Aanchal Feb-17

چراغ خانہ

رفعت سراج

غیر کو برا کہہ دوں‘ غیر تو نہیں ایسا
آپ ہی سے شکوہ ہے آپ ہی کے بارے میں
بے وفا کہا مجھ کو آپ نے بجا لیکن
اس طرح نہیں کہتے، ہر کسی کے بارے میں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

دانیال کے جاتے ہی مانو آپا کچھ سوچتی سعدیہ کو فون کھڑکا دیتی ہیں مانو آپا دانیال کے حوالے سے سعدیہ کو سمجھانا چاہتی ہے ان کی نظر میں دانیال کی پریشانی کی وجہ سعدیہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف سعدیہ معمول سے ہٹ کر مؤدبانہ انداز میں بات کرتی انہیں حیران کر جاتی ہے سعدیہ مانو آپا کو گھر آنے کی دعوت دیتی اطمینان سے بات کرنے کا کہتی ہے۔ پیاری اپنی تنہائی و وحشت سے گھبرا کر اللہ سے لو لگا لیتی ہے وہ مشہود کا دل اس طرح نرم کرنا چاہتی ہے دوسری طرف مشہود دور سے ہی پیاری کو نماز کی حالت میں دیکھ کر قدرے پر سکون ہوجاتا ہے۔ دانیال فی الحال سعدیہ (ماں) کو پیاری کے گھر لے جانا نہیں چاہتا مشہود کا رویہ اس کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا۔ مشہود کوٹھڑی میں قید ہوتا ہے صبح سورج کی روشنی کے ساتھ باہر کسی کے ہونے کا احساس ہوتا ہے اسے ایک بار پھر سر پر موت نظر آتی ہے دروازہ کھلنے پر مشہود کے سامنے ادھیڑ عمر کی عورت کھڑی ہوتی ہے۔ سعدیہ مانو آپا کو پیاری کو گھر لانے کا کہتی اپنے کیے پر شرمندگی کا اظہار بھی کردیتی ہے مانو آپا اس کا بدلہ رویہ دیکھ کر حیرت کے ساتھ خوش ہوجاتی ہے اور سعدیہ کے ساتھ پیاری کو گھر لانے کی تیاری کرتی ہے سعدیہ کمال چالاکی سے اپنی چال چل گئی تھی۔ دانیال کمال فاروقی کو فون پر گھر کی صورتحال تبدیل ہوجانے کی خبر دیتا انہیں واپس آنے کا کہتا ہے سعدیہ کا بدلا رویہ سن کر کمال فاروقی حیران رہ جاتے ہیں۔ سعدیہ مانو آپا کے ساتھ پیاری کے گھر آجاتی ہے پیاری کے ساتھ لگائو کا اظہار کرتی وہ اسے حیران کرجاتی ہے جبکہ مشہود مانو پھوپو کو دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ 

(اب آگے پڑھیے)

’’ارے بیٹا‘ میں کوئی سالوں بعد تو نہیں ملی‘ جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے تو تمہاری میری ملاقات ہوئی تھی اتنی جلدی بھول گئے‘ پہچانا نہیں؟‘‘ مانو آپا مشہود کو سپاٹ تاثرات کے ساتھ دیکھتا پاکر قدرے حیرت سے گویا ہوئیں‘ مشہود کے چہرے کے تاثرات ہنوز تھے۔ اس نے ایک نگاہ غلط سعدیہ پر ڈالتے ہوئے مانو آپا کی طرف دیکھا اور جیسے دل پر پتھر رکھتے ہوئے سلام کیا۔

’’السلام علیکم!‘‘ اس کی آواز آہستہ اور لہجہ سرد تھا۔

’’جیتے رہو‘ خیر سے اچھے ہو اب طبیعت کیسی ہے بیٹا؟‘‘ مانو آپا نے اٹھ کر آگے بڑھ کر مشہود کے سر پردستِ شفقت پھیرا۔

مشہود نے ایک بے مروت و اجنبی نگاہ پیاری پر ڈالی جو لرزتے دل کو سنبھالنے کی کوشش میں پسینے پسینے ہورہی تھی۔

’’زندہ ہوں… آپ دیکھ ہی رہی ہیں۔‘‘ مشہود نے جیسے بارود میں تیلی دکھا کر دھماکہ کردیا تھا۔

مانو آپا کا حیرت سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا‘ سعدیہ بھی مخمصے میں پڑگئی تھیں‘ مشود کا انداز ملاقات سمجھ سے بالاتر تھا۔ انہوں نے سوالیہ اور غیر ارادی نگاہ پیاری پر مرکوز کردی جو زمین میں گڑی جارہی تھی۔ مشہود اپنی واکر دھکیلتا کمرے کی طرف چل دیا تھا۔ مانو آپا کی تو گویائی ہی سلب ہوکر رہ گئی تھی۔ سعدیہ نے بہت زیادہ توہین محسوس کی تھی‘ بہن کے سسرال سے لوگ آئے تھے۔ یہ مہمان تو غریب امیر سب کے ہاں مہمان خاص ہوتے ہیں۔ میزبان آگے بچھے بچھے جاتے ہیں مگر یہاں تو صورتِ حال ہی حیرت انگیز و نرالی تھی۔ مشہود کے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے بند ہوا تو رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی‘ مارے شرمندگی کے پیاری کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں۔ سعدیہ کو ابھی تک کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا‘ بس مانو آپا پر شدید غصہ آنا شروع ہوگیا تھا۔

’’ذلیل کرانے کا کوئی موقع کیوں ہاتھ سے جانے دیں‘ یہ سسرال ڈھونڈا تھا میرے بیٹے کے لیے۔ گھر آئے سے بات کرنے کی تمیز نہیں۔‘‘ اب وہ بری طرح کھول رہی تھیں مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا‘ اب پیچھا چھڑانے کے لیے اپنا کردار تو نبھانا ہی تھا۔

’’وہ بھائی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ پیاری کی شرمندہ اور روہانسی آواز ابھری۔

’’ہاں… ہاں بچے نے بہت تکلیف اٹھائی ہے اور یہ تو جس پر بیتی ہے وہ جانے یا پھر اس کا اللہ… ٹھیک ہے بیٹا‘ اسے آرام کرنے دو بڑی تکلیفیں اٹھا کر آیا ہے۔‘‘ مانو آپا نے جلدی سے جیسے سعدیہ کی خاطر یہ کلمات ادا کیے تھے کہ اگر وہ کچھ زیادہ ہی محسوس کررہی ہو تو مشہود کے خلاف سوچنے کی بجائے اس کے بارے میں ہمدردی سے سوچیں۔

پیاری کی حالت غیر ہوئی جاتی تھی‘ ایک تو مشہود کا رویہ اور دوسرے سعدیہ کی آمد اس کا ذہن تو بالکل مائوف ہورہا تھا۔ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا کہ اس وقت وہ کیا کرے بس ٹکر ٹکر کھڑی سعدیہ اور مانو آپا کی شکل دیکھنے لگی۔

’’ارے بیٹا یہاں پاس آکر بیٹھو اتنی دور کیوں کھڑی ہو‘ پہلی دفعہ تمہاری ساس تم سے ملنے آئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ڈھیروں خوشیاں نصیب کرے‘ میں تمہیں کہہ رہی تھی نا یہ سب کچھ وقتی ہے‘ ارے ناخن سے ماس جدا ہوتا ہے کیا‘ ماں ہے۔‘‘ مانو آپا نے اب پیار دلار شروع کردیئے لیکن پیاری کو ایک سیکنڈ کے لیے نہیں بھول رہا تھا کہ اس وقت بند کمرے میں مشہود موجود ہے اسے دھڑکے سے لگ رہے تھے کہ جانے کس وقت وہ دروازہ کھول کر باہر آجائے اور بری طرح برسنے لگے اور جانے کیا کیا کہہ دے‘ پھر کیا ہوگا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو سعدیہ کی آمد اس کے لیے ایسی ہی ہوتی جیسے جلتی بھڑکتی دھوپ میں اچانک بادلوں کے سائبان چھاگئے ہوں لیکن اس وقت تو اسے یوں لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت اس کی جی بھر کے بے عزتی کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ محسوس کررہی تھی کہ بند کمرے میں مشہود چین سے نہیں بیٹھا ہوا ہے اس کے اندر جوار بھاٹے اٹھ رہے ہوں گے‘ جانے کون سی گھڑی میں وہ پھٹ پڑنے کے لیے باہر نکل آئے۔ خوف اور وسوسوں نے اسے گنگ سا کردیا تھا۔

