Aanchal Mar-07

محبت دل پہ دستک

عفت سحر

اگرچہ رنج بہت ہے‘ پر لب ہلیں گے نہیں
بس اک نظر تجھے دیکھیں گے‘ کچھ کہیں گے نہیں
ہم آنے والے دنوں کی تجھے خبر دیں گے
گئی رُتوں کے حوالے تجھے لکھیں گے نہیں

وہ بہت گہری نیند میں تھی۔
مگر باتوں کی آواز نے اسے ڈسٹرب کرکے جگا دیا۔
حد کرتے ہیں لالہ آپ بھی۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو پہلے آپ نے مجھے آس امید کیوں دلائی
وہ آہستہ مگر برہم لہجے میں کسی سے مخاطب تھا۔
ژالے کو بیدار ہونے میں چند لمحے لگے۔
اب کیا ڈر‘ کیسا خوف لالہ۔ پلوں کے نیچے ہی نہیں بلکہ اوپر سے بھی بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ جب ڈرنے کا وقت تھا تب تو آپ ڈرے نہیں۔ اب جبکہ اپنی غلطی سدھارنے کا موقع مل رہا ہے تو آپ…
ژالے کو پتہ چل گیا کہ وہ فرمان لالہ سے گفتگو کررہا تھا۔
اسے غصہ آیا۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ کسی کے سوتے میں یوں ڈسٹربنس پیدا کرنا اخلاقیات کے خلاف ہے۔
خدا کے لئے لالہ۔ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ مجھ پہ پلوشے کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کی زندگی برباد ہو۔ اسے بسانے کا اٹل فیصلہ کرکے ہی تو میں اسے یہاں لایا ہوں اور اب آپ قدم پیچھے ہٹا رہے ہیں۔
وہ انداز سے لگ رہا تھا کہ زچ ہوچکا ہے۔ پلوشہ کا نام سن کر ژالے کے کان کھڑے ہوگئے۔
اس کی بات نے ژالے کو جیلس کیا۔
پچھلے دنوں‘ جذبات کی رو میں بہہ کے ہی سہی جو رشتہ ایک قدم مزید آگے بڑھ گیا تھا اب اسے توڑنا ژالے کو بہت مشکل لگنے لگا تھا۔
شموئیل خان کی محبت اس کی گرمجوشی‘ والہانہ التفات۔
اس کے قرب کا طلسم۔
کچھ بھی تو بھولنے والا نہیں تھا۔
لیکن یہ پلوشہ والا معاملہ‘ اس کا خون کھولا دیتا تھا۔ اپنی حیثیت اسے ثانوی لگنے لگتی تو گھبرا کر وہاں سے بھاگنے کے منصوبے بنانے لگتی تھی۔
وہ خیالات سے چونکی۔
یہ ہوئی نا بات
وہ خوش ہو کر ہنسا تھا۔ پھر اٹل انداز میں بولا۔
میں جو آپ کو ساتھ ہونے کی یقین دہانی کروا رہا ہوں پھر کیوں آپ گھبراتے ہیں۔ یقین کریں اس معاملے میں اگر کسی کی لاش گری تو وہ پہلا شخص میں ہی ہوں گا۔
ژالے کا دل دہل گیا۔
پلکوں کی جھری میں سے اس دلربا شخص کو دیکھا جس کے پیچھے وہ ایک دنیا کو ٹھکراتی آئی تھی۔
اور آج وہ اس کا ہوتے ہوئے بھی اس کا نہیں تھا۔
اس کی دسترس میں تو تھا مگر اسے پا نہیں سکتی تھی۔
موبائل آف کرکے شموئیل نے پہلی نظر ژالے ہی پر ڈالی تھی۔ وہ فوراً آنکھیں موند کے سوتی بن گئی۔
فی الوقت تو وہ اس بے وفا کا قطعی طور پر سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
چند ثانیوں کے بعد ژالے نے اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کی تو اس نے اپنی سانس تک روک لی۔ اور پھر اپنی پیشانی پر ایک لطیف سالمس۔
اس کی روح تک میں اس لمس کی دل پذیری اتر گئی۔
سونے والوں کی طرح لیٹی ہو مگر جاگنے والوں جیسی لگ رہی ہو
اس کی شرارت سے پر مدہم آواز ژالے کو اپنے بہت قریب سنائی دی۔
اور سچ تو یہ تھا کہ اس کا آنکھیں کھولنے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ مگر اب اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
اسے بے حد پاس دیکھا تو ناگواری سے سر تکیے پر کھسکا کر پرے کیا۔
اوہوکیا بے رُخی ہے۔وہ ہنسا۔اب تو تمہارے سب کچھ ہوچکے ہیں۔ پھر یہ بے اعتنائیاں کیوں؟
صبح صبح میرے منہ مت لگو
وہ اسی ناگواری سے بولی۔
صبح صبح منہ لگنا تمہیں پسند نہیں‘ رات کو منہ لگوں تو تمہیں اعتراض۔ آخر بندہ کرے تو کیا کرے۔
خود کو بندہ مت کہو
بندہ نہیں بلکہ تمہارا شوہر
شموئیل کو ان شربتی دل نواز آنکھوں کی خفگی بھی مزہ دے رہی تھی۔
یہ بد صورت حقیقت مجھے بارہا بتا چکے ہو تم
وہ چٹخی۔
شموئیل کی نگاہوں میں تاسف در آیا۔
بے وقوفی کی حد تک جذباتی اور جلد باز ہو تم ژالے۔ محبت میں صبر کرنے والے تو زندگی کو بہت تحمل سے لینے کے عادی ہوتے ہیں۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم اندر سے اس قدر متلون مزاج ہو۔
اُس کے اس قدر کھرے تجزیے نے ژالے کو اور تپا دیا۔
میری ذات کا تیا پانچہ کرنے سے بہتر ہے کہ جاکے اپنی نئی بیگم کی زلفوں کے پیچ و خم سنوارو
وہ اٹھ بیٹھی۔
لاحول ولا قوۃ
شموئیل کے انداز میں نا پسندیدگی تھی۔
پلوشے کے متعلق اس انداز میں بات مت کیا کرو
اوہوبڑا دکھ پہنچتا ہے اس کیبے حرمتی سے۔وہ تلملائی تھی۔
دکھ تو مجھے تمہارے اس انداز سے بھی بہت پہنچتا ہے۔وہ سنجیدگی سے بولا تو اس کے لب و لہجے میں تاسف تھا۔
اپنے دکھ کی بہت پرواہ ہے تمہیں اور میرا کچھ نہیں۔ جس کی زندگی سے اتنی آسانی سے کھیل گئے ہو تم
تم ابھی مجھے سمجھنے کی کنڈیشن میں نہیں ہو۔ مگر مجھے خوشی ہو گی اگر تم یہ یاد رکھا کرو کہ کبھی تمہیں مجھ سے دعویٰ ٔ الفت تھا۔ یہ وقت ہے جس نے زندگی کی بساط پر ہمیں آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
شموئیل نے کہا تو وہہونہہکہتی اٹھ کر واش روم میں گھس گئی۔
تمہارے پچھتانے کے دن بہت قریب ہیں ژالے آفریدی۔شموئیل گہری سانس بھرتا اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ جو پہلے ہی نوفل کی سنگدلی کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔ اب اس کا انداز دیکھ کر غضبناک ہو اٹھی۔
رہا ہی کیا تھا باقی کہ کچھ جانے کا ڈر ہوتا۔
جو کچھ ہورہا ہے یا ہونے جارہا ہے اس میں آپ کی والدہ صاحبہ کی مرضی شامل ہے مجھے ہر معاملے میں مت گھسیٹا کریں
بہت خوبقربت کے بہانے آپ تلاشیں اور نام دوسروں کا
وہ رقابت میں اپنی سطح سے بہت نیچے آگیا تھا۔
آج حد ہوگئی تھی۔
صبح نوفل کے جاگنے سے پہلے ہی وہ اٹھ گئی۔ اتوار کی چھٹی تھی۔ حسب معمول صالحہ بیگم کو ناشتہ کرواکے ان سے اجازت لے کے وجدان کو بلوایا اور اپنا سوٹ کیس اٹھا کر میر ہائوس آگئی۔
اس کی خشک آنکھوں اور بے رنگ مسکراہٹ نے فی الحال تمام صورتحال پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ اس کی پژمردگی کو اس کی پریگنسی کا شاخسانہ سمجھا گیا۔ اور یوں وہ فی الوقت بہت سے سوالوں سے بچ گئی تھی۔

