Aanchal Sep-18

میں بے چاری

شبینہ گل

چاہے چھٹیاں ہوں یا نہ ہوں‘ چاہے رات دیر سے سوئیں‘ میرے افلاطون بچے صبح سات بجے اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں‘ اب اگر گرمی سردی کی چھٹیاں ہوں یا ویک اینڈ‘ تو اس عادت سے اس قدر کوفت ہوتی ہے کہ میں بیان نہیں کرسکتی‘ وہ مائیں جن کے چھوٹے بچے ہیں وہ میرے جذبات بخوبی سمجھ لیں گی۔ اب مجھ بیچاری کے معمولات ہی اتنی فضول ہے کہ نہ دن کو چین میسر ہے نہ رات کو نیند اور اس کی وجہ میرے میاں کی روز تبدیل ہونے والے کام کے اوقات کار ہیں‘ کبھی رات‘ کبھی شام تو کبھی صبح۔ میں بیچاری تو پورا ہفتہ بس ان کا شیڈول ہی رٹنے کی کوشش میں ہلکان رہتی ہوں۔ کچھ تو شیڈول اتنا سخت اور کچھ اپنی عادت ہی ایسی ہے کہ رات بارہ یا ایک بج بستر پر جانا تو معمولی بات ہے۔ ایسے میں اولاد بھی سحر خیز ہو اور نور کے تڑکے ہی سر پر ناچنے لگ جائے تو بندے کا اس کے سوا کسی اور بات کو دل نہیں کرتا کہ کسی ایک دیوار سے اپنا سر پھوڑ لے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ اٹھ گئے ہیں تو شرافت سے کھیلتے رہیں‘ نہیں بھئی‘ ماں باپ سوئیں کیوں آخر۔ یہی روز کا معمول تھا جو بدل نہیں رہا تھا اور آج بھی یہی ہوا۔
’’ماما باتھ روم جانا ہے۔‘‘
’’آہستہ بولو سارہ اٹھ جائے گی۔‘‘
’’ماما بھائی نے مارا ہے۔‘‘
’’اف آہستہ بولو سارہ اٹھ جائے گی۔‘‘
’’ماما اس نے میری گاڑی پھینکی تھی۔‘‘
’’اف یار‘ جاؤ یہاں سے سارہ سو رہی ہے۔‘‘
’’ماما یہ میری چیز چھین رہا تھا۔‘‘
’’بس بھی کردو سارہ اٹھ گئی تو سوئے گی نہیں۔‘‘
’’ماما یہ مسلسل مجھے تنگ کررہا ہے اب میں اسے ماروں گا۔‘‘
’’ماما یہ بار بار مجھے مار رہا ہے۔‘‘ اور میں بیچاری۔
’’شش چپ… چلو بھاگو سارہ اٹھ جائے گی اور دروازہ بند کرکے جانا ورنہ تم لوگوں کے شور سے سارہ اٹھ جائے گی۔‘‘ اور صاحب نے میرے حکم کی تعمیل میں ایسے دھڑام سے دروازہ بند کیا کہ سارہ بی بی اٹھ ہی گئیں۔ اف… اس وقت دل چاہا بالکونی سے چھلانگ لگا دوں کیونکہ سارہ بی بی ایک بار اٹھ جائیں تو پھر دوبارہ سونا تو دور لیٹنے پر بھی راضی نہیں ہوتیں۔ اب مہینے میں کوئی ایک دن ہی ایسا ہوگا جب یہ بی بی سکون سے کھیلنے لگ جائیں‘ ورنہ تو کبھی بال کھینچے‘ کبھی انگلیاں مروڑے‘ کبھی پیر پر دانتوں سے کاٹے‘ کبھی منہ پر تھپڑ مارے تو کبھی ناک کھینچ کر معائنہ کرے۔ لو جی کرلو نیندیں پوری۔ سارہ کی چھیڑ خانی جاری تھی جب ہمارے سپوت پھر سے نازل ہوئے۔
’’ماما اب بس بھی کریں کتنا سوئیں گی اٹھیں ناشتہ دیں۔‘‘ اس وقت تو دل چاہا کہ اب ہمت کرکے اپنا سر پھاڑ ہی لوں۔
’’کتنا سوئیں گی…‘‘ تو ایسے بولتے ہیں جیسے سونے دیتے ہیں۔ چار و ناچار اٹھنا پڑا مگر سارے شور ہنگامے سے بے نیاز ایک آئیڈیل نیند والے میاں کی بند آنکھوں پر نظر گئی تو غصے کا رخ ان کی طرف ہوگیا‘ بازو کھینچ کر انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔
’’بات سنیں‘ میں ناشتا بنانے جا رہی ہوں۔‘‘
’’ہاں تو جاؤ‘ میں کیا کروں۔‘‘ بند آنکھوں کے ساتھ اس جواب پر میں جل ہی تو گئی۔
’’آپ یہ کریں کہ اب اٹھ جائیں۔‘‘
’’میں کیوں اٹھوں‘ جب ناشتہ میز پر لگ جائے تو اٹھا دینا۔‘‘ شان بے نیازی سے کہہ کر دوبارہ کروٹ دوسری طرف کرلی اور یقین جانیں ساری دنیا میں مجھے جو چیز سب سے زیادہ بری لگتی ہے وہ ان کی کروٹ ہے جو یہ دوسری طرف لیتے ہیں۔ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی میں اٹھی اور منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ تیار کرنا شروع کیا۔ ایک چولہے پر چائے کا پانی اور دوسرے پر دودھ کا ساس پین رکھ کر میں پیڑے بنانے لگی اور دماغ میں خیالی پلاؤ بھی پکانے لگی کہ آج تو ہر صورت ناشتے کے بعد دال چڑھا کر ناول مکمل کرنے بیٹھوں گی۔ چائے تیار ہوگئی تو میں نے کمرے میں آکر ساری لائٹس آن کردیں یہ منہ پر تکیہ رکھ کر دھاڑے۔
’’بھئی بند کرو لائٹیں‘ بل تمہارے ڈیڈی دیں گے کیا؟‘‘
’’بل کی اتنی فکر ہے تو اٹھیں منہ ہاتھ دھوئیں‘ ناشتہ تیار ہے۔‘‘ میں مزے سے بولتی کمرے سے نکل گئی‘ پیچھے وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھے اور آنکھیں ملتے‘ لائٹس آف کرتے کمرے سے نکل کر سیدھے کچن میں آئے۔
’’ایک تو پتا نہیں کیا تکلیف ہے لوگوں کو‘ سونے بھی نہیں دیتے‘ کچی نیند سے اٹھا دیتے ہیں۔‘‘ مبالغہ آرائی تو ختم ہے میرے میاں پر۔
’’آپ کی نیند تو ہمیشہ کچی رہے گی کبھی پکے گی نہیں‘ چلیں جائیں منہ ہاتھ دھوئیں۔‘‘ میں نے انہیں باتھ روم کی طرف دھکیلا تو ان کی نظر کچن کے اندر پڑی۔
