Aanchal Sep-18

خواہش تتلی خواب جھرو کے

فرح بھٹو

’’زمانے بھر کی لڑکیاں لو میرج کررہی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ آج کے دور میں بھی بھیڑ بکریوں کی طرح بڑوں کی مرضی سے کھونٹوں سے باندھے جارہے ہیں۔ میں اس بات پر اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرواتی ہوں یور آنر… لڑکیوں کو آزادی دو۔‘‘ اساور جوش خطابت میں صوفے پر کھڑی ہوگئی اور مٹھی بند کرکے ہوا میں ہاتھ لہرانے لگی۔ عنایہ نے رجسٹر سے سر اٹھایا اور منہ کھول کر اسے دیکھا۔
’’او… نئے دور کی بے باک حسینہ‘ بیٹھ جا اپنی نشست پر۔‘‘ عشنا نے کھڑے ہوکر اس کی پشت پر دھپ ماری تو اساور نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’بیٹا‘ جی تم جتنا احتجاج کرلو ہونا وہی ہے جو اس گھر کے بڑے چاہیں گے۔ اس خاندان کی روایت یہی ہے کہ بڑے اپنی پسند سے خاندان کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے رشتے جوڑتے ہیں اور وہ ’چوں‘ بھی نہیں کرسکتے۔‘‘
’’میں نہیں مانتی ان ظالم روایتوں کو۔‘‘ وہ دھپ سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’ویسے ایسا کوئی ظلم بھی نہیں ہورہا تم پر‘ باسل بھائی خاندان کے سب سے ہینڈسم‘ بااخلاق اور کماؤ لڑکے ہیں‘ خود سے ڈھونڈتیں تو تمہیں ایک مچھر بھی نہ ملتا۔‘‘ عشنا نے کہہ کر قہقہہ لگایا۔ اساور نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’اپنے بھائی کی سائیڈ نہ لو لڑکی… کیا فائدہ ایسے ہینڈسم کا جس میں ’حس رومانس‘ دو ٹکے کی بھی نہ ہو۔‘‘ وہ آہ بھر کر صوفے پر سیدھی لیٹ گئی۔
’’رومانس کا اچار ڈالنا ہے کیا؟‘‘ عنایہ نے پھر سے اپنا رجسٹر کھولا۔
’’تم کیا جانو عنایہ بابو… رومانس کے خوشگوار اثرات‘ تم تو ان خشک کتابوں میں سر گھسیڑے رہو۔‘‘ وہ پنکھے پر نظریں جمائے فلسفیانہ انداز میں بولی۔
’’ان لڑکیوں سے پوچھو جو ’لو‘ کرکے میرج کررہی ہیں۔ ہائے دل پر چھریاں سی چلتی ہیں جب آئے دن کسی گروپ فیلو کی پسند سے منگنی ہوتی ہے اور وہ بندی فخر سے اپنے منگیتر کی باتوں اور ملاقاتوں کے قصے سنا کر مجھ جیسی مظلوم لڑکیوں کو جلاتی ہے جن کو ان کے منگیتر آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھتے۔‘‘ اساور نے کروٹ لے کر صوفے سے اپنے بازو نیچے لٹکایا۔
’’عشنا… میرے گیسٹ آئے ہیں چائے بنا کر ڈرائنگ روم میں بھجوا دو۔‘‘ اچانک ہی باسل نے سٹنگ روم میں قدم رکھا۔ اس کی آواز پر جہاں عشنا چونکی وہیں اساور بوکھلا کر لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی۔
’’جی بھائی…‘‘ عشنا نے اپنا دوپٹا درست کیا اور کمرے سے نکل گئی۔
’’عنایہ… تمہیں امی بلا رہی ہیں۔‘‘ وہ پلٹ کر فلور پر بیٹھی کزن سے مخاطب ہوا۔
