Aanchal Mar-07

دشت آرزو

اقراؑصغیراحمد

تیری ہر ادا نظر سہارا‘ تیری ہر ادا اشارا
کبھی دلبری نے لوٹا‘ کبھی بے رخی نے مارا
میری زندگی سے کھیلا‘ تیری مسکراہٹوں نے
کبھی شوق کو دبایا‘ کبھی شوق کو ابھارا

ارے حمزہ بیٹا! فائقہ اُسے اچانک سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور تیزی سے آگے بڑھ کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا تھا۔
یہ میری بیٹی ہیں منال‘ اور منال! یہ حمزہ ہیں آپ کی راحیلہ آنٹی کے بیٹے۔ انہوں نے جھٹ پٹ تعارف کروایا۔
ہیلو۔ حمزہ کی مضطرب نگاہیں ڈارک گلاسز کے پیچھے سے اس کے چہرے کو کھوج رہی تھیں جہاں اطمینان و اعتماد کا جہاں آباد تھا۔
نائس ٹو میٹ یو ٹو حمزہ! منال نے اس کی طرف دیکھا بلو جینز پرپل شرٹ پر سیاہ لیدر کی جیکٹ میں اس کی پرسنالٹی نمایاں تھی۔
آپ کی مما کو ایڈریس دیا ہے اُن کو لے کر ہمارے ہاں ضرور آئیے گا۔
اوکے میں کوشش کروں گی۔ اُس کی نگاہیںپلٹ آئی تھیں۔
کوشش نہیں وعدہ کریں۔ وہ پراصرار لہجے میں بولیں۔
اوکے چلیں پھر وعدہ۔ وہ وعدہ لے کر خوشی خوشی وہاں سے چلی تھیں۔ حمزہ کے پیچھے آتا صمد بھی اسپتال کی کینٹین کے قریب رک گیا۔ اس نے بھی حیرانگی سے منال کو دیکھا اور نگاہوں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا تھا پھر تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا راحیلہ کے پاس چلا آیا جہاں حمزہ بیٹھا سوچوں میں گم تھا۔
حیرت ناک! میں تو بہت حیرت زدہ ہوگیا یار! وہ کہتا ہوا حمزہ کے برابر میں بیٹھا تھا۔
کیا دیکھ لیا ایسا بیٹا؟ راحیلہ بیگم کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ دراصل وہ اوپر سے حمزہ اور صمد کے تاثرات دیکھ چکی تھیں۔
ممی! کرن کے فیس والی لڑکی فائقہ آنٹی کے ساتھ جارہی تھی۔ اسے دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے کرن ہی ہو ایسا موویز میں دیکھتے رہتے ہیں مگر اصل زندگی میں پہلی بار دیکھ کر مجھے بے حد حیرانگی ہورہی ہے۔
فلموں اور ڈراموں میں کہانیاں حقیقی زندگیوں سے ہی لی جاتی ہیں تم نے جس کو دیکھا وہ منال تھی فائقہ کی بیٹی۔ راحیلہ ترچھی نگاہوں سے حمزہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
حمزہ کے چہرے پر تذبذب کے گہرے سائے تھے۔
ممی! کہیں ایسا تو نہیں کرن کے فادر نے دو شادیاں کررکھی ہوں اور یہ اُن کی ہی بیٹی ہو۔ صمد کی بات پر حمزہ نے بھی اُن کی طرف دیکھا۔
ارے نہیں‘ نہیں‘ ایسی بات نہیں ہے‘ پہلے مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔ میں نے باتوں باتوں میں اُن کا پورا بیک گرائونڈ معلوم کرلیا ہے۔ فائقہ کی فیملی بہت اچھی ہے۔ بے حد عزت دارو شریف لوگ ہیں۔ مختصر فیملی ہے برہان صاحب تو اکثر ہی ملک سے باہر رہتے ہیں۔
برہان؟ حمزہ نے زیر لب دہرایا پھر اٹھ کھڑا ہوا۔
ممی!آپ غلط فہمی کا شکار ہو رہی ہیں۔ کرن کے فادر کا نام برہان لغاری ہے اور یقینا ان کا ان سے ہی تعلق ہے۔ برہان کا نام آتے ہی حمزہ کے چہرے پر سختی چھانے لگی۔
نہیں۔ یہ محض اتفاق ہے‘ میں نے اچھی طرح معلوم کیا ہے۔
اتنا اتفاق کیسے ہوسکتا ہے ممی۔ صمد نے کہا۔
کیسے نہیں ہوسکتا‘ ایک نام کے کئی لوگ ہوتے ہیں۔
لیکن مختلف لڑکیوں کے ایک سے چہرے اور فادر ایک نہیں ہوتے‘ یہاں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ حمزہ مطمئن نہ تھا۔
اگر ایسی بات ہے تو اُن سے مل کر دیکھ لیں گے‘ ایک بار اور‘ ورنہ ایسی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ایک نام کے کئی مرد وخواتین ہوتی ہیں اور ایسے ہی چہرے ایک دوسرے سے اتنے ملتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے اور اُن میں سے اکثر لوگ ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے ہیں۔ راحیلہ بیگم پوری تفصیل سے اسے سمجھانے کی سعی کررہی تھیں۔
حمزہ! ممی کی بات درست ہے اکثر مجھے بھی ایسے پیشنٹ ٹکرائے ہیں۔
مگر ممی! آپ کیوں اتنی سائیڈ لے رہی ہیں اُن کی؟ حمزہ کے بعد وہ راحیلہ بیگم سے شوخی سے مخاطب ہوا۔
اس لئے کہ میں نے سوچ لیا ہے منال کو اپنی بہو بنانے کا۔ وہ حمزہ کی جانب دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
ممی! یہ کس طرح ممکن ہے۔ وہ اضطرابی کیفیت میں مبتلا تھا۔
سب ممکن ہے بیٹا۔ اگر تم مان جائو تو۔ وہ اس کے قریب آکر روہانسے لہجے میں بولیں۔
آج میں اعتراف کرتی ہوں‘ میری خود غرضی اور زیادتی کی وجہ سے تم دل کی خوشیوں سے محروم ہوگئے۔ سچ کہتے ہیں تمہارے پاپا میں ماں ہوتے ہوئے بھی ماں کا حق ادا نہ کرسکی۔ نہ معلوم کس طرح میری ممتا پر خودغرضی و مفاد پرستی نے قبضہ جمائے رکھا تھا۔
ممی! روئیں نہیں شاید قسمت کو ایسا منظور تھا۔
میرے دل میں بے قراری ہے‘ مہوش کی خاطر میں نے ایسا کیا اب میں خود فریبی سے نکل آئی ہوں۔ اپنے اور پرائے کے فرق کو پہچان چکی ہوں۔ فائقہ بہت اچھی عورت ہے۔ ملنسار اور بے غرض محبت کرنے والی ایسی مخلص ماں کی بیٹی بھی ایسی ہی ہوگی‘ پھر اُس کی صورت میں ہمیں کرن مل جائے گی۔ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگیں۔
نرس کے آنے کے باعث اُن کے درمیان خاموشی چھاگئی تھی۔

کرن اور انس دکھ سے نڈھال تھے۔
حادثے کی خبر سنتے ہی انس وہاں سے پہلی فلائٹ سے پاکستان آگیا تھا۔ حادثے میں مدثر صاحب‘ گرینی‘ مائی سکینہ اور سعد کے جڑواں بچوں کے علاوہ ڈرائیور بھی ہلاک ہوچکا تھا۔ سعد اور فاریہ شدید زخمی تھے۔
سعد نے پھر بھی ہمت و حوصلے سے کام لے کر خود پر قابو رکھا تھا۔ اس کے سر اور جسم پر گہرے زخم تھے۔ فاریہ کے زخم بھی بہت گہرے تھے مگر بچوں کی جدائی کے غم سے بڑھ کر اسے کسی زخم سے تکلیف محسوس نہ ہورہی تھی۔ اسے زیادہ تر نیند آور دوائوں کے ذریعے سلائے رکھا جاتا تھا۔ جاگتے ہی وہ اپنے بچوں اور اُن لوگوں کو یاد کرکے رونے لگتی تھی۔
انس نے بڑے ضبط اور حوصلے سے اپنے پیاروں کو سپردخاک کیا تھا اور پھر کئی گھنٹے وہ بند کمرے میں بچوں کی طرح روتا رہا۔
کل تک جن کی آمد کے انتظار میں وہ اور کرن ڈھیروں پروگرام بنائے بیٹھے تھے۔ معلوم نہ تھا وہ انتظار انتظار ہی بن جائے گا ہمیشہ کے لئے۔ اُسے لگ رہا تھا وہ دنیا میں بالکل ہی تنہا رہ گیا ہے مدثر صاحب نے اسے کئی رشتوں کا پیار دیا تھا۔ باپ! بھائی! دوست!۔ سایہ داردرخت کی مانند ہر دم اسے گردش وقت کی سردی و گرمی سے بچاتے تھے۔ ہر مشکل میں اُس کے لئے ڈھال بن جایا کرتے تھے۔ ہمیشہ اس کی مانتے آئے تھے کبھی بھی اپنی مرضی نہ کی تھی۔
گرینی سے اس کی تمام محبتوں کے رشتے استوار تھے۔ دھوپ چھائوں جیسا مزاج رکھنے والی گرینی اسے کی طرح ہی عزیز تھی۔
اپنے وطن کو عزیز رکھنے والی گرینی!اپنے دیس کی مٹی سے محبت رکھنے والی گرینی کو اس مٹی نے بھی خود سے جدا کرنا نہ چاہا اور ہمیشہ کے لئے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔
اس المناک حادثے کو گزرے ایک ہفتے سے زائد عرصہ بیت چکا تھا کرن کی کئی کالز وہاں سے آچکی تھیں۔
انس کے دکھ میں وہ برابر شریک رہی تھی۔
کرن کو انس دانستہ نہ لایا تھا اسے ڈر تھاکہ برہان لغاری اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ اس کی طرف سے اسے یہاں خدشہ رہتا تھا۔ اس وقت بھی وہ بیٹھا یہی سوچ رہا تھا جب سعد آیا۔
کمرے میں بند ہو کر مت بیٹھا کرو یار! مجھے فکر ہوتی ہے۔ وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ انس نے اس کی جانب دیکھا۔
زرد چہرے پر زخموں کے نشان تھے جن میں سے کچھ ابھی مندمل نہ ہوئے تھے۔ سیاہ آنکھیں جو مسکراتی تھیں ۔ سب کچھ کھودینے کے احساس سے ویران پڑی تھیں۔
اس طرح کیا دیکھ رہے ہو؟ اُس کے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔
تم اپنے ان پھولوں سے بھی محروم ہوگئے جن کی خوشبو سے تمہاری آغوش ابھی معطر بھی نہ ہوئی تھی۔
