Aanchal Jun-18

گھُتی

تحسین انجم انصاری

 

 

 

کہنے کو فریال کے لیے یہ سانحہ بہت غم ناک اور افسوس ناک تھا… لیکن اسے قسمت کی ستم ظریفی کہہ لیں کہ اسی سانحے کے پہلو سے شاہ زیب کے لیے خوشیوں کی وہ کرنیں پھوٹتی تھیں جن سے دوبارہ اس کے دل میں روشنی بھر جاتی۔ اس کی زندگی میں اجالے اور رنگ بکھر جاتے۔ یہ نہیں تھا کہ فریال کے یوں کم عمری میں بیوہ ہوجانے کا اسے ملال نہیں تھا… فریال کی آنکھ کا تو ہر آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر شاہ زیب کے دل پر گرتا تھا۔ اس کا ہر دکھ اسے چوٹ دیتا تھا۔ قسمت نے اگر ان کی راہیں جدا کردی تھیں تو اس سے شاہ زیب کی محبت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ وہ تو اب بھی اسے دل کی تمام تر گہرائیوں اور سچائیوں سے چاہتا تھا اور آج بھی کنوارا بیٹھا تھا کہ فریال نہیں تو کوئی نہیں۔ ان کا خاندان بے شک پڑھا لکھا اور روشن خیال تھا لیکن جب فریال کے بابا نے اپنے بیٹے فرحال کے لیے شاہ زیب کی چہیتی بہن نگینہ کا ہاتھ مانگا تو نگینہ کے بابا فرزند علی نے بڑے طریقے سے فریال کے بابا امجد علی کو انکار کہلوایا تھا۔ ان کے خیال میں وٹے سٹے کی شادیاں مناسب نہ تھیں۔ انہوں نے تو ان شادیوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے پیش نظر منع کیا تھا‘ لیکن امجد علی نے اسے اپنی توہین خیال کرتے ہوئے صاف کہلوا دیا کہ اگر وہ نگینہ کو قبول نہیں کریں گے تو وہ بھی فریال کو اپنے گھر کی بہو نہیں بنائیں گے۔ فریال اور شاہ زیب کی تو دنیا اندھیر ہوگئی تھی۔ بچپن سے طے شدہ رشتہ تھا۔ انہوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کو زندگی کے ساتھی کے روپ میں دیکھا تھا۔ پھر درمیان میں جو بے تحاشہ محبت تھی وہ ایک طرف… شاہ زیب نے بابا کی منت کی‘ اپنی محبت کے ساتھ ساتھ روشن خیالی کا واسطہ بھی دیا‘ لیکن جب اپنی بیٹی کا معاملہ تھا تو ساری تعلیم اور روشن خیالی جانے کہاں چھپ گئی تھی۔ شاہ زیب کی کسی التجا کا اثر نہ ہوا اور جب انہوں نے فریال کے لیے انکار بھجوایا تو فریال کے بابا کی غیرت نے بھی جوش مارا… انہوں نے نہ تو بیوی سے مشورہ کیا اور نہ ہی بیٹی سے رائے لی… ایک روز اپنے دوست ایاز ہمدانی کے بیٹے اور بیوی کو بلوایا‘ بات وہ فون پر بالا ہی بالا طے کرچکے تھے۔ بس نواز اور فریال کو انگوٹھی پہنادی گئی۔ فریال کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔ ضبط کے جن مراحل سے وہ گزری تھی وہی جانتی تھی۔ آمنہ بیگم بیٹی کے دل کا حال سمجھتی تھیں اور اس کی گرتی حالت کے پیش نظر امجد علی سے بات کی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔
’’بیگم… آج تو یہ بات کرلی ہے‘ آئندہ مت کرنا میری بیٹی ہے اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہوں… تم کیا چاہتی ہو‘ میں فرزند کی منت سماجت کروں‘ یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ آخر میری بھی کوئی عزت ہے…‘‘ تعلیم نے جو سکھایا وہ پس پشت ڈال دیا۔ روشن خیالی کا دعویٰ جانے کہاں گیا۔ رہ گیا تو بس انتقام کا جذبہ… لیکن فریال اور شاہ زیب کی دنیا ہی لٹ گئی تھی۔