’’چچی…! کیوں؟‘‘ وہ پوچھ کر پھر باسل کی تیز نظروں سے خائف ہوئی اور جلدی سے کتابیں سمیٹ کر باہر چلی گئی۔
باسل اب اساور کی طرف گھوما اور وہ قدم بہ قدم چلتا اس کے قریب آیا اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔ اساور جو سمجھ رہی تھی وہ واپس چلا جائے گا اب اس کے پاس بیٹھ جانے پر بوکھلا سی گئی۔
’’ہمم… تو تمہیں… ’لو میرج‘ کرنی ہے؟‘‘ باسل نے لو میرج پر زور دے کر کہا اور نظریں اساور پر جما دیں۔
’’افف… یعنی اس نے سب سن لیا۔‘‘ اساور کا دل اپنا سر پیٹنے کو چاہنے لگا۔
’’لو میرج کرنی ہے ناں… جواب دو؟‘‘ باسل نے پھر پوچھا۔
’’وہ تو میں بس یوں ہی…‘‘ وہ گڑبڑائی۔
’’میری بات کا واضح جواب دو اساور۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’مجھے سوکھی سڑی ارینج میرج نہیں کرنی…‘‘ وہ ایک دم پُراعتماد ہوئی۔
’’اچھا…! ارینج میرج سوکھی سڑی ہوتی ہے؟‘‘ وہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔
’’ہاں بالکل ہوتی ہے۔‘‘ اساور نے فوراً جواب دیا۔
’’خیر ابھی تو میرے گیسٹ آئے ہوئے ہیں پھر کچھ سوچتے ہیں اس بات پر۔‘‘ وہ صوفے سے اٹھتے ہوئے مسکرا دیا۔
’’ایسا کون سا لطیفہ سنا دیا کہ موصوف کی ہنسی نہیں رک رہی۔‘‘ اساور نے کلس کر سوچا اور منہ پھلا لیا۔
خ…ز…خ
’’نوفل میرے بغیر سانس بھی نہیں لیتا۔‘‘ نویرہ نے ایک نیا شوشہ چھوڑا۔
’’یعنی جتنی آکسیجن کی مقدار تم کہتی ہو۔ اتنی ہی فضا سے جذب کرتا ہے۔‘‘ حجاب نے مذاق اڑایا۔
’’جی نہیں… اس کا مطلب ہے وہ ہر کام میری مرضی سے کرتا ہے۔‘‘ نویرہ برا مان کر بولی۔
’’وہ انسان ہے یا روبوٹ۔‘‘ حجاب پھر ہنسی۔
’’اتنا چاہنے والا منگیتر قسمت سے ملتا ہے‘ تمہارے پاس نہیں ہے ناں اسی لیے جیلس ہورہی ہو۔‘‘ نویرہ نے صاف جتایا مگر حجاب ہنستی رہی۔
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو نویرہ… چاہنے والے نصیب سے ملتے ہیں‘ میں بچپن سے جس بندے کے نام منسوب ہوں۔ وہ مجھے فار گرانٹڈ لیتا ہے نہ محبت نہ خوشی بس رشتے کا احسان۔‘‘ اساور نے آہ بھر کر کہا تو حجاب نے ملامتی نظر اس پر ڈالی۔
’’وہی تو… یہ مامے تائے کے بیٹے آپ کو گھر کی مرغی دال برابر سمجھتے ہیں ساری بات میسر ہونے کی ہے ڈئیر۔‘‘ نویرہ کی بات ٹھاہ کرکے اساور کے دل کو لگی۔
’’ہاں یار… ساری بات میسر ہونے کی ہے۔‘‘ وہ دکھ سے بولی۔ نویرہ اپنے حصے کا برگر لے کر دوسری میز پر چلی گئی۔
’’دل چاہ رہا ہے تمہارا سر پھاڑ دوں۔‘‘ حجاب نے غصے سے کہا۔
’’پھاڑ دو بہن اب یہ کسی کام کا نہیں…‘‘ اساور کچھ زیادہ ہی زود رنج ہورہی تھی۔
’’کیوں اس بڑ بولی کے سامنے خود کو ہلکا کرتی ہو۔‘‘
’’تو کیا کروں‘ جو حقیقت ہے اس کا اعتراف کیا ہے باسل نے مجھے کامپلیکس کا شکار کردیا ہے‘ مجھے ہر اس بندی پر رشک محسوس ہوتا ہے۔ جس کا اسے فیانسی پیار کرتا ہو‘ میں خود کو ان لڑکیوں کے آگے بونا محسوس کرتی ہوں آخر مجھ میں ایسا کیا نہیں جو ان میں ہے۔‘‘ وہ کینٹین کی میز پر سر رکھ کر دل گرفتہ سی بولی۔
