Aanchal Feb-17

یادگار لمحے

جویریہ سالک

سورۃ ق کی تشریح

کفار مکہ کی اصلاح کے لیے خود ان ہی میں سے سب سے نیک انسان کو اللہ نے نبی بناکر ان پر خیرو برکت والا قرآن نازل کیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ کفار آخرت کا انکار کرتے ہیں جس اللہ نے انسان کو وجود بخشا اتنی عظیم الشان کائنات تخلیق کی اس کے لیے مرے ہوئے انسانوں کے ذرات کو جمع کرکے دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔

کیا وہ دیکھتے نہیں کہ اللہ بارش کے ذریعے کس طرح مردہ جڑوں سے دوبارہ ہریالی پیدا کرتا ہے۔ اللہ نے انسان کے لیے ہر طرح کے پھل سبزیاں اور ضرورت کی دیگر چیزیں پیدا کیں۔ اللہ نے پچھلی گمراہ قوموں کو تباہ کیا۔ اللہ انسان کے دل کی بات بھی جانتا ہے‘ فرشتے ہر انسان کے اعمال کا حساب رکھ رہے ہیں‘ ان اعمال پر آخرت میں جزا یا سزا دی جائے گی۔ حقیقت انسان پر جانکنی کے وقت کھل جاتی ہے۔

شرک کرنے والا حق کا دشمن‘ سچائی سے روکنے والا جہنمی ہے۔ آخرت میں اس کو گمراہ کرنے والا شیطان ساری ذمہ داری اسی پر ڈال دے گا۔

نافرمانی اور خواہشات نفس کی پیروی چھوڑ کر اللہ سے ڈرنے والا بندگی پر قائم شخص ہمیشہ کے لیے جنت کی نعمتیں پائے گا‘ ہدایت کا طالب ہی نبی سے ہدایت پاتا ہے۔

غلام سرور… نارتھ ناظم آباد‘ کراچی

ٹھکانہ

صحابہ کرامؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (سامہ) ہمراہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازے سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے ہم نے عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر لکھ دیا ہے تو عمل کرنے کی کیا ضررت ہے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نہیں‘ تم عمل کرتے رہو کیونکہ جو جس کا ٹھکانہ ہوگا اس کو اسی طرح کے اعمال کرنے کی توفیق ہوگی ۔‘‘ (کتاب ’’صحیح البخاری‘‘)

عائشہ یونس چدھڑ…حافظ آباد

دعا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹے کی وفات پربہت غمگین تھے۔ بی بی عائشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ’’اللہ پاک نے ہر نبی کو یہ درجہ عطا کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک دعا مانگ سکتا ہے جو فوراً قبول ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹے کی دوبارہ زندگی کی دعا کیوں نہیں مانگتے‘ اللہ پاک قبول کرنے والا ہے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کہ وہ دعا میں نے آخرت میں اپنی امت کے لیے سنبھال کر رکھی ہے۔‘‘ سبحان اللہ۔

مدیحہ نورین مہک… گجرات

برتر کامیابی

اگر آپ ناکامی سے دوچار ہوں اور اس ناکامی کا ذمہ دار آپ دوسروں کو قرار دیں تو آپ کے اندر عمل کا جذبہ ٹھنڈا پڑجائے گا۔ آپ صرف دوسروں کے خلاف احتجاج اور شکایت میں مشغول رہیں گے اور خود کچھ نہ کرسکیں گے لیکن اگر آپ اپنی ناکامی کو خود اپنی غلط کارکردگی کا نتیجہ سمجھیں تو آپ کا ذہن نئی زیادہ بہتر تدبیر سوچنے میں لگ جائے گا۔ آپ ازسر نو جدوجہد کرکے ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ شاندار شکل میں جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ناکامی کی ذمہ داری خود قبول کیجیے۔

ایک تدبیر کارگر نہ ہورہی ہو تو دوسری تدبیر کا تجربہ کیجیے۔ آپ یقینا اعلیٰ کامیابی تک پہنچ جائیں گے۔