’’کیوں نہ ہم کورٹ میرج کرلیں…‘‘ شدت غم سے بے حال شاہ زیب بولا۔
’’نہیں شاہ زیب… میں اپنی محبت کی خاطر بابا کی عزت نیلام نہیں کرسکتی…‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی تھی۔
’’انہوں نے کون سا تمہاری محبت کا خیال کیا ہے…‘‘ وہ طنزیہ بولا۔
’’انہوں نے نہیں کیا تو کیا میں بھی نہ کروں…؟‘‘ وہ دکھ اور متانت سے بولی۔
پھر شادی میں بھی انہوں نے جلدی کی۔ فریال اپنی من چاہی زندگی کی خواہش میں ان چاہی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی۔ حالات سے سمجھوتا کرلیا… خود کو بے پناہ مصروف کرلیا۔ ساس نندوں کی خدمت اور شوہر کی فرماں برداری کو اپنا شعار بنالیا… فرزند علی نے بھی نگینہ کے لیے مناسب رشتہ دیکھا اور شادی کرلی۔ اسے اپنے گھر میں خوش دیکھتے تو من میں ٹھنڈک سی اتر جاتی… لیکن شاہ زیب کا دکھ اور تنہائی دل میں عجیب سی کسک پیدا کردیتی… اس نے تو صاف صاف شادی سے انکار کردیا تھا۔
’’اگر فریال نہیں تو کوئی نہیں…‘‘ پچھتاوے نے فرزند علی کو گھیرنا شروع کردیا۔ کیا تھا اگر وہ ضد نہ کرتے… نگینہ اتنی خوش ہے… شاہ زیب بھی خوش ہوتا تو دل میں کوئی قلق اور رنج نہ ہوتا۔ ثمینہ نے بھی کتنا سمجھایا تھا… لیکن بیوی کے مشورے کو انہوں نے پہلے کب اہمیت دی تھی جو اب دیتے۔ ایک دن اچانک شاہ زیب کا مارکیٹ میں فریال سے ٹکرائو ہوگیا۔ دونوں گم صم کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر شاہ زیب نے ہی زبان کھولی۔
کیسی ہو… خوش تو ہو ناں…؟‘‘
’’ہاں خوش ہوں…‘‘ وہ نم آنکھوں سے بولی۔ ’’نواز بہت اچھے ہیں‘ میرا بہت خیال رکھتے ہیں‘ محبت کرتے ہیں مجھ سے۔‘‘
’’کسے یقین دلا رہی ہو… مجھے یا خود کو؟‘‘ وہ دکھ سے بولا۔ اس کے پاس اب کوئی جواب نہ تھا سوائے فرار کے، لہٰذا وہ گاڑی میں بیٹھی اور زن سے گزر گئی۔ نواز نے پہلی رات گھونگھٹ اٹھاتے ہی کہا تھا۔ لہجے میں واضح تلخی اور طنز تھا۔
’’سنا ہے بچپن کی محبت قربان کرکے آئی ہو۔‘‘ اس کی آنکھوں میں تلخی تھی۔ ’’کتنی بار تم نے تصور میں شاہ زیب کو دیکھا ہوگا اس جگہ چچ چچ… بہت زیادتی ہوگئی تمہارے ساتھ… یہ روپ سجانا بھی پڑا تو کس کے لیے‘ جسے چاہتی تک نہیں تھیں اور مجھے دیکھو میں کتنا بدقسمت ہوں۔ خوامخواہ قربانی کا بکرا بن گیا۔ ابو کا مان نہ توڑ سکا۔ میں تو سفر میں شامل بھی نہ تھا۔ پھر مجھے کس بات کی سزا ملی…؟ وہ کسی شاعر نے شاید میرے لیے ہی یہ شعر کہا تھا۔ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔‘‘ پھر یہ روز کا معمول ہوگیا… بات بات پر طنز کرنا‘ شاہ زیب کے طعنے دینا‘ اس سے اور اس کی ضروریات سے لاپروائی‘ برتنا۔
