Aanchal Nov-18

آئینہ

شہلا عامر

 

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ اللہ رب العزت کے نام سے ابتدا ہے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے اس بار ہمارے قارئین نے کھل کر اپنی آرا کا اظہار کیا آپ سب کے یہ بھرپور تبصرے نہ صرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں بلکہ لکھاری خواتین کا حوصلہ بھی بڑھاتے ہیں۔ اس دفعہ خطوط کی بڑی تعداد بہت تاخیر سے موصول ہوئی ۔کوشش کیا کریں کہ اپنے خطوط اس طرح ارسال کریں کہ وہ ہمیں ہر ماہ کی چھ تاریخ تک ہمیں مل جائیں۔ اب بڑھتے ہیں اپنی محفل کی جانب۔
ماہا بشیر حسین… ڈنگہ۔ اس دفعہ کا شمارہ بورنگ رہا (سچی سی بات ہے)۔ ٹائٹل محرم الحرام کے حوالے سے ہونا چاہیے تھا۔ ’’سرگوشیاں‘‘ پڑھ کر لگتا ہے کہ قیمت میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ پھر ہم تو افورڈ نہیں کرسکتے۔ حمدونعت ہمیشہ کی طرح میٹھی میٹھی۔ ’’درجواب آں‘‘ میں ماورا طلحہ کی ممانی کا افسوس ہوا اور سمیرا ایاز کی پھوپو کا بھی بہت دُکھ ہوا۔ ’’الکوثر‘‘ میٹھے چشمے جیسا سلسلہ ہے۔ ’’ہمارا آنچل‘‘ میں مہربان شاہ‘ کنزہ علی کا تعارف اچھا لگا۔ ’’اکائی‘‘ کی قسط بس سو سو رہی۔ اقرا صغیر کی کہانی کو میں نے پڑھنا چھوڑ دیا۔ ’’جنون سے عشق‘‘ سمیرا نے آخری قسط لاجواب لکھی۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ کا دوسرا حصہ سو سو تھا‘ تیسرے اور آخری حصے میں دیکھتے ہیں کہ مصنفہ کیا کرتی ہیں۔ ’’چندارے چندا‘‘ ندا کی تحریر بورنگ رہی۔ ’’محرم ذات‘‘ لائٹ سی تھی‘ اچھا لگا پڑھ کر۔ افسانے میں غلطی اور طوفان ونڈر فل رہے جبکہ ریحانہ اور راشدہ اس بار متاثر نہ کرسکیں۔ ’’آئینہ‘‘ میں اُم فروا کی آنچل سے محبت قابل رشک ہے۔ ہاں اس دفعہ کام کی باتیں ونڈر فل رہا۔
٭ پیاری ماہا! کوشش کریں گے کہ آیندہ پورا کا پورا پرچا آپ کو پسند آئے۔ ویسے ٹائٹل پر لڑکی کوکیا کالے لباس میں ملبوس ہونا چاہیے تھا۔
عطیہ ندیم خان… بھکڑیوالی۔ سب لوگوں کو میری طرف سے محبت بھرا سلام۔ آنچل کے سب سلسلے ہی مجھے بہت پسند ہیں۔ سرورق سے لے کر اینڈ تک آنچل پسند ہے۔ اگر بات حمد اور نعت کی کروں تو الفاظ نہیں ملتے تعریف کے لیے‘ ہر سلسلہ ہی بے مثال ہے۔ میرے خیال میں حقیقت پر مبنی کہانیاں اس دُنیا کو راہ راست پر لانے کے لیے بہت ضروری ہیں اور اس کمی کو پوراکرنے کے لیے آنچل اور اس کے مصنفین دونوں اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر میں ایک انسان کی تعریف کروں تو ناانصافی ہوگی۔ آنچل میں ہر شخص کا اپنا کردار ہے۔ نازیہ کنول نازی‘ سمیرا شریف طور‘ فاخرہ گل‘ اُ م ایمان قاضی‘ ندا حسنین‘ نادیہ فاطمہ رضوی‘ صدف آصف‘ فرحت اشتیاق‘ اُم مریم‘ عمیرہ احمد‘ نمرہ احمد میرے فیورٹ رائٹرز ہیں۔ شمائلہ کاشف‘ اپ بہت اچھی ہیں۔ میں بھی کبھی آپ کی بزم میں شرکت کروں گی اور آپی شہلا عامر آپ کا جواب دینے اور حوصلہ دینے کا انداز دل موہ لینے والا ہوتا ہے۔ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہیں۔ مدیرہ جی آپ پریشان مت ہوا کریں‘ ہم آنچل کو ہر قیمت پر پڑھنے کو تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر عطا فرمائے (آمین)۔
٭ پیاری عطیہ! آپ لوگوں کا یہ خلوص اور اپنائیت ہی ہمیں حوصلہ دیتا ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ پرچے کی قیمت کسی طور نہ بڑھے۔ آگے اللہ مالک ہے۔
اقرأ ممتاز…سرگودھا۔اس دفعہ آنچل حسب معمول 24 تاریخ کو مل گیا۔ اس دفعہ ٹائٹل گرل بہت اچھی لگ رہی تھی۔ سب سے پہلے اپنے فیورٹ ناول ’’جنون سے عشق تک‘‘ پر پہنچے یہ ناول کی لاسٹ قسط سمیرا آپی اتنی جلدی ناول ختم کردیا۔ ہیپی اینڈ رہا۔ سمیرا آپی مبارک ہو ایک اور ناول اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ سمیرا آپی اب غائب نہیں ہوجانا‘ جلدی جلدی نیا ناول لے کر آنچل میں انٹری دینی ہے۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ اس دفعہ کی قسط دھماکے دار تھی۔ زید تمہیں تو آپی اقراء صغیر نے مہلت دی ہے ایک ماہ ہے تمہارے پاس جلدی سے کوئی اچھی سی شیروانی لے لو جو تم نے اپنی شادی پر پہننی ہے کیونکہ پیارے میاں کی جگہ اب تم کوہی قربانی کا بکرا بنانا ہے ہاہاہا۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ فنٹاسٹک اسٹوری تھی۔ایزد کی ساتھ بہت برا ہوا۔ اسے تو ناکردہ گناہوں کی سزا ملی۔ اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے۔ ’’چندا رے چندا‘‘ بہت عمدہ ٹاپک پر لکھا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی آپ کی ساری زندگی تباہ کردیتی ہے۔ ’’اکائی‘‘ ایک دلچسپ اسٹوری‘ ایڈونچر سے بھرپور۔ فاطمہ کو تعلیم حاصل کرنے کی اتنی بڑی سزا ملی۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے لیکن کچھ لوگوں کے خیالات ابھی بھی وہی پرانے ہیں۔ عشنا سردار ’’ضر ب المثال‘‘ بہت ڈھونڈ ڈھونڈ کر لگاتی ہیں۔ بہرحال کہانی بہت خوب صورتی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ’’محر م ذات‘‘ اس ماہ کی بہترین اسٹوری تھی۔ پانچوں کے گروپ کی نوک جھونک سے خاصے لطف اندوز ہوئے۔ ’’دوست کا پیغام آئے‘‘ میں جن لوگوں نے یاد کیا ان کا بہت شکریہ۔ ’’یادگار لمحے‘‘ میں گلشن چوہدری‘ مدیحہ نورین مہک‘ انیقہ احمد سب نے بیسٹ لکھا۔ ’’آئینہ‘‘ میں ارم کمال‘ ماہا بشیر حسین‘ سحر تبسم‘ اسما صدیقہ‘ صغریٰ شہزادی‘ تبسم‘ انیلا طالب سب نے امیزنگ لکھا۔ ’’ہم سے پوچھیے‘‘ میں وقاص عمر‘ عائشہ پرویز‘ مدیحہ نورین اور خاص کرکے اے ایف ایچ ایس کے سوالات کمال کے تھے۔ ’’تبدیلی آگئی ہے‘‘ شہلا آپی نے بھی جوابات دینے شروع کردیئے ہیں ہاہاہا۔ رقیہ ناز مبارک ہو‘ آپ کی سالگرہ ستمبر میں تھی‘ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہمیشہ خوش رہو۔ آپ سب کو ایک افسوسناک خبر دینی تھی کہ صائمہ مشتاق کی بیٹی فوت ہوگئی ہے‘ خدا اسے صبر عطا فرمائے (آمین)۔