’’یہ کیا؟ پراٹھا اب تک توے پر ڈالا بھی نہیں اور مجھے اٹھا دیا۔‘‘ انہوں نے مجھے غصے سے گھورا تو میں نے بانچھیں پھیلائیں۔
’’جی بالکل‘ کیونکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ پراٹھا توے پر تو کیا میز پر بھی پہنچ جائے گا مگر آپ کا یہ منہ مبارک اس وقت تک بھی نہیں دھلا ہوگا۔‘‘
’’ہاں تو‘ شیروں کے منہ بھی دھلتے ہیں کبھی‘ ویسے بھی میں جب پیدا ہوا تھا تب امی نے منہ دھلا دیا تھا۔‘‘ انہوں نے وہی روز کا جملہ دہرایا اور باتھ روم میں گھس گئے۔ پراٹھے پکے‘ آملیٹ بنا‘ چائے کپوں میں ڈال دی‘ ٹرے سیٹ کردی مگر اسامہ صاحب کا منہ تو کیا دھلتا‘ وہ خود ہی باتھ روم سے برآمد نہیں ہو پائے۔ میں باتھ روم کے باہر کھڑی ہوکر زور سے تقریباً چلائی۔
’’باقی کی نیند اندر پوری کررہے ہیں کیا؟‘‘ میں نے میز پر چیزیں رکھیں تو صاحب باتھ روم سے برآمد ہوئے اور تولیے سے گیلے بال رگڑنے لگے۔
’’اب بس بھی کریں آبھی جائیں۔ سب کچھ ٹھنڈا ہوگیا۔‘‘
’’آ رہا ہوں یار‘ تم شروع کرو۔‘‘
’’کیسے شروع کردوں آپ کے بغیر۔‘‘ میں نے منہ پھلایا تو ایک اور ڈائیلاگ سنائی دیا۔
’’اف یہ محبت…‘‘ میں ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔
’’اوہو اب کیا کرنے جارہے ہیں؟‘‘ انہیں کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر میں نے کوفت سے پوچھا۔
’’ارے یار عینک ڈھونڈ رہا ہوں کہاں رکھ دی۔‘‘ میں نے برا سا منہ بنایا اور وہیں سے ہانک لگائی۔
’’مسڈ کال دے دیں۔‘‘
’’بیلنس ختم ہے۔‘‘ وہاں سے بھی ایسا ہی جواب آنا تھا۔ ناچار مجھے اور بچوں کو بھی اس روزانہ کی عینک تلاش مہم میں شامل ہونا پڑا۔ کمرے میں جاکر میں نے ایک نظر ٹامک ٹوئیاں مارتے میاں کو دیکھا اور دوسری نظر بیڈ کے سرہانے رکھی عینک کو اٹھا کر ان کی آنکھوں کے آگے لہرایا تو وہ چونکے پھر مسکرائے۔
’’عینک تلاش کرنے کے لیے بھی ایک عینک کی ضرورت ہے آپ کو۔‘‘ میں نے انہیں گھورا مگر مجال ہے جو صاحب کبھی شرمندہ ہوجائیں۔ ڈھٹائی سے بولے۔
’’تم کس لیے ہو یار۔‘‘
’’اب چلیں ناشتہ تو برف ہوگیا ہوگا۔‘‘ میں واپس آکر کرسی پر بیٹھی‘ سر اٹھا کر دیکھا تو موصوف اب تک باہر کھڑے تھے۔
’’اف میرے اللہ اب کیا رہ گیا۔‘‘
’’بس ذرا کنگھی کرلوں۔‘‘
’’کیوں کنگھی کیے بغیر ناشتہ حلق سے اترنے سے انکار کردے گا کیا؟‘‘ میں نے جل کر کہتے ہوئے اپنے پونی میں سمٹے الجھے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور پھر کن اکھیوں سے انہیں دیکھ کر دوپٹہ سر پر لے لیا۔ کنگھی کے بعد یہ ڈائنگ روم میں داخل ہوئے تو میں نے نوالہ توڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ یہ دوبارہ باہر نکل گئے۔ میں نے سر ہی تو پیٹ لیا۔
’’اللہ‘ اب کیا رہ گیا۔‘‘
’’پانی پی لوں ذرا۔‘‘
’’ایسا کریں تھوڑا انتظار کرلیتے ہیں‘ دو ڈھائی گھنٹے بعد ظہر کا وقت ہوجائے گا وہ بھی پڑھ کر ہی بیٹھیں۔‘‘ انہوں نے میری بات سن کر دانت نکالے۔
’’واہ واہ… کیا بات کی ہے یار‘ کتنی عقل مند ہو ناں تم۔‘‘ بالآخر ہم ناشتے کے لیے بیٹھ ہی گئے۔ اسی نوک جھونک اور بچوں کے نخروں میں ناشتہ ختم ہوا تو صاحب ایک بڑی سی جماہی لے کر بولے۔
’’تھوڑا سا لیٹوں گا یار‘ کچی نیند سے اٹھا دیا تھا تم نے۔‘‘ پھر میرے گھورنے کا کیا اثر ہونا تھا۔ صاحب جا کر لیٹ گئے۔ میں دال چڑھانے کی غرض سے کچن میں گئی تو آواز آئی۔
’’آ جاؤ تم بھی تھوڑی دیر لیٹ جاؤ صبح بھی بچوں نے تمہیں سونے نہیں دیا‘ سارا دن بھی تنگ کرتے رہیں گے‘ کام ہی کرنا ہے سارا دن‘ ابھی آرام کرلو کچھ۔‘‘ انہوں نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور میرے چہرے پر مظلومیت کے بادل چھا گئے۔ میں نے جھٹ پٹ دال دھو کر ابلنے رکھی اور آنچ ہلکی کرکے کمرے میں آکر سکون سے لیٹ گئی۔
’’خود تو ہیں ہی سست‘ مجھے بھی کام کرنے نہیں دیتے۔‘‘
’’کیوں‘ کیا کام کرنا ہے تم نے؟ دال تو چڑھا دی ناں۔‘‘ اسی دوران سارہ بی بی آکر ہم دونوں کے درمیان سماج کی دیوار بن گئی۔
’’بابا کی رانی کو بابا کے آس پاس کوئی برداشت نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے ناک بھوں چڑھا کر اپنی لاڈلی کو دیکھا اور بولی۔
’’کتنے دن سے سوچ رہی ہوں ناول مکمل کروں یار‘ وقت ہی نہیں ملتا‘ اب سوچا تھا ناشتے کے بعد کروں گی‘ تو آپ نے یہاں بٹھا دیا۔‘‘