’’بہت خوبصورت لگ رہی ہو کس کے لیے اتنے دل سے تیار ہوئی ہو…؟ بیچارہ شاہ زیب تمہیں دیکھ بھی نہیں سکتا یقینا تڑپتا ہوگا تمہارے لیے‘ تمہارے فراق میں ابھی تک شادی نہیں کی شاید میرے مرنے کا انتظار کررہا ہے فکر نہ کرو ایک دن تمہیں آزاد کردوں گا۔‘‘ وہ خاموشی سے سب سنتی‘ آنسو پیتی اور اپنے کام میں مشغول رہتی۔ ساس اور سسر اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ اکثر نواز کو ہی ڈانٹے کہ وہ اس سے لاپروا کیوں رہتا ہے‘ اسے گھمانے کیوں نہیں لے جاتا‘ اسے خوش کیوں نہیں رکھتا۔
لیکن تین ماہ کے بعد ہی جب نواز ایک ٹریفک حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو وہی لاڈلی بہو منحوس کا لیبل لگا کر گھر بھیج دی گئی… گھر آکر اپنے کمرے میں سارے عرصے کے رکے ہوئے آنسو نکلے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر ایسے میں روئی۔ شاہ زیب کے دل کی بے قراری دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا بس چلتا تو اسے سینے سے لگا کر تسلیاں دیتا۔ اس کے سارے دکھ درد سمیٹ لیتا لیکن قسمت کی ستم ظریفی تھی کہ وہ اس سے مل بھی نہیں سکتا۔ وہ عدت میں تھی اور اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔ کسی سے نہیں ملتی تھی۔ شاہ زیب سے تو بچھڑی ہی تھی لیکن نواز نے اس کی روح کو ایسا زخمی کیا تھا کہ وہ بالکل اجڑ کر رہ گئی تھی۔ دل سے ہر آرزو‘ تمنا ختم ہوگئی تھی۔ وہ بالکل چپ ہوکر رہ گئی تھی۔ امجد علی اسے یوں اجڑی بکھری حالات میں دیکھتے تو دل میں کسک ہونے لگتی۔ اس کی حالت کی وجہ وہ خود تھے۔ ان کی ہٹ دھرمی نے یہ دن دکھایا تھا۔ ان کی ہنستی کھیلتی‘ چہکتی بلبل کو زبان بندی کی سزا سنائی تھی۔ اسے یوں دیکھ کر دل دہل گیا تھا۔ وہ زندگی سے عاری بے جان شے کی مانند لگ رہی تھی۔ تب انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے جرم کی تلافی ضرور کریں گے۔ اس کی بے رونق زندگی میں رنگ بھردیں گے۔ اس کا شاہ زیب اسے لوٹا دیں گے دوسری طرف فرزند علی کی اپنی غرض بھی تو شامل تھی اس میں‘ اپنا بیٹا بھی تو زندگی سے بے زار ہوگیا تھا۔ ساری عمر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر بیٹھا تھا۔ وہ دونوں کو زندگی کی طرف لوٹانا چاہتے تھے۔ اپنا ظرف بڑا کرکے امجد علی نے سب سے پہلے بھائی سے معافی مانگی… اپنے گناہوں کا اعتراف کیا‘ اپنی غلطیوں پر شرمندگی کا اظہار کیا چونکہ فرزند علی کا ارادہ بھی وہی تھا۔ اس لیے انہیں معاف کردیا… بچوں کی خوشیوں کی خاطر ایسا کرنا ضروری تھا۔ فرزند علی نے اپنا مدعا بھی بیان کردیا۔ اپنے بیٹے کے کبھی شادی نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بھی بتایا۔ فیصلہ بہرحال فریال کو کرنا تھا… صاف صاف بتادیا۔
’’اب یہ فریال کی مرضی پر منحصر ہے۔ میں اس کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائوں گا۔ آپ کو انتظار کرنا ہوگا۔‘‘ اور وہ تو تیار تھے انتظار کرنے کو… اللہ اللہ کرکے اس کی عدت ختم ہوئی تو شاہ زیب اس سے ملنے کو بے قرار ہوگیا۔ وہ بس اس کی صورت دیکھنا چاہتا تھا لیکن فریال نے صاف انکار کردیا۔
