Aanchal Nov-18

گھر کی ملکہ

رابعہ افتخار

ستارہ خوب صورت ہے کہ ذرہ خوب صورت ہے
ابھی یہ فیصلہ ہونے کو ہے، کیا خوب صورت ہے
یہ مانا عشق کی تقدیر میں اجرت نہیں کوئی
مگر یہ بھی تو دیکھو، کام کتنا خوب صورت ہے

چادر اتار کر صحن میں بچھی چارپائی پر رکھتی وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔ آج سات سال بعد ایک بہت پرانی سہیلی سے ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں نے ماسٹرز اکٹھے ہی کیا اور پھر جاب بھی ایک ساتھ شروع کی تھی۔ عائشہ کی شادی ہوئی تو اس نے جاب چھوڑ دی اور پھر جب ہانیہ کی شادی ہوئی تو اسے بھی جاب چھورنی پڑی۔ آج اتنے سالوں بعد عائشہ سے ملی تھی۔ وہ اب دوبارہ جاب کررہی تھی۔ ہانیہ اس وقت سے ذہنی الجھن کا شکار تھی۔ وہ تو شادی کے بعد گھر‘ شوہر اور بچوں کی ذمہ داریوں میں ایسی الجھی کہ اپنی دنیا بس گھر تک ہی محدود کرلی تھی۔ عائشہ نے اس کا مذاق بھی اڑایا تھا۔
’’بھئی ہانیہ تم تو بالکل ہی ان پڑھ عورتوں کی طرح گھر کی ہوکر رہ گئی ہو۔ ڈگری صندوق میں بند کرنے کے لیے لی تھی تم نے؟‘‘ اس کا طنزیہ انداز اب اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہا تھا۔
شادی کے فوراً بعد ہی طالب نے اپنا الگ گھر لے لیا تھا‘ گھر میں جگہ کی کمی کی وجہ سے سب نے ہنسی خوشی انہیں رخصت کیا تھا پھر بلال‘ عمر اور رابیل کی پیدائش اور گھر کی مصروفیات میں وہ یہ بھول ہی گئی کہ وہ ڈگری ہولڈر ہے۔ شادی سے پہلے جاب کرتی ایک خود مختار لڑکی تھی۔ اب اتنے سالوں بعد عائشہ نے جیسے جھنجوڑا تھا۔ عائشہ کے حلیے کا اپنے حلیے سے تقابلی جائزہ کرکے وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔
بلال پانچ سال کا تھا‘ عمر ساڑھے تین سال کا دونوں بچے محلے کے ہی ایک اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ رابیل ابھی ایک سال کی اس کی گود میں تھی۔ گھر کا جائزہ لیا تو ہر شے سلیقے سے اپنی جگہ پر موجود تھی‘ صاف ستھرا سادہ سا گھر تھا مگر چونکہ اب وہ تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھی اس لیے اسے اس گھر میں سہولیات اور آسائشات کی بے حد کمی نظر آئی۔ وہ انہی سوچوں میں گم رہتی کہ رابیل رونے لگی۔ اس نے چارپائی سے بچی کو اٹھایا اور ڈائپر تبدیل کرنے کی نیت سے اندر لے گئی۔ بچی صاف ستھری ہوکر دودھ پی کر سوگئی اور پھر جب دن کا ایک بجنے والا تھا‘ دونوں بچے اسکول سے آنے والے تھے۔ اس نے باورچی خانہ کی راہ لی۔ ماش کی دال وہ صبح بازار جانے سے پہلے ہی پکا گئی تھی۔ فریج سے شامی کباب نکال کر فرائی کیے اور دوسرے چولہے پر توا رکھ دیا۔
طالب پورے ایک بجے دونوں بچوں کو اسکول سے لے آئے تھے۔ کھانا کھا کر تھوڑی دیر آرام کرتے ڈھائی بجے پھر دکان پر چلے جاتے تھے۔ اس نے ارادہ کرلیا کہ آج اس موضوع پر طالب سے ضرور بات کرے گی۔ پورے ایک بجے وہ باورچی خانے سے فارغ ہوکر باہر نکلی تو موسم ابر آلود تھا۔ ابھی وہ چارپائی اور کرسیاں سمیٹنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ موٹر سائیکل کا ہارن سنائی دیا۔ طالب اور بچے آگئے تھے۔
