Aanchal May-18

چادر اور چار دیواری

انعم خان

’’اللہ میں کیا کروں۔‘‘ آنسوؤں سے تر آنکھوں کو میچ کر وہ پچھتاوے کی زد میں تھی۔ دل میں کسک اور ملال تھا‘ خوف سے اس کا برا حال تھا۔ اپنے ہاتھوں سے سب کچھ مٹانا پہلے آسان تھا مگر اب جب سب کچھ ریت کی مانند بند مٹھی سے پھسلتا جا رہا تھا تب محض احساسِ شرمندگی کے سوا اس کی خالی ہاتھوں میں کچھ نہ تھا۔
جس اعتماد‘ یقین اور بھروسے کے ساتھ اس نے سمعان سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا‘ وہی اعتبار ومان سالک عمران ابھی کچھ دیر پہلے نہایت سفاکیت سے روندھ کر چلا گیا تھا۔ وہ رو رہی تھی اور دل میں موجود محبت ہر لحاظ سے تشنگی میں لپٹی تڑپ و سسک رہی تھی۔ وقت نے بھی گویا اپنا حصہ ڈال کر اسی لمحے اس پر کڑا وار کیا تھا۔ عنایہ افتخار کرب سے گزر رہی تھی۔ آنسوؤں کا تسلسل ہنوز جاری تھا۔ دل بوجھل ہوچکا تھا۔ دماغ میں الجھتی‘ تڑپتی درد بھری سوچوں نے آناً فاناً اپنا تسلط قائم کرکے اسے اذیت سے دوچار کردیا تھا۔
محبت مذاق بن جانے پر درد سہہ رہی تھی۔
عنایہ افتخار کو اردگرد کا بالکل ہوش نہیں رہا تھا لیکن دروازے کی اوٹ میں کھڑی صباء احمد اس کا مکمل جائزہ لیتیں ماضی کی کتاب کے اوراق پلٹنے میں مصوف عمل ہو چکی تھیں۔
{…٭٭٭…}
آج سے ستائیس سال پہلے۔ ماں باپ کی وفات کے بعد افتخار احمد رفعت آرأ کو دلہن بنا کر گھر لائے تھے۔ رفعت آرأ کو انہوں نے عزت محبت اور وہ سب کچھ دیا تھا جو ایک بیوی کا حق اور شوہر کا فرض بنتا تھا۔ افتخار احمد طبیعتاً سادہ و نرم تھے۔ جبکہ رفعت آرأ ان کے مقابلے میں بالکل الگ مزاج کی تھیں۔ لیکن افتحار احمد کے بے لچک رویہ اور گداز دل نے کبھی گھر کا ماحول متاثر نہیں ہونے دیا تھا۔ رفعت آرأ بھی خوش تھیں۔ زندگی پُرسکون انداز میں گزر رہی تھی۔
صباء‘ افتخار احمد کی اکلوتی بہن تھی۔ بھائی کی طرح نرم طبع اور محبت سے بھر پور دل کی مالک‘ خوب صورت بھی تھی۔ جس کو رفعت آرأ کے بھائی عمران نے بہن کی شادی میں دیکھتے ہی کافی سراہا تھا۔ وہ صباء سے پہلی نظر میں محبت کر بیٹھا تھا۔ جسے کچھ عرصے کے لیے محسوس کرتے مگن رہا‘ مسرور رہا۔ آنکھوں سے دل میں اترا صباء کا پُرکشش چہرہ دھیرے دھیرے اس کے خواب میں آنے لگا تھا۔ جسے سچی محبت کا نام دے کر وہ صباء کی خواہش کرنے لگا تھا۔ اپنے بے قرار دل کی تسکین کے لیے صباء کو اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کے لیے لازم بن گیا تھا۔ سو جب بہن میکے رہنے آئی تو ان کے سامنے اعتراف کیا۔ وہ بھی سن کر خوش ہوئی تھیں۔ صباء خوب صورتی میں اپنی مثال آپ تھی ہی لیکن اسے گھر داری میں بھی مہارت حاصل تھی۔ سلیقہ مند اور سمجھدار تھی۔ رفعت آرأ نے بھائی کو فوراً حامی بھر کر بے فکر کردیا۔ ماں بھی بیمار تھی۔ دور تک سوچ لیا کہ آتے ہی گھر اور ماں کو بھی سنبھال لے گی۔
’’شکریہ آپا۔‘‘ عمران کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اسے سوچنے کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ محبت بھی زور پکڑ گئی تھی۔
رفعت آرأ بھی خوشی خوشی گھر واپس آئیں تھیں۔ نند کے روپ میں بھی صباء انہیں اچھی لگی تھی مگر اب جب اسے بھابی بنانے کا خیال دل میں آیا تو وہ اور بھی اچھی لگنے لگی تھی۔ صباء سے ملنے کے بعد وہ کمرے میں آئیں۔ ارادہ آج ہی افتخار احمد سے بات کرنے کا تھا۔ رات تک تو وہ مصروف تھے لیکن جب وہ فارغ ہوکر آرام کی غرض سے بیڈ پر لیٹے تو رفعت آرأ نے مناسب طریقے سے بات ان کے گوش گزاری۔ صباء کے لیے بھائی کے جذبات سے بھی انہیں آگاہ کیا۔ جسے افتخار احمد نے تحمل سے سنا اور سننے کے بعد اطمینان سے جواب دیا۔
’’تمہاری سب باتیں اپنی جگہ عمران کی محبت بھی ایک طرف لیکن رفعت یہ سب ممکن نہیں۔ کیونکہ صباء کی نسبت بچپن سے ارسل کے ساتھ طے ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں اور اگلے سال ان شاء اللہ دونوں کی شادی کا بھی ارادہ ہے۔ تم میری طرف سے اپنے گھر والوں سے معذرت کر لینا۔‘‘ سلیقے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے وجہ بھی بتائی۔ جسے سن کر رفعت بیگم کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔
’’کیا آپ نے مجھے تو کبھی نہیں بتایا اس بارے میں؟‘‘ توقف کے بعد سنبھلیں تو اپنی حیرت کو زبان دی۔
’’بتایا اس لیے نہیں کہ تم نے کبھی صباء کے بارے میں پہلے بات نہیں کی۔ نہ کچھ پوچھا مگر اب بتا تو دیا۔‘‘ افتخار احمد نے وضاحت دی۔
رفعت آرأ چپ ہوگئی تھیں۔ ان کی خود کی شادی کو ابھی ایک مہینہ ہی گزرا تھا۔ ذہن میں عمران کا خیال آیا تھا۔ جس کی شدت اور طبیعت سے سب خائف رہتے تھے۔ پریشان بھی ہوئیں کہ حامی بھرنے کے بعد بھائی کو انکار کی بابت بتانا مشکل لگا تھا۔ ساتھ ہی تعجب نے بھی گھیر لیا کہ چلو اگر رفعت آرأ نے کبھی صباء کے بارے میں پوچھا نہیں تو شوہر سمیت صباء نے بھی کبھی ان سے ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ وہ اپنا کافی سارا وقت رفعت آرأ کے ساتھ گزارتی تھی اور ارسل کے گھر والوں یا باقی خاندان والوں نے اس بارے میں بات نہیں کی تھی۔
ارسل اور صباء خالہ زاد تھے۔ شعور میں قدم رکھتے ہی جب دونوں کو اپنے طے کردہ رشتے کے متعلق پتا چلا تب دونوں نے کسی بھی قسم کی حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے اس رشتے کو دل سے قبول کرلیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوشی محبت میں بدل گئی تھی۔ البتہ دونوں نے کبھی باقاعدہ ایک ساتھ وقت نہیں گزارہ تھا کہ خاندان میں شادی سے پہلے ملنا ملانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ تین سال پہلے ارسل روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک گیا تھا۔ صباء دل میں اس کی محبت کو سنبھالے اس کا انتظار کررہی تھی اور اسی انتظار میں اس کی محبت خوب صورت یادوں سے آبیار ہورہی تھی۔ ارسل کی سنگت میں ڈھیروں خواب آنکھوں میں سجائے محو تھی۔
اگلے کچھ دنوں میں رفعت آرأ نے غور کرنے پر اس کی محویت کو محسوس کرلیا اور تب انہیں بہت برا لگا۔ ایک طرف بھائی کی انکار کی صورت میں تڑپ نظر آنے لگی تھی اور دوسری جانب صباء کی ارسل کے ساتھ بھرپور زندگی کا خاکہ ان کا دماغ الجھا گیا تھا۔
عمران کے سامنے اور جواب طلبی کے خیال نے میکے جانے سے ان کے قدموں کو روک لیا تھا مگر کچھ دن بعد جب عمران مسکراتے چہرے کے ساتھ ان کے سامنے آیا تب ان کے لیے فرار کی تمام راہیں مسدود ہوگئی تھیں۔ وہ مثبت جواب کا منتظر سوالیہ نظروں سے بہن کو دیکھ رہا تھا۔
’’جو تم چاہتے ہو عمران وہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ رفعت آرأ نے ہمت کرکے بھائی کو صاف جواب دیا ساتھ ہی وجہ بتائی جسے سن کر وہ بری طرح چکرایا‘ دل میں جھکڑ چلنے گلے‘ دماغ کی نسیں پھٹنے کو تھیں‘ بس نہیں چل رہا تھا کہ اندر کا سارا غصہ نکال کر سارا غبار کم کرسکے۔