’’اساور یہ کیا کررہی ہو… لڑکیاں ادھر متوجہ ہورہی ہیں۔‘‘ حجاب نے گھبرا کر کہا۔
’’ہونے دو متوجہ… تمہیں میرے غم سے زیادہ زمانے کی فکر ہے۔‘‘ وہ بازؤں میں چہرہ چھپا کر بیٹھ گئی۔
’’تمہارے غم کی تو ایسی کی تیسی۔‘‘ حجاب نے اس کی بچکانہ حرکتوں پر دانت کچکچائے۔
’’چلو اٹھو… کلاس مس ہوجائے گی جانتی ہو ناں مس تبسم کو بے عزتی کرنے میں منٹ نہیں لگاتیں۔‘‘ حجاب نے اسے ڈرایا تو اساور نے گیلا چہرہ دوپٹے سے صاف کیا۔
’’چلتی ہوں۔‘‘ حجاب کو اس پر ترس آیا۔ وہ اس کی اچھی دوست اور اس کی ہمراز ساتھی تھی۔ اس کے باوجود اساور کے دکھ حجاب کو دکھی نہیں کرتے تھے۔ وہ خود ساختہ مظلومیت میں مبتلا تھی اور آج سے نہیں کئی سالوں سے لیکن کالج لائف میں آکر اس کے واویلے میں اضافہ ہوگیا تھا وجہ وہاں زیر تعلیم آزاد خیال لڑکیوں کی باتیں تھیں۔
حجاب اور اساور ایک ہی ماحول کی پروردہ تھیں جہاں حیا اور وضع داری کو خاص اہمیت حاصل تھی جبکہ یہاں لڑکیوں کی اکثریت ماڈرن گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں شاید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھی‘ اساور کا احساس کمتری ایسی لڑکیوں کی قربت میں کھل کر سامنے آیا تھا۔ وہ ان کی باتیں سن کر ہر وقت آہیں بھرا کرتی۔ حجاب بہت کوشش کرتی کہ وہ ان لڑکیوں سے دور رہے لیکن وہ کھینچی کھینچی ان کے پاس جاتی تھی۔
خ…ز…خ
چھٹی کے وقت وہ دونوں کالج گیٹ سے باہر نکلیں۔ حجاب اپنے بھائی کی بائیک پر جابیٹھی اور اساور اپنی گاڑی کی طرف بڑھی جو آج شناور نے سڑک کے دوسری طرف کھڑی کی تھی۔ اساور کی سڑک پار کرتے ہوئے جان نکلتی تھی۔ ابھی بھی وہ شناور کو دل میں کوستی‘ گاڑیوں کے رش میں سے ہانپتی کانپتی نکلی۔
’’شناور بھائی… یہ کیا؟ روز تو گاڑی ادھر پارک کرتے ہیں اور آج…‘‘ وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھی تو نان اسٹاپ چلتی زبان کو بریک لگ گئے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر باسل براجمان تھا۔
’’چلیں…‘‘ اس نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ جمائے پوچھا۔ اساور نے حیرت دبا کر سر ہلا دیا۔ باسل نے کار اسٹارٹ کی اور سی ڈی پلیئر آن کردیا۔
’’ملے ہو تم ہم کو بڑے نصیبوں سے۔‘‘ وہ گانے کے بولوں کے ساتھ خود بھی گنگنا بھی رہا تھا‘ اساور تعجب کا شکار ہوئی‘ کار گھر کے مخالف سمت میں دوڑ رہی تھی۔
’’آؤ تمہیں آج اپنے پسندیدہ ریسٹورنٹ سے لنچ کرواتا ہوں۔‘‘ باسل نے ایک جگہ گاڑی روک کر کہا تو اساور بے ہوش ہونے لگی۔
’’کیوں نہیں کرنا لنچ…؟‘‘ باسل نے اس کا ہونق چہرہ دیکھ کر لطف لیا۔
