Aanchal Nov-18

یادگار لمحے

جویریہ سالک

امراض القلوب
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔’’اور ان کے مالوں میں سائلین اور محرومین کا حق ہے۔‘‘
جو امیر آدمی غریبوں میں دولت تقسیم کرتا ہے وہ ان پر احسان نیں کرتا، بلکہ دراصل ان کا حق ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اہل ایمان کی یہ صفت ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں۔ خود بھوکے رہ جاتے ہیں لیکن حاجت مندوں کی ضروریات کا ہر قیمت پر خیال رکھتے ہیں۔
سورۃ الحشر میں ارشاد ہوا: ’’ اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
مال کا حریص ہونا ہر اعتبار سے خطرناک ہے۔ ایسے لوگ دولت پر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ خود بھی اپنی دولت سے پوری طرح مستفید نہیں ہوتے۔ قارون سے یہی کہا گیا تھا۔ ’’اور دنیا میں جو تیرا حصہ بنتا ہے اس کو مت بھول‘‘ گویا وہ خود بھی اپنی دولت سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہا۔
سورۃ القلم میں جس باغ کے اجڑنے کا ذکر ہے، اس کا بھی یہی حال تھا۔ جن کا وہ باغ تھا، وہ غریبوں اور مساکین کو اس میں سے کچھ بھی دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ اگر وہ اس میں سے محتاج لوگوں کو دیتے رہتے تو ان کا باغ سلامت رہتا۔ وہ اس باغ کا پھل توڑنے کے لیے علی الصباح گئے تاکہ کوئی مانگنے والا سوال نہ کرے۔ جب انہوںنے باغ کو اجڑا ہوا دیکھا تو کہنے لگے۔ ہم ہی ظالم ہیں اور ہم میں طغیانی یعنی سرکشی پیدا ہوگئی ہے۔ فصل میں برکت اور اس کی پیداوار بڑھانے کے لیے عشر (پیداوار کی زکوٰۃ) کی ادائیگی کرنی چاہیے۔ یہ بارانی زمینوں کے لیے دسواں حصہ اور نہری زمینوں کے لیے بیسواں حصہ ہے جو دسویں حصہ سے نصف ہے، اس کی ادائیگی سے شکر کا اظہار ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ ایک بکری ذبح کی گئی اور اس کا گوشت تقسیم کردیا گیا۔ صرف ایک دستی باقی رہ گئی۔ آقا علیہ السلام نے اس کے بارے میں استفسار فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ اس میں سے سوائے ایک دستی کے کچھ باقی نہیں بچا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’سارا گوشت ہی بچ گیا سوائے اس دستی کے!‘‘
یعنی جو گوشت اللہ کے راستے میں تقسیم کردیا گیا ہے، دراصل وہ باقی بچا ہے، کیونکہ وہ آخرت میں کام آنے والا ہے اور جو کتف (دستی) کی شکل میں موجود ہے اسے ہم کھالیں گے، وہ حقیقت میں ختم ہوگیا ہے۔
احادیثِ نبویﷺ میں بخل کو بہت برا جانا گیا ہے۔بخل کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی کے سامنے سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جائے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے۔ حدیث مبارکہ ہے: ’’وہ شخص بخیل ہے کہ جس کے سامنے میرا نام لیا جائے تو وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
