Aanchal Feb-17

ایک دن محبت کے نام

ماہم علی

گلاب ہاتھ میں آنکھوں میں ستارہ ہو
کوئی وجود محبت کا استعارہ ہو
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو تمہارا ہو

’’واہ بارش…‘‘ بارش کی بوندوں کو قید کرتے علیشا خوشی سے اچھلی۔ بارش اسے جنون کی حد تک پسند تھی۔

’’تمہیں موبائل سے فرصت ملے تو کچھ باہر کے حالات نظر آئیں نا۔ دو گھنٹے سے بارش ہورہی ہے اور تمہیں اب پتا چلا۔‘‘ مدیحہ نے اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے اس سے کہا۔

’’اﷲ توبہ سسٹر… کبھی تو میرے موبائل کو بخش دیا کرو ہر وقت اس بے چارے کے پیچھے پڑی رہتی ہو تم۔‘‘ علیشا نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

’’سہی کہہ رہی ہو ڈیئر… میں صبح سے فارغ بیٹھ بیٹھ کے بور ہورہی ہو‘ ماما بابا بھی گھر پر نہیں… تم نے چھٹی بھی کی مگر‘ کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ مدیحہ اٹھ کر اس کے پاس چلی آئی۔

’’یار تمہارے پاس بیٹھ کے خشک ٹاپکس پر باتیں کرنے سے بہتر تھا میں اپنے کمرے میں رہتی۔‘‘ علیشا نے شرارت سے کہا۔ اسے مدیحہ کی کتابوں پر ڈسکس کرنے والی عادت سے چڑ تھی۔

’’کیا کہا میری باتیں بور ہوتی ہیں…! اور تم جو گھنٹوں موبائل کے ساتھ لگی رہتی ہو وہ کیا ہے۔‘‘

’’ہاں اور نہیں تو کیا۔ بور ہی تو ہوتی ہیں تمہاری باتیں‘ ہزار مربتہ کے سنائے قصے دو ہزار بار سناتی ہو… فلاں ہیرو کو یہ ہوا اس نے ایسا کیا۔ انا نے ولید سے لڑائی کی… وغیرہ وغیرہ…‘‘ علیشا نے کمال مہارت سے اس کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ چھینا۔ پیکٹ ہاتھ میں لے کر وہ پھر صحن میں بھاگ گئی۔ مدیحہ نے سٹپٹا کر خالی ہاتھوں کو دیکھا۔ پھر اس کے پیچھے بھاگی‘ علیشا بھاگ رہی تھی‘ پیچھے پیچھے مدیحہ بھی۔

’’میرا مقصد تمہیں باہر لانا تھا‘ جو پورا ہوگیا اب مزے لو بارش کے تم بھی۔‘‘ علیشا نے ہنستے ہوئے کہا تو مدیحہ بھی ہنس دی۔

’’چلو آؤ کچن میں چائے پکاتے ہیں اور پکوڑے بھی۔‘‘ سدا کی چٹوری علیشا نے مدیحہ کا ہاتھ پکڑا۔

’’ٹھیک ہے مگر پھر تم میرے حصے کے برتن دھوگی۔‘‘ مدیحہ کے شرارت سے کہنے پر علیشا کو جھٹکا لگا۔

’’نہیں… نہیں یار تم رہنے دو‘ میں خود کچھ نہ کچھ کرلوں گی‘ تم بس مجھ کو پکوڑوں کا مصالحہ بنا کر دے دو‘ باقی کام میں خود کرلوں گی۔‘‘

’’چلو بنا دیتی ہوں‘ تم بھی کیا یاد کروگی کہ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔‘‘ ہنستے ہوئے دونوں کچن کی طرف چل دیں۔

…٭٭٭…

’’آج کتنا پیارا موسم ہے۔‘‘ علیشا نے بکس اسمارا کی گود میں رکھتے ہوئے کہا۔ وہ سب فری پیریڈ میں کالج کی کینٹین میں بیٹھی ہوئیں تھیں۔

’’اللہ کرے کل بھی ایسا موسم ہو تو مزہ آجائے گا۔‘‘ ولید نے مسکرا کر اسمارا کو دیکھا۔

’’کیوں بھئی کل ایسی کون سی بات ہے جو ایسا موسم ہو تو مزہ آئے گا‘ کل چھٹی تو نہیں؟‘‘ علیشا نے ولید سے پوچھا۔