’’نہیں… مطلب ہاں…‘‘ وہ کنفیوز ہوئی۔ باسل نے قہقہہ لگایا۔
’’مطلب اوکے ہے۔‘‘ وہ کار سے اترا تو اساور بھی اتر آئی۔ باسل نے گاڑی لاک کی اور اساور اس کے ساتھ چلتے ہوئے جیسے ہواؤں میں تیر رہی تھی۔
’’افف…! خواہشیں یوں بھی پوری ہوتی ہیں۔‘‘ وہ متحیر سی باسل کو دیکھ رہی تھی جو لنچ آڈر کررہا تھا۔
’’بہت اچھا لگ رہا ہوں کیا؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تو اساور جھینپ گئی۔
لنچ بہت ہی شان دار تھا‘ اساور کو لطف آگیا وہ بے تکلفی سے کھانے لگی‘ باسل اسے بغور دیکھتا رہا تھا۔ اس کا موبائل بجنے لگا تو اساور نے بیگ سے سیل نکال کر کانوں سے لگایا۔
’’اساور کہاں ہو‘ اتنی دیر کردی؟‘‘ عشنا کی آواز پر وہ چونکی۔
’’آں… ہم آرہے ہیں‘ دراصل آج کالج سے تھوڑا لیٹ نکلی ہوں۔‘‘ وہ گھبرا کر وضاحت دینے لگی پھر ٹائم دیکھا تو اچھل پڑی۔
’’باسل… بہت لیٹ ہوگئے‘ جلدی چلیں۔‘‘ وہ بیگ کندھے پر لٹکا کر بولی تو باسل نے ویٹر کو بل پے کیا اور دونوں باہر نکل آئے۔
’’میرا پروگرام تو تمہیں مووی دکھانے کا بھی تھا‘ خیر تمہاری مرضی۔‘‘ باسل نے کندھے اچکائے تو اساور کھل اٹھی۔
’’مووی واؤ… چلیں پھر کبھی سہی۔‘‘ پھر کچھ سوچ کر پھیکی پڑی۔
’’ہاں ناں‘ میں نے سوچا ڈیٹ پوری مارنی چاہیے۔‘‘ وہ کار میں بیٹھتے ہوئے بولا تو اساور نے اس کا چہرہ دیکھا۔
’’ڈیٹ…‘‘ باسل نے کوئی جواب نہیں دیا گاڑی پوری رفتار سے چلا دی۔ گھر آیا تو وہ شاداں و فرحاں کار سے اتری۔
’’تھینک یو باسل۔‘‘ پھر اٹھلا کر باسل سے بولی تو وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔ وہ دونوں ایک ساتھ اندر آئے تو لاؤنج میں صوفے پر براجمان تائی اور چاچی نے اچھنبے سے انہیں دیکھا۔
’’آج شناور تمہیں لینے نہیں گیا۔‘‘ تائی کی آواز نے اساور کے قدم روکے۔ اساور نے باسل کو دیکھا کہ وجہ تو وہ جانتا تھا لیکن باسل تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
’’آج پتا نہیں کیوں نہیں آئے۔‘‘ اساور ہچکاتے ہوئے بولی پھر تائی کی معنی خیز نظروں سے خائف ہوکر وہاں سے بھاگ نکلی۔
خ…ز…خ
زندگی ایک دم خوب صورت ہوگئی تھی۔ باسل کا التفات روز بروز بڑھتا جارہا تھا۔ وہ اساور کو محبت لٹانے والی نظروں سے ہر وقت دیکھتا رہتا۔ جہاں موقع ملتا‘ میٹھی میٹھی باتیں شروع کردیتا۔ اساور حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کا شکار تھی۔ خواہش مجسم ہوکر سامنے آجائے تو دل کا عجیب ہی حال ہوتا ہے۔
’’غالباً باسل نے اس دن میری باتیں سن لی تھیں تب ہی اپنا رویہ بدلا ہے۔‘‘ اساور یہی سوچ کر بہت خوش تھی۔
عشنا اور عنایہ کو بھی باسل جیسے سوبر بندے نے حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اساور اور باسل کی منگنی نو عمری میں ہوگئی تھی۔ دونوں اس رشتے سے واقف بھی تھے اور راضی بھی۔ ہاں اساور کو کچھ بچکانہ شکایتیں ضرور تھیں جو اچانک ساری ہی رفع ہوگئی تھیں۔
