Aanchal Jul-18Aanchal Jun-18

یاد گار لمحے

جویریہ سالک

بے مثال دورِ فاروقی کی ایک جھلک
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساڑھے دس سالہ دورِ خلافت میں اسلامی ریاست ایران‘ بلوچستان‘ خراسان (سمرقند و بخارا وغیرہ) سے طرابلس الغرب (تقریباً۲۲ لاکھ۵۱ ہزار ۳۰ مربع میل) تک پھیل گئی جو تاریخ انسانی میں اتنی مدت میں فتوحات کا ریکارڈ ہے۔ اس میں دمشق‘ رومیوں کا وسط ایشیاء میں دارالخلافہ حمص‘ فلسطین‘ مصر‘ طرابلس الغرب‘ اردن‘ ایران (جوکہ اس وقت عراق‘ بلوچستان‘ کابل‘ ماورائے نہر‘ خراسان اور بے شمار علاقوں پر مشتمل تھا) اور ایک ہزار سے زائد بلاد فتح فرمائے اور پھر زمین پر عدل و انصاف اور راستی و دیانت داری کی اعلیٰ مثالیں قائم فرمائیں۔ ایک طرف مخلوق خدا کے دلوں میں حق پرستی اور پاک بازی پیدا ہوئی تو دوسری طرف ایسا فلاحی نظام قائم کیا کہ ہر شخص کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کیں‘ حتی کہ جانوروں کے تحفظ کے لیے قوانین وضع کیے اور فرمایا۔ ’’ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرجائے تو عمر ذمہ دار ٹھہرے گا۔‘‘
کاش کہ اسلامی ممالک کے حکمران دورِ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو پیش نظر رکھ کرنظام حکومت قائم کریں تو نہ صرف اسلامی ممالک میں خوشحالی اور امن و آشتی کی فضا پیدا ہوجائے گی بلکہ زمانہ بھر کے غیر مسلم اسلام کے اعلیٰ اور کامل فلاحی و سعادتِ دارین کے ضامن نظام سے متاثر ہوکر حلقہ بدوش اسلام ہونے لگیں گے۔
محاسبۂ نفس اور امانت داری
بارِ خلافت سنبھالنے کے بعد جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امور خلافت کو نظم و ضبط اور عدل و انصاف کے ساتھ اس انداز میں چلایا کہ ایسی مثال سے طبقہ سلاطین عاجز ہے۔ آپ ادنیٰ سے ادنیٰ بات پر اپنا محاسبہ فرماتے تھے‘ آپ کا ضمیر ہمہ وقت بیدار رہتا تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ آپ نے کبھی اپنی ذات کو اہمیت نہیں دی۔ آپ فرماتے تھے کہ امت کا مال اسی طرح میری نگرانی میں رہے گا جس طرح یتیم کے مال کی حفاظت کی جاتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ زہد و تقویٰ اور درویشی والی زندگی گزاری۔ آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا طرز زندگی پسند تھا‘ آپ فرماتے تھے کہ میرے دو رفیق ہیں‘ ان دونوں نے خاص انداز میں زندگی کے دن کاٹے ہیں‘ میری خواہش ہے کہ میں ہوبہو ان کے طریق پر چلوں‘ کیونکہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میری مثال سے دوسرے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے طریقوں سے انحراف کریں گے۔