’’ابھی کچھ ہی گھنٹے ہیں‘ پھر چلا جاؤں گا آفس‘ کرتی رہنا جو بھی کرنا ہو۔‘‘ ان کی بات بھی درست تھی۔ آج کل شام کے اوقات کار تھے‘ انہیں ایک بجے گھر سے نکلنا ہوتا اور واپسی رات ساڑھے دس یا گیارہ بجے تک ہوتی۔ ایسے میں ناشتے کے بعد کے چند گھنٹے ہوتے جن میں ہم ضروری معاملات پر غور کرلیتے‘ بچوں کے جھگڑے نمٹاتے‘ ان کی فرمائشیں سنتے‘ منصوبے بناتے اور بعض اوقات انہی چند گھنٹوں میں کئی اہم کام بھی نمٹا لیتے۔ آج کا اہم موضوع تھا خاندان میں آنے والی شادی کی تیاریاں۔ کیا خریدنا ہے کیا موجود ہے اور کیا کیا کرنا ہے‘ انہی باتوں میں دو گھنٹے گزر گئے۔ میری دال بھی پک گئی اور ان کی ڈیوٹی کا وقت بھی ہوگیا۔ انہیں بھیج کر میں نے دال کو بگھار لگایا اور چاول ابلنے رکھ دیے۔
’’ماما بھوک لگی ہے کھانا دیں۔‘‘
’’بس بیٹا پکنے والا ہے ابھی دیتی ہوں۔‘‘ سارہ بی بی نے رو رو کر برا حال کر رکھا تھا‘ بھائیوں کے شور سے جلدی جاگ گئی تھی‘ اب نیند سوار تھی۔ میں نے ایک نظر گھڑی پر کی دوسری چولہے پر چڑھی ہانڈی پر‘ پھر سارہ کو بہلانے کی کوشش کی مگر یہ بی بی ایک بار رو پڑیں تو آسانی سے کہاں چپ ہوتی ہیں۔ اب جب تک چاول ابل نہیں جاتے اسے سلانے نہیں لے جاسکتی تھی‘ اس کے ساتھ ساتھ میں برتن بھی دھو رہی تھی۔ ایک ہی طریقہ تھا‘ میں نے اسے فیڈر دے کر بیڈ پر لٹایا‘ روم کولر آن کیا اور دروازہ بند کرکے باہر آگئی کہ اگر زیادہ نیند میں ہوئی تو خود ہی سو جائے گی۔ چاول ابلنے تک بچوں نے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ناشتہ کیے بس دو گھنٹے ہی گزرے تھے مگر انہیں تو ماں کو تنگ کرنا ہوتا ہے اور کوئی طریقہ نہ ملے تو کھانا ہی دے دو۔ کھانا دے دو تو یہ کیا پکا دیا‘ سالن کیوں چاول کیوں نہیں‘ چاول دو تو چاول کیوں سالن کیوں نہیں‘ دال ہو تو کالی والی کیوں پیلی والی کیوں نہیں۔ بس حد ہے۔ خیر‘ چاولوں کو دم لگ گیا تو میں نے پلیٹ میں دال چاول نکال کر بچوں کو کھانے بٹھایا اور کمرے میں جھانکا‘ سارہ واقعی خود ہی سو گئی تھی۔ بے اختیار اس پر پیار آیا۔ اس کے ہاتھ میں دبا فیڈر نکال کر میں واپس کمرے سے نکل آئی اور سوچا۔
’’اب اگر کھانا کھانے بیٹھی تو آدھا گھنٹہ ضائع ہوجائے گا‘ ویسے بھی ابھی بھوک نہیں ہے‘ کھانا تو بعد میں بھی کھایا جا سکتا ہے۔‘‘ یہی سوچ کر میں نے فیڈر کچن میں رکھا‘ دودھ ابالا‘ صبح کے لیے آٹا گوندھا کیونکہ رات میں یا تو ہمت نہیں ہوتی یا بھول ہی جاتی ہوں۔ پھر کچن صاف کیا اور سب کاموں سے فارغ ہوکر ناول مکمل کرنے کے ارادے سے کمرے میں آئی تو کمرے کا حشر دیکھ کر پارہ چڑھ گیا۔ اب اس کباڑ خانے میں کیا خاک کام کرسکوں گی میں۔ ہمارے چار مرلے کے گھر میں دو بیڈ روم اور ایک ڈرائنگ روم ہے‘ ایک ہمارا اور بچوں کا مشترکہ بیڈ روم اور دوسرا کمرہ ہمارا ڈائننگ روم بھی ہے اور بچوں کا کھیلنے کا کمرہ بھی۔ میری امی آتی ہیں تو وہ بھی وہیں رہتی ہیں‘ کھانا پینا‘ بچوں کا کھیل کود‘ میرا لکھنا لکھانا سب اسی کمرے میں ہوتا ہے۔ ایسے میں صاف ستھرا تو ہونے سے رہا‘ کباڑ خانہ ہی لگنا ہے۔ میں نے ایک حسرت بھری نظر اپنی رائٹنگ ٹیبل کی طرف کی جو اس کمرے میں اسی لیے رکھی تھی کہ بیڈ روم میں وقت بے وقت کوئی نہ کوئی سویا ہو تو میرے کام کا حرج نہ ہو‘ مگر کون سا کام… ہونہہ‘ میں نے سر جھٹکا‘ دوپٹہ اتار کر میز پر رکھا اور بچوں کو کھلونے سمیٹنے کا کہہ کر جھاڑو اٹھا لی۔
’’اف اللہ‘ اس قدر گرمی اور حبس… الامان… اللہ جانے بارش کب ہوگی۔‘‘ صفائی کرنا شروع کر ہی لی تو پھر ایک کمرہ کیا کرنا باقی گھر بھی صاف کر ہی لو یار۔ بس یہی سوچ کر میں نے ڈرائنگ روم اور لاؤنج کی بھی صفائی کر ڈالی۔ گرمی نے حشر بگاڑ دیا۔ اتنی بری حالت کے ساتھ میں تو ایک منٹ بھی سکون سے نہیں بیٹھ سکتی۔ الماری سے کپڑے نکالے اور نہانے گھس گئی۔ نہا کر نکلی تو فرحت و سکون کا احساس ہوا‘ ساتھ ہی بھوک بھی چمک اٹھی۔ پھر یاد آیا پانی کی موٹر بھی چلانی ہے‘ موٹر چلا کر پینے کا پانی بھرا اور کھانا کھانے بیٹھ گئی۔ کھانا کھا کر اسید کو سونے کے لیے کمرے میں بھیجا‘ معاذ تو نیند سے الرجک ہے مگر اسید کو دن کو سلانا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ وہ شام کو ہی لڑھک جاتا ہے اور یوں اس کا رات کا کھانا رہ جاتا ہے کیونکہ پھر تو وہ ڈھول تاشوں کی آواز سے بھی نہیں اٹھتا‘ البتہ صبح سب سے پہلے اٹھتا ہے۔ معاذ کو پانی چیک کرکے موٹر بند کرنے کی تاکید کی اور میں کمرے میں آگئی۔ صبح سویرے کی جاگی‘ کام کاج میں جتی تھکی ہاری‘ بھرا پیٹ‘ روم کولر سے ٹھنڈا ہوا کمرہ‘ کس کافر کو نیند نہیں آئے گی۔
