Aanchal Aug-18

اکائی

عشنا کو ثرسردار

گزشتہ قسط کا خلاصہ
تاج بیگم (دادی) فاطمہ کے رشتے کے لیے دلی طور پر رضا مند ہوتی ہیں اور اس رسوائی سے بچنے کا انہیں یہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ریحان سے اس کا رشتہ طے کردیا جائے۔ سخاوت بیگم اگرچہ فاطمہ کے لیے بے چین رہتی ہیں اور انہیں اپنی بیٹی کی پارسائی کا بھی یقین ہوتا ہے، لیکن کوئی بھی ان کی بات ماننے پرآمادہ نہیں ہوتا۔ دادی گھریلو سیاست میں طاق ہونے کا بھر پور فائدہ اٹھاتی ہیں اور بیٹے کو بھی اس طرح سمجھاتی ہیں کہ وہ بھی اماں کی باتوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ خواجہ ناظم الدین فاطمہ کی غلطی کو نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں سمجھتے، دوسری طرف فاطمہ کو بھی دادی کی یہ سزا اپنی غلطی کے پیش نظر درست لگتی ہے جب ہی وہ ان سے معافی مانگتی ہے، لیکن تاج بیگم کا دل اس کے جڑے ہاتھ دیکھ کر بھی نہیں پسیجتا، جب کہ سخاوت بیگم یہ منظر دیکھ کر کانپ اٹھتی ہیں۔ ان اختلافات کے باوجود بھی تاج بیگم فاطمہ کی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں جب کہ فاطمہ کو اب پڑھنے سے بھی خوف محسوس ہوتا ہے لیکن وہ دادی کے حکم کو ٹالنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ نواب زمان الحق تاج بیگم کی شرط جان کر شاکڈ رہ جاتے ہیں کہ ان کا فاطمہ سے نکاح کیسے ہوسکتا ہے لیکن دادی اسی بات پر قائم رہتی ہیں، بصورت دیگر وہ اس کا رشتہ ریحان سے طے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ نواب زمان الحق اپنے بیٹے وقار الحق کے سامنے یہ بات رکھتے ہیں وہ بھی ششدر رہ جاتے ہیں اور اپنے تئیں دادی کو سمجھانے کی سعی کرتے ہیں کہ انہوں نے فاطمہ کو محض تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر ملنے کا کہا تھا مگر دادی ان کے منہ سے فاطمہ کانام بھی سننا پسند نہیں کرتیں، ایسے میں وہ خاموش رہ جاتے ہیں۔ نواب وقار الحق کی دوست جنت ان سے ملنے آتی ہے تو ان کی پریشانی کی بابت استفسار کرتی ہے جس پر وہ ٹال جاتے ہیں، ایسے میں جنت ان کے والد کے نکاح کا ذکر کرتی ہے کہ اس نے گھر میں یہ ذکر سنا تھا، جنت کی زبانی اس نکاح کی بات پر وقار الحق مزید پریشانی میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ رجت سنگھ کی ملاقات دادی سے ہوتی ہے تو وہ پہلی نظر میں ہی یہ بات جان لیتی ہیں کہ وہ کسی اچھے گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ کرم دین سے وہ اس کی بابت تمام حقیقت دریافت کرتی ہیں۔ کرم دین اس کے کام کے حوالے سے بتا کر انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم تاج بیگم رجت سنگھ پر نظر رکھنے کا کہتی ہیں۔ نواب زمان الحق فاطمہ کے کردار پر لگے داغ کو مٹانے کی خاطر دادی کی بات مان لیتے ہیں اور فاطمہ سے نکاح پر اپنی آمادگی ظاہر کرتے ہیں، یہ بات دادی کے لیے باعث اطمینان ہوتی ہے۔
اب آگے پڑھیے
/…ء…/
نواب صاحب نے تاج بیگم کا چہرہ بغور جانچا۔ جانے کیوں انہیں لگا کہ تاج بیگم اپنا اردہ بدل رہی ہیں۔ اگر وہ تمام شرائط کو ماننے کے بعد بھی تیار نہ ہوتیں تو وہ کیا کرتے؟ ان کے دل میں ایک خوف نے سر اٹھایا۔
’’میاں ایسی بھی کیا جلدی ہے تم بھی یہیں ہو اور ہم بھی۔ سو دیکھ لیں گے کہ معاملات کس طور طے پاتے ہیں۔‘‘ اماں جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ نواب صاحب ان کے بدلے تیور دیکھ کر بہت پُرسکون انداز میں مسکرا دیئے تھے۔
’’اماں جان ہم تو آپ کے تابعدار ہیں‘ حکم کریں تو سر بھی قلم کروا دیں۔‘‘ ان کی بات پر اماں جان ہنس دیں۔
’’خدا سلامت رکھے تمہیں‘ ایسی بد فعال منہ سے نہ نکالو۔ شادی بیاہ کے معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں۔ وقت لگتا ہیں۔‘‘ اماں نے گھاگ انداز میں کہا۔ ان کے لبوں کی مسکراہٹ دیکھ کر نواب صاحب بھی مسکرا دیئے۔
’’اماں جان ارادہ بدل رہی ہیں تو صاف بتادیجیے۔ ہم تو حکم کے غلام ہیں۔ قدم واپس موڑ لے لیں گے۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ دل کی بات کہہ دی۔ اماں جان نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
’’ارے میاں ایسی بات نہیں۔ اماں جان سے واقف ہو تم‘ زبان مردوں والی ہے۔ جو بات کہہ دی سو کہہ دی۔‘‘ اماں جان نے بات واضح کی۔ نواب صاحب نے بھی سر ہلایا۔
’’جانتے ہیں اماں جان تاج بیگم نے مردوں کی طرح زندگی گزاری ہے۔ ایسا مرحوم ابا حضور کہا کرتے تھے۔ وہ آپ کی اچھائیوں کے گرویدہ تھے۔ جس طرح آپ نے مردانہ وار حالات کا مقابلہ کیا اور زندگی میں پھونک پھونک کر قدم رکھا۔ کاروباری امور اور اولاد کی پرورش احسان طریقے سے کی‘ وہ سب ہمارے سامنے ہیں۔ اللہ جنت نصیب کرے ابا حضور کو ان کا فرمان تھا کہ تاج بیگم کھری خاتون ہیں۔ خوب صورتی میں یکتا ہیں‘ اسی طرح کردار اور اطوار میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں اور ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ابا حضور کس قدر درست فرماتے تھے۔‘‘ نواب صاحب جانتے تھے کہ کس طرح تاج بیگم کو رام کرنا ہے۔ وہ جیسے نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے تھے۔ اماں جان کی مسکراہٹ دیکھ کر انہیں تسلی ہوئی تھی۔
’’ارے میاں‘ آپ کے ابا حضور تو لفظوں کے کھلاڑی تھے۔ کسی کو چنے کے جھاڑ پر کس طرح چڑھانا ہے یہ بات ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔‘‘ اماں جان مسکرائیں۔
’’جانے دیجیے اماں جان۔ اب ابا حضور ایسے بھی شعبدہ باز نہ تھے آپ تو کسر نفسی سے کام لینے کی عادی ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تب ہی اماں کچھ سوچتے ہوئے بولیں۔
’’میاں‘ ایسی عجلت سے کام نہ لو۔ ہتھیلی پر سرسوں جمانا کوئی دانش مندی نہیں۔ میں خواجہ ناظم الدین اور ان کی اہلیہ سے بات کرتی ہوں‘ بہرحال مشورہ ضروری ہے۔ حتمی فیصلہ تو ہمارا ہی ہوگا مگر کل کو وہ شکوہ نہ کریں کہ اماں جان نے پوچھے بنا ہماری بیٹی کا نکاح کردیا۔ سو مشورہ بھی ضروری ہے۔‘‘ اماں جان نے نہایت نرمی سے سمجھایا۔ نواب صاحب انہیں دیکھنے لگے پھر آہستگی سے بولے۔
’’اماں جان یہ نہایت واجب اور درست ہے بلکہ آپ کو فاطمہ بی بی سے بھی ان کی مرضی پوچھنی چاہیے۔ ہمارا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے۔‘‘ نواب صاحب بولے اور اماں نے سر ہلا دیا۔
’’بے شک ایسا ہی ہے اور ہم کوئی بھار اپنے سر نہ لیں گے۔ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ لیں گے۔ فاطمہ بی بی کی مرضی اہم ہے اور انہیں وہ حق ضرور ملے گا۔ آپ اس معاملے میں اپنا دل صاف رکھیے۔ ہم کسی رشتے کو زبردستی باندھ کر کوئی گناہ اپنے سر لینا نہیں چاہتے۔‘‘ اماں جان نے مدھم لہجے میں کہا۔ نواب صاحب ان کا ارادہ جان کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’اماں جان آپ جب بھی حکم کریں گی ہم آپ کی دہلیز پر حاضر ہوجائیں گے‘ چلتے ہیں‘ فی امان اللہ۔‘‘ انہوں نے کہا اور اماں جان نے سر ہلا دیا۔
/…ء…/
وقارالحق خاموش کھڑے چاند کو دیکھ رہے تھے۔ جب لمحہ بھر کو ان کی آنکھوں کی پتلیوں پر فاطمہ بی بی کا چہرہ نمودار ہوا تھا۔ یہ تصور اس قدر قوی تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے چاند میں وہ چہرہ چھا گیا۔ وقار اس امر پر حیران رہ گئے‘ لمحہ بھر کو نگاہ بدلی تاکہ یہ تاثر ٹوٹ سکے مگر وہ خیال اتنا جاندار تھا کہ ان کے نگاہ پھیرنے کے باوجود بھی ختم نہ ہوا اور چاند میں جوں کا توں فاطمہ بی بی کا چہرہ چمکتا رہا۔
’’فاطمہ بی بی… ہم پشیماں ہیں‘ ہم نے اچھا نہیں کیا‘ جو ہوا اس کی سزا آپ کو بھگتنا پڑ رہی ہے‘ ہم اگر وقت کو پیچھے لے جاسکتے تو وہ لمحہ نہ آتا مگر بندۂ بشر اپنی خواہشات میں بہت کچھ نظر انداز کر جاتا ہے‘ ہم نے بھی یہ نہیں سوچا کہ اس ایک عمل کا اثر آپ کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوگا‘ ہم جوش ہیں آپ کی توقیر اور تقدس کے متعلق بھی بھول گئے‘ آپ کی عزت پر ہمارے باعث جو حرف آیا وہ قابل سزا ہے اور ہم اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے دل میں اعتراف کیا۔
’’وقار…‘‘ جنت بی بی کی آواز ابھری اور وہ چونک کر مڑے۔ ان کے چہرے پر وہ کیفیت تھی جیسے ان کی سوچوں کو کسی نے پڑھ لیا ہو یا ان کے تخیل تک رسائی پالی ہو۔ تب ہی انہوں نے ایک لمحہ کو نگاہ پھیر کر چاند کو دیکھا اور صد شکر کیا کہ وہاں فاطمہ بی بی کا چہرہ نہ تھا۔ جنت بی بی اس بات سے بے خبر تھیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چھوٹے نواب کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ سو وہ ان کی بوکھلاہٹ پر چونکتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’چھوٹے نواب‘ آپ اس طرح پریشان کیوں ہیں‘ کیا ہوا؟‘‘ جنت بی بی نے پوچھا مگر وقارالحق نے سر جھٹکتے ہوئے سر نفی میں ہلادیا۔
’’آپ اس وقت یہاں… خیریت؟‘‘ وقار نے دریافت کیا۔ جنت بی بی مسکرائیں۔
’’ہم چچا جان سے ملنے آئے تھے۔ ابا کو کچھ دستاویزات چچا تک پہنچانا تھیں اور ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی سو ہم نے مشورہ دیا کہ ہم چلے جاتے ہیں اور دستاویزات باحفاظت پہنچا آتے ہیں۔ چچا سے تو ہم مل لیے تھے۔ سوچا آپ کی خیریت بھی دریافت کرتے چلیں۔‘‘ جنت بی بی کی آنکھوں میں الفت کی انوکھی چمک تھی اور وقار جانتے تھے کہ یہ الفت کس سے منسوب ہے مگر فاطمہ بی بی کے باعث ان کا دماغ اس قدر الجھا ہوا تھا کہ وہ زیادہ کچھ کہہ نہیں سکے اور خاموشی سے کھڑے رہے۔
’’خیریت آپ ہمیں یہاں دیکھ کر خوش نہیں ہوئے؟‘‘ جنت بی بی نے انہیں بغور دیکھا۔ وقار تب بھی یونہی کھڑے رہے۔ جنت بی بی نے حیران ہوتے ہوئے ان کے شانے پر ہاتھ رکھا اور وہ چونکتے ہوئے انہیں دیکھنے لگے۔
’’ہم… ہم یہیں ہیں کیا پوچھ رہی تھیں آپ؟‘‘ وقار کا انداز عجیب کھویا کھویا سا تھا۔ جنت کا ماتھا ٹھنکا۔