’’بیٹا ادھر آئو نا‘ بیٹھو نا شاباش کیوں کھڑی ہوئی ہو‘ مجھے تو لگتا ہے تم پریشان ہورہی ہو‘ کیوں پریشان ہورہی ہو۔ بیٹا ہم تمہارے اپنے گھر والے ہیں۔‘‘ مانو آپا نے تسلی دینے والے انداز میں اسے پیار سے چمکارا۔ سعدیہ نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی اور انہیں خود ہی خیال آگیا کہ وہ جب سے آئیں ہیں بالکل خاموش ہیں۔

انہیں بھی تو کچھ کہنا چاہیے‘ پیاری کی خاطر نہ سہی مانو آپا کی خاطر ظاہر سی بات ہے‘ جو کچھ بھی ہوگا مانو آپا وہ اپنے لاڈلے دلارے بھائی کے گوش گزار تو ضرور کریں گی۔ اس لیے اچھا سا پرفورم کرنا چاہیے تاکہ کمال فاروقی ان کے خلوص اور نیک نیتی پر آنکھیں بند کرکے ایمان لے آئیں کیونکہ وہ کچھ بھی کریں گی شاید اس میں اتنا اثر نہ ہوگا لیکن بہن کے منہ سے جو سن لیں گے‘ دل و جان سے یقین کریں گے۔

’’ہاں بیٹا… یہاں آئو ہمارے پاس بیٹھو دیکھو جو کچھ ہوا‘ اسے بھول جائو سمجھو کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ بعض دفعہ انسان غصے میں الٹی سیدھی حرکتیں کر بیٹھتا ہے اور بعد میں پچھتاتا ہے۔ اولاد ہے میری خود سے کیسے جدا کرسکتی ہوں اگر تمہیں نہیں اپنائو گی تو اپنا بیٹا گنوادو گی‘ بہت بڑا نقصان ہے‘ تم میرے بیٹے کی پسند ہو اس کی خوشی ہو تو مجھے اس کی خوشی میں خوش ہونا ہے۔ ماں ہونے کے ناطے یہ میرا فرض بھی ہے۔‘‘ سعدیہ نے پیاری کے بیٹھنے سے پہلے پہلے اتنا کچھ کہہ دیا کہ پیاری قدموں کو سنبھالتی ان کے پاس آبیٹھی۔ درحقیقت اسے سعدیہ کے الفاظ سے بڑا سکون اور تقویت پہنچی تھی‘ کم از کم وہ جو اتنی دیر سے لرزہ براندام کھڑی تھی اب قدرے اعتماد محسوس کررہی تھی وہ دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئی تھی۔ سعدیہ نے اس کو شانوں سے تھام کر اپنے ساتھ لگایا اور اس کی پیشانی چوم لی۔ بانو آپا نے بے اختیاری کیفیت میں دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔

’’ارے ماں ماں ہوتی ہے کوئی کتنا لاڈ دلار کرے‘ اپنی جان نچھاور کرے‘ ماں جیسی تو پھر بھی نہیں ہوسکتی۔ ماں تو بس ایک ہی ہوتی ہے اور ماں باپ کی جگہ تو کوئی لے بھی نہیں سکتا‘ اگر ماں باپ کا نعم البدل مل جاتا تو لوگ اپنے مرے ہوئے ماں باپ کو کبھی یاد نہ کرتے۔ یا اللہ جن کے ماں باپ زندہ ہیں ان کی اولاد پر ان کا سایہ سلامت رکھ‘ ان کو اپنے بچوں کی ہزاروں لاکھوں خوشیاں نصیب کرے‘ آمین ثم آمین۔‘‘ مانو آپا کی عادت تھی کہ کوئی بھی بات شروع کرتی تھیں‘ اس کا اختتام دعا پر ہوتا تھا‘ پکی عادت ہوگئی تھی یا شاید ناہنجار نا فرمان بیٹے کی آزمائش میں گزرتے ہوئے اتنا اللہ کے حضور گڑگڑائیں تھیں کہ بس جیسے سر سے پائوں تک دعا ہی بن کر رہ گئی تھیں۔

’’آپ کے لیے چائے لائوں یا کولڈ ڈرنک…؟‘‘ پیاری نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا‘ معاً خیال آگیا تھا کہ اتنی دیر ہوگئی اور اس نے مہمانوں سے ابھی تک چائے یا ٹھنڈے کا پوچھا تک نہیں‘ وہ مہمان داری ضرور کررہی تھی مگر مشہود کی طرف سے چند وسوسے تنگ کررہے تھے۔ بار بار دل دھڑک اٹھتا تھا کہ جانے کب وہ دروازہ کھول کر باہر آجائے۔ اس بات کی تو فکر نہیں تھی کہ مہمانوں کے سامنے اس کی بے عزتی کرے گا‘ فکر تو یہ تھی کہ کہیں وہ ایسی بات نہ کردے کہ مانو آپا اور سعدیہ اپنی ہتک محسوس کریں۔ وہ دانیال کی ماں اور پھوپی ہیں اگر اس نے کچھ کہہ دیا تو کچھ کم نہیں کہے گا۔ پھٹ پڑے گا اور بُری طرح پھٹ پڑے گا کیونکہ وہ محسوس کررہی تھی کہ اتنے عذاب سہنے کے بعد اب اس کو کچھ نفسیاتی مسئلے آگئے ہیں۔ شاید شدید اعصابی کھنچائو کا نتیجہ ہوتا ہے کہ انسان کی نفسیات میں غیر محسوس طریقے سے تبدیلیاں جگہ بنالیتی ہیں۔

’’بس بیٹا تم میرے پاس بیٹھو ہمیں اچھا لگ رہا ہے۔ سعدیہ کا ارادہ یہ ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ لے کر جائے لیکن میں نے انہیں سمجھایا ہے کہ مشہود کی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہے اگر ہم پیاری کو لے گئے تو مشہود اکیلا ہوجائے گا اور ایسے وقت میں تو اسے لازمی ایک دیکھ بھال کرنے والے کی ضرورت ہے اور جو دیکھ بھال تم کرسکتی ہو وہ تنخواہ دار نرس بھی نہیں کرسکتی پھر بچہ اتنی تکلیفیں سہہ کر آیا ہے‘ تمہارے ساتھ سے اس کو ڈھارس بھی رہے گی۔‘‘ مانو آپا نے بیٹھے بیٹھے ایک مسئلہ تو اس کا حل کردیا تھا کہ وہ اسے لینے نہیں آئیں کیونکہ سعدیہ کو دیکھ کر اسے پہلا خیال جو آیا تھا وہ یہی تھا کہ یہ جو اتنی محبت بھری آمد ہے وہ کسی انقلاب کا پیش خیمہ تو نہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اسے ساتھ لے جانے کے لیے آئی ہو۔

’’بہت شکریہ پھوپو… بھائی کی طبیعت واقعی ٹھیک نہیں ہے ان کو تو کسی بھی صورت میں اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا۔‘‘ پیاری نے اس طرح سے بات کی تاکہ جو گھر کا بھید ہے وہ ان دونوں پر ظاہر نہ ہوسکے۔ وہ لاشعوری طور پر محسوس کرانے کی کوشش کررہی تھی کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور صرف اور صرف اگر مشکل ہے تو یہی کہ مشہود تکلیف میں ہے۔

’’ہاں بیٹا… اللہ تمہیں اجر دے‘ ارے یہ تو وہ نیکی ہے جس کا احسان انسان تو اتار ہی نہیں سکتے بس نیکی کرنے والوں کا اجر تو اﷲ ہی کے ذمے۔‘‘ مانو آپا کو پیاری کے ہمدردانہ جذبات اور خیالات جان کر اتنی خوشی ہوئی کہ بے اختیار اس کا سر اپنے سینے سے لگالیا اور اس کے سر پر بوسہ دیا۔

’’پیاری اس وقت مشہود کے ساتھ بیسک پرابلم کیا چل رہی ہے۔‘‘ اب سعدیہ نے بھی ایک سوال کیا کیونکہ انہیں خود ہی احساس ہوگیا تھا کہ مسلسل مانو آپا ہی بات کیے جارہی ہیں اور وہ خاموش بیٹھی ہیں۔

’’جی وہ بھائی کے…‘‘ ابھی اس کے منہ سے اتنا ہی نکلا تھا کہ مشہود کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ واکر سمیت باہر چلا آیا۔ دروازہ کھلنے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ وہ تینوں ہی چونک کر مشہود کے کمرے کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔ مشہود کی آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں چمکتی دور سے ہی نظر آرہی تھیں۔ پیاری تو اس کا موڈ فوراً ہی بھانپ گئی اور جیسے ساری جان سے کانپنے لگی‘ اسے اپنی لرزتی ہوئی ٹانگوں کی لرزش بہت شدت سے محسوس ہورہی تھی یوں لگ رہا تھا بہت جلد اس کے اعصاب ساتھ چھوڑ جائیں گے اور وہ بے ہوش ہوکر دائیں یا بائیں گر جائے گی۔