افتخار احمد اس وقت گھر میں نہیں تھے۔ صباء گھر میں تھی اور اسی کے لیے چائے پکار رہی تھی۔ رفعت آرأ اسے آگ بگولہ ہوتا دیکھ کر بری طرح سٹپٹا گئیں۔ اسے قابو کرنا اس وقت بہت ضروری تھا۔ وہ کوئی وبال اپنے گھر میں نہیں چاہتی تھیں۔
’’عمران… سنبھالو خود کو۔‘‘ مگر اس پر بھوت سوار ہوچکا تھا۔ سننے کے بجائے سختی سے وارن کیا۔
’’صباء صرف میری ہوگی۔‘‘
’’ہاں وہ صرف تمہاری ہوگئی‘ بس تم مجھے تھوڑا وقت دو میں افتخار کو منا لوں گی۔‘‘ رفعت نے بات ٹالنے کے لیے کہا۔ عمران قدرے مطمئن ہوا۔
رفعت آرأ نے اسے تھوڑا شانت دیکھ کر دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ ساتھ ہی ساتھ یقین دلانے لگیں۔ تھوڑی دیر میں صباء چائے لے کر آئی تھی۔ عمران بغور اسے دیکھنے لگا اس کی محبت پھر سے انگڑائی لینے لگی تھی۔ وہ کمرے میں آکر کافی دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔
رفعت آرأ نے سکھ کا سانس لیا۔ شام کو افتحار احمد کام سے واپس آئے تو پہلے دل چاہا انہیں سب بتا دے مگر خود سے ان کا تعلق خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں سو دل کی بات دل میں ہی دبا لی۔ البتہ عمران کے لیے انہوں نے ایک حل سوچ لیا تھا۔ کچھ دن یوں ہی گزرے تھے۔
سسرال میں عمران کی آمد ان کے لیے مثبت نہیں ہوسکتی تھی اس لیے ٹائم نکال کر میکے گئیں۔ عمران گھر میں ہی تھا۔ بہن کو دیکھ کر فوراً بے قرار دل کو سنبھالا اور پھر سے جواب چاہا۔
’’افتحار سے میں نے بات کی ہے۔ وہ تمہارے اور صباء کے رشتے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ان کی ایک شرط ہے۔‘‘ رفعت آرأ نے بات کو ٹالنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا اس وقت مناسب سمجھا۔ عمران کے چہرے پر طمانت کے ہزار رنگ اترے تھے۔ اسے ہر شرط منظور تھی۔
’’افتخار بھائی کی جو بھی شرط ہے مجھے سب منظور ہے آپا۔‘‘ خوشی و جوش سے کہا۔
’’تمہارے پاس ابھی کوئی جاب نہیں ہے۔ افتخار چاہتے ہیں کہ تم دو تین سال کے لیے باہر جاؤ‘ کام کرو‘ شادی تک خود کو مالی لحاظ سے سیٹ کرو اور جب واپس آؤ گے تب وہ تمہاری صباء سے شادی کردیں۔‘‘ سوچی سمجھی تمام پلاننگ رفعت اسے بتا رہی تھیں۔ جسے سن کر وہ جنگ جیتنے کی سی خوشی کے تاثرات چہرے ہر سجائے پُر وثوق لہجے میں بولا۔
’’ مجھے منظور ہے۔‘‘ رفعت آرأ اس کے مثبت جواب سے مطمئن ہوکر بولیں۔
’’افتخار یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم یہ سب باتیں ابھی کسی کو مت بتانا۔ تمہارے جانے کے بعد وہ خود مناسب وقت دیکھ کر صباء کو بھی بتا دیں گے اور ارسل کے گھر والوں کو بھی انکار کردیں گے‘ کیوں کے تمہاری شادی وہ صباء سے تمہارے سیٹ ہونے کے بعد ہی کریں گے تو ابھی سے کسی کو بھی بتانا مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ اپنے چالاک ذہن کا انہوں نے باخوبی استعمال کیا تھا۔
{…٭٭٭…}
اور عمران اپنے جذباتی پن کی وجہ سے با آسانی سب باتوں کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ بہن کو بھی چپ رہنے اور سیٹ ہونے کا پورا یقین دلایا۔ وہ مطمئن ہوکر گھر واپس آگئیں۔ بھائی کی صباء کے لیے ہر بات ماننا انہیں سوچ کی ایک اور راہ میں ڈال گیا تھا۔ وہ بھائی کی محبت کو بے مول بھی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ سو دل ہی دل میں اس کے لیے بھی بہتر حل تلاش کر لیا تھا جسے فی الحال ظاہر کرنا ضروری نہ تھا۔ سو چپ رہیں۔
صباء کو پانے کی جستجو عمران کے لیے ہر راہ ہموار کر رہی تھی۔ اس نے بیرون ملک جاب کے لیے اپلائی کیا جس کا کچھ ہی عرصے میں مثبت جواب آگیا اور یوں صباء کی محبت دل میں لیے وہ پردیس روانہ ہوا۔ رفعت آرأ اس کے جانے کے بعد تھوڑی مطمئن ہوگئی تھیں۔ البتہ ان کا ذہن اگلی چال کے لیے ہر وقت تانے بانے بننے میں مگن رہتا۔ یوں ہی وقت اپنی رفتار کے ساتھ گزرتا رہا۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہوگیا تھا۔ اس دوران رفعت آرأ کے ہاں چاند سی بیٹی پیدا ہوئی۔ سب خوش تھے۔ افتخار احمد نے بیٹی کا نام عنایہ افتخار رکھا۔ گھر میں اس ننھی پری کے آتے ہی رونق ہوگئی تھی۔ صباء اس کا بہت خیال رکھتی۔ زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔
ایک مہینے بعد ارسل بھی واپس آگیا تھا۔ اس کے آتے ہی صلاح مشورے کے بعد دونوں طرف شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔ صباء بہت خوش تھی۔ رفعت آرأ اسے خوش ومطمئن مسکراتا دیکھ کر عجیب الجھن کا شکار ہوئی تھیں۔ انہیں عمران کا خیال آتا تو گھر میں جاری تیاری اور خوشی کا سماں برباد کرنے کو دل کرتا بھائی سے جو جھوٹ بولا تھا وہ اسی طریقے سے تو تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا تھا مگر جیسے بھی سہی پر انہوں نے پہنچانا ضرور تھا۔ سو شادی کی تیاری کے ساتھ ساتھ اپنا منصوبہ بھی انجام تک لے جانے میں مصروف تھیں۔
البتہ ارسل اور صباء کی شادی مقررہ وقت پر انجام پذیر ہو چکی تھی۔ صباء نئی زندگی کے آغاز پر خوش تھی۔ ہر لمحہ اپنی خوشی کو ارسل سے منسوب کرتی محسوس کرتی۔ دن یونہی گزرتے جارہے تھے۔ وہ ارسل کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔ لیکن اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے ارسل اس سے بیزار ہو۔ وہ صباء سے بات نہیں کرتا تھا۔ ہر وقت اکھڑا اکھڑا رہتا بات بہ بات اسے کچھ ایسا کہہ جاتا کہ اس کی روح تک سلگ جاتی۔ صباء کے لیے ارسل کی بے اعتنائی ناقابلِ برداشت تھی۔ وہ ارسل کے رویے سے کمزور ہونے لگی تھی۔ زندگی بھی گویا امتحان ثابت ہونے لگی تھی۔ وقت اپنی رفتار کے مطابق گزر رہا تھا۔ گزرتا وقت اس پر ارسل کے رویہ کی حقیقت واضح کر گیا تھا۔
ارسل کو اس پر شک تھا۔ اس کی محبت پر یقین نہیں تھا۔ محبت سے گندھے رشتوں میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی مگر جس رشتے میں شک آجائے وہ پائیدار نہیں رہتا۔ ارسل ایک کمزور شخص تھا اور رفعت آرأ پہلی بار اس سے بات کرنے کے بعد اس کی کمزوری بھانپ گئی تھیں سو دل کھول کے شک کا بیج بویا۔ ہر وہ حربہ آزمایا جس سے ارسل کا دل متنفر ہوسکے نتیجتاً ارسل نے اپنے رویے سے ہر وہ عمل کیا جو ان دونوں کے مابین رشتے کی جڑیں کھوکھلی کر گیا تھا۔ صباء نے اس کے دل میں موجود شک کی وجہ کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہی۔ ارسل نے شک کے ہاتھوں اپنے اندر جاری جنگ سے شکست کھا لی تھی۔ شادی کے کچھ ہی مہینوں بعد صباء کو عمران کی ذات سے منسوب کرکے خود بری الزماں ہو گیا تھا اور صباء گلے میں طلاق کا طوق لیے واپس میکے آگئی۔ صباء کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ زندگی ایک دم سے تلخ لگنے لگی تھی۔ بے قصور ہوتے ہوئے بھی الزام ماتھے پر چمک رہا تھا۔ رفعت آرأ نے اس کی خوب دل جوئی کی۔ وہ دونوں بہن بھائی رفعت آرأ کی سچائی سے بے خبر تھے۔ جو ہمدرد بنی ان دونوں کے ساتھ آنسو بہا رہی تھیں۔