’’آپ یہیں ہیں اس بات کی خبر تو ہمیں بھی ہے وقار… ہم آپ کی خیریت دریافت کرنے آئے تھے بس علاوہ ازیں اور کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ لب بھینچ کر کہہ گئیں۔ وقار سمجھ گئے کہ وہ خفا ہوگئی ہیں‘ تب ہی ان کا ہاتھ تھام لیا۔ جنت بی بی جیسے ان کے ہاتھ سے بندھ گئی تھیں۔
’’آپ ہمیں جانتی ہیں ہم کسی کو بھی نظر انداز کرنے کے قائل نہیں مگر ہمارا دماغ اس وقت کسی قدر الجھا ہوا ہے اور…؟‘‘ وہ دانستہ چپ ہوگئے۔ جنت بی بی نے ان کے وضاحت دینے پر انہیں دیکھا۔
’’آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ آپ آرام کیجئے۔‘‘ اس نے ہدایت کرتے ہوئے نگاہ پھیری۔ حسن کے تیور بلا کے دل ربا تھے مگر وقار کچھ زیادہ نہیں بول سکے۔
’’دراصل ہم نہیں چاہتے آپ ہماری طرف سے دل برا کرکے جائیں۔‘‘ جیسے اس لمحے انہیں جنت بی بی کے جانے سے فرق نہیں پڑا تھا۔ جنت بی بی ان کے انداز پر چونکیں پھر جانے کیا سوچ کر سر نفی میں ہلا دیا۔
’’ہم دل میں ایسا کوئی منفی خیال نہیں رکھتے۔ آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔ آپ واقعی بے پناہ الجھے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ جنت بی بی نے ان کی طرف دیکھے بنا کہا۔ وقار انہیں دیکھتے رہ گئے پھر گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولے۔
’’جنت‘ ہم نہیں جانتے معاملہ کیا ہے مگر طبیعت کچھ عجیب سی ہورہی ہے‘ ہم آپ سے بعد میں بات کریں گے برائے کرم کوئی غلط خیال یا سوچ دل و دماغ میں آنے مت دیجیے گا‘ ہم آپ سے بے رخی نہیں برت رہے نہ ہی ہم آپ کو نظر انداز کرسکتے ہیں معاملہ کچھ اور ہے۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں گویا ہوئے۔ جنت بی بی نے ان کی طرف بغور دیکھا اور سر ہلادیا۔ پھر اپنا ہاتھ ان کے مضبوط ہاتھ سے چھڑا کر آگے بڑھ گئیں۔ وقار انہیں جاتا دیکھتے رہے۔
’’یہ کیا ہوا؟‘‘ کبھی اس طرح تو انہوں نے جنت بی بی کو نظر انداز نہ کیا تھا۔
وہ تو محبت کرتے تھے ان سے پھر وہ محبت اس لمحے کیا ہوئی؟ وہ سمجھ نہیں پائے مگر فقط اتنا معلوم تھا کہ دل بہت بوجھل اور دماغ بہت الجھا ہوا ہے۔
/…ء…/
رجت سنگھ کا دل جیسے نامعلوم بے چینی سے بندھا اڑے جارہا تھا اس نے گہری سانس لی اور پانی کا گلاس غٹا غٹ پی لیا مگر اندر جیسے کوئی آتش سا بھڑک اٹھا تھا‘ ایک الائو جیسے سارے وجود کو گھیرنے لگا تھا‘ وہ چہرہ لمحہ بھر کو نگاہ میں آتا اور رجت سنگھ کی جان پر جیسے قیامت گزر جاتی اور وہ بے دم سا چارپائی پر گرا۔
عشق سے پوچھا کون ہو؟
جواب آیا خلل ہوں شاید
چلتے چلتے آگیا ہوں بس
چلتے چلتے گزر بھی جائوں گا
اگر جو ٹھہر گیا وقت کی مانند
ہزار چاہو گے گزر نہ پائوں گا
رجت سنگھ کے لب ہولے سے ہلے‘ کیسی پیاس تھی ان لبوں پر دریا سے بھی سراب نہ ہوتی یہ کیسی بنی تھی جان پر؟
’’رجت سنگھ…‘‘ وہ آنکھیں بند کیے بے دم سا کھڑا تھا۔ جب کرم دین نے پکارا۔ رجت سنگھ نے فوری کوئی جواب نہیں دیا۔
’’رجت کیا ہوا… طبیعت ٹھیک ہے تیری؟‘‘ کرم دین نے قریب آکر شانے سے تھام کر ہلایا تو وہ آنکھیں کھول کر یک دم اٹھ بیٹھا۔
’’ٹھیک ہوں چاچا… آپ بتائیے کوئی کام تھا؟‘‘ رجت سنگھ نے جواب دیا۔ کرم دین نے اسے بغور دیکھ۔
’’مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ حویلی سے پیغام آیا تھا میں ایک ضروری کام سے جارہا ہوں سوچا تمہیں سمجھا دوں مگر… خیر… میں ہی حویلی چلا جاتا ہوں۔‘‘ کرم دین چاچا نے کہا۔ رجت سنگھ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
’’آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں چاچا‘ میں چلا جاتا ہوں۔‘‘ کہتے ہی اس نے چاچا کے ہاتھ سے دستاویز کا لفافہ لیا اور حویلی کی طرف چل پڑا۔ کرم دین چاچا نے اسے بغور دیکھا۔
/…ء…/
دلشاد نے ہمدردی سے خاموش بیٹھی فاطمہ بی بی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’زندگی کی مشکلات کے سامنے ہمت ہارنا بزدلی ہے فاطمہ‘ تم ایک باہمت لڑکی ہو‘ جب کوئی برا وقت پڑتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی سبق سکھا کر جاتا ہے۔ ایسا اماں بی کہتی ہیں۔‘‘ دلشاد نے اسے سمجھایا۔ فاطمہ نے سر ہلایا۔
’’ٹھیک کہتی ہیں تمہاری اماں بی‘ میں متفق ہوں‘ یہ وقت سبق سکھانے کو آتا ہے اور ہم نے اپنا سبق سیکھ بھی لیا۔‘‘ سیاہ ملبوس میں اس کی سفید دودھیا رنگ و روپ کچھ اور نکھر کر سامنے آرہا تھا‘ دلشاد نے دل ہی دل میں اس کی بلائیں لیں۔
’’فاطمہ تیری بے پناہ خوب صورتی اور دلکشی تیری دشمن بنی خود کو آئینہ میں نہ دیکھا کر۔‘‘ دلشاد نے معصومیت سے کہا تو فاطمہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’کیا کریں اس رنگ و روپ کا دلشاد؟ آگ لگادیں‘ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا… یہ رنگ و روپ بدنامی کا باعث بنا‘ کیا فائدہ ایسے حسن کا؟‘‘ فاطمہ بہت دلگرفتہ سی لگ رہی تھی۔
رجت سنگھ جو حویلی میں داخل ہوا تھا۔ آنگن میں بیٹھی فاطمہ کو دیکھ کر وہیں رک گیا‘ قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے تھے‘ دلشاد نے چونکتے ہوئے رجت سنگھ کی طرف دیکھا۔
’’کون ہو تم… ایسے منہ اٹھا کر حویلی میں کیوں گھسے چلے آرہے ہوں؟‘‘ دلشاد کے کہنے پر فاطمہ بی بی نے بھی چونک کر اس طرف نگاہ کی۔ نگاہ لمحہ بھر کو اس اجنبی سے ملی تھی‘ رجت ساکت کھڑا تھا۔
’’میں رجت سنگھ ہوں۔ اماں جان کو ضروری دستاویزات دینے آیا تھا۔‘‘ رجت سنگھ نے پُراعتماد لہجہ میں کہا۔
فاطمہ بی بی نے منہ سیاہ آنچل سے چھپالیا اور دلشاد کا ہاتھ تھام کر حویلی کے اندر کی جانب بڑھ گئی۔ رجت سنگھ ساکت کھڑا جیسے کسی غیر مرئی طاقت کے زیر اثر رہا تھا۔
عشق سے پوچھا کون ہو؟
جواب آیا خلل ہوں شاید
چلتے چلتے آگیا ہوں بس
چلتے چلتے گزر بھی جائوں گا
اگر جو ٹھہر گیا وقت کی مانند
ہزار چاہو گے گزر نہ پائوں گا
منجمد قدموں میں جنبش ہوئی اور وہ آگے بڑھنے لگا اور تب ہی ایک ملازمہ اس کے سامنے آن رکی اور ہاتھ کے اشارے سے اماں جان کے کمرے کی طرف اشارہ کیا‘ رجت سنگھ بے دم قدموں کے ساتھ اماں جان کے کمرے کی سمت بڑھ گیا تھا۔
/…ء…/
’’خیر یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی آپ کی اماں جان ایسی گھاگ خاتون عجب کھیل کھیل رہی ہیں۔ ہماری صلاح ہے ان کی باتوں میں نہ ہی آئیں تو بہتر ہے ایسا نہ ہو ہم یہاں رخت سفر باندھنے بیٹھے ہیں اور وہ وہاں فاطمہ بی بی کا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ تھما دیں۔‘‘ بیگم توقیر نے خاوند کو گھورا اور کھلے ہوئے صندوق میں کمخواب کا غرارہ بے دلی سے رکھ دیا۔
’’ہمیں یقین ہے آپ کی اماں ہمارے ارمانوں پر شب خون مارنے چلی ہیں‘ کسی کی خوشی وہ نہیں دیکھ سکتیں‘ ان سے زیادہ توقعات رکھنا بے وقوفی ہوگی‘ کم از کم ہم تو ان پر اعتبار نہیں کرسکتے۔‘‘ بیگم توقیر جانے کیوں کچھ مضطرب سی دکھائی دیں۔ توقیر صاحب نے بیگم کو اطمینان سے دیکھا۔
’’بیگم آپ دماغ کے گھوڑے دوڑانا بند کیجئے خاموشی سے صندوقچے میں ملبوس رکھیں اماں جان نے بلوایا ہے سو جانا تو پڑے گا اللہ اللہ کرکے ان کی طرف سے یہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے اس سے قبل کہ وہ دوبارہ انکار کردیں‘ سامان باندھیں اماں جان ہماری ہیں ہم بھی ان کے مزاج سے خوب واقف ہیں۔‘‘ توقیر صاحب نے مسکراتے ہوئے بیگم سے کہا تو بیگم توقیر منہ پھیر کر کچھ بڑبڑانے لگیں پھر جانے کیا سوچا اور اٹھ کر الماری سے ملبوسات نکال کر صندوقچے میں رکھنے لگیں۔
’’صرف آپ کے کہنے پر جارہے ہیں توقیر صاحب آپ کی اماں جان کی کڑوی کسیلی ہضم نہیں کریں گے ابھی سے کہہ دیتے ہیں‘ بیٹے والے ہیں ہمیں رشتوں کی کمی نہیں اگر آپ کی اماں جان سمجھتی ہیں کہ ہمیں جھکالیں گی تو ان کی سوچ غلط ہے۔‘‘ بیگم نے جتایا تو توقیر صاحب نے سر ہلادیا۔
/…ء…/
نواب صاحب نے ٹہلتے ہوئے مڑ کر چھوٹے نواب کو دیکھا۔
’’محترم چھوٹے نواب ہم مصلحت سے کام لینے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں مگر اماں جان کے دماغ کو پڑھ پانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں‘ ان کے قول و فعل میں تضاد بہت واضح ہے ان کا اگلا قدم کیا ہوگا یہ بات ہم ہی کیا کوئی بھی نہیں جان سکتا۔‘‘ نواب صاحب متفکر دکھائی دے رہے تھے۔
’’اماں جان کے مزاج سے کچھ واقفیت ہمیں بھی ہونے لگی ہے ابا حضور‘ ہم فاطمہ بی بی کے لیے پریشان ہیں اگر اس معاملے میں فاطمہ بی بی اس طرح جکڑی نہ ہوتیں تو ہم اس معاملے سے کوئی سروکار نہ رکھتے۔‘‘ وقار مدھم لہجے میں بولے تو نواب صاحب نے سر ہلایا۔
’’ہم بھی اس معاملے کا کوئی مناسب حل اس لیے چاہتے ہیں کہ آپ کے باعث کسی کی زندگی دائو پر لگی ہوئی ہے۔‘‘ نواب صاحب اگرچہ بیٹے کو الزام دینا نہیں چاہتے تھے مگر وہ بولے بنا نہیں رہ سکے۔ وقار سر جھکا گئے۔ ان کے چہرے پر شرمندگی کے واضح تاثرات دیکھے جاسکتے تھے۔
’’ہم شرمندہ ہیں ابا حضور مگر ہم نہیں جانتے اب اگر فاطمہ بی بی کو اس مشکل سے باہر نکالیں تو کیسے؟‘‘ وہ متفکر دکھائی دے رہے تھے۔ تب ہی فون کی گھنٹی بجی۔ نواب صاحب اٹھ کر فون کی طرف بڑھے۔ چھوٹے نواب افسردہ سے سر جھکائے بیٹھے رہے۔ تب ہی ان کا دھیان جنت بی بی کی طرف گیا‘ فاطمہ بی بی کے معاملے میں الجھ کر وہ جنت بی بی کو یکسر فراموش کر بیٹھے تھے۔ وقار نے ابا کی طرف دیکھا ان کے قریبی دوست انوار فون کے دوسری طرف تھے اور ابا حضور ان سے گپ شپ میں محو ہوچکے تھے۔ تب ہی وقار کی سوچ کے دھارے بھی فاطمہ بی بی سے ہٹ کر جنت بی بی کی سمت نکل گئے تھے۔ جنت کی آواز سماعتوں میں پڑی تو ربط دل سے جڑنے لگا تھا۔
’’ہمیں یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں چھوٹے نواب کہ ہم آپ کے ساتھ محبت میں مبتلا ہیں اور آپ اگرچہ کہنے کے عادی نہیں مگر ہم آپ کی نگاہوں میں اس محبت کو صاف دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں‘ محبت ایسی ہی ہوتی ہے ناں جو خاموشی میں بولتی ہے اور بنا ظاہر ہوئے اپنا وجود منواتی ہے؟‘‘ جنت بی بی اس کی سمت دیکھتی ہوئی بولی اور وقار مسکرا دیئے تھے۔