ابولؤلؤ فیروز مجوسی کے وار کی وجہ سے آپ کو گہرے زخم لگ چکے تھے۔ جب آپ کو اس بات کا یقین ہوچکا کہ اب آپ کا صحت یاب ہونا ممکن نہیں تو آپ نے ان تمام رقوم کا حساب لگوایا جو آپ کے نزدیک بیت المال کا قرض تھیں‘ یہ رقوم آٹھ ہزار درہم سے زائد تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو فرمایا کہ وہ اس رقم کو بیت المال میں ادا کردے۔ آپ کی شہادت کے دس دن بعد وہ ساری رقم ادا کردی گئی۔ درحقیقت یہ آپ کا بحیثیت خلیفہ اپنی اور اپنی اولاد کی کفالت کے لیے بیت المال سے لی گئی رقم کا مجموعہ تھا۔
( پروفیسر عبد العظیم جانباز)
رشتہ‘ محبت
رشتہ:
رشتہ بنائوں تو آنکھوں اور پلکوں جیسا‘ جب آنکھ میں کچھ چلا جا ئے تو پلکیں تڑپ اٹھتی ہیں‘ جب پلکیں کچھ دیر نہ جھپکیں تو آنکھیں رو پڑتی ہیں۔
محبت:
سمجھو تو… احساس
دیکھوتو… رشتہ
کہو تو… لفظ
چاہو تو… زندگی
کرلو تو… عبادت
نبھا لو تو… بندگی
ٹوٹ جائے تو… مقدر
(ارم ریاض… برنالی)
شوخی تحریر
(۱) علم(۲) دولت (۳) عزت
ایک مرتبہ ان کے بچھڑنے کا وقت آگیا۔ تو علم نے کہا کہ مجھے درسگائوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے‘ دولت کہنے لگی کہ مجھے بادشائوں کے محلات میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ عزت کی باری آئی تو…
عزت خاموش ہی رہی جب دولت اور علم نے اس کی خاموش کی وجہ دریافت کی تو عزت بولی بھی تو کیا بولی کہنے لگی کہ جب میں کسی سے بچھڑ جاتی ہوں تو… دوبارہ نہیں ملتی۔
(زعیمۂ روشن… آزاد کشمیر)
ذرا مسکرائیے
٭ میں نے جب بھی گھر میں خاندانی میٹنگ بلانی ہو‘ بس وائی فائی اف کردیتا ہوں۔
٭ شکر ہے تحریک آزادی پاکستان کے دور میں فیس بک نہ تھی ورنہ ہم جیسے باہر ہی نہ نکلتے‘ بس اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے اور ساتھ لکھ دیتے۔ اس میسج کو اتنا پھیلائو کہ انگریز برصغیر چھوڑ کر بھاگ جائے۔
٭ رخصتی کے وقت دلہے کا موبائل بجا تو لڑکی والوں نے بہت مارا کیونکہ اس پر رنگ ٹون یہ لگی ہوئی تھی۔ دل میں چھپا کر پیار کا طوفان لے چلے‘ ہم آج اپنی موت کا سامان لے چلے۔
٭ روزانہ کروڑوں کی تعداد میں سیلفی بنا کرلوگ جوق در جوق فرق سیلفیہ میں شامل ہو رہے ہیں۔
٭ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ اول وہ جو نیند آنے پر سوجاتے ہیں۔ دوم وہ جو موبائل کی بیٹری ختم ہونے پر سوتے ہیں۔
(ایس این شہزادی کھرل… جڑانوالہ)
اختیار
کچھ بھی برباد کرنے کی طاقت انسان کے ہاتھ میں ہے نہ اختیار میں… حکم ’کن‘ اور عمل (فیکون) رب کی خوبی ہے اس کے بندوں کی نہیں۔
(ماہا شبیر‘ تبسم شبیر… ڈنگہ)
بلا کا ٹلنا
ایک پٹھان نے دوکاندار سے دو آنے کا سرسوں کا تیل مانگا‘ شیشی میں ڈالتے ہوئے دوکان دار سے تیل نیچے گرگیا۔
پٹھان بولا: ’’او بائی تم نے ہمارا نقصان کردیا۔‘‘
دوکاندار نے تمسخر سے کہا۔ ’’ خان نقصان کیا ہوا‘ تمہارا بلا ٹل گیا۔‘‘
