Aanchal Jan-07

آپ کی شخصیت

اے ایس صدیقی

شخصیت کے بنائو سنگھار سے متعلق ان صفحات پر آج کچھ باتیں ہم ’’سلیقے‘‘ کے بارے میں کریں گے۔ ’’سلیقہ شعاری‘‘ آدمی کی ایک بہت بڑی صفت ہوتی ہے۔
اس کا اندازہ اس طرح کریں کہ کبھی کسی ایسے گھر میں چلی جائیں جو ہو تو بہت بڑا اور بہت عمدہ لیکن جہاں کے کمروںمیں اشیاء ادھر ادھر بے ترتیبی سے پڑی ہوں۔ کرسیاں ٹیڑھی پڑی ہوں۔ فرش پر کاغذ کے ٹکڑے بکھرے ہوں۔ بستر پر چادریں سمٹی بکھری ہوئی ہوں۔ ایک جوتا کہیں پڑا ہوا ہو دوسرا کہیں۔ کسی طرف تولیہ پڑا ہو کسی طرف کوئی پتلون۔ آپ کو فوری طور پر یہ افراتفری متاثر کرے گی۔ گھر کی خوب صورتی کا تعلق اس کے بڑے ہونے یا اس کی چمک دمک سے نہیں ہوتا بلکہ یہ مکینوں کے رکھ رکھائو کی مرہون منت ہوتی ہے۔
آپ اپنے گھر کو کس طرح خوب صورت بناسکتی ہیں۔ ابتداء یہاں سے کریں۔ سب سے پہلا اسٹیپ تو یہ ہے کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود مثال بنیں۔ جہاں بھی بے ترتیبی دیکھیں اسے اسی وقت درست کردیں۔ کبھی اشیاء کو ادھر ادھر نہ پھینکیں۔
تمام چیزوں کے لئے ایک جگہ مقرر کردیں۔ اپنی الماریاں صاف رکھیں۔ ان میں اشیاء کو ٹھونسیں نہیں بلکہ ہر خانے میںچیزوں کو سلیقے سے رکھیں۔ کسی شخص کی سلیقہ مندی کا اندازہ اس کی الماری دیکھ کر بھی کیا جاسکتا ہے۔
گھر کے تمام کام سلیقہ چاہتے ہیں۔ خواہ وہ برتنوں کی صفائی ہو‘ باورچی خانے کا کام ہو‘ یا گھر کی سجاوٹ کا معاملہ۔
بے شک سلیقہ محنت چاہتا ہے۔ سلیقے کی سب سے بڑی دشمن تن آسانی ہے اس کے بعد بے فکری یا بے پرواہی۔
ہم نے تن آسانی کو پہلے نمبر پر اس لئے رکھا ہے کہ ایک بدسلیقہ شخص یہی کوشش کرتا ہے کہ جو کچھ آسانی سے ہورہا ہے اس میں رخنہ نہ ڈالے‘ مثلاً کھانا کھا کر گندی پلیٹ اٹھا کر سنک پر ہی رکھی جاسکتی ہے۔ جہاں کھایا ہے وہیں چھوڑی جاسکتی ہے۔ اس میں آسانی ہے۔
اسی طرح لاپرواہی کا معاملہ ہے۔ مثلاً آپ نے ہتھوڑی نکالی۔ اسے استعمال کیا اور اسے وہیں کہیں چھوڑ دیا۔ یعنی اسے اس جگہ واپس نہیں رکھا جہاں عموماً رکھی جاتی تھی۔ اب اگر کسی اور فرد کو یا پھر آپ کو ہی کسی اور وقت اس کی ضرورت ہوئی تو یہ آپ کو اپنی مخصوص جگہ پر کبھی نہیں ملے گی۔ شاید آپ کو یاد بھی نہ رہا ہو کہ پچھلی بار اسے کہاں رکھا تھا۔ اب تصور کیجئے کہ اس کا بروقت نہ ملنا آپ کے لئے کس قدر تکلیف کا باعث ہوگا۔
اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی ایک جگہ ہونی چاہئے اسے استعمال کرکے ہمیشہ اسی جگہ دوبارہ رکھ دینا چاہئے۔ رات میں اندھیرے میں بھی آپ اسے بلا کسی تکلیف تلاش کرسکیں گے۔
لاپرواہی کی مثال لیں کہ آپ خود اپنی ضرورت کی اہم اشیاء صحیح جگہ نہ رکھیں۔ گھڑی اتاری سنک پر چھوڑ دی۔ نہانے کے بعد غسل خانے کا تولیہ سر میں باندھا اور اسے اتار کر کسی صوفے پر رکھ دیا۔ اب اگر کوئی دوسرا فرد غسل کرنے جاتا ہے اور اسے تولیہ اسٹینڈ پر نہیں ملتا تو وہ لامحالہ جھلائے گا اب اس کا کون ذمہ دار ہے ؟ آپ۔
یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔ مگر ان سے آپ کی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
آپ کے گھر کی ساری فضا آپ کو منعکس کرتی ہے۔ بھئی خاتون خانہ کو اس کا حسن آپ کی سلیقہ شعاری کا مظہر سمجھتا ہے۔ اس کی بد صورتی آپ کی شخصیت کا پتہ دیتی ہے۔