’’جی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں اس وقت بہت بہتر ہوں اگر آپ لوگ پیاری کو لے جانا چاہتے ہیں تو میری طرف سے اجازت ہے‘ یقین کریں میری طرف سے کوئی بھی پابندی نہیں لیکن آپ لوگوں سے ریکوئسٹ کروں گا کہ اللہ کے لیے اس کو لے جائیں۔ جب اس کا اپنا گھر ہے تو یہ کیوں بھائی کے گھر پڑی ہے۔‘‘ مشہود کے الفاظ ایسے تھے جس میں بہت کچھ الجھا کر رکھ دینے والا تھا‘ الفاظ سے لگ رہا تھا کہ وہ بہن کی ہمدردی میں اور ذمہ داری نبھانے کے ضمن میں بات کررہا ہے۔

’’ارے نہیں بیٹا… ایسے بے حس اور بے ضمیر لوگ نہیں ہم‘ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس وقت تمہیں کسی خدمت کرنے والے کی ضرورت ہے۔‘‘ مانو آپا فوراً بول پڑی تھیں‘ ابھی وہ مشہود کی اس انتہا پسندی کو محسوس کرنے سے قاصر تھیں جو پیاری محسوس کرچکی تھی۔ سعدیہ البتہ بڑے شش و پنج کی کیفیت میں مشہود کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ انہیں محسوس ہورہا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے لیکن کچھ واضح بھی نہیں ہورہا تھا۔ اب اندر ہی اندر سلگ رہی تھیں۔

’’مجھے کسی خدمت کرنے والے کی ضرورت نہیں‘ آپ دیکھ رہی ہیں میں چل پھر رہا ہوں۔ جب میں چلتا ہوا اپنے کمرے سے یہاں تک آسکتا ہوں تو میں چلتا ہوا گھر کے کسی بھی حصے میں جاسکتا ہوں۔ اللہ نے معذور ہونے سے بچالیا‘ ظاہر ہے جانتا ہے میں ماں باپ سے محروم ہوں اس نے زندگی بخشی ہے تو اس میں اس کی کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہے۔ جب میں ماں باپ کے بغیر رہ سکتا ہوں تو پھر ہر رشتے کے بغیر رہ سکتا ہوں۔‘‘ اب مشہود کے لہجے میں تلخی بہت واضح ہوچکی تھی جس پر مانو آپا اور سعدیہ دونوں ہکابکا ہوکر اس کی شکل تک رہی تھیں اور پیاری کو محسوس ہورہا تھا کہ اس کا ذہن تاریکی میں ڈوبتا جارہا ہے۔

’’ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں… کچھ دنوں کی بات ہے کیا ہوگیا۔ دکھ تکلیف انسانوں کے ساتھ ہے اور اپنے ہی اپنوں کے کام آیا کرتے ہیں۔‘‘ اب سعدیہ نے بھی اپنی حیرت اور گھبراہٹ چھپاتے ہوئے اس طرح سے بات کی جیسے ان کی ساری ہمدردیاں مشہود کے ساتھ ہوں۔

’’برائے مہربانی مجھ پر احسان مت کیجیے‘ میں آپ سے ریکوئسٹ کررہا ہوں آپ اسے یہاں سے لے جائیں کیونکہ جب یہ میرے سامنے ہوتی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرے وہ زخم جو اچھے ہوگئے تھے ان سے نئے سرے سے خون رسنے لگا ہے۔ پلیز اسے آپ لے جائیں۔‘‘ مشہود نے یہ کہہ کر زور سے دونوں ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔ اب تو یہ حال تھا کہ مانو آپا اور سعدیہ محسوس کررہی تھیں کہ چھت ان کے سر پر آگری ہے۔ سعدیہ اب بڑی حیرت سے پیاری کی طرف دیکھ رہی تھیں‘ مانو آپا کا منہ بھی کھلا ہوا تھا اور آنکھیں بھی پھیلی ہوئی تھیں۔

’’ارے بیٹا کیا ہوگیا‘ کیا بہن سے کوئی غلطی ہوگئی ہے… اگر کوئی کمی کوتاہی خدمت میں رہ گئی ہے تو میرے بچے تُو معاف کردے‘ چھوٹی ہے۔ کیوں اتنا غصہ کررہے ہو‘ تمہارے ماں باپ نہیں ہیں تو یہ بچی بے چاری بھی ماں باپ سے محروم ہے۔‘‘

’’لیکن یہ تنہا نہیں ہے اس نے زندگی کا ساتھی ڈھونڈلیا ہے اب شاید مرے ہوئے ماں باپ تو چھوڑیئے اسے تو اپنا زندہ بھائی بھی یاد نہیں آئے گا۔ برائے مہربانی اس کو یہاں سے لے جایئے‘ اللہ کے واسطے جایئے۔‘‘

’’بیٹا… بیٹا کیا ہوگیا ہے؟ کوئی بات ہوئی ہے تو ہمیں بتائو۔ ہمیں اپنا ہی سمجھو اور ہم ہیں ہی تمہارے‘ جب تمہاری بہن ہمارے گھر میں آگئی ہے تو بس رشتہ داری تو ہوگئی ہے نا۔ میرا بیٹا تم بہت تکلیف میں ہو‘ اتنا غصہ مت کرو‘ بتائو تو سہی کیا ہوا ہے۔ دانیال سے کوئی شکایت ہوئی ہے یا پیاری سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔‘‘ مانو آپا اب کھڑی ہوگئیں اور مشہود کی طرف بڑھنے لگیں۔ مشہود نے دونوں ہاتھ اٹھا کر گویا انہیں اپنے قریب آنے سے روکتے ہوئے کہا۔

’’پلیز… پلیز… مجھ سے زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں‘ میرا آپ لوگوں سے کوئی تعلق‘ کوئی رشتہ نہیں۔ جو بھی تعلق اور رشتہ ہے وہ پیاری کے ساتھ ہے۔‘‘

’’ارے بیٹا… پیاری کے رشتہ دار تمہارے رشتہ دار ہوئے‘ سگی بہن ہے تمہاری۔‘‘ مانو آپا کی حیرت تھی جو بڑھتی جارہی تھی البتہ سعدیہ بہت جانچتی ناپتی تولتی نظروں سے مشہود کو سر سے پائوں تک دیکھ رہی تھیں۔ دونوں مشہود میں اتنا مصروف ہوئیں کہ خیال ہی نہ ہوا کہ پیاری بے ہوش ہوکر ایک طرف لڑھک گئی ہے۔

’’سنبھالیے اس کو اور اسے سمجھایئے کہ مجھ پر اب اس اداکاری کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ زیادہ ایکٹنگ کی ضرورت نہیں ہے اور آپ یہ سمجھ رہی ہیں وہ دل سے میری خدمت کررہی ہے‘ آخر اس نے دنیا کو بھی دکھانا ہے۔ مجبوری ہے اس کی‘ پلیز اس کو اپنے ساتھ لے جایئے میں اب اس کو اس گھر میں برداشت نہیں کرسکتا۔ آپ کو نہیں پتا میں کس طرح برداشت کررہا تھا‘ مجھے لگ رہا تھا جیسے میرے اعصاب ساتھ چھوڑ جائیں گے یا میرے دماغ کی شریان پھٹ جائے گی آپ لوگوں کی بڑی مہربانی کہ آپ آگئیں۔ پلیز… پلیز اس کو ساتھ لے جایئے‘ اب میں اس کو یہاں نہیں دیکھنا چاہتا۔‘‘ مشہود نے اتنا کہا اور اپنے واکر کو گھما کر اپنا رخ کمرے کی طرف کرلیا۔ مانو آپا کا تو یہ حال تھا کہ جیسے بے ہوش ہوکر گر پڑیں گی۔ سعدیہ البتہ اپنے اعصاب قابو میں رکھے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔ مشہود کے کمرے میں جاتے ہی مانو آپا کی نظر پیاری پر پڑی کیونکہ مشہود کے رویہ کے تاثرات وہ پیاری کے چہرے پر دیکھنا چاہ رہی تھیں اور یہ بھی سوچ رہی تھیں جو کچھ بھی ہے اب پیاری ہی بتائے گی کہ آخر ہوا کیا ہے لیکن پیاری کو ایک طرف ڈھلکا ہوا دیکھ کر بڑی خوف زدہ سی چیخ ان کے حلق سے نکلی تھی۔