’’السلام علیکم امی۔‘‘ بچوں نے بڑے ادب سے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ اس نے دونوں بچوں کے ہاتھ سے اسکول بیگ لے کر مسکراتے ہوئے طالب کا بھی استقبال کیا۔ طالب کے ہاتھ میں فروٹ کا شاپر تھا۔ اس کی عادت تھی وہ روزانہ تھوڑا بہت فروٹ یا بیکری کا سامان لے کر گھر آتا تاکہ بچوں کو محلے کی دکانوں تک جانے کی خراب عادت نہ پڑے۔
’’بھئی ماشاء اللہ بڑی اچھی خوشبو آرہی ہے‘ کباب فرائی کیے ہیں؟‘‘ طالب نے ہاتھ منہ دھو کر دسترخوان پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ اس دوران وہ بچوں کے کپڑے بھی تبدیل کروا چکی تھی۔ کھانا بڑے پُرسکون ماحول میں کھایا گیا۔ بچے معمول کے مطابق آرام کرنے کمرے میں چلے گئے۔ بلال تو سمجھدار تھا مگر عمر کو دوپہر میں سلانا تھوڑا مشکل ہوتا تھا۔ طالب بھی اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔ وہ برتن سمیٹ کر طالب کے لیے چائے لے کر کمرے میں آئی تو وہ بچوں کے ساتھ بیڈ پر آنکھیں موندھے لیٹا ہوا تھا۔ وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ کر عمر کو تھپکنے لگی۔
’’آپ سے ایک بات کرنا تھی طالب۔‘‘
’’ہوں… کہو۔‘‘ وہ یونہی بند آنکھوں سے بولا۔
’’وہ میں سوچ رہی تھی کہ میں جاب کرلوں۔‘‘ اس کے یوں اچانک کہنے پر طالب نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
’’جاب…! یہ جاب کا خیال کیسے آگیا اچانک؟‘‘ اس نے حیرت سے اسے دیکھا غالباً اسے ناگوار گزرا تھا۔
’’یونہی… اور اچانک نہیں آیا کب سے سوچ رہی تھی۔ بچے اسکول چلے جاتے ہیں… رابیل بھی اتنا تنگ نہیں کرتی اور پھر میرے پاس ڈگری ہے تجربہ ہے۔‘‘ وہ دلائل دینے لگی۔
’’ڈگری تمہارے کام آ تو رہی ہے‘ تمہاری بات چیت‘ گھر کو چلانے کا انداز‘ میرے ساتھ تمہارے رشتے کی مضبوطی‘ بچوں کی تربیت‘ مہمان نوازی‘ یہ سب ایک تعلیم یافتہ عورت ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے… تم نے جاہل عورتوں کے گھر نہیں دیکھے شاید‘ ڈگری صرف جاب کرنے کے لیے نہیں ہوتی ہانیہ… ہر عمر کی اپنی مجبوریاں اور ترجیحات ہوتی ہیں‘ شادی سے پہلے تم اکیلی تھیں اب ہم چار افراد اس گھر کے اندر ہر معاملے میں تمہارے محتاج ہیں۔ اب ترجیحات بدل گئی ہیں‘ پھر بھی اگر تم ایک بار پھر شوق پورا کرنا چاہتی ہو تو کرلو۔ میں تمہاری مرضی کے خلاف تو نہیں جاسکتا۔ ایک شوہر ہونے کی حیثیت سے منع کروں گا تو ظالم کہلائوں گا۔‘‘ وہ بات کے آخر میں مسکرایا۔
’’یعنی آپ کو کوئی اعتراض نہیں…‘‘ وہ اس کی رضا مندی پر کھل کر مسکرائی۔
’’یعنی تم سیریس ہو… کہاں کرو گی جاب اور مینج کیسے کروگی گھر اور جاب؟‘‘ طالب اب اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’میں سنبھال لوں گی۔ آخر جو عورتیں جاب کرتی ہیں وہ بھی تو سب کچھ ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ آپ کو میری فرینڈ عائشہ یاد ہے‘ وہ اسی کالج میں جاب کررہی ہے جہاں میں اور عائشہ شادی سے پہلے جاب کرتی تھیں‘ وہی بتارہی تھی کہ ویکنسی ہے کالج میں اسلامیات کی ٹیچر کی‘ میں نے سوچا میں نے بھی تو ڈگری ضائع کرنے کے لیے صندوق میں بند کر رکھی ہے اور پھر طالب… ہم بچوں کو کب تک یوں محلے کے چھوٹے سے اسکول میں پڑھائیں گے‘ ایسے اسکولوں میں نہ تو بچوں کو ڈھنگ سے پڑھایا جاتا ہے نہ بچے مینرز سیکھتے ہیں۔ بس ہوم ورک اور ریڈنگ کی دوڑ ہوتی ہے۔ گلی محلے کے اسکولوں میں پڑھے ہوئے بچے کبھی بھی پُراعتماد زندگی نہیں گزار سکتے۔‘‘ اس نے دلائل دیئے۔ طالب بس مسکرا کر رہ گیا۔ اب کچھ بھی کہنا بے کار تھا‘ وہ اپناذہن بناچکی تھی۔
