Aanchal Jan-07

دشت آرزو

اقرآصغیراحمد

اک تعلق کی استواری ہے
زیست تم بن فقط گزاری ہے
یہ تماشا بھی دیکھتے جاؤ
اپنی باری کا کھیل جاری ہے

سرخ چہرہ‘ لہو رنگ آنکھیں اور آنکھوں سے نکلتیں قہروغضب کی بجلیاں فائقہ کچھ نہ بول سکیں‘ منال نے انہیں دیکھا بہت لاپروا انداز میں۔
’’یہ پاگل پن کی انتہا ہے اسٹوپڈ‘ جس خبیث کی میں شکل دیکھنے کاروادار نہیں ہوں‘ اس کا نام تم میرے گھر میں لکھ رہی ہو۔‘‘ ان کے لہجے سے چنگاریاں سی پھوٹ رہی تھیں۔
’’وہ میرا ہے میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی ہوں۔‘‘
’’بکواس بند کرو ایڈیٹ۔‘‘
’’یہ بکواس نہیں میرے دل کی صدا ہے انس میرا ہے صرف میرا…‘‘
منال حواسوںسے بیگانہ بے ربط ہوتی چلی گئی اور برھان لغاری کی قوت برداشت جواب دے گئی۔ انہوں نے سخت جنونی کیفیت میں منال کے رخساروں پر یکے بعددیگرے کئی تھپڑ لگائے تھے۔
’’خدا کے لئے برھان! بس کریں۔‘‘ فائقہ نے ان کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بھرائے لہجے میں کہا۔
’’تم‘ درمیان میں مت آئو‘ یہ میرا اوراس کا معاملہ ہے۔‘‘ وہ ان سے ہاتھ چھڑا کر چنگھاڑے جبکہ منال چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کررو رہی تھی۔
’’ریلیکس پلیز ریلیکس‘منال ابھی ایب نارمل ہے اسے نارمل ہونے کے لئے کچھ وقت چاہئے‘ ایب نارمل کنڈیشن میں یہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔‘‘ فائقہ کے لہجے میں کچھ ایسی نرمی وگداز پن تھا کہ برھان لغاری کواپنے اندر بھڑکتی ہوئی آگ میں کچھ ٹھنڈک کا احساس ہوا۔
’’میں بھی بے حد اپ سیٹ ہوں بہت پریشرائزڈ‘ یہ ذلیل انسان مجھے شکست پہ شکست دیتا جارہا ہے میری ہربازی مات ہو رہی ہے میں چاہنے کے باوجود اس کا کچھ نہیں کرپارہا ہوں۔‘‘ وہ کنپٹیاں سہلاتے پریشانی سے کہہ رہے تھے۔
’’آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں‘ آپ تنہا نہیں ہیں‘ میں ہوں آپ کے ساتھ ہمارے درمیان میرڈ ریلیشن شپ نہ سہی مگر فرینڈ شپ تو ہوسکتی ہے۔‘‘ انہیں نرم دیکھ کر وہ دل کی خواہش لبوں پر لے آئی تھیں۔
’’ایک کلوز فرینڈ کی طرح آپ اپنے تمام دکھ‘ سارے پرابلمز مجھ سے شیئر کریں اور خود ریلیکس ہوجائیں‘ میں آپ کے تمام دکھ پلکوں سے چن لوں گی۔‘‘ وہ برھان لغاری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا ہوئی تھیں۔
منال اندر کمرے میں رو رہی تھی وہ انہیں باہر لائونج میں لے آئی تھیں۔
’’تھینکس۔‘‘وہ ممنون نگاہوں سے فائقہ کی جانب دیکھتے ہوئے صوفے پر نیم دراز ہوگئے تھے۔
فائقہ نے سرعت سے آگے بڑھ کر ان کے بالوں میں آہستہ آہستہ انگلیاں چلانی شروع کردی تھیں۔ برھان نے کوئی اعتراض نہ کیا تھا۔ چند لمحوں بعد ان کو سکون وراحت کا احساس ہونے لگا گویا فائقہ کی انگلیوں میں ایسا جادو تھا جو ان کے اندر طمانیت بھررہاتھا۔

’’حمزہ! آپ یہاں ہیں۔ میں نے ہر جگہ دیکھ لیا آپ کو اور آپ یہاں چھپے بیٹھے ہیں۔‘‘ مہوش اس سے آکر مخاطب ہوئی جو اپنی سوچوں میں گم لائبریری روم میں بیٹھا تھا۔
حمزہ نے ایک نگاہ اس پر ڈالی‘ کسی جذبے‘ کسی احساس سے عاری نگاہ۔
’’میں تم سے کیوں چھپوں گا؟ میں نے کیا چوری کی ہے؟‘‘ وہ دھیمے سے مسکرا کر گویا ہوا تھا۔
’’آپ کو نہیں معلوم؟‘‘ وہ کہنیوں کے بل ٹیبل پر بیٹھی اور جھک کر اس کے چہرے کی طرف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جذبانی لہجے میں بولی۔
’’میری نیند‘ میرا چین اور… میرا دل چوری کیا ہے آپ نے اور…‘‘
’’اسٹاپ اٹ…‘‘ حمزہ ہاتھ سے اسے پرے دھکیلتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ ایکدم ہی اس کی کیفیت بدل گئی تھی۔ لمحے بھر قبل نرم خو وشفیق نظر آنے والا حمزہ یکلخت ہی تند خو ومشتعل دکھائی دینے لگا تھا وہ ہکا بکا رہ گئی۔
’’مجھ سے کچھ غلطی ہوئی ہے؟‘‘ پہلی بار اسے غصے میں دیکھا تو وہ کانپ اٹھی۔
’’میںنے تمہیں پہلے بھی تنبیہہ کی تھی اور اب آخری بار کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے کبھی بھی ایسی خواہشات کی امید مت رکھنا جو گلاب نہیں انگارے بن جائیں۔ ایسی آگ بن جائیں جو نہ صرف جسم وجاںبلکہ روح کو بھی خاکستر کردے۔‘‘ حمزہ کا لہجہ بے حد تند اور کڑوا تھا۔
’’اس آگ میں پہلے ہی جل رہی ہوں‘ آپ کی بے رخی وبے نیازی کی آگ سے بڑھ کر بھی کوئی تپش ہوگی بھلا۔‘‘ اپنی چاہت کی ایسی بے وقعتی پر مہوش دھیرے دھیرے سسک اٹھی تھی۔
’’تم سے کس نے کہا اس شعلوں بھری راہ پر چلو جس کی کوئی منزل نہیں۔‘‘
’’میرے دل نے۔‘‘ وہ آہستگی سے سسکی۔
’’بیوقوفی‘پاگل پن‘ جو دل کے کہنے پر چلتا ہے وہ ہوش وخرد سے عاری ہوتا ہے مہوش! ابھی بھی دیر نہیں ہوئی تم چند قدم اس راہ پر چلی ہو جو تمہارے لئے نہیں ہے‘بہتر ہے واپس پلٹ جائو‘ اسی میں عافیت و نجات ہے۔ اس راہ پر جو چلا ہے وہ چلتا ہی رہا ہے پھر بھی منزل نہیں ملی۔‘‘
مہوش کے آنسو اور چہرے پر چھائی بدحواسی اس کا دل موم کرگئی تھی وہ اسے سمجھاتے ہوئے نرم لہجے میں کہہ رہاتھا۔
’’میں مجبور ہوں‘ بے بس ہوں‘ اس معاملے میں جتنا پیچھے ہٹنا چاہتی ہوں‘ اتنا ہی خود کو بے بس ولاچار پاتی ہوں۔ میں آپ سے کچھ نہیں مانگتی‘ کچھ نہیں چاہتی سوائے اس کے…کہ آپ مجھے اپنی زندگی میں شامل کرلیں‘ اپنا نام دیدیں میں کچھ نہیں مانگوں گی‘ میرے لئے صرف یہی حقیقت کافی ہوگی کہ آپ میرے ہیں۔‘‘ پیار کی آنچ سے سلگتا ہوا اس کا لہجہ اڑتی رنگت وبکھرتے حواس پتہ دے رہے تھے کہ وہ عشق کی وادی کی باسی بن چکی ہے۔
’’مہوش! تم اچھی لڑکی ہو تمہیں پانے والا اپنے نصیب پر رشک کرے گا‘ دنیا بھر کی راحتیں ومسرتیں تمہیں نصیب ہوں گی‘ مجھے بھول جائو‘ میں وہ چراغ ہوں جو نہ اپنی راہ روشن کرسکتا ہے‘ نہ کسی اور کو روشنی دے سکتا ہے‘ مجھے بھول جائو۔‘‘ وہ کہہ کررکا نہیں سیدھا چلاگیا۔
راحیلہ بیگم جو کھڑکی سے سب دیکھ وسن رہی تھیں حمزہ کے بے لچک انداز ومہوش کی بے قراریوں کو دیکھ کر مضطرب ہوگئی تھیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا خواہ کچھ بھی ہو وہ اب حمزہ کی شادی کروا کرہی دم لیں گی حمزہ نے بہت من مانی کرلی۔

