Aanchal May-18

اکائی

عشنا کوثر سردار

’’تم میری زندگی کی ناقابل تقسیم اکائی ہو اور ہمیشہ یک گرفتہ عنصر رہوگی۔ میں زندگی کے کسی جمع تفریق کے عمل سے گزرنے سے قبل محبت کو گہرے راز کی مانند تمہاری سماعتوں کو سونپ دینا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد زندگی میں ضرب و تقسیم کی کبھی کوئی ضرورت نہ رہے۔‘‘ سیاہ چادر سے چہرہ چھپائے وہ ہجوم میں تنہا کھڑی تھی۔ ہر چہرہ فکر ویاسیت کی تصویر تھا جیسے تھکے ماندے دکھ سے بھرے لوگوں کا کوئی جہاں تھا جس کے کناروں پر بے سرو سامانی کے سوا کوئی وسیلہ باقی نہیں تھا۔ وہ اجنبی چہروں کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ سرمئی آنکھوں میں حیرت کے سوا کچھ نہ تھا اور حیرت بھی جیسے گہری اداسی میں لپٹی تھی۔ وہ ہر چہرے کو بغور یوں دیکھ رہی تھی جیسے کسی بچھڑے ہوئے کو ڈھونڈ رہی ہو۔ اس کے مٹی سے اٹے پائوں جوتوں سے بے نیاز گرم زمین پر تھے‘ مگر اس کے چہرے اور آنکھوں میں اس حدت یا تمازت کا کوئی شائبہ نہ تھا جیسے وہ بے حسی کی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ جلتے سورج کی تمازت میں وہ گرم تپتی ہوئی زمین پر ننگے پائوں قدم بقدم چلتی ہوئے ہر ایک چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
’’بیٹی…‘‘ اس اجنبی ماحول میں کسی نے پکارا تھا۔ اس نے اس آواز پر پلٹ کر یوں دیکھا جیسے اسے گمان ہو کہ یہ لہجہ یہ آواز اس سے مخاطب نہیں اور وہ بس فطری تجسس سے پلٹی ہو۔
’’کھانا کھائو گی؟‘‘ خاتون نے ہمدردی سے اس کی طرف دیکھا جو اب میں وہ کچھ نہیں بولی اور وہ خاتون اس کا ہاتھ تھام کر چلنے لگی جب کسی خوف سے گھبرا کر اس نے ہاتھ کھینچ لیا۔
’’نن… نہیں۔‘‘ وہ خوف سے سر انکار میں ہلانے لگی۔ تب خاتون نے اس کی سمت حیرت سے دیکھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ خاتون شاید اس کی کیفیت پر چونکی اور پوچھا۔ مگر اس نے سر انکار میں ہلادیا۔
’’بھو… بھو… بھو… ک… نہیں۔‘‘ اس نے اپنا چہرہ مزید چھپایا۔ خاتون نے اسے ہمدردی سے دیکھا۔
’’ہم بے سرو سامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے اللہ کی زمین پر بیٹھے ایک ہی حالات سے نبرد آزما ہوتے لوگ ہیں بیٹی… ہمیں کسی سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ ہم تو بہت کچھ لٹا کر آئے ہیں‘ اب باقی کیا بچا ہے جس کا ڈر ہو؟‘‘ خاتون کی آواز دکھ کی شدت سے بھیگ گئی تھی۔
’’ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں… آئو میں تمہیں کھانا کھلا دوں۔‘‘ خاتون نے کہا مگر وہ اپنی جگہ سے اٹھی نہیں۔ تیز ہوا سے اس کے آنچل کا کنارہ اس کے چہرے سے یک دم سرکا اور خاتون اس کا زخموں سے بھرا چہرہ دیکھ کر ششدر رہ گئی تھیں۔
’’یااللہ…! یہ کیسے ہوا‘ کس نے زخمی کیا تمہیں؟‘‘ خاتون نے پوچھا مگر وہ آنچل سے چہرہ لپیٹتی ہوئی تیزی سے پلٹ کر اس ہجوم میں گم ہوگئی۔
’’یااللہ اس بچی کو اپنی امان میں رکھنا۔‘‘ خاتون نے صدق دل سے دعا دی تھی۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’فاطمہ بی بی… وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی جب اس کے اندر ابھرنے والی ایک آواز نے اس کے قدم روک لیے تھے۔
’’تمہارا چہرہ تروتازہ گلاب ہے جس پر تمازتیں کبھی اثر انداز نہیں ہوں گیں۔ تمہارا حسن لازوال ہے‘ چاند گہنا سکتا ہے مگر تمہارا حسن نہیں۔‘‘ کوئی آواز اس کے کانوں میں ابھری تھی اور درد کی شدت سے نمی اس کی آنکھوں میں آن رکی تھی۔
’’فاطمہ یہ آنکھیں ہمیشہ اپنی ضیا باقی رکھیں گی‘ یہ چہرہ ہمیشہ آفتاب کی مانند روشن رہے گا اور میں ہمیشہ تم سے محبت کرتا رہوں گا۔‘‘ لہجہ شدت سے بھرپور تھا آواز جذبوں سے مخمور تھی۔
’’حسن گہنا جاتا ہے‘ حسن اتنا بڑا حوالہ نہیں۔‘‘ اسے اس کی خود کی مدھم سی آواز سنائی دی تھی اور کسی کی ہنسی۔
’’نواب وقارالحق دنیا آپ کے تابع نہیں نا ہی وقت کو آپ قید کرسکتے ہیں۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
’’ہاں مگر ہم فاطمہ بی بی کو تو قید کرسکتے ہیں ناں؟‘‘ بھاری آواز ابھری تھی وہ چونک کر دیکھنے لگی۔ تبھی نواب وقارالحق نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
’’ہم آپ کو نظروں میں قید کرلیں گے فاطمہ‘ دل میں آباد کرلیں گے۔ آپ وقت کی قید سے آزاد ہوجائیں گی اور وقت ششدر سا ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔‘‘ نواب وقارالحق نے کہا اور اس کا چہرہ کان کی لوئوں تک سرخ ہوگیا تھا۔ نظروں میں گرمئی شوق لیے اور وہ نگاہ پھیر گئی تھی۔
’’کہاں ڈھونڈوں آپ کو نواب وقارالحق؟ آپ تو ہمیں قید کرنے کے خواہاں تھے اور اب کہاں خود وقت کی طرح الجھا ہوا سوال بن گئے ہیں۔ کہاں تلاش کریں ہم آپ کو؟‘‘ چہرے کے زخموں کے باعث جو تکلیف تھی وہ اس احساس سے نبرد آزما ہوتیں وہیں بیٹھ گئی تھیں اور درخت کے تنے سے سر ٹکادیا تھا۔
’’ہم منتظر ہیں نواب وقارالحق… کہیں سے نکل کر آواز دیں‘ اس اجنبی دنیا میں اجنبی نظروں کے درمیان ہم کسی اپنے کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔‘‘ اس کی مدھم سی آواز ابھری اور نظریں پھر کسی کو تلاشنے لگی تھیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
دادی جان نے اس کو عینک کے اس طرف سے آنکھیں سکیڑ کر گھورا تھا۔
’’فاطمہ بی بی… سورج کو کیا آرسی لے کر دیکھتے ہیں؟ خواجہ ناظم الدین کی بیٹی ہیں آپ‘ حد ادب لازم ہے آپ پر‘ بیٹا سورج خاک ڈالنے سے نہیں چھپتا‘ آپ درسگاہ نہیں جاسکتیں‘ آپ کو پڑھنا ہے تو کسی انسان کا بندوبست کردیا جائے گا‘ فی الحال اس سے زیادہ نہیں سوچا جاسکتا‘ مگر آپ اس پہلو کو دقیانوسیت کے زمرے میں ہرگز شمار نہ کیجیے گا‘ موا زمانہ بدل رہا ہے‘ ہمارے خاندان کی بیٹی کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھے‘ ہمیں گوارہ نہیں۔‘‘ فاطمہ نے قصداً سر ہلا دیا۔
’’ٹھیک ہے‘ آپ درست فرماتی ہیں دادی جان مگر خواتین کو اس طرح گھر بٹھادیں گے تو ہم دقیانوسی کہلائیں گے‘ وقت تو بہرحال بدل ہی رہا ہے۔ کتنی ہی خواتین اور لڑکیاں سیاست کا حصہ بھی بن رہی ہیں اور آپ کو پتہ ہے ہمارا دل بھی چاہتا ہے ہم اباجان کی طرح سیاست میں قدم رکھیں۔‘‘ فاطمہ نے خواہش بیان کی مگر دادی جان کی خشمگیں نظروں کو دیکھ کر خاموش ہوگئی تھی۔
’’سیاست میں قدم رکھنا چاہتی ہیں آپ؟ خاندان کی عزت پر ان للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لینا چاہیے۔ فاطمہ ہوش کے ناخن لیں آپ‘ قد کاٹھ دیکھئے اپنا۔ عقل نام کو نہیں…‘‘ دادی اماں نے گھورا اور وہ اندر کی سمت بڑھ گئیں تھیں۔ فاطمہ ابا جان کے کمرے کے پاس سے گزر رہی تھی جب اماں کی آواز کان میں پڑی تھی۔
’’میں تو کہتی ہوں‘ آگ لگے مندھے‘ بجز پڑے برات۔ بی اماں کو تو گویا ہر بات میں روکنے ٹوکنے کی عادت ہوگئی ہے اور آپ کی وہ کیفیت ہے کہ بکری کے سینگوں کو چر گئے‘ بیری کے پات۔ ہر بات پر خاموش رہنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ وہ کہتے ہیں نا جو کام حکمت سے نکلتا ہے وہ حکومت سے نہیں نکلتا۔ بی اماں کو بتادیجیے‘ بچی پر سختی اور بندش ٹھیک نہیں۔ مانا بی اماں عمر اور عقل و دانش مندی میں بڑی ہیں مگر اب ایسا بھی کیا اپنے آپ کو شاخ زعفران سمجھنا گویا دوسروں کی عقل تو گھاس چرنے چلی گئی ہو۔ ہم کہے دیتے ہیں‘ آگ اور بیری کو کم نہ سمجھیے‘ ابا جان مرحوم کے گزرنے کے بعد پوری ملکیت سنبھالی بیٹھی ہیں بی اماں‘ مجال ہے جو بٹوارے کا نام لیں… ان کو تو اتنی پروا نہیں جتنی اور پر سفیدی‘ یہ تو وہی بات ہوگئی دوسرے کو نصیحت اپنے تئیں فصیحت۔‘‘ اماں خاصی خفا دکھائی دی تھیں‘ ابا نے سر ہلادیا۔
’’فکر مند نہ ہوں بیگم‘ اماں جان سے بات کروں گا۔ آپ تو اماں جان کی عادت سے واقف ہیں۔ پرانے مزاج کی ہیں۔ وہ محض مخالفت کررہی ہیں مگر ان کا ارادہ غلط نہیں۔‘‘ خواجہ ناظم الدین نے کہا۔
اماں جان نے جانے کیا کہا تھا‘ کھٹکا ہوا تھا‘ شاید اماں باہر کی طرف آرہی تھیں جب فاطمہ نے وہاں سے ہٹنا مناسب جانا تھا۔
کمرے میں‘ آکر وہ کئی لمحوں تک سوچتی رہی تھی‘ پڑھنا دقیانوسیت کیوں ہے اور لڑکیوں کا باہر نکلنا اتنا معیوب کیوں؟‘‘ ابا پڑھے لکھے اور آزاد خیال تھے‘ شمس بھائی نے مرضی کی شادی کی تو انہوں نے کوئی مخالفت نہیں کی تھی۔
’’خواجہ ناظم الدین بیٹا فرنگن بیاہ لایا اور تم نے سرے سے کوئی مخالفت ہی نہیں کی؟ خاندان کی عزت کا جنازہ نکال کر رہوگے تم۔‘‘ دادی جان نے احتجاج کیا تھا مگر ابا جان سر ہلاتے ان کے پائوں دبانے لگے تھے۔
’’اماں جان بیٹوں کی تعلیم ضروری ہے اور بیٹیوں کی بھی۔‘‘ ناظم صاحب نے کہنے کا قصد کیا ہی تھا کہ اماں جان نے انہیں گھورا۔
’’رہنے دو میاں تعلیم اتنی ہو کہ بس خط و کتابت سمجھ میں آنے لگے۔ ہم نے کون سا افسری کرانا ہے بیٹیوں سے؟ اور تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ تربیت تو کیا خوب کی آپ نے کہ صاحب زادے فرنگن بیاہ لائے؟ غیر قوم… غیر مذہب… توبہ توبہ… دنیا تو گئی‘ آخرت بھی خراب کرلی۔ وہ ہمارے ہمراہ رہے گی‘ ہمارے دستر خوان پر کھائے پئے گی‘ اب ایسا ہوا کرے گا؟ نکاح سے قبل کلمہ ہی پڑھوا لیتا اس فرنگن سے۔‘‘ دادی اماں کا اپنا مزاج تھا اور ناظم صاحب سر ہلانے لگے۔ جیسے وہ ماں کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے۔ فاطمہ دروازے کی اوٹ سے دیکھتی رہی تھیں۔
’’بیسوی صدی میں زمانہ کیا سے کیا ہوگیا میاں‘ ہم تو ورطۂ حیرت میں مبتلا ہوگئے۔ فرنگی ملک پر راج کرنے کیا آگئے ہماری قوم کو بے راہ روی کا شکار کردیا۔ کالج اور اسکول بننے لگے اور تو اور انگریزی پڑھنے اور بولنے کو بھی وطیرہ بنا لیا ہے کہا جارہا ہے مسلمانوں کی ترقی انگریزی زبان کے پڑھنے اور بولنے میں ہے۔ اے لو… اتنے بڑے بڑے علماء گزرے‘ انہوں نے انگریزی کے بنا ہی فاتحین میں نام درج کروائے ناں؟ انگریزی کے بنا کیا ناممکن تھا… ماہر ارضیات‘ ریاضیات‘ علمیات‘ کن کن شعبوں میں جھنڈے نہ گاڑے گئے‘ انگریزی اتنی اہم ہوتی تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوتے سب اور بند عقلوں سے اندھیرے میں دیواروں سے سر ٹکرا رہے ہوتے۔ میاں ہوش کے ناخن لو‘ آدمیت اور شے ہے‘ علم ہے کچھ اور چیز… لاکھ طوطے کو پڑھایا وہ حیوان ہی رہا…‘‘ دادی اماں نے طنزاً کہا۔ اباجان مخالفت نہیں کرسکے تھے۔
