Aanchal May-17

تم میرے ہو

ریحانہ آفتاب

کبھی زندگی سمجھ کر‘ کبھی امتحاں سمجھ کر
تیرا غم گلے لگایا‘ غم جاوداں سمجھ کر
نہیں اس کا اب کوئی غم‘ مجھے کیا کہے گی دنیا
تیرے درپہ آگیا ہوں‘ تجھے مہرباں سمجھ کر

میںاحتشام مرتضیٰ… آج بیٹھا ماضی کو یاد کررہا تھا۔ آپ یہ مت سمجھئے گا کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ اس جون کو تیس سال کا ہوجائوں گا تو میرا ماضی کوئی اتنا پرانا تو نہیں ہوا نا… میں زمیندار گھرانے میں پیدا ہوا جہاں ہر طرح کی آسائش حاصل تھی‘ جس کی وجہ سے ضدی‘ خود سر ہونے کے ساتھ ساتھ غصے کا بھی میں بے حد تیز تھا‘ میرے بابا سائیں کہتے ہیں۔ چونکہ میں شروع سے ہاسٹل میں رہا تو زمینداری سے دور ہوتا چلا گیا۔ مجھ سے بڑے دو بھائی تھے اور میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا تھا اس لیے کسی نے مجھ پر زبردستی نہیں کی۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ میں کوئی بگڑا رئیس زادہ تھا‘ میری عادات و اطوار کی تعریف لوگ کرتے تھے۔ میری زندگی کا سب سے خوب صورت موڑ جس نے احتشام مرتضیٰ کو سرتاپا تبدیل کردیا تھا۔ میں جو حالات کو ہمیشہ اپنے تابع رکھتا تھا اس نے ایسی کروٹ بدلی کہ میں اس کے سانچے میں ڈھل گیا۔ میری ذات کا غرور مان سب دھرا کا دھرا رہ گیا‘ میری ایک غلطی… کبھی سوچتا ہوں یہ ایک خوب صورت غلطی تھی اور کبھی… غلطی تو بہرحال غلطی تھی۔
ان دنوں میں ایم ایس سی میتھس کا اسٹوڈنٹ تھا‘ گروپ میں ہم چار لڑکے تھے اور بقول تمام ٹیچرزکے ہمارے گروپ جیسا کوئی دوسرا گروپ یونیورسٹی میں نہیں تھا۔ پڑھائی‘ اسپورٹس‘ مشاعرہ‘ سنگنگ‘ اسپیچ ہمارے گروپ کے مقابل کوئی نہیں ٹھہرتا تھا۔ پوری یونیوسٹی میں ہمارے نام کی دھوم تھی‘ یوں تو ہمارے گروپ میں سب ہی ہینڈسم تھے مگر میری بات ذرا اور تھی۔ اس بات سے میری وجاہت کا اندازہ لگالیں کہ مجھے ’’پرنس آف دی یونیورسٹی‘‘ کا ٹائٹل ملا تھا۔ میری بے نیازی اور مغرور طبیعت نے صنف مخالف میں مجھے بے انتہا مقبول کردیا تھا۔ ہمارے گروپ کا معاہدہ تھا کہ ہمارے گروپ میں کبھی لڑکیاں شامل نہیں ہوں گی جس پر ہم سب سختی سے کاربند تھے۔
اس روز میں گائوں میں دو دن گزار کر یونیورسٹی پہنچا تو مجھے میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کوئی تبدیلی ہوئی ہے۔ حسب عادت ہم چاروں پڑھائی کی باتیں کررہے تھے کہ ہمارے قریب کھڑے گروپ نے اونچی آواز میں بولنا شروع کردیا۔
’’یار کیا آفت چیز یونیورسٹی آئی ہے‘ سب سے منفرد‘ سب سے جدا… صنم۔‘‘ کسی نے ٹھنڈی آہ بھری‘ لڑکی کے ذکر کا سن کر میں نے اپنا دھیان کتاب کی طرف مبذول کرلیا۔
ایک دن بعد ہی ہم بیٹھے سر جالب کا دیا اسائنمنٹ ڈسکس کررہے تھے کہ ایک لڑکی میرے بعد والی چیئر پر آبیٹھی۔ اس کی اس حرکت پر ہم تینوں چونک گئے‘ وہ جس چیئر پر بیٹھی تھی وہ زوار کی تھی جس نے آج چھٹی کی تھی۔ ہمارے درمیان تو کسی کو گھسنے کی اجازت نہ تھی مگر یہ لڑکی… ہم تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا کہ اسے کون یہاں سے اٹھنے کو کہے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا وہ سر جھکائے اردگرد سے بے نیاز پوائنٹس نوٹ کرنے میں مگن تھی۔ قلم روانی سے پیڈ پر چل رہا تھا۔
’’صنم… اوہو تو یہ ہیں وہ محترمہ جن کی بابت میں کل سے سن رہا ہوں۔‘‘ میں نے اس کی کتاب سے اس کا نام پڑھ کر دل میں سوچا۔ سہیل نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو میں نے اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کے اسے منع کیا۔ میری اس حرکت پر سہیل نے جانچتی نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اشارے سے کلاس کی طرف اشارہ کیا‘ کوئی بھی سیٹ خالی نہیں تھی۔ اس کا قلم بدستور چل رہا تھا‘ چہرہ چادر سے چھپا ہوا تھا‘ ڈھلکتی چادر کو سر پر جمانے کے لیے جب اس نے سر اٹھایا تو نجانے کیوں ایک پل کو مجھے ایسا لگا میری دھڑکن رک گئی ہو۔ اسٹون مین پر ضرب لگ گئی ہو‘ وہ سر جھکائے مصروف ہوچکی تھی۔ میں غائب دماغی سے بیٹھا ہوا تھا۔ سارے اصول معاہدے‘ حد بندیاں اس ایک لمحے نے بھلا دی تھیں۔ اس نے ایک نطر بھی ہم سب پر نہیں ڈالی تھی‘ کلاس ختم ہوئی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کا پین دیکھ کر میں نے خاموشی سے اٹھالیا‘ وہ تب تک کلاس سے جاچکی تھی۔ میں دوستوں سے بہانہ کرکے اس کے پیچھے لپکا تھا۔
’’ایکسکیوزمی مس…‘‘ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ سب لڑکیوں کی طرح ہے یا منفرد ہے۔ کیا اس نے جان بوجھ کر پین چھوڑا تھا مجھے خود پر بھی حیرت ہورہی تھی کہ ایسے ہر حربے صنف نازک استعمال کرچکی ہیں اور میں اگنور کردیا کرتا تھا مگر آج میرا اسے پکارنا خود مجھے بھی حیرت زدہ کررہا تھا۔
’’جی…‘‘ وہ بے ساختہ پلٹی‘ ہرنی جیسی آنکھیں جب مجھ سے ملیں تو جادو چل چکا تھا۔
’’آپ کا پین۔‘‘ میں نے پین اس کی طرف بڑھایا۔
’’شکریہ۔‘‘ وہ پین لے کر آگے بڑھ گئی‘ میں حیران رہ گیا یعنی میرا خیال غلط نکلا کہ اس نے جان بوجھ کے یہ حرکت کی تھی۔
’’کیا کہہ رہا تھا احتشام مرتضیٰ…‘‘ فاریہ کے سوال نے مجھے انجان بننے پر مجبور کردیا۔ میں لاتعلقی سے خرم سے باتیں کررہا تھا مگر سماعت ان دونوں کی طرف تھیں۔
’’کون احتشام مرتضیٰ؟‘‘ اس کی آنکھوں میں حیرانگی اتر آئی تھی‘ لو جی محترمہ نے پل بھر میں جیسے خوش فہمی کو دھول چٹادی۔
’’جس سے تم بات کررہی تھیں۔‘‘ فاریہ نے بھی میری طرح جیسے سر پیٹ لیا۔
’’میرا پین رہ گیا تھا کلاس میں‘ وہی دینے آیا تھا۔‘‘ اس نے سچائی سے گوش گزار کیا۔
’’تمہارا پین دینے آیا احتشام مرتضیٰ… اُف کہیں میں بے ہوش نہ ہوجائوں۔‘‘ فاریہ نے ایکٹنگ کی۔