وہ بھی پٹھان تھا۔ اس نے لات مار کر دوکان دار کا سب تیل گرادیا۔ دوکاندار نے شور مچایا تو پٹھان نے کہا۔ ’’اب کیوں چیختا ہے آج ہم نے تمہارے سب خاندان کا بلا ٹال دیا۔‘‘
( ارم کمال… فیصل آباد)
عجب دنیا
m یہ کیسی دنیا ہے بعض شادی شدہ طلاق کے چکر میں ہیں اور غیر شادی شدہ شادی کے خیالات میں گم ہیں۔
mبچوں کو بڑے ہونے کی جلدی ہے اور بڑوں کو بچپن لوٹ آنے کی آرزو۔
mنوکریاں کرنے والے اپنے کام کی سختیوں سے نالاں ہیں اور بے کاروں کے لبوں پر کام ملنے کی دعائیں ہیں۔
mغریبوں کو امیروں کی زندگی کی حسرت ہے اور امیروں کو آرام کے لیے ایک لمحے کی تمنا۔
m مشہور افراد چھپنے کے لیے ٹھکانے کی تلاش میں ہیں اور عام لوگ مشہور بننے کے خیال میں۔
m بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ خوشی اور خوشحالی کا ایک ہی طریقہ ہے جو نعمتیں ملی ہیںان کا شکر ادا کرو۔
(رمضاء ملک… تلہ کنگ)
ادھوری عید
اے چاند عید کے
شہر خموشاں میں جاکر
قبر مادر پر میرا سندیس دینا
اور لحد میں سوتی ہوئی میری ماں سے کہنا
کہ بادل کے بنا برسات نہیں
سورج کے بنا روشنی نہیں
خوشبو کے بنا پھول نہیں
ائے میری پیاری ماں
تیری دید کے بنا
نجم انجم کی عید نہیں…!
(شاعرہ۔ نجم انجم اعوان… کورنگی)
مسکراہٹ کے پھول
فوجی ٹریننگ کے دوران آفیسر نے سپاہی سے پوچھا۔ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟
رب نواز ’’سر یہ بندوق ہے۔‘‘
آفیسر یہ بندوق نہیں تمہاری عزت اور شان ہے ‘ تمہاری ماں ہے ماں۔
آفیسر دوسرے پٹھان سپاہی سے: تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔
پٹھان :سر یہ رب نوازب کی ماں اور میری خالہ ہے۔
( ثریا فریال… شیخوپورہ)
ماں
ماں کے لیے سب کو چھوڑ دینا لیکن سب کے لیے ماں کو مت چھوڑنا کیونکہ جب ماں روتی ہے تو فرشتوں کو بھی رونا آجاتا ہے۔
کسی نے ماں سے سوال کیا کہ اگر آپ کے قدموں سے جنت لے لی جائے اور آپ سے کہا جائے کہ کچھ اور مانگ لو تو آپ خدا سے کیا مانگو گی۔ تو ماں نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ میں اپنی اولاد کا نصیب اپنے ہاتھ سے لکھنے کا حق مانگوں گی۔ کیونکہ میری اولاد کی خوشی کے آگے میرے لیے ہر جنت چھوٹی ہے۔
اندھیرے ہیں راستے‘ دیا لے کر جانا
اس کے آنسوئوں کی ضیاء لے کر جانا
تمہیں حادثوں سے بچائے گی ہمیشہ
سنو گھر سے ماں کی دعا لے کر جانا
نیند اپنی بھلا کے سلایا ہم کو
آنسو اپنے گرا کے ہنسایا ہم کو
درد کبھی نہ دینا اس ہستی کو
زمانہ کہتا ہے ماں جس کو
جن کی مائیں حیات ہیں اللہ ان کو ماں کا فرماں بردار بنائے اور ان مائوں کو لمبی زندگی عطا کرے۔ اور مجھ سمیت جن کی مائیں اللہ نے اپنے پاس بلالیں انہیں کروٹ کروٹ جنت کی رحمتیں عطا فرمائے۔ آمین۔
(لبنی شکیلہ‘ اولکھ جٹاں… سیالکوٹ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close