’’آپ درست فرما رہی ہیں اماں جان‘ آپ میری جنت ہیں اماں… آپ کو خفا نہیں کرسکتا… ماں کو خوش رکھو تو رب بھی خوش رہتا ہے۔‘‘ ابا نے ماں کو خوش رکھنا مقدم جانا۔ فاطمہ گہری سانس لیتی ہوئی دروازے کی اوٹ سے ہٹ گئی تھی۔ ایسی پابندیاں… روک ٹوک… دادی جان غلط نہیں تھیں مگر زندگی کے متعلق مختلف سوچ رکھتی تھیں‘ ابا جان رات کو اس کے پاس آن بیٹھے اور شفقت سے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’میری لاڈلی بیٹی کیا چاہتی ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا‘ فاطمہ ان کی طرف دیکھنے لگی۔
’’ابا جان آپ کو جو مناسب لگے‘ ہم آپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتے… آپ جو کہیں گے ہم ضرور مانیں گے۔‘‘ فاطمہ نے کہا‘ ناظم صاحب مسکرا دیئے تھے۔
’’بیٹا تعلیم میں کوئی برائی نہیں… آپ کی دادی جان پرانی سوچ کی ہیں مگر ان کا نقطۂ نظر بھی درست ہے۔‘‘ ناظم الدین صاحب کہہ کر رکے‘ فاطمہ بی بی نے خاموشی سے ابا کی طرف دیکھا تھا۔
’’جیسا آپ مناسب سمجھیں ابا جان… ہمیں کوئی اعتراض نہیں‘ نا ہمارا ارادہ آپ کی رائے سے اختلاف رکھنے کا ہے۔‘‘ وہ سعادت مندی سے سر جھکا کر بولی۔ ابا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دیئے تھے۔
’’ہم چاہتے ہیں بیٹوں اور بیٹی کے درمیان کوئی تفریق نہ کی جائے‘ اگر بیٹوں نے تعلیم حاصل کی ہے تو بیٹی کو بھی حق ہے۔ ہم چاہیں گے آپ اپنی تعلیم کو جاری رکھیں اور کالج میں ایڈمیشن ضرور لیں۔‘‘ ناظم صاحب نے کہا اور اس نے چونک کر ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’لیکن اباجان…!‘‘
’’اماں جان کی پروا مت کیجیے آپ‘ ہم ان کو سمجھا دیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا تھا۔
’’مگر اباجان‘ دادی جان کی مخالفت ہم مول نہیں لے سکیں گے‘ ان کی مرضی کے خلاف جاکر ہم کیا پائیں گے؟ بزرگوں کی نا مان کر ہمیشہ غلط نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘‘ وہ بولی تو ابا اسے حیرت سے دیکھنے لگے تھے۔
’’ہماری بیٹی اتنی سمجھدار ہوگی‘ ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا‘ نیک اور صالح اولاد بھی قسمت سے ملتی ہے۔ ہم اللہ پاک کے شکر گزار ہیں اس نے ہمیں نیک اور فرماں بردار اولاد سے نوازا…‘‘ خواجہ ناظم الدین صاحب مسکرائے۔ فاطمہ سر جھکا گئی تھی۔
’’ہم دادی جان کی مرضی اور اجازت کے ساتھ پڑھنا چاہیں گے‘ ورنہ یہ سلسلہ یہیں موقوف کردیں گے۔‘‘ اس نے سر جھکا کر اپنا فیصلہ سنایا اور دوسرے دن ابا نے جانے کیا کہا تھا‘ دادی جان غصے سے کہہ رہی تھیں۔
’’اے لو‘ اونٹ برابر ڈیل بڑھایا پاپوش برابر عقل نہ آئی۔ میاں عقل کیا گھاس چرنے چلی گئی؟ فاطمہ بچی ہے‘ آپ تو خیر سے خرد مندی رکھتے ہیں‘ مگر یہ تو وہی مثل ہوگئی‘ اتنی عقل بھی اجیرن ہوتی ہے اب اس خاندان کی بچیاں درس گاہوں کے چکر کاٹیں گی؟ میاں فرنگیوں کا ایسا اثر ہوا آپ پر؟ گویا اچھے کی صحبت بیٹھیے کھائیے نا گریاں‘ برے کی صحبت بیٹھیے کٹوائیے ناک اور کان۔ انگلستان سے ہو کیا آئے‘ آپ تو فرنگیوں کے رنگ میں رنگ گئے۔ فرنگیوں نے تو عقل پر پردے ڈال دیئے آپ کے۔‘‘ دادی جان نے گویا آڑے ہاتھوں لیا۔
’’اماں رہنے دیجیے ناظم الدین کو اپنے بچوں کے لیے فیصلے لینے دیجیے‘ ان کے بچے جوان ہوگئے ہیں۔ اس طرح ڈانٹ ڈپٹ اب مناسب نہیں لگتی۔‘‘ پاس بیٹھے کرم دین نے کہا تھا‘ دادی جان نے ان کو گھورا اور متانت سے بولیں تھیں۔
’’کرم دین مکئی کے پودے جیسا عقل مند بن‘ کبھی غور کر اگر بھٹے پر کچھ دانی کم ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ بیج بارور نہیں ہوئے۔ شاید اس لیے ان کے بال وقت پر نہیں اگے۔ کسان بھٹے کو دیکھ کر اندازہ لیتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مٹی بہت خشک تھی‘ جو کسان اس بات کی پہچان رکھتا ہے وہ اس مسئلے کو حل کرکے اپنی پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ اگر وہ موجودہ فصل میں بہتری نہیں لاسکتا تو وہ اگلی فصل میں بہتری ضرور لاسکتا ہے‘ انسانی عقل محدود ہے جو دیکھتی ہے‘ اس بات کو سمجھتی نہیں‘ اگر عقل کو صحیح معنوں میں بروئے کار لایا جائے تو بندہ نقصان سے بچ سکتا ہے۔‘‘ دادی جان نے در پردہ جیسے کرم دین اور خواجہ ناظم الدین دونوں کو سمجھانا چاہا تھا اور کرم دین ان کی بات سمجھ گیا تبھی سر ہلا دیا تھا۔
’’درست فرمایا آپ نے اماں جان… آپ کی بات سے انحراف نہیں ہوسکتا‘ آپ ہمیشہ اپنے تجربے کی بنا پر بات کرتی ہیں۔‘‘ کرم دین جیسے دادی جان کی مخالفت مول لینا نہیں چاہتا تھا تبھی بولا تھا اور اماں جان نے مسکراتے ہوئے کرم دین کو جتاتی نظروں سے دیکھا تھا۔ جیسے نظروں ہی نظروں میں بتارہی ہوں کہ وہ کس قدر درست ہیں۔ خواجہ ناظم الدین نے اماں کی طرف دیکھ کر سر اثبات میں ہلایا اور اماں جان کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔ اس مسکراہٹ میں عجیب تفاخر تھا۔
’’خواجہ ناظم الدین‘ سخن فہمی عالم بالا معلوم شد… آنکھ ناک سے درست ہے بیٹا‘ سیانے کہہ گئے ہیں‘ اندھے کو اندھا راستہ کیونکر بتائے؟ نگاہ رکھنے کی ضرورت تو اس ذرہ یا سیاہی جو آنکھوں کے آگے آوے اس پر بھی ہوتی ہے‘ بیٹا بیٹیاں پرایا دھن ہیں‘ ان پر توجہ اور روپیہ پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ چڑیا کی طرح اپنے دیس سدھار جاتی ہیں‘ تم نے بیٹوں پر خرچ کیا ہم نے کچھ اعتراض کیا؟ بیٹی جو پرائی ہے اس پر حق کیا جتانا؟ تم نے تربیت کردی‘ تھوڑا بہت پڑھا دیا‘ اب آپ کی صاحب زادی محترمہ فاطمہ جناح بننے کے خواب دیکھتی ہیں تو وہ بننے سے رہیں… بھئی تربیت کے ساتھ وقت پر اس کا نکاح کرنا فرض ہے۔ پڑھانے کی بجائے بیٹی کا رشتہ دیکھو… تمہارے بڑے بھائی کے بیٹے قابل ہیں‘ مصالوں کا کاروبار خوب چل رہا ہے… دل میں چرچے نہیں‘ اگر وہ بات نہیں کرتا تو میں بات چھیڑوں؟‘‘ اماں نے سمجھایا‘ ناظم صاحب دیکھ کر رہ گئے تھے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’خواب اہم نہیں ہوتے… ان کی تعبیریں بھی اہم نہیں ہوتیں‘ دراصل خواب کوئی حقیقت رکھتے ہی نہیں… سو جو شے حقیقت نہیں رکھتی اس کے متعلق کیا سوچنا؟ ہمیں کوئی حق نہیں ہم خواب دیکھیں… اور ابا جان کی عزت پر کوئی حرف آئے… ایسا کوئی کام نہیں کرنا ہمیں‘ تھوڑا بہت پڑھ لیا‘ کافی ہے۔ ولایت جاکر پڑھ کر ہم بھلا کیا تیر مار لیں گے؟ محترمہ فاطمہ جناح کی طرح ڈاکٹر تو بننے سے رہے۔ ہاں دل چاہتا ہے‘ ہم بھی پڑھیں‘ محترمہ فاطمہ جناح کی طرح مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کریں‘ آزادی کے لیے کام کریں‘ اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالی مگر یہ سوچ اگر ابا جان کا سر جھکاتی ہے تو ہم پڑھنا نہیں چاہتے۔‘‘ فاطمہ نے اماں کے سامنے کھڑے ہوکر کہا تھا اور اماں نے اسے کسی قدر حیرت سے دیکھا تھا۔
’’فاطمہ‘ جدوجہد اور آزادی کے لیے اور اس تحریک کا حصہ بننے کے لیے تعلیم اضافی خوبی تصور کی جاتی ہے۔ اصل بات تو ارادہ اور عزم ہے‘ بی اماں کو دیکھو‘ وہ بہت پڑھی لکھی نہیں مگر بیٹوں کو کیسے پڑھایا لکھایا اور کیسی تربیت دی کہ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کی والدہ تھیں‘ 1918ء کے آل انڈیا کے مسلم لیگ کے اجلاس میں بی اماں کی تقریر نے سامعین کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اس وقت ان کے دونوں بیٹے جیل میں تھے۔ اس دوران بی اماں نے تحریک خلافت کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا اور اس تحریک کو جلا بخشی… ان کا نعرہ تھا… ’بولی محمد علی کی اماں کہ بیٹا خلافت کے لیے جان دے دو‘ وہ عظیم ماں تھیں۔ انہوں نے ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کیا اور بہت جوش وولولے سے تحریک کو آگے بڑھایا… زلیخا بیگم زوجہ مولانا آزاد باحوصلہ خاتون تھیں‘ انہوں نے بھی تحریک میں اپنا حصہ ڈالا… تمام مصائب برداشت کرنے کے باوجود اپنے شوہر کا دست وبازو بنی رہیں۔ انہیں خانگی مسائل سے ہمیشہ بے فکر رکھا… جب مولانا کو ایک برس کی سزا ہوئی تو زلیخا بیگم نے مہاتما گاندھی کو لکھا‘ میرے شوہر کو محض ایک برس کی سزا ہوئی ہے جو ہماری امیدوں سے بہت کم ہے… اگر ملک وقوم سے محبت کے لیے یہ سزا ہے تو اس کو انصاف نہیں کہا جائے گا‘ یہ ان کی اہلیت کے لیے بہت کم ہے۔‘‘ اماں جان اسے سمجھایا تھا۔
فاطمہ نے سر ہلایا اور مدھم لہجے میں بولی تھی۔
’’مگر ہماری پسندیدہ محترمہ فاطمہ جناح ہیں۔ 1938ء میں جب فاطمہ جناح نے سیاست میں قدم رکھا اس وقت اگرچہ ہم ایسا شعور نہیں رکھتے تھے مگر ان کی خدمات نے ہمیشہ متاثر کیا۔ ہم ان کی طرح تو نہیں بن سکتے مگر ہم ان کی طرح اس جوش وجذبے سے قوم کی اس تحریک آزادی کا حصہ بننا ضرور چاہتے تھے۔ جیسے وہ اپنے بھائی کے ہمراہ کھڑی ان کا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ ایسے ہی ہم بھی ابا جان اور بھائی جان کے ہمراہ مسلم لیگ کی اس تحریک کا حصہ بننا چاہتے تھے… مگر شاید یہ خواب بہت بڑا ہے اور ہم یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتے کبھی نہیں دیکھ سکتے۔ نہ ہم ان کی طرح ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔ ہم ابا جان کا سر جھکتے نہیں دیکھ پائیں گے اماں جان۔ ابا جان بہت اچھے والد ہیں۔ وہ ہماری خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں‘ ہم جانتے ہیں۔ مگر ہم اپنی خواہش کے لیے اپنے ابا جان کو رسوا نہیں کرسکتے۔ اماں جان ہم سے اپنے ابا جان کی تذلیل برداشت نہیں ہوگی‘ سو ہم نے ان خوابوں کو ایک گٹھری میں باندھ کر پرانی الماری میں رکھ دیا ہے۔ ساتھ ہم نے کچھ جگنو بھی باندھ دیئے ہیں۔ ہمارے خواب اندھیروں میں دفن نہیں ہوئے اماں جان‘ ہمارے خوابوں کا سفر روشنی کے ہمرا ہوا ہے۔ ہمارے خوابوں کے ساتھ ان جگنوئوں کی روشنی زندہ رہے گی سو ہمیں افسوس نہیں۔ ہم فاطمہ ناظم الدین ہیں۔ ہم فاطمہ جناح نہیں بن سکتے۔ ہم نے یہ خواب دل میں رکھ لیا ہے‘ ہم مسلم لیگ کے لیے کام نہیں کریں گے تو کیا ہوا؟ کئی دیگر قابل خواتین مسلم لیگ کے ساتھ اس تحریک آزادی کے لیے کام کررہی ہیں اور آزادی تک اس جوش وولولے سے مصروف عمل رہیں گی۔ ہم محترمہ فاطمہ جناح کو مسلم لیگ کے ساتھ منسلک دیکھ کر خوش ہیں… بس یہ خوشی کافی ہے۔ اس آزادی کے سفر میں‘ تحریک میں ہم باضابطہ حصہ نہیں بنے گے تو کیا ہوا؟ ہم بہت سی دیگر خواتین کو اس جدوجہد کا حصہ بنا دیکھ تو رہے ہوں گے۔‘‘ فاطمہ عجب یاسیت سے مسکرائی تھیں‘ ان کی آنکھوں میں لاتعداد جگنو چمک رہے تھے اور وہ مدھم لہجے میں کہہ رہی تھیں۔