/…/…/
اگلی صبح بچوں کو اسکول اور طالب کو دکان بھیج کر وہ خود بھی تیار ہوئی‘ اپنے سارے کاغذات فائل میں ترتیب سے لگائے اور رابیل کو سینے سے لگا کر عائشہ کی تاکید کے مطابق کالج کے لیے نکل گئی۔ فون کرکے عائشہ سے وہ بات کرچکی تھی۔ کالج کا زیادہ تر اسٹاف نیا تھا مگر خوش قسمتی سے پرنسپل صاحبہ ابھی تک مسز امین تھیں جو اس کے زمانے میں بھی پرنسپل تھیں۔ اس کی قابلیت اور اہلیت سے تو وہ واقف تھیں اس لیے رسمی سا انٹرویو بھی لینے کی زحمت نہیں کی۔ رابیل سے متعلقہ سوال تھا کہ وہ اسے ساتھ لے کر آیا کرے گی یا گھر میں میڈ کا بندوبست کرے گی۔
’’گھر میں تو بچی کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے میم… ہاں اگر کالج میں میڈ کا انتظام ہوسکے تو…؟‘‘
’’ہاں ایک دو ٹیچرز اور بھی کہہ رہی تھیں۔ ایسا ہے کہ ہم آٹھ ہزار پر ایک میڈ کا بندوبست کرلیتے ہیں… سب ٹیچرز کی سیلری سے دو دو ہزار کی کٹوتی کرلیں گے۔‘‘ مسز امین نے سنجیدگی سے ایک مشورہ دیا۔ وہ بلا تامل مان گئی… اب جاب کرنی تھی تو ہر حال میں کرنی ہی تھی۔ سولہ ہزار تنخواہ مقرر ہوئی تھی جس میں سے دو ہزار رابیل کی میڈ کے لیے مقرر ہوئے تھے۔ چودہ ہزار ماہوار بھی بہت تھے۔ وہ خوش تھی کہ اسے اتنی آسانی سے جاب مل گئی تھی۔ کالج کی چھٹی کا وقت بھی بچوں کی چھٹی کے آدھ گھنٹہ بعد کا تھا وہ مطمئن تھی۔
/…/…/
ناشتے میں سب پراٹھا‘ آملیٹ اور اچار کھانے کے عادی تھے۔ ایسا ناشتہ تیار کرنے میں تو گھنٹہ لگ جائے گا۔ یہی سوچ کر اس نے ڈبل روٹی اور جیم کا ناشتہ ٹیبل پر رکھ دیا۔ بچوں کو تیار کرکے وہ خود بھی تیار ہوگئی۔
’’طالب بچوں کو اسکول چھوڑ آئیں پھر مجھے بھی چھوڑ کر آنا ہے‘ بس دس منٹ کے فاصلے پر ہے۔‘‘ طالب جو یہ بے ڈھنگا سا ناشتہ دیکھ کر بددلی سے اٹھنے والا تھا اس کے اگلے جملے پر حیرت سے اس کی سمت دیکھنے لگا۔
’’کیا مطلب… اور چھٹی ٹائم؟‘‘
’’چھٹی ٹائم میں لوکل بس سے آجائوں گی۔ رکشے والا تو ہزار روپیہ مانگ رہا تھا‘ اب دو ہزار میڈ کو دوں… ایک ہزار رکشے والے کو دوں یونہی خوامخواہ…‘‘ وہ سینڈل کا اسٹریپ بند کرتے ہوئے بولی۔
’’ہوں… چلو آتا ہوں۔‘‘ وہ بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھانے لگا۔ اس نے جلدی جلدی برتن کچن میں منتقل کیے۔
’’آج ناشتہ بھی نہیں کیا طالب نے؟ عادی نہیں ہیں ناں ایسے ناشتے کے… چلو کوئی بات نہیں سنڈے کو اچھا سا ناشتہ کروا دیا کروں گی۔‘‘ وہ خود کو تسلی دیتی جیم کی بوتل فریج میں رکھ کر برتنوں کو سنک میں رکھنے لگی‘ ابھی تھوڑے سے برتن ہی دھوئے تھے کہ طالب آگیا۔
’’چلو بھئی۔‘‘ وہ باہر سے ہی ہارن دے رہا تھا۔ ہانیہ جلدی جلدی چادر اوڑھ کر رابیل کو کندھے سے لگائے بے بی بیگ سنبھالتی آگئی۔
’’طالب یہ گھر کی چابی‘ آپ ایک بجے بچوں کو لے کر آئیں گے تو روٹیاں لیتے آئیے گا‘ سالن میں نے رات کو ہی پکا دیا تھا۔ میں ڈیڑھ بجے تک آجائوں گی۔‘‘ اس نے گھر کی چابی طالب کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا اور اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔
’’کیا مطلب تم دیر سے آئوگی اور تندور کی روٹیاں؟‘‘ طالب کا دماغ گھوم گیا۔ اس نے سختی سے لب بھینچے۔ موٹر سائیکل اسٹارٹ کی تو وہ جلدی سے پیچھے بیٹھ گئی تھی۔
/…/…/
کالج کا پہلا دن بہت اچھا گزرا… ٹیچرز کا لباس اور میک اپ دیکھ کر تو اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی فیشن شو میں آئی ہے۔ دل ہی دل میں وہ اس بات کی معترف ہوگئی کہ ورکنگ وومن اب ٹو ڈیٹ رہتی ہیں۔ سارا دن اپنی کلاس سے تعارف اور اسٹاف سے تعارف میں گزر گیا۔ رابیل کی میڈ کو سب کچھ سمجھایا‘ رکشے میں کالج سے گھر واپس آئی تو گھر کے باہر طالب کی موٹر سائیکل کھڑی تھی۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی سالن کی خوشبو آنے لگی۔ رابیل کو لٹا کر وہ کچن میں آئی‘ طالب سالن گرم کرکے سلاد کاٹ رہا تھا۔
’’آپ نے کیوں شروع کردیا کام‘ میں بس آہی تو رہی تھی ہٹیں آپ۔‘‘ اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کرتے ہوئے وہ کھانے کے برتن نکالنے لگی۔ عمر اور بلال پہلے سے ہی کھانے کی میز پر موجود تھے۔ ان کے کپڑے دیکھ کر اس نے سر پر ہاتھ مارا۔ استری شدہ کپڑے ہینگر پر لٹک رہے تھے جبکہ طالب نے الماری سے نکال کر پرانے ٹرائوزر اور بد رنگ شرٹس پہنا دی تھیں جو اس نے کسی ضرورت مند کو دینے کی نیت سے رکھی تھیں۔
’’آجائو کھانا کھالو… پھر میں کپڑے تبدیل کرواتی ہوں‘ بابا کو شاید ہینگر والے کپڑے نظر نہیں آئے ہوں گے۔‘‘ وہ بچوں کو چمکارتے ہوئے بولی‘ بچوں کو بھوک لگ رہی تھی‘ فوراً کھانا کھانے لگے۔ اسی دوران رابیل بھی بھوک سے رونے لگی‘ ہانیہ کھانا چھوڑ کر اٹھ گئی۔ طالب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے تاسف سے اس کی سمت دیکھا اور پھر کھانا کھانے لگا۔ صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا بھوک سے برا حال تھا‘ اگرچہ تندور کی روٹی کھانے کی عادت نہیں تھی مگر اس وقت یہ بھی غنیمت لگ رہی تھی۔
/…/…/
طالب کی کزن کا فون آیا تھا‘ وہ جو اس وقت صبح کے لیے کپڑے استری کررہی تھی اپنے کام میں مصروت رہ کر موبائل کان سے لگائے ان سے بات کرنے لگی۔
’’کل صبح دس بجے آئوں گی میں ہانیہ‘ بازار چلیں گے۔‘‘
’’صبح دس بجے تو میں کالج میں ہوتی ہوں سارہ‘ جاب کرلی ہے ناں۔‘‘
’’اوہ اچھا… کب شروع کی جاب…؟ بہت اچھی بات ہے‘ طالب کو ویسے بھی جاب کرنے والی خواتین بہت پسند تھیں تم سے رشتہ ہوا اور جب اسے تمہاری جاب کا بتایا تو بہت خوش ہوا تھا۔‘‘ سارہ کی بات پر دل کو تسلی ہوئی تھی۔
’’سنڈے کو آنا سارہ‘ سنڈے بازار چلیں گے۔‘‘
’’ارے نہیں‘ سنڈے کو کہاں ٹائم ہوگا تمہارے پاس‘ ہفتہ بھر کے کام انتظار کررہے ہوں گے تمہارا… میں خود ہی چلی جائوں گی۔‘‘ اس نے فون بند کردیا۔
سارہ خود بھی ایک اسکول میں آٹھ سال ٹیچنگ کرتی رہی تھی۔ پھر شادی‘ بچے ہوئے تو وہ بالکل ہی گھر کی ہوکر رہ گئی۔ اب تو اس کے بچے بھی اچھے خاصے بڑے اور سمجھدار ہوگئے تھے۔ میاں بھی ملک سے باہر تھے۔ وہ جاب کرنا چاہتی تو آسانی سے کرسکتی تھی مگر وہ تو بالکل عام سی گھریلوخاتون بن چکی تھی۔ فون بند کرکے وہ کام نبٹانے لگی جب تمام کام نمٹا کر فارغ ہوئی تو کالج سے لائی کاپیاں دیکھنے لگی۔
