Aanchal Sep-18

انا

ام مریم

ہر بات پر طعنہ‘ طعنہ اس کے میکہ کو کوئی کیا سمجھاتا‘ یا شاید وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے‘ انہیں بس اسی بات پہ اعتراض تھا کہ وہ ٹھیلہ لگا کر ہماری عزت نیلام کرتا پھر رہا ہے۔ اکڑ یا پھرضد تو فہد میں بھی بہت تھی‘ کسی بات سے پیچھے ہٹنا اس کے لیے بھی مشکل تھا‘ اس کا کہنا تھا اگر وہ ٹھیلہ لگا رہا ہے تو کسی کو اعتراض کیونکر میں کسی کا ملازم نہیں ہوسکتا‘ کسی کی بات نہیں برداشت کرسکتا‘ کام اپنا کرنا ہے چاہے وہ ٹھیلہ لگانے کا ہی ہو‘ ایسے میں مشکل کا شکار صرف ثانیہ تھی کہ آمنے سامنے نہ فہد بات کرتا نہ ثانیہ کے گھر والے… ثانیہ کی بہنیں اسے مجبور کرتی کہ تم بات کرو۔ امی بھی یہی کہتیں۔ وہ بے بس ہوگئی تھی۔ فہد کو سمجھانے کی کوشش کرتی تو وہ اپنی مجبوری بتا دیتا۔
’’بہت چھوٹا سا تھا جب باپ کا انتقال ہوگیا تھا‘ ددھیال والوں کا سلوک ایسا نہ تھا کہ میں وہاں ٹکتا… پڑھائی چھوڑ کر گھر سے بھاگا اس لیے کہ تایا کا بیٹا اسکول سے آتے ہی مجھے بھینس نہلانے اور ٹہلانے کو بھیج دیا کرتا تھا‘ میری ماں نے شروع سے ہی مجھے نہ قبول کیا… ابا سے طلاق لی تو مجھے انہی کے سپرد کردیا تھا۔ ہاں بابا کو مجھ سے بہت محبت تھی‘ انہوں نے میری خاطر دوسری شادی بھی نہ کی پر ان کی زندگی وفا نہ کرسکی… میں ساری زندگی دھکے کھاتا رہا‘ فٹ پاتوں پر سویا‘ لوگوں کی چاکریاں کیں‘ جس کی بھی نوکری کرتا وہ واقعی غلام سمجھ لیتا‘ اب جاکر دن بدلے ہیں‘ میرے مسئلے کو سمجھو اور مجھے مجبور نہ کرنا۔‘‘ ثانیہ تو سمجھ گئی مگر اس کے گھر والوں کو سمجھ نہیں آئی تھی۔ ثانیہ کے خواب اونچے تھے‘ وہ اچھے گھر کی چشم وچراغ تھی۔ ان کے خاندان میں دور ونزدیک کسی نے ٹھیلہ نہیں لگایا تھا‘ سب اپنا کاروبار کرتے تھے اور ٹھیک ٹھاک تھے۔ فہد کو ٹھیلہ لگاتے دیکھتی تو آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوجاتیں۔ اس کا تعلق اللہ سے گہرا تھا‘ وہ اللہ سے دن بدلنے کی آس لگائے بیٹھی دعا گو رہتی‘ گھر میں تنگدستی تھی‘ کوئی بھی کام مستقل نہیں تھا مگر ثانیہ میں شکر گزاری بہت تھی اور خود داری بھی… وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا تو دور… اپنے گھر والوں کو اپنے حالات کی خبر تک نہ ہونے دیتی… اسے رب سے مانگنا پسند تھا اور رب کا احسان تھا کہ کسی رات وہ بھوکے نہیں سوئے تھے۔
٭…٭…٭
اللہ نے اولاد کی دولت سے نوازا تو اسے لگا وہ دو جہان کی دولت سے مالا مال ہوگئے ہیں۔ بیٹا تھا بھی اتنا خوب صورت‘ اس نے بہت چاہ سے بیٹے کا نام محمد حنین رکھا… جنگ حنین کے نام پہ… حنین… اس کی خواہش تھی اس کا بیٹا بڑا ہوکر اسلام کی سر بلندی کے لیے کارنامے انجام دے۔
وہ سردیوں کے دن تھے۔ باہر گہری دھند تھی۔ فہد ابھی گھر پہ ہی تھا‘ ایسے موسم میں پھل خریدنے کون نکلتا‘ وہ پریشان تھا اگر آج بھی کام نہ ہوا تو قرض خواہوں کو مزید کیسے ٹالے گا۔ ثانیہ حنین کا پیمپر بدل رہی تھی جب اس کے فون کی گھنٹی بجی۔
’’کس کا ہے؟‘‘ مصروف رہتے ہوئے اس نے ایک لمحے کو سر اٹھایا۔ فہد اس کا فون اٹھا رہا تھا۔ موبائل اس کی طرف بڑھایا۔
’’صبا ہے… تمہاری بہن۔‘‘ فہد اٹھ کھڑا ہوا‘ ارادہ کھڑکی سے پردہ ہٹا کر موسم کا جائزہ لینے کا تھا حالانکہ دس منٹ میں صورت حال کیا تبدیل ہوجانی تھی۔