’’مسلمانان برصغیر کو آزادی کی نعمت دلانے کے لیے جو قدم اٹھ رہے ہیں ان سب کے ہمراہ ہماری دعائیں ہیں۔ یہ تمام لوگ اور خصوصاً خواتین ہمارے لیے اور تاریخ کے لیے ہمیشہ معتبر رہیں گی۔ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی پہلی خاتون بیگم مولانا محمد علی جوہر جو اپنے خاوند کی طرح بلند پائے کی مقررہ تھیں جو اپنی شعلہ بیان تقریروں کے ذریعے برصغیر کی خواتین میں ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کرتی رہیں یا بیگم نصرت عبداللہ ہارون‘ آل انڈیا امسلم لیگ شعبہ خواتین کی صدر… انہوں نے مسلم گرلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور ویمن نیشنل گارڈ جیسی تنظیموں کی بنیاد رکھ کر خواتین کو آزادی کی جدوجہد میں شمولیت پر مزید اکسایا۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ نے بنگال میں تحریک پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے دن رات محنت کی۔ انہوں نے اپنی کوششوں کی بدولت بنگال کی بہت سی خواتین کو عمل سیاست میں متعارف کرایا… بیگم جہاں آرأ شاہنواز‘ مسلم لیگ کونسل کی رکن… مسلم لیگ کی تنظیم نو میں بنیادی کردار ادا کرنے میں پیش پیش رہیں… پنجاب میں خضر حیات کی وزارت اعلیٰ کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بیگم حضرت محل زوجہ واجد علی کا نام تاریخ کیسے نظر انداز کرے گی؟ یہ جنگ آزادی کی اولین سرگرم عمل خاتون رہنما رہیں۔ جب برطانوی حکومت نے نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کرکے کلکتہ بھیج دیا اس وقت حضرت محل نے نظام حکومت سنبھالی اور ایک نئے انداز میں خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے محل میں بیٹھ کر پالیساں ہی نہیں بنائیں بلکہ جنگ کے میدان میں اتر کر اپنے جوہر بھی دکھائے اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے سبب جدوجہد آزادی میں ایک عظیم قائد بن کر ابھریں۔ یہ تمام خواتین اور ان کے ارادوں میں ہمارا عزم بھی شامل رہے گا۔ ہم ان سب کی خدمات کو سراہ کر ان کو اپنی سوچوں میں زندہ رکھیں گے اور تاریخ ان کو زندہ جاوید کردے گی۔ سو کیا فرق پڑتا ہے اگر فاطمہ ناظم الدین اس تحریک کا حصہ نہیں بنتی… یہاں کئی نام ہیں اور مزید کئی نام ابھریں گے جو آزادی کی اس تحریک کو آگے بڑھاتے رہیں گے اور ان شاء اللہ ہم آزادی کا دن ضرور دیکھیں گے۔‘‘ وہ ایک عزم سے بولی تھی اور اماں جان نے مسکراتے ہوئے فاطمہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’میری بچی… تمہارا عزم قابل دید ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری تمام جائز خواہشوں کو پورا کرے‘ آمین۔‘‘ انہوں نے دل سے دعا دی۔ فاطمہ مسکرادی اور شرارت سے ان کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
’’یہ بھی تو دعا کریں کہ ہمارے خوابوں کا شہزادہ بھی ہمیں کہیں سے آکر مل جائے؟ خوابوں میں ممکن ہے تو خوابوں میں ہی سہی۔ ہم اس شہزادے سے ملنا ضرور چاہیں گے اماں جان۔‘‘ وہ مسکراتی ہوئی بولی مگر ان آنکھوں میں کئی خواہشیں دم توڑ رہی تھیں۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہیں اماں جان؟ ارے ایسے بے وقوف تھوڑا نا ہیں ہم… ابا جان کا نام ڈوبنے نہیں دیں گے نا ان کا سر جھکنے دیں گے کسی سے بھی نکاح کرلیں گے جسے آپ ہمارے لیے چنیں گے۔ شہزادہ جائے بھاڑ میں… اتنا تھوڑی نا اہم ہے ہمارے خوابوں کا شہزادہ اب۔‘‘ وہ مسکراتی ہوئی شرارت سے کہہ گئی اور اماں جان بھی مسکرادیں تھیں۔
’’فاطمہ… تم بہترین دختر ہو۔ اپنے والدین کی رضا سے ہر کام کرنا چاہتی ہو۔ اپنے والدین کی خوشی کو اہم جانتی ہو۔ ایسی دختر سے اللہ ہمیشہ راضی رہیں گے اور آپ کے نصیب کی خوشیاں آپ کی جھولی میں ڈالتے رہیں گی‘ آپ فرماں بردار بیٹی ہو فاطمہ‘ نیک اولاد… اور نیک اولاد اللہ کا انعام ہوتی ہے۔ تم اللہ کا انعام ہو ہمارے لیے۔‘‘ اماں جان نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور وہ آنسوئوں کو آنکھوں میں ہی کہیں مدغم کرتی ہوئی مسکرادی تھی۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’سوں رب دی‘ رجت سنگھ ناں ہے میرا‘ سانوں اپنی عزت لئی مرنا آئوندا اے تا کٹ کٹناوی۔ سائیں بابا دے بھگت آں… غلط اسیں نہ کر سکدے‘ اگو جو کرنا ای ذرا دیکھ کے… رجت سنگھ پہل وار لئی صرف دسدا… گل سمجھ چئی آگئی ہووے تا دس دیو۔ نئیں تا آپاں سمجھا لیاں گے۔‘‘ رجت سنگھ نے غصے سے راجندر سنگھ کو دیکھا تھا‘ اس کا ہاتھ اس کی شہ رگ پر تھا وہ ابلتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا جب کرم دین نے اسے ترس طلب نظروں سے دیکھا۔
’’بس کرو رجت پتر… حساب میں جو گڑبڑ ہوئی سو ہوئی اب کیا جان لوگے اس کی؟ خزانے کا منہ کھلا دیکھ کر کسی کی بھی نیت بدل سکتی ہے اس میں اس بیچارے راجندر کا کیا قصور؟ ہمیں اس متعلق احتیاط کرنا ہوگی ورنہ اماں جان کی ڈانٹ سننا پڑے گی۔ وہ گھر میں بیٹھ کر بھی عقاب کی نگاہ رکھتی ہیں۔ ان کا حساب بہت کمال کا ہے‘ ان کی نظروں سے ایسی غلطیاں پوشیدہ نہیں رہتیں۔ تم پڑھے لکھے نوجوان ہو‘ حساب کتاب کا محکمہ تمہارے ذمے ہے‘ سو اس متعلق محتاط بھی تمہیں ہی رہنا ہوگا… میں نے تمہیں ملازمت تو دے دی ہے‘ مگر اب اس ملازمت کو تم جاری رکھنے کے قابل ہو کہ نہیں یہ تم طے کروگے۔‘‘ کرم دین نے کہا‘ رجت سنگھ راجندر کو چھوڑ کر گہری سانس لیتے ہوئے کرم دین کو دیکھنے لگا۔
’’آپ فکر نہ کریں کرم دین چاچا… اماں جان کا اعتماد تو ہم جیت لیں گے۔ اس ملازمت کو جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔‘‘ وہ رسانیت سے بولا‘ کرم دین نے سر ہلایا تھا۔
’’اتنے امیر باپ کے صاحب زادے ہو‘ تمہیں ملازمتوں کی کیا ضرورت؟ تم تو خوامخواہ جان جوکھوں میں ڈال رہے ہو۔ تمہارے والد چاہیں تو کیا نہیں کرسکتے تمہارے لیے؟ تمہیں پڑھانے کو انگلستان بھجوادیا‘ اتنا پیسہ خرچ کیا‘ کیا وہ بیٹے کو کاروبار میں حصہ دینے سے چوکیں گے؟ تم نے خوامخواہ اپنے والد محترم سے ناراضی مول لی۔ اگر اطاعت گزاری کرتے تو آج والد تمہیں ایسی چھوٹی ملازمت اختیار نہ کرنے دیتے۔‘‘ کرم دین نے آڑے ہاتھوں لیا تو وہ سر ہلانے لگا۔
’’بس چاچا‘ راجندر سنگھ نے پتا جی کو میرے خلاف بھڑکا دیا اور پتا جی کا دماغ تو آپ جانتے ہیں‘ اس بزرگی کی عمر میں بھی ان کا غصہ میرے غصے سے سو گنا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔ کرم دین خاموش رہے اور آگے بڑھ گئے۔ رجت سنگھ نے کرسی پر بیٹھ کر سکون سے آنکھیں بند کیں اور ایک چہرہ نگاہ کو خیرہ کر گیا۔
کسی کا چہرے کو چھپائے قریب سے گزرنا… اور یک دم ہوا سے نقاب کا سرک جانا… وہ منظر جیسے وقت کی نبض روک دینے والا تھا اور ساتھ ہی رجت سنگھ کا دل بھی… اس نے اعتراف کیا کہ زندگی میں اس سے زیادہ حسن اس نے نہیں دیکھا تھا۔ اس نے انگلستان گھوما تھا۔ دنیا دیکھی تھی‘ مگر ایسا حسن جو نگاہ کو خیرہ کرکے ہوش گم کردے‘ ایسا حسن اس نے کہیں نہیں دیکھا تھا… وہ عشق تھا کہ کچھ اور… مگر اس دن کے بعد وہ اپنے ذہن سے ان آنکھوں اور اس تیز ہوا کے باعث ہٹتے نقاب سے آزاد ہوتا وہ چہرہ کبھی بھول نہیں پایا تھا۔
’’سوں رب دی… وہ غالب کی شاعری سے زیادہ دلکش ہیں اور میر کی شاعری ان کی آنکھوں کے سامنے ہیچ ہے…
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
اف وہ نگاہ… کہ زمانے ان پر لٹادیں‘ وہ گداز لب… جیسے گلابوں کی پنکھڑیاں اپنی تازگی ان سے مستعار مانگیں۔ وہ عارض… جیسے… اف… ہم ان کی تعریف کہاں کر پائیں گے۔ ہم تو فقط ایک نگاہ دیکھ کر ہی اسیر ہونے لگے۔ سوچتے ہیں کبھی ان کو چھو لیں گے تو کیا زندہ رہیں گے؟ کیسا رعب حسن ہے کہ غرور خود پوچھے کہ ناز کی حد کیا ہے؟ اور ناز انگشت بدنداں سا تکتا رہ جائے… جب سے ان کو دیکھا ہے بس ایک حیرت سی طاری ہے‘ تحیر کا شمار نہیں‘ ہم حیرت کا مرقع بن گئے ہیں۔ دل نے انگشت حیرت جیسے دانتوں میں رکھ لیا ہے۔ کیا یہ عشق کی کوئی سمت ہے؟ عشق ہونے کو ہے کہ ہوچکا؟ ہمیں عشق کی خبر کہاں… مگر خوابوں کی سمتوں کو وہ آنکھیں اپنی سمت موڑ رہی ہیں اور ہم بے بس ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟ رجت سنگھ کا دل موہ لینے والی کوئی عام لڑکی تو نہیں ہوسکتی… ایک بار دیکھا ہے اور دوسری بار دیکھنے کی حسرت میں جی رہے ہیں ہم… بس زندگی کی یہی کہانی ہے‘ اس کے سوا کیا ہے کچھ خبر نہیں۔‘‘ رجت سنگھ نے بند آنکھوں کی پتلیوں پر تیرتی ان آنکھوں کو دیکھا تھا اور آہستگی سے آنکھیں کھول دی تھیں۔
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
قیس کی آبرو کا پاس کیا
رجت سنگھ اس وقت کسی اور عالم میں تھا۔
وہ کرم سے ملازمت کے سلسلے میں ملنے آیا تھا جب سر راہ وہ اپنی سہیلی کے ہمراہ جاتی دکھائی دی تھی۔ اس نے کرم دین چاچا کو سلام کیا تھا‘ جس سے اسے اندازہ ہوا کہ وہ کرم دین چاچا کو جانتی ہے۔ وہ نقاب سے چہرہ ڈھانپے ہوئے تھی‘ سیاہ نقاب اس سرخ وسپید رنگت کو مزید نمایاں کررہا تھا۔ وہ جانے کیوں اسے دیکھے گیا تھا‘ وہ کنی کترا کر قریب سے گزر رہی تھی جب تیز ہوا کے باعث نقاب چہرے سے سرکا اور وہ اس چہرے کو اتنے قریب سے لمحہ بھر کو بغور دیکھ پایا تھا اور وہ ایک لمحہ جیسے اس کے اندر کہیں ٹھہر گیا تھا۔ وہ کون تھی وہ نہیں جانتا تھا‘ وہ قریب سے گزر گئی مگر اس کی روح کو اپنے ہمراہ باندھ لے گئی تھی۔ اس لمحے سے وہ اس چہرے کو دوسری بار دیکھنے کی حسرت میں جی رہا تھا‘ مگر وہ کرم دین چاچا سے اس بابت دریافت نہ کرسکا تھا۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’چھوٹے نواب کی تعلیم مکمل ہوگئی ہے‘ ہم ان کو کاروبار کا مشورہ دے رہے ہیں مگر وہ انگلستان واپس جانا چاہتے ہیں۔ ہم مختلف دماغ کے لوگ رہے ہیں خواجہ ناظم الدین… ہم غلامی میں جیتے رہے ہیں مگر ہماری آئندہ نسل اس غلامی میں جینا نہیں چاہتی… چھوٹے نواب کا بھی یہی کہنا ہے کہ غلامی میں ہی جینا ہے تو پھر انگلستان میں رہ کر جی لیتے ہیں‘ ہم اس ہندوستان کی زمین پر ہی کیوں سانس لیں؟ سچ بات تو یہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی جو مسالہ جات کی خریدو فروخت کا سہارا لے کر برصغیر میں آئی تھی اب وہ مسالہ جات ہماری آنکھوں میں آنے کو ہیں۔ پوری فضا جیسے ان مسالہ جات کی خوشبو سے رچی بسی ہے اور آنکھوں کو یہ مسالہ چبھن دے رہے ہیں‘ مگر مثل وہی ہے کہ اب پچھتایا کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت… ہم نے اس قوم کو تجارت کی راہ دے کر غلطی کی اب بھگتنا تو پڑے گا نا،…‘‘ نواب زمان الحق نے کہا اور خواجہ صاحب مسکرا دیئے۔