’’تمہیں نہیں پتا‘ کل اسمارا اور ولید ویلینٹائن ڈے منانے جارہے ہیں۔‘‘ سلمیٰ نے ولید کا راز کھولا۔

’’اوہ… ویلنٹائن ڈے کوئی منانے والا دن ہے جو یہ منانے جارہے ہیں… ایک دم فضول۔‘‘ علیشا نے ناک چڑھائی۔

’’کیوں اس میں فضول کیا ہے؟ سب ہی مناتے ہیں۔ محبت کا اظہار کا دن ہے تو اظہار میں کنجوسی نہیں کرنی چاہئے۔ ایک ہی تو دن ہوتا ہے جب اظہار کا موقع ملتا ہے۔‘‘ اسمارہ کو غصہ آگیا۔

’’مجھے تو کوئی خاص چیز نظر نہیں آئی اس دن میں… محبت ایک دن کی نہیں ہوتی نا اظہار کا کوئی ایک دن مخصوص ہوتا ہے… ہر لمحہ محبت کا ہوتا ہے‘ جس وقت چاہو اظہار کردو۔ محبت کو صرف ایک دن سے منسوب کرنا یہ کیسی محبت ہے میں تو نہیں مانتی ایسی محبت کو جو صرف دن کے اظہار کی محتاج ہو۔‘‘ علیشا صاف گوئی سے بولی۔

’’ہر ایک کا اپنا پوائنٹ آف ویو ہوتا ہے… لیکن میں تو اس دن کے حق میں ہوں‘ اگر یہ دن محبت کے اظہار کے لیے مخصوص ہے تو کھل کے اظہار کریں اپنی محبت کا اور محبت سے اس دن کو گزاریں۔ زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے اگر چند پل چرا کر ہم اپنی محبت کے سنگ گزاریں تو کیا مضائقہ…‘‘ سلمان نے باری باری سب کو دیکھ کر کہا۔

’’چھوڑو تم لوگ کس بحث میں پڑگئے ہو… جس کی مرضی سیلیبریٹ کرے جو نہیں کرنا چاہتا تو اس کی مرضی‘ بہرحال علیشا کو چھوڑ کر باقی سب کل سیلیبریشن کررہے ہیں۔‘‘ انا نے جیسے بات ختم کی۔

’’ہاں تقریباً سب ہی… حماد کا نہیں پتہ اس کا کیا ارادہ ہے‘ ویسے خیال ہے اس کے بارے میں وہ جائے گا کہیں یا نہیں؟‘‘ ولید کو یک دم حماد یاد آیا جو آج غیر حاضر تھا۔

’’وہ بھی چھپا رستم ہے کیوں نہیں جائے گا… ہوگی کوئی نہ کوئی اس کی بھی گرل فرینڈ۔‘‘ سلمان نے آنکھ دبا کر کہا۔

’’تم لوگ پلان بنائو میں لائبریری جارہی ہوں۔ پھر کلاس کا وقت ہوجائے گا۔‘‘ علیشا اٹھتے ہوئے بولی تو وہ سب حیرانگی سے دیکھنے لگے۔

’’اسے کیا ہوا؟‘‘ اس کے وہاں سے اٹھ کر جانے کے بعد انا نے حیرت سے پوچھا۔ عموماً وہ لوگ اس وقت کینٹین میں بیٹھ کر کچھ نہ کچھ کھاتے تھے۔ جب اگلی کلاس کا وقت ہوتا پھر اکٹھے سارے کلاس میں جاتے۔

’’پتہ نہیں کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے خوامخواہ بیزار رہنے کی۔ علیشا جیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ذرا بھی محبت کی سینس نہیں ہوتی۔ جو لوگ محبت کرنا ہی نہیں جانتے وہ خاک یہ دن منائیں گے۔‘‘ اسمارہ نے علیشا کے بوائے فرینڈ نہ بنانے پر چوٹ کی‘ جب کہ لائبریری کی طرف جاتی علیشا کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے تو ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ بمشکل خود کو کمپوز کرکے وہ لائبریری میں چلی آئی۔ گھر آکر اس نے یہی بات مدیحہ کو بتائی تو وہ بھی اس کی بات کے خلاف تھی۔

’’یہ کون سی محبت ہے جو صرف 14 فروری کو ہی سامنے آتی ہے اور اظہار کے لیے بھی جگہ مخصوص کی جاتی ہے۔ جگہ کیا بلکہ تنہائی۔‘‘ مدیحہ نے طنزیہ کہا۔