ارے ارے کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ میں دوپہر کو خوب سوئی۔ نہ جی نہ‘ یہ نہ تھی ہماری قسمت‘ کہ وصال نیند ہوتا۔ پندرہ بیس منٹ کی محنت کے بعد ابھی میری آنکھ لگی ہی تھی کہ سارہ بی بی اٹھ گئیں کیونکہ ان کے اندر دو گھنٹے کا الارم فٹ ہے‘ اس سے زیادہ سو جانا ان کے لیے گناہ ہے بھئی۔ پھر جب سارہ بی بی اٹھ جائیں تو کون سی نیند اور کہاں کی نیند۔ بس اتنا ہوا کہ ڈھیٹ بن کر ایک گھنٹہ لیٹی رہی۔ چلو کمر کو تھوڑا آرام ہی مل گیا۔ میں بیچاری خود کو بس تسلیاں دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی ہوں۔ بس وہی ایک گھنٹہ تھا جو میں لیٹ گئی‘ شام ہوئی تو بچوں کو ہوم ورک کرانا تھا اور میرے حسین بیٹے نجانے کس پر گئے تھے‘ ہوم ورک سے کوسوں اور اسکول کی پڑھائی سے میلوں دور بھاگتے ہیں۔
’’میں چھوٹی تھی تو گرمیوں کی چھٹیوں کے پہلے پندرہ دنوں میں ہی چھٹیوں کا سارا کام ختم کرلیتی تھی اور اس کے بعد باقی ساری چھٹیاں خوب کھیل کود کر گزارتی تھی۔‘‘
میں بچوں کو اپنے کارنامے سناتی مگر انہیں تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ یوں سنتے جیسے میں کسی اور سے بات کر رہی ہوں۔ دو دن پہلے بھی اسی بات پر عاجز آکر میں نے ان سے شکایت کی اور غصہ بھی انہی پر نکالا۔
’’بالکل آپ پر گئے ہیں بچے‘ پڑھائی کا کوئی شوق ہی نہیں‘ میں تو اتنی لائق تھی۔‘‘ یہ قہقہہ مار کر ہنسے۔
’’لو بھئی میں خود اتنا لائق تھا‘ روز اسکول جاتا تھا۔‘‘ ان کے اس ڈائیلاگ پر میں نے سر زور زور سے ہلایا اور طنزاً تائید کی۔
’’جی جی بالکل‘ روز اسکول جاتے تھے جب امی سارے گھر میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پلنگ کے نیچے سے آپ کو برآمد کرتی تھیں تب ان کی مار کھا کر جاتے تھے۔‘‘ پر مجال ہے جو میری بات کا ان پر ذرہ بھر بھی کوئی اثر ہو۔ ڈھیٹ بن کر اور زوردار قہقہہ لگایا۔ بچے انہی پر تو گئے ہیں‘ کسی بات کا اثر ہی نہیں لیتے۔
’’بھئی میں تو اسٹوڈنٹ لائف کے علاوہ بحیثیت ٹیچر بھی اتنا لائق تھا کہ مجھے سے پڑھے ہوئے تمام طلباء آج کتنی کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے فخریہ کہا تو مجھے ان کے طلباء یاد آئے اور میرا قہقہہ ابل پڑا۔
’’ارے ہاں واقعی‘ سچ کہا‘ وہی عرفان جو تندور پر روٹیاں لگاتا ہے اور وہ سلیم جو نائی کی دکان پر ہیلپر ہے اور وہ ایک اور کیا نام ہے اس کا جو اب موچی ہے۔ کتنی کامیاب زندگیاں گزار رہے ہیں ناں… سچ پوری ایک نسل تباہ کر دی آپ نے تو۔‘‘ یہ انتہائی قاتلانہ سنجیدگی سے بولے۔
’’ارے عرفان تندور پر روٹیاں نہیں لگاتا اس کا روٹی پلانٹ کا بزنس ہے اور سلیم نائی نہیں ہئیر ڈریسر اور اسٹائلسٹ ہے‘ اور وہ جو ظفر ہے‘ وہ موچی نہیں شو ڈیزائنر ہے یار۔ تینوں بزنس مین ہیں اور خوب کماتے ہیں۔ مجھ سے تو زیادہ ہی کماتے ہیں‘‘ میں نے بھنوئیں اچکا کر انہیں دیکھا اور بولی۔
’’تو بن جائیں آپ بھی نائی یا موچی‘ لو بھلا‘ اب اپنے ٹیلنٹ کو اونچا کرنے کے لیے بلاوجہ ان غریبوں کی روزی کو نظر لگا رہے ہیں۔‘‘ جواب میں کھی کھی کھی۔
خیر‘ بات ہورہی تھی بچوں کے ہوم ورک کی‘ سوچا انہیں ہوم ورک سمجھانے کے ساتھ ساتھ ناول مکمل کرلوں گی مگر کبھی میں معاذ کو ناول کی لائنز ڈکٹیٹ کروا دیتی تو کبھی اس کے مضمون کا جملہ اپنے ناول میں لکھ دیتی۔ تنگ آکر میں نے صفحات فولڈر میں واپس رکھے اور پوری توجہ بچوں کے ہوم ورک پر مرکوز کردی کہ اس طرح کم سے کم ایک کام تو ٹھیک سے ہوگا۔ اتنے میں میاں جی کا فون آگیا۔
’’کیا بات ہے میری بند گوبھی‘ آج سارے دن سے غائب ہو‘ کوئی لفٹ ہی نہیں۔‘‘ میں جل ہی تو گئی اور انہی پر بھڑاس نکالی۔
’’اب میں آپ کی طرح ویلی نکمی اے سی والے کمرے میں بیٹھی کرسیاں تو نہیں توڑ رہی ہوتی ناں‘ ہزار کام ہوتے ہیں مجھے۔‘‘ دوسری طرف سے پھر قہقہہ۔ کبھی کبھی تو میں سوچتی ہوں ان کی اماں نے ان کو گھٹی میں غالباً زعفران چٹائی ہوگی جو قہقہے ہی نہیں تھمتے۔
’’لگتا ہے ناول لکھنے میں مصروف ہو‘ مکمل کرلیا کیا؟‘‘
اور بس… اس جملے نے تو مجھے جلتے توے پر ہی بٹھا دیا۔ لو بھلا کل وہ صلہ‘ میری فیس بک فرینڈ نے بھی مجھ پر طنز کیا کہ کیا بات ہے فیس بک پر نظر نہیں آرہی لگتا ہے زور و شور سے لکھ رہی ہو‘ اب یہ…
’’ہاں ناول‘ کہیں لکھ ہی نہ لوں۔‘‘ میں نے جل کر کہا تو پھر قہقہہ نمودار ہوا۔
’’کیوں بھئی کیا ہوا؟‘‘
’’ہونا کیا ہے‘ آپ کی اولاد کم ہے کیا‘ میرے لکھنے کی دشمن۔‘‘
’’تو تم کوئی دنیا کی انوکھی ماں تو نہیں ہو جو بچے سنبھالتی ہو‘ سب ہی کرتی ہیں۔‘‘
’’سب لکھای نہیں ہوتیں۔‘‘