’’بس صاحب کیا کریں‘ یہ استحصال ہوتا آیا ہے اور انگلستان کا سورج تو پوری دنیا میں چمک رہا ہے‘ جہاں دیکھو ان کی کالونیاں آباد ہیں۔ معیشت پر راج کرنے کی چال ہے ان کی… سب کو دکھائی دیتا ہے مگر ان کی طاقت کے آگے کوئی کچھ بول نہیں سکتا… ہر جگہ ان کا سکہ چل رہا ہے اور حکومتیں خاموشی سے سرنگوں ہوچکی ہیں یہ سامراجیت صرف برصغیر میں ہی نہیں‘ دنیا کی کئی ریاستوں کو نگل چکی ہے اس لالچ کا اختتام کبھی نہیں ہونے والا۔‘‘ خواجہ صاحب بولے۔
’’آپ اپنی بچی کا داخلہ کروانا چاہ رہے تھے اس کا کیا بنا؟‘‘ نواب زمان الحق نے پوچھا۔
’’اماں جان نہیں مان رہیں نواب صاحب… آپ ان کا مزاج جانتے ہیں۔ وہ اپنی منوانا چاہتی ہیں اور اسی باعث دونوں بڑے بھائی اپنی اپنی راہ لے کر نکل لیے ہیں۔ اب ایک لکھنو میں بیٹھے ہیں اور دوسرے لاہور میں۔ لکھنو والے تو پھر بھی کبھی خبر لے لیتے ہیں مگر لاہور والے تو پلٹ کر پوچھتے بھی نہیں اور ہم درمیان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اماں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے… اگرچہ اماں اب بھی بہت مضبوط خاتون ہیں‘ کاروبار دیکھ رہی ہیں‘ ابا کے بعد جس طرح انہوں نے مرد بن کر ہمیں پالا… گھر سنبھالا‘ اس سے ان کا مزاج بدل گیا۔ وہ حاکمیت والا دماغ رکھتی ہیں اب… اور ان کی اولاد اس حاکمیت کو جھیلنا نہیں چاہتی‘ آگے پیچھے دس ملازم ہوں‘ وہ حکم صادر کریں تو کوئی انکار کی ہمت نہ رکھے۔ وہ ایسا چاہتی ہیں مگر دنیا اپنے وطیرے سے کام کرتی ہے‘ ہم اماں جان کی عزت کرتے ہیں‘ ان کی خدمت بھی کرتے ہیں مگر وہ فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں‘ وہ نہیں چاہتیں کہ فاطمہ آگے پڑھے… اگرچہ اب سوچ بدل رہی ہے اور لوگ بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح پڑھانا چاہتے ہیں مگر اماں جان کی سوچ پرانی ہے۔‘‘ خواجہ ناظم الدین نے کہا تو نواب صاحب سر ہلانے لگے۔
’’اماں جان کو بچپن سے جانتے ہیں ہم‘ آپ کے والد محترم اور ہمارے ابا حضور اچھے مراسم رکھتے تھے۔ آپ کے والد محترم کی وفات کے بعد جس طرح آپ کی اماں جان نے گھر اور کاروبار سنبھالا اس کی داد دینا پڑے گی۔ اگرچہ وہ زیادہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں مگر انہوں نے ایسا ممکن کر دکھایا۔ سو شاید اسی باعث ان کو تعلیم ضروری نہیں لگتی… مگر بہرحال اب ابتدائی تعلیم والا دور گزر چکا ہے۔ اب تو سیاست میں بھی ماشاء اللہ بچیاں اور خواتین بڑھ چڑھ کر کام کررہی ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا۔ خواجہ ناظم نے سر ہلایا۔ تبھی نواب چونکتے ہوئے بولے۔
’’ایک کام کرتے ہیں‘ ہم اماں جان سے خود اس متعلق بات کرتے ہیں اور آپ کی اجازت ہو تو ایک مشورہ بھی دیتے ہیں کہ فاطمہ بیٹی کو پڑھانے کی ذمے داری چھوٹے نواب کے سپرد… اور یہ عمل مکمل باپردگی میں ہوگا۔ چھوٹے نواب فاطمہ بیٹی کو گھر جاکر پڑھادیا کریں گے۔ آپ پردے کا انتظام کروا دیں… آپ کو مناسب لگے تو ہم اماں جان سے بات کرلیں گے۔‘‘ نواب زمان الحق کے کہنے پر خواجہ صاحب سوچ میں پڑ گئے تھے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
نواب زمان الحق نے اماں جان سے بات کی تھی کہ نہیں خواجہ صاحب نہیں جانتے تھے‘ مگر بات کسی طرح اماں کے کانوں تک پہنچ گئی اور وہ آگ بگولہ ہوگئی۔
’’اے لو… اب اس گھر کے فیصلے کوئی اور کرے گا؟ سیانے کہہ گئے‘ نادان کی دوستی بالو کی بھیت‘ ناظم الدین ضعیف الحافظہ ہوگئے ہیں آپ‘ نواب زمان الحق کے صاحب زادے انگلستان سے پڑھ کر آئے ہیں‘ ان کا مزاج کیسا بے راہ ہوگا‘ آپ کو خبر ہے؟ گویا آپ آتش کو ماچس کے قریب رکھنا چاہ رہے ہیں۔ انگلستان کے آزاد ماحول میں پڑھنے والے نوجوان سے کیا امید رکھتے ہیں آپ؟ کیا اخلاص ہوں گے ان کے پاس؟ اور ان کے ابا حضور کی عمر تو طوائفوں کے گیسوئوں میں گزر گئی بیٹے کو کیا سکھایا ہوگا؟ نواب زمان الحق کی خود کی تربیت ڈھنگ سے نہ ہوئی تو ان کے سپوت سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے؟ میاں عقل کے ناخن لو… اپنا توشا اپنا بھروسا والی مثل ہے سن تو رکھی ہوگی؟ جوتا پہنے سائی کا بڑا بھروسا بیاہی کا… آپ دنیا کی سنتے ہیں‘ اپنی عقل تو آپ نے بیوی کے پلو میں باندھ کر رکھ دی ہے‘ گرہ کھولیں تو کچھ خبر ہو ناں‘ آس بگانی جو تکے وہ جیوت ہی مر جائے… سیانے یوں ہی نہیں کہہ گئے میاں‘ مگر آپ کی عقل میں تو بات آتی نہیں‘ اعتبار کرنے چلے ہیں‘ ان حضرت پر جن کو خود کا اعتبار نہیں۔ آس بڑھاپا آیاں ہوا سوت کسوٹ یا ہو پیسہ گانٹھ کا یا ہو پوت سپوت۔ زمانہ کیا چل رہا ہے خبر ہے؟‘‘ اماں نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے گھورا‘ خواجہ ناظم الدین ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئے۔
’’اماں جان فاطمہ کی تربیت پر ہمیں ناز ہے۔ دیکھئے جب آپ نے منع کیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ اگر دادی جان نہیں چاہتیں تو ہم مزید تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہیں گے‘ جبکہ ہم ان کو کالج بھیجنے کو تیار تھے۔ مگر انہوں نے آپ کی بات کا مان رکھا۔ اب جب گھر پر رہ کر پڑھائی کرنے کا موقع مل رہا ہے تو آپ تب بھی رضا مند نہیں؟ اماں جان ہم سب آپ کے حکم کی مخالفت نہیں کررہے‘ نا آپ کی تابعداری سے انحراف کررہے ہیں مگر ایک بات کہنا چاہیں گے کہ ایسی بے جا سختی ٹھیک نہیں۔‘‘ ناظم الدین نے ماں کو سمجھانا چاہا اور اماں جان نے چشمے کے پیچھے سے فقط ان کو گھورنے پر اکتفا کیا تھا۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
فاطمہ پودوں کو پانی دے رہی تھی جب اماں جان پاس آن رکیں۔ فاطمہ چونک کر مڑی اور اماں جان کو دیکھا۔
’’دادی جان آپ کو کسی شے کی ضرورت ہے کیا؟‘‘ فاطمہ نے ادب سے پوچھا۔ اماں جان نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا‘ فاطمہ کے ہاتھ پائوں سرد پڑگئے تھے۔ پانی کا پائپ ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔
’’ایسے کیا ڈر رہی ہو فاطمہ بی بی… اچھا آئو ہمارے ہمراہ بیٹھو ذرا۔‘‘ اماں جان کے کہنے پر وہ ان کے ہمراہ چل دی اور ان کے تخت پر بیٹھنے کے بعد وہ کنارے پر بیٹھ گئی۔ اماں جان نے انہیں بغور دیکھا‘ وہ سر جھکائے منتظر تھی۔
’’کیا ارادہ ہے؟‘‘ دادی جان نے پوچھا تو وہ چونک کر دیکھنے لگی۔
’’ک… کوئی ارادہ نہیں دادی جان…‘‘ اس نے ڈرتے ہوئے نگاہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔ دادی جان نے اسے چشموں کے پیچھے سے گھورا اور بولیں۔
’’اپنے ابا جان کو تم نے کہا ہے کہ گھر بیٹھ کر پڑھ لوں گی؟ یعنی میرے کہے کی کوئی وقعت نہیں ناں تمہارے لیے؟‘‘ دادی جان نے کہا‘ وہ سر نفی میں ہلانے لگی۔
’’ایسا نہیں دادی جان‘ ہم آپ کی مرضی کے خلاف جائیں گے‘ ایسا کیسے سوچ لیا آپ نے… آپ کے کہے کی وقعت ہے دادی جان تبھی ہم نے اماں سے کہہ دیا تھا‘ ہمیں نہیں پڑھنا‘ ہم نے ابا جان سے پڑھنے سے متعلق کچھ نہیں کہا۔‘‘ اس نے صاف گوئی سے کہا۔ دادی جان جواباً اسے خاموشی سے دیکھنے لگی پھر گہری سانس بھر کر بولیں۔
’’تخم تاثیر صحبت کا اثر۔ جیسی صحبت ہو بندہ ویسا ہوتا ہے‘ خیر ہم نے تو سمجھا دیا‘ یہ خواجہ ناظم الدین کچھ کروا کر دم لے گیں۔ جب خاک سر پر پڑے گی تو عقل آئے گی ان کو… ہمیں کیا… ہم نے تو مشورہ دے دیا‘ صاف کہہ دیا کہ نہیں پڑھوائو بیٹی کو‘ مگر سنتے نہیں تو نہ سہی…‘‘ دادی جان نے کہا۔ فاطمہ نے ان کی سمت دیکھا پھر بولی۔
’’دادی جان‘ ہم عزت کے معنی سمجھتے ہیں۔ اپنے ابا جان کی عزت کا ہمیں احساس ہے‘ ہم مر جائیں گے مگر ابا جان کے سر کو جھکنے نہیں دیں گے۔ آپ کے دل میں جو بھی خدشے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایسا ہم ثابت نہیں کریں گے… وقت خود ثابت کرے گا۔ ہم نے ابا جان سے نہیں کہا کہ ہم پڑھنا چاہتے ہیں‘ اگر انہوں نے کوئی متبادل راہ نکالی ہے تو ہم اس سے واقف نہیں۔‘‘ اس نے مضبوط لہجے میں کہا‘ دادی جان اسے دیکھ کر رہ گئی تب وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’ابا حضور آپ نے ہمارا نام کیوں لیا… ہم کیا پڑھائیں گے؟ ہمارا مطلب ہے ان کی دادی جان کا مزاج جانتے ہیں آپ؟ ہم تو ان کے گھر سے دس میل دور سے بھی نہ گزریں۔ کیسی بدمزاج خاتون ہیں۔ آپ نے ہم سے پوچھے بغیر کیسے فیصلہ کرلیا کہ ہم ان چڑچڑی خاتون کی پوتی کو پڑھانے جائیں گے۔‘‘ نواب وقار الحق بولے تو زمان الحق نے ان کو ہاتھ اٹھا کر خاموش کروا دیا۔
’’ایسا نہیں کہتے بیٹا وہ بزرگ ہیں‘ اکثر بزرگ اس عمر میں ایسے ہی چڑچڑے ہوجاتے ہیں‘ وہ دل کی صاف ہیں‘ تھوڑا مزاج برہم ہے‘ مگر ہم نے خواجہ صاحب سے وعدہ کرلیا ہے‘ آپ کو ان کی بچی کو پڑھانا ہوگا‘ علم بانٹنے سے اور بڑھتا ہے‘ اس سے فرق نہیں پڑتا۔‘‘ نواب صاحب نے سمجھایا تو وقار الحق دیکھ کر رہ گئے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’اماں جان… آپ جیسی مضبوط خاتون نہ دیکھی نہ سنی… ہمیں یاد ہے ابا حضور آپ کو رضیہ سلطانہ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ آپ بلاشبہ ایک جی دار خاتون ہیں۔ جس طرح آپ نے زندگی کو گزارا وہ قابل قدر ہے۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تو اماں جان مسکرا دیں اور پان پر چونا لگاتی ہوئی بولیں۔
’’مطلب کی بات کرو زمان الحق اپنے ابا حضور کی طرح باتوں کی جلیبیاں نہ بنائو‘ ٹامک ٹوئیاں نہ مارو… ہم تو زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنے والے لوگ ہیں‘ جو ہے ہمیشہ اسی پر شیرو شکر کیا ہے کیونکہ گدھا پیٹنے سے گھوڑا نہیں ہوجاتا۔‘‘ اماں نے پان میں گل قند رکھ کر نواب صاحب کو پیش کیا۔ نواب صاحب مسکرائے۔