آہ! سعد کی آنکھوں میں نمی اُمڈنے لگی پھر کچھ توقف کے بعد بولا۔جورب کی مرضی‘ ہم اُس کی رضا میں راضی ہونے والے بندے ہیں۔ تم بھی اپنی حیات کے اُن روشن میناروں سے محروم ہوگئے ہو جن کی روشنی زندگی میں ہر اندھیرے کو دور کئے ہوئے تھی۔ اُن کی جدائی نے مجھے بھی تنہا کر دیا ہے۔
تم تنہا نہیں یار!میں ہوں تمہارے ساتھ‘ کرن ہے ہم سب ایک ہیں ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے‘ ایک رہیں گے۔ ساتھ رہیں گے۔ اب تمہیں میرا بازو بننا ہوگا‘ میرا سہارا بننا ہوگا‘ اتنا پھیلا ہوا بزنس میں اکیلا نہیں سنبھال سکتا۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے سسک رہے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دلاسہ دیا۔ ہمت بندھائی۔
سعد! مجھے ایک خیال بار بار تنگ کررہا ہے۔
کیا خیال؟
یہ واقعہ برہان لغاری کی انتقامی کارروائی تو نہیں ہے جس کو حادثے کی شکل دی جارہی ہے۔ وہ پُر سوچ انداز میں بولا۔
مجھے بھی یہی خیال آیا تھا مگر ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس ایکسیڈنٹ کی انویسٹی گیشن کرنے والے انسپکٹر سے میری تفصیلی بات ہوئی ہے اس کا کہنا ہے اس ٹرک کا ڈرائیور نشے میں ڈرائیونگ کررہا تھا۔ اُس کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث حادثہ ہوا ہے۔ ٹرک کا ڈرائیور جیل میں ہے۔ سعد نے تفصیل بتائی۔
اچھا نہ معلوم کیوں میرا دل کچھ اور کہتا ہے۔
میں تمہاری حالت سمجھ رہا ہوں تم پر جو گزررہی ہے۔
ہم اسی ہفتے واپس چلیں گے‘ میرا دل نہیں لگتا یہاں پر عجیب گھٹن‘ وحشت ہے‘ یہاں پر طبیعت مکدر ہوکر رہ گئی ہے۔

ڈارلنگ! اس طرح کب تک ہم چھپ چھپ کر وقت گزارتے رہیں گے کئی ماہ ہوگئے ہمیں اس طرح ملتے ہوئے۔ فائقہ ڈرائر سے بال ڈرائی کرتے ہوئے خفگی سے بولیں۔
مجھے کوئی پرابلم محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ وقت آرام دہ لگتا ہے۔ شہر کے ہنگاموں سے دور پرٖفضا رومانٹک ماحول پھر سے بیس سال پیچھے لے جاتا ہے جب عمر کی بہار شباب پر تھی۔ فائقہ کے ساتھ گزرے وقت کا خمار ابھی تک اس کی آنکھوں میں چھایا تھا۔
میں اب ایسا نہیں چاہتی ہوں۔ اُن کا موڈ سنجیدہ تھا۔
اوہ کم ان یار! کس بحث میں الجھ رہی ہو اور مجھے بھی الجھانے لگی ہو۔ میں یہاں ریلیکس ہونے آتا ہوں۔ ہر ٹینشن‘ ڈپریشن بھلا کر کچھ وقت سکون سے گزارنے آتا ہوں۔ یہاں بھی وہی سرکل رہا تو خاک ہوگی انجوائے منٹ۔ وہ نائٹ گائون کے اسٹرپس باندھتے اٹھ کھڑے ہوئے مگر فائقہ کے موڈ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ وہ اس آف موڈ کے ساتھ پر پل اور اورنج کمبی نیشن کی ساڑھی کی فالز درست کرنے میں مگن رہی تھیں۔
برہان نے اُن کی خاموشی کو نوٹ کیا۔ پھر کچھ کہے بنا اٹیچڈ باتھ کی طرف بڑھ گئے۔ اُن کی تیاری تک دونوں کے درمیان خاموشی محیط رہی تھی۔ فائقہ نے سادہ جوڑا بنایا۔ جیولری پہنی اور میک اپ کرکے پرفیوم اسپرے کیا اور پرس سنبھال کر بیٹھ گئیں۔
اتنی ناراضگی کی کیا بات ہے جانم! ہم ایک ہوگئے‘ یہ سب سے اچھی بات نہیں ہے۔ پہل انہیں ہی کرنی پڑی وہ اُن کے قریب بیٹھ کر خوشگوار موڈ میں گویا ہوئے تھے۔
آپ کو لگتا ہوگا میں آپ کی بیوی ہوں مگر مجھے نہیں لگتا۔
آپ کو کیا لگتا ہے شاید محبوبہ؟ وہ ہنس کر بولے۔
کال گرل۔ وہ نہایت کڑوے لہجے میں کہہ بیٹھیں۔
وہاٹ؟ دماغ درست ہے۔
پھر میرے ساتھ یہاں وقت گزارنے کا کیا مطلب؟ بیوی کے ساتھ اس طرح وقت گزارا جاتا ہے؟ یہ ٹائم پاسنگ ایک کال گرل کے ساتھ تو سوٹ کرتی ہے برہان لغاری صاحب! مگر ایک بیوی کے ساتھ نہیں۔
اوہ ہو کیپ کوائٹ۔ میں یہاں پھولوں بھری باتیں کرنے آتا ہوں۔ تمہاری اور اپنی باتیں۔ ایسی باتیں جن میں ڈوب کر ہم محبت کی گہرائیوں میں تیرتے ہیں۔ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو کر اور تم نے ایسی باتیں کرکے تمام انجوائے منٹ بھلا ڈالی ہے۔
آپ کب تک ہر مسئلے سے آنکھیں چراتے رہیں گے۔ اس طرح مسائل حل نہیں ہوتے۔ یہ ہمارے حل کرنے سے ہی ختم ہوں گے۔ وہ کچھ نرمی سے گویا ہوئیں۔
اوکے بتائو کیا چاہتی ہو میں کب پیچھے ہٹا ہوں۔
میں نے منال کی منگنی کردی ہے۔
یہ تم مجھے بتاچکی ہو کتنی بار بتائو گی۔ وہ بے زاری سے بولے۔
منگنی تو اُن لوگوںنے بے حد سادگی سے کی ہے۔ لڑکے کی ماں منال کو ایئر رنگ پہنا گئی تھیں‘ پچاس ہزار ہاتھ میں پکڑائے تھے پھل‘ فروٹ بھی بہت لائے تھے۔
اُن باتوں سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اُن کے انداز میں سردمہری در آئی تھی۔
آپ باپ ہیں اُس کے‘ اتنی لاتعلقی اچھی نہیں ہوتی ہے میں تنہا اس کے فیوچر کی خاطر اتنی کوشش کررہی ہوں اور آپ کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ وہ جل کر بولیں مگر برہان خاموش ہی رہے تھے۔
کتنے جھوٹ بولنے پڑرہے ہیں اُن لوگوں سے۔
دفع کرو اُن لوگوں کو
لوگ اچھے ہیں اور لڑکا تو بے حد قابل اور خوب صورت ہے پہلے تو منال مان ہی نہیں رہی تھی۔ حمزہ کو دیکھا تو راضی ہوئی ہے مگر نہ معلوم کیوں حمزہ مجھے کچھ مطمئن نظر نہیں آتا۔ اُس نے مجھ سے آپ کی تصویریں دیکھنے کو مانگیں وہ تو میں نے انہیں گلشن والے بنگلے کا ایڈریس دیا تھا تاکہ آپ کی والدہ حضور کوئی کام نہ دکھا پائیں۔ میری یہ سمجھداری کافی کام آئی‘ وہاں ملازم بھی تمام نئے ہیں اور البمز میں ہم دونوں کی ہنی مون کی تصاویر تھیں۔ وہ دیکھ کر حمزہ مطمئن ہوا تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا وہ ایسا بی ہیو کیوں کررہا تھا ویسے تو سب نارمل ہے کوئی پرابلم نہیں ہے۔ اس کے فادر بھی خوش ہیں۔
ہوگا اس کا کوئی مسئلہ آپ پریشان نہ ہوں۔
وہ لوگ شادی بہت جلد کرنا چاہ رہے ہیں۔
پھر؟ وہ اس گفتگو سے مسلسل بے زار ہورہے تھے۔
میں چاہتی ہوں آپ اپنے ہاتھوں سے
ہرگز نہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا تم سے اور اب بھی کہہ رہا ہوں۔ مجھ سے ایسی امید مت رکھنا۔ وہ روکھے انداز میں بولے۔
ایسا بھی کہیں ہوتا ہے برہان‘ باپ کے ہوتے ہوئے بیٹی بنا باپ کی دعائوں کے رخصت ہو۔
ایسا نہیں ہوتا تو اب ہوگا جو ان لڑکیوں نے کیا ایسا بھی کہیں ہوتا ہے؟ بتائو مجھے؟ ہر بات کا الزام تم مجھے دیتی ہو۔ ان دونوں نے مجھے لوگوں کے سامنے جانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ آج میں لوگوں سے بھاگتا ہوں‘ چھپتا ہوں‘ ہر ایک کی آنکھوں میں مجھے اپنے لئے ہنسی و تمسخر محسوس ہوتا ہے۔ وہ پرطیش انداز میںبول رہے تھے‘ فائقہ جو کچھ اور بھی کہنا چاہ رہی تھیں خاموشی سے اٹھ کر ناشتے کی ٹیبل کی طرف بڑھ گئیں۔ جہاں کُک لوازمات سجا رہا تھا۔

یہ سب کتنی جلدی ہوگیاجو کبھی لگتا تھا کہ صدیاں گزر جائیں مگر ایسا نہیں ہوا گویا کسی طلسماتی عمل کے ذریعے وہ اس کٹھن منزل کی سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا تھا۔ پھر سیڑھی چڑھنا کون سا مشکل ہوتا ہے۔ فقط قدم آگے بڑھانے کی ہمت ہونی چائے۔ فقط پہلی سیڑھی پر قدم پڑنے چاہئیں۔ باقی سیڑھیاں آپ کے قدموں کو از خود کھینچتی اوپر جائیں گی۔ ماضی بہت دور رہ گیا تھا۔ اتنا کہ پیچھے گردن گھما کر دیکھتا تو ماضی کے صحرا میں یادوں کے بگولے ذہن کی اسکرین پر دکھ و حسرت کی ریت بکھیر دیا کرتے تھے۔ وقت بہت تیزی سے گزرا تھا۔ عمر کئی سیڑھیا ں پھلانگ کر آگے بڑھتی جارہی تھی۔ آج وہ خاصی طویل مدت بعد خود کو آئینے میں دیکھ رہا تھا تو استعجاب و حیرانگی سے شیشے کے پار کھڑے اُس شخص کو دیکھا جس کی آنکھیں کبھی بے حد روشن و خوب صورت ہوا کرتی تھیں۔ آج اُن کی آنکھوں پر دبیز شیشوں والی عینک تھی۔ کلین شیو چہرے پر داڑھی تھی جس کے بالوں سے ہلکی ہلکی سفیدی جھلکتی تھی۔
اُس کے وجود پر۔ اُن کی آنکھوں پر۔اُس چہرے پراُداسی تھی‘معتبر کردینے والی خاموش اداسی۔
یہ شخص کون ہے؟
جوانی کو الوداع کہہ کر
بڑھاپے کی حدود میں داخل ہوتا ہوا کسی خوب صورت مگر شکستہ عمارت روپ لئے ہوئے جو کسی پل زمین بوس ہونے کو تیار ہو۔
کون ہے یہ شخص!