صبا کی یوں خاموشی سے میر ہائوس روانگی نے نوفل کو سلگایا تو وہیں نگین کو چونکا دیا۔
تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے نگین
وہ اٹھ کر صبا کو فون کرنے کا سوچ رہی تھی کہ صالحہ بیگم نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
جیکہئے
وہ پھر سے ان کی طرف متوجہ ہوگئی۔ تو وہ بات جو سننے میں انہیں بہت خوش کن اور آسان لگی تھی۔ نگین سے کہنا مشکل ہوگئی۔
یہ سفید جوڑا کب تک پہنے رہو گی نگی۔ میری جان ساری عمر پڑی ہے اور تم ابھی سے رنگوں سے ناتا توڑ بیٹھی ہو
ان کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
نگین بمشکل مسکرائی تھی۔
کیا ماما۔ اب تو آپ کو بھی عادی ہوجانا چاہئے۔
میں تو اسی نگین کو دیکھنے کی عادی تھی جو صبح نہا دھو کے روزانہ جوڑا بدل کے میرے پاس آیا کرتی تھی۔ یہ تو کوئی اور ہی نگین ہے۔
ان کی آواز میں دکھ جھول رہے تھے۔
جس کے ہونے سے زندگی میں رنگ تھے جب وہی نہیں رہا تو
نگین کے لب کپکپائے تھے۔ جنہیں اس نے سختی سے دانتوں تلے دبالیا۔
زندگی مرنے والوں سے نہیں زندہ رہنے والوں سے مشروط ہوتی ہے نگی۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاسکتا۔ وگرنہ تمہارے باپ کے ساتھ میں بھی مرجاتی۔ صرف تم دونوں کی خاطر میں نے حوصلہ کیا اور خود کو جینے کا سبق دیتی یہاں تک آپہنچی ہوں۔ اور اب تممیرے جینے کا سامان مت چھینو نگین۔ تمہیں دیکھتی ہوں تو لگتا ہے میری زندگی کا ایک اور دن کم ہو گیا ہے۔ تمہارا دکھ مجھے جیتے جی مار ڈالے گا
وہ واقعی ڈھے گئی تھیں۔ نگین کی آنکھیں بھی چھلک اٹھیں۔
میں کب آپ کو کوئی تکلیف دینا چاہتی تھی ماما۔ میرے بس میں ہوتا تو تقدیر کو بدل دیتی۔ یہ دکھ کوئی بھی نہ دیکھتا
ماحول یکلخت ہی ایک تکلیف دہ لمحے کی گرفت میں آگیا تھا۔
وہ دکھ تو کاتب تقدیر نے لکھا ہی تھا۔ مگر تم یوں ہر وقت سفید لباس پہنے‘ حواس کھوئے پھرتی رہتی ہو اس کا کیا جواب ہے تمہارے پاس؟ کیوں مرے ہوئوں کو مار رہی ہو
وہ بلک اٹھیں تو نگین بے اختیار ان سے لپٹ گئی۔
واقعی ابھی تک وہ فقط اپنا ہی دکھ دیکھتی چلی آرہی تھی۔اس سے منسلک لوگ کس دکھ میں گرفتار ہیں یہ کبھی سوچا ہی نہ تھا۔
مت روئیں ماماآپ مت روئیں
وہ بچوں کی مانند خوفزدہ سی ان کے سینے میں منہ چھپائے ہوئے بولی۔
جو چلا گیا اس کا دکھ اپنی جگہ‘ مگر جو پاس تھا اسے گنوانا بھی سراسر بے وقوفی تھی۔
خود ہی تو رُلانے والے کام کرتی ہو۔ زندہ رہ کے بھی زندگی سے دور پھر رہی ہو۔ تمہارا دکھ مجھے مارڈالے گا تم دیکھنا ایک دن۔انہوں نے رندھے لہجے میں کہا تھا۔
آئی ایم سوری ماماایسی باتیں مت کریں۔ میں آپ کو دکھ دینا نہیں چاہتی
تو پھر اچھے بچوں کی طرح رہا کرو۔ جس سے میرے دل کو بھی خوشی ملے
انہوں نے کہا تو وہ خاموشی سے ان کی بانہوں میں سمٹی جانے کیا سوچتی رہی۔
صالحہ بیگم کے لئے یہی غنیمت تھا کہ اس نے ان کی باتوں کو مثبت انداز میں لیا تھا۔

تائی جان نے صبا سے عماد اور نگین کے رشتے کی بابت پوچھا تو وہ بے اختیار ہی ان سے الجھ گئی۔
کیا ضرورت تھی آپ لوگوں کو یہ نیا شوشہ چھوڑنے کی
دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟
وہ تحیر سے اسے دیکھنے لگیں۔
ٹھیک ہی ہے دماغ تو کہہ رہی ہوں
وہ زچ ہوگئی۔
جی میں آئی کہے کہ دماغ نہیں قسمت خراب ہے۔
تمہیں کیا اعتراض ہے؟
انہوں نے اسی حیرت سے پوچھا۔
مجھے نہیں۔ اس کے بھائی صاحب کو اعتراض ہے
نوفل کا ذکر کرتے ہوئے صبا کو اپنے منہ میں کڑواہٹ گھلتی محسوس ہوئی۔
نوفل کو اعتراض ہے۔ مگر کس بات پر؟
وہ پریشانی سے بولیں۔
صبا کو احساس ہوا کہ یہ بات یونہی کہہ دینے والی نہیں تھی۔ اس ایک بات کے جواب میں اسے کتنے سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا یہ بھی اسے معلوم تھا۔
امی! کیا کرتی ہیں آپ۔ ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے انس بھائی کو بچھڑے
اس نے گول مول بات کی تھی۔
وقت کے ساتھ ہر زخم مندمل ہوجاتا ہے۔ لیکن تب‘ جب اس پر مرہم رکھا جائے۔ نگین کی حالت کیوں نہیں دیکھتے ہو تم لوگ۔
بھائی جان کو تسلی ہوئی کہ نوفل کے اعتراض کی وجہ کوئی خاص نہیں تھی۔ جس پر پریشان ہوا جاتا۔ سمجھانے والے انداز میں بولیں۔
ایسے فیصلے کرتے ہوئے سب کچھ دیکھنا پڑتا ہے امی
سب کچھ نہیں تم لوگ صرف بظاہر دیکھتے ہو۔ فی الوقت کیا مناسب ہے صرف وہ کرنا چاہتے ہو۔ یہ نہیں سوچ رہے کہ آج عماد نے نگین کی بیوگی کے باوجود ہاتھ بڑھایا ہے تو ضروری نہیں انکار کے بعد کل کو وہ آگے برھے یا کوئی اور بہترین شخص اس کی زندگی میں آئے۔انہوں نے واقعی سچ کہا تھا۔
عام حالات میں تو صبا بھی اس پروپوزل پر بہت خوشی ہوتی مگر نوفل تو حد ہی پھلانگ گیا تھا۔
ایسے میں وہ کیا خوشیاں مناتی۔
نگین کہاں ماننے والی ہے۔ وہ تو حشر مچا دے گی یہ سب سن کر
صبا نے بے بسی سے کہا۔
اس کی زندگی کی کہانی کے کٹے پھٹے صفحات اگر ان سب سے مخفی تھے تو خیر تھی۔ وہ اپنی جان پر برداشت کرکے ان سب کو تکلیف سے بچانا چاہ رہی تھی۔
میں نے صالحہ بیگم سے بات کی تھی۔ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں۔ اپنی زندگی میں ہی وہ اس فرص سے سبکدوش ہونا چاہتی ہیں۔ وہ نگین سے بھی بات کرلیں گی۔
انہوں نے اطمینان سے کہا تھا۔ پھر اسے بغور دیکھتے ہوئے بولیں۔
تمہیں اگر کوئی اعتراض ہے تو کہو
مجھےمجھے بھلا کیا اعتراض ہونے لگا۔وہ گڑبڑائی۔
تو پھر ٹھیک ہے۔ میں تمہارے ابو سے کہوں گی وہ نوفل سے خود بات کرلیں گے۔ سمجھدار بچہ ہے اس کا اعتراض ہی ختم ہوجائے گا
انہوں نے بات ختم کرکے اسے اپنی طرف سے ٹینشن سے نکال لیا۔
مگر اسے کیا روگ لگے تھے۔ یہ وہ نہیں جان پائی تھیں۔