’’آپ بات کرلیں‘ میں حنین کو چینج کرادوں۔‘‘ وہ بچے کو گود میں لے کر چپ کرانے لگی کیونکہ حنین رونے لگا تھا۔ فہد نے کال ریسیو کی۔
’’ثانیہ ابھی فارغ ہوکر بات کرتی ہے‘ آپ سنائیں بچے ٹھیک ہیں؟‘‘ رسمی عیلک سلیک کے بعد فہد نے کہا تو صبا نے ہنکارا سا بھرا۔
’’سب ٹھیک ہیں‘ ثانیہ سے نہیں مجھے تم سے بات کرنی تھی‘ فہد تمہارا تو نمبر ہی بند ملتا ہے‘ آخر کس سے بھاگ رہے ہو؟‘‘ وہ کس لہجے میں بات کررہی تھی‘ شاید حیثیت کے حساب سے درجات طے ہوتے ہیں۔ فہد نے محسوس کیا مگر خود پہ جبر کرتا نارمل انداز میں بولا۔
’’میرا نمبر تو ہر وقت آن ہوتا ہے‘ جب آپ نے کیا ہوگا شاید سگنل کا مسئلہ ہو اور میں سمجھا نہیں… میں کسی سے کیوں بھاگوں گا۔‘‘ آخر میں اس کا لہجہ ازخود کچھ تیکھا ہوگیا تھا۔
’’تم ٹھیلہ لگا کر ہمارے باپ کی برسوں کی کمائی عزت خاک میں ملا رہے ہو فہد… کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرسکتے تو فیکٹری یا مل میں ہی ملازمت کرلو… کوئی وہاں دیکھنے تو نہیں آئے گا کہ تم کیا خاک چھان رہے ہو۔‘‘ صبا کا لہجہ ترش تھا۔ بے تحاشہ تلخ… فہد نے ایک نظر ثانیہ پہ ڈالی جو ابھی تک حنین کو چپ کرانے میں لگی ہوئی تھی۔ جو پتا نہیں کیوں بے تحاشا رونا رہا تھا وہ فون سمیت خاموشی سے باہر نکل گیا۔
’’میری جو حیثیت ہے میں اس حساب سے کام کررہا ہوں‘ اور میرا خیال ہے یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔‘‘ اپنی طرف سے اس نے حد بندی لگانا چاہی… وہ اتنا لحاظ والا نہ تھا‘ البتہ ثانیہ کے رشتوں کے ساتھ اس نے ہمیشہ ادب و لحاظ کو ملحوظ رکھا تھا لیکن اس کے خیال میں اب انتہا ہوگئی تھی۔
’’یہ بات نہیں ہے‘ تم محض ہماری ضد میں یہ کام کررہے ہو ورنہ اور کوئی بات نہیں۔‘‘ فہد کی پیشانی پہ شکنیں پڑ گئیں۔ اس نے ہونٹ بہت سختی سے بھینچے اور انگلیوں میں دبا سگریٹ نیچے پھینک کر پیروں سے مسلا‘ ایک ہاتھ کی انگلی سے اس نے زور سے آف کا بٹن دبا دیا تھا۔
’’کیا کہہ رہی تھی صبا… آپ نے میری بات ہی نہیں کروائی۔‘‘ وہ اندر آیا تو ثانیہ سوئے ہوئے حنین کو کارٹ میں لٹاتی ہوئی حیران ہوکر بولی۔ فہد نے فون سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود بالوں میں انگلیاں پھنسائے کرسی پہ گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔
’’آپ نے جواب نہیں دیا؟‘‘ ثانیہ شاکی نظر آنے لگی۔ فہد نے اسے ایک نظر دیکھا‘ بجھتی ہوئی رنگت‘ الجھے بال عام سا حلیہ… حالانکہ وہ خوش لباس اور خوب رو تھی‘ شادی کے شروع دنوں میں وہ کیسے دیوانوں کی طرح اس کے ساتھ لگا رہتا تھا‘ اب تو کتنے دن گزر جاتے وہ اسے نظر بھر کے دیکھتا بھی نہ تھا۔ غم روزگار کے مسائل نے الجھنوں میں ہی ایسا ڈال دیا تھا۔
’’ذرا مصروف تھی‘ کہہ رہی تھی‘ دوبارہ فون کروں گی۔‘‘ فہد نے اسے ہوا نہیں لگنے دی‘ اس کی کوشش ہوتی اپنی ذات سے اسے دکھ نہ دے مگر اسے لگتا وہ اسے خوش بھی نہیں رکھ پارہا۔
٭…٭…٭
’’کیا بات ہے فہد… آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘ رات کا کوئی پہر تھا جب ثانیہ کی آنکھ کھلی… فہد کو سر تھامے بیٹھے دیکھ کر جان نکلنے والی ہوگئی۔ فہد جو کسی گہری سوچ میں گم تھا‘ یوں اس کی آواز پر چونکا اور سنبھل گیا۔
’’ہاں ٹھیک ہوں… بس نیند نہیں آرہی‘ تم سو جائو۔‘‘