’’اس میں اتنا اچنبھے کی کیا بات ہے فاریہ؟‘‘ صنم کی جھنجھلاہٹ نے مجھے محظوظ کیا۔
’’جو کسی لڑکی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا اسی احتشام مرتضیٰ نے تمہیں پین لوٹایا‘ اسٹرینج۔‘‘ فاریہ کی حیرت بدستور قائم تھی۔
’’صرف پین ہی تو دیا ہے‘ کیوں دماغ خراب کررہی ہو۔‘‘ حیرت تھی کہ وہ میرے ذکر پر جتنے بُرے بُرے منہ بنارہی تھی میں اتنا ہی محظوظ ہورہا تھا۔
’’کسی اور کے سامنے بھولے سے بھی تذکرہ نہ کرنا‘ صدمے سے مر جائیں گی۔‘‘
’’بور مت کرو فاری…‘‘ اس نے منہ بگاڑ کر قدم بڑھائے گویا اب اس موضوع پر کچھ سننا نہ چاہتی ہو۔
’’پرنس آف دی یونیورسٹی کے ذکر سے تم بور ہورہی ہو؟‘‘ فاریہ چیختے ہوئے اس کے پیچھے لپکی۔
’’پرنس ہوگا اپنے لیے‘ میں کیا کروں؟‘‘ مجھے اس کی بے نیازی اچھی لگی۔
غیر محسوس طریقے سے میں اسے نظروں میں رکھنے لگا‘ وہ کب لائبریری آتی ہے‘ کب کیفے میں ہوتی ہے۔ میں یہ سب اتنے غیر محسوس طریقے سے کررہا تھا کہ میرے دوستوں تک کو خبر نہ ہوسکی ورنہ تو ضرور ریکارڈ لگتا۔ اس کے کیفے آنے کا وقت تجاوز کررہا تھا‘ میں فکر سے اپنی رسٹ واچ دیکھنے لگا اچانک وہ فاریہ کے ساتھ کتابوں کو سینے سے لگائے چلی آئی تو میرے وجود پر مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ اردگرد سے بے نیاز وہ چاٹ کھانے میں مصروف تھی‘ مرچوں کے باعث اس کی ناک اور رخسار گلابی ہورہے تھے مگر وہ سوں سوں کرتی کھانے میں مصروف تھی۔
’’کریزی۔‘‘ میں زیرلب مسکرایا۔
’’میرا صنم سب سے پیارا ہے۔‘‘ خاور کا گروپ جب دوسری بار گنگناتا ہوا اس کی میز کے پاس سے گزرا تو میرا خون کھول اٹھا۔
’’تم کچھ کہنے کیوں نہیں دیتیں‘ جب دیکھو تنگ کرتا رہتا ہے۔‘‘ فاریہ کی غصیلی آواز مجھ تک بخوبی آرہی تھی۔
’’تم اور میں جس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں یہ سب برداشت کرنا ضروری ہے۔ ہوتی نا میں بھی کوئی مل اونر کی بیٹی تو اسے مزا چکھا دیتی۔‘‘ اس کی حسرت نے میرے دل کو دھکا لگایا‘ وہ چاہتے ہوئے بھی خاور کو کچھ کہہ نہیں پارہی تھی۔ وہ کیفے سے نکل رہی تھی جب ایک بار پھر خاور کی زبان میں خارش ہوئی‘ اب کے میری برداشت جواب دے گئی میں خونخوار شیر کی طرح اس کے سر پر جا پہنچا۔ اس پہلے کہ میں اس کے جبڑے پر اپنا پنج جماتا ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی آمد نے روک لیا۔
’’کیا ہورہا ہے یہ‘ احتشام تم بھی اس سرگرمی میں ملوث ہو؟‘‘ ہیڈ کو جیسے ہضم نہ ہوا‘ میرا ہاتھ فضا میں ہی معطل رہ گیا تھا۔
’’خاور کی بدتمیزی نے مجھے اشتعال دلایا‘ یہ ڈیپارٹمنٹ کی لڑکیوں کو تنگ کرتا ہے۔‘‘ میں نے ہیڈ کو صورت حال سے آگاہ کیا‘ میں کسی صورت اس معاملے میں صنم کا نام نہیں لینا چاہتا تھا مگر خاور کو روکنا بھی ضروری تھا۔
’’کسے تنگ کیا ہے میں نے؟‘‘ خاور چیخا‘ اسے خبر تھی صنم جیسی ڈرپوک لڑکی کبھی اس کا نام نہیں لے گی۔
’’کس کو تنگ کیا ہے خاور نے‘ کوئی کمپلین؟‘‘ ہیڈ نے طائرانہ نگاہ ڈالی‘ صنم خاموش تماشائی بنی کھڑی تھی۔ فاریہ نے کچھ بولنا چاہا مگر صنم نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے چپ کرادیا‘ ہیڈ مجھے گھورنے لگے۔
’’مجھے تنگ کیا ہے… خاور کا گروپ اکثر ہمیں تنگ کرتا ہے۔‘‘ اچانک ایک کے بعد دوسری لڑکی نے کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک شور کی صورت اختیار کر گیا‘ میں نے انبساط بھری نظروں سے صنم کو دیکھا وہ حیرت بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ ہیڈ نے خاور کو روم میں طلب کرلیا تھا‘ میں نے سب کا شکریہ ادا کیا اور صنم کے قریب سے گزرتا چلا گیا۔ کسی کو اس ہنگامے کی ’’اصل وجہ‘‘ معلوم نہ ہوسکی‘ سب یہی سوچ رہے تھے کہ خاور میرا پرانا حریف ہے اور چونکہ میں من چاہا تھا اس لیے سب نے میرا ساتھ دیا۔
/…ء…/
آج سر تیمور نے چھٹی کی تھی جس کی وجہ سے ہماری کلاس نہ ہوسکی‘ سہیل‘ زوار اور خرم پہلے ہی جاچکے تھے۔ مجھے کچھ کام تھا جس کی وجہ سے رکا ہوا تھا‘ میں بھی نکلنے لگا تھا کہ کلاس فیلو جنید نے مجھے آواز دی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ میں نے کار کا دروازہ دوبارہ بند کیا جو کچھ دیر قبل ہی کھولا تھا۔
’’تمہیں سر جالب آفس میں بلا رہے ہیں۔‘‘ وہ میسج دے کر چلا گیا‘ میں نے آفس کی طرف قدم بڑھائے کوئی کام ہوگا‘ میں اتنا چہیتا تھا سب کا کہ سب کے کئی کام بھی کردیا کرتا تھا۔
’’یس سر…‘‘
’’آئو احتشام… بیٹھو۔‘‘ ان کے کہنے پر مودب ہوکر بیٹھ گیا۔ ان ہی انداز اور رکھ رکھائو سے میں نے پورے ڈیپارٹمنٹ سمیت ٹیچرز کے دل میں بھی عزت بنائی تھی۔
’’دراصل مجھے ضروری کام ہے‘ اس لیے کلاس نہیں لے سکوں گا آج‘ اسٹوڈنٹس کا حرج ہو یہ بھی مجھے گوارا نہیں اگر تم فارغ ہو تو میری جگہ اپنے جونیئرز کی کلاس لے لو۔‘‘ سر جالب کا شمار بہترین ٹیچرز میں ہوتا تھا‘ وہ ان اساتذہ میں سے تھے جو اپنے پیشے سے مخلص ہوتے ہیں۔ سر جالب کی بات سن کر میرا دل بلیوں اچھلنے لگا‘ صبح سے اب تک اس دشمنِ جاں کی صورت نظر نہ آئی تھی اور اب میں مایوس ہوکر ہاسٹل لوٹ رہا تھا۔
’’شیور سر… کیوں نہیں۔‘‘ میں نے پُرمسرت لہجے میں کہا‘ سر جالب کو دل میں ڈھیروں دعائوں سے نوازتا اٹینڈنٹس رجسٹر لے کر کلاس روم میں داخل ہوا تو اسٹوڈنٹس نے حیرانگی سے دیکھا‘ خوشی کا اظہار کیا‘ اک طائرانہ نگاہ ڈال کر میں نے اسے ڈھونڈا مگر وہ نہیں تھی۔
’’آج آئی بھی ہے یا نہیں؟‘‘ میں اس کا نام دیکھ رہا تھا۔
’’کیا میں اندر آسکتی ہوں سر؟‘‘ اس آواز پر میری ہر حس جاگ اٹھی‘ گردن موڑ کر دیکھا وہ کھڑی اجازت طلب کر رہی تھی۔
