Aanchal Nov-18

چور مینا

اُم ہانی

مسافر کو جو جنگل سے نکالے
وہ پگڈنڈی وہ رستہ چاہیے ہے
شعور ابھی تک اسی شے کی کمی ہے
وہ جو چاہیے تھا وہ چاہیے ہے

میں نے زندگی بھر ایک ہی بچی سے نفرت کی تھی اور اس کا نام مینا تھا۔ میں نے اسے کئی بار گلی میں اِدھر اُدھر پھرتے اور بچوں بچیوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تھا۔ کبھی وہ لڑکوں کے ساتھ گلی ڈنڈا‘ کرکٹ کھیلتی پائی جاتی اور کبھی لڑکیوں کے ساتھ گڈیاں پٹولے لیے باجی باجی‘ گھر گھر‘ ہماری گلی آگے جا کر بند ہو جاتی تھی اس لیے بچے‘ بچیاں بے فکر ہوکر سارا دن کھیلتے رہتے تھے۔ ان کی ماؤں کو بھی کوئی فکر نہیں ستاتی تھی۔
اس کا نام مینا تھا تو وہ مینا جیسی ہی پیاری آواز کی مالک تھی اور اکثر بچوں کی فرمائش پہ گانا بھی گایا کرتی تھی۔ وہ باقی سب بچوں میں باقی سب سے صاف ستھری دکھتی تھی اور اداس آنکھیں ہونے کے باوجود بھی مسکراتی رہتی تھی لیکن پھر بھی وہ مجھے دوسرے بچوں میں سب سے بری لگتی تھی۔ مینا کے ابا‘ اکرم چاچا ایک ورک شاپ میں کام کرتے تھے اور اماں محلے بھر کے کپڑے سیتی تھیں۔ غریبوں کے ہاں یہ بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ ہر شے کی کمی ہونے کے باوجود جس چیز کی زیادتی ہوتی ہے وہ اولاد ہے۔ مینا سمیت وہ بارہ بہن بھائی تھے۔ پوری کرکٹ ٹیم لیکن میں نے اس سمیت اس کے کسی بہن بھائی کو کبھی مانگتے یا مزدوری کرتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ سب بہن بھائی سرکاری اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ خود پڑھتے اور باعزت پاس بھی ہو جاتے تھے۔ بارہ بہن بھائیوں میں سے بڑی تین بہنوں کی کم عمری میں ہی شادی کردی گئی تھی اور دو بہن بھائی اتنے چھوٹے تھے کہ ابھی اسکول نہیں جاتے تھے۔ مینا کا نمبر ساتواں تھا۔
مینا مجھے کیوں بری لگتی تھی اس کے پیچھے بس ایک ہی راز تھا کہ مجھے دوسروں کے گھروں کی کن سوئیاں لینا سخت کھلتا تھا۔ جب کہ یہ مینا کا پسندیدہ فعل تھا۔ ایسا کرتے ہوئے میں نے اسے بارہا رنگے ہاتھوں پکڑا تھا اور وہ شرمندہ ہوتی ہوئی وہاں سے چلی جاتی تھی لیکن اگلی بار پھر وہی حرکت۔ محلہ چھوٹا تھا اور ہر گھر کی دیوار اور چھت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے میں یوں بھی کسی گھر کی بات برابر والے گھر سے کم ہی پوشیدہ رہتی لیکن مجھے لگتا کہ اس سب میں زیادہ ہاتھ مینا کا تھا جو کان لگائے‘ آنکھیں ٹکائے دوسروں کے گھروں کی ٹوہ لیتی پھرتی تھی۔
ژ…ژ…ژ
’’اے مینا… یہاں کیا کررہی ہے؟‘‘ اس روز میں شام کو ذرا جلدی آگیا تھا جب میں نے مینا کو نفیسہ خالہ کے گھر کے دروازے سے اندر جھانکتے دیکھا۔ مجھے عین پیچھے کھڑا پاکر وہ گڑبڑائی۔
’’وہ… وہ… میں تو…‘‘ اس کی آواز لڑکھڑائی اور ٹانگیں کانپ اٹھیں۔ یہ پہلی بار نہیں تھا‘ بیسیوں بار ایسا ہوچکا تھا اور ایسے کانپتے ڈرتے مینا مجھے زہر لگتی تھی۔
’’کیا میں میں لگا رکھی ہے؟ ہزار بار تجھے منع نہیں کیا کہ دوسروں کے گھروں میں تانک جھانک نہ کیا کر… کون سی زبان سمجھ آتی ہے تجھے؟‘‘ وہ ہتھیلی اور ماتھے پہ آئے پسینے کو رگڑتے ہوئے‘ خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتی بغیر جواب دیے وہاں سے بھاگ گئی۔
اس روز رات میں‘ میں نے مینا کو اپنی چھت پہ چڑھے‘ دیوار سے ٹیک لگائے ہمارے گھر میں جھانکتے دیکھا تھا۔ بڑی ڈھیٹ تھی تب ہی مجھے سخت چڑ تھی اس لڑکی سے۔
’’اب یہاں کھڑی کیا کررہی ہے؟ چل بھاگ یہاں سے۔‘‘ یوں تو وہ میرے باہر نکلتے ہی مجھے دیکھ کر دیوار کی اوٹ میں ہوگئی تھی لیکن میں نے پھر بھی اونچی آواز سے چلّا کر اسے باور کرا دیا کہ میں اسے دیکھ چکا ہوں۔