وہ کالج کی دوستوں سے اب بڑے فخر سے باسل کی باتیں کیا کرتی۔ باسل کے دیے تحفے دکھاتی جو وہ اب اکثر و پیشتر اسے دیا کرتا تھا۔ حجاب اپنی سہیلی کی خوشی میں خوش تھی۔ کالج کی واپسی پر بھی اب شناور کے بجائے باسل اسے منتظر ملتا اور وہ اساور کو تقریباً روز ہی کسی نہ کسی ریسٹورنٹ میں لنچ کرواتا تھا… اساور کو گھر سے فون پر فون آتے لیکن وہ باسل کو منع بھی نہیں کرسکتی تھی۔ آخر اتنے عرصے بعد تو وہ محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا ’’منگیتر‘‘ کے روپ میں سامنے آیا تھا۔
خ…ز…خ
’’اساور… میرے لیے چائے کا ایک کپ بنا کر چھت پر لے آؤ۔‘‘ یہ میسج اسکرین پر نمودار ہوا تو لاؤنج میں سب کے ساتھ ٹی وی دیکھتی اساور بے چین ہوئی۔
’’کہاں جارہی ہو؟ ڈرامے کا آخری سین چل رہا ہے۔‘‘ وہ اٹھی تو صبا نے ہاتھ کھینچ لیا۔
’’کام ہے بابا۔‘‘ اساور نے جان چھڑا کر کچن کی طرف دوڑ لگائی اور دو کپ چائے بنا کر چھت پر لے آئی جہاں باسل ٹھنڈی ہوا کا لطف لے رہا تھا۔
’’یہ چائے…‘‘ وہ ہوا سے اڑتے کھلے بال سمیٹنے لگی۔ آج کل وہ گھر پر بھی پورے اہتمام سے تیار ہوتی تھی کہ کسی کی نظروں کے حصار میں جو تھی۔
’’اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ باسل نے اس کا ہاتھ تھام لیا… اساور تھوڑا جھجکی۔
’’یہ چاند جو ہے ناں… بالکل تمہارے جیسا خوب صورت ہے۔‘‘ باسل نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو اساور کا چہرہ دہک اٹھا۔
’’تمہاری اسکن کتنی گلوانگ ہے ساوی… چاندنی بھی تمہارے حسن کی آب و تاب کے سامنے ماند ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے باسل نے اس کے گال پر ہاتھ پھیرا تو اسے کرنٹ سا لگا۔
’’باسل…‘‘ ہلکا سا احتجاج بے اختیار تھا۔
’’کیوں اچھا نہیں لگ رہا میرا رومانٹک ہونا‘ بھئی تم تو رومانس کی دیوانی ہو۔‘‘ باسل نے قہقہہ لگایا۔
’’رومانس کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ اتنا فروری ہونا مجھے بالکل پسند نہیں…‘‘ منہ پھٹ تو وہ تھی ہی فوراً کہہ بیٹھی۔
’’پھر رومانس کیا صرف محبوب کو دیکھنے کا نام ہے؟‘‘ باسل خفگی سے بولا تو اساور خاموش سی ہوگئی۔ باسل کی خفگی اسے گوارہ نہ تھی مگر۔
’’سارے رومانس کا ستیا ناس کردیا… کالج کی فرینڈز کا رومانس آہیں بھر بھر کر سنانے والی تم ہی تھیں ناں… ہائے لو میرج …اوئے لو میرج۔‘‘ باسل نے اسی انداز میں یاد دلایا۔
’’میرج سے پہلے والا ’لو‘ ایسا ہی ہوتا ہے جانم۔‘‘ وہ اسے اپنے قریب کرکے بولا تو وہ بدک کر دور ہوئی۔
’’شرم و حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘‘ وہ لرزتی آواز میں بولی۔ گردن سے ریڑھ کی ہڈی تک پسینے کا سانپ رینگ رہا تھا۔