’’میں کیسے سو جائوں آپ پریشان ہیں؟‘‘ وہ اسے غور سے تک رہی تھی۔ فہد نے سرد آہ بھری۔
’’پریشانی تو ہے‘ اس کام سے گزارہ نہیں ہوتا۔‘‘
’’پھر…؟‘‘ ثانیہ فکرمند بھی ہوئی اور سوالیہ بھی۔ وہ فہد کے فیصلوں سے خائف رہتی تھی۔ جو اکثر اسے باہر جانے کے متعلق بات کرکے ہولائے رکھتا۔
’’افضل کا فون آج پھر آیا تھا۔‘‘
’’ایک تو میں اس افضل سے بہت عاجز ہوں۔ نفرت ہے مجھے…‘‘ فہد کی بات کاٹ کر وہ غصے میں بولی ہی تھی کہ فہد نے بھی ناراضگی سے ٹوک دیا۔
’’بات تو پوری سن لو۔‘‘
’’کیا سن لوں… یہ کہ وہ آپ کے پیسے دینے کو تو تیار نہیں مشورے رنگ برنگے دیتا رہتا ہے۔‘‘ ثانیہ کا لہجہ قہر میں تبدیل ہوا… فہد اسے ناراضگی سے دیکھتا رہا۔
’’وہ مجھے بلا رہا ہے… ہم ساتھ کام کرلیتے ہیں۔‘‘ فہد کی اگلی بات نے ثانیہ کو سہما دیا۔ وہ مضطرب نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’اور ہم…؟‘‘ اس نے بوجھل آواز میں سوال کرتے سوئے ہوئے حنین کو اپنے ساتھ لگایا۔
’’کچھ دنوں کی بات ہے‘ تم تب تک امی کی طرف رہ لینا… میں وہاں سیٹ ہوتے ہی سب سے پہلے رہائش کا انتظام کروں گا اور آکر تم دونوں کو لے جائوں گا۔‘‘ فہد نے سگریٹ سلگایا۔ ثانیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’یہ بہت مشکل ہے‘ حنین آپ کے بغیر نہیں رہتا۔‘‘ وہ یہ نہیں کہہ سکی کہ میں بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہ بہت شرمیلی طبیعت کی مالک تھی۔ حنین واقعی باپ کے بغیر نہیں رہتا۔
’’آپ اسے انکار کردیں‘ ہم یہاں خوش ہیں۔ زیادہ کا لالچ نہیں۔‘‘ وہ ایسے گویا ہوئی جیسے فی الفور فہد کو قائل کرلینا چاہتی ہو… وہ قناعت پسند تھی۔ حالات جیسے بھی تھے اس نے کبھی اس بات کو بنیاد بنا کر عام عورتوں کی طرح فہد سے جھگڑا نہیں کیا تھا۔
’’لیکن میں خوش نہیں ہوں… میں اپنے حالات بدلنا چاہتا ہوں اور قسمت ایسے مواقع بار بار نہیں دیتی یہ بھی جانتا ہوں۔‘‘ وہ ایک دم غصے میں آیا اور بھڑک کر کہتا کمرے سے نکل گیا۔ ثانیہ سہم گئی‘ کچھ نہ بولی۔
٭…٭…٭
پھر اس نے جو ٹھانی وہ کر بھی گزرا… چند دن کے اندر سارا معاملہ افضل سے طے کیا اور لاہور چلا گیا۔ جنوری کا آغاز تھا‘ امی نے دو تین بار خود فہد سے کہا تھا جب لاہور جائو ثانیہ اور بچے کو ادھر چھوڑ دینا۔ وہ خود چاہتی تھیں ان کی بیٹی کا بھی نصیب بدل جائے۔ حیثیت باقی بیٹیوں کے برابر آجائے۔ ان کی ساری دعائیں آج کل جیسے اسی کے گرد گھومتیں‘ مگر فہد کو جانے کیا بات ناگوار لگی کہ وہ ثانیہ کو ادھر بھی نہیں چھوڑ کر گیا۔ سردیوں کی طویل راتیں اور کہر بھرے دن تنہائی کی نذر ہوگئے۔ حنین باپ سے زیادہ نزدیک تھا اس کی کمی محسوس کی تو ہر وقت روتا رہتا‘ کچھ نہ کھانے کی الگ ضد لگالی۔ وہ فہد سے رابطہ کرتی‘ حنین کی صورت حال بتایا کرتی۔
’’بچہ ہے… کچھ دن میں سنبھل جائے گا۔‘‘ وہ تسلی دے دیتا‘ ادھر واقعی کام اچھا تھا‘ فہد خوش تھا‘ ایک تو ٹھیلے سے جان چھوٹ گئی تھی دوسرے پارٹنر شپ میں اچھا پیسہ مل رہا تھا۔ دکان افضل کی تھی اور ساری محنت فہد کی۔ اس ایک ماہ کے دوران اس نے ہر ہفتے ثانیہ کو منی آرڈر بھجوایا تھا‘ وہ خوش تھا مگر ثانیہ اس سے دور ہوکر خوش نہیں تھی۔
٭…٭…٭
حنین یک دم بیمار ہوا اور ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ثانیہ اتنا گھبرائی کہ رات کے آٹھ بجے فہد کو فون کردیا۔ بچے کی بیماری فہد سے دوری اور تنہائی وہ بات بات پہ رونے لگتی۔