’’کیوں تمہاری کتنی فرینڈز ہیں جو لکھاری بھی ہیں اور بچے بھی سنبھالتی ہیں۔‘‘
’’جی جی بالکل بہت ہیں مگر یا تو ان کے گھر نوکرانیاں ہیں یا ان کے بچے بڑے ہیں یا پھر ان کے میاں اتنی فضول جاب نہیں کرتے جیسی آپ کی ہے جس کی وجہ سے میں کوئی روٹین ہی سیٹ نہیں کر پاتی۔ سب کی سیٹ روٹین ہے‘ دن میں چاہے ایک گھنٹہ لکھیں پر فکس شیڈول ہے لکھنے کا‘ میرا تو کوئی شیڈول ہی نہیں۔‘‘
’’چچ چچ چچ‘ چلو پھر میں دبئی چلا جاتا ہوں‘ اپنی مرضی کے شیڈول پر جیو۔‘‘ انتہائی رحمدلی سے مشورہ مفت دیا گیا تو میں نے دانت کچکچائے۔
’’جا کر تو دکھائیں‘ یہ آپ کے افلاطون‘ اکیلے نہیں سنبھلتے مجھ سے۔‘‘ پھر قہقہہ۔
’’لو بھئی‘ نہ ایسے خوش نہ ویسے… او کون لوگ او تسی۔‘‘ میں نے منہ بنا کر موبائل کو گھورا جیسے ان تک میری گھوری پہنچ جائے گی۔ دوسری طرف سے ایک اور گھسا پٹا فیل مشورہ موصول ہوا۔
’’چلو رات کو یہ لوگ سو جائیں تو لکھ لینا۔‘‘
’’ہاں سو ہی نہ جائیں۔‘‘ پھر انہیں واپسی پر لانے والے سودا سلف کے بارے میں بتا کر فون بند کردیا۔ بچوں کا کام مکمل ہوتے ہوئے نو بج گئے‘ لکھتے جو کچھوے کی رفتار سے ہیں‘ اور کچھوا خرگوش سے ریس صرف کہانیوں میں ہی جیت سکتا ہے۔ خیر‘ ہوم ورک کروا کر بچوں کو کھانا کھلایا اور سونے کا وقت ہوگیا۔ ان کو سلانے کے لیے لے جاتے وقت بھی دل میں یہی آس تھی کہ کاش آج یہ لوگ جلدی سو جائیں تو ان کے آفس سے آنے سے پہلے میں کافی سارا لکھ سکتی ہوں مگر میری یہ خواہش سارہ صاحبہ کبھی پوری نہیں ہونے دیتیں۔ یہ بی بی تو ساری دنیا کو سلا کر سوتی ہیں کیونکہ انہوں نے بابا کا انتظار کرنا ہوتا ہے‘ ان کے آنے پر ان سے ہاتھ ملا کر اپنی چینی جاپانی زبان میں پورے دن کی روداد سنانی ہوتی ہے‘ پھر ان کی گود میں چڑھ کر لاڈ کرنے ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت تک بھائی تو سوچکے ہوتے ہیں۔ اچھی طرح لاڈ کرنے کے بعد سارہ بی بی نے سونا بھی بابا سے ہی ہوتا ہے۔ بابا کے بازو پر سر رکھ کر‘ دوسرا بازو اپنے گرد پر لپیٹ کر بابا سے چمٹ کر محترمہ سکون سے دو منٹ میں سو جاتی ہیں۔ اب بھلا اس وقت‘ یعنی رات کے بارہ بجے‘ میں ناول لکھنے بیٹھ سکتی ہوں؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔
٭٭٭…٭٭٭
اگلے دن ان کی رات کی ڈیوٹی تھی۔ صبح میں ناول کا کام کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ ہفتہ بھر کے کپڑے دھونے تھے۔ کپڑے دھو کر کھانا پکانا‘ پھر کھانا اور کھلانا‘ پھر آرام کرنا اور شام سے رات تک وہی بچوں کے ساتھ جان کھپانا۔ اس سے اگلے روز دھلے کپڑے تہہ کرکے الماریوں تک پہنچانا اور کچھ کپڑے استری کرنا اور پھر سارہ کے لیے کچھ کپڑے سلائی بھی کرنے تھے‘ کیونکہ اس قدر گرمی میں لان کے گھر کے سلے کپڑے ہی سکون دیتے ہیں۔ عید کے کپڑے بھی سینے تھے کیونکہ مجھے سارہ کے لیے خود نت نئے ڈیزائن کے کپڑے بنانے کا جنون ہے۔ ہر عید پر اس کے کپڑے میں خود ہی سی کر سب سے داد وصول کرتی ہوں۔ اب چھوٹی بچی ہے کپڑے گندے کردیتی ہے تو کم سے کم چار پانچ سوٹ تو ہونے چاہیں۔ اس کے بعد اپنا بھی عید کا سوٹ سینا تھا۔ ہر بار سوچتی کہ اس بار تو سلا سلایا سوٹ لوں گی کہ کم سے کم ایک بوجھ تو کم ہو مگر ہر بار کسی ان سلے سوٹ پر دل آجاتا اور پھر سوچتی ہوں‘ کوئی بات نہیں میرا اپنا تو فٹافٹ سل جائے گا۔ بس انہی چکروں میں صبح سے شام اور شام سے رات یوں ہوتی ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتی دن پر لگا کر اڑ جاتے۔ اس روز میں دوپہر کو آرام کرنے لیٹی‘ کیونکہ دوپہر کی نیند تو میرے مقدر میں ہی نہیں‘ تو فیس بک چیک کرنے لگی۔
’’میم‘ آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟ ہم آپ کو پڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘ موبائل اسکرین پر پاپ کارن کی صورت میسج ابھرا تو میں نے چیٹ ونڈو کھولی‘ میری فین ردا کا میسج تھا جو فیس بک میسنجر پر موصول ہوا تھا۔ جواب نہ دیتی تو مغرور ہوجانے کا طعنہ ملتا۔ میرے چہرے پر پہلے ایک بے چارگی بھرا تاثر پھیلا پھر ایک نرم مسکان نے میرے چہرے کا احاطہ کرلیا۔ میں نے مسکراتے ہوئے اپنی پرانی فین کو جوابی میسج کیا۔
’’کیا بتاوں ردا‘ بیٹی کے بعد سے اس قدر مصروف ہوگئی کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔ بھلا لکھوں تو کیسے؟‘‘ میں جواب دے کر اس کے میسج کا انتظار کرنے لگی۔ جلدی اس کا جواب ملا۔
’’اوہ‘ کیوں کیا بہت تنگ کرتی ہے سارہ؟‘‘ میں نے ایک پیار بھری نظر گہری نیند سوئی سارہ پر کی اور جواب دیا۔