’’انگلستان کی تعلیم نے آپ کو فلسفہ بھی سکھا دیا ہے جنت بی بی‘ آپ کی آنکھیں بھی فلسفہ کہتی ہیں۔‘‘ وہ مسکرائے تو جنت بی بی جھینپ کر رہ گئی۔
’’ہم تذکرہ بھی کرتے ہیں تو آپ کو گراں گزرتا ہے‘ عشق کے باب کو اٹھا کر جھٹ سے بند کردیتے ہیں‘ جیسے یہ کوئی ذکر ممنوع ہو۔‘‘ جنت بی بی نے مسکراتے ہوئے کہا تو وقار ہنس دیئے تھے۔
’’عشق کی ایسی تعریف نہ سنی نہ دیکھی جنت بی بی‘ آپ اپنے وصف کی انوکھی شخصیت ہیں۔‘‘ وقار کی آنکھوں میں شرارت تھی اور جنت نے لب بھینچ لیے تھے۔ ان آنکھوں میں غصہ واضح دکھائی دیا تھا۔ وقار مسکرا دیئے تھے۔
’’حسن خفگی کا لبادہ اوڑھے تو اور دلکش ہوجاتا ہے‘ شاید ایسا ہی آپ نے عشق کے باب میں پڑھ رکھا ہوگا۔‘‘ وقار نے چھیڑا تو جنت نے انہیں گھورا۔
’’آپ کو ہم سے عشق نہیں نا سہی مگر آپ کو اس جذبے کا مذاق اڑانے کا بھی کوئی حق نہیں۔‘‘ وہ منہ پھلا کر بولیں۔ وقار نے ان کا چہرہ بغور دیکھا تھا۔ گہری نظریں جیسے اس چہرے کو سطر سطر پڑھنے لگی تھیں۔ جنت نے پہلے چہرہ پھیرا پھر یک دم جانے کو اٹھی تھی جب وقار نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور ان کے سامنے آن رکے تھے۔ کچھ لمحے خاموشی سے ان کے چہرے کو دیکھا‘ جنت بی بی کے اندر جیسے ہمت نہیں تھی کہ وہ ان نگاہوں کا سامنا کرتیں‘ ان نگاہوں کی گرمئ شوق سے وہ چہرہ تپنے لگا تھا۔
سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا
مگر تم تو بلا نکلے‘ غضب نکلے‘ ستم نکلے
وقار مسکرائے تھے۔ اس چہرے پر رنگوں کی محفل سی جم گئی تھی‘ اس میلے میں کتنے رنگ تھے‘ جنت نے گھبرا کر ہاتھ چھڑایا تھا مگر چھوٹے نواب نے ان کی کلائی پر گرفت مضبوط کردی تھی۔
’’نگہ یار نے کی خانہ خرابی ایسی
نہ ٹھکانہ ہے جگر کا نہ ٹھکانا دل کا
حور کی شکل ہو تم نور کی پتلی ہو تم
اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
ان کے لمس سے جیسے جنت بی بی کو اپنی کلائی جلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک جھٹکے سے کلائی چھڑائی اور بھاگتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئیں‘ چھوٹے نواب مسکرا دیئے تھے۔ خیال لمحہ بھر کو ٹوٹا تھا۔ وقار نے دیکھا ابا حضور فون رکھ کر ان کی طرف آرہے تھے اور بیٹھتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’انوار بات کررہے تھے۔‘‘ انہوں نے جیسے کوئی ذکر کرنے سے خود کو دانستہ باز رکھا۔ چھوٹے نواب نے انہیں بغور دیکھا۔
’’خیریت ابا حضور… انوار چچا ٹھیک تو ہیں؟‘‘ چھوٹے نواب کو فکر ہوئی۔
’’انوار بہتر ہیں اب مگر…‘‘
’’مگر کیا؟‘‘ وقار چونکے۔
’’مگر کچھ حساس ہوگئے ہیں اللہ انہیں طویل عمری دے‘ بیماری سے دل کچھ اور حساس ہوگیا ہے۔ وہ جنت کا تذکرہ کررہے تھے تو ان کی آواز بھرا گئی تھی۔‘‘ ابا حضور نے جبت بی بی کا ذکر کیا تو وقار چونکے۔
’’انوار چچا کی طبیعت کی ناسازی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ایسی معمولی بیماری تو جسم کا صدقہ ہوتی ہے۔‘‘ وقار نے کہا۔
زمان الحق نے سر ہلاکر تائید کی مگر ان کی پیشانی پر دکھائی دیتی واضح لکیریں کسی پریشانی کا پتہ دے رہی تھیں۔ وقار جان نہ پائے کہ انوار چچا نے ایسا کیا کہا کہ نواب صاحب پریشانی میں گھر گئے ہیں۔
’’کیا معاملہ ہے ابا حضور‘ آپ پریشان اور الجھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں‘ ایسا کیا ذکر کردیا انوار چچا نے؟‘‘ وقار نے دریافت کیا تو نواب صاحب سر جھکا گئے اور مدھم لہجے میں بولے۔
’’ان کی خواہش ہے جنت بی بی کی نسبت انوار صاحب کی زندگی میں ہی آپ کے ساتھ طے ہوجائے مگر…‘‘ ابا حضور کچھ کہتے ہوئے رکے تو وقار نے ان کی سمت جانچتی نظروں سے دیکھا۔ وہ جان نہیں پائے کہ نواب صاحب کیا سوچ کر اس قدر پریشان ہیں مگر وہ اتنا جانتے تھے کہ معاملہ یقینا سنگین ہے۔
’’اگر آپ ایسا نہیں چاہتے تو آپ سہولت سے منع کرسکتے ہیں‘ انور چچا پڑھے لکھے انسان ہیں وہ اس معاملے کی نوعیت کو ضرور سمجھیں گے۔‘‘ وقار نے ان کی الجھن کے پیش نظر کہا تو نواب صاحب نے سر ہلایا۔
سو جنت کے خواب مسمار ہونے کو تھے۔ ابا حضور اگر اس نہج پر کوئی اور سوچ رکھتے تھے تو وہ تنہا جنت کے خوابوں کی زمین پر ان کا ہاتھ تھام کر آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ جہاں تک وہ جانتے تھے ابا حضور اور انوار چچا کی ایسی خواہش نئی نہیں تھی۔ وہ جنت اور ان کے بچپن سے چاہتے تھے کہ ان کا نکاح ہو۔ اب جب انوار چچا نے اس خواہش کا باقاعدہ اظہار کیا تھا تو ابا حضور اس طرح پریشان ہو اٹھے تھے۔ وہ سمجھ نہیں پائے مگر ان کا دماغ اس معاملے میں خاصا الجھ گیا تھا۔
/…ء…/
رجت سنگھ خاموش سا بیٹھا تھا جب کرم دین چاچا نے اس کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا۔
’’کیا ہوا میاں… ایسے بیٹھے کیا سوچ رہے ہو؟ کئی دن سے دیکھ رہا ہوں میں تم کچھ الجھے ہوئے سے ہو سب ٹھیک ہے ناں؟ گھر کا کوئی الجھائو تو نہیں جو تمہاری سوچوں کو منتشر کررہا ہے؟‘‘ کرم دین چاچا نے پوچھا۔ رجت سنگھ نے چونکتے ہوئے ان کی سمت دیکھا پھر سر نفی میں ہلادیا۔
’’ایسی بات نہیں چاچا‘ بس یونہی کئی باتیں ذہن میں تھیں۔‘‘ اس نے انہیں ٹالنا چاہا۔ کرم دین چاچا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’ایسی کون سی سوچیں ہیں بیٹا؟ تم پڑھے لکھے ہو ماشاء اللہ کسی قدر عقل مند بھی ہو‘ جب ایسی دانشمندی ہو تو پھر کون سا معاملہ معمہ رہ سکتا ہے؟‘‘ کرم دین چاچا نے اس کی اقبال مندی کو جیسے تسلیم کیا تب وہ بھی مسکرادیا۔
’’چاچا کرم دین کئی معاملے ہوتے ہیں جو ذہن کے تاریک گوشوں میں چکراتے پھرتے ہیں‘ ایسے معاملات کچے دھاگوں کی ڈور جیسے ہوتے ہیں کمزور اور الجھے ہوئے۔ جس قدر الجھتے ہیں سوچوں کو بھی اسی قدر الجھا دیتے ہیں دانشمندی دھری رہ جاتی ہے اور خرد مندی کام نہیں آتی۔‘‘ رجت سنگھ نے کہا تو کرم دین چاچا نے سر ہلایا۔
’’اب ایسی پڑھی لکھی باتیں تو تم ہی جانو بیٹا ہم تو معمولی سوچ کے بندے ہیں علم ایک حد سے بڑھ نہیں سکا سو ایسی الجھی چیزوں کی اتنی سمجھ تو نہیں مگر بڑے ہونے کے ناطے ایک مشورہ ضرور دے سکتا ہوں۔‘‘ کرم دین چاچا نے کہا تو رجت سنگھ مسکرادیا۔
’’آپ عقل و خرد میں یقینا مجھ سے کہیں زیادہ بڑے ہیں چچا جان… میں ان درسگاہوں کی سندوں کو اہم نہیں جانتا… دماغ‘ ان چار دیواریوں میں بھی نہیں کھلتا کئی بھید ان سندوں کے بنا حل ہوتے ہیں‘ بس دماغ کے اس تاریک گوشے میں روشنی کا داخل ہونا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ رجت سنگھ نے کہا تو کرم دین نے سر ہلایا۔
’’بات تو درست کہی‘ خیر ایسی کیا الجھن ہے جو تمہیں پریشان کررہی ہے؟‘‘
’’روشنی کا سفر…‘‘ رجت سنگھ آہستگی سے گویا ہوا۔
’’روشنی کا سفر… کیا مطلب؟‘‘ کرم دین چاچا حیران ہوا۔
’’میں تاریکی میں کھڑا ہوں‘ چاچا کرم دین… اجالے میں آکر دیکھنے کا متلاشی ہوں کہ روشنی کیسے ہوتی ہے اور میں روشنی کے اس وجود کو چھونا چاہتا ہوں جو دل و دماغ کے تاریک گوشوں سے اندھیرے کو فنا کرتی ہے۔‘‘ رجت سنگھ نے کہا تو کرم دین چاچا نے اسے حیرت سے دیکھا۔
/…ء…/
’’ہم سہگل کے نظریۂ جمالیات کو ایک مختلف علم قرار دیتے ہیں کیونکہ جمالیات کے قدیم معنی جو متعین کیے گئے تھے اس کی رو سے علم جمالیات وہ علم ہے جو حسن و جمال اور رفعت کی ہئیت سے متعلق مجرد تصورات پر بحث کرتا تھا مگر جدید فلسفہ کے نزدیک جمالیات وہ سائنس ہے جو تخلیق تجربہ‘ تجربہ حسن اور نقدو نظر کی قدروں اور معیاروں سے بحث کرتا ہے اور نوعیت اور عمل کے اعتبار سے منطق اور نفسیات سے مختلف ہے‘ یہ اصطلاح سہگل کی متعین کی ہوئی ہے۔‘‘ چھوٹے نواب کی آواز ابھری تو پردے کے دوسری طرف فاطمہ نے الجھے ہوئے ذہن سے ان لفظوں کو سمجھنا چاہا۔
’’آپ کے نزدیک سہگل نے ایک جدید اصطلاح پیش کی مگر ارسطو کی منطق ایک قدم سائنسی علم ہے جس میں کسی بھی لفظ کی تعریف اور استدلال یا استدراج کے طریقہ کار اور اصولوں پر بحث کی جاسکتی ہے ان علوم میں آپ شاید وجہ تسمیہ کو نظرا نداز کررہے ہیں۔ منطق کو جاننے والا اشیاء کے حقائق یعنی ان کی اجناس اور حصول سے واقفیت رکھتا ہے۔‘‘ فاطمہ بی بی نے کہا تو چھوٹے نواب وقار خاموش ہوگئے۔
’’ہم اس معاملے میں فی الحال کوئی روشنی نہیں ڈال سکیں گے فاطمہ‘ ہمارا ذہن اس لمحے کسی قدر الجھا ہوا ہے‘ بہرحال آج ہم فلسفہ کو یہیں روک دیتے ہیں کل ہم علم سیاسیات کے ابواب پر روشنی ڈالیں گے۔‘‘ وقار کسی قدر الجھے دکھائی دئے تھے فاطمہ نے مزید کچھ نہیں کہا۔
’’آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں فاطمہ بی بی؟‘‘ نوابزادہ وقارالحق نے دریافت کیا۔
’’ہمارے پاس مزید کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘‘ فاطمہ بی بی نے مدھم لہجے میں کہا۔ چھوٹے نواب نے لمحہ بھر کو خاموشی اختیار کیے رکھی پھر مدھم لہجے میں گویا ہوئے۔
’’فاطمہ بی بی‘ ہم شرمندہ ہیں اور واقعی تہہ دل سے شرمسار ہیں‘ ہم تاج بیگم سے بات کرنا چاہتے ہیں مگر شاید ایسا ممکن نہیں ہے۔‘‘ چھوٹے نواب نے کہا‘ فاطمہ نے تب فوراً لب کھولے۔
’’آپ تاج بیگم سے کوئی بات نہیں کریں گے۔‘‘
’’مگر کیوں؟‘‘ وقار الجھے۔
’’کیونکہ ہم نہیں چاہتے اور غالباً دادی جان بھی ایسا نہیں چاہیں گی‘ چھوٹے نواب وضاحتیں اور دلیلیں بے معنی ہوجاتی ہیں‘ جب وقت آپ کے خلاف چلتا ہے‘ ہم وقت کی حمایت نہیں چاہتے نا آپ کی حمایت کی توقع رکھتے ہیں‘ ہم جس سفر میں ہیں اس میں کسی اور پر کچھ واجب نہیں سمجھتے۔‘‘ فاطمہ بی بی نے کہا تو نوابزادہ خاموش ہوگئے اور خاموشی سے حویلی کے اس احاطے سے باہر نکل گئے‘ فاطمہ نے ان کے جوتوں کی آواز دہلیز کی سمت بڑھتی سنی اور خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی سمت بڑھ گئیں۔