’’پھر بھی اماں جان… آپ کی تعریف تو زمانہ کرتا ہے۔ آپ اپنے وقت کی بہترین مثال ہیں۔ اماں حضور تو اکثر آپ کے ذکر پر چڑ جایا کرتی تھیں‘ اب علم نہیں خواتین میں یہ حسد کیونکر در آتا ہے۔ مگر سنا ہے کہ خواتین کی طبیعت میں نازو ادا کے ساتھ حسد کا پایا جانا بھی ضروری ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ حسن تو دیا ہی دیا عقل بھی بے شمار دی۔ آپ کی پوتی فاطمہ آپ ہی کا پرتو ہیں شاید۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے کام کا مدعا چھیڑا‘ اماں جان اپنی تعریف سن کر مسکرادیں اور نواب صاحب کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’جانے بھی دو میاں‘ آپ کی اماں حضور کی قصیدہ خوانی کرتے تو آپ کے ابا حضور تھکتے نہ تھے۔ یوں بھی حسن کی کیا مثال… ہماری نظر میں تو ہر حسن یکتا ہے مگر اصل بات تو عقل ہی ہے‘ آپ کے ابا حضور اور خواجہ صاحب یک جان دو قالب تھے۔ گھنٹوں بیٹھ کر گپیں مارا کرتے تھے‘ خیر جانے دیجیے‘ آپ سنائیے کس کام سے تشریف آوری ہوئی۔‘‘ اماں جان مدعے پر آئیں۔ نواب صاحب مسکرا دیئے۔
’’آپ کے ہاتھ کا گلوری والا پان یاد آرہا تھا اماں جان سو وقت نکال کر حاضری دے دی۔ اچھا فاطمہ بیٹی سے یاد آیا‘ کہاں ہیں وہ؟ ماشاء اللہ بہت ذہین اور ہونہار طالبہ ہیں‘ ان کو بہترین نتیجہ لانے پر ٹرافی ہمارے ہی ہاتھوں دلوائی گئی تھی۔‘‘ وہ مسکرائے۔
’’پڑی ہوگی کمرے میں کہیں‘ ضد کیے بیٹھی ہے کہ کالج جانا ہے‘ اب ہمارے خاندان کی عزت درسگاہوں میں خوار ہوگی کیا؟ ہماری مثال سامنے ہے میاں‘ کہاں کی بڑی سند تھی ہمارے پاس؟ مگر کاروبار سنبھال کر بتایا ناں نوکروں کی فوج کو سنبھالا‘ بچوں کو پالا… حساب کتاب‘ کھاتے داری ہر بات پر نظر رکھی‘ ہم نے کون سا ولایت سے سند لی تھی؟ پڑھائی تو جتنا بھی کرلو‘ کرنا تو وہی چولہا چوکی ہی ہے ناں… مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی‘ خیر جانے دیں‘ آپ وہ نہر والی زمین بیچ رہے ہیں؟ کیا دام لگا رہے ہیں؟‘‘ اماں نے موضوع بدلنا چاہا مگر نواب صاحب نے فوراً کہا۔
’’اماں جان آپ پر ایسی کئی زمینیں قربان‘ آپ کا ارادہ ہے تو ہم تحفتاً آپ کو دے دیں گے‘ دراصل ہم فاطمہ بیٹی کی بات کرنے آئے تھے‘ اس دن سر راہ نواب صاحب سے بات ہوئی تھی‘ خبر ہوئی کہ آپ فاطمہ کو مزید پڑھنے پر قدغن لگا رہی ہیں‘ ہم نے حل نکالا کہ وقار الحق انہیں گھر آکر پڑھا دیا کرے‘ آپ درمیان میں پردے کا انتظام کروا دیں‘ گھر کے بچے ہیں‘ ہمیں یہ باہر جاکر تعلیم جاری رکھنے سے مناسب لگتا ہے کہ پردے میں تعلیم جاری رکھیں‘ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ نواب صاحب نے کہا تو اماں جان نے ان کو سوچتی نظروں سے دیکھا۔
’’اس زمین کی دستاویز آپ کو بجھوا دوں گا اماں جان‘ ہمارے لائق اور کوئی خدمت ہو تو عرض کریں؟‘‘ نواب صاحب نہایت ادب آداب سے بولے‘ اماں جان مسکرا دیں۔
’’اپنے والد مرحوم پر گئے ہو بالکل‘ وہی جلیبی والی مٹھاس اور وہی جلیبی جیسے بل‘ مگر آدمی کھرے ہو۔‘‘ اماں جان کا مسکرانا کیا معنی رکھتا تھا نواب صاحب جانتے تھے سو مسکرا دیئے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
سو جو بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہ دیتی تھی بالآخر وہ پھلنے پھولنے لگی تھی۔ چھوٹے نواب وقار الحق‘ فاطمہ ناظم الدین کو پڑھانے گھر آنے لگے اور وہ بھی مکمل پردے میں۔ پردے کے ایک طرف نواب زادے تشریف فرما ہوتے اور دوسری طرف فاطمہ ناظم الدین… درمیان میں ایک مضبوط لکڑی کا تختہ ہوتا… جس میں باریک جھریاں ہوتیں جس سے دیکھنا یا جھانکنا تقریباً ناممکن یوں بھی ہوتا کہ اس پر سفید رنگ کا پردہ پڑا ہوتا‘ چھوٹے نواب جو آزادی ماحول سے پڑھ لکھ کر تشریف لائے تھے ان کے لیے ایسے ماحول میں فاطمہ کو تعلیم دینا ایک انوکھا تجربہ تھا۔ اتنے پردے کے باوجود کوئی نہ کوئی ملازمہ ہمراہ بیٹھی ان پر نظر رکھے ہوتی‘ یا پھر اماں جان گاہے بگاہے چکر لگتی رہتیں۔
’’بچوں میں فکر مند ہورہی تھی‘ رانو بچوں کو چائے پیش کی کہ نہیں‘ خالی دماغ کو تو گھسائے نہیں جا رہے؟‘‘ اماں جان کڑی نظر ڈالتے ہوئے دونوں بچوں کو دیکھتیں… دونوں خاموش رہتے سو وہ اطمینان کرتی ہوئی لوٹ جاتیں۔
چھوٹے نواب وقار الحق کو اس ماحول میں خاصی گھٹن ہوتی مگر وہ خاموشی سے اپنا کام کیے جاتے… انہوں نے اس دوران کبھی فاطمہ کی شکل نہ دیکھی… اکثر اس کی آواز بھی سنائی نہ دیتی اور ملازمہ اس کی کہی بات کو اپنے انداز میں آگے بڑھاتیں۔
’’فاطمہ بی بی‘ آپ کے منہ میں زبان ہے تو آپ اس قدر بخل سے کام کیوں لیتی ہیں؟ آپ کو اپنی بات کہنے کا ہنر تو معلوم ہونا چاہیے۔‘‘ چھوٹے نواب چڑ کر بولے مگر دوسری طرف فاطمہ گویا دانتوں تلے زبان دبائے بیٹھی رہی تھیں۔
’’ہم نے کسی کو اس طرح پڑھانے کا تجربہ کبھی نہیں کیا‘ فاطمہ بی بی‘ اگر آپ اس طرح گونگی بہری بنی بیٹھی رہیں گی تو ہم اس عمل کو شاید جاری نہ رکھ سکیں گے۔‘‘ وقار الحق چڑ کر بولے‘ جب فاطمہ کے لیے بولنا گویا ناگزیر ہوگیا تھا۔
’’ہم… ہم… سن رہے ہیں آپ کو… ہماری سمجھ میں سب آرہا ہے۔ اس لیے… بولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔‘‘ اس نے بامشکل مدعا بیان کیا۔ حلق تھا کہ خشک ہوا جارہا تھا۔ وقار الحق کی بھاری آواز ان کی سماعتوں میں پڑتی تھی تو جیسے ان کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہونے لگتے تھے۔ لگتا تھا ابھی اماں جان اس آواز کے سننے پر ان پر کوئی پہاڑ توڑ ڈالیں گی‘ یا ان کے سانس لینے پر بھی پابندی عائد کردیں گی۔
دادی جان کے اس عمل نے ان کے اعتماد کو کچل ڈالا تھا اور خود اعتمادی کا قتل عام کردیا تھا۔ سخاوت بیگم ساس کے سخت رویے کو زائل کرنے کے لیے اور بیٹی کو اعتماد دینے کی غرض سے اکثر آس پاس رہتیں اور اماں جان کی نگاہ پڑتی تو وہ سخاوت بیگم کو گھورنے لگتیں۔
’’آپ خود تو جیسے ولایت سے پڑھ کر آئی ہیں‘ مشکل سے دس جماعت جانے کیسے پاس کر ڈالیں‘ اب بیٹی کو تو پڑھنے دیں‘ قسمت سے موقع ملا ہے اس میں مداخلت نہ کریں۔‘‘ اماں جان بہو کو گھورتیں تو وہ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتیں۔
’’فاطمہ بی بی‘ ہمیں لگتا ہے ہم کسی کے گھر بلا اجازت کود پڑے ہیں اور چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ اگرچہ ہم نے کوئی چوری نہیں کی مگر آپ کو پڑھانے کے دوران ہمیں دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ہم اب پکڑے جائیں گے اور آپ کی دادی جان ہم پر کوئی فتویٰ لگادیں گی۔ یااللہ کس قسم کی خاتون ہیں… ہم تو سوکوس دور سے گزر جائیں ان کی سمت دیکھے بنا۔‘‘ چھوٹے نواب نے الجھ کر کہا۔ وہ ملازمہ کی موجودگی میں انہیں بولنے سے باز رکھنا چاہتی تھیں مگر جب طریقہ کار سمجھ نہیں آیا تو فوراً بولیں۔
’’آپ اتنے ذہین ہیں چھوٹے نواب‘ آپ تحریک میں حصہ کیوں نہیں لیتے۔ آپ جیسے قابل لوگوں کو تو مسلم لیگ کا حصہ ہونا چاہیے۔‘‘ دیوار کے اس طرف سے فاطمہ کی بات سن کر چھوٹے نواب چونکے۔
’’سیاست کی خبر ہے آپ کو؟ ہم تو سمجھے ان سات پردوں میں تو آپ کو دنیا کی کچھ خبر بھی نہ ہوگی، ویسے کیا سانس لینے کی بھی اجازت ہے آپ کو کہ نہیں؟‘‘ وقار الحق پھر اس سمت پلٹے جہاں سے فاطمہ انہیں موڑنا چاہتی تھیں ملازمہ کان لگائے بیٹھی تھیں ان کو ڈر تھا کہ وہ دادی جان کے کان نہ بھریں ملازمہ کو بٹھانے کا مقصد بھی خیر ان دونوں پر نظر رکھنا ہی تھا سو وہ دادی جان کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھیں اللہ اللہ کرکے ان کے علم حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی تھی اور وہ اس راہ کو پھر سے مسدود کرنا نہیں چاہتی تھیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’رجت سنگھ تمہارے والد صاحب سے سر راہ ملاقات ہوئی تھی ان کی طبیعت ان دنوں کچھ ٹھیک نہیں تمہیں ان کی طرف چکر لگانا چاہیے۔‘‘ کریم دین نے اطلاع دی تو رجت سنگھ ان کو دیکھ کر رہ گیا۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو میاں ماں باپ سے بڑھ کر اور کچھ نہیں قدر کرو ان کی ان کی دعائوں کے خزانے سمیٹ لو اس سے قبل کہ وقت…‘‘
’’ایسی باتیں نہ کریں کرم دین چاچا پتا جی اور ماتا جی کا خیال ہے ہمیں ہم ان کو تکلیف نہیں دے سکتے، اسی لیے گھر چھوڑ دیا تاکہ وہ خوش رہیں جہاں تک دعائوں کی بات ہے ہمیں یقین ہے ان کی دعائیں ہمارے لیے ہی ہیں تبھی تو ہم سانس لے رہے ہیں۔‘‘ رجت سنگھ نے کہا۔
’’رجت سنگھ یہ خفگی اور جھگڑے زندگی کا حصہ ہیں جب تک زندگی باقی ہے ایسا چلتا ہی رہتا ہے مگر رشتوں کی قدر کرنا چاہیے ورنہ صرف پچھتاوے باقی رہ جاتے ہیں۔‘‘ کرم دین نے کہا اور رجت ان کو دیکھ کر رہ گیا۔
’’ہم پتا جی کے خلاف ہیں مگر ہمیں لگا ان کو ان کے بھائیوں کے ہمراہ چھوڑ دینا مناسب ہے ان کو اپنے بھائیوں کی قدر زیادہ ہے ہمارا وجود یا ہماری رائے ان کے لیے اہمیت نہیں رکھتی بہرحال ان کا خیال ہے اور ہم ان سے ملنے ضرور جائیں گے۔‘‘ رجت سنگھ نے کہا اور کرم دین نے سر ہلا کر تائید کی۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’اول درجے کی نالائق اولاد ملی ہے ہمیں۔ جانے یہ اماں جان کی بد دعائوں نے آن گھیرا ہے ہمیں‘ پورے لکھنو میں خوب نام روشن کردیا ہے آپ کے سپوت نے ہمارا۔‘‘ توقیر نے بیگم کو ڈپٹا۔
’’آپ کی اولاد ہے توقیر صاحب‘ کسی اور کے سر کیا الزام دینا۔‘‘ بیگم نے الٹا ان کو لتاڑ ڈالا۔
’’بیگم تربیت بھی کوئی شے ہوا کرتی ہے۔ آپ تربیت سرے سے دینا بھول گئیں ہیں۔ اپنے صاحب زادے کے شوق دیکھیے‘ ہنر دیکھیے اور کون سی بری عادت ہے جو ان میں نہیں۔ جوا‘ شراب اور کیا کیا گنائوں‘ ایسے بچے کو کون رشتہ دے گا؟ لکھنو میں تو ایسا ہونے سے رہا‘ ان کو وہیں کھپایا جاسکتا ہے جس جگہ ان کو کوئی نہیں جانتا ہو جو ان کے کرتوتوں اور عیبوں سے واقف نہیں‘ مگر یہ بھی کسی کی بچی کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔‘‘ توقیر صاحب نے بیگم کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے بیٹے کے عیب گنوائے۔
’’ساری ذمے داری بیوی کی نہیں ہوتی… کچھ ذمے داری شوہر کی بھی ہوتی ہے‘ آپ کو ہوش ہی کہاں تھا جو توجہ دیتے۔ باپ اپنے زعم میں بیرسٹر بنے بیٹھے رہے تو ایسا تو ہونا ہی تھا ناں۔ آپ نے کب پلٹ کر پوچھا کہ بیٹا کیا کررہے ہو۔ پڑھائی کیسی جارہی ہے؟‘‘ بیگم نے الزام ان کے سر ڈال دیا اور وہ گہری سانس لیتے ہوئے تھک کر بیٹھ گئے۔
’’بیگم میں واقعی صاحب زادے کے لیے فکر مند ہوں‘ سمجھ نہیں آرہا‘ ان کو کیسے سمجھائوں‘ شادی کی عمر کے لائق ہوگئے ہیں اور عقل نام کو نہیں۔‘‘ توقیر صاحب نے کہا۔ بیگم نے ان کی طرف دیکھا۔
