Aanchal Jun-18

چاپانی مشین

صباء ایشیل

 

 

’’اے بہن کیا بتائوں بس… جب سے جاپانی مشین ہمارے گھر آئی ہے جینا دوبھر ہوگیا ہے‘ گھر کی ساری فضا پر جاپانی مشین نے جیسے قبضہ ہی کر رکھا ہے۔ یقین مانو‘ تمہارے پاس دو گھڑی آکر بیٹھ جاتی ہوں تو من کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ورنہ میں توجیتے جی ہی مر جاتی۔‘‘ ذکیہ خالہ امی کے پاس بیٹھیں جانے کون سا موضوع چھیڑے بیٹھی تھیں۔ میں کالج سے تھکی ہاری دو بجے گھر لوٹتی تو نماز پڑھ کر کھانا کھاتے ہی بستر میں دبک جاتی تھی۔ ڈھائی تین بجے جو سوتی تو پھر شام کو عصر کے وقت ہی آنکھ کھلتی… پچھلے کچھ دنوں سے ذکیہ خالہ کی جاپانی مشین کے قصوں نے میرا سونا حرام کر رکھا تھا‘ ادھر میری آنکھ لگتی اور ادھر ذکیہ خالہ امی کو نجانے کون کون سے قصے سنانے چلی آتیں‘ برآمدے کی بیرونی دیوار سے ملی دیوار میرے کمرے کی تھی جہاں کی آدھ کھلی کھڑکی سے ذکیہ خالہ کی دلدوز آوازیں میری سماعتوں تک پہنچ کر میری نیند میں خلل پیدا کرتی رہتی تھیں‘ کھڑکی بند کرنے کے باوجود بھی خالہ کی آوازیں سماعتوں تک نجانے کن جھروکوں سے پہنچ جاتی تھی اور میں آرام کی متلاشی ہونے کے بجائے کروٹیں بدلتی رہتی اور جب تک عصر کا وقت ہوتا ذکیہ خالہ کو گھر یاد آجاتا ادھر نماز کا وقت ہوتا ادھر خالہ کی واپسی کا وقت ایسے میں شیطان بہت کوشش کرتا کہ ’’اب سو ہی جائو‘‘ لیکن بچپن کی عادت کا اثر تھا کہ میں اٹھ کھڑی ہوتی‘ آج بھی مجھے لیٹے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ خالہ کی آوازیں میری سوئی ہوئی سماعتوں کو منتشر کرکے جگانے لگی تھیں۔
’’نجانے یہ کون سی مشین تھی جو بلا بن کر ان پر مسلط ہوگئی ہے۔‘‘ میں نے غصے میں تکیہ کان پر رکھا اور پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگی۔
’’بس بہن تم تو جانتی ہے ناں یہ جاپانی مشین کتنی پائیدار اور مضبوط ہوتی ہے‘ بندہ مرتا مر جاتا ہے لیکن یہ مشین سلامت رہتی ہیں‘ ان کے کسی پرزے کو وقت کے ساتھ کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ مجھے تو لگتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پائیداری مزید بہتر ہوجاتی ہے۔ پہلے سے زیادہ چلنے لگتی ہے‘ ہائے میری قسمت… جانے کس کی نظر کھا گئی میرے سکون کو۔‘‘ کان پر تکیے رکھنے کے باوجود ایک ایک لفظ میری سماعتوں میں اتر رہا تھا۔ میں نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور آنکھیں بند کرنے کی کوشش کرنے لگی آنکھیں موند کر میں نے رضائی میں منہ کیا اور شکر کیا کہ اب آوازیں نہیں آرہی تھیں۔ دو منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے مجبوراً رضائی سے منہ باہر کرنا پڑا کہ منہ پر رضائی لے کر سونے کی عادت نہ تھی اور رضائی منہ تک اوڑھ لینے پر دم گھٹنے لگتا۔
’’میں تو سوچ رہی ہوں یہ مشین گھر سے نکال ہی دوں تم کیا کہتی ہو رضیہ بانو؟‘‘ اب کے ذکیہ خالہ نے امی سے پوچھا۔
’’توبہ کریں‘ کیسی باتیں کرتی ہیں آپ‘ بدن کا کوئی ایک حصہ خراب ہوجائے تو اسے اتار کر پھینکا نہیں کرتے صحیح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کی مشین خراب ہے تو کوشش کریں اسے کم سے کم چلائیں۔ اس کو استعمال کرنے میں احتیاط کریں مجھے امید ہے جلد ہی ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘
’’اچھا بہن چلتی ہوں اب عصر کا وقت ہوا چاہتا ہے‘ ہماری مشین بھی اب بند ہوکر آرام سے پڑی ہوگی۔ کل ملتی ہوں۔‘‘ امی کی بات سن کر ذکیہ خالہ کو اچانک گھر جانا یاد آگیا اور وہ اپنی چپل پہن کر چلتی بنیں۔ ان کی چپل کی ٹھک ٹھک کی آواز مدہم ہوتی گئی۔ میں نے دوبارہ سونے کا ارادہ کرکے گھڑی کی سمت نظر کی تو چھوٹی سوئی چار کا ہندسہ عبور کررہی تھی۔ سونے کا ارادہ موخر کرکے کسلمندی سے اٹھ کر بالوں کو سمیٹنے لگی کہ اب جو سوتی تو نماز قضا ہونے کا یقینی امکان تھا۔
٭…٭…٭
’’ارئے بیٹا‘ جلدی سے پانی پلا دے۔‘‘ میں ابھی کالج سے آئی ہی تھی کہ ذکیہ خالہ پھولی سانسوں کے ساتھ تیز قدموں سے چلی آئیں۔ آج خلاف معمول خالہ وقت سے کچھ پہلے ہی آگئی تھیں۔
’’اماں کہاں ہے تیری؟‘‘ ایک ہی سانس میں پانی پی کر خالہ نے اِدھر اُدھر متلاشی نگاہوں سے دیکھا اور پھر مجھ سے پوچھا۔
’’زلیخا بوا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ اماں نے صبح بتایا تھا کہ آج وہاں جائیں گی اس لیے میں صبح ہی گھر کی چابی ساتھ لے گئی تھی۔‘‘ ذکیہ خالہ کی ایک بات کے جواب میں‘ میں نے انہیں دو جواب دیئے تھے‘ مبادا دوبارہ یہ سوال نہ کرلیں کہ امی نہیں تھی تو میں بند گھر میں کیسے آگئی؟
’’اچھا… کب تک آئے گی تیری ماں؟‘‘ خالہ کے چہرے پر دبا دبا سا جوش کچھ سرد ہوا اور پھر سے انہوں نے سوال کردیا۔
’’امی تو شام تک آئیں گی کوئی کام تھا آپ کو؟‘‘ میں نے ایسے ظاہر کیا جیسے میں ان کے روز گھر میں آنے اور جاپانی مشین کے قصوں سے ناآشنا ہوں۔
’’ارے نہیں بیٹا کچھ خاص کام تو نہ تھا بس دل کا بوجھ ہلکا کرنا تھا۔‘‘ خالہ نے ہلکی سی سرد آہ بھری اور اپنی چپل اتار کر پیر تخت کے اوپر کیے اور چوکڑی مار کر بیٹھ گئیں گویا اب آئی ہیں تو بیٹھے بنا کیوں جائیں۔
’’خالہ اور پانی پئیں گی۔‘‘ میں نے اپنے تئیں ان کو بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ پانی پی چکی ہیں لیکن وہ خالہ ہی کیا جو ہار مان جائیں۔
’’نہ بیٹا تو ایسا کر ایک کپ چائے بنا لے آ… سچی بات یہ ہے سر میں شدید درد ہے۔ زیادہ پانی پی لوں تو سر پر چڑھ جاتا ہے‘ سر بھاری ہوجائے تو آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں۔ جا بیٹا ایک کپ چائے بنا دے۔‘‘ میں نے ایک نظر اپنے کالج کے یونیفارم پر ڈالی کہ کیا خالہ کو اندازہ نہیں ہوا کہ میں نے کالج سے آکر ابھی یونیفارم بھی نہیں اتارا‘ اس بے وقت فرمائش پر میں جی بھر کے بددل ہوئی اور خاموشی سے کچن میں آگئی۔ اماں نے یخنی پلائو اور آلو مٹر کا سالن پکا کر رکھا ہوا تھا‘ میں نے ایک چولھے پر چائے رکھی اور کھڑے کھڑے ہی چاول پلیٹ میں نکال کر کھانے لگی‘ خالہ کی آمد نے طبیعت مکدر کردی تھی۔ کھانا کھانے کا دل تو نہیں کررہا تھا لیکن پیٹ میں دوڑتے چوہے مجبور کررہے تھے کہ ان کو کچھ نہ کچھ کھانے کو دیا جائے‘ جتنی دیر میں چاول ختم ہوئے چائے پک گئی تھی میں ٹرے میں کپ رکھ کر چائے باہر لے آئی۔ خالہ کو چائے پکڑائی تو وہ حیرانی سے پہلے چائے اور پھر میری طرف دیکھنے لگیں‘ مجھے حیرانی کی وجہ تو سمجھ نہیں آئی لیکن میں چائے ان کو تھما کر کپڑے بدلنے کی غرض سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