’’اچھا پریشان نہ ہو‘ میں آجاتا ہوں۔‘‘
’’اس وقت۔‘‘ وہ متحیر اور فکرمند ہوئی۔
’’تو کیا ہوا‘ نو بجے آخری گاڑی نکلتی ہے‘ رات کو بارہ بجے تمہارے پاس ہوں گا۔‘‘ فہد کے لیے کچھ مشکل نہیں تھا مگر ثانیہ پریشان ہوگئی۔
’’ساری رات سفر میں رہیں گے۔ دن بھر کے بھی تھکے ہوئے ہیں ابھی سو جائیں صبح آجائیں۔‘‘ فہد مسکرا دیا۔ بڑی تلخ تھی یہ مسکان۔ اسے پریشان نہ کرنے کی غرض سے اس نے کہہ رکھا تھا کہ وہ رات آٹھ بجے تک کی ڈیوٹی کرتا ہے‘ ورنہ افضل دوستی بھول چکا تھا۔ اسے بس یہ یاد تھا کہ اب وہ اس کا ملازم ہے اور ملازم سے کسی بھی وقت کوئی بھی کام لیا جاسکتا ہے‘ دکان لاری اڈے پر تھی۔ چوبیس گھنٹے کھلی رہتی۔ تین لڑکے ملازم تھے۔ کوئی نہ آتا تو اس کی ڈیوٹی بھی فہد کو دینی پڑ جاتی کہ وہ دکان کے اوپر جو کمرا تھا وہیں سویا کرتا تھا۔
’’سفر میں سارے راستے سونا ہی ہے‘ فکر نہ کرو۔‘‘ وہ پکارتی رہ گئی فہد فون بند کرچکا تھا۔
٭…٭…٭
جس وقت فہد گھر پہنچا رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ وہ جاگ رہی تھی۔ انڈے ابال رکھے تھے‘ چائے دم پہ تھی۔ وہ مسکراتا ہوا آکر اس سے ملا۔ خوش حالی بھی کیا عظیم نعمت ہے۔ فہد کی ڈھب ہی بدلی ہوئی تھی۔ وہ خوش شکل تھا‘ اونچا لمبا قد‘ شاندار مضبوط ڈیل ڈول… بس اس بے روزگاری نے خوش لباسی چھین لی تھی۔ آف وائٹ کھدر کے سوٹ میں وہ نکھرا نکھرا سا پیارا لگ رہا تھا۔ دونوں ہاتھوں میں بڑے بڑے شاپر ایک میں حنین کے لیے کپڑے اور کھلونے دوسرے میں ثانیہ کی ضرورت کی بے شمار چیزیں… جنہیں نکال کر دیکھتی وہ حیران ہوتی رہی تھی۔
’’یہ سب آپ نے کب خریدا…؟‘‘
’’کبھی کھانا لاتے اور کبھی دکان کا سامان لاتے بازار کا چکر لگتا رہتا تھا‘ جو سمجھ میں آتا لے لیا کرتا… کچھ چیزیں بچوں کو دے دینا اور کچھ اپنی امی اور بہنوں کو تحائف دے دینا۔‘‘ فہد کا دل بہت وسیع تھا۔ وہ ہمیشہ دیالو نظر آتا جیب میں پیسہ ہونے کی صورت کنجوسی کا قائل نہ تھا۔ تنگ دل ثانیہ بھی نہ تھی‘ ہاتھ اس کا بھی کھلا تھا مگر اب تنگی دیکھ چکی تھی‘ تو اتنی سمجھ آگئی تھی کہ سب کچھ خرچ کرنے کی بجائے کچھ بچائے بغیر گزارہ نہیں۔
٭…٭…٭
اگلے دن فہد آٹھ بجے واپس بھی چلا گیا۔ وہ اس کی اچانک آمد سے اتنی خوش نہیں ہوئی تھی جتنا اتنی جلدی واپسی پہ مضطرب ہوگئی‘ حنین کا بخار اترا نہیں تھا‘ رات باپ کو دیکھ کر وہ جتنا خوش ہوا‘ اب سارا دن پھر نہ پاکر اسی قدر پریشان کررہا تھا۔ ثانیہ الگ پریشان تھی دن تو گزر جاتا رات کو اگر پتہ بھی ہلتا تو اسے لگتا کوئی گھر میں گھس آیا ہے۔ خوف سے دل بند ہوتا محسوس ہوتا۔
’’میں نے آپ سے کہا تھا رک جائیں‘ ایک دن کی چھٹی سے کیا ہوجاتا؟ فہد حنین کو بخار پہلے سے زیادہ ہے‘ مجھ سے اس کا رونا نہیں دیکھا جاتا۔‘‘ وہ فون پہ کہہ رہی تھی‘ فہد نے گہرا سانس لیا۔
’’ایسی باتیں کرکے مجھے پریشان نہ کیا کرو ثانیہ… تمہیں کیا پتا یہاں نظام نہیں چلتا وہ مجھے نکالنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس بات پہ ناراض ہے کہ میں کیوں رات دکان بند کرکے گیا۔‘‘ فہد نے ذرا تلخی سے بات کی تو ثانیہ چپ سی ہوگئی۔ جسے محسوس کرتے فہد دوبارہ نرمی سے گویا ہوا۔