ماریہ سلیم اختر… کورنگی‘ کراچی۔ اکتوبر کا شمارہ اس بار ایک دن پہلے مل گیا۔ سادگی سے مزین سرورق نہایت دلکش لگ رہا تھا۔ ’’سرگوشیاں‘‘ سے حمدونعت کا سفر طے کرکے ’’درجواب آں‘‘ میں پہنچے۔ جہاں نہایت خوب صورتی سے ہمارے خط کا جواب حاضر تھا۔ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ’’دانش کدہ‘‘ میں نہایت عمدگی کے ساتھ قربانی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھی۔ ’’ہمارا آنچل‘‘ تمام تعارف بہترین تھے۔ سلسلہ وار ناولز میں ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ بہت زبردست قسط تھی۔ پیارے میاں کی فیملی کو تو جانا ہی تھا۔ آخرکار زید کا سودہ سے نکاح بھی تو کروانا ہے۔ ’’اکائی‘‘ نے ہر بار کی طرح اس بار بھی دلچسپی برقرار رکھی۔ مکمل ناولز میں ’’جنون سے عشق تک‘‘ واہ واہ‘ واہ‘ کیا زبردست اینڈ تھا۔ سچ میں دل خوش ہوگیا۔ بہت عمدہ سمیرا آپی‘ خوش رہیں اور اسی طرح خوب صورت کہانیاں لکھتی رہیں۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ امرحہ نے ایزد کے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں کیا‘ سزا تو اسے ملے گی اس لیے ہی اسے اغوا کیا گیا ہے۔ ’’چندا رے چندا‘‘ نہایت سبق آموز اسٹوری‘ زبردست۔ ناولٹ میں ’’محرم ذات‘‘ شبانہ شوکت ہر بار کی طرح چھاگئیں۔ افسانے میں ’’غلطی‘‘ بہت مزہ آیا‘ پڑھ کر۔ ’’آخری اسٹیشن‘‘ بہت عمدہ۔ باقی دو افسانے زیرمطالعہ ہیں۔ ’’بیاضِ دل‘‘ کے خوب صورت اشعار میں ایک میرا نام بھی تھا‘ بہت اچھا لگا دیکھ کر۔ ’’یادگار لمحے‘‘ میں اس دفعہ سب کا انتخاب کافی معیاری تھا۔ ’’نیرنگ خیال‘‘ میں تمام شاعری سپر تھی۔ ’’ڈش مقابلہ‘‘ مسالے دار کلیجی اور سندھی بریانی کی ریسپی اچھی تھی۔ ’’ہم سے پوچھیے‘‘ میں آئیں گے کسی دن شرکت کرنے۔ ’’کام کی باتیں‘‘ میں تمام باتیں کام کی معلوم ہوئیں۔ اکتوبر کا شمارہ بہت بہترین تھا۔
٭ پیاری ماریہ! آپ کی لکھائی بہت خوب صورت ہے‘ بالکل موتیوں جیسی۔ تبصرہ ہمیشہ کی طرح جامع ہے۔ دعاؤں کے لیے ممنون ہیں۔
بختاور ناز… سنجرپور۔ شہلا آپی کیسی ہیں Sorry جی زندگی نے اتنا مصروف کررکھا ہی ہر ماہ دل چاہنے کے باوجود خط نہیں لکھ پاتی۔ پہلے مما کے ساتھ اسپتال میںرہنے کی وجہ سے بزی تھی‘ اب جب مما تھوڑی سی بہتر ہوئی ہیں تو بڑے بھائی کی شادی میں مصروف تھی۔ اللہ کا شکر ہے 25 اگست کو خیروعافیت سے ہوگئی۔ پھر بھابھی جی نے بزی رکھا‘ گھر سیٹ کرنے میں۔ شکر ہے اللہ کا اب فری ہوں‘ پر آپی میرا چھوٹا بھائی جو خط پوسٹ کرتا ہے وہ کام پر ہوتا ہے‘ رات کو آتا ہے اس لیے خط پوسٹ نہیں رپاتا اور رسالہ بھی لیٹ ملتا ہے تو اس وجہ سے آنچل میں میری انٹری رہ جاتی ہے۔ سرگوشیاں‘ الکوثر‘ حمدونعت… واہ آپی اتنا سکون ملتا ہے یہ سلسلے پڑھ کر کہ کیا کہوں۔ لاجواب۔ پھر سلسلے وار ناول پڑھتی ہوں۔ اقراء آپی آپ تو ہیں ہی تعریف کے لائق ۔ سمیرا آپی آپ کا ناول بھی ٹھیک ہے پر وہ بات نہیں جو ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘‘ میں تھی۔ آپ میری فیورٹ رائٹر ہیں اس لیے یہ ناول پڑھ رہی ہوں پر جو مزہ درشہوار اور مصطفی کی جوڑی میں تھا وہ شہرینہ اور شیرافگن کی جوڑی میں نہیں ہے۔ نازی آپی نے بھی لاجواب انٹری دی ہے۔ آپی آپ تو آنچل کی جان اور شان ہیں۔ عشناء آپی آپ کا ’’اکائی‘‘ بھی ٹھیک ہے‘ بس اتنی التجا ہے آپی پلیز لمبا مت کرنا اس ناول کو ،بوریت ہونے لگتی ہے۔ ناول اور افسانے بھی اچھے ہوتے ہیں بس جی ٹائم پر نہ پڑھ سکنے کی وجہ سے تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں کچھ بھی ہوجائے ہر ماہ رسالہ پڑھتی ہوں۔ ’’آئینہ‘‘ ’’دوست کا پیغام آئے بھی اے ون جارہا ہے۔ آپی ’’ہم سے پوچھیے‘‘ بہت اچھا سلسلہ ہے مسکرانے والا‘ میرا بھی دل کرتا ہے پر آپی جی سمجھ نہیں آتی آپ سے سوال کیا کروں۔ ’’یادگار لمحے‘‘ ہمیشہ میری ڈائری کی زینت بنتے ہیں۔ ’’ڈش مقابلہ‘‘ پڑھتی ہوں پر کبھی ٹرائی نہیں کیا وجہ بتانے سے قاصر ہوں۔ ’’بیوٹی گائیڈ‘‘ بھی اچھا ہے‘ پر کام کم آتا ہے کیونکہ اللہ کا شکر ہے ہم پہلے سے خوب صورت ہیں (ہاہاہاہا) ہاں البتہ ’’کام کی باتیں‘‘ بہت کام آتی ہیں اور اینڈ میں آپی میں نے آپ سے کہا تھا ایک خط میں کہ شاہ زندگی کے بارے میں اگر آپ کو کچھ پتہ چلے تو ان کی زندگی کے بارے میں اور ان کی وفات کیسے ہوئی تو آنچل میں ضرور ایک مضمون دینا شاہ زندگی کا‘ کیونکہ وہ ہمارے آنچل کی بہت پیاری اور اچھی قاری تھی۔