ڈوبتے سورج کی بنفشی شعاعیں ہرسو سونابکھیر رہی تھیں ماحول پرسکوت طاری تھا ہوا کی سرسراہٹوں میں برف کی سی نمی تھی۔والدہ حضور کے کمرے میں ہیٹر آن تھا۔
برھان لغاری ان کے روبرو بیٹھے تھے‘ درمیانی میز پر کانچ کی نفیس پیالیوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی والدہ حضور کی خواہش پر ملازمہ گرین ٹی کچھ لمحے قبل سرو کرکے گئی تھی۔
ویلوٹ کے گرے کلر کے سوٹ میں سیاہ گرم چادر اوڑھے وہ خاصی خفا خفا بیٹھی تھیں‘ سرخ وسفید رنگت پر غصے کی سرخی نمایاں تھی۔
’’والدہ حضور! پلیز غصہ مت کریں بی پی پہلے ہی ہائی لیول پر ہے آپ کا مزید ٹینشن خطرناک ہوگی۔‘‘ برھان لغاری نے اپنی بات پھر دہرائی تھی وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ان کا موڈ بہتر کرنے کی سعی میں لگے تھے مگر وہ ہنوز غصے میں تھیں۔
’’ہونہہ‘ بڑی بڑی باتیں کرتے تھے ان بدبختوں کو زندہ درگور کرنے کی‘ پھانسی پرچڑھانے کی اور کیا کیا؟ صبر کرکے بیٹھ گئے ہو اتنی جلد بھول گئے اپنی ذلت‘ اپنی شکست‘ کس طرح ہماری رسوائی ہوئی‘ جگ ہنسائی ہوئی جن لوگوں کو کل تک ہماری طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ تھی وہ آج ہم پر انگلیاں اٹھاتے ہیں‘ ہنستے ہیں‘ مضحکہ اڑاتے ہیں۔‘‘ وہ اس وقت سخت غصے و جلال میں تھیں۔
’’والدہ حضور! آپ کا غصہ‘ آپ کی ناراضگی بجا ہے جو جذبات آپ کے ہیں وہی میرے بھی ہیں جو آپ محسوس کررہی ہیں وہ سب مجھے بھی فیل ہو رہا ہے۔‘‘ برھان لغاری بے حد تحمل واپنائیت سے ان سے مخاطب تھے والدہ حضور ان کی بات قطع کرکے گویا ہوئیں۔
’’پھر کیا وجہ ہے جو اتنے دن گزرنے کے باوجود ہم اپنے مجرموں کو اپنے سامنے نہیں دیکھ رہے ہیں ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا۔‘‘
’’پہلے ہمارے دشمن اتنے طاقتور واثرورسوخ والے نہیں تھے۔ والدہ حضور‘ اب بات برابری کی ہے بلکہ اس وقت وہ باپ اور بیٹے ہم سے بہت اسٹرونگ پوزیشن میں ہیں میں سرینڈر کرچکا ہوں۔‘‘ برھان لغاری کادھیما لہجہ شکست خوردگی ومایوسی سے پرتھا۔
’’کیاکیا…کیا کہہ رہے ہو؟ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کو اس طرح معاف کردیں؟ ہمارے ہاں ایسا کبھی ہوا ہے جو اب ہوگا‘ سرعام‘ بھری محفل میں ہماری عزت سے کھیلا گیا ا ور تم کہہ رہے ہو بنا لڑے تم نے شکست قبول کرلی۔‘‘ وہ جاہ وجلال سے کانپ اٹھی تھیں۔ کمرے کے درودیوار ان کی آواز سے گونج رہے تھے۔
’’والدہ حضور! جن وقتوں کا آپ حوالہ دے رہی ہیں وہ گزرچکے ہیں۔ ہر دور کے تقاضے الگ ہوتے ہیں۔ اہمیت جدا ہوتی ہے۔ گزرتا وقت اپنے ساتھ اپنے سنگ وہ تمام چیزیں بھی لے جاتا ہے جو اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ ماضی کی باتیں‘ماضی ہی بن جاتی ہیں۔ ہم اب جس دور میں جی رہے ہیں وہ اس گزرے دور سے بہت مختلف اور بہت مشکل ہے یہاں ہرکام محض’’دولت‘‘ سے نہیں ہوتا ہے دولت کے علاوہ اور بھی دوسرے بے حد طاقتور عوامل ہوتے ہیں جن پر چڑھ کر اوپر پہنچا جاتا ہے نہ میں بزدل ہوا ہوں‘ اور نہ کم حوصلہ اگر مجھے اپنی کمزور ہوتی بزنس پاور کا ادراک نہ ہوتا تو میں کبھی بھی حوصلہ ہار کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ یہ سب سمجھوتہ ومصلحت پسندی ہے۔‘‘ والدہ حضور کی سمجھ میں یہ گفتگو آگئی‘ وہ کچھ ٹھنڈی ہوکربیٹھی تھیں مگر تیور ہنوز بگڑے تھے۔
’’یہ سب تمہاری اولاد کا کیا دھرا ہے ایک نکاح کرکے بھاگ گئی‘ دوسری طلاق لے کرآئی اور یہی کیاکم تھا کہ وہ بے شرم عورت جو اس گھرسے ملازم کے ساتھ بھاگی تھی وہ اب اپنی گندی صورت لے کرکس منہ سے آئی ہے یہاں؟ کیا تعلق ہے اس کا اس گھر سے؟تم سے تعلق توڑ کر گئی تھی پھر کیوں آئی ہے یہاں؟‘‘
’’والدہ حضور! مجھ سے تعلق ٹوٹا ہے منال سے تو نہیں‘ منال بیٹی ہے اس کی‘ اس کی محبت میں وہ یہاں آئی ہے۔‘‘
’’اچھا… بیٹی ہے اس کی! اس کی محبت میں آئی ہے؟‘‘ ان کے لہجے میں سخت استہزاوطنز درآیا۔
’’جی۔‘‘ برھان لغاری بوکھلا سے گئے تھے۔
’’اس وقت اسے بیٹی کا خیال نہیں آیا جب بیٹی کو اس کی ضرورت تھی۔ اس و قت یہ محبت نہیں جاگی جب چند سال کی بیٹی کو چھوڑ کر بھاگی تھی۔‘‘
’’ان تکلیف دہ باتوں کو ہم بھول جائیں تو بہتر نہ ہوگا۔‘‘
’’یہ باتیں نہیں وہ ذلت ورسوائی کے داغ ہیں جو جسم سے روح میں سرایت کرجاتے ہیں اور ان کو دھونے کے لئے کوئی صابن‘ کوئی پائوڈر نہیں بنا۔‘‘
’’مدثر نے حکومت سے مدد مانگی ہے اپنے بیٹے اور بہو کی زندگیوں کے لئے اوراس کی درخواست فوراً منظور کی گئی ہے مجھے صبح صمدانی نے کال پر بتایا ہے میں نے اپنے آدمی واپس بلوالئے ہیں کہ ہم کتنے بھی باحیثیت ہوں اقتدار اعلیٰ سے نہیں ٹکراسکتے ہیں یہ وجہ ہے میرے پیچھے ہٹنے کی۔‘‘ وہ موضوع بدلتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’ہاں… پھر تو ٹھیک ہے لیکن…کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔‘‘
’’معلوم نہیں۔ میں بری طرح ریزہ ریزہ ہوگیا ہوں والدہ حضور! ایسا لگتا ہے اب زندگی مجھے گزارے گی۔‘‘ وہ بے حد پژمرہ ومضمحل تھے۔
’’ہمت نہیں ہارو‘ آج نہیں تو کل ہمارے ہاتھ آئیں گے وہ۔‘‘ والدہ حضور نڈروحوصلہ مند بیٹے کی اتری صورت دیکھ کر دہل سی گئی تھیں۔
’’شاید…امید پر دنیا قائم ہے۔‘‘
’’یہ گرین ٹی ٹھنڈی ہوگئی ٹھہرو‘ میں دوسری منگواتی ہوں۔‘‘ وہ ملازمہ کو آواز دینے لگیں ملازمہ پہلی آواز پرہی اندر داخل ہوئی تھی۔