کچھ جانا کچھ ان جانا سا
کون ہے یہ؟
حمزہحمزہ! منال پکارتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
حمزہ تو میں حمزہ ہوں گزرے وقت کی گم نام ساعتوں میں اپنی شناخت‘ اپنا نام بھی بھول بیٹھا ہوں۔ اس نے بار بار پکارنے پر مڑ کر دیکھا شوخ رنگوں کی ساڑھی‘ تیز میک اپ اور ڈائمنڈ جیولری میں اس کا حسن ڈائمنڈ کی طرح ہی لشکارے ماررہا تھا۔ وقت گم گشنہ نے اس پر کوئی خاص اثر نہ چھوڑا تھا۔ علاوہ ازیں جسم کچھ فربہی کی جانب مائل تھا اور یہ معمولی سا موٹاپا بھی اس کے حسن کی رعنائی میں اضافہ کررہا تھا۔ اُس کی بولڈنیس بڑھا رہا تھا۔
ہونہہ‘ شادی کو دس سال گزر گئے ہیں مگر آپ کی یہ خیالوںمیں گم رہنے کی عادت بجائے ختم ہونے کے بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مجھے کنفیوز کرکے رکھ دیا ہے آپ کی اس عادت نے۔ وہ پرمنگ ہوئے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے حمزہ سے تیکھے لہجے میں مخاطب ہوئی تھی۔
کیا کام ہے؟ اُس کا لہجہ ہر جذبات و احساس سے مبرا سپاٹ تھا۔
کونین میرے ساتھ جارہا ہے پرنس اپنے کمرے میں ہے اس کا جانے کا موڈ نہیں ہے۔ عجیب سر پھرا بدتمیز بچہ ہے‘ میرے ساتھ کسی گیدرنگ میں جانا پسند نہیں ہے اسے وہ مجھے لائیک ہی نہیں کرتا۔
بچوں کی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
یہ کام آپ کرتے ہیں بہت ہے۔ مجھ سے ایسی امید رکھنا ہی فضول ہے کونین بھی بچہ ہے اس کا ہی بھائی ہے مگر اس نے کبھی ایسی چیپ حرکتیں نہیں کیں۔
کونین ‘پرنس سے تین سال بڑا ہے۔ کچھ عرصے بعد کوآپریٹ کرنے لگے گا۔
تیس سال بعد بھی نہیں کرے گا۔ وہ آپ کی کاپی ہے اوکے میں جارہی ہوں۔ واپسی میں دیر ہوگی۔ وہ کھٹ کھٹ سینڈل بجاتی وہاں سے چلی گئی۔ حمزہ نے گہری سانس لے کر صوفے کی بیک سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں۔ چند لمحوں بعد انہیں ہلکی سی آہٹ محسوس ہوئی۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے صوفے پر اسے بیٹھے دیکھ کر اس کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ ابھر آئی۔ انہوں نے دونوں بازو وا کردیئے۔ وہ جو خاموش بیٹھا تھا باپ کی سمت دیکھ رہا تھا۔ تیزی سے اٹھ کر ان کے بازوئوں میں سما گیا اور پیار سے باپ کا رخسار چوما تھا۔
چپ چاپ آکر کیوں بیٹھ گئے تھے۔ حمزہ نے متاع حیات کی طرح اسے سمیٹا ہوا تھا۔ اُس کی اداس آنکھوں میں سرخوشی تھی اس ٹائم۔
بابا! میں نے ڈسٹرب کردیا آپ کو؟ میں آپ کو ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے خاموش بیٹھ گیا تھا۔ اس نے معصومیت سے جواب دیا۔
بابا پرنس کے آنے سے خوش ہوتے ہیں ڈسٹرب تھوڑی۔
بابا! آپ مجھے پرنس نہ کہا کریں۔ اُس کے انداز میں خفگی در آئی۔
کیوں؟ میرا بیٹا تو ہے ہی پرنس۔
مجھے یہ نام پسند نہیں بابا! یہ مما کا دیا ہوا نام ہے آپ مجھے میرے نام سے پکارا کریں‘ مائی سوئیٹ نیم ذوالنون۔ وہ جوش سے بولا۔
اوکے ذوالنون بیٹا! مگر مما کا دیا نام بھی اچھا ہے اور مما بھی اچھی ہیں۔موقع پاکر انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
مما اچھی نہیں ہیں بابا۔ وہ منہ پھُلا کر گویا ہوا۔
بری بات‘ اچھے بچے مما کو ایسے نہیں بولتے۔
مما ایسی تو نہیں ہوتی ہیں جیسی مما ہیں؟۔
اچھا پھر مما کیسی ہوتی ہیں؟
گرینڈ مما جیسی‘ بابا ہم گرینڈ مما کے پاس کب چلیں گے؟
چلیں گے۔ اس نے بہلایا۔
ابھی چلیں گے بابا‘ مجھے ہنزہ ، خضریٰ اور معیز سے ملنا ہے‘ صنوبر آنٹی بہت اچھی کوکنگ کرتی ہیں‘ گرینڈ مما سے اسٹوری بھی ملتی ہے۔ حمزہ نے پیار سے اس کی طرف دیکھا۔
ذو النون جس کو منال پیار سے پرنس کہتی تھی اور وہ اسی نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اُس میں خصوصیات بھی ایسی تھیں‘ خوب صورت‘ ذہن و فطین‘ کم گو اور کسی کو خاطر میں نہ لانے والا خاصی حد تک خود سر و مغرور۔
ماں کی سوشل ایکٹیوٹیز و ماڈرن ازم سے اسے سخت ترین چڑ تھی۔
باپ کی پُروقار‘ سنجیدہ و سراپہ ٔ اخلاق و مروت شخصیت کا وہ دیوانہ تھا۔
وہ عام بچوں سے مختلف اور بالکل جداگانہ مزاج کا حامل بچہ تھا جس کی صرف اپنے باپ‘ دادی اور چچا کی فیملی سے دوستی تھی۔

پورے کمرے میں کھلونے بکھرے ہوئے تھے۔
کرن دوپٹہ سنبھالے اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔
حورین! کم آن مائی بے بی! کم آن سوئیٹ ڈول! کرن نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھاما جو کھانا کھانے کے بجائے ادھر ادھر بھاگ رہی تھی۔
اسپگیٹی بنائی ہے چکن اسٹیک ہے میری بیٹی کو پسند ہے۔
نہ نہیں کھانی۔ وہ اُس سے خود کو چھڑاتے ہوئے غصے سے چیخی۔
کیوں نہیں کھانی‘ میں نے آپ کے لئے بنائی ہے۔
پاپا کے ہاتھ سے کھانی ہے۔ وہ منہ بسور کر بولی۔
میں اپنے ہاتھ سے کھلائوں گی اپنی بیٹی کو۔ کرن نے چمکارا۔
نہیں پاپا کے ہاتھ سے کھائوں گی۔ وہ ضد سے مچلنے لگی۔
ابھی ایک تھپڑ لگائوں گی ساری ضد بھاگ جائے گی پاپا کی بچی۔
ہاں بھئی‘ ہے تو یہ بابا کی بچی‘ آپ کیوں جیلس ہوتی ہیں۔ اسی دم باتھ روم سے انس نکل آیا اور روتی ہوئی حورین کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے ہوئے کرن سے بولا۔
یہ اچھی بات نہیں ہے آپ بہت بگاڑرہے ہیں اس کو۔
اکلوتی بیٹی ہے ہماری‘ سارے ارمان اس سے ہی نکلیں گے۔ وہ اسے گود میں لے کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ انس کی گود میں آکر وہ بالکل چپ ہوگئی اور باپ کے گلے میں بازو ڈال کر بیٹھ گئی۔
کھانے پینے کی یہ بالکل پروا نہیں کرتی ہے کہ کب سے اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی ہوں مگر یہ نہیں مانتی۔ کرن کے لہجے میں غصہ و جھنجلاہٹ تھی۔
بیڈ گرل نہیں ہے میری بچی۔ لے کر آئو کھانا ابھی کھاتی ہے۔
پاپا! مجھے بھوک نہیں۔ وہ گود سے اتر کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
ناشتے میں بھی اس نے صرف بوائلڈ ایگ لیا تھا اور کچھ نہیں۔
اوکے اوکے اب ہم شرط لگاتے ہیں جو پہلے اپنا کھانا ختم کرے گا اسے بہت ساری آئسکریم اور چاکلیٹس ملیں گی۔ انس اٹھتے ہوئے بولا۔
ایک ٹیڈی بیئر بھی پاپا؟ حسب توقع وہ خوش ہو کر چہکی۔
ہر گز نہیں پہلے ہی آپ کے ٹوائز سے کمرہ بھرا ہوا ہے۔
یار! تم ہمارے درمیان میں مت بولا کرو۔
آپ جلدی سے ریڈی ہوں‘ میں ہریرہ اور ایرج سے شرط جیت کر آتی ہوں۔ باپ کی آفر پر وہ خوشی خوشی روم سے نکل گئی تھی۔
یہ بات بات پر آپ کی اس طرح حورین کو شرط کی عادت ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ بات بات پر شرط لگاتی ہے اور جیتنے کے لئے ہر مشکل سے مشکل کام کر بیٹھتی ہے۔ حورین کے جانے کے بعد وہ فکر مند لہجے میں انس سے مخاطب ہوئی تھی۔
بلاوجہ ڈرنے اور فکر مند ہونے کی عادت تمہاری ابھی تک نہیں گئی جاناں! انس نے اس کی کمر کے گرد بازو ڈال کر قریب کرتے ہوئے کہا۔
حورین لڑکی ہے‘ لڑکیوں کی تربیت اتنی آزادی سے نہیں کی جاتی ہے۔ سعد بھائی کی ایرج بھی ۔ اسی کی ہم عمر ہے مگر اتنی نازک و فرمانبردار ہے کہ میرا دل چاہتا ہے حورین بھی ایسی ہوتی‘ معصوم‘ شرمیلی‘ ڈرپوک سی اگر کبھی ہوا بھی زور سے چل جائے تو ایرج فاریہ بھابھی سے چپکی رہتی ہے۔