نجم انجم اعوان… کورنگی‘ کراچی۔ السلام علیکم آئینہ کی محفل میں عزیز از جان دوستوں کو نجم انجم کا پیار بھرا سلام عرض ہے۔ ملک میں تبدیلی آگئی ہے‘ آنچل میں تبدیلی کب آئے گی؟ ’’ہم سے پوچھیے‘‘ میں اگر تبدیلی لانی ہو تو شمائلہ کاشف کی جگہ نجم انجم اعوان کو ضرور لانے کی کوشش کیجیے گا۔ میں صبح صبح نیم کے پتے اور کریلے کا جوس پی کر آؤں گی (ہائے ہائے وہ دیکھو شمائلہ چندا کا منہ غبارے کی طرح پھول گیا) ہی ہی ہی… یار میں تو مذاق کررہی ہوں۔ دوپہر دو بجے آنچل مل گیا جلدی سے کھولا دل مسکرانے لگا۔ سرورق دیکھا۔آنچل سے بے نیاز ماڈل اچھی لگی مگر… ماڈل کی تصویر بھیجی آپ نے غور سے دیکھی ہم نے ہر ادا اچھی لگی خاموش ادا اچھی نہ تھی ’’سرگوشیاں‘‘ میں باجی کو پڑھا‘ حمدونعت سے اپنے دل کو منور کیا۔ ’’الکوثر‘‘ میں کافی دیر ڈوب سی گئی۔ ’’ہمارا آنچل‘‘ میں بہنوں سے ملاقات کا شرف ملا۔ بہت اچھا لگا۔ سب سے پہلے راحت وفا کی ’’غلطی‘‘ اچھی لگی۔ نازیہ کے تینوں حصے ایک ساتھ پڑھنے میں مزہ آئے گا۔ ’’اکائی‘‘ سب سے زیادہ پسند ہے۔ تاج بیگم جیسی خواتین بھی ہوتی ہیں، یقین نہیں آتا۔ بہرحال چھوٹے نواب میرے پسندیدہ ہیرو ہیں۔ ہر ماہ بے چینی سے منتظر رہتی ہوں۔ ’’اکائی‘‘ کی تاج بیگم کو پڑھ کے بے اختیار دل سے نکلتا ہے کہ کاش میرے ملک صاحب کی ساسو ماں بھی ایسی ہی ہوتی تو کتنا ہی اچھا ہوتا کم از کم سیدھے تو رہتے وہ (ہی ہی ہی)۔ ریحانہ آفتاب‘ راشدہ رفعت‘ شازیہ الطاف ہاشمی‘ شبانہ شوکت‘ ندا حسنین سب کی تحریریں بہت ہی اچھی لگیں۔ کسی نے کم تو کسی نے زیادہ مگر محنت تو سب نے ہی کی ہے۔ سمیرا شریف کا ’’جنون سے عشق تک‘‘ کا اختتام ہوا ۔ ’’نیرنگ خیال‘‘ میں عائشہ نور کی شاعری اور جاذبہ عباسی کی شاعری بہت اچھی لگی۔ ’’دوست کا پیغام آئے‘‘ میں کافی دوستوں کو اپنا منتظر پایا۔ سمیرا سواتی‘ حنا کنول فرحان‘ رقیہ ناز‘ ماہ رخ سیال‘ اقرا ممتاز‘ اے ایف ایس سب کے پیغام اچھے لگے۔ شگفتہ خان کا پیغام بہت ہی اچھا تھا۔ ’’یادگار لمحے‘‘ تو سب ہی پسند تھا۔ ’’آئینہ‘‘ کی محفل میں اس مرتبہ بہت مزہ آیا۔ شہلا عامر نے ہر بہن کو کوئی نہ کوئی جواب ضرور دیا ہے۔ شہلا جی‘ آپ بھی شمائلہ کی طرح کریلے مرچی وغیرہ کھا کر چٹ پٹے جوابات دیا کریں۔ سچ بہت ہی مزہ آئے گا۔ اسما صدیقہ‘ ثمینہ مصری‘ ملک صاحب کو پنجہ مارنے پر ہم خود بھی بہت ہی ہنسے اور ارم کا کمال، سچ یہ میں بہت ہی مزہ آیا تھا۔ لیلیٰ ربنواز نے بھی خوب لکھا۔ انیلا طالب پورے آنچل میں چھائی رہیں‘ ان کی تعریف نہ کروں تو ان کے ساتھ ظلم ہوگا۔ ’’ہم سے پوچھیے‘‘ میں مدیحہ نورین کی ’’ٹنڈ‘‘ واہ کتنی خوب صورت ہوگی چمکدار۔ سحرش میانوالی آج کے دور میں محبت سچی ہے کہاں‘ ہمیں تو نظر نہیں آتی۔ محبت میں پاگل ہونے والے بچھڑنے کے بعد کسی اور کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ سب فلمی باتیں ہیں۔ ’’کام کی باتیں‘‘ محرم الحرام کی باتیں بیسٹ رہیں۔ ان دنوں روزہ بھی ہوتا ہے‘ بہرحال اس مرتبہ مہنگائی کا مارا ہوا بے چارہ کمزور سا آنچل ختم ہوا۔ آخر میں پیاری پیاری سی شمائلہ کاشف کو میری طرف سے بہت سارا پیار۔
٭ پیاری انجم! خواتین کی یہی ادا اچھی ہے کہ وہ کم از کم تصویر میں تو خاموش ہوتی ہیں اور پھر خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔ کبھی کبھی الفاظ سے زیادہ خاموشی اثرانگیز ہوتی ہے۔ یہ نیم کے پتے اور کریلے کا جوس تو آپ پی لیں گی مگر شمائلہ جیسی ڈیشنگ‘ ہینڈسم‘ بیوٹی فل‘ چارمنگ پرسنالٹی کہاں سے لائیں گی۔ رہی بات مرچوں کی تو سالن میں ذرا سی بھی مرچیں تیز ہوں تو ہماری آنکھوں اور ناک سیَ پانی بہنے لگتا ہے‘ کجا یہ کہ مرچ کھا کر جواب لکھیں۔ اس کام کے لیے شمائلہ ہے ناں ہمارے پاس۔
تبسم بشیر حسین… ڈنگہ۔ ٹائٹل بالکل بورنگ تھا۔ ’’سرگوشیاں‘‘ بہترین الفاظ۔ ’’حمدونعت‘‘ ہمیشہ کی طرح بیسٹ رہی۔ ’’درجواب آں‘‘ ماورا کی ممانی کو اللہ جنت الفردوس میں جگہ دے‘ آمین۔ ڈاکٹر تنویر کتاب پر مبارک باد۔ نزہت آنٹی کو پوتے مبارک ہوں۔ ’’الکوثر‘‘ مائی فیورٹ… بیسٹ۔ ’’ہمارا آنچل‘‘ میں چاروں بہنوں کے تعارف گڈمڈ تھے۔ سلسلہ وار ناولز ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ اقرا صغیر کی یہ قسط بھی امیزنگ رہی۔ ’’اکائی‘‘ عشناء کوثر اس دفعہ کچھ مزہ نہیں آیا۔ ’’جنون سے عشق تک‘‘ بہت بہت مبارکباد ناول کے اینڈ پر۔ ایسے ہی اینڈ کی امید تھی۔ ایک اور اچھے سے ناول کے ہمراہ دوبارہ آئیے گا۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ کا دوسرا حصہ بھی امیزنگ رہا۔ تیسرے اور آخری حصے کا انتظار ہے۔ ’’چندا رے چندا‘‘ ندا حسنین کا ناول امیزنگ تھا‘ ویری گڈ۔ ناولٹ ’’محرم ذات‘‘ شبانہ شوکت کو آنچل میں دیکھ کر بہت اچھا لگا‘ تحریر بھی عمدہ تھی۔ افسانے آخر ہر ماہ اتنے کم کیوں ہوتے ہیں؟ ’’غلطی‘‘ از راحت وفا،و نڈرفل۔ میں ان کی بہت بڑی فین ہوں۔ ان سے گزارش ہے کہ ’’موم کی محبت‘‘ سا ایک سلسلہ وار ناول لکھ ڈالیں‘ سوچیے گا ضرور۔ موسٹ فیورٹ رائٹر ریحانہ آفتاب کا ’’آخری اسٹیشن‘‘ ایک زبردست تحریر تھی۔ ’’محاسبہ‘‘ عجیب سا نام لگا پر راشدہ نے اچھی کاوش لکھی۔ شازیہ الطاف ہاشمی‘ ویلکم ٹو آنچل نگری۔ ’’طوفان‘‘ واز ونڈر فل۔ مستقل سلسلے آنچل کی جان۔ ’’ہومیو کارنر‘‘ معلومات سے بھرپور۔ ’’آپ کی صحت‘‘ ڈاکٹر ہاشم کا بہترین سلسلہ۔ ’’ہم سے پوچھیے‘‘ (ہاہاہاہاہا)۔ ’’بیاض دل‘‘ سب کے اشعار ہارٹ ٹچ تھے۔ ’’نیرنگ خیال‘‘ انعم زہرہ‘ فریدہ خانم‘ فریدہ فری‘ فائزہ بھٹی‘ اقرا تبسم‘ فصیحہ آصف نے زبردست لکھا۔ ونڈر فل۔ ’’دوست کا پیغام آئے‘‘ جنہوں نے یاد کیا ان کا بہت بہت شکریہ اور جنہوں نے یاد نہیں کیا ان کا بھی شکریہ۔ ڈیئر اقرا ممتاز‘ میں دوست بناکر کبھی بھی نہیں بھولتی ہوں‘ آپ سب مجھے یاد ہیں، بھلا اپنوں کو بھی کوئی بھولتا ہے؟ میں نے کئی پیغامات لکھ کر ارسال کیے آپ سب کے نام پر اللہ جانے کیوں شائع نہیں ہوتے؟ خطوط میں بھی آپ سب کا ذکر لازمی کرتی ہوں پر ادارہ ایڈٹ کردیتا ہے (اب ہماری کیا غلطی؟) اس دفعہ جو سلسلہ بیسٹ ترتیب دیا آپ لوگوں نے وہ ہے ’’یادگار لمحے‘‘ سب نے زبردست لکھا۔ ’’آئینہ‘‘ یہ کیا کیا شہلا باجی؟ لوگ دل کے دو ٹکڑے کرتے ہیں‘ آپ نے ہمارے خط کے کردیئے۔ آدھا صفحہ نمبر 214 پر اور آدھا صفحہ نمبر 216 پر۔ کس غلطی کی سزا تھی یہ؟ سب کے تبصرے محفل کی جان رہے۔ اقراء جٹ‘ گل مینا خان‘ پروین افضل اور کوثر خالد کی کمی محسوس ہوئی۔ ’’کام کی باتیں‘‘ محرم الحرام پر لکھی گئی بہت بہت پسند آئیں۔ آخر میں مجھے دو سوال پوچھنے ہیں‘ جواب ضرور دیجئے گا۔ (i) آنچل کے نئے سلسلے کب سے شروع ہوں گے اور کیا پرانے سلسلے ختم کردیے جائیں گے؟ تلخ و شیریں میں ہر خاص و عام شرکت کرسکتا ہے؟ (ii) کہانیوں کی طرح کیا نظموں‘ غزلوں میں بھی قابل و ناقابل اشاعت سے آگاہ نہیں کیا جاسکتا؟ میں نے اپنی غزلیں بھیجی تھیں اس کا بتادیں‘ مہربانی ہوگی۔
٭ پیاری تبسم! یہ جو آپ کے خط کے غلطی سے دو ٹکڑے ہوگئے تھے‘ یہ ہمارے کمپوزنگ ڈپارٹمنٹ کی مہربانی تھی۔ بہرحال وہ بھی بندہ بشر ہیں‘ غلطی ہوجائے تو معاف کردیا کریں اور یہ جو ذرا ذرا سی باتوں پر آپ کا دل ٹوٹ جاتا ہے نا تو شمائلہ کہہ رہی ہے ایلفی خرید لیں۔ رہی بات نئے سلسلوں کی تو وہ بتدریج شروع ہوں گے اور ہمارے تو سارے قارئین ہی خاص ہیں۔ آپ بالکل تلخ و شیریں میں اپنے تجربات لکھ کر بھیج سکتی ہیں۔ خواہ وہ سوالات سے مطابقت رکھتے ہوں یا نہیں۔ ہمارا مقصد محنتی اور باعزم خواتین کی جدوجہد کو سامنے لانا ہے۔ باقی تمام سلسلے آپ بہنوں کے لیے ہی ہیں۔ آپ سب ضرور ان میں حصہ لیا کریں‘ ہمیں اچھا لگتا ہے۔
اُم فروا… سیاح شریف۔ اس دفعہ آنچل 25 کو ہمارے ہاتھ میں تھا۔ ٹائٹل پر حسینہ کی ’’آنکھیں‘‘ بہت پسند آئیں۔ ایسی آنکھیں ہماری کمزوری ہیں‘ بڑی بڑی اور آنکھوں کے میک اَپ نے حسینہ کو اور حسین بنادیا۔ خیر سب سے پہلے لسٹ پر پہنچے‘ اس کے بعد حمد‘ نعت اور پھر سیدھے جاکر ’’جنون سے عشق تک‘‘ پر رکے۔ ارے واہ! سمیرا آپی نے تو کمال کردیا اس کامیاب ناول پر مبارک باد۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ پلیز نازی آپی! ایزد حسن کے ساتھ برا مت کیجئے گا۔ امرحہ تمہیں خدا پوچھے گا۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ اقرا صغیر بہت خوب صورت انداز ہے مگر پلیز انشراح کو سمجھادیں‘ بچارا نوفل تو پہلے ہی عورت کے کردار کا ڈسا ہوا ہے‘ مزید برداشت نہیں کرسکے گا۔ زید اور سودہ کو ایک کردیں۔ ’’اکائی‘‘ عشنا کوثر سردار! ویل ڈن۔ اماں جان تعلیم یافتہ معلوم ہوتی ہیں۔ ایسے ایسے محاورے استعمال کرتی ہیں کہ ہم سوچ میں پڑجاتے ہیں۔ ’’چندا رے چندا‘‘ ندا حسنین‘ بہت خوب صورت انداز میں معاشرے کی برائی کو زیربحث لائیں۔ ویل ڈن ندا حسنین۔ باقی سارے افسانے پسند آئے۔ ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ عمیرا احمد‘ نازیہ کنول نازی‘ سیّدہ غزل زیدی‘ اقراء صغیر احمد‘ سمیرا شریف طور‘ اُم مریم‘ عشنا کوثر اتنے خوب صورت الفاظ کون سے دیس سے ڈھونڈ کے لاتی ہیں‘ ہمیں بھی بتائیے۔ ہم آپ کے فین ہیں۔ جاذبہ عباسی ہمیں آپ بہت بہت اچھی لگتی ہیں‘ پتا نہیں کیوں اتنی شدت سے ہم ہر ماہ آپ کو آنچل میں تلاش کرتے ہیں۔ آپ کا نام ہمیں بہت پسند ہے۔ آپ حیران نہ ہوں‘ ہم ابھی ابھی بزم میں آئے ہیں لیکن جلد ہی سب کے دوست بن کر ’’دعا‘‘ لینے کی کوشش کریں گے۔
طیبہ خاور سلطان… عزیز چک‘ وزیرآباد۔ امید ہے آپ نے مجھے مس ضرور کیا ہوگا۔ اتنے مہینوں بعد جو آئی ہوں۔ آنچل مجھے 25 کو مل گیا تھا۔ ٹائٹل زبردست تھا۔ سب سے پہلے آنٹی قیصر آراء کی ’’سرگوشیاں‘‘ سنیں پھر حمدونعت سے مستفید ہوئے۔ ’’درجواب آں‘‘ میں سب کے لیٹرز پڑھے۔ ’’دانش کدہ‘‘ میں جھانکا تو مشتاق انکل بہت مفید باتیں بتارہے تھے۔ ہماری معلومات میں تو بہت اضافہ ہوا جی۔ سلسلے وار ناولز کی طرف بڑھے تو ’’جنون سے عشق تک‘‘ سمیرا جی بہت زبردست اینڈ کیا آپ نے‘ ویل ڈن۔ اب اگلا سلسلے وار ناول لے کر کب آرہی ہیں؟ ’’ہم سے پوچھیے‘‘ میں عائشہ پرویز‘ مدیحہ نورین‘ اے ایف ایچ ایس ان سب کے سوالات زبردست تھے۔ ’’آئینہ‘‘ سحر تبسم سحری‘ سمیعہ سجاول‘ اسماء صدیقہ‘ ثمینہ مصری آپ سب کا تبصرہ جاندار تھا۔ ’’یادگار لمحے‘‘ میں گلشن چوہدری‘ ندا افتخار‘ مدیحہ نورین آپ سب نے لمحوں کو یادگار بنادیا۔ ’’نیرنگ خیال‘‘ میں انوش فاطمہ‘ فریدہ خانم‘ فریدہ جاوید فری‘ عروشہ شہوار‘ نجم انجم آپ سب کی تخلیق زبردست تھی۔ ’’ڈش مقابلہ‘‘ میں نزہت جبیں ضیاء‘ امبر فاطمہ ان دونوں کی ریسپیز پسند آئیں۔ ’’بیاضِ دل‘‘ میں سب کی پسند لاجواب تھی۔ فوزیہ سلطانہ جواب کیوں نہیں دے رہیں‘ کوئی ناراضگی چل رہی ہے کیا (آہم)۔ ’’ہومیو کارنر‘‘ بلاشبہ بہت معلومات لیے ہوئے ہے اور جو نیا سلسلہ شروع کررہے ہیں ’’تلخ و شیریں‘‘ بہت پسند آیا۔ دل تو تھا شامل ہونے کا لیکن کوئی بھی سوال میری ذات سے منسلک نہیں تھا۔ جیسے میرے پاپا کی ڈیتھ ہوچکی۔ دل تو تھا اپنے دل کی باتیں لکھیں۔ اگلے مہینے دیکھیں گے کون سا موضوع ہے۔ ناولز میں نے کوئی نہیں پڑھے اس لیے تبصرہ نہیں کرسکی۔ مجھے اب اجازت ‘ سدا خوش رہیں۔ اللہ حافظ!