اسے امید نہیں تھی کہ حالات اتنی تیزی سے موافق ہوجائیں گے۔مدثر صاحب ملک سے باہر تھے مگر انہوں نے اس دوری کو محسوس ہونے نہیں دیا‘ ان کا رابطہ مسلسل اعلیٰ حکام سے رہاتھا اور بالآخر وہ ان کے لئے سیکورٹی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ فون پر انس اور کرن کو انہوں نے گڈوشز دی تھیں اور ساتھ میں یہ نوید بھی کہ ان کے نیویارک آنے پر ان کے اعزاز میں ایک شاندار پارٹی کاانتظام وہ کرچکے ہیں۔
فاریہ اور سعد بھی ان کی روانگی تک ان کے ساتھ رہنے آئے تھے۔ فاریہ ماں بننے والی تھی ولادت قریب تھی اس لئے گرینی بزرگ کی حیثیت سے ساتھ تھیں اور بے حد خیال رکھ رہی تھیں فاریہ کا۔
رات کے کھانے سے فارغ ہو کر وہ کمرے میں آئی تو گرینی نے اس کی طرف دیکھا اور پھر خاصی دیر تک تنقیدی نگاہوں سے دیکھتی رہی تھیں۔ کمرے میں انس بھی موجود تھا۔
وہ گرینی کی نگاہوں سے بے خبر اپنے موبائل میں نمبرز انٹر کرنے میں مگن تھا کرن ان کی نگاہوں کی زبان تو نہ سمجھ پارہی تھی مگر اسے اپنے اندر بے چینی وگھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ وہ بلاوجہ کارنر پررکھے ڈیکوریشن پیسز ازسرنو ترتیب دینے لگی تھی مگر گرینی کی نگاہوں کی تپش اسے کنفیوز کرنے لگی تھی۔
’’بہو! ادھر آئو۔‘‘ ان کی بارعب آواز میں نہ معلوم کیا تھا کہ وہ تو فوراً ہی ان کی جانب بڑھی تھی‘ موبائل میں مصروف انس نے بھی چونک کرپہلے کرن پھر گرینی کی طرف دیکھا تھا۔
’’جی۔‘‘ کرن کے خشک ہونٹوں سے بمشکل نکلاتھا۔
’’یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے؟ نہ زیور‘نہ کپڑے ہیں ڈھنگ کے اور یہ ہاتھ…‘‘انہوں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے جو بالکل سادہ تھے۔
’’کیوں خالی ہیں؟‘‘ ان کاانداز فرض شناس افسر کی طرح تفتیشی تھا۔ کرن کو وہ وہی گرینی لگی جو ملازمت کے شروع دنوں میں لگا کرتی تھیں۔ سخت مزاج‘ بارعب وغصہ ور۔
وہ جواب میں کچھ نہ کہہ سکی جبکہ انس موبائل جیب میں رکھ کر ان کی طرف متوجہ ہوچکاتھا۔ اس کے انداز میں کافی دلچسپی تھی۔
’’چوڑیاں سہاگ کی علامت ہوتی ہیں اور تم سہاگن ہوتے ہوئے بھی کنواریوں کی طرح حلیہ بنائے گھوم رہی ہو کتنی بری بات ہے۔‘‘ اس کے ہوائیاں اڑتے چہرے پر ان کو ترس آگیا وہ نرم انداز میں گویا ہوئیں‘ ان کا انداز نرم دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی اور چہرے پر دھیمی مسکراہٹ ابھری۔ اس مسکراہٹ میں کچھ ایسی بے چارگی وبھولپن تھا کہ انس ہنس پڑا تھا۔
’’شرم کرو کچھ‘ نئی نویلی دلہن کس حلیئے میں گھوم رہی ہے تمہیں نظر نہیں آرہا؟ اتنی دولت و روپیہ کس کام کا؟‘‘ وہ اب انس کو گھور رہی تھیں جو توپوں کا رخ اپنی جانب دیکھ کر ہنسنابھول گیاتھا۔
’’میں نے کب منع کیا گرینی! یہ جب کہیں میں شاپنگ کرانے کو تیار ہوں۔‘‘
’’یہ کیوں کہے؟ تم کوخود خیال رکھنا چاہئے۔‘‘
’’اوکے‘ اوکے آپ کو آئندہ شکایت کاموقع نہیں ملے گا۔ وہ کہتا ہوا سرعت سے کمرے سے نکل گیاتھا۔
’’آپ کو تو معلوم ہے جو کچھ بھی ہوا کس طرح اور کیسے ہوا ہے۔ اس انداز میں مربوط ہونے والے تعلق جگہ بنانے میں وقت لیتے ہیں میں ابھی یہ سب قبول نہیں کرپائی ہوں تو ان کو نہ معلوم کتنا وقت لگے۔‘‘ گرینی کی ڈھارس بندھوانے اور ہمت دینے پر کرن نے کہا۔
’’ہمارے ساتھ جو ہوتا ہے وہ رب کی مرضی وحکم سے ہوتا ہے۔انسان اس بے جان کٹھ پتلی کی طرح ہے جس کی ڈور اس کے مالک کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ڈورہلاتا ہے اور ہم حرکت کرتے ہیں۔ ہمارا کھانا‘پینا‘سونا‘ جاگنا‘ مرنا‘ جینا‘ سب اس پروردگارکے ہاتھ میں ہے۔ ہم اس کے محتاج ہیں وہ ہم پر قادر ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا وہی ہے اوراس نے تمہارا اور انس کاسنجوگ اسی طرح تحریر کیا تو وہ ایسا ہی ہوا کیوں فضول سوچ کرخود کو ہلکان کررہی ہو۔ رہا سوال انس کاشاید تم سوچ رہی ہو کہ اس نے تمہیں دل سے قبول نہیں کیا محض ان لوگوں سے انتقام لینے کے لئے تمہیں اپنایا ہے تو بیٹا‘ یہ خیال دل سے نکال دو کبھی بھول کر بھی ایسا مت سوچنا کیونکہ میں جانتی ہوں‘ اس کے مزاج کو‘ اس کی طبیعت کو‘ اس کے دل کو۔‘‘ کرن ان کے قریب سرجھکائے بیٹھی تھی او روہ پیار سے سمجھا رہی تھیں۔
’’اس کا ماضی تم سے پوشیدہ نہیں ہے اب جو کچھ ہوا اس سے بھی تم اچھی طرح واقف ہو‘ بے شک محبت وہ طاقت ہے جو پتھروں میں بھی پھول کھلا دیتی ہے۔ سبزہ اگاتی ہے بنجرزمین کو سیراب کردیتی ہے‘ مگر جب محبت نفرت میں بدل جائے تو آگ وتباہی بن جاتی ہے‘ بربادی بن جاتی ہے‘ تم توخود ایک گواہ ہو‘ انس نے جو کچھ کیا وہ نفرت کا ہی انتقام ہے اور مرد کی محبت سے زیادہ شدید جذبہ نفرت ہے۔‘‘ وہ بے حد رسانیت سے اسے سمجھارہی تھیں۔
’’انس میرا بچہ بہت دکھی‘بہت تنہا ہے اسے بہت سارا پیار دینا‘ دیکھنا وہ جتنا باہر سے غصہ ور‘ سنجیدہ ولاپروا دکھائی دیتا ہے اندر سے وہ بالکل الٹ ہے‘ بہت چاہے گا تمہیں‘ بے حد پیار دے گا‘ بس کبھی تم اسے تنہا نہیں کرنا‘ تنہائی کااحساس نہ دینا۔‘‘ اسی دم فاریہ کمرے میں داخل ہوئی تھی ساتھ ملازمہ تھی جس نے کئی شہنیل کے جیولری بکس پکڑے ہوئے تھے۔فاریہ نے ایک جیولری بکس ملازمہ سے لے کر گرینی کی طرف بڑھادیاتھا۔ باقی ملازمہ اس کے اشارے پر دوسرے کمرے کی طرف لے گئی تھی۔ لائٹ پنک ڈھیلے ڈھالے سوٹ میں فاریہ کے چہرے پر ممتا کا نور پھیلا ہوا تھا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’یہ کنگن ہیں میری طرف سے تمہاری رونمائی کاتحفہ۔‘‘ جگمگ کرتے طلائی کنگن اور چوڑیاں انہو ں نے اس کی سونی کلائیوں میں ڈالیں تو وہ جھکا سر نہ اٹھاسکی تھی۔ ایک کے بعد ایک چوڑی وکنگن سے اس کی گوری کلائیاں دمک اٹھی تھیں گرینی نے اس کی پیشانی چوم کر دعائیں دی تھیں۔

مہوش نے حمزہ کے انکار کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا تھا اوربیمار پڑگئی تھی۔ صمد کی بروقت ٹریٹمنٹ سے اس کی طبیعت قدرے بہتر ہوئی تھی مگر اس کی متاثر ہوتی صحت کی وجہ سے راحیلہ بہت فکرمند تھیں۔ سحرش اپنے ہسبینڈ کے ساتھ پنجاب عزیزوں کے ہاں گئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے مہوش کو خود روک لیاتھا کہ وہ گھر میں رہے گی تو کسی نہ کسی طرح حمزہ کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوجائے گی‘ اس طرح ان دونوں بہنوں کا خواب بھی حقیقت بن جائے گا اور وہ حمزہ کے ذہن سے کرن کی محبت کو نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گی مگر…
ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ حمزہ کا رویہ اور کل کی جانے والی گفتگو سے وہ سمجھ گئی تھیں جووہ چاہ رہی ہیں وہ بہت مشکل ہے۔ رات بھر وہ سوچتی رہی تھیں۔ اب ایسا کیا کیا جائے جس کے باعث مہوش حمزہ کی بیوی بن کر اس گھر میں آجائے۔ بے حدسوچ بچار کے بعد بھی وہ کوئی حل تلاش نہ کرپائی تھیں اور نتیجتاً ان کاموڈ بری طرح آف تھا۔ وہ مہوش کے لئے سوپ بنا کرلائیں تو دیکھا وہ خاموشی سے رو رہی تھی۔
’’مہوش بیٹا! کیا حال بنالیا ہے تم نے اپنا سحرش دیکھے گی تمہیں تو مجھ سے بدگمان ہوگی کہ میں نے تمہارا دھیان نہیں رکھا۔‘‘ وہ سوپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولیں۔
’’آپ پریشان مت ہوں آنٹی‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ تیزی سے اپنے آنسو دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’کیسے پریشان نہ ہوں‘ ابھی تم میری ذمے داری ہو۔‘‘ انہوں نے اسے لپٹاتے ہوئے کہا تو ان کے سینے سے لگ کر وہ پھر روپڑی تھی۔
’’میں جانتی ہوں تمہارا درد‘ کل تمہاری اور حمزہ کی سب باتیں سن چکی ہوں‘ جو تمہاری خواہش ہے وہ میری بھی آرزو ہے‘ میں نے بہت عرصہ قبل سے تمہیں حمزہ کی دلہن کے روپ میں دیکھنا شروع کردیاتھا مگر اس کووہ ناگن ایسا ڈس کر گئی ہے کہ وہ اس کے زہر سے چھٹکارا نہیں پارہا ہے کرن کی خاطر وہ ہرخوشی‘ ہرسکھ تیاگ بیٹھا ہے۔‘‘
’’وہ ایسا کیوں ہے پتھردل‘ بے حس و بے نیاز‘جو اسے چھوڑ کر چلی گئی اس کی یاد میں گم رہتا ہے جو اسے چاہتی ہے جو اس کی بننا چاہتی ہے اس کی اسے پروا بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ ان سے علیحدہ ہوتی ہوئی گویا ہوئی تھی۔
’’کیا کروں میں خود اتنی پریشان ہوگئی ہوں۔‘‘
’’میں اس سے پھربات کروں گی‘ شاید مان جائے۔‘‘ اک آس پھر جاگی۔
’’تمہارے لئے لڑکوں کی کمی نہیں ہے کیوں خود کو اتنا کمزور ثابت کررہی ہو‘بے شک حمزہ میرا بیٹا ہے مگر میں یہ نہیں چاہوں گی کہ تم محبت کی بھیک مانگو اس سے‘محبت اعزاز کی طرح حاصل کی جاتی ہے بھیک کی طرح ہرگز نہیں بیٹا۔‘‘ مہوش کی دیوانگی انہیں حمزہ سے بدظن کررہی تھی۔
’’جہاں محبت ہوتی ہے وہاں وضعداری وعزت نفس کا پندار نہیں ہوتا۔ وہ مجھے ٹھکرائے ایک بار نہیں بار بار مگر اپنالے۔ اس کی حالت دیکھ کر راحیلہ بیگم تڑپ اٹھی تھیں اور سیدھی حمزہ کے کمرے میں آئی تھیں۔
’’تم‘ کب تک مجھ سے انتقام لیتے رہوگے اس و قت کا جواب ہمارے درمیان نہیں رہا ہے۔‘‘ وہ آتے ہی بلاتمہید بولی تھیں۔
’’کیا کہہ رہی ہیں ممی آپ؟‘‘ اس کاانداز حیران کن تھا۔
’’وہی جو سمجھ رہے ہو ایک کرن نہیں ملی اس کابدلہ تم سب سے لے رہے ہوخصوصاً مجھ سے اور مہوش سے وہ تمہاری محبت میں کتنا تڑپ رہی ہے‘ تمہیں احساس تک نہیں ہے۔‘‘
’’آپ کو مہوش کی تڑپ نظر آگئی‘ کبھی میرا خیال نہیں آیا ؟‘‘
’’میں جانتی تھی کرن میری بہو بنی تو میں بیٹے سے ہاتھ دھولوں گی‘ اور دیکھو کتنا صحیح فیصلہ تھا میرا‘ وہ تمہاری زندگی میں نہیں آئی جب تم میری پروا نہیں کرتے اگر وہ سچ مچ تمہاری بیوی بن جاتی تو تم چٹیاپکڑ کر مجھے گھر سے باہر نکال دیتے۔‘‘ وہ غصے میں چیخ رہی تھیں۔
’’بدگمانی کی بھی انتہا ہوتی ہے ممی!آپ کو میں ایسا بے حمیت لگتا ہوں اور نہ کرن ایسی تھی۔‘‘
’’ہاں…ہاں میں جانتی ہوں‘ وہ کیسی تھی‘ میرا منہ نہ کھلوائو تو بہتر ہے۔‘‘
’’اوکے‘ اب کیا چاہتی ہیں آپ؟‘‘ وہ طویل سانس لے کر بولا۔
’’تمہیں مہوش سے شادی کرنی ہوگی۔‘‘
’’امپاسبل‘مہوش کو میں پسند نہیں کرتا۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولا۔
’’تمہیں مہوش سے شادی کرنی ہوگی۔یہ میرا حکم ہے۔‘‘
’’الرائٹ‘ میں شادی کرلوں گا‘ مگر پھر کبھی زندگی بھر آپ لوگ مجھے دیکھ نہ پائیں گے‘ کرلیں آپ اپنی مرضی پھر میری مرضی ہوگی‘ مہوش کو صرف میرا نام ملے گا‘ میرا سایہ بھی نہ پاسکے گی وہ‘ میرے دل کی دنیا آپ نے ازخود اجاڑی ہے‘ اور جو بستیاں اجڑجاتی ہیں وہ بسا نہیں کرتی ہیں پھر۔‘‘سالوں کا غبار جو دل میں حشر برپا کئے رکھتا تھا آج راحیلہ کی ہٹ دھرمی کے باعث بہہ نکلا تھا وہ کہتا ہوا باہر نکل گیاتھا۔
راحیلہ گم صم کھڑی رہ گئی تھیں۔
حمزہ نے لہجہ پست اور آواز نرم رکھی تھی مگر پھر بھی انہیں لگا سرعام وہ بے عزت ہوگئی ہوں‘ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی وہ یہ سمجھتی تھیں کہ حمزہ ان کی چال نہیں سمجھ سکا ہے‘ اب معلوم ہوا تھا وہ ان کی ذہنیت سے پوری طرح واقف تھا۔
’’دیکھا آپ نے؟ کیا انعام مل رہا ہے آپ کی بہن اور بھانجی کو رکھنے کا‘ میری اولاد مجھے قصوروار ٹھہرارہی ہے‘ وہ لڑکی اس گھر میں نہیں آئی جب ایسی فضا ہے اگرآجاتی تو کیا ہوتا؟‘‘ وہ عاصم صاحب کو دیکھ کر روتے ہوئے بولیں جو ان کی آواز سن کر آگئے تھے۔
’’کرن اس گھر میں آجاتی تو گھر‘گھربن جاتا‘ تم نے ماں کا نہیں ڈائن کا حق ادا کیا ہے بیٹے کے معاملے میں‘ مائیں بیٹوں کے دل آباد کرتی ہیں‘ تم اس کا دل ہی کھاگئیں‘ اب بھی سکون نہیں ہے‘ بیٹے کو تو باغی کردیا اور کیا چاہتی ہو۔‘‘ عاصم صاحب نے کھری کھری سنائی تھیں۔ اندرمہوش باہر وہ سرپکڑ کر بیٹھ گئی تھیں۔

