Aanchal Apr-17

کام کی باتیں

حنا احمد

سر کے درد کی وجوہات

بعض لوگ اکثر سر درد دور کرنے کے لیے اسپرین‘ پیناڈول اور پونسٹان کے علاوہ دیگر دوائیں بھی اپنے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اگر ان سے بھی افاقہ نہ ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔ سر درد کے پوشیدہ اسباب کی تشخیص اور پھر اس کا علاج کوئی آسان کام نہیں ہے۔ سر میں درد کی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سے ایک سبب سر درد کی شدت کو کم کرنے یا روکنے کے لیے دوائوں کا اندھا دھند استعمال بھی ہے۔ سر درد کی مناسب تشخیص اور علاج کے لیے کسی ایسے تربیت یافتہ اور ماہر معالج سے رجوع کرنا چاہیے جسے پرانے قسم کے اور مسلسل سر درد کی تشخیص اور علاج کا وسیع تجربہ حاصل ہو۔
اگرچہ زیادہ تر سر دردکی شکایتیں عارضی نوعیت کی اور زیادہ خطرناک نہیں ہوتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے روزمرہ زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور زندگی کا معیار گھٹ سکتا ہے۔
سر درد دور کرنے کے لیے اگر آزمودہ گولیوں سے افاقہ نہ ہو تو پھر مجبوراً جب مریض ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں سر درد کی اصل وجہ کا سراغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر حضرات مرض کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جب مریض سے مختلف سوالات کرتے ہیں۔ مریض کو چاہیے کہ وہ کم از کم دو ہفتوں کے دوران سر درد کی شکایتوں کی تفصیل سے اپنے معالج کو آگاہ کرے اس ضمن میں جو سوالات پوچھے جاسکتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
v سر کا درد کتنی دیر تک برقرار رہتا ہے ؟ (منٹ‘ گھنٹے‘ دن) اور کیا روزانہ سر میں درد ہوتا ہے یا ہفتے کے بیشتر دنوں میں یہ شکایت ہوتی ہے؟
vکیا کسی چیز سے سردرد کو تحریک ملتی ہے؟ (مثلاً نمکین غذا‘ مخصوص خوشبو یا مہک‘ نیند کی کمی‘ ذہنی دبائو)
vکس چیز سے آرام ملتا ہے ؟ (نیند‘ تاریک کمرا‘ دوائیں‘ ذہنی دبائو میں کمی یا اور کوئی دوسری چیز)
vجب سر میں درد ہوتا ہے تو کیا اس وقت یا اس سے پہلے نظر میں کوئی تبدیلی محسوس ہوتی ہے مثلاً مناظر دھندلے نظر آتے ہیں یا ایک کی جگہ دو شکلیں نظر آتی ہیں یا الٹی یا متلی محسوس ہوتی ہے یا روشنی اچھی نہیں لگتی؟
vکیا سر کا درد سر کے ایک حصے میں یا دونوں حصوں میں محسوس ہوتا ہے؟
vجب سر میں درد ہوتا ہے تو کیا اس وقت آپ کے جسم کے کسی حصے میں جھنجھلاہٹ ہوتی ہے یا وہ سن ہوجاتا ہے؟
vکیا آپ کو پہلے بخار تھا یا اس وقت ہے؟
vسر درد کی شکایت کس عمر میں شروع ہوئی اور کیا موجودہ درد سابقہ تجربات سے مختلف لگتا ہے؟
vکیا آپ کے خاندان میں کسی اور کو بھی آدھے سر کے درد یا ٹینشن کی وجہ سے سر درد کی شکایت ہوتی ہے؟
vدن بھر میں آپ کتنی کیفین لیتے ہیں (چائے کافی پیتے ہیں)
vپسندیدہ غذائیں کون سی ہیں اور نیند کس طرح کی آتی ہے؟ (نیند میں خراٹے لیتے ہیں یا نیند پوری نہ ہونے سے تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں)
vکیا رات کو نیند میں آپ دانت پیستے ہیں یا کھانا چباتے ہوئے سر میں درد محسوس کرتے ہیں۔
vکیا کبھی آپ کی گردن یا سر پر چوٹ لگی تھی؟
vجب آپ کھڑے ہوتے یا لیٹتے ہیں تو کیا اس وقت سر کا درد بڑھ جاتا ہے؟
vاگر آپ خاتون ہیں تو کیا ایام کے د وران یا اس کے بعد سر میں درد ہوتا ہے؟

سر درد کے عمومی اسباب

اگر سر کا درد طویل عرصے تک برقرار رہے تو یقینا یہ ایک قابل تشویش بات ہے‘ اگرچہ ایسا کم ہوتاہے لیکن بعض اوقات سر کا درد سنگینی طبی مسائل کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ معالجین عموماً اس قسم کے درد کو درج ذیل دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