’’ماما… یہ اسپیلنگ یاد نہیں ہورہی۔‘‘ بلال انگلش کی کتاب اٹھائے پاس آبیٹھا۔
’’ہوں… ہاں بس دو کاپیاں رہ گئی ہیں پھر کام کرواتی ہوں میں آپ کو۔‘‘ اس نے اسے چمکارتے ہوئے کہا‘ ابھی آخری کاپی چیک کرکے رکھی ہی تھی کہ رابیل رونے لگی۔
’’بیٹا میں رابیل کو سلا لوں پھر کام کرواتی ہوں۔‘‘ رابیل کو سلا کر گھڑی پر وقت دیکھا تو رات کے آٹھ بجنے والے تھے۔ روٹیاں پکائیں اور ساتھ دال کو بگھار لگایا‘ اگلے دن کے لیے آلو گوبھی پکا کر فریج میں رکھی۔ ساڑھے آٹھ بجتے ہی طالب گھر آگئے‘ حسب معمول بچوں کے لیے بسکٹ وغیرہ لے کر آئے تھے۔
رات کا کھانا کھا کر طالب نے ٹی وی پر خبرنامہ لگالیا۔ بچے وہیں سوگئے۔ وہ کچن سمیٹ کر آئی تو طالب بچوں کو ان کے بستر پر لٹا چکا تھا۔ بلال کا بکھرا بیگ دیکھ کر اسے یاد آیا کہ وہ تو اسے پڑھانے کا وعدہ کرکے بھول گئی تھی۔ دل ہی دل میں خود کو ملامت کرتی ہوئی اس کا بیگ سمیٹنے لگی۔ اگلے روز گھر میں قدم رکھا تو منظر کل جیسا ہی تھا‘ آج وہ لوگ کھانا کھانا شروع بھی کرچکے تھے۔ اس کے دل کو دھچکا لگا۔
’’سوری یار… بہت بھوک لگ رہی تھی اور عمر تو رو بھی رہا تھا۔ تم کالج والوں سے بات کرکے آدھ گھنٹہ پہلے چھٹی نہیں لے سکتی؟‘‘ طالب نے پلیٹ میں اس کے لیے کھانا نکالتے ہوئے کہا۔
’’نہیں میری کلاس ہوتی ہے آخری… مگر میں سوچ رہی ہوں کہ کالج سے ملحقہ اسی ادارے کے اسکول میں بچوں کو داخل کروا دوں‘ فیس تو تھوڑی زیادہ ہے مگر ہمارا ٹائم ایک ہوجائے گا۔‘‘ اس کی بات سن کر طالب نے نوالہ واپس پلیٹ میں رکھ دیا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا‘ اب تم بچوں کو اس اسکول سے بھی اٹھائوگی‘ اچھا خاصہ پڑھ رہے ہیں بچے… فیس بھی مناسب ہے۔‘‘
’’کہاں طالب… بس نام کا ہی انگلش میڈیم اسکول ہے‘ ٹیچرز خود ایف اے‘ بی اے پاس ہیں… جیسی غلط سلط انگلش سکھائیں گی وہی سیکھتے جائیں گے…‘‘ اس نے حقارت سے ذکر کیا۔
’’اگر تم نے تعلیم کا معیار صرف انگریزی سیکھنے کو بنا ہی لیا ہے تو ٹیچرز کی سکھائی غلط سلط انگلش کی اصلاح تم بھی کروا سکتی ہو ہانیہ… قابلیت اور سیکھنے کی اہلیت بچے کی اپنی ذات میں ہوتی ہے ہانیہ… مہنگے اسکول بچے کا دماغ پالش کرسکتے ہیں اور یہ کام ایک پڑھی لکھی ماں بھی کرسکتی ہے اور ہانیہ‘ ذرا عقل سے کام لو‘ تم بچوں کو زیادہ فیس والے اسکول میں داخل کروا دوگی تو یہ جاب کرکے تمہیں کیا حاصل ہوگا۔ گھر کا سکون الگ ختم ہوگا‘ معمول کی زندگی بے ترتیب ہوجائے گی‘ ہم دونوں مارے تھکن کے ایک دوسرے سے دور ہونے لگیں گے۔ سولہ ہزار کی تنخواہ میں سے تم کیا بچت کرسکو گی۔‘‘ طالب کی بات پر وہ ساکت بیٹھی رہی۔
’’بچے تو اچھے اسکول میں پڑھیں گے ناں طالب۔‘‘ وہ منمنائی۔
’’پھر بھی ہانیہ جب تک تم خود بچوں کو ٹائم نہیں دوگی بچے اچھے اسکول میں جاکر بھی کچھ نہیں سیکھ سکیں گے اور تمہارے پاس تو اب ان کے لیے اور میرے لیے ٹائم ہوگا ہی نہیں۔ چند ہی دنوں میں گھر کا نظام بکھرنے لگا ہے‘ آج بلال کی ٹیچر نے پہلی بار شکایت لکھ کر بھیجی ہے۔ مجھے ڈائری پڑھ کر دکھ بھی ہوا اور ہنسی بھی آرہی تھی کہ ایک کالج لیکچرار کا بیٹا ایک اسپیلنگ یاد نہ ہونے کی وجہ سے اسکول سے ڈانٹ کھا کر آیا ہے۔ ہانیہ یار‘ میں دکاندار بندہ ہوں‘ میری چھٹی جمعہ کے روز ہوتی ہے اور تمہاری اتوار کو… تمہاری اس جاب کی وجہ سے میں چھٹی کا دن بھی اکیلا گزارا کروں گا یا پھر دکان ہی کھول لیا کروں گا۔‘‘ وہ بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا جبکہ وہ ہکابکا بیٹھی تھی۔