’’ارے ایسا ویسا‘ ایک تو یہ لڑکی تنگ بہت کرتی ہے‘ اوپر سے ہر وقت بیمار رہتی ہے‘ پھر مجھے اس کے لیے کپڑے سینے کا بھی بہت شوق ہے تو بس وقت ہی نہیں مل پاتا۔ کتنی کہانیاں ادھوری پڑی ہیں‘ کتنی کہانیوں کے آئیڈیاز دماغ میں اودھم مچاتے ہیں‘ پر یہ سارہ اور اس کی دی ہوئی مصروفیات‘ اف مجھے تو لگتا ہے میں درزن‘ دھوبن‘ باورچن‘ ماسی سبھی کچھ ہوں بس رائٹر نہیں۔‘‘
’’ہاہاہاہاہا… سینس آف ہیومر اچھا ہے آپ کا‘ مزاح کیوں نہیں لکھتیں؟‘‘ اس جوابی میسج پر میں تپ ہی تو گئی۔ اب تو وہ حال ہے کہ بات بات پر تپتی ہوں۔
’’ہاں ہاں ہنس لو بہن‘ تم پر بھی یہ وقت آئے گا۔‘‘ میں نے کہا نہیں دل میں سوچا پھر لکھا۔
’’مزاح صرف بول سکتی ہوں لکھ نہیں سکتی۔‘‘
’’چلیں میں دعا کروں گی کہ آپ جلد رائٹنگ کی دنیا میں واپس لوٹیں۔ اب کی بار ایک مکمل ناول لے کر آئیے گا۔‘‘ میں نے ناک چڑھا کر میسج پڑھا اور لکھا۔
’’یہاں ایک دو صفحوں کا افسانہ لکھنا محال ہے‘ تم مکمل ناول کی بات کرتی ہو‘ کمال ہے‘ لکھ ہی نہ لوں کہیں۔‘‘
’’ہاہاہاہاہا…‘‘ ایک بار پھر اس کی ہنسی میرا دل جلا گئی۔
٭٭٭…٭٭٭
یہ چند روز بعد کی بات ہے جب ان کی صبح کی ڈیوٹی تھی۔ ناشتے سے فارغ ہوئی تو امی کی کال آگئی۔ اب تو یہ حال ہے کہ کام کی مصروفیات میں اکثر و بیشتر امی یا باجی کی کال کینسل کردیتی ہوں۔ اسی وجہ سے کافی دن سے بات نہیں ہو پائی تھی سو فون تو اٹینڈ کرلیا مگر ان سے بات کرتے ہوئے آدھا گھنٹہ ہی گزرا ہوگا کہ اچانک سے خیال آیا کہ ہانڈی چڑھا لوں ورنہ گھنٹے بعد بچوں نے شامت لے آنی ہے۔
’’اچھا امی پھر بات ہوگی ابھی تو میں ذرا کچن کا رخ کروں‘ ابھی تھوڑی دیر میں بچے شور مچا دیں گے کہ بھوک لگی ہے۔‘‘ اللہ حافظ کہہ کر میں نے موبائل میز پر رکھا اور کاغذ پین کو حسرت سے دیکھتی کچن میں گھس گئی۔ میری پیشنگوئی کے عین مطابق ٹھیک ایک گھنٹے بعد معاذ کا نعرہ بلند ہوا۔
’’ماما بھوک لگی ہے۔‘‘ میں بیچاری جو کھانا پکا کر لکھنے کے لیے بیٹھنے ہی والی تھی‘ واپس سیدھی ہوگئی۔
’’اچھا کرسی پر بیٹھو‘ لاتی ہوں۔‘‘
’’ماما بھوک لگی ہے۔‘‘ میرے پانچ سالہ شہزادے اسید صاحب بڑے بھائی کے جڑواں تو بالکل بھی نہیں لیکن کام سارے ان کے پیچھے پیچھے چل کر کرنے ہوتے ہیں سو یہ نعرہ بھی کاپی ہوا اور اس پر میرا پارہ پہنچا ساتویں آسمان پر‘ آخر میرا لکھنے کا زخم چھیڑا گیا تھا اب آدھا دن تو اس کا غصہ مجھ پر سوار رہنا ہی تھا اور بھڑاس نکلنی تھی بچوں پر۔
’’کہاں ناں لا رہی ہوں کھانا۔‘‘ اسید کو گھور کر میں کچن میں گھس گئی۔
’’کیا پکا ہے؟‘‘ معاذ صاحب پھر سے وارد ہوئے۔
’’سالن پکایا ہے۔‘‘ دونوں تالیاں بجانے لگے۔ پھر پٹاری سے اگلا سوال نکلا۔
’’بابا کب آئیں گے؟‘‘ معاذ صاحب میرے پیچھے کچن میں پہنچ گئے۔
’’اب یہ تو بابا کو ہی پتا ہوگا بھئی۔‘‘ میں نے کوفت سے جواب دیا۔ ویسے بھی ’’بس پہنچنے والا ہوں‘‘ کہہ کر جو بندہ ایک گھنٹہ لگا دے اس کے بارے میں میں کیا حتمی بات کہہ سکتی ہوں۔ سو ٹالنے والا ہی جواب دینا پڑتا ہے مگر وہ معاذ ہی کیا جو آسانی سے ٹل جائے۔
’’بتائیں ناں دوپہر تک آئیں گے ناں۔‘‘ میں نے کھانا پلیٹ میں نکالا اور اسے پکڑاتے ہوئے سر ہلایا۔
’’امید تو یہی ہے۔‘‘ وہ پلیٹ لے کر نکلا تو اسید صاحب نے کچن میں قدم رنجہ فرمایا۔
’’ماما‘ بابا کب آئیں گے؟‘‘ میں نے پھر اسے گھورا تو وہ جھینپ گیا۔ جب میرا جواب سن ہی لیا تو دوبارہ سوال دہرانے کی منطق؟ لیکن ان پر تو فرض ہے بھائی کی ہر بات ہر عادت اور ہر سوال کو کاپی کرنا۔ خیر‘ میری گھوری جھیل کر صاحب بہادر چپ چاپ کھانا کھانے بیٹھ گئے۔
’’ماما ااااااا…‘‘ معاذ کا نعرہ بلند ہوا اور میں بھاگی‘ ضرور سارہ بی بی کا کوئی کارنامہ ہوگا‘ یہ گمان غلط ثابت نہیں ہوا‘ سارہ‘ میری ڈیڑھ سالہ ہونہار بیٹی‘ ہمیشہ میری امیدوں سے بڑھ کر ثابت ہوتی ہے‘ محترمہ نے بھائی کے کھانے کی پلیٹ میں ہاتھ ڈال کر پورا ہاتھ سالن سے تر کرلیا تھا اور فخریہ انداز میں مسکرا رہی تھی۔
’’سارہ کی بچی…‘‘ میں نے دانت پیسے اسے اٹھایا اور ہاتھ دھلائے تو اس کا بھونپو بج اٹھا۔ احتجاج کے طور پر میری گود سے اترتے ہی زمین پر لیٹ گئیں اور پھر گھر‘ گھر کم نقار خانہ زیادہ لگنے لگا جہاں میری آواز سنائی نہیں دیتی۔ معاذ کو چھوٹی بہنا پر ترس آیا تو حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے بولا۔