وہ کھانا پکانے کے بعد سیدھی صبا کے کمرے میں آئی۔
کیا ہورہا ہے سست لوگو۔
وہ ابھی تک اسے لیٹے دیکھ کر بولی تو صبا مجبوراً مسکرادی۔
ایسے ہی۔ طبیعت بھاری ہورہی تھی۔
وہ دھم سے اس کے پاس بیڈ پہ جا بیٹھی۔
اپنی طبیعت کو سیٹ کرو یار۔ کیا بوریت پھیلا رکھی ہے۔ جب سے آئی ہو یونہی لیٹی بیٹھی رہتی ہو بے زار سی شکل بنائے
ضحیٰ کو اعتراض تھا۔
اچھا کام کی بات کرو۔ میرا بحث و مباحثے کا موڈ نہیں ہے۔
وہ صاف گوئی سے بولی تو ضحیٰ نے اسے گھور کر دیکھا۔
ایسے پینترے بدلتی ہیں لڑکیاں شادی کے بعد۔
تم نہ بدلنا۔ کیونکہ تم شادی بلکہ رخصتی سے پہلے ہی بدل چکی ہو
صبا نے اس کی چوٹ کا جواب دیا تو وہ خجل ہوگئی۔
لو۔ میں نے کیا پینترا بدلا ہے؟
ابھی کہاں سے آرہی ہو؟
صبا نے تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے اس کی توجہ خود پر سے ہٹانے کے لئے پوچھا۔
کچن سے
وہ بے اختیار بولی۔
ہاں۔ تو ابھی بھی پوچھتی ہو کہ کیا بدلا ہے تم میں۔ ہمارے لئے تو کبھی کچن میں نہیں گھستی تھیں۔ اب روز روز معید بھائی کو نت نئی ڈشز بنا کے کھلائی جارہی ہیں
صبا نے چھیڑا تو اس کا منہ کھلا رہ گیا۔
کیا خیال ہے رخصتی کروادیں؟
اس نے پھر پوچھا تو ضحیٰ کو جیسے ہوش آگیا۔
کیا بدتمیزی ہے۔ میں نے کب یہ کہا ہے۔
وہ ناراضی کا مظاہرہ کرنے لگی۔ جبکہ دل اس کی بات پر بے ساختہ ہی دھڑک اٹھا تھا۔
نکاح کے بعد اب رخصتی ہی ہوگی نا
صبا نے مسکرا کر کہا۔
پہلے ویرا بیگم کی تو رخصتی کرائو۔ جو ان کی بیگم بننے کی کوشش کررہی ہے
وہ جل کر بولی تو صبا نے سمجھایا۔
الٹی سیدھی مت سوچا کرو
یہ کہو کہ عقل مندی کی مت سوچا کرو۔
وہ خفا ہوئی۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے۔صبا نے پھر کہا۔
ایسی ہی بات ہے۔ اتنے رومانٹک وہ میرے ساتھ نہیں جتنے اس کے ساتھ ہوئے پھرتے ہیں۔
بے ساختہ بولی تو صبا کو ہنسی آگئی۔
تمہیں کس بات پہ اعتراض ہے۔ ویرا کے ساتھ رومانٹک ہونے پر یا تمہارے ساتھ رومانٹک نہ ہونے پر۔
دونوں پر
زبان پھسلی تو اس نے دانتوں تلے دبالی مگر اب دیر ہوچکی تھی۔
صبا نے اس قدر کھلے اعتراف پر خوشگوار اور حیرت سے اسے دیکھا۔
جواب اس سے نگاہ نہیں ملا رہی تھی۔
صبا کو محو حیرت پایا تو بوکھلا گئی۔
میرا مطلب ہے کہ میرے سامنے کسی اور کے ساتھ یوں فری ہونا۔ ویسے تو بڑے پارسا بنتے پھرتے ہیں
تم صرف جیلس ہورہی ہو ضحیٰ
صبا نے کہا۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی ضحیٰ تھی جو کبھی معید کو دشمن اول مانتی تھی۔
اسے سڑا ہوا کباب‘ کڑوا کریلا‘ کیکٹس اور جانے کیا کیا لقب دیا کرتی تھی۔
جی نہیں۔ میں بھلا کیوں جیلس ہونے لگی۔
اس نے پر زور انداز میں صبا کی نفی کی تھی۔
کیوں کہ تمہیں ان سے محبت ہوگئی ہے۔
صبا نے اطمینان سے کہا تو وہ یوں اچھلی جیسے بھڑ نے کاٹ لیا ہو۔
دماغ خراب ہے تمہارا
مگر تم بالکل صحیح جارہی ہو۔
وہ مسکرا رہی تھی۔
اپنے اندازے مت لگائو
وہ مسکرا گئی۔
اچھا پکایا کیا ہے آج؟
صبا نے پوچھا۔
بریانی
وہ کہنے ہی لگی تھی کہ صبا نے اس کی بات کاٹ دی۔
پھر بریانی
معید کو پسند ہے
وہ روانی میں بولی پھر ایک دم سے صبا کو دیکھنے لگی تو وہ بے ساختہ ہنس دی۔
اب آئی ہو نا لائن پر
میرا مطلب تھا کہ
جو بھی مطلب تھا بہت پیارا تھا۔ چار دن کی زندگی ہے۔ لڑکے گزارنے سے بہتر ہے پیار میں گزاردو
صبا نے سمجھایا تو وہ قدرے جھجکی۔
اور وہویرا
ایک بار معیدبھائی کے دل میں اتر گئیں تو پھر ہزار لڑکیاں بھی کچھ نہیں کرسکتیں
صبا نے اسے یقین دلایا تو وہ جھینپے ہوئے انداز میں ہنس دی۔
اس کا شرم سے سرخ پڑتا چہرہ صبا کو بہت پیارا لگا تھا۔
شکر ہے خدا کا۔ تمہارے دماغ کا خلل بھی دور ہوا ورنہ میں تو پریشان ہی رہتی تھی کہ یہ بیڑہ کیسے پار لگے گا۔
صبا نے اسے چھیڑا تھا۔
اچھاایسے ہی۔ تنگ مت کرو۔
وہ پریشان ہونے لگی۔
ایسی ہار کا اس نے بھی کب سوچا تھا۔
معید بھائی کو پتہ ہے یا ابھی خود ہی سے الجھ رہی ہو؟صبا نے پوچھا۔ تو تنک کر اپنے مخصوص انداز میں بولی۔
محبت‘ وحبت کچھ نہیں۔ میں تو صرف اس رشتے کی وجہ سے کہہ رہی ہوں کہ اور تمہارے دانت کس خوشی میں نکل رہے ہیں؟بات کرتے کرتے صبا کو ہنستے دیکھا تو گھور کر بولی۔
ایسے ہی۔ سوچ کے ہنسی آرہی ہے کہ یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا۔
صبا نے بدستور ہنستے ہوئے کہا۔
اسے واقعی ضحیٰ کے بدلنے کی بہت خوشی تھی۔
ایسی کوئی بات نہیں۔ بس میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا کہ اس رشتے کو نبھانا ہی ہے تو خواہ مخواہ کی ٹینشن کیوں لی جائے۔وہ مسلسل گریزاں تھی۔
بہت اچھا کیا تم نے ضحیٰ۔صبا نے سنجیدہ ہوتے ہوئے اٹھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
اس سے اچھا تم اور شاید ہی کچھ کرو۔ معید بھائی کے ساتھ تم بہت خوش رہو گی۔
اگر ویرا یہاں سے چلی گئی تو۔
اس نے ناگواری سے لقمہ دیا۔
میں خود بات کروں گی معید بھائی سے
صبا نے اسے یقین دہانی کرائی۔
جیسے پہلے کی تھی
وہ خفگی سے بولی۔
سب ٹھیک ہوجائے گا۔ پریشان مت ہو۔ ہمارے بڑے بیٹھے ہیں نا ہر معاملہ سلجھانے کے لئے۔
تو ویرا یہاں سے چلی جائیگی؟
معصومیت سے پوچھا۔ اس کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
صبا کو اس پر پیار آیا۔
یہ خدشے یہ وسوسے۔ سب محبت کی علامات ہیں
ضحیٰ نے خفیف سے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اب پتہ نہیں۔ میں نے تو کبھی بھی ان کے متعلق کچھ اچھا نہیں سوچا۔ یہ سب اچھا اچھا کیسے ہوگیا۔بے چارگی سے کہا تو صبا کی ہنسی نکل گئی۔
’اچھا۔ یہ تو بہت اچھا ہوا۔ ورنہ میں تو اپنے بھائی کے مستقبل کی طرف سے بہت پریشان تھی۔
اسے چھیڑتے ہوئے کہا تو ضحیٰ نے اسے آنکھیں دکھائیں۔
میری زندگی ہے نغمہ‘ میری زندگی ترانہ
میں صدائے زندگی ہوں‘ مجھے ڈھونڈ لے زمانہ
میری زندگی ہے نغمہ‘ میری زندگی ترانہ
وجدان بآواز بلند گاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا۔ وہ دونوں اس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
پیچھے ہی خونخوار تیور لئے حمرہ کو آتے دیکھ کر لمحوں میں سمجھ گئیں کہ کوئی مقدمہ پیش ہونے کو ہے۔
آپی! اس کو سمجھالیں۔ بس تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ میں چچا جان سے اس کی شکایت کرنے والی ہوں۔
اب کیا ہو گیا ہے؟
ضحیٰ نے دونوں کو باری باری گھورا۔
ہفتے میں ایک بار اسے ان کا ایک ایسا ہی مقدمہ نمٹانا پڑتا تھا۔
میری زندگی ہے نغمہ‘ میری زندگی ترانہ
وجدان نے پھر سُر چھیڑا۔
یہ دیکھا۔ یہی ہوا ہے۔
وہ غصے سے بولی۔
آواز اچھی ہے نا۔ کیسٹ آسکتی ہے مارکیٹ میں؟
وجدان نے داد چاہی۔
تو تمہیں اس کے گانے سے کیا مسئلہ ہے؟صبا نے مصالحت چاہی۔
یہ مجھے چھیڑ رہا ہے
وہ پرزور انداز میں بولی تو صبا نے گھور کے بہن کو دیکھا۔
یہ صرف میری خداداد صلاحیتوں سے جیلس ہوتی ہے۔ میں اپنے مؤکلوں سے کہہ کہ کسی دن اسے کبوتری بنوادوں گا
وجدان کے ارادے خطرناک تھے۔
یہ کیا بے سرو پا لڑائی شروع کر رکھی ہے تم لوگوں نے۔
صبا اکتا گئی۔
آپی! اسے منع کیوں نہیں کرتیں۔ یہ نہ لینے آیا کرے مجھے کالج
حمرہ بگڑی۔
ارے واہ۔ زندگی میں ایک ہی کام توکامکر رہا ہوں۔ وہ بھی چھوڑ دوں تو میری زندگی میں سے رنگینی ہی ختم ہوجائے۔
وہ شرارت سے بولا۔
کیا بچپنا ہے یہ حمرہ۔ ہر وقت لڑائی جھگڑا
صبا نے سنجیدگی سے کہا تو وہ روہانسی ہونے لگی۔
آپ بھی مجھے ہی کہئے۔ اس سے کوئی کچھ نہیں کہتا۔ میری دوستوں پہ ڈورے ڈال رہا ہے
یا اللہ
وجدان سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔
کیوں بھئی تمہاری اس معاملے میں بہت شکایتیں آنے لگی ہیں
اب کی بار ضحیٰ نے وجدان کی کھچائی کرنا چاہی۔
آپی! ایسے ہی ہر ایرے غیرے بلکہ نتھو خیرے کی باتوں پہ یقین نہ کرلیا کرو
یہ دیکھا۔ میرے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے اور میری دوستیں اسے پتہ نہیں کیا کیا لگتی ہیں
حمرہ سُلگی۔
میری زندگی ہے نغمہ‘ میری زندگی ترانہ۔
وہ پھر سے گنگنایا۔
یہ دیکھ لیں۔ کتنی ڈھٹائی سے آپ لوگوں کے سامنے۔
وہ پھر سے رونے کو تھی۔
تو تمہیں کیا تکلیف ہے اس کے گانے سے۔صبا نے اسے ڈانٹا
میری دوستوں کا نام ہے نغمہ اور ترانہ
اس نے پیر پٹخا۔
اور ایک وہ بھی تو ہے مترنم سیہاں ترنم
وجدان نے لقمہ دیا۔ اس کی آنکھوں میں سے شرارت صاف جھلک رہی تھی۔
کس قدر سرُیلے نام ہیں اس کی دوستوں کے۔
وہ سر دھن رہا تھا۔
یہ جب سے میری دوستوں سے متعارف ہوا ہے صبح جاتے ہی مجھےکزن نامہبلکہوجدان نامہسننا پڑتا ہے
حمرہ نے منہ بسورا۔
تو اس میں قصور تمہاری سہیلیوں کا ہے ناکہ میرا۔
وہ فوراً بولا۔
لڑکیاں تو بس ایسی ہی ہوتی ہیں۔ تم خود کیوں مسکرا مسکرا کے انہیں لفٹ کرادیتے ہو
حمرہ لڑائی کے موڈ میں تھی۔
لو۔ اتنی خوب صورت مسکراہٹ میری۔ ویسے بھی مسکرا کر ملنے سے محبت بڑھتی ہے۔
وہ اطمینان سے بولا۔
تمہیں میری دوستوں سے محبت بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں
وہ غرائی تھی۔
کیا بے وقوفی ہے حمرہ
صبا نے گھر کا تو ضحیٰ نے اس کی حمایت کی۔
یہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے یوںاٹین شینہوکے جانے کی۔ اور یہ جو گانا گنگنائے جارہا ہے۔
بس آج طے ہو گیا ہے۔ یہ مجھے کالج چھوڑنے نہیں جائے گا۔حمرہ نے قطعی انداز میں کہا تو وہ فی الفور بولا۔
ہاں۔ میں صرف تمہیں پک کرنے آیا کروں گا۔ اس وقت گیٹ پر زیادہ رونق ہوتی ہے
وجی
اب کی بار صبا نے اسے تنبیہی انداز میں گھورا تو وہ ہنسنے لگا۔
اس بے وقوف کو کوئی نہیں سمجھاتا
ہاں۔ اس بے وقوف کو تو سب سمجھا لیتے ہیں ناں
حمرہ غصے سے اس کی جانب اشارہ کرکے کہتی کمرے سے نکل گئی تھی۔
وجدان ان دونوں کی ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنے کے لئے اکیلا رہ گیا۔
بمشکل جان چھڑا کے اسے ڈھونڈتا ہوا ان کے پورشن میں آیا تو وہ ٹیرس کی سیڑھیوں پہ گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی ملی۔
وجدان کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
ڈوبتے سورج کی ہلکی سی دھوپ اس کے وجود کا حصار کئے ہوئے تھی۔
وہ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھتے ہوئے کھنکارا تو حمرہ نے کرنٹ کھا کے سر اٹھایا۔
تم میرا پیچھا نہیں چھوڑ سکتے
اسے دیکھ کر وہ چڑی تھی۔
نہ
وہ مزے سے کہتے ہوئے مسکرادیا۔
دیکھو وجی۔ مجھے اتنا ستائو گے تو چچا جان سے شکایت کردوں گی۔ پہلے ہی میری دوستوں سے افیئر چلا چلا کے میرا دل جلاتے رہتے ہو۔
وہ تنبیہی انداز میں بولی تو مسکراہٹ دباتے ہوئے وجدان نے بظاہر بھولپن سے پوچھا۔
اچھا۔ تو تم جیلس ہوتی ہو
جیلس ہوتی ہے میری جوتی
وہ اس کا مطلب پاکر بدکی۔
پتہ ہے حمرہ میں تمہاری شاعری کی کتاب شائع کرانے والا ہوں
وہ موضوع بدلتے ہوئے خوشگواری سے بولا تو حمرہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔
سچ کہہ رہا ہوں۔ دنیائے ادب کے افق پر اب ایک اور ستارہ چمکے گا۔ حمرہ میر
حمرہ ہول کر رہ گئی۔
خبردار جو تم نے کوئی شرارت کی ہو تو
ایک شرط پر
وہ فوراً شرط بازی پر اتر آیا۔
کوئی نہیں۔ ہر شرط میں پنالٹی مجھی کو بھرنی پڑتی ہے۔
وہ پہلو بچا گئی۔
اور یہ جو تم نے ایگری منٹ سائن کیا تھا اپنی شاعری کے بدلے وہ۔
وجدان نے فوراً جیب میں سے پرچہ نکال لیا۔
حمرہ کو یاد آنے لگا۔
یہ تم ہتھکڑی کی طرح ساتھ ہی لئے پھرتے ہو
طنز کیا۔
ہاں۔ جانے کب کہاں ضرورت پڑجائے۔
وہ اطمینان سے بولا۔
یہ دیکھو۔ لکھا ہے کہ میں وجدان کی ہر بات مانا کروںگی۔
پرچے پرسے پڑھا تو حمرہ نے لقمہ دیا۔
شادی کے بعد
کس کی شادی کے بعد؟
وہ سادگی سے پوچھنے لگا۔
ہماری…وہ بول اٹھی۔ پھر کچھ خیال کرکے کہا۔
مطلب تمہاری الگ اور میری الگ
کیوں بھئی۔ ایسا تو کبھی دیکھا نہ سنا
وہ حیران ہوا تھا۔
کیوں۔ لوگوں کی شادیاں نہیں ہوتیں؟
حمرہ نے اسے گھورا۔ وہ اکثر ہی اسے بے وقوف بنا دیا کرتا تھا۔
ہوتی تو ہیں مگر دلہے کی الگ اور دلہن کی الگہماری شادی کچھ عجیب سی نہیں ہوگی؟
وہ تفکر سے بولا۔ تو اس کی بات پر غور کرکے حمرہ کا دل بے ترتیبی سے دھڑک اٹھا۔
ناسمجھی کا تاثر دیتے ہوئے بھی اپنے چہرے پر پھرےپینٹکا اسے اچھی طرح احساس ہورہا تھا۔
شٹ اپ وجی
ادھر دیکھ کے کہو ذرا…
کیا بدتمیزی ہے یہ
وہ گھبرا کے اٹھ کھڑی ہوئی تو وجدان بھی اس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔
ادھر دیکھو تو پتہ چلے جھوٹ سچ کا۔
وہ مسکرا رہا تھا۔
حمرہ کو علم تھا اسی لئے وہ اس کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی۔
تمہی میرا نغمہ ہو تمہی میرا ترانہ ہو اور تمہی سے میری زندگی مترنم ہے۔ بس یا کچھ اور کہوں؟
وہ سنجیدگی سے بولا تو حمرہ کا دل ڈوبنے لگا۔
بے ساختہ اس کی جانب دیکھا۔
وہاں شرارت کی بجائے ارادوں کی سچائی تھی۔
جذبوں کی حرارت تھی۔
شٹ اپ
حمرہ کے لب لرزے۔
بہت کچھ میں بھی نہیں کہنا چاہتا۔ فقط تمہارے ابہام دور کرنے کے لئے…
وہ ابھی بھی سنجیدہ تھا۔
بدھو…حمرہ کو ہنسی آگئی۔ وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔
ارے واہکچھ تو کہو
وہ پیچھے سے چلایا۔
کہا تو ہےبدھو
وہ ہنستی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی
ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں اپنے مؤکل چھوڑنے لگا ہوں تمہارے آس پاس۔ دل و دماغ کا ٹھیک پتہ دیں گے وہ۔وہ اس کے پیچھے اترتا اسے دھمکا رہا تھا۔
حمرہ دل کھول کے ہنس دی۔ وجدان اسے خوش دیکھ کے مطمئن ہوگیا۔
اس نے منزل تک پہنچنے کے لئے جن راستوں کا تعین کیا وہ بالکل درست تھے۔