’’ارے تو پکڑ کر نکاح کروا دیں۔ ذمے داری سر پر پڑے گی تو خود ہی سدھر جائیں گے۔ لوگوں کے بچے خراب نہیں ہوتے کیا؟ آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے شہر کا شہر پارسا ہے اور دنیا جہان کے عیب بس آپ کے معصوم صاحب زادے میں ہی ہیں۔‘‘ بیگم نے بیٹے کی طرف داری کرکے ڈپٹا۔ توقیر صاحب نے انہیں دیکھا۔
’’موصوف کے رشتے کی بات چلائیں کہیں پر۔‘‘ توقیر صاحب سوچ کر جیسے دور کی کوڑی لائے تھے۔ بیگم اچھل پڑی۔
’’یہ لو… ہم کہاں سے رشتے کی بات چلائیں؟ ہم فارغ ہیں کیا؟ یا شہر بھر کی بچیاں فالتو ہیں؟ آپ خود کہیں بات چلائیں۔ کئی لوگوں سے ملنا ملانا ہے آپ کا۔‘‘ بیگم نے الٹا ان کے سر ڈال دیا۔ توقیر صاحب کچھ سوچتے ہوئے بیگم کی طرف دیکھنے لگے۔
’’آپ کے بھائی صاحب کی لڑکی بھی تو ہیں‘ ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ توقیر صاحب کے کہنے پر بیگم نے باضابطہ ناپسندیدہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’آپ کو قسمت پھوڑنے کو میری ہی بھتیجی ملی ہے؟ اللہ نہ کرے جو میری بھتیجی کا نکاح ایسے کسی جواری شرابی سے ہو۔ وہ تو نیک سیرت ہیں‘ آپ اپنے بھائی کی بیٹی کیوں نہیں دیکھتے؟ بقول آپ ذمے داری ڈالنے سے آپ کے سپوت کو سدھر تو جانا ہے ناں؟ تو بے خوف خطر بات چلائیں اور بھتیجی گھر لے آئیں… گھر کو سنبھال لے گی اور آپ کے صاحب زادے کو بھی۔‘‘ بیگم نے مشورہ دیا۔
’’آپ کی خاطر اب دوڑا دوڑا لاہور جائوں؟ ان کی بیٹی تو وکیل بن رہی ہیں‘ وہ کہاں دیں گے ہمارے نکھٹو صاحب زادے کو۔‘‘ توقیر صاحب نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’اے لو‘ وہاں لاہور کہاں پہنچ گئے آپ؟ ذرا نزدیک بھی نظر گھمالیں‘ آپ کے ہونہار بیرسٹر بھائی کی بیٹی بھی تو ہیں۔‘‘ بیگم نے نظریں گھماتے ہوئے یاد دلایا۔
’’کون؟‘‘ توقیر چونکے۔ ’’ناظم بھائی؟‘‘ توقیر فخرالدین نے کہا۔
’’جی… خیر سے ان کی بیٹی بھی جوان ہوگئی ہیں اور پڑھی لکھی بھی ہیں‘ بات ڈالیے۔‘‘ بیوی نے مشورے سے نوازا۔
’’فاطمہ… وہ اتنی قابل بچی ہے اور آپ کے صاحب زادے سے تو خاصی چھوٹی بھی ہیں عمر میں‘ ابھی تو انہوں نے ہائی اسکول ختم کیا ہے کہاں کا جوڑ ملا رہی ہیں آپ بیگم…‘‘ توقیر نے بیگم کو گھورا مگر بیگم مسکرا دیں۔
’’بھائی ہے آپ کا‘ فاطمہ کو اس سے اچھا رشتہ کہاں ملے گا۔ لکھنو کی باتیں دلی کہاں جاتی ہیں۔ آپ کے بیٹے کی شہرت ایسی بری بھی نہیں اب اور یوں بھی اپنوں کو اپنے ہی ڈھانپتے ہیں۔ آپ کے چھوٹے بھائی ہیں ناظم‘ وہ رشتہ نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟‘‘ بیگم نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ توقیر صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’ساری ملی بھگت ہمارے صاحب زادے اور ان کے لنگوٹیے یار نواب صاحب کی ہے‘ مگر ہم بھی چپ ہیں کہ چلو ہونے دو‘ ورنہ ہماری مرضی کے بنا پرندہ پر نہیں مار سکتا۔‘‘ اماں جان نے چائے رکھتے ہوئے بہو کو دیکھتے ہوئے کہا۔ بہو کو ان کی بات بری تو لگی مگر کڑوا گھونٹ پی کر مسکرادیں۔
’’اماں جان آپ کی اہمیت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے‘ بزرگوں کے باعث ہی تو گھر میں رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ ناظم کو اپنی اماں جان کو اداس کرنا کہاں پسند‘ ان کا کہنا ہے کہ ماں کو خفا کرنا اللہ کو خفا کرنے کے مترادف ہے۔‘‘ بہو بیگم کے ساتھ اماں جان بھی مسکرا دیں۔
’’سخاوت بی بی بات تو ٹھیک کہی‘ رحمت تو بزرگوں سے ہی ہوتی ہے اور حکمرانی کا وصف بھی بزرگوں کو ہی ملتا ہے۔ اب ہمارے ہوتے ہوئے آپ کی تو سنی نہیں جائے گی‘ مگر گھر پڑھوانے کا عندیہ دے کر ہم نے بھی روشن خیالی کا ثبوت دے ہی دیا… اب ہم کو کوئی دقیانوسی سوچ کی حامل نہیں کہے گا۔ باقی آگے جو بھی فیصلہ صادر کرنا ہے اس کا حق تو ہمارے ہی پاس ہے۔‘‘ اماں جان چائے کا سپ لیتی ہوئی مسکرائیں مگر یک دم منہ بگاڑا۔
’’اے اس چائے میں شکر کی جگہ نمک انڈیل دیا ہے بہو بیگم؟‘‘
’’نہیں اماں جان چمچ بھر بھر کر شہد انڈیلا تھا‘ مگر کڑواہٹ بھی ایسی بیماری ہے کہ جاتی ہی نہیں۔‘‘ اماں کہہ کر مڑ گئی اور اماں جان بہو کو دیکھ کر رہ گئیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’ہائے اللہ… اماں جان تو ذبح کردیں گی۔‘‘ ملازمہ نے فوراً آگے بڑھ کر پردہ دوبارہ تان دیا۔
’’معذرت چھوٹی بی بی‘ اس واقعے کا ذکر اماں جان سے مت کردیجیے گا‘ ورنہ وہ ہمارا حشر کردیں گی۔‘‘ ملازمہ کا جیسے خون خشک ہورہا تھا‘ فاطمہ نے سر ہلا دیا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا‘ کچھ فاصلے پر کھڑی اماں جان دیکھ چکی تھیں اور فاطمہ کو خشمگیں نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ اس کا دل دہل کر رہ گیا تھا۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
وقار الحق بے چینی سے اپنے کمرے کی بتی جلاتے بجھاتے رہے تھے مگر وہ چہرہ نگاہ سے اوجھل نہیں ہورہا تھا۔ حسن تو کئی دیکھے تھے مگر فاطمہ جیسا حسن… انہوں نے غالباً تصور بھی نہیں کیا تھا کہ صندل کی دیوار کے اس طرف بیٹھی وہ لڑکی اس قدر خوب صورت بھی ہوگی۔
’’یہ کیا ہوا ہمیں‘ وہ چہرہ نگاہ سے محو کیوں نہیں ہورہا… ایسا کیا خاص تھا ان کے چہرے میں؟‘‘ چھوٹے نواب نے الجھ کر خود سے پوچھا مگر کوئی جواب نہیں ملا تو وہ اٹھ کر چھت پر آگئے۔ تیز ہوا میں کھل کر سانس لی مگر ہر سمت جیسے فاطمہ بی بی کا چہرہ ہی دکھائی دے رہا تھا‘ کیسا پُرنور چہرہ تھا‘ وہ کوئی استعارہ یا مثال ڈھونڈ نہیں پائے تھے۔ وہ نہ ستاروں کی طرح تھیں ناچاند سی‘ ان کا حسن اپنی مثال آپ تھا۔ وہ جیسے ملکوتی حسن تھا۔ نظروں کو خیرہ کردینے والا… فاطمہ بی بی کا چہرہ نظروں سے ہٹا نہیں تھا‘ انہوں نے سوچ… سوچ بدلنے کی بھرپور کوشش کی تھی‘ وہ شب بھر جاگتے رہے مگر وہ چہرہ جاگنے میں بھی خواب دکھاتا رہا تھا۔
’’یہ کیسا حسن ہے… جاگتے میں بھی خواب دکھاتا ہے؟ ہم نے تو ایسا حسن دیکھا نا سنا… کئی حسن والے دیکھے‘ مگر ایسا حسن کہیں اور نہیں دیکھا۔ کیا خاص بات ہے فاطمہ بی بی میں؟‘‘ وہ خود سے کیا گیا سوال کئی بار دہارتے ہوئے سوچتے چلے گئے مگر کوئی ڈور ہاتھ نہیں آئی‘ دوسرے دن وہ فاطمہ کو پڑھانے گئے مگر ذہن یکسوئی میں ناکام رہا‘ وہ الجھے الجھے دماغ سے صندلی دیوار کو دیکھتے ہوئے جانے کیا کیا بولتے رہے تھے۔
اخلاقیات یا فلسفہ اخلاق یا اخلاقی قدروں کے متعلق بحث ہے اور توجہ کسی شے پر مرکوز نہ کر پارہے تھے کیا کہہ رہے تھے خود نہیں جانتے تھے درست کہا بھی کہ نہیں… وہ خاموشی سادھ گئے تھے۔ دوسری طرف فاطمہ خاموش سی منتظر رہی تھیں… مگر چھوٹے نواب بولے۔
’’ہم کچھ سوچ نہیں پارہے‘ فاطمہ بی بی‘ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا‘ ہم کیا بول رہے ہیں یا کیا بولنا چاہ رہے ہیں۔ ہمیں کچھ علم نہیں‘ آپ کو دیکھ کر فقط اتنا یاد رہ پایا ہے کہ جمالیات فلسفہ ایک صنف جو فن کے حسن اور فن تنقید کی قدروں اور معیاروں سے بحث کرتی ہے وہ آپ کے سامنے خاموشی سے ہاتھ باندھے کھڑی ہے اور فلسفہ انگشت بدنداں سا سراسیمگی سے آپ کو تکتا جاتا ہے۔‘‘ اس کی باتوں پر وہ چونک پڑیں۔
’’کیا… کیا مطلب چھوٹے نواب… ہم سمجھے نہیں؟‘‘ فاطمہ الجھ کر بولی۔ چھوٹے نواب نے صندل کی دیوار کو دیکھتے ہوئے شانے اچکا دیئے۔
’’فاطمہ بی بی‘ دوسری بار دیکھنے کی ہوس نہیں ہے‘ مگر چاہ ضرور ہے کہ اس قدر ہوا چلے کہ ایک بار یہ سفید پردہ اس صندل کی دیوار سے ایک بار پھر سرک جائے اور ہم آپ کو ایک بار مزید بغور دیکھ سکیں۔ دراصل جو دیکھا وہ نظر کا گماں تھا یا محض ہمارا وہم؟ ہم اس کا یقین کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ وقار الحق بنا ملازمہ کی پروا کرتے ہوئے اپنی بات کہہ گئے اور فاطمہ کی آنکھیں جہاں کھلی رہ گئیں تھیں وہیں ملازمہ کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔ وہ مارے حیرت کے فاطمہ کو دیکھے جارہی تھیں اور فاطمہ کا تو وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
ان کا چہرہ دھلے لٹھے کی مانند سفید پڑچکا تھا‘ خوف کے مارے عجیب کیفیت تھی۔ انہوں نے کھلے منہ والی ملازمہ کو نظروں ہی نظروں میں جیسے درخواست کی کہ اس گفتگو کا احوال دادی جان کو نہ سنایا جائے مگر ملازمہ اٹھ کر وہاں سے فرار ہوگئی۔ فاطمہ نے سر پیٹ لیا۔
’’اب خیر نہیں… دادی جان کو خبر ہوگئی تو اس پڑھائی پر پابندی لگادیں گی اور وہی ہوا جو ڈر تھا‘ اس سے تو بہتر تھا ہم دادی جان کی مخالفت مول لے کر درسگاہ پڑھنے کو چلے جاتے۔‘‘ وہ بڑبڑائی۔ صندل کی دیوار کے اس طرف چھوٹے نواب متجسس ہوئے۔
’’خیریت فاطمہ بی بی‘ کیا ہوا… آپ خیریت سے ہیں؟‘‘ چھوٹے نواب نے دریافت کیا‘ فاطمہ نے نفی میں سر ہلایا اور خشک حلق کو تر کرتے ہوئے بولی۔
’’برائے مہربانی فی الحال آپ یہاں سے جائیے۔‘‘
’’کیا مطلب‘ آپ کو پڑھنا نہیں کیا؟‘‘ وہ پریشان ہوئے۔
’’اب خبر نہیں دادی جان پڑھنے دیں گی کہ نہیں… فی الحال جائیے آپ۔‘‘ فاطمہ نے کہہ کر کتابیں سنبھالے بنا وہاں سے دوڑ لگا دی۔ چھوٹے نواب نے فاطمہ کے قدموں کی دور جاتی آواز کو سنا اور حیرت سے سوچنے لگے تھے مگر ان کو سبب نہیں سمجھ میں آیا۔ تب وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
دادی جان نے غصے سے فاطمہ کی طرف دیکھا۔
’’ہمارا کوئی قصو نہیں ہے دادی جان… ہم نے تو کچھ نہیں کیا۔‘‘ فاطمہ نے مارے خوف کے کہا۔ دادی اماں نے گھورا۔
’’آتش کے قریب شرارہ نہیں رکھتے‘ مگر غلطی ہوگئی‘ ہم نے کہہ دیا تھا مگر آپ کے ابا جان کی سمجھ میں ہماری بات آئی نہیں… خیر اب جو ہوگا سو ہوگا۔‘‘ دادی جان کی بات سن کر فاطمہ کے ہوش اڑ گئے۔
’’دادی جان ہمارا کوئی قصور نہیں۔ وہ پردہ تو خودبخود سرک گیا تھا‘ ہم نے تو کچھ نہیں کیا۔‘‘ فاطمہ نے خوف کے مارے کہا اور دادی اماں نے خشمگین نگاہوں سے گھورا اور باہر نکل گئیں۔ فاطمہ وہیں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے لگی تھی۔
’’یااللہ کرم کرنا… دادی اماں کے فیصلوں کا کچھ پتہ نہیں۔‘‘