’’تم کدھر چلیں بٹیا؟‘‘ ذکیہ خالہ نے شہد بھری آواز میں مخاطب کیا تو مجھے اپنی جھنجلاہٹ پر پشیمانی ہونے لگی۔ اتنے پیار سے مخاطب کرنے والی خالہ کو میں کب سے دل میں جانے کن کن القابات سے نواز رہی تھی۔
’’خالہ کپڑے بدل لوں… پھر آتی ہوں۔‘‘ ان کو جواب دے کر میں نے کپڑے بدلے اور منہ ہاتھ دھو کر ان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’چائے تو اچھی بنائی تھی بٹیا‘ پر تجھ میں تیری ماں جیسی مہمان نوازی والی خصوصیت نہیں۔‘‘ چائے کا آخری قطرہ حلق میں انڈیل کر اب خالہ جی کہہ رہی تھیں میں مہمان نواز نہیں ہوں۔
’’اللہ لمبی عمر عطا فرمائے تیری ماں کو روز آتی ہوں پر مجال ہے جو کبھی صرف چائے سے تواضع کی ہو‘ ہمیشہ کھانا‘ چائے‘ بسکٹ‘ کباب اور جانے کتنے لوازمات سامنے رکھ دیتی ہے۔‘‘
’’تو اصل بات یہ ہے؟‘‘ میں من ہی من میں مسکرائی۔ کچھ دیر پہلے جو پشیمانی ہوئی تھی وہ ختم ہوکر پھر سے کوفت میں مبتلا کررہی تھی۔
’’اے بٹیا میری بات کا برا نہ منانا بس کیا کروں زبان ہے پھسل جاتی ہے ساری عمر ایسے ہی گزاری۔ ہمیشہ سچ بولا دیکھ تجھے ایک کام کی بات بتائوں یہ عمر کچی ہے ابھی تو ناسمجھ ہے اور تیری ماں بے چاری سیدھی سادھی‘ اور کچھ سال گزر جائیں تو سفید پوش گھرانے کی لڑکیوں کو کون پوچھتا ہے‘ دیکھ کوئی گھر آجائے تو خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ چھوڑا کر‘ یہ لڑکوں کی مائیں کھانے پینے کی شوقین ہوتی ہیں‘ جتنا ہوسکے آگے پیچھے پھر کر خدمتیں کیا کر کل کو رخصت ہوکر‘ آس پڑوس میں ہی چلی جائے تو اچھا ہے‘ ورنہ اللہ نا کرے کل کلاں کو تیری ماں کے منہ میں پانی ڈالنے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔‘‘ میں ناسمجھی سے ان کی باتوں کا لب لباب سمجھنے کی کوشش کررہی تھی ٹھیک ہے میں ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی لیکن خالہ کی ایسی باتیں مجھے اب شدید غصہ دلا رہی تھیں۔
’’میری بات سمجھ رہی ہے ناں تو؟‘‘ خالہ نے کہا تو میں نے جان چھڑانے کو گردن ہلا دی۔ ’’تو نے میرے سلمان کو دیکھا ہے کیسا لگتا ہے تجھے؟‘‘ اب کہ تو خالہ نے مجھے سارا ہی ہلا دیا تھا یہ کیا کہہ رہی تھیں وہ۔
’’سلمان کو دیکھا ہے ناں خالہ‘ جب کالج سے آتی ہوں تو نکڑ پر جانے کیسے کیسے عجیب وغریب دوستوں کے ساتھ محفل جما کر بیٹھا ہوتا ہے۔ سگریٹ پیتے تو اکثر دیکھا ہے مجھے تو لگتا ہے پان بھی کھاتا ہے کچھ دن پہلے ایک لڑکی کو چھیڑتے ہوئے سب دوست ہنس رہے تھے تو اس کے دانت توبہ توبہ خالہ‘ مجھے تو دیکھتے ہی متلی سی ہونے لگی تھی‘ کہاں آپ اتنی نفیس خاتون اور کہاں سلمان… سچ کہوں تو مجھے تو لگتا ہی نہیں وہ آپ جیسی سمجھدار خاتون کا بیٹا ہے۔‘‘ میں بڑی معصومیت سے گویا تھی اور ذکیہ خالہ کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔
’’خالہ‘ آپ اس کو سمجھاتی کیوں نہیں؟‘‘ میں نے دل ہی دل میں تلملاتے ہوئے بظاہر چہرے پر ہمدردی لیے ان سے سوال کیا۔
’’اے بہتیرے جتن کرلیے بیٹا‘ بس یہ جاپانی مشین کی وجہ سے ہی سارا کچھ برباد ہورہا ہے‘ تو تو جانتی ہے نا جاپانی مشین کو؟‘‘ خالہ نے مجھ سے سوال کیا۔
’’جی جی خالہ‘ امی نے بتایا تھا آپ کے گھر جاپانی مشین آئی ہے۔‘‘ میں نے جلدی سے نہ جانتے ہوئے بھی ہاں میں ہاں ملائی کہ کہیں امی کی طرح خالہ مجھے بھی جاپانی مشین کے قصوں میں نہ الجھا دیں۔