(رحمہ ثانی…کراچی
کانفیڈنس
ایک بندر نے شیرنی کو پروپوز کرکے گفٹ میں سرخ گلاب دیا۔ شیرنی نے بندر سے کہا۔ ’’ کبھی آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے؟‘‘
بندر نے فخریہ انداز میں کہا۔ ’’ پاگل! صورت پر مت جا… کانفیڈنس تو دیکھ۔‘‘
(اقراء لیاقت… حافظ آباد)
بچے ہمارے عہد کے
حساب کی ٹیچر نے بچے سے کہا۔ ’’پڑھو گے نہیں تو نمبر بھی نہیں دوں گی۔‘‘
بچہ بولا۔ ’’ میرے پاس انگلش کی میم کا نمبر ہے۔ مجھے آپ کا نمبر چاہیے بھی نہیں۔‘‘
(ثنا جویریہ… کراچی)
برداشت
اپنے اندر برداشت پیدا کرو یہ سچ ہے کہ ہر بات کا جواب ہوتا ہے، مگر ہر جواب دینے کے لیے نہیں ہوتا۔
اصلی رنگ
لوگوں کا اصل رنگ تب سامنے آتا ہے جب آپ ان کے لیے فائدہ مند نہیں رہتے۔
فیصلہ
دنیا میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ہم ان سے اچھائی سیکھیں یا برائی ‘یہ ہمارا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے۔
(مدیحہ نورین مہک… گجرات)
سنہرے اقوال
زمین کے اوپر عاجزی سے رہنے والے زمین کے نیچے پر سکون رہتے ہیں۔
عزت، احساس، شفقت، اور پیار ایسے ادھار ہیں جو آپ کو واپس ضرور ملیں گے۔
جو استخارہ کرے ناکام، جو مشاورت کرے شرمسار، اور جو میانہ روی اختیار کرے مفلس نہیں ہوتا۔
خوشیاں بھی ساون کے بادلوں کی طرح ہوتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کب اور کہاں برس جائیں گی۔
وقت اچھا ہو یا برا بدلتا ضرور ہے۔ اس لیے اچھے وقت میں کچھ ایسا برا مت کرو کہ برے وقت میں اچھے لوگ ساتھ چھوڑ جائیں۔
(سمیر سواتی… بھیر کنڈ)
بیویات
ایک سر پھری بیوی جس نے اپنی بد سلوکی سے شوہر کا جینا حرام کررکھا تھا۔ ایک روز صبح سویرے شوہر کو بہت احترام اور محبت سے جگایا اور پھر شاندار ناشتہ تیار کرکے اس کے سامنے رکھا۔ اس کا یہ رویہ دیکھ کر میاں چپْ نہ رہ سکا اور پوچھ لیا۔
’’آج تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘
بیوی نے کہا۔ ’’کل ہمسایوں کے گھر گئی تھی۔ وہاں تبلیغ والی بیبیاں آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس مرد کی بیوی بد زبان اور بد اخلاق ہوگی۔ اللہ اس مرد کی مغفرت فرمادے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس مرد کو بیوی کی بد اخلاقی اور بد تمیزی برداشت کرنے پر جنت میں بھی داخل کردے۔‘‘
خاوند نے حیرت سے کہا۔ ’’ اچھا تو پھر؟‘‘
’’تو پھر یہ کہ جنت میں جانا ہے تو اپنے عمل کی وجہ سے جا، مسینا بن کر میری وجہ سے کیوں جاتا ہے۔‘‘ بیوی نے غرا کر جواب دیا۔
٭…٭…٭
بیوی شوہر سے بولی۔ ’’چلیں آنکھ مچولی کھلیتے ہیں، اگر آپ نے مجھے ڈھونڈ لیا تو ہم شاپنگ پر جائیں گے۔‘‘
شوہر بولا۔ ’’اگر میں ایسا نہ کرسکا تو؟‘‘
بیوی پیار سے۔ ’’ہائے ایسا تو مت کہو… میں دروازے کے پیچھے ہی تو چھپی ہوں گی۔‘‘
( عنبرفاطمہ۔ کراچی)
وعدہ اور یاد
ایک دن دل سے کسی نے پوچھا کہ وعدوں اور یادوں میں کیا فرق ہے!