’’تو محترمہ آئی ہوئی ہیں اور مجھ سے چھپ رہی تھیں۔‘‘ اس کی ہرنی جیسی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی یقینا وہ مجھے یہاں ایکسپٹ نہیں کررہی ہوگی۔
’’آپ لیٹ کیوں آئیں؟‘‘ میں نے چہرے پر سرد مہری سجا کے سوال کیا۔
’’لیٹ تو نہیں ہوں۔‘‘ اس کے لڑکھڑاتے لہجے نے مجھے محظوظ کیا‘ مجھے محسوس ہونے لگا کہ وہ مجھ سے خائف رہتی ہے باقی سب سے تو نارملی بات کرتی تھی۔
’’آپ تین منٹ لیٹ ہیں۔‘‘
’’سوری سر۔‘‘ اس کی مردہ آواز پر میرے اندر قہقہے ابلنے لگے۔
’’آیئے‘ بیٹھیے۔‘‘ میں نے خشونت بھرے لہجے میں کہا۔ دوسرے اسٹوڈنٹس کی آمد پر میں نے پوچھ گچھ نہیں کی تو وہ مجھے خونخوار نگاہوں سے گھورنے لگی‘ بنا دیکھے بھی مجھے اندازہ تھا‘ میں اٹینڈنس لینے لگا۔
’’ون زیرو سیون‘ ون زیرو ایٹھ‘ ون زیرو نائن۔‘‘ میں نے سر اٹھا کر دوبارہ پکارا کیونکہ آگے نام اسی کا درج تھا۔ ’’مس ون زیرو نائن…‘‘ اب کے میں نے ڈائس پر ہاتھ مارا۔ نجانے وہ کن سوچوں میں گم تھی‘ گھبرا گئی۔
’’جج… جی… یس سر۔‘‘ اس کی بوکھلائی آواز پر کلاس میں زبردست قہقہہ ابھرا‘ خود میں نے اپنی مسکراہٹ بمشکل دبائی۔
’’کہاں ہیں آپ؟‘‘ میرے لہجے میں مصنوعی غصہ در آیا۔
’’یہیں ہوں سر۔‘‘ وہ شرمندہ ہوتے ہوئے منمنائی۔
میں اپنی زندگی کا یہ دن کبھی بھول نہیں سکتا تھا۔
/…ء…/
اس دن کے بعد سے صنم مجھ سے گریزاں نظر آنے لگی‘ جہاں میں ہوتا وہ اول تو وہاں جاتی نہیں اور اگر میں اس جگہ پہنچ جاتا تو وہ وہاں سے بھاگنے کے لیے پر تولنے لگتی۔ آج موسم صبح سے ہی ابر آلودہ تھا‘ وقفے وقفے سے بارش ہورہی تھی۔ اسٹوڈنٹس کم تھے جس کی وجہ سے شاید پوائنٹ نہیں جارہی تھی۔ صنم کو بس اسٹاپ پر کھڑا دیکھ کر میں نے اپنے دوستوں کو چلے جانے کا کہہ دیا۔ میں اپنی کار سے ٹیک لگائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا‘ چہرے پر پریشانی سجائے وہ بس کا انتظار کرتی بار بار نازک کلائی میں بندھی رسٹ واچ دیکھ رہی تھی۔ میں بھی چپ کھڑا تھا کیونکہ جتنا اسے اب تک جانا تھا۔ میرے آفر کرنے پر وہ یقینا انکار کردیتی سو ایسی کوشش فضول تھی۔ اس کی نظر بھی غالباً مجھ پر پڑگئی تھی اس لیے وہ اور خوف زدہ نظر آرہی تھی۔ اچانک ایک بائیک والے نے اس کے سامنے بائیک روکی تھی۔ وہ اسے لفٹ دینے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی تھی۔ بائیک والا دوسری بار جب پھر گھوم کر آیا تو میرے ضبط نے جواب دے دیا۔ بائیک جب میرے قریب سے گزری تو میں نے جماکے ایک مُکا اس کے جبڑے پر دے مارا‘ بائیک سلو تھی مگر وہ پھر بھی توازن نہ سنبھال پایا اور گرپڑا۔ اس کی ناک سے خون نکلنے لگا تھا‘ صنم کی چیخ پر میں پلٹا اور اسی وقت کا فائدہ اٹھا کے وہ بھاگ کھڑا ہوا‘ ایک تو یہ لڑکیاں بھی بات بے بات پر چیختی رہتی ہیں۔
صنم خاموش نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی‘ میں اس کے قریب گیا وہ ڈر کے پیچھے ہٹ گئی۔ بس آئی تو وہ بھی سوار ہوگئی۔
/…ء…/
دوسرے دن میرے یونیورسٹی پہنچنے سے پہلے ہی یہ خبر آگ کی طرف پھیل چکی تھی کہ کل احتشام مرتضیٰ نے صنم کی خاطر ایک لڑک کو پنج مارا ہر کوئی میری تعریف میں رطب اللسان تھا‘ زبان زد عام میرا اورصنم کا نام تھا۔ میں نے یہ تو نہیں چاہا تھا‘ اس کی پاک دامنی پر کوئی حرف آئے۔ یہ ہی سوچ کر تو میں نے آج تک اس سے اپنی بے چینیوں کا اظہار تک نہیں کیا تھا مگر عشق اور مشک بھی کبھی چھپتے ہیں۔
صنم کا غصے سے لال سرخ چہرہ دیکھ کر مجھے ہنسی آرہی تھی‘ پگلی تھی یہ نہیں جانتی تھی کہ جو کل سب کو پتا چلنا ہے آج ہی چل جائے۔ کئی اک نے تو مجھے باقاعدہ مبارک باد دی مگر میں نے ان کے شک کو شک ہی رہنے دیا۔ جانتا تھا بلاوجہ کی خبریں اسے پریشان کردیں گی۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ فنکشن کی تیاری کے لیے آڈیٹوریم جارہا تھا جب ایک دم سے وہ میرے سامنے آکھڑی ہوئی‘ میرے بڑھتے قدم بے ساختہ اسے راہ میں حائل دیکھ کر رک گئے اور وہ آگے بڑھنے کی جسارت کر بھی نہیں سکتے تھے۔
’’مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘ پورے کانفیڈنس کا مظاہرہ کرتی وہ مجھے ہمیشہ سے زیادہ اچھی لگی۔ اس کے جملے میں اجازت کا رنگ نہیں تھا‘ نہ ہی وہ خواہش بیان کررہی تھی۔ اس کے انداز میں ایک دھونس تھی‘ میرے دوستوں نے ہم دونوں کو دیکھا اور خاموش سے چلے گئے۔
’’جی کریں‘ کیا بات کرنی ہے۔‘‘ ستون سے ٹیک لگا کر میں نے ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔ میری نظریں اس کے چہرے پر بھٹک رہی تھیں جو غصے سے سرخ ہورہا تھا یعنی وہ غصے کی میری طرح تیز تھی۔
’’آپ خود کو ہیرو سمجھتے ہیں کیا؟ یہ کوئی فلم‘ کوئی ناول نہیں ہے‘ جس میں آپ مرکزی کردار اد اکریں گے۔ تعریفیں بٹوریں گے اور اللہ اللہ خیر صلا… کس نے دی آپ کو اجازت کہ میرے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑیں۔‘‘ وہ اس وقت شدید غصے میں تھی‘ غصے کی شدت سے وہ بول بھی نہیں پارہی تھی۔
’’میرے دل نے۔‘‘ میرے آرام سے کہنے پر اسے پتنگے لگ گئے۔
’’جہنم میں جائے آپ کا دل‘ آپ فوراً سب سے کہہ دیں میرا اور آپ کا کوئی ریلیشن نہیں ہے۔‘‘ وہ غصے میں بھی دلکش لگ رہی تھی۔
’’میں کیوں تردید کرتا پھروں‘ میں نے تو کسی سے نہیں کہا کہ تم میری ہو۔‘‘ میرا لہجہ چڑانے والا تھا۔
’’آپ کہہ کر تو دیکھیں۔‘‘ ہمیشہ میرے سامنے دبو‘ گھبرائی سی صنم کا آج جلال دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا وہ مجھ سے مجھ ہی کے لیے الجھتی سیدھی دل میں اتری جارہی تھی۔
’’چیلنج کررہی ہو؟‘‘ میں مسکرا رہا تھا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ آئی تو کوئی اور بات کرنے تھی مگر مجھے جما دیکھ کر تنتناتی ہوئی چلی گئی‘ مجھے اس کے بچگانہ انداز پر بہت پیار آیا۔
