا گیا ۔
ؤ ٭…/…٭ؤ
میں برآمدے میں کھڑا تھا ۔ صبح کی ہلکی ہلکی روشنی ہونے لگی تھی ۔ وہ ڈیرہ چاروں طرف سے گھیر لیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر مصدق، ڈاکٹر سہیل ، ڈاکٹر عالیہ کے ساتھ اسسٹنٹ اندر موجود تھے ۔ ان کے ساتھ عارف تھا ۔ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہو گیا تھا ۔میں جانتا تھا کہ بستی والوں میں بہت ہلچل مچ رہی ہو گی ۔ وہ جاننا چاہ رہے ہوں گے کہ اندر کیاہو رہا ہے ۔ میں جانتا تھا کہ باہر سے لوگ مزاحمت ضرور کریں گے ۔ وہ سامنے آ کر لڑ نہ بھی سکیں تو ان لوگوں تک بات ضرور پہنچا دیں گے ۔ میں علاقے کو سمجھتا تھا اور ان کی فطرت سے واقف تھا ۔وہ سب دو نمبر دھندہ کرنے والے لوگ تھے اور ایک دوسرے کی مدد کر نا اپنا اولین فرض سمجھتے تھے ۔ میں یہی سوچتے ہوئے پوری طرح خبردار کھڑا تھا ۔ ایسے میں وہ سب ساگر کو لئے باہر آ گئے ۔ان کے چہروں پر فکر مندی پھیلی ہوئی تھی ۔ وہ سب ساگر کو لئے ایک فور وہیل کی جانب بڑھے ۔ دوسری میں ڈاکٹر لوگ بیٹھے تو عارف میرے پا س آ گیا ۔
’’ باہر نفری آ چکی ہے ۔ابھی بستی کے باہر ہے ۔انہیں اندر بلا لیا ہے ۔ تم نکلو ، باہر بستی کے لوگ بھی ہیں ، ممکن ہے وہ کچھ کریں تو کوئی بے گنا ہ نہ مارا جائے ۔‘‘
’’ میں سمجھ گیا ۔‘‘ میں نے کہا اور بخشو کو ساتھ آ نے کا اشارہ کے میں اپنی فو ورہیل کی جانب بڑھا ۔
میں ڈیرے کا صحن پار کر کے گیٹ تک پہنچا تو باہر کافی سارے لوگ کھڑے تھے ۔ میں فوروہیل کو گلی میں لے کر گیا تھا میرے سامنے چند لوگ آ گئے ۔میں فور وہیل روک کر نیچے اتر آ یا ۔ تبھی ایک فربہ مائل ادھیڑ عمر نے آ گے بڑھ کر پوچھا۔
’’ کچھ بتائو گے ، یہاں تم نے دھاوا کیوں بول دیا ہے ؟‘‘
’’ دیکھو ، ہم یہاں رات آ ئے تھے ، مکھ مل کو چھوڑنے کے لئے ، وہ رات ہمارے پاس محفل کے لئے گئی تھی ۔‘‘
’’ ہاں یہ تو پتہ ہے ، معلوم ہو گیاہے مجھے ۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ اس نے رات بہت پی لی تھی ، بے ہوش ہو گئی تو اسے لے جانے کا کہا ، اس کے کسی سازندے نے کہا کہ ہم چھوڑ جائیں ، ہم اسے چھوڑنے آ ئے تھے ۔یہاں کسی سے پتہ پوچھا تو یہاں سے فائرنگ ہو نے لگی ۔‘‘
’’ ہو ئی کیا ؟‘‘ اس نے اپنے لوگو ں کی طرف دیکھ کر پوچھا تو ایک نوجوان نے بتایا۔
’’ ہاں ہوئی تھی ۔‘‘
’’ بس پھر ، ہم نے خود کو بچانے کے لئے فائرنگ کر دی اور اندر چلے گئے ۔ ‘‘میںنے سکون سے کہا۔
’’ تم کون لوگ ہو ؟‘‘ اس نے کافی حد تک دبے لہجے میں پوچھا تو میںنے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ جہان سانپ ہوتے ہیں نا وہاں جوگی ضرور پہنچ جاتے ہیں ، اس سانپ نے تو خود جو گیوں کو دعوت دے ڈالی ۔‘‘
’’ اوہ ۔‘‘ اس کے منہ سے فقط ہنکارا ہی نکل سکا۔ میرا کام ہو گیا تھا ۔ اس لئے میںنے کہا۔
’’ تم لوگوں کے لئے اچھا ہے کہ واپس اپنے اپنے گھروں کو پلٹ جائو ، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ، ابھی فورس آ نے والی ہے ۔ سمجھ رہے ہو نا میری بات ؟‘‘
’’ سمجھ گیا ۔‘‘ اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور ایک جانب چل پڑا ۔ اس کے ساتھ ہی دوسرے لوگ بھی ادھر اُدھر پھیل کر نکلتے چلے گئے ۔
ہمیں بستی کے لوگوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن عارف یہی چاہتا تھا کہ کسی بے گنا ہ کو نقصان نہ ہو ۔ کچھ لوگ تو پلٹ گئے تھے لیکن کافی تعداد میں ابھی تک کھڑے تھے ۔ میں نے فور وہیل بڑھائی اور کچھ فاصلے پر جا کر روک دی ۔ اتنے میں ڈیرے کے اندر سے گاڑیاں باہر آ گئیں ۔ کچھ ہی دیر بعد ہم بستی سے نکلتے چلے گئے ۔
ؤ ٭…/…٭ؤ
دو پہر ہو گئی تھی ۔را ت ہی عارف اپنے لوگوں کے ساتھ ساگر کو کسی نامعلوم مقام پر لے گیا تھا ۔ صبح کے وقت ڈاکٹر ز اور اسسٹنٹ حویلی میں آ گئے تھے ۔ رات بھر بے آ رام رہنے کے بعد وہ آتے ہی سو گئے تھے ۔ میں بھی کچھ دیر آ رام کر نے کے بعد اٹھ چکا تھا ۔ اکبر علی نے اپنے کاغذات جمع کروانے تھے ۔ وہ علاقے کے لوگوں کا ایک ہجوم لے کر کاغذات جمع کروانے چلا گیا تھا ۔ میں لائونج میں بیٹھا انہی کے ساتھ رابطے میں تھا ۔ وہ ابھی تک عدالت ہی میں تھے جہاں کاغذات جمع ہونا تھے ۔اگر چہ میری ساری توجہ اکبر ہی کی طرف تھی لیکن میرے دماغ میں یہ سوال گونج رہا تھا کہ آخر روہی میں تھا کیا ؟ اس سوال کا جواب تو ڈاکٹر کے پاس تھا ۔
لنچ پر ہم پانچ ہی تھے ۔ اس دوران کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی ۔ لنچ کے بعد ہم لائونج میں آ گئے تو ڈاکٹر عالیہ نے ڈاکٹر سہیل سے پوچھا۔
’’ اب جانے کا کیا پروگرام ہے ؟‘‘
’’ بس نکلتے ہیں ، مجھے وہ لڑکے عارف کے فون کا انتظار ہے ، وہ ابھی تک رابطے میں نہیںآ یا ۔‘‘اس نے سکون سے جواب دیا تو میں نے پوچھا۔
’’ ڈاکٹر ، یہ سب معاملہ تھا کیا ؟‘‘
میرے سوال پر اس نے میری جانب غور سے دیکھا ، پھر چند لمحے سوچنے کے بعد بولا۔
’’ ارے بھائی ، وہی حاکمیت والا معاملہ ہے ۔ یہ ذرا انداز جدید ترین ہے ۔ ویسے ان کی سوچ بہت آ گے کی ہے ؟‘‘ ڈاکٹر مصدق نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ظاہر ہے ، جرم پہلے ہوتا ہے ، قانون بعد میں بنتا ہے ۔‘‘ انہوں نے بے پروا انداز میں کہا۔
’’ کچھ مجھے بھی سمجھا دیں ۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ دیکھو یہ ہماری فضاہے نا ، اس میں بہت کچھ ہے ، اتنا کچھ کہ ہم یقین نہیں کر پاتے اگر ہمیں دکھائی دے جائے تو ۔جس طرح یہ فون ، ٹی وی اوروائر لیس وغیرہ کا نظام مقناطیسی لہروں سے چل رہا ہے جو ظاہر ہے اسی فضا میں ہے ۔ بالکل اسی طرح کچھ اور ریز بھی ہیں ، جنہیں استعمال کیاگیا ہے ۔یہ ان دیکھی ریزہیں ۔ ان کا ایک ہدف ہوتا ہے ۔اس ہدف کو ختم کرنے یا مزید طاقتور کرنے کا ہی یہ سارا کھیل تھا۔‘‘ انہوںنے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’ کیا آپ اس کی کوئی مثال دے …‘‘ میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات سمجھتے ہوئے بولے۔
’’جس طرح جنریٹر سے برقی رو پیدا ہو رہی تھی ۔اس کی اپنی ریز ہیں ۔وہ روہی میں کہیں بھی ہو رہا ہے ۔ جس طرح آ واز ہمیں محسوس ہوتی ہے ۔ اسی طرح اس کی اپنی ان دیکھی ریز بھی ہوتی ہیں ۔یہ ریز ہدف ہیں ۔انہیں ٹارگٹ کر کے ریز چھوڑی جاتی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ایک کڑکتی ہوئی بجلی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ۔وہ جو نہیںجانتے وہ خوف زدہ ہو جاتے ہیں ۔وہ علاقہ چھوڑ دیتے ہیں ۔‘‘
’’ یہ ایک پورا پلان ہو سکتا ہے ۔‘‘ ڈاکٹر سہیل نے کہا۔
’’ دیکھو ، اس علاقے میں لوگ زیادہ تر پڑھے لکھے نہیں ہیں ۔ انہیں ایک تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے ، جیسے اب تک پتہ نہیں چلا تھا ۔ دوسرا اس طرح کی کڑکتی ہوئی بجلی دکھا کر اس کے بارے میں تو ہمات بھری کہانیاں ان لوگوں میں پھیلا دی جاتی ہیں ۔ پھر اپنا کوئی بھی خیال ان میں چھوڑ دیا جائے تو وہ ایک طرح سے بڑا خوفناک تقدس بن جاتا ہے ۔ لوگ اس پر پختہ ہو جاتے ہیں ، ان کی سوچ پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے ۔مطلب کئی سارے مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔یہ سائنسی کھیل اس علاقے پر تسلط جمانے کے لئے تھا ۔‘‘ ڈاکٹر سہیل نے بتایا۔
’’ مزید دیکھتے ہیں ، کیا ہوتا ہے ۔‘‘ ڈاکٹر عالیہ نے گویا بات ہی ختم کر دی ۔ اسے نجانے کیا جلدی تھی ۔اس لئے وہ بولی ،’’ عارف کو فون کریں ، اب یہاں کوئی کام تو نہیں ہے نا ۔‘‘
’’میں کرتا ہوں ۔‘‘ ڈاکٹر سہیل نے کہا اور اپنا سیل فون نکال لیا ۔ تبھی ڈاکٹر مصدق نے میری جانب دیکھ کر کہا۔
’’ آپ نے ہمارا بہت خیا ل رکھا ۔ آپ کا رابطہ نمبر ہے میرے پاس ، میرا بھی آپ کے پاس ہو گا ۔ ہم پھرملیں گے ۔‘‘
’’ جی ضرور ، مجھے خوشی ہوگی ۔‘‘ میںنے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ مجھے واقعی ہی خوشی ہوئی تھی ۔
عارف سے رابطہ نہیں ہوا تو ڈاکٹر نے پھر کہیں دوسری جگہ رابطہ کیا ۔وہاں سے انہیں نجانے کیا ہدایات ملیں کہ وہ فون بند کر کے بولے۔
’’ شام تک وہ لوگ ہمیں لے جائیں گے ، ابھی یہیں رکنے کاکہا گیا ہے ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے ، میں پھر چلتی ہوں کمرے میں ۔‘‘ڈاکٹر عالیہ نے کہا۔
’’ ہاں کچھ دیر آ رام کر لیں ، پھر سفرکرنا ہے ۔‘‘ ڈاکٹر مصدق نے کہا اور اٹھ گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر سہیل بھی چلا گیا ۔ میرا خیال تھا کہ وہ اسسٹنٹ بھی ان کے پیچھے چلی جائے گی ۔ اس لئے میں اٹھا اور باہر کی جانب چل دیا ۔میں اکبر کے بارے میں پتہ کرنا چاہتا تھا ۔ میں پورچ تک آیا تو میرا رابطہ ہو گیا ۔ انہوں نے کاغذ جمع کروا دئیے تھے اور واپس آ نے کے لئے تیاری کر رہے تھے ۔میں بات کرتا ہوا باہر لان میں چلا گیا ۔میں وہاں جا کر دھوپ میں بیٹھا ہی تھا کہ میری نگاہ اسسٹنٹ رابعہ پر پڑی وہ باہر آ کر میری جانب دیکھ رہی تھی ۔ مجھے اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر میری جانب بڑھ آ ئی ۔اس نے آتے ہی مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’ کیا آپ مجھے اپنا گائوں نہیں دکھائیں گے ؟‘‘
’’ کیوں نہیں ۔ ‘‘ میں نے خوشگوار انداز میں کہا تو وہ بولی۔
’’چلیں پھر ؟‘‘
’’ جی بالکل آ ئیں ، گاڑی پر چلیں یا …‘‘میںنے پوچھا تو وہ بولی۔
’’ نہیں پیدل چلتے ہیں ، اس جانب فصلوں میں۔‘‘
ہم پیدل ہی حویلی سے نکل کر سامنے کے راستے پر ہو لئے ۔ وہ خاموشی سے میرے ساتھ چلتی چلی گئی ۔پہلی بار میں نے اسے غور سے دیکھا ۔وہ پچیس سے تیس کے درمیان عمر والی پتلی سی لڑکی تھی ۔ گلابی ملی سفید رنگت ، نین نقش کافی حد تک تیکھے ، سادہ سی میک اپ کے بغیر بھی کافی پر کشش تھی ۔ موٹے کپڑوں میں اس کے بدن کے خدو خال واضح نہیں تھے ۔وہ فصلوں کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے میرے ساتھ ساتھ چلتی گئی ۔ اسی دوران ایک جگہ رک کر اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ آپ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘
’’ جی بولیں ۔‘‘ میں نے تجسس سے کہا۔
’’رات میں نے وہیں پر موجود لوگوں سے ایک بات سنی ، وہ اتنی حیرت کر دینے والی تو نہیں تھی لیکن میں اس کے بارے میں مزید جاننا چاہتی ہوں ۔‘‘ اس نے پر خیال لہجے میں کہا۔
’’ رات جب آپ مکھ مل کے ساتھ صحرا میں تھے ، اس دوران وہاں موجود لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ ان سے پتہ چلا کہ آپ اسے اپنے ساتھ لے تو گئے ہیں لیکن مکھ مل کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکیں گے ۔ کیا ایسا تھا ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ ہاں ایسا ہی تھا ۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’ کیوں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ انہوںنے وجہ نہیں بتائی ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ بتائی ، میں کنفرم کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘ اس نے صاف کہہ دیا تو میںبولا۔
’’ ہاں ، اس کے بدن سے ایک سڑانڈ نما بد بو ابھرتی ہے ۔کوئی بھی اس کے قریب جانا پسند نہیں کرتا ہوگا۔‘‘
’’کیا کہتے ہیں آپ یہ بد بو قدرتی ہے یا اسکی کوئی دوسری وجہ بھی ممکن ہے ؟‘‘ اس نے پوچھا تو مجھے رات مکھ مل کے بدن سے اٹھنے والی بدبو کا احساس ہوا ، میں اکتا گیا تو کاندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
’’ میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔‘‘
’’ اوکے ،لیکن اگر میں اس سے مل کر ، اس سے کچھ پوچھنا چاہوں ، اس کا تجزیہ کر کے کوئی تجربہ کرنا چاہوں تو کیا ہو کچھ دن کے لئے میرے پاس آ سکتی ہے ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ناممکن نہیں ہے ۔اسے پیسہ دیں گے تو وہ آ جائے گی ۔‘‘ میںنے عام سے لہجے میں کہا تو وہ مسکرا تے ہوئے بولی۔
’’ ٹھیک ہے ۔ میں جاکر آپ سے بات کروں گی ۔آپ بھی اس سے رابطہ رکھیں ، پھر اسے دیکھیں گے ۔‘‘
’’ ٹھیک ہو گیا ، میں بھجوا دوں گا آ پ کے پاس ۔‘‘ میںنے کہا تو اس نے واپسی کے لئے قدم بڑھا دئیے ۔ میں بھی اس کے ساتھ چلتا ہوا واپس پلٹ پڑا ۔ مجھے سمجھ نہیں آئی ، وہ اس کا کیا تجزیہ کرنا چاہتی تھی۔
جس وقت ہم حویلی واپس آ ئے ، سہ پہر ہو چکی تھی ۔ اکبر بھائی اپنے لوگوں کے ساتھ واپس آ چکا تھا ۔رابعہ اندر چلی گئی اور میں ان لوگوں کے ساتھ باتوں میں مگن ہو گیا ۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی۔
شام کا اندھیر پھیل گیا تھا جب عارف واپس آ گیا ۔ اس سے زیادہ باتیں نہ ہو سکیں ۔ وہ ان چاروں کو لے کر چل دیا ۔ بہت دنوں کے بعد میں پر سکون سویا تھا۔
ؤ ٭…/…٭ؤ
رات کا نجانے کون سا پہر تھا ۔ میری آ نکھ فون بیل کی آ واز سے کھلی ۔اسکرین پر آصف کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔ میں نے وقت دیکھا تو رات کا آخری پہر تھا ۔میں نے کال رسیو کی تو دوسری جانب لمحہ بھر کی خاموشی رہی ۔ میرے بولنے کے باوجود دوسری جانب سے کوئی آ واز نہیں ابھری ۔ میں نے دوبارہ ہیلو کہا تو مجھے لگا جیسے فون میں سرسراہٹ ابھری ہے ۔ اس کے فوراً بعد ایک اجنبی سرد لہجے میں کہا گیا۔
’’ سنو ، میری بات غور سے سنو ۔‘‘
’’ کون ہو تم ؟‘‘ میںنے تیزی سے پوچھا ۔
’’ وہی بتانے جا رہا ہوں ۔ کہا نا میری بات غور سے سنو ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا ۔ میں چپ رہا تو وہ بولا ،’’تم خواہ مخواہ ہمارے کھیل میں شامل ہو رہے ہو ۔بالکل اس طرح جیسے اس آصف کے ساتھ تمہارا تعلق ہے ۔‘‘
’’ مجھے تمہاری بات سمجھ میں نہیں آ رہی ، کیا کہنا چاہ رہے ہو تم ، کیسا کھیل ؟‘‘میں نے بالکل بھی نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔
’’ ہم جانتے ہیں کہ تم نے اس آصف کے ساتھ محض ہمدردی کی تھی لیکن وہ کس حال تک پہنچ گیا ۔اب میں چاہوں تو ایک گولی بھی ضائع کئے بغیر اسے مار سکتا ہوں ، محض چند لمحوں میں ، اس کی صرف اور صرف وجہ یہی ہے کہ تم اس سے ہمدردی کر رہے ہو ۔‘‘
’’ اصل مدعے پر آ ئو ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اسی طرح تجھے قتل کرنے کی بجائے ایک ایک کر کے تیرے ارد گرد سبھی لوگوں کو ما ر سکتے ہیں اور مار بھی دیں گے اگر تم ہمارے کھیل میں سے نکل جائو۔‘‘اس نے سرد لہجے میں کہا۔
’’تمھارا کھیل ؟ کیسا کھیل ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ وہ تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں بس خاموشی سے یہ ملک چھوڑ کر کہیں بھی نکل جائو ۔ہم تمہیں سہولت بھی دیں گے ۔ پھر ہمارا تم سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا لیکن اگر تم نے ہماری بات نہیں مانی تو …‘‘ وہ کہہ رہا تھا کہ مجھے ایک دم سے غصہ آ گیا ، کس قدر سکون سے مجھے دھمکیاں دے رہا تھا ۔ میں نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’میری طرف سے آصف کو ابھی مار دو ۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔دوسری بات ، اگر میرے خاندان کے کسی فرد کو اب خراش بھی آ ئی تو میں تمہیں پاتال سے بھی نکال لوں گا ۔اگلی بات کہو۔‘‘
’’ مطلب ، تم نہیں مانو گے ؟‘‘ اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔
’’ فرض کر لو میں نہیں مان رہا ، اب کہو ۔‘‘میں نے کہا۔
’’ تو پھر سن لو ، نہ تم رہو گے اور تمہارا کوئی ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے کال ختم کر دی ۔ مجھے ایک دم سے وحشت ہو نے لگی ۔ بے چارہ آصف ، نجانے اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا ؟ کون تھا وہ ؟ کس کھیل کی بات کر رہا تھا ؟چشم تصور سے کئی بھیانک خیال میرے سامنے لہرا گئے ۔ میں بیڈ پر پڑا تھا اور آصف مجھ سے دور اسپتال میں بیڈ پر پڑا نجانے کس حال میں ہوگا ۔ وہ اسے صرف اس وجہ سے ماریں گے کہ اس کا تعلق مجھ سے تھا ؟ یہ خیال آ تے ہی میں تڑپ گیا۔ وہ بے چارہ ایویں ہیبے گنا ہ مارا جائے گا ۔ میں لاشعوری طور پر بیڈ سے اٹھ گیا ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں ؟میرے پاس اس کے کزن کا نمبر محفوظ نہیں تھا ورنہ اسے ہی کال کرتا ۔مجھے اور کوئی دوسرا خیال نہیں آ یا ، میں نے عارف کو فون کر دیا ۔ بیل جاتی رہی لیکن اس نے فون رسیو نہیں کیا ۔میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اپنے کمرے سے نکلوں اور اُڑ کر شہر کے اسپتال میں پہنچ جائوں ۔ میں نے اضطراری انداز میں آصف کے نمبر پر کال ملائی ۔ کسی نے فون نہیں اٹھایا ۔ مجھے کئی خیال آ نے لگے ۔ میری ذہنی کیفیت عجیب سی ہو گئی ۔کاش میں اس وقت شہر ہی میں ہوتا تو کچھ نہ کچھ ضرور کر لیتا۔
اچانک میرے ذہن میں پیجے لوہار کا خیال آ یا ۔ میں نے اس کا نمبر محفوظ کیا تھا ۔ میں نے اسے کال ملا دی ۔کچھ دیر بیل جاتی رہی ، پھر فون رسیو ہو جانے کے بعد اس نے خمار آ لود آ واز میں پوچھا
’’ کون ہے ؟‘‘
’’آصف کو جانتے ہو نا ، جسے تم اپنا رقیب سمجھتے ہو ؟‘‘ میں نے سخت لہجے میں کہا
’’ آں ہاں … تم کون ہو ؟‘‘اس نے تیزی سے پوچھا تو میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا
’’ ابھی مجھے ایک کال آ ئی ہے آصف کے نمبر سے ، کوئی اسے مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا ۔ اگر وہ مر گیا تو اس کی ذمہ داری تم پر ہے ؟‘‘
’’ مجھ پر کیوں ؟ میں تو اپنے گھر میں سویا پڑا ہوں ۔میرا اس سے کیا تعلق … ‘‘اس نے روہانسا ہو تے ہوئے کہا
’’ پروین کے قاتل ابھی تک نہیں ملے ، تم پر اب بھی شک ہے ۔ اگر آصف کو کچھ ہو گیا تو …‘‘ میں نے پھر جان بوجھ کر اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔
’’ خدا کی قسم میرا کوئی تعلق …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو میںنے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
’’ شٹ اپ … فوراً جائو اسپتال اور اس کی نگرانی کرو ۔ میں آ رہا ہوں اسپتال ۔‘‘
’’ جی اچھا ۔‘‘ اس نے کہا تو میں نے کال ختم کر دی ۔
میںشہر جانے کے لئے تیزی سے تیار ہونے لگا ۔ میرے ذہن کے کسی کونے میں تھا کہ یہ خالی دھمکی نہیں ہے ؟ اگر مان لیا جائے کہ یہ دھمکی ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے ۔مجھے تیار ہو نے میں دس سے پندرہ منٹ لگ گئے ۔ میں نے خود کو سردی سے محفوظ کرتے ہوئے جیکٹ کے اندر پسٹل رکھا اور باہر کی جانب چل دیا ۔ ایسے میں اگر بابا یا اماں کا سامنا ہو تا تو کئی سوال پیدا ہوتے ۔ میں محتاط انداز میں لائونج تک آ گیا ۔وہاں سے باہر پورچ تک جانا تھا ۔ وہیں میری فور وہیل کھڑی تھی ۔میں پورچ میں آ یا ہی تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا ۔ وہ عارف کی کال تھی ۔
’’ ہیلو ، خیریت ہے علی ؟‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا تو میں نے اسے انتہائی اختصار سے وجہ بتا دی ۔ اس نے میری بات سن کر کہا
’’کچھ بھی ہو جائے تم نے باہر نہیں نکلنا ۔ وہیں حویلی میں رہو ، میں تمہیں کچھ دیر بعد فون کرتا ہوں ۔‘‘
’’ ایسا کیا …؟‘‘ میںنے تیزی سے پوچھا
’’ میں کہہ رہا ہوں نا ، میں کچھ دیر بعد فون کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا اور کال ختم کر دی ۔ مجھے صورت حال کی سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔میں پلٹ کر لائونج میں پڑے صوفے پر آ ن بیٹھا لیکن مجھے چین نہیں آ رہا تھا ۔
میں مضطرب تھا ۔ مجھے چین نہیں آ رہا تھا ۔کافی حد تک غصہ میرے دماغ میں دھویں کی مانند پھیل گیا تھا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے مجھ پر مایوسی چھا رہی ہو۔ انہی لمحات میں یہ خیال بھی آ نے لگا کہ انہوں نے آصف ہی کو کیوں نشانہ بنایا ؟ پہلے پروین کو کیوں ختم کیا ؟ کیا یہ مجھے بلیک میل کیا جا رہا تھا ؟ میرا آصف کے ساتھ کوئی اتنا تعلق نہیں تھا ۔لیکن اس کے ساتھ کچھ بھی نہ ہو تے ہوئے بھی اسے نشانہ بنایا گیا ۔ وہ کیا سمجھ رہے ہیں ؟ ممکن ہے آصف بھی وہ نہ ہو جو وہ دکھائی دے رہا تھا ؟شاید پروین کے قاتلوں کو ٹھکانے لگانے کے باعث وہ یہی سمجھ رہے ہوں کہ آصف کا میرے ساتھ کوئی گہرا تعلق ہوگا۔ وہ اگر اسے قتل بھی کر دیں گے تو … میں اس سے زیادہ نہیں سوچ سکا ۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کرنے لگا تھا ۔ کیا مجھ میں اتنی سی بھی انسانیت نہیں ہے کہ میں ایک مرتے ہوئے انسان کو بچا سکوں ؟ میں انتہائی خود غرضی سے یہ سوچ رہا ہوں۔ میں نے ایک دم سے اپنے سر کو جھٹکا ۔میں اس خیال کو اپنے دماغ سے ہٹانا چاہتا تھا ۔ ایسے میں میرا فون بجا ۔ میںنے اسکرین پر دیکھا ، وہ پیجے لوہار کی کال تھی ۔میں کال رسیو کی تو دوسری طرف سے وہ تیزی سے بولا
’’ او سر جی یہاں تو آصف بالکل ٹھیک ہے ، وہ تو ٹھیک ٹھاک سویا پڑا ہے ۔‘‘
’’ اب وہ جاگ رہا ہے ؟‘‘ میںنے پوچھا
’’بالکل ، ابھی میں نے اسے جگایا ہے ۔لیں بات کریں ۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا تو چند لمحوں بعد اس کی نیند میں بھری آ واز ابھری ،’’ جی ، خیریت ہے ؟‘‘
’’ مجھے یہ بتائو ، کچھ دیر پہلے تمہارا فون کہاں تھا ؟‘‘
’’ جی میرے پاس ہی تھا ۔پتہ نہیں خراب ہو گیا ہے ، کچھ دیر پہلے یہ بند ہو گیا تھا ۔‘‘ اس نے بتایا تو میں چونک گیا ۔ مجھے حیرت ہونے لگی تھی ۔ اسی لمحے میں نے سوچا کہ اسے بات بتائوں کہ نہیں ؟ میں نے لمحے کے سوویں حصے میںاسے نہ بتانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پوچھا
’’ اب دیکھو ، اب ٹھیک ہے تمہارا فون ؟‘‘
’’ جی دیکھتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا پھر چند لمحوں بعد بولا ،’’ جی اب چل رہا ہے ۔‘‘
’’ اوکے ٹھیک ہے ۔ اپنا خیال رکھنا ، ابھی تم پر سے خطرہ نہیں ٹلا ، اب فون واپس دو ۔‘‘
’’ جی سر جی ۔‘‘ پیجے لوہار کی آ واز گونجی تو میںنے اسے کہا
’’ واپس چلے جائو ۔ویسے ابھی آصف پر سے خطرہ نہیں ٹلا ہے۔‘‘
’’ میرے لئے کیا حکم ہے ؟‘‘ اس نے پھر پوچھا
’’ واپس چلے جائو ۔‘‘ میں نے کہا اور فون بند کر دیا ۔میں اپنی حیرت پر قابو پا ہی رہا تھا کہ عارف کی کال آ گئی ۔میں نے اسے بتا کر کہا
’’ یار یہ کیسے ممکن ہے ؟‘‘
’’ جس طرح جدید سے جدید ٹیکنا لوجی سامنے آ رہی ہے نا ، اس میں یہ نہیں پوچھا جاتا کہ یہ کیسے ممکن ہے ، بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ناممکن کیوں ہے ؟‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا
’’ میں تمہاری بات نہیں سمجھا ؟‘‘ میں نے الجھتے ہوئے پوچھا تو وہ بولا
’’ کل ملتے ہیں ، پھر میں تمہیں تفصیل سے بتائوں گا ۔بہر حال میں نے آصف کو اکیلا نہیں چھوڑا ہوا ، اس کے پاس ایک آ دمی ہے ۔اس کی پریشانی چھوڑو اور سکون کرو ۔‘‘
’’ اوکے ۔‘‘ میں نے کہا اور کال ختم کر دی ۔
میں الجھا ہوا تھا لیکن اس پر سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔میں بجائے دوبارہ سونے کے ، لائونج سے اٹھا اور پورچ میں آ گیا ۔ باہرابھی اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔ میں نے فور وہیل اسٹارٹ کی اور شہر کی جانب چل پڑا۔
٭…٭…٭
دن کا اجالا پھیلا ہوا تھا ۔میرے سامنے عارف خاموش بیٹھا ہوا گہری سوچ میں تھا ۔وہ تھوڑی دیر پہلے ہی پہنچا تھا ۔ ہمارے درمیان چائے کے مگ رکھے ہوئے تھے جن میں سے بھاپ اٹھ رہی تھی ۔ خاموشی کافی حد تک گہری ہو گئی تھی ۔میں جانتا تھا کہ اس کے اندر بہت زیادہ ہلچل مچی ہوئی ہو گی ۔میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کب تک میرے سامنے چپ رہتا ہے ۔ میں نے چائے کا مگ لیا تو اس نے چونک کر میری جانب دیکھا ۔ وہ مجھے یوں دیکھنے لگا جیسے اسے خیال آ گیا ہو کہ وہ کہاں بیٹھا ہواہے ۔اس نے طویل سانس لیتے ہوئے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا
’’ یار بڑی عجیب سی صورت حال سامنے آ گئی ہے ۔‘‘
’’ کچھ کہو گے تو پتہ چلے گا نا ۔‘‘ میںنے اسے بات کرنے پر اکسایا تو وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا
’’تم نے وہ بات تو سنی ہو گی کہ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا نو آ نے ۔‘‘
’’ ہاں سنا تو ہے لیکن تمہارے ساتھ …‘‘ میں نے کہنا چاہا تو وہ بولا
’’ روہی میں اتنے دن کی محنت ہوئی ، لیکن ہاتھ کچھ بھی نہیں آ یا ، سب محنت برباد گئی ۔‘‘
’’ہوا کیا ہے بتائو گے بھی یا نہیں ۔‘‘ میں نے پوچھا تو وہ چند لمحے خاموش رہا پھر چائے کا سپ لے کر بولا
’’ سمجھ میں نہیں آ رہا کہاں سے شروع کروں؟‘‘
’’ کہیں سے بھی کر دو ۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہاتو وہ بھی ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولا
’’پچھلے تین ماہ سے میری ڈیوٹی یہاں لگی ہوئی ہے ۔پہلے میں ارم کے ماتحت تھا ۔ تمہارے ساتھ جو ہو رہا تھا وہ ہم دیکھ رہے تھے ۔ یہ سب مقامی طور پر سمجھ رہے تھے ہم لیکن اس کے پیچھے بھی ایک خاص قسم کا گروہ تھا ۔پھر یہ تھیوری سامنے آ ئی کہ دشمن ملک کے لوگ ہیں اور اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ وہ بھی خیال غلط ثابت ہو ا۔ یہاں تک کہ اب یہ معاملہ ہی ایسے لوگوں تک جا پہنچا ہے ، جن کے بارے میں پتہ نہیں کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ چاہتے کیا ہیں ، ان کا مقصد کیا ہے اور یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔‘‘
’’ لگے رہو ، کبھی نا کبھی تو کوئی سامنے آ ہی جائے گا نا ۔‘‘ میں نے عام سے لہجے میںکہا۔
’’ بات تمہاری ٹھیک ہے ۔لیکن …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا
’’ دیکھ تم نے کام کرنا ہے ، اگر یہ کام ختم ہو جاتا ہے تو کوئی نیا کام شروع ہو جائے گا ۔ تم یونہی بے کار تو نہیں بیٹھو گے ، لگے رہو گے ۔ اب بھی تو کام پر ہی ہو ۔‘‘
’’ لیکن ایک کام ختم ہو کر کوئی نیا شروع ہو جائے تو سکون رہتا ہے ۔ ایک کام ختم نہ ہو تو بوریت ہو نے لگتی ہے اور پھر اوپر والے نااہل سمجھنے لگتے ہیں ۔‘‘اس نے مسکراتے ہوئے کہا
’’ دیکھو ، یہ سارے قسمت کے کھیل ہیں ، تمہیں کیا پتہ تھا کہ مکھ مل سے یہ ساری بات معلوم ہو جائے گی ۔اسے اگر درمیان سے نکال دو تو اب بھی تم وہیں پر کھڑے ہو ۔اس میں تمہاری کتنی محنت تھی ؟‘‘ میں نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولا
’’ تم ٹھیک کہتے ہو ، اوپر بیٹھے لوگ کون سا پاگل ہیں ، وہ بھی ساری بات سمجھ رہے ہیں ۔‘‘
’’ لیکن ایک بات ہے ، یہ کیس جتنا پراسرار بنتا جا رہا ہے ، اتنا دلچسپ اور خطرناک بھی ہے۔‘‘ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تومیں نے پوچھا۔
’’اچھا ساگر نے کیا بتایا ؟‘‘
’’ بڑا سیانا بندہ ہے وہ ۔ اس نے ایک لمحہ میں سمجھ لیا تھاکہ وہ کہاں پر ہے اور اسے کون لوگ لے کر جا رہے ہیں ۔ جیسے ہی اس سے پوچھ تاچھ کی گئی اس نے فوراً ہی ساری بات بتا دی ۔ساتھ میں یہ کہہ دیا کہ جیسے چاہیں تحقیق کر لیں وغیرہ وغیرہ ۔ اس نے اپنی طرف سے سب سچ بتا دیا ہے ۔ ‘‘اس نے بتایا
’’ کیا بتایا اس نے ؟‘‘ میں نے پوچھا
’’کوئی نئی بات نہیں ، بس وہی ، ایک کمپنی یہاں روہی میں سروے کر رہی تھی ۔ انہوں نے ماحولیات کے حوالے سے ٹاور لگانے تھے ۔ یہ ان کی بات سمجھ گیا اور یہ سارا سیٹ اپ وہاں اپنے پاس لگوا لیا ۔ہر ماہ رقم آ جاتی ہے ، جیسے تنخواہ ، اس نے وہ اکائونٹ نمبر بھی دے دیا ۔‘‘عارف نے بتایا
’’ لیکن تم لوگ ماننے والے نہیں ۔‘‘ میںنے سکون سے کہا تو وہ سنجیدگی سے بولا
’’ وہ تو ہے ۔ ابھی کھیل ختم تو نہیں ہوا ۔ خیر ، ایک حد تک تو لگتا ہے یہاں کام ختم ہو گیا ۔ اس علاقے سے سارا صفایا ہو گیا لیکن اب بھی سیدن شاہ کی ضرورت اتنی ہے، جتنی پہلے تھی۔ اسے کہنا ہے کہ وہ اس علاقے کی نگرانی پوری طرح رکھے ۔‘‘