’’تم امی کو فون کرو‘ انہیں حنین کی طبیعت کا بتادو‘ آجائیں گی اور پھر دوا بھی ان کے ساتھ لے آنا۔ ثانیہ ہمارے حالات بدل جائیں‘ اس کوشش میں ہوں اگر مستقل مزاجی سے کام نہیں کروں گا تو تم لوگوں کو ادھر لانے کی پوزیشن میں کیسے آئوں گا۔‘‘ اس نے ایک بار پھر سمجھایا‘ ثانیہ نے سرد آہ بھری۔
’’ٹھیک ہے‘ امی کو میں نے بتایا تھا حنین کی طبیعت کا انہوں نے خود کہا وہ آج آئیں گی۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولی‘ فہد نے مطمئن ہوکر فون بندکردیا۔
٭…٭…٭
حنین کی خراب طبیعت کے باعث پندرہ دنوں میں فہد کو دو چکر گھر کے لگانے پڑگئے اسی بات کو بنیاد بنا کر افضل نے اسے کام سے جواب دے ڈالا۔ فہد ایک دم مضطرب ہوکر رہ گیا۔
’’اب کیا ہوگا…؟‘‘ وہ سوال ثانیہ سے کرتا تو آنکھوں میں آنسو آجاتے۔
’’اللہ مالک ہے۔‘‘ اس کا یقین کامل تھا اور یہ کامل یقین ہی کی بات تھی کہ رب نے انہیں کسی بھی رات بھوکا نہیں سونے دیا۔ کریانے والے کا قرض پھر چڑھنے لگا‘ فہد ٹھیلہ نہیں لگانا چاہتا تھا‘ وہ نوکری کی تلاش میں دھکے کھانے لگا۔ کوئی سیل مین رکھنے کو تیار نہ تھا۔ دکان کے مالکوں کے ہزار نخرے اور مطالبے تھے‘ تجربہ مانگا جاتا اور رنگ برنگی ضمانتیں… وہ کہاں سے لاتا‘ آخر عاجز ہوکر پھر ٹھیلہ لگالیا۔ سارے رشتہ دار جو لاہور جانے پہ خوش تھے پھر سے نقطہ چینی کرنے لگے۔ ثانیہ ہی ان اعتراضات کا سامنا کرتی تھی۔ جب ہی اس کا سکون جو فہد کے لاہور سے آنے سے لوٹا تھا‘ پھر سے برباد ہونے لگا۔
٭…٭…٭
’’حنین کی طبیعت اب کیسی ہے…؟‘‘ وہ چارپائی پہ بیٹھی حنین کو جھولا دے کر سلا رہی تھی جو چارپائی کے ساتھ کپڑے کی جھولی میں لیٹا کل قلقاریاں مار رہا تھا۔ دروازے پہ دستک کے جواب میں اس کی دونوں بہنیں اندر آئیں۔ ثانیہ ان سے والدین کی خیر خیریت دریافت کرتی رہی کہ ایک بہن جو سب سے چھوٹی تھی حنین نے کسی بابت پوچھا۔
’’حنین اب ماشاء اللہ ٹھیک ہے۔ اس کے بابا جو اس کے پاس آگئے۔‘‘ اس نے جواباً خوشدلی سے بتایا۔ دونوں بہنیں اس کی مسکراہٹ کے جواب میں سنجیدہ شکل بنائے بیٹھی رہیں۔ بلکہ ناراض لگ رہی تھیں‘ ثانیہ نے محسوس کیا اور ذرا خائف سی ہوگئی۔
’’تم لوگوں نے اپنے گھر کب جانا ہے‘ اگر بن گیا ہے تو شفٹ کیوں نہیں ہورہے؟‘‘ سعدیہ نے اعتراض کا نقطہ اٹھایا اور ثانیہ کی گھبراہٹ کو بڑھا گیا۔ وہ سمجھ گئی تھی پھر کوئی بات بری لگ گئی ہے۔ جب سے شادی ہوئی تھی اس کی پوری کوشش کے باوجود اس کے گھر والوں کے گلے اس سے دور نہ ہوپا رہے تھے۔ اس کی بہنوں کا خیال تھا اس نے فہد کو بہت سر پہ سوار کر رکھا تھا‘ حالانکہ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں بس شوہر سے بدتمیزی اور گستاخی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ انہیں یہ بھی قلق تھا کہ ثانیہ نے فہد کو اپنے رنگ میں نہیں رنگا۔ اسے جس سانچے میں چاہتی ڈھال لیتی۔ وہ جوان مرد تھا اپنے آپ کو اپنی سوچ کو صحیح سمجھنے والا… وہ مانتی تھی فہد میں بھی کچھ خرابیاں تھیں مگر وہ اتنی باصلاحیت کہاں تھی کہ اسے غلام بنا کر جو حکم دیتی وہ مٹی کے مادھو کی طرح مانے جاتا۔
’’گھر تو مکمل ہے لیکن ابھی کچھ کام باقی ہے پھر چھوٹا بچہ ہے ادھر گیس کی سہولت نہیں‘ حنین کو پہلے ہی دو بار ٹھنڈ لگ چکی ہے‘ اتنی احتیاط کے باوجود۔‘‘ اس میں حد سے زیادہ لحاظ تھا۔ وہ تلخی کے جواب میں کبھی تلخ نہیں ہوتی تھی۔ اللہ نے اسے درگزر کی نعمت سے نواز رکھا تھا۔