’’میں ابھی کسی سے نہیں ملوں گی امی… مجھے تنہا چھوڑ دیا جائے۔ مجھے کچھ وقت خود کے ساتھ گزارنے کی ضرورت ہے‘ اپنے زخموں کو بھرنے کی ضرورت ہے‘ خود سے سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے‘ میں بہت تھک گئی ہوں امی… میرے پائوں میں آبلے پڑے ہیں‘ مجھے اپنی روح سے کانٹے چننے ہیں‘ ایک ایک کرکے ان سارے شیشوں کی کرچیاں نکالنی ہیں جو نواز نے میرے دل میں پیوست ہیں… مجھے بہت سا وقت چاہیے…‘‘ اس کی خواہش پر عمل کرنا لازم تھا تاکہ وہ زندگی کی طرف لوٹ سکے۔ تبھی اس کی ہنسی کی جھنکار واپس آسکتی تھی۔ انہوں نے نرمی سے شاہ زیب کو بھی سمجھایا اور اس کے والدین کو بھی… امجد علی کے کہنے پر فرزند علی اور ان کی بیوی تو سمجھ گئے لیکن شاہ زیب کی بے قراریاں عروج پر تھیں۔
’’میں بس ایک نظر اسے دیکھنا چاہتا ہوں تائی جان… بس تھوڑی دیر کے لیے… میں اس سے کوئی بات نہیں کروں گا… پلیز… تائی جان۔‘‘ وہ ملتجی لہجے میں بولا۔
’’ٹھیک ہے بیٹا… وہ سو رہی ہے‘ تم چند منٹ کے لیے اسے دیکھ لو مگر محتاط رہنا۔‘‘ اور جب اس نے اسے دیکھا تو دل پر چوٹ لگی۔ وہ فریال تو نہیں تھی۔ اس کا سایہ لگ رہی تھی۔ اتنی کمزور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے‘ زرد رنگت‘ کملایا ہوا معصوم چہرہ اور پپڑی زدہ ہونٹ وہ زیادہ دیر دیکھ نہ سکا اور کمرے سے نکل آیا۔ کتنی دیر لان میں بے قراری سے ٹہلتا رہا۔ اس کے بارے میں سوچتا رہا کہ وہ اسے ٹھیک کرلے گا۔ اس کی محبت اسے دوبارہ زندگی کی طرف لے آئے گی۔ وہی ہنستی مسکراتی‘ شوخیاں اور شرارتیں کرتی فریال لوٹ آئے گی۔ عدت کے چار ماہ میں اسے سوچنے کا موقع ملا تھا۔ اپنی ذات اور اپنی زندگی کا تجزیہ کرنے کے لیے یہ کافی وقت تھا۔ پھر بعد میں بھی وقت نے زخموں پر مرہم رکھا تو وہ زندگی کی طرف لوٹ آئی تھی۔ امی نے اسے شاہ زیب کے پروپوزل کے بارے میں بتایا۔ چچا چچی کے پچھتاوے اور شرمندگی کا حال سنایا تو ایک طنزیہ مسکراہٹ نے لبوں کا گھیرائو کرلیا… زندگی برباد کردی اور اب پچھتا رہے ہیں کیونکہ بیٹے نے کہیں اور شادی سے انکار کردیا تھا پھر پہلی بار اس نے شاہ زیب کے بارے میں سوچا۔ اس کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ تو ہر رشتہ نبھانا چاہتا تھا۔ اسے تو خود ماں باپ نے مجبور کیا تھا۔ وہ اس کے بچپن کی محبت‘ اس کے دل کا ساتھی‘ دکھ سکھ کا دوست پتہ نہیں کب دل میں نرم گرم جذبات نے ڈیرہ جمالیا‘ لیکن ابھی وہ کچھ دیر آزاد رہنا چاہتی تھی۔ کسی بھی بندھن سے گریز کررہی تھی۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے‘ کیا حرج ہے اگر وہ ذمہ داریوں کے بوجھ سے کچھ عرصہ دور رہے‘ لیکن شاہ زیب نے اس کی ایک نہ سنی۔ دن رات اس سے بحث کی اپنی محبت اور وفائوں کا یقین دلایا۔ اپنی بے قراریوں اور بے تابیوں کا حال سنایا اور آخرکار اسے راضی کرکے ہی دم لیا۔