اس سے پہلے تو صبا کبھی ایسے نہیں گئی۔آپ سے لڑائی ہوئی ہے کیا؟
نگین نے نوفل کو جالیا۔
یہ تم اسی سے پوچھتیں تو بہتر ہوتا
جینز کی جیب میں والٹ ٹھونستے ہوئے وہ بے اعتنائی سے بولا تو نگین کو تاسف ہونے لگا۔
نوفل کی تنگ نظری اور بے وقوفی پر
وہ صبا جیسی بے مثال لڑکی کی قدر نہیں کرپایا تھا۔
نگین کو اندازہ ہونے لگا کہ صبا نے اول روز سے یہاں کیسے وقت گزارا تھا۔
خود سے بے پروا رہنے میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ وہ نوفل کی لاپرواہی تھی جو صبا کی ذات سے کمی بن کے جھلکتی تھی۔
نوفل سے کھل کے بات کرنا قبل از وقت تھا۔
اس نے صبا کو فون کیا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بس جی چاہا کچھ دن امی کے ساتھ گزاروں
اس کا حوصلہ کمال کا تھا۔
نگین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
مت کرو اتنا صبر صبا۔ شاید تمہارا صبر ہی مجھے لے ڈوبا ہے۔
کیا مطلب؟
صبا متحیر رہ گئی۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ تمہارے اور بھائی جان کے مابین کیا غلط فہمی پنپ رہی ہے۔ میں اپنی خوشیوں میں مگن جان ہی نہیں پائی کہ تم کس جہنم کا سامنا کررہی ہو۔ تمہیں کس نے کہا تھا اتنا صبر اتنی برداشت کرنے کو صبا۔ فقط میرا گھر بچانے کو نا…
وہ رونے لگی۔ اور ادھر صبا بھی سسک اٹھی۔
ضبط کا یارا ہی کہاں تھا اب۔
کس کس سے اصلیت چھپاتی اور کس کس کو ذلت کا وہ داغ دکھاتی جو نوفل نے اس کے دامن پر لگانے کی کوشش کی تھی۔
میں نے کبھی تمہارا برا نہیں چاہا نگین۔
کہتیں۔ کچھ تو کہتیں صبا۔ کیوں اپنے صبر کی مار مارتی رہی ہو ہمیں۔
خدا گواہ ہے نگین۔ میں تو فقط دو گھروں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے قربانی دیتی آئی ہوں اپنی انا‘ اپنی عزت نفس اور خودی کی۔ مگر اب بات میرے کردار تک آن پہنچی تھی۔ اور اس سے آگے کا مجھ میں یارا نہیں تھا۔
صبا کا لہجہ رندھا ہوا تھا۔
کہاں غلطی ہوگئی ہم سے صبا۔ کیسے ہوگیا یہ سب کچھ؟
نگین سمجھ کے بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔ اس کے تو فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ نوفل احمد خود کو تہہ در تہہ کتنی پرتوں میں چھپائے ہوئے ہے۔
تمہیں کس نے بتایا؟
صبا کو دھیان آیا تھا۔
نگین نے مختصراً اسے شروع میں نوفل کی غلط فہمی کے متعلق بتایا۔
انہوں نے شروع ہی سے مجھ پر اعتبار نہیں کیا۔ پتہ نہیں میرے متعلق کیا سوچتے رہے اور میں یہی سمجھتی رہی کہ وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہیں۔ اور وہ اول روز سے میرے کردار کے متعلق یہی سوچ رہے تھے جو بالآخر انہوں نے کہہ ہی دیا۔
مارے صدمے کے اس کے آنسو بھی جیسے منجمد ہوگئے۔ دکھ کا غلبہ اتنا شدید تھا۔
وہ نوفل کی سرد مہری کو ژالے آفریدی میں انوالومنٹ کا شاخسانہ سمجھی تھی۔ پھر ژالے نے اسے بتایا کہ وہ شموئیل خان سے محبت کرتی ہے تو صبا کو لگا وہ پھر سے زندہ ہوگئی ہو۔ تب نوفل کی بے اعتنائی اور سنگ دلی کو وہ اس کی انا سمجھی تھی۔ کس قدر نادان اور بے وقوف تھی وہ۔
کیوں اس کی آنکھوں سے جھلکتی نفرت نہ جان پائی۔
کیوں نہ سمجھ پائی کہ وہ اسے کس بھائو تول رہا ہے۔
مگر یہ بات تو طے ہے کہ بھائی جان نے شادی کے لئے تمہیں خود چُنا تھا۔ اس غلط فہمی سے پہلے وہ تمہیں خود اپنے لئے پسند کرچکے تھے۔
نگین نہ جانے کیا صفائیاں پیش کررہی تھی۔ مگر وہ بہری بن گئی۔ لگا زندگی کی بساط پر عمر کی بازی ہار گئی ہو۔