یہ چاندنی رات‘ خوب صورت ماحول‘ من پسند ساتھی کی قربت‘ پیار و محبت کی باتیں… سب کچھ خوابوں جیسا سہی مگر اسے بہت بے آرام کررہا تھا۔
’’ہاہاہا… شرم و حیا کا محبت میں کیا کام…‘‘ باسل ایک بار پھر ہنسا اساور نے اسے ناگواری سے دیکھا۔
’’میں نیچے جارہی ہوں۔‘‘ وہ پیر پٹختی ہوئی پلٹی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ پیچھے باسل آوازیں دیتا رہ گیا۔ اساور اپنے روم میں آکر بیڈ پر گر سی گئی۔ دل ابھی بھی عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا اور باسل پر بے حد غصہ آرہا تھا۔ وہ اپنی کیفیت خود سمجھنے سے قاصر تھی۔
خ…ز…خ
پھر کئی دن گزر گئے۔ اس نے باسل سے مکمل دوری اختیار کرلی نہ اس کے سامنے جاتی نہ اس کے فون یا میسج کا جواب دیتی۔ عیدالاضحیٰ کی آمد آمد تھی اور ساتھ عشنا کی شادی خالہ زاد نمیر سے طے ہوگئی تھی سو سب کزنز تیاریوں میں جت گئیں۔ کسی نے اساور کے بگڑے تیوروں پر غور نہ کیا۔
’’اے بی بی… میں نے تو دیور جی سے کہہ دیا کہ اس عید پر باسل اور اساور کی شادی بھی طے کردیں… لڑکی کے جذبات بے قابو ہوئے جارہے ہیں۔‘‘ اساور پانی پینے کچن میں آرہی تھی کہ تائی کی بات پر ٹھٹھک کر وہیں رک گئی۔
’’یہ لو… ان کی بیٹی کے متعلق ان کے ہی سامنے بول دیا۔‘‘ چھوٹی چچی نے ٹھٹھہ لگایا۔
’’ارے صرف شادی کی بات کی‘ باقی تو دل میں سوچا‘ ایسی بے وقوف نہیں ہوں۔‘‘ تائی نے زوردار قہقہہ لگایا۔
’’ساری برادری میں تھوتھو ہورہی ہے‘ میرے بھتیجے احمر نے بہت بار دونوں کو ہوٹلوں میں ایک ساتھ دیکھا ہے۔ بتا رہا تھا کالج کے کپڑوں میں نکل جاتی ہے باسل کے ساتھ۔‘‘ تائی کی دھیمی مگر پاٹ دار آواز زہر اگل رہی تھی۔ اساور شرمندگی سے پانی پانی ہوئی جارہی تھی۔
’’میری بھابی نے کہا ایسی بھی کیا بے قراری‘ شادی تو آخر ہونی ہی ہے‘ یہ عشق معاشقے کس کام کے۔‘‘ وہ مزید بولیں۔
’’ارے ہاں‘ بہت دنوں سے میں بھی دیکھ رہی ہوں‘ لڑکی کے رنگ ڈھنگ بدلے ہوئے ہیں‘ بیاہتا بیوی کی طرح باسل کے گرد گھومتی رہتی ہے۔‘‘ چھوٹی چچی نے پُرلطف انداز میں کہا۔
’’بس جی… ہمارے زمانے میں لڑکیاں منگیتروں سے چھپتی پھرتی تھی اور آج کل گلے پڑی نظر آتی ہیں۔‘‘ تائی نے مصنوعی آہ خارج کی۔ اساور سے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا وہ بوجھل دل سے پلٹ آئی تھی۔
خ…ز…خ
’’اساور بیٹا… ہم نے عشنا کے ساتھ تمہاری اور باسل کی شادی بھی طے کردی ہے۔‘‘ بابا نے اس دن اسے بلا کر بتایا تو وہ بے تاثر چہرہ لیے انہیں دیکھتی رہی۔
’’تمہیں کوئی اعتراض ہے بیٹا۔‘‘ بابا نے اس کے سپاٹ انداز کو بغور دیکھا۔
’’تمہارا گریجویٹ تو ویسے بھی مکمل ہونے والا ہے باقی کی تعلیم شادی کے حاصل کرلینا۔ باسل ماشاء اللہ روشن خیال بچہ ہے۔‘‘ وہ اپنے طور پر سمجھ کر بولے۔