’’اللہ کرے خراب ہی ہوجائے یہ کمبخت جاپانی مشین… جان چھوٹے اس عذاب سے۔‘‘ خالہ کا مشین نامہ شروع ہوگیا تھا‘ میرا نیند اور تھکاوٹ سے براحال ہورہا تھا۔ ایک تو یہ مروت بھی… میں نے دانت پیستے ہوئے سوچا۔
’’خالہ آپ ریحان بھائی سے کیوں نہیں کہتیں کہ سلمان کو سمجھائیں۔‘‘ میں نے ان کے بڑے بیٹے کا نام لے کر چھوٹے کو سمجھانے کو کہا گویا ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’یاں گھر آتا ہے تو کہتی ہوں اسے‘ اچھا بیٹا‘ اب میں چلتی ہوں تیری ماں آجائے تو پھر آئوں گی۔‘‘ خالہ نے اس ذکر سے مزید بچنے کے لیے اپنی چپل پیروں میں اڑسی اور چلتی بنیں۔ میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا اور پکا ارادہ کیا کہ آج تو امی سے ذکیہ خالیہ کی جاپانی مشین کا اصل قصہ جان کر ہی رہوں گی۔
٭…٭…٭
’’امی ایک بات تو بتائیں۔‘‘ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں امی کی چارپائی پر ان کے قریب بیٹھ گئی۔
’’کیا پوچھنا ہے میری بیٹی نے؟‘‘ امی نے بہت پیار سے جواب دیا‘ میں اب امی کے پیر دبانے لگی تھی۔
’’یہ ذکیہ خالہ کے پاس ایسی کون سی جادوئی مشین ہے جو ہر وقت خالہ کی ناک میں دم کیے رکھتی ہے؟ جب دیکھو تب اسی کے قصے اور تو اور وہ اپنے گھر کے ہر بگاڑ کا الزام بھی اسی کے سر رکھتی ہیں۔‘‘ میں نے کافی دنوں سے کلبلاتا سوال آج آخرکار پوچھ ہی لیا تھا۔
’’اس کا مطلب ہے کل پھر ذکیہ آئی تھی؟‘‘ امی نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا تو میں نے ہولے سے گردن ہاں میں ہلائی۔
’’جاپانی مشین…‘‘ امی نے ایک لمحہ رک کر شرارتی نظروں سے میری طرف دیکھا۔
’’ذکیہ خالہ جاپانی مشین اصل میں اپنی بہو کو کہتی ہیں۔‘‘ امی کی بات سن کر میری آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
’’مطلب وہ جاپانی مشین کا قبضہ‘ وقت گزرنے کے ساتھ پائیداری میں اضافہ‘ مشین کا ہر وقت شور مچانا… اوہ تو وہ یہ سب اپنی بہو کے لیے کہتی ہیں۔‘‘ میں نے سر پر ہاتھ مار کر اپنی گزشتہ سوچی گئی تمام باتوں کو یاد کیا اور بمشکل ہنسی کو کنٹرول کیا۔
’’لیکن وہ اپنی بہو کو ایسا کہتی کیوں ہیں؟‘‘ میں نے پھر سے سوال کیا۔
’’کیونکہ ان کے نزدیک ان کی بہو بہت بولتی ہے۔ سچ کہوں تو میں نے ایک دوبار ہی اسے دیکھا ہے‘ لیکن اس میں ایسی کوئی خامی نہیں پائی جیسا ذکیہ بتاتی ہے اور اگر تھوڑی بہت کمی اور خامی ہو تو اس کا یوں ڈھنڈورا پیٹنا انتہائی غیر مناسب ہے۔ میں تو انہیں اکثر سمجھاتی ہوں لیکن وہ سمجھے تب ناں۔‘‘
’’آپ ان کی باتیں سنتی ہی کیوں ہیں؟‘‘ مجھے غصہ آنے لگا۔
’’صرف اس لیے کہ کسی اور سے جاکر کہیں گی تو اس بے چاری بہو کی بے عزتی ہوگی تو میں خاموشی سے سن لیتی ہوں کہ بات آگے نہ پھیلے لیکن کب تک… جن کو رونے کی عادت پڑ جائے وہ بھلا کب سدھر سکتے ہیں۔‘‘ امی تاسف بھرے لہے میں بولیں۔
’’خیر تم سو جائو اب‘ صبح جلدی اٹھنا ہوتا ہے۔‘‘ امی نے کروٹ لی اور میں اٹھ کر اپنے بستر پر آگئی اور کافی دیر تک سوچتی رہی‘ ذکیہ خالہ بہو کو تو جاپانی مشین کہتی ہیں لیکن ان کو کس مشین کا لقب دیا جائے۔
آپ بھی سوچیے کچھ سمجھ آئے تو ضرور بتائیے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close