افتخار احمد بھی بہن کو واپس لے تو آئے تھے مگر اسے حوصلہ نہیں دے سکے تھے۔ خود بھی اندر سے ٹوٹ گئے تھے۔
{…٭٭٭…}
وقت کی رفتار انسان کو رکنے نہیں دیتی۔ جو ایک بہت اچھا فعل ہے۔ اگر انسان ماضی کو خود سے لپیٹ کر اذیت ناک یادوں کے خول میں قید کرلے تو شاید سانسیں گھٹن کا شکار ہو جائیں۔ سانسوں کی روانی وقت کے ساتھ چلنے سے مضبوط ہوتی ہے۔ صباء بے شک اپنی زندگی سے ارسل کی یادوں کو نکالنے میں ناکام رہی تھی مگر رفعت آرأ اسے اسی جگہ رکنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔ وہ رفعت آرأ کے اصل مقصد سے تو بے خبر تھی اسی لیے انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی۔ اپنا ہمدرد سمجھتی۔ جس کا رفعت آرأ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ شوہر کی نظر میں بھی عزت بنائی اور بے صبری سے اس وقت کا انتظار کیا جب عمران واپس آکر صباء کو اپنی زندگی میں شامل کرکے اس کا احسان مند ہوتا۔ ماں بیچاری بھی طویل بیماری کے بعد پچھلے سال مر گئی تھی۔ اب گھر سنبھالنے کے لیے بھی کوئی نہ کوئی تو چاہیے تھا۔
صباء نے خود کو گھر کے کاموں میں الجھا لیا تھا۔ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا تھا۔ عمران تین سال بعد واپس آیا۔ مالی لحاظ سے کافی مستحکم بھی ہوچکا تھا۔ دل میں صباء کی محبت زندہ تھی۔ آنکھوں میں اسے دیکھنے کی بیتابی تھی۔ محبت جوں کی توں برقرار تھی۔ آنے سے قبل رفعت آرأ سے مسلسل رابطے میں رہتا تھا۔ وہ اسے یقین دہانی کرواتیں کہ سب ٹھیک ہے۔ وہ خوش ہو جاتا اور اب اس کے آنے کے اگلے دن رفعت آرأ اس سے ملنے آئیں تھیں۔ وہ خوش دلی سے ان سے ملا تھا۔ ان کے لیے‘ عنایہ کے لیے اور خصوصاً صباء کے لیے ڈھیر سارے تعائف لایا تھا۔ جسے رفعت آرأ نے قبول کرنے کے بعد سنجیدگی سے صباء کی شادی اور طلاق کے متعلق اسے بتایا تھا۔ ساتھ ہی اپنا قصیدہ پڑھنا نہ بولیں کہ طلاق انہی کی وجہ سے ہوئی تھی۔
’’لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ افتخار بھائی اس کی شادی مجھ سے کروانا چاہتے تھے پھر اس کی شادی ارسل سے کیسے ہو گئی؟‘‘ اس نے حیرانگی سے پوچھا۔
رفعت آرأ ایک لمحے کو ہچکچاہٹ کا شکار ہوئیں مگر پھر جلد ہی خود کو سنبھال کر صفائی پیش کی۔
’’افتخار اور میں نے صباء کو بہت سمجھایا تھا۔ مگر اس پر ارسل کے عشق کا بھوت سوار تھا۔ ہم کیا کرتے سارے خاندان میں تماشہ بنا رہی تھی مجبوراً شادی کروانی پڑھی۔ لیکن مجھے صرف تمہارا خیال تھا میں نے اسے بسنے نہیں دیا۔ صرف تمہاری خاطر۔‘‘ رفعت آرأ شاطر دماغ تھی۔ پل میں معاملہ سلجھا گئی۔ عمران نے سر جھٹکا۔ دل جیسے ٹوٹ سا گیا تھا۔ خواب بھی گویا چکنا چور ہوگئے تھے۔
’’کیا ضرورت تھی آپا اگر اس کا گھر بس گیا تھا تو بسنے دیتیں۔‘‘ مردہ دل کے ساتھ بولا۔
’’اے لو سب تمہاری وجہ سے کیا۔ اتنا بڑا کھیل رچایا۔ اس کی شادی کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ صرف تمہارے لیے۔ اب تم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔‘‘ اس کی بات سے رفعت آرأ کو گویا حیرت کا شدید دھچکا لگا تھا۔ سرعت سے بولیں۔ خبردار بھی کیا۔ پچھلے کچھ عرصے سے شوہر کو آگاہ بھی کردیا تھا کہ عمران کو صباء کے بارے میں بتایا ہے جسے سن کر وہ بہت افسردہ ہوا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے اور صباء سے شادی کرکے ان کے دکھ کو کم کرنا چاہتا ہے۔ افتخار احمد سن کر عمران سے بے حد متاثر ہوئے تھے۔ بیگم کا بھی شکریہ ادا کیا اور اب انہیں شوہر کی نظر میں اپنی پوزیشن بھی مستحکم کرنی تھی۔ عمران مزید کچھ نہ بول سکا۔
رفعت آرأ اسے تیاری کا کہہ کر واپس آگئیں۔ چہرے پر جھوٹی خوشی اور مسکراہٹ سجائے سب سے پہلے افتخار احمد کے پاس ہی گئیں تھیں۔ انہیں کہا کہ عمران جلد از جلد صباء سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ وہ مطمئن ہوگئے۔ راضی تو پہلے ہی تھے۔
’’تم صباء کو بھی بتادو‘ ہوسکتا ہے وہ پہلے انکار کرے مگر ساری عمر یوں اکیلے گزارنا ناممکن ہے۔ اسے میری رضا مندی کا بھی بتا دینا۔‘‘ افتخار احمد نے بیگم کو ہی بات آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی۔
اور رفعت آرأ تو سب کچھ پہلے سے ہی ذہن میں ترتیب دے چکی تھیں۔ ان کے کہنے پر صباء کے پاس گئیں۔ صباء نے اول تو ان کی سوچ کے مطابق انکار ہی کیا مگر رفعت آرأ اپنے نام اور کام میں واحد تھیں۔ ہزار قابلِ قبول جواز پیش کیے۔
’’عمران کی خواہش ایک طرف صباء اپنے بھائی کے بارے میں سوچو جو ہر وقت تمہارے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ تمہارے مستقبل کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ تمہیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں اور سب سے بڑی بات لوگوں کی باتیں سنتے ہیں۔ لوگ انہی کو برا بھلا کہتے ہیں کہ وہ تمہاری پروا نہیں کرتے۔ تمہیں نوکرانی بنا کر خدمت کرواتے ہیں۔ افتخار کی خواہش ہے کہ تمہارا گھر بس جائے۔ اپنا نہ سہی ان کا خیال کرلو۔ ماں باپ کے بعد کتنی محبت سے انہوں نے تمہیں سنھبالا ہے۔ ان کی محبت کا پاس رکھ لو۔‘‘ انہوں نے جذباتی بلیک میلنگ بھی کی صباء انکار نہ کرسکی۔
رفعت آرأ نے تشکر کا سانس لیا کہ جو بھی تھا سب لوگوں کی خواہش کے ساتھ ان کی ذاتی خواہش بھی پوری ہونے والی تھی۔ وہ صباء کو شوہر کی ذمہ داری سے نکال کر صرف اور صرف اپنی اولاد کی فکر کرنا چاہتی تھیں۔ یوں تمام معاملات جلدی سے طے پاتے گئے۔ صباء کا دل نارمل تھا اس نے کوئی خاص تبدیلی اپنے اندر محسوس نہیں کی تھی۔
دوسری طرف عمران نے بھی دل کی تسکین کے لیے صباء کو اپنا لیا تھا مگر جو صباء کی ارسل کے لیے بے تابی کا تذکرہ سن کر اس کی انا کو ٹھیس پہنچی تھی اس نے اس کے دل میں صباء کے لیے موجود محبت کو منوں مٹی تلے دفنا دیا تھا۔ عمران کا درد تازہ تھا۔ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد سطحی سوچ بھی کھل کر سامنے آگئی تھی۔ ٹھکرائی ہوئی طلاق یافتہ عورت دھیرے دھیرے دل و دماغ پر بوجھ لگنے لگی تھی۔ عشق محبت کا فسانہ‘ زندگی کی تلخ حقیقت بنا تو زبان بھی ہر لمحہ زہر اگلنے لگی۔ اسے ارسل کی ذات کے حوالے سے طعنے دیتا۔ اس کی کردار کشی کرتا۔ صباء کا صبر جواب دینے لگتا۔ ایک دو بار پلٹ کر اسے جواب دے دیتی جس سے اسے مزید غصہ آتا۔ جسے اتارنے کے لیے وہ زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی چلانے لگتا۔
اس کی زندگی مکمل عذاب بن چکی تھی۔ ایسے میں وہ خود بالکل بے بس تھی۔ بس کبھی کبھی ماں کی باتیں یاد آتیں تو دل کھول کر روتی۔ مرنے سے پہلے وہ اسے شفقت سے پاس بیٹھا کر سمجھایا کرتیں تھیں۔