واہ سبحان اللہ! کیا خیالات ہیں آپ کے۔ انس بے اختیار قہقہہ لگا بیٹھا۔
ہنسنے کی بات نہیں ہے حورین کو آپ نے بے حد بگاڑا ہوا ہے لڑکیوں کی کیئرنگ بچپن سے اچھی کرنی چاہئے۔ وہ سنجیدہ تھی۔
اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر سیریس مت ہوا کرو یار! میری زندگی میں تم لوگوں کے علاوہ ہے کون یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تو ہماری اندھیری زندگی کے چراغ ہیں تم میری زندگی ہو تو حورین وہ چڑیا ہے جس میں میری جان ہے۔ اس کی یہ معمولی سی‘ بے ضرر سی خواہشیں مجھے بے انتہا مسرتیں دیتی ہیں۔
تم! مجھے برا بھلا کہہ ڈالا کرو مگر حورین کو ایک لفظ نہ کہا کرو۔
وہ میری بیٹی ہے انس مدثر کی بیٹی‘ میں اسے بہت بہادر‘ بہت مضبوط بنانا چاہتا ہوں ، لڑکیوں کی طرح کمزور‘ بزدل و ڈرپوک نہیں۔
آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ انس کی آنکھوں میں گزرے دنوں کی پرچھائیاں لرزتی دیکھ کر کرن نے ہنس کر کہا اور اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔

چھوٹے سے گھٹن زدہ کمرے میں زرد بلب کی روشنی میں ہر شے بیمار سی لگ رہی تھی۔ درو دیوار پر جیسے حسرت و یاس کی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔ اُس کوٹھری نما کمرے کے کارنر پر ایک جھلنگا سے پلنگ پر وہ بیمار و لاغر جھریوں زدہ چہروں والی وہ معذور و بے بس عورت پڑی اپنی دن بدن بینائی کھوتی آنکھوں میں درد و کُرب کے آنسو لئے بار بار بند دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔ لب پیاس سے خشک ہوگئے تھے۔ زبان اکڑ سی گئی تھی۔
بھوک کی شدت سے معدہ اندر کی سمت دھنستا چلا جارہا تھا۔ اُن کی نگاہوں میں اپنا دور اقتدار چھپ دکھلاتا رہتا تھا وہ دور جس میں شہنشاہ تھیں۔ سنگدل‘ جابر و ظالم فطرت رکھنے والی پتھر دل عورت‘ ایک ایسی عورت جو صرف اور صرف اپنی چاہ میں مبتلا تھی‘ خود سری کے گھوڑے پر سوار کئی بے گناہ‘ بے خطا‘ مجبور و مظلوم لوگوں کو بے دردی سے روندتی رہی تھیں‘ ظلم ڈھاتے‘ من مانی کرتے وہ یہ بھول گئی تھیں۔ ہر رات کا سویراہوتا ہے۔ ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ انہوں نے بہت ہوشیاری سے اس ٹرک ڈرائیور کو لاکھوں روپیہ دے کر خریدا تھا۔ مائی سکینہ اور انس کے باپ اور دادی کو ہلاک کروانے کی سازش کی تھی جو کامیاب ہوئی تھی۔ یہ بات برہان لغاری کو بھی بعد میں معلوم ہوئی تھی۔
وہ دشمن کو کسی طور معاف کرنے کی عادی نہ تھیں اور آج فالج کے شدید اٹیک کی وجہ سے معذور ہوکر بستر نشین تھیں بلکہ مٹی کا ڈھیر تھیں۔ وہ اپنے پتھر جیسے جسم کے ساتھ صرف زبان کو حرکت دے سکتی تھیں۔ ہمہ وقت مہنگے ملبوسات اور بہترین عطریات استعمال کرنے والی والدہ حضور گندگی و بدبو کے حصار میں پڑی رہتی تھیں۔ ملازمہ دن میں صرف ایک بار اُن کو غلاظت سے پاک کرتی تھی۔ اس کے بعد وہ چیختی چلاتی رہتی تھیں۔ مگر کوئی نہیں سنتا تھا اُن کی فریاد‘ منال نے ان کا کمرہ رہائشی کمروں سے الگ کر رکھا تھا تاکہ وہ لوگوں کی نگاہوں سے دور رہیں۔
بے حد رعب و دبدبہ‘ جلال و طمطراق رکھنے والی والدہ حضور کو اب معلوم ہورہا تھاکہ بے بسی و مجبوری کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اپنے سے چھوٹے کو انسان نہیں سمجھا تھا۔ اُن کے ظلم وجبر کی عمر طویل تھی مگر ظالم کی عمر کتنی ہی طویل ہو ایک نہ ایک دن اسے مٹنا ہوتا ہے اور جب وہ مٹتا ہے تو نشان عبرت ثبت کرجاتا ہے۔
قدرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔
وقت ایک مقررہ حد تک انسان کو ڈھیل دیتا ہے۔
اُس کی پکڑ بڑی عجیب‘ بڑی درد ناک ہوتی ہے۔
پھر بھی لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے وقت ہمارے پاس ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں تادم آخر ہماری گرفت اس پر یونہی رہے گی۔
فائقہ پورے ہتھیاروں سے لیس ہو کر برہان لغاری کی زندگی میں از سر نو داخل ہوئی تھیں۔ یہ تہیہ کرکے کسی طور کسی محاذ پر پسپائی اختیار نہیں کرنی ہے‘ ہر مقام پر‘ ہر محاذ پر فتح یاب ہونا ہے اور وہ کامیاب تھیں۔
برہان لغاری کو پوری طرح اپنی مٹھی میں بند کرکے وہ اُن کے سامنے آئی تھیں۔ انہیں دوبارہ اپنے گھر میں بحیثیت بہو دیکھ کر پہلا ذہنی جھٹکا لگا پھر یکے بعد دیگرے لگنے والے جھٹکوں نے انہیں بے دم کر ڈالا تھا۔
برہان لغاری جیسا فرمانبردار بیٹا بدل جائے گا۔ انہیں یقین نہ تھا۔ بیٹا چھینا پھر ہر اختیار اُن کی مٹھی سے ریت کی مانند پھسلتا چلا گیا تھا۔ فائقہ نے ان کی سیاست سے ہی انہیں شکست دی تھی اور ان کا ساتھ دیا منال نے جو کسی دور میں اُن کے زیر عتاب رہی تھی۔
مکافات عمل شروع ہوچکا تھا۔ فائقہ گھرپر‘ دولت پر حکمرانی کرنے لگی تھیں۔ پرانے ملازموں کی طرح تمام سامان و رسم و رواج کو بھی وہاں سے نکال پھینکا گیا تھا۔ اب وہاں ہر شے امپورٹڈ تھی ملازمین نئے اور ان کے حکم کے تابع تھے۔ آئے دن مکسڈ گیدرنگز اور کاک ٹیل پارٹیز کا رواج تھا۔ فائقہ ساڑھی کا پلو جھلاتی مسکراتی اندر داخل ہوئی تھیں مگر کمرے میں بسی بساند نے انہیں ناک پر رومال رکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔
ہیلو والدہ حضور! کیسی ہیں آپ؟ ان کی آنکھوں میں تمسخر تھااور لہجے میں طنز۔
پانی پلادے‘ کھانا کھائوں گی۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر گھگھیائی تھیں۔
اوہ! آپ نے پانی نہیں پیا‘ کھانا نہیں کھایا؟
یہ نہیں دیتی مجھے‘ ترساتی ہے‘ بھوکا رکھتی ہے مجھے۔ وہ ملازمہ کی جانب اشارہ کرکے گویا ہوئیں جو فائقہ کے پیچھے چلی آئی تھی۔
کیوں مہرو! ایسا کیوں کرتی ہو۔ اُن کے انداز میں طنز تھا۔
بیگم صاحبہ! ٹائم سے دیتی ہوں‘ ورنہ بار بار بستر خراب کرتی ہیں۔
خود سارادن کھاتی ہے مجھے ایک دفعہ دیتی ہے مردار! ملی ہوئی ہے تو بھی اس سے! اس ڈائن سے جس نے آتے ہی میرا سب کچھ چھین لیا۔ میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا‘ میرا برہان مجھ سے چھین لیا۔ آخر میں وہ اسی طرح چیخنے چلانے لگی تھیں۔
پورے جسم کی طاقت بڑھیا کی زبان میں آگئی ہے۔
تجھے میری بددعا لگے گی‘ تونے میرا بیٹا چھینا ہے۔ وہ زور زور سے رونے لگیں۔
چپ کربڑھیا! کبھی تو نے چھینا تھا جب میں تو نہیں روئی تھی۔
ایک بار برہان کو میرے پاس لے آ‘ میں اسے دیکھنا چاہتی ہوں آخری بار دیکھنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے التجا کی۔
فرصت نہیں ہے ان کے پاس۔ بدبو اور گھٹن کے باعث وہ مزید وہاں ٹھہر نہ سکی تھی اور باہر نکل آئی تھی۔
پیچھے سے ان کی آواز التجائوں میں ڈھل کر باہر آرہی تھی۔ وہ رو رہی تھیں۔ وہ گڑگڑا رہی تھیں‘ فریاد کررہی تھیں‘ روٹی و پانی کے لئے برہان سے ملنے کے لئے۔ اس قید سے رہائی کے لئے جہاں برسوں سے انہوں نے تازہ ہوا‘ کھلا آسمان نہ دیکھا تھا مگر وہ ہر دفعہ کی طرح مسکراتی ہوئی نکل گئیں۔
والدہ حضور کی سسکیاں درودیوار سے لپٹ کر رونے لگیں۔
یہ انجام تھا اس خود پرست و جابر عورت کا جو کل تمام رشتوں و ناتوں کو اپنی غرض و مفاد کے لئے استعمال کرتی رہی تھی۔

یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ تم کہاں جارہے ہو؟ صمد اس کے کمرے میں آکر پریشانی سے گویا ہوا تھا۔ ایک عرصے بعد پھر اس نے حمزہ کے چہرے پر پرانی وحشت و بے کلی کو رقص کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
اب اب بھی پوچھ رہے ہو میں کہاں جارہا ہوں اور کیوں؟ حمزہ نے سخت کبیدہ و برہم نگاہیں اس کی جانب ڈالتے ہوئے کہا۔
اتنا بڑا فراڈ ہوا میرے ساتھ‘ ناقابل فراموش دھوکہمیری ہستی‘ میرا وقار میری عزت سب راکھ ہوگئی۔ لمحوں کے اندر وہ ایک شخص جس کی پرچھائی سے بھی مجھے سخت ترین نفرت ہے وہ وہ منال کا باپ ہے۔ پھوپو کی حسرتوں و دکھوں کا ذمہ دار کرن کی خوشیوں کا قاتل میں کس طرح لفظ اس کے لبوں میں پھڑپھڑا کر رہ گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
پلیز سنبھالو خود کو اس طرح ڈپریسڈ ہونا تمہارے لئے بہتر نہیں ہے۔
مجھے اکیلا چھوڑدو‘ مجھے اپنی کوتاہیوں پر دل کھول کر رونے دو‘ شاید پشیمانی کے آنسو میرے قلب کو سکون بخشیں ورنہ جو تباہی پھیلی ہے جس طرح آگ بھڑک رہی ہے وہ سب کچھ خاکستر کردے گی۔
دھوکہ تو دیا گیا ہے اس انداز سے کہ اعتماد و اعتبار کسی آئینے کی مانند کرچی کرچی ہو کر بکھر گیا ہے کس قدر عزت دار و قابل اعتماد سمجھا تھامسز فائقہ برہان کو‘ کتنی اپنائیت و معصومیت تھی۔ اُن کے انداز میں از حد خاکساری وضعداری نے ہمارے دلوں کو تسخیر کر ڈالا تھا۔ آنکھوں کے آگے پردے ڈال دیئے تھے۔ سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں گویا مفلوج ہو کر رہ گئی تھیں۔
صمد نے ہر ممکن طریقے سے اس کی دل جوئی کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر حمزہ تو پتھر جیسے احساسات رکھنے والا بن چکا تھا۔
ممی نے ہمیشہ جلد بازی و اپنی عقل کے مطابق فیصلے کئے۔ اور ان فیصلوں نے ہمیشہ مثبت کے بجائے منفی پہلو ظاہر کئے ہیں اور منال بھابھی سے تمہاری شادی کا فیصلہ بھی انہوں نے جس عجلت میں کیا اس کا انجام سامنے ہے۔ وہ اپنے کئے پر نادم تو تھیں مگر اب ان کے پچھتائوں و ندامتوں کی کوئی حد نہیں ہے۔ انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرلی ہے۔ ان کی آنکھیں خشک نہیں رہتیں بہت اثر لیا ہے انہوں نے اس انکشاف کا۔
مجھے ممی سے کوئی گلہ نہیں ہے پہلے جو کچھ کیا وہ کیا مگر ان کی نیت میں کوئی فتور نہیں تھا۔ انہوں نے یہ سوچ کر جلدی کی تھی کہ کرن نہیں ملی تو منال کو رب نے میرے لئے بھیج دیا ہے اپنی زیادتیوں کی تلافی انہیں اسی صورت میں نظر آئی تھی پھر برادر! اُس نے گہری دکھ بھری سانس لے کر توقف کے بعد کہا۔
جب میں بھی کچھ وقتی بہلائوں میں آگیا تھا یا کرن کی قسم نے مجھے بھی اتنا جلد بازو بے قرار کردیا تھا کہ میں نے سرسری سی چھان پھٹک کی تھی اور مطمئن ہوگیا کہ وہ حقیقتاً کسی اور دوسرے شخص کی بیٹی ہے اور اس کی ماں نے تصویریں بھی ان کی اس دور کی دکھائی تھیں جب اُن کی شخصیت بالکل مختلف وبے ضرر سی تھی۔
تقدیر سے نہ کوئی جیت سکا ہے نہ جیت سکے گا‘ جو کچھ بھی ہوا جس طرح بھی ہوا اس کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر برداشت کرلو بچوں کی خاطر‘ اگر تم نے کوئی انتہائی قدم اٹھایا تو بچوں کا فیوچر برائٹ نہ رہے گا۔
میںبچوں کی خاطر ہی منال کو ڈائیورس نہیں دے رہا مگر اس کے ساتھ بھی نہیں رہوں گا۔ حمزہ کے انداز میں حد درجہ کراہت تھی۔
کیا مقصد ہوا اس بات کا؟
میں جارہا ہوں‘ کہاں یہ نہیں معلوم‘ بچے اور منال یہیں رہیں گے یا وہ اپنی ماں کے پا س رہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حمزہ! اتنے سیل فش مت بنو۔ کسی اور کا نہیں تو ذوالنون کا سوچو وہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ زندگی ہے تمہاری‘ روح ہے پھر تم کس طرح اُس کے بغیر رہ سکتے ہو بلکہ کونین کے بغیر کیا رہ پائو گے؟ گو کہ جانتا ہوں کونین بے فکری ، لا ابالی‘ کھلنڈری طبیعت کا مالک ہے‘ اس لئے تم اس کی طرف سے بے فکر بھی رہتے ہو مگر ذوالنون کا کیا ہوگا؟ وہ بھابھی سے ذرا بھی اٹیچڈ نہیں ہے تمہارے بغیر وہ نہیں رہ پائے گا۔ صمد نے اس کی کمزوری یاد دلانے کی سعی کی مگر اس وقت وہ محبت و مروت سے عاری ایک پتھر شخص تھا جس پر کوئی جذبہ‘ کوئی محبت‘ کوئی کمزوری غالب نہ آسکتی تھی۔ صمد دل گرفتہ سا اٹھ کر چلا گیا تھا۔
بابا! بابا! آپ کہاں جارہے ہیں؟ حمزہ نے مڑ کر دیکھا وہ نہ معلوم کب سے اٹیچڈ باتھ کے پردے کے پیچھے کھڑا تمام گفتگو سنتا رہا تھا۔ اس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا اور سرمئی آنکھوں میں آنسو موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔
یہ آنکھیں!
یہ چہرہ!
اُن کے اندر برچھیاں سی چلنے لگیں اور رگیں چٹخنے لگیں۔
مما! انس کی کاپی دیکھی آپ نے؟ اندر داخل ہوتا ہوا ٹھٹھک کر رہ گیا۔
کونین کی دفعہ میں اُس کے خیال سے باہر تھی۔ حمزہ کی پرسنالٹی نے بے خود کر ڈالا تھا۔ مگر حمزہ جیسا غیر رومانٹک‘ سرد جذبات رکھنے والا مرد زیادہ عرصے مجھے اپنی ذات کا اسیر نہ کرسکتا تھا۔ شاید وہ مجھے شدتوں سے اپنی ذات کے حصار میں رکھتا تو میں پھر سے انس کی محبت کی گرفت میں نہ آتی۔ پرنس کی پیدائش سے قبل فرسٹ منتھ سے ہی مجھ پر۔ پھر اس بے درو بے قدر کی یادیں حاوی ہونے لگیں۔ میرے دن و رات اس کے تصور سے آباد تھے اور دیکھئے کتنا زبردست عکس آیا ہے۔ پرنس کے فیس پر انس جیسے ہی اس کے نقوش ہیں۔ رنگت ہے اور آنکھیں تو سیم انس جیسی ہیں۔ سرمئی‘ روشن اور جھیل کی طرح گہری و خوب صورت۔ اُس نے مسرت سے کھلکھلاتے ہوئے اس کی آنکھیں چومی تھیں اور پرنس منہ بنا کر دور ہٹ گیا تھا۔
اوہ! لک مما! انس کی طرح ہی پرائو ڈو بدماغ بھی ہے۔ وہ ہنسی۔
کچھ عقل بھی استعمال کرلیا کرو۔ ایک دفعہ تو اس ناہنجار کے پیچھے گھر پھونک بیٹھی ہو اب پھر یہی ارادہ لگ رہا ہے تمہارا‘ ان باتوں کو خوابوں میں بھی یاد نہیں کرتے۔ اگر حمزہ کو معلوم ہوگیا تو
کچھ نہیں ہوگا‘ اُس شخص میں ایسی کوالٹیز نہیں ہیں جو وہ کوئی ایسا ری ایکٹ کرسکے۔ وہ خاموش دنیا کا باسی ہے۔
منال کے قہقہے ان کے اندر ابھی تک گونج رہے تھے اپنی حمیت‘ اپنی عزت‘ اعتماد و یقین کو پارہ پارہ کرتے قہقہے۔ اس کی آنکھوں میں لہو اتر نے لگا۔ آنکھوں کی ٹھنڈک‘ دل کی دھڑکن کی مانند بیٹا کہیں گم ہو گیا۔ اب ان کے سامنے ان کی شریک حیات کی محبتوں و جنون خیزیوں کا جیتا جاگتا ثبوت کھڑا تھا۔
سرمئی آنکھیں
وجیہہ چہرہ
اُن کے ذہن کی اسکرین پر ہفتے بھر سے ایک تصویر جم کر رہ گئی تھی۔ مدثر انس‘ انس مدثر کی تصویر‘ کتنی شباہت‘ کتنی مماثلت تھی۔ ان چہروں میں گویا تمام نقوش چرا کر آویزاں کردیئے گئے ہوں۔
بیٹا وہ اُن کا تھا اور شبیہہ کسی اور کی‘ خیالات کی مصوری کا نادر نمونہ‘ ایک عورت کی پراگندہ‘ ذہنی و ہرجائی پن کی مثال۔
بابا! کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ جو نظریں اس کے لئے محبت و شفقت کی چاشنی سے لبریز رہتی تھیں۔ ان میں وہ کئی دنوں سے عجیب تپش و بیگانگی دیکھ رہا تھا۔ اور سمجھ نہیں پارہا تھا انہیں کیا ہوگیا ہے اور اس لمحے بھی انہیں خاموش و گھورتے پاکر وہ ڈرتے ڈرتے بولا تھا۔