گھر میں بچے بھی ہوتے ہیں۔ یہ عموماً افراتفری پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اچھی مائیں انہیں عمدہ تربیت دیتی ہیں۔ یہ بھی کرتی ہیں کہ اس افراتفری کو مسلسل درست کرتی رہتی ہیں۔ گھر میں بہت سی افراتفری کو مسلسل پیدا ہونے رہنے دیا جائے تو پھر اسے ٹھیک کرنے میںدیر بھی لگتی ہے اور محنت بھی لگتی ہے۔ نیند سے اٹھ کر چادر کو اسی وقت درست کردیا جائے تو یہ ایک کام ہوجاتا ہے۔
کتنے گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ خاتون خانہ اچھی طرح ابتری پیدا ہونے دیتی ہیں اور پھر اسے ٹھیک کرتے ہوئے مسلسل بڑبڑاتی ہیں۔
میں نے ایک اچھے سے گھر میں جس میں بہت سے افراد رہتے تھے دیکھا کہ ڈرائنگ روم میں نئے اور پرانے دونوں صوفوں کو رکھ دیا گیا تھا … کوئی ایسی کوشش نہیں کی گئی تھی کہ فرق کسی طرح چھپ جاتا۔ اس کمرے میں پہنچتے ہی یہاں کے لوگوں کا بے ڈھنگا پن محسوس ہوتا تھا۔
ایک صاحب کی آفس ٹیبل کا یہ عالم تھا کہ وہ ریکارڈ روم بنی ہوئی تھی۔ کاغذات پر کاغذات‘ کتابوں پر کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ کون سی چیز کہاں ہے بس انہی کو معلوم تھا۔ ان کی عدم موجودگی میں سارا آفس الجھن میں پڑا رہتا تھا۔
جبکہ ایک دوسرے صاحب کی میز صاف ستھری تھی۔ فائلیں درازوں میں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔ کسی کو ان کی عدم موجودگی میں کسی چیز کی تلاش میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔
اب خود بتائیں۔ لوگ کسے پسند کرتے ہوں گے ؟
سلیقہ دراصل ایک تربیت یافتہ ذہن کا طالب ہوتا ہے۔ منظم سوچ سے یہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ کوئی فطری چیز نہیں ہوتی۔ اسے سیکھنا پڑتا ہے۔ اور اس پر محنت کرنی پڑتی ہے۔ اہتمام خصوصی کا یہ طالب ہوتا ہے۔
مگر سلیقہ شعاری ہمیں جو فائدہ پہنچاتی ہے اس کے مقابلے میں جو محنت ہم اسے سیکھنے پر کرتے ہیں اسے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔
گھر ہو یا گھر کے باہر۔ ایک سلیقہ مند فرد۔ جلد ہی پہچان لیا جاتا ہے۔
وہ صرف کاموں میں سلیقہ مند نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی طرز گفتگو‘ اپنی چال ڈھال اپنے لہجے اور لباس سے سلیقہ ظاہر کرتا ہے۔ ایک بے ڈھنگے (جسے عموماً پھوہڑ کہا جاتا ہے ) فرد کااس سے کوئی مقابلہ نہیں ہوتا۔
وہ لوگ جو اپنی شخصیت سے پیار کرتے ہیں اور جنہیں اس بات کا شوق ہے کہ وہ سوسائٹی میں عزت سے دیکھے جائیں سلیقہ مندی کی اہمیت سمجھتے ہیں۔
جب بھی کسی سلیقہ مند شخص سے ملتے ہیں تو آپ کو فوراً احساس ہوتا ہے کہ آپ ایک Efficient شخص سے مل رہے ہیں۔ ایسے آدمی کو اہم کام سونپتے ہوئے آپ ہچکچائیں گے نہیں۔ آپ کو یہ خوف بہت کم ہوتا ہے کہ یہ غیر ذمہ داری و لاپرواہی سے آپ کا کام کرے گا یا اسے خراب کردے گا۔
جبکہ ایک بدسلیقہ آدمی اپنی وضع قطع سے ہی پہچان میں آجاتا ہے۔
جس دفتر میں گھریلو اور میلے کچیلے لباس میں ورکرز بیٹھے نظر آئیں وہاں کی کارکردگی صفر ہوتی ہے۔ صاف ستھرے لباس میں ملبوس‘ قرینے سے سجے کمرے اور اچھی طرح رکھی ہوئی اشیاء آفس کی قدرو منزلت کو دوبالا کرتی ہیں بالکل اسی طرح ایک فرد کو اس کی سلیقہ مندی اہم بنادیتی ہے۔
حرف آخر کے طور پر ہم پھر یہی کہیں گے کہ شخصیت دراصل ظاہری صفات سے آرائستگی کا نام نہیں بلکہ باطنی حسن بھی مانگتی ہے۔ اور باطنی حسن پیدا کرنے میں سلیقہ شعاری ایک اہم رول ادا کرتی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close