Aanchal Mar-07

آپکی شخصیت

اےایس صدیقی

اچھی شخصیت دوسروں میں اچھے اوصاف پیدا کرنے میں معاونت کرتی ہیں۔ اچھی مائیں اچھے بچے معاشرے کو دیتی ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی شخصیت کو ڈھالنے میں کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ آج چند باتیں اس موضوع پر۔
کریم پڑھنے لکھنے میں بہت کمزور ہے۔ حساب میں تو بالکل ہی فلاپ ہے۔ اس کی تعلیمی رپورٹ کبھی اچھی نہیں آتی۔ اس کے ساتھی اسے کُند ذہن سمجھتے ہیں۔ وہ کسی سے بحث نہیں کرتا۔ وہ بھی سمجھنے لگا کہ واقعی ایسا ہی ہے اس سے کچھ نہیں ہوسکے گا۔ اس کی عمر تو8 سال ہے۔ وہ اتنی سی عمر میں دل ہارچکا ہے۔
شوکی پانچویں کلاس میں پڑھتی ہے۔ وہ بہت موٹی ہے۔ اس کی بہت کم سہیلیاں ہیں۔ سب نے اس کا نام ’’توپ‘‘ رکھ چھوڑا ہے۔ اس کی ساتھی لڑکیاں اس کے منہ پر اس کی نقلیں اتارتی ہیں۔ شوکی کو سب سے نفرت ہے۔ وہ خود سے بھی نفرت کرتی ہے۔
یہ اور اسی طرح کے بچے دراصل ہمارے معاشرے کے اس پر سقم معیار کا نشانہ بنے کہے جاسکتے ہیں جس سے بچوں کی اہمیت کو ماپا جاتا ہے۔ کم ہی بچوں کو دادو تحسین سے نوازا جاتا ہے۔ وہ بھی بس ان ہی چند کو جو پیدائشی طور پر کچھ خوبیاں لے کر آتے ہیں مثلاً خوب صورتی‘ ذہانت یا دولت۔ یہ نظام بے حد شر انگیز ہے۔
اس سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے ؟
اس سے بس اس طرح نمٹا جاسکتا ہے کہ ہم اپنے بچوں میں ’’خوداعتمادی‘‘ پیدا کریں (Self Esteem)
ہر بچہ اہم ہوتا ہے۔ اس کا حق ہوتا ہے کہ اسے عزت دی جائے۔ مگر ضرورت اس کی ہوتی ہے کہ ان کے اندر مضبوط انا اور نا قابل تسخیر روح ڈالی جائے۔ ماہرین نفسیات نے اعتماد اور ذاتی وقعت کے احساس کی پیدائش کے ضمن میں چنداصول مرتب کئے ہیں۔ والدین اس سے اپنے بچوں کی شخصیت میں وہ روح پھونک سکتے ہیں جو انہیں اعتماد اور مضبوطی بخش سکتی ہے۔
 والدین پہلے اپنی قدرو قیمت کا تعین کریں۔ کیا وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا بچہ واقعی مایوسی کا شکار ہے ؟ کیا انہوں نے اسے خود بھی نظر انداز کر رکھا ہے ؟ کیا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کا بچہ کُند ذہن ہے ؟ یاد رکھیں بچہ سمجھتا ہے کہ آپ کی نظر میں وہ کیا ہے۔
ہدایت… اپنے شبہات کا اظہار بچے کے سامنے کبھی نہ کریں۔ اس کے سامنے دوسروں سے اس کی خامیاں نہ بیان کریں۔ اس کے ساتھ کبھی کبھی کھیلا کریں۔ اسے اچھی کتاب پڑھنے کو دیں۔
خود وقعتی پیدا کرنے کے ضمن میں بچوں کو خود اپنی برائی کرنے سے روکیں۔ احساس کمتری میں مبتلا لوگ اکثر اپنی خامیاں دوسروں سے بہت طوالت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ بچوں کو منع کریں جبکہ اس کی ان سچی باتوں کو بھی اس کے ذہن میں جمنے سے بچائیں اس سے کہیں وہ ایسی باتیں نہ سوچا کرے نہ کسی سے کہا کرے بچے کو خود اپنی تنقید کرنے سے روکیں۔
 والدین کو حوصلہ افزائی کی روش اپنانی چاہئے۔ بچہ کسی مشکل میں ہو تو اس کی ہمت بندھائیں۔ اگر وہ خوف میں ہو تو اسے رفع کرنے کے لئے اسے سہارا فراہم کریں۔