’ ’ ہاں کہہ دیتے ہیں ، بلکہ چلتے ہیں ا س کے پاس ۔‘‘ میں نے کہا تو اس کے ذہن میں اچانک آ یا ۔ تبھی وہ بولا
’’ یار وہ رات جو ہوا ، وہ بڑی جدید تکنیک استعمال کی گئی ہے ۔ آصف کا فون ہیک کیا گیا ، اس کے فون سے تمہیں کال کی گئی تھی ۔کال کر نے والے اسپتال میں تھے ہی نہیں ۔‘‘
’’بات تو حیرت والی ہے ۔کون لوگ ہیں وہ جو آصف میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔خیر ، میں نے یہ دماغ سوزی بند کر دی ہے ۔ جسے تکلیف ہو گی نا وہ خود ہی سامنے آ جائے گا ۔‘‘
’’اچھی بات ہے ویسے ۔خیر میرا تو من چاہ رہا ہے کہ چند دن چھٹیاں لوں اور کہیں سکون کروں ۔ ان سردیوں میں تو میں تھک گیا ہوں ۔لوگ گرم صحرا سے بھاگتے ہیں میں ٹھنڈے صحرا میں برف ہو گیا ہوں ۔‘‘
’’ اس کا مطلب ہے تم بھی جاناچاہتے ہو ؟‘‘ میںنے پوچھا تو وہ کاندھے اُچکاتے ہوئے بولا
’’ میری کیا اوقات ، کب ڈیوٹی بدل جائے ، میں کیا کہہ سکتاہوں ۔‘‘
’’چھٹیاں لے لو تو مجھے بتانا ، کہیں سیر تفریح کروا لائوں گا ۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ ہنس دیا ۔ ہمارے درمیان پھر سے خاموشی آ گئی تھی ۔ ہم چائے پی چکے تھے ۔شاید وہ کوئی مزید بات کرتا ، اسی لمحے میرے فون پر رابعہ کی کال آ گئی ۔ میں نے کال رسیو کی تو وہ چند لمحے تمہیدی باتوں کے بعد بولی
’’ وہ میں نے مکھ مل کے بارے میں کہا تھا ۔‘‘
’’ ہاں تو ، کب تمہارے پاس آ جائے ؟‘‘ میںنے پوچھا
’’ آج ہی بھیج دو ، لیکن یہ بتائو اس سے پوچھ لیا ہے ؟‘‘اس نے ہنستے ہوئے پوچھا
’’ میں کرتا ہوں بات ۔‘‘ میں نے جواب دیا
’’ اچھا میں فون کا انتظار کر رہی ہوں ۔‘‘ اس نے کہا اور کال ختم کر دی ۔میں نے کچھ دیر بعد فون کرنے کی بجائے اسی وقت مکھ مل کو کال کر دی ۔ ذرا سی دیر میں اس سے رابطہ ہو گیا
’’ سائیں کیسے یاد کر لیا ؟‘‘
’’مکھ مل ، تم اگر چاہو تولاہور میں تیرے لئے ایک بڑا پروگرام بنایا جا سکتا ہے ۔ دو تین ہفتوں میں اتنا کما لو گی ، جتنا تم دو برسوں میں بھی نہیں کما پاتی ہو ۔‘‘ میں نے کہا تو وہ بولی
’’ سائیں تم کہو تومیں سر کے بل آ جائوں ، یہ پیسہ کیا شے ہے ۔ بولو کب آ نا ہے ؟‘‘
’’ تم آ ج ہی آ جائو ، ساتھ میں اپنے کوئی ماہر سازندے بھی لے آ ئو ۔ لاہور بھیج دوں گا تمہیں ۔وہیں رہنا ہوگا دو تین ہفتے ۔‘‘ میںنے اسے سمجھایا تو اس نے پوچھا
’’میں آ جائوں گی ۔ یہ تو بتائو، آ نا کہاں ہے ؟‘‘
میں نے اسے سمجھا تے ہوئے فون بند کر دیا ۔ تبھی رابعہ کو بھی فون کر دیا ۔پھر یونہی عارف سے باتیں ہو نے لگیں ۔انہیں باتوں میں اس نے کہا
’’ وہ افضل سردار کو میںنے پیار سیسمجھایا تو ہے ،میرا خیال ہے سمجھ گیا ہوگا ۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اب اس کے بس کی بات بھی نہیں ہے ۔ ان کا سب کچھ کرمنل تھا ۔ وہ اس کا باپ ہی کر سکتا تھا ۔ ‘‘
’’ دیکھتے ہیں کیا کرتا ہے ۔‘‘ میںنے سکون سے کہا
’’ ویسے اگر اسے الیکشن لڑنے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔ اسے میدان میں شکست دیں تو اس کا دم خم ختم ہو جائے گا ۔‘‘ عارف نے سمجھاتے ہوئے کہا تو میں بات سمجھ گیا ۔ہم کافی دیر تک اسی موضوع پر بات کرتے رہے ۔
شام ڈھلے مکھ مل اپنے سازندوں کے ساتھ شہر والے بنگلے میں پہنچ گئی ۔وہ لوگ جیسے ہی حویلی تک آ ئے ، انہوں نے مجھ سے رابطہ کر لیا تھا ۔اس وقت تک میں نے انہیں لاہور پہنچانے کا بندو بست کر لیا تھا ۔ان کے لئے ایک ویگن تیار تھی ۔ چونک اس وقت مکھ مل کسی محفل کے لئے نہیں آ ئی تھی اس لئے بڑے سادہ سے لباس میں تھی ۔اس کا ایک ایک انگ ڈھکا ہوا تھا ۔ملازمین نے انہیں کھانا کھلا دیا تو مکھ مل میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولی
’’ سائیں آ پ بھی چلو، نا ہمارے ساتھ ۔‘‘
’’ میں نے کیا کرنا ہے وہاں جا کر ؟‘‘ میںنے ہنستے ہوئے پوچھا تو وہ خاموش ہوگئی ۔ اس نے مزید بات نہیں کی ۔وہ اپنے سازندوں کے ساتھ چلی گئی ۔میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا ۔ اس لئے میں آصف کو دیکھنے اسپتال کی طرف نکل گیا ۔
٭…٭…٭
دن کا اجالا پھیل رہا تھا ۔ میں قریبی پارک میں جاگنگ کے لئے پہنچ گیا تھا ۔ وہاں ٹریک پر تھوڑے سے لوگ تھے ۔ ان میں زیادہ تر ادھیڑ عمر تھے جو تیز تیز چل رہے تھے ۔دو چار ایسے جوان تھے جو بھاگ رہے تھے ۔ وہ ٹریک کافی بڑا تھا اور بیضوی دائرہ بناتا ہوا اچھا لگ رہا تھا ۔ بڑا پر سکون ماحول تھا ۔تازہ ہوا کی تازگی سرشار کر رہی تھی ۔میں ٹریک پر آ یا اور ہو لے ہولے بھاگنے لگا ۔ میرا دھیان بار بار عارف کی باتوں کی طرف جاتا تھا جسے رات میں بہت دیر تک سوچتا رہا تھا ۔ رات کوئی نتیجہ میرے سامنے نہیں آ یا تھا سو اس وقت میں سوچنا نہیں چاہتا تھا ۔ میں نے دماغ سے سب کچھ نکالا اور صبح کا لطف لیتے ہوئے جاگنگ کرنے لگا ۔
غالباً وہ دوسرا چکر تھا ۔ میں چند بوڑھوں کو کراس کر کے آ گے بڑھا تھا ۔ میرے سامنے سارا ٹریک خالی تھا۔میرے دائیں جانب درختوں کی قطار تھی ۔ان کے ساتھ پھولوں کے پودے اور جھاڑیاں بھی تھیں ۔ اچانک سامنے سے دو لوگ درختوں میں سے نکل کر میرے سامنے آ گئے ۔ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے ۔میں نے پوری کوشش کر کے رکنا چاہالیکن پھر بھی ان کے پاس جا پہنچا ۔ وہ شاید اسی اندازے سے میرے سامنے آ ئے تھے ۔ایسے میں میرے پیچھے بھی تین لوگ آ گئے ۔ میں اک ثانئے میں سمجھ گیا تھا کہ ان کے ارادے کیا ہو سکتے ہیں ۔ جیسے ہی میں اپنی رفتار کم کر کے رکا۔ میرے سامنے ایک شخص نے پوری قوت سے کہنی ماری ۔ دردکی شدت میرے پورے بدن میں پھیل گئی ۔ میں دہرا ہو گیا ۔ اسی لمحے کسی نے میری گردن پر گھونسا مارا ، میری آ نکھوںکے سامنے تارے ناچ گئے ۔میںلڑکھڑا گیا ۔اسی لمحے کئی سارے گھونسے ،لاتیں اور ٹھڈے مجھے پڑ چکے تھے ۔ مجھے لگا جیسے میرا سارا بدن ہی اذیت میں آ گیا ہو ۔ میرا دماغ کام کرنا بند ہو گیا تھا لیکن جیسے ہی میری کمر پر کسی نے لات ماری ، میں آ گے کی جانب گرنے لگا ، اسی وقت میرا دماغ جیسے جاگ گیا ۔مجھے لگا کہ اگر میں نے انہی لمحات میں خود کو سنبھالنے کی کوشش نہ کی تو یہ میرے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ میرے ہاتھ ٹریک پر لگے تھے ۔ میں نے پوری قوت لگا کر اپنا سارا وزن ان ہاتھوں پر ڈالا اور قلابازی کھا کر مخالف سمت میں اپنے پائوں پر کھڑا ہوگیا ۔اب وہ میرے سامنے تھے ۔ایک ناٹے سے قد کا آ دمی تیزی سے اچھل کر مجھے مارنے کے لئے میری جانب بڑھا تھا ۔میں اس کی آ نکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔ میں اندازہ کر چکا تھا کہ وہ میرے کہاں پر وار کر نے والا ہے ۔ میں نے اسی اندازے کو ذہن میں رکھا ۔ جیسے ہی وہ میرے قریب آ یا ۔ میں نے ذرا سا جھک کر پوری قوت سے گھونسہ اس کے سینے پر مارا۔ وہ اوخ کی آ واز کے ساتھ دہرا ہو ا تھا ۔ میں ذرا سا ئیڈ میں ہوا اور ایک کک اس کی ٹھوڑی اور گردن کے درمیان ماری ۔وہ پر ے جا کر گرا ۔ اس وقت تک دو لوگ حملہ کرنے کے لئے میری طرف بڑھے ۔وہ مجھے پکڑنا چاہتے تھے ۔میں ان کے اندازے سے بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھ گیا ۔وہ اپنا اندازہ درست نہ رکھ پائے تب تک میں ذرا سااچھلا اوردونوں بازو ان کے سینے پر مارے ۔میں نے اپنا وزن ان پر ڈال دیا تو ان دونوں کے ساتھ زمین پر آ رہا۔انہی لمحوں میں میری پشت پر کوڑا نما شے پڑی تو کمر پر گویا آ گ لگ گئی ۔میں تڑپ کر سیدھا ہوا تو ایک شخص مجھے بیلٹ مارنے کے لئے ہاتھ اوپر اٹھا چکا تھا ۔جونہی وہ بیلٹ نیچے لایا میں نے بجائے بچنے کے وہ بیلٹ ہی پکڑ لیا ۔میں نے ایک بار اسے اپنی طرف کھینچا تو اس نے پیچھے زور لگایا ، میں نے اسے چھوڑ دیا، وہ اپنی جونک میں پیچھے کی جانب لڑکھڑا گیا ۔ نیچے پڑے لوگوں نے مجھے پکڑ لیااور گھونسوں پر رکھ لیا ۔میں نے اندھا دھند ہاتھ چلائے توایک لمحے کو مجھے ان میں سے نکلنے کا موقعہ مل گیا ۔ میں پھر ان کے سامنے تھا ۔وہ پانچوں میرے سامنے تھے ۔ مجھے پہلی نگاہ میں وہ کوئی غنڈے ہی لگے تھے ۔ان کے لڑنے کا اسٹائل اسٹریٹ فائٹر کی مانند تھا ۔ میں سمجھ گیا کہ ان کے ساتھ کس طرح نبرد آ زما ہو نا ہے ۔ وہ سبھی ایک دم مجھ پر حملہ آور ہوئے تو میںنے ایک کو پکڑ لیا ۔اس کی گردن دبوچ کے میں نے اس کی ٹانگوں کے درمیان گھٹنا مارا ۔ وہ اکٹھا ہو گیا تو میںنے اسے چھوڑ دیا ۔ تب تک میں تھپڑوں اور گھونسوں کی زد میں تھا ، میں نے دوسرے کو پکڑ لیا اور پوری قوت سے اس کے دل پر پنچ مارا ۔ یہ واربڑا کارگر تھا ۔ وہ بے دم ہو کر گر گیا ۔ مجھے یہ پروا نہیںتھی کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے لیکن اس وقت تک میںنے تیسرے کو پکڑ لیا تھا ۔میں نے اسے بغل میں دبایا اور اس کا سر نیچے کی جانب کر لیا پھر اپنا گھٹنا اس کے منہ پر مارا اور اسے چھوڑ دیا ۔وہ سیدھا منہ کے بل زمین پر آ رہا ۔ میں چوتھے کی جانب بڑھا تھا کہ میری گردن پر کوئی سریا نما شے پڑی ۔ ایک ٹیس میرے سر سے پائوں تک اٹھی جس سے میرے حواس مختل ہو نے لگے ۔اس وقت اگر میں گر جاتا تووہ لوگ مجھے قتل کر سکتے تھے ۔یا پھر کوئی ایسا نقصان دیتے کہ میں دوبارہ اٹھنے کے لائق نہ رہتا ۔ میں نے اپنی قوت ارادی کو جمع کیا اور گھوم کر دیکھا، ایک شخص لوہے کا راڈ لئے مجھے مارنے لگا تھا ۔ میںنے اس کا وار اپنے ہاتھوں پر روکا اور راڈ چھین لیا ۔ پھر وہی راڈ گھما کر اس کے سر پر مارا ۔ اس کی چیخ بلند ہوئی ۔دوسرا وار اس کے کاندھے پر کیا تب تک پیچھے والے نے مجھے گردن سے پکڑ لیا ۔ میں اسے گھما کر اپنے سامنے لایا اور وہی راڈ اس کے بھی سر پر مار دیا ۔اتنی مار پڑنے کے بعد میں اپنے حواس کھو رہا تھا ۔ میرے کئی جگہ سے خون نکل آ یا تھا ۔جس کے سر پر راڈ پڑا تھا وہ زمین بوس ہو چکا تھا ۔ میرے سر سے خون نکل آ یا تھا ، جو پھیل کر میری آ نکھوں میں پڑ رہا تھا ۔ میں نے اپنے بازو سے خون صاف کیا اور ایک شخص کی جانب بڑھا ۔میں چاہتا تھا کہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے راڈ سے اس کا بھی سر کھول دوں لیکن وہ اٹھا اور ایک جانب بھاگ نکلا ۔ دیکھا دیکھی دوسرے بھی بھاگے لیکن ایک وہیں زمین پر پڑا تھا شاید وہ بے ہوش تھا ۔ میں اس کی جانب بڑھا لیکن دو قدم اٹھانے کے بعد ہی میں چکرا گیا ۔ میں نے خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن میری آ نکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا چلا گیا ۔ پھر مجھے ہوش نہیں رہا ۔
مجھے ہوش آیا تو میرے چاروں جانب سکوت تھا ۔پہلی آواز جومیرے کانوں میں پڑی وہ ٹاں ٹاں کی آ واز تھی ۔میں زبردستی آ نکھیں کھول کر دیکھا تو مجھے دھندلا دکھائی دیا پھر منظر واضح ہوتا چلا گیا ۔میں اسپتال میں تھا ۔ میرے سامنے پائوں کی جانب اکبر کھڑاتھا ۔ اس کے چہرے پر پریشانی تھی ۔
’’ شکر ہے اسے ہوش آ گیا ۔‘‘ بابا کی آ واز کانوں میں پڑی تو نجانے کیوں میرے اندر حوصلہ بڑھ گیا ۔ میں نے گردن گھما کر دیکھنا چاہاتو میرے سر میں ٹیس اٹھی ۔جسے میں برداشت کر گیا ۔ میرے سامنے بابا تھے ۔ میں نے پوری قوت جمع کرتے ہوئے کہا
’’بابا میں ٹھیک ہوں ۔‘‘
’’ ہاں ہاں تم ٹھیک ہو ، تمہیں کیا ہوا ہے ۔‘‘ عارف کی آ واز آ ئی تو مجھے لگا کہ معاملہ کافی گمبھیر ہے ۔ اس سے پہلے میں کچھ کہتا وہ اپنے لہجے کو خوشگوار بناتے ہوئے بولا،’’ بس سر میں دو تین ٹانکے لگے ہیں ۔ کچھ خراشیں آ ئی ہیں ۔لگتا ہے کافی مار پڑی ہے۔‘‘
’’ ہاں یار لگتا ہے ۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا
’’ کچھ نہیں ہوا ، میں نے ڈاکٹر سے سب پوچھ لیا ہے ۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہے ۔ ہمت کرو تو ہم ابھی گھر جا سکتے ہیں ۔‘‘ اس نے حوصلہ افزا لہجے میں کہا
’’ عارف ٹھیک کہہ رہا ہے ۔‘‘ بابا نے کہا تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ محض مذاق نہیںتھا اور نہ ہی میرا حوصلہ بڑھانے کو کہہ رہا تھا بلکہ ایسا ہی ہوگا ۔ تبھی میں نے پوچھا
’’ کون تھے وہ ؟‘‘
’’لڑائی تم سے ہوئی ، پوچھ مجھ سے رہے ہو ؟‘‘اس نے کہا
’’ نہیں ، میں لڑا نہیں تھا ، انہوں نے اچانک مجھ پر حملہ کیا تھا ۔‘‘ میں نے تیزی سے بتایا
’’ مجھے پتہ ہے ایسا ہی ہوا تھا ۔ اب تم آ رام کرو ۔سب ٹھیک ہے ۔ شکرکرو کوئی نقصان نہیں ہوا ۔‘‘ اس نے گول مول بات کی تو بابا نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
’’میں یہیں بنگلے پر ہوں ، پھر آ ئوں گا ۔ ‘‘
’’ جی بابا ۔‘‘ میں نے کہا تو وہ باہر کی جانب چل دئیے ۔اکبر بھی خاموشی سے ان کے ساتھ چل دیا ۔ میرے پاس عارف رہ گیا تو میںنے اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا
’’ اب بتائو ، کون تھے وہ ؟‘‘
’’ افضل سردار کے لوگ تھے ۔‘‘ اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا
’’ مطلب وہ باز نہیں آ نے والا۔‘‘ میرے منہ سے سرسراتے ہوئے نکلاتو وہ کہتا چلا گیا
’’تم نے بھی غلطی کی تھی ، یونہی منہ اٹھائے پارک چل دئیے ۔ وقت اور حالات کو سمجھا جاتا ہے ۔ارد گرد کیا ہو رہا ہے یہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ ہم اس وقت جنگ جیت لیتے ہیں جب ہمارے پاس دشمن کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں ۔ جتنی زیادہ معلومات ہوں گی، اتنی زیادہ کامیابی ہوتی ہے ۔تب دشمن کو پتہ ہی نہیں چلتا اس کے ساتھ ہو کیا گیا ہے ۔‘‘
’’ تم ٹھیک کہتے ہو ۔ یہ میری غلطی تھی ۔‘‘ میں نے تسلیم کر لیا ۔ مجھے بے پرواہی کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا ۔
’’ خیر ، اب جو ہونا تھا سو ہو چکا ، ان کا ایک بندہ ہمارے ہاتھ آ گیا ہے ۔ وہ بھی زخمی ہے ۔ساری بات کھل جائے گی ۔‘‘ عارف نے بتایا تو میںنے اس سے پوچھا
’’ مجھے یہاں اسپتال میں کس نے پہنچایا ؟‘‘