’’بیٹا‘ وہ عورت بیوقوف ہوتی ہے جو مرد کو غصہ دلاتی ہے۔ مرد کا غصہ وقتی ہوتا ہے۔ مگر مرد کی انا کسی چٹان سی ہوتی ہے جسے توڑنے کی کی جستجو میں عورت خود ٹوٹ جاتی ہے‘ بکھر جاتی ہے‘ برباد ہوجاتی ہے شوہر اگر کچھ برا کہے تو پلٹ کر اس پر وار مت کرو۔ صبر سے کام لینا عقل مندی ہے‘ ایک کامیاب زندگی کے لیے خود کو شوہر کی محبت‘ عزت اور حکم کا پابند رکھو۔ وہ تمہاری عزت کرے گا۔ وہ تمہاری عزت کی حفاظت کرے گا۔ تمہیں زندگی کا ہر سکھ تمہارے قدموں میں لا کر دے گا۔ اپنی بے لوث محبت دے گا اور عورت عزت اور محبت ہی کی تو پیاسی ہوتی ہے۔‘‘ وہ بہت دھیان سے ماں کو سنا کرتی تھی۔
’’اور بیٹا جانتی ہو‘ شوہر جیسا بھی کیوں نہ ہو بیوی کی چادر اور چار دیواری ہوتا ہے۔ شوہر بیوی کا اصل محافظ ہوتا ہے۔ اسے ایک مکان میں محفوظ چھت مہیا کرتا ہے۔ دن بھر مشقت کرتا ہے اس لیے نہیں کہ اسے احسان جتانے کا موقع مل سکے بلکہ اس لیے کہ اسے بیوی سے جڑے اپنے مقدس رشتے سے محبت ہوتی ہے اور اس کی ساری محنت اسی محبت کے فرض کو انجام دینا ہوتی ہے۔‘‘ دھیرے دھیرے ماں کے الفاظ اسے ضبط کرنا سیکھا گئے تھے مگر اس کا ضبط ایک بار پھر عمران اسے رفعت آرأ سے متعلق اس کی پہلی زندگی اجاڑنے کا قصہ غصے میں سناکر آزما گیا تھا۔ تب حقیقتاً وہ بکھری تھی۔ اول تو اسے یقین ہی نہیں آیا تھا۔ خود کو بے بس محسوس کرتی وہ اس دن بہت روئی تھی۔ قسمت کی ستم ظریفی پر اس نے اللہ سے بہت گلہ کیا تھا۔ مگر اسی وقت خود کو سنبھال گئی تھی۔
جو ہوچکا تھا برا ہوا تھا مگر اب جو برا ہورہا تھا اسے اس کو ٹھیک کرنا تھا۔ سو خود کو اندر سے مضبوط کرلیا۔ جانتی تھی اب کہ اگر اجڑ کر واپس گئی تو بھائی کی نظر میں بھی کوئی وقعت نہیں رہے گی۔ زندگی مزید تلخ ہوجائے گی۔ اسے اپنی زندگی کو مزید تلخ نہیں بنانا تھا۔ عمران جیسا بھی تھا۔ اس کا شوہر تھا۔ اس کی ’’چادر اور چار دیواری‘‘ تھا جو اس متنفر تو تھا مگر اس کا مخافظ بھی تھا۔ وہ اسے اپنی توجہ اور محبت سے ٹھیک کرسکتی تھی۔ اس نے پختہ عزم کر لیا تھا۔
عمران کا رویہ ہنوز اس سے بدترین تھا مگر اس نے درد سہنے کی عادت پختہ کرلی تھی اس امید کے ساتھ کہ اس کی مسلسل کوشش بہتری کی نوید بن سکتی ہے‘ دکھ کو چادر میں لپیٹ کر اس نے ایک کونے میں رکھ دیا تھا۔
رفعت آرأ مکمل باخبر تھیں مگر خود کو لاتعلق رکھا ہوا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ صباء کی زندگی کے بارے میں افتخار احمد کو کچھ بھی پتہ چلے اور وہ غلط روپ میں سامنے آئیں۔ سو ہمیشہ کی طرح جھوٹ کا سہارا لیتیں وہ انہیں اپنے اردگرد ہی مصروف رکھتیں کہ صباء کی طرف ان کا دھیان ہی نہ جاسکے۔ البتہ حقیقت جاننے کے بعد صباء ان سے متنفر ہوگئی تھی۔ جسے ظاہر کرنا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔ بس دل ہی دل میں بھابی کے کیے پر افسوس بہت تھا۔ نشیب و فراز کے ساتھ زندگی کی گاڑی رواں دواں تھی۔
اس دوران صباء کے ہاں سالک کی صورت میں خوشگوار تبدیلی آئی۔ وہ بہت خوش تھی۔ عمران بھی سالک کی آمد سے بہت خوش ہوا تھا۔ جس کا اظہار اس نے صباء سے بھی کیا۔ صباء اسے خوش دیکھ کر مطمئن ہوئی اور ہوتی بھی کیوں نہ پچھلے کچھ عرصے سے اس کا دیا ہر دکھ‘ اذیت‘ طعنہ اور ذلت اسی دن کے لیے تو صبر سے برداشت کرتی آئی تھی۔ اپنے لبوں پر قفل اسی دن کے لیے تو اس نے ڈالے تھے کہ عمران تھک ہار کر بدل جائے۔ اس کے لیے دل سے کدورت نکال کر نرم جذبہ رکھے۔ نماز کی پابندی کے ساتھ کتنی دعائیں وہ اللہ پاک سے عمران کے اپنے حق میں اچھا ہونے کے لیے مانگتی تھی۔ اور اب جب عمران کا دیا ہر دکھ برداشت کرنے کے بعد سالک کی آمد کے ساتھ ہی اس کی ہر دعا مستعجاب ہوئی تھی تو وہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر شکر گزار ہوگی تھی۔
عمران نے اگرچہ اس سے اپنے کسی رویے کی معافی نہیں مانگی تھی مگر صباء کی ثابت قدمی و برداشت کے بعد اس کا جارحانہ رویہ و تمام بد اخلاقی زائل ہوتی چلی جا رہی تھی۔ غلط الفاظ کے ساتھ ساتھ اسے مارنا پیٹنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ دل بھی ایک بار پھر اس کے لیے گداز ہونے لگا تھا۔ وہ چپ چاپ اپنی بدلتی کیفیت سے مطمئن تھا۔ ہاں اتنا سوچ چکا تھا کہ اب آگے اسے کوئی دکھ دانستہ نہیں دے گا۔ اس کا اس کی ضرورتوں کا خیال کرے گا۔ اسے ہر وہ خوشی دے گا جس سے آج تک وہ محروم تھی۔ اسے اس کا ہر وہ حق دے گا جس سے اس نے پچھلے کچھ عرصے سے کوتاہی برتی تھی۔ گھر میں ماحول بھی اس کی سوچ کے ساتھ بدلا تھا۔
صباء کے اداس مرجھائے چہرے پر سالک کی ہنسی کے ساتھ ساتھ مسکراہٹ شامل ہونے لگی تھی۔ مگر یہ خوشی اور مسکراہٹ اس کے نصیب میں زیادہ دیر کے لیے نہیں تھی۔ ایک دن عمران گھر کا سامان لانے کے لیے بازار گیا مگر راستے میں بھیانک حادثے کا شکار ہوگیا کسی نامعلوم گاڑی کی زد میں آکر وہ زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ وہ دن صباء کی زندگی کا بھیانک دن ہی تھا جو اس کی اور سالک کی زندگی سوالیہ نشان بن کر گئی تھی۔ سب کچھ ایک لمحے میں تباہ ہو گیا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔ عمران کا دیئے ہر زخم سے گہرا کربناک تکلیف دہ زخم اس کی موت کا دکھ تھا۔
اس کا دل کمزور ہو گیا تھا… وہ بہت روئی تھی۔ ایک بار پھر وہ چادر و چار دیواری سے محروم ہوگئی تھی۔
بھائی کی موت سے رفعت آرأ بھی دکھی تھی۔ لیکن افتخار احمد سے بہن کا دکھ اور رونا برداشت نہ ہوا۔ اس کی گود میں بلکتا بچہ تھا اور تن تنہا پہاڑ جیسی زندگی کی آزمائشوں کا ایک طویل سفر تھا۔ وہ بہن کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اس کے انکار کے باوجود اسے اپنے گھر لے آئے۔ بھائی کی موت کا دکھ اپنی جگہ مگر رفعت آرأ‘ صباء کی بچے سمیت آمد پر ناخوش تھیں۔ جسے صباء نے محسوس کرلیا تھا۔ کچھ بھابی سے متعلق پرانی یادیں بھی ذہن میں تازہ ہوگئی تھیں۔ انہیں جب بھی نظروں کے سامنے دیکھتی اپنے اندر آلاؤ سا اٹھتا محسوس ہوتا۔ جسے باہر نکالنے کا دل چاہتا۔ ان کا ظاہری بناوٹی روپ زہر لگتا‘ دل تڑپتا‘ تو دماغ کی نسیں پھٹنے لگتیں جبکہ وہ خود کو کسی بھی قسم کے حالات و واقعات سے لاتعلق کیے اپنی زندگی بھرپور انداز میں بسر کر رہی تھیں۔ صباء انہیں دیکھ کر الجھ جاتی تھی۔
یوں ہی دن‘ ہفتوں میں بدل رہے تھے‘ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے جا رہے تھے۔ زندگی دکھ درد اس کے دل پر رقم کیے بہت آگے نکل آئی تھی۔