اس ضمن میں ’’تلافی‘‘ بھی ایک طریقہ ہے۔ یعنی کوئی ایک کمزوری جسے دور نہ کیا جاسکے۔ اس کے زور کو کم کرنے کے لئے بچے کے اندر کسی خوبی کو زیادہ نمایاں کرنے کی سعی کریں۔ اس کے اندر ایسی خوبی تلاش کرنے میں اس کی مدد کریں اور اس کی نشونما کریں۔ اسے بچپن ہی سے کوئی ہنر سکھائیں۔ مثلاً بچہ اس طرح کے جملہ بولے۔’’ ہاں میں پڑھائی میں تو بہت آگے نہیں ہوں مگر مجھ سے بہتر حساب میں کوئی اور نہیں‘‘ وغیرہ۔ وغیرہ والدین بچے کے اندر کسی خاص قسم کا جوہر باطن تلاش کرکے ان کی نشونما میں اس کی مدد کریں۔ اس کے لئے تھوڑی سی زبردستی‘ انعام‘ محبت‘ لالچ سب حربے استعمال کریں۔
 بچے کے اندر مسابقت کا جذبہ ابھاریں۔ مثلاً بچے کے دانت خراب ہیں۔ کسی ڈینٹسٹ سے انہیں ٹھیک کرا دیں۔ وہ پڑھنے میں کمزور ہے۔ اس کی ٹیوشن لگادیں۔ اسے ایسے قصے سنائیں جن سے اس کے اندر امنگ اور مقابلے کی لگن ابھرے۔
 تادیبی کارروائی میں بھی بچے کی عزت نفس کو مجروح نہ ہونے دیں۔ میرا مطلب ہے کہ ہمیں بچوں کو سزا دیتے ہوئے بھی محتاط انداز اختیار کرنا چاہئے۔
مثلاً دوسروں کے سامنے سزا نہ دیں۔
دوسروں کے سامنے اسے ذلیل نہ کریں۔
ایک بہت اہم بات یاد رکھیں اگر آپ نے بچوں میں نظم و ضبط نہیں پیدا کیا تو اس سے اس کی عزت نفس میں شدید خلل واقع ہوگا۔ پھر بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے ماں باپ کچھ نہیں کہیں گے اور وہ انتہائی ناپسندیدہ حرکات دھڑلے سے کرنا شروع کردے گا۔
انصاف کریں اور نظم و ضبط کی پابندی کرائیں۔ اسے کسی بھی حالت میں ضرر رساں حرکات نے دیں۔
خیال رکھیں کہ ابتدائی درجے کے خاتمے پر آپ کے بچے کو پڑھنا آگیا ہے۔ آپ کی جانب سے اسے ٹیوٹو یل ہیلپ ملنی چاہئے۔
ضرورت سمجھیں تو اسکول بدل دیں۔ اس کے لئے کوئی نیا ٹیچر رکھیں۔ بہ آہستگی سیکھنے والا بچہ عموماً خود وقعتی کے مسئلے سے دوچار ہوجاتا ہے۔ اگر پڑھائی میں کمزوری دیکھیں تو بچے کے سامنے مت ظاہر کریں کہ آپ اس کی وجہ سے مایوس ہورہے ہیں۔ وہ تمام چیزیں جس میں باوجود اپنی اچھی کوشش کے بچہ کامیاب نہ ہورہا ہے اس کو بہت اہمیت دینا بند کردیں۔
کوئی شخص کسی مفلوج آدمی سے یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ وہ ایک اسٹار رنر بن جائے۔
 بلوغت سے پہلے بچے کو اس عمر کے لئے تیار کرنا ضروری ہے۔ اسے ابتداء سے چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں سونپیں۔ اسے اپنے فیصلے کرنے دیں۔ مثلاً سات سال کے بچے کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ کہیں جانے کے لئے اپنا لباس خود چُن لے۔ اسے اپنے کمرے میں چیزوں کو اپنی پسند سے رکھنے دیں۔
بچوں کے تحفظ پر از حد زور نہ دیں۔ ہر وقت ان کی نگرانی کی ضرورت نہیں۔ معقول ہدایتوں کے ساتھ انہیں چھوڑ دیں اور اپنے پیروں پر انہیں خود کھڑا ہونے دیں۔
 ان بچوں میں خود وقعتی کا صحت مند احساس زیادہ ہوتا ہے۔
 جنہیں ماں باپ کا پیار زیادہ ملتا ہے۔
 جن بچوں کو ماں باپ کی طرف سے ہدایات ملتی رہتی ہیں۔
جہاں ماں باپ آپس میں عمدگی سے رہتے ہوں۔
صورت‘ شکل‘ مال و دولت کی اتنی اہمیت نہیں بچوں کو مندرجہ بالا خطوط پر پرورش کرکے دیکھیں ہر بچے میں خود وقعتی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہی قوت اسے مستقبل میں باعزت طریقے سے زندہ رکھنے میں مدد کرنے والی کہی جاسکتی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close