مولانا وحید الدین خان کی کتاب ’’راز حیات‘‘ سے ماخوذ)

سحر گل… جام پور

کامیاب لوگ

ہم میں اور کامیاب ترین لوگوں میں چھوٹا سا فرق ہوتا ہے‘ ہم کہتے ہیں ہمیں یہ کرنا ہے پھر کہہ کے بھول جاتے ہیں جبکہ کامیاب لوگ کرتے ہیں پھر کہتے ہیں ہاں… ہمیں یہ کرنا تھا۔ ان کے اور ہمارے فعل میں باریک سا فرق ہوتا ہے بعد ازاں یہی فرق ہمیں ان سے بہت چھوٹا کردیتا ہے۔

سوچنے سے عمل وجود میں آتا ہے اور عمل سے منزل اگر ہم منزل کی جستجو رکھتے ہیں تو عمل کا قصد جلدی کرنا ہوگا۔ سوچ کو عمل کا پیراہن دے کر منزل کی طرف بڑھنا ہوگا وگرنہ شیخ چلی کی طرح آئے دن خواب آنکھوں میں پھوٹیں گے جن کی چبھن بہرحال ہمیں سہنی پڑے گی ۔

عنزہ یونس… حافظ آباد

آج کی بات

کلاس میں اسکول ٹیچرنے بچوں سے سوال کیا۔

ٹیچر: وہ کون لوگ ہیں جو نماز نہیں پڑھتے؟‘‘

پہلا بچہ: ’’جو لوگ مرچکے ہیں۔‘‘

دوسرا بچہ: ’’جن کو نماز پڑھنا ہی نہیں آتی۔‘‘

تیسرا بچہ : ’’مس وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں۔‘‘ 

بچے تو جواب دے کر فارغ ہوگئے مگر میں سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ ہمارا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے؟

کیا ہم مرچکے ہیں؟

کیا ہمیں نماز پڑھنا ہی نہیں آتی؟

یا پھر ہم مسلمان ہی نہیں ہیں؟

ذرا سوچئے کہ ہم کون ہیں؟ نماز قائم کرو جو کہ ہم پر فرض کردی گئی ہے۔

نورین انجم… کراچی

کٹی پتنگیں

پتنگیں میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس نے مغموم انداز میں کہا تھا۔

’’یہ تب تک بھلی لگتی ہیں جب تک نیلے آسمان کی بلندیوں پر آزادی سے اڑتی رہیں‘ کٹ جائیں تو باقی کیا رہتا ہے۔ کٹی پتنگیں ہوا کے سامنے بے بس ہوجاتی ہیں پھر ڈولتی ہوئی اپنی مرضی کے خلاف کسی آنگن‘ کسی چھت یا بازار میں جاگرتی ہیں۔ لڑکیاں بھی تو پتنگوں کی طرح ہوتی ہیں۔‘‘

عاصمہ امداد علی… نوشہرہ ورکاں

ام رومان کی ڈائری سے مستعار روشنی

دنیا صرف انہی کی خیریت پوچھتی ہے جو خوش ہوں‘ جو تکلیف میں ہوں ان کے موبائل نمبر تک کھو جاتے ہیں۔

حاصل اور لاحاصل کے دائروں میں سب گھوم رہے ہیں‘ حاصل کی ناقدری اورلاحاصل کی حسرت ہی نہیں ختم ہوتی۔

راستہ بدل لینا چاہیے جب مضبوط لفظوں کے پیچھے ٹوٹا ہوا لہجہ اور آنکھوں کے پیچھے نمی کو کوئی سمجھ نہ سکے۔

مجھے تنہا رہنے سے نفرت ہے مگر یہ اس سے بہتر ہے کہ مجھے بار بار تکلیف پہنچے۔

زنیرہ طاہر‘ عمارہ طاہر… بہاولنگر

رشتے

رشتے درختوں کی مانند ہوتے ہیں بعض اوقات ہم اپنی ضرورتوں کی خاطر انہیں کاٹتے چلے جاتے ہیں اور آخر کار خود کو گھنے سائے سے محروم کردیتے ہیں‘ رشتوں کی حفاظت کریں چاہے یہ خون کے ہوں یا احساس کے۔