عنایہ اور سالک بھی جوان ہو گئے تھے۔ عنایہ سالک سے چار سال بڑی تھی مگر دبلی پتلی سی‘ نازک سراپا اسے سالک کے چوڑے قد آور وجود کے سامنے چار سال چھوٹا ظاہر کرتا تھا۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب آ گئے تھے۔ جسے سب دوستی کی نظر سے دیکھتے مگر در حقیقت وہ دونوں دوستی کی حدیں عبور کرکے بہت آگے تک آگئے تھے۔ جسے ان دونوں کے بعد محسوس صرف صباء احمد نے کیا تھا اور جسے محسوس کرنے کے بعد برسوں پہلے الجھے ذہن کو سلجھانے کا خیال ان کے دل و دماغ میں کوندا تھا اور وہ خیال بہت واضح طور پر ہر الجھے دھاگے کو سلجھا گیا تھا۔
سچ ہے عورت کبھی اپنا ماضی نہیں بھولتی‘ اپنا دکھ نہیں بھولتی اور اپنی ہر اذیت کی اصل وجہ نہیں بھولتی۔ عورت بے شک نازک‘ ڈرپوک‘ کمزور ہو مگر جب وقت و حالات اسے الگ روپ دھارنے پر مجبور کرتے ہیں تب عورت سے زیادہ خطرناک کوئی نہیں ہوتا۔ برسوں بعد صباء احمد بھی اندرونی کیفیت و رفعت آرأ کی اصلیت سے باخبر انتقام لینے کو تیار تھیں۔
چادر اور چار دیواری سے محرومی کا ازالہ رفعت آرأ سے بدلہ ہی کرسکتا تھا اور اس بار وہ کھیل رچنے کو تیار تھیں۔ سالک کو عمران کی جگہ رکھ چکی تھیں۔ اب بس اسے ارسل کی تلاش تھی۔ جو چند دنوں میں ہی پوری ہوچکی تھی۔ رفعت آرأ کی خالہ زاد نورین بیگم کا بیٹا سمعان ایک دن ماں کے کسی کام سے وہاں آیا تھا۔ تب صباء کی انتقامی نظروں نے اس کا بھرپور جائزہ لیا اور جائزے کے دوران جس حقیقت کا ادارک انہیں ہوا تھا وہ صباء کی دلچسپی مزید بڑھا گیا تھا۔ سمعان جتنی دیر وہاں تھا بس عنایہ کی ذات میں محو تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرائے جارہا تھا۔ ایک آدھ بار افتخار احمد نے بھی اس کی نظروں کا تعاقب کیا مگر گھر آئے مہمان سے باز پرس انہیں مناسب نہیں لگا تھا۔ چائے وغیرہ پینے کے بعد جب وہ اجازت لے کر باہر آیا تب صباء نے اسے باہر آواز دے کر روک لیا۔
’’سمعان۔‘‘
’’جی آنٹی؟‘‘ وہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’تم عنایہ سے محبت کرتے ہو‘ اگر واقعی کرتے ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ میں تمہارے لیے افتخار بھائی سے بات کرسکتی ہوں لیکن اس صورت میں کہ اگر تم سنجیدہ ہو اور اپنے گھر والوں سے بات بھی کرو تو۔‘‘ وہ بولیں۔
یہ پلان صباء نے اپنی زندگی سے تھوڑا مختلف بنایا تھا۔ جانتی تھیں سالک سے رفعت آرأ عنایہ کی شادی نہیں کروائیں گی کیونکہ ابھی تک وہ بیروزگار تھا۔ جبکہ عنایہ کے لیے انہوں نے بیشمار سپنے دیکھ رکھے تھے۔ صباء ان سپنوں کو توڑنا چاہتی تھیں۔ انہیں عنایہ کی شادی اور فوراً طلاق کروانا تھی۔ جس کے لیے سمعان انہیں موزوں لگا تھا۔
’’میں واقعی سنجیدہ ہوں آنٹی‘ آپ کے تعاون کا شکریہ۔ میں آج ہی گھر میں بات کرلوں گا۔‘‘ جبکہ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔
صباء اس کے جانے کے بعد بھائی کے پاس واپس آئیں اور بڑے طریقے سے ان سے بات کی۔ جسے ہمیشہ کی طرح انہوں نے بڑے تحمل سے سنا اور سننے کے بعد مثبت جواب بھی دیا۔
’’ٹھیک ہے صباء اگر وہ رشتہ لے کر آئیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘ سمعان کا عنایہ کو دیکھنا ان کے فیصلے میں معاونت کا ذریعہ بنا تھا۔
اور یوں بات سے بات آگے نکلتی گئی۔ سمعان نے گھر والوں سے بات کی۔ بیٹے کی خوشی کی خاطر وہ بھی راضی ہو گئے۔ باقاعدہ رشتہ بھی لے کر آئے۔ پھر آنا جانا بھی لگا رہا۔ مناسب وقت بھی تھا۔ عنایہ کو جب علم ہوا تو باپ کے سامنے انکار نہ کرسکی۔ رشتہ طے کر دیا گیا۔ سالک بھی اتفاقاً دوستوں کے ساتھ ماں سے اجازت لے کر گیا ہوا تھا اس لیے جب عنایہ نے رشتے سے متعلق اس سے رابطہ کرنا چاہا تب اسے سخت مایوسی نے گھیرا اور سالک کی آمد سے قبل ہی صباء کی صلاح پر تمام کام جلدی سے نمٹائے گئے۔ منگی کی سادہ سی رسم کی گئی تھی۔ عنایہ سالک کی غیر موجودگی میں مجبوراً چپ تھی۔ رفعت آرأ بھی بیٹی کی سمعان کے ساتھ نسبت طے ہونے پر خوش تھیں۔ سمعان ایک خوش اخلاق‘ خوبرو قابل لڑکا تھا۔ مالی لحاظ سے بھی مستحکم تھا۔
کچھ دن بعد سالک واپس آیا۔ عنایہ سے ملاقات سے قبل ہی صباء نے اسے روک لیا۔ ساتھ ہی جھوٹ کا سہارا لے کر اسے عنایہ اور سمعان کے رشتے کے متعلق بتاتے ہوئے عنایہ کی رشتے کے لیے دلی رضا مندی کا بھی حال سنایا۔ جسے سن کر وہ پریشان ہوا۔
’’بیٹا سمعان ہر لحاظ سے سیٹ ہے اور آج کل لڑکیاں بیروزگار لڑکے کے بارے میں بات تک کرنا پسند نہیں کرتیں چہ جائیکہ ساری عمر محبت کے نام پر سمجھوتہ کرتیں پھریں‘ صرف محبت ہی سے تو زندگی نہیں گزرتی۔‘‘
صباء نے ایک اور پہلو اس کے سامنے رکھا جبکہ سالک کی حیرت پر افسردگی غالب آگئی تھی۔ ایک لفظ مزید نہ بولا نہ کوئی سوال کیا۔ نہ عنایہ سے ملنے گیا۔ عنایہ کا فیصلہ اسے حقیقت سے قریب لگا۔ سمعان اور خود میں ہر لحاظ سے فرق نظر آیا تھا۔ اس کے نزدیک عمر کا فرق تو کوئی معنی نہیں رکھتا تھا لیکن ابھی تک وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوا تھا پھر کیسے ماموں سے اس کا ہاتھ مانگتا۔ اسی سوچ کی بے چارگی کے ساتھ کمرے میں بند ہوگیا تھا۔
{…٭٭٭…}
عنایہ کو اس کی واپسی کے متعلق علم نہیں تھا ورنہ وہ پہلی فرصت میں اس کے پاس دوڑی چلی آتی۔ البتہ میسجز کے ذریعے سالک سے ملنے کا بار بار کہہ رہی تھی۔
’’ہونہہ ملنے کا کیا فائدہ؟ معذرت کرنا چاہتی ہوگی کہ پیار محبت سب دل کی غلط فہمی تھا وہ سمعان سے شادی کرنا چاہتی ہے۔‘‘ سالک نے اس کے مدعے کا اندازہ لگاتے کسی بھی میسج کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ منگنی کے متعلق سننے کے بعد ایک بار بھی اس سے ملنے کا خیال اپنے دل میں لائے بغیر اس کی ذات اور اس سے متعلق سوچوں سے لاتعلق ہوگیا تھا۔
عنایہ اس کی قطع تعلقی پر حیران پریشان تھی۔ کئی بار پھوپو سے بھی اس کے بارے میں پوچھا لیکن صباء نے اسے کوئی بھی تسلی بخش جواب نہ دیا۔ وہ سخت بے چین تھی۔ کافی عرصہ گزر گیا تھا۔ گھر میں اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔ وہ مایوس سی آرزدہ‘ افسردہ دل کے ساتھ خود کو حالات کے حوالے کیے آنے والی زندگی کے لیے تیار کررہی تھی۔
{…٭٭٭…}
سمعان سے اس کی شادی کو دو ماہ گزر گئے تھے۔
وہ خود کو اندر سے نہیں بدل سکی تھی۔ دل میں سالک کی محبت اب بھی برقرار تھی۔ شادی کے بعد سمعان نے بھی اسے ہر ہر دن بغور دیکھا اور جائزہ لیا تھا۔ دونوں ایک ہی گھر میں ایک ہی کمرے میں ایک چھت تلے رہ رہے تھے مگر ایک نہیں تھے۔ دونوں ابھی تک ایک دوسرے سے اجنبی تھے۔ دونوں نے اپنے بیچ حائل اجنبیت کی دیوار کو پار کرنے کی ذرا سی بھی کوشش نہیں کی تھی۔ دونوں اپنے اپنے خول میں قید ایک دوسرے سے بیزار ہوتے جا رہے تھے۔ جس کا میکے آنے کے بعد عنایہ نے ماں کے بجائے پھوپو سے ذکر کیا تھا۔ شروع سے وہ صباء سے بے حد نزدیک رہی تھی۔