/…ء…/
حویلی کا دروازہ کھلا اور توقیر میاں نے بمعہ بیگم اندر قدم رکھا‘ حویلی کی شان و شوکت دیکھ کر بیگم توقیر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
’’آپ کی اماں بیگم تو بہت ٹھاٹھ باٹھ سے رہ رہی ہیں‘ آپ نے تو کبھی حویلی کا رخ بھی نہ کرنے دیا ہمیں خبر ہوتی کہ ایسا ماحول ہے تو ہم کیا وہاں لکھنو میں پڑے رہتے؟‘‘ بہو بیگم نے ساس کی آرام و عشرت کی زندگی پر رشک کیا۔ نوکروں کی ایک فوج گھر کے اندر متحرک تھی‘ ایک ملازمہ بہت احترام کے ساتھ انہیں حویلی کے اندر لے گئی اور انہیں ان کی عارضی قیام گاہ میں چھوڑ دیا۔ بہو بیگم نے ایک ایک شے کو حسرت سے چھو کر دیکھا تھا۔
’’ایسے تیکھے مزاج کیوں نہ ہوں گے جب ایسا آرام و سکون ملے گا۔‘‘ بیگم توقیر مسکرائیں۔
’’اماں جان کو کیا کسی چغد کو بھی سیاست کرنا آجائے گی جب ایسا اختیار ہاتھ لگے گا۔ ہم تو اماں جان کے گرویدہ ہوگئے اب آئے ہیں تو کئی گر تو سیکھ کر ہی جائیں گے‘ دیر آید درست آید…‘‘ وہ بولتے ہوئے پلٹیں جب سخاوت بیگم کو سامنے دیکھ کر چونکیں‘ پھر دکھاوے کی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر آگے بڑھیں اور سخاوت بیگم کو گلے لگایا۔ ’’آداب بھابی جان۔‘‘
’’تسلیمات… کہیے کیسے مزاج ہیں آپ کے‘ سفر تو آرام سے طے ہوا ناں؟ توقیر بھائی صاحب دکھائی نہیں دے رہے؟‘‘ سخاوت بیگم نے نرمی سے مسکراتے ہوئے احوال پوچھا تو جواباً توقیر بیگم مسکرادیں۔
’’آپ کے دیور صاحب کو سفر کی تھکان زیادہ ہوگئی تھی۔ آتے ہی نہانے چلے گئے اور سفر کا کیا پوچھتی ہیں موئے ڈرائیور نے موٹر کار نکالتے ہوئے ایک بار نہ سوچا اور رستے بھر میں لگ بھگ تین بار موٹر کار خراب ہوکر رکی توقیر میاں سے کئی بار کہا کہ موٹر کار بدل دیں مگر ان کی جوانی کی کئی یادیں وابستہ ہیں سو مجال ہے جو کان پر جوں رینگے… وہی موٹر کار سنبھال کر رکھنا ہے انہیں خیر… جیسے تیسے دلی پہنچ ہی گئے۔ آپ کے لیے لکھنؤ کی کئی سوغاتیں لائے ہیں۔ سامان موا ابھی بھی موٹر کار میں پڑا ہے‘ اماں جان دکھائی نہیں دے رہیں؟‘‘ بیگم توقیر نے ساس کی بابت پوچھا۔
’’اماں جان‘ کسی قدر مصروف ہیں۔ فارغ ہوتی ہیں تو آپ کی آمد کے متعلق اطلاع دیتی ہوں‘ تب تک آپ تروتازہ ہوجائیں میں ملازم سے کہہ کر ناشتے کا بندوست کروا دیتی ہوں۔‘‘ سخاوت بیگم کہہ کر واپس پلٹ گئیں۔ بیگم توقیر نے ان کی سمت دیکھا۔
’’بھاوج بیگم بھی خاصی گھاگ ہیں۔ ساس کے ہمراہ رہتی ہیں ساس کا اثر ہونا تو لازم ہے کچھ پٹی تو پڑھاتی ہوں گی اور وہ مثل تو سن ہی رکھی ہے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ بدلتا ہے۔ اب اماں جان کا رنگ بھاوج بیگم کو زیادہ چڑھا ہے اور بھاوج بیگم کا رنگ اماں جان پر… اس کی خبر بھی اب ہوجائے گی۔‘‘ بیگم توقیر نے مسکراتے ہوئے حالات کا بھرپور جائزہ لیا اور بھرپور حظ اٹھایا۔
/…ء…/
ملازمہ عجلت سے فاطمہ کے کمرے میں داخل ہوئی اور اطلاع دی۔
’’منجھلی بہو اور آپ کے چچا صاحب آگئے ہیں سنا ہے رشتے کی غرض سے معاملات کو عملی جامہ پہنانے آئے ہیں۔ سوچا آپ کو اطلاع دے دوں۔‘‘ وہ پہلے ہی اماں جان کے عتاب کا شکار تھیں۔ ساکت سی رہ گئیں۔ ان کا حال ایسا ہوا جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ سخاوت بیگم جو کسی کام سے وہاں آئیں فاطمہ کو بت بنا دیکھ کر قریب آگئی اور فاطمہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا‘ فاطمہ فوری طور پر کوئی ردعمل نہ دے سکیں۔
’’آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا فاطمہ بچے اٹھو منہ ہاتھ دھولو میں ناشتہ بنا دیتی ہوں آپ کی چچی اور چچا بھی آئے ہیں لکھنو سے‘ ناشتے کے بعد ان سے بھی مل لینا۔‘‘ سخاوت بیگم نے نرمی سے کہا۔ فاطمہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے ایک سمت دیکھتی رہی‘ سخاوت نے ماتھا چوما‘ فاطمہ بی بی کی پتھرائی آنکھوں سے نمی ٹوٹ کر قطروں کی صورت آنکھوں کے کناروں سے بہنے لگی۔ سخاوت بیگم ماں تھیں‘ بیٹی کے دکھ کو جانتی تھیں تب ہی مدھم لہجے میں بولیں۔
’’بیٹا‘ وقت کی لگام ہاتھ میں لینا ممکن نہیں ہوتا سو اس متعلق سوچنا بے سود ہے کیا ہوا ہے‘ کیا ہوگا… کیا ہونے والا ہے بندے کو اس فکر و سوچ سے ہٹ کر جینا چاہیے۔ زندگی کا سفر آسان ہوجاتا ہے۔‘‘ سخاوت بیگم نے سمجھایا۔
’’امی جان‘ ہم نے ایسی کوئی خواہش کبھی نہیں کی جس کا ہونا ممکن نہ ہو‘ ہم جانتے ہیں زندگی میں سب ممکن نہیں ہوتا اور سب پالینا آسان نہیں‘ ہم نے خواہشوں کا تعاقب کبھی نہیں کیا مگر ہم اس سیاہ رات کے ختم ہونے کے منتظر ہیں جو ہماری زندگی اور قسمت پر محیط ہوگئی ہے۔‘‘ فاطمہ مدھم لہجے میں بولیں۔ سخاوت بیگم نے بیٹی کی آنکھوں کی نمی کو پونچھا۔
’’رات کی تاریکی طویل ہوسکتی ہے مگر اس کی سیاہی ایسی طاقتور نہیں کہ میری فاطمہ کے نصیب کو گہنا سکے‘ میری بچی تیری قسمت اجلے آسمان کا وہ چاند ہے جس پر بادلوں کی سیاہی اثر انداز نہیں ہوسکتی۔‘‘ سخاوت بیگم کا لہجہ مدھم مگر اعتماد لیے ہوئے تھا۔ فاطمہ ان کی سمت دیکھتی ہوئی تھکے سے انداز میں مسکرائیں۔
’’چاند کو بادلوں کی سیاہی نہیں گہناتی امی جان… نہ یہ سیاہی رات کی تاریکی سے آتی ہے‘ یہ وہ سیاہی ہے جو چاند کے نصیب میں درج ہوتی ہے اپنے حصے کی اس سیاہی کو چاند کو گہنا کر بسر کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ فاطمہ نے کہا۔
’’مگر وہ سیاہی چاند کے چہرے پر براہ راست نہیں آتی فاطمہ… وہ محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔‘‘ سخاوت بیگم نے جتایا۔
’’کون جانے… نظر کا دھوکہ ہے کہ نہیں‘ دکھائی دینے والوں کو چاند گہنایا دکھائی دیتا ہے‘ دیکھنے والی نگاہ چاند کے چہرے پر لگی سیاہی صاف دیکھتی ہے۔‘‘ فاطمہ کا لہجہ یاسیت لیے ہوئے تھا۔ سخاوت بیگم نے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کو پونچھا اور پیشانی پر بوسہ دیا۔
’’دنیا کے دیکھنے کا زاویہ غلط ہے اور محض زاویہ کسی سچائی کو نہیں بدل سکتا‘ میری فاطمہ کے بخت روشن ہیں اور یہ روشنی ہر سیاہی کو اجالے میں بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے‘ مایوسی کفر ہے بچی‘ میں اپنی فاطمہ کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتی۔ ان درختوں پر غور کرو جو طوفانوں کے دہانے پر ہوتے ہیں‘ وہ لمحہ بھر کو جھکتے ضرور ہیں مگر طوفان کے تھمتے ہی پھر سر اٹھا کر اسی مضبوطی سے کھڑے ہوجاتے ہیں‘ میں اپنی بچی کو ایسے ہی مضبوط تناور درخت کی مانند دیکھنے کی خواہاں ہوں۔‘‘ انہوں نے فاطمہ کا حوصلہ بڑھانے کی بھرپور کوشش کی اور فاطمہ خاموش رہی۔
/…ء…/
’’ملازموں کے ہاتھ کام دینا بھی ایک جان جوکھوں کا کام ہے مگر اپنوں کی بھی کیا بات کریں… باڑ ہی جب کھیت کو کھائے تو رکھوالی کون کرے؟‘‘ اماں نے مسکراتے ہوئے حقے کا بھرپور کش لیا۔ توقیر صاحب مسکرائے۔
’’بھیا کے ہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے اماں جان؟ بھیا جان سب کام اچھے سے سنبھال تو رہے ہیں۔‘‘ توقیر صاحب نے کہا تو بیگم توقیر مسکرائیں۔
’’اماں جان‘ اگر کوئی کچھ کھا بھی لیتا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ کھیت ایسا بھرا ہو تو منہ میں پانی آہی جاتا ہے۔‘‘ ازراہ مذاق کہا گیا جملہ خاصا بھاری پڑا تھا ان کو۔ اماں جان نے انہیں کڑے تیوروں سے دیکھا۔
’’بہو بیگم‘ بات ناظم کی نہیں ہورہی‘ ناظم الدین کا اپنا کمایا بہت ہے‘ اس کی نظر کسی کے مال پر نہیں‘ میرا بچہ خوددار ہے‘ اس نے کبھی مجھ سے کسی شے کی امید رکھی نہ ہاتھ پھیلایا‘ اگرچہ میرا جو ہسب ے انہی کا ہے مگر ناظم الدین کی بابت میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں اسے میرے مال میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘ اماں جان نے بہت واضح الفاظ میں کہا تو توقیر میاں نے بیگم کا منہ کڑوا ہوتے دیکھ کر بات سنبھالی۔
’’جانے دیجیے اماں جان کن باتوں کو لے کر بیٹھ گئیں ہم یہاں جس کام سے آئے تھے کچھ روشنی اس پر بھی ڈال لیں‘ ہماری اماں جان کا دل تو سونے کا ہے کوئی بہتی گنگا میں چونچ بھر بھی لے تو کیا فرق پڑتا ہے‘ بہرحال ناظم بھیا کی مثالی شخصیت ہمارے سامنے ہیں ان کی ایمان داری پر شک کرنا ممکن نہیں۔‘‘ اماں جان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے توقیر صاحب نے انہیں کسی قدر مکھن لگانا ضروری سمجھا۔ تب اماں جان نے انہیں خاموشی سے دیکھا پھر ملازمہ کو اشارہ کرکے حقہ لے جانے کا حکم دیا۔
’’جائو اور نئی چلم تیار کرکے لاؤ۔‘‘ انہوں نے حکم دے کر دوبارہ بیٹے اور بہو کی طرف رخ کیا۔ ’’میاں ہم نے تو اپنی زندگی میں بچوں کو ان کا حصہ دے دیا مگر باڑ ہی جب کھیت کو کھائے تو رکھوالی کون کرے؟ اولاد کو اب بھی ایسے شکوے کرنا ہے تو کرتی رہے۔ ابتر کے گھر تیتر والی مثال تو سن رکھی ہوگی ناں تم نے‘ خیر اگر تم لوگوں کے دل میں پھر بھی کوئی ملال ہے تو ہمارے مرنے کے بعد اس کا بھی ازالہ ہوجائے گا‘ وصیت میں سارے ازالے کردوں گی‘ بچے کچھے ارمان بھی نکل جائیں گے تم لوگوں کے‘ اماں جان کا کبھی احوال پوچھنا تو یاد آیا نہیں اور حصے مانگنے آجاتے ہو‘ تم لوگوں کا تو وہی حساب ہے آپ کھائے بل کو بتائے‘ خود کی فکر سوچتے سوچتے‘ دوسرے کا بھی سوچنے بیٹھ جاتے ہو‘ بھائیوں میں ویسے سلوک نام کو نہیں مگر جائیداد اور بٹوارے کا معاملہ آئے تو زبان دو گز لمبی ہوجاتی ہے۔ اس دور میں اولاد کے ہاتھ سب تھما دینے کا مطلب جانتے ہو جس کے ہاتھ ڈوئی اس کا سب کوئی‘ اگر میں ابھی لکھ کر دے دوں تو تم میں سے کوئی مرتے وقت منہ میں دو بوند پانی بھی نہ ڈالے گا‘ اپنی اولاد کو بہت اچھے سے جانتی ہوں‘ میرے بچے۔‘‘ اماں جان نے خوب لتے لیے۔ توقیر صاحب شرمندہ سے ہوکر سر جھکا گئے تھے۔