رشک حنا… سرگودھا

واہ …واہ

اس نے کہا ’’شاعری سنائو۔‘‘

ہم نے کہا ’’کھیر کھلائو۔‘‘

وہ بولے ’’پہلے شاعری پھر کھیر۔‘‘

ہم نے کہا ’’اجی کھیر تو اک بہانہ ہے شاعری سے بچنے کا۔‘‘

وہ بولے ’’واہ واہ واہ… کیا شاعری ہے۔‘‘ ہاہاہا

ثناء کنول اللہ دتہ… لودھراں

سنہرے الفاظ

اگر ہم ہر خوشی کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرسکتے تو ہمیں یہ بھی حق نہیں ہے کہ اپنے ہر آنسو اور غم کی شکایت اللہ تعالیٰ سے کریں۔

اگر تم کسی کو چاہو تو اسے دعا سے حاصل کرو اور اگر دعا سے بھی نہ ملے تو سمجھو کوئی اور ہے جو تمہیں مانگ رہا ہے۔

تجربہ انسان کو غلط فیصلے سے بچاتا ہے مگر تجربہ غلط فیصلے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

کسی کے ساتھ بیٹھ کر ہزاروں باتیں کرنا دوستی نہیں بلکہ دور ہوکے بھی یاد رکھنا دوستی ہے۔

کسی کو پالینا محبت نہیں بلکہ کسی کے دل میں جگہ بنالینا محبت ہے۔

محبت حاصل کرنا سب کے لیے ممکن نہیں مگر محبت پھیلانا سب کے لیے ممکن ہے۔

انعم ستارہ… محمد پور دیوان

ڈائمنڈ ورڈز

وہ گناہ جس کا تمہیں دکھ ہو‘ اس نیکی سے بہتر ہے جس پر تمہیں غرو ر ہو۔

تلاش اس کو مت کرو جو دنیا میں سب سے زیادہ خوب صورت ہو بلکہ تلاش اس کو کرو جو آپ کی دنیا خوب صورت بنادے۔

دوستی کے بعد محبت ہوسکتی ہے مگر محبت کے بعد دوستی نہیں کیونکہ دوا موت سے پہلے اثر کرتی ہے موت کے بعد نہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب ایک جوان انسان توبہ کرتا ہے تو مشرق سے مغرب تک کے قبرستانوں میںچالیس دنوں تک عذاب ہٹالیا جاتا ہے۔

جب ایمان انسان کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرلیتا ہے تو برائی کرنا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

نجم انجم اعوان… کراچی

مفت کے ٹوٹکے

جو لوگ زیادہ ہنستے ہیں وہ اندر سے بالکل خالی ہوتے ہیں بریانی کے پتیلے کی طرح۔

اگرکوئی دل توڑے تو آپ اس کا جوتا توڑ دیں وہ آپ کو چھوڑ کر کہیں جا نہیں پائے گا‘ آزمائش شرط ہے۔

اگر آنکھ میں کچھ چلا جائے تو ملنے کی بجائے آنکھ نکال کر صاف کرلیں پانی نہیں آئے گا۔

پائوں میں موچ آجائے تو پیر توڑ کر رکھ دیں نہ ہوگا اور نہ ہی موچ آئے گی ہے نا۔

کہیں جانا ہو اور پرس نہ مل رہا ہو تو گھر میں پڑی ہینگر والی بالٹی بازو میں ہینڈ بیگ کی طرح ڈال لیں۔

پانی کا نل خراب ہو تو نل کھول کر رکھ دیں اور پانی بہنے دیں جب ٹنکی خالی ہوجائے گی تو ٹپ ٹپ کی آواز آپ کو پریشان نہیں کرے گی۔

کوئی برائی کرے تو غصہ کرنے کے بجائے یہ ٹوٹکے اسے سنادیں وہ خود آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائے گا‘ ہاہاہا۔