٭ پیاری طیبہ! اس ماہ ’’تلخ و شیریں‘‘ میں ایک بہن کے حالات شامل ہیں‘ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ بھی اس سلسلے میں شامل ہوسکتی ہیں تو ضرور اپنے تجربات ہمیں لکھ بھیجیں۔
انعم زہرہ… ملتان۔ حمیرا مغل کے خوب صورت چہرے سے سجا ٹائٹل بہت پسند آیا اور فہرست میں تمام سلسلہ وار ناولز کو دیکھ کر دل کو سکون ملا ورنہ اس فہرست میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی غائب ہوتا ہے۔ ’’سرگوشیاں‘‘ میں قیصر آراء آنی سے بات کرکے اچھا لگا۔ میدان کربلا میں شریعت کو بچانے کے لیے دی گئی ’’امام حسینؓ‘‘ کی عظیم قربانی اور سر کٹا کر بھی اسلام کا پرچم سربلند رکھنے کی عظیم فتح کی یاد نے آنکھیں نم کردیں۔ جناب ابرار امیر آپ کی حمد اور جناب عبید رضا قادری آپ کی نعت بہت خوب صورت لگی۔ ’’درجواب آں‘‘ اس بار میں نظر نہیں آئی کیونکہ میں خط بروقت ارسال نہیں کرپائی تھی اور مدیرہ آنی ڈاکٹر تنویر انور خان کو مناتی ہوئی نظر آئیں۔ محبت بھرا انداز بہت اچھا لگا۔ نزہت جبیں ضیاء آپ کو پوتوں کی آمد پر ڈھیروں ڈھیر مبارک باد۔ شمیم ناز صدیقی آپ کے شوہر کے بارے میں جان کر بے حد افسوس ہوا۔ خدا آپ کو اور تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے (آمین)۔ اب آتے ہیں سلسلہ وار ناولز کی طرف‘ سب سے پہلے بات ہوجائے اقرا آپی کے ناول ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ جہاں آراء کو پریشان دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے اور انشراح کی طرف سے پریشانی بڑھ رہی ہے۔ ’’جنون سے عشق تک‘‘ آخری حصہ دیکھ کر دل بجھ سا گیا۔ خیر آپ کا یہ ناول ایک عرصے تک ہمارے ذہن و دل میں محفوظ رہے گا۔ جو آخری لمحہ آپ نے قلمبند کیا بہت ہی خوب صورت تھا اوور آل سارا ناول بہت ہی بیسٹ تھا۔ اور ’’اکائی‘‘ پڑھنے چلے تو وہاں بھی اقراء آپی کا ناول پھر سے لگا ہوا تھا اور ’’عشق سفر کی دھول‘‘ بھی مکمل نہیں تھی قسط ۔ پیجز لگانے میں کہیں غلطی ہوئی ہے‘ نیکسٹ منتھ ’’اکائی‘‘ پر تفصیلی تبصرہ کروں گی۔ راحت وفا ’’غلطی‘‘ میں بہت اچھی منظرکشی کی ہے آپ نے گھریلو حالات کی اور ہما بیگم کی غلطی کو آپ نے صحیح عبرت کا نشان بنایا ہے زمانے کے لیے۔ جو کہانی پڑھے گا ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ ’’بیاض دل‘‘ میںسب کے اشعار پسند آئے۔ ’’نیرنگ خیال‘‘ میں انوش فاطمہ‘ سباس گل اور نجم انجم اعوان اور اپنی ویڈنگ غزل (جو میں نے اپنے چھوٹے بھیا اور بھابھی کے لیے لکھی تھی) پسند آئی۔ ’’دوست کا پیغام آئے‘‘ سمیرا سواتی کیا آپ مجھ سے مخاطب ہیں؟ اگر ہاں تو میری زندگی کچھ خاص مصروف نہیں اور آنچل فرینڈز کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں اور مجھے بھی آپ سے دوستی کرکے بہت خوشی ہوگی۔ پروین افضل شاہین میری شاعری پسند کرنے کا شکریہ اور آپ واقعی بہت خوب صورت لکھتی ہیں‘ سو تعریف تو بنتی ہے۔ ’’آئینہ‘‘ میں سب ہی بہنوں کے تبصرے پسند آئے۔
علیشہ خان … بھیر کھنڈ۔ السلام علیکم! پیار محبت اور خلوص کی چاشنی میں لپٹا سلام قبول ہو۔ سب دوشیزائیں ، ہمہ تن گوش ہو جائیں، کیونکہ ملکۂ ادب علیشبہ خان تشریف لا چکی ہیں۔ تو جناب جیسے ہی موسم کے تیور بدلے ہم بھی خوشی سے جھوم اٹھے کیونکہ سردیوں سے ہمیں والہانہ عشق ہے۔ تو سردیوں کا پہلا شمارہ جیسے ہی بھائی گھر میں لے کر داخل ہوئے ہم للچائی نظروں سے استقبال کے لیے بڑھے مگر وہ پہلے ہی مشی خان کے ہاتھ جاچکا تھا۔ کیونکہ مشی آپی کہتی ہیں کہ ابھی ہم چھوٹے ہیں، ابھی صرف پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے۔ 27 کو گھر میں آیا۔ 29 کو مجھے ملا تو شروع کیا، ہم نے سروق سے … حمیرا مغل کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ حمد و نعت کو پڑھ کر دل و جان میں حقیقی سکون اتر گیا۔ الکوثر سے فیضیاب ہوئے، پھر افسانہ ’’آخری اسٹیشن پڑھا‘‘ زبردست لکھا۔ طوفان بھی زبردست رہا، واقعی دوسروں کے دکھوں پر جشن منانیو الوں کے چہرے تاریک ہوتے ہیں۔ تھینک گاڈ… جنون سے عشق تک کا اینڈ اچھا ہوگیا۔ ’’عشق سفرکی دھول‘‘ ویلڈن اچھا ہوا۔سارے ہی افسانے سبق آموز تھے۔ سمیرا سواتی کا ’’بزم سخن‘‘ میں شعر پسند آیا۔ غزلیں بھی سب کی بہترین تھیں۔ دوست کا پیغام آئے میں جنہوں نے یاد رکھا شکریہ اور سمیرا سواتی میں مشی خان کی چوٹی بہن ہوں۔ تبصرے پر ادارے کا جوابی خط، ارے شمائلہ آپی آپ تو اچھی خاصی بے عزتی کردیتی ہیں۔ اتنے کم صفحات جیسے ہی آگے صفحہ پلٹا تو ڈائجسٹ آنچل کو ختم پایا۔ ویری سیڈ۔
رقیہ ناز… میلسی۔ آنچل 23 کو ہی مل گیا۔ ماڈل ’’حمیرا مغل‘‘ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔ میک اپ میری پسند کا تھا، وائو مزہ آگیا۔ سب سے پہلے قیصر آرا کی سرگوشیاں سنیں۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو پر امن بنائے اور حکومت میں بھی سدھار آجائے۔ حمد و نعت سے اپنے دل کو منور کیا۔ اس سے آگے بڑھے تو قیصر آرا کو سب کا حوصلہ بڑھاتے دیکھا۔ شمیم ناز آپ کے شوہر، ماروا طلحہ آپ کی ممانی کی رحلت اور جمیلہ بشیر والدہ کی دائمی جدائی کے بارے میں پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ میری دعا ہے کہ للہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے آمین۔ ہمارا آنچل میں چاروں پریوں کے تعارف اچھے لگے۔ مہربان شاہ20 دسمبر کو آپ کی سالگرہ ہے مبارک ہو۔ نازی کنول نازی آپ کا ناول ’’عشق سفر کی دھول‘‘ بہت اچھا لگا۔ ایزد بچارے پر بہت ترس آتا ہے۔ سچ کہتے ہیں کہ جب قسمت ساتھ چھوڑ دے تو ہر تاویل چھوٹی پڑجاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ امرحہ کو ایزد نے اغواء کیا ہے۔ ویسے غزلیں بھی اس ناول کی بہت اچھی ہیں۔ اس کے بعد تیری زلف کے سر ہونے تک پڑھا۔ امید ہے کہ سودہ کی شادی پیارے میاں سے نہیں زید بھائی سے ہوگی اور عمرانہ سدھر جائے گی۔ افسانے اچھے تھے خاص کر آخری اسٹیشن ریحانہ آفتاب آپ کا ہر لفظ دماغ میں بغیر چپک کر رہ گیا۔ بیاض دل میں اقراء ممتاز، ثانیہ الطاف، عاصمہ بی (کا شعر سدرہ تمہارے لیے) مہربان شاہ، نوشیر اقبال اور مہوش کنول آپ لوگوں کے شعر میری ڈائری کی زینت بن گئے ہیں۔ نیرنگ خیال میں جاذبہ عباسی اور اقراء تبسم آپ دونوں کی غزلیں ’’ میں لوٹ آیا ہوں‘‘ اور ’’فرق‘‘ بہت پسند آئیں۔ دوست کا پیغام آئے میں سمیرا سواتی، اقراء ممتاز اور نجم انجم آپ نے مجھے یاد رکھا شکریہ۔ سعدیہ حور میں اور لیلیٰ ربنواز کے لیٹر پسند آئے۔ یادگار لمحے میرے پسندیدہ ہیں۔ یادگار لمحے میری ڈائری کی زینت بن جاتے ہیں۔ آئینہ میں ثناء رسول، انیقہ احمد اور صغریٰ شہزادی کے تبصرے پسند آئے۔ ہم سے پوچھیے، شمائلہ آپی تو ساتھ میں باداموں کا ٹوکرا رکھ کر سب کو کرارے کرارے جواب دے رہی تھیں۔ کام کی باتیں واقعی بہت کام کی تھیں۔ انیلا طالب اور مون قریشی میں آپ سے دوستی کرنا چاہتی ہوں کوئی زبردستی نہیں اللہ حافظ۔
