Aanchal Mar-07

بیاض دل

میمونہ تاج

نازیہ کنول نازی… ہارون آباد
ستارے ٹمٹماتے ہیں تو کوئی یاد آتا ہے
نظارے جھلملاتے ہیں تو کوئی یاد آتا ہے
اسے واپس نہیں آنا‘ مگر ہم پھر بھی ہاتھ اپنے
دعا میں جب اٹھاتے ہیں تو کوئی یاد آتا ہے

کنیز فاطمہ… بورے والا
تجھ سے مل کر بچھڑ گئے تجھ سے بچھڑ کر مل گئے
ایسی بھی قربتیں رہیں ایسے بھی فاصلے رہے
تو بھی نہ مل سکا ہمیں عمر بھر رائیگاں گئی
تجھ سے تو خیر عشق تھا خود سے بڑے گلے رہے

مریم ماہ منیر… لاہور
میری آنکھوں میں تیرا پیار چھلکتا ہے ابھی
تیرے نام پہ میرا دل دھڑکتا ہے ابھی
مانا کہ میری زیست میں فقط تو ہی بچا ہے
تجھے پا کے کھودینا میرے بس میں ہے ابھی
صدف بشیر احمد… کوٹ غلام محمد
بڑے خلوص سے بنتے ہیں ہمسفر
چھوڑ جاتے ہیں دو گام چل کر

مس ارم نورارم… کراچی
یونہی تو کوئی بھی تنہا نہیں ہوتا
چاہ کر کسی سے جدا نہیں ہوتا
محبت کو مجبوریاں ہی لے ڈوبتی ہیں
ورنہ کوئی خوشی سے بے وفا نہیں ہوتا
صدف بشیر احمد… کورٹ غلام محمد
زندگی خواب ہونے کو ہے
اک دل ویران ہونے کو ہے
امید کا آخری دیا بھی اب بجھ جانے کو ہے
کیونکہ رات اپنی تاریکی کے ساتھ ہونے کو ہے

شفق آرزو… صادق آباد
سونا آنگن‘ تنہا عورت‘ لمبی عمر
خالی آنکھیں بھیگا آنچل‘ گیلے ہونٹ
اتنا بولو گی تو کیا سوچیں گے لوگ
رسم یہاں کی ہے‘ لڑکی سی لے ہونٹ

فوزیہ اسلم فوزی… ڈگری سندھ
مجھے ضبط غم پر غرور تھا میرے آنسوئوں نے وفا نہ کی
میرے راز اسی پر عیاں ہوئے یہ میری آنکھ سے ٹپک گئے
مجھے چھوڑ دے یا سنبھال لے میرے‘ میری لاج اس کے ہاتھ میں
مجھے اعتراف شکست ہے میرے پائوں راہ میں تھک گئے

مس زاہدہ رشیدعلوی…راولپنڈی
لگتا ہے کی راتوں کا جاگا تھا مصور
تصویر کی آنکھوں میں تھکن جھانک رہی ہے

عروسہ شہوار… کالاگوجراں‘ جہلم
کہیں نزدیک ہی رکھی ہے بچھڑنے کی گھڑی
اس سے ملنے کے سبب بہم ہو گئے ہیں
اس تواتر سے رہی ہے شبِ غم اپنا نصیب
ہم کہ اب خود ہی نصیبِ شبِ غم ہو گئے ہیں

ثوبیہ جہانگیر… مومبرآزادکشمیر
وہ نفرتوں کے سوال کرے محبتوں کے جواب مانگے
کہ میرے حصے میں کانٹے لکھ کر وہ مجھ سے تازہ گلاب مانگے
یہ چاہتوں کی کڑی مسافت‘ چلے ہیں تنہا شکت خوردہ
کوئی تو میرا درد جانے‘ کوئی تو اس سے حساب مانگے

مس زاہدہ رشید علوی… راولپنڈی
بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا
کوئی بے تاب تہہ خاک تڑپتا ہو گا

سباس گل… رحیم یارخان
یقین کرو کبھی مرنے کے ڈر نہ اترے تھے
کہ خواہشوں پر میری جب یہ پر نہ اترے تھے
بڑا غرور تھا ہم کو بھی خوب روئی کا
کہ جب تلک یہاں آئینہ گر نہ اترے تھے