(سدا یوں ہی مسکراتے رہیں کسی کی نظر نہ لگے پیارے دوستوں) آمین۔

ثناء کنول اللہ دتہ… لودھراں

انمول موتی

لوگ چار باتوں میں اللہ تعالیٰ سے تضاد کرتے ہیں۔

کہتے ہیں ہم اللہ کے نیک بندے ہیں مگر کام آزادوں جیسے کرتے ہیں۔

کہتے ہیں اللہ ہمارے رزق کا کفیل ہے مگر دل ان کے مطمئن نہیں۔

کہتے ہیں آخرت دنیا سے بہتر ہے مگر دنیا کے لیے مال جمع کرتے ہیں اور آخرت کے لیے گناہ۔

کہتے ہیں ہم بالضرور مرنے والے ہیں لیکن اعمال ایسے کتے ہیں گویا مرنا ہی نہیں۔

وفا خان… محمد پور دیوان

شکر کرنے کی دس وجوہ

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟ 

الحمدللہ بحیثیت انسان میرے شکر کرنے کی پہلی وجہ۔

بحکم خدا اس روئے زمین پر انسانی جمال تشریف فرما ہونا ہے ‘ کیا میں شکر ادا کرسکتی ہوں؟ نہیں۔

میرے شکر کرنے کی دوسری وجہ

امت مسلماں میں پیدا ہونا

میرے شکر کرنے کی تیسری وجہ

مسلم گھرانے کا چشم و چراغ ہونا

میرے شکر کرنے کی چوتھی وجہ

اللہ تعالیٰ کی بندی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا۔

میرے شکر کرنے کی پانچویں وجہ

بحیثیت پاکستانی ہونا۔

میرے شکر کرنے کی چھٹی وجہ

پاکستان کی شہریت اختیار کرنا جو تمام عالم اسلام کا قلعہ ہے۔

میرے شکر کرنے کی ساتویں وجہ

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہے۔

میرے شکر کرنے کی آٹھویں وجہ

میرے ماں باپ کا سلامت ہونا ہے۔

میرے شکر کی نویں وجہ

میرے اعضاء کی سلامتی ہے۔

میرے شکر کرنے کی دسویں وجہ

بڑی اہمیت کی حامل عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مبتلا ہونا ہے۔

میں اس کی دی ہوئی کس کس نعمت کا شکر ادا کروں‘ اس کی بے شمار نعمتیں ہیں جس کی ایک بھی نعمت کا شکر ادا کرنے بیٹھ جائوں تو شاید میری سانس ختم ہوجائے مگر اس کی ایک نعمت کا شکر ادا نہیں ہوسکتا۔ اللہ ہم سب کو اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی توفیق دے‘ آمین ثم آمین۔

عاصمہ عاشق… حافظ آباد

اقوال زریں

پست ارادے کامیابی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

انسان میں رزیل ترین وہ ہے جو کھانے پینے اورپہننے میں مشغول رہے۔

کام صرف رضائے الٰہی کے لیے انجام دیں اگر خدا کی رضا حاصل ہوجائے تو انسان کا دل ہلکا اور پاکیزہ ہوجاتا ہے۔

اچھی کتابیں بہترین دوست ہوتی ہیں۔

زیادہ ہوشیاری دراصل بدگمانی ہے۔

انسان زبان کے پردے میں چھپا ہے۔

اللہ کے دشمنوں سے محبت کرنا اللہ سے دشمنی ہے۔

خوشامدیوں سے ہمیشہ بچو۔

اچھی بات

کہنے اور سہنے کے درمیان ہی رب مل جاتا ہے۔

الفاظ جب اپنی قیمت کھونے لگیں تو لفظوں کا صدقہ دینا چاہیے یعنی مکمل خاموشی۔

آسیہ شاہین… چوآ سیدن شاہ

قول

وقت ‘ دوست اور رشتے مفت ملتے ہیں مگر ان کی قیمت کا پتا تب چلتا ہے جب یہ ہم سے کھوجاتے ہیں۔

سائرہ خان… محمد پور دیوان

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close