Aanchal Jul-18

بیاض دل

میمونہ رومان

فیض محمد شیخ…بھاگ ناڑی، بلوچستان
مرحبا کیا موسمِ فرحت فزا ہے عید کا
ہر طرف جشن مسرت ہورہا ہے عید کا
خاک نکلے دل کی حسرت جب نہ ہو تم سا حبیب
سچ ہے دل ہی خوش نہ ہو تو کیا مزہ ہے عید کا

ایمانِ عائشہ … اسلام آباد

تحفہ دعاؤں کا تمہیں پہنچے میرا
سدا رہے تمہارے گرد خوشیوں کا گھیرا
مسرتیں تمہیں عید کی مبارک ہوں
تمہاری زیست میں نہ آئے کبھی غموں کا پھیرا

طیبہ شیریں

درد اوروں کے بانٹ لینے کو
بزم ہستی میں عید کہتے ہیں

ریا ایمان…تلمبہ

مصروف ہے خلق عید کی تیّاریوں میں اور میں
محوِ فکر ہوں کہ سب سے ہنس کر ملنا ہو گا

حیا مغل…اسلام آباد

عید حسین ہے یوں تیری ہمراہی میں
جیسے چودہویں کا چاند ہو رات کی سیاہی میں

مصباح خبیب… کالا گوجراں جہلم

کس سمت سے آو گے عید پر اتنا تو بتا دو
میں آج سے ہی بچھا دوں اس راہ پر نگاہیں

ناہیداختر بلوچ…ڈیرہ اسماعیل خان

ہجر کی ماری اِن آنکھوں کو اشکوں کی تمہید مبارک
جن آنکھوں میں تم بستے ہو اْن آنکھوں کو عید مبارک

ثمر فاطمہ… وہاڑی

دل آرزو ہے کہ عید پہ تجھ سے گفتگو کروں
مگر یہ حسرت، حسرتوں کا شمار رہی

صباحت علی …کراچی

تم آئو جو اس عید پے تحفہ کریں گے پیش
ہم تو مگر حسرت کے مجسمہ بنے رہے

کنول خان… ہری پور ہزارہ

دیکھوں جو چاند سا چہرہ تیرا
عید سے پہلے میری عید ہو جائے

فضہ خان…ہری پور ہزارہ

تیرے کہنے پہ لگائی ہے یہ مہندی میں نے
عید پہ اب نہ تو آیا تو قیامت ہو گی

سیدہ فرحین جعفری… کراچی

خوشبو مہندی چوڑی آنچل سجنا سنورنااور مسکان
جھلک دکھا کہ کر دو عید کی ساری خوشیاں میرے نام

انابیہ رحمن…ڈیرہ غازی خان

ہجر کے ماروں کا درد کا سامان بنے
شب کے آنچل میں چمکتا یہ عید کا چاند

صباحت رفیق چیمہ…گوجرانوالہ

وصل خواہش، ہجر حاصل اْداس موسم درد کامل
عید کیا ہے شبرات کیا ہے، دن کیا ہے رات کیا ہے

عظمی راجپوت…شیخوپورہ

مل لیں گے ہم اپنے ہی گلے ڈال کر بانہیں
اے بھولے ہوئے دوست تجھے عید مبارک
اجالا سحر …این ایس آر عمرکوٹ سندھ
وہ جن کہ کاسئہ دل میں فقط درد مسلسل ہے
بتاؤ تو سہی، وہ عید کا مفہوم کیا جانیں

صفیہ گل …سلانوالی

اک سکون مانگا ذرا اور وہ سناٹے ملے
اب دبے پائوں تمہاری یاد بھی آتی نہیں
وہ ملتاہے ابھی تک مسکرا کر ہی مگر!
اک گرہ جو پڑگئی ہے دل میں وہ جاتی نہیں

صباحت صباح…آزاد کشمیر

اب ان دنوں میری غزل خوشبو کی اک تصویر ہے
ہر لفظ غنچے کی طرح کھل کر تیرا چہرہ ہوا
شاید اسے بھی لے گئے اچھے دنوں کے قافلے
اس باغ میں اک پھول تھا تیری طرح ہنستا ہوا

ظلِ ہما…فیصل آباد

خود بھی اترا ہے آسمانوں سے
مجھ کو پستی میں ڈالنے کے لیے
خود بھی بدنام ہو گیا کوئی
مجھ پر تہمت اچھالنے کے لیے