ادینہ کو عماد اور نگین کے رشتے کے بارے میں زرینہ بیگم نے بتایا تو اس کے پیروں تلے سے واقعتاً زمین نکل گئی۔
اسے عماد سے محبت نہیں تھی۔
بلکہ اسے خود کے علاوہ کسی سے بھی محبت نہیں تھی‘ سوائے روپے کے۔ اور عماد کے یوں ہاتھوں سے نکلنے کا مطلب تھا بینک بیلنس کا ہاتھوں سے نکلنا۔
کیا بکواس ہے یہ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
پہلے تو وہ بے یقینی سے انہیں دیکھتی رہی۔ پھر بدمزاجی سے بگڑی۔
ابھی بھابی کے پاس سے اٹھ کر آرہی ہوں۔ میرا تو کلیجہ ہل کے رہ گیا ہے۔
وہ ہاتھ مسلنے لگیں۔
انہوں نے ایسے ہی منہ بھر کے کہہ دیا ہوگا۔ عماد میں کیا کمی ہے جوداغلگی لڑکی کے لئے حامی بھرتا پھرے۔
ادینہ نے تنفر سے کہا۔
ایسے میں وہ یہ بات بالکل بھول گئی تھی کہ وہ خود بھی ایک طلاق یافتہ اور زمانے کی نظروں میں ایکداغلگی لڑکی تھی۔
شرم نہیں آتی انہیں۔ داماد کی قبر کی مٹی بھی نہیں سوکھی اور انہوں نے بیٹی کے لئے برتاڑنا شروع کردیا ہے۔
اندر کا کوئی وہم تھا جو اسے بکواس کرنے پر مجبور کررہاتھا۔ اپنے اندر کی آوازوں کو دبانے کے لئے وہ مسلسل بول رہی تھی۔
بات تو کم از کم تمیز سے کرلیا کرو۔ بڑی ہیں تم سے۔ بلکہ رشتہ دھیان میں رکھ کے بولا کرو
زرینہ بیگم کو اس کا انداز ناگوار گزرا تو وہ ان سے الجھنے لگی۔
آپ جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں ہر لائن میں سب سے آخر میں کھڑے ہونے والے۔ جن کی باری آتے آتے ہر نعمت ختم ہوجاتی ہے۔ لوگوں کو اپنی باری پیش کردینے والے۔ بے وقوفی کی حد تک جذباتی۔ مگر میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں۔ اپنا حق اپنی پسند میں چھین لینا جانتی ہوں۔ ورنہ جو چیز میری نہ ہو میں اسے دوسرے کے لئے بھی نہیں چھوڑتی۔وہ نخوت بھرے انداز میں کہتی زرینہ بیگم کو استغفار کرنے پر مجبور کرگئی۔
جو تمہاری قسمت کا ہے وہ تمہی کو ملے گا۔ اسے نہ کوئی تم سے چھین سکتا ہے اور نہ تم کسی کی قسمت کا چھین سکتی ہو۔ خواہ مخواہ بدکلمات منہ سے نہ نکالو
آپ منہ بند ہی رکھیں۔ جب بھی کریں گی کوئی الٹی ہی بات کریں گی۔ ہزاربار سمجھایا ہے بات نہیں کرنی آتی تو منہ نہ کھولا کریں
اس کا انداز بہت بد تمیزانہ تھا۔
زرینہ بیگم کا جی چاہا اس کا منہ تھپڑوں سے لال کردیں۔
ہاں میرا بیٹا۔ تمہیں بولنا سکھایا اور آج ہمیں ہی بولنا بھول گیا ہے۔ پہلی ہی بار ایسے منہ کھولنے پر تمہیں تھپڑ لگایا ہوتا تو آج تم مجھے منہ بند رکھنے کی صلاح نہ دیتیں۔وہ بہت ضبط کرگئی تھیں۔
آپ تو ہیں ہی تھالی کا بینگن۔ شروع ہی سے بھابی‘ بھتیجے کی محبت کا دریا آپ کے اندر ٹھاٹھیں ماررہا تھا۔ نہ نوفل کو میرا ہونے دیا اور عماد کی باری بھی ویسی ہی باتیں منہ سے نکال رہی ہیں۔ اپنا ٹوٹا پھوٹا فلسفہ اپنے پاس ہی رکھیں۔ مجھے سمجھانے کی کوشش نہ کیا کریں۔ میں سمجھی سمجھائی ہوئی ہوں۔ادینہ تو دو دھاری تلوار ہورہی تھی۔
زرینہ بیگم نے تنگ آکر اس کے آگے ہاتھ باندھ دیئے۔
وہ اب بھی زخمی شیرنی کی طرح دھاڑتی ہوئی کمرے میں ادھر سے ادھر مسلسل ٹہل رہی تھی۔