کچھ نہیں۔ آپ چھپ کر ہماری باتیں سن رہے تھے؟ حمزہ کا انداز سرد تھا۔
نو بابا! حمزہ کو غصے میں دیکھ کر اس کے چہرے پر خوف پھیل گیا تھا۔
پھر وہاں کیا کررہے تھے؟ حمزہ اس کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھا۔
میں وہاں اپنی بال دیکھنے گیا تھا۔ آپ اور انکل مما کی باتیں کررہے تھے۔ مجھے سامنے آنا اچھا نہیں لگا۔ کمسن ذہن سے بڑی گہری و بامعنی بات نکلی تھی۔ حمزہ نے آنکھیں بند کرلیں۔ اس کی پہلی ذہانت و لیاقت عمر سے بڑی سوچ کی وسعت اسے اپنے ہم عمر بچوں میں ممتاز کرتی تھی۔
شعور سے قبل ہی آگہی کے در اس پر وا ہوچکے تھے۔
بابا! مما ایک اچھی عورت نہیں۔ وہ اس کے قریب آکر بولا۔
مما گندی ہیں جھوٹ بولتی ہیں۔ نانو بھی گندی ہیں اور گرینڈ پابھی۔ ہم اُن سے نہیں بات کریں گے۔ وہ سب گندے ہیں۔ وہ حمزہ کے سینے پر سر رکھ کر آہستہ آہستہ نفرت آمیز لہجے میں کہہ رہا تھا۔
حمزہ نے دایاں بازو آگے بڑھا کر اسے سینے سے بھینچ لیا تھا۔ گرم گرم آنسو خاموشی سے اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔
کتنی اذیت ناک ہے اپنوں کی جدائی جیتے جی اپنوں کو چھوڑ دینا۔ زندہ درگور ہوجانے کے برابر ہے اسے یہ بوجھ اٹھانا ہی تھا زندہ درگور ہونا ہی تھا۔ دوسروں کے لئے وہ جیتا رہا تھا۔ مگر اب وہ اپنے لئے جینا چاہتا تھا۔ اس سودوزیاںکو حاصل کرنا چاہتا تھا۔
زندگی اُس پر ضرب لگاتی چلی آئی تھی اور ان ضربوں نے گویا اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان جانے میں وہ اس عورت کو شریک سفر بنا بیٹھا تھا جو اُس کی کرن کی دشمن تھی۔ انس سے دل کا تعلق اس کا ابھی برقرار تھا۔ شوہر کے ہوتے ہوئے وہ غیر مرد کی محبت میں گرفتار تھی۔ ایک راز سے پردہ اٹھنا تھا کہ پھر ہر راز سے پردے ہٹتے چلے گئے۔ سب کچھ عیاں ہوتا چلا گیا۔ مگر اس طرف بلا کی بے غیرتی و بے حسی تھی۔
ہر راز عیاں ہونے پر‘ ہر بات کھلنے پر بھی نہ اُن کی پیشانی عرق آلود ہوئی نہ نگاہیں پشیمانی و جھجک سے جھجکیں وہ اسی طرح مطمئن و مسرور رہیں۔ البتہ کرن کے متعلق جان کر منال نے الزامات و طعنوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ اپنی کسی بات پر وہ شرمندہ نہ تھی۔ مگر حمزہ کو مسلسل ٹیز کررہی تھی وہ۔ کرن کے حوالے سے اس وقت بھی یہی ہوا تھا‘ وہ آتے ہی حمزہ سے الجھنے لگی تھی۔ اس کے چیخنے چلانے پر حمزہ سوئے ہوئے ذوالنون کی طرف اشارہ کرکے بولا کہ وہ خاموش رہے۔
میں کیوں خاموش رہوں‘ مجھے برباد کرکے رکھ دیا۔ آپ کی اس چہیتی نے مجھے آپ نے چاہا کب؟ کب محبت کی؟ وہ چیخی۔
بات کو مت بڑھائو میں کہہ رہا ہوں۔‘، حمزہ سرد لہجے میں گویا ہوا۔
بات بڑھ چکی ہے وہ لڑکی نہیں ناگن ہے جس نے بار بار میری خوشیوں کو ڈسا ہے۔ میرے سکون کو زہر کر ڈالا ہے۔ وہ اس سے زیادہ چیخ رہی تھی۔
بکواس مت کرو‘ خبردار جو تمہاری زبان پر کرن کا نام بھی آیا تو
اوہو ہو اس کو کہتے ہیں محبت اور اس کا جوش‘ مجھے ہرجائی پن و بے وفائی کے طعنے دیتے ہواور خود اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے۔ بیوی کے پہلو میں کھڑے ہو کر غیر عورت کی طرف داری کررہے ہو۔ منال کا لہجہ سخت طنزیہ و جڑوانے والا تھا۔
شٹ اپ‘ بدزبان عورت‘ زبان بند کرو اپنی ورنہ شدید طیش میں اُس کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی۔
ورنہ کیا کرلیں گے آپ؟ دوسرے کو آئینہ دکھانا کتنا آسان ہے۔ خود بھی دیکھیں اور اُس اذیت کو محسوس کریں جو مجھے ہورہی ہے۔
وہ نڈر ماں کی نڈر بیٹی تھی جھکنا اور اپنی غلطی تسلیم کرنا جانتی نہ تھی۔ اسی چیخ و پکار میں بیڈ پر سوئے ذوالنون کی آنکھ کھل چکی تھی۔ وہ اسی طرح لیٹا مندی مندی آنکھوں سے سب دیکھ رہا تھا۔
ماں کی شعلے برساتی نگاہیں و چیختا چلاتا لہجہ جو اسے کبھی پسند نہ رہا تھا۔ باپ کا متانت و سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے باوقار انداز جو اسے پسند تھا۔ مگر اس وقت وہ باپ کے چہرے پر نظر آتے غیظ و غضب کے نئے رنگ دیکھ کر سہما جا رہا تھا۔ اس کا ننھا سا دل خوف کے مارے تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
تم تم! کیا اذیت محسوس کرو گی؟ جو دوسروں کو تکلیف میں رکھنا جانتے ہوں وہ خود درد محسوس نہیں کرتے‘ مجھے آئینہ کیا دکھائو گی میرا ضمیر‘ میرا کردار کسی غلاظت کسی فریب کی رسوائی سے بدنما نہیں ہے۔ اگر تم مجھے سرور شاہ کے بارے میں خود ہی بتادیتیں تو میں اتنی گلٹی فیل نہیں کرتا جتنا تمہاری اور پھر خود سرور شاہ کی زبانی سن کر مجھے اذیت ہوئی ہے۔ مرد کتنا ہی برا‘ کتنا ہی پتھر ہو لیکن عورت کا خلوص‘ ایثار و محبت اسے موم بنادیتی ہے۔ مگر تم نے کبھی ان جذبوں تک رسائی نہیں پائی۔ آشنائی نہیں پیدا کی تو مجھ سے کس بات کا شکوہ؟
اوکے۔ وہ اُس کے قریب آکر ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر اس کی آنکھوں میں طنز سے دیکھتے ہوئے پھنکاری۔آپ نے کبھی مجھے بتایا کہ آپ کرن کو پسند کرتے ہیں؟ اس کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ اس کے عاشقوں میں سے ایک آپ بھی ہیں؟
منال! اپنی زبان کو لگام دو۔ وہ غصے سے چیخا۔
کیوں تمام لگامیں صرف عورت کے لئے ہوتی ہیں؟ مرد جہاں چاہے منہ مارتا پھرے اس کے لئے کوئی پابندی‘ کوئی زنجیر نہیں ہوتی ہے۔ مرد ہزار گناہ کرکے بھی نیک و پارسا کہلاتا ہے‘ عورت ایک خطا کرکے بھی سزا وار ہو‘ میں نہیں مانتی ان باتوں کو‘ آپ کل بھی کرن کی محبت میں بندھے تھے اور آج بھی ہیں اور شاید مرتے دم تک رہیں گے۔
حمزہ کی خاموشی کرن سے ہمیشہ رہنے والی محبت کا اقرار جو منال کو بری طرح بپھرا گیا تھا۔ وہ مشتعل ہوکر بولی۔
پھر تم میرے ساتھ کہاں ہو‘ میرے کہاں ہو‘ مجھ سے شادی کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ بد نصیبی سے میرا اور اس کا فیس ملتا ہے اور یہی چہرہ بھی آپ کو میرے قریب لایا اور پھر آپ کی خواہشیں پوری ہوتی چلی گئیں۔ مرد اور اس کی خواہشیں وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی۔
محبت اور طلب‘ خلوتوں میں چہرہ میرا نہیں کرن کا رہا پھر خواہ جسم کوئی بھی ہو تصور جاناں تو میرے چہرے میں بھی کرن کا چہرہ ہی دکھاتا رہا اور محبت کا حاصل بھی۔ وہ زہریلے انداز میں کہہ رہی تھی۔ حمزہ کی قوت برداشت جواب دے گئی۔ اس نے آگے بڑھ کر پے در پے تھپڑوں سے اُس کا چہرہ سرخ کر ڈالا۔
اُس کی آنکھوں میں بھی خون کی سرخی لہرانے لگی تھی۔
اُن کی نگاہوں سے ذوالنون کی موجودگی گویا فراموش ہوچکی تھی۔ ذوالنون جس کی حساسیت و ادراک حد سے سوا تھی۔ ماں کی زبان درازی کے ناآشنا گوشے اور باپ کے اس قہر و غضب میں بھرے خونخوار روپ نے اسے اتنا ہراساں و خوفزدہ کردیا تھا کہ وہ ڈر کر چیخ بھی نہ سکا تھا اور تیزی سے اپنا منہ رضائی میں چھپالیا تھا۔
اُس کا معصوم و ناپختہ ذہن جو پہلے ہی ماں اور باپ کے درمیان بے گانگی کے احساس کا شکار تھا۔ اس وقت ان کے درمیان ہونے والی دوبدو جنگ نے اسے نئے و بھیانک جذبے سے آشنا کروایا تھا۔
نفرت شدید تر نفرت کا جذبہ!
عورت سے جنونی نفرت کا جذبہ!