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’اماں جان‘ ہمیں نہیں لگتا یہ ایک غلط عمل ہے اور آپ نے اجازت یوں بھی ہمارے کہے پر نہیں دی تھی‘ آپ نے نواب صاحب کے کہنے پر اس پڑھائی کے سلسلے کی اجازت دی تھی اور یوں بھی پردہ سرک جانا کوئی بڑی بات نہیں‘ یہ محض اتفاقاً ہوا‘ اس بات کو جواز بنا کر کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں کیا جاسکتا… فاطمہ ہماری بچی ہے‘ ہمیں یہ بات قبول نہیں کہ آپ ان پر اس طرح الزامات لگائیں۔ آپ کا ہی کہنا ہے نا اماں جان جو جانور بنا چابک کے سیدھا چلتا ہو‘ اس پر بلاوجہ چابک کا استعمال نہیں کرتے‘ آپ نے تو زمانے برتے ہیں دنیا دیکھی ہے اپنے بچوں پر اعتبار کیجیے‘ کسی بات کے ہونے سے قبل آپ کو ان کو اعتماد میں لینا چاہئے‘ آپ کی بے جا سختی کے باعث ریحان گھر چھوڑ گیا اور کامران بھی بیوی کو لے کر چلتا بنا‘ اب فاطمہ باقی بچی ہی‘ ہمیں ڈر ہے اس سختی سے عاجز آکر کہیں وہ بھی اس گھر کو خیر باد نہ کہہ جائیں۔ اس سختی نے کیا دیا اماں جان؟ پہلے آپ کی اولاد نے آپ کو تنہا کردیا‘ پھر ہماری اولاد نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا۔ ہماری مجبوری ہے اماں جان‘ ہم آپ کو تنہا چھوڑ کر دوزخ کی آگ نہیں کما سکتے… ہم نافرمان نہیں بن سکتے۔ سو ہم اس گھر میں ہیں‘ مگر آپ فاطمہ کو اس بے جا سختی کا نشانہ خدارا نہ بنائیے۔ یہ مناسب نہیں‘ فاطمہ بہت سلجھی ہوئی بچی ہیں۔ یہ سختی مناسب نہیں۔‘‘ وہ نرمی سے بولے‘ جھک کر احتراماً ماں کا ہاتھ چوما اور پھر پلٹ کر باہر نکل گئے۔ اماں جان ناظم الدین کو دیکھتی رہ گئیں تھیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’آپ نے رشتے کی بات ڈالی۔‘‘ بیگم نے پوچھا۔ توقیر چائے کے سپ لیتے ہوئے چونکے۔
’’کس منہ سے رشتہ مانگیں؟ بیگم تم نے کبھی ہمارے خاندان سے ہمیں ملنے نہیں دیا‘ جب سے گھر چھوڑا اس کے بعد پلٹ کر نہیں پوچھا۔ کئی عیدیں شب براتیں گئیں ہم نے پلٹ کر خاندان کو پوچھا نہیں‘ کس حال میں ہیں اماں جان کے مزاج سے تو واقف ہیں ناں آپ؟ ان کو خبر ہوگئی کہ ہم اپنے نکھٹو بیٹے کے لیے رشتہ مانگ رہے ہیں تو کھری کھوٹی سنائیں گی‘ آپ جانتی ہیں اماں سے کچھ چھپا نہیں رہ سکتا۔ ان سے جھوٹ بولنا بے کار ہے۔‘‘ توقیر نے کہا تو بیگم گھورنے لگیں۔
’’آپ تو اپنی طرف سے اپنی ماں کو ہلاکو خان بنائے بیٹھے ہیں۔ یہ لو اماں نہ ہوئیں‘ جادو کی چھڑی والی لمبے ناک والی جادو گرنی ہوگئیں‘ جن کو چھڑی گھماتے ہی سب پتہ چل جاتا ہے‘ ارے نہ ملنے پر مصروفیت کا رونا رو دینا‘ معذرت کرلینا‘ کہنا وقت نہیں ملا‘ رہی بات آپ کے سپوت کی تو لکھنو کے معاملات تو آپ کی اماں کی آنکھوں میں نہیں‘ اب ایسی بھی جاسوس نہیں وہ… آپ بات تو ڈال کر دیکھیں۔ ضروری تو نہیں کہ ویسا ہی ہو جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔‘‘ بیگم نے توقیر صاحب کو حوصلہ دیا۔ انہوں نے تھک کر فون اٹھایا اور کریڈل کان سے لگا کر مطلوبہ نمبر ملایا۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’ہے… لو… موا آواز نہیں آرہی چیخے جارہے ہیں ہم‘ بول کیوں نہیں رہے کرم دین تم؟ حلق میں مینڈک اٹک گیا ہے کیا؟‘‘ اماں جان نے فون پر دوسری طرف کرم دین کو ڈپٹا۔
’’اماں جان‘ آپ سے اس ماہ کے کھاتے کے متعلق بات کرنا تھی‘ معذرت چاہتے ہیں گلا ذرا خراب ہے سو بولنے کی سکت نہیں۔‘‘ کرم دین نے دوسری طرف سے جواب دیا۔
’’کرم دین‘ تم نے ہمارے گلے کا کام تمام کردیا آج تو… بہرحال‘ تم آئو ہم نے بھی ضروری بات کرنا تھی۔‘‘ اماں جان نے کہہ کر فون کا سلسلہ منقطع کیا تھا اور چلتی ہوئی فاطمہ کی طرف آئیں جہاں وہ صندل کی دیوار کے اس طرف بیٹھی چھوٹے نواب سے پڑھ رہی تھی‘ وہ بنا کچھ کہے یا جتائے کافی دیر وہاں کھڑی بغور جائزہ لیتی رہی تھیں۔ فاطمہ کی نگاہ پڑی تو اس نے چونک کر دیکھا‘ تب خلاف توقع اماں جان مسکرائیں اور آگے بڑھ کر فاطمہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ بھی رکھا۔
’’ماشاء اللہ بڑی ہونہار بچی ہے‘ اللہ تمہارے علم میں مزید اضافہ فرمائے۔‘‘ انہوں نے بلائیں لیتے ہوئے نرمی سے کہا اور پلٹ گئیں تھیں۔ فاطمہ ان کے رویے پر ان کو دیکھتی رہ گئی تھی‘ یہ اماں جان کو کیا ہوا تھا؟ اسے حیرت ہوئی۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
چھوٹے نواب نے فاطمہ بی بی کے متعلق سوچتے ہوئے ایک بار پھر خود کو روکا مگر ان کے پاس ان کو سوچنے اور سوچے جانے کا جواز اب بھی نہیں تھا۔ وہ چہرہ تھا کہ نگاہ سے ہٹ نہ رہا تھا اور جانے کیا ہوا تھا کہ اگلے دن جب وہ ان کو پڑھانے گئے انہوں نے فوراً مدعا کہہ دیا تھا۔
’’آپ ہم سے مل سکتی ہیں فاطمہ بی بی؟‘‘ اور ان کے اس سوال پر وہ بھونچکا ہی تو رہ گئی۔
’’جی…! کیا مطلب؟‘‘ فاطمہ بی بی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
ملازمہ جو پاس بیٹھی تھی اس کو چھوٹے نواب نے چائے لینے بھیجا تھا‘ اسے خبر نہیں تھی کہ چھوٹے نواب نے یہ اقدام گویا دانستہ کیا تھا۔
’’آپ کے جواب کے منتظر ہیں فاطمہ بی بی جواب دیجیے۔‘‘ وہ عجلت سے بولے جیسے انہیں یقین تھا ابھی ملازمہ آن ٹپکیں گی۔
’’ہم… ہم… نن… نہیں… مل سکتے۔‘‘ فاطمہ نے جواب دیا۔ وہ بنا سوچے بولے۔
’’ہم کچھ نہیں جانتے فاطمہ بی بی‘ ہم آپ سے ملنے کے منتظر ہیں اور جانے کیوں لگتا ہے آپ انکار نہیں کریں گی۔‘‘ وہ تردد کرتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’نہیں… ہم… ہم نہیں مل سکتے… یہ کوئی جواز نہیں رکھتا… اس ملاقات کی کوئی دلیل نہیں نکلتی۔‘‘ وہ سامنے نگاہ کرتی ہوئی کانپتی آواز میں بولیں۔
’’دلیلوں اور وضاحتوں کو ہم نہیں جانتے فاطمہ ہمیں آپ سے ملنا ہے‘ ہم صرف یہ جانتے ہیں اور آپ ایسا ممکن بنائیں گی۔‘‘ وہ یقین سے بولے اور ان کے یقین پر فاطمہ حیران رہ گئی تھیں۔
’’یہ… ممکن… نہیں…!‘‘ وہ مسلسل انکار کررہی تھی۔ سینے میں دل بہت تیزی سے دھڑکے جارہا تھا۔ شور اس قدر تھا کہ لگتا تھا دادی جان تک آواز پہنچ جائے گی۔ وہ چور نظروں سے اس طرف دیکھ رہی تھیں کہ کوئی اس مدعے کو سن نہ لے اور ان کی پڑھائی پھر سے منسوخ نہ ہوجائے۔ ان کی آواز اور لہجے میں وہ ڈر صاف محسوس کیا جاسکتا تھا مگر دوسری طرف چھوٹے نواب سننے کو تیار نہیں تھے۔
’’فاطمہ بی بی ہم کچھ نہیں جانتے‘ یہ ملاقات ضروری ہے اور ہوکر رہے گی‘ ورنہ کل سے ہم آپ کو پڑھانے نہیں آئیں گے۔‘‘ چھوٹے نواب نے اپنا فیصلہ سنایا۔ آگے کنواں تھا اور پیچھے کھائی‘ فاطمہ کی جان پر بن گئی۔ اگر وہ چھوٹے نواب کی بات مان لیتیں تو اماں جان ان کی پڑھائی بند کروا دیتیں اور اگر وہ انکار کرتیں تو چھوٹے نواب پڑھانے سے انکار کررہے تھے‘ اس نے عجب کشمکش میں چھوٹے نواب کو مخاطب کیا۔
’’چھوٹے نواب‘ ہماری زندگی سہل نہیں‘ اسے مزید پریشانیوں میں مبتلا مت کیجیے‘ ہم نے اس پڑھائی کے لیے اپنے خواب گنوائے ہیں‘ ہم کالج جاکر پڑھنا چاہتے تھے مگر ہماری دادی جان نے ایسا ممکن نہیں ہونے دیا‘ ہمارا خواب تھا ہم تحریک پاکستان میں حصہ لیتے مگر ایسا ممکن نہیں ہونے دیا گیا‘ آپ خدارا ہماری مشکلات میں اضافہ نہ فرمائیں۔‘‘ اس نے مدعا بیان کرتے ہوئے کہا مگر چھوٹے نواب ٹس سے مس نہ ہوئے۔
’’ہم کچھ نہیں جانتے فاطمہ بی بی‘ ہم مل کر رہیں گے ہم پائیں باغ میں آپ کا انتظار کریں گے آپ کی ایک جھلک دیکھنا ہمیں پاگل کررہا ہے ہم آپ سے مل کر بغور آپ کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں‘ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں چاہتے ہم آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے‘ نہ پہنچائیں گے ہمیں بس آپ کو ایک جھلک بغور دیکھنا ہے۔ خدارا انکار مت کیجیے۔‘‘ وہ درخواست کررہے تھے۔ فاطمہ کی جان پر بن گئی تھی۔
’’کیسے سمجھائیں آپ کو چھوٹے نواب‘ ایسا ممکن نہیں اور…!‘‘
اس نے دیکھا ملازمہ سر پر پہنچ چکی تھی‘ فاطمہ کے پاس ماسوائے خاموش ہوجانے کے اور کوئی راستہ نہ تھا۔ مگر ان کو ڈر تھا کہ وہ ملازمہ کے سامنے کچھ نہ کہہ دیں تبھی روانی سے بولیں۔
’’لیجیے چھوٹے نواب آپ کی چائے آگئی‘ تاریخ کل پڑھیں گے آج ہمارے سر میں بہت درد ہے ہم قہوہ پی کر کچھ دیر آرام کرنا چاہیں گے سو آج آپ پڑھائی کو یہیں برخاست کیجیے۔‘‘ وہ نرمی سے کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں اور ملازمہ کی سمت دیکھے بنا کہ وہ کس درجہ حیرت سے انہیں دیکھ رہی ہے‘ وہ چلتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
چھوٹے نواب کی سماعتوں میں تادیر فاطمہ کے نازک نفیس جوتوں کی آواز گونجتی رہی تھی‘ دور جاتی آواز… قدم تفاوت بڑھاتے ہوئے سنائی دیتے تو وہ الجھ کر رہ جاتے۔ انہوں نے غصے سے دیوار پر ہاتھ کا مکا بنا کر مارا تھا۔
’’کیا ہورہا ہے ہمیں؟ کیوں سوچ رہے ہیں ہم اس قدر کیوں اصرار کررہے ہیں؟ ان قدموں کی آہٹوں کو بھی بغور کان لگا کر سن رہے ہیں۔ ان کے قدموں کی آہٹوں کو گننے لگے ہیں‘ انہوں نے کتنے قدم اپنے کمرے تک جانے کے لیے اٹھائے اور کتنے قدم کمرے سے اس باپردہ ماحول میں آنے کے لیے… ہماری توجہ صندل کی دیوار سے ہٹتی کیوں نہیں؟ اور ہم اس ایک خیال سے آگے کچھ سوچتے کیوں نہیں… یہ کیا ہے… ہم کیوں سمجھ نہیں پارہے… اس ایک جھلک میں کیا تھا؟ جھری کے اس طرف سے دیکھنا کیا اصرار رکھتا تھا کہ ہمیں ایک ناختم ہونے والی کشش باندھ لے گئی۔‘‘ چھوٹے نواب تادیر سوچتے رہے مگر کچھ سمجھ نہ آیا تھا‘ فاطمہ بی بی کا چہرہ نگاہ سے ہٹانہ تھا اور ان کا لہجہ سماعتوں سے گیا نہ تھا۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
فاطمہ بے حد الجھن کا شکار تھیں‘ وہ گم صم سی بیٹھی تھیں کہ اماں جان پاس چلی آئیں۔ ان کا سر چوما اور شفقت سے سر پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔
’’کیا معاملہ ہے ہماری فاطمہ گڑیا ایسی پریشان کیوں ہیں؟ کیا بات ہے جو آپ کے ذہن میں اٹک کر رہ گئی ہے؟‘‘ اماں جان نے پوچھا فاطمہ نے ان کو نگاہ اٹھا کر خاموشی سے دیکھا اور ان کے ساتھ لگ کر آنکھیں موند لیں۔ اماں جان ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں‘ پھر نرمی سے کہنے لگیں۔
’’فاطمہ بیٹا… کیا مسئلہ ہے؟ ہم سے کہیے ہم تو آپ کی والدہ ہیں‘ آپ کو جنم دیا ہے ہم نے‘ جہاں تک ممکن ہوا آپ کی پریشانی کا تدارک کریں گے‘ ہم آپ کو پریشانیوں میں گھرا نہیں‘ خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ اماں جان کا لہجہ حلاوت سے پُر تھا۔ مگر فاطمہ کچھ نہیں بولی۔