’’ارے بچی کو کیا ہوا؟‘‘ سعدیہ جو ہر طرف سے بے خبر بڑی گہری سوچ میں تھیں اور مشہود کے لفظوں کو ناپ تول کر سمجھنے کی کوشش کررہی تھیں۔ مانو آپا کی چیخ سن کر ان کی توجہ بھی پیاری کی طرف گئی تھی پھر سب کچھ ذہن سے بھک سے اڑ گیا۔

’’ارے سعدیہ جلدی سے دانیال کو فون ملائو‘ ہائے… ہائے کیا ہوگیا بچی کو۔‘‘ وہ اس کی دل کی دھڑکن بھی چیک کررہی تھیں اور نبض بھی… سعدیہ البتہ اس وقت بہت مضبوط اعصاب کی حامل ثابت ہورہی تھیں۔ مانو آپا نے پیاری کا سر اپنی گود میں رکھا اور اس کے گال تھپتھپانے لگیں۔

’’ارے شاید گھر میں کوئی نوکر بھی نہیں ہے‘ دیکھنا کچن سے ایک گلاس پانی لے آئو اس کے منہ پر چھینٹے مار کر دیکھتے ہیں بے ہوش ہوگئی ہے بچی… اللہ کرے اسے ہوش آجائے… ارے میرے تو ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہورہے ہیں۔ سعدیہ جلدی سے پہلے پانی لائو اور پھر دانیال کو فون کرو۔‘‘

ء…/…ء

انسان زندگی میں ان گنت انسانوں سے ملتا ہے اور تعلقات بناتا ہے‘ رشتے اللہ بناتا ہے‘ ناتے انسان بناتے ہیں۔ ناتے بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں‘ رشتے اٹوٹ ہوتے ہیں۔ رشتوں میں دشمنیاں اور نفرتوں کے عذاب بھی اترتے رہتے ہیں مگر یہ رشتے ہر طرح کے عذاب سے گزر کر بھی قائم رہتے ہیں۔ دنیا کا سب سے اہم اور قابل ذکر ناتہ میاں بیوی کے درمیان قائم ہوتا ہے حالانکہ معمولات میں شوہر اور بیوی کے لیے لفظ رشتہ ازدواج استعمال ہوتا ہے مگر یہ رشتہ نہیں ہے دنیاوی ناتہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شریعت میں واضح کردیا گیا ہے کہ بیوی کی وفات کے بعد شوہر میت کے لیے نامحرم ہوجاتا ہے۔ موت کے ساتھ ہی ناتہ منقطع ہوجاتا ہے مگر قدرت کی طرف سے جو رشتے پیدائش کے دن سے قائم ہوتے ہیں ان کے بندھن کوئی بڑے سے بڑا حادثہ بھی نہیں توڑ سکتا۔

یہی وجہ تھی کہ ہزار بدگمانیوں کی دوزخ روشن تھی‘ جس کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے‘ جس کی کھائیاں‘ گھاٹیاں ناقابل پیمائش تھیں مگر رہ رہ کر دل کو کچھ ہوتا تھا۔

تنہائی گہری ہو تو انسان دل کی کیفیات سے بہت کچھ اخذ کرسکتا ہے‘ شرط یہ ہے کہ ذہن پر جذبات کا غلبہ نہ ہو۔ مشہود کے اعصاب شل ہورہے تھے۔ 

ء…/…ء

دانیال کا رخ گھر کی طرف تھا اور ذہن اِدھر اُدھر قلابازیاں کھا رہا تھا‘ کبھی ماں کے بارے میں سوچتا تو کبھی مشہود کے بارے میں اور ان دونوں کے بیچ پیاری بند آنکھوں کے ساتھ اپنی طرف دیکھتی ہوئی نظر آتی تھی۔

’’شاید پاپا آج رات واپس آجائیں‘ پاپا آجائیں گے تو ان کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا شاید پاپا مشہود کو سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں اور جو غلط فہمی اسے دن رات تنگ کررہی ہے وہ دور ہوجائے بعض اوقات غلط فہمی کتنی جان لیوا ہوتی ہے۔‘‘ وہ سوچ رہا تھا کہ سیل پر رنگ ہوئی‘ اس نے بڑی بے دلی سے سیل اٹھا کر کالر کا نام دیکھا اس کی حیرت انتہا نہ رہی۔ سعدیہ کی کال آرہی تھی‘ اتنی ساری باتیں کرنے کے بعد ابھی بھی کچھ بچ گیا تھا۔ وہ کال لے یا نہ لے وہ گھر ہی تو جارہا ہے۔ ’’میرا خیال ہے کہ کال لے لینا چاہیے۔ ممی بار بار رنگ کرتی رہیں گی بتادیتا ہوں کہ گھر ہی آرہا ہوں۔‘‘ دانیال نے سوچتے ہوئے کال ریسیو کی۔

’’جی ممی… بس یوں سمجھیں کہ پانچ منٹ میں گھر پہنچتا ہوں‘ ڈونٹ وری۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے سعدیہ کی طرف سے کوئی جواب سنے بغیر اپنی طرف سے سلسلہ منقطع کردیا اور ابھی سیل فون ڈیش بورڈ پر رکھا ہی تھا کہ رنگ دوبارہ ہونے لگی‘ اب اسے چونکنا پڑا۔

’’اوہو اسے ممی کی بات سن تو لینا چاہیے تھی کیا پتا وہ کسی وجہ سے فون کررہی ہوں۔‘‘ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا‘ سیل فون اٹھا کر کال ریسیو کی۔

’’جی ممی بولیے میں نے اس لیے کال کاٹ دی تھی کہ بس‘ گھر ہی پہنچ رہا ہوں تو جو بھی بات ہے وہ گھر پہنچ کر سن لیتا ہوں کوئی خاص بات؟‘‘ دانیال نے سوال کیا۔

’’ارے بھئی جب کسی کی کال آتی ہے تو اس کی بات بھی سن لیتے ہیں‘ آپ ہی تیل کی آپ ہی گھی کی بس اپنی بات کی اور فون بند کردیا کوئی سیریس مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ تم تو یوں سمجھو ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہو۔‘‘ سعدیہ کی خفا خفا سی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی وہ کچھ کھٹکا۔

’’جی ممی خیریت ہے نا؟‘‘ اس نے سوال کیا‘ لیکن ذہن اس کا کمال فاروقی کی طرف لگ گیا تھا شاید پاپا آگئے ہیں لیکن اتنی جلدی کیسے آسکتے ہیں وہ خود ہی الجھا اس سے پیشتر کے وہ کچھ اور سوچتا۔ سعدیہ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’بیٹا… پیاری بے ہوش ہوگئی ہے اور لگ رہا ہے کہ بہت بُری حالت ہے‘ تم آسکتے ہو تو فوراً پہنچو کیونکہ میں اور مانو آپا تو اس کو اٹھا کر گاڑی تک نہیں لاسکتے اور مجھے یہ اچھا نہیں لگے گا کہ ڈرائیور اٹھا کر اسے گاڑی میں لائے۔‘‘

’’ہیں… آپ لوگ کہاں ہیں؟‘‘ اسے اتنی زور کا شاک لگا کہ گاڑی روڈ پر لہرائی تھی۔

’’ارے بھئی پیاری کی بات کررہی ہوں تو اس کا مطلب ہے پیاری کے پاس ہوں۔ پیاری کہاں ہوسکتی ہے تمہیں پتا نہیں ہے؟‘‘

’’آ… آپ… آپ پیاری کے پاس ہیں۔ او مائی گاڈ…!‘‘ دانیال بری طرح چکرا کر رہ گیا تھا‘ آنکھوں کے سامنے تیزی سے ایک فلم چلنے لگی کہ مشہود زہر اگل رہا ہے‘ وہ دونوں حیران پریشان بیٹھی ہیں اور پیاری بے ہوش ہوکر گر گئی ہوگی۔

’’ممی… آپ مجھے بتائے بغیر کیوں آئیں‘ میں نے آپ سے کہا تھا نا میں آپ کو لے چلوں گا۔‘‘