’’میں مینج کرلوں گی طالب… ابھی تو چند دن ہوئے ہیں‘ جب روٹین بن جائے گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ برتن سمیٹنے لگی۔
’’میں بھی یہی کہہ رہا ہوں ہانیہ… ابھی تو چند دن ہی ہوئے ہیں جب روٹین بن جائے گی تو مسئلہ بڑھ جائے گا۔‘‘ وہ بات مکمل کرکے اٹھ گیا… وہ کتنی ہی دیر خاموش کھڑی رہی۔ سارہ تو کہہ رہی تھی کہ طالب کو ورکنگ وومن بہت پسند تھی تو پھر اب کیا ہوا۔
’’میں سب سنبھال لوں گی۔‘‘ وہ خود کو مضبوط کرتی ہوئی کچن میں گھس گئی تھی۔
/…/…/
پہلی تنخواہ سے وہ پردے اور کراکری لے کر آئی تھی‘ ایک دو سوٹ بھی لیے تھے۔ بچوں کو اب وہ ساتھ ہی لے جاتی تھی۔ اس ماہ جو پانچ چھ ہزار کی بچت ہوئی تھی اگلے ماہ یہ بھی بچوں کی فیس کی مد میں جانے والی تھی۔ اتوار کا دن تھا‘ اس نے صبح مشین لگا کر ہفتہ بھر کے جمع کپڑے دھوئے۔ سارے گھر کی تفصیلی صفائی کی۔ عائشہ تو اسے کئی بار گھر کے کاموں کے لیے بھی میڈ رکھنے مشورہ کا دے چکی تھی مگر اؓیسے تو اس کی ساری تنخواہ اسکول کی میڈ‘ بچوں کی فیس میں صرف ہوجاتی۔ چند مختلف کھانے پکا کر فریز کیے تھے‘ ہفتہ بھر کے لیے کباب بنا کر رکھے۔ دوپہر کو استری کرنے لگی‘ شام کو جی چاہا کہ طالب کو فون کرکے بلا لے کہ کہیں گھوم پھر آئیں‘ پہلے تو وہ جمعہ کے روز طالب کے ساتھ آئوٹنگ کے لیے جاتی تھی۔ کبھی دونوں جمعہ بازار جاکر پھل سبزیاں اور سودا سلف بھی لے آتے تھے پھر اتوار والے دن وہ بچوں کو لے کر کبھی سارہ کی طرف اور کبھی اپنی امی کی طرف چلی جاتی تھی۔ امی بھی ان دنوں بڑے بھائی کے پاس فیصل آباد گئی ہوئی تھیں‘ یہی سوچ کر طالب کا نمبر ملایا تھا۔ دوسری طرف وہ بہت مصروف سے انداز میں بولا تھا۔
’’نہیں ہانیہ‘ اتوار کو دکان پر بہت کام ہوتا ہے‘ فی الحال تو نہیں آسکتا‘ تم بچوں کو لے کر رقیہ خالہ کی طرف چلی جائو‘ میں تمہیں واپسی پر وہیں سے لے لوں گا۔‘‘ طالب نے اپنی خالہ کی طرف جانے کا کہا‘ اس نے خاموشی سے فون رکھ دیا تھا۔
/…/…/
خالہ رقیہ کا گھر بہت صاف ستھرا اور سلیقے سے سجا تھا۔ ان کی بہو ناعمہ بہت پھرتیلی تھی۔ وہ ایک ہاسپٹل میں نرس تھی۔ شادی کے بعد جاب چھوڑ دی تھی لیکن چار پانچ سال تک جب اولاد نہیں ہوئی تو دوبارہ جاب شروع کردی۔ اب خالہ رقیہ بہت بیمار رہنے لگی تھیں تو اس نے پھر ملازمت کو خیرباد کہہ کر گھر میں ساس کی خدمت کو ضروری سمجھا تھا۔
’’کیک بہت مزے کا بیک کیا ہے بھابی‘ مجھے تو اب ٹائم ہی نہیں ملتا۔‘‘ وہ دل سے تعریف کررہی تھی‘ ساتھ ہی وقت کی کمی کا رونا بھی رو رہی تھی۔
’’ہاں بھئی انسان ہو‘ مشین تو ہو نہیں کہ سارے کام ایک دن میں کرلو۔‘‘ ناعمہ نے اس کے سامنے چائے کا کپ رکھا۔ وہ دیکھ رہی تھی بلال بار بار سرونگ پلیٹوں میں ہاتھ مار رہا تھا۔ وہ بہت سلجھا ہوا بچہ تھا مگر شاید عدم توجہی اور گھر میں ایسی چیزوں کے نہ بننے کی وجہ سے بدتمیزی اور ندیدہ پن دکھا رہا تھا۔ وہ بھی پہلے ہر اتوار کو بریانی‘ کیک اور رول وغیرہ تیار کرتی تھی۔ ناعمہ کے سامنے اسے شرمندگی کا احساس ہوا تھا۔
