Aanchal Jun-18

ہومیو کارنر

ڈاکٹر طلعت نظامی

متوازن غذا (Balanced Diet)

مفید خوراکیں جو خاص بیماری کی حالتوں میں استعمال کرنے سے فائدہ پہنچاتی ہیں اور بیماری دور کر کے صحت کو بحال کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ خوراک استعمال کرنے میں مندرجہ ذیل باتوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔

غذا ملی جلی ہونی چاہیے:۔

صرف ایک ہی غذا کھا کر ہمارے جسم کی تمام ضروریات پوری نہیں ہو سکتی اس لیے ہمیں بہت سی چیزیں ملا کر کھانا چاہیے مثلا یہ خیال عام ہے کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے جبکہ دودھ میں آئرن نہیں ہوتا گوشت میں کیلشیئم یعنی چونا نہیں ہوتا ڈبل روٹی میں کاربوہائیڈرییٹس تو ہوتے ہیں مگر چکنائی اور معدنی نمک نہیں ہوتے اس کے برعکس مکھن میں کاربوہائیڈرینٹس اور پروٹین نہیں ہوتے اس لیے ہمیں اپنی تمام غذائی ضروریات یعنی اچھے قسم کے پروٹین مقررہ حرارے لینی نمک اور وٹامن حاصل کرنے کے لیے ایک سے زیادہ چیزوں کو ملا کر کھانا چاہیے۔

ہر روز ایک جیسی غذا نہیں کھانی چاہیے:۔

اگر ہماری خوراک مختلف اور متنوع ہوگی تو اس سے ضروری اجزاء حاصل ہوتے رہیں گے اس لیے ہمیں مختلف چیزیں بدل بدل کر کھانی چاہیں اس کے علاوہ روز روز ایک ہی قسم کی خوراک کچھ ذائقہ بھی نہیں دیتی جو خوراک مزے دار نہ ہو آسانی سے ہضم نہیں ہوتی۔

غذا صاف ستھری ہونی چاہیے:۔

جہاں تک ممکن ہوسکے ہر چیز تازہ استعمال کرنی چاہیے باسی، سڑی گلی چیزوں سے قطعی پرہیز لازم ہے ایسی چیزیں مضر صحت ہیں ان کے کھانے سے بجائے فائدے کے نقصان ہوتا ہے کھانے کی چیزیں صاف ستھرے برتنوں میں ڈھانپ کر رکھنی چاہیں بازاروں میں جو کھانے کی چیزیں پکتی ہیں وہ اکثر کھلی رہتی ہیں اور ان پر گرد و غبار کے علاوہ مکھیاں بھی بیٹھتی ہیں جس کی وجہ سے ان میں غلاظت اور جراثیم شامل ہوجاتے ہیں ایسی چیزوں کو کھانے سے کئی خطرناک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

غذا مقدار میں کافی ہونی چاہیے:۔

کافی مقدار سے مراد خوراک کا وزن نہیں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ خوراک سے ہمیں اعلیٰ قسم کے پروٹین، حرارے، معدنی نمک اور وٹامن اس مقدار میں مل سکیں جس مقدار میں ہمارے جسم کو ان کی ضرورت ہے۔

غذا لذیذ ہونی چاہیے:۔

لذیذ خوش رنگ اور خوش بو دار غذا سے طبیعت میں اشتہا پیدا ہوتی ہے اس اشتہا سے معدے میں خوراک کو ہضم کرنے والی رطوبتوں کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور خوراک بہت جلد ہضم ہوجاتی ہے۔

غذا زور ہضم ہونی چاہیے:۔

زور ہضم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خوراک اس قدر جلد معدے سے گزر کر چھوٹی آنت میں پہنچ جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خوراک آلات ہضم میں کتنے عرصہ میں تحلیل ہو کر جزو بدن بنتی ہے۔

کیمیکل اینڈ منرلز:۔

ہمیں پروٹین اور وٹامن کا پتا ہے کہ کس کس چیز میں یہ موجود ہوتے ہیں لیکن کیمیکلز اور منرلز کے بارے میں بھی آگہی رکھنا انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے جیسے۔

گندھک یعنی سلفر والی غذائیں:۔

انناس، گاجر، سلاد، پھول گوبھی، سیب، خوبانی، بادام، جو، لیموں، چقندر، گوبھی، پنیر، ناریل، سنگترہ، مٹر، آلو، پالک، مولی، ٹماٹر، شلغم، انڈے، تربوز، کھجور، خشک، انجیر یہ جلدی امراض کو روکتی ہیں بالوں کو مضبوط کرتی ہیں اور آنتوں کے لیے بھی بہترین ہیں۔