لبنیٰ شکیلہ… سیالکوٹ۔ شہلا جی! کافی عرصہ بعد آپ کی بزم میں شرکت کرکے آپ کو شرفِ میزبانی بخش رہی ہوں، اس امید پر شاید آپ نے کچھ کمی محسوس کی ہو گی۔ اب آتے ہیں اکتوبر کے شمارے کی طرف تو جناب اس بار آنچل 27 ستمبر کو ملا۔ سب سے پہلے مومن والی حدیث کو پڑھنے سے دل کو سکون و چین ملا، ساتھ ہی حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبول سے دل و روح کو منور کیا (سبحان اللہ) پھر آئے ’’سرگوشیاں‘‘ کی طرف تو قیصر آرا جی! آپ نے بالکل سچ فرمایا کہ ہمارے سال کی ابتدا اور انتہا قربانی کے مہینوں پر ہوتی ہے اور ان مقدس ہستیوں نے جتنا صبر کیا اس کا ذرہ برابر بھی ہم سے نہیں ہو سکتا، بس ہم اتنی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہم پر رحم کرتے ہوئے ہماری آخرت سنوار دے (آمین) یہاں پر میں آپ کی بات کے جواب میں ان مقدس ہستیوں کی خدمت میں سلام کا نذرانہ پیش کرتی ہوں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس چھوٹی سی کاوش کو قبول فرما کر مجھ پر کرم فرمائے۔(بے شک)’’در جواب آں‘‘ قیصر آرا جی کبھی کسی کو مایوس نہیں کرتیں یہ ان کی محبت ہی ہے کہ ہم مجبور ہوجاتے ہیں۔ ’’دانش کدہ‘‘ میں الکوثر لاجواب سلسلہ جو ایمان کو تازہ کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی بھی توفیق دے آمین۔ قرآن مجید کی اصل لذت بھی ان ہی کو حاصل ہوتی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں (بے شک) ہمارا آنچل میں سب کا تعارف اچھا لگا۔ ’’کام کی باتیں‘‘ یوم عاشورہ کے بارے میں باتیں معلوم تھیں مگر بار بار پڑھنے کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے۔ شکریہ حنا احمد ’’آئینہ‘‘ میں شامل تمام تبصرے زبردست تھے۔ ’’یادگار لمحے‘‘ میں ’’الوداع اردو‘‘ پڑھ کر دل دکھی اس لیے ہوا کہ ’’کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا۔‘‘ بالکل یہی ہمارے ساتھ ہو رہاہے، ہم اپنی قومی اور مادری زبانیں بولنے میں پتا نہیں کیوں شرم محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی ہماری اصل پہچان ہیں۔ مدیحہ نورین اور گلشن چودھری زبردست۔ ’’دوست کا پیغام آئے‘‘ تھا تو نظر کا کھاپا (ضیاع) مگر کسی کا دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا۔ سب کو شامل کرنا اچھا لگا۔ ’’نیرنگ خیال‘‘ میں انوشہ فاطمہ کی دعا پر خود بخود زبان سے آمین نکلا۔ نجم انجم اعوان میں دل سے دعا گو ہوں۔ اللہ تعالیٰ اگلے سال آپ کو تگڑاانہ سہی کمزور سا بکرا ہی دے دے تاکہ آپ محلے میں اترا سکیں۔ ’’بیاض دل‘‘ میں صغریٰ شہزادی کنول کے شعر کے علاوہ سب سے زبردست میرا اپنا ہی شعر تھا (ہاہاہا) سب کے سب بہت اچھے تھے۔ کسی ایک کو فوقیت دینا زیادتی ہوتی۔ اب آتی ہوں اپنے پسندیدہ ناول ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ یہ تو لگ رہا تھا کہ سیاپا (جھگڑا) ضرور ہوگا، جس کے نتیجے میں سودہ زید کی ہوجائے گی۔ مگر پیارے میاں تو سرے سے فرار ہی ہوگئے۔ خیر سودہ کے ساتھ خدا اچھا ہی کرے گا۔ بہر حال آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ ’’جنون سے عشق تک‘‘ ایک اچھا ناول اپنے اختتام کو پہنچا۔ زبردست واقعی بعض لوگ جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہوتے نہیں۔ شہرینہ نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ کسی کے لیے گڑھا کھودنے سے انسان خود بھی اس گڑھے میں گرجاتا ہے۔ جیسا کہ امرحہ بھی ایسی صورت حال سے دوچار ہو رہی ہے۔ تو جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ ’’چندا رے چندا‘‘ واقعی حسن سے زیادہ کردار و سیرت پائیدار ہوتے ہیں۔ ایک سبق آموز ناول تھا۔ باقی ابھی زیر مطالعہ ہے۔ امید ہے تبصرہ پسند آئے گا۔ تمام دوستوں کو سلام۔
کرن شہزادہ … مانسہرہ۔السلام علیکم، شہلا اپیا! کیسی ہیں آپ؟ بالآخر انتظار کے جاںگسل لمحات اختتام کو پہنچے اور حسب معمول 28 تاریخ کو آنچل ہمارے دست نازک میں آیا۔سرورق دیکھ کر ایسا لگا جیسے سخت سردی اور برستی برسات میں سورج کا نکلنا، سرورق کو پھلانگتے اشتہاروں سے بچتے بچاتے آگے بڑھے تو قیصر آنی سے میٹھی میٹھی سرگوشیاں کیں۔ حمد و نعت نے قلب کو سکون بخشا ’’ در جواب آں‘‘ میں مدیرہ صاحبہ کو ہمیشہ کی طرح مہربان پایا۔ ’’دانش کدہ‘‘ میں مشتاق انکل نے قربانی کی عظمت و فضیلت کو اجاگر کرتے ہوئے ہمارے علم و دانش میں اضافہ کیا۔ ’’ہمارا آنچل‘‘ میں چاروں بہنوں سے ملاقات خوب رہی۔ شائستہ یاسین ارے واہ آپ کے تو مزے ہوتے ہوں گے کیونکہ آپ تو تاریخی شہر میں رہتی ہیں۔ مہربان شاہ آپ اپنا اصل نام بھی لکھتی تو ہمیں زیادہ اچھا لگتا۔ کندہ علی اب بندہ کالج لائف میں بھی انجوائے نہ کرے۔ تو کب کرے گا۔ بس شرط یہ ہونی چاہیے کہ بندہ اپنی پڑھائی کو بھی ساتھ لے کر چلے۔ نور حیدر ہم آپ کو آنچل میں ویلکم کرتے ہیں۔ پھر بڑھے سلسلہ وار ناول کی طرف تو سب سے پہلے اقراء صغیر احمد کا ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ پڑھا۔ آپی آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا۔ ویسے شکر کیا پیارے میاں کے فرا ہونے کی خبر سن کر پلیز آپی سودہ کو زید سے جدا مت کیجیے گا۔ عشنا کوثر سردار کی ’’ اکائی‘‘ میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ اٹریکٹ کرتی ہے وہ ہے اماں جان کے معاملے چاہے وہ جس بھی نوعیت کے ہوں اور ان کی کہاوتوں کے ساتھ بابا بلھے شاہ کا کلام ویلڈن بہت اچھا جا رہا ہے۔ مکمل ناول میں سمیرا شریف طور کا ’’جنون سے عشق تک‘‘ کا اختتام بیسٹ ہوا۔ شہرینہ کے عقلمندانہ فیصلے پردل خوش ہو ا۔ ورنہ اس سرپھری سے کچھ بعید نہ تھا کہ کچھ الٹا سیدھا نہ کردے۔ سمیرا آپی اب غائب مت ہوجائیے گا۔ آپ کے سلسلہ وار ناول کا انتظار رہے گا۔ نازیہ کنول نازی کا مکمل ناول ان کے مخصوص طرز تحریر کے ساتھ بہت اچھا لگا۔ جب کہ غصے اور جلد بازی میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ غلط ثابت ہوتے ہیں، جن پر بعد میں پچھتانا بھی پڑتا ہے امرحہ بھی اب پچھتا رہی ہے جب کہ لگتا ہے امرحہ کو کڈنیپ کرنے والا ایزد ہی ہے۔ آخری قسط کا بے چینی سے انتظار ہے۔ ندا حسینن کا مکمل ناول ’’ چندا رے چندا‘‘ بیسٹ رہا۔ سچ میں حسن کے حسن کے بغیر توگزارہ ہوسکتا ہے، لیکن عزت کے بغیر نہیں، کیونکہ عزت ایک دفعہ چلی جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتی۔ ناولٹ میں شبانہ شوکت کا ’’ محرم ذات‘‘ سپر ڈوپر رہا۔ شاذل کی خود داری بہت بھائی۔ افسانوں میں ریحانہ آفتاب کا ’’آخری اسٹیشن‘‘ بہترین رہا۔ انہوں نے پرانے موضوع کو نئے انداز میں پیش کیا۔ جو کہ ہمارے معاشرے کا بڑا المیہ ہے۔ والدین جو کہ اپنے پانچ، چھ بچوں کو بآسانی پال پوس کے بڑا کرتے ہیں۔بڑھاپے میں وہی بچے اپنے والدین کو نہیں سنبھال سکتے۔ ’’محاسبہ‘‘ اس موضوع کو بھی راشدہ رفعت نے نئے انداز میں پیش کیا۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی، راحت وفا کی ’’غلطی‘‘ اور شازیہ الطاف ہاشمی کی طوفان بھی عمدہ تحاریر تھیں۔ مستقل سلسلوں میں ’’بیاض دل‘‘ اور انتخاب پسند آئے۔ ’’دوست کا پیغام آئے‘‘ میں دوستوں کے پیغامات پڑھے، جن دوستوں نے یاد کیا ان کا بے حد شکریہ۔ ’’نیرنگ خیال‘‘ میں سباس گل، عروسہ شہوار رفیع، ام کلثوم کی نظمیں اور فائزہ بھٹی، آصف خان کی غزلیں پسند آئیں۔ ’’ ہم سے پوچھیے‘‘ اسپائسی رہا۔ ’’آئینہ‘‘ پر پہنچے تو حیران رہ گئے۔ آنکھوں کو مل مل کر دیکھا ایک بار، دوبار بھئی کہاںہم تبصرہ بھیج کر یہ امیدلگائے رکھتے تھے کہ شہلا آپی ہمارے تبصرے پر کچھ رسپانس دیں گی۔ کوئی میٹھا جملہ کوئی تعریف پر ناجی۔ (اب اس بات پر حیران ہونا تو بنتا ہے نا) خوشگوار تبدیلی محسوس ہوئی۔ تبصروں میں ثناء رسول ہاشمی، ماریہ سلیم اختر کے تبصرے پسند آئے ’’کام کی باتیں‘‘ حنا احمد نے محرم الحرام کی عظمت و فضیلت کو بیان کرکے علم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔
٭پیاری کرن! کوئی جواب طلب بات ہو تو ہم ضرور جواب دیتے ہیں۔ اب اپنی تعریفیں سن کر کیا جواب دیں۔
افشاں سراج… عارف والا۔ السلام علیکم! آنچل اسٹاف و قارئین کو محنت بھرا سلام قبول ہو۔ سب سے پہلے سمیرا آپ کی ’’جنون سے عشق تک‘‘ پڑھی۔ اچھی اینڈنگ، سمیرا آپی زبردست اسٹوری تھی۔ پھر پہنچی اقراء آپی کی طرف تو دل خوشی سے باغ باغ ہوگیا۔ جب مجھے پتا چلا کہ پیارے میاں ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ نازی آپ کی اسٹوری شروع کی زبردست اسٹوری تھی، لیکن صفحات غائب دیکھ کر دکھی ہوگئی۔’’محرم ذات‘‘ بہت خوب، شبانہ شوکت جی ونڈر فل اسٹوری تھی۔ ’’چندا رے چندا‘‘ کیا کہوں آپ کے بارے میں ’’ندا حسنین‘‘ جی زبردست لڑکیوں کے لیے بہت ہی زیادہ اصلاحی اسٹوری تھی۔ افسانے سب ہی خوب رہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک غلطی، آخری اسٹیشن، محاسبہ‘ طوفان سب ہی بہترین۔ ہمارا آنچل میں شائستہ، مہربان شاہ، کنزہ علی اور نور حیدر سے مل کر اچھا لگا۔
٭پیاری افشاں! ایسی صورت میں آپ اپنا پرچہ ہاکر سے تبدیل کروالیا کریں۔ وہ آپ کو دوسرا پرچہ فراہم کر دے گا۔
شائستہ یاسین… ہڑپہ شہر۔ آنچل کے تمام اسٹاف اور رائٹرز اینڈ ریڈرزکو میرا محبت بھرا سلام۔ ٹائٹل پر خوب صورت ماڈل کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ جیسے ہی پڑھنے کے لیے ورق کھولے یہ کیا ’’ہمارا آنچل‘‘ میں شائستہ یاسین‘‘ کا تعارف نام پھر پڑھا کہ کہیںمیں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔ بہت خوشی ہوئی امی کو پڑھایا، بہنوں کو دوستوں کو بھی پھر آگے بڑھے اپنی پسندیدہ اسٹوری کی طرف ’’جنون سے عشق تک‘‘ سمیرا شریف طور نے بہت اچھا اینڈ کیا۔ ’’اکائی‘‘ عشنا کوثر سردار کہانی کو اچھی طرح آگے بڑھا رہی ہیں، مگر برا ہو اجو جنت، کباب میں ہڈی بن گئی۔ رجت سنگھ کا کردار بھی کہانی میں اچھا ہے۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ نازیہ کنول نازی بہت اچھی کہانی ہے۔ امرحہ نے ایزد کے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا آنچل کے تمام سلسلے بہت اچھے ہیں۔ خاص طور پر دوست کا پیغام آئے، آ پ کی صحت وغیرہ۔
٭پیاری شائستہ! دعاؤں کے لیے شکریہ۔
عائزہ بھٹی… پتوکی۔ السلام علیکم پاکستان۔ کیا حال ہیں، آپ کے، اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ پر اور آپ کی پوری ٹیم پر اپنی رحمتوں کا نزول کرے۔ (آمین) اب قسط وار ناولز پر تھوڑا تھوڑا تبصرہ ہوجائے۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ واہ واہ زید سچی متاثر ہوگئے، تمہاری خیالی دنیا کے۔ وہ تو شکر ہے وہ سارا غمگین ڈرامہ تم نے خیالوں خوابوں میں گزار دیا۔ اگر واقعی میں سودہ کسی اور کی ہوجاتی تو پھر… مگر اب ہمیں پکا یقین ہوگیا ہے، رائٹر کو تم سے اتنی دشمنی نہیں ہے جتنی نوفل کے ساتھ ہے… سودہ ڈیئر اب تم قبول کرلینا ’’بے چارے‘‘ زید‘‘ کو ’’انشراح‘‘ تم اور نوفل دونوں لڑاکا طیارے ہو… ہر وقت حالتِ جنگ میں رہتے ہو… یار‘ دنیا میں پہلے ہی بہت سی جنگیں ہو رہی ہیں، اب تم لوگ رہنے دو… ہم قارئین پر بھی رحم کرو تھوڑا… ’’اکائی‘‘ عشنا کوثر تمہاری یہ کہانی حقیقت پسندانہ رویہ ہے… بھئی ہم نے تو تمہارے سنگ ہوائوں میں اڑنا سیکھا تھا، بادلوں سے ملاقاتیں ہوتی تھیں، وہ والا انداز لے کر آئو۔ ہمیں ہوائوں کے سنگ بادلوں میں جاکر رہنا ہے۔ نواب صاحب آپ کا فیصلہ ہمیں دل و جان سے پسند آیاہے… وقار حسن کے آگے کون ٹھہر سکا ہے آج تک، یہاں تو حسن اور عقل دونوں موجود تھیں۔ تمہیں جمع تفریق کا موقع نہیں ملے گا۔ ’’جنون سے عشق تک‘‘ سمیرا ہماری چھوٹی بہن کو آپ کی کہانیوں پر ایک اعتراض ہے۔ وہ کہتی رہتی ہے میںنے خط لکھ کر اس پر انگلی اٹھانی ہے۔ ہر کہانی میں ہیروئن کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے۔ حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ دراصل اس نے پچھلے دنوں ’’دھنک رنگ اوڑھ کر‘‘ پڑھی اور اسے اس میں ہیروئن کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر حد درجے اعتراض ہے، حالانکہ میں بہت کہتی ہوں کہ اس نے اپنے کیے کی سزا پائی۔ شہرینہ سے زیادہ ہمیں افگن پسندہے… سمیرا ویسے بھی تمہارے ہیرو بہت جاندار ہوتے ہیں… سمہان احمد تو آج بھی ہمارے دلوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ نازیہ کنول نازی تمہاری کہانی بھی اچھی لگی ہمیں، مگر ہیروئن کا اتنا زیادہ دلیر ہونا ذرا اچھا نہیں لگا۔ ’’دوست کا پیغام آئے… جن ج دوستوں نے یاد کیا بہت شکریہ۔ اگر نہیں کیا تو کئی بات نہیں، اگلی دفعہ ضرور یاد کیجیے گا۔ پچھلے دنوں بہن کی شادی میں کافی مصروف رہی۔سعدیہ کی شادی کا احوال اس جگہ ضرور پڑھیے گا۔ جہاں بھائی کی شادی کا احوال پڑھا تھا۔ اب اس دعا کے ساتھ اجازت کہ جہاں رہیں خوش رہیں اور دعائوں میں یاد رکھیے گا۔