صباء احمد نے اس کا ایک ایک لفظ سننے کے بعد ڈھیروں سکون اپنے اندر اتارا تھا۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی تھی۔ شادی کے دن سمعان کو عنایہ کی سالک سے محبت و تمام جذبات و احساسات بتا کر انہوں نے اس کے دل میں شک کا بیج بویا تھا۔ جسے عنایہ کی اس سے دوی و دانستہ فاصلے نے پروان چڑھایا تھا۔ عنایہ شاید سالک کو بھول جاتی اگر سمعان اس کی طرف پہل کرتا مگر سمعان کو صباء احمد کی باتوں کے بعد عنایہ کی چپ الجھا گئی تھی۔ وہ کسی قسم کا شک ذہن میں نہیں لانا چاہتا تھا مگر عنایہ کی بے خیالی اور الجھن زدہ چہرہ اسے الجھا کر اس سے بدظن کر چکے تھے۔
’’پھوپو میں سالک سے پیار کرتی تھی۔ بلکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔ سمعان سے میری شادی اتنی جلدی میں ہوئی کہ میں سالک سے بات بھی نہیں کرسکی۔ وہ بھی مجھ سے خفا ہوگیا ۔ ایک دن بھی اس نے مجھ سے بات نہیں کی۔‘‘ عنایہ صباء کی گود میں سر رکھے رونے لگی تھی۔
اس لمحے صباء نے رفعت آرأ کا چہرہ یاد کیا اور انہی کی طرح مکر اپناتے ہوئے اس سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا تھا۔
’’اگر تم اور سالک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔ سالک بھی چپ چپ رہتا ہے مگر اس بارے میں اس نے کبھی بھی کوئی بات نہیں کی۔ ہم اتنے ظالم تو نہیں تھے کہ تم دونوں کو ایک دوسرے سے دور کرتے۔‘‘ انہوں نے نرم لب ولہجے سے شفقت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
’’پھوپو میں اب بھی سالک سے پیار کرتی ہوں۔‘‘ وہ بیچارگی سے بولی۔
’’تو بیٹا ایک آخری فیصلہ کرلو۔ اگر تم سمعان کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے علیحدہ ہو جاؤ۔ میں بھائی سے بات کرکے تمہاری اور سالک کی شادی کروا دوں گی۔‘‘ ایک لمحے کو یہ کہتے ہوئے انہیں رکنے پر مجبور کر گیا تھا مگر اگلے ہی پل رفعت آرأ کا خیال انہیں سر جھٹکنے پر بے لچک انداز میں کہنے پر مجبور کر گیا۔
عنایہ کو گویا ان کی بات سے حوصلہ ملا تھا وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتی اٹھی تھی۔ ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑے موبائل سے سمعان کو میسج سینڈ کیا تھا۔
’’مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا‘ مجھے طلاق چاہیے۔‘‘ صباء نے ترچھی نگاہ سے میسج پڑھا تھا۔ بدلہ پورا ہونے کے بہت نزدیک تھا۔ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ در آئی تھی۔ اب بس اس لمحے کا انتظار کررہی تھیں جب سمعان اسے طلاق دیتا اور رفعت آرأ کو اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوتا۔
{…٭٭٭…}
’’تم پاگل ہوگئی ہو کیا؟‘‘ سالک نے جب عنایہ کی زبانی تمام قصہ سنا تو بے یقینی و دکھ سے چلایا۔
’’میں تم سے پیار کرتی ہوں سالک۔‘‘ محبت کی بے بسی عروج پر تھی۔ عنایہ اس کے سامنے معصومیت سمیٹ کر بولی۔
’’لیکن میں اب تم سے کوئی تعلق روا نہیں سکتا۔‘‘ وہ عمر میں اس سے چھوٹا ضرور تھا مگر نہایت سنجیدگی و سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔
’’کیوں سالک؟‘‘ وہ رو دی۔
’’کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ جس محرومی سے میں اور میری ماں گزرے ہیں تم اس کا سامنا کرو‘ کسی بھی مسئلے کا حل طلاق یا دوسری شادی نہیں ہوتا۔ عورت کو تو اللہ پاک نے بہت بڑا دل دیا ہے۔ عورت چاہے تو خود کو ہر جگہ معتبر بنا سکتی ہے اور تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ عورت کی اصل عزت اس کے شوہر سے ہوتی ہے۔ شوہر جیسا بھی ہو ایک عورت کے لیے مضبوط سہارا ہوتا ہے۔ طلاق لینا اب تمہارے لیے آسان ہوگا لیکن اس کا بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زندگی کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ سمجھو اس بات کو اپنی زندگی برباد مت کرو‘ میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکوں گا‘ نہ میں ابھی اس قابل ہوں کہ شادی کی ذمہ داری اٹھا سکوں مجھ سے جڑی ہر امید توڑ دو… پیار زندگی کی حقیقت نہیں ایک جز ہے جبکہ نکاح جیسا مقدس رشتہ اس ایک جز پر سو گنا بھاری اور مضبوط ہوتا ہے‘ میری خاطر خود کو مت اجاڑو۔‘‘ سالک نے تفصیل سے اسے جواب دیتے ہوئے اس کا اعتبار و یقین توڑا تھا۔ اس کی ہر امید کو سرے سے خود الگ کیا تھا۔ وہ ندامت سے کھڑی تھی۔ صاف واضح جواب مل چکا تھا۔ سالک جاچکا تھا۔ آنسوؤں سے بھری آنکھیں سرخ ہونے لگیں تھیں۔
جس محبت کے سہارے اس نے طلاق لینے کا فیصلہ کیا تھا وہ محبت اسے آئینہ دکھا گئی تھی۔ اس کی اپنی سوچ صرف محبت تک محدود تھی مگر اس کی محبت‘ محبت سے زیادہ اس کی عزت و تخفظ کے لیے اس کے مستقبل کے لیے فکر مند اسے بھی سوچنے ہر مجبور کر گئی تھی۔ وہ شرمندگی و ندامت سے رو رہی تھی۔
پردہ کی اوٹ میں کھڑی صباء احمد ماضی کی تلخ یادوں سے باہر آئی تھیں۔ اب کہ آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ اندر بھی گویا طوفان بھرپا تھا۔ کچھ تو تھا‘ ایسا کچھ تھا ضرور جو ان سے وہاں کھڑا ہونا مشکل ہوگیا تھا۔ جھوٹی ہمدردی جتنانے وہ عنایہ کی طرف بڑھنے کے بجائے اپنے کمرے کی جانب آگئیں۔ عنایہ اور سالک کی گفتگو انہوں نے سن لی تھی۔ عنایہ کا رونا اپنی جگہ انہیں سالک کی باتوں نے بری طرح ہلا دیا تھا۔ اس کی ایک ایک بات کانوں میں مسلسل گونج رہی تھی۔ ذہن و دل بے سکوں ہوتے جا رہے تھے۔
وہ سالک کو عمران کی جگہ رکھنا چاہتی تھیں مگر سالک نے عمران بننے سے انکار کر دیا تھا۔ انکار کی وجہ وہ جانتی تھیں کیوں کہ انہوں نے اس کی بہترین تربیت کے ساتھ اسے اپنا ہر دکھ محسوس کروایا تھا۔ اپنی محرومی کا احساس دلوایا تھا۔ اپنی زندگی کی ہر اذیت کو اس کے سامنے بیان کی تھی اور بغیر کسی منفی سوچ کے محسوس کروایا تھا۔ افتخار احمد ان کے ساتھ اچھے تھے مگر ان کے دکھ کا ازالہ مکمل نہیں تھا۔ سالک سے متعلق خواہشات انہیں شوہر کی کمی کا احساس دلاتی تھیں۔ رفعت آرأ زبانی لحاظ سے ان کے ساتھ اچھی تھیں مگر سالک بھتیجا ہونے کے باوجود اپنی اولاد کی زندگی کے سامنے بوجھ دکھائی دیتا تھا مگر سالک‘ صباء کا واحد سہارا تھا سو اسے ہر بات سے باخبر رکھ کر جینا سکھایا تھا بدلہ کی سوچ تو ان کے دماغ میں بہت بعد میں جاگی تھی۔
مگر آج سالک کی باتوں نے ان کے ضمیر کو جھنجھوڑا تھا۔ وہ افسردہ ہوئی اور پشیمان تھیں۔ اپنی طلاق کے وقت افتخار احمد کا بے بس لاچار چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا تو مزید خفت سے دوچار ہوئیں۔ کتنا ٹوٹے تھے وہ بہن کا گھر برباد ہونے پر اور اب اگر بیٹی کا گھر برباد ہوتا دیکھتے تو شاید زندہ نہ رہ پاتے۔ صباء تو انہیں جانتی تھی۔ شروع سے‘ وہ عاجزی پسند تھے۔ ماں باپ کے خدمت گزار اور بہن کے لیے مشفق تھے۔ ماں باپ کی وفات کے بعد انہوں نے بھائی اور باپ دونوں بن کر بہن کا خیال رکھا تھا‘ اس پر جو کڑے حالات گزرے اس میں وہ صباء کے غمگسار تھے۔ اسی کے جتنا مظلوم تھے جو بیٹی جیسی بہن کا دکھ محسوس کیا تھا۔ مگر شاید انہیں دکھاوا کرنا نہیں آتا تھا۔ شاید وہ بہن کے سامنے ٹوٹنے سے ڈرتے تھے کہ کہیں بہن انہیں کمزور دیکھ کر آگے بڑھنے اور زندہ رہنے کے کیے حوصلہ نہ ہار جائے۔