’’نہیں بابا یہ بات نہیں۔‘‘ اساور دھیرے سے بولی۔
’’پھر کیا بات ہے؟ دیکھو بیٹا‘ تمہاری ماں کے گزرنے کے بعد اب میں ہی تمہارا باپ اور ماں دونوں ہوں۔ وہ تمہاری شادی کا ارمان دل میں لے کر دنیا سے رخصت ہوگئی۔ کاش دو چار سال اور رک جاتی… خیر جیسی رب کی مرضی۔‘‘ بابا رفیق حیات کے ذکر پر آبدیدہ ہوگئے۔ اساور کو بھی ماں شدت سے یاد آئی جو چار سال پہلے کینسر کے سبب گزر گئی تھی اور جن کے دکھ نے بابا کو اس کمرے تک محدود کردیا تھا۔
’’بیٹا… تم رخصت ہوکر بھی اسی گھر میں رہوگی‘ یہ خیال مجھے تقویت دے رہا ہے۔ تمہاری نہ کوئی بہن ہے نہ بھائی… یہ سب تمہارے کزنز ہی تمہارے بھائی بہن ہیں‘ ان ہی کے ساتھ تم پلی بڑھی ہو‘ ان ہی کے ساتھ نبھانا ہے۔‘‘ بابا مطمئن ہوکر کہہ رہے تھے۔ اساور نے ان کا اطمینان دیکھا اور دانستہ مسکرائی۔
’’بابا… آپ ٹھیک کررہے ہیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ وہ بجھے دل سے بولی تو بابا نے خوش ہوکر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
خ…ز…خ
اور آج بڑی عید کے چوتھے دن وہ دھوم دھام سے رخصت ہوکر اسی گھر میں چلی آئی جہاں اس کا بچپن اور لڑکپن گزرا تھا لیکن آج وہ ایک نئے رشتے سے یہاں موجود تھی۔ اس رشتے کے حوالے سے وہ ڈھیر سارے خواب دیکھتی رہی تھی اور جب تعبیر کا وقت آیا تو اس کے دل میں وہ جذبے ہی موجود نہیں تھے۔
’’السلام علیکم!‘‘ باسل کی آواز پر وہ چونکی پتا نہیں کب وہ کمرے میں چلا آیا تھا اور اب اس کے مقابل بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
’’بہت خوب صورت لگ رہی ہو…‘‘ باسل نے اس کا حنائی ہاتھ تھاما‘ اساور بالکل ٹھس بیٹھی رہی۔
’’اساور‘ میری طرف دیکھو۔‘‘ باسل نے کہا تو اساور نے نظریں مزید نیچی کرلیں۔
’’دل نہیں چاہ رہا میری طرف دیکھنے کو؟‘‘ باسل نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی۔
’’نہیں…‘‘ وہ چٹخ کر بولی۔
’’کیوں؟‘‘ باسل کے سوال پر اساور نے ایک شکایتی نظر اس پر ڈالی۔
’’آئی ہیٹ یو…‘‘ وہ بے ساختہ بولی۔
’’ارررے اتنا غصہ؟ اپنے نئے نویلے اور معصوم سے شوہر پر۔‘‘ باسل نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی تو اساور نے خفگی سے اسے دیکھا۔
’’یہ دیکھو میں تمہارے لیے ’لو‘ والا لاکٹ خاص طور پر چین میں ڈلوا کر لایا ہوں تمہاری منہ دکھائی…‘‘ باسل نے مخملی ڈبے سے طلائی چین نکالی جس میں دل کی شیپ کا لاکٹ لٹک رہا تھا اور اس پر ’’ایل او وی‘‘ کے چار حروف کندہ تھے۔
’’مجھے لو سے نفرت ہے۔‘‘ وہ پھر ہتھے سے اکھڑی۔
’’لو سے نفرت ہیں…؟‘‘ باسل کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں تھی۔
’’اچھا چھوڑو اب ناراضی اور مجھے چند باتوں کی وضاحت کرنے دو۔‘‘
’’مجھے کسی بات کی وضاحت نہیں چاہیے۔‘‘ وہ منہ پھلا کر بولی۔