’’تم صحیح کہتی ہو۔ اپنی محبت کو پارکوں میں لے جاکر گھمانا یہ کیسی محبت ہے۔ محبت تو دل میں ہوتی ہے لیکن آج کل کی محبت پبلک پلیسز پر دکھائی دیتی ہے۔ جب بھی کہیں باہر جائوں تو وہاں ان سڑک چھاپ عاشقوں کو دیکھ کر۔ دنیا مافیہا سے بے خبر ہوکر محبت کا اظہار کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔ بندہ پوچھے محبت کرتے ہو تو عزت بھی کیا کرو اپنی بھی اور اپنے ساتھی کی بھی۔‘‘ موبائل پر ٹائیپنگ کرتے ہوئے اس نے کہا۔

’’ہاں تم ٹھیک کہتی ہو یہ محبت نہیں ہوتی۔ یہ ٹائم پاس کی محبت ہے یا آج کل کی محبت ماڈرن ہوگئی ہے… ورنہ محبت تو پاکیزہ جذبہ ہے‘ نہ جانے کیا ہوگیا ہے آج کل کے لوگوں کو بے حیائی سے لور لور پھرتے ہیں اور نام محبت کا دیتے ہیں۔‘‘ مدیحہ صاف گوئی سے بولی۔

’’خیر جو بھی ہے میں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے میں بھی کل ویلنٹائن ڈے منانے لگی ہوں۔‘‘ علیشا نے انکشاف کیا۔

’’کیا مطلب؟‘‘ مدیحہ چونکی۔

’’ادھر آئو تمہیں سمجھاتی ہوں۔‘‘ علیشا خود اٹھ کر اس کے پاس گئی اور راز داری سے اسے پلان سمجھانے لگی۔

’’اوہ یہ بات میرے ذہن میں کیوں نہیں آئی۔‘‘

’’کیونکہ تمہارے پاس میرے جیسا دماغ جو نہیں۔‘‘ علیشا نے شرارت سے کہا تو مدیحہ اسے مصنوعی غصے سے گھورنے لگی۔

’’اچھا اب یہ گھورنا بند کرو کہیں آنکھیں چشمے سے باہر ہی نہ نکل آئیں۔ اب چلو میرے ساتھ۔ امی سے پوچھ کر بازار چلتے ہیں خاص دن ہے تو تحفہ بھی تو خاص ہونا چاہئے نا…‘‘ اس نے تائید بھری نگاہ سے مدیحہ کو دیکھا وہ بھی متفق نظر آرہی تھی۔

اگلے دن اس نے زبردستی بابا کو آفس سے چھٹی کروائی۔ وہ بھی دھمکی دے کر… ماما بھی آج گھر پر تھیں۔ کام والی ماسی کو آرام سے بٹھا کر دونوں بہنوں نے مل کر صفائی کی بقول علیشا کہ یہ بھی ماسی سے اظہار محبت ہے۔ ماسی بے چاری انہیں ہک دک کام کرتا دیکھ رہی تھی۔ کہاں تو علیشا کچن میں جھانکنا بھی پسند نہیں کرتی تھی اور آج کچن میں موجود تھی۔

’’تمہاری نت نئے ڈشز کو دیکھ کر تو مجھے پشتو زبان یاد آگئی ہے جو نہ سمجھ آتی ہے اور نہ بولنی۔ بالکل یہی حال تمہاری ان چیزوں کا ہے‘ نہ پہچانی جارہی ہیں اور نہ کھائی جائیں گی۔‘‘ کباب فرائی کرتی مدیحہ نے ایک نظر اسے دیکھا جو اپنی تیار کی ہوئی چیزوں کو خود ہی چکھ کر داد دے رہی تھی۔

’’جلنے والے کا منہ کالا… دیکھ لینا تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگانے دوں گی۔ تم منتیں کرتی رہ جائوگی۔‘‘ اس نے پائن اپیل کے پیسز کیک پر رکھتے ہوئے کہا۔

’’دیکھ لیں گے تم بھی ادھر ہو میں بھی ادھر اچھا اب یہ سب سمیٹو سارا دن کچن میں گزارنے کا ارادہ ہے کیا۔‘‘ مدیحہ نے کباب نکال کر ہاٹ پاٹ میں رکھے۔

