Aanchal Nov-18

در جواب آں

مدیرہ

رفاقت جاوید… اسلام آباد
عزیزی رفاقت! سہاگن رہو، آپ کی ارسال کردہ تحریر ’’کورا کاغذ‘‘ منتخب ہوگئی ہے۔ ان شاء اللہ جلد شامل اشاعت کرلیں گے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ آپ کو بہت سی کامیابیاں عطا فرمائے اور صحت و تندرستی سے نوازے‘ آمین۔ آنچل و حجاب کے لیے اپنا قلمی تعاون برقرار رکھیے گا۔
رفعت سراج… کراچی
عزیزی رفعت! سدا سہاگن رہو‘ آپ کی ناسازیٔ طبیعت کا علم ہوا۔ بے شک آنکھیں اللہ سبحان و تعالیٰ کی نعمتوں میں سے بے حد اہم جز ہیں اور پھر جن کا پڑھنے لکھنے کا کام ہو ان کے لیے تو بہت ہی مشکل ہوجاتی ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے‘ آمین۔ تاکہ آپ اپنے چاہنے والوں کو اپنی تحاریر سے محظوظ کرتی رہیں۔ امید ہے جلد صحت یاب ہوکر آنچل کے لیے اپنی کوئی تحریر ارسال کریں گی۔ قارئین سے بھی دعائے صحت کے ملتمس ہیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ انہیں اور ان کے شوہر نامدار کو صحت و تندرستی والے عمر دارز عطا فرمائے‘ آمین۔
حیا بخاری… ڈیرہ غازی خان
عزیزی حیا! سدا شاد و آباد رہو، آپ کی علالت کے متعلق علم ہوا۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے آپ کی صحت کاملہ کے لیے دعا گو ہیں۔ جب انسان پر بیماری آتی ہے تو اسے اللہ سبحان و تعالیٰ کی عطا کردہ دیگر نعمتوں کے ساتھ صحت و تندرستی جیسی عظیم نعمت کا بھی ادراک ہوتا ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ ہر کسی کو موذی امراض و بیماریوں سے محفوظ رکھے اور جو بیمار ہیں انہیں شفاء کاملہ عطا فرمائے‘ آمین۔ قارئین سے بھی دعائے صحت کے ملتمس ہیں۔
ارم کمال… فیصل آباد
پیاری ارم! سدا سہاگن رہو، آپ کی غیر حاضری اور کمی کو قارئین کے ساتھ ہم نے بھی شدت سے محسوس کیا۔ آپ کی علالت کے متعلق جان کر بے ساختہ دعائوں نے لبوں کا احاطہ کیا۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ آپ کو اس موذی مرض سے نجات دے اور شفاء کاملہ نصیب فرمائے‘ آمین۔ تاکہ آپ جلد ٹائیفائیڈ جیسی بیماری کو شکست دے کر اپنی آنچل نگری میں واپس آجائیں۔ خوش رہیں۔
ام اقصیٰ… چونیاں
پیاری اقصیٰ! جیتی رہو، آپ کے دو افسانے موصول ہوئے۔ ’’گورنمنٹ اسکول ٹیچر‘‘ اور ’’بنے ہیں ایک دوسرے کے لیے‘‘ اول الذکر تحریر کے لیے معذرت کیونکہ ابھی اس موضوع پر کچھ ماہ پہلے ہی تحریر شائع ہوئی ہے۔ اب اس کو فوری نہیں لگا سکیں گے اور طویل انتظار آپ کے حصے میں آئے گا۔ اس لیے اس کہانی کی معذرت قبول کیجئے البتہ دوسری تحریر آپ کی جلد شائع ہوجائے گی۔
انعم زہرہ… ملتان