سامنے چہرے پر ہاتھ رکھے روتی چیختی‘ چلاتی نازیبا زبان بولتی عورت اُسے ماں نہیں کوئی اور عورت لگی جو کسی اپنی جیسی دوسری عورت کے خلاف بڑے بڑے لفظ بول رہی تھی۔
اُن کرب ناک لمحوں میں وہ دس سال کی عمر میں شعور کی کئی منزلیں اذیت ناک انداز میں پھلانگتا چلا گیا تھا۔
بے حد گنجلک و مشکل ترین گرہ پڑی تھی۔ اس کے ذہن میں اور آگے کا سفر از حد کٹھن و دشوار ہوگیا تھا۔ وہ اُس کی ابتر ہوتی ذہنی حالت سے بے خبر ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں مصروف تھے۔ پھر اس نے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ایک اور کرُبناک منظر دیکھا تھا۔ منال روتی چیختی سوٹ کیس میں اپنے کپڑے وغیرہ بھر کر چلی گئی اور اُس کے بعد اس نے حمزہ کو دیکھا جو پہلے سے تیار شدہ سوٹ کیس اٹھا کر آگے بڑھا تھا اور اُس پر نظر ڈال کر چند ثانیے کھڑا کا کھڑا رہ گیا تھا۔ اُس نے بھی باپ کو جاتے دیکھ کر آنکھیں کھول دی تھیں۔
ذوالنون! میری جان۔ سوٹ کیس رکھ کر وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔ اور اسے بازوئوں میں بھر کر پوری شدت سے روپڑا تھا۔
بابا! آپ کہاں جارہے ہیں؟ کونین جو دوسرے کمرے میں ماں باپ کی لڑائی کی آوازیں سن کر گھبرا رہا تھا۔ ماں کو جاتے دیکھ کر یہاں آیا تھا اور یہاں باپ کو بھی تیار دیکھ کر پریشانی سے بولا۔
حمزہ نے اُس کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ بھی خوف سے سفید پڑگیا تھا۔ آنکھوں میں ابھی آنسو چمک رہے تھے۔ چہرے پر نشان تھے۔ آنسوئوں کے۔
میں جارہا ہوں‘ مجھے جانا ہوگا۔ دوسرے ہاتھ سے کونین کو لپٹاتے ہوئے وہ بھرائے لہجے میں بولا۔
ہمیں آپ کی ضرورت ہے بابا‘ آپ مت جائیں۔
میں نہیں رُک سکتا‘ اگر رُک گیا تو مرجائوں گا‘ میری شریانیں پھٹ جائیں گی‘ میں یہاں نہیں رہ سکتا‘ مجھے روکنا مت۔ اُس کے آنسو اُن کے سر کے بالوں میں جذب ہورہے تھے۔
میں مما کو لے آئوںگا ، آپ مت جائیں۔ کونین نے تسلی دینی چاہی۔
مائی فٹ‘ مجھے نفرت ہے اس عورت سے جو رشتوں کے تقدس کا قتل کرتی ہے۔ اگر وہ میرے سامنے آئی تو میں خود کو شوٹ کرلوں گا۔
اُن دونوں کو علیحدہ کرتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا انداز اتنا سردو روکھا ہوگیا کہ پھر کونین کو جرأت نہ ہوسکی اسے روکنے کی اور ذوالنون تو کچھ بولا ہی نہ تھا۔ اس کا ذہن شاکڈ کے زیر اثر تھا۔ وہ پتھرائی ہوئی نگاہوں سے باپ کو دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ دیکھتا رہا تھا جانے سے قبل حمزہ نے ان سے معافی مانگی‘ ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا کہا اور بھی نہ معلوم کیا کچھ وہ کہتا رہا تھا اور آخری لمحے وہ نگاہیں چرا کر ان کے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ جاتے لمحے انہوں نے اس کی پیشانی پر وہ بوسہ بھی نہ دیا تھا جو کہیں جانے سے قبل دینے کے عادی تھے۔ کونین روتا ہوا اُن کے پیچھے گیا تھا۔ مگر وہ اپنی جگہ سے جنبش بھی نہ کرسکا تھا۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا اور آنکھیں خشک مگر دل کی دنیا میں زبردست تباہی پھیلی ہوئی تھی۔ ماں سے ہمیشہ اسے تشنگی کا احساس ملا تھا۔ باپ سے ملنے والی تمام محبت و الفت‘ اعتماد و اعتبار کے بھرم بھی ٹوٹتے چلے گئے۔ بہر حال ان ٹوٹتے احساسات کی گرد پھیل رہی تھی۔
پرنس پرنس! بابا ہمیں چھوڑ گئے پرنس! کونین واپس آکر اس سے لپٹ کر روپڑا وہ پھر بھی ایسے ہی بیٹھا رہا۔
پرنس! بابا نہ معلوم کہاں گئے ہیں؟ مما بھی چلی گئی ہیں تم بولتے کیوں نہیں تمہیں کیا ہوا؟ کونین نے گھبرا کر اسے جھنجھوڑا تو وہ بے ہوش ہو کر اس کی گود میں گر گیا۔ کونین کی چیخوں نے ملازمین کو کمرے میں اکٹھا کر دیا تھا۔

آسمان پر ہلکی ہلکی دھند تیزی سے بڑھ رہی تھی اور خوشگوار موسم میں سردی کا احساس پھیلنے لگا تھا۔ سبزے میں بے شمار پھولوں پر بیٹھی منڈلاتی تتلیوں کے پیچھے بھاگتی سرخ فراک میں گولڈن بالوں کی دو پونیوں میں وہ خود بھی ایک خوب صورت و دل کش تتلی لگ رہی تھی۔ بٹر فلائی نیٹ پکڑے وہ گھنٹوں سے تتلیوں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھی۔ کبھی انہیں پکڑلیتی اور کبھی چھوڑدیتی‘ فلاور باسکٹ میں ڈھیروں رنگ برنگے پھول رکھے تھے۔ وہ اپنے اس مشغلے سے بہت خوش تھی۔ اس کے ساتھ آئے ہریرہ اور ایرج کافی ٹائم گزرجانے کی وجہ سے گھر جانا چاہ رہے تھے مگر وہ تیار نہ تھی۔
حورین!آنٹی اور ممی گھر آگئی ہوں گی‘ وہ ہمیں گھر میں نہ پاکر پریشان ہوں گی‘ پلیز چلو نہ۔ ایرج نے کہا۔
وہ دونوںگروسری کرنے گئی ہیں جلدی نہیں آئیں گی۔
وہ آگئی ہوں گی‘ ہمیں چلنا چاہئے۔ ہریرہ ماحول میں چھانے والے سرمئی غبار دیکھ کر بولا۔
میں نے کہا نا نہیں آئی ہوں گی۔ نیٹ نیچے کرکے وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے چیلنج والے انداز میں بولی۔
آگئی ہوں گی۔ ہریرہ کا انداز بھی چیلنج والا تھا۔
ہوجائے شرط؟ حورین ہاتھ پھیلا کر بولی۔
ڈن۔ ہار گئی تو یہ تمام چاکلیٹیں اور ویفرز میرے ہوں گے؟
یس۔ اگر جیت گئی تو تمہیں مرغا بن کر اذان دینی ہوگی بالکل مرغے کی طرح؟ حسب عادت اس نے کہا جو ہریرہ نے مان لیا اور وہ تینوں گھر کی طرف لوٹے تھے۔
گھر سے کچھ دور ان دونوں نے دوڑنا شروع کر دیا تھا۔ پہل ہریرہ نے کی تھی وہ پہلے پہنچ کر تسلی کرنا چاہتا تھا کہ اگر ممی اور آنٹی آئی نہ ہوں تو وہ شرط ہارنے کی صورت میں اپنے بچائو کے لئے کوئی تدبیر کرسکے۔ حورین جو اس کی چالاکی سمجھ گئی تھی۔ اس نے بھی دوڑنا شروع کر دیا ان دونوں سے پیچھے آتی ہوئی ایرج انہیں آوازیں دیتی آرہی تھی۔ مگر وہ دونوں نمبر ون شریر و ہنگامہ پسند طبیعت کے مالک تھے۔ کہاں سننے والے تھے۔ اسی بھاگ دوڑ میں حورین کا پائوں پھسل گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اُن دونوں کی چیخیں بھی نکل گئی تھیں۔ حورین ڈھلوان سطح سے پھسلتی ہوئی نیچے گرتی جارہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں پکڑی پھولوں کی باسکٹ سے پھول‘ ٹافیاں‘ چپس وویفرز کے پیکٹ بھی ادھر ادھر لڑھکتے غائب ہوگئے تھے۔
وہ زمین پر آتے ہی بے ہوش ہوگئی تھی۔ سبز گھاس پر اس کے سر سے نکلا سرخ سرخ خون پھیلنے لگا تھا۔ ایرج اسے بے ہوش اور خون دیکھ کر رونے لگی تھی۔ جبکہ ہریرہ بدحواس سا گھر پر گیا تھا۔ گھر پر ان چاروں میں سے کوئی بھی ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ ملازم اور ملازمہ کو لے کر آیا۔ ان کی مدد سے وہ حورین کو اسپتال لے کر جارہے تھے جب وہ واپس لوٹے تھے اور اسی ٹائم اسے اسپتال لے کر روانہ ہوئے تھے۔
تھینکس گاڈ! کوئی فریکچر نہیں ہوا ہے ورنہ میں تو ڈر ہی گیا تھا۔ انس دوائوں کے زیر اثر سوتی ہوئی حورین کا رخسار چوم کر تشکرانہ انداز میں بولا۔ اس کے سر میں زخم آیا تھا اور چند معمولی سی چوٹیں تھیں۔ ڈاکٹر نے ایک گھنٹے کی ٹریٹمنٹ کے بعد چھٹی دے دی تھی۔ ایرج کی زبانی وہ تمام صورت حال سے باخبر ہوچکے تھے۔ سعد اور فاریہ نے اسے ڈانٹا تھا اور سعد نے سزا کے طور پر اسے مرغا بنایا تھا کرن کے کہنے پر اس کی سزا معاف ہوئی تھی۔
نہیں ہوا تو کل ہوگا یہ لڑکی اس طرح حرکتیں کرتی رہے گی تو کب تک نقصان سے بچ سکتی ہے۔ کرن متفکر انداز میں بولی۔