/…ء…/
سالانہ فنکشن کا انعقاد ہوا تھا‘ جس میں ہمارا گروپ پیش پیش تھا‘ پروگرام کی میزبانی میرے سپرد تھی۔ تمام حاضرین محفل نے گانے کی فرمائش کی تو مجھے بے ساختہ اس کا معصومانہ چیلنج یاد آگیا‘ میں نے پہلے ہی اسے نظروں کی رینج پر رکھا ہوا تھا۔
’’جس دن سے دیکھا ہے تم کو صنم
بے چین رہتے ہیں اس دن سے ہم
لگتا ہے ایسا خدا کی قسم‘ تم میرے ہو
تم میرے ہو…‘‘
وہ اپنی جگہ بُری طرح جزبز ہوئی تھی‘ ماحول میں سیٹیوں اور داد کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ میں نے بے ساختہ اسے دیکھا وہ مجھے ہی گھور رہی تھی‘ میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ کئی لوگوں کا رخ بھی صنم کی طرف ہوگیا‘ فاریہ تو اسے باقاعدہ چھیڑ رہی تھی۔
پروگرام اختتام پذیر ہوچکا تھا بکے سے ایک روز نکال کر میں نے بجلی کی سی تیزی سے روز اس کے ادھ کھلے بالوں میں اٹکا دیا۔ کچھ تو سمجھ ہی نہ پائے اور کچھ کی آنکھوں نے یہ منظر اپنی بینائی میں محفوظ کرلیے۔ میرے فائنل ایگزام شروع ہوگئے اور ختم ہونے کے بعد میں گائوں چلا گیا کہ اماں سائیں کو صنم کے بارے میں بتاکر رشتہ لینے بھیج دوں مگر اس سے پہلے میں نے جو خبر سنی اس نے مجھے ہوش سے بیگانہ کردیا۔ ایسا کیسے اور کیونکر ہوسکتا تھا۔ میرے بات کرنے سے پہلے زوار نے مجھے فون کال پر اطلاع دی کہ ’’صنم کی شادی ہورہی ہے۔‘‘ میں یہ خبر سن کر حواس باختہ ہوگیا۔
/…ء…/
میں نے وہ پلان کیا جو میں عام حالات میں کبھی نہ کرتا‘ میرے لوٹنے تک صنم کی بارات اس کے در پر آچکی تھی میرے اندر موجود وڈیرے کا خون کھولنے لگا۔ میرے اشارے پر میرے آدمیوں نے اندر جاکر ہنگامہ کردیا اور دلہن صنم کو بے ہوش کرکے لے آئے‘ ڈرائیور نے اسپیڈ سے گاڑی دوڑا دی۔ میں نے صنم کو اغوا کرلیا تھا اور کرتا بھی کیا؟ میرے چند منٹ کی تاخیر پر اس کا نکاح کسی اور سے ہوجاتا اور یہ میں کبھی ہونے نہیں دیتا۔ وہ صرف میری تھی‘ صرف میری‘ میں اسے اپنے شہر والے گھر لے گیا وہ بدستور بے ہوش تھی۔
میں دلہن بنی صنم کو پلکیں جھپکائے بنا دیکھ رہا تھا‘ وہ دلہن بن کر میرے تصور سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی‘ میں نے جھک کر اس کی ریشمی زلفوں کو زمین سے اٹھایا۔
’’تم…‘‘ صنم کی آنکھ کھل گئی تھی‘ پہلے تو وہ کچھ سمجھی نہیں مگر حواس بیدار ہوئے تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’ہاں میں۔‘‘ میں اس کے سامنے براجمان ہوگیا‘ وہ سمٹ کر دور ہوئی۔
’’تم نے مجھے اغواء کرلیا؟‘‘ وہ بند کمرے کو غور سے دیکھتے صدمے سے چور آواز میں کہہ رہی تھی جسے اسے مجھ سے ایسے اقدام کی امید نہ ہو۔
’’اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ تمہاری شادی…‘‘
’’تمہاری ہی وجہ سے مصیبت ٹوٹی ہے مجھ پر‘ نہ تم مجھے رسوا کرتے نہ میرے اپنے مجھے بوجھ سمجھنے لگتے۔ تمہیں تو قتل کردینا چاہیے‘ تم زندہ رہنے کے لائق نہیں ہو۔‘‘ نفرت و غصے سے اس کی آواز پھٹ گئی‘ آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔
’’تمہیں برباد کرنے کو ایک میں ہی ملی تھی‘ دنیا لڑکیوں سے بھری پڑی ہے‘ کیوں کیا تم نے ایسا؟‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی‘ اس کی حالت پر مجھے ندامت محسوس ہوئی۔
’’کوئی تم جیسی نہیں تھی۔‘‘ میں نے سچائی سے اعتراف کیا۔
’’تم کیا سمجھ رہے ہو‘ تم مجھے اپنالو گے یاد رکھو میں خودکشی کرلوں گی مگر تمہاری نہیں ہوسکتی۔‘‘ وہ غصے سے پھنکاری۔
’’ایسی کوئی کوشش بھی مت کرنا ورنہ میں تمہارے خاندان کی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا اور اسے تم صرف دھمکی مت سمجھنا۔‘‘ میرے لہجے میں وڈیروں جیسی سفاکی آگئی‘ وہ ساکت رہ گئی تھی۔ ’’میرے دوست قاضی لے کر آتے ہی ہوں گے‘ تم تیار ہوجائو۔‘‘
’’تم سے نکاح نہیں کروں گی مجھے گھر جانے دو۔‘‘ وہ رو رہی تھی۔
’’پانچ گھنٹے گھر سے باہر رہی ہو‘ بارات تو کب کی واپس بھی جاچکی ہوگی۔ ضد نہ کرو میں باعزت طریقے سے تم سے نکاح کررہا ہوں ورنہ یہاں کون ہے جو مجھے روکے۔‘‘ میرے سرد لہجے نے اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کردیئے تھے۔ دیوار کے ساتھ لگ کے زمین پر بیٹھی وہ بازوئوں کے گھیرے میں اپنا چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کے رودی۔
مجھے تکلیف تو بہت ہوئی تھی مگر میں نے سوچ لیا تھا اس کی ہر تکلیف دور کردوں گا۔ میں ایسا کب چاہتا تھا میں تو باعزت طریقے سے اسے اپنانا چاہتا تھا مگر جب وقت گزرتا ہے تب ہمیں سود و زیاں کا احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کیا پایا‘ کیا کھویا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ مسز احتشام مرتضیٰ بن چکی تھی۔ مشرقی لڑکی تھی اسے تو یہ سب کرنا ہی تھا‘ اپنی انا‘ حیا‘ نسوانیت عزیز تھی۔ میں نے اسے ڈسٹرب نہیں کیا تھا‘ زبردستی زندگی میں تو شامل کرلیا تھا مزید نہیں کرسکتا تھا وہ روتی رہتی تھی کئی دن کے فاقوں نے اسے کملا دیا تھا۔
’’چلو تمہیں گھر چھوڑ آئوں۔‘‘ اس کی گرتی صحت نے مجھے ایک ہفتہ میں فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا‘ وہ حیرانی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔
’’میں تمہارے والدین سے معافی مانگ لوں گا اور گائوں سے اماں سائیں تمہیں رخصت کرنے آجائیں گی۔‘‘ میری باتوں نے اس پر ٹھیک ٹھاک اثر کیا تھا‘ وہ فوراً تیار ہوگئی۔
’’تُو کیا منہ لے کر آئی ہے منحوس… ماں‘ باپ کی عزت خاک میں ملاتے تجھے ذرا غیرت نہ آئی۔‘‘ سب سے پہلے صنم کی امی سے سامنا ہوا۔
’’آپ میری بات تو سنیں۔‘‘ میں نے کچھ کہنا چاہا۔