یہ تمہارا معاملہ نہیں ہے نگی۔ تم اس بات میں نہ آئو تو بہتر ہوگا
نوفل خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔
بہت خوب
وہ استہزائیہ انداز میں بولی۔
اب کیا ہوگیا ہے۔ میرا صبا سے کوئی رشتہ نہیں رہا یا آپ سے تعلق ختم ہوگیا ہے؟
خواہ مخواہ الٹی سیدھی باتیں کرکے میرا دماغ خراب مت کرو۔
وہ ابھی بھی اس سے نرمی سے بات کررہا تھا۔
شاید اس کی ذہنی کیفیت ملحوظ خاطر ہو۔
آپ کا دماغ تو پہلے بھی صحیح نہیں تھا۔ مجھے ہی اس وقت اندازہ لگا لینا چاہئے تھا کہ صبا کی طرف سے آپ کا دل صاف نہیں ہوا ہے۔وہ غصے میں ادب‘ لحاظ سب بھول گئی تھی۔
اپنی حد میں رہونگی۔ تم بدتمیزی کررہی ہو۔
وہ انگشت شہادت اٹھاتے ہوئے تنبیہی انداز میں بولا تو نگین نے تاسف سے اپنے وجیہہ و شکیل بھائی کو دیکھا۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اپنے سرکل میں اتنا ذہین اور زیرک بزنس مین مشہور ہونے والا شخص اپنی خانگی زندگی میں کس قدر بے وقوف نکلا تھا۔
جو کچھ آپ نے صبا کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔
وہ بے رخی سے بولی۔
وہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے۔
وہ ہماراگھریلومعاملہ ہے۔
نگین نے زور دے کر ترکی بہ ترکی کہا تو وہ سلگا۔
تم اس کی بے جا حمایت مت کرو۔ یہ معاملہ بہت بڑھ چکا ہے۔
اور اسے ہوا دینے والے آپ ہیں۔ خدا سے ڈریں بھائی۔ پاک باز عورتوں پر بہُتان لگانے والوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔
نگین نے کہا تو وہ بھڑک اٹھا۔
شٹ اپجب تمہیں ایک بات کی سمجھ نہیں ہے تو پھر تم کیوں خواہ مخواہ وکالت پر اتر رہی ہو؟
کیونکہ میرا اس سے بھی کوئی رشتہ ہے۔ خون کا نہ سہی انسانیت کا تو ہے۔
تم اس کے بارے میں انس کی بہن کے حوالے سے سوچ رہی ہو گی۔ میری جگہ ہوتیں تو پھر میں دیکھتا مجھ سے الگ تم کیا کرتی ہو۔
نگین کے دل میں ٹیسیں سی اٹھیں۔
یہ حوالہ تو میری زندگی ہے بھائی۔اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
میں آپ کی جگہ ہوتی تو صبا کی معصومیت دیکھتی‘ اس کے کردار کی پختگی دیکھتی۔ اس کی روشن پیشانی اور بے ریا آنکھیں دیکھتی بھائی۔ اتنی ساری گواہیاں ناکافی تھیں کیا؟
کتابی باتیں مت کرو۔
اس کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔
یہ سب تو وہ بھی جھٹلا نہیں سکتا تھا۔
مگر آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی…؟؟
شیطان نے اس کے گرد بہت مضبوط جال بچھا رکھا تھا۔
کوئی اور لڑکی ہوتی تو اب تک میرا گھر برباد کرچکی ہوتی۔ اول روز ہی اپنے گھر والوں کو ساری اصلیت بتاکر مجھے بھی طلاق دلوادیتی۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ سب کچھ اپنی جان پہ سہتی رہی۔
چھوڑدو نگین…
وہ غصے سے بولا تھا۔
ہاں۔ چھوڑنا اتنا ہی آسان ہے نا۔ مگر صرف آپ کے لئے۔ کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ اتنی ذلت سہنے کے بعد آپ کو چھوڑنے کے کیوں نہیں گئی تھی؟
نگین نے بھی اپنی آواز بلند کی تھی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
صرف میں ہی اس کی وجہ نہیں تھی۔ صرف اپنے بھائی کے گھر کی خوشیاں ہی اس کے پیش نظر نہیں تھیں۔ وہ آپ کو بھی چاہتی تھی۔ دل کی گہرائیوں سے۔ کیونکہ وہ آپ کے دل و ذہن میں پنپتے ان شکوک سے بے خبر تھی۔ اس نے تو اپنی طرف سے مچھ پر آنچ بھی نہیں آنے دی بھائی۔ مگر اس کا صبر مجھ پہ کتنا کڑا پڑے گا یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی۔ آپ کا کیا میرے آگے آیا ہے بھائی۔ آپ نے اسے آنسو دیئے تو میری ساری زندگی آنسوئوں کا دریا بن گئی ہے۔ آپ نے اسے تکلیف دی تو میں مجسم تکلیف بن گئی ہوں۔ کہیں کہ ایسا نہیں ہے؟
وہ گنگ سا نگین کو دیکھنے لگا۔
یہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔
اس کے ذہن کی اسکرین پر آنسوئوں سے بھری دو آنکھیں جگمگانے لگیں۔
اس کی مظلومیت کے کئی روپ اس کا رونا‘ بلکنا‘ اس کی خود سپردگی اس کی معصومیت۔
فریب ہے سب فریب۔
ادینہ کی آواز اسے اپنی سماعتوں کی گہرائیوں میں اترتی محسوس ہوئی تو اس نے سر جھٹکا۔
بہت غلط کررہے ہیں آپ۔ نا صرف اپنا گھر برباد کررہے ہیں بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی گڑھا کھود رہے ہیں۔ نا چاہتے ہوئے بھی اس سے نفرت کررہے ہیں جو صرف محبت کے قابل ہے۔ دل میں رکھنے کے قابل ہے۔نگین کی آواز بھرا رہی تھی۔ شدت ضبط سے چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
تمہارے ساتھ جو ہوا وہ مشیت ایزدی ہے نگین۔ اسے میری زندگی سے جوڑنے کی کوشش مت کرو۔
وہ ضبط سے بولا۔
واہکانٹے بوکر گلابوں کی تمنا کررہے تھے آپ۔
وہ طنز سے بولی۔
یہ سب اس کے کئے کی سزا ہے۔ بھگتان تو اسے بھگتنا ہی ہوگا۔
وہ سرخ آنکھیں لئے بولا تو اس کے لب و لہجہ میں پھنکار تھی۔
نگین غصے سے بولی۔
اور جو آپ کررہے ہیں اس کا بھگتان کون بھگتے گا۔ پہلے تو میں نے بھگتا ہے اب جانے کس کے سامنے آئے گا۔
جس کا کیا دھرا ہے اسی کے سامنے آئے گا۔ تم اس معاملہ میں نہ آئو۔
وہ بھی غصے سے کہتا کمرے ہی سے نکل گیا تو نگین کو اور رونا آنے لگا۔
کاش میں تمہارے لئے کچھ کر پائوں صبا۔ تو اپنی جان وار کے بھی کرگزروں اس نے بے بسی سے سوچا۔

