Aanchal Oct-18

نیرنک خیال

ایمان وقار

الٰہی تیرے دستِ قدر میں کُل ملک ہے
تِرا نام باقی ہے فانی نہیں
تِرا کوئی عالم میں ثانی نہیں
تُو ہی غم زدوں کا غمخوار ہے
تُو ہی بے کسوں کا مددگار ہے
گناہوں سے ہوکر پریشان حال
تِرے دَر پہ آئے ہیں یا ذوالجلال
ہمیشہ گناہوں کی عادت ہوئی
نہ ہم سے تیری کچھ عبادت ہوئی
سنا جب سے تجھ کو رحیم و غفور
یقیں ہوگیا بخش دے گا ضرور
طفیلِ جناب رسول کریمﷺ
کرم کر کرم یا غفورالرحیم
بہ حال ضیعفانِ کُل مؤمنین
تُو کر رحم یا ارحم الراحمین
اندھیری میری قبر میں اے غنی
تُو کر نور ایمان کی روشنی
یہ بندی جو بے حد گناہ گار ہے
تیری مغفرت کی طلبگار ہے

(انوش فاطمہ… ضلع بھکر)

کہا تھا نا؟
محبت کے سمندر میں
اُترنے سے ذرا پہلے
بس اتنا سوچ لینا تم
کہ یہ ایسا سمندر ہے
نہیں ہے انت کوئی اس کا
جو اس میں پاؤں رکھتا ہے
وہ اس میں ڈوب جاتا ہے
کہا تھا نا؟
محبت کے سمندر میں
اُترنا کھیل مت سمجھو
کہا تھا نا؟؟؟

(سُباس گل… رحیم یار خان)

بکرے کے دام
بکرے کے دام تو بہ کہاں مفلسی کہاں
گائے بھی مجھ کو دیکھ کے روکے ہنسی کہاں
بیگم یہ کہہ رہی ہیں کہ ڈھونڈوں ابھی کہاں
پائے کہاں کلیجی کہاں ہے سری کہاں
دو چار اور ڈیپ فریزر ہوں تو خوب ہے
ناغہ بھی ہو تو گوشت کی دردِسری کہاں
اجرت جو کم کراؤ تو پیشانیوں پہ بل
پہلے قصائیوں میں تھی یہ بے رخی کہاں
رانیں تو ان کو گائے کی دے آئے ہیں مگر
ان کو ہوئی ہے ہم سے محبت ابھی کہاں
ہوتے ہیں ان کی دید سے روشن دل جگر
جو بجلی مفت میں دے ایسا سخی کہاں
اک عمر ہوگئی ہے انہیں رازداں کیے
نیّر قرارِ قلب کہاں ہے خوشی کہاں

(نیّر رضوی… کراچی)

ویڈنگ غزل
مجھے اکثر یہ لگتا تھا محبت کھو گئی شاید
قلبِ بے نوا کی جنبش سے یاد آیا ہے
میری ذات کے تاریک آسمانوں پر
بعد مدت کے محبت کا چاند آیا ہے
سنو اس چاند میں بے وفائی کا کوئی داغ نہیں
یہ تو وفا کی روشنی سے جگمگایا ہے
ہیں میرے سامنے محبت میں دو دھڑکتے دل
ان کی خوشی میں دل آج کھل کے مسکرایا ہے
دولہے راجا بنے بیٹھے ہیں پیار کا پیکر
اور پیاری دلہن کو دیکھ کر چاند بھی شرمایا ہے
میں نے دیکھا ہے ان کی چاہت کے سبھی رنگوں کو
کبھی خوشیاں تو ٹوٹتی اُمنگوں کو
بڑی مشکل سے ایک دوسرے کو پایا ہے
انہیں قسمت نے ہر موڑ پہ آزمایا ہے
پر نہیں ٹوٹنے پائی کبھی ہمت ان کی
قدم قدم پہ رہی ساتھ محبت ان کی
ایک دوسرے پہ یقین ہی ان کو ساتھ لایا ہے
ان کی وفا نے آج خوشیوں کا دن دکھایا ہے
اس محبت پہ اعتبار کھو چکی تھی انعم
انہیں دیکھا تو اس جذبے پہ یقین آیا ہے