آج دو ماہ بعد وہ دلہن بنی اس کے کمرے میں بیٹھی تھی۔ دل میں جذبات کا طوفان تھا۔ آنے والے دلکش لمحات نے اس کے چہرے کو روشن اور بے حد خوبصورت بنادیا تھا۔ تبھی وہ دشمن جان اندر داخل ہوا… وہ سمٹ کر بیٹھ گئی۔ شرم و حیا سے چہرہ گلنار ہوگیا… شاہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔ پُرشوق نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے گھونگھٹ اٹھایا تو فریال نے بے اختیار چہرہ جھکالیا… شاہ زیب انگلی سے اس کی ٹھوڑی اوپر کرکے کوئی خوبصورت بات کہنے ہی والا تھا کہ جانے کہاں سے اس کے تصور میں نواز کا چہرہ آگیا۔ اس سوچ کے ساتھ… وہ وہیں منجمد ہوگیا۔ ہاتھ رک گئے‘ نظریں ساکت ہوکر فریال کے چہرے کا جائزہ لینے لگیں جب وہ کافی دیر تک کچھ نہ بولا تو فریال نے حیران ہوکر اوپر دیکھا۔
’’کیا نواز نے بھی اسی طرح تمہارا گھونگھٹ اٹھایا تھا…؟‘‘ وہ ٹرانس کے عالم میں تھا۔ فریال نے حیرت سے اسے دیکھا۔ شاہ زیب کے چہرے پر عجیب تاثرات تھے۔
’’تمہیں دیکھ کر اس نے کیا کہا تھا…؟‘‘ شاہ زیب کو جیسے کچھ ہوش نہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور فریال کو اس کی بات سے کتنی تکلیف ہورہی ہے۔
’’کیا اس نے تمہاری بہت تعریف کی تھی…؟‘‘ وہ اپنے آپ میں نہ تھا۔
’’شاہ زیب…‘‘ وہ آنسو بھری آنکھوں سے بولی۔ ’’کیا ہوگیا ہے آپ کو… یہ کیسے سوال کررہے ہیں؟‘‘
’’تم نے ہی تو کہا تھا کہ نواز بہت اچھے ہیں… تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘ وہ کوئی اور ہی شاہ زیب لگ رہا تھا۔ بالکل اجنبی‘ دیوانہ‘ ہوش سے بیگانہ۔
’’شاہ زیب…‘‘ فریال اپنی آنکھیں بند کرکے کرب سے چلائی۔ ’’تم… تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے پھر تم بھی نواز کی طرح وہی سوال کیوں کررہے ہو جو وہ کرتا تھا‘ وہ بھی مجھے تمہارے طعنے دے کر میری روح زخمی کرتا تھا اور اب تم بھی… تم بھی شاہ زیب… کیا تم بھی وہی سب کچھ کرو گے؟‘‘ وہ آنکھوں میں بے شمار بہتے نمکین پانیوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی کیا وہ دیوانگی کے عالم میں تھا۔
’’میں ان آنکھوں میں یہ چمکتے موتی نہیں دیکھ سکتا۔ جب کبھی رونا آئے تو شاہ زیب کے بارے میں سوچ لینا…‘‘ اسے بے اختیار اس کا محبت بھرا جملہ یاد آیا۔ اس نے شاہ زیب کا ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگالیا۔ ’’دیکھو میری طرف‘ یہ میں ہوں فریال… تمہاری محبت… تم نے کتنی مشکلوں سے حاصل کیا ہے مجھے… دیکھو میری آنکھوں میں کتنے آنسو ہیں۔ تم تو کہتے تھے ان آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے‘ پھر تم خود ہی مجھے یہ آنسو کیوں دے رہے ہو‘ بولو… کیوں؟‘‘ فریال نے اسے جھنجھوڑا۔ وہ ایک جھرجھری لے کر ایک دم ہوش میں آیا اسے دیکھا تو بے اختیار اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’فریال… میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں ان آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا پھر بھی تم رو رہی ہو اور وہ بھی آج کی رات… آج تو ہمارے ملن کی رات ہے‘ ہم نے کتنے برس انتظار کیا تھا اس رات کا کیوں… کیوں رو رہی ہو میری جان؟‘‘ شاہ زیب نے محبت سے اس کی پیشانی چوم لی اور اسے کسی متاع حیات کی طرف سمیٹ لیا۔