ادینہ کا فون آیا تو عماد کو ایک روٹین ورک ہی لگا۔ اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ دوسری طرف کیا آگ بھڑک رہی ہے۔
عماد! تم نگین سے شادی کررہے ہو؟
اس نے ہائے‘ ہیلو کا کوئی بھی جواب دیئے بغیر سیدھے سبھائو پوچھا تو اس کے ہونٹوں پر پرسکون سے مسکراہٹ پھیل گئی۔
اپنی راکنگ چیئر سے پشت ٹکاتا وہ پوچھنے لگا۔
تمہیں کیسے پتہ چلا؟
تم کیوں اور کیسے کے چکر میں مت پڑو۔ صرف یہ بتائو کیا یہ سچ ہے؟
وہ متوحش تھا۔
اس کے لب و لہجے پر غور کئے بغیر وہ آنکھیں موند کر جھلاتے ہوئے بولا۔
تمہیں کیا لگتا ہے؟
میں یہ سب نہیں مان سکتی عماد۔ تم نگین سے کیسے شادی کرسکتے ہو۔
وہ غصے میں آگئی۔ عماد کرنٹ کھا کر رک گیا۔
کیا مطلب
آئی لو یو عمادآئی رئیلی لو یو
ایک دھماکا تھا جو عماد کی سماعتوں کے آس پاس ہوا تھا۔
اور یہاں یہ سب کہہ رہے ہیں کہ تمہارا پروپوزل نگین کے لئے آیا ہے۔ تم کہہ دو کہ یہ سب غلط ہے ان سب کو غلط فہمی ہورہی ہے۔
وہ بہت جذباتی ہورہی تھی۔
میں آئم سوری ادینہ۔ کیا مطلب؟
وہ سیدھا ہوتے ہوئے گڑبڑا کر بولا۔
وہ بہت پر اعتماد اور صاف گو شخصیت کا مالک تھا۔ مگر ادینہ کے اس قدر کھلے ڈلے اعتراف محبت نے اسے بھی متحیر کر دیا تھا۔
یہ سچ تھا کہ کبھی اس نے ادینہ سے شادی کرلینے کے متعلق سوچا تھا مگر اس ارادے کو اس نے خود تک ہی محدود رکھا تھا۔ ادینہ سے اس سے متعلق کچھ نہیں کہا تھا۔
پھر وہ کیسے اس راہ پر تنہا نکل گئی تھی۔ اور وہ بھی اتنی آگے۔
اس صورتحال نے عماد کو چکرا کر رکھ دیا۔
تمہیں معلوم ہے عماد۔ اور تم بھی تو مجھ سے۔وہ بے حد جذباتی ہوتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
تم نے آنٹی کو صاف طور پر کہہ کے بھیجا ہوتا وہ شاید غلطی سے نگین کے لئے پروپوزل دے گئی ہیں۔
ماما نے ابھی نگین کے لئے پروپوزل نہیں دیا۔ وہ تو ان کی طرف گئی ہی نہیں۔
عماد نے محتاط لفظوں میں بات کا آغاز کیا تھا۔
اچھا
وہ ہلکی پھلکی ہوگئی۔
مجھے پہلے ہی پتہ تھا۔ ممانی جان کو غلط فہمی ہوئی ہے۔
ابھی یہ بات صرف گھر ہی میں ہے۔ شاید بڑی مامی نے آنٹی سے تذکرہ کیا ہو۔ میری ماما نے نگین کے لئے پروپوزل نہیں دیا۔عماد نے قدرے توقف کیا۔
تو…؟وہ الجھی۔
تو یہ کہ نگین کے لئے پروپوزل میں نے دیا ہے۔اب کی بار دھماکہ ادینہ کی سماعتوں میں ہوا تھا۔
ہیلوہیلو
عماد نے کریڈل دبایا۔
مگر ادھر سے کوئی آواز نہیں آئی تو اس نے ریسیور کریڈل پر ڈال دیا۔
اسے اب ادینہ کا طرز عمل سوچ سوچ کر یہ پریشانی ہورہی تھی جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا تھا۔