صباء ان کی ذات کے ہر پہلو سے باخبر تھی اور اس لمحے یہی سب باتیں اس کا دل پچھتاوئے کے شکنجے میں جھکڑ گئی تھیں اور انہی سب باتوں کے پیچھے رفعت آرأ کا وجود دھند کا شکار ہونے لگا تھا۔ اس لمحے ان کے اندر عجیب سی کیفیت رونما ہوچکی تھی۔ بدلے کی سوچ پر بھائی کی محبت و احسان کے ساتھ بیٹے کی صاف نیت و عنایہ کے لیے فکر انہیں نئے دوراہے پر لے آئی تھیں۔ وہ لمحہ پر زور تھا۔ جو ایک ہی جست میں انہیں شرمندگی کے حوالے کیے ان کے اگلے قدم کا منتظر ان کے سر کھڑا تھا۔ فوری فیصلہ ضروری تھا۔ انہیں دل میں خفگی بڑھتی محسوس ہوئی۔ آنکھیں پُرنم ہو گئی تھیں۔
’’میں کیسے اس حد تک گر گئی کہ جن محرومیوں کا تمام عمر اللہ کے سامنے گلہ کرتی رہی آج عنایہ کو انہی محرومیوں کے حوالے کرنے جا رہی تھی۔ وہ بیچاری تو بے قصور ہے۔ اسے اس کی محبت سے دور کرکے ایک ظلم تو کردیا مگر اب مجھے اپنی غلطی و غلط سوچ کا اپنے سکون اور بھائی کی محبت کا مان رکھنے کے لیے مداوا کرنا ہے۔ میں اسے اپنے جیسے زندگی گزارنے نہیں دوں گی۔ مجھے اس کی سوچ کا رخ بدلنا ہوگا۔ جو عزت اور خوشی آئندہ زندگی میں سمعان اسے دے سکتا ہے شاید اس کی محبت بھی اسے نہ دے سکے۔‘‘ وہ پختہ سوچ کے ساتھ بالآخر حتمی فیصلہ کر چکی تھیں۔ ایک افسوس اور بھی تھا۔
’’مجھے معاف کردینا سالک میں نے تم سے تمہاری محبت کو بہت دور کردیا مگر میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکوں گی کہ تھارے بہتر اقدام و ردعمل سے مجھے میری غلطی کا احساس ہوا۔‘‘ دل ہی دل میں بیٹے سے شرمندہ بھی ہوئی تھیں۔
{…٭٭٭…}
’’عنایہ نے طلاق کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘ صباء احمد سب کو ٹھیک کرنے کے لیے کسی سرے کی تلاش میں تمہیں اور اللہ پاک نے نیک نیتی کا انعام انہیں سمعان کے ذریعے سرا تھما دیا تھا۔ سمعان نے مسیج پڑھنے کے بعد کسی کو بھی بتائے بغیر انہیں کال کی تھی۔ صباء احمد کی ذات اس کی نظروں میں معتبر تھی۔ اسے انہی سے بات کرنا مناسب لگا تھا۔
’’بیٹا‘ تم اسے جلد بازی میں طلاق مت دینا۔‘‘ ان کا دل گھبرایا بھی تھا۔ اسے التجائیہ انداز میں کہا۔
’’میں اسے طلاق یوں دینا بھی نہیں چاہتا۔ اسی لیے آپ کو کال کی ہے۔ ابھی یہ بات کسی سے بھی نہیں کی۔‘‘ وہ خود پریشان تھا۔
’’سمعان بیٹا‘ کیا تم مجھ سے مل سکتے ہو۔ مجھے تم سے بہت ضروری باتیں کرنی ہیں۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے اسے سے استفسار کرنے لگیں۔
’’جی آنٹی‘ میں آجاتا ہوں آپ کے گھر۔‘‘
’’نہیں بیٹا‘ گھر نہیں۔ جو بات میں تم سے کرنا چاہتی ہوں۔ وہ یہاں نہیں ہو سکے گی۔‘‘ انہوں نے فوراً منع کیا۔
وہ نہیں چاہتی تھیں کہ جو انہوں نے کیا‘ گھر کے کسی بھی فرد کو اس کی بھنک پڑے۔ خصوصاً وہ عنایہ اور سالک کو تو بالکل بھی نہیں پتہ لگنے دینا چاہتی تھیں۔ سمعان ان کے لہجے کی اداسی کو محسوس کر گیا تھا۔ جبھی باہر ملنے کی حامی بھرلی۔ صباء احمد قدرے مطمئن ہوئیں اور کچھ دیر کے بعد وہ قریب ہے ایک پارک میں سمعان کے سامنے بیٹھیں تھیں۔ سمعان انہیں سننے کا منتظر تھا جبکہ تمام سچائی زبان پر لاتے ہوئے وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہوئی تھیں البتہ ماضی کو کرید کر حال کے واقعات کی آمیزش سے جو گڑبڑ ہوچکی تھی اسے سدھارنا بھی ضروری تھا۔ بالآخر خود میں ہمت متجمع کرتیں وہ سمعان کے سامنے اپنے ماضی سے لے کر حال تک کا تمام سچ کھول کر شرمندہ و نادم نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ جبکہ وہ عجیب کیفیت میں مبتلا انہیں حیرانگی سے دیکھ رہا تھا۔ سب کچھ جاننے کے بعد اسے بالکل بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ جواباً کیا ری ایکشن دے‘ کیا کہے‘ صباء اسے مسلسل چپ دیکھ کر بولیں۔
’’یہ میری زندگی کا وہ تلخ سچ ہے جس کی کڑواہٹ میں رفعت آرأ کی بیٹی کی زندگی میں گھول کر انہیں ان کے غلطی بلکہ گناہ کا احساس دلانا چاہتی تھی لیکن یہ بھی دھیان نہ دیا کہ جس گناہ کا احساس انہیں دلانا چاہتی تھی خود بھی اسی کی مرتکب ہونے جارہی ہوں۔ میں یہ بھول گئی تھی کہ عنایہ صرف رفعت آرأ کی ہی نہیں بلکہ افتخار بھائی کی بھی بیٹی ہے مگر جب احساس ہوا تو بہت ناگوار گزرا‘ میں بے سکون اور پشیمان بھی ہوئی کہ باپ جیسے بھائی کو وہ دکھ دینے جا رہی تھی جسے شاید میرے بعد اپنی بیٹی کے ساتھ ہوتا دیکھ کر وہ برداشت نہ کرسکتے‘ یہ سب تمہیں اس لیے بتا رہی ہوں کیونکہ افتخار بھائی‘ سالک یا عنایہ کو بتاتی تو شاید ان کا رشتوں پر سے اعتبار اٹھ جاتا اور میں نہیں چاہتی کہ عمر کے آخری حصے میں اب محبتوں کی محرومی کا بھی درد سہوں۔‘‘ لہجے میں یاسیت بھری تھی۔ آرزدہ ہونے کے ساتھ ان کی آواز بھی رندھی ہوئی تھی۔
’’میں اب کیا کروں۔ میں سب سچائی جاننے کے بعد آپ کے لیے کچھ بھی غلط نہیں سوچ رہا۔ آپ نے جو کیا اس کی وجہ واقعی بہت بری تھی۔ مجھے جان کر افسوس ہوا اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ کا یہ راز میں راز ہی رکھوں گا مگر اب عنایہ کو کون سمجھائے گا۔ وہ مجھ سے خود کو کوسوں دور رکھے ایک ایسی دیوار حائل کرچکی ہے جسے اس کی مرضی کے بغیر میں نہیں توڑ سکتا۔‘‘ سمعان نے سب جاننے کے بعد اپنا دل صاف کرلیا تھا۔ حقیقتاً اسے ان سے کوئی گلہ نہیں تھا مگر ذہن عنایہ کی خود سے دانستہ قائم کردہ دوری اور طلاق کے مطالبے میں الجھا ہوا تھا۔ فکر مندی سے بولا۔
’’بیٹا‘ تم عنایہ کی فکر مت کرو میں اسے سمجھاؤں گی اور دیکھنا وہ سچے دل سے تمہارے پاس واپس آئے گی۔‘‘ صباء نے اسے یقین دلایا۔ سمعان کے چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ اتری تھی۔
’’تم کل عنایہ کو لینے آنا‘ وہ دل سے تمہارا انتظار کرے گی۔‘‘ صباء نے کہا تو سمعان نے اثبات میں سر کو جنبش دیتے ہوئے دل کو ہر کثافت و شک سے پاک کرنے کے بعد عنایہ کے لیے محبتوں کے نئے بھرپور موسم سے سجا لیا تھا۔
صباء احمد بھی مطمئن و پُرسکون ہوکر واپس آئیں تھیں۔ اب بس ایک آخری کام بچا تھا‘ عنایہ کو سمجھا کر خود کو مکمل طور پر شرمندگی کے احساس سے باہر لانا تھا۔ جس کے لیے انہوں نے سب کے سونے کا انتظار کیا۔ عنایہ کے ساتھ وہ طمانت سے بات کرنا چاہتی تھیں۔ سب کے سونے کے بعد وہ موقع دیکھ کر عنایہ کے کمرے میں آئیں۔ عنایہ جاگ رہی تھی۔ فی الوقت رو تو نہیں رہی تھی مگر چہرہ اور آنکھیں پہلے رونے کی وجہ سے سرخ تھیں۔
’’پھوپو آپ…‘‘ وہ انہیں دیکھ کر آنکھوں میں آنسو بھر لائی۔ اس معاملے میں ماں سے کوئی بات نہیں کرسکتی تھی جبھی انہیں دیکھ کر غم مزید بڑھ گیا تھا۔