’’تمہاری بات سنوں‘ تمہارے ساتھ ہی تو بھاگی تھی۔‘‘
’’امی…!‘‘ اس الزام پر صنم کی آواز رندھ گئی‘ وہ حیرت سے ماں کو دیکھنے لگی تھی۔ میں بھی ہکابکا رہ گیا تو یہاں معاملے کو یہ رنگ دیا گیا تھا۔ میں اقرار کرنا چاہتا تھا کہ میں نے اسے اغواء کروایا تھا مگر مجھے موقع نہیں مل رہا تھا۔
’’تُو پیدا ہوتے ہی مر کیوں نہیں گئی صنم… دور ہوجا میری نظروں سے… سمجھنا مر گئے تمہارے ماں باپ نکل جا گھر سے… باپ اور بھائی نے تجھے دیکھ لیا تو گولی مار دیں گے‘ چلی جا… نکل گھر سے۔‘‘ صنم کی امی نے اسے دھکا دیا وہ لڑکھڑائی تو میں نے آگے بڑھ کے تھام لیا۔
صنم سکتے کی حالت میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی اس کی دگرگوں حالت دیکھ کر مجھے بہت ندامت ہورہی تھی۔ اسے اس حال پر لانے والا میں ہی تو تھا‘ میں نے ہی تو اسے اپنوں کی نظروں سے گرادیا تھا پھر بڑی عجیب چیز ہوئی۔ میرا ہاتھ جھٹک کر وہ باہر کھڑی کار میں جا بیٹھی‘ میں اس کے انداز دیکھ کر حیران رہ گیا۔
’’معذرت خواہ ہوں تم سے۔‘‘ کار اسٹارٹ کرتے میں نے نادامت سے کہا۔
’’معذرت کیوں کررہے ہو جب آگ لگائی ہے تو تماشہ بھی دیکھو۔‘‘ میری بات کاٹ کر وہ تڑخ کے بولی‘ اس کی حالت کے پیش نظر میں خاموش ہوگیا۔
/…ء…/
اگلے دن بابا سائیں چلے آئے۔
’’پتر… میں کیا سن رہا ہوں‘ تُو نے بیاہ کرلیا؟‘‘
’’آپ نے ٹھیک سنا ہے۔‘‘ میں نے بلاجھجک اعتراف کرلیا۔
’’اور تیرے چاچے کی بیٹی جو تیرے نام سے منسوب ہے۔‘‘ بابا سائیں نے میری بچپن کی منگیتر کا حوالہ دیا جو مجھے کبھی پسند نہیں تھی۔
’’اس کی شادی آپ کسی اور سے کردیں۔‘‘ میں نے مشورہ دیا۔
’’میں تیرا مشورہ لینے نہیں آیا پتر… تُو چاہے جتنی مرضی بیاہ کرلے مگر چاچے کی بیٹی کا بیاہ تجھ سے ہی ہوگا۔‘‘ بابا سائیں بھی غصے میں آگئے۔
’’میں نے ایک بیاہ کرنا تھا وہ میں کرچکا ہوں‘ دوسری‘ تیسری کی نہ خواہش ہے نہ ضرورت۔‘‘ میرا لہجہ بھی سخت ہوگیا۔
’’میں تجھے عاق کردوں گا۔‘‘ بابا سائیں نے آخری حربہ آزمایا۔
’’شوق سے کریں‘ میں بھی آپ ہی کا خون ہوں آپ جتنا ضدی تو میں بھی ہوں۔ زمین‘ جائیداد کی لالچ میں‘ میں محبت پر ظلم نہیں کرسکتا۔‘‘ میری حرکت نے پہلے ہی صنم کو رلایا‘ میں جانتے بوجھتے مزید ستم اس پر نہیں کرسکتا تھا اور مجھے اس کے علاوہ کچھ چاہیے بھی نہیں تھا۔
’’پتر یہ تُو اچھا نہیں کررہا۔‘‘ بابا سائیں کا لہجہ نرم پڑگیا۔ وہ مجھے سب سے زیادہ چاہتے تھے۔
’’پلیز بابا سائیں… آپ ایک بار اپنی بہو سے مل تو لیں‘ وہ میری زندگی ہے۔‘‘ جواب میں‘ میں نے بھی لجاجت سے کہا تو بابا سائیں مسکرادیئے۔
’’بہت ضدی ہے تُو آخر کو مجھ پر گیا ہے۔‘‘ بابا سائیں نے میرا کاندھا تھپکا۔ بابا سائیں نے بھی اماں سائیں سے خاندان سے ٹکر لے کر شادی کی تھی جواب میں دادا جی نے عاق کردیا تھا مگر دادا جی بیٹے کی جدائی برداشت نہ کرسکے اور انہیں واپس بلالیا۔
صنم بابا سائیں سے کھنچی کھنچی ملی‘ بابا سائیں نے شرم پر معمور کیا۔ مجھ سے اس کی بول چال بند تھی‘ میری طرف تو دیکھتی بھی نہیں تھی‘ دعائوں سے نوازتے بابا سائیں نے ہمیں گائوں چلنے کا کہا‘ میں نے ہامی بھرلی۔
’’گائوں چلو گی؟‘‘ میرا پوچھنا غضب ہوگیا۔
’’جب زبردستی زندگی میں شامل کیا ہے تو میری مرضی آپ کی نظر میں کیا حیثیت رکھتی ہے۔‘‘ نفرت سے کہے اس کے جملے نے مجھے خاموش کردیا تھا۔
/…ء…/
’’پتر تم لوگوں کے لیے کمرے میں چارپائی لگوائوں یا چھت پر؟‘‘ ہم گائوں پہنچ گے تھے‘ سب نے خوش دلی سے استقبال کیا تھا۔ اماں سائیں پوچھ رہی تھیں کیونکہ میں جب بھی گائوں آتا تھا چھت پر ہی سوتا تھا۔
’’چھت پر ہی لگوالیں اماں سائیں۔‘‘ میں نے صنم کو شرارت سے آنکھ مارتے ہوئے کہا تو وہ رخ پھیرگئی۔ گائوں آکر وہ بہل گئی تھی‘ اماں سائیں میں یقینا وہ اپنی ماں کو تلاش کررہی تھی۔
’’بہت رات ہوگئی پتر… اب جاکے سوجائو‘ تھکے ہوئے ہوگئے تم لوگ۔‘‘ اماں سائیں نے کہا تو میں چھت پر چلا آیا۔ وہ وہیں بیٹھی اماں سائیں کے پیر دباتی رہی‘ میں بے چینی سے اس کا انتظار کررہا تھا۔ دل میں عہد کر رکھا تھا آج ساری دوری ختم ہوجائے گی مگر وہ ستم گر اماں سائیں کے کمرے میں بیٹھی نمبر بنارہی تھی۔
’’آبھی جائو سنگ دل۔‘‘ آسمان کے سینے پر چمکتے چاند کو دیکھ کر لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
سیڑھیاں پر مرتے قدموں سے چڑھتی وہ اوپر آرہی تھی۔ لگ رہا تھا اماں سائیں نے اسے زبردستی کمرہ بدر کیا ہے۔ مجھے اس کی حالت زار پر ہی ہنسی آرہی تھی‘ شہر میں تو وہ الگ کمرے میں رہتی تھی۔ یہاں دو چار پائیوں کو ملا کر بچھایا گیا‘ وہ اپنی چارپائی الگ کرنے کو جھکی اس کا ریشمی دوپٹہ ہوا سے اڑ کر میرے سینے پر آگرا۔ دوپٹہ اٹھانے کو جھکی تو میں اس سے پہلے دوپٹہ اٹھا کر ہاتھ دور کرچکا تھا۔
’’میرا دوپٹہ…‘‘ جھجکتی ہوئی وہ خفگی سے بولی۔
’’ختم کرو ناراضگی‘ کتنی بار معافی مانگ چکا ہوں‘ دوستی کرلو۔‘‘ میں نے اس کی کلائی کو جھٹکا دیا تو وہ اپنا توازن سنبھال نہ پائی۔
’’آپ اچھا نہیں کررہے۔‘‘ اس نے اپنے نیلز میری گردن میں چبھو دیئے‘ اس کا رونا‘ بد دعائیں دینا کوئی مجھے روک نہ پایا۔
/…ء…/
میں دن چڑھے تک سوتا رہا‘ اٹھا تو موسم قیامت ہورہا تھا۔ میری سرشاری عروج پر تھی‘ میں نیچے اتر آیا‘ نظریں اسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ میں اس کی تلاش میں کچن تک آیا‘ ملازمہ کے علاوہ یوسف بھائی کی بیگم تھیں‘ کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے بھوک کا احساس دلایا۔
’’بھرجائی‘ کچھ کھانے کو ہے؟‘‘
’’آج بہت سویا تُو۔‘‘ بھرجائی نے چھیڑا۔ میں بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکرا دیا۔