’’منال! مائی بے بی! ڈیڈی آئیں تو ان سے بہت اچھی طرح بات کرنی ہے‘ بالکل ریلیکس ہوکرتاکہ وہ اچھا فیل کریں۔‘‘
’’مجھے بات نہیں کرنی ان سے۔‘‘ وہ ماں کا ہاتھ جھٹک کر دور ہوئی۔
’’کیوں؟‘‘ وہ حیرانگی سے گویا ہوئیں۔
’’انہوں نے مجھے مارا‘ برابھلا کہا‘ مجھے بات نہیں کرنی ان سے۔‘‘
’’غلطی آپ کی تھی تب ہی۔‘‘
’’آ پ ڈیڈی کی اتنی سائیڈ کیوں لے رہی ہیں؟‘‘ وہ تیوری چڑھا کر فائقہ سے مخاطب ہوئی تو چند لمحوں کے لئے وہ گڑبڑا گئیں۔
’’آپ ان سے ڈائیورس لے چکی ہیں کوئی ریلیشن شپ نہیں ہے آپ کا ان کے ساتھ پھر آپ کیوں ایکسائیٹڈ ہورہی ہیں۔‘‘
’’آئی نو‘ میرا ڈائیورس ہوچکا ہے اور برھان کے ساتھ میراکوئی ریلیشن نہیں ہے مگر تمہارا تو ہے نا‘ تمہارے فادر ہیں‘ تمہاری کیئر کرتے ہیں لو کرتے ہیں تم سے‘ تو یہی ریلیشن کافی نہیں ہے۔‘‘ بہت سوچنے کے بعد ان سے یہی جواب بن پڑا تھا۔
’’سوری مما! یہ پاکستان ہے یہاں وہ سب نہیں جو کینیڈا کا کلچر ہے یہاں آپ کو…‘‘
’’شٹ اپ‘شٹ یورمائوتھ‘ تم حد سے بڑھ رہی ہو۔‘‘ انہیں شدید غصہ آگیا۔ وہ غرائی تھیں۔
’’تم مجھے کنونس کروگی‘ یہ پاکستان ہے یاکینیڈا یہاں کے کلچرز کی تم انفارمیشن دوگی؟‘‘
’’آف کورس مما! وہ شانے اچکا کر لاپرواہی سے بولی۔
’’شٹ اپ رکھو اپنی انفارمیشنز اپنے پاس۔‘‘
’’آپ اتنی ڈسہارٹ کیوں فیل کررہی ہیں‘ میں نے کامن بات کی ہے۔‘‘ منال نے بالوں میں تیز تیز برش چلاتے ہوئے کہا۔
’’تم ابھی ٹھیک نہیں ہو‘ تمہارارویہ نا مناسب ہے تمہیں الیکٹرک شاکڈ کی ضرورت ہے‘ تاکہ تمہارا مائینڈ اوپن ہو اور تمہیں بات کرنے کا سینس آئے۔‘‘
’’آپ کے انداز سے لگ رہا ہے الیکٹرک شاکڈ کی مجھے نہیں آپ کو ضرورت ہے۔‘‘ وہ منہ ٹیڑھا کرکے بولی۔
’’منال…منال! کیا ہوگیا ہے تمہیں‘ یہ کس انداز میں اپنی ماں سے بات کررہی ہو؟ میں اس لئے آئی ہوں کیا؟‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر روہانسے لہجے میں کہا۔
’’میں تو ویسے ہی ہوں‘ مجھے آپ بدلی بدلی لگ رہی ہیں۔‘‘ وہ فائقہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔
’’کیسی بدلی بدلی لگ رہی ہوں میری جان۔‘‘ چندلمحے قبل انگارے برساتے لہجے میں یکلخت شہد گھل گیاتھا۔
’’بہت بدلی ہوئی‘ آپ کو میری فکرنہیں ہے آپ میرے لئے نہیں سوچتی ہیں‘ آپ کو میری پروا نہیں ہے‘ یہ تمام فیلنگز آپ ڈیڈی کے لئے رکھتی ہیں‘ مجھے لگتا ہے آپ یہاں آئی بھی ڈیڈی کی خاطر ہی ہیں۔‘‘ وہ کہتی چلی گئی۔
’’اوہ… پورگرل! ابھی کچھ دیر پہلے کہہ رہی تھیں میرا برھان سے کوئی ریلیشن نہیں ہے۔ اب کہہ رہی ہو میں اس کی خاطر آئی ہوں۔‘‘ وہ اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر مسکرا کر بولیں۔
’’تم ریسٹ کرو مینٹلی ڈسٹربنس کاشکار ہوگئی ہو۔‘‘
’’آپ کامقصد ہے میں پاگل ہوگئی ہوں؟‘‘ وہ غصے سے بولی۔
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا ڈیئر۔‘‘
’’سب جانتی ہوں میں‘ عقل مجھے اب آرہی ہے۔‘‘
’’عقل آرہی ہے تو اسے پوز کرنا بھی سیکھو‘ بلاوجہ کیوں فضول اندیشوں میں مبتلا ہو رہی ہو۔‘‘
’’مجھے انس سے ملنا ہے‘میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ یکدم ہی اسے کوئی خیال آیا تو وہ چونک کر بولیں۔
’’کیوں ملنا ہے‘تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے اس سے۔‘‘وہ سرد لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’ڈیڈی سے کیوں ملتی ہیں ان سے کوئی تعلق ہے آپ کا؟‘‘ منال نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’اسے تمہاری ضرورت نہیں ہے وہ تم سے نہیں ملنا چاہتا۔‘‘ اس کی خود سری وضد دیکھ کر وہ بلامروت بولیں۔
’’نہیں جھوٹ ہے۔‘‘
’’وہ تمہاری اسٹیپ سسٹر کرن سے شادی کرچکا ہے۔‘‘
’’نہیں…نہیں… نہیں وہ مجھ سے شادی کرناچاہتا ہے۔ اس نے کہا تھا میں اس کی دلہن بنوں گی۔‘‘ رفتہ رفتہ اس پر وہی سائیکی کیفیت طاری ہونے لگی تھی‘انس کے نام پر وہ گھائل پرندے کی طرح تڑپنے لگتی تھی۔ فائقہ نے بہلاپھسلا کر اسے میڈیسن کھلائی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ بے خبر سو رہی تھی۔ اس پرکمبل ڈال کر وہ کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی تھیں۔ کھڑکی کے شیشے سے خوبصورت لان کانظارہ اچھا لگ رہاتھا۔ وہ باہر دیکھ رہی تھیں اور ذہن آئندہ کے لائحہ عمل کے تانے بانے بُننے میں سرگرداں تھا۔