پیاری انعم! سدا آباد رہو۔ آپ کے خطوط کی یہ سطور پڑھ کر ہمیشہ بے حد خوشی اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے کہ آپ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ اپنے ماضی کے آلام و مصائب سے نکل کر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لیے کوشاں ہیں اور جو لوگ خود پر بھروسہ کرتے ہیں اور مستقل مزاجی سے کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو اللہ سبحان و تعالیٰ بھی ان کا مددگار ہوتا ہے۔ آپ کی بات ٹھیک ہے تاخیر کے سبب ہی آپ کا تبصرہ شائع نہ کرسکے۔ نیرنگ خیال میں آپ کی غزل سب کو پسند آئی ہمیں بھی خوشی ہے۔ اسی طرح خود کو دیگر کاموں میں مشغول رکھیں کیونکہ آپ کو مطمئن اور خوش دیکھ کر ہی والدین بھی مطمئن رہ سکیں گے۔ ورنہ آپ کی فکر میں گھلتے رہیں گے۔ جس کام میں بھی آپ کو عبور حاصل ہو اس کی طرف دلجمعی سے سر انجام دیں، اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ آپ کو زندگی میں اس قدر خوشیاں ملیں کہ آپ سابقہ ہر غم اور دکھ بھول جائیں‘ آمین۔
حمیرا قریشی… حیدر آباد‘ سندھ
ڈیئر حمیرا! جگ جگ جیو، طویل عرصے کی غیر حاضری کے بعد بالآخر آنچل کی یاد آپ کو آہی گئی۔ بہرحال آپ کی علالت کے متعلق جان کر بے ساختہ دعا گو ہیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی سے بھرپور زندگی عطا فرمائے اور زندگی کی بہت سی خوشیاں آپ کے مقدر میں رقم کردے‘ آمین۔ اب آپ نے ہمت کرلی ہے تو نگارشات بھی جلد شائع کردیں گے۔ خط کا جواب حاضر ہے۔ سو آنچل میں آپ کا نام تو جگ مگ کررہا ہے۔ کوشش کر رہے ہیں آپ کی تحریر بھی جلد آنچل و حجاب کی زینب بن جائے۔
سونیا کرامت… گجرات
پیاری سونیا! سدا خوش رہو۔ آپ کی تحریر ’’ماں کا خواب‘‘ کے عنوان سے موصول ہوئی۔ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن تحریر کا موضوع پرانا ہے کہ لڑکی دوستوں کے کہنے میں آکر غلط راہ کا انتخاب کرتی ہے لیکن اختتام واضح نہیں کہ لڑکی کے بھائی کو کہاں سے خبر ملتی ہے کہ وہ امتحان میں فیل ہوگئی ہے اور وہ اس سے کچھ بھی پوچھنے سے پہلے اسے مارنے پر بضد دکھایا گیا ہے۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر آپ کی تحریر اپنی جگہ نہیں بنا سکی۔ امید ہے مایوس ہونے کے بجائے کوشش جاری رکھیں گی۔
نگہت نواز… بھاگٹا نوالہ
عزیزی نگہت! شاد رہو، آپ شاعری کرتی ہیں تو دیگر شعراء کے کلام کو بغور پڑھیں۔ ان کی شاعری آپ کے لیے بہترین رہنما ثابت ہوگی۔ آپ یہاں بھی اپنی نظمیں، غزلیں ارسال کرسکتی ہیں لیکن پرچے کے معیار کے مطابق ہوئیں تو ہی آنچل کی زینت بن سکیں گی۔ بصورت دیگر معذرت۔ افسانہ کے لیے بھی یہی اصول ہے۔ آپ بھیج دیں پڑھنے کے بعد ہی اپنی رائے سے آگاہ کرسکیں گے۔
شازیہ الطاف ہاشمی… شجاع آباد
پیاری شازیہ! سدا سہاگن رہو، آپ کی پُر خلوص محبت اور چاہت کے مقروض ہیں۔ آپ نے جس خوب صورت انداز میں اپنے جذبوں کا اظہار کیا بے حد پسند آیا۔ آپ کی تحریر پرچے کی زینت بنی اس لیے پرچہ خودبخود آپ تک پہنچ گیا۔ آپ کی محنت پر ادارے کی جانب سے ایک چھوٹا سا نذرانہ۔ ارسال کردہ تحریر ’’نور جہاں‘‘ منتخب ہوگئی ہے جلد حجاب کے صفحات پر اپنی جگہ بنالے گی۔ سال نو کے لیے تحریر ارسال کردیں، پڑھ کر آگاہ کردیں گے۔