’’ہاں‘ تم تو گھر سے غائب ہوگئے میں نے سوچا تمہیں میری بات کا اعتبار نہیں۔ تم مجھے پیاری سے ملانا نہیں چاہ رہے اس کے گھر نہیں لے جانا چاہ رہے۔ میں مانو آپا کو لے کر آگئی تھی یہاں پہنچ کر مجھے اندازہ ہوگیا کہ تم مجھے یہاں لے کر کیوں نہیں آئے۔ ارے بھئی پیاری کے بھائی نے تو اس وقت وہ کیا ہے کہ بس یوں سمجھو کے کوئی دشمن بھی نہ کرے۔ اتنی بے عزتی تو سچ مچ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا اس لڑکے نے ایک بات جو ہم سے تمیز سے کی ہو۔ میں لمبی بات نہیں کروں گی‘ تم آکر خود دیکھ لو اور بھئی اس لڑکی کا علاج کرانے کے لیے جلدی سے کسی ہسپتال میں پہنچائو‘ بالکل ٹھنڈی پڑی ہے بس جلدی سے پہنچ جائو‘ تمہارا انتظار ہورہا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر سعدیہ نے اپنی طرف سے سلسلہ منقطع کردیا تھا اور دانیال کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ گاڑی کو کسی طرح سے طیارہ بنادے اور روڈ کی بجائے آسمان پر اڑائے۔

مانو آپا اور سعدیہ نے کسی طرح کھینچ کھانچ کر پیاری کو صوفے پر ٹھیک سے لٹادیا مگر پھر بھی دونوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑے ہوئے تھے۔ چھینٹے مار کر بھی دیکھ لیے تھے‘ جو جتن کرسکتی تھیں کرچکی تھیں لیکن پیاری کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا‘ اب بیٹھی ایک دوسرے کے منہ کو تک رہی تھیں۔

’’یااللہ کون سی گھڑی دانیال پہنچے گا‘ اللہ ہم پر رحم کر‘ یااللہ اس بچی پر رحم کر۔‘‘ مانو آپا اب آنچل پھیلا کر دعا مانگ رہی تھیں اور سعدیہ صحیح معنوں میں پہلی دفعہ بڑی تشویش وسنجیدگی سے گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ اتنی سنجیدہ پریشان اور الجھن کا شکار تو وہ شاید ہی کبھی ہوئی تھیں۔ مشہود کے رویے نے تو ایک طرح سے مفلوج کرکے رکھ دیا تھا‘ ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ وہ جو کچھ سوچ کر اپنے گھر سے چلی تھیں یہاں پر ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ہر بات ان کی سوچ سے بالکل الٹ تھی اس لیے ذہن نے کام کرنا بند کردیا تھا۔ معاً مانو آپا کو جانے کیا ہوا بڑی جذباتی سی کیفیت میں اپنی جگہ سے اٹھیں‘ سعدیہ نے ان کی طرف دیکھا۔ وہ سعدیہ کو نظر انداز کرکے مشہود کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں اور بند دروازے پر زور زور سے دستک دی‘ ساتھ میں آواز بھی دینے لگیں۔

’’بیٹا مشہود… ایک منٹ کے لیے میری بات تو سنو۔‘‘ مشہود جو اپنے کمرے میں بیڈ کے کنارے بیٹھا ہوا انگاروں کی طرح آنچ دیتی ہوئی سوچ سے نبرد آزما تھا۔ مانو آپا کی آواز سے چونک پڑا تھا‘ ایک ناگواری کی لہر جو اس کے تلوں سے شروع ہوئی اور سر پر جاکر بم کی طرح پھٹ گئی۔ مانو آپا کی آواز سن کر اسے کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا یہی خیال آیا کہ یہ خاتون اس کا دماغ کھانے اس کے پاس آئی ہیں اور یقینا اس کو سمجھانے اور نصیحتیں کریں گی‘ اس کا جی چاہا ایسے ہی بہرہ بنا بیٹھا رہے‘ دروازہ کھولے ہی نہیں۔

مانو آپا نے دوبارہ سابقہ انداز میں دستک دی تھی وہ طوہاً کرہاً اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ مانو آپا نے آنسوئوں بھری آنکھوں سے اسے دیکھا۔

’’ارے بیٹا ہم تو جمعہ جمعہ آٹھ دن کی شناسائی رکھتے ہیں‘ تمہارا تو خون کا رشتہ ہے ذرا دیکھو تو سہی بہنا کو کیا ہوگیا ہے۔ کیسی ٹھنڈی پڑی ہوئی ہے‘ ہوش میں نہیں ہے تم ہی بتائو اب ہم دونوں عورتیں کس طرح سے کھینچ تان کر اس کو ہسپتال لے کر جائیں‘ ڈاکٹر کو دکھائیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہی۔‘‘ مشہود کی نظر لائونج میں صوفے پر مٹی کے ڈھیر کی طرح پڑی ہوئی پیاری پر پڑی تو ایک لمحے کے لیے دل کو کچھ ہوا۔ اس لے ہوا کہ یہ خون کے رشتے‘ سورج کے نکلنے جیسی حقیقت رکھتے ہیں یا بیج میں سے پھوٹنے والی کونپل کی طرح بے ساختہ اظہار کرتے ہیں مگر فوراً ہی وہ اس کیفیت سے باہر آگیا تھا کیونکہ بدگمانی کا زہر پورے اعصابی نظام میں اترا ہوا تھا فوراً ہی اسے دانیال کا خیال آیا وہ دانیال جس سے اپنے طور پر وہ دوستی کا رشتہ منقطع کرچکا تھا لیکن اب وہ پیاری کا سب کچھ تھا۔

’’آپ ایسا کریں فون کرکے دانیال کو بتادیں وہ کسی ڈاکٹر کو بھیج دے گا یا ڈاکٹر کو ساتھ لے کر آجائے گا۔‘‘ اسے بے بسی کے زہر سے آلودہ اپنی ہی آواز بہت اجنبی سی لگی تھی۔ مانو آپا کو نئے سرے سے ایک صدمے کی کیفیت نے پتھرا کر رکھ دیا۔

’’ارے بیٹا ایک نظر دیکھ تو لو‘ آواز دے کر دیکھو کیا پتا تمہاری آواز سن کر فرق پڑے۔‘‘ وہ جذباتی کیفیت میں بے ربط ہوگئیں۔

’’آپ کہہ رہی ہیں یہ بے ہوش ہے اور بے ہوش انسان کو کسی کی آواز نہیں آتی۔ بے ہوشی کا مطلب ہے کہ انسان کے سینسز نے کام کرنا بند کردیا ہے‘ آپ دانیال کو فون کردیں۔‘‘

’’بیٹے… دانیال کو فون کردیا ہے اب تمہیں یہاں کی ٹریفک کا تو پتا ہی ہے‘ جانے راستے میں کیا ہوجائے اور کتنی دیر لگ جائے۔‘‘ مانو آپا نے فوراً ہی مشہودکی بات کے جواب میں کہا تھا۔

’’تو آپ میری حالت دیکھ رہی ہیں میں گاڑی ڈرائیو کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں اگر صرف اپنا ہی خیال کرلوں تو یوں سمجھیں کہ اس وقت تو ساری دنیا پر احسان کررہا ہوں۔‘‘ دانیال کی آمد کا سن کر مشہود سرے سے بے حسی اور اجنبیت کا مظاہرہ کرنے لگا تھا۔ مانو آپا تو ہکابکا ہوکر اس کی شکل دیکھ رہی تھیں۔ سگا بھائی ہے کوئی دور کا رشتے دار تو نہیں‘ بہن کو اس حال میں دیکھ کر بھی اس کو کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔

’’ارے بیٹا ماں جائی ہے کیوں پتھر بن رہے ہو کیا گناہ کیا ہے اس نے؟‘‘

’’برائے مہربانی آپ دانیال کا انتظار کریں۔‘‘ یہ کہہ کر مشہود نے دروازہ صرف بند ہی نہیں کیا‘ اندر سے لاکڈ بھی کردیا۔ مانو آپا تو جیسے کھڑے کھڑے مرنے کو ہوگئیں‘ پلٹ کر پیاری کی طرف دیکھا تو سعدیہ پر بھی نگاہ پڑی لائونج اور مشہود کے کمرے کا فاصلہ اتنا نہیں تھا کہ سعدیہ کچھ سن نہ پاتیں۔ مشہود مانو آپا سے مخاطب تھا اور سعدیہ اپنی جگہ بیٹھی سن رہی تھیں۔

اس وقت وہ اپنی اصلیت سے بہت دور موجودہ کیفیت کی جذباتی اور طوفان لہروں کی زد میں تھیں ان کی اپنی سوچ سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا‘ وہ جو کچھ سوچ کر چلی تھیں اس سوچ کے مطابق تو یہاں کچھ بھی نہ تھا۔ اس لیے شاید ان کا ذہن کام نہیں کررہا تھا مانو آپا شدید دکھ کی کیفیت میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی پھر سے پیاری کے قریب آکر اسے تکنے لگیں۔ ایک ایک پل ایک ایک صدی لگ رہا تھا‘ سماعتیں گیٹ پر دانیال کی آمد کی منتظر تھیں کہ کون گھڑی ہو اور دانیال پہنچے وہ بھاگ کر گیٹ کھولیں اور دانیال بجلی کی سی سرعت کے ساتھ اندر آئے‘ پیاری کو اٹھائے اور پلک جھپکتے ہوئے کسی مسیحا کے در پر پہنچے۔