’’خ… خوشی کے آنسو ہیں شاہ زیب…‘‘ وہ حیران پریشان اتنا ہی کہہ سکی کچھ اور سمجھ میں نہ آیا اور کہتی بھی کیا۔ کیسے کہتی کہ شاہ زیب نے اسے مہلت ہی نہ دی تھی۔ اپنی بے قراریوں اور برسوں کی چھپی آرزوئوں کی ایسی بارش برسائی کہ وہ اندر تک بھیگ گئی ابھی کچھ دیر پہلے والا شاہ زیب کہیں چھپ گیا تھا اور جس نئے شاہ زیب نے جنم لیا تھا وہ کتنا مختلف تھا۔ محبت کی مجسم تصویر لیکن…
٭…٭…٭
شاہ زیب پہلو میں پُرسکون نیند سو رہا تھا کتنی معصومیت اور آسودگی تھی اس کے چہرے پر یہ چہرہ اسے کتنا محبوب رہا تھا لیکن اب دل بے چینیوں کا شکار تھا۔ دل میں جیسے گرہ سی پڑگئی تھی۔ عورت کی محبت کے بارے میں اگر کوئی جان جائے تو چاہے شادی سے پہلے وہ کتنا اچھا دوست ہی کیوں نہ ہو‘ اس کا کتنا ہی احترام کیوں نہ کرتا ہو‘ اس کے شفاف کردار کو جانتا بھی ہو… پھر بھی شوہر بن کر ہر بات بھول جاتا ہے۔ نواز تو اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ اس کی دل دکھا دینے والی باتوں کو وہ سمجھ سکتی تھی لیکن شاہ زیب… اس کو کیا ہوگیا تھا۔ وہ نواز سے محبت نہیں کرتی تھی اور نہ ہی نواز اس سے محبت کرتا تھا۔ اس نے ایک بار شاہ زیب کی تسلی کے لیے ایسا کہہ ضرور دیا تھا کیونکہ وہ شاہ زیب کو تب بھی پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی‘ لیکن اب اس پر انکشاف ہوا تھا کہ ’’نواز مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں…‘‘ اس کے دل میں اٹک گیا تھا اور آج رات اس جملے نے تصورات میں اسے پتہ نہیں کون کون سی تصویریں دکھائی تھیں کہ وہ اپنے آپ میں نہیں رہا تھا۔ پھر یہ حقیقت ہی تو ہے کہ محبت اپنی جگہ لیکن مرد کو ہمیشہ ان چھوئی عورت ہی چاہیے ہوتی ہے ورنہ اس کی سوچ کی دنیا جانے کہاں کہاں بھٹکتی ہے… اور جب بھٹک بھٹک کر پائوں میں جھالے پڑنے لگتے ہیں تو ان چھالوں کی ساری جلن اور تکلیف عورت کو ہی سہنی پڑتی ہے۔ گرگٹ کے رنگ بدلنے کا تو سنا تھا لیکن… مرد بھی گرگٹ ہی تو ہے اور جتنے رنگ وہ بدلتا ہے شاید گرگٹ بھی نہ بدلتا ہو تو کیا اب مجھے شاہ زیب کے ان بدلتے رنگوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہوگی؟ ہر وقت دھڑکا لگا رہے گا کہ کہیں پھر سے اس پر دورہ تو نہیں پڑگیا۔ کیا اس نے دوبارہ شادی کرکے غلطی کی ہے۔ کیا نواز کے ساتھ گزرے دن بار بار اسے عذاب میں مبتلا کریں گے… کبھی شاہ زیب کی بے پناہ محبت اور کبھی نواز کے ساتھ کے طعنے۔
’’ارے تم ابھی تک جاگ رہی ہو میری جان…‘‘ شاہ زیب نے سوئی سوئی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ ’’خوشی کے مارے نیند نہیں آرہی ناں؟‘‘ شاہ زیب نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔ پھر سکون سے آنکھیں بند کرلیں۔ فریال کی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر شاہ زیب کی شرٹ میں جذب ہوگئے۔ لوگ کہتے ہیں عورت ایک پہیلی ہے لیکن مرد ذات تو وہ گتھی ہے جسے جتنا سلجھانے کی کوشش کرو‘ اتنا ہی الجھتی ہے۔ چاہے اس کوشش میں انگلیوں کی پوریں زخم زخم ہوجائیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close