’’لو میں بھی فارغ ہوگئی بس ایک فائنل ٹچ پھر اسپیشل محبت کا کیک ریڈی۔‘‘ کپڑے سے ہاتھ صاف کرکے اس نے کیک فریج میں رکھا۔

’’چلو اب ماما بابا کو کمرے میں لے کر چلیں۔‘‘ دونوں بہنیں ٹی وی لائونج میں چلی آئیں جہاں ان کے امی اور ابو بیٹھے ہوئے تھے۔

’’علیشا بس بھی کرو‘ اتنا سپنس کیوں پیدا کررہی ہو دکھا بھی دو جو دیکھانا ہے میں تو تمہارے بابا کی کاروبار کی باتیں سن سن کے آدھی پاگل ہوگئی ہوں مزید بیٹھی تو پوری پاگل ہوجائوں گی۔‘‘ رابعہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔

’’لو بیگم میری باتیں اب فضول ہوگئیں اور میں جو پچھلے ایک گھنٹے سے تمہاری اوٹ پٹانگ باتیں سن رہا ہوں وہ۔‘‘ ہاشم صاحب نے مصنوعی غصے سے کہا۔

’’ماما… پاپا نو لڑائی کم از کم آج نہیں سرپرائز آپ کا انتظار کررہا ہے چلیں پھر…‘‘ علیشا نے بابا کا ہاتھ پکڑا جب کہ مدیحہ ماما کا ہاتھ پکڑ کر پچھلے کمرے تک آئی عموماً یہ کمرہ گیسٹ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا لیکن آج علیشا نے اس کمرے کو خاص طور پر سجایا تھا۔

’’آئیں ماما… پاپا۔‘‘ مدیحہ نے انہیں دروازے کے پاس چھوڑا اور خود پیچھے ہوگئی پاپا نے جیسے ہی دروازہ کھولا دروازے کے اوپر لگی باسکٹ میں رکھے پھول نیچے گرنے لگے۔

’’واؤ آمیزنگ…‘‘ ماما حیرانی سے بولیں ان دونوں نے کمرے کی سجاوٹ ماما‘ پاپا کے سونے کے بعد کی تھی پرانے پردے ہٹا کر نئے پرپل رنگ کے پردے لگائے پردوں پر جب روشنی پڑتی تو بہت دلکش سا منظر نظر آتا۔ دیواروں پر فریش ریڈ روز کی لڑیاں لگائی ہوئی تھیں جن کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ مدیحہ کے منع کرنے کے باوجود علیشا نے گلابی اور سرخ رنگ کے غبارے پھولا کر جگہ جگہ لٹکائے ہوئے تھے۔ مجموعی طور پر پورا کمرہ بے حد خوب صورت تھا۔

’’کہیں کیسا لگا ہمارا سرپرائز؟‘‘ علیشا نے ان دونوں کو حیران ہوتے دیکھ کر پوچھا۔

’’سرپرائز تو اچھا ہے لیکن سمجھ نہیں آرہا یہ سب کس لیے کسی کی سالگرہ ہے کیا؟‘‘ ماما نے گھوم پھر کر ایک ایک چیز کو دیکھا۔

’’ہاں ہے نہ آج محبت کی سالگرہ۔‘‘ علیشا نے مدیحہ کے کان میں سرگوشی کی۔

’’سالگرہ تو کسی کی نہیں علیشا کو شوق ہوا تھا یہ سب کرنے کا ابھی اس کے علاوہ بھی سرپرائز ہے آج علیشا نے اپنے ہاتھ سے نت نئی ڈیشز تیار کی ہیں۔ اگر آپ لوگوں میں ہمت ہے تو وہ چیزیں کھائیے گا میں تو معذرت کرتی ہوں۔ اتنی ہمت نہیں مجھ میں۔‘‘ مدیحہ نے شرارت سے علیشا کو دیکھا۔

’’اچھا اب تم دونوں لڑنے مت لگ جانا۔ علیشا اپنی چیزوں لائو میں تیار ہوں۔‘‘ پاپا نے اس کو ساتھ لگا کر پیار سے کہا۔

’’اوہ ابھی نہیں۔‘‘ مدیحہ کونے میں سے گفٹ لائی ایک مدیحہ نے ماما کو دیا اور ایک علیشا نے بابا کو دیا۔