(انعم زہرہ… ملتان)

غزل
زبانِ خوشبو میں تجھ سے کہا ہے
صبا کی بات کو میں نے سنا ہے
مرے جذبوں کی سچائی کو دیکھو
یہ وہ جادو ہے جو تم پر چلا ہی
پیاسا جو رہا دریا کنارے
بہت اس میں کمال و حوصلہ ہے
جو پتّہ شاخ سے ٹوٹا وہ مُردہ
اشارہ یہ خزاؤں نے دیا ہے
رہی خانم پہ اپنے رب کی رحمت
یہی احساس تو اس نے لیا ہے

(فریدہ خانم… لاہور)

غزل
ذکر تیرا ہی یار ہوجائے
تو بھی خوشیوں سے ہم کنار ہوجائے
جیون میں کبھی نہ آئے تیرے خزاں
بس یوں جشن بہار ہوجائے
کتنا روئی ہوں اے جانِ جاں تیرے بنا
آنکھ تیری بھی اشک بار ہوجائے
جب سے تو نے قرار لوٹا ہے
کاش تو بھی بے قرار ہوجائے
چاند تو چھپ گیا ہے بدلی میں
جگنوؤں کا انتظار ہوجائے
انتظار کی بھی ایک حد ہوتی ہے
اب تو تیرا دیدار ہوجائے

(فریدہ جاوید فری… لاہور)

میں لوٹ آیا ہوں
دیکھ میں گرتا سنبھلتا
اب لوٹ آیا ہوں
ہزاروں رستے بدلتا
میں لوٹ آیا ہوں
سنا ہے تیرا حسن جوبن پہ ہے مگر
دہکتے انگاروں پر چلتا
میں واپس لوٹ آیا ہوں…!
تیرے گھر کی چوکھٹ پر
آنسوؤں سے اِک نام لکھ کر
میں اپنی سسکیاں دباتا
واپس لوٹ آیا ہوں
محض ایک گل کو چاہنے کی
بڑی سزا پائی ہے
کہ اپنا پھولتا گلشن لٹا کر
میں خالی ہاتھ لوٹ آیا ہوں
دیکھو تو زمانے والو!
شکستہ پا
روتا تڑپتا
آخر میں لوٹ آیا ہوں…!!!

(جاذبہ عباسی… مری)

غزل
عجب اذیت پسندی شامل ہے اس کی چاہت میں
درد دیتا ہے مگر رونے کی اجازت نہیں دیتا
ہر بات میں ڈھونڈ لیتا ہے کوئی تلخ حقیقت
بہت چاہتا ہے مگر دل کو وسعت نہیں دیتا
اِک لمحہ ہی لگتا ہے اسے سزا سنانے میں
معافی مانگنے کی ذرا سی مہلت نہیں دیتا
جلا دیتاہے جذبوں کو اپنی گرم طبیعت سے
دل کو پیار کی آنچ سے حدت نہیں دیتا
ہر چیز دیتا ہے مگر وقت نہیں دیتا
مال و زر بھی دیتا ہے مگر محبت نہیں دیتا

(فائزہ بھٹی… پتوکی)

میرا پاگل پن
میں گر کبھی بدل جاؤں
تمہاری محبت بھول جاؤں
فرض کرو
گر میں ان چاہتوں سے مکر جاؤں
محبت پر ایمان سے پھر جاؤں
تو جاناں
مجھ پر اِک احسان کرنا
مجھ کو بیتے لمحے یاد دلا دینا
اپنی محبت جتا دینا
کچھ میرا پاگل پن مجھ کو بتادینا
اگر پھر بھی
فرض کرو پھر بھی میں مکر جاؤں
تو میرا اِک آخری کام کرنا
مجھے تحفے میں تم کفن دے دینا
کہ مجھے تیرے بن نہیں ہے جینا

(عائشہ نور عاشا… گجرات)