سحر تبسم سحری… مغل پورہ
ڈیئر تبسم! خوش رہو۔ آپ کی تحریریں موصول ہوئیں، پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ کو مزید محنت کی ضرورت ہے۔ موضوع اگرچہ منفرد تھے، مگر انداز تحریر میں پختگی نہ ہونے کے باعث کوئی بھی تحریر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی، بہتر ہے کہ ابھی قلمی سفر کو کچھ وقت کے لیے ترک کردیں اور مطلع پر توجہ مرکوز کردیں۔ نامور مصنفین کی تحریروں کا مطالعہ کریں تاکہ لکھنے میں مدد ملے۔ امید ہے تشفی ہوگئی ہوگی۔
عدیلہ صنم… نامعلوم
پیاری عدیلہ! سدا خوش رہو۔ آپ کی تحریر ’’تغیر ذات‘‘ موصول ہوئی۔ تحریر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن پہلے مختصر موضوع پر قلم اٹھائیں اس کے بعد طویل موضوع پر آئیں۔ اپنی اس تحریر میں آپ نے لڑکی کو اس قدر بزدل دکھایا کہ وہ دنیا کا سامنا کرتے ہوئے ڈر رہی ہے۔ اب وقت بدل گیا ہے۔ لڑکیاں اب بہادر ہوگئی ہیں اور ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ڈر اور خوف کے بعد کسی ہیرو کا آجانا اور پھر اس کی زندگی میں تبدیلی ایسے موضوعات پر بہت لکھا جاچکا ہے۔ اس تحریر کے لیے معذرت۔
ایمن پارس… جڑنوالہ
ڈیئر ایمن! سدا سکھی رہو، آپ کی تحریر ’’رانگ نمبر‘‘ پڑھ کر اندازہ ہو کہ بچکانہ سی تحریر تھی۔ موضوع کا چنائو اور انداز تحریر دونوں ہی کمزور تھے۔ اس لیے معذرت۔ آپ کے لیے مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ ابھی آپ لکھنے کے بجائے مطالعہ پر توجہ دیں۔ دیگر مصنفین کو بغور پڑھیں اور ان کے انداز تحریر اور موضوع کے چنائو کو بطور خاص ملاحظہ کریں۔ جب ان چیزوں پر عبور حاصل ہوجائے گا پھر لکھنے کی طرف آئیے گا۔ امید ہے مایوس ہونے کی بجائے محنت اور مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں گی۔
نورشال… نامعلوم
ڈیئر نور شال! سلامت رہو، آپ کی تحریر پڑھی۔ موضوع کا چنائو تو قدرے بہتر تھا، لیکن پوری کہانی نصیحتوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس سے کہانی کا حسن متاثر ہوا ہے اور کہانی سے زیادہ ایک سبق آموز لیکچر محسوس ہوا۔ اگر نصیحت کہانی میں شامل کرنی ہے تو انداز ہلکا پھلکا رکھیں کہ پڑھنے والا خود ہی محسوس کرے۔ امید ہے آئندہ ان چیزوں کو سامنے رکھ کر قلم اٹھائیں گی۔
اقصیٰ اکبر… بہاولپور
عزیزی اقصیٰ! جیتی رہو، آپ نے تحریر ارسال کردی ہے۔ مزید لکھنے کا موقع آپ کی یہ تحریر آپ کو فراہم کرے گی۔ اگر تحریر معیاری اور پرچے کے معیارکے مطابق ہوتی ہے تو از خود جگہ بنا لیتی ہے۔ ہر اچھی اور بہترین چیز اپنی جگہ خود بناتی ہے۔ اس لیے آپ مطمئن رہیں اور اپنی محنت پر بھروسہ رکھیں۔ بہرحال آپ دیگر سلسلوں میں شرکت کے ذریعے ہر ماہ پرچے میں شامل ہوسکتی ہیں۔