انس بیڈ پرلیٹامیگزین پڑھنے میں محوتھا کہ اس کی سماعت میں کچھ نامانوس آواز سی گونجی تھی۔
ایک بار‘دوبار‘تین بار۔
وقفے وقفے سے وہ دھیمی چھن چھن کی آواز خاصی دلکش تھی۔ نہ معلوم کیا کشش تھی اس آواز میں‘ کیا بھید کہ ازخود ہی اس کی سماعت اس آواز پر لگ گئی تھی جو ہوا کے دوش پر لہرا رہی تھی۔ کبھی چھن چھن‘ چھن قریب آجاتی تو کبھی دور چلی جاتی تھی۔
وہ اٹھ کربیٹھ گیا۔ میگزین سائیڈ پررکھا اور سلیپر پہنے بنا کھڑکی کے پردے سے آہستگی سے باہر دیکھااور مبہوت رہ گیا۔
میرون جھلملاتی ساڑی‘ میرون جیولری‘ پشت پر پھیلا برائون بالوں کا آبشار‘ میک اپ سے دمکتاحسین چہرہ‘ جہاں گھبراہٹ پریشانی کی کیفیت نے حسن کو انوکھی جلابخشی تھی۔
اس کا حسن نگاہوں کو خیرہ کررہاتھا۔ اس نے دیکھا اور دیکھتا رہ گیاتھا۔ وہ پریشانی سے ٹہل رہی تھی۔ ادھر آتی‘ ادھرجاتی‘ اضطراب سے انگلیاں مروڑتی اور اس حرکت سے خاموش ماحول میں چھن چھن کی مدھر آواز گونج رہی تھی۔جو اس کے ہاتھوں میں موجود چوڑیوں وکنگنوں کی تھی۔ اس کے اندرجذبات کی طغیانی تلاطم برپاکرنے لگی۔
وہ کرن تھی۔
وہی کرن جس کی زندگی اس نے ایک عرصہ مشکل بناڈالی تھی۔ اس کی تذلیل وتضحیک میں وہ حد سے بڑھ جایا کرتا تھا مگر اب وقت کروٹ بدل چکاتھا‘ اس کی بیگانگی وبے نیازی محبت میں بدل چکی تھی۔ وہ آہستگی سے پردہ ہٹا کر دروازے سے باہر نکل آیا تھا۔
کرن اچانک اسے سامنے دیکھ کر گھبرا کررک گئی۔ وہ دونوں آمنے سامنے تھے۔
کرن کے چہرے پر گھبراہٹ‘ اضطراب وحیا کے دلکش رنگ تھے۔ انس کی آنکھوں میں وارفتگی‘ پسندیدگی ومسرتوں کی چمک تھی وہ دونوں ہاتھ سینے پرباندھے پرشوق انداز میں اس کی جانب دیکھ رہاتھا۔ اس کے وجیہہ چہرے پرآسودہ مسکراہٹ تھی۔
ایک ایسی طمانیت بھری مسکراہٹ!
جو دل کے چمن کی آرزوئوں کے تمام گلاب کھل جانے سے پیدا ہوتی ہے۔ کئی خاموش لمحے اسی طرح گزر گئے۔
’’ویری نائس‘ بہت کیوٹ لگ رہی ہو۔‘‘ وہ اس کے بالکل قریب آکربوجھل لہجے میں گویا ہوا۔
’’وہ…وہ گرینی اور فاریہ بھابی نے… زبردستی ہی۔‘‘ اس کی پرحدت نگاہوں کی تپش سے اس کے عارضوں پر سرخی پھیل گئی تھی۔ ان ساعتوں میں اسے انس سے اتنی حیا آئی کہ وہ پھر بول نہ سکی اور رخ موڑ کر اس کی جانب سے کھڑی ہوگئی۔
’’تھینکس گاڈ! آپ کونہ سہی‘ انہیں تو مجھ پرترس آیا۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھامتے ہوئے سرگوشی کی اور کمرے میں لے آیا تھا۔
’’کل ہم یہاں سے روانہ ہوجائیں گے یہ ہمارا ہنی مون پریڈ ہوگا۔ میں چاہتا ہوں‘ اپنی نئی زندگی کی ابتدا یہیں سے ہو اپنے ملک سے‘ اپنے گھر سے۔‘‘ وہ کرن کا ہاتھ تھامے سنجیدگی سے کہہ رہاتھا۔
’’ہماری نئی زندگی کی شروعات میں کوئی جھوٹ‘ کوئی مبالغہ آرائی کی رمق نہیں ہوگی‘ اپنے ماضی کا چیپٹر میں ہمیشہ کے لئے کلوزڈ کررہا ہوں‘ جوبھی ہوا وہ یاد رکھنے کے قابل نہیں ہے‘فراموش کرنے کے لئے ہے اور میں فراموش کرچکا ہوں۔ زندگی کی آخری سانس تک میری تمام محبتوں کی حقدار صرف تمہاری ذات رہے گی‘ میری وفائیں فقط تمہارے لئے ہیں۔‘‘ اس نے کرن کے ہاتھ کو آنکھوں سے لگاتے ہوئے صداقت بھرے لہجے میں کہا۔