’’بیٹا… زندگی میں بہت کچھ جھیلنا اور برداشت کرنا پڑے تو اس آزمائش سے گھبرانا یا ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ ثابت قدم رہو‘ پڑھنا تمہارا خواب ہے اور اگر یہ خواب پورا ہو رہا ہے تو یہ بات خوش آئند ہے‘ خواب پانا آسان نہیں ہوتا اور ناہی خوابوں کی تعبیر اس قدر آسانی سے ہاتھ لگتی ہے‘ تم ان چند خوش قسمت لوگوں میں سے ہو جن کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع مل رہا ہے‘ گھر بیٹھ کر ہی سہی تمہیں بہرحال پڑھنے کا موقع مل رہا ہے اور پڑھنا تمہاری اولین خواہش ہے۔‘‘ اماں جان نے بیٹی کو سمجھایا‘ فاطمہ ان کی گود میں سر چھپا گئی تھی۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
فاطمہ تعلیم کا سلسلہ ختم کرنا نہیں چاہتی تھیں اور دوسرے دن جب چھوٹے نواب آئے تھے اس نے ان سے صاف کہہ دیا تھا۔
’’اگر تعلیم کی راہ عزت کی قبر سے ہوکر جاتی ہے تو ہم اس تعلیم سے ایسے ہی بھلے… عزت کی قبر سے گزر کر ہم تعلیم کا حصول نہیں چاہیں گے!‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولی تھیں‘ دوسری طرف چھوٹے نواب خاموش رہے تھے۔
’’آپ سن رہے ہیں چھوٹے نواب؟‘‘ فاطمہ نے تسلی کرنے کے لیے پوچھا۔
’’ہاں‘ ہم سن رہے ہیں فاطمہ بی بی‘ مگر ہم صرف آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں‘ اس میں کیا برا ہے؟ کیا ہم نے کہا کہ ہم آپ کو چھونا چاہتے ہیں؟ دور سے دیکھنے میں کیا قباحت ہے؟‘‘ چھوٹے نواب نے سرسری لہجے میں ایسے کہا جیسے یہ اتنا بڑا مدعا نہ ہو اور اس کی نوعیت ثانوی ہو۔
’’چھوٹے نواب آپ کے لیے یہ معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا آپ کے لیے شاید سب ثانوی ہے‘ کیونکہ آپ مرد ہیں اور آپ کے ذمے آپ کی عزت کی ذمے داری اس طور فرض نہیں ہوتی مگر ہم لڑکی ہیں اور ہم پر ایک خاندان کی عزت کا بوجھ اس طور لدھا ہے کہ ہم گردن نہیں اٹھا سکتے‘ یہ بوجھ بھی نہیں ہے یہ ہماری ذمے داری ہے‘ ہر بیٹی پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے‘ ہم کوئی انوکھے نہیں۔‘‘ فاطمہ نے کہا‘ تبھی چھوٹے نواب بولے۔
’’ہم آپ کی قدر کرتے ہیں فاطمہ بی بی‘ آپ کی سوچ قابل قدر ہے‘ ہم آپ کی عزت کی عزت کرتے ہیں۔‘‘ چھوٹے نواب نے نرم لہجے میں کہا۔
’’خدارا آپ سے ملنا‘ یا آپ کو دیکھنا آپ کی عزت کو کم کرنا نہیں۔‘‘ وہ سمجھانے لگا‘ فاطمہ ملازمہ کے آنے پر چپ ہوگئی تھی۔
’’بس ایک بار… فاطمہ بی بی… چاہے لمحہ بھر کو… آپ کے گھر کے پائیں باغ میں…‘‘ وہ ضدی لہجے میں بولا۔ فاطمہ نے خاموشی سے کتاب کھول لی اور بولی۔
’’آج تاریخ کا تیسرا باب پڑھنا ہے‘ جو ہمیں بالکل بھی سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ وہ کہہ کر دانستہ ملازمہ کی طرف متوجہ ہوئیں‘ ملازمہ ان پر نگاہ رکھے مطمئن بیٹھی تھی‘ چھوٹے نواب پڑھانے لگے تھے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
ضد اس کے لیے حیران کن تھی‘ اس نے کبھی زندگی میں کسی بات کے لیے ضد نہیں کی تھی‘ وہ نہیں سمجھ پائی تھی چھوٹے نواب کیوں اس قدر ضدی ہورہے تھے‘ مگر اس کے لیے ان کی ضد کو پورا کرنا جیسے انتہائی مشکل تھا‘ مگر مجبوری کے تحت اس نے وہ قدم اٹھا لیا جس کے لیے وہ تیار نہیں تھی۔ وہ پائیں باغ میں آگئی تھی۔ شام ڈھلنے کو تھی جب کہ چھوٹے نواب کا پتہ نہیں تھا‘ وہ شدید الجھن میں ٹہلنے لگی‘ جب مڑی تو سامنے سے وقار الحق آتے دکھائی دیئے۔ فاطمہ کے دل کی دھڑکنیں تھمنے لگی تھیں۔ انہوں نے گھبرا کر رخ پھیر لیا تھا‘ دل تھا کہ دھڑکے گیا تھا‘ چھوٹے نواب بلا کے خوبرو تھے‘ اونچے لمبے‘ چوڑے شانے… سرخ وسپید رنگت… بھلا ایک مرد کے پاس اس حسن کا کیا جواز؟ ایسا حسن تو حضرت یوسف کے نام وقف تھا۔ مگر بلاشبہ چھوٹے نواب یوسف ثانی تھے۔ وہ دھڑکنوں کو سنبھالتی ہوئی رخ پھیرے کھڑی تھیں‘ چھوٹے نواب قدم قدم ان کی طرف بڑھ رہے تھے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
ملازم نے جھک کر اماں جان کے کان میں کچھ کہا‘ اماں جان چونکی پھر سر ہلا دیا تھا اور ریسیور کان سے لگا لیا تھا۔
’’بولو‘ توقیر الدین آج کیسے زحمت کرلی فون کرنے کی‘ ماں کی یاد آئی یا کوئی کام نکل آیا؟‘‘ انہوں نے طنز کیا‘ دوسری طرف توقیر شرمندہ ہوئے۔
’’معافی چاہتا ہوں اماں جان‘ شرمندہ ہوں‘ مزید شرمندہ نہ کریں۔‘‘ اماں جان ہنس دیں۔
’’کتے کی دم کو دس برس بھی بوتل میں ڈال کر رکھ دو تو نکالنے پر ٹیڑھی ہی ملتی ہے‘ توقیر الدین‘ چل چھوڑ‘ مدعے پر آجائو‘ کیا کام ہے؟‘‘ اماں جان نے کہا تو وہ خاموش ہوگئے۔
’’اب بول بھی‘ کیا سانپ سونگھ گیا؟ فون کرنے کی زحمت کی ہے تو مدعا بھی بتا‘ فضول کی رسمی باتوں میں وقت بھی کیوں صرف کرنا‘ حال احوال تو ٹھیک ہی ہیں‘ تبھی تو فون کیا ہے تم نے۔ کہنے کی ضرورت نہیں میاں مگر جانتی ہوں خون تو سفید ہی ہوگیا ہے آپ کا اور آپ کا ہی نہیں وہ آپ کے محترم لاہور والے بھائی صاحب بھی پورے آپ پر ہی گئے ہیں۔ شکر کرتے ہیں ہم ناظم الدین باپ کا پرتو نکلے…‘‘ وہ طنز کرتی ہوئی غصے سے بولیں۔
’’اماں جان! ہم نے رشتے کی بات کرنے کے لیے فون کیا ہے‘ ہمارے صاحب زادے ریحان کے لیے‘ ہمیں فاطمہ کا رشتہ درکار ہے‘ یوں تو ملنا ملانا ہوتا نہیں‘ رشتے داری بنے گی تو تعلق مضبوط ہوجائے گا اور…‘‘ توقیر صاحب بول رہے تھے جب اماں جان نے ہنستے ہوئے ان کی بات کاٹ دی۔
’’بیٹا… ایک ماں کا رشتہ تو نبھایا نہ گیا تم سے اور کون سا رشتہ نبھانے کے قابل ہو تم؟ رشتوں کی بات تمہارے منہ سے عجیب لگتی ہے‘ بہرحال تمہارا بیٹا کرتا کیا ہے؟‘‘ اماں نے دماغ کی مرمت کرتے ہوئے دریافت کیا۔
’’وہ… اماں… تجارت کا آغاز کیا ہے‘ خوب کماتا ہے‘ سمجھ دار اور سلجھا ہوا ہے‘ ہر لحاظ سے فاطمہ کے لیے مناسب…‘‘
’’بس… بس بہت تعریفیں ہوگئیں‘ جانتی ہوں تمہارے جیسے باپ کی اولاد کتنی نیک اور صالح ہوگی فون بند کرو اب‘ سوچ کر جواب دوں گی۔‘‘ اماں جان نے حکم دیتے ہوئے ریسیور کریڈل پر واپس رکھ دیا اور کچھ سوچنے لگیں تھیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’ہماری طرف دیکھئے فاطمہ‘ ہم آج آفتاب کا سامنا کرنے آئے ہیں۔ غم نہیں جو آتش ہمیں جلا دے‘ جلتے ہیں تو جل جائیں مگر ایک جھلک‘ اس ضیاء کی دیکھ تو لیں گے…‘‘ چھوٹے نواب بولے۔ فاطمہ الجھ کر غصے سے پلٹیں۔
’’چھوٹے نواب آپ کو کچھ خبر نہیں آپ نے ہمیں کس مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ہم جان پر کھیل کر اس ملاقات کو آئے ہیں‘ دادی جان کو خبر ہوگئی تو ہماری خیر نہیں۔ آپ کی خاطر ہم نے آج عزت دائو پر لگادی… اور…!‘‘ وہ الجھ کر رکیں… مگر نواب وقار الحق انہیں خاموشی سے مبہوت سے دیکھتے گئے۔
’’عشق ایسا ہوش ربا‘ دلربا… ہوتا ہوگا سنا تھا آج دیکھ بھی لیا۔ ہم واحد ہوں گے جنہوں نے آتش کو اس قدر قریب سے دیکھا۔ تپش جلانے کو ہے مگر پروا نہیں ہے‘ اس چہرے کو ہم تمام زندگی دیکھنے کے خواہش مند ہیں‘ فاطمہ بی بی… ایسا حسن… ایسی دلکشی… یہ حسن پردے میں چھپانے کا مستحق ہے… میں بھی نہیں چاہوں گا کہ کوئی پرائی نگاہ اسے چھوئے… میں بلا کا حاسد ہوں‘ میں بھی آپ کو سات پردوں میں چھپا کر رکھنا چاہوں گا۔‘‘ چھوٹے نواب نے کہا۔
’’کیا…؟‘‘ فاطمہ حیرت سے دیکھنے لگیں تھیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’کرم دین… یہ ریحان الحق کے متعلق پتہ کرکے بتائو‘ ہمیں ان کی تمام چیدہ چیدہ معلومات درکار ہیں‘ الف سے ی تک تمام جاننا چاہتے ہیں ہم۔ چاہے ایک ہفتہ لے لو‘ مگر خود لکھنو جائو۔‘‘ اماں نے کرم دین کو حکم دے کر فون کا سلسلہ منقطع کیا اور گہری سوچ میں پڑ گئیں تھیں۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
فاطمہ نے دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے نگاہ اٹھا کر وقار الحق کو دیکھا اور پھر پلٹ کر دوڑتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئیں‘ وقار الحق خاموشی سے کھڑے انہیں دیکھتے رہے تھے۔ ایک لمحہ زندگی تھا جیسے جو انہوں نے اس پری وش کو دیکھ کر گزارا‘ گھر آکر وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔
’’ابا جان ہم آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے تھے۔‘‘ وقار الحق نے کہا۔
’’بیٹا‘ ہم بعد میں بات کریں گے فی الحال ہم میرٹھ جارہے ہیں۔ کچھ کاروباری مسئلہ ہے اسے سلجھانا ہے‘ ہم تفصیل سے بات کریں گے۔‘‘ اباجان اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ وقار الحق والد کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
ۃ…ۃ…ۃ…ۃ
’’بیٹا بیٹھو ایک ضروری بات کرنا ہے۔‘‘ اماں جان نے ناظم کو کہا‘ وہ مؤدب سے ان کے سامنے بیٹھ گئے۔
’’جی اماں جان… کہیے۔‘‘ ناظم الدین نے کہا۔ اماں جان نے کچھ دیر سوچا اور نرم لہجے میں بولیں۔
’’بیری اور بیٹی کب چھت سے جا لگے خبر نہیں ہوتی۔ ہمیں خبر ہی نہیں ہوئی ہماری فاطمہ کب اتنی بڑی ہوگئی کہ اس کے لیے رشتے آنے لگے۔‘‘ وہ مسکرائیں اور ناظم الدین چونکے۔
’’کیا مطلب اماں جان؟‘‘ اماں جان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
’’اے لو آسان سی تو بات ہے میاں… تمہاری بچی کے لیے رشتہ آیا ہے ریحان کے لیے توقیر نے ہاتھ مانگا ہے گھر کا بچہ ہے اور تم دونوں بھائیوں میں بھی رشتہ مضبط ہوجائے گا‘ سو اور کیا چاہیے؟‘‘ اماں جان ہنوز مسکرائے جارہی تھیں۔ ناظم صاحب حیرت سے انہیں دیکھنے لگے۔
’’لیکن اماں جان؟‘‘
’’ارے کیا لیکن ویکن‘ میں تو سوچ رہی ہوں ہاں کردوں۔ انکار کا کیا جواز ہے۔ فاطمہ کے لیے اتنا اچھا رشتہ اور آہی نہیں سکتا۔‘‘ اماں جان نے کہا۔
’’اماں جان ہم نے سنا ہے ان موصوف کی شہرت کچھ اچھی نہیں اور…!‘‘ ناطم صاحب نے کہنا چاہا‘ اماں نے ٹوک دیا۔
’’ارے بیٹا‘ لوگوں کا کام تو بس منہ جوڑ کر باتیں کرنا ہی ہے‘ کوئی بھی بات پھیلا دیتے ہیں‘ ان باتوں پر کان مت دھرو… تمہارے ابا جان کے متعلق کیا کیا نہ سننے کو ملا…؟ ہمارا رشتہ طے ہوا تو اگلے ہی ہفتے خبر ملی کہ موصوف تو دوسری عورت کے چکر میں مبتلا ہیں مگر ہمارے ابا جان نے کان نہیں دھرے‘ پھر اس کے بعد سننے کو ملا کہ ان کی جائیداد بھائیوں نے ہتھیالی ہے‘ ہمارے ابا جان نے تب بھی کوئی ردعمل نہیں دیا اور ہمارا نکاح مقررہ دن پر ہی ہوا اور دیکھو کیسی پُرسکون اور کامیاب ازداجی زندگی گزاری ہم نے۔‘‘ اماں جان مسکرائیں اور ناظم الدین ماں کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
(ان شا ء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close