ساتھ
سنو!
کیا ایسا نہیں ہوسکتا
دو دن تم میرے ساتھ رہو
دو دن میں تمہارے ساتھ رہوں
چار دن کی زندگی ہے
نہ تم اداس رہو
نہ میں اداس رہوں!!
(عروسہ شہوار رفیع… کالا گجراں، ضلع جہلم)
اِک خواب سا ہے
تم سنگ چلو
اِک رات رکو
ملاقات تو ہو
تم ساتھ جو ہو
برسات بھی ہو
کچھ پل تو رُکو
کچھ سپنے ہوں
جو اپنے ہوں
کچھ رستوں پر
میرے سنگ چلو
اِک خواب سا ہے
اِک وادی ہو جہاں پھول کھلیں
خوشبو بھی ہو اور ہوا چلے
کچھ ایسا کہوں تم سنتے رہو
اِک خواب سا ہے
تجھے گیت لکھوں
سنگیت لکھوں
من میت لکھوں
میری ہار جو ہو
تم جیت بنو
من میت میرے
میں جانتی ہوں
میرا خواب جو ہے
سراب ہے یہ
صحرا میں کِھلا گلاب ہے یہ

(اُم کلثوم… اختر آباد)

دل نے چوٹ کھائی ہے
ہرنی جیسی آنکھوں والی
خوشبو جیسی باتوں والی
معصوم سی، دیوانی سی
وہ لڑکی
شام سہانی سی
بات کوئی من میں دبائے بیٹھی ہے
اپنے دل کی دھرتی پہ
پیڑ درد کا اُگائے بیٹھی ہے
خوشبو جیسی لڑکی
یہ نہیں جانتی کہ
دل کا درد چھپانے کو
جتنے بھی جتن کیے جائیں
یہ آنکھیں پریشاں کرتی ہیں
اور ہر اِک سے کہتی ہیں
دل نے چوٹ کھائی ہے
ہم نے نیند گنوائی ہے

  • (علینہ اشرف… اسلام آباد)

فرق
کیا فرق پڑتا ہے
میں تم سے روٹھ جاؤں تو
تمہارے پاس نہ آؤں تو
پھر تم سے دُور جاکر میں
کبھی واپس نہ آؤں تو
تمہاری یاد میں گم صم
کبھی آنسو بہاؤں تو
تمہارے پیار میں اکثر
میں خود کو بھول جاؤں تو
میں تم سے دُور رہ کر
اکیلے مر بھی جاؤں تو
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

(اقرا تبسم…اوکاڑہ)

’’ہائے غربت‘‘
میں نے سوچا تھا
اس برس عید آئے گی
اِک نشیلی آنکھوں والا
تگڑا سا بکرا میں بھی لاؤں گی
گلے میں چمکتی رسی ڈال کر
اُسے گلیوں میں گھماؤں گی
محلے بھر میں اِتراؤں گی
اور جی بھر کے مسکراؤں گی
عید آئی بھی اور چلی بھی گئی
جو خواہش تھی وہ دل میں رہ ہی گئی
اس مہنگائی کے مارے
تگڑا تو کیا…
کمزور سا بکرا بھی میں نہ لاسکی
اور محلے میں اِترا نہ سکی
اِک پھیکی سی مسکراہٹ کے سوا
نجم انجم بالکل بھی مسکرا نہ سکی

(شاعرہ: نجم انجم اعوان… کراچی)

غزل
وہ ہمیں جفائیں دیتے رہے
ہم انہیں دعائیں دیتے رہے
بدلے میں اس کی بے رخی کے
کیا کیا بتائیں دیتے رہے
بے مروت بے وفاؤں کو ہم
بے لوث وفائیں دیتے رہے
جو کب کا بُھلا چکا ہمیں
انجانے میں اسے صدائیں دیتے رہے
نکھرتا ہی گیا موسمِ دل
زخموں کو ہوائیں دیتے رہے
آنے کی جس کی اُمید نہیں
خواب میں اسے ندائیں دیتے رہے

(فصیحہ آصف خان… ملتان)ض

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close