سردی میں شدید اضافہ ہوگیا تھا۔
آسمان پرسیاہ بادلوں کی فوج تیار تھی‘ کسی بھی وقت برسنے کو‘خنکی بڑھ گئی تھی‘ سرد ہوائیں پھولوں کی خوشبو لئے ہرسو گھوم رہی تھیں۔ فائقہ گرم شال اوڑھتی باہر نکل آئی تھیں اور باہر نکلنے سے قبل وہ منال کو نیندآور دوا دینا نہ بھولی تھیں۔
وہ آکر باہر برآمدے کی چھت کے آگے بنے شیڈ کے نیچے رکھی چیئرز میں سے ایک پر بیٹھ گئی تھیں۔ ماحول میں رچی بسی اداس خاموشی‘ انہیں بڑی کیف آور لگی جو ان کے برسوں سے خوابیدہ جذبوں کو بیدار کررہی تھی۔ ہوا کا تیز جھونکا آیا اور دیواروں وستونوں سے لپٹی بیلوں سے گرے سرخ‘ جامنی‘ نیلے‘ پیلے پھولوں کو لان کی سبز گھاس پردور دور تک بکھیر گیاتھا۔ ان کے اندر بھی ماضی کی ایسی ہی ہوائیں جھوم کر یادوں کے پھولوں کو بکھیرنے لگی تھیں۔
ماضی کی کتاب جب کھل جائے تو یادوں کے اوراق ازخود بکھرنے لگتے ہیں جنہیں سمیٹتے سمیٹتے آپ خود بکھرنے لگتے ہیں‘ کھوجاتے ہیں۔ انہوں نے آنکھیں بند کرکے کرسی کی بیک سے سرٹکا لیاتھا۔ وہ بیتے دنوں کی گرفت میں پوری طرح جکڑی ہوئی تھیں۔
ان کی برھان لغاری سے لومیرج تھی‘ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ ایک دوسرے کے پیار میں اس طرح جکڑے کہ تعلیم سے فارغ ہوتے ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے۔شادی کے ابتدائی ایام بہت خوبصورت ویادگارگزرے تھے پھر رفتہ رفتہ برھان بزنس اور دوسری ایکٹویٹیز میں مصروف ہوئے اور انہیں گھر میں موجود ساس سے واسطہ پڑاتو معلوم ہوا پھول کے سنگ کانٹا بھی ہے جو بہت مختلف اور خطرناک ہے برھان اور ان کے والد فیضان لغاری نے انہیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کبھی کہ وہ ان کے ہم پلہ نہیں ہیں۔ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں مگر خود کو اس طرح مین ٹین کیاتھا کہ ان کی اصلیت معلوم نہ ہوسکی‘ برھان کو بھی جب معلوم ہوئی تب وہ بہت دور اس کی چاہت میں جاچکے تھے۔ پھر محبت کا جادوجب سرچڑھ کر بولتا ہے تو کہاں حسب نسب‘امیری غریبی کی تفریق رہتی ہے‘ وہ اسے اپنا کر بھول گئے مگر ان کی ماں اس فرق کو جو ان کی نگاہوں میں عیب تھا کبھی نہ بھولی تھیں۔
شادی کے چھ ماہ بعد ہی ان میں آپس میں ٹھن گئی تھی‘ وجہ وہی تھی ساس بہو کی ازلی جنگ‘ ساس کا خیال تھا بہو اس سے ان کے بیٹے کو چھین رہی ہے‘بہو کی سوچ تھی اس کے خاوند پرصرف اس کا حق ہے دونوں کے درمیان رسہ کشی جاری تھی‘ برھان کی بھنوراصفت فطرت آفس میں نئی اپائنٹ ہوئی کمپیوٹر آپریٹر کی رنگین ادائوں پر ریجھ گئی تھی۔ وہ ڈبل گیم کھیلنے لگے گھر میں جانثار پروانے کی مانند بیوی کے اردگرد منڈلاتے رہتے‘ آفس میں ان کی دنیا اس آپریٹر تک محدود ہوتی تھی۔
مرد کے بدلتے تیور عورت کی نگاہوں سے زیادہ عرصہ اوجھل نہیں رہتے‘ فائقہ کی نگاہوں میں بھی سب آگیا تھا۔ شروع میں ان میں بہت چپقلش رہی تھی۔ برھان نے کچھ عرصے خود پرجبراً پابندیاں لگائی تھیں مگر کب تک وہ صرف ایک کے رہتے پھر اس دوران والدہ حضور نے بھی ان کے کان بھرنے شروع کردیئے تھے۔ وہ پہلے ہی خود پر لگائی گئی پابندی سے بیزار ہوگئے تھے‘ مزید موقع ماں کی باتوں نے فراہم کیا اور وہ فائقہ سے دور ہوتے گئے تھے۔
فائقہ جو دولت مند بننے کے خواب آنکھوں میں سجا کر وہاں آئی تھیں بہت جلد تعبیر ملنے پروہ سب سے لاپروا ہو کربرھان کے نقش قدم پر چلنے لگی تھیں۔ برھان کے افیئرز کی انہیں کوئی ٹینشن اب نہ ہوتی تھی کہ وہ برھان سے بھی زیادہ کامیاب طریقے سے اپنے من پسند دوستوں کے ساتھ وقت گزارتی تھیں اور برھان کو کبھی شک نہ ہوتا تھا‘ اسی طرح وقت گزرتا رہا‘ ساس سے تعلقات خراب سے خراب تر ہوتے گئے‘ وہ ایک بچی کی ماںبن چکی تھیں مگر نہ ان کی ڈگربدلی تھی نہ برھان راہ راست پرآئے تھے۔ اسی دوران وہ سب کچھ ہوگیا جس کی انہیں کبھی امید نہ تھی‘ وہ اس آفس ورکر کی وجاہت وانداز پراس طرح مرمٹی تھیں کہ پھرانہیں نہ اپنی عزت کاخیال رہا‘نہ برھان کی‘ وہ منال کا خیال بھی نہ کرسکی تھیں کہ اس پران کی اس حرکت کا کیا اثر ہوگا‘ وہ اس کی محبت کے ایسے جنون میں مبتلا ہوئی تھیں۔
محبت اور اس کاجنون!
پانی کے اس بلبلے کی طرح ہے جو جتنی شدت سے ابل کراوپر آتا ہے اور نیچے غائب ہونے میں اسے لمحہ بھی نہیں لگتا اور سب ختم ہوجاتا ہے۔
جو رشتے ناجائز جذبوں کی زمین پرتعمیر کئے جاتے ہیں وہ کبھی بھی پائیدار وپختہ ثابت نہیں ہوتے ہیں‘ ہوس کی آگ بجھتے ہی سب راکھ ہوجاتے ہیں اوراس راکھ کی سیاہی و بدصورتی آپ کے دامن پر‘ آپ کے آنچل پر‘ آپ کے کردارپر ہمیشہ کے لئے چسپاںہوجاتی ہے جو آپ سے وابستہ لوگوں کے لئے بھی انگشت نمائی ورسوائی ثابت ہوتی ہے۔
معاً انہیں احساس ہوا ان کے پیچھے کوئی آکر کھڑا ہوا ہے۔ انہوں نے گردن موڑ کر دیکھا برھان لغاری کھڑے تھے۔
’’آر یو رائٹ؟‘‘وہ ان کے شانے پرہاتھ رکھ کر استفسار کرنے لگے۔
’’یس… آئم فائن۔‘‘ اپنے شانے پررکھے ان کے ہاتھ نے ان کے اندر ایک مانوس سا کھویا کھویا احساس جگایا‘ انہوں نے برھان کی طرف دیکھا جن کی سرخ ڈوروں والی بے خواب آنکھوں میں بھی کچھ ایسا ہی احساس کروٹیں لے رہاتھا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوںمیں دیکھتے رہے تھے۔شاید گزرے دنوں کی اچھی یادیں انہیں اپنے سحر میں جکڑنے لگی تھیں۔
’’کیوں چلی گئی تھیں مجھے چھوڑ کر؟ کیا میں اتنا برا تھا؟‘‘ وہ دوسری چیئر پر ان کے روبرو بیٹھے ہوئے آزردہ انداز میں گویا ہوئے تھے۔
’’وہ راستہ مجھے آپ نے ہی دکھایا تھا۔‘‘ وہ آہستگی سے گویا ہوئیں۔
’’ہمارے معاشرے میں مردوں کے لئے یہ سب قابل معافی ہوتا ہے پھر وہ ہسبنڈ جو وائف کو فل کمفرٹ ایبل لائف دے رہا ہو ہرقسم کی آزادی وخودمختاری فراہم کررہا ہو اگر وہ کچھ افیئرز میں انوالوہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘‘
’’یہی سوچ غلط ہے برھان! مردوں کی‘وہ سوچتے ہیں ہم نے خوبصورت گھر دیا ہے‘ ہر طرح کا آرام دیا ہے‘ آزادی دی ہے‘ عورت کو اور محبت بھی۔ مگر اصل بات یہ ہے روپیہ‘ دولت‘آزادی‘ عیش وآرام اور خوبصورت گھر عورت کی خواہشوں میں شامل ضرور ہیں لیکن سب سے پہلی اور آخری خواہش ہرعورت کی یہی ہوتی ہے کہ جو اس کاخاوند ہے جس کی خاطر وہ اپنے تمام سگے رشتوں کو چھوڑ کرآئی ہے وہ صرف اور صرف اس کا ہو یہ خواہش یہ آرزو ہرعورت کی ہے‘ خوا ہ وہ گائوں کی ہو یاشہر کی‘ ویسٹ کی ہو یا ایسٹ کی ہر طبقے کی عورت ایسی ہی خواہش مند ہوتی ہے۔ بنگلے‘ کاریں‘ دولت وعیش وآرام یہ سب اس وقت خاک بن جاتا ہے جب بیوی کومعلوم ہو اس کا خاوند فلاں عورت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ وہ لمحہ انکشاف ایک آگ ہوتا ہے‘ ایسی آگ جو پل بھر میں ہرشے کو جلا کر بھسم کردیتی ہے‘ تباہ کردیتی ہے‘ آپ اس درد کو‘ اس اذیت کو نہیں سمجھ سکتے‘ جو مرد کی بے وفائی وہرجائی پن سے عورت کوملتی ہے۔‘‘ فائقہ کی آواز بھراگئی تھی۔
’’مرد جتنی توقع عورت سے رکھتا ہے کہ وہ اس کی وفاداری پاکبازی پرذرامیل نہ آنے دے تو مرد کو بھی اتنا ہی پاکباز‘ باوفا وباکردار ہونا چاہئے ورنہ کچھ عورتیں میری طرح خود کوتباہ کرلیتی ہیں‘ اور جو منقسم مزاج نہیں ہوتی ہیں وہ اندر سے کھوکھلی ہوجاتی ہیں مرتے دم تک ان کے اندر شادابی وطمانیت نہیں ابھرتی آرام دہ زندگی وہی ہوتی ہے جس میں بیوی کو یہ فخر ویقین ہوتا ہے کہ اس کا خاوند صرف اس کا ہے‘ عورت روٹی بانٹ کر کھاسکتی ہے مگر مرد کابٹوارا ہرگز برداشت نہیں کرسکتی ہے جو مرد یہ سوچتے ہیں عورت کو پرتعیش زندگی دے کر وہ ہرناجائز وگمراہ کن حرکات کے مرتکب ہونے کے حق دار ہیں تو وہ جان لیں انہوں نے اپنے آشیانے بکھیرنے کا انتظام کرلیا ہے‘ یقین کاایک جھونکا ان کے آشیانے کاتنکاتنکا بکھیردے گا‘ شک کی ایک چنگاری سب کچھ راکھ بناڈالے گی‘ اسی طرح جس طرح ساحل پر بنے ریت کے گھروندوں کو صرف ایک لہرمٹاڈالتی ہے۔‘‘ ملازمہ کافی لے آئی تھی اور انہیں سروکرکے چلی گئی تھی۔
’’بلیک کافی… آپ کو یاد ہے ابھی تک کہ مجھے بلیک کافی پسند ہے وہ بھی ایسے سرد موسم میں۔‘‘ وہ خوشگوار حیرت سے بولیں۔
’’میں بھولا ہی کیا ہوں‘‘ وہ مگ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے گویا ہوئے۔ ان کے درمیان خاموشی درآئی تھی سرد موسم میں رات کی رانی کی بھیگی بھیگی مہک احساسات کو فرحت آمیز احساس بخش رہی تھی۔
ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کچھ دیر قبل دیکھنے والے اب نگاہیں چرا رہے تھے‘قدرے توقف کے بعد فائقہ نے کہا۔
’’منال بہت اپ سیٹ ہوگئی ہے مجھے ڈر ہے کہ…‘‘
’’میرے سامنے نام مت لو اس کا۔‘‘ وہ فائقہ کی بات قطع کرکے غصے سے بولے‘ ان کے چہرے پرناگواری پھیل گئی تھی۔
’’پلیز کول ڈائون‘ اگر ہم بھی ایساہی بی ہیویئر کریں گے تو کون کیئر کرے گااس کی وہ ازحدڈسٹرب ہے۔‘‘
’’زیادہ پریشان کرتی ہے تو مینٹل ہاسپٹل میں ایڈمٹ کردو‘ ایسی کریزی لڑکیوں کا یہی اینڈ ہے۔‘‘
’’برھان! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ شی از رئیل یورڈاٹر۔‘‘
’’ڈاٹر! گوٹوہیل‘اس سے بہتر تھا میں بے اولاد رہتا۔‘‘
’’پلیز‘ آپ کمپرومائز کریں‘ اس کی حالت بگڑتی جارہی ہے‘ میں نے ہاسپٹل میں ڈاکٹر سے بات کی ہے وہ کہہ رہے ہیں ہمیں جلد ازجلد منال کی شادی کردینی چاہئے‘ اس کی لائف چینج ہوگی تو وہ ٹھیک ہوجائے گی۔ مجھے بھی یہ ایڈوائز پسند آئی ہے۔‘‘
’’شادی… ابھی کیسے کرسکتے ہیں‘ اس کی طلاق کو عرصہ کتنا ہوا ہے۔‘‘
’’ابھی نہیں اس کا پیریڈ کمپلیٹ ہونے میں تین چار ماہ کاعرصہ لگے گا‘ تب تک ہم کسی ایسے لڑکے کو دیکھ لیں گے جو منال کوایسے چاہے جس طرح ہم چاہیں۔‘‘ انہیں نرم دیکھ کر وہ کہہ رہی تھیں۔
’’جوچاہو کرو‘ مگر مجھ سے امید مت رکھنا‘ کسی بھی قسم کی سپورٹ کی‘ علاوہ اخراجات کے‘میں تمہارے کسی بھی کام میںشریک نہ ہوں گا۔ میرا ذکر بھی نہیں آنا چاہئے۔‘‘ وہ یکلخت بھڑک گئے تھے۔
’’آلرائیٹ۔ آپ ڈپریسڈ مت ہوں‘ مجھے آپ کی پرمیشن درکار تھی‘ سب کام میں کرلوں گی۔‘‘ برھان لغاری کو دیکھ کر وہ بھی اٹھ گئی تھیں۔