’’ہماری اولاد کتنے پانی میں ہے‘ خوب جانتے ہیں ہم‘ گدھا پٹنے سے گھوڑا نہیں ہوتا‘ اسی کوکھ سے جنم دیا ہے جانتے ہیں کون کیا کرسکتا ہے‘ سو بٹوارے کی بات دوبارہ مت اٹھانا جس کام سے آئے ہو‘ چپکے سے اس کا ذکر کرو اور چلتے بنو میاں۔‘‘ اماں جان نے لگے ہاتھوں ساری بات واضح کردی۔ توقیر میاں اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور بیگم کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ اب انہیں خبر ہوئی۔ اماں جان سے دوری اختیار کیے رکھی تو اصل مدعا کیا تھا۔ اماں جان کو جھیلنا آسان نہ تھا۔ جیسا رعب اور دبدبہ ان کے پاس تھا وہ اس کی عادی نہیں تھیں۔ اماں جان کی حاکمانہ طبیعت یقینا کئی سرنگوں دیکھنا چاہتیں تھیں۔ انہوں نے صد شکر کیا کہ وہ لکھنؤ میں تھیں۔
/…ء…/
’’ناظم صاحب اپنے چھوٹے بھائی صاحب کو دیکھ کر خوش ہوئے مگرجس مدعا کی غرض سے وہ تشریف لائے تھے وہ اس پر فی الحال کوئی بات نہیں کرسکے تھے۔
’’آپ کا گھرانہ کیا کسی زمانے میں جلادوں کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا؟‘‘ بیگم توقیر نے تنہائی نصیب آتے ہی دریافت کیا۔ توقیر صاحب جو کسی سوچ میں گم تھے چونکے اور بیگم کی طرف نگاہ کی۔
’’خیر اماں جان تو صد فیصد جلاد لگتی ہیں۔ جانے بڑی بہو بیگم کیسے ان کے ساتھ گزارا کرتی ہوں گی‘ ہم تو ایک دن نہ گزار سکیں۔‘‘ بیگم توقیر نے کہا۔ ان کے کانوں سے ابھی تک جیسے دھواں نکل رہا تھا۔ توقیر صاحب مسکرا دیئے۔
’’آپ کو نکاح کے بعد اماں کے ساتھ آکر رہنا چاہیے تھا‘ مگر ملازمت کے باعث آپ کو لکھنؤ رکنا پڑا۔ خیر اچھا ہی ہوا ورنہ ایک میان میں دو تلواریں کیسے رہتیں؟ رہی بڑی بھابی بیگم کی بات تو وہ بہت سلجھے مزاج کی خاتون ہیں۔ سخاوت بھابی کے مزاج کی تعریف ہر کوئی کرتا ہے۔ وہ پڑھی لکھی خاتون ہیں۔‘‘ توقیر صاحب کو بڑی بھابی کی تعریف کرتے دیکھ کر بیگم نے انہیں گھورا۔
’’اپنی بڑی بھابی بیگم کی تعریفوں کے لیے کیسے شیرنی ٹپک رہی ہے آپ کے لہجے سے‘ ہمارے لیے تو کبھی آپ کو ایسے لفظ نہ ملے؟‘‘ بیگم توقیر نے گھورا تو توقیر صاحب مسکرائے۔
’’آپ کا مقابلہ کوئی کہاں کرسکتا ہے بیگم‘ آپ تو بہترین ہیں‘ ویسے موقع اچھا ہے لگے ہاتھوں آپ بھی بڑی بھابی بیگم سے کچھ سبق لے لیجئے‘ ان کے صبر اور استقامت کا گرویدہ ہر کوئی ہے۔‘‘ توقیر صاحب نے چھیڑا تو بیگم انہیں گھورنے لگیں۔
/…ء…/
ناظم الدین صاحب خاموشی سے بیٹی کے کمرے میں آئے۔ وہ بے خبر سو رہی تھیں۔ وہ خاموشی سے کھڑے فاطمہ کا معصوم چہرہ دیکھتے رہے مگر جانے کیوں ہمت ناپید تھی انہوں نے آگے بڑھ کر سر پر ہاتھ رکھنے کی ہمت خود میں نہیں پائی مگر خاموشی میں آنکھوں سے آنسوؤں کے چند قطروں کی صورت بہہ نکلے تھے۔ سخاوت بیگم نے خاوند کو چپ چاپ دیکھا۔ ناظم الدین صاحب کو کچھ فاصلے پر کھڑی بیگم کی موجودگی کا احساس ہوا تو آنکھوں کی نمی چھپا کر پلٹ کر کھڑے ہوگئے اور مدھم لہجے میں بولے۔
’’ہماری ایک کتاب نہیں مل رہی تھی ہم نے سوچا فاطمہ اٹھا کر مطالعے کی غرض سے اپنے کمرے میں لے آئیں ہوں گی سو ہم یہاں چلے آئے۔‘‘ انہوں نے بنا نظر ملائے فاطمہ کے کمرے میں اپنی موجودگی کا جواز دیا۔ سخاوت بیگم نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ ناظم صاحب کمرے سے نکل گئے۔ سخاوت نے تب سوئی ہوئی فاطمہ کو دیکھا اور آگے بڑھ گئیں۔ ان پر چادر درست کرکے جھک کر ان کی پیشانی پر لب رکھے اور وہاں سے نکل گئیں۔ فاطمہ نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں۔ ابا جان کی خوشبو ان کی شفقت جیسے ابھی بھی اس کمرے میں تھی وہ بے قراری سے اٹھ بیٹھیں۔
’’ابا جان… کیا اب ہم اتنے پرائے ہوگئے ہیں کہ آپ کتابوں کے سہارے ہم سے ملنے آتے ہیں؟ آپ اتنا کچھ تو چھپا گئے‘ مگر اپنی اس شفقت کو کیسے چھپا سکیں گے جو آپ کی آنکھوں سے بہتی ہے؟‘‘ فاطمہ نے افسردگی سے سوچا۔
/…ء…/
چھوٹے نواب خاصے الجھے دکھائی دئے رہے تھے۔ نواب زمان الحق نے غور کیا مگر براہ راست ان سے پوچھا نہیں مگر شاید وہ جو فیصلہ کرچکے تھے‘ اس کا بدلنا ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ نواب صاحب نے واضح طور پر ابھی کوئی جواب انوار صاحب کو نہیں دیا تھا مگر ان کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ اپنے ذہن میں کیا فیصلہ لے چکے ہیں۔ چھوٹے نواب جیسے دانستہ اس متعلق کوئی بات کرنا نہیں چا رہے تھے۔
’’آپ کے ابا حضور سے بات ہوئی تھی ابا جان کی۔‘‘ جنت بی بی نے تو دانستہ ذکر چھیڑا۔ چھوٹے نواب خاموشی سادھے ہوئے دھیان پھیر گئے۔ جنت بی بی نے ان کا چہرہ بغور دیکھا۔
’’آپ دانستہ انجان بن رہے ہیں یا یہ عمل کوئی خاص معنی پنہاں رکھتا ہے؟‘‘ جنت بی بی نے جیسے جانچنے کی کوشش کی۔ چھوٹے نواب نے سر نفی میں ہلایا۔
’’ہم اس متعلق کچھ نہیں جانتے‘ ابا حضور سے بات نہیں ہوئی‘ بات کس بابت ہوئی ہمارے علم میں یہ بھی نہیں۔‘‘ چھوٹے نواب نے دانستہ لاعلمی ظاہر کی‘ جنت ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
’’چچا جان ان دنوں کچھ زیادہ الجھے دکھائی دیتے ہیں کہیں یہ تمام معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہوکر انہیں زیادہ تو نہیں الجھا رہے؟‘‘ وہ چچا جان کا خیال کرتی ہوئی بولی۔ چھوٹے نواب وقارالحق نے سر نفی میں ہلادیا۔
’’ہم اس متعلق کچھ نہیں جانتے بی بی۔‘‘ ان کی لاعلمی کئی سوال اٹھا رہی تھی۔ جنت بی بی نے انہیں بغور دیکھا۔
’’اگر جانتے ہوتے تو کیا کوئی سدباب ڈھونڈ لیتے؟‘‘ جانے کیوں جنت بی بی نے پوچھا۔ جواباً وقارالحق چپ سادھ گئے۔ جنت کو ان کی خاموشی سے الجھن ہونے لگی تھی تب ہی گویا ہوئیں۔
’’تعلقات جب سوالیہ نشان چھوڑنے لگیں تو یہ لمحہ فکریۂ ہوتا ہے کہ جلد یہ تعلقات سرد خانوں میں بٹ جائیں گے۔‘‘ جنت نے جیسے کوئی نتیجہ اخذ کیا۔ وقار نے خاموشی سے دیکھا۔
’’آپ کی خاموشی بہت سے سوالوں کے جواب دیتی محسوس ہورہی ہے مگر یہ جواب بہت غیر واضح اور الجھے ہوئے ہیں۔‘‘ جنت جیسے اس صورت حال کے باعث بہت الجھ رہی تھی۔
’’آپ کچھ زیادہ سوچ رہی ہیں‘ جنت بی بی۔‘‘ وقارالحق نے کہا۔
’’رشتے سوالیہ نشان بنانے لگیں تو الجھنیں بڑھ جاتی ہیں چھوٹے نواب۔‘‘ وقارالحق کو سمجھ نہیں آیا کہ کیسے انہیں وضاحت دیں مگر وہ واقعی اس معاملے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔
’’بخدا ہم واقعی کچھ نہیں جانتے جنت بی بی اور اگر جانتے ہوتے تو اس طور لاعلمی ظاہر نہ کرتے‘ آپ کچھ زیادہ سوچ رہی ہیں اس قدر تنائو اور الجھائو ٹھیک نہیں‘ ہم ابا حضور سے اس بابت بات کریں گے تب تک آپ اپنے دماغ کو آزاد چھوڑ دیں۔‘‘ وقارالحق نے مشورہ دیا مگر جنت بی بی کے چہرے کی فکریں دور نہیں ہوئی تھیں۔
’’محبت کی ایک خصوصیت ڈر بھی ہے‘ یہ ڈر جان کے گرد ہالہ بناکر وجود کو جکڑے تو ہر شے بے معنی ہوجاتی ہے۔‘‘ جنت جانے کسی خیال کے تحت بولی۔ وقارالحق الجھ کر رہ گئے۔
’’محبت کی خصوصیت میں ڈر کا شمار کرنا درست نہیں‘ جہاں محبت ہو وہاں یقین ہوتا ہے اور ڈر کی گنجائش باقی نہیں رہتی‘ ڈر اس یقین کی واضح نفی کرتا ہے۔‘‘ وقارالحق نے جتایا۔ جنت خاموشی سے سر جھکا گئی۔
’’ہم آپ کو کھونا نہیں چاہتے چھوٹے نواب۔‘‘ مدھم لہجے میں محبت کی بھرپور شدت تھی۔ وقارالحق بے چین ہو اٹھے۔
’’ہماری زندگی آپ کے سامنے ہے جنت بی بی… اس میں کچھ پوشیدہ نہیں‘ جب ہر شے اس قدر واضح ہے تو یہ ڈر باقی نہیں رہنا چاہیے۔‘‘ وقارالحق نے سمجھایا۔ جنت بی بی نے ہولے سے سر نفی میں ہلادیا۔
’’ہم نہیں جانتے چھوٹے نواب مگر ہم اس ڈر سے دامن چھڑا نہیں پارہے جانے کیوں بہت خوف ہے ہمارے اندر… ہم واقعی بہت خوف زدہ ہیں‘ اگرچہ بہت سی چیزیں بہت واضح نہیں مگر پھر بھی یہ خوف دامن سے لپٹ جاتا ہے اور جان کھائے جاتا ہے کہ اگر…‘‘ وہ کہتے ہوئے رک گئیں۔ ان کا جھکا سر وقارالحق نے بغور دیکھا‘ وہ یک دم سر نفی میں ہلاتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’ہم نہیں جانتے کیوں مگر ایک ڈر دامن گیر ہے کہ ہم آپ کو کھو دیں گے اور ایسا شاید اس لیے بھی ہے کہ ہم آپ کو کھونا نہیں چاہتے۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولیں۔ چھوٹے نواب نے ایک گہری سانس خارج کی۔
’’آپ ہم پر یقین نہیں رکھتیں جنت بی بی۔‘‘ چھوٹے نواب کے پوچھنے پر جنت نے خاموشی سے دیکھا‘ پھر اسی طرح خاموشی سے اٹھیں اور کمرے سے نکل گئیں۔ چھوٹے نواب انہیں دیکھتے رہ گئے۔
/…ء…/
اماں جان نواب زمان الحق کو خاموشی سے دیکھتے نرمی سے مسکرائیں۔
’’نواب صاحب‘ زبان تو آپ کو دے دی تھی مگر ہم مشکل میں گھر گئے ہیں اب…‘‘ نواب صاحب چونکے۔
’’کیا فیصلے میں ترمیم کررہی ہیں آپ؟‘‘ نواب صاحب کو جو شک تھا گویا وہی ہونے جارہا تھا۔ وہ عجب بے چین ہوکر اماں جان کی طرف دیکھنے لگے۔ اماں جان مسکرائیں۔
’’خیر ابھی ایسا کچھ نہیں سوچ رہے ہم نواب صاحب مگر منجھلا بیٹا بیگم کو لے کر حویلی میں آن بیٹھا ہے اپنے بیٹے کے لیے فاطمہ کا ہاتھ مانگ رہا ہے‘ اب ہم تو شش و پنج میں پڑگئے ہیں آپ کو بھی انکار ممکن نہیں اور دوسری طرف بیٹے کو بھی خالی ہاتھ لوٹانا مناسب نہ ہوگا۔‘‘ اماں جان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا وہ نہیں جانتے تھے مگر اتنا وہ جانتے تھے کہ کوئی ایسا ہی فیصلہ وہ کر گزریں گی۔ وہ فاطمہ کے ساتھ کچھ برا ہونے دینا نہیں چاہتے تھے‘ تب ہی بنا کوئی تمہید باندھے گویا ہوئے۔
’’چلیے کھل کر بات کرلیتے ہیں اماں جان… ہم فاطمہ کے لیے آگ کے دریا کو بھی پاٹنے کو تیار ہیں‘ آپ کے دماغ میں کچھ ہے تو کھل کر بتادیں ہم ساری جائیدار فاطمہ کے نام کرنے کو تیار ہیں‘ اس کے علاوہ آپ جو مناسب سمجھیں حکم کریں۔‘‘ نواب صاحب کے فیصلہ کن انداز پر اماں جان دنگ سی انہیں دیکھنے لگیں۔