’’ماما اس کو میرے پاس بٹھا دیں میں اسے بھی ثرید کھلا دیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں کھلانا بیٹا اس کو موشن آرہے ہیں‘ اسے میں کمرے میں لے جارہی ہوں جلدی کھانا ختم کرو۔‘‘ ایک اور حسرت بھری نگاہ پین اور کاغذات پر ڈال کر میں چیختی چلاتی‘ سارہ کو اٹھا کر کمرے میں بند ہوگئی۔
’’یہی تمہاری قسمت ہے بیٹی۔‘‘ سارہ کے آگے کھلونے رکھتے ہوئے میں نے اسے کہا مگر وہ کھلونوں کو ہاتھ مار کر پھر سے احتجاجی مہم پر لگ گئی۔
’’چلو یہ سو جائے گی تو لکھنے بیٹھوں گی۔‘‘ میں نے خود کو تسلی دی اور سارہ کو لٹا کر فیڈر پکڑا دیا۔ فیڈر پیتے پیتے وہ غنودگی میں جانے لگی۔ اتنے میں لاونج کا دروازہ بجا اور ساتھ ہی بچوں کا نعرہ بلند ہوا۔
’’بابا آگئے۔‘‘ میں شکر کا کلمہ پڑھتی اٹھی اور دروازہ کھولا۔
’’گھنٹہ پہلے آپ نے کہا تھا بس آرہا ہوں۔‘‘ میں نے آنکھیں ٹیڑھی کرکے انہیں گھورا تو وہ فٹ سے بولے۔
’’تو آگیا ناں۔‘‘ لو بھلا‘ اب بندہ کیا جواب دے ایسی بات کا۔
’’بندہ سارے دن کا تھکا ہارا آفس سے آئے‘ تو مسکرا کر ملتے ہیں کوئی پیار کی بات کرتے ہیں۔‘‘ بچوں کے بابا پٹری سے پھسلنے لگے تو میں نے بانچھیں پھیلائیں۔
’’یہ لیں مسکراہٹ اور یہ کیا کہا آپ نے‘ سارے دن کا تھکا ہارا‘ استغفراللہ‘ سارا دن اے سی والے کمرے میں بیٹھے کرسیاں توڑتے ہیں اور باتیں دیکھو۔‘‘ ان کا قہقہہ بلند ہوا۔
’’ہاں تو تم بھی تو سارا دن بیڈ توڑتی ہو۔‘‘ برجستہ جواب پر ایک بار پھر میں نے ان کو گھورا اور ایک مکا رسید کیا۔
’’بیڈ آپ کی سائیڈ سے ٹوٹا ہے اچھا۔‘‘
’’جی نہیں آپ کی سائیڈ سے ٹوٹا تھا آپ نے مجھے اس طرف لٹا دیا۔‘‘ پھر تو وہ آگے آگے اور میں پیچھے پیچھے۔ بچے کھانا کھا کر بابا کا دماغ کھانے سر پر سوار ہوگئے‘ میں ان کے ساتھ بیٹھ کر اپنی باتیں بگھارنے لگی‘ دوسرے کمرے میں میز پر رکھے کاغذ اپنی حرماں نصیبی پر آنسو بہاتے رہے۔
٭٭٭…٭٭٭
چھوٹی عید کے لیے تو جیسے تیسے کپڑے سی لیے تھے‘ حالانکہ رمضان میں کوئی کام کرنے کا دل نہیں چاہتا۔ لوگ کہتے ہیں رمضان میں کھانے پینے کی چھٹی ہوتی ہے سو دن کے اوقات میں کافی کام کیے جاسکتے ہیں۔ بندہ پوچھے جس کے گھر میں تین عدد چھوٹے بچے ہوں وہاں کھانے کی چھٹی بھلا کیسے ہوسکتی ہے۔ خیر‘ چھٹیوں کا کام تو میں نے جیسے تیسے مکمل کروا دیا تھا‘ پراجیکٹس بھی بنا دیے تھے۔ اسکول کھلنے کے دن قریب تھے تو یونیفارمز کی حالت چیک کی‘ نئی پینٹس خریدنی تھیں‘ بیگ سیٹ کرنا تھا‘ کافی کام تھے۔ میں نے سوچا کہ چلو اب یہ لوگ اسکول جائیں گے تو ان اوقات میں لکھنے بیٹھوں گی مگر ہائے ری قسمت۔ دو ماہ صبح سونے کی جو عادت پڑی تھی‘ اب سویرے جاگنا پڑا تو نانی پر نانی سب بنا دیکھے ہی یاد آگئیں۔ بچوں کو اسکول بھیج کر ایسی لمبی تان کر سوئی کہ پھر گیارہ بجے کی خبر لائی۔
’’اف… ڈیڑھ گھنٹے بعد اسید نے آجانا ہے اور اس سے ایک گھنٹے بعد معاذ نے۔‘‘ میں بیچاری بھاگی کچن میں۔ اب دوپہر سے رات تک کی روٹین کیا بار بار دہرانی‘ وہی بچے وہی کھانا‘ وہی ہوم ورک اور وہی تھکن سے بوجھل ہوکر بستر کی خواہش اور وہی میرے حرماں نصیب ناولز کے صفحات۔
٭٭٭…٭٭٭
پھر یوں ہوا کہ ایک روز میں بچوں کی اسکول ٹائمنگ میں لکھنے بیٹھ ہی گئی۔ ان کی مارننگ ڈیوٹی تھی‘ سارہ کو کھلونے دے کر بٹھا دیا اور میں نے ادھورے ناولز میں سے ایک کا مسودہ نکال لیا۔ اب اتنے مہینوں بعد نکالا تھا‘ شروع سے پڑھنا پڑا اور پھر لکھنا شروع کردیا۔ سارہ کھیلتے کھیلتے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ میں نے ایک نظر ڈالی‘ وہ باہر فرش پر بیٹھی پلاسٹک کے گلاس سے کھیل رہی تھی۔ بچوں کی وجہ سے میں روٹین کے استعمال کے لیے شیشے کے گلاس کبھی استعمال نہیں کرتی تھی اس لیے پلاسٹک کے خوب صورت پرنٹس والے گلاس خرید لیتی ہوں جو کسی مہمان کے سامنے استعمال کرنے میں برے بھی نہیں لگتے۔ اب سارہ بی بی کولر کے اوپر سے وہ گلاس اٹھا کر باہر لے گئیں اور اسے فرش پر رگڑ رگڑ کر شاید کچھ برآمد کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اب یہ حرکت میرے لیے قطعی ناقابل برداشت تھی لیکن اس سے گلاس لینے کا مطلب تھا اس کا ہنگامہ اور میرے ناول کا التوا‘ جو کہ مجھے ہرگز منظور نہیں تھا۔ سو دل پر پتھر رکھ کر اسے کھیلنے دیا‘ یہ سوچ کر کہ کوئی بات نہیں بعد میں دھو لوں گی۔