تو دل نے خو ب صورت جواب د یا۔
وعدے انسان توڑتا ہے اور یادیں انسان کو توڑ دیتی ہیں۔
(نور فاطمہ… خانیوال)
امید
امید ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ بہت سی ناکامیوں کے باوجود انسان یہی سوچتا ہے کہ اگلی بار ایسا نہیں ہوگا۔ بہت سے برے حالات میں بھی ہم امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے کیونکہ یہ لفظ ہمارے ضمیر کو اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ انسان کو ہمت نہیں ہارنا چاہیے اور آگے بڑھ کر امید کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے۔ کچھ نیا کرنے کی تمنا، کسی کو پالینے کی امید، نفرتوں کے ختم ہونے، اور افق پر چھا جانے کی امید۔ اپنی صلاحیتوں کو منوانے، اندھیروں کے ختم ہونے، اور نئے جگنوئوں کے چمکنے کی امید۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے۔ امید کو کبھی مت چھوڑیں۔ یہ اکثر اوقات انسان کو اتنا کچھ دیتی ہے کہ وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
(انعم… برنالی)
تلاش
علم، دولت اور عزت تینوں دوست تھے۔ ایک مرتبہ ان کے بچھڑنے کا وقت آگیا‘ علم نے کہا۔ ’’مجھے درسگا ہوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔‘‘ دولت نے کہا ۔’’مجھے امراء اور بادشاہوں کے محلات میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔‘‘ عزت خاموش رہی، علم اور دولت نے عزت سے اس کی خاموشی کی وجہ پوچھی تو عزت ٹھنڈی آہ بھر کر بولی۔ ’’جب میں کسی سے بچھڑتی ہوں تو دوبارہ نہیں ملتی۔‘‘
(رابعہ احمد بھٹی… کوٹشاکر جھنگ)
رشتے
رشتوں کی مضبوطی ایک دوسرے کی برائیوں کو برداشت کرنے میں ہے۔ بے عیب رشتے تلاش کروگے تو دنیا میں اکیلے رہ جائو گے۔
(حنا ارشد… لاہور)
اقوال زریں
٭ اگر کوئی تم سے بھلائی کی امید رکھے تو اسے مایوس مت کرو۔ کیونکہ لوگوں کی ضرورت کا تم سے وابستہ ہونا تم پر اللہ کا خاص کرم ہے۔
٭ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ دین پر عمل کرنا ایسا ہوگا جیسا مٹھی میں انگارہ اٹھانا۔
٭ تقدیر بدل جائے گی بس آپ مسکرانا سیکھ لیں۔
(ایس، این، شہزادی ،کھرل… جڑانوالہ)
اظہار
بس اتنا ہی کہا تھا کہ برسوں کا پیاسا ہوں
اس نے پائپ منہ میں ڈال کر موٹر ہی چلا دی
(شبانہ کوثر… بارہ میل)
خوشی کا احساس
چاندی کے ورق میں لپٹی خوشیاں دل کے نہاں خانوں سے پھلجھڑی کی مانند پھوٹتی ہیں اور جب یہ فضائوں میں جلترنگ کی طرح بکھر جائیں تو پھر رت چاہے کوئی بھی ہو صرف دل کا منظر گلابوں سا کھلا کھلا رات کی رانی سا مہکا مہکا ہوجاتا ہے۔ سچ مچ خوشی کی کوئی خاص وجہ ہوتی ہے اور نہ ہی اسے کسی ناپ تول کی اکائی سے ناپا جاسکتا ہے۔ کبھی پانی کی روانی دیکھ کر دل کی ویرانی میں خوشی کے پھول کھل اٹھتے ہیں تو کبھی آسمان پر اڑتے پرندے مسرور و شادماں کرتے ہیں۔ خوشی کسی خاص شے، احساس سے قطعاً مشروط نہیں۔ کبھی تو پتوں کی سرسراہٹ چڑیوں کی چہکار، آبشاروں کا شور، چاند، چاندنی، ستارے شبنم، جگنو، تتلیاں، رنگ برنگے پھول، بارش کی ننھی ننھی بوندیں چوڑیوں کی کھنک، آنکھ کی دھنک، مہندی کے رنگ، مٹی کی خوشبو، اور گجرے کی مہک تک دل کی پور پور میں خوشی کی مہک بھرجاتی ہے اور پھر خود ہی گنگنانے ، بننے اور سنورنے کو دل مچلنے لگتا ہے۔
ارم کمال …فیصل آباد
بڑے لوگ بڑی باتیں
٭ تمہاری اصل ہستی تمہاری سوچ ہے، باقی تو صرف خالی ہڈیاں اور گوشت ہے (مولانا جلال الدین رومی)
٭ صرف میںہی اپنی زندگی بدل سکتا ہوں کوئی اور میرے لیے کچھ نہیں کرے گا (مینڈنیو)
٭ بعض اوقات کوئی شکست ایسی بھی ہوتی ہے جس کے دامن میں فتح سے زیادہ کامیابیاں ہوتی ہیں (آئن اسٹائن)
٭ دانش ور آدمی کبھی اپنی تکلیف کا رونا نہیں روتا بلکہ اپنی تکلیف کے رفع کرنے میں خوشی سے مصروف ہوجاتا ہے (شکسپیئر)
٭ جو عورت کی قدر نہیں کرتا، میرے خیال میں وہ سب سے بڑا بے وقوف ہوتا ہے (نپولین بونا پارٹ)
٭ عزیز چیزوں سے ہی غم پیدا ہوتا ہے اور عزیز چیزوں سے ہی خوف جو عزیز چیزوں کے خوف سے آزاد ہے اسے خوف ہے نہ ڈر (گوتم بدھ)
کرن ناز…کراچی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close