’’نواب صاحب‘ ایسا کوئی معمہ نہیں ہے ہم نے ایسی کوئی شرائط آپ کے سامنے نہیں رکھیں۔‘‘ اماں جان کھسیانی سی ہوکر مسکرائیں‘ نواب صاحب نے پُرسکون انداز میں مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’اماں جان… آپ ہماری والدہ کی طرح ہیں‘ ہم آپ کا بھرپور احترام کرتے ہیں‘ ہم جانتے ہیں آپ شرائط لاگو نہیں کریں گی مگر ہم اپنی خوشی سے ایسا کرنا چاہتے ہیں‘ ہم اپنی خوشی سے جو کرنا چاہیں براہ کرم آپ اس سے منع منت کیجئے ہم لکھنؤ والی حویلی آپ کو تحفتاً سونپنا چاہتے ہیں اور نہر والی زمین بھی‘ آپ اس پر کوئی سوال اٹھائیں گی نا انکار کریں گی ہم میں اور ناظم الدین میں آپ کوئی فرق نہیں رکھتیں تو خاموشی سے ان تحائف کو قبول کیجئے۔‘‘ نواب صاحب جیسے جواز اور حیلے بہانے کا ہر راستہ بند کرنا چاہتے تھے۔ اماں جان نے مسکراتے ہوئے نواب صاحب کو دیکھا۔
’’ضدی بہت ہو میاں مگر کبھی کبھی فیصلوں کے نتائج سے پہلے کا ڈر انسان کو خوف میں مبتلا کرنے کی بجائے خوف سے نکلنے میں بھی مدد گار ہوتا ہے‘ ہم آپ کو خوف میں مبتلا کرنا نہیں چاہتے۔‘‘ اماں جان ان کے اندر کے خوف کو محسوس کرتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’ہم خوف زدہ نہیں اماں جان‘ لیکن ہم فاطمہ بی بی کے معاملے میں قدم واپس موڑنا نہیں چاہتے۔‘‘ نواب صاحب نے حقیقت کو واضح کیا۔ اماں جان خاموشی سے انہیں دیکھنے لگیں‘ نواب صاحب کے انداز میں جو دھونس تھی وہ ڈھکی چھپی نہ تھی۔ گویا نواب صاحب فاطمہ کو ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کا قطعی انداز اماں جان کو چونکا گیا تھا مگر وہ جتائے بنا مسکرائیں۔
’’نواب صاحب‘ اچھے کی امید رکھیے فیصلہ آپ کے حق میں ہوگا‘ اس کا یقین تو ہم نہیں دلاسکتے مگر ہم کوشش کریں گے کہ آپ کو مایوس نہ ہونا پڑے۔‘‘ اماں جان نے فیصلے کو ظاہر کیے بنا جتایا۔ نواب صاحب انہیں دیکھتے رہ گئے۔ انہیں ڈر تھا فاطمہ کی زندگی کسی ایسے ہاتھ نہ چل جائے جو فاطمہ کے لیے مزید آزاری کا سبب بنے مگر وہ اماں جان کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو پا رہے تھے۔ ان کی حاکمانہ طبیعت اس لمحے مصلحت کی پابند تھی اور وہ انتہائی عاجزی سے جھکے ہوئے تھے۔
/…ء…/
’’فاطمہ کے لیے گھر میں پڑھائی کا بندوبست کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ ایک طرف اماں جان ایسی دقیانوس ہیں اور دوسری طرف ایسی آزاد خیالی کا مظاہرہ کررہی ہیں بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘ منجھلی بہو بیگم نے فاطمہ کے گھر میں رہ کر پڑھائی کو جاری رکھنے کے اقدام پر تنقید کی‘ توقیر صاحب نے نگاہ کتاب سے نہیں ہٹائی۔
’’ویسے آپ کے بھیا صاحب سے آپ کی بات نہیں ہوئی کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے ان کے کان میں بات ڈال تو دینا تھی کہ ہم یہاں کس مقصد سے آئے ہیں۔‘‘ بیگم توقیر نے شوہر کو اکسایا۔
’’ارے بیگم ہماری آمد کس باعث ہوئی ہے اس سے سب واقف ہیں یہاں اور رہی بات ناظم الدین بھائی سے بات کرنے کی تو اماں جان سے بڑھ کر کوئی نہیں جو فیصلہ اماں جان نے کیا ہے وہ ناظم بھائی نہیں لے سکتے۔‘‘ توقیر صاحب اماں جان کی اہمیت سے واقف تھے۔ سو گویا ہوئے بیگم توقیر نے خاموشی سے انہیں دیکھا۔
’’یہ نواب صاحب کا کیا چکر ہے؟ بہت چکر لگاتے ہیں اماں جان کے پاس‘ کہیں اماں جان خاموشی میں کوئی اور ہی کھیل تو نہیں کھیل رہیں‘ یہاں ہمیں بلا کر بٹھا لیا اور یہ نہ ہو بالا ہی بالا کوئی اور معاملات طے بھی کر ڈالے ہوں۔‘‘ بیگم توقیر ہر شے پر مکمل نگاہ رکھے ہوئے تھیں۔ توقیر صاحب نے کتاب بند کی اور بیگم کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’بیگم آپ کا دماغ یقینا بہت چلتا ہے مگر فی الحال ہمیں خاموشی سے اماں جان کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا‘ ہم اس معاملے میں نہ دھاوا بول سکتے ہیں نا عجلت پسندی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اماں جان کے مزاج سے واقف ہیں آپ وہ ہمارا سامان اٹھا کر باہر پھینکنے میں بھی کوئی عار نہ جانیں گی۔‘‘ توقیر صاحب نے کہا تو بیگم غصے سے انہیں گھورنے لگیں۔
/…ء…/
اماں جان نے جانے کیا فیصلہ لینا تھا مگر ناظم الدین صاحب نے اپنے طور پر ریحان میاں کے متعلق چھان بین کرلی تھی اور ریحان میاں کا کردار ان پر واضح ہوگیا تھا تو انہوں نے مدعا اماں جان کے سامنے رکھ دیا۔
’’ہم فاطمہ کا نکاح ایسے کسی نوجوان سے نہیں کرسکتے اماں جان… مانتے ہیں ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں مگر ہم ایسا کوئی فیصلہ لے کر فاطمہ کو کنویں میں نہیں دھکیل سکتے‘ ریحان میاں فاطمہ کے قابل نہیں… ہم نے اپنے طور پر چھان بین کرلی ہے۔‘‘ اماں جان حیران سی صاحبزادے کو دیکھتی رہیں۔ جو بات وہ جان بوجھ کر بیٹے سے مخفی رکھنا چاہتی تھیں وہ کھل کر سامنے آگئی تھی۔ سو اب معاملے کو سنبھالنا ضروری تھا تب وہ حیرت سے پوچھتے ہوئے بولیں۔
’’ریحان میاں کے متعلق حقائق اگر ایسے ہیں تو پھر واقعی ہم فاطمہ کا نکاح ان سے نہیں کرسکتے‘ ہم حیران ہیں توقیر میاں نے یہ سچائی ہم پر واضح کیوں نہ کی؟ اور ہم نے بھی یقین کرلیا کہ ریحان میاں ایک نیک نوجوان ہیں‘ کیا خبر تھی توقیر میاں جس سپوت کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں وہ درحقیقت ایسے بگڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اماں جان نے اپنے طور پر لاعلمی کا مظاہرہ کرکے گویا خود کو اس معاملے سے بری الذمہ قرار دے دیا تھا۔ ناظم الدین نے گہری سانس خارج کی۔
’’اماں جان اب جب کہ حقیقت واضح ہوگئی ہے تو ہم اس رشتے کے لیے قطعی آمادگی نہیں دیں گے۔ فاطمہ ہم پر ایسی بوجھ نہیں‘ ہم کوئی بہتر رشتہ تلاش کرسکتے ہیں۔‘‘ ناظم الدین نے بیٹی کے حق میں آواز اٹھائی۔ اماں جان نے کھسیانی سی ہوکر سر ہلایا۔
’’بالکل بچے‘ ایسا ہی کریں گے‘ پہلے ہم ذرا توقیر میاں کے لتے لے کر انہیں چلتا کردیں۔ اللہ کی پناہ ایسی غلط بیانی اپنے صاحبزادے کو ایسے پیش کیا گویا اس روئے زمین پر ان سے بہتر کوئی نوجوان نہیں‘ ہم ابھی بات کرتے ہیں توقیر میاں سے۔‘‘ اماں جان اٹھنے لگی تھیں‘ جب ناظم الدین نے ان کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور نرمی سے گویا ہوئے۔
’’اماں جان‘ ان پر یہ بات واضح کرنا ضروری نہیں کہ ہم حقائق جان گئے ہیں۔ آپ کسی طرح سہولت سے توقیر اور ان کی بیگم کو چلتا کردیں ہم توقیر کی دل آزاری نہیں چاہتے‘ وہ عرصے دراز بعد یہاں آئے ہیں‘ ہمارے گھر مہمان ہیں اور مہمانوں کو عزت دی جاتی ہے۔ آپ مناسب الفاظ میں انہیں انکار کردیجیے۔ ریحان میاں کی حقیقت پوشیدہ ہی رہے تو بہتر ہے۔‘‘ ناظم صاحب نے درخواست کی۔ اماں جان نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلادیا۔
/…ء…/
اماں جان نے کوئی واضح انکار کیا تھا نا اقرار‘ توقیر میاں اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ بڑے بھائی ناظم ان کے سپوت کی حقیقت جان چکے ہیں‘ دوسری طرف اماں نے ناظم صاحب کا دماغ نواب صاحب کے لیے بنانا شروع کردیا تھا۔
’’اب آپ کیا چاہتے ہیں ناظم الدین؟ دیکھو ہر رشتہ ٹھکرانا ٹھیک نہیں‘ چاند پر دماغ ہو تو اس کی توقیر ویسی نہیں رہتی میں کوئی دل آزاری والی بات کرنا نہیں چاہتی مگر بیٹا تم خود سمجھدار ہو اب یہ مت کہنا کہ زمان تمہارا دوست ہے اور یہ رشتہ واجب دکھائی نہیں دیتا۔‘‘ اماں جان نے بیٹے کو قائل کرنے کی راہ ڈھونڈی‘ ناظم الدین خاموشی سے انہیں دیکھنے لگے۔ ’’نواب صاحب تمہارے احباب کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں مگر سوچو اس وقت ہم یہ رشتہ ٹھکرا نہیں سکتے اور یہ جواز کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘‘
’’اماں جان‘ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی جب چھوٹے نواب وقارالحق موجود ہیں تو آپ نواب صاحب سے اس متعلق بات کیوں نہیں کرتیں؟ نواب صاحب کو اپنی عمر دیکھنا چاہیے اور اپنی جگہ اپنے صاحبزادے کا معاملہ رکھنا چاہیے۔‘‘ ناظم صاحب نے مدعا اٹھایا۔ اس سے قبل کہ اس معاملے کی حقیقت بھی ناظم صاحب پر کھلتی اماں جان نے بات کو سنبھالنا ضروری لگا۔
’’میاں اب اس کی حقیقت تو نواب صاحب ہی جانیں‘ ہوسکتا ہے چھوٹے نواب کا عقد کہیں طے پا گیا ہو۔ بہرحال اگر نواب صاحب نے اپنا معاملہ رکھا ہے تو ان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ یوں بھی عمروں کے فرق میں کیا رکھا ہے ناظم الدین۔ تمہارے والد بھی ہم سے پندرہ برس بڑے تھے۔ اب اس سے کوئی فرق پڑا۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ انتہائی محبت کرنے والے خاوند تھے۔ بہرحال ہم نواب صاحب کی عظمت کے قائل ہیں۔ ہمیں اس بات کو سراہنا چاہیے۔‘‘ یہ اماں جان نے بیٹے کو سمجھا کر قائل کیا تھا۔ ناظم صاحب چپ سادھ گئے تھے۔
/…ء…/
نواب صاحب نے فون اٹھایا اور انوار صاحب سے بات کی۔
’’معذرت چاہتے ہیں انوار صاحب فی الحال اس معاملے پر بات نہیں ہوسکتی ہم کئی کاموں میں الجھے ہوئے ہیں ان سے فارغ ہوکر ہم آپ سے ضرور رجوع کریں گے۔‘‘ دوسری طرف انوار صاحب نے جانے کیا کہا‘ چھوٹے نواب سن نہیں سکے مگر وہ ابا حضور کے اس انداز پر کچھ الجھ ضرور گئے تھے۔ نواب صاحب انوار صاحب سے معمول کی بات کرتے رہے۔ جب فون رکھ کر پلٹے تو وقارالحق کو دیکھ کر چونکے۔
’’برخوردار آپ نے میں کوئی بات کرنا تھی؟‘‘ ابا حضور نے دریافت کیا۔ چھوٹے نواب نے سر ہلایا اور دو قدم آگے بڑھ گئے۔
’’ہم جنت بی بی کے متعلق آپ سے بات کرنا چاہتے تھے ابا حضور…‘‘ انہوں نے مدعا رکھا۔ نواب صاحب نے انہیں بغور جانچتی نظروں سے دیکھا۔ پھر سر کے اشارے سے انہیں مدعا بیان کرنے کی اجازت دی۔
چھوٹے نواب لمحہ بھر کو جیسے سوچ میں غلطاں رہے یا سوچوں کو متحد کرنے میں لگے رہے تھے۔ تب ہی فون کی گھنٹی بجی اور نواب صاحب کی توجہ اس سمت چلی گئی۔ ملازم نے فون اٹھایا اور نواب صاحب کی طرف بڑھایا۔
’’نواب صاحب اماں جان آپ سے بات کرنے کی خواہش مند ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے آگے بڑھ کر فون تھام لیا۔
’’آداب اماں جان۔‘‘
