Aanchal Nov-18

الکوثر (دانش کدہ)

مشتاق احمد قریشی

یقینا تمہارا دشمن ہی بے نام نشان ہے

یہ سورۃ کوثر کی تیسری اور آخری آیت ہے۔ اس میں لفظ شانئک استعمال ہوا ہے۔ شانی شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور عداوت کے ہیں جس کی وجہ سے کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔ یہاں شانئک سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور عداوت پر کمربستہ تھا اور کرے گا اپنی دشمنی میں ایسا اندھا ہو گیا تھا اور آج بھی ہورہا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگاتا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلا ف بدگوئی کرتا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشی کر کے دل کا بخار نکالتا تھا یا آج کے زمانے میں بھی ایسا کررہا ہو۔
سورۃ الکوثر جن حالات میں نازل ہوئی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شدید ترین مشکلات کا دور تھا۔ پوری کی پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی۔ عزیز رشتہ دار اور دوست‘ دشمن بن چکے تھے۔ مزاحمتوں کے پہاڑ کے پہاڑ راستے میں حائل تھے۔ مخالفت کا طوفان ہر طرف برپا تھا۔ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور کامیابی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تقاضۂ بشریت نے پریشان کر رکھا تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے اور محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے‘ ان کی ہمت بندھانے کے لیے سورۃ کوثر کا نزول فرمایا۔ اس سورۃ مبارکہ سے اللہ تباک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی بھی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین دشمنوں کی تباہی و بربادی کی پیشن گوئی بھی فرما دی۔ کیونکہ کفار قریش کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری قوم سے کٹ گئے۔ ان کی حیثیت ایک بے کس و بے یارو مددگار کی سی ہو گئی ہے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اسلام کی دعوت دی تو کفار قریش کہنے لگے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم سے کٹنے کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں جیسے کوئی جڑ کٹا درخت جو کچھ عرصے بعد خود بہ خود سوکھ کر پیوند خاک ہو جائے گا۔ (نعوذ باللہ)
’’وہی ابتر ہے‘‘ آیت شریف کے اس حصے میں فرمایا جارہا ہے وہی ابتر ہے۔ درحقیقت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتا ہے وہی خود ابتر ہے۔ یہ لفظ بتر سے صفت ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں نماز کی اس رکعت کو جس کے ساتھ کوئی دوسری رکعت نہ پڑھی جائے بتیراء کہا گیا ہے۔ یعنی اکیلی رکعت‘ ایک اور حدیث میں ہے ہر وہ کام جو کوئی بھی اہمیت رکھتا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ بھی ابتر ہے‘ یعنی اس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔ اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہو گا یا اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔ نامراد انسان کو بھی ابتر کہتے ہیں۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہو جانے والے کوبھی ابتر کہتے ہیں۔ جس شخص کے لیے کبھی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہے اور کامیابی کی ساری امیدیں ختم ہو چکی ہوں وہ بھی ابتر ہے۔ جو فرد اپنے کنبے‘ برادری‘ اعوان و انصار سے کٹ کراکیلا رہ گیا ہو وہ بھی ابتر ہے اور جس شخص کی اولاد نرینہ یعنی بیٹا نہ ہو یا مر گیا ہو وہ بھی ابتر ہے کیونکہ اس کے پیچھے اس کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہتا اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔ تقریباً ان سب ہی معنوں میں کفار قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے اس پر ربّ کائنات نے اپنے محبوب نبی سے فرمایا کہ ’’تم ابتر نہیں ہو بلکہ تمہارے دشمن ابتر ہیں۔ یہ کوئی جوابی حملہ نہیں تھا بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی بڑی اہم پیشن گوئی تھی جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ جس وقت یہ پیشن گوئی کی گئی تھی اس وقت کفار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر سمجھ رہے تھے اور بہ ظاہر دور دور کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہو جائیں گے جو نہ صرف مکہ میں بلکہ پورے عرب میں بڑے ہی نام ور تھے ۔ کامیاب ‘ مال و دولت اور اولاد والے تھے۔ بہت سی نعمتیں رکھتے تھے۔ سارے ملک میں جگہ جگہ ان کے اعوان و انصار موجود تھے‘ تجارت میں اجارہ دار تھے اور حج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام عرب قبائل سے ان کے وسیع تعلقات تھے لیکن چند سال نہیں گزرے تھے کہ کایا پلٹ گئی۔ کہاں تو یہ حالات تھے کہ سن ۵ ہجری میں غزوہ احزاب کے موقع پر جب قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محصور ہو کر شہر کے گرد خندق کھود کر مدافعت کرنا پڑی تھی وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ تین سال بعد ہی وہ وقت آگیا جب سن ۸ ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگار نہیں تھا اور انہیں بے بسی سے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر اندر پورا عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ نگر تھا۔ ملک کے گوشے گوشے سے قبائل کے وفود آ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کررہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام دشمن بے بس و بے یارو مددگار ہو کر رہ گئے تھے۔ پھر وہ ایسے بے نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو ان میں سے آج کوئی نہیں جانتا کہ وہ ابوجہل یا ابولہب یا عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط وغیرہ دشمنان اسلام کی اولاد ہیں اور اگر جانتا بھی ہو گا تو کوئی اپنی نسبت ان سے کہنے کے لیے تیار نہ تھا کہ ان کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ جب کہ اس کے برعکس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آج دنیا بھر میں درود سلام بھیجا جاتا ہے کروڑوں کیا اربوں مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پر فخر ہے۔ لاکھوں انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے خاندانوں سے اپنی نسبت و انتساب پر فخر کرتے ہیں اور باعث شرف سمجھتے ہیں۔ کوئی سید ہے‘ کوئی علوی ہے‘ کوئی عباسی تو کوئی ہاشمی اور صدیقی ہے اور کوئی فاروقی‘ عثمانی‘ زبیری‘ انصاری مگر کبھی کہیں بھی کوئی ابو جہلی یا ابولہبی نہیں ملا نہ سنا۔ تاریخ نے ثابت کردیا کہ کہ ابتر کون تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں ہاں ان کے دشمن ضرور ابتر تھے۔
