Naeyufaq Apr 19

دستک

مشتاق احمد قریشی

الٹی ہوگئی سب تدبیریں

بھارتی حکمرانوں نے بڑی سوچ بچار اور پوری منصوبہ بندی اور پوری تیاری سے پاکستان پر حملہ کرنے کی مذموم کوشش کی تھی۔ بھارت کا پروگرام بڑا بھر پور اور مشترکہ تھا۔ بھارت کے ساتھ پاک بھارت جنگ میں ایران ، اسرائیل اور افغانستان کی شمولیت بھی یقینی تھی۔ بھارتی افواج کا تین طرف سے حملہ آور ہونے کا منصوبہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کے رحمت و فضل سے ناکام ہوگیا۔ ایران، بلوچستان سے حملہ آور ہوتا جس کا راستہ قدرت نے شدید برفباری اور بارشوں سے روک دیا۔ دوسری طرف خود بھارتی بنیے کو منہ کی کھانا پڑی۔ پاکستان کی شیر دل افواج جو ہر وقت ہر طرح سے چوکنا اور ہر وقت ہوشیار رہتی ہے۔ اس کے تمام ذرائع پوری طرح با خبر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن جو یہ سمجھ کر چڑھ دوڑا تھا کہ پاکستان بہت آسان ہدف ہے جسے چٹکیوں میں مسل کر رکھ دیں گے لیکن جب بھارتی سورمائوں نے سرحد پار کی تو منہ کی کھانا پڑی۔ بھارتیوں کا سارا منصوبہ خاک میں مل کر رہ گیا۔ نہ صرف بھارت بلکہ اس کے ساتھ شریک اسرائیل اور ایران بھی منہ تکتے رہ گئے۔
بھارتی حکمرانوں کا اور خصوصاً بی جے پی رہنمائوں کا یہ وتیرہ رہاہے کہ ہندوتوا کا غلغلہ بلند کر کے غیر ہندو خصوصاً مسلمان اور دیگر اقلیتوں کو اپنے نشانے پر رکھ کر اپنی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے کام لے کر اپنے ہندو ووٹوں کو زیادہ سے زیادہ یک جا کرلیاجائے اس سے پہلے مودی جب گجرات کے حکمران تھے تب انہوں نے نہ صرف بابری مسجد شہید کرائی اور ٹرین میں آگ لگا کر گجرات میں خونی فساد برپا کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر اور بے در کیا اور ان کے خون سے ہولی کھیلی۔ اب بھی وہی مسئلہ درپیش ہے۔ پہلے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کشمیر میں اپنی جنگی قوت کا مظاہرہ کیا اور اہل کشمیر کو خوف زدہ کرکے الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا۔ بی جے پی جو اس وقت حکمران جماعت ہے بھارتی مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے اور پاکستان کی کشمیر کے بارے میں زبان بندی کے لیے اسی طرح انتہا پسند ہندو ووٹ حاصل کرنے کے لیے اور اپنی مخالف جماعت کانگریس کے ووٹ کاٹنے کے لیے ایسے حربے آزماتی رہتی ہے۔ موجودہ صورت حال میں بھی بظاہر مودی سرکار کا یہی منصوبہ تھا کہ ملک اور اپنے ہم سائے ممالک میں ہلچل پیدا کرکے اپنے ووٹ پکے کرلیے جائیں بعد میں حالات تو بتدریج معمول پر آہی جاتے ہیں جیسا کہ گجرات کے فسادات اور ٹرین میں آگ اور بابری مسجد کو مسمار کرنے کے بعد ہوا۔ ایسا ہی، اس بار بھی ہوجاتا لیکن بد قسمتی سے ساری ترکیبیں سارے منصوبے خاک میں مل گئے اور الٹی آنتیں گلے پڑگئیں۔ اب نہ صرف حزب مخالف کی جماعتیں بلکہ عوام بھی سوال کر رہے ہیں اور بھارتی ذرائع ابلاغ نے جو دھواں دھار بیانیہ رویہ اپنایا تھا وہ سارا کا سارا بھارتی ایجنسی را کا بتایا ہوا تھا۔ اس کے لیے را نے اپنے خفیہ فنڈ سے کروڑ وہ کی رقم میڈیا میں تقسیم کی لیکن اس کا حشر کیا ہوا، ان کے بے تکی بے سروپا باتوں کا اب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ مذاق اڑا رہے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ پر تھو تھو کی جا رہی ہے، جب کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کی تعریف کی جا رہی ہے۔ پاکستانی تمام ذرائع امن کی بات کر رہے تھے۔ کہیں سے بھی کسی بھی طرح جنگ کرنے کی بات نہیں کی جا رہی تھی جب کہ پاکستان نے اس ابتدائی جنگ کو جیت لیا تھا۔ بھارت کی جارحیت کے دونشان دو جنگی جہازوں کو مار گرایا تھا۔ بھارتیوں کو مزا چکھا دیا تھا۔ اس کے مقابلے میں تمام بھارتی ذرائع ابلاغ ایک زبان ہوکر جنگ جنگ اور جنگ کی بات کر رہے تھے۔ ملک و قوم کو آگ میں دھکیل رہے تھے۔ انہیں قطعی احساس نہیں تھا کہ دونوں ممالک بھارت اور پاکستان جوہری طاقت والے ممالک میں اگر جنگ چھڑ گئی تو دونوں ہی طرف سے ایٹمی ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔ پھر کچھ نہ ادھر نہ ہی ادھر باقی بچے گا اگر کچھ بچے گا بھی تو وہ انسانیت سوز اور ہیبت ناک ہو گا۔ اب اس ترقی یافتہ دور میں جنگوں کا انداز بدل چکا ہے۔ اب گھوڑوں، تلواروں کا زمانہ نہیں ہے نہ ہی جنگ عظیم اول اور دوم کی طرح صرف ٹینک اور توپوں کا دور ہے۔ اب تو جدید ٹینک اور توپیں میدان میں اترتے ہیں۔ ہر طرف ہر قسم کے دور مار قریب مار رکھنے والے میزائلوں کا زمانہ ہے جو پلک جھپکتے ادھر سے ادھر تباہی پھیلاتے چلے جاتے ہیں کسی جاندار کو سانس لینے کی مہلت تک نہیں ملتی۔ وزیر اعظم پاکستان نے بڑی سمجھ داری اور دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے دشمنوں کو آگاہ کردیا تھا کہ ان کے تمام منصوبوں سے نہ صرف ہم واقف ہیں بلکہ ان کا جواب دینے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہیں۔ اگر بھارت ایک میزائل داغتا تو پاکستان کی طرف سے جواب میں تین میزائل جنگ اگر خدانخواستہ شروع ہوجاتی تو اس کو روکنا کسی کے بس میں نہ رہتا۔ اب بھی اگر وزیر اعظم عمران خان فوری طور پر تمام دوست ممالک کو آگاہ نہ کرتے اور وہ بھی فوری مداخلت نہ کرتے تو کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ تیسری جنگ عظیم چھڑنے میں دیر نہ لگتی اور دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ اس پاک بھارت جنگ سے متاثر ہوتا، ہر طرف اگر تباہی نہ بھی پھیلتی لیکن جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے اثرات تو بڑے ہی نقصان دہ ہوتے۔ انسانیت تباہ ہوکر رہ جاتی۔ بھارتی حکمران جانے کس نشے میں تھے۔ انہیں شاید صرف آنے والا الیکشن نظر آرہا تھا۔ جسے وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے ہیں۔ دنیا جائے جہنم میں ان کا اپنا الوسیدھا ہونا چاہیے۔ یہی نریندر مودی تھے جنہوں نے گجرات میں لاکھوں مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور خون ریزی ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ وہ اپنے بچپن سے ہی مار دھاڑ اور دادا گیری کرتے آئے ہیں۔ یہ ان کی مجبوری ہے۔ ان میں علم کی کمی اور ظرف نہ ہونے کے برابر ہے۔ صبر اور برداشت کرنا وہ جانتے ہی نہیں۔ چورمچائے شور کی مانند خود دہشت گرد کو ہر طرف دہشت گرد نظر آتے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان ان تمام خوبیوں سے آراستہ ہی نہیں اسی لیے کہ ایک بڑی خطرناک جنگ کو انہوں نے اپنی تحمل اور برداشت کی خوبی کے باعث ٹال دیا ہے۔ اللہ پاکستان کا پاکستانی قوم کا حامی و ناصر ہواور ہر طرح سے وطن عزیز کی حفاظت فرمائے آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close