ابتدائی…

آدھ سر کا درد شقیقہ‘ ایک آنکھ سمیت سر کا درد‘ ذہنی دبائو سے ہونے والا درد یا کسی اور وجہ سے ہونے والا درد۔
ثانوی سر درد وہ ہوتا ہے جس میں کسی دیگر عارضے یا طبی خرابی کی وجہ سے درد محسوس ہو مثلاً کسی انفیکشن (گردن توڑ بخار) یا رسولی یا دماغ کے اندر خون کے رسائو‘ سر میں چوٹ لگنے ‘ کنپٹی کے اندر واقع شریانوں کی سوزش جو عموماً پچاس سال یا اس سے زیادہ عمر کی لوگوں میں ہوتی ہے۔ بے قابو ہائی بلڈ پریشر کی خرابیوں‘ دانتوں کی تکلیف اور اعصابی نقائص کی وجہ سے بھی سر میں درد محسوس ہوسکتا ہے۔
سر میں درد کی شکایت کرنے والے مریضوں سے ان کے معالجین یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ وہ اس درد کو دور کرنے کے لیے عموماً کس قسم کی دوائیں کتنی مقدار میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ بعض اوقات ان دوائوں کے زیادہ استعمال سے بھی سر میں درد ہونے لگتا ہے۔ علاج شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر مریض کا مکمل جسمانی معائنہ کرسکتا ہے‘ خاص طور پر دوران خون اور اعصابی نظام کے کام کرنے پر خصوصی توجہ دی جاسکتی ہے۔ بلڈ ٹیسٹ یہ جاننے کے لیے کیا جاسکتا ہے کہ مریض کسی انفیکشن یا بیماری میں مبتلا تو نہیں ہے۔ علاوہ ازیں سر کی سی ٹی اسکیننگ یا ایم آر آئی بھی کروائی جاسکتی ہے۔ اگر کنپٹی کی شریانوں میں کسی نقص کا اندیشہ ہو تو اس کی بایوپسی کروائی جاسکتی ہے اگر سر درد کی وجہ گردن توڑ بخار محسوس ہو تو حقیقت حال جاننے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی رطوبت بھی جانچی جاسکتی ہے۔ تشخیص مکمل ہونے کے بعد سر درد کی شدت اور اس کے لوٹ کر دوبارہ آنے سے بچانے کے لیے علاج تجویز کیا جاسکتا ہے۔

زیتون کا تیل:۔

اسے آپ آئی میک اپ ریموور کے طور پر استعمال کرسکتی ہیں‘ یہ بہت آسان ہے اور قدرتی بھی‘ اس سے پلکوں کا میک اپ اتر جاتا ہے اور ان کو جلا بھی ملتی ہے۔

ویسلین:۔

روایتی طور پر اسے موئسچرائزر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر اسے آپ آئی میک ریموور کے طور پر بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ زیتون کے تیل کی طرح یہ بھی کم خرچ بالانشین ہے اور آسانی سے گھر پر ہی استعمال کرکے آئی میک اپ صاف کیا جاسکتا ہے۔

ہدایات:۔
انگلیوں کی مدد سے آنکھوں کے میک اپ پر ویسلین کو لگایا جائے اور میک اپ اتارلیا جائے بعد میں گرم پانی میں کپڑا گیلا کرکے صاف کرلیا جائے۔

موئسچرائزنگ کریم:۔

موئسچرائزر اور کولڈ کریم کی بہت ساری اقسام ہیں یہ دونوں بہترین آئی میک اپ ریموور ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ مطلوبہ حصے کی جلد کو کنڈیشن میں بھی لے آتی ہیں۔

ہدایات:۔
آئی میک اپ ایریا پر انگلیوں کی مدد سے اسے لگائیں بعد میں ٹشو سے صاف کرلیں۔

تولیہ:۔

بازار میں ایسے تولیے د ستیاب ہیں جن کو آئی میک اپ ریموور ٹاول کہا جاتا ہے اور جن کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ بہت کارآمد ہیں اور ان سے فٹافٹ کام ہوجاتا ہے کیونکہ ان کے ساتھ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔

ہدایات:۔
یہ تولیے پہلے سے موئسچرائزڈ ہوتے ہیں بس ان کے ذریعے میک اپ کو پونچھ لیں اور کام ہوگیا۔

بے بی شیمپو:۔

بے بی شیمپو اور بے بی آئل یہ دونوں بہترین آئی میک اپ ریموور ہیں‘ یہ نرم ہوتے ہیں لہٰذا جلد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے اور آسانی سے میک اپ اتر جاتا ہے اور پلکوں کو کنڈیشننگ بھی مل جاتی ہے۔

ہدایات:۔
بے بی شیمپو بے آئل میں کاٹن بال بھگو کر آئی میک اپ ایریا میں لگائیں بعد میں نیم گرم پانی سے اس حصہ کو اچھی طرح دھولیں۔

کوثر ناز… ملتان

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close