ارم صبا…تلہ گنگ

دیکھو کیسے دل پھیلا پھیلا کر ہاتھ
مانگ رہا ہے تم سے چاہت کی خیرات
میں جی لوں گا مجھ کو راس ہے تاریکی
سارے دن تم لے لو بس مجھ کو دے دو رات

جویریہ ضیاء…کراچی

جذبات دوستی کے نہیں ہیں تو کیا ہوا
آپس میں میل جول کی راہیں کھلی رہیں
یہ سب سے اولین سیاسی اصول ہے
دل کے کواڑ بند ہوں بانہیں کھلی رہیں

ہالہ سلیم…کراچی

میری پلکوں پر جمادی گرم صحراؤں کی دھوپ
اپنی آنکھوں کے لیے اس نے سمندر رکھ لیا
دید کی جھولی کہیں خالی نہ رہ جائے عدیم
ہم نے آنکھوں پہ تیرے جانے کا منظر رکھ لیا

سدرہ شاہین…پیرووال

کسی کو کیا جو قدموں میں جبین بندگی رکھ دی
ہماری چیز تھی ہم نے جہاں چاہا وہاں رکھ دی
جو دل مانگا تو بولے ٹھہرو! یاد کرنے دو
ذرا سی چیز تھی ہم نے خدا جانے کہاں رکھ دی

آیت فاطمہ…رحیم یار خان

کسی سے بولنا اور دیکھنا اچھا نہیں لگتا
تجھے دیکھا ہے جب سے دوسرا کوئی اچھا نہیں لگتا
تیرے چہرے پر جب سے اپنا عکس دیکھا ہے
میرے چہرے کو کوئی آئینہ اچھا نہیں لگتا

ماہم چوہدری…گنگا پور

موسم موسم آنکھوں کو ایک سپنا یاد رہا
صدیاں جس میں سمٹ گئیں وہ لمحہ یاد رہا
قوسِ و قزح کے رنگ تھے ساتوں اس کے چہرے پر
ساری محفل بھول گئی وہ چہرہ یاد رہا

عاصمہ…بھلوال

رستے پر نہ بیٹھو کہ ہوا تنگ کرے گی
بچھڑے ہوئے لوگوں کی صدا تنگ کرے گی
مت ٹوٹ کے چاہو اسے آغاز سفر میں
بچھڑے گا تو ہر ایک ادا تنگ کرے گی

فیاض اسحاق…سرگودھا

بے چین مزاجی کا سبب کچھ نہ تھا
سوچا تو بچھڑنے کا سبب کچھ نہ تھا
اس بخت زمانے میں تجھے لاکھ چاہیں
ہم نے تجھے تب چاہا جب تو کچھ بھی نہ تھا

حرمت ردا اکرم…ڈلوال

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا
یہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہوا
طوقِ شب فراق تیری خیر ہو کہ دل

آمادۂ وصال تجھے دیکھ کر ہوا

پروین افضل شاہین…بہاولنگر
اپنی زلفوں میں اترتی ہوئی چاندی کو چھپا
میرے بکھرے ہوئے بالوں سے پریشان نہ ہو
دیکھ یوں درد نہ ہو مجھ کو لگا لے دل سے
تو میری روح کے اجالوں سے پریشان نہ ہو

سلمیٰ خضرو…شمس محل

زندگی کے دن کیسے بھی ہوں گزر جائیں گے
ایک دن ہم بھی چپکے سے مر جائیں گے
آج رہتے ہیں آپ کے دل میں یاد بن کر
کل آنسو بن کے آنکھوں سے بھی نکل جائیں گے

اقرأ…خانیوال

زندگی کے سب لمحے یادگار ہوتے ہیں
لوٹ کر نہیں آتے ایک بار ہوتے ہیں
خود پرست مت کہنا، خود پرستیاں کیسی
جو اصول رکھتے ہیں وضع دار ہوتے ہیں

ائشہ سلیم…اورنگی کراچی

ہمارے لب پہ نہ اس کی زباں پر حرف کوئی
مگر نگاہوں میں لکھیں، حکایتیں تھیں بہت
اداس ہم تھے، تو وہ بے قرار کم تو نہ تھا
ہمارے پیار میں حامد صداقتیں تھیں بہت

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close