’’صنم کہاں ہے؟‘‘ بھرجائی نے بسکٹ اور چائے میرے سامنے رکھی تو میں نے چائے کا مگ اٹھاتے ہوئے استفسار کیا۔ چائے سے پہلے میری آنکھیں نہیں کھلتی تھیں یہ سب کو پتا تھا تب ہی بھرجائی نے پہلے چائے ہی دی۔
’’اماں سائیں کے پاس ہے۔‘‘
’’بھرجائی نمبر بنا رہی ہے‘ آپ بھی کچھ خیال کرو۔‘‘ میں نے چھیڑا۔
’’ہٹ پرے‘ اتنی اچھی دیورانی سے لڑانا چاہتا ہے مجھے۔‘‘ انہوں نے پیار سے جھڑکی دی تو میں مگ اٹھا کر مسکراتا ہوا کچن سے نکل گیا۔
’’السلام علیکم اماں سائیں۔‘‘ اسے دیکھنے کے خیال سے میں اماں سائیں کے کمرے میں چلا آیا۔ ان کے نزدیک جاکر سر پر پیار لیتے میں نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا تو وہ غصے سے منہ پھیر گئی تھی۔
’’شام ہونے کو آئی ہے پتر… تو اب اٹھ رہا ہے‘ تیرے آرام کے خیال سے اٹھایا نہیں۔‘‘
’’یہ آپ اپنی بہو سے پوچھیں جلدی سونے ہی نہیں دیا اس نے۔‘‘ میں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے صنم کے کان میں سرگوشی کی‘ اماں سائیں اپنی مسکراہٹ نہ چھپا پائیں‘ اس کا چہرہ ٹماٹر کی طرح لال ہوگیا۔
’’میری بیٹی کو کچھ نہ بول‘ جانتی ہوں تجھے نیند کے معاملے میں کیسا ہے۔‘‘ اماں سائیں نے سے خود سے لگالیا تو مجھے دلی مسرت ہوئی۔
’’سیر کو چلو گی؟‘‘ میں نے براہ راست اس سے سوال کیا‘ وہ اماں سائیں کی وجہ سے چپ رہی ورنہ کوئی کرارا جواب تو ضرور دیتی۔
’’ہاں‘ ہاں پتر… جا گھوم دیکھ ہمارا گائوں کیسا ہے‘ جا شاباش۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ منع کرتی اماں سائیں کے اصرار نے اسے اٹھنے پر مجبور کردیا۔
/…ء…/
بلوسوٹ میں وہ تیار ہوکر آئی تو میں سیٹی پر دھن بجاکے رہ گیا۔ وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی‘ میں ہنس پڑا۔ خفگی اب بھی اس کی آنکھوں میں تھی‘ مجھے تو اس نے نظر اٹھاکے دیکھا بھی نہیں تھا۔ واک کرتے ہوئے ہم فارم ہائوس آگئے‘ گھوڑوں کو دیکھ کر میرا موڈ رائیڈنگ کا ہوگیا‘ صنم خاموشی سے میرے ساتھ چل رہی تھی۔ اسے تنگ کرنے کو میں نے اس کے بالوں کو بینڈ سے آزاد کردیا‘ وہ خفگی سے مجھے دیکھ کے رہ گئی‘ کچھ بولی نہیں۔
’’رائیڈنگ کرنی ہے؟‘‘ اپنا پسندیدہ گھوڑا منگوا کر میں بیٹھ چکا تھا‘ وہ نفی میں سر ہلاتی‘ بے تاثر نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی میں اس کی قربت میں جتنا سرشار تھا وہ اتنی ہی بے زاری کا شکار لگتی تھی۔
’’کم آن یار زندگی ایسی تو نہیں کہ رو کر جیا جائے‘ خوش رہو‘ ہر لمحے سے خوشی کشید کرو۔ تمہارا میاں اتنا ہینڈسم ہے اس پر اترائو۔‘‘ میں اسے چھیڑ رہا تھا‘ اس کی آنکھوں میں نمی پھیلنے لگی تھی۔ میں نے جھک کر اسے کھینچا اور اپنے آگے بٹھا کر گھوڑے کی لگام پکڑلی۔ وہ بیٹھتے ہوئے ڈر رہی تھی گھوڑے نے اسپیڈ پکڑی تو وہ مارے خوف کے آنکھیں بند کر گئی۔ اس کی حالت بُری ہورہی تھی‘ میں نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی وہ اور سرپٹ دوڑنے لگا‘ صنم نے مجھے مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔
’’احتشام مجھے بہت ڈر… ڈر لگ رہا ہے‘ روکیں اسے۔‘‘ اس کے کانپتے لہجے نے مجھے مسکرانے پر مجبور کردیا‘ مجھے اپنا نام آج پہلی بار خوب صورت لگا جو اس نے پہلی بار لیا تھا۔
’’مجھے اتاریں۔‘‘ وہ چیخ رہی تھی خوف سے زرد اس کا چہرہ دیکھ کر میں نے اس کے ساتھ گھوڑے سے چھلانگ لگائی تھی مکئی کے کھیت میں وہ مجھ پر آگری تھی۔ میری نہ رکنے والی ہنسی نے اسے مزید چراغ پا کردیا تھا۔ اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔ وہ میری شوخی پر منہ بگاڑ کر بال سمیٹتی‘ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’کیا خیال ہے۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے گھوڑے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا‘ وہ منہ پھیر کر چلنے لگی۔ گھوڑے کی لگام تھام کر میں بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا اور ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں سے بینڈ پھر نکال دیا۔ میرا مقصد اسے صرف تنگ کرنا تھا تاکہ وہ چیخے چلائے ان فیکٹ اسے اپنانے کے بعد سے میں بہت سرشار تھا‘ بال پھر بکھر گئے تو اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے۔
’’ہے… اس میں رونے کی کیا بات ہے‘ لائو میں باندھ دوں۔‘‘ میری بات پر اس کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی تھی۔
/…ء…/
ہم ایک ماہ حویلی میں رہے اس کے بعد شہر چلے آئے‘ بابا سائیں نے مجھے بزنس شروع کرنے کے لیے پیسے دیئے۔ اب میں گھر بار والا جو ہوگیا تھا۔ دن گزرتے رہے‘ صنم سے میری محبت بڑھتی رہی۔ اس کی سنگت میں مجھے خبر ہوئی زندگی کی حقیقی لذتیں کیسے حاصل ہوتی ہیں۔ میں خوش تھا‘ بہت خوش میری ہر بات‘ میرا ہر حکم بے چوں چرا مان لیتی مگر مجھے بار بار ایسا محسوس ہوتا کہ وہ خوش ہونا چاہتی ہے مگر ہو نہیں پاتی۔ میری رفاقت پر فخر کرنا چاہتی ہے مگر کر نہیں پاتی۔ نجانے ایسی کیا چیز تھی جو اسے روکتی تھی‘ میرے بارہا پوچھنے پر بھی وہ کچھ نہیں بولتی تھی‘ میں جھنجلا جاتا‘ وہ مجھ سے اختلاف کیوں نہیں کرتی۔ فرمائش کیوں نہیں کرتی‘ بیویوں کی طرح دیر سے لوٹنے پر لڑتی کیوں نہیں۔ وہ برف کا تودہ بن گئی تھی جس سے ٹکراتے ٹکراتے میں تھک جاتا تھا۔ میں ہزار کوشش کرتا اس گلیشیئر کو پگھلانے کی مگر ناکام رہتا تھا۔ ہماری زندگی سپاٹ تھی‘ میں اپنے بزنس کو پھیلانے میں مصروف ہوگیا‘ ہزاروں شکایت کے باوجود مجھے صنم سے بے تحاشا محبت تھی۔