اب میں ناول کے سینز میں بری طرح مگن ہوچکی تھی۔ ایک زبردست سا سین لکھ کر فخر کے احساس سے مغلوب میں نے سر اٹھایا تو خیال آیا کہ کافی دیر سے مکمل خاموشی ہے اور سارہ بھی لاونج میں نہیں۔ بچے کی خاموشی خطرے کا سگنل ہوتی ہے سو میں باہر نکلی‘ دیکھا تو محترمہ بچوں کے لانڈری بیگ سے میلے کپڑے نکال نکال کر پھیلانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھیں۔ اف میرے اللہ یہ لڑکی۔ کپڑے لانڈری بیگ میں واپس رکھے‘ سارہ کا منہ ہاتھ دھلا کر کمرے میں لائی اور دروازہ بند کردیا۔ پھر جو احتجاجی مہم شروع ہوئی تو الامان الحفیظ۔ سارہ محترمہ نے وہیں کارپٹ پر لیٹ کر ہنگامہ خیز دھرنے کا طبل بجا دیا۔ بڑی مشکل سے اسے قابو کیا‘ دروازہ کھولا تب جاکر بھونپو بند ہوا اور محترمہ پھر سفر پر نکل کھڑی ہوئیں۔ میں ایک بار پھر بیٹھی‘ لکھنا شروع کیا تو موبائل بجنے لگا‘ میاں جی کی کال تھی۔ دو منٹ بات کی اور بتایا کہ میں ناول مکمل کرنے بیٹھی ہوں سو انہوں نے جلدی فون بند کردیا۔ دو چار لفظ لکھے ہوں گے کہ گھر کی بیل بجی۔ دیکھا تو کسی بچے کی بال گیلری میں آئی تھی‘ اگلی بار بال کا نشانہ نہ چوکنے کا وعدہ لے کر بال واپس کی اور پھر سے لکھنے بیٹھی تھی کہ موبائل دوبارہ بج اٹھا۔ امی کی کال تھی‘ بعد میں بات کرنے کا سوچ کر کال کاٹ دی‘ وہ دوبارہ کرنے لگیں‘ دوبارہ کاٹ دی‘ تیسری بار کال آنے لگی تو کال سنی پڑی کہ شاید کوئی بہت ہی اہم بات ہے جو بار بار کررہی ہیں۔
امی کی ضروری بات جلدی جلدی سن کر باقی گپ شپ بعد میں کرنے کا کہہ کر میں پھر سے لکھنے بیٹھی۔ اب سارہ بی بی کا بگل پھر سے بج اٹھا۔ یاد آیا کہ اب فیڈر دینا ہے۔ ناچار‘ پھر سے اٹھی فیڈر بنا کر دیا اور بیٹھ گئی لکھنے۔ کافی دیر گزر گئی تو خیال آیا کہ سارہ نے اب تک فیڈر ختم کیوں نہیں کیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو سر پیٹنے کا دل چاہا۔ سارہ صاحبہ آخری اونس دودھ اپنے ہاتھوں پیروں پر ٹپکا ٹپکا کر مینی کیور اور پیڈی کیور میں مصروف تھیں۔ بے ساختہ ایک چپت لگا کر فیڈر چھینا اور پھر سے منہ ہاتھ دھلایا۔
’’غضب خدا کا‘ میں نے تو جو شادی کے وقت مینی پیڈی کروایا تھا وہی میرا پہلا اور آخری مینی پیڈی تھا‘ اس کے بعد تو میں نے ہاتھوں پیروں پر کبھی کریم تک نہیں لگائی تو یہ اس پٹاخہ بی بی نے بھلا کس کو دیکھ لیا۔‘‘ محترمہ کا پیٹ تو بھر چکا تھا سو خوشگوار موڈ میں کھیلنے لگی۔ میں پھر لکھنے بیٹھی اور ابھی پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ایک بار پھر گھر کی بیل زوردار آواز کے ساتھ بجی۔
’’اف اب کون آگیا؟‘‘ اٹھ کر باہر نکلتے ہوئے بلا ارادہ نظر گھڑی پر پڑی تو بے اختیار ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔ بارہ بج کر چالیس منٹ ہورہے تھے اور گیٹ پر یقینا اسید تھا جو چاچو کے ساتھ آتا تھا۔
’’اب لکھ لو ناول۔‘‘ اسید کے آنے کے بعد تو پھر چل سو چل۔ اسے نہلانا‘ کپڑے بدلانا‘ کھانا کھلانا اور سارہ کے ساتھ ہی اسے بھی سلانا۔ وہ سو جاتا تو معاذ آجاتا پھر یہی ترتیب اس کے ساتھ اور اس کے بعد کا تو میں بتاہی چکی کہ مجھ بیچاری پر کیا کیا بیتتی ہے۔
٭٭٭…٭٭٭
سارہ کو ہر وقت کوئی نہ کوئی صحت کا مسئلہ رہتا ہے۔ کبھی موشن‘ کبھی الٹیاں کبھی بخار‘ سو اب بھی یہی ہوا‘ موشن رکے تو اسے بخار ہوگیا اور بخار بھی ایسا کہ کسی دوا سے اترنے کا نام نہ لے۔ جب ہم دوا دے دے کر تھک گئے تو بخار کے پانچویں روز اسے خسرہ نمودار ہوگی۔ دو ماہ پہلے معاذ کو خسرہ ہوئی تھی‘ وہ ٹھیک ہوا تو اسید کو نہ رکنے والے موشن لگ گئے‘ وہ ٹھیک ہوا تو سارہ بیمار اور بڑی عید سر پر‘ سلائی کا کام ادھورا۔ اب حال یہ تھا کہ جب سارہ جاگ جاتی تو میری گود سے نہ اترتی اور جب وہ سو جاتی تو میں بیچاری جیسے تیسے کچن کا کام نمٹا کر سلائی مشین کی طرف بھاگتی۔ بلآخر سارہ صحت یاب ہوئی‘ کاغذات سمٹے میز خالی کی‘ گھر صاف ہوا‘ سلائی مشین سنبھالی گئی اور عید آگئی۔
’’بس یہ بڑی عید کی مصروفیات گزر جائیں تو وہ‘ وہ اور وہ والے ناولز ہر صورت مکمل کرنے ہیں‘ ان شاء اللہ۔‘‘ دل میں مصمم ارادہ کرکے عید کی گہما گہمی سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ عید گزری تو اسکول کھلے اور ساتھ ہی سیکنڈ مڈٹرم ایگزامز شروع ہوگئے۔
’’ایک تو آج کل کے اسکولز میں اتنے ایگزامز ہوتے ہیں جتنے اس ملک میں سفیدے کے درخت۔‘‘ میں جل کڑھ کر رہ گئی۔ ہائے رے میرے ناولز۔ وہ جو لکھنے کا سامان سمیٹا تھا‘ وہ ابھی کھولا بھی نہ تھا کہ بچوں کی تیاری کروانے بیٹھنا پڑا۔
’’چلو ایگزامز کے بعد تو کوئی خاص مصروفیت نہیں ناں۔ پھر تو سب کام چھوڑ کر لکھنے بیٹھوں گی بس۔ اب آپ دعا کیجیے گا کہ مزید کوئی روڑا نہ اٹکے اور میں بیچاری آپ لوگوں کے لیے ایک ناول تو لکھ ہی لوں۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close