Aanchal Nov-18

حمد و نعت

صبیح رحمانی/عنایت علی خان

حوصلہ دے فکر اور بارش فیضان کر
ہے ثنا تیری بہت مشکل اسے آسان کر
رفتہ رفتہ کھول مجھ پر راز ہائے جسم و جاں
دھیرے دھیرے مجھ پہ ظاہر تو میری پہچان کر
زیست کے تپتے ہوئے صحرا میں ہوں اس سے نکال
میرے سر پر بیکراں رحمت کی چادر تان کر
کفر آلود فضا میں سانس لینا محال ہے
پھر سے اس گم کردہ رہ کو صاحب ایمان کر
ختم ہوجائے بساط خاک کا سب شور و شر
بے سکونی کو عطا پھر حسن اطمینان کر
خیمہ شب سے یہی آواز آئی ہے صبیح
حمد لکھ اور اس طرح بخشش کا کچھ سامان کر

صبیح رحمانی

مرا جذب دل میرے کام آگیا ہے
مدینے سے آخر پیام آگیا ہے
جہاں ذکر خیر الانام آگیا ہے
لبوں پر درود و سلام آگیا ہے
چمن میں جو وہ خوش خرام آگیا ہے
بہاروں کو گویا پیام آ گیا ہے
ستاروں کو تابندگی بخشنے کو
افق پہ وہ ماہ تمام آگیا ہے
ازل سے زمانہ تھا مشتاق جس کا
وہ محبوب ہالائے بام آگیا ہے
کوئی کاش آکر عنایت سے کہہ دے
غلاموں میں تیرا بھی نام آگیا ہے

پروفیسر عنایت علی خان

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close