ہماری زندگی میں ہلچل مچانے ہماری بیٹی جاناں چلی آئی‘ مجھے لگا تھا اب برف کا تو ضرور پگھل جائے گا مگر ایسا کچھ نہ ہوا‘ جاناں سے اسے بھی محبت تھی مگر جانے کیوں وہ مجھ سے‘ میری بیٹی سے اظہار نہیں کرتی تھی۔ اب وہ اکتائی ہوئی رہنے لگی۔
اک بار رونق شہر سے خالی واپس آکر
میں نے اپنا شہر بسایا تنہائی میں
اس کی گرتی صحت نے مجھے مشکوک کیا تو اسے زبردستی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کیے تھے‘ رپورٹس آئیں اور ڈاکٹر نے جو کہا اس نے مجھے مسمریز کردیا۔ ایسے کیسے ہوسکتا تھا‘ ڈاکٹر جھوٹ بول رہا ہوگا۔ رپورٹیں غلط ہوسکتی تھیں میں یقین کرنا نہیں چاہتا تھا۔
صنم کو کینسر ہوگیا تھا… میری صنم کو… میں گھر آکر رو دیا تھا۔ تو یہ روگ پال رہی تھی وہ‘ خاموشی اسے دیمک کی طرح کھا رہی تھی۔ اسے اپنانے کی اس نے خود کو اتنی بڑی سزا دی تھی‘ میرا ضبط جواب دے گیا تو پانچ سالہ رفاقت میں پہلی بار میں اس سے اونچے لہجے میں بولا‘ اسے جنجھوڑا تھا۔
’’کیوں کی تم نے ایسی حرکت… بولو‘ سزا دینی تھی تو مجھے دیتیں۔ میرا سر تن سے جدا کردیتیں‘ میرے سینے میں خنجر اتار دیتیں‘ بخدا میں حرف شکایت زبان پر نہ لاتا‘ نہیں جی پائوں گا تمہارے بناء۔ ایک بھول کی اتنی بڑی سزا تو نہ دو‘ تم جیو گی‘ تمہیں جینا پڑے گا میرے لیے کیونکہ خالق کائنات نے تمہیں صرف میرے لیے بھیجا تھا۔ تم میری ہو سمجھیں… تمہیں جینا ہے… تم جیو گی…‘‘ اسے خود سے بھینچے میں رو رہا تھا۔
’’کیا چاہیے تمہیں بولو‘ میں دوں گا‘ کچھ تو مانگو۔ جان بھی دے دوں گا‘ تم کچھ کہو تو…‘‘ اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر میں بھکاری کی طرح فریاد کررہا تھا۔ ’’مجھے اتنی بڑی سزا نہ دو صنم‘ میں جیتے جی مر جائوں گا۔‘‘ میری دہائیوں پر بھی وہ کچھ نہ بولی‘ میں نے اسے اسپتال میں ایڈمٹ کروایا‘ بقول ڈاکٹر…
’’مرض ابھی فرسٹ اسٹیج پر تھا‘ مریضہ قوت مدافعت سے کام لے تو جلد اس بیماری سے چھٹکارا پاسکتی ہیں مگر مریضہ کو زندگی سے محبت ہونی چاہیے۔‘‘ میں نے اس سے التجا کی‘ وہ میرے لیے نہ صحیح ہماری بیٹی کے لیے جیے۔ مجھ سے نفرت ہے تو بے شک کرے‘ منع نہیں کروں گا مگر اسے زندہ رہنا ہے مگر اس کے اندر کی برف نہ پگھلی۔ میں نے اپنا سارا آرام و چین سکون تج دیا تھا‘ بزنس بھول چکا تھا۔
دن رات اس کی تیمارداری میں لگا رہتا‘ جاناں کو اماں سائیں کے پاس چھوڑ آیا تھا کیونکہ اسے توجہ نہیں دے پارہا تھا۔ کسی کو بھی صنم کی بیماری کا نہیں بتایا‘ انہیں تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ میں نے صنم کو زبردستی اپنایا تھا اور اس نے مجھ سے کتنا خاموش انتقام لیا تھا اور بالآخر مجھے پتا چل ہی گیا وہ کیا بات ہے جو اسے تنگ کیے ہوئے ہے‘ صنم کو سوتا سمجھ کر میں میڈیسن لینے گیا تھا۔
’’میں ویسی نہیں تھی جیسا آپ نے سمجھا تھا امی… میں نے آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہیں لگائی تھی مگر آپ نے مجھے بے اعتبار کرکے مجھے جیتے جی مار دیا۔ آپ اپنی بیٹی کو سمجھ نہ سکیں…‘‘ اس کی آواز آنسوئوں میں ڈوب گئی تھی۔
تو یہ تھی وجہ جس نے اسے بکھیر کے رکھ دیا تھا‘ ناکردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے وہ تھک گئی تھی۔ جب ہمارے اپنے ہمیں غلط سمجھیں‘ الزام تراشی کریں‘ زندہ ہونے پر مردہ تصور کرلیں اس وقت دل مر جاتا ہے۔ مجھے بھی احساس ہوگیا تھا میں نے ایک لڑکی کے پندار کو ٹھیس پہنچا کر اسے موت کے حوالے کردیا‘ میں اس کا قاتل تھا۔
/…ء…/
دوسرے دن میں صنم کے گھر گیا مگر وہ لوگ کہیں اور شفٹ ہوچکے تھے‘ انہیں ڈھونڈنے میں مجھے کئی دن لگے تھے۔ اس کے بعد کے حالات بہت ذلت آمیز تھے‘ صنم کی فیملی نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا مگر میں نے بھی اپنی آن‘ انا سب صنم کی زندگی پر قربان کردی تھی۔ ان سب کو مشکلوں سے یقین دلایا کہ خطا وار میں ہوں‘ میرے اقبال جرم اور صنم کی بیماری کی خبر نے ان کے دل نرم کردیئے تھے۔
’’دیکھو تم سے ملنے کون آیا ہے۔‘‘ وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی ہوئی تھی‘ میرے کہنے پر سمجھی اماں اور بابا سائیں آئے ہیں‘ وہ اٹھ بیٹھی۔
’’امی… ابو… بھائی…‘‘ اس کے لب پھڑپھڑائے‘ وہ اپنوں کو برسوں بعد سامنے دیکھ کر ساکت رہ گئی۔
’’ہاں میری بچی… کیسی ہے تُو؟‘‘ صنم کی امی نے آگے بڑھ کر اسے ساتھ لگالیا۔
’’امی… میں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا‘ میں بے قصور ہوں۔ آپ کا پڑھایا ہوا سبق بھولی نہیں تھی پھر آپ نے مجھ پر اعتبار کیوں نہ کیا؟‘‘ وہ برسوں کا غبار آنسوئوں کی صورت نکال رہی تھی شاید گلیشیئر پگھلنا شروع ہوگیا تھا۔
’’احتشام نے ہمیں سب بتادیا ہے۔‘‘ ابو نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا‘ وہ مجھے دیکھنے لگی۔ خوب گلے شکوے ہوئے اور بالآخر دل صاف ہوگئے۔
’’تم آرا کرو بیٹا… مجھے تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی‘ میں صنم کے پاس رہوں گی۔‘‘ صنم کی امی نے اپنائیت سے کہا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں‘ میں ہوں نہ یہاں‘ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘ میں نے صنم کے چہرے پر ایک سکون پھیلتے دیکھا۔
’’یہ مسلسل کئی راتوں سے جاگ رہے ہیں‘ امی آپ انہیں گھر بھیجیں۔‘‘ صنم کا پہلی بار اپنے لیے فکر مند لہجے نے گونا گو سکون دیا۔
امی کے اصرار پر میں گھر چلا آیا‘ تھوڑی دیر آرام کرکے فریش ہوا پھر دوبارہ ہسپتال چلا آیا کہ اس سے دور رہ کر اور برے برے خیال آرہے تھے۔ رات امی کو گھر بھیج دیا تھا تاکہ وہ بھی آرام کرلیں۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ صنم کی نظریں خود پر کافی دیر سے محسوس کررہا تھا۔
’’بہت شکریہ۔‘‘