’’تسلیمات… جیتے رہیے‘ ہم مخل تو نہیں ہوئے؟‘‘ اماں جان نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا۔
’’بالکل نہیں اماں جان… مائیں کبھی مخل نہیں ہوتیں حکم کیجیے۔‘‘ نواب صاحب نرمی سے مسکرائے۔
’’مبارک ہو میاں‘ آپ کا مقدمہ اپنے انجام کو پہنچا۔‘‘ اماں جان نے خبر دی تو وہ چونکے۔
’’کیا مطلب اماں جان…! ہم سمجھے نہیں؟‘‘ دوسری طرف اماں جان مسکرادیں۔
’’محل کو سجادو اور مٹھائیاں بانٹنا شروع کردو۔ آپ کے لیے اچھی خبر ہے۔ ناظم الدین صاحب نے آپ کے مقدمے پر تصدیق کی مہر ثبت کردی ہے اور فیصلہ آپ کے حق میں ہوگیا ہے۔ اب نکاح کی تیاریاں کیجئے۔‘‘ اماں جان نے مطلع کیا۔ نواب صاحب نے سکون کی سانس خارج کی۔
’’مبارک ہو۔‘‘ اماں جان کی آواز اطمینان بخش تھی۔
’’آپ کو بھی مبارک اماں جان… بہت اچھی خبر دی آپ نے ہم جلد ہی آپ سے ملنے آئیں گے اگر زحمت نہ ہو تو ہم کل کسی وقت زحمت دینے چلے آئیں؟‘‘ نواب صاحب نے دریافت کیا۔ چھوٹے نواب فون پر ہونے والی گفتگو سے مدعا کسی قدر جان گئے اور خاموشی سے کھڑے سنتے رہے۔ دوسری جانب غالباً اماں جان نے ملنے کی اجازت دے دی تھی اور ابا حضور نے مسکراتے ہوئے تعظیم سے شکریہ کرتے ہوئے فون کا سلسلہ منقطع کردیا تھا۔ پلٹ کر وہ سپوت کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’آپ کچھ کہنا چاہتے تھے چھوٹے نواب؟‘‘ نواب صاحب نے دریافت کیا‘ وقار نے دانستہ سر انکار میں ہلایا۔
’’بات معمولی نوعیت کی تھی ذہن سے خارج ہوگئی۔ ہمیں ایک ضروری کام یاد آگیا ہے ابا حضور ہم آپ کے حضور دوبارہ حاضری دیں گے فی الحال آپ اجازت دیں تو ہم چلتے ہیں۔‘‘ وقار نے جانے کیوں بات کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا تھا۔ شاید وہ اس موقع کو اس اہم بات کے لیے ضروری نہیں سمجھتے۔ نواب صاحب نے سر ہلایا تو جانے کیوں وقار کا انداز کسی قدر سرد سا تھا۔
’’ہمیں بھی آپ سے اہم بات کرنا تھی مگر فی الحال آپ عجلت میں دکھائی دیتے ہیں۔ سو آپ کو جانے کی اجازت دینا پڑے گی۔‘‘ نواب صاحب نے نرمی سے کہا۔ نواب صاحب فاطمہ کے معلق سوچنے لگے۔
’’ہم کسی معاملے کو لے کر اس قدر متفکر نہیں ہوئے۔ یہ سچ ہے فاطمہ ناظم الدین نے جس قدر ہمارا ذہن الجھائے رکھا کسی اور معاملے میں ایسا نہیں ہوا ہم پُرسکون ہوئے ہیں اماں جان کا فیصلہ دیر سے آیا مگر ہمارے حق میں آیا فاطمہ نے ناظم الدین کی حمایت میں کھڑے رہنے کے لیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا مگر یہ سچ ہے کہ ہم خوف زدہ تھے فاطمہ ناظم الدین کے محاذ پر ہارنا ایک بڑی شکست ہوتی۔‘‘ انہوں نے قبول کیا اور ایک گہری سانس خارج کی۔
/…ء…/
ناظم الدین صاحب کے عندیہ دینے کے بعد اماں جان نے یہ خبر محترم نواب صاحب کے گوش گزار کرکے انہیں تیاریاں کرنے کا مشورہ تو دے دیا تھا مگر انہوں نے گھر میں یہ خبر عام نہیں کی تھی شاید ایسا توقیر اور ان کی بیگم کے گھر میں قیام کے باعث بھی تھا شاید اماں جان کسی مصلحت کے تحت اس خبر کو دبا رہی تھیں۔
’’اماں جان‘ سات دن کا قیام مکمل ہوا اب مطلع کیجئے ارادے کیا ہیں؟‘‘ توقیر میاں نے دریافت کیا تو اماں نے خاموشی سے انہیں دیکھا پھر حقے کو سامنے رکھتے ہوئے اطمینان سے گویا ہوئیں۔
’’میاں ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہو‘ ایسی بھی کیا جلدی‘ ہم کہیں بھاگے جارہے ہیں یا تم؟ رشتہ بھی طے ہوجائے گا پہلے اپنے اس نالائق سپوت کی عقل تو ٹھکانے لگالیں ایسے آوارہ مزاج نوجوان کو کون اپنی نیک صفت‘ نیک سیرت دختر کا ہاتھ دے گا؟‘‘ اماں نے بڑے تیوروں سے دیکھا تو منجھلی بہو کڑوے گھونٹ پی کر رہ گئیں۔
’’اماں جان… ہمارے صاحبزادے کے متعلق آپ غلط قیاس آرائیاں کررہی ہیں‘ ہمارے ریحان میاں سلجھے ہوئے نوجوان ہیں جانے کس کو آوارہ مزاج کہہ رہیں آپ۔‘‘ بہو بیگم نے صاحبزادے کا مکمل دفاع کیا تو اماں نے انہیں خاموشی سے دیکھا‘ بہو بیگم کھسیا کر نگاہ پھیر گئیں۔
’’منجھلی بہو دلی دور نہیں کہ لکھنؤ کی خبریں یہاں نہ آسکیں خیر سے آپ کے صاحبزادے کی شہرت یہاں بھی پہنچ چکی ہے اور ناصرف بات ہمارے کانوں تک آئی ہے بلکہ ناظم الدین میاں بھی یہ بات جان گئے ہیں۔ اب آپ ہی کہیے کوئی انسان اپنی بیٹی کا ہاتھ ایسے نوجوان کے ہاتھ میں دے گا جس کی نیک نامی کے چرچے زرد و عام ہوں‘ بہو بیگم بات کڑوی تو لگی ہے مگر سچ ہے تو یہی ہے ناں اور ایسا کون ہے جو آنکھوں دیکھی مکھی نگلے؟‘‘ اماں جان نے پُرسکون انداز میں جتادیا۔ منجھلی بہو بیگم جلے پائوں کی بلی کی طرح بدک کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور خاوند کو گھورتے ہوئے بولیں۔
’’کیا یہی سننے کو لکھنؤ سے دلی لائے تھے توقیر احمد صاحب بہت ہوگیا‘ اب اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے‘ ہم جارہے ہیں آپ کا دل بھی آنے پر آمادہ ہو تو سامان اٹھا کر آجائیے۔‘‘ منجھلی بیگم فوراً سے بیشتر کمرے سے باہر تھیں۔ توقیر صاحب نے اماں جان کوبے بسی سے دیکھا۔
’’اماں جان…‘‘ انہوں نے کچھ کہنے کو لب کھولے مگر اماں جان نے ہاتھ اٹھا کر انہیں بولنے سے باز رکھا۔
’’دیکھو میاں‘ بہتری اسی میں ہے کہ اٹھو اور گھر کو روانہ ہوجاؤ‘ سدھار کی بات تمہاری بیگم سننے کو تیار نہیں لیکن اگر رشتے کا ارادہ ہے تو اپنے صاحبزادے کے مزاج سنوار لیجیے گا کیونکہ کوئی بھی اپنی بیٹی ایسے آوارہ مزاج کو نہیں دے گا‘ سچی بات کڑوی ہوتی ہے مگر عقل کی گرہیں اس کڑواہٹ سے کھل جائیں تو اس سے بہتر کوئی علاج نہیں۔‘‘ اماں جان نے ہاتھ کے اشارے سے صاحبزادے کو اٹھ کر جانے کا اشارہ کیا۔ توقیر صاحب تو جیسے منتظر تھے اٹھے اور خاموشی سے وہاں سے نکل گئے۔ اماں جان مکمل سکون کے ساتھ حقے کا لطف اٹھانے لگی تھیں۔
/…ء…/
’’کیا ہوا بیگم… کیا سوچ رہی ہیں آپ؟‘‘ ناظم الدین نے سخاوت بیگم کے قریب بیٹھتے ہوئے دریافت کیا۔ سخاوت بیگم نے ان کی جانب دیکھے بنا سر نفی میں ہلایا اور مدھم لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’ہمیں توقیر میاں کے اس طرح فوراً رخصت ہونے پر ملال ہے اگر یہ بات علم میں آگئی تھی کہ ان کے سپوت اس قابل نہیں تو اماں جان کو دعوت دے کر توقیر میاں اور ان کی بیگم کو یہاں نہیں بلانا چاہیے تھا کسی کو گھر بلاکر اس قدر نصیحت کرنا مناسب نہیں‘ عزتِ نفس ہر انسان کی ہوتی ہے۔‘‘ سخاوت بیگم کے نرم مزاج پر یہ بات گراں گزری تھی۔ مگر ناظم الدین صاحب نے ان کی نفی کی۔
’’اماں جان‘ اس متعلق یقینا کوئی معلومات نہیں رکھتی ہوں گی اگر وہ وقف ہوتیں تو فاطمہ بی بی کے لیے ایسے رشتے کی حامی نہ بھرتیں۔‘‘ ناظم صاحب نے اماں جان کی طرف داری کی مگر سخات بیگم نے جتاتی نظروں سے انہیں دیکھا اور نرمی سے کہا۔
’’ناظم صاحب‘ آپ کی اماں جان کو ہم بھی جانتے ہیں اور آپ بھی خیر یہ بات اہم نہیں جب کہ اماں جان خود اس معاملے کو انجام تک پہنچا چکی ہیں۔ ہماری صاحبزادی کے لیے تو وہی معاملہ ہے‘ آگے کنواں پیچھے کھائی ایک خطرہ ٹلے بھی تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ سخاوت بیگم کا لہجہ افسردہ ہوا۔
’’بیگم نواب صاحب نیک دل انسان ہیں‘ پڑھے لکھے ہیں‘ عمروں کے فرق کے علاوہ اور کوئی بات قابل اعتراض نہیں۔‘‘ ناظم الدین صاحب نے مثبت سوچ دی مگر سخاوت بیگم کے چہرے کی مسکراہٹ و فکر معدوم نہیں ہوئی۔
’’نواب صاحب نے اس عمر میں اپنے رشتے کی بات کیونکر کی؟ ہمیں ان سے ایسی امید نہیں تھی وہ پڑھے لکھے باشعور انسان ہیں اسی لیے ہم حیران ہیں کہ وہ فاطمہ کو اپنی بیٹی جیسے مانتے ہیں۔ وہ عمروں کے تضاد سے بھی واقف ہیں‘ پھر انہوں نے فاطمہ کے لیے اپنا رشتہ کیوں کر ڈالا؟ کہیں دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔‘‘ سخاوت بیگم کو شک ہوا۔
’’آپ نواب صاحب کی نیت پر شک کررہی ہیں؟‘‘ ناظم صاحب نے پوچھا اور سخاوت بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
’’بے شک ہمیں نواب صاحب یا ان کی نیت پر شک نہیں… وہ بہت سلجھے ہوئے مزاج کے انسان ہیں۔‘‘
’’اوہ تو آپ کا شک اماں جان پر ہے؟‘‘ ناظم الدین صاحب نے حیرت سے بیگم کو دیکھا۔ سخاوت بیگم خاموش رہیں۔
’’اماں جان فاطمہ کی دشمن نہیں ہیں سخاوت بیگم وہ بھی فاطمہ کو یقینا عزیز رکھتی ہیں‘ اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود اماں جان نے فاطمہ کو تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے دیا۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اماں جان جو کررہی ہیں وہ نیک نیتی سے کررہی ہیں؟‘‘ ناظم صاحب نے اماں کی وکالت کی۔ سخاوت بیگم نے کوئی وضاحت دینا ضروری نہیں جانا اور اٹھ کر کمرے سے نکل گئیں۔ ناظم الدین صاحب انہیں دیکھتے رہ گئے تھے۔
/…ء…/
’’میکاولی سیاسیات کو مذہب اور اخلاقیات سے جدا کرکے یہ مفروضہ قائم کرتا ہے کہ سیاسی مشورہ اور سیاسی پالیسی کو اخلاقیات سے مقید نہیں کرنا چاہیے اگر سیاسیات کو علم کا درجہ حاصل کرنا ہے تو اس کے اپنے اصول ہونے چاہیں۔ ارسطو نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور سینٹ تھامس نے یہ نظریہ واضع کیا کہ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے لیکن میکاولی کا اولین نظریہ اپنے پیش روئوں کے نظریہ سے آگے جاکر سماجی اور سیاسی تنظیم کی سطح پر بحث کرتا ہے۔ میکاولی کے مطابق سیاست کا تعلق منتظم سے ہے۔ سیاسی مقاصد اسی صورت میں حاصل کیے جاسکتے ہیں اور اس سلسلہ میں مناسب وسائل اسی صورت میں کام میں لائے جاسکتے ہیں جب لوگ اس غرض سے خود کو منظم کریں۔ منتظم کا بنیادی اصول تقسیم کار کا اصول ہے جس طرح فوج کی ذمہ داریوں کو جنرلوں اور عام سپاہیوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے اس طرح سیاسی زندگی میں بھی کچھ لوگ حکومت کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ باقی لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی بہت بڑی اکثریت ہوتی ہے۔ جن پر حکومت کی جاسکتی ہے۔‘‘ چھوٹے نواب نے سیاسیات سے متعلق میکاولی کے نظریہ کو واضح کیا۔ دوسری طرف فاطمہ جو غائب دماغی سے سن رہی تھی۔ مکمل خاموش رہیں۔