’’بچے اسی اسکول میں جارہے ہیں ہانیہ؟‘‘ ناعمہ نے بلال کی پلیٹ میں نمکو ڈالتے ہوئے یونہی پوچھا۔
’’نہیں… اب تو میں نے شہر کے سب سے اچھے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروایا ہے انہیں۔‘‘ اس نے فخر سے بتایا۔
’’اچھا…! حیرت ہے حالانکہ بچے پہلے بہت سلجھے ہوئے اور باادب تھے‘ ماشاء اللہ تمہارا بلال تو کچھ بھی کھانے سے پہلے بلند آواز میں بسم اللہ ضرور پڑھتا تھا… میں نے یہ تبدیلی دیکھی تب ہی پوچھ لیا۔ میں سمجھی تھی کہ شاید تم نے بچوں کو کسی اور اسکول میں داخل کروا دیا ہے یا پھر خود ٹائم نہیں دے پارہی ہو۔‘‘ ناعمہ کی اتنی صاف گوئی اسے اچھی نہ لگی کچھ ہی دیر میں اجازت لے کر اٹھ آئی۔ رات میں وہ بلال کو خوب ڈانٹ رہی تھی جب طالب گھر میں داخل ہوا‘ یہ منظر اس کے لیے بھی نیا تھا۔ اس سے پہلے اس نے کبھی ہانیہ کو بچوں پر چلاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
’’کیا ہوا بھئی‘ کیوں ڈانٹ رہی ہو اسے؟‘‘
’’دیکھیں ناں طالب‘ یہ بہت بدتمیز ہوگیا ہے آج رقیہ خالہ کے گھر بھی انتہائی بدتمیزی کی اور اب گھر آکر موصوف انکشاف کررہے ہیں کہ ہوم ورک کیا ہی نہیں‘ کتنی انسلٹ ہوگی میری‘ ساری ٹیچرز کے بچے پڑھائی میں اے ون ہیں اور یہ دن بدن پیچھے ہوتا جارہا ہے۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی‘ طالب کو اس پر ترس آیا۔
’’بلال بیٹا جاکر ٹی وی دیکھو‘ صبح آپ اسکول سے چھٹی کروگے۔‘‘ طالب نے بلال کو چمکار کر اندر بھیج دیا۔ وہ آنسو صاف کرتا ہوا اندر چلا گیا۔
’’کیا مطلب چھٹی کیوں کرے گا؟‘‘ وہ ہونق بنی طالب کو دیکھنے لگی۔
’’تم بھی چھٹی کروگی صبح۔‘‘ اس نے شانوں سے تھام کر اسے کرسی پر بٹھایا۔
’’دیکھو ہانیہ… آئینے میں اپنی صورت‘ صرف لپ اسٹک لگا کر نیا سوٹ پہن کر صبح سویرے تیار ہوکر کوئی عورت خوب صورت نہیں لگ سکتی‘ جب تک اس کے اندر سکون نہ ہو… نیند تمہاری پوری نہیں ہورہی‘ آنکھوں کے نیچے حلقے پڑنے لگے ہیں… رنگت جھلسنے لگی ہے… دراصل تم گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ بھاگ بھاگ کر چڑچڑی ہونے لگی ہو… ہانیہ میں نے تمہاری محبت میں تمہیں جاب سے منع نہیں کیا مگر سچ پوچھو تو میں بالکل بھی خوش نہیں تھا۔ بیٹھے بٹھائے ایک دوست کے کہنے پر تم نے اپنے گھر کا سکون برباد کرلیا‘ نہ کھانے کا مزہ ہے نہ گھومنے پھرنے کا‘ بچے الگ نظر انداز ہورہے ہیں…‘‘ وہ دوسری کرسی پر بٹھ کر اس کے ہاتھ تھامے سمجھا رہا تھا۔
’’ہوں… بچے تو واقعی نظر انداز ہورہے ہیں۔ آج اندازہ ہوگیا مجھے… ناعمہ بھابی نے تو کہہ بھی دیا‘ حالانکہ پہلے اسکول عام سا تھا‘ اٹھارہ سو روپے میں ہمارے دونوں بچے پڑھ رہے تھے اور یہاں میں نو ہزار فیس دیتی ہوں مگر بچے پہلے کی نسبت بہت بگڑ گئے ہیں۔ پڑھائی بھی دلجمعی اور دلچسپی سے نہیں کرتے۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی طالب کو اس کی احمقانہ سوچ پر ہنسی آئی۔