’’ماما… پاپا آئی لو یو۔‘‘ دونوں نے اونچی آواز سے کہا۔

’’بہت محبت سے اپنی محبت کے لیے یہ گفٹ لائی ہوں۔‘‘ علیشا کے کہنے پر وہ سب مسکرا دیئے۔

’’چلو اب سیکنڈ سرپرائز تمہارے ہاتھ کی تیار کردہ چیزیں چیف گیسٹ کے سامنے پیش کریں۔‘‘

’’آج مجھے تم پر بہت پیار آرہا ہے تم بیٹھو میں کھانا لگاتی ہوں یہ چھوٹا سا تحفہ تمہارے لیے۔‘‘ ریڈ رنگ کا شاپر اس نے مدیحہ کو دیا جس میں اس کے پسندیدہ مصنف کی کتاب تھی۔

’’اوہ…! واقعی آج تو مجھے بھی تم پر پیار آرہا ہے آج تمہارے حصے کے برتن میں دھو دوئوں گی۔‘‘ مدیحہ نے خوشی سے کہا۔

’’اس موقع پر ایک سیلفی ہوجائے۔‘‘ مدیحہ نے علیشا سے پوچھا۔

’’لو یہ بھی کوئی علیشا کی نئی ڈش ہے کیا پہلے تو نام نہیں سنا ویسے مزے کی ہوگی۔‘‘ پاپا نے مسکراہٹ دبا کر کہا جس پر ماما نے ان کو گھورا۔

’’یہ ہوئی دنیا کی سب سے خوب صورت سیلفی۔‘‘ علیشا نے ماما کو دیکھا۔

’’اف یہ میں اتنی عجیب لگتی ہوں اور یہ تمہارے بابا کتنے ڈرے ڈرے لگ رہے ہیں جیسے کسی جنگ کے میدان میں ہوں۔‘‘

’’میں جنگ کے میدان میں ہوں… تو تم کون سا عامر لیاقت کے شو میں ہو جو کہہ رہی ہو عامر بھائی ایک موبائل ادھر بھی۔‘‘ اب ہنسنے کی باری بابا کی تھی۔

’’آپ لوگ فیصلہ کرو کس کی تصویر پیاری آئی ہے میں کھانا لاتی ہوں۔‘‘ علیشا انہیں لڑتا چھوڑ کر مسکراتی ہوئی کچن میں چلی آئی۔

میں علیشا ہاشمی جس نے کبھی اپنے ہاتھ سے چائے بھی نہیں تیار کی آج ماما‘ پاپا کی محبت میں بہت ساری چیزیں تیار کرلی ہیں۔ ابھی چائے کے بعد میں سب کو اپنے ہاتھ کا تیار کردہ کیک پیش کروں گی۔ مجھے نہیں معلوم سب چیزیں ذائقے میں کیسی ہوںگی۔ بس میں جانتی ہوں تو اتنا سب چیزوں کے بنانے میں‘ میں نے محبت بھی ملائی ہے اور محبت ہمیشہ میٹھی ہوتی ہے شام تک کے لیے میں نے اور مدیحہ نے کافی سارے پلان بنائے ہیں جن میں کھانے کے بعد لڈو کھیلنا پھر اس کے بعد آئس کریم کھانے جانا۔ آج کا دن میں نے محبت کے نام کیا ہے سب کہتے ہیں یہ محبت کا دن ہے تو میں نے بھی اس دن کو محبت سے محبت کرنے والوں کے ساتھ گزارنا ہے۔ اسد بھائی کی شادی پر ماما اور پھوپو کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی تب سے نہ ماما ان کے گھر جاتی ہیں اور نہ پھوپو ہمارے گھر آتی ہیں۔ شام کو ماما کو منا کر ہم ان کے گھر جائیں گے۔ رنجشوں تلخیوں کو مٹا کر میں نے محبتوں کے دن کو یاد گار بنانا ہے۔ زندگی واقعی مصروف ہوگئی ہے اگر کچھ لمحے نکال کر محبت بھرے رشتوں کے ساتھ گزاریں تو کوئی مذائقہ نہیں۔ اس کے لیے کوئی ایک دن مخصوص نہیں ہوتا جب چاہیں آپ میری طرح محبت کا دن منا سکتے ہیں۔ میں تو چلی اس سے پہلے کہ وہ سب میرے پیچھے کچن میں چلے آئیں… رشتے بہت قیمتی اور انمول ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ گزارے خوشی کے پل اللہ کی خاص رحمت ہوتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close