٭پیاری فائزہ! ہم آپ کی خواہش ضرور پوری کرتے اگر صفحات کی کمی کا شکار نہ ہوتے کیونکہ صفحات کم ہونے کی بناء پر ہی ان سلسلوں کو فی الحال نہیں لگا رہے۔
ڈاکٹر زارا تعبیر… قصور۔ السلام علیکم! اور سنائو بھئی پاکستانیوں کیا حال چلا ہیں، آپ سب کے؟ اکتوبر کا شمار 25 کو مل گیا۔ ٹائٹل گرل ’’حمیرا مغل‘‘ بہت ہی سمپل تھیں۔ اسی لیے مجھے بہت خوب صورت لگیں۔ سب سے پہلے سرگوشیاں پڑھیں، سچ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی آگئی ہے۔ اس کے بعد جلدی سے دیکھا، میرا موست فیورٹ ناول ’’جنون سے عشق تک‘‘ جب دیکھا کہ یہ آخری حصہ ہے۔ تو میرا دل بجھ سا گیا، لیکن ساتھ ہی خوشی بھی ہوئی کہ آج شہرینہ اور افگن کی شادی بھی ہوجائے گی۔ وائو آپی سمیرا جی بہت اچھا اینڈ کیا آپ نے مزہ آگیا۔ بہت اچھا ناول تھا۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ ابھی پڑھی نہیں۔ ’’عشق سفر کی دھول‘‘ وائو آپی نازی بہت ہی اچھا ناول ہے۔ افسانہ’’ راحت وفا‘‘ آپی نے بہت ہی اچھا لکھا ہے۔ ہما بیگم ڈرتی بیٹے کے متعلق تھی، لیکن کام شوہر نے بگاڑ دیا۔ ’’آخری اسٹیشن‘‘ بھی اچھا تھا ’’طوفان‘‘ کی مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔ عجیب سا افسانہ تھا۔ باقی سب سے معذرت کیونکہ اسٹڈی کرنے کے ساتھ ساتھ اتنا ہی پڑھ لوں تو کافی ہے۔’’آئینہ‘‘ میں بھی سبھی کے تبصرے اچھے تھے۔ خاص کر ان کا شکریہ جن بہنوں نے میرا تعارف پسند کیا۔ وائو آپی شہلا آپ نے میرا اور میزاب کا تبصرہ اکٹھا شائع کیا۔ ’’دوست کا پیغام آئے‘‘ پڑھ کر تو مجھے آپی ہما پر بڑا ہی پیار آیا کہ انہوںنے سب کے پیغام شائع کیے۔ ویل ڈن آپی۔ بیاض دل میں سب کے اشعار اچھے تھے۔
ماریہ نشاء… مانگا منڈی لاہور۔ السلام علیکم۔ آنچل کے تمام رائٹرز، اسٹاف اور پڑھنے والوں کو میری طرف سے نیا اسلامی سال مبارک ہو۔ شادی سے پہلے میں کہانیاں لکھتی تھی، مگر شادی کے بعد لکھنے کا سلسلہ چھوڑ دیا۔ اب پھر سے لکھنا چاہتی ہوں۔ آنچل مسلسل پچھلے تین سال سے پڑھ رہی ہوں، مگر خط نہ لکھ سکی وجہ وہی جھجک کہ پتا نہیں خط شائع ہوگاکہ نہیں۔ سلسلہ سرگوشیاں پڑھا، ڈیم ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں کامیاب کرے، نعت و حمد پڑھی۔ درجواب آں میرا پسندیدہ سلسلہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمارے اور آنچل کے درمیان راستے کی طرح ہے۔ دانش کدہ ’’الکوثر‘‘ میں قربانی کے بارے میں قیمتی معلومات دی گئی۔ افسانے سب ہی اچھے تھے۔ سمیرا طور کا ناول ’’جنون سے عشق تک‘‘ ماں جتنی بھی بری ہو اس سے احساس کا رشتہ ختم نہیں ہوتا، بہت اچھا اینڈ رہا۔ بیاض دل میں سب اشعار اچھے لگے۔ نیرنگ خیال میں سب غزلیں اچھی تھیں۔ میں نے بھی ایک غزل بھیجی ہے، پلیز ضرور شائع کیجئے گا۔ ’’ہم سے پوچھیے‘‘ میں بہت ہی تیکھے جواب دیے گئے۔ پڑھ کر مزا آیا۔
٭پیاری ماریہ!آپ اپنا افسانہ ارسال کردیں اور خط شائع ہو یا نہ ہو ہم آپ سب کے خطوط پڑھتے ضرور ہیں کیوں کہ ان ہی کے ذریعے ہمیں آپ کی آرا اور پسند نا پسند کا علم ہوتا ہے۔ پھر ہم اس کے مطابق ہی پرچا ترتیب دیتے ہیں۔
طیبہ شیریں… کوری خدا بخش: اس بار آنچل کا شمارہ بہت ہی شاندار رہا۔کیونکہ اس بار میں نے آنچل کو جلدی جلدی سے ختم کیا اور تبصرہ لکھا۔ آنچل کا ٹائٹل ہمیشہ کی طرح بہت خوب صورت لگا۔ حمد و نعت اور سرگوشیاں نے دل موہ لیا۔’’الکوثر‘‘ مشتاق انکل کا بہت ہی خوبصورت سلسلہ جس میں ہر موضوع کے بارے میں بہت عمدہ رہنمائی کی جاتی ہے۔اس کے بعد ’’ہمارے آنچل‘‘ میں سب سے ملکر بہت خوشی ہوئی۔خاص کر نور حیدر سے مل کر بہت اچھا لگا۔ سلسلہ وار ناول ’’ تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ بہت اچھا جا رہا ہے۔ جوں جوں ناول آگے بڑھ رہا ہے ایک تجسس پیدا ہو رہا ہے۔ اگلی قسط کا انتظار ہے۔’’غلطی‘‘ افسانہ پڑھ کر آخر میں بہت ہنسی آئی۔ہما بیگم صرف اپنے بیٹے پر ہی دھیان دیتی رہیں یہ سوچے بنا ہی کہ ان کے گھر میں ایک اور بھی مرد ذات ہے۔ ایک سبق آموز افسانہ تھا۔’’عشق سفر کی دھول‘‘ نازیہ! بہت اچھا لکھا اس پر تبصرہ ناول مکمل ہونے کے بعد لکھوں گی۔’’محرم ذات‘‘ بہت زبردست ناول مجھے شاذل اور سیمل کا کردار پسند آیا۔عائزہ جیسی دوغلی لڑکیاں بھی معاشرے کا حصہ ہوتی ہے مگر جب بات عائزہ کی سمجھ میں آئی تو وہ خوش ہی ہو گی کیونکہ محبت چھین کر نہیں لی جا سکتی۔یہ تو جس سے ہو جاتی ہے اسی کے لیے سب کچھ ہوتی ہے۔ سیمل اور شاذل کی محبت سچی اور انمول تھی تب ہی ان کی زندگی میں بہار کے پھول کھلنے لگے تھے۔’’آخری اسٹیشن‘‘اس افسانے کو اس ماہ کا نمبر ون افسانہ قرار دیا جانا چاہیے۔ اس معاشرے کی ایک تلخ حقیقت۔ ماں باپ اپنے سب بچوں کو مفلسی کے دور میں بھی بنا لڑے پال سکتے ہیں مگر بچے ایسا نہیں کر سکتے۔ ایک عورت کے لیے شوہر ہی مضبوط سائبان ہوتا ہے۔ اور بیٹے تو شادی کے بعد ماں باپ کو بوچھ سمجھ کر کبھی ایک کے بھائی کے در پہ ڈال دیتے ہیں اور کبھی دوسرے بھائی کے۔ اور پھر بیٹیاں ہی کام آتی ہیں اور یہ ایک سچی اور اس معاشرے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ’’ محاسبہ‘‘ یہ بھی اس معاشرے کی کہانی ہے ہر گھر میں ایسا ہوتا آ رہا ہے۔ مگر اثر پھر بھی کوئی نہیں لیتا۔ اگر آپ بہو کو گھر لا رہے ہیں تو اپنی جوان بیٹی کو بھی سمجھائیں کہ بیٹا جیسے ہم اپنی بہو کو لے کر آئے ہیں اور اس کے ساتھ جو سلوک تم روا رکھو گی تو یاد رکھو کہ تم نے بھی جانا ہے دوسرے گھر اور وہاں اگر تمہارے ساتھ ایسا ہوا تو… عشرت نے اپنی بہو کے ساتھ برا کیا آگے اس کی بیٹی کے ساتھ ہو رہا تھا تب ہی اسے یقین تھا کہ سب ہی کے ساتھ ایسا ہی ہو گا۔ باقی سب ہی افسانے اور ناول ہمیشہ کی طرح بہت زبردست تھے۔’’بیاص دل‘‘ میں تمام اشعار بہت ہی بہترین تھے۔’’ نیرنگ خیال‘‘ میں سب یی غزلیں اور نظمیں پسند آئی۔’’ ہم سے پوچھیے‘‘ میں شمائلہ کے سب ہی مزے مزے کے جوابات سے لطف اٹھایا۔
اب اس دعا کے ساتھ اجازت کہ اللہ رب العزت ہم سب کی پریشانیوں کو دور فرمائے اور وطن عزیز کو ہر طرح کے مصائب سے محفوظ رکھے، آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close