’’ارے ایسی پلی پلائی بچی کہاں سے لائوں گی۔‘‘ وہ ہاتھ ملتے ہوئے پیاری کی طرف دیکھ رہی تھیں اور خود کلامی کے انداز میں گویا تھیں۔

سعدیہ بھی اس وقت سب کچھ بھلا کر پیاری کے تلوے سہلانے میں لگی ہوئی تھی جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ ایسا کچھ وہ کریں گی۔ مانو آپا پیاری کے سرہانے بیٹھ گئیں اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانے لگیں‘ دل ہی دل میں شدت سے دعا کررہی تھیں۔

’’یااللہ دانیال کو راستہ صاف ملے‘ یااللہ دانیال کو ساتھ خیریت کے یہاں تک پہنچادے۔‘‘ جانے کتنی دیر دونوں پیاری کی طرف دیکھتی رہیں اور کبھی ایک دوسرے کی طرف۔ بہرحال مشکل کی گھڑی ختم ہوئی اور کال بیل کی آواز نے گھر میں قبرستان کی سی پھیلی ہوئی خاموشی کو توڑا۔ اس سے پہلے کہ سعدیہ اپنی جگہ سے اٹھتیں مانو آپا برق رفتاری سے گیٹ کی طرف بھاگی تھیں اس پورے یقین کے ساتھ کے آنے والا دانیال ہی ہے۔ گیٹ کھلا تو دیکھا واقعی سامنے دانیال تھا‘ اس نے بڑی بے تاب نظروں سے مانو آپا کے چہرے کی طرف دیکھا اور چہرے ہی سے کوئی خاص خبر لینے کی کوشش کی کہ شاید وہ کہہ دیں پیاری کو ہوش آگیا ہے اب اس کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔ مانو آپا نے کچھ کہنے کی بجائے اسے اندر آنے کا راستہ دیا اور وہ بھی کچھ بولے بنا اندر داخل ہوگیا۔

’’ارے بیٹا ذرا دیر نہ کرو‘ فوراً بچی کو اٹھاؤ اور اسپتال چلو‘ ہم نے سب کچھ کرکے دیکھ لیا یہ ہوش میں نہیں آرہی۔ لگتا ہے اس کے دماغ کو بہت گہرا صدمہ پہنچا ہے جو ہم نے اس کے بھیا کی حالت دیکھی اور جو کچھ سنا ہے سمجھو کہ بس اللہ سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ اللہ یہ دن کسی کو نہ دکھائے‘ خون سفید ہوگیا ہے کتنی تکلیفیں اٹھا کر آیا ہے لیکن بہن کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں ہے۔ میں نے دروازہ پیٹ ڈالا‘ اللہ کا واسطہ دیا مگر بھئی اس کو کوئی اثر نہیں‘ اللہ کے واسطے دانیال دیر نہ لگائو میرا دل گھبرا رہا ہے۔‘‘ دانیال تیز رفتاری سے آگے بڑھا تھا‘ مانو آپا اس کے پیچھے بولتے ہوئے تقریباً دوڑتی ہوئی آرہی تھیں۔

صورت حال ہی کچھ ایسی تھی کہ جو کچھ آنکھوں کے سامنے تھا وہ ہوش و ہواس گم کردینے کے لیے کافی تھا۔ دانیال نے اندر لائونج میں داخل ہوکر بے ہوش پڑی ہوئی پیاری کی طرف دیکھا اور لاشعوری طور پر مشہود کے کمرے کی طرف بھی ایک نگاہ ڈالی تھی۔ سعدیہ کو دیکھ کر اپنی جگہ سے فوراً کھڑی ہوگئی تھی اس وقت دانیال کے لیے سعدیہ کی وہاں موجودگی یا وہاں پہنچنے کے تاثرات کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے‘ آنکھوں کے سامنے تو پیاری تھی جو دنیا ومافیہا سے بے خبر صوفے پر لیٹی نظر آرہی تھی‘ اس نے جیب سے چابی نکال کر ماں کی طرف بڑھائی۔

’’ممی آپ گاڑی کا دروازہ کھولیں میں پیاری کو لے کر آرہا ہوں۔‘‘ سعدیہ نے فوراً دانیال کے ہاتھ سے چابی لی اور تیز رفتاری سے باہر کی طرف چل دیں۔ مانو آپا اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ بے قراری سے ملتے ہوئے دانیال کی طرف دیکھ رہی تھیں جس نے جھک کر پورا زور لگا کر پیاری کو اپنے بازوئوں میں اٹھایا اور اسے لے کر گیٹ کی طرف چلا تو مانو آپا نے مشہود کے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا اور اب دکھ اور صدمے کی کیفیت شدید غصے میں تبدیل ہوگئی تھی‘ ان کو اس بات کا اندازہ تھا کہ دانیال کو کار کی پچھلی سیٹ پر پیاری کو لٹانے میں دو چار منٹ تو لگ جائیں گے انہوں نے کچھ سوچا اور تیزی سے آگے بڑھ کر مشہود کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ مشہود جو کال بیل کی آواز سے سمجھ گیا تھا کہ دانیال پہنچ گیا ہے۔ دروازے پر پڑنے والی دستک پر چونکنے کی بجائے اسی طرح اپنی جگہ بیٹھا رہا اس کا گمان تھا کہ شاید دانیال اس سے بات کرنے آیا ہے اور اسے دانیال کے لیے دروازہ کھولنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

مانو آپا نے اب نہایت جذباتی اور شدید غصے کی حالت میں دونوں ہاتھوں سے دروازہ پیٹ ڈالا تھا‘ مشہود کے لیے دروازے پر پڑنے والی ضربیں انتہائی ناقابل برداشت ہوگئیں وہ شدید غصے کی کیفیت میں اپنی جگہ سے اٹھا اور بڑے زوردار طریقے سے دروازہ کھولا تھا لیکن جس شدید کیفیت میں اس نے دروازہ کھولا تھا اس سے زیادہ حیرانی کی کیفیت میں دو قدم پیچھے ہٹا بھی تھا کیونکہ مانو آپا اس کی طرف بڑے کڑے تیور کے ساتھ دیکھ رہی تھیں۔ اس نے مانو آپا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا لیکن اس کی کیفیت میں بے قراری تھی‘ وہ مانو آپا سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مانو آپا کی نظروں کا انداز دیکھ کر خودبخود سوال پیدا ہوگیا تھا۔

’’ارے بیٹا… شاباش ہے ایسی بے حسی کہیں دیکھی نہ سنی۔ ارے کیا بگاڑ دیا ہے تمہارا اس بچی نے تمہاری جدائی میں وہ موت کے دروازے سے پلٹ کر آئی تھی‘ کتنے دن ہسپتال میں داخل رہی‘ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس نے تمہارے لیے دعائیں مانگیں۔ جو کچھ ہم نے دیکھا وہ تم نے نہیں دیکھا‘ تمہاری جدائی میں بچی کی جان پر بن گئی‘ اتنا پیار کرنے والی بہن کے ساتھ اس طرح کوئی کرتا ہے۔‘‘ مانو آپا اس وقت بے بھائو کی سنانے صرف اس لیے اس کے سامنے آکھڑی ہوئی تھیں تاکہ اس کو کچھ احساس دلا کر ہی اس گھر سے جائیں۔

مانو آپا کی بات سنتے ہی جیسے مشہود کے ذہن کے تمام خلیے پھر سے چارج ہوگئے‘ اس نے شدید غصے کی حالت میں مانو آپا کی طرف دیکھا اور اپنی مٹھیاں بھینچ کر غصہ ضبط کرنے کی کوشش کی‘ وہ مانو آپا کو کسی سخت قسم کا جواب دینا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ مانو آپا نے طوفان اٹھا دیئے ہیں اور وہ کچھ کہنے کے لیے بے چین ہے لیکن خود کو روکا ہوا ہے۔

’’اور دیکھو کتنے دن سے بچی دن رات تمہاری خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ سگی بہن ہے اس لیے کررہی ہے اس لیے کہ مشکل وقت میں اپنے ہی ساتھ دیتے ہیں لیکن تم نے جو کچھ اس بچی کے ساتھ کیا… ارے ایسا تو کوئی دشمن بھی نہ کرتا۔‘‘