دشمنان اسلام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی میں سب سے پیش پیش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا ابولہب تھا۔ زمانہ قدیم میں جب کہ پورے عرب میں بدامنی غارت گری اور طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا اور صدیوں سے یہ حالت تھی کہ کسی شخص کے لیے اس کے اپنے خاندان اور خونی رشتے داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی۔ اس لیے عرب معاشرے میں اخلاقی قدروں‘ صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک) کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور قطع رحمی کو بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت حق دی تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور سرداروں نے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی مگر بنی ہاشم اور بنی المطلب (ہاشم کے بھائی مطلب کی اولاد) نے نا صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ کھلم کھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے رہے حالانکہ ان میں سے اکثر افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہیںلائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے کبھی انہوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے کی کیوں حمایت کر کے اپنے آبائی دین کے خلاف ہو گئے ہو۔ کیونکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ کوئی بھی خاندان اپنے کسی فرد کو کسی بھی حالت میں دشمن کے سامنے اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اپنے عزیز کی ہر حال میں پشت پناہی کرنا اہل عرب کا ایک فطری امر تھا۔
عربوں کے اس اخلاقی اصول کو زمانہ جاہلیت میں بھی تمام عرب بڑی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پورے عرب معاشرے میں صرف ایک شخص ہی ایسا تھا جو اسلام دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ اس نے عربوں کی تمام اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال دیا اور تمام اخلاقی حدود و قیود کو پھلانگ گیا۔ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کا بیٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا ابو لہب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبداللہ اور ابولہب ایک ہی باپ کی اولاد تھے۔ لیکن دونوں کی مائیں الگ الگ تھیں حضرت عبداللہ کی والدہ فاطمہ بنت عمر تھیں جبکہ ابوالہب کی والدہ لبنیٰ بنت عامہ تھیں۔ عرب معاشرے میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا خصوصاً جب کہ بھتیجے کا باپ انتقال کر چکا ہو تو عرب معاشرے میں چچا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا لیکن اس شخص ابو لہب نے اسلام دشمنی اور کفر کی محبت میں تمام عرب روایات کو پامال کردیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے چچا ابو طالب نے اپنی تمام تر عرب اقدار و روایات کے عین مطابق اپنے والد عبدالمطلب کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہ صرف آٹھ برس کے تھے تو چچا ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی ذمہ داری سنبھال لی اور چچا ابو طالب نے اپنے بچوں سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز رکھا۔ ایک چچا ابولہب تھا اور ایک چچا ابوطالب‘ دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ابو طالب نے بھی گو کہ اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سینہ سپر رہے۔ کفار قریش اگر آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کرتے تب بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی حمایت و تائید کرتے جب کہ ابو لہب جی جان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی پر کمربستہ رہتا۔ اس کی اس دشمنی کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی میں ہی اس کے لیے قرآن کریم میں رہتی دنیا تک کے لیے ہی نہیں بلکہ آخرت کے زندگی کے لیے بھی بددعا فرمائی اور قرآن حکیم میں سورۃ اللھب نازل فرمائی جس سے وہ ہمیشہ ہمیشہ معتوب اور ذلیل ہوتا رہے گا۔ قرآن حکیم میں ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنان اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمّت کی گئی ہے۔ حالانکہ مکہ میں اور مدینے میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طرح کم نہیں تھے۔ تو پھر کیوں ابولہب کو خصوصیت سے نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عربی معاشرے کو سمجھیں اور سورۃ اللھب کی تشریح اور تفسیر پر غور کریں۔یہ سورہ مبارکہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے خلاف پُر اثر سزا بھی ہے۔ اس سورہ میں سزا کا دو ٹوک اعلان ہے۔
ترجمہ۔ ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا اور (اس کے ساتھ) اس کی بیوی بھی لگائی بجھائی کرنے والی‘ اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہو گی۔ (سورۃ تبت۔ آیات ۱ تا ۵)
یہ سورۃ مبارکہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ یہسورۃ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے دشمن ابو لہب کے نام سے منسوب ہے۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ اور مدینہ کے علاوہ دیگر قبائل عرب میں دشمنوں کی کمی نہیں تھی۔ دین اسلام کے بدخواہوں کی اذیت رسانیاں‘ دل آزاریاں اور اسلام کو بحیثیت دین ناکام کرنا ہی ان سب کا مقصد حیات تھا۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خصوصیت سے اس سورۃ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہی دشمن سے کیوں منسوب فرمایا؟ جہاں یہ سورۃ ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل کے لیے دائمی بددعا ہے وہیں اپنے محبوب نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و نسبت کا اظہار بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی کا مژدہ بھی ہے۔

(جاری ہے)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close