’’ہم آج اسی لیے آئے ہیں‘ فہد نے ضد باندھ رکھی ہے کہ ٹھیلہ ہی لگانا ہے‘ پورے خاندان کو پتہ چل گیا ہے ہر طرف سے باتیں ہورہی ہیں کہ آخر کیا خامی تھی ثانیہ میں جو ایسے لڑکے کو ہاتھ پکڑا دیا‘ تب ہمیں اس کی فطرت کا کیا پتا تھا‘ وہ تو تم حد سے زیادہ سیدھی ہو‘ اکیلا لڑکا دیکھ کر کردیا مگر لڑکے نے ہمارے ساتھ ضد باندھ لی ہے‘ اسے کہو کوئی اور کام کرے‘ نہیں تو ہم سے جائے گا۔ ہم اس سے بات نہ کریں اس کی عزت نہ کریں تو گلہ نہیں… وہ ہماری عزت کا کب خیال کررہا ہے۔‘‘ سعدیہ شروع ہوگئی تو چپ ہونے کا نام نہ لیا‘ یہ خیال کیے بغیر کہ ثانیہ کے دل پہ کیا بیت رہی ہے۔
’’ٹھیلے سے وہ بہت کما لیتا ہے… اچھی بھلی دکان تھی وہ بھی اجاڑ دی۔ تم مان لو اس نے خود دکان اجاڑی‘ یہ دکان پہ بیٹھتا ہی نہ تھا چلنی کیا خاک تھی۔‘‘ حفصہ نے بھی حصہ لیا۔ حالانکہ وہ سب سے چھوٹی تھی مگر وہ ہر کسی کے معاملے میں دخل اندازی اپنا حق سمجھتی تھی۔
’’اسے بتادو ہماری نظروں میں اس کی کوئی عزت نہیں‘ یہ کام چھوڑ دے‘ اگر نہیں مانتا تو ہم خود بات کرلیں گے‘ نہیں تو اسے عمر بھر چھوڑ دیں گے۔‘‘ اب دھمکی مل رہی تھی۔ ثانیہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے… وہ کہہ نہ سکی کہ جو عزت فہد کا حق‘ وہ اسے کبھی بھی نہ ملی‘ اس گھر سے مگر انہوں نے کبھی گلہ نہ کیا کہ اس کا فائدہ ہی کیا تھا‘ ہمیشہ کی طرح رات کو اس نے فہد سے بہنوں کے مطالبے اور ان کی آمد کا بھی ذکر نہ کیا‘ ہرحال میں وہ اپنے گھر میں انتشار نہیں چاہتی تھی‘ فہد کی فطرت سے بھی اب اتنا آگاہ تو وہ ہوگئی تھی کہ وہ جتنا بھی بھلا مانس تھا بہرحال اپنی ذات پر حملہ برداشت نہ کرتا تھا۔
٭…٭…٭
حنین اب بیٹھنے لگ گیا تھا مگر ثانیہ پھر بھی اس کا بہت خیال رکھتی تھی کہ کہیں چوٹ نہ لگ جائے۔ جس دن فہد اس کے لیے نیلے رنگ کی خوب صورت سی واکر لے کر آیا ثانیہ جیسے حنین کی طرف سے بے فکر ہوگئی۔ شروع شروع میں حنین واکر میں بیٹھنے سے ڈرا پھر ایسا عادی ہوا کہ واکر کے بغیر نہ رہتا۔ اب ثانیہ اطمینان سے گھر کے کام نپٹا لیتی لیکن فہد کے کام کا مسئلہ اپنی جگہ تھا‘ کوئی نوکری نہ ملتی تھی‘ جس سے گھر کا گزارہ چلتا ‘ ایسے میں سعدیہ نے کچھ آفر دی پیسوں کی اور ساتھ میں صلاح بھی کہ کپڑے کا کام کرلو… رات کو ثانیہ نے سعدیہ کی آفر اور کام کے متعلق بات کی تو فہد سوچ میں پڑگیا۔
’’کیا ہوا… کیوں چپ ہوگئے آپ…؟‘‘ ثانیہ خائف ہونے لگی‘ فہد نے گہرا سانس لیا۔
’’چند ہزار سے یہ کام نہیں ہونے والا۔‘‘
’’مگر چھوٹے پیمانے پہ تو ہوسکتا ہے۔ آپ کٹ پیس لے آئیں‘ موٹر سائیکل آپ کے پاس ہے کپڑا موٹر سائیکل پہ آس پاس کے گائوں میں لے جاکر مسجد میں اعلان کروا دیں‘ ہمارے محلے میں کئی لوگ ایسے کام کرتے تھے آج وہ دکان کے مالک ہیں۔‘‘ ثانیہ کی عادت تھی نہ وہ ہمت ہارتی تھی نہ مایوس ہوتی تھی‘ جب سے شادی ہوئی تھی وہ فہد کو بھی ایسا ہی بنانے میں کوشاں تھی مگر فہد کی اپنی ہی عادت اور فطرت تھی۔
’’کچھ نہ ہونے سے تو کچھ ہونا بہتر ہے فہد… اس ٹھیلے سے بھی جان چھوٹ جائے گی‘ اتنے دنوں سے آپ بالکل فارغ ہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔‘‘ اسے خاموش دیکھ کر وہ سمجھانے لگی۔