سعدیہ عبدالستار… نامعلوم
ڈیئر سعدیہ! آباد رہو، آپ کی تحریر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ابھی آپ کو مزید محنت کی ضرورت ہے۔ موضوع کے چنائو میں انفرادیت پیدا کریں، جبکہ اس قسم کے موضوعات پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور انداز تحریر کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ آپ دیگر مصنفین کی تحریروں کو بغور پڑھیں۔
عروج ملک…کراچی
پیاری عروج! سدا مسکرائو، آپ کا طویل ناول ’’عائشہ‘‘ کے عنوان سے موصول ہوا۔ ناول کا موضوع جو آپ نے منتخب کیا ہے وہ انتہائی خشک ہے۔ ایسے موضوعات کو قارئین تک پہنچانا اور ان کی توجہ حاصل کرنا کافی مشکل رہے گا۔ کیونکہ دلچسپی سے مفقود ہے۔ پھر یہ ناول اپنی طوالت کے سبب قسط وار بنے گا۔ ابھی آپ پہلے اپنا کوئی افسانہ ارسال کردیں۔ موضوع کی انفرادیت کا خیال رکھیں تاکہ قارئین کے لیے دلچسپی کا سبب بنے۔ امید ہے ان باتوں کو پیش نظر رکھ کر قلم اٹھائیں گی۔ اس ناول کے لیے معذرت۔
مہ رخ چودھری… شیخوپورہ
پیاری مہ رخ! شاد رہو، آپ کی تحریر ’’محبت راس نہ آئی‘‘ محبت کے موضوع پر لکھی بہت ہی روایتی سی تحریر ثابت ہوئی۔ صرف لفاظی کی بنا پر کوئی کہانی کبھی منتخب نہیں ہوتی۔ جملوں کا استعمال تو اچھا ہے لیکن برمحل نہیں۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قلم اٹھائیں تاکہ یہ کمزوریاں دور ہوسکیں۔ مزید محنت اور مطالع کے ساتھ کوشش جاری رکھیں۔
علینہ ملک… کراچی
ڈیئر علینہ! سکھی رہو۔ آپ کی تحریر ’’من چاہے خواب‘‘ کے نام سے موصول ہوئی۔ موضوع کافی پرانا ہے کہ لڑکی کی شادی نہیں ہو رہی اور وہ نوکری کرنے لگتی ہے۔ تب وہاں ایک لڑکا صرف وقت گزاری کے لیے لڑکی سے مراسم بڑھاتا ہے۔ اب وقت بدل گیا ہے۔ لڑکیاں بھی اس قسم کی حرکتیں کرتی ہیں اور سوشل میڈیا پر وقت گزاری کے لیے لڑکوں سے بات بھی کرتی ہیں۔ خیر آپ کسی اور موضوع کا انتخاب کرتے کوشش جاری رکھیں۔ موضوع پر آپ کی گرفت بھی کمزور ہے۔
رابعہ عباس… بستی فتے والی
پیاری رابعہ! جگ جگ جیو۔ آپ کی تحریر ’’میں نے خدا کی نعمتوں کو ٹھکرا دیا‘‘ موصول ہوئی۔ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ابھی آپ کو مزید محنت کی ضرورت ہے۔ گو کہ موضوع منفرد منتخب کیا۔ حشرات الارض، کھانے پینے کی چیزوں میں گر جائیں تو انہیں نہیں کھانا چاہیے اور ویسے بھی کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھک کر رکھنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ یہ اپنا زہر کھانوں میں شامل نہ کردیں اور ہم بھی بیماریوں کے ساتھ ایسی اموات سے محفوظ رہیں۔ اس تحریر کے لیے معذرت، کسی اور موضوع کو قلم بند کریں۔ آپ دیگر سلسلوں میں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔
شازیہ فاروق احمد… خان بیلہ
ڈیئر شازیہ! سدا سہاگن رہو، آپ کی تمام تحریریں ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ لیکن آپ خود کہاں غائب ہیں۔ ورنہ آپ کا شمار تو ان قارئین میں ہوتا تھا جو ہر ماہ باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔ بہرحال زندگی کی مصروفیات سے انکار تو نہیں لیکن پھر بھی اپنے مصروف لمحوں سے چند پل چرا کر آنچل کے نام کردیں اور اپنے قارئین کی تشنگی کو بھی مٹادیں۔ جو آپ کی دیگر نگارشات اور واپسی کے تہہ دل سے منتظر ہیں۔ امید ہے اس نصف ملاقات کے بعد قلمی رابطہ بحال ہوجائے گا۔
ہنی فاطمہ… کراچی
ڈیئر ہنی! سدا آباد رہو، آپ سے نصف ملاقات بہت اچھی رہی۔ آنچل اور آپ کے دیرینہ ساتھ کے متعلق جان کر اچھا لگا۔ بے شک ہمارا کام تو سب کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے اور بہت سی مصنفین جو آج شہرت و بلندی حاصل کرچکی ہیں انہوں نے اپنا ابتدائی سفر اسی کے توسط سے طے کیا۔ ہماری طرف سے کسی کے لکھنے پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی ہم مصنفین کو صرف اپنے ادارے کا پابند کرتے ہیں۔ آپ لکھنا چاہتی ہیں تو ضرور لکھیں۔ اچھی اور معیاری چیز اپنی جگہ خود بنالیتی ہے۔ اگر آپ میں بھی صلاحیت ہے تو آپ محنت اور لگن سے اپنے فن کو جلا بخش سکتی ہیں۔
حمیرا عزیز… خانیوال
ڈیئر حمیرا! سلامت رہو، آپ کے مفصل خط سے تمام حالات کا بخوبی اندازہ ہوا۔ بعض لوگ نہ خود کوئی کام کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو ترقی کرتے اور آگے بڑھتا دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ان کی باتوں سے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔ تعلیم کا مطلب صرف ڈگریوں کا حصول ہی نہیں اور جن کے پاس اعلیٰ ڈگریاں ہیں بعض اوقات تو وہ بھی جاہلوں سے بدتر سلوک کرتے نظر آتے ہیں اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کے پاس کسی بھی بڑے ادارے کی ڈگریاں نہیں لیکن وہ اپنے تجربے اور نظریات کی بناء پر کافی گہرا مشاہدہ اور علم رکھتے ہیں۔ یہ تو انسان کی اپنی ذات پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح علم حاصل کرتا ہے۔ بہرحال آپ کا جذبہ قابل ستائش ہے۔ آپ اپنا کام ہمت اور حوصلے سے جاری رکھیں۔ یہاں بھی اپنی تحریر ارسال کرسکتی ہیں۔
مدیحہ نورین مہک… گجرات
پیاری مدیحہ! جیتی رہو، آپ کی فیملی پر گزرنے والے حادثے کے متعلق جان کر دل رنجیدہ ہوا۔ بے شک والدین کے لیے اولاد کا دکھ بے حد تکلیف دہ اور صبر آزما ہوتا ہے۔ وہ گھر جس میں ایک معصوم کی قلقاریاں گونجنی چاہیے تھیں اب سناٹا ہے۔ بے حد افسوس ناک ہے، لیکن ایسے حالات میں سوائے صبر کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ سبحان و تعالیٰ کے ہر کام میں مصلحت اور حکمت ہوتی ہے۔ آپ صبر کے ساتھ اللہ کی رضا میں شکر کا اظہار کرتی رہیں۔ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کے بھائی‘ بھابی کو دیگر بہت سی خوشیاں عطا فرمائے گا۔