انیہ… لیہ
میں نے ساری خوشبوئیں آنچل سے باندھ کے رکھیں
شاید ان کا ذکر تو اپنے کسی سوال میں رکھے
صبا سے تیرے آنے کی سرگوشی کو سنتے ہی
میں نے کتنے پھول چنے اور اپنی شال میں رکھے
سدرہ سحرعمران… اسٹیل ٹائون کراچی
کسی نے کب ہمیں جینے کا اختیار دیا
تجھے اجل نے مجھے زندگی نے مار دیا
کسی سے عشق کا اظہار جس سے کرنا تھا
خبر نہیں کہ وہ لمحہ کہاں گزار دیا

عاصمہ گیلانی… ملک وال
وہ خواب تھا جو بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
مگر دل کو کیا ہوا یہ کیوں بجھا پتا نہیں
ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

صباحت صباح… چناری‘ آزاد کشمیر
محبتوں کا حساب تھا نہ عداوتوں کا شمار تھا
کبھی اس کی ذات عذاب تھی کبھی وہ روح کا قرار تھا
اسے میں نے مڑکے صد انہ دی کہ پلٹ گیا وہ راہ سے
میں خزاں ہوا تو پتا چلا میری ذات کا وہ نکھار تھا

حراچوہدری… بورے والا
ہے یہ ممکن کہ طلب گاہِ محبت میں کبھی
دل کی گہرائی سے تونے مجھے چاہا ہی نہ ہو
عمر بھر ساتھ رہیں ساتھ جئیں‘ ساتھ چلیں
ان دعائوں کے لیے تو نے ہاتھ اٹھایا ہی نہ ہو

میمونہ فاروق… کورنگی کراچی
مراسم اتنے بھی گہرے رکھے نہیں جاتے
بعد میں زخموں پہ پہرے رکھے نہیں جاتے
منافقت ہم سے تو بالکل نہیں ہوتی فائق
اک چہرے پہ سو چہرے رکھے نہیں جاتے

فصیحہ آصف خاں… ملتان
بس اے بہار کے سورج‘ بڑھا یہ قہر کا رنگ
جلا گئی ہے تیری دھوپ میرے شہر کا رنگ
ابھی تو میں نے سمندر میں نائو ڈالی تھی
یہ کیا ہوا کہ بدلنے لگا ہے لہر کا رنگ

امائمہ شاہد… لاہور
محبتوں کا اپنے نصاب مانگتا تھا
چاہتوں کا اپنے حساب مانگتا تھا
عجیب شخص تھا سب جاننے کے باوجود
وہ باتوں کا اپنے جواب مانگتا تھا

چندرا سونی… ٹنڈوالہ یار
کہتے ہیں محبت انجانی ہوتی ہے
لیکن کچھ جانی پہچانی ہوتی ہے
کچھ لوگ وعدہ کر کے مکر جاتے ہیں
یہ بے وفا لوگوں کی کہانی ہوتی ہے

نادیہ جہانگیر… مومبر آزاد کشمیر
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجیے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حالِ دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ خاموشی کیا چیز ہے

ولیسہ مناہل… جھنگ
اگر ہو سکے تو کرو خود میں کشش پیدا
ہر کسی کو حسرت سے دیکھا نہیں کرتے
ہر شخص نہیں ہوتا ہر شخص کے قابل
ہر شخص کو اپنے لیے پرکھا نہیں کرتے

طاہرہ عباسی… چناری‘ آزادکشمیر
تیری چاہ میں تیری راہ میں میرے حوصلوں کا ہنر گیا
تھیں وہ آندھیاں تیرے شہرے کی میرا گھر گیا میرا در گیا
تیرے شہر میں اے بے مہر تیرے دوستوں کا یہ حال ہے
کوئی چپکے سے جی اٹھا کوئی چپکے سے مر گیا

فرحانہ بیگ… دیونہ منڈی
مجھے جتنی ضرورت ہے میرے داتا مجھے دے دے
کسی سے مانگ کر لینا مجھے اچھا نہیں لگتا
دیا گل کر دیا ہے اس لیے اے جانِ جاں میں نے
کوئی آئے نظر جلتا مجھے اچھا نہیں لگتا