’’روؤ مت بیٹا۔‘‘ انہوں نے سرعت سے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔
’’پھوپو سالک کہتا ہے وہ مجھ سے شادی نہیں کرسکتا۔ وہ مجھے…‘‘ صباء احمد دل و دماغ اس صورت حال کے لیے تیار کرکے آئیں تھیں۔ وہ جذباتی ہورہی تھی۔ صباء نے اب اسے حقیقت کا رخ دکھانا تھا۔ جبھی اسے کوئی بھی جھوٹا دلاسہ یا امید دلانے کے بجائے سرعت سے ٹوک گئیں۔
’’سالک ٹھیک کہتا ہے بیٹا‘ میں نے اس کی تمام باتیں سن لی تھیں۔ اسی لیے اس وقت تمہارے پاس آئی ہوں۔‘‘ انہوں نے کہتے ہوئے تمہید باندھی۔ عنایہ نے روتے ہوئے انہیں دیکھا۔ وہ سالک سے متعلق ان کی مضبوط امید تھیں۔ جو اس پل ڈگمگائی تھی۔
’’بیٹا سالک نے تم سے اپنی محبت کا حق ادا کر دیا۔‘‘ وہ سنجیدہ تھیں۔
’’جی؟‘‘ عنایہ کچھ نہ سمجھی۔
’’سالک نہیں چاہتا کہ تم محبت کے نام پر بدنام ہو۔ محبت بے شک فطری جذبہ ہے لیکن محبت کو جواز بنا کر عزت کو داؤ پر لگانا اندھیرے میں روشن دیئے بجھ جانے کے مترادف ہے۔ جن کے بجھتے ہی تمام راہیں تاریک ہو جاتی ہیں۔ جن راہوں پر قدم رکھنے سے منزل کی تلاش اذیت‘ کرب اور ملال کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ منزل بھی نظروں سے اوجھل‘ پہنچ سے بہت دور ہو جاتی ہے اور پاؤں پر بھٹکتے رہنے سے تھکن بھی بوجھ ڈال دیتی ہے محبت دل کی تسکین بھی ہے مگر محبت کو زندگی کا محور بنا لینے سے روح تک چھلنی ہو جاتی ہے۔‘‘ صباء ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولیں۔
’’مگر…‘‘ عنایہ رونا چھوڑ کر الجھی۔
’’مگر بیٹا‘ لڑکے اور لڑکی کی درمیان کی محبت سے میاں بیوی کے درمیان کی محبت زیادہ مضبوط اور سچی ہوتی ہے۔ سالک نے حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ تمہیں بھی اب خود کو برباد ہونے سے بچانا ہے۔ تاریک راہوں میں قدم رکھنے سے پہلے تم روشنی کی طرف لوٹ جاؤ سمعان ہی تمہارے لیے تاریک راہوں میں روشنی بن سکتا ہے۔‘‘ صباء احمد کا لہجہ مضبوط اور بے لچک تھا۔ انہیں ہر صورت میں عنایہ کو سالک کی ذات کے محور سے نکال کر سمعان کی اہمیت کا احساس دلانا تھا۔
وہ چپ تھی۔ پھوپو کی باتوں نے اس کے دل کو مسخ کردیا تھا مگر اس کا دماغ انہیں مزید سننے کو تیار تھا۔
’’اصل محبت وہ ہوتی ہے جو آپ کو عزت و تحفظ دے۔ جو جائز ہو۔ ایک بندھن میں بندھی ہو۔ ماں باپ خصوصاً باپ تپتی دھوپ میں چھاؤں ہوتا ہے۔ باپ کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن وہی باپ جب اپنی بیٹی کو کسی اور مرد کو نکاح میں پورے یقین اور امید کے ساتھ دیتا ہے تب وہی مرد عورت کی چادر اور چار دیواری ہوتا ہے۔‘‘ صبا اس کے خاموش رہنے پر مزید سمجھانے لگی۔
’’چادر اور چار دیواری…؟‘‘ اس کی آنکھوں میں حیران کن سوال ابھرا۔
جواباً ان کے ذہن میں ماں کے الفاظ ایک بار پھر گونجے تھے۔ جنہیں انہوں نے اس کے پلو سے باندھنا چاہا تھا۔
’’ہاں بیٹا چادر اور چادر دیواری‘ شوہر بیوی کا اصل محافظ ہے۔ اسے مکان میں محفوظ چھت مہیا کرتا ہے۔ بیوی کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے۔ دن بھر مشققت کرتا ہے اس لیے نہیں کہ اسے احسان جتانے کا موقع مل سکے بلکہ اس لیے کہ اسے بیوی سے جڑے اپنے مقدس رشتے سے محبت ہوتی ہے اور اس کی ساری محنت اسی محبت کے فرض کو انجام دینا ہوتی ہے۔‘‘ عنایہ ہنوز چپ تھی۔ پھوپو کا ایک ایک لفظ ذہن پر نقش ہورہا تھا۔ دل نے بھی فساد مچانے کے بجائے تحمل سے اس کا ساتھ دے دیا تھا۔
’’میں نے اپنی ساری زندگی ایسی چادر اور چار دیواری کے سکھ سے محروم ہوکر گزاری ہے۔ ایک ایک لمحہ عذاب جھیلا ہے۔ چادر اور چار دیواری کے بغیر عورت کی معاشرے میں کوئی عزت کوئی مقام نہیں ہوتا۔ شادی اور طلاق مذاق نہیں۔ طلاق کا لفظ جتنا بھیانک ہے اس سے کئی گنا طلاق کے نتائج بھیانک ہوتے ہیں اور طلاق کے بعد ہر بار‘ بار بار دوسری شادی مسئلے کا حل نہیں ہوتی‘ یہ میری زندگی کا نچوڑ ہے۔‘‘ وہ آرزدہ ہوئی تھیں۔ آنکھ سے آنسو بھی نکلے تھے۔
عنایہ نے جیسے ان کا درد محسوس کیا تھا۔ یاسیت سے آگے بڑھ کر ان کے قریب ہوئی۔ انہوں نے خود کو سنبھالا۔ شفقت سے اسے دیکھا اور دل سے کہا۔
’’میں چاہتی ہوں تم سمعان کے پاس واپس چلی جاؤ۔‘‘
’’میں نے ان سے طلاق مانگی ہے۔ وہ کیا سوچتے ہوں گے میرے بارے میں۔‘‘ وہ یاد آنے پر بولی۔
’’میں نے اس سے بات کی ہے۔ وہ تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا۔ اس کے دل میں تمہارے لیے بہت خاص سچی محبت ہے۔ وہ کل شام تمہیں لینے آئے گا۔ تم تیار رہنا اور کوشش کرنا کہ یہاں سے جڑی ہر یاد دل سے نکال کر جاؤ۔ اپنی محبت صرف سمعان کے لیے رکھنا۔ تمہاری محبت کا اصل حق دار وہی ہے۔‘‘ صباء نے کہتے ہوئے اسے گلے لگایا۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ تمام باتیں سمجھ چکی تھی۔ سمعان سے اپنے رشتے کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا تھا۔ پھوپو کے جانے کے بعد اس نے موبائل اٹھا کر سمعان کو ’’سوری‘‘ لکھ کر میسج سینڈ کیا تھا۔ ساتھ ہی اسکرین پر نظریں جمائے جواب کا انتظار کرنے لگی۔ اگلے کچھ ہی لمحوں میں سمعان کا جوابی تسلی بخش میسج آیا تھا جسے پڑھتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ در آئی تھی۔
صباء احمد کمرے میں واپس آئیں۔ دل میں ڈھیروں سکون اتر آؓؓیا تھا۔ تمام بوجھ دل سے اتر چکا تھا۔ کافی دنوں بعد رات کو سونے سے پہلے دماغ میں کوئی منفی سوچ نہ تھی۔ جو ایک بھرپور سکون کی وجہ بنا تھا۔
اگلہ دن بھی خوشگوار تھا۔
رفعت آرأ کو انہوں نے خود اپنے حق میں معاف کردیا تھا۔ جانتی تھیں۔ وہ کبھی اپنی غلطی کا احساس نہیں کریں گی۔ نہ ہی وہ کبھی معافی مانگنے کا خیال دل میں لاسکتی ہیں۔ صبح عنایہ سے سامنے پر اس کے چہرے پر رقم خوشی و آنکھوں میں انتظار و بے تابی دیکھ کر وہ دل سے مسکرائی تھیں۔
’’تھینک پھوپو۔‘‘ وہ ان کے گلے لگ گئی تھی۔
شام تک زیادہ تر وقت دونوں ساتھ تھیں اور جب شام کو سمعان اسے لینے آیا تو اس کے چہرے پر بھی آسودہ مسکراہٹ تھی۔ عنایہ ماں باپ سے ملنے کے بعد جانے سے قبل پھر سے صباء کے گلے لگی تھی۔ دور کھڑا سالک بھی اس کے واپسی کے فیصلے سے خوش ہوا تھا۔
’’اللہ پاک تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔‘‘ انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے دل سے دعا دی۔
یہ ان کے اندر کی اچھائی ہی تھی جو بروقت وہ خود کو اپنا غلط فیصلہ بدلنے کے بعد عنایہ کو اس کی چادر اور چار دیواری کی اہمیت کا احساس دلانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔
دل میں تشکر کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ بھی گہری ہوگئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close