’’ہاں جو کچھ میری سگی بہن نے میرے ساتھ کیا وہ بھی کوئی دشمن نہیں کرتا۔‘‘ مشہود کی آواز بہت آہستہ ضرور تھی مگر اس میں طوفان کے تمام مدوجزر محسوس کیے جاسکتے تھے۔

’’ارے تمہیں کوئی بدگمانی ہوگئی ہے اور بدگمانی سے اللہ بچائے‘ اس سے بڑی آگ دنیا میں نہیں دہکائی گئی۔ سورج بھی ٹھنڈا ہے اس آگ کے سامنے اس لیے کہ بدگمانی کا کوئی علاج نہیں۔‘‘ مانو آپا نئے سرے پھٹ پڑی تھیں اور یہ سنتے ہی مشہود نے بھی اپنے حواس کھودیئے تھے۔

’’زندہ بچ کر آگیا ہوں‘ حیرت ہے کہ کیسے زندہ بچ کر آگیا۔ اس بہن کی خاطر میں نے اپنی زندگی دائو پر لگائی ورنہ جن لوگوں نے مجھے قید کیا ہوا تھا انہوں نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش نہیں کی تھی‘ دو وقت کھانے کو دیتے تھے اور پینے کو پانی بھی مل جاتا تھا۔ میں نے جس بہن کی خاطر اپنی زندگی دائو پر لگائی لمحوں میں کچھ ہوسکتا تھا میں زمین کے اوپر نظر آرہا تھا‘ میں زمین کا پیوند بن سکتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کا ڈھیر بن کر کسی قبر میں اتر سکتا تھا‘ اس بہن کی خاطر میں نے اپنی زندگی کو دائو پر لگایا جس وقت میں موت کا کھیل کھیل رہا تھا‘ یہ یہاں پر خوشیاں منارہی تھی۔‘‘ یہ کہہ کر مشہود نے مانو آپا کا جواب سننے کی زحمت نہیں کی اور دھاڑ سے دروازہ بند کردیا تھا۔ مانو آپا اس کی چیخ پکار پر بات کرنا بھول گئی تھیں اس لیے کہ ان کا دماغ بالکل سن ہورہا تھا۔ حواسات کی کیفیت کچھ ایسی تھی کہ نا کوئی الفاظ سوجھ رہے تھے نہ کوئی مرتب خیال ذہن میں اتر رہا تھا۔ وہ گم صم کیفیت میں پلٹیں تو دانیال کو سامنے کھڑا پایا‘ دانیال نے اندر آتے ہوئے مشہود کی چیخ وپکار سن لی تھی‘ وہ اتنا اونچا بولا تھا کہ دانیال نے اس کا ایک ایک لفظ سنا تھا۔ مانو آپا نے اس کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملیں۔

’’پھوپو آیئے دیر ہورہی ہے۔‘‘ اس نے نظریں چرا کر اتنا کہا اور پلٹ گیا۔ وہ بہت تیز چل رہا تھا اور مانو آپا کا ایک ایک قدم یوں اٹھ رہا تھا جیسے انہوں نے کائنات کا بوجھ اپنے سر پر اٹھایا ہوا ہے اور قدم اٹھانا محال ہو۔

/…ء…/

دانیال نے کوئی خطرہ مول لیے بغیر قریب ترین ہسپتال میں پیاری کو پہنچادیا تھا۔ اس نے اتنی تیز رفتاری سے گاڑی ڈرائیو کی تھی کہ سعدیہ اور مانو آپا اس کی کار کی تیز رفتاری سے پریشان ہوکر بس‘ اس کی طرف تکتی رہی تھیں۔ بات کرنے کا یارانہ تھا‘ وہ کار کو ایمبولینس کی طرح چلا رہا تھا ہر ایک منٹ کے بعد ہارن دے رہا تھا پتا نہیں کتنے اوور ٹیک کرتا ہوا منٹوں میں ہسپتال پہنچا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا ہسپتال تھا جو مشہود کے گھر سے تقریباً دس منٹ کے رستے پر تھا‘ گاڑی منٹوں میں وہاں پہنچ گئی تھی۔ وہ اپنا دروازہ کھول کر کچھ کہے بغیر اندر دوڑ گیا اور کائونٹر پر اس نے بے ہوش مریض کی اطلاع دی تھی تاکہ پری میڈیکل اسٹریچر لے کر گاڑی تک آئے اور گاڑی سے اتار کر اسٹریچر پر ڈال کر اندر ایمرجنسی میں پہنچایا جائے۔

دانیال کی بات سن کر کائونٹر پر موجود نرس نے بیٹھے بیٹھے گھنٹی بجائی چند سیکنڈ بعد ایک نرس نمودار ہوئی۔

’’روبینہ پرویز سے کہو باہر مریض ہے‘ اسٹریچر لے کر جائے۔‘‘ نرس فوراً ہی پلٹ گئی اور دانیال واپس پارکنگ ڈور میں تیز تیز چلتا ہوا پہنچا اور اس نے کار کے پچھلے دونوں ڈور کھول دیئے تھے اور بڑی بے چینی سے پری میڈیکل کی اسٹریچر کے ساتھ آمد کا انتظار کرنے لگا۔ مانو آپا اور سعدیہ کار سے اترکر کھڑی ہوگئی تھیں۔

’’ارے بیٹا… کیا ہوا؟‘‘ مانو آپا نے بے قراری سے پوچھا‘ سعدیہ گم صم کیفیت میں دانیال کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

’’جی وہ وارڈ بوائے اسٹریچر لے کر آرہا ہے‘ میں نے بتادیا ہے اندر ایمرجنسی میں۔‘‘ دانیال نے کھوئی کھوئی کیفیت میں پیاری کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ اسی وقت کٹھر پٹر کی آوازیں آئیں دو‘ وارڈ بوائے اسٹریچر لیے باہر کی طرف آتے ہوئے دکھائی دیئے‘ دانیال نے ہاتھ اٹھا کر انہیں اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا‘ دونوں قریب آئے‘ دانیال نے ان کے ساتھ مل کر پیاری کو اسٹریچر پر لیٹایا۔

پیاری کو اسٹریچر پر دیکھتے ہی دونوں وارڈ بوائے اپنے پیشہ وارانہ انداز میں تیز رفتاری کے ساتھ ایمرجنسی کی طرف روانہ ہوئے۔ دانیال ان کے پیچھے پیچھے دوڑا‘ مانو آپا اور سعدیہ بھی جتنا تیز چل سکتی تھیں‘ دانیال کے پیچھے چل پڑیں۔

/…ء…/

دروازہ باہر سے بھی کھلا ہوا تھا اور مشہود نے اسے اندر سے بھی بند نہیں کیا تھا۔ وہ ہر گزرتے لمحے میں اپنی موت کی آہٹیں گن رہا تھا‘ اس کے حساب میں جو لمحہ لمحہ اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسے اس وحشی سے رتی برابر بھی کوئی اچھی امید نہیں تھی‘ اسے اندازہ تھا کہ جب وہ اس کو سامنے پائے گا تو ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر اس پر اپنا پستول خالی کردے گا اگر گن ہوگی تو پورا رائونڈ اس پر خالی کردے گا‘ کوئی آسرا نہیں کرے گا اس وحشی کے چہرے پر جو وحشتیں ٹپکتی تھیں وہ اس کی درندگی کا اظہار کرنے کے لیے کافی تھیں۔

دماغ قدرے پرسکون ہوا تو بھوک کی شدت نے اسے ادھ موا کردیا‘ پیٹ میں بل پڑرہے تھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کئی دن کے فاقے سے لیکن دور دور تک اسے ایسا دکھائی نہیں دیتا تھا جس سے اس کے دل کو تقویت پہنچے کہ کچھ کھانے کو مل جائے گا‘ چاہے گھاس اور پتے ہی۔ وہ دن کی روشنی میں اس گھر کو اچھی طرح دیکھ چکا تھا اس کے باہر کسی پودے کا گملا تک نہیں دکھائی دیا تھا جو وہ پتے ہی توڑ کر کھالیتا۔ بھوک اتنی شدید تھی کہ وہ بہت جلدی نقاہت محسوس کرنے لگا۔ ابھی تو دن تھا اس کے بعد رات ہونی تھی‘ اسے یوں محسوس ہونے لگا کہ اس کی زندگی فی الحال بچ گئی ہے لیکن شاید فاقے کی وجہ سے زندگی کی اس قید سے آزادی حاصل کرلے گا۔