حمزہ رات گئے تک گھر لوٹا تھا۔ ممی سے نہ چاہنے کے باوجود آج وہ سب کہنا پڑاتھا جو وہ کہنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر ان کا کرن کو الزام دینا‘ برا کہنا اسے قطعی نہیں بھایا تھا۔ کرن سے محبت اور نہ پانے کا دکھ اسے گھائل کرچکاتھا وہ زخم اسے لمحہ لمحہ ٹیسیں دیتے رہتے تھے پھر ایسے میں اس کے متعلق کوئی ایسی گفتگو کرجائے تو ان زخموں سے لہو رسنے لگتاتھا۔ بے کلی واذیت دوچند ہوجاتی تھی وہ کسی گھائل پرندے کی طرح تڑپنے لگتا تھا۔ کئی گھنٹے سڑکوں پر رش ڈرائیونگ کرنے کے بعد وہ گھر لوٹ آیا تھا رات گہری ہوچکی تھی۔
چوکیدار نے گیٹ کھولا وہ کارپارکنگ لاٹ میں کھڑی کرکے آگے بڑھ گیا۔ اندر صرف لابی کی لائٹ آن تھی اور سب جگہ اندھیرا تھا۔ گھروالے سوچکے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں چلاآیا جہاں اندر قدم رکھتے ہی وہ حیران رہ گیاتھا۔ کمرے میں لیمپ روشن تھا اورعاصم صاحب اس کے بیڈ پرکمبل اوڑھے تکیوں کے سہارے نیم دراز کسی کتاب کامطالعہ کررہے تھے۔
’’پاپا! آپ!خیریت تو ہے نا؟‘‘ استعجاب وپریشانی اس کے چہرے سے جھلکنے لگی تھی۔
’’باپ بیٹے کے روم میں آئے تو کوئی پریشانی والی بات ہوتی ہے؟‘‘ وہ کتاب ٹیبل پررکھ کر چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’کوئی خاص بات تو ضرور ہوتی ہے۔‘‘ وہ جوتے اتارتا ہوا بولا۔
’’تمہارے ہونٹوں پرمسکراہٹ کتنی اجنبی‘ کتنی نامانوس لگ رہی ہے تم نے مسکرانا کیوں چھوڑ دیا ہے؟‘‘
’’میرا ختیار ہوتو جینا ہی چھوڑ دوں۔‘‘ اس نے تلخی سے سوچا۔
’’مجھے بہت پہلے بتادیتے کرن کے متعلق تووہ سب نہ ہوتا جو ہوا ہے۔ کرن کو تمہاری دلہن بنانے کی تمنا تو میری بھی تھی۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں کہہ رہے تھے۔ ملال وتاسف ان کے انداز سے عیاں تھا۔
’’وہ میرے نصیب میں نہیں تھی۔‘‘ نہ معلوم وہ خود کو بہلا رہاتھا یاان کو‘عاصم صاحب اس کے چہرے کی جانب دیکھتے رہ گئے۔
’’یہ نصیب وتقدیر کی باتیں بعد کی ہوتی ہیں۔‘‘
’’پاپا! اب یہ گفتگو لاحاصل وبے معنی ہے اگر ہم اس ٹاپک پر بات کریں جس پربات کرنے کے لئے آپ یہاں موجود ہیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘
عاصم صاحب نے شفقت بھرے انداز میں بیٹے کی جانب دیکھا جس کا پھول کی طرح شاداب نظرآنے والا چہرہ کملا کررہ گیاتھا۔ خوبصورت برائون آنکھوں کی شفاف سطح میں اداسی وہجر‘ دکھ کے رنگ ثبت تھے۔وہ دل مسوس کررہ گئے بیٹے کی اس حالت کے مجرم وہ خود کو گرداننے لگے تھے۔
’’اتنی سردی ہو رہی ہے بارش برسنے کوتیار ہے اور تم صرف سوٹ میں ملبوس ہو سوئیٹر‘ جیکٹ کچھ بھی نہیں ہے تمہارے پاس‘ اتنی لاپروائی ٹھیک نہیں بیٹا‘ اب کسی مزید دکھ جھیلنے کی قوت نہیں ہے‘ مت لو ہماری ہمت کا امتحان ہم پہلے ہی شکست خوردہ ہیں۔‘‘
’’پلیز پاپا!‘‘ اس نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
’’آئم سوری‘ میرا ارادہ آپ کی دل شکنی کانہ تھا میں بالکل ٹھیک ہوں‘ آپ پریشان نہ ہوں‘ چلیں بتائیں وہ جو آپ کہنے آئے تھے۔‘‘ عاصم صاحب کی آنکوں میں آنسو چمکتے دیکھ کر بوکھلا اٹھا تھا۔ ان کا دل بہلانے کی خاطر اس نے اپنے مزاج میں شگفتگی پیدا کی اورایزی ہوکربیٹھ گیا۔
’’میں چاہتا ہوں‘ بزنس میں میری بیک بنو‘اب مجھ سے تنہا یہ بوجھ نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ وہ نڈھال انداز میں کہہ رہے تھے۔
’’ٹھیک ہے پاپا! آپ ٹینشن نہ لیں‘ میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائوں۔‘‘ اس نے سعادت مندی سے کہا۔
’’ایک التجا اور ہے اگر تم مانو تو۔‘‘
’’آپ حکم دیں پاپا۔‘‘ باپ کے انداز پر وہ تڑپ اٹھا تھا۔
’’شادی کرلو۔‘‘ عاصم اس کی جانب دیکھتے ہوئے امید آمیز لہجے میں بولے۔ حمزہ کے چہرے پر تاریکی سی چھاکرمعدوم ہوئی تھی۔
’’یہ میری خواہش ہے شدید تر آرزو بھی وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ ہرگزرتالمحہ زندگی کی نقدی گراتا جارہا ہے پھر حیات تو ہوائوں کے دوش پررکھے اس چراغ کی مانند ہے نہ معلوم کب اور کس لمحے ہوا کا کوئی زور آور جھونکا چراغ حیات کو گل کردے پھر انسان صرف یادبن جاتا ہے‘ خواب بن جاتا ہے۔‘‘
’’پلیز‘ آپ ایسی باتیں نہ کریں‘ ابھی آپ کو جینا ہے لمبی عمر۔‘‘
’’زندگی کی طرح موت بھی حقیقت ہے بیٹا۔ پیدا ہوئے ہیں تو مریں گے بھی‘ آئے ہیں تو جانابھی پڑے گا۔ رب ذولجلال سے یہی دعائیں ہیں مرنے سے قبل قبر کی آخرت کی تیاری کروادے اور یہاں جو فرائض وذمے داریاں ہیں ان سے عہدہ برکروادے تو…‘‘
’’آپ جو کہیں گے‘ میں کروں گا…مگر پلیز ایسی باتیں نہ کریں‘ جو مجھے بے سکون کرڈالیں۔‘‘