ہفتے میں ایک آدھ بار ضرور ایسا ہوتا کہ مینا مجھے کسی نہ کسی گھر میں تانک جھانک کرتی‘ ٹوہ لیتی‘ کن سوئیاں لیتی دکھائی دیتی اور میں اسے بری طرح جھاڑ دیتا حالانکہ دل تو کرتا کہ الٹے ہاتھ کا ایک لگا دوں۔ وہ بھی ایسی ڈھیٹ تھی کہ ہر بار بھاگ جاتی اور اگلی بار پھر موجود ہوتی۔ کسی کے گیٹ سے لگی‘ کسی کی چھت پہ جھانکتی‘ کسی کی کھڑکی سے ٹکی اور ایک بات جو میں نے ابھی تک آپ کو نہیں بتائی وہ یہ تھی کہ مجھے اس پہ شک تھا کہ وہ یہ سب اس لیے کرتی ہے کیونکہ وہ چور ہے۔ جی ہاں‘ چور مینا۔ بس اسی لیے تو وہ مجھے بری لگتی تھی۔
ژ…ژ…ژ
وہ گرمیوں کی دوپہر تھی جب میں نے کالج سے لوٹتے ہوئے مینا کو اپنے گیٹ کے باہر بیٹھے دیکھا تھا۔ پھر تو میرا پارہ ایسا چڑھا کہ بس میرا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا۔
’’یہاں کیوں بیٹھی ہے اٹھ یہاں سے اور بھاگ جا۔ اب اگر تو مجھے میرے گھر کے آس پاس بھی نظر آئی تو میں تیرا خون کر دوں گا۔‘‘ میری ایسی خوف ناک دھمکی سے وہ تھر تھر کانپنے لگی اور گرتی پڑتی وہاں سے اپنے گھر میں گھس گئی۔
میں اندر آیا تو امی اپنے کمرے میں اٹھاخ پٹخ کررہی تھیں، لگتا تھا جیسے ان کی کوئی چیز کھو گئی ہو۔
’’کیا ڈھونڈ رہی ہیں امی؟‘‘ اپنا کالج بیگ وہیں ایک طرف رکھ کر میں نے امی سے پوچھا۔
’’تمہارے ابو نے مجھے دو ہزار دیے تھے۔ نجانے کہاں چلے گئے؟‘‘
’’کوئی آیا تھا گھر میں؟‘‘ میں یک دم چونکا۔
’’مینا آئی تھی طیبہ کے کپڑے دینے۔ تبھی اسے میں نے کپڑوں کی سلائی کے پیسے دیے تھے۔ تب تک تو یہیں دراز میں رکھے تھے پیسے۔ اب نجانے کہاں گئے؟‘‘ میں ساری بات سمجھ گیا اور باہر کی طرف بھاگا۔ اگلے پل مینا جو عثمان کے ساتھ گلی میں کھیل رہی تھی میرے تھپڑوں کی زد میں تھی۔
’’دکھا گئی ناں نیچ اپنا کام… کہاں ہیں پیسے؟‘‘ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے خود کو بچا رہی تھی۔ عثمان مجھے پرے دھکیل رہا تھا۔ اس وقت گلی خالی تھی۔ گرمی کی دوپہروں میں باہر ویسے بھی خاموشی اور ویرانی کا راج ہوتا تھا۔
’’پاگل ہوگئے ہیں شکیل بھائی… اس نے کچھ نہیں کیا۔‘‘
’’اسی نے اٹھائے ہیں پیسے۔ جب دیکھو کسی نہ کسی کے ہاں جھانک رہی ہوتی ہے کہ کہیں اس کا داؤ لگے اور یہ اپنا کام دکھا جائے۔‘‘ میں چلایا۔ عثمان ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ امی پیچھے سے چلائیں۔
’’شکیل بیٹا پیسے مل گئے۔ میں نے پرس میں رکھ دیے تھے۔‘‘ میں وہیں ساکت رہ گیا۔ مینا روتی ہوئی اپنے گھر کے دروازے سے اندر چلی گئی۔ عثمان نے تاسف سے مجھے دیکھا۔
’’شکیل بھائی اکرم چاچا یوں تو ہمارے ہمسائے ہیں لیکن شاید غربت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی بھی ان سے رابطہ نہیں رکھنا چاہتا کیونکہ اس دور میں تو کوئی غریب بھائی سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا کہاں غریب ہمسائے‘ گھر سے گھر کی دیوار جڑی ہے لیکن دلوں میں ایسی دیواریں ہیں کہ ہم اپنے ہی ہمسائے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ جانتے ہیں اکرم چاچا کی پچھلے دو ماہ سے نوکری نہیں ہے۔ گھر کا خرچا سلیمہ چاچی کی سلائی کی وجہ سے چل رہا ہے۔ اکثر ان کے ہاں فاقے ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔‘‘ میں ساکت سا اس کی باتیں سنتا رہا۔
’’جس روز ان کے ہاں فاقہ ہوتا ہے اس دن مینا کسی نہ کسی گھر کے باہر کھڑی ہوکر پکتے کھانے کی خوشبو سونگھتی، اپنا پیٹ بھرتی، اندازہ لگاتی ہے کہ اندر کیا پک رہا ہے… ہاں مینا چور ہے کیونکہ وہ کھانے کی خوشبو چراتی ہے۔ کیا اتنی چوری پہ بھی اسے سزا سنائی جائے گی؟‘‘ عثمان کے اس انکشاف اور سوال پہ میں اپنی جگہ سے کتنی دیر ہل ہی نہیں سکا۔ اس بار وہ چور مینا میری زبان چرا کر لے گئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close