شبینہ کوثر… معین الدین پور، گجرات
عزیزی شبینہ! شاد و آباد رہو‘ بزم آنچل میں پہلی بار شرکت پر خوش آمدید۔ آپ سے یوں نصف ملاقات بہت اچھی رہی آپ کی تمام تحریریں پڑھ لیں۔ کہانی لکھنے کا طریقہ کار تو درست ہے آپ کا پھر ابہام کیونکر؟ آپ کی تحریر ’’کی کرئیے‘‘ اور آرٹیکل منتخب ہوگیا ہے جبکہ دوسری تحریر ’’تیری چاہ میں‘‘ کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ موضوع کا چنائو کچھ کمزور محسوس ہوا۔ منتخب شدہ تحریر باری آنے پر شائع کردیں گے آپ اپنا تحریری سفر جاری رکھیں اور مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کرتی رہیں اس طرح لکھنے کے فن میں مزید نکھار آئے گا آنچل و حجاب کا پلیٹ فارم آپ جیسی نو آموز کے لیے ہی ہے اور ہم رہنمائی کے لیے حاضر ہیں۔ امید ہے اس تحریر کے انتظار میں اپنا قلمی سلسلہ موقوف نہیں کریں گی بلکہ مزید محنت اور لگن کے ساتھ تعاون برقرار رکھیں گی۔ آپ کے مختصر سے تعارف سے تھوڑی بہت آشنائی تو ہوگئی ہے ان شاء اللہ جلد ہی شناسائی کے دیگر مراحل بھی بخوبی طے ہوجائیں گے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کے قلم میں مزید ترقی عطا فرمائے، آمین۔
دلکش مریم… چنیوٹ
پیاری دلکش! شاد و آباد رہو، آپ کی شادی طے ہوگئی یہ خبر سن کر بے حد خوشی ہوئی اور ساتھ میں آپ کی بہن کی شادی بھی آپ کے ساتھ ہورہی ہے یہ جان کر بے ساختہ دعا گو ہوئے اللہ سبحان و تعالیٰ آپ دونوں بہنوں کے نصیب بلند فرمائے اور آپ دونوں کو بے حساب خوشیاں‘ راحت و سکون نصیب کرے‘ آمین۔

قابل اشاعت:۔
عشق ست رنگی، کی کریئے، حصار، بنے ہیں ایک دوسرے کے لیے، مشی زارا (آرٹیکل)، نور جہاں۔

ناقابل اشاعت:۔
وجہ کیا تھی، قدر جانے نہ قدر جانے، محبت کے نام پر، سچی محبت، وہ عشق تھا شاید، عشق دایاراں ہواں، تیری دھڑکنوں کے سنگ، قوت یقین سے حاصل ہے، نیا سال نئی عید، اک بار کہو تم میری ہو، دل کو قرار تھا، اس دل کے جھروکے میں، پگلے دل کی نادانیاں، من چاہے خواب، گورنمنٹ اسکول ٹیچر، تغیر ذات، بھیگی پلکیں ہنستے خواب، وعدہ ملن دسمبر کا، برباد ہوئے اس طرح، وفائے آرزو، ہجر کی زیست میں شام، تیری چاہ میں، ماں، عشق امید اور دعا، ماں کا خواب، تم بن زندگی بے نام، میرے گمشدہ، احساس، بلا عنوان، تم زندہ ہو، زہرہ کہانی، محبت راس نہ آئی، کرشن سپیرے کی موت، رانگ نمبر، ہوجا تو نہیں ہوجاتا ہے، پھول کھلنے والے ہیں، زندگی کی کہانی، لمحے آشنائی کے، وہ ماں تو تھی، جہیز، گردش تقدیر، یہی تو پیار ہے‘ شکواہ یا شکر‘ شرارت۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close