’’وہیں پارک میں ایک صاحب جو گنگ کر رہے تھے ۔ انہوںنے پولیس کو فون کیا ۔اس وقت تک وہاں لوگ بھی اکٹھے ہو گئے تھے ۔وہ ہی تمہیں اپنی گاڑی میں ڈال کر ہسپتال تک لایا ۔اس نے ہی پولیس کو گواہی دی ہے کہ تم پر حملہ ہوا۔‘‘ عارف نے تفصیل سے بتایا
کون ہے وہ میرا محسن ؟‘‘ میںنے پوچھا
’’ شہر کا ایک بزنس مین ہے شیخ محسن شاہد ، آ جائے گا وہ ، مل لینا اس سے ۔‘‘ عارف نے کہا ، شاید میں اس سے مزید بات کرتا اس وقت ڈاکٹر آ یا ۔ اس کے ساتھ اسٹاف تھا ۔ وہ مجھے دیکھنے لگے تو عارف اٹھتے ہوئے بولا ،’’ میں چلتا ہوں ، رابطہ رہے گا ۔ ‘‘
ڈاکٹر مجھے دیکھنے لگے اور وہ اٹھ کر چلا گیا ۔
’’ ڈاکٹر، کوئی خطرے والی بات ہے تو مجھے بتا دیں ، مجھ میں اتنا حوصلہ ہے کہ …‘‘ میں نے کہا تو ڈاکٹر ہنستے ہوئے بولا
’’ نہیں ، یہی سر کی چوٹ تھوڑی گہری ہے ۔ اس کے علاوہ آ پ بچ گئے ہو ۔آج رات آ پ رہیں گے ہمارے پاس ، پھر آپ گھر جا سکیں گے ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ میں نے اطمینان سے کہا اور آ نکھیں موند لیں ۔ میں خود کو بہتر محسوس کرنے لگا تھا ۔
رات کے وقت میں اسپتال سے اپنے بنگلے میں آ گیا ۔ عارف میرے ساتھ تھا ۔ گائوںسے آ ئے لوگوں کے ساتھ بابا واپس چلے گئے تھے ۔ اماں یہاں آنا چاہتی تھیں لیکن میں نے خود ہی گائوں آ جانے کا کہہ کر انہیں وہیں روک دیا ۔
میں اپنے بیڈ روم میں پڑا تھا ۔ایک بات میرے دماغ میں چبھ رہی تھی ، میں وہ عارف سے کہنا چاہتا تھا ۔ جیسے ہی تنہائی ملی تو میں نے اس سے پوچھا
’’ عارف ، ایک بات بتائو ، یہ افض سردار کیا بہت زیادہ بے وقوف ہے ، اس نے سیدھے سبھائو مجھ پر حملہ کروا دیا ؟‘‘
اس نے جواب دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا
’’ تم کیا سمجھتے ہو ، یہ حملہ اس نے اپنی بے وقوفی کی وجہ سے کروایا ہے ؟‘‘
’’ یہی تو میں پوچھ رہا ہوں ۔‘‘ میں نے الجھتے ہوئے کہا
’’ دیکھو وہ چاہتا ہے کہ تم اس پر حملہ کرو ۔ وہ اسی کو جواز بنا کر عوام میں اپنی مظلومیت ثابت کر سکے ۔ اب اگر اکبر عوام میں یہ کہتا ہے کہ میرے بھائی پر حملہ کروایا تو بھی اسے ہی فائدہ جائے گا ۔ وہ کہے گا کہ مجھ پر کیسا بھونڈا الزام لگایا جا رہا ہے ۔سیاسی مخالفت میں مجھ پر ناجائز پر چہ کٹوا دیا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ ہتھکنڈے ہیں ، جس کے پیچھے رہ کر وہ اپنی ہار کا جواز بنانا چاہتا ہے کیونکہ وہ یہ الیکشن ہار چکا ہے ۔‘‘ عارف نے تفصیل سے بتایا تو میں سمجھ گیا کہ وہ اس موقعہ کا فائدہ اٹھا کر ہمیں سیاسی مات دینا چاہتا ہے ۔ میںنے اسی وقت سوچ لیا کہ میں اسے اس کا جواب دوں گا ۔ یوں بات سیاست سے چلی تو بہت ساری باتیں ہو تی چلی گئیں ۔علاقے کی بہت ساری باتیں میرے سامنے آ تی چلی گئیں ۔رات گئے عارف چلا گیا تو میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگا ۔
٭…٭…٭
مجھے حویلی میں پڑے تین دن ہو گئے تھے ۔میرا فون بھی مجھ سے لے لیا گیا تھا ۔ میرا کسی کے ساتھ رابطہ نہیں تھا ۔اس دوران میں بہت کچھ سوچتا رہا ۔پولنگ میں ابھی بہت دن پڑ ے تھے ۔الیکشن مہم کا ابھی آ غاز ہی ہوا تھا ۔عارف کا یہ خیال بالکل درست تھا کہ الیکشن ہو جانے دیں ۔ اگر افضل سردار مر گیا تو الیکشن رک جائیں گے ۔ میں ناشتے کے بعد لائونج میں بیٹھا انہیں خیالوں میں تھا کہ پورچ میں ایک گاڑی رکی ۔اس کے کچھ دیر بعد ہی عارف کے ساتھ ایک اُدھیڑ عمر شخص اس کے ساتھ لائونج ہی میں آ گیا ۔ وہ چھوٹے قد کا فربہ مائل تھا ، اس کی چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی ۔ ناک پر نفیس چشمہ دھراہوا تھا ۔ اس نے شلوار قمیص پر ویسٹ کوٹ پہنا ہو اتھا ۔ میں انہیں دیکھ کر اٹھ گیا ۔وہ بڑی گرم جوشی سے میرے ساتھ ملا تو عارف نے اس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا
’’ یہ ہیں شیخ محسن شاہد، وہی جنہوں نے …‘‘
’’ آپ واقعی میرے محسن ہیں ۔‘‘ میں نے تیزی سے کہا اور انہیں گلے لگا لیا ۔ پھر انہیں صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ،’’ بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر ۔ میں خود آ پ کے پاس آ نا چاہ رہا تھا لیکن …‘‘
’’ جی مجھے پتہ ہے ، بتایا تھا مجھے عارف صاحب نے، لیکن آپ کے لئے آرام بھی بہت ضروری ہے ۔ اسے چھوڑیں ، یہ بتائیں کہ اب کیسی طبیعت ہے ؟‘‘
’’ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ایک بات پھر سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔‘‘
’’ آ پ تو شرمندہ کر رہے ہیں ۔‘‘اس نے ہنستے ہوئے کہا تو عارف نے کہا
’’ خیر ،یہ فار میلٹی والی باتیں چھوڑیں ۔جس مقصد کے لئے شیخ صاحب آ ئیں ہیں وہ کریں ۔‘‘
’’ جی بالکل ۔‘‘ شیخ صاحب نے سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا تو میں نے غور سے عارف کی طرف دیکھا ۔ تب وہ سنجیدہ سے لہجے میں کہتا چلا گیا
’’ جس وقت انہوں نے تمہیں اٹھایا ، اسپتال تک پہنچایا ، اس وقت تک انہیں نہیں معلوم تھا کہ تم کون ہو ۔ وہ سب انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت کیا ۔ جب انہیں تمہارے بارے میں پتہ چلا ، پھر یہ بھی جان گئے کہ یہ کس کی طرف سے حملہ تھا تو ساری بات سمجھ گئے ۔ یہ پہلے سیاسی طور پر سردار کے ساتھ تھے لیکن اب یہ انہیں چھوڑ کر اکبر بھائی کے ساتھ ہیں ۔‘‘
’’ جی بہت خوشی ہوئی ۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔‘‘ میں نے ممنونیت سے کہا
’’ دیکھیں جی ، ہمیںسیاسی لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے ۔ کوئی نہ کوئی کام پڑتا رہتا ہے ۔میں جانتا ہوں کہ افضل سردار اس بار نہیں جیت سکتا ۔پھر بھی ہم اس کے ساتھ تھے لیکن یہ جو اس نے کیا بہت غلط کیا ۔ میں اپنی تاجر برادی کے ساتھ اب اکبر بھائی کے ساتھ ہوں ۔‘‘ اس نے خوشگوار لہجے میں کہا تو پھر اسی موضوع پر باتیں چل نکلیں ۔ وہ بتاتا رہا تھا کہ کس طرح اس نے اپنی تاجر برادری کے ساتھ سیاسی سفر کیا ہے ۔ خوب گپ شپ کے ساتھ چائے وغیرہ پینے کے بعد وہ چل دیا ۔ ہم اسے پورچ تک چھوڑنے گئے ۔ وہ چلا گیا تو ہم واپس لائونج میں آ بیٹھے ۔ واپس بیٹھتے ہی میں نے کہا
’’ عارف مجھے بتا ہی دیتے کہ اس نے آ نا تھا ۔‘‘
’’ اس کی ضرورت نہیں ، میں نے ایک دو بار اس کی ملاقات اکبر سے کروا دی ہے وہی اس کے ساتھ رابطہ رکھے گا ۔ اس کا اتنا اثر رسوخ ہے کہ جو یہ کہہ رہا ہے وہ کرتا بھی ہے ۔ اب شہر میں اکبر کی الیکشن مہم یہی دیکھے گا ۔ اس نے وہی کرنا ہے جو ہم کہیں گے ۔تم سے ایک بار ملوانا تھا ملوا دیا ۔اب غور سے میری بات سنو تمہیں کیا کرنا ہے ۔‘‘
’’ مجھے کیا کرنا ہے مطلب ؟‘‘ میںنے پوچھا
’’ تمہیں یہاں سے کچھ دنوں کے لئے جانا ہے کہیں ۔ یہاں نہیں رہنا تم نے ۔‘‘ اس نے گہری سنجیدگی سے کہا
’’ کیوں جانا ہے ، اور کہاں جانا ہے ؟‘‘ میں الجھتے ہوئے پوچھا تو چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا پھر بولا
’’میں جو کہہ رہا ہوں ، اسے معمولی مت لینا ، غور سے سننا ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا ۔ مجھے لگا کوئی اہم بات ہے ،وہ میری طرف دیکھتا رہا پھر بولا ،’’ وہ جو روہی میں ہوا ، اس کے ڈانڈے غیر ملکی معاملات تک جا پہنچے ہیں ۔ یہ تم بھی جانتے ہو۔وہ لوگ یہاں بہت بڑی سرمایہ کاری کر چکے ہیں ، وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتے ۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ تم ہی ان کی راہ میں رکاوٹ ہو ، اس لئے وہ تمہیں ضرور نقصان پہنچائیں گے ۔ اس لیے تمہارا کچھ وقت کے لئے یہاں سے …‘‘
’’ ٹھیک ہے ، میں چلا جائوںگا لیکن میری بات سنو ۔‘‘
’’ سنائو ۔‘‘اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا
’’ تمہیں یہ سب کہاں سے معلوم ہوا ؟‘‘ میںنے پوچھا تو دھیمے سے مسکرا دیا پھر بولا
’’اسے چھوڑو ، یہی ہمارا کام ہے ۔اب دو تین دنوں میں ہم پورے نیٹ ورک تک پہنچ گئے ہیں ۔ ‘‘
’’اتنی سرمایہ کار ی کیوں ؟ اتنا پراسرار کیوںتھا یہ سب، کیا مقصد تھا یہ ۔‘‘ میں نے تیزی سے پوچھا تو وہ تحمل سے بولا
’’اگر میں یہ کہوں کہ جاسوسی تو یہی ایک بہت بڑا مقصد ہے ۔ وہ ہمارے ملک کے بارے میں ہر طرح کی معلومات لے لیتے ہیں تو انہیں لڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔لیکن یہ اس سے بھی آ گے کی بات تھی ۔جسے میں بھی نہیں کہہ سکتا ۔ تم اسے چھوڑو ۔ وہ کرو جو میں کہہ رہا ہوں ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے ، میں چلا جاتا ہوں لیکن جانا کہاں ہے ؟ کہاں چھپ سکوں گا میں ؟اورکیا میرا چھپ کر رہنا ضروری ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا
’’چند دن ،صرف چند دن، اس کے بعد جیسے ہی مجھے یہ احساس ہوا کہ تمہیں واپس آ جانا چاہئے ، تم آ جانا ۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا تو مجھے کافی عجیب سا لگا ۔
’’ اچھا ٹھیک ہے ، چلا جاتا ہوں ۔ بتائو کب جانا ہے ۔‘‘ میںنے پوچھا تو وہ بولا
’’ ابھی میرے ساتھ ۔‘‘
’’ کہاں جانا ہے ؟‘‘ میں نے سنجیدگی سے پوچھا
’’ مکھ مل کے پاس ۔چند دن ۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے وہ منت کر رہا ہو۔ میں نے ایک طویل سانس لی اور کہا
’’ ٹھیک ہے ، میں تیاری کر لوں ۔‘‘
’’ کر لو ، میں یہیں بیٹھا ہوں ۔‘‘اس نے کہا تو میں اٹھ کر اندر چلا گیا ۔
میں اپنا بیگ تیار کرتے وقت بہت ساری باتیں سوچتا رہا ۔مجھے عارف کی باتیں پہلی بار عجیب سی لگی تھیں ۔ مجھے روہی میں ہونے والے واقعات بڑے عجیب سے لگے تھے ۔میں ان پر سوچ رہا تھا کہ اچانک مجھے آ صف کے بارے میں خیال آ یا ۔ ان چند دنوں میں اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا ۔ شایداس نے رابطہ کیا ہو لیکن میرے پاس فون نہیں تھا ۔وہ کس حال میں ہوگا ؟ یہی سوچتے ہوئے میں واپس لائونج میں آ گیا ۔
جیسے ہی ہم پورچ میں آ کر گاڑی میں بیٹھے اور عارف نے گاڑی بڑھا دی تو پہلا سوال ہی میں نے اس سے یہی کیا ۔ وہ چند لمحے سوچتا رہا ، پھر بولا
’’ وہ بہت گہرا بند ہ نکلا یار ۔‘‘
’’ مطلب …؟‘‘ میںنے چونکتے ہوئے کہا
’’ وہ تمہیں قتل کرنا چاہتا تھا ۔‘‘اس نے انکشاف کیا تو میں نے شدید حیرت سے اس کی طرف دیکھا پھر سرسراتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا
’’ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟‘‘
’’ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔ میں تمہیں سمجھانا بھی چاہوں تو ابھی تم سمجھ نہیں پائو گے ۔وہ صرف افضل سردار کا خاص بندہ نہیں اور بہت کچھ ہے ۔ وقت آ نے پر سب کھل جائے گا ۔‘‘
’’ وقت آ نے پر کیا مطلب ؟ہر بات وقت آ نے پر ، یار تم مجھے وہ سب بتا کیوں نہیں دیتے جو میرے بارے میں تمہیں معلوم ہے ؟‘‘ میںنے اپنے غصے کو دباتے ہوئے کہا تو وہ بڑے تحمل سے بولا
’’افضل کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ تمہارے بارے میں نہیں جانتا ۔ اسے کوئی خبر نہیں ملتی تمہارے بارے میں ۔کیونکہ تم ہمارے حصار میں ہو ۔ وہ اسے تمہارے قریب کرنا چاہتا تھا ۔ اور …‘‘
’’ اور پروین کا قتل کس کھاتے میں ڈالو گے ؟‘‘میں نے الجھتے ہوئے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا تو وہ بولا
’’اس کے قتل میں بھی آ صف پوری طرح شامل تھا ۔ پروین کو اس کے بارے میں پتہ چل گیا تھا کہ وہ اصل میں ہے کون ؟وہ اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا ۔ ‘‘
’’ وہ اصل میں کیا تھا ؟‘‘ میں نے پوچھا
’’ وہ کچھ جو اس وقت افضل سردار ہے ۔‘‘وہ دھیمے سے بولاتو میںنے چڑتے ہوئے کہا
’’ اور وہ …‘‘
’’ وہ انہی طاقتوں کا آ لہ کار ہے جو روہی میں کھیل ، کھیل رہے تھے ۔آصف سے سب سے بڑی غلطی یہی ہوئی کہ اس نے پروین کو قتل کردیا ۔ پھر تمہیں جو فون کروایا اور جھوٹ بولا کہ اس کا فون بند تھا ، وہ سب ڈرامہ تھا ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چند لمحے خاموش ہو گیا ۔ میں چپ رہا تو وہ بڑے تحمل سے بولا ،’’ کڑی سے کڑی مل رہی ہے ۔بہت ساری میں باتیں تمہیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ یہ تمہیں پتہ نہیں ہونی چاہئے ۔ وقت آ نے دو سب کھل جائے گا ۔‘‘
’’ اوکے ۔‘‘ میںنے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا اور خاموش ہو گیا ۔ اس نے اپنی ساری توجہ ڈرائیونگ پر لگا دی ۔
حالات کی اس نئی کروٹ پر میرے دماغ میں نجانے کتنے سوال پھوٹ پڑے تھے ۔ان سوالوں کا جواب شاید وقت ہی دے سکتا تھا ۔یہ بات تو سمجھ میں آ تی تھی کہ آصف میرے قریب اس لئے آ رہا تھا کہ مجھے نقصان پہنچا سکے لیکن پھر پروین کو کیوں قتل کیا گیا ؟وہ اگر سیدھے سبھائو خود پروین کو قتل کر دیتا توکوئی ہی نہ ہو تی ۔ یوں اسلم اے ایس آ ئی اور اس کے بندوں کے ذریعے مروانا ، انہی پر قتل کا الزام دھرنا اور پھر انہیں میرے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچا دینا ، کیا یہ کوئی گیم تھی ؟کیا کوئی میرے ساتھ کھیل رہا ہے ؟ یا مجھے اس کھیل کا حصہ بنا کر کوئی دوسرا ہی کھیل رہا ہے ؟کیا اب بھی میرے سامنے جو منظر ہیں، وہ حقیقی ہیں یا محض دھوکا ؟کیا میں بھی کٹھ پتلی بن گیا ہوں اور میری ڈورکسی کے ہاتھ میں ہے ؟ ان بہت سارے سوالوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے مجھے صرف ایک بات کی سمجھ آ رہی تھی سوال جتنے بھی ہوں ، منظر چاہئے جیسا بھی ہو ، اب نہ صرف مجھے ان سوالوں کے جواب خود تلاش کر نا تھے بلکہ ان کی حقیقت تک مجھے خود ہی پہنچنا تھا کہ آخر یہ سب ہے کیا ؟
٭…٭…٭