’’لیکن مجھے پھر بھی ہر بات کلئیر کرنی ہے۔‘‘ وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولنے لگا۔
’’یہ قصہ اس دن سے شروع ہوتا ہے جب میں نے تمہیں لو میرج کے پیچھے آہیں بھرتے سنا۔‘‘ باسل کی بات پر اساور شرمندہ ہوکر اسے دیکھنے لگی۔
’’میں کسی کام سے لاؤنج میں آیا تو تمہاری ناتمام حسرتوں کا واویلا سن کر چکرا گیا‘ عشنا اور انابیہ کے سامنے تم عجیب ہی انداز میں رو رہی تھیں۔‘‘
’’میں رو نہیں رہی تھی…‘‘ اساور نے فوراً کہا۔
’’ہاں ہاں جو بھی تھا تمہارا لہجہ رونے والا ہی تھا تو تمہاری ساری باتوں کا نچوڑ لو میرج یعنی شادی سے پہلے محبت کی شدید حسرت تھی اور محبت بھی ویسی جیسی تمہاری کلاس فیلوز اپنے فیانسیز سے کرتی تھیں‘ مطلب ماڈرن ’لو‘ جس کی کوئی حدود و قیود نہیں ہوتی۔‘‘
’’ایسی بھی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ گڑبڑا کر بولی۔
’’تو پھر پیار محبت کی باتیں اور ملاقاتیں اور کیسی ہوتی ہیں۔‘‘ باسل نے ایک تیز نظر اس پر ڈالی۔
’’مجھے کیا پتا… میں تو صرف سنتی تھی ان کی محبت کی لائیو مووی تو نہیں دیکھتی تھی ناں۔‘‘ اساور تڑخ کر بولی تو باسل ہنس دیا۔
’’اوکے اوکے معصوم حسینہ… جو بھی خواہش کے اندھے پن میں کی‘ خیر میں نے تمہاری باتیں سن کر سوچا تمہیں ’لو‘ سے محروم کیوں رکھا جائے سو ایک عاشق منگیتر بن کر تمہارے سامنے آیا لیکن تم میری محبت برداشت نہ کرسکیں۔‘‘ باسل نے ایک قہقہہ لگایا پھر اساور کی گھوری پر سنجیدہ ہوا۔
’’تمہیں پتا ہے اساور… میں تم سے ایک حد تک فاصلہ اسی وجہ سے رکھتا تھا کہ مجھے پتا تھا تمہاری تربیت جس نہج پر ہوئی ہے‘ اس میں شادی سے پہلے اس قسم کی محبتوں کی گنجائش نہیں نکلتی‘ تم میرے نام ہوگئی تھیں‘ بس یہی اطمینان کافی تھا میرے لیے‘ میں تمہیں اپنی عزت سمجھتا تھا اسی لیے خود سے بھی تمہاری حفاظت کی لیکن تمہاری بچکانہ خواہش پر تمہیں تھوڑا سا سبق سکھانا پڑا اور وہی ہوا تم خود ناراض ہوگئیں۔‘‘ وہ دانستہ خاموش ہوا تو اساور نے دل میں تسلیم کیا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا‘ بالکل ٹھیک تھا۔
’’پھر ہماری سوسائٹی اور ہماری فیملی بھی ان باتوں کو اچھا نہیں سمجھتی اور یہ ہمارے حق میں بھی اچھی بات ہے کہ اتنی آزادی تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اب امید ہے تمہارے دل کی کدورت ختم ہوگئی ہوگی۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو اساور نے ہلکا سا سر ہلایا۔
’’ہممم گڈ…‘‘ وہ مسکرایا پھر اس کی گردن میں خوب صورت چین پہنا دی۔
’’اچھا تو آج ’لو‘ کی اجازت ہے ناں…‘‘ وہ شرارت سے سرگوشی میں بولا تو اساور جواباً شرما کر رہ گئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close