’’فاطمہ بی بی آپ سن رہی ہیں ناں؟ اگر اس سے متعلق کوئی سوال ہو یا کوئی بات سوچ کو منتشر کررہی ہو تو آپ پوچھ سکتی ہیں۔‘‘ چھوٹے نواب نے کہا۔ اس نظریے سے ہٹ کر فاطمہ کی سوچ ایک ہی نقطے پر ٹکی ہوئی تھی۔
’’سو وہ لوگ خاص وصف رکھتے ہیں جو حکومت کرنے کے اہل بنتے ہیں‘ اور دوسرے صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ ان پر حکومت کی جائے؟‘‘ وہ جانے کیا سوچ کر بولی۔ وقار ان کی بات فوری طور پر نہیں سمجھیں مگر نرمی سے سمجھاتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’میکاولی نے سیاسیات کے علم کو ایک نیا رخ دیا ہے ان کے نظریات کے طرز و فکر میں بہت جدت اور ندرت ہے۔ ارسطو کے بعد وہ پہلا عالم ہے جس نے متجس دماغ پایا تھا اور جس نے تاریغ اور تجربہ کی روشنی میں سیاست کے اصول و مقاصد کی توضیح و تعین کرنے کی کوشش کی۔ اس نے مملکت کی بقا اور استقلال کے مسئلے پر خالص ذہنی تحقیق کی۔‘‘ وقار نے سمجھایا۔
’’مگر کوئی ایک دماغ حکمرانی کا وصف رکھتا ہے یہ کہنا واجب نہیں گویا جس کی لاٹھی اس کی بھینس؟ جو ایک لاٹھی سے ہانکنے کا وصف رکھے وہی حکمران ٹھہرے گا اور باقی سب محکوم؟ ہم اس نظریے سے متفق نہیں۔‘‘ فاطمہ نے اس نظریے کو رد کیا اور وقار اس قدر تنائو کے باوجود اس لمحے مسکرائے۔ فاطمہ بی بی کا ذہن عقل کے گھوڑے ضرور دوڑا رہا تھا مگر ان کے انداز میں فطری معصومیت تھی۔
’’فاطمہ بی بی‘ آپ کی سوچیں جس سمت بہہ رہی ہیں وہ درست سمت نہیں لیکن یہ جمہوری نظریہ ہے۔‘‘
’’جمہوریت جس کی لاٹھی اس کی بھینس سے عبارت ہے تو یہ جمہوریت عقل کے منافی ہے۔‘‘ وہ بحث پر آمادہ ہوئیں۔
’’فاطمہ بی بی آپ کی سوچ قابل قدر ہے مگر حکمرانی کے لیے حکمران ایک ہی ہوتا ہے چاہے یہ کسی خاص اہلیت کے باعث ہو یا کسی اور خصوصیت کے باعث‘ بہت بڑی اکثریت وہ ہے جن پر حکمرانی کی جاسکتی ہے۔ گویا حکمران جانتا ہے کہ حکمرانی کا وصف کیا ہے۔‘‘ وقار نے نرمی سے سمجھایا مگر فاطمہ بی بی دوسری طرف مخالفت کے باعث سر نفی میں ہلانے لگیں۔
’’بہرحال ہم متفق نہیں لیکن میکاولی کی سوچ کا احترام کرتے ہیں اگر میکاولی کا نظریہ درست ہے تو ہماری دادی جان سے بہتر حکمرانی کے وصف سے واقفیت کوئی اور نہیں رکھ سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا اور وقار پر واضح ہوگیا کہ فاطمہ بی بی کے دماغ کی سوئیاں ایک جگہ کیوں اٹک گئی تھی۔ انہوں نے بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا اور آہستگی سے گویا ہوئے۔
’’آپ آگے کے باب کو پڑھ لیجئے گا۔ ہم کل اس پر بات کریں گے اب ہم چلتے ہیں‘ اجازت دیجیے۔‘‘ وقار نے اجازت چاہی۔
’’چھوٹے نواب ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔‘‘ فاطمہ نے کہا اور نگرانی پر معمور ملازمہ کے کان کھڑے ہوئے اور چونک تو محترم چھوٹے نواب بھی گئے تھے۔
’’جی اجازت ہے‘ کیا دریافت کرنا ہے آپ کو؟‘‘ چھوٹے نواب نے بادل ناخواستہ اجازت دی۔ فاطمہ کچھ لمحے خاموش رہیں۔ نگراں ملازمہ کے کان منتظر رہے مگر فاطمہ نے اس مختصر خاموشی کے بعد جیسے ارادہ ملتوی کردیا۔
’’کچھ نہیں آپ جاسکتے ہیں۔‘‘ فاطمہ کہتے ہوئے اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئیں۔ وقار نے ان کے قدموں کی آواز دور ہوتے سنی اور ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
جو سوال نہ پوچھے جائیں وہ زیادہ دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ شاید اس لیے وقار کا دماغ کسی قدر الجھنے لگا تھا تجسس انسانی فطرت ہے اور واقع نہ ہونے والی باتیں دلچسپی کو کان سے پکڑ کر خوامخواہ تجسس کے ساتھ باندھ آتی ہیں۔
’’فاطمہ بی بی کیا پوچھنے کی خواہاں تھیں؟‘‘ گھر پہنچ کر بھی وہ اس متعلق سوچتے اور اس سوچ کے ساتھ الجھتے رہے۔
/…ء…/
ہم نے سنا ہے آپ کی دادی جان نے نواب زمان الحق کا رشتہ آپ کے لیے قبول کرلیا اور آپ کے چچا جان اور چچی جان کو چلتا کردیا ہے؟‘‘ دلشاد نے دریافت کیا مگر فاطمہ کو اس سوال میں بالکل بھی دلچسپی محسوس نہ ہوئی‘ پر وہ اس حقیقت پر چونکی ضرور۔ ان کی سوچیں جیسے پتھر کی ہوگئی تھیں‘ وہ کسی قدر بے حس دکھائی دے رہی تھیں‘ دلشاد کو اپنی دوست سے ہمدردی محسوس ہوئی۔ تب ہی ان کا ہاتھ تھاما اور نرمی سے بولیں۔
’’نواب صاحب آپ سے عمر میں بہت بڑے ہیں فاطمہ بی بی کیا آپ انہیں دلی اور دماغی طور پر بطور خاوند تسلیم کرپائیں گی؟‘‘ ان کے لہجے میں ہمدردی تھی اور فاطمہ ان کی سمت خالی نظروں سے دیکھنے لگیں۔
’’اگر آپ کی دادی جان آپ کو سزا دینا چاہتی ہیں تو یہ یقینا کٹھن سزا ہے کہاں تو وہ آپ کے چچا زاد کو آپ کے لیے منتخب کررہی تھیں اور کہاں اچانک نواب صاحب کو منتخب کرلیا آپ کی دادی جان نے دونوں صورتوں میں آپ کو سزا دینے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ وہ تو آپ کے ابا جان محترم کو بھنک پڑ گئی کہ آپ کے چچا زاد آوارہ مزاج نوجوان ہیں وگرنہ آپ کا رشتہ تو پکا تھا۔‘‘ دلشاد اپنی سہیلی کے غم میں غمزدہ دکھائی دیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر فاطمہ خاموش تھیں۔
’’فاطمہ خدارا کچھ تو بولیے آپ نے ایسی خاموشی کیوں سادھ لی ہے؟‘‘ دلشاد نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا مگر فاطمہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
’’فاطمہ خدارا آپ سے رائے طلب کی جائے تو آپ انکار کردیجیے گا‘ یہ ظلم ہے‘ نواب صاحب آپ کے ابا جان کے رفیق ہیں اور آپ انہیں بچپن سے چچا جان کہہ کر بلاتی رہی ہیں‘ آپ اس رشتے کو کیسے قبول کرپائیں گی؟ ہم سن کر اس قدر ششدر ہیں‘ ہم آپ کی کیفیت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔‘‘ دلشاد نے شانے سے تھام کر فاطمہ کو ساتھ لگایا اور کب کے رکے آنسو بہت آہستگی سے فاطمہ کی آنکھوں سے ٹوٹ کر قطرہ قطرہ بہنے لگے تھے۔
/…ء…/
’’نواب صاحب… ہم رشتوں کو شرائط کا پابند کرنے کے عادی نہیں مگر بہت سے اقدام حفظ ماتقدم کے طور پر لینا ضروری ہوتا ہے‘ آپ کی آدھی جائیداد فاطمہ کے نام لکھنے کی شرط دانستہ رکھی ہے اور یہ حق مہر کی رقم سے الگ معاملہ ہے ہم یہ واضح کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ حق مہر شرعی ہوگا اور اس میں کوئی شرط لاگو نہیں ہوگی۔‘‘ اماں جان نے کہا اور نواب صاحب نے سر ہلایا۔
’’آپ کا حکم کرنا کافی ہے اماں جان‘ ہم اس معاملے میں کوئی انفرادی رائے نہیں رکھتے۔ آپ کو ماں کہہ دیا ہے سو حکم پر سر جھکانا فرض سمجھتے ہیں۔ آپ کو جو کہنا ہے آپ بلاتردد حکم صادر کیجئے۔ سر تسلیم خم پائیں گی۔‘‘ نواب صاحب نرمی سے گویا ہوئے تو اماں جان نے سر ہلایا۔
’’بہرحال ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں لیکن آپ ناظم الدین صاحب سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ بہرحال وہ والد ہیں اور ان کی رائے بھی اہم ہے۔‘‘ اماں جان نے مسکراتے ہوئے کہا‘ نواب صاحب نے احتراماً سر جھکایا۔ اماں جان انہیں دیکھ کر مسکرائیں۔
’’خیر سے رخ روشن پر خاصا روپ چڑھنے لگا ہے ابھی سے چہرے پر واضح رونق دکھائی دیتی ہے۔‘‘ اماں جان نے ازراہ مذاق چھیڑا۔ نواب صاحب مسکرائے۔
’’جانے دیجیے اماں جان‘ مذاق کرنا کوئی آپ سے سیکھے۔ اب اس عمر میں کیا رونق آئے گی چہرے پر۔‘‘ نواب صاحب کسی قدر الجھن کا شکار دکھائی دیئے۔ اماں جان نے بغور ان کی طرف دیکھا۔
’’کوئی بات ہے آپ کے دل میں‘ کچھ چھپا رہے ہیں آپ؟‘‘ اماں جان نے پوچھا۔
’’آپ سے کچھ پوشیدہ رکھ سکتا ہوں اماں جان… یہ آپ نے کیسے سوچ لیا؟‘‘ وہ ان کے ذہین ہونے کے قائل تھے مگر وہ کسی قدر حیران ضرور ہوئے۔
’’دراصل ہم فاطمہ بی بی سے ملنا چاہتے تھے‘ ہم جانتے ہیں اس موقع پر آپ اس بات کے لیے رضا مندی نہیں دیں گی لیکن…‘‘ وہ بولتے ہوئے رکے۔ اماں جان نے انہیں بغور دیکھا۔
’’ہم سے کہہ سکتے ہیں آپ… ہم آپ کے دل کی بات ان تک پہنچادیں گے اگر ایسا ہی ضروری ہے تو…‘‘ وہ بات کو مزاح کا رنگ دیتی ہوئی بولیں۔ نواب صاحب نے سر نفی میں ہلا دیا۔
’’رہنے دیجیے اماں جان… دل کا بیان ہے کوئی اعلان نہیں کہ پیغام قاصد کے ہاتھ روانہ کردیں۔‘‘ وہ ازراہ مذاق مسکرائے۔
’’حسِ مزاح لاجواب ہے میاں… دل کے بیاں کے لیے ہمیں زمانہ بنادیا خیر…‘‘ اماں جان خاموش ہوئیں اور جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی ہوں۔
نواب صاحب ارادہ ملتوی کرتے ہوئے اجازت طلب نظروں سے اماں جان کی جانب متوجہ ہوئے جب اماں جان نے کہا۔
’’آپ فاطمہ بی بی سے ملاقات کرسکتے ہیں اگرچہ یہ خاندانی روایت کے منافی ہے مگر چونکہ آپ برسوں کے تعلقات اس خاندان سے وابستہ رکھتے ہیں تو ان تعلقات کا احترام واجب ہوجاتا ہے۔‘‘ اماں جان نے اجازت دی اور ساتھ ہی جانچتی نظروں سے نواب صاحب کو دیکھا۔
’’ہم نہیں جانتے آپ کے دل و دماغ میںکیسی کشمکش ہے مگر ہم اس مقام پر آپ کو ان سوچوں کے دھاروں میں بہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ آپ کو زبان کی اہمیت کا اندازہ واضح طور پر ہوجانا چاہیے۔ ایسے موقع پر دو سوچوں سے الجھنا اس رشتے کو بے معنی کرسکتا ہے۔ آپ کو جو بھی کہنا ہے اس سے قبل ازسر نو سوچ لینا بہتر ہوگا۔‘‘ اماں جان جیسے سوچوں تک رسائی رکھنے والی خاتون تھیں‘ نواب صاحب نے خاموشی سے انہیں دیکھا اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے جیسے ارادہ ملتوی کردیا۔
’’اجازت دیجیے اماں جان… چلتے ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا اور جانے کو پلٹے‘ جب اماں جان کی آواز نے قدم روک لیے۔
’’نواب صاحب ملازم کی تقلید کیجئے۔ یہ آپ کو فاطمہ بی بی کے کمرے کا راستہ بتانے کو منظر ہیں۔‘‘ اماں جان نے کہا اور نواب صاحب نے مڑ کر حیرت سے انہیں دیکھا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close