شام ڈھل رہی تھی ۔دن بھی رات سے گلے ملنے کو بے تاب تھا ۔ہم شہر پار کر کے مضافاتی علاقے میں جا پہنچے ۔ وہاں اتنی زیادہ آ بادی نہیں تھی ۔ہم ایک کھلی پختہ سڑک پر جا رہے تھے۔جس کے سرے پر گیٹ تھا اور اس کے پس منظر میں دو منزلہ شاندار عمارت دکھائی دے رہی تھی ۔ کچھ ہی دیر بعد ہم گیٹ پر جا پہنچے۔ ہم ابھی رکے ہی تھے کہ گیٹ کھل گیا ۔اندر کچھ سیکورٹی گارڈ کھڑے تھے ۔انہوں نے ہمیں ایک نگاہ دیکھا اور آ گے جانے کی اجازت دے دی ۔مجھے یقین ہو گیاکہ ہم ان کی نگاہ میں پہلے ہی سے تھے ۔شاید حویلی سے چلتے ہوئے یا اس شہر میں داخل ہوتے ہی ۔پورچ میں آ تے ہی عارف نے گاڑی روک دی ۔وہاں چند لوگ کھڑے ہوئے تھے ۔ جیسے ہی ہم گاڑی سے باہر نکلے وہ آ گے بڑھ کر ہم سے ملے اور ہمیں اندر لے گئے ۔مختلف راہداریوں سے ہوتے ہوئے ہم ایک شاندار آ فس نما کمرے میں پہنچے۔ ایک بڑی سی میز کے پیچھے ایک حسین لڑکی بیٹھی ہوئی مسکرا رہی تھی ۔ وہ رابعہ تھی جو پہلی نگاہ میں پہچانی ہی نہیں گئی تھی ۔ اس وقت وہ ہلکے میک اپ میں تھی ، جوب سنوری ہوئی ۔ اس نے گلابی رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس پر سیاہ سوٹ اور گہرے نیلے رنگ کی ٹائی لگائی ہوئی تھی ۔ وہ اٹھی اور دونوں بازو پھیلائے یوں ہماری جانب بڑھی جیسے وہ ہمیں اپنی بانہوں میں لے لے گی ۔ اس نے ایسا ہی کیا پہلے وہ عارف سے گلے ملی اور پھر میرے ساتھ ۔ اس کے بدن سے ایک خوشگوار مہک اٹھی جس نے مسحور کر دیا۔
’’ آ ئو ، خوش آ مدید ۔‘‘اس نے خوشگوار انداز میں کہا ۔
’’ تم تو پہچانی ہی نہیں جا رہی ہو ۔‘‘ میں نے کہا
’’ ارے میرے بھولے دوست ، ہمارے نجانے کتنے روپ ہیں ، چھوڑو انہیں ، یہ دیکھو تم میرے سامنے بیٹھے ہو ، ورنہ ہم کسی سے ایک بار ملیں تو پھر دوبارہ ملنے کا چانس کم ہی ہوتا ہے ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا
’’ جتنی تم پر اسرار بات کر رہی ہو اتنی لگتی نہیں ہو ۔‘‘ میںنے کہاتووہ قہقہہ لگا کر ہنس دی ۔تبھی عارف بولا
’’کوئی بات نہیں تمہیں پتہ چل جائے گا ۔‘‘
’’ اچھا باتیں ہوتی رہیں گی ۔ چلیں پہلے فریش ہو جائیں ، پھر ڈنر لیتے ہیں۔‘‘ اس نے باہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ہم اس آ فس سے باہر آ گئے ۔
اس عمارت میں چلتے ہوئے یوں احساس ہو رہا تھا جیسے یہاں ہمارے علاوہ کوئی ہے ہی نہیں ہے ۔ کچھ ہی دیر میں ہم بالائی منزل پر جا پہنچے ۔ اس نے ہم دونوں کو ایک بیڈ روم کی طرف جانے کا کہا اور خود اندر کہیں چلی گئی ۔وہ ایک شاندار بیڈ روم تھا ۔وہاں جا کر ہم نے سکون کا سانس لیا ۔
ڈنر کے بعد ہم لائونج میں آ بیٹھے ۔ہمارے سامنے چائے کے مگ دھرے ہوئے تھے ۔ہمارے درمیان یونہی باتیں چل رہی تھیں کہ رابعہ نے کہا
’’علی تم کیا سمجھتے ہو ، عارف تمہیں یہاں کیوں لا یا ہے ؟‘‘
’’ میں کچھ نہیں جانتا ۔‘‘ میں نے سکون سے کہا
’’ تو پھر جان لو ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چندلمحے خاموش رہی پھر کہتی چلی گئی ،’’ تم ایک عالمی دہشت گرد تنظیم کی نگاہوں میں آ گئے ہو ۔وہ تمہارے ساتھ کیا کریں گے ، یہ تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن ان کا جو بھی نقصان ہوا ، اس کا بدلہ تو وہ ضرور لیں گے ۔‘‘
’’ آپ کہہ چکی ہو ؟‘‘ میںنے پوچھا
’’ مطلب ، کیا تم میری بات کو غلط سمجھ رہے ہو ؟‘‘ اس نے حیرت زدہ نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا تو میں بولا
’’میں ان کی نگاہوں میں آ گیاہوں اور یہاں آ کرچھپ گیا ہوں تو مطلب میرا زیادہ نقصان ہو نے والا ہے ، وہ جو میرے ماں باپ …‘‘
میرے یوں کہنے پر وہ ذرا سی مسکرا دی ، پھر ایک دم سے سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی
’’ بات وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو ،نہ ہم تمہیں یہاں چھپانا چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ مشورہ دیں گے کہ تم ان سے چھپ کر رہو ،بلکہ ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں کہ تم ان کا سامنا کرو ۔ جب سامنا کرو تب تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا واسطہ کن لوگوں سے پڑ گیا ہے ۔محض تین دن تمہیں یہاں رہنا ہے بس ۔ اس دوران ہم تمہیں بتائیں گے کہ آ ئندہ آ نے والے دنوں میں تمہارا سامنا کن لوگوں سے ہو نے والا ہے ۔‘‘
’’ معاف کرنا رابعہ ، میں کسی اسکواڈ کا حصہ نہیںبننے والا ۔ اگر کوئی میری جان لینا چاہتا ہے تو میں نے اس کا مقابلہ …‘‘ میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولی
’’ہم سب کسی نہ کسی ماں باپ کے بچے ہیں ، لیکن ہم اپنے وطن کے لئے لڑ رہے ہیں ۔تم کسی اسکواڈ کا حصہ نہ بنو ، لیکن اپنے دشمن کو تو پہچان لو ۔‘‘
’’ میں سمجھتا ہوں کہ …‘‘میں نے کہنا چاہا تو وہ پھر میری بات کاٹتے ہوئے بولی
’’ تم کچھ بھی نہیں سمجھ رہے ہو ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ سانس لینے کو رُکی پھر کہتی چلی گئی ،’’یونیورسٹی سے جب تم واپس اپنے گائوں چلے گئے تھے ،تب تک وہ تمہیں اپنے جال میں پھنسا چکے تھے ۔ وہ تمہیں اپنا مہرہ بنانے کافیصلہ کر چکے تھے ۔یاد کرو ، کتنے قتل کروائے تم سے ، اپنے ایک معمولی سے مہرے کے ہاتھوں ، آج تک تم اس کے حصار سے نہیں نکل پائے ہو ۔حالانکہ تم یہ سمجھتے ہو کہ اب ہر طرف چین ہے اور اب تمہارا کوئی دشمن نہیں بچا ۔‘‘
’’ تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ میںن ے پوچھا
’’ تم ہماری بات سنو تو میں تمہیں سب بتا سکتی ہوں ۔ جو چاہے سوال کرو ، میں تمہیں اس کا جواب دے کر مطمئن کروں گی ۔ ہر الجھن دور کروں گی ۔‘‘
’’ میں سن رہا ہوں ۔‘‘ میں نے اطمینان سے کہا ۔اسی دوران ایک سوچ میرے دماغ میں ابھری کہ عارف اب تک یوںکیوں خاموش بیٹھا ہوا ہے ۔ تبھی رابعہ بولی
’’سنو ، ان کے بچھائے ہوئے جال میں تم بڑے آ رام سے آ چکے تھے ۔انہوں نے تم سے وہی کام لینا تھا جو وہ پہلے چوہدری سردار سے لے رہے تھے ۔ چوہدری سردار اب ان کے لئے ناقابل برداشت ہو گیا تھا ۔ ایک گھاگ اور نوآ موز بندے کے درمیان فرق تم خوب سمجھ سکتے ہو لیکن تم ایک ایسے مہرے بن گئے جس نے الٹ کر انہیں شہ دے دی ۔ابھی انہیں مات نہیں ہو ئی ۔ اب بھی علاقے میں بچھی ہوئی بساط پر ان دیکھے مہرے موجود ہیں ۔وقت کا انتظار کریں گے اور …‘‘
’’تم ٹھیک کہتی ہو ، مجھے ان کا سامنا تو کرنا ہوگا ۔‘‘ میں نے کہا
’’ ہاں کرنا ہوگا ۔‘‘ وہ سکون سے بولی تو عارف گویا ہوا
’’ہر طرف ایک جال بچھا ہوا ہے ۔ تم اپنے گائوں میں رہو گے تو کب تک مزاحمت کرو گے ۔ میں تمہیں جتا نہیں رہا مگر حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ اگر میں نہ ہوتا ، یا میرے لوگ نہ ہوتے نا تو اب تک تم اُڑ چکے ہوتے ۔اب مجھے یہ فلسفہ مت سمجھاناکہ جو رات قبر میں ہو …‘‘
’’ تم بالکل ٹھیک کہتے ہو عارف ، میں تم سے پوری طرح متفق ہوں ۔مجھے اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے تحفظ چاہئے لیکن اس کے ساتھ اگر میں اپنے وطن کے بھی کچھ کر جائوں تو یہ میرے لئے بڑی بات ہو گی۔‘‘میں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو اس نے اطمینان کا سانس لیا ۔
’’ یہ بہت اچھی بات ہے کہ تم فوراً سمجھ گئے ہو ۔ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔‘‘ رابعہ نے کہا
’’ہم تمہارے نہیں … ہم سب ساتھ ہیں ۔‘‘ عارف نے کہا تو رابعہ مسکرا دی ۔اس نے سامنے پڑے مگ دیکھے ۔ہمارے درمیان پڑی چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔ تبھی وہ بولی
’’ نئی بنا لائوں ؟‘‘
’’ رہنے دو ، اب آ رام کرتے ہیں ۔‘‘عارف نے کہا تو ہم اٹھ گئے ۔ میری الجھن کافی حد تک دور ہو گئی تھی ۔
٭…٭…٭
میری آنکھ فون بجنے سے کھلی ۔ سائیڈ ٹیبل پر دھرا ہوا فون مسلسل بج رہا تھا ۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا تو اسکرین پر رابعہ کے نمبر تھے ۔ وقت دیکھنے پر احساس ہوا کہ ابھی دن نہیں نکلا ہے ۔ میں نے کال رسیو کرکے ہیلو کہا تو وہ بولی
’’ آ جائو نیچے ۔‘‘
’’ میں سو رہا تھا ۔ فریش ہو کر آ تا ہوں ۔‘‘ میں نے کہا تو وہ تیزی سے بولی
’’ ارے نہیں ، فریش ہو نے کا نیچے انتظام ہے بس تم آ جائو ، ابھی دستک ہو گی ، جو بھی ہو اس کے ساتھ آ جانا ۔‘‘
اس کے ساتھ ہی کال ختم ہو گئی ۔ میں اٹھا ہی تھا کہ باہر دستک ہو گئی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا ۔ اس نے ذرا سا سر جھکا کر مجھے وش کیا تو میں اس کے ساتھ چل دیا ۔
سیڑھیاں اترکر دو تین راہداریاں پار ک کرکے ہم ایک ہال میں آ گئے ۔ وہاں ایک بڑا سا سوئمنگ پول تھا ۔ہال کا درجہ حرارت گرم تھا ۔ سامنے رابعہ انتہائی مختصر لباس میں موجود تھی ۔ اس سے کچھ فاصلے پر سوئمنگ پول کے کنارے عارف بیٹھا ہوا تھا ۔میں جب ان کے پاس پہنچا تو رابعہ نے کہا
’’وہ سامنے والے کمرے میں جائو ، کپڑے بدلو اور شاور لے کر آ جائو ۔‘‘
میں نے ایک بار پھر پورے ماحول کا جائزہ لیا اور کمرے میں بڑھ گیا ۔کچھ دیر بعد واپس لوٹا تو ان دونوں کے علاوہ کچھ دوسرے لوگ بھی سوئمنگ پول میں تھے ۔ میں سوئمنگ پول کے کنارے آ یا اور اس میں ڈبکی لگا دی ۔ جیسے ہی میں ابھرا تو کسی نے مجھے پیچھے سے بڑی نرماہٹ کے ساتھ جکڑ لیا ۔ عارف اور رابعہ میری جانب دیکھتے ہوئے مسکرا رہے تھے ۔ میں نے اپنے سامنے کلائیوں اور نسوانی ہاتھوں کو دیکھا ۔ وہ گندمی رنگ کے تراشیدہ اور خوبصورت تھے ۔ میں نے انہیں نرمی سے تھاما اور آ ہستگی سے مڑ کر دیکھا ۔ میرے سامنے مکھ مل تھی ۔ بھیگی ہوئی لمبی زلفیں اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ صحرائی حسن میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔ وہ سینے تک پانی میں تھی ۔ اس نے سفید مہین کرتا پہنا ہوا تھا ۔وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر بولی
’’اب تو مجھ سے سڑاند نہیں آرہی نا ؟‘‘
’’ نہیں بالکل نہیں ؟ ‘‘ میں نے محسوس کرتے ہوئے کہا
’’پہلے بھی نہیں تھی ، وہ لوگوں سے خود کو بچانے کا ایک ’ٹوٹکا ‘ تھا ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو میں نے اس کی کلائیاں چھوڑتے ہوئے کہا
’’ تم فنکار ہو اور فنکار بڑا اثاثہ ہو تا ہے ۔‘‘
’’ اثاثہ کہیں نہ کہیں تو لٹایا جاتاہے نا ؟‘‘ اس نے ذو معنی انداز میں کہا اور مسکراتے ہوئے پیچھے کی جانب ڈبکی لگا دی ۔اتنی دیر میں عار ف اور رابعہ میرے قریب آ گئے ۔
’’کیسی لگی مکھ مل ؟‘‘ رابعہ نے کہا تو میں مسکرا دیا ۔ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ میں اگر ایک جال سے نکل آ یا ہوں تو ممکن ہے میں دوسرے جال میں پھنس جائوں ۔میں نے اپنے چہرے پر کوئی بھی تاثر نہ لاتے ہوئے کہا
’’ اچھا لگا ۔‘‘
’’ٹھیک ہے ، تم فریش ہو جائو ، پھر ناشتے پر ملتے ہیں ۔‘‘ اس نے کہا اور ڈبکی لگا دی ۔ میں نے لمحہ بھر کو سوچا اور پھر میں بھی پول میں تیرنے لگا ۔
ناشتے کی میز پر رابعہ ، عارف ، مکھ مل کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا بھی تھا ۔ اس کے بال لمبے تھے ۔ ہلکی ہلکی بھوری داڑھی اور مونچھیں تھیں ۔ رنگ بہت زیادہ سفید تھا ۔ آ نکھیں نیلی اور لمبے سے قد کا سمارٹ سا نوجوان پہلی نگاہ میں اچھا لگا تھا ۔ رابعہ نے اس کا تعارف کراتے ہوئے کہا
’’یہ منصور ہے ، اس کا تعلق شمالی علاقے سے ہے لیکن ہمارا بڑا پیارا اور خوبصورت ساتھی ہے ۔‘‘
’’ بہت خوشی ہوئی اس سے مل کر ۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا ۔ اس نے جب میرے ساتھ ہاتھ ملایا تو اس کا ہاتھ مجھے یوں لگا جیسے فولاد کا بنا ہوا ہو ۔ اس کے پہلے تاثر اور ہاتھ کی گرفت حیران کن تھی ۔میں نے اس کی آ نکھوں میں جھانکا تو وہاں انتہائی قسم کی معصومیت تھی ۔ وہ اندر سے بھی ایسا تھا یا وہ کمال کا اداکار تھا ، میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا۔ ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ چھوڑا تو مکھ مل نے اس کے ساتھ ہاتھ ملایا ، پھر عارف نے ۔ مطلب وہ پہلی بار ہم سب سے مل رہا تھا ۔ناشتے پر ایک دوسرے کے بارے میں یونہی باتیں کرتے رہے جیسے پہلی ملاقات میں ہوتا ہے ۔ تبھی رابعہ نے کہا
’’ منصور کا پہلا تعارف تو ایک پینٹر کا ہے ، کمال تصویریں بناتا ہے ۔ لیکن رنگوں سے کھیلنے والے ہاتھ جب تلوار تھام لیں تو کمال تلوار بازی کرتا ہے ۔‘‘
’’ صرف تلوار بازی…‘‘ میںنے جان بوجھ کر اپنا لہجہ طنزیہ بنایا تھا کہ وہ مسکراتے ہوئے بولا
’’ نہیں ، کھانا بھی اچھا بنا لیتا ہوں ، ادا کاری بھی کر لیتا ہوں اور محبت تو کمال کی کرتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا تو مجھے اچھا لگا ۔ اس نے اپنے رویے سے بتا دیا تھا کہ وہ اچھا دوست ثابت ہو سکتا ہے ۔ وہ کیا ہے یہ تو وقت آ نے پر پتہ چل سکتا تھا نا ۔
ہم لان میں آ بیٹھے تھے ۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔ ہمارے سامنے چائے کے مگ دھرے ہوئے تھے ۔ ایک مگ مزید تھا ممکن ہے رابعہ نے کسی کو بلایا ہو۔ میں نے اپنا مگ اٹھا یا اور چسکی لی ہی تھی کہ اچانک میرے سامنے ماہ نور آ گئی ۔ وہ ہماری جانب مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔ میں اسے دیکھتے ہوئے اٹھا تو بانہیں پھیلا کر میری جانب بڑھی ۔ مجھ سے مل کر وہ سب سے ویسے ہی ملی پھر منصور کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
’’ یہ رات ہی یہاں پہنچی ہے ۔ اسے کچھ وقت کے لئے تمہاری طرف بھیجا تھا لیکن اس وہاں کائی کام نہیں تھا ۔‘‘ رابعہ نے کہا تو میں سمجھ گیا ۔ وہ کیا شے ہو سکتی ہے ۔میں جب اس سے ملا تھا تبھی مجھے احساس ہو گیا تھا کہ وہ کیا ہو سکتی ہے۔ اس کا یقین مجھے اب ہو گیا تھا ۔ انہی لمحات میں ایک سوچ میرے اندر ابھری ۔ ہمارا یہاں ایک ساتھ جمع ہو نا محض اتفاق نہیں تھا ۔ رابعہ کے ذریعے ہمیں جو یہاں اکھٹا کیا جا رہا تھا ، اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تھی ۔ لیکن میں اس کا اظہار نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی ایسے کسی اظہار کا کوئی وقت تھا ۔تبھی میں نے رابعہ سے کہا