فاسفورس والی غذائیں:۔

دودھ، پنیر، انڈے کی زردی، گوشت، مچھلی، مٹر، سنگترہ، مالٹا، جو، گندم، مکھن، گوبھی، کھیرا، سلاد، بند گوبھی، زیتون، مونگ پھلی، آلو بخارے، ایسی غذائیں ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتی ہیں اور دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

فولاد والی غذائیں:۔

کلیجی، خوبانی، انڈا، مچھلی، سلاد، پیاز، گاجر، مولی، آلو بخارہ، پنیر، انناس، بند گوبھی، کھیرا، کھجور، سنگترہ، انگور، گندم، چقندر، سیب، ناشپاتی، یہ غذائیں چہرے کی سرخی، ہاتھ پائوں کی حرارت طاقت اور عمدہ یاداشت کے لیے ضروری ہیں۔

کیلشیئم والی غذائیں:۔

دودھ، پنیر، دہی، سیب، خوبانی، بادام، گوبھی، گاجر، کھیرا، انجیر، انگور، لیموں، سلاد، زیتون، پیاز، سنگترہ، مونگ پھلی، آلو بخارہ، انناس، مولی، پالک، سویا بین، ٹماٹر، شلغم اور انڈا، یہ غذائیں بھی انسان کی ہڈیوں اور دانتوں کے لیے مفید ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کو یہ جھکنے نہیں دیتی بچوں کے لیے بہت ضروری ہیں۔

کلورین والی غذائیں:۔

کریم، پنیر، پالک، بکری کا دودھ، شلغم، انڈے کی سفیدی، مکھن، ٹماٹر یہ غذائیں قبض کشا بھی ہیں اور یہ موٹاپا کم کرنے میں بھی مددگار ہیں۔

آئیوڈین والی غذائیں:۔

مچھلی، جو، گندم، گاجر، گوبھی، کھیرا، چکوترہ، ٹماٹر مولی، یہ بھی جسم کو موٹاپے سے محفوظ رکھتی ہیں۔

میگنیشئم والی غذائیں:۔

لیموں، انجیر، کھیرا، گوبھی، آڑو، انڈے کی زردی، سیب، بادام، گاجر، ناریل، سلاد، پیاز، سنگترہ، چاول، آلو بخارا، مولی، شلغم، پالک، ٹماٹر، گندم یہ غذائیں اعصاب اور شریانوں کو مضبوط بناتی ہیں انسان کو جوان رکھتی ہیں۔

خوراک کی کمی کے اسباب (Mal Nutritional Diseases)

Deficeincy Disease سے مراد وہ امراض ہیں جو خوراک کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں متوازن خوراک میں پروٹین کاربوہائیڈریٹ، نمکیات، وٹامن، چکنائی اور پانی کی مناسب مقدار ہوتی ہے متوازن خوراک میں کسی بھی ایک چیز کی کمی سے مختلف امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔
پروٹین ہماری صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی کے لیے بھی بہت ضروری ہیں ایک بالغ آدمی کے روزانہ کی خوراک میں تقریباً 22 گرام پروٹین ہونا لازمی ہے جبکہ بچوں کی خوراک میں اس کی مقدار سے تین گنا زیادہ ہونی چاہیے کیونکہ بچوں کے جسم میں پروٹینز کا ذخیرہ بالکل نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ Protiens کی کمی کی وجہ سے بچوں میں بہت سی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں بعض حالات میں خوراک کی تو کمی نہیں ہوتی بلکہ چھوٹی آنٹ میں سوزش کی وجہ سے خوراک صحیح طور پر جذب ہو کر جزو بدن نہیں بن پاتی جس کے نتیجے میں مریض کمزور ہونے لگتا ہے وزن کم ہوجاتا ہے رنگت پیلی پڑ جاتی ہے بچوں کی ٹشو نما متاثر ہوتی ہے خون کی کمی ہوجاتی ہے وغیرہ جسم میں خوراک کی کمی کی وجوہات حسب ذیل ہیں۔
کم خوراک کھانا Reduce Intake
ناقص انجذاب Mal-Absorbtion
غذا کی ضرورت کا بڑھ جانا Excessive Demand
Reduced Storage Facilities
جسم میں جگر کی خرابی کے باعث مختلف وٹامنز، آئرن، گلوکوز اسٹور نہیں ہوتا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close