وہ اپنی مقامی زبان میں کچھ گنگنا رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ ڈسٹنگ بھی جاری تھی۔
اخبار کا مطالعہ کرتی ژالے بارہا ڈسٹرب ہوئی۔
ایسی کون سی خوشی مل گئی ہے اسے۔
اسے چڑ ہورہی تھی۔
تم خاموشی سے اپنا کام نہیں کرسکتیں۔
بالآخر اس نے ناگواری سے اسے ٹوک ہی دیا تھا۔ پلوشے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
میں آپ سے تو کچھ نہیں کہہ رہی۔
مجھ سے کچھ کہہ کے تو دیکھو۔
وہ تلملائی۔ پلوشے کی خوب صورت آنکھوں میں تحیر چمکا۔
آپ لڑنا چاہ رہی ہیں؟
شٹ اپاور یہ ماسیوں والے کام کہیں اور جا کے کرو۔ ہر طرف دھول اڑا رکھی ہے۔
وہ حقارت سے بولی۔
اپنے گھر میں سبھی ایسے ہی کام کرتے ہیں۔
وہ سادگی سے بولی۔
اپنا گھر…؟ژالے نے تمسخر اڑانے والے انداز میں کہا۔
یہ میرا گھر ہے۔ سمجھیں۔
تو ژالے کو دیکھ کر وہ پھیکے انداز میں مسکرا دی۔
میں تو کسی بھی شے پر اپنا دعویٰ نہیں کرسکتی۔
کرسکتی ہو۔ شموئیل خان ہے نا۔ تمہارا بہت اپنا۔
ژالے نے تلخی سے کہا۔ تو خود اس کا اپنا دل مٹھی میں آگیا تھا۔
بہت غلط سوچتی ہیں آپ۔ جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا میرے اور خان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے۔
پلوشہ نے قدرے جھجک کر کہا۔
شٹ اپ
ژالے کی رنگت سرخ پڑگئی۔
اس نے غصے سے کہا۔
نکاح میں آج تک کوئی کبھی کسی کو بہن بناکے نہیں لایا۔ مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش مت کرو۔
مجھے نہیں معلوم کہ خان نے آپ کو اصلیت کیوں نہیں بتائی۔ شاید آپ کی اسی بے اعتباری کی وجہ سے۔ وگرنہ انہیں اپنی زندگی خراب کرنے کا شوق نہیں۔ وہ چاہتے تو مجھے تا عمر حویلی میں قید رکھتے۔ آپ کو ان کی شادی کا علم توتھا ہی۔ مگر کوئی تو وجہ تھی جو انہوں نے مجھے یہاں بلایا۔ ان پر اعتماد کرتیں تو وہ ضرور آپ سے ڈسکس کرتے۔
وہ سنجیدگی سے کہتی ژالے کو زہر لگی۔
میرا دماغ مت کھائو۔ جب میں چلی جائوں گی تو رہنا اپنے خان کے ساتھ اساپنے گھرمیں۔
ژالے نے تلخی سے کہا تھا۔
وہ خاموشی سے باہر نکل آئی۔
سردیوں کی دھوپ ہر شے پر پھیلی ہوئی تھی۔ تیز دھوپ ویسے تو برداشت نہ ہوتی مگر ساتھ چلنے والی ٹھنڈی ہوا دھوپ کی چبھن کو مٹا دیتی تھی۔ وہ شال اچھی طرح اوڑھ کر لان میں نکل آئی۔
اپنا گھر۔وہ بے دلی سے مسکرائی۔
لڑکی کا تو شاید اپنا کوئی گھر ہوتا ہی نہیں اور میری زندگی؟
اس کی آنکھیں دھندلانے لگیں۔
میری زندگی تو شاید ایک سراب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہی گزر جائے۔
اس کا دل خدشات سے بوجھل ہوگیا۔
جی چاہا روئےڈھیر سارا روئے۔
وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی‘ بھائیوں کی لاڈلی بہن۔
مگر ان کے ہاں بیٹیوں کی قسمتوں کے فیصلے کرتے وقت ان کی رائے نہیں پوچھی جاتی تھی اور نہ ہی ان کےلاڈلے پنکو خاطر میں لایا جاتا تھا۔
گیٹ کی بیل مسلسل ہورہی تھی۔
وہ شال سے آنکھیں پونچھتی گیٹ کی جانب آئی۔ چوکیدار جانے کہاں چلا گیا تھا۔
وہ مجبوراً خود گیٹ کی طرف آئی۔ پہلے پوچھا تو کوئی بھی نہیں بولا۔ اس نے ذرا سا گیٹ کھولا‘ سامنے کوئی بھی نہ تھا۔ اس نے باہر جھانکا۔
اسی وقت آنے والا سائیڈ پر سے نکل کر اس کے سامنے آگیا۔
آنے والا صدیوں کی مسافت طے کرکے لوٹا تھا۔ اس پر نظر پڑتے ہی پلوشہ کی جیسے جان ٹوٹنے لگی۔
مسلسل رونے اور سوچنے کی وجہ سے اس کے سر میں درد شروع ہوگیا تھا۔
صبا کی بے داغ زندگی اس کے سامنے تھی۔ مگر نوفل جانے کیوں جاہلوں کی مانند ایک ہی لکیر پیٹے جارہا تھا۔
وہ انس کی روح کے سامنے شرمسار تھی۔
کاش میں تمہاری خاطر کچھ کرسکتی صبا۔ تو تمہاری راہوں کے سارے کانٹے اپنے دامن میں بھر لیتی۔ تم نے انس سے بھی کچھ نہیں کہا۔ اپنے سگے ماں جائے سے جس کی تم اتنی لاڈلی بہن تھیں۔
فقط ہمارا گھر خراب ہونے کے ڈر سے۔
اور میں اپنی زندگی کی خوب صورتی میں گم تمہاری زرد رنگت کا ماخذ جان ہی نہیں پائی۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونکی۔
رانو نے اسے کہا کہ صالحہ بیگم اسے بلا رہی ہیں۔
تم چلو…
اس نے رخ موڑتے ہوئے کہا۔
رانو کے جانے کے بعد وہ منہ پر پانی کے چھپاکے مارکے خود کو فریش کرتی نیچے چلی آئی۔
صالحہ بیگم اسی کے انتظار میں تھیں۔
کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد نگین کو محسوس ہوا کہ وہ کچھخاصکہتے ہوئے ہچکچا رہی تھیں۔
کیا بات ہے ماماکچھ پریشانی ہے کیا؟
ہے تومگر سوچ رہی ہوں کہ تم سے کیسے کہوں۔وہ رک سی گئیں۔
کہہ ڈالیں۔ مجھ سے کیسی جھجک۔
اس نے ان کے ہاتھ دبا کر حوصلہ دیا۔

میر ہائوس سے فون آیا تھا
وہ پھر رکیں تو نگین کا دل رکنے لگا۔
کوئی قیامت
پھرکیا کہا ان لوگوں نے؟
وہ بے تابی سے بولی۔
تمہارے لئے عماد کا پروپوزل دیا ہے انہوں نے۔
وہ چور سی ہو کے بولیں تو نگین کو لگا آسمان اس کے سر پر آن گرا ہو۔

(باقی آئندہ )

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close