’’ رابعہ ، ویسے ایک کمی ہے یہاں ۔‘‘
’’ کیسی کمی … ‘‘ اس نے میری جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تو میں بولا
’’ارم یہاں ہوتی تو …‘‘ میں نے کہا ہی تھا کہ قہقہ لگا کر ہنس دی ۔ پھر خوشگوار لہجے میں بولی
’’ وہ کہتے ہیںنا کہ دل کو دل سے راہ ہو تی ہے ۔ ابھی کچھ دیر پہلے میری اس سے بات ہوئی تھی ۔ آ رہی ہے وہ ۔تمہاری ساری اداسی ختم ہ وجائے گی ۔‘‘
’’اس سے تو پکی یاری ہے نا ، آخر کلاس فیلو جو ہوئے ۔‘‘ عارف نے کہا اور قہقہ لگا دیا ۔
’’ کوئی نہیں ہم سے بھی ہو جائے گی یار ی ۔‘‘ منصور نے کہا تو عارف مسکراتے ہوئے بولا
’’ کچھ ہی دیر میں آ جائے گی ۔‘‘
پھر ہمارے درمیان انہی حالات پر باتیں چلنے لگیں ، جس دوران ہم ایک دوسرے سے ملے تھے ۔ارم سے ملاقات سے لے کے یہاں رابعہ کے پاس آ جانے تک بہت ساری نئی باتیں معلوم ہوئیں ۔ ان میں ایک بات بہت اہم تھی ۔
میں اور ارم ایک دوسرے کے کلاس فیلو تو تھے ۔شاید وہ میری جانب متوجہ نہ ہوتی اگر اسے مجھ پر توجہ رکھنے کے احکامات نہ ملتے ۔ یہ احکامات اس لئے ملے تھے کہ تَنّی میرے پاس آ نے جانے لگا تھا ۔ وہ پہلے ہی ان کی نگاہ میں تھا ۔ تَنّی وغیرہ میرے ساتھ گیم کھیلنے کی تیاری کر چکے تھے ۔ارم اور اس کے ساتھی ان سب کا اپنی نگاہوں میں رکھے ہوئے تھے ۔ بس یہیں سے کھیل شروع ہو گیا تھا ۔
ہم وہیں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ دور سے مجھے ارم آ تے ہوئے دکھائی دی ۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی ہماری طرف آ رہی تھی ۔ہم سب ہی اسے دیکھ رہے تھے ۔ وہ سیدھی میری جانب آ ئی ۔ میں نے اس کے لئے بانہیں پھیلا دیں ۔ وہ سیدھی میرے گلے لگ گئی ۔ اس کے ملنے میں وہ گرم جوشی تھی جس سے مجھے احساس ہو اکہ اس کے اندر کتنی شدت ہے ۔ وہ مجھ سے الگ ہو کر میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا
’’ کیسے ہو ؟‘‘
’’ میں ٹھیک ہوں ، تم بولو ۔‘‘ میں نے اس کی ناک کی پھنک پر انگلی رکھتے ہوئے کہا ۔ اس نے میرا ہاتھ تھام کر آ ہستگی سے کہا
’’ بڑی بے زار گزری ہے ۔‘‘
یہ کہتے ہی وہ دوسروں سے ملنے لگی ۔ہم کچھ دیر وہاں بیٹھے رہے تھے۔ رابعہ نے اپنے فون پر دیکھتے ہوئے کہا
’’ چلیں ، اب تھوڑا کام کی باتیں بھی کر لیں ۔‘‘
’’ کرو ۔‘‘ منصور نے کہا
’’ یہاں نہیں ، اندر ہال میں چلتے ہیں ۔‘‘ اس نے کہا اور اٹھ گئی ۔کچھ دیر بعد ہم ایک کانفرنس ہال میں تھے ۔ ہمارے بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد دو لوگ وہاں پر آ گئے تو گفتگو کا باقاعدہ آ غاز ہو گیا ۔ ہم سہ پہر تک وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔
٭…٭…٭
صبح کا اُجالا ابھی پھیلا نہیں تھا ۔ مشرقی اُفق پر سرخی نمودار ہو گئی تھی ۔ ہم کچھ دیر پہلے ہائی وے سے اتر کر ایک لنک روڈ پر چلتے چلے جا رہے تھے ۔ ہم ایک ہائی وین میں تھے ۔ ڈرائیور کے ساتھ منصور بیٹھا ہوا تھا ۔ درمیان میں مکھ مل ، ماہ نور اور ارم بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان کے بالکل پیچھے میں تھا ۔یہ علاقہ چکوال کے مضافات میں تھا ۔ پہاڑی سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔ ہمیں وہاں ایک ریسٹ ہائوس جانا تھا ۔ ہمارا مقصد کوئی سیر تفریح نہیں تھا ۔ بلکہ یہیں کہیں کچھ ایسے وطن دشمن سانپ نما غدار تھے ، جن کے شکار کے لئے ہم اس علاقے میں جارہے تھے۔ہمیں پوری معلومات دے دی گئی تھیں ۔
ظاہری طور پر ہم ایک ایسی فیملی نظر آرہے تھے جو سیر و تفریح کی غرض سے اس علاقے میں آئی ہو۔اور فیملی تھے یا نہیںلیکن ہمیں ایک فیملی کی صورت میں ہی آگے آنے والے حالات کا مقابلہ کرنا تھا۔
راستے میں بوریت دور کرنے کے لئے ماہ نور نے مکھ مل سے سر بکھیرنے کی فرمائش کر دی ۔سر تو جیسے پہلے ہی اس کی زبان پر مچل رہے تھے۔ ماہ نور کے چھیڑنے پر ہونٹوں سے باہر نکلے تو وین کے ساتھ ساتھ فضا میں بھی بکھرتے چلے گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس کی آواز میں بلا کا سحر تھا۔ آج ارم پہلی بار اس سحر کا شکار ہوئی تھی۔ وہ حیرت سے مکھ مل کو تکے جا رہی تھی۔مکھ مل کی آواز کسی ساز کی محتاج نہیں تھی اور آواز کے اتار چڑھائو کے ساتھ بیٹھے بیٹھے بھی اس کا بدن بل کھا رہا تھا۔
انہی سروں کے درمیان راستہ کیسے کٹا کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ایک پہاڑی موڑکاٹتے ہوئے اچانک ایک ہلکا سا دھماکہ ہوا۔ ڈرائیور نے اسٹیئرنگ پر قابو پاتے ہوئے بریک لگا دیئے جس کی وجہ سے وین بری طرح لہرانے لگی- نہ چاہتے ہوئے بھی ہم سب کی چیخیں سی نکل گئی تھیں‘ کیونکہ دوسری جانب گہری کھائی تھی جس میں گرنے کا مطلب اس دنیا سے الوداع ہونا تھا۔ ڈرائیور نے جیسے تیسے سنبھالا لیا اور گاڑی بیچ سڑک پر کھڑی غرا رہی تھی-
’’کیا مصیبت آگئی تھی… اس طرح بریک لگانے کا مطلب؟‘‘ منصور نے ڈرائیور کو ڈانٹتے ہوئے کہا
’’وہ سامنے اچانک سے کوئی جانور آگیا تھا۔‘‘ ڈرائیور نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا-
’’جانور…؟… لیکن ہمیں تو کوئی جانور نظر نہیں آیا۔‘‘ میں نے اپنی سانسیں بحال کرتے ہوئے کہا
’’آپ سب تو گانے میں مست تھے ،سامنے کا خیال تو صرف میں ہی رکھ رہا تھا۔‘‘ ڈرائیور بولا-
ارے تو جانور کہاں ہے- کیا اس نے کھائی میں کود کر خودکشی کرلی کیا-‘‘ ارم جھنجلا کر بولی-
’’اف خدایا… یہ سب کتنا خوفناک تھا۔‘‘ ماہ نور نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا-
میں نے کچھ کہنے کی بجائے نیچے اتر کر صورت حال کا جائزہ لینے کا سوچا۔ مجھے اترتا دیکھ کر ڈرائیور کے علاوہ باقی سب بھی نیچے اترنے لگے تھے۔منصور نے اترتے وقت ٹارچ بھی ساتھ لے لی تھی اور اب اسی ٹارچ کی روشنی میں ہم یہاں وہاں دیکھ رہے تھے-
’’وہ دیکھو…‘‘ مکھ مل ایک طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے چیخی۔
ہم سب نے اس کی انگلی کی سیدھ میں نیچے دیکھا تو سڑک سے کچھ نیچے ایک چٹان پر بکرا پڑا ہوا تھا جسے دیکھ کر سب نے سکھ کا سانس لیا اور واپسی کے لئے مڑ گئے- میں نے منصور کے ہاتھ سے ٹارچ لی اور اس کی روشنی میں وین کے اگلے حصے کا معائنہ کرنے لگا-
’’فکر نہ کریں، وین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔‘‘ منصور نے مجھے تسلی دیتے ہوئے آگاہ کیا-’’بکرا وین سے ٹچ ہوتے ہوئے نیچے جا گرا ہے، بس اتنی سی بات ہے۔‘‘
’’تو پھر وین پر بکر ے سے ٹکرانے کا کوئی نشان کیوں نہیں ہے۔‘‘ میں نے بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا
’’یہ ضروری تو نہیں ہے نا۔‘‘ ارم بولی
’’یار کوئی اچانک تمہاری وین سے ٹکرا کر سڑک سے نیچے جا گرتا ہے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ وین پر اس کا کوئی نشان نہ ہو۔‘‘ مجھے ابھی بھی کچھ تشویش ہو رہی تھی۔
’’تم کچھ زیادہ ہی شرلاک ہومز بننے کی کوشش نہیں کر رہے ۔‘‘ ارم نے مجھے گھورتے ہوئے کہا،’’اب ٹارچ بند کرو اور یہاں سے نکلنے کی کرو۔‘‘
یہ کہہ کر ارم نے وین کا دروازکھول لیا۔ لیکن میں اپنی تسلی کرلینا چاہتا تھا۔ اس لئے پلٹ کر اسی طرف آگیا جہاں نیچے بکرا موجود تھا۔ میں سڑک سے نیچے اترنے لگا تو منصور سے نہ رہا گیا۔
’’ارے بھائی رہنے دو… مردہ جانور کا گوشت حرام ہوجاتا ہے۔ اب وہ ہمارے کسی کام کا نہیں رہا…‘‘
میں اس کی بات کو ان سنی کرتا ہوا سڑک سے نیچے اتر گیا۔ باقی لوگ وین کے پاس ہی رک کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔میں سنبھلتے ہوئے چٹان تک پہنچا کیونکہ ذرا سی لغزش بھی مجھے ہزاروں فٹ نیچے پہنچا سکتی تھی۔
ٹارچ کی روشنی میں‘میں نے بکرے کو اتھل پتھل کے دیکھا اور جب میںنے اپنے شک کو حقیقت میں بدلتے دیکھا تو میری آنکھوں کی چمک اور بڑھ گئی۔ جو میں چاہتا تھا وہ لے کر اوپر آگیا۔
’’لگتا ہے تمہیں کچھ مل گیا ہے؟‘‘ ارم میرے چہرے کے تاثرات کو سمجھتے ہوئے بولی
میں نے خاموشی سے ٹارچ کا رخ اپنی چٹکی میں دبی ہوئی چیز کی طرف کر دیا۔ سب کی متجسس نگاہیں میری چٹکی پر جم کر رہ گئیں۔ ایک چھوٹی سی گولی میری چٹکی میں دبی ہوئی تھی
’’بلٹ…؟‘‘ ماہ نور بے ساختہ بولی
’’تو یہ کون سی انوکھی بات ہے؟‘‘ ارم نے کہا
میں نے اس کی طرف دیکھ کر ماتھے پر ہاتھ مارا۔’’پتہ نہیں کس احمق انکل نے تمہیں اس فورس میں بھرتی کیا ہے۔‘‘
’’واقعی یہ سوچنے کی بات ہے-‘‘ منصور کسی حد تک معاملے کی تہہ تک پہنچ چکا تھا۔
’’یعنی تم بھی یہ کہنا چاہتے ہو کہ مجھے اس فورس میں لانے والا احمق تھا-‘‘ ارم نے غصے سے منصور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
’’نن… نہیں… میرا مطلب تھا کہ بلٹ واقعی سوچنے والی بات ہے۔‘‘ منصور ہڑبڑا کر بولا-
’’کیا تمہاری موٹی عقل میں اتنی سی بات نہیں آرہی کہ ایک بکرے پر گولی کون چلاتا ہے؟‘‘ میں نے رومال سے گولی پکڑ کر اسی میں لپیٹ کر جیب میں رکھ لی۔
میری بات سن کر ماہ نور اور ارم کے ہونٹ سیٹی بجانے کے انداز میں سکڑ گئے۔میں وین کی طرف بڑھا۔
’’لیکن ہم میں سے کسی نے بھی گولی چلنے کی آواز نہیں سنی۔‘‘ منصور فکریہ انداز میں کہتے ہوئے گردن گھما کر پہاڑی کی طرف دیکھنے لگا۔
تو پھر…؟‘‘ اب ارم کے لہجے میں بھی تشویش جھلکنے لگی تھی
میری ٹارچ کا رخ وین کی طرف ہی تھا- تب مجھے اچانک سے ٹھٹک جانا پڑا۔
’’اب کیا دیکھ لیا…؟‘‘ مکھ مل بولی جو کافی دیر سے خاموش ہماری باتیں سن رہی تھی
’’کچھ نہیں… چلو وین میں بیٹھوکیا ساری رات یہیں کھڑے گزارنی ہے۔‘‘ میں اپنے لہجے میں بشاشت لاتے ہوئے بولا- اس کا اثر یہ ہوا کہ سب کے ذہنوں پر جو بوجھ چھایا ہوا تھا کچھ ہلکا پڑنے لگا۔
٭…٭…٭
ریسٹ ہائوس کے چوکیدار کو ہمارے آنے کی اطلاع پہلے سے کر دی گئی تھی- اس لئے اس نے ہمارے لئے کمرے تیار رکھنے کے ساتھ ساتھ کھانے کا بندوبست بھی کر رکھا تھا اور اس وقت ہم سب لائونج میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔
’’اچھا اب بتائو… تم نے کیا دیکھا؟‘‘ ارم میری آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی۔
’’کب … کہاں…؟‘‘ میں نے انجان بنتے ہوئے کہا- حالانکہ میں سمجھ چکا تھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔
’’میں تمہیں اچھی طرح جانتی ہوں اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو۔ اس لئے یہ اوورایکٹنگ کرنا بند کرو اور بولنا شروع کر دو-‘‘ ارم حتمی لہجے میں بولی تومیں نے گہری سانس لے کر کندھے ڈھیلے چھوڑ دیئے۔
’’اگر کچھ تھا تو ہمیں بھی اس کا علم ہونا چاہئے۔ ایسے ہی تاریک راہوں میں مارے جانے کا کیا فائدہ۔‘‘ ماہ نور بھی ارم کی ہمنوا بن چکی تھی- مکھ مل نے کوئی لب کشائی نہیں کی جبکہ منصور میرے بولنے کا منتظر تھا۔
’’یوں سمجھو کہ ہم تاریک راہوں میں مارنے جانے سے بال بال ہی بچے ہیں-‘‘ میری آنکھوں کی چمک بڑھ چکی تھی۔
’’کھل کر کہو… بس یہ سمجھو کہ ہم ننھے منے بچے ہیں جن کو مشکل سے سمجھانا پڑ رہا ہے۔‘‘ ارم نے ایزی چیئر کی پشت گاہ سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
میں نے سب کو باری باری دیکھا۔ ’’جو گولی بکرے کے بدن سے نکلی ہے وہ دراصل ہم پر چلائی گئی تھی۔‘‘سب ایسے اچھلے جیسے میں نے کوئی بم پھوڑ دیا ہو۔
’’کک کیا…؟‘‘ منصور نے حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا، ’’ہم پر…؟‘‘
’’یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘ ماہ نور کو بھی یقین نہیں ہو رہا تھا
’’کھانے میں تو ایسا کچھ نہیں تھا جس کے بعد بندہ بکرے کے ساتھ گھاس چرنے چلا جائے۔‘‘ ارم نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہا
’’تم جانتی ہو کہ مجھے فضول باتوں سے کتنی چڑ ہے۔‘‘ میں نے اسی پرسکون لہجے میں اسے لتاڑا۔ مکھ مل ہماری باتوں سے بے نیاز اپنی چائے ختم کرکے کپ میز پر رکھ رہی تھی، ’’تم کچھ نہیں کہو گی…؟‘‘
’’نہیں… کیونکہ آپ جیسا شخص جب اتنی بات کہے گا تو کسی ثبوت کی بناء پر ہی کہے گا۔‘‘ مکھ مل کی آواز میں کافی اعتماد جھلک رہاتھا-
’’یہ بات…سنا تم سب نے… اور رہی بات ثبوت کی تو آئو میرے ساتھ۔‘‘ میں اٹھتے ہوئے بولا۔وہ چاروں بھی بغیر کچھ کہے میرے ساتھ اٹھ گئے۔’’منصور تم ٹارچ لے آئو-‘‘ میری بات سن کر منصور اندر کے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور ہم سب باہر کی جانب۔
باہر آکر میں وین سے ٹیک لگا کر پرسکون انداز میں سیٹی بجانے لگا- ارم مجھے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے ابھی کچا کھا جائے گی-لیکن کچھ بولی نہیں۔ اتنے میں منصور ٹارچ لے آیا۔ میں نے اس کے ہاتھ سے ٹارچ لے کر اس کی روشنی کا رخ وین کی چھت پر لگے کیریئر کی طرف کر دیا اور ان سب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’تو تم اندر سے ہم سب کو وین کا یہ کیریئر دکھانے لائے ہو-‘‘ ماہ نور بھی بھڑک اٹھی تھی لیکن ماہ نور اور منصور دونوں ہی سمجھ چکے تھے کہ میں ان کو کیا دکھانا چاہتا ہوں- مکھ مل خاموشی سے اپنی حیرت کا اظہار کر رہی تھی-
’’اوہ مائی گاڈ-‘‘ منصور جلدی سے بولا، ’’اس طرف تو دھیان ہی نہیں گیا مگر یہ سب کیسے؟‘‘
’’منصور اگر تم سمجھ چکے ہو تو میں تمہیں آرڈر دیتی ہوں کہ جلدی سے ہمیں بھی بتا دو۔ یقین کرو میں ابھی بھی نہیں سمجھ پا رہی ہوں۔‘‘ ارم نے تحکمانہ انداز میں کہا-
’’اور نہ ہی میں۔‘‘ ماہ نور بولی
منصور نے بغیر کچھ کہے اپنی انگلی کیریئر کے اینگل پر رکھ دی۔ جہاں رگڑ کا نشان اور اینگل کچھ دبا ہوا تھا۔
میں نے اپنی جیب سے گولی نکال کر سب کے سامنے کر دی۔ ’’غور سے دیکھو اس گولی کا خول پھٹا ہوا ہے جیسے یہ کسی سخت چیز سے ٹکرایا ہوا۔‘‘
میری بات کا مطلب سمجھ کر ارم اور ماہ نور کی آنکھوں کے دیدے پھیل گئے اور وہ بے یقینی سے مجھے دیکھنے لگیں۔