صباپرویز… سرگودھا
میری آنکھوں میں روشن ہوئے امید کے دیئے
کون ہے جو میرے لیے خوابوں کی خوشی لایا ہے
یہ سال کچھ اس لیے بھی خوب صورت لگا مجھے
کہ اپنے سنگ یہ تیری دوستی جو لایا ہے

اقصیٰ چیمہ… چنیوٹ
محبتوں کا حساب تھا نہ عداوتوں کا شمار تھا
کبھی اس کی ذات عذاب تھی کبھی روح کا وہ قرار تھا
میں نے اسے مڑ کر صدا نہ دی پلٹ گیا تھا وہ راہ سے
میں خزاں ہوئی تو پتہ چلا میری ذات کا وہ نکھار تھا

امبرگل… جھڈوسندھ
ہم کسی سے نہ ملے تجھ سے ملاقات کے بعد
دل میں اتری نہ کوئی ذات تری ذات کے بعد
پت جھڑ‘ ساون‘ رت بسنت سب ہی بیتے جائیں
ہم کو کوئی موسم نہ بھائے تیرے جانے کے بعد

ببل رانا… ڈگری سندھ
یہاں پیار کا اظہار ملامت ہے گناہ ہے
پھولوں سے کبھی تتلیاں پوچھا نہیں کرتیں
آنگن میں گھنے پیڑ کے نیچے تیری یادیں
میلہ سا لگا دیتی ہے اچھا نہیں کرتیں

مزمل رفیق رائو… خانوالہ ضلع قصور
دل میں تم پیدا کرو پہلے میری سی جرأتیں
اور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میں
میں بہت سرکش ہوں لیکن اک تمہارے واسطے
دل بچھا سکتا ہوں میں آنکھیں بچھا سکتا ہوں میں

مبشرہ بدرطرب… کراچی
کہیں دھرتی نہاتی ہے لہو دریا کی موجوں میں
کہیں بارود کی بارش ہے انسانی ریاست پر
ستارے اشک بن کے بٹ گئے معصوم بچوں میں
فرشتے ہنس رہے ہیں ابنِ آدم کی سیاست پر

ایس شائی… ملک وال
مجھ پہ کیچڑ نہ اچھالے میرے دشمن سے کہو
اپنی دستار سنبھالے میرے دشمن سے کہو
جیت اس کی ہے اگر ہار بھی جاتا ہے وہ
مجھ کو معیار بنالے میرے دشمن سے کہو

ثومی شاہ… کراچی
دوریوں نے جسم کو جھٹلا دیا
روح کے رشتے کو گہرا کر دیا
لفظ کب اس کی گواہی بن سکے
میری خاموشی نے سچا کر دیا

نازنین… جھرہ سٹی
میرا چشمہ نخلستان سائیں میرا بادل سرسبز شجر
تو تخت میرا تو بخت میرا تو تاج میرا تو گھر
میں پنچھی اک دعا مانگوں تو کر منظور اگر
یا پنجرہ پنجرہ شام نہ دے یا کاٹ دے میرے پر

صائمہ… نکودر
ان آنسوئوں کو ٹپکنے دیا نہ تھا میں نے
کہ خاک میں نہ ملیں میری آنکھ کے تارے
میں ان کو ضبط نہ کرتی اگر خبر ہوتی
پہنچ کے قلب میں بن جائیں گے یہ انگارے

مہرین علی شوکت… میرپورآزاد
مجھ کو اکثر یہ گمان ہوتا ہے
آج بھی محبت پر کوئی قربان ہوتا ہے
ان کے آگے روتے ہیں اپنے دکھڑے
جن پہ ہمیں بہت مان ہوتا ہے

مس ارم نور ارما… کراچی
پہلی بار میں نے تمہیں دیکھا تو چھونے سے ڈر گئی
پہلی بار میں نے تمہیں چھوا تو گلے لگانے سے ڈر گئی
پہلی بار میں نے تمہیں گلے لگایا تو پیار کرنے سے ڈر گئی
لیکن اب جب میں تمہیں پیار کرتی ہوں تو تمہیں کھونے سے ڈرتی ہوں

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close