’’کس بات کا؟‘‘ میں انجان بن گیا۔
’’میری طرف سے سب کا دل صاف کرنے کے لیے۔‘‘ وہ آسودگی سے چادر اوڑھ گئی۔
’’اتنی سی بات اگر تم مجھے پہلے کہہ دیتیں تو تمہارا کیا ہرج ہوتا۔ تم اس حال کو تو نہ پہنچتیں۔‘‘ میں نے شکوہ کیا‘ وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی۔
’’میں آپ کو جھکتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔‘‘ اس کا لہجہ دھیما۔
’’کیوں؟‘‘
’’آپ سے کبھی نہیں کہا مگر آج کہہ رہی ہوں کہ صرف آپ ہی نہیں میں بھی آپ سے یونیورسٹی کے پہلے ہی روز سے محبت کرنے لگی تھی لیکن میں کبھی اقرار نہیں کرتی کہ مجھے اپنے والدین اور بھائی کی عزت کا مان رکھنا تھا لیکن آپ کے ساتھ جب میرا نام لیا جانے لگا تو امی نے بالا ہی بالا میرا رشتہ اور شادی طے کردی لیکن آپ نے… پھر امی نے جس طرح مجھے دھتکارا میں کبھی بھول نہ سکی۔ آپ کو نقصان نہیں پہنچاسکتی تھی اس لیے اندر ہی اندر گھلنے لگی۔ آپ مجھے میرے دشمن لگتے تھے لیکن میں آپ سے نفرت بھی نہیں کرسکتی تھی۔ آپ کے عمل نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی تھی۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور میں اس کی محبت میں بھیگ رہا تھا۔
میں اسے علاج کے لیے ملک سے باہر لے جانا چاہتا تھا‘ بڑے سے بڑا ڈاکٹر اور مہنگے سے مہنگے اسپتال میں اس کا علاج کروانا چاہتا تھا مگر ڈاکٹر نے خوش خبری دی کہ اس کی ضرورت نہیں وہ تیزی سے ریکور کررہی تھی۔
میری ان گنت دعائیں اس رب کریم نے قبول کرلی‘ صنم مکمل صحت یاب ہوگئی۔ صنم کو نئی زندگی مل گئی تھی‘ ہمارا گھر خوشیوں کا گہوارہ بن چکا تھا۔ صنم خوش تھی اور میں بھی جان گیا تھا‘ زور زبردستی سے رشتہ جوڑ سکتا ہے مگر دل نہیں۔ میں نے اس سے معافی مانگی تھی‘ ایک نئی صنم کا جنم ہوا تھا جو زندگی سے بھرپور تھی۔ میرے سارے گلے اس نے ایسے دور کیے تھے کہ پھر کوئی گلہ رہا ہی نہیں۔ مجھے گلہ تھا میرا حکم چوں چرا کیے بناء مان لیتی ہے‘ اب اس نے مجھ پر حکم چلانا شروع کردیا۔ اب وہ مجھ سے ہر بات پر اختلاف کرتی تھی۔
’’یہ ٹائی ذرا اچھی نہیں لگ رہی‘ اب میں خود آپ کی شاپنگ کروں گی۔‘‘
لو جی ہوگئی چھٹی‘ مجھے گلہ تھا فرماش کیوں نہیں کرتی‘ اب جب شاپنگ سے لوٹتے تو والٹ میں کچھ نہیں بچتا تھا۔ مجھے گلہ تھا لڑتی نہیں‘ آئے دن یہ تماشہ ہونے لگا۔
’’آپ کے پاس بالکل ٹائم نہیں ہم ماں بیٹی کے لیے۔ مجھے سسرال جانا ہے یا میکے کی یاد آرہی ہے‘ آج پیرنٹس ڈے تھا میں اور جاناں آپ کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔‘‘
سارے موسم سارے تہوار اب خوشی دینے لگے تھے‘ ہماری زندگی ہی جیسے اب شروع ہوئی تھی۔ رمضان المبارک کا عشرہ شروع ہونے والا تھا اور وہ سپر اسٹور سے مہینے بھر کی خریداری کررہی تھی۔ افطاری میں یہ تیار کروں گی‘ سحر میں وہ… میں بھی خوشی خوشی اس کی پلاننگ سن رہا تھا ورنہ اب تک کے روزے تو بڑے پھیکے گزرے تھے۔ وہ لاتعلقی کی فضا اب نہیں تھی اب ہر رنگ ہر تہوار جدا تھا۔
صبح سے ہی وہ کچن میں گھسی رمضان المبارک کے لوازمات بناکر فریز کررہی تھی۔ کل رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کی قوی امید تھی‘ کل ہی ہماری شادی کو چھ سال ہوجائے گے‘ باہر سے آوازیں آرہی تھیں یقینا مجھے ہر جگہ تلاش کرکے اب وہ اسٹڈی میں چھاپہ مارنے آرہی ہے اور پھر دھڑ سے دروازہ کھلا۔
’’اتنی رات ہوگئی آپ اب بھی کام میں مصروف ہیں۔‘‘ وہ اندر چلی آئی‘ سوچ رہی تھی میں آفس کا کام کررہا ہوں لیکن اسے خبر نہ ہوئی میں آپ لوگوں کو کہانی لکھ رہا تھا۔
’’سونے کی کریں‘ اب کل سے یوں بھی تراویح پڑھنی ہے پھر سحری افطاری کی مصروفیات ہوں گی۔ آج سے ہی روٹن میں تبدیلی لے آئیں تو کل سے دقت نہیں ہوگی۔‘‘ وہ کمرے کی بکھری چیزوں کو جگہ پر رکھتی‘ اپنے انداز میں گویا تھی۔
’’اوکے۔‘‘ میں نے ٹالنا چاہا مگر اس کا رخ میری طرف ہوچکا تھا۔
’’بہت رات ہوگئی‘ اٹھیں۔‘‘ وہ تحکم بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’دس منٹ‘ تھوڑا سا کام ہے۔‘‘ میں نے دہائی دی۔
’’کریں‘ میں یہیں بیٹھی ہوں۔‘‘ وہ رائٹنگ ٹیبل پر پیر لٹکا کے بیٹھ گئی۔ پیپرز پر اس کی نظر نہیں پڑی‘ وہ میرے اتنے قریب تھی تو میں لکھنے کی جسارت کیسے کرسکتا تھا۔ میں آئیں بائیں شائیں کرنے لگا‘ وہ بھی چیزوں کا جائزہ لینے لگی۔
’’دس منٹ ہوگئے۔‘‘
’’جاناں کہاں ہے؟‘‘ مقصد اس کی توجہ کسی اور طرف مرکوز کرنا تھی۔
’’سوچکی ہے۔‘‘ گویا کوئی موقع نہیں تھا مزید صفحے کالے کرنے کا۔
’’تھوڑا ٹائم نہیں مل سکتا۔‘‘ مسکین سی شکل بنائی مگر الٹا اثر ہوا۔
’’بالکل نہیں‘ بند کریں یہ فائل۔‘‘ اس نے خود بند کرکے پین بھی قبضے میں لے لیا۔ ’’مجھے نیند آرہی ہے‘ اٹھیں۔‘‘
’’اچھا بابا‘ چلو…‘‘ میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے تو اس نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ تھام لیا اور میں نے اس کے ساتھ مل کر خوشیوں کی دہلیز پر قدم رکھ دیا تھا۔
محبت کی دیوی کو روٹھنے مت دیجیے گا اگر یہ ایک بار روٹھ جائے تو بڑی مشکلوں سے مانتی ہے۔ محبت کا چاند بھی کبھی کبھی طلوع ہوتا ہے‘ اسے بہت خوشی سے دل کے آنگن میں اتارا کیجیے۔ محبت زور زبردستی کا نہیں راہ کی دھول ہوجانے کا کھیل ہے۔ محبت میں بھلے عزت بہت معنی رکھتی ہے لیکن عشق میں کتنی ہی رسوائی ملے‘ دھتکارا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عشق خودی کا نہیں بے خودی کا نام ہے‘ جہاں عزت معنی کھوجاتے ہیں۔ اپنی ذات ترجیحات مٹ جاتی‘ ہے عزت و ذلت کے گھل جاتے ہیں بس عشق ہوتا ہے چار سو‘ کوبہ کو۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close