’’اب بھی کوئی شک ہے کہ وہ گولی ہم پر نہیں چلائی گئی تھی-‘‘ میں نے گولی دوبارہ رومال میں لپیٹ کر جیب میں رکھ لی۔’’گولی کیریئر کے اینگل سے ٹکرانے پر گولی کا رخ بدل گیا اور اتفاق سے عین اسی وقت جنگلی بکرا بھی وین کے سامنے آگیا- رخ بدلنے سے بکرا اس اندھی گولی کا شکار بن گیا۔‘‘
ارم بے چین ہوکر ٹہلنے لگی۔ ’’گولی کی آواز نہیں آئی۔ سائلنسر لگا ہوگا… مگر ہم… اور ہم میں سے بھی کون؟‘‘
’’ہم میں سے کوئی بھی نہیں۔‘‘ میں نے اسی سکون سے کہا تو ارم پھر تپ کر رہ گئی- اور مجھے بھی حیرت ہو رہی تھی کہ وہ ارم جو بال کی کھال نکال لیتی تھی اور جس کی دوراندیشی کی میں داد دیتا تھا اتنی موٹی موٹی باتیں کیسے نظرانداز کر رہی ہے۔
’’تو پھر نشانہ کیا کیریئر کو زخمی کرنے کے لئے لگایا گیا تھا-‘‘ وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر میرے سامنے کھڑی ہوگئی
’’گولی چلانے کا کوئی مقصد تو ہوگا نا۔‘‘ ماہ نور بھی اس کے برابر میں آکر کھڑی ہوگئی۔
’’ظاہر ہے بغیر کسی مقصد کے گولی کون ضـائع کرتا ہے۔‘‘ میں ابھی بھی ان دونوں کی کوڑھ مغزی پر کڑھ رہا تھا۔
’’اور مقصد تھا ہمیں خوفزدہ کرنا-‘‘ منصور نے یہ کہہ کر داد طلب نظروں سے میری طرف دیکھا-
’’شاباش…‘‘ میں نے داد دینے میں کنجوسی نہ کرتے ہوئے کہا،’’اور یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی ہمیں خوفزدہ کیوں کرنا چاہتا ہے یا چاہتی ہے؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے ارم اور ماہ نور کی جانب دیکھا۔
ارم اور ماہ نور کے چہرے پر تفکر کے سائے گہرے ہو چلے تھے۔ ’’ہم نے تو حتی الامکان کوشش کی تھی کہ ہمارا یہاں کا ٹور سیکرٹ ہی رہے۔‘‘
’’قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں اور جرم کے پائوں۔‘‘ منصور شوخ لہجے میں بولا-
’’مگر وہ کون ہو سکتے ہیں؟‘‘ ماہ نور الجھتے ہوئے بولی-
’’اور کون…؟… وہی جن کی تلاش میں ہم یہاں آئے ہیں-‘‘ میں نے اندر کی جانب پلٹتے ہوئے کہا- باقی سب بھی میرے پیچھے آنے گے۔
’’تو کیا آج کی رات ہمارے لئے کچھ مشکلات ہوسکتی ہیں-‘‘ ارم کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
’’آج رات کچھ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن صبح ہم اس اسپاٹ پر جاکر دیکھیں گے جہاں سے ہم پر گولی چلائی گئی تھی-‘‘ میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا
٭…٭…٭
صبح ناشتے کے بعد ہم سب اس پہاڑی پر موجود تھے جہاں سے ہم پر متوقع طور پر فائر کیا گیا تھا۔ ایک جانب کچھ کھڈے کھدے ہوئے تھے جیسے یہاں پر خیمے نصب کئے گئے ہوں اور درمیان میں راکھ کا ڈھیر تھا جس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگلی جانوروں سے بچنے کے لئے آگ جلائی گئی تھی۔ جوتوں کے نشان سے لگتا تھا کہ کوئی تین افراد تھے اور ان تین میں سے ایک لیڈیز سینڈل کا نشان تھا۔
’’اسپاٹ تو دیکھ لیا… اب کیا کریں۔‘‘ ارم دونوں ہاتھ کولہے پر ٹکائے کھڑی تھی۔
’’مشن اسٹارٹ کرتے ہیں اور کریں گے۔‘‘ میں نے محسوس کیا تھا کہ یہاں کی آب و ہوا میں میرے لہجے میں شوخی کا عنصر کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا۔
اس سے پہلے کہ کوئی اور سوال کرتا میں واپسی کے لئے پلٹ چکا تھا۔ پہاڑی سے نیچے اترتے ہوئے میرا موبائل شور مچانے لگا۔ بابا کی کال تھی۔
’’ہیلو… جی بابا۔‘‘ میں نے سلام کے بعد کہا-
’’علی یہاں صورتحال بگڑتی جا رہی ہے- لگتا ہے کہ افضل سردار سکون سے الیکشن نہیں ہونے دے گا۔‘‘ بابا کے لہجے میں لرزش تھی اور یہ لرزش اس وجہ سے نہیں تھی کہ وہ صورت حال سے ڈر گئے تھے- بلکہ میں جانتا تھا کہ انہیں صرف یہ خوف تھا کہ ان حالات میں اکبر بھائی کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔اتنے سالوں بعد تو رشتوں کی یہ دوریاں ختم ہوئی تھیں۔ اب وہ مزید دوریاں برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
’’آپ فکر نہ کریں بابا۔‘‘ میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا- ’’میں ابھی کوئی بندوبست کرتا ہوں- آپ کو گھبرانے کی کوئی بات نہیں… اور ہاں اکبر بھائی کی الیکشن کمپین کیسی چل رہی ہے؟‘‘
’’کمپین تو بہت اچھی چل رہی ہے… اور جو ریسپونس مل رہا ہے اس کے مطابق ہر کوئی جان چکا ہے کہ جیت اکبر کا مقدر بن چکی ہے۔‘‘ بابا کے لہجے سے تشویش کی لہر کافی حد تک کم ہوچکی تھی۔
میں نے بابا سے چند اور باتیں کیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اس کے بعد لائن کاٹ کر عارف کو کال ملا کر اسے ساری سچویشن بتا دی۔ عارف نے مجھے مطمئن کردیا کہ وہ سب دیکھ لے گا ٹینشن کی کوئی بات نہیں-عارف کی باتوں سے مطمئن ہونے کے باوجود مجھے کچھ انہونی ہونے کا احساس ہونے لگا تھا جس کی وجہ سے میرا چہرہ ایک دم ستا ہوا لگ رہا تھا- ارم غور سے میری جانب دیکھ رہی تھی۔
’’جب عارف نے کہہ دیا ہے کہ وہ دیکھ لے گا تو پھر اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ ارم میرا بازو تھامتی ہوئی بولی
’’تم تو جانتی ہو کہ ہمارے خاندانی حالات کیسے رہے ہیں- اگر ذرا سی بھی اونچ نیچ ہوگئی تو سارا الزام میرے اور بابا کے سر لگ جائے گا کہ ہم نے دکھاوے کا پیار جتا کر اکبر بھائی کو قربانی کا بکرا بنایا۔‘‘میں نے اپنے وسوسوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’کچھ نہیں ہوگا…ہم لوگ ہیں نا تمہارے ساتھ۔‘‘ دوسری جانب سے ماہ نور نے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا
میں نے ایک مسکراہٹ دونوں کی جانب اچھالی مگر اس مسکراہٹ کا پھیکا پن دونوں بخوبی محسوس کر رہی تھیں۔
ہم اپنی وین کے پاس پہنچ چکے تھے جب فضا میں جانی پہچانی گڑگڑاہٹ پھیلی اور ٹھیک اس جگہ بجلی گری جہاں تھوڑی دیر پہلے ہم کھڑے اسپاٹ کا معائنہ کر رہے تھے۔
’’اف… بھگوان کی کرپا سے ہم بال بال بچے ہیں۔‘‘ مکھ مل کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔
’’واقعی … اگر اس وقت ہم وہاں موجود ہوتے تو؟‘‘ ماہ نور نے ایک جھرجھری لے کر بات ادھوری چھوڑ دی
’’میرا خیال ہے کہ اگر ہم سارا دن بھی وہاں موجود رہتے تب بھی کچھ نہ ہوتا‘‘ منصور نے ساری صورت حال کو سمجھتے ہوئے وہی بات کی جو میرے دل میں بھی ابھر رہی تھی۔
’’یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو… دیکھا نہیں بس چند ہی لمحوں کا فرق ہے۔‘‘ ماہ نور بھی بحث کرنے پر تلی ہوئی تھی-
’’منصور ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘‘ میں نے منصور کی تائید کی تو ان کی توجہ کا رخ میری طرف مڑ گیا۔ یہ سب ہمیں مارنے کے لئے نہیں بلکہ جتانے کے لئے کیا گیا ہے کہ ہم ہر وقت ان کے نشانے پر ہیں اور وہ جب چاہیں ہم پر حملہ کر سکتے ہیں۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے کہ وہ اس وقت بھی ہمیں دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ ارم چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہوئے بولی
’’ہاں… کہہ سکتی ہو۔‘‘ مجھے بھی یہی اندیشہ تھا
’’مگر… یہاں کہیں سی سی ٹی وی کیمرے نظر نہیں آرہے۔‘‘ ماہ نور نے اپنا خیال ظاہر کیا-
’’تم اتنی بڑی آرگنائزیشن سے وابستہ ہوکر بھی ایسی بچوں جیسی باتیں کیوں کر رہی ہو۔‘‘ میں نے ماہ نور کو جھاڑتے ہوئے کہا، ’’آج ٹیکنالوجی کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے اور تم سی سی ٹی وی کیمرے ڈھونڈ رہی ہو۔‘‘
’’ماننا پڑے گا کہ تم نے بہت کم وقت میں بہت زیادہ جان لیا ہے۔‘‘ ارم تعریفی لہجے میں بولی-
’’اس ساری بیماری کے پیچھے کوئی بہت بڑا دماغ نظر آرہا ہے-‘‘ مکھ مل نے رائے دیتے ہوئے کہا
’’سو تو ہے… اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دماغ میں اور کیا کیا خناس بھرا ہوا ہے ،لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جو کچھ ہو رہا ہے میرے ملک کی سالمیت کے خلاف ہو رہا ہے۔‘‘
’’ہمارے سائنسدان جس چیز کی تھیوری پر کام کر رہے ہوتے ہیں یہ اسے بنا کر ہمارے سروں پر مسلط بھی کر چکے ہوتے ہیں۔‘‘ منصور بولا۔
’’وہ سب کچھ بنا سکتے ہیں… مگر عزم اور حوصلہ کسی سائنس کا محتاج نہیں ہے… جس دن یہ سارا مایا جال پھیلانے والے کی گردن میرے شکنجے میں آئی اسے چوہے کی طرح بے بس کرکے ماروں گا۔‘‘ میرے لہجے میں دنیا جہاں کی وحشت بھری ہوئی تھی۔
’’اف توبہ… یہ کہتے ہوئے تو تم بالکل وحشی لگ رہے ہو۔‘‘ ماہ نور کے لہجے میں تھرتھری تھی۔
’’لیکن چوہے کی طرح ہی کیوں؟‘‘ ارم مزہ لیتے ہوئے بولی
’’جس نے بھی یہ کھیل شروع کیا ہے وہ کسی چوہے کی طرح بل میں چھپا بیٹھا ہے۔اگر مرد ہوتا تو سامنے آکر للکارتا۔‘‘ میرے اتنا کہتے ہی ہم سے تھوڑے ہی فاصلے پر بجلی گری اور وہاں پڑی پتھر یلی چٹان راکھ میں تبدیل ہوچکی تھی۔ یہ دیکھ کر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
اس کے بعد ہم نے کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے واپس ریسٹ ہائوس کی طرف آگئے۔
دوپہر کے کھانے کے بعد جب ارم نے پوچھا کہ اب کیا ارادہ ہے تو میں نے ان سب کو اپنے روم میں آنے کا اشارہ کیا
جب سب میرے کمرے میں آچکے تو میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے سب کو خاموش رہنے کا کہا اور ایک پیپر نکال کر اس پر لکھنے لگا۔
’’ہم یہاں لکھ کر بات کریں گے… کیونکہ وہ جو بھی ہے نہ صرف آس پاس پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ ہماری گفتگو تک سن رہا ہے۔‘‘
یہ لکھ کر میں نے سب کے سامنے کر دیا۔ یہ دیکھ کر ارم نے کاغذ اپنی طرف کھسکا کر لکھا۔
’’تو اس کا مطلب ہے کہ تم نے وہاں جان بوجھ کر اس کو للکارا تھا تاکہ تمہارا یہ شک یقین میں بدل جائے کہ وہ ہماری باتیں سن رہا ہے۔‘‘
میں نے پڑھ کر ہاں میں گردن ہلا دی۔
’’میرے خدا…‘‘ ماہ نورنے لکھا، ’’میںنے خود کو اتنا لاچار کبھی محسوس نہیں کیا۔یہ تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم خود چل کر موت کے منہ میں آگئے ہیں۔‘‘
’’ایسا ہی ہے… مگر وہ جو بھی ہے تھوڑا شیخی خورہ بھی ہے۔ ہمیں اس طرح بے بس دیکھ کر وہ اپنی ٹیکنالوجی پر اترا رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ میں نے جواب لکھا۔
’’یعنی ہم مر تو سکتے ہیں پر اس کی پناہ گاہ تک نہیں پہنچ سکتے کیونکہ وہ ہمیں راستے میں ہی شکار کر چکا ہوگا۔‘‘ منصور نے اپنی تشویش کا اظہار کیا-
’’وہ ہمیں ترنوالہ سمجھ کر کھیل رہا ہے۔ یہ تو ابتدائی ٹیسٹ ہیں… آگے چل کر وہ نہ جانے کیا سے کیا کرجائے۔‘‘ ارم کی تشویش بجا تھی۔ اگر ایسا ہوجاتا تو میرے ملک کی ہر خفیہ جگہ دشمن کی نظر میں ہوتی۔
’’اس طرح تو ہم کبھی ان کی کمین گاہ تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘ ماہ نور نے لکھا۔
تھوڑی دیر کے لئے کمرے میں خاموشی چھا گئی، جیسے کسی کی سمجھ میں ہی نہ آرہا ہو کہ اس سچویشن کو کیسے ہینڈل کیا جائے۔ہم سب پوری طرح سے دشمن کی نظروں میں تھے اور مجھے یہ بھی یقین تھا کہ وہ آسانی سے ہمیں یہاں سے نکلنے بھی نہیں دیں گے-
’’کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔کیا ہم سارا وقت یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے ریسٹ ہائوس میں پڑے رہیں گے۔‘‘ ارم نے اپنا خیال لکھا اور جیب سے موبائل نکال لیا۔
’’اوہ شٹ-‘‘ کمرے میں ارم کی آواز گونجی- ہم سب اس کی طرف دیکھنے لگے- اس نے موبائل کی اسکرین ہمارے سامنے کر دی جس پر سگنلز غائب تھے۔
ہم سب نے بھی اپنے اپنے موبائل نکال کر دیکھے۔کسی بھی نیٹ ورک کے سگنلز نہیں آرہے تھے۔
’’باہر جب تم نے بابا سے اور پھر عارف سے بات کی تھی تب تو سگنلز آرہے تھے-‘‘ ماہ نور نے لکھ کر کہا
’’ہاں… مگر اب نہیں… یعنی قدم قدم پر وہ ہمیں احساس دلا رہا ہے کہ ہم اب اس کے رحم و کرم پر ہیں- نہ اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں او ر نہ ہی کسی کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتے ہیں-‘‘
’’وہ ہم سے چوہے بلی کا کھیل کھیل رہا ہے۔‘‘
’’اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کھیل میں چوہا بلی پر بھاری پڑتا ہوا نظر آرہا ہے- جیری کی طرح جو عموماً ٹام پر بھاری پڑتا ہے۔‘‘
’’کیا وہ کمرے کے اندر کی کارروائی بھی دیکھ رہا ہوگا کہ ہم لکھ کر ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ نہیں،ورنہ اب تک وہ اپنی موجودگی کا احساس دلا چکا ہوتا۔‘‘
’’مگر اسے تشویش تو ہورہی ہوگی کہ ہم اتنی دیر سے خاموش کیوں ہیں؟‘‘
مجھ سے یہ صورت حال برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے کبھی خود کو اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا، تھانے، سلطان اور چوہدری سردار کے سامنے بھی نہیں مگر یہ جو بھی ہو اس بات کا تو پکا ثبوت تھا کہ اس علاقے میں ان کا مضبوط نیٹ ورک موجود تھا اور یہ پورا علاقہ ان کے رحم و کرم پر تھا۔ میں بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔
اسی اثناء میں باہر رہ رہ کر بجلی گرنے کی آوازیں آنے لگیں۔شاید ہماری خاموشی نے ہمارے نگراں کو بھی تپا کر رکھ دیا تھا اور وہ جاننے کے لئے بے چین تھا کہ ہمارا اگلا قدم کیا ہوسکتا ہے۔
ریسٹ ہائوس کا چوکیدار گھبرایا ہوا اندر داخل ہوا
’’صاحب آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے مگر بار بار بجلی گر رہی ہے۔ ہم کو بہت ڈر لگ رہا ہے صاحب۔‘‘
’’کوئی بات نہیں ایسا ہوتا رہتا ہے‘ تم ڈرو مت۔‘‘ میں نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔
’’صاحب ہم اتنا عرصہ سے یہاں خدمت کر رہا ہے۔ کبھی کبھی بجلی گرتا ہوا دیکھا ہے۔ مگر اس طرح بار بار… لگتا ہے ہم لوگ میں کوئی بہت گناہ گار بندہ موجود ہے اور قدرت اس کو سزا دینا چاہتی ہے۔‘‘ چوکیدار نے مسئلے کو کہیں سے کہیں جوڑتے ہوئے کہا۔
اب اس بیچارے کو کیا پتہ کہ یہ بجلی قدرت کی نہیں بلکہ سائنس کی پیدا کردہ تھی۔
’’بجلی کو گرنے دو تم جاکر ہم سب کے لئے چائے بنا کر لائو۔‘‘ منصور نے اس کا دھیان بٹانے کی غرض سے کہا۔