کیسی باتیں کررہی ہو یار! حورین بچی ہے ابھی۔ انس کو برا محسوس ہوا۔
آج بچی ہے کل بڑی ہو گی پھر لڑکیوں کو بڑے ہوتے وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ بچپن کی پختہ عادتیں عمر کے ساتھ مزید پختہ ہوجاتی ہیں اور حورین کی یہ شرط لگانے کی عادت مجھے نہ معلوم کیوں خوفزدہ کردیتی ہیں۔ مجھے ڈر رہتا ہے اس کی اس عادت سے۔
بلاوجہ کے خدشے پالنا کوئی تم سے سیکھے۔ انس نے ہنس کر کہا۔
یہ خدشے نہیں ہیں الہام ہے‘ کوئی خفیہ سرگوشی ہے جو اکثر میرے اندر گونجا کرتی ہے یا میری چھٹی حس جو عموماً شارپ ہوجاتی ہے۔کھوئی کھوئی پریشان سی کرن کو انس نے بغور دیکھا پچھلے کچھ دنوں سے وہ مضطرب و بے کل رہنے لگی تھی۔ اس کی زندہ دلی‘ پرسکون مسکراہٹ گویا کھوچکی تھی۔ اس کی کیفیت خود اسے بھی بے چین کئے ہوئی تھی۔ گزرتے وقت نے اسے کرن کے بہت قریب کر دیا تھا۔ اتنا قریب کہ وہ اب اس کے چہرے پر رنج و فکر کی معمولی سی لکیر دیکھ کر پریشان و بے چین ہوجاتا تھا۔ گویا زندگی و مسرت کا ہر احساس اس سے مربوط تھا۔
میں دیکھ رہا ہوں جب سے حورین اسکول کے سوئمنگ پروگرام سے گولڈ میڈل جیت کر لائی ہے تب سے تم پریشان و فکرمند ہو ایسی کیا بات ہے۔
انس! یہاں کا آزادانہ ماحول‘ یہاں کی عریاں تہذیب مجھے خوفزدہ کررہی ہے۔ میں نہیں چاہتی ہماری حورین یا ایرج و ہریرہ پر یہاں کی تہذیب و آزادی کا معمولی سا بھی سایہ پڑے اس سے قبل ہمیں یہاں سے نکل جانا ہے۔ ابھی وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلا نہیں ہے۔
ٹیک اٹ ایزی کرن! کیا فضول سوچتی رہتی ہو ہمیں اپنے بچوں پر اپنے خون پر اعتماد ہونا چاہئے۔
انس بھائی! کرن بھابی درست کہہ رہی ہیں۔ یہ معاشرہ اور یہاں کی بے راہ روی مجھے بھی پریشان کئے ہوئے ہے پھر بات خون و خاندان پر اعتماد کی نہیں ہوتی ہے۔ بات یہیں آتی ہے آگ میں رہ کر آپ خود کو کس حد تک بچاپائیں گے؟ فاریہ بھی کرن کی ہم خیال تھی۔
کرن بھابی اور آفس کا معاملہ تو تم جانتی ہو فاریہ! پھر کس طرح یہ واپس جاسکتے ہیں یہ بھی تو سوچو۔ سعد نے گفتگو میں حصہ لیا۔
سعد بھائی! وہ دور گزر گیا۔ بہت خوفزدہ ہوئے‘ بہت ڈرے مگر اب نہیں ڈرنا ان کے خوف سے ہم یہاں اپنے بچوں کی تربیت خراب نہیں کرسکتے۔ ہمیں پاکستان واپس جانا ہے بس۔ کرن قطعیت بھرے انداز میں بولی۔
اوکے‘ اوکے اتنی جلد ڈپریشن میں آپ خواتین مبتلا نہ ہوا کریں‘ ہمیں پاکستان جانا ہے لیکن بچوں کی ابتدائی تعلیم مکمل ہونے کے بعد سب چلیں گے۔ انس اور سعد نے پُریقین لہجے میں کہا تھا۔

ہال روم میں وہ سب جمع تھے۔
صمد‘ صمد کی بیوی صنوبر‘ راحیلہ بیگم‘ ذوالنون‘ کونین اور صمد کا بیٹا ہنزہ‘ بیٹی خضریٰ اور دوسرا بیٹا خضر اتنے نفوس ہونے کے باوجود وہاں خاموشی اپنے پورے وجود سمیت حائل تھی۔ البتہ راحیلہ بیگم کی گھٹی گھٹی سسکیاں ماحول کے سکوت میں ارتعاش سا پیدا کردیتی تھیں۔ صمد ابھی ابھی کہیں سے آکر بیٹھا تھا۔ تمام نگاہیں اس کے چہرے پر جمی بے تابی سے اٹھی تھیں۔ اسی طرح جھک بھی گئی تھیں۔ ناکامی و نامرادی صمد کے چہرے پر عیاں تھی۔ راحیلہ بیگم کی سسکیاں مزید بڑھ گئی تھیں۔
مت روئیں مما! کب تک ہم سے اپنے بچوں سے دور رہے گا وہ آج نہیں تو کل لوٹ آئے گا۔ ہماری خاطر اپنے گھر‘ اپنے بچوں کی خاطر۔ ماں کو تسلی دے کر اس نے ذوالنون اور کونین کو دونوں بازوئوں میں لے کر خود سے لپٹالیا تھا۔ شدت ضبط سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
نہ پتہ‘ نہ ٹھکانہ‘ اس کی منزل کا نہیں پتہ ایسا کہاں چلا گیا میرا بچہ۔ مجھے خبر بھی تو ہو کہ کہاں گیا ہے۔ راحیلہ کو کسی دم قرار نہ تھا۔
وہ پاکستان سے باہر گیا ہے۔ میں نے ٹریول ایجنسی سے معلومات لی ہیں۔ آپ روئیں نہیں۔ صرف دعا کریں وہ لوٹ آئے گا بہت جلد‘ صنوبر بچوں کو تیار کرو۔ہم کھانا باہر کھائیں گے۔ وہاں موجود ڈپریشن کو دور کرنے کے لئے اس نے پروگرام بنایا تھا۔مگر کوئی بچہ باہر جانے پر راضی نہ تھا۔ صنوبر نے انہیں گھر پر ہی کھانا کھلا کر دوسری ضروریات سے فارغ کروانے کے بعد کمروں میں سونے کے لئے بھیج دیا تھا اور خود دوسرے کاموں میں لگ گئی تھیں جبکہ صمد اور راحیلہ بیٹھے گفتگو کررہے تھے۔
بھابی نے آنے سے انکار کر دیا ہے مگر فائقہ آنٹی کہہ رہی تھیں کچھ دن بعد بھابی کا غصہ اتر جائے گا تو وہ خود چھوڑ جائیں گی یہاں۔
وہ عورت نہ اچھی بہو ثابت ہوسکی نہ اچھی بیوی اور نہ اچھی ماں۔
کونین نے ان باتوں کا اتنا اثر نہیں لیا ہے جس قدر ذوالنون دل و دماغ پر اثر لے بیٹھا ہے۔ ایک آنسو اس کی آنکھ سے نہیں گرا ہے اور زبان کو جیسے تالا لگ گیا ہے۔ کچھ بولتا بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں اگر اس کی یہی کنڈیشن رہی تو کسی سائیکالوجی پرابلم کے سرکل میں پریشرائز ہوسکتا ہے۔ یہ بہت بڑا پرابلم ہے مما‘ اسے کسی طرح دل کا غبار نکالنا چاہئے۔ اسی طرح وہ ریلیکس ہوسکتا ہے ورنہ کچھ بھی ہوسکتا ہے کچھ بھی۔انس بری طرح پریشان تھا۔
اللہ نہ کرے جو میرے بچے کو کچھ ہو۔ اس کی جان تو باپ میں اٹکی رہتی تھی‘ ا سکی تو حالت ہونی ہی تھی۔ راحیلہ بیگم زور و شور سے رونے لگیں۔
ایک ہفتہ مزید گزر گیا نہ حمزہ نے کوئی رابطہ کیا نہ منال لوٹی اور نہ ہی ذوالنون کی خاموشی و بے حسی میں کمی آئی۔ کونین اس کا بے حد خیال رکھنے لگا تھا۔ گھر کے سب لوگ اسے وی آئی پی ویلیو دے رہے تھے۔ مگر اس میں ذرا بھی فرق نہ آیا تھا۔ یہ وہی گھر تھا جہاں آکر وہ بے حد خوش و خرم رہا کرتا تھا۔ دادی سے کہانیاں سنتا‘چچی سے کھانوں کی فرمائشیں کرتا۔ چچا کے ساتھ آئسکریم کھانے جاتا اور بچوں سے گہری دوستی رکھتاتھا اور اب اسے کچھ نہیں پسند آرہا تھا۔
ہنزہ اور خضر کی جانب کبھی نگاہ اٹھا کر دیکھ لیا کرتا مگر خضری جس سے اس کی فرینڈ شپ تھی‘ نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ تھی اور چھ ماہ کی عریبہ تو اس کی گود و محبتوں سے محروم ہوگئی تھی۔
اس وقت بھی وہ سوچوں میں گم بیٹھا تھا جب اچانک ہی کونین نے چھ ماہ کی عریبہ کو اس کی گود میں ڈالتے ہوئے کہا۔
پرنس! یہ تمہیں دیکھ کر مسکرارہی ہے تم سنبھالو اس کو۔ وہ بڑی زور سے چونکا تھا اور اس کا یہ چونکنا اندر داخل ہوتے صمد کی نگاہوں میں تجسس جگاگیا وہ وہیں کھڑے ہو کر بغور اس کے بتدریج سرخ پڑے چہرے کو دیکھ رہا تھا جس کی لمحہ بہ لمحہ کیفیت بدل رہی تھی۔
یہ یہ اس کو تم نے کیوں مجھے دیا ہے؟ شدید غصے و جنون سے اس کی آواز کانپ رہی تھی اعصاب تن گئے تھے۔
اتنا غصہ کیوں ہورہے ہو۔ یہ عریبہ ہے تمہیں اچھی لگتی ہے ناں۔
نہیں لگتی مجھے اچھی۔ وہ چیخا۔
کیوں؟ کیا ہوا؟ کونین اُس کی حالت پرپریشان ہوا۔
یہ لڑکی ہے اور مجھے لڑکیوں سے نفرت ہے آئی ہیٹ گرل۔ اس نے شدید اشتعال سے کہتے ہوئے عریبہ کو گود سے نیچے اچھال دیا تھا۔ اور اس طرح گرنے سے بچی پوری طرح گلا پھاڑ کر روئی تھی۔ کونین نے پھرتی سے بچی کو اٹھا کر سینے سے لگالیا تھا۔ مگر وہ مسلسل روئے جارہی تھی۔
تم پاگل ہوگئے ہو بالکل پاگل۔ کونین غصے سے بولا۔
ہاں میں پاگل ہوگیا ہوں‘ آئندہ اسے میرے پاس لائے تو اس کو جان سے ماردوں گا۔

(باقی آیندہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close