’’یہ خیال تمہارے دماغ میں کس نے ڈال دیا ہانیہ کہ زیادہ فیس ادا کرنے سے اور انگلش میڈیم اسکول میں بچوں کو داخل کروا کر تم ہر ذمہ داری سے آزاد ہوجائو گی بلکہ یہاں تمہیں زیادہ توجہ دینی پڑے گی کیونکہ امیر اور عیاش گھروں کے بچے آتے ہیں ایسے اسکولوں میں… معاشرے میں اپنا مقام اونچا ظاہر کرنے کے چکر میں لوگ محض نمودو نمائش کے لیے اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں بھیجتے ہیں… اصل درس گاہ تو ماں کی گود ہے… اصل تربیت تو تمہیں کرنی ہے ہانیہ… اگر تمہیں بچوں کی انگلش اچھی کروانے کا اتنا ہی شوق ہے تو میں تمہیں بچوں کے لیے اسپوکن کی بک لادوں گا‘ تم چھٹی والے دن اور فارغ ٹائم میں پڑھایا کرو۔ انگلش میں بات کیا کرو بچوں کے ساتھ‘ میں اسٹوری بکس لادوں گا‘ مگر ہانیہ تم انہیں توجہ دو… ایسا نہ ہو کہ صرف انگریزی اسکول کی چھاپ لگوانے کے لیے ہم ان کو مذہب سے بھی دور کردیں اور اخلاقیات بھی نہ سکھا سکیں۔ ہمارے بچے سب سے تمیز دار اور سلجھے ہوئے تھے۔ ابھی بھی وقت ہے ہانیہ‘ اچھی طرح سوچو۔‘‘ وہ بڑے رسان سے سمجھا رہا تھا۔
’’مگر آپ کو تو ورکنگ وومن پسند تھیں ناں شادی کے وقت۔‘‘
’’ہاں تھیں اور ابھی بھی ہیں‘ میں کام کرنے والی خواتین کو سلام کرتا ہوں ان کی ہمت کی داد دیتا ہوں مگر میری جان… ہر کسی کے حالات‘ ترجیحات اور مجبوریاں مختلف ہوتی ہیں‘ اگر کچھ عورتیں شوق کے نام پر باہر کمانے نکلتی ہیں تو کچھ انتہائی مجبوری میں یہ قدم اٹھاتی ہیں… اور اگر کوئی صرف بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھانے کے لیے یہ قدم اٹھاتی ہیں تو لکھوا لو مجھ سے وہ بچے نہ دین کے رہتے ہیں نہ دنیا کے اور مائیں الگ خوار ہوتی ہیں۔ ہمیں روز مرہ کے کاموں میں بھی اﷲ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو دیکھنا ہے میرا کام کمانا ہے اور تمہارا کام گھر چلانا… میں اپنی حیثیت کے مطابق تمہاری ہر ضرورت پوری کرتا ہوں… اپنا گھر ہے ہمارا‘ بچے ہیں اور کیا چاہیے؟‘‘
’’پھر اب کیا کروں؟‘‘ وہ بے بسی سے طالب کی سمت دیکھنے لگی۔
’’جاب چھوڑ دو‘ ہوگیا شوق پورا… گھر کو پہلے کی طرح جنت بنادو… بچوں کو خود ٹائم دو… یہ جاب سراسر گھاٹا اور ذہنی پریشانی دے رہی ہیں ہمیں… اور ہاں وہ تم کہتی تھی ناں کہ ڈگری صندوق میں بند پڑی ہے تو اس کے لیے بھی ایک مشورہ دوں اگر مان لو تو فائدے میں رہوگی۔‘‘ وہ محبت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
’’کیسا مشورہ؟‘‘
’’بہت سی لڑکیاں کالج کا خرچا برداشت نہیں کرسکتیں اور پرائیویٹ طور پر آگے پڑھنا چاہتی ہیں… تم معقول سی فیس لے کر صبح کے وقت گلی محلے کی ایسی لڑکیوں کو پڑھا سکتی ہو… ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی ہوتے رہیں گے اور ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی پڑھا لیا کرنا۔‘‘
’’آپ سچ میں بہت اچھے ہیں طالب اور میں بہت خوش قسمت ہوں۔ میں صبح ہی ریزائن کر آئوں گی۔‘‘ وہ معصومیت سے بولی۔
’’آپ سچ کہتے ہیں یہ گھر میری سلطنت ہے اور یہ میری ننھی شہزادی… بے چاری آدھے دن کے لیے غیر عورت کے ہاتھوں میں رہتی تھی…‘‘ اس نے رابیل کو چوما‘ وہ بھی ماں کو مسکراتا دیکھ کر قلقاریاں مارنے لگی… ان کے چہروں پر سکون اور مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close