’’صاحب کچھ ہوگا تو نہیں نا؟‘‘ چوکیدار کا ڈر ابھی بھی قائم تھا۔
’’ارے کہا نا کچھ نہیں ہوگا۔ اب تک تم کو کوئی نقصان پہنچا ہے کیا اس بجلی سے۔‘‘ ارم چڑ کر بولی۔
’’نہیں ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا ہے لیکن اگر یہ بجلی ریسٹ ہائوس پر گری تو…؟‘‘ چوکیدار کی اس بات کا جواب ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں تھا، کیونکہ واقعی اگر ایسا ہوجاتا تب بھی ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
’’ریسٹ ہائوس پر گرنا ہوتی تو کب کی گر چکی ہوتی۔اب تم جائو چائے بنا کر لے آئو، بحث مت کرو۔‘‘ ماہ نور نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
چوکیدار نے ایک نظر ہم پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
چوکیدار کے جانے کے بعد ہم سب دوبارہ اپنی اپنی سوچ میں ڈوب گئے۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ بہت جی دار تھے۔ لڑنا بھڑنا ہمارے لئے معمول کی بات تھی مگر ایسے انجان دشمن سے لڑناجو ہماری نظروں سے تو اوجھل ہو لیکن ہماری ایک ایک حرکت اس کی نظر میں ہو… اس سے لڑنے کے لئے جی داری کی نہیں عقل کی ضرورت تھی۔
یہ بات تو طے تھی کہ اگر کوئی آکر ہمیں بتا بھی دیتا کہ ان کا ٹھکانہ فلاں جگہ پر ہے تب بھی ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے تھے۔ بلکہ اس سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے ہمارا ٹکٹ کاٹ سکتا تھا۔
مگر وہ ترکیب کیا ہوسکتی تھی جس پر عمل کرکے ہم اچانک اس کے سر پر پہنچ سکتے تھے۔
ہم سب نے ایک پیپر پر اپنی اپنی ترکیبیں لکھنا شروع کردیں مگر کوئی بھی قابل عمل نہیں تھی۔ بیزار ہوکر میںنے کاغذ کا گولہ بنا کر ایک کونے میں پھینک دیا اور کمرے سے باہر آگیا۔
برآمد سے میں آکر میں نے آسمان کی طرف نظر دوڑائیں ۔آسمان بالکل صاف تھا اور کہیں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آرہا تھا۔مگر میں جانتا تھا کہ ہمارا دشمن بادلوں کا محتاج نہیں تھا۔اس چھوٹی سی کارروائی سے مجھے دجال کے فتنے کا اندازہ ہونے لگا کہ جب اس کے محض کارندے اتنا کچھ کرنے پر قادر ہیں تو دجال خود کتنا بڑا فتنہ ہوگا۔ جو موسموں تک پر دسترس رکھتا ہوگا۔
اس بات پر مجھے کوئی شک نہیں تھا کہ یہ سب ایلومیناٹی ایجنڈ کے تحت ہو رہا تھا اور شاید صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں ایسے کئی پسماندہ ملکوں میں اس طرح کے تجربات کئے جا رہے ہوں گے۔
میں برآمدے پڑی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے دماغ میں سوچوں کا بھنور چل رہا تھا۔ ابھی پچھلے سالوں میں کراچی اور بھارت کے کئی شہروں میں ہیٹ اسٹروک کی لہر چل پڑی تھی جس نے ہزاروں لوگوں کی جان لے لی تھی۔ کوئی شک نہیں تھا کہ یہ موسمی نہیں بلکہ انسانی دماغ کا کھیل تھا۔ ایک سائنسدان کا یہ بیان تو ریکارڈ پر بھی آچکا تھا کہ ہم نے افریقی نسل کو ختم کرنے کے لئے وہاں ایڈز کا وائرس پًھیلایا جو بعد میں پوری دنیا کے لئے مصیبت بن گیا-۔نئی نئی قسم کے مچھروں کی افزائش اور ان کے ذریعے نت نئے وائرس دنیا میں پھیلائے جا رہے تھے۔
اس سے کئی مقاصد حاصل کئے جا رہے تھے۔ ایک تو یہ کہ دیگر اقوام کو بیماریوں میں مبتلا کرکے ناکارہ کر دینا اور دوسرا فائدہ یہ کہ پھیلائے گئے وائرس کی اینٹی وائرس دوائوں کے ذریعے اربوں ڈالر کمانا اور وہ اپنے اس مقصد میں سو فیصد کامیاب نظر آرہے تھے۔
میں اپنی انہی سوچوں میں گم تھا کہ مجھے ایک بوڑھا سائیکل سوارریسٹ ہائوس کی جانب بڑھتا ہوانظر آیا۔ لبادے سے ہی غریب آدمی معلوم ہو رہا تھا۔ قریب آکر اس نے سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور مجھے سلام کیا۔
’’مجھے عبدالرشید سے ملنا ہے۔‘‘ بوڑھے نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
عبدالرشید…؟… ایک لمحے کو تو میں سمجھ نہ سکا پھر مجھے خیال آیا کہ عبدالرشید ریسٹ ہائوس کے چوکیدار کا نام تھا۔ میں نے کوئی بات کئے بغیر اندر کی طرف اشارہ کر دیا اور وہ دوبارہ مجھے سلام کرتا ہوا اندر چلا گیا۔
میں کافی دیر تک باہر بیٹھا اس صورت حال سے نمٹنے کی ترکیبیں لڑاتا رہا۔ اس دوران اندر سے کوئی بھی نکل کر باہر نہیں آیا۔ شاید وہ سب بھی اپنی اپنی جگہ سوچوں میں الجھے ہوئے تھے۔پھر عبدالرشید نے ہی آکر مجھے کھانے کے لئے بلایا تو احساس ہوا کہ میں کافی دیر سے بھوک برداشت کر رہا تھا۔
کھانے کی میز پر بھی ہم سب خاموش تھے۔کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔
’’میرا خیال ہے میں شہر جاکر کچھ معلومات کرتا ہوں۔‘‘ منصور نے ہلکی آواز میں مجھے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ مجھے یہ اندازہ تو تھا کہ دشمن ہمیں یہاں سے نکلنے نہیں دے گا لیکن میں اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنا چاہتا تھا۔
’’ٹھیک ہے… سنبھال کر جانا۔‘‘ میں نے بغیر کسی رد و کد کے اسے اجازت دے دی۔
اس کے بعد کوئی کچھ نہ بولا۔ کھانے کے بعد ہم سب لائونج میں آکر بیٹھ گئے۔منصور اپنے کمرے میں تیاری کے لئے چلا گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد وہی بوڑھا جو مجھے آتا ہوا دکھائی دیا تھا چائے کی ٹرے لے کر لائونج میں داخل ہوا۔ عبدالرشید بھی اس کے پیچھے تھا۔
’’یہ میرا بڑا بھائی ہے عبدالوہاب۔ یہ قریب کے گائوں میں ہی رہتا ہے اور جب ریسٹ ہائوس میں مہمان آتے ہیں تو میری مدد کے لئے آجاتا ہے۔‘‘ عبدالرشید نے تعارف کرواتے ہوئے کہا۔
ہمیں چائے سرو کرکے دونوں واپس چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد منصور بھی آگیا۔ وہ جانے کے لئے تیار تھا۔ میں نے اسے چائے کے لئے روک لیا۔
چائے پینے کے بعد ہم سب باہر نکل آئے اور منصور وین میں بیٹھ کر آگے بڑھ گیا۔ سب اسے جاتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ اور پھر وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا۔
اچانک سے کڑاکے کی آواز کے ساتھ بجلی وین کے آگے ذرا فاصلے پر گری اور منصور نے تیزی سے بریک لگاتے ہوئے خود کو بچاتے ہوئے وین روک لی۔ منصور نے دوبارہ وین آگے بڑھائی اور دوبارہ بجلی نے اس کا راستہ روک لیا۔
ہم سب سمجھ چکے تھے کہ ہمارے باہر نکلنے کے راستے مسدود کئے جاچکے تھے اور ہم پوری طرح سے نادیدہ دشمن کے رحم و کرم پر تھے۔
منصور نے جتنی بار بھی کوشش کی بجلی نے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔ مجبوراً وہ وین کو موڑ کر واپس لے آیا۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔
’’تم پہلے سے جانتے تھے کہ ایسا ہی ہوگا، کیوں؟‘‘ ارم نے میری طرف گھورتے ہوئے کہا۔
’’ہاں…‘‘ میں نے اعتراف کیا، ’’لیکن اپنے شک کو یقین میں بدلنا چاہتا تھا۔‘‘
’’اور تمہارے شک کو یقین میں بدلنے کے لئے تم منصور کی قربانی دینا چاہتے تھے۔‘‘ ماہ نور بیچ میں بول پڑی۔
’’مجھے پتہ تھا کہ فی الحال اس کا ارادہ ہم میں سے کسی کی جان لینے کا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت بھی ہم سب اس کا آسان ہدف ہیں۔‘‘
ارم مزید کچھ کہنا چاہتی تھی مگر میں نے اشارے سے اسے روک دیا اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے واپس اندر آگئے۔
منصور کی مہم جوئی کی ناکامی نے سب کے چہروں پر مایوسی کی چادر ڈال دی تھی۔ ارم، منصور اور ماہ نور ایسی فورس سے وابستہ تھے جس نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا رکھا تھا لیکن یہاں اپنے ہی ملک میں بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔
’’اگر مجھے ذرا بھی اندیشہ ہوتا کہ یہاں اس قسم کی صورت حال سے واسطہ پڑے گا تو میں اس کے مطابق انتظامات کرکے آتی۔‘‘ ارم بولی۔
’’اور مجھے لگتا ہے کہ تمہارے وہ سارے انتظامات بھی دھرے کے دھرے رہ جاتے۔‘‘ میںنے کہا۔
’’کم از کم اس موبائل جیمر کا توڑ کرکے آتی۔‘‘ ارم اپنے موبائل کو گھورتے ہوئے بولی
’’ ویسے حیرت ہے علی کی کال تو ہو گئی ، پھر…‘‘
’’ پھر اس کے بعد ہی موت پڑی ہے ۔‘‘
’’تمہیں اس غم میں مزید دبلاہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی توڑ ضرور ہوتا ہے اور دیکھ لینا اس مصیبت کا بھی کوئی توڑ تو ہوگا ہی۔ شاید اتنا سہل ہو کہ ہم اپنے دماغ کو ٹھونکنے لگیں۔‘‘ میں نے ایک صوفے پر ڈھیر ہوتے ہوئے کہا
عبدالرشید لائونج میں آیا اور چائے کے برتن سمیٹنے لگا۔ اس کے چہرے پر بھی گھمبیرتا چھائی ہوئی تھی۔
’’چائے ٹھیک تھی نا صاحب؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ تم چائے بہت اچھی بنا لیتے ہو۔‘‘ ماہ نور نے تعریف کرتے ہوئے کہا۔
’’چائے میرا بھائی عبدالوہاب بناتا ہے۔ پہلے وہ ہائی وے پر ہوٹل چلاتا تھا۔ مگر جب سے موٹر وے بنا ہے اس کا ڈھابہ وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘‘ عبدالرشید نے اپنے بھائی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا
’’تو یار اپنے بھائی سے کہہ کر میرے لئے ایک کپ اور بنوا دو۔ قسم سے اس مہم جوئی کے بعد بہت طلب ہو رہی ہے۔‘‘ منصور اپنی کنپٹیاں مسلتے ہوئے بولا۔
’’اس کے لئے تو آپ کو تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا صاحب۔‘‘ وہ ٹرے اٹھاتاہوا بولا،’’کہیں تو میں بنا دیتا ہوں۔‘‘
’’کیوں تمہارا بھائی کیا کر رہا ہے۔‘‘ منصور نے کہا۔
’’وہ سودا سلف لانے شہر چلا گیا ہے۔‘‘ عبدالرشید یہ کہہ کر باہر نکل گیا لیکن اپنے پیچھے جیسے ہم سب پر ایک بم سے پھوڑ گیا تھا۔
’’تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عبدالوہاب اس دشمن کے نشانے پر نہیں ہے۔‘‘ ماہ نور اچھلتے ہوئے بولی۔
’’ایسا ہی لگتا ہے ورنہ اب تک کہیں نہ کہیں تو بجلی گر ہی چکی ہوتی۔‘‘ ارم تائید کرتے ہوئے بولی۔
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے… عجیب بات ہے نا۔‘‘ منصور نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میں خود اس بات سے الجھن میں پڑگیا تھا۔
’’عجیب تو ہے لیکن ہم سب کے سامنے حقیقت بھی یہی ہے۔‘‘ میں اس کے علاوہ اورکیا کہہ سکتا تھا۔
مجھے یہاں کے علاوہ بابا جان اور اکبر بھائی کی فکر بھی کھائے جا رہی تھی حالانکہ عارف نے کہہ دیا تھا کہ وہ سب سنبھال لے گا لیکن پتہ نہیں وہاں کیا چل رہا تھا۔ افضل سردار جیسے کمینے انسان سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔ مگر میں چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا سوائے کڑھنے کے۔
’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ ارم مجھے سوچوں کے منجدھار سے باہر نکالتے ہوئے بولی۔
’’اپنے گائوں کا سوچ رہا ہوں، پتہ نہیں وہاں کیا کچھ ہوگیا ہوگا۔‘‘ میں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
’’تم ان کی فکر مت کرو۔ وہ آزاد علاقہ ہے اور سچوشن پوری طرح سے ہمارے آدمیوں کے کنٹرول میں ہے ۔کچھ سوچنا ہے تو یہاں کے بارے میں سوچو کہ اس مصیبت سے کیسے جان چھڑانی ہے۔‘‘ وہ میرے برابر والے صوفے پر براجمان تھی
’’میں نے کہا نا کہ اس کا بھی کوئی نہ کوئی توڑ نکل ہی آئے گا۔‘‘ اس جواب دیتے ہوئے میں نے عبدالرشید کو آواز دی اور دوسرے ہی پل وہ سامنے موجود تھا۔
’’جی صاحب۔‘‘
’’شہر یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’سائیکل پر جائیں تو چالیس پینتالیس منٹ لگ ہی جاتے ہیں۔‘‘ عبدالرشید نے بتایا۔
ارم بھی اس سے کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر میں نے اشارے سے منع کر دیا اور عبدالرشید کو وہاں سے واپس بھیج کر پیپر اٹھا کر پیغام لکھا۔
’’عبدالوہاب ہمارے پاس ایک اہم مہرہ ہے۔ پلیز اس کے بارے میں ڈسکس کرکے اس بیچارے کی جان کو خطرے میں مت ڈالو۔‘‘
ارم ایک لمحے کے لئے تو الجھی ہوئی نظر آئی پھر میری بات کا مطلب سمجھ کر اس کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔
’’کیا تم بھی وہی سوچ رہے ہو جو میں سوچ رہی ہوں۔‘‘
’’سوفیصد… لیکن شاید یہ مسئلے کا حل نہ بھی ہو۔‘‘
’’یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو… ہم عبدالوہاب کے ذریعے سے یہاں کی صورت حال اپنے لوگوں کو بتا سکتے ہیں۔‘‘
’’بالکل بتا سکتے ہیں مگر اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟‘‘
’’وہ آکر ہمیں یہاں سے نکال لیں گے۔‘‘
’’کس سوچ میں ہو میڈم ،یہ کیوں نہیں سوچتیں کہ یہاں آکر ہماری طرح وہ بھی چوہے دان میں پھنس سکتے ہیں۔‘‘
ہم تیزی سے لکھتے ہوئے بات کر رہے تھے اور منصور اور ماہ نور میز پر جھکے ہم دونوں کی گفتگو پڑھ رہے تھے۔
’’لیکن کم از کم ان تک یہ بات تو پہنچ سکتی ہے کہ ہم یہاں کس مصیبت کا سامنا کررہے ہیں۔ اچانک رابطہ منقطع ہونے سے یقینا وہ بھی ہمارے بارے میں فکرمند ہو رہے ہوں گے۔‘‘
’’ہاں بس صرف یہی ہوسکتا ہے کہ ہم ان تک اس افتاد کی روداد پہنچا دیں لیکن ہمیں یہاں سے نکالنا شاید ان کے بس کی بھی بات نہ ہو۔‘‘
’’ہاں شاید… لیکن ہمیں تسلی تو ہوگی کہ انہیں ہمارے بارے میں پتہ چل گیا ہے اور ہوسکتا ہے وہ باہر سے کوئی نہ کوئی توڑ کرلیں۔‘‘
’’ایک بات ہے۔‘‘ اچانک مکھ مل بول پڑی۔ میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کو کہا ۔ وہ اشارے سے بتانے لگی کہ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتی اور یہ بات تو ہم پہلے سے ہی جانتے تھے۔
مکھ مل کے چہرے کا جوش دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ کوئی بہت ہی اہم بات بتانے والی ہے۔ اب وہ بات کیا ہوسکتی تھی ۔ یہ کیسے معلوم ہوتا؟
اس کا توڑ ارم نے یوں نکالا کہ اس سے اشاروں کی زبان میں بات کرنے لگی ۔وہ اشارے سے دیوار پر برش چلانے لگی۔تب معلوم ہوا کہ وہ رنگوں کے بارے میں بات کر رہی ہے۔مگر کون سا رنگ اور کیوں؟

ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close