آج ان کی روانگی تھی۔
کرن کی آنکھیں بار بارچھلک جاتی تھیں‘ فاریہ آتے جاتے اس کوچھیڑ رہی تھی۔ بھیگی آنکھوں سے وہ جھینپ کر مسکرانے لگتی تھی۔ دھوپ وچھائوں کا مزاج ہو رہاتھا اس پر‘ گرینی جو گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لے رہی تھیں‘ ا س کے بار بار چھلک جانے والے آنسو ان سے مخفی نہ رہ سکے تھے۔ ان کے دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوگئی۔ انہوں نے اسے اپنے قریب بٹھا کر پوچھا۔
’’انس نے کچھ کہا ہے؟ کیا تم خوش نہیں ہو؟‘‘ ان کی جہاندیدہ نگاہیں عینک کے پیچھے سے اسے کھوج رہی تھیں‘ کھنگال رہی تھیں دل ان کاوسوسوں واندیشوں کاشکار تھا‘ مبادا انس نے ابھی تک منال کی محبت کو دل سے نہ بھلایا ہو‘ کرن کووہ جگہ نہ دی ہو جو اس کے دل میں منال کے لئے تھی۔ اور بھی ایسے بے مقصدخیال انہیں متوحش کررہے تھے۔
حالانکہ صبح انس کو خوش ومطمئن دیکھ کر وہ پرسکون ہوگئی تھیں اب بھی سیٹنگ روم سے اس کے دوستوں کے ساتھ گونجتے قہقہوں سے وہ اس کی آسودگی وخوش ہونے کا انداز ہ لگا رہی تھیں اور شکر اداکررہی تھیں کہ اسے نئی زندگی کی خوشیاں راس تو آگئیں مگر کرن کے آنسو انہیں فکرمند کرگئے تھے۔ اس لئے وہ تنہائی میں بٹھا کراس سے دریافت کررہی تھیں۔
’’نہیں… انہوں نے کچھ نہیں کہا۔‘‘ ان کے استفسار پر گھبرا کر بولی۔
’’سچ کہہ رہی ہو؟‘‘ وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔
’’جی…بالکل سچ۔‘‘
’’شکر ہے رب کا‘ ورنہ تمہارے آنسو دیکھ کر میں ڈر گئی تھی۔‘‘ انہوں نے اس کے انداز سے سچائی پالی تھی‘ ان کے چہرے پر اطمینان کارنگ پھیل گیا۔
’’بہو! جن کو اپنے بڑوں کا سایہ ملا ہوتا ہے وہاں لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں کہ بڑوں کی دعائوں کاحصار انہیں ہر بری بلاوناگہانی آفتوں سے بچاتا ہے۔ اب میں ہی تمہاری بڑی ہوں اور میری دعائیں ہمیشہ اپنے بچوں کے گرد ہوں گی‘ میری تمنا پوری ہوگئی۔ انس کے لئے میں جیسی بیوی چاہتی تھی اللہ نے ایسی ہی عطا کی ہے‘ تمہاری خوبیوں کی‘ تمہاری قابلیت کی‘ میں خود معترف ہوں‘ اس گھر کو کھوئی ہوئی روشنی ملی ہے۔‘‘ گرینی کی اپنائیت واعتماد اس تشنگی کوسیراب کرنے لگا جوآج ماں کی یاد کی صورت میں بار بار آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔
’’میں چاہتی ہوں میرے گھر کی اس روشنی میں اضافہ ہوتا رہے‘ میرے گھر کا ہر ذرہ آفتاب بن جائے۔ میری نصیحت کوہمیشہ یاد رکھنا خاوند کی محبت بڑی انمول ہوتی ہے جو عورت اس کی قدر کرتی ہے وہی پھلتی پھولتی ہے‘ میں چاہتی ہوں تمہیں کوئی دکھ نہ ملے‘ تم خوش رہو‘ عورت کی خوشی سے ہی تو گھر جنت بنتا ہے اس کے لئے تمہیں انس کی ہاں میں ہاں ملانا ہوگی‘ اس کی ماننا ہوگی‘ میں جانتی ہوں انس عام بچوں سے مختلف مزاج کا ہے وہ بچپن سے آج تک کبھی اعتدال کی راہ پر نہیں چلا ہے ا س کے ہر انداز میں شدت پسندی کا رجحان ہوتا ہے۔ منال سے محبت کی تو اپنی ذات فراموش کربیٹھا تھا‘ اور جب نفرت کی تو تم نے دیکھا کتنی شدت کتنی جارحیت تھی کیونکہ نفرت و محبت ایک سکے کے دو پہلو ہیںدورخ ہیں میں چاہتی ہوں تم پر صرف اور صرف اس سکّے کا ایک رخ استعمال ہو محبت اور صرف محبت کا۔‘‘
’’بہت شکریہ گرینی‘ آپ نے جو مجھے بھرپور اپنائیت و انسیت دی ہے اس احساس نے مجھے ازحد تقویت وطمانیت دی ہے۔ آپ نے جو مجھے سمجھایا میری زندگی ان ہی سنہری باتو ں پرعمل پیرا ہو کر گزرے گی۔ یہاں سے جاکر مجھے بڑی شدت سے انتظار رہے گا‘ آپ کی آمد کا‘جلد آئیے گا۔‘‘ وہ عقیدت آمیز لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’انشااللہ‘ ساتھ خیریت کے اللہ فاریہ کو خوشی دیکھنا نصیب کرے۔‘‘
گرینی کے پاس سے وہ فاریہ کے پاس آگئی جو اپنی نگرانی میں کچن میں ملازمائوں سے کام کروارہی تھی۔ ان کی رات کی فلائٹ تھی گرینی نے انس کے دوستوں اور کچھ خاص جاننے والوں کو ڈنر پر بلوایا تھا کھانا باہر سے بنوایا تھا اب بھی ملنے جلنے والوں کی آمد کے باعث کچن میں کچھ نہ کچھ بن رہاتھا جس کی نگرانی فاریہ نے سنبھالی تھی تاکہ مہمانوں کی تواضع بہترین طریقے سے ہوسکے۔
’’ارے…ارے دلہن صاحبہ! آپ کہاں خراماں خراماں کچن میں چلی آرہی ہیں۔آپ کا یہاں داخلہ ممنوع ہے۔‘‘ فاریہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کچن کے گیٹ سے ہی باہر لے آئی تھی۔
’’کیوں بھابی!‘‘ وہ حیرانگی سے گویا تھی۔
’’ابھی آپ نئی نئی دلہن ہیں اس لئے۔‘‘ وہ شوخی سے بولی تو وہ جھینپ گئی۔
’’آپ آرام کریں میں دیکھ لوں گی۔‘‘
’’اب تو آرام ہی کرنا ہے آئو کچھ دیر بیٹھو پھرتیار ہونا ہے۔‘‘
’’میرے تو خیال میں یہ لباس برا تو نہیں۔‘‘ وہ گرے کلر کے فینسی سوٹ پرنگاہ ڈال کر دریافت کرنے لگی جو آج زیب تن کیا تھا۔
’’ہاں‘ برا تو نہیں ہے مگر ڈنر پارٹی کے حوالے سے مناسب نہیں ہے۔‘‘
’’کیا کافی تعداد میں مہمانوں کو انوائیٹ کیا گیا ہے؟‘‘
’’ہاں‘ دراصل یہ ڈنرپارٹی ایک دعوت ولیمہ ہے جو گرینی کی خواہش پر ارینج کی گئی ہے۔ لسٹ میں کم سے کم کے باوجود خاصے نام ہیں۔‘‘
ایک گھنٹے تک وہ بیٹھی باتیں کرتی رہیں پھر فاریہ کے کہنے پر وہ اپنے روم میں چلی آئی تھی تاکہ کچھ دیرآرام کرسکے۔
اسے لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ انس چلاآیا تھا وہ ایکدم اٹھ کربیٹھ گئی۔
’’ریلیکس یار! آرام کرو ابھی پارٹی نمٹانی ہے پھر ایک طویل سفر درپیش ہے۔‘‘ وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکراکربولا۔
بلوجینز‘ریڈ شرٹ میں اس کے چہرے پرسرشاری تھی‘ سرمستی تھی‘ کسی بھی انداز سے‘ کسی فعل سے محسوس نہ ہو رہاتھا کہ وہ محبت کی بازی ہارا ہوا ہے‘ اس کی محبت وہ نہیں کوئی اور تھی جس کو کھو کر وہ خود کو بھی کھوبیٹھا تھا اپنے یقین واعتماد کو بھی حواسوں میں لوٹا تو سود سمیت منال کو سب کچھ واپس کردیاتھا اس کی محبت جنونی تھی تو نفرت کی کوئی حد نہیں تھی‘ ان کی چاہت کی ندی جس طرح چڑھی تھی اسی طرح اتری تھی۔
’’ایسے چوری سے کیوں دیکھ رہی ہو آپ کا اپنا ہوں‘ بلاجھجک دیکھئے بائی داوے لگ کیسا رہا ہوں؟ ہوں بتائونہ؟‘‘ وہ عین اس کے سامنے بیٹھ کر شوخی سے کہہ رہا تھا اس کی نگاہیں وارفتگی شوق سے اس کے چہرے پر جھکی ہوئی تھیں۔ ملبوس سے پھوٹتی دلاویز مہک سانسوں کی گرمی انگارے بن کر اس کی نس نس میں اتر گئی تھی‘ چہرے پر تمام جسم کا خون سمٹ آیا تھا۔
’’ہوں‘ بتائونہ کیسا لگ رہا ہوں؟ یہ فائول ہے کل تمام رات میں نے آپ کی مدح سرائی میں گزاری اور ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ ایک لفظ تعریف کے بھی لائق نہیں ہیں۔‘‘ وہ مصنوعی ناراضگی سے گویا ہوا‘ انداز میں شرارت پنہاں تھی۔ کرن اس کی شرارت نہ سمجھ سکی تھی بے حد پریشان ہوگئی تھی چند گھنٹے قبل ہی تو گرینی نے نصیحت کی تھی کہ انس کی چاہت ہمیشہ پانے کے لئے اس کی ہاں میں ہاں ملانی ہوگی‘ وہ جو کہے اس سے انکار نہ ہوگا‘ اسے نہیں معلوم تھا یہ اقرار واصرار کے مراحل اتنی جلد شروع ہوجائیں گے اورا س کی پہلی فرمائش بھی اتنی بے باک ہوگی۔
کرن نے آہستگی سے اس کی طر ف دیکھا وہ جو ابھی جذبوں کے دینار لٹا رہا تھا پل بھر میں اس سے اجنبی بنا رخ پھیرے بیٹھا تھا۔
’’محبت اور نفرت ایک سکے کے دوپہلو ہیں‘ دورخ ہیں میں چاہتی ہوں تم پرصرف اور صرف اس سکے کا ایک رخ استعمال ہو محبت اور صرف محبت کا‘ گرینی کی نصیحتیں اس کی سماعت میں گونجنے لگی تھیں۔
’’وہ اعتدال سے ناواقف شدت پسند ہے‘ اس کی محبت بھی شدید تر ہوتی ہے تو نفرت شدید ترین۔‘‘ وہ ناراض بیٹھا تھا وہ کس طرح اسے منائے؟ کیونکر اس کی خفگی دور کرے۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا تووہ رونے لگی۔
’’ارے… رو کیوں رہی ہو؟ کیا ہوا؟‘‘ وہ جو اسے ستانے کے لئے رخ موڑے بیٹھا تھایکدم اس کی رونے کی آواز سن کر بوکھلا کر پلٹا۔
’’آئم… سوری مجھے نہیں آتی‘‘ وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپائے رندھی آواز میں بولی۔
’’کیا نہیں آتی؟‘‘
’’تعریف کرنا…بلکہ مردوں کی تعریف کرنا۔‘‘ جواباً انس بے اختیار ہنس پڑا تھا اور جھک کر اس کا چہرہ دائیں ہاتھ سے اوپر کرکے گویا ہوا۔
’’میری تعریف اس سے بڑھ کر کیا ہوگی جان من! کہ سب دیکھ کر بھی تم نے مجھے قبول کیا‘ میراساتھ گوارا کیا‘ تمہاری محبت کا‘ تمہاری عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے‘ میں مذاق کررہاتھا۔‘‘
وہ اس کے چہرے پربکھرے آنسو صاف کرتا کہہ رہا تھا۔ کرن کے اندر ایک نشاط انگیز کیفیت سرائیت کرتی گئی۔

صمد نے کمرے میں قدم رکھے او رٹھٹھک کررک گیا۔
بے ترتیب بال!
زرد رنگت!
بکھرا حلیہ…!
وہ حمزہ تھا جو بے تحاشہ رو رہا ہے قریب ہی اس کا موبائل پڑا تھا۔
’’حمزہ! حمزہ کیا ہوا ایسے کیوں رو رہے ہو؟‘‘ وہ ایک جست میں اس کے قریب پہنچا اور جھنجوڑ کر بولا۔
’’بے نام مسافتوں کا سفر رائیگاں جاتا ہے سومیرا سفر بھی رائیگاں ہوگیا۔‘‘
وہ بھیگے لہجے میں بولا آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
’’کس کی کال آئی تھی جس نے تمہاری یہ حالت بنادی ہے۔‘‘
’’کسی کی نہیں۔‘‘ وہ موبائل کوٹ کی جیب میں ڈال کر گویا ہوا۔ صمد کے خیال سے وہ اپنی کنڈیشن پرقابوپاچکاتھا ورنہ دل تو یہی کہہ رہاتھا کہ فوری بند ہوجائے۔
’’اب مجھ سے بھی پردہ ہوگا؟‘‘ وہ خفا ہوا۔
’’پردہ داری کیسی جو بات تھی میں نے بتادی۔‘‘
’’پھر یہ کس کی یاد میں رو رہے تھے؟‘‘ وہ سمجھ گیاتھا کال کس کی ہوگی۔
’’بس ایسے ہی باہر بادل برسے تو میرا دل بھی برسنے لگا۔‘‘
’’تمہارا دل بادلوں کا ساتھ دے رہا ہے یابادل تم پررو رہا ہے؟‘‘
’’پلیز لیو می الون۔‘‘ صمد کے سوالوں نے جھنجلاہٹ میں مبتلا کردیاتھا۔
’’تنہا ہوتو گئے ہو اور کتنا تنہا رہنا چاہوگے آخر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔اپنے ساتھ ساتھ تم نے ہم سب کو بھی ذہنی پریشانی میں مبتلا کررکھا ہے۔ تم خوش رہوگے تو ہم بھی خوش رہیں گے۔‘‘ صمد خاصے غصے سے گویا ہوا تھا۔
’’میں نے کسی کو نہیں کہا کہ پریشان ہوں۔‘‘
’’اپنوں سے کہا نہیں جاتا وہ آپ کے احساسات کے ساتھ ازخود وابستہ ہوتے ہیں۔ ہمارے ہرموڈ کی انہیں خبر ہوتی ہے۔‘‘
’’اوکے‘ میں سمجھتا ہوں‘ تم جائو تمہیں ممی بلارہی تھیں۔‘‘ اس نے بہانے سے صمد کو وہاں سے ٹالا اور خود بھاگ کر کار نکالنے چلا گیا۔ موسم سخت سردی کی لپیٹ میں تھا۔ بارش برس کرکچھ گھنٹے قبل رک گئی تھی جس کے باعث سردی میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا تھا۔
ہرسوجل تھل کا سماں تھا ہوائوں میں برفیلی ٹھنڈک تھی مگر اسے اس وقت سردی گرمی کااحساس بالکل نہیں ہو رہا تھا۔ اندر کی آگ کے سامنے باہر کی برف پگھل رہی تھی وہ دیوانوں کی طرح کار چلاتا ہوا جارہاتھا۔ ایئرپورٹ کے راستے اور سبزہ بارش میں دھل کر نکھر گئے تھے وہ تیزی سے کار چلاتا ایئرپورٹ کے پارکنگ ایریا میں کار کھڑی کرکے باہر نکلا تو اسی وقت جہاز اڑا تھا۔
’’کرن! تم مجھ سے آخری ملاقات بھی نہ کرکے گئیں۔ میں تو فوراً ہی چلاآیا ہوں‘ پھر بھی تم نہ رک
سکیں‘ مجھ سے محبت نہ کی تھی مگرترس ہی کھالیتیں۔‘‘ حمزہ وہیں جنگلا پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔

 

 

رسم الفت یہ اجازت نہیں دیتی ہے ورنہ
ہم بھی تم کو ایسا بھولیں کہ سدا یاد کرو

 

(باقی آیندہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close