وہ بے ڈھنگ انداز میں بڑے سے پلنگ پر ہاتھ پائوں ڈالے پڑا تھا اور اللہ سے لو لگالی تھی۔ یارب العالمین اگر میری زندگی باقی ہے تو ضرور تو کوئی راستہ نکالے گا اگر مہلت ہی ختم ہوگئی ہے تو شاید میرا آخری وقت آن پہنچا ہے وہ سوچ رہا تھا اور آہستہ آہستہ اس کے حواس ساتھ چھوڑتے جارہے تھے۔ بس اسے اتنا یاد رہا کہ اس کا ذہن آہستہ آہستہ تاریکیوں کی سمت بڑھ رہا تھا۔

/…ء…/

اس کے سیل پر رنگ ہورہی تھی وہ گہرے خیال سے باہر آیا اور ہچکچاتے ہوئے فون اٹھا لیا۔ پہلا خیال ذہن میں یہی آیا تھا کہ شاید پیاری کی کوئی خبر دینے کے لیے یا اس کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کے لیے کوئی فون کال آرہی ہے لیکن اس نے سیل فون اٹھا کر دیکھا تو اس کے منیجر شبیر احمد کا فون تھا اس نے گہری سانس لے کر کال ریسیو کی۔ شبیر احمد اسے بتارہا تھا کہ کچھ دیر بعد چیف اکائونٹنٹ اس کے پاس آئے گا اور تمام متعلقہ فائلیں اس کو دے دی گئی ہیں۔ منیجر نے اس سے انتہائی مختصر سی بات کی تھی‘ یہ ایک اطلاعی فون تھا اس سے زیادہ اس نے بات بھی کیا کرنا تھی۔ مشہود کو اطلاع کرکے اس نے اپنی طرف سے رابطہ منقطع کردیا تھا۔

مشہود نے سیل فون رکھا اور اپنا ذہن بنانے لگا کہ اسے چیف اکائونٹنٹ سے کیا کیا سوال کرنا ہیں اور آئندہ کے لیے اسے کیا ہدایات دینا ہیں لیکن فوراً ہی اسے محسوس ہوگیا کہ اس کا ذہن بالکل بھی کام نہیں کررہا۔ اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے فیکٹری کے حساب کتاب کب دیکھے تھے۔ ایک عجیب سی بے بسی کی کیفیت تھی‘ ایک خیال آرہا تھا ایک جارہا تھا۔ وہ پریشان ہوکر سوچنے لگا چیف اکائونٹنٹ حسنین علی آبھی گیا تو وہ اس کے ساتھ کس طرح کام کرپائے گا۔ اس کا ذہن تو بالکل مفلوج ہوچکا ہے‘ بار بار غم و غصے کی ایک لہر اٹھ رہی ہے جو اس کو بے عمل بنارہی ہے کام کرنے کے لائق نہیں ہے۔ کافی دیر تک اپنے آپ سے الجھنے کے بعد اس نے طے کیا کہ وہ کچھ بھی کرلے کام نہیں کرپائے گا۔

اب اس نے اپنا سیل فون اٹھا کر چیف اکائونٹنٹ کا نمبر ڈائل کرنا شروع کیا تاکہ اس وقت کی میٹنگ ملتوی کرے اور اس کو کل آنے کا بولے‘ نمبر ڈائل کرکے اس نے سیل فون کان سے لگایا رنگ جارہی تھی‘ مشہود کے انداز میں بے چینی تھی۔ عجلت کا تاثر تھا‘ جیسے اسے یہ ضروری کال کرنا بھی بہت مجبوری کا سودا لگ رہا ہو۔ دوسری طرف کال ریسیو ہوگئی تھی‘ حسنین علی کی آواز سماعت سے ٹکرائی۔

’’جی سر… السلام علیکم!‘‘

’’وسلام‘ حسنین… سوری میری طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے‘ آج میٹنگ نہیں ہوسکتی۔ کل آپ سیکنڈ ہاف میں گھر آجائیں‘ تھینک یو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے حسنین کی طرف سے جواب سنے کا بھی انتظار نہیں کیا اور سیل آف کردیا‘ پھینکنے کے انداز میں سیل ایک طرف ڈال کر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑلیا‘ جیسے چکر آرہے ہوں۔

/…ء…/

ایمرجنسی ٹریٹ منٹ کے تقریباً دس منٹ کے اندر اندر پیاری ہوش میں آگئی تھی۔ آنکھ کھولتے ہی اسے دانیال کا چہرہ نظر آیا جو بہت بے قراری سے پیاری کے ہوش میں آنے کا انتظار کررہا تھا۔ پیاری کو آنکھیں کھولتا پاکر ایک عالمی وارفتگی میں اس پر جھک گیا اور بہت نرمی سے اس کے گال چھوئے۔

’’کیسی طبیعت ہے پیاری؟‘‘ دانیال کی مدھم آواز ماحول میں ابھری تو پیاری مکمل حواسوں میں آگئی۔

چند ثانیے خالی خالی نگاہوں سے دانیال کی طرف دیکھتی رہی پھر سب کچھ یاد آگیا اور خود کے ہسپتال میں نظر آنے کی وجہ بھی۔ آنکھ کھلتے ہی غم بھی جاگ پڑی‘ وہ آنسو روکنے کی پوری کوشش کررہی تھی مگر موت‘ زندگی اور آنسوئوں پر کسی کا اختیار نہیں‘ آنسو آنکھوں کے گوشوں سے گر کر تکیے میں جذب ہونے لگے تھے۔

دانیال کے دل کو کچھ ہوا‘ اس نے بے اختیاری کی کیفیت میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔

’’سب ٹھیک ہوجائے گا پیاری… ہمت سے کام لو‘ ہر وقت اچھا نہیں ہوتا۔ مشکل وقت بھی گزرنے کے لیے ہی آتا ہے۔‘‘ وہ بہت اپنائیت و دل سوزی سے سمجھا رہا تھا۔

’’بھائی گھر میں بالکل اکیلے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہی پیاری بلک بلک پر رو پڑی۔

’’ایکسکیوزمی… پلیز پیشنٹ کا خیال کریں۔‘‘ ایک نرس اچانک نمودار ہوکر برسنے کے اندز میں مخاطب ہوئی غالباً اس نے پیاری کے آنسو دیکھ لیے تھے‘ دانیال چونک کر پلٹا۔

بھاری بھرکم ریٹائرمنٹ سے قریب ترین کرخت چہرے والی نرس بڑی خفگی سے دانیال کی طرف دیکھ رہی تھی۔

’’یہ شدید اسٹریس کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی تھیں‘ آپ ان سے ایسی باتیں نہ کریں جس سے ان کے ذہن پر بوجھ ہو۔‘‘

’’میں تو اس سے بہت اچھی اچھی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ کیا ہمیں گھر جانے کی اجازت ہے۔‘‘ دانیال نے اپنی عزت بچانے کے چکر میں بد اخلاق نرس سے بڑی خوش اخلاقی سے بات کی۔

’’جی‘ آپ لے جاسکتے ہیں ان کو اور کوئی تکلیف نہیں۔ بی پی بہت لو تھا اب نارمل ہے‘ دن میں ایک بار دودھ میں کافی ڈال کر پلادیں‘ بی پی مینٹین رہے گا۔‘‘ نرس مشینی انداز میں بولتی باہر نکل گئی۔

دانیال نے پیاری کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اٹھنے میں مدد دے سکے‘ پیاری نے بھیگی آنکھوں سے دانیال کا بڑھا ہوا ہاتھ دیکھا۔ قدرے سوچا پھر آہستگی اور بے بسی سے اپنا ہاتھ دانیال کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ دانیال نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا اور دوسرے ہاتھ سے اسے اٹھنے میں مدد دی۔ وہ پیاری کو بازو کے گھیرے میں سہارا دے کر باہر آیا تو مانو آپا اور سعدیہ بے چینی سے دونوں کا انتظار کررہی تھیں۔

دانیال کے وجود کی گرمی سے پیاری کے وجود میں زندگی کا احساس اترنے لگا۔ پہلی بار اسے ادراک ہوا کہ مشکل گھڑی میں کسی چارہ ساز کی قربت قدرت کا کتنا بڑا انعام ہوتی ہے۔

’’یااللہ تیرا شکر ہے۔‘‘ مانو آپا نے سعدیہ سے پہلے قدم بڑھائے اور پیاری کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کی پیشانی چوم لی۔

’’اسے تو اس کے بھائی کو واپس کرنا تھا‘ یہ تو گلے ہی پڑ گئی ہے۔‘‘ سعدیہ سوچ رہی تھیں۔

(باقی آئندہ ماہ ان شاء اللہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close