’’ہاں جانتا ہوں… کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا لیکن اس کام کے لیے پھر بھی یہ پیسے کم ہیں‘ ثانیہ لوگ گردے بھی تو بیچتے ہیں۔‘‘ وہ بے خیال سا تھا اور جیسے کہیں گم ہو کر بولا۔ ثانیہ دہل گئی۔
’‘’کیا مطلب… آپ کیا سوچ رہے ہیں…؟‘‘ اس نے سہم کر سوال کیا‘ فہد کا انداز ہی ایسا تھا کہ وہ ڈرگئی تھی۔
’’لاکھوں کا بکتا ہے‘ ایک گردے سے بھی انسان زندہ رہتا ہے۔‘‘ فہد کا انداز ہنوز تھا۔ گم صم اور خطرناک‘ ثانیہ کی رنگت پیلی پڑگئی۔
’’یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں فہد…؟‘‘ اس کا ضبط چھلک گیا‘ آنسو بے اختیار بہہ نکلے۔ اسے فہد سے کتنی محبت تھی یہ الفاظ میں بیان ہی نہ کی جاسکتی تھی‘ وہ بس یہ دعا مانگتی تھی کہ فہد کا سایہ ان کے سروں پہ سلامت رہے۔
’’اب کیا ہوا…؟ ایک تو میں تمہارے بات بے بات رونے کی عادت سے تنگ ہوں۔‘‘ فہد جھنجلا گیا ثانیہ نے خود ہی آنسو پونچھ ڈالے۔
’’مجھے لگ رہا ہے آپ کچھ ایسا ویسا سوچ رہے ہیں تو یاد رکھنا… یہ جسم انسان کے پاس رب کی امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت اس مالک کو پسند نہیں۔ لہٰذا محتاط رہیے گا اور یہ بھی مت بھولیے گا کہ ہم دونوں کی زندگی بھی آپ کے ساتھ ہی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ آپ دونوں کے ساتھ میرے ماں باپ کو بھی ہمیشہ میرے لیے سلامت رکھے کہ آپ چاروں کے دم سے ہی میرا دل سکھی اور آباد ہے۔‘‘ وہ بے حد جذباتی لہجے میں کہہ رہی تھی۔ فہد خاموش بے نیاز بیٹھا رہا۔
٭…٭…٭
اگلے دن اس نے سعدیہ کی دی ہوئی رقم اور اپنی ساری بچت جو اسے امی ابو حنین کے لیے وقتاً فوقتاً دیتے رہتے تھے اکٹھے کرکے فہد کے ہاتھ پہ رکھ دیئے۔
’’میں آپ کے لیے یہی کرسکتی تھی اب دل لگا کر کام کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ چلو ٹھیلے سے جان چھوٹے گی تو سب کا اعتراض بھی جاتا رہے گا جو کہ غلط نہیں ہے۔ فہد خاندان والے باتیں کرتے ہیں کہ لڑکی میں کوئی کمی تھی جو ایسے لڑکے سے بیاہ دی جس کا کاروبار ہی نہ تھا۔‘‘ وہ دبے ہوئے انداز میں بولی۔ فہد کو غصہ تو آیا مگر دبا گیا۔
’’سب سے پہلے سعدیہ آپا کے پیسے لوٹائوں گا بس کام چل پڑے۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔‘‘ دونوں پُرامید تھے‘ فہد مل سے جاکر کٹ پیس لے آیا۔ ثانیہ نے خوشی خوشی مدد کرکے جوڑے بنوا دیئے مگر فہد نے محض دو دن کام کیا اور کہہ دیا مجھے نہیں کرنا‘ ثانیہ حد سے زیادہ پریشان ہوگئی۔
’’مگر کیوں… کیا ہوا؟‘‘
’’اس میں کوئی بچت نہیں تمہارے سامنے ہے۔‘‘
’’مگر دو دن میں کیا پتہ چلتا ہے۔ آپ ہمت کیوں ہارتے ہیں۔‘‘ ثانیہ کی جان پہ بن آئی۔ قرض پکڑ کے کام کیا تھا‘ وہ سب کے سامنے جواب دہ تھی خاص کر سعدیہ کے مگر فہد ان نزاکتوں کو کہاں سمجھتا‘ نہیں تو بس نہیں… اگلے دن جاکر کپڑا واپس کیا اور وہیں سے گولہ مشین لے آیا۔ ثانیہ کے سر پر تو جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اتنا صدمہ پہنچا کہ حد نہیں۔ زندگی میں پہلی بار ان کی اتنی سخت لڑائی ہوئی وہ روئی‘ تڑپی‘ بلکی مگر حاصل وصول کچھ نہ رہا۔ دونوں کی آپس میں بول چال بند ہوگئی۔ ثانیہ کچھ کہتی تو فہد بھی آگے سے لڑنے لگتا… وہ بات نہیں سمجھتا تھا کہ ثانیہ اپنی فیملی کے آگے جواب دہ ہے جنہیں اپنی حیثیت کا خیال بہرحال تھا۔ زیادہ دن تک یہ بات نہ چھپ سکی اور شدید اختلاف پھر سامنے آگیا۔ کسی طرف سے فون پہ تو کسی طرف سے روبرو وہ سخت روہانسی ہوگئی۔ فہد سے چند دن ہوئے دوبارہ معاملہ سیٹ ہوا تھا کہ گھر میں تنگی مزید بڑھ گئی تھی۔ فہد کے دوبارہ ٹھیلہ لگانے سے یہ ہوا تھا کہ وہ پھر سے کھانا کھانے کے قابل ہوسکے۔ فیملی کا اعتراض بڑھتا دبائو‘ ذہنی انتشار‘ ذہنی اذیت وہ گھر آتے ہی فہد سے پھر الجھنے لگی‘ جو پہلے ہی اکتایا ہوا اور بے زار تھا‘ مزید اتنا بد دل اور بے زار ہوا کہ اسی وقت اپنا اور اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے کھڑا ہوگیا۔
’’میں روز روز کی اس کل کل سے تنگ آگیا ہوں۔ تم مجھے بتائو کیا چاہتی ہو میں وہی فیصلہ کردوں‘ یہ طے ہے کہ میں مزید ان لڑائی جھگڑوں کو برداشت نہیں کرسکتا اور قسم کھاتا ہوں ثانیہ اگر صورت حال نہیں بدلی تو میں کچھ بہت غلط کر گزروں گا۔‘‘ وہ ایسے بات کررہا تھا کہ ثانیہ کے سارے ڈھیلے پرزے سیٹ ہوگئے‘ وہ ڈر کر سہم گئی‘ پشیمان ہوئی کہ کیوں معمولی بات کو بنیاد بنا کر اپنا بنا بنایا آشیانہ بگاڑنے پہ آگئی۔ بروقت برتی عقل نے واقعی اسے کسی بڑے نقصان سے بچا لیا تھا۔
٭…٭…٭
فہد کے اس طرح بات کرنے کا بس ایک فائدہ ہوا اور وہ یہ تھا کہ اس نے اب فیملی کے دبائو میں آکر فہد سے لڑنا ترک کردیا تھا کہ فہد نے اسے بات کھول کر بتادی تھی۔
’’جب بابا کی ڈیتھ ہوگئی تھی اور میرے ننھیال نے میری ماں سمیت مجھے قبول کرنے سے انکار کیا تو میں تایا کے گھر سے بھی بھاگ گیا تھا۔ پھر یہاں وہاں جیسے زندگی گزری گزاری اور ایسے میں یہ شعور کس کو تھا کہ حرام اور حلال کیا ہے تم سے شادی کے بعد میں نے جائز‘ ناجائز اور حلال‘ حرام میں فرق جانا‘ ثانیہ اگر تم مجھے مجبور کروگی تو یہ فرق پھر بھول جاؤں گا اور اس کی ذمہ دار تم ہوگی۔‘‘ اور وہ ہرگز اس گناہ میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ جب ہی بہت محتاط ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
پھر وہ اپنے گھر شفٹ ہوگئے‘ وہ دور بہت تھا اور وہاں تنہائی بہت تھی۔ نئی کالونی کی وجہ سے آبادی بہت کم تھی‘ آس پاس فصلیں اور کھیت… گھر کے سامنے سڑک سارا دن دھوپ میں جلتی اور شام کو ہوا گرد اڑانے لگتی‘ فہد صبح کا ٹھیلہ لے کے جاتا تو شام بلکہ رات کو لوٹتا… وہ حنین کو سلا کر ابھی گھر کی صفائی کا کام نپٹا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے حنین کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے جلدی سے اٹھایا‘ بڑی آپا تھیں… حال احوال کے بعد فہد کا پوچھا۔
’’کام پہ گئے ہیں۔‘‘
’’کیا کام…؟‘‘ اس نے کام کی نوعیت بتادی۔ انہوں نے ناراضگی سے سنا پھر بولیں۔
’’فہد کو سمجھائو… اسے کیوں ضد ہے ہم سب سے… اگر بات نہیں مانے گا تو سارے بہن بھائی مل کر تم دونوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘ یہاں پھر وہی دھمکی تھی وہ بے حد تھک گئی‘ مگر کسی کو اس کی تھکن سے غرض نہ تھی بس سب یہ چاہتے تھے بات مانی جائے‘ فہد اس معاملے میں کچھ سننے کو تیار نہ تھے‘ دونوں طرف شاید انا تھی وہ کہاں تھی… شاید کہیں نہیں… اس کے باوجود نقصان سب سے زیادہ اسی کے حصے میں آرہا تھا۔ کیا اتنی سی بات کے لیے وہ اپنا گھر توڑ لیتی؟ اس کے باوجود کہ فہد اس کے منہ سے نکلی ہر فرمائش پوری کرنے کو اپنی جان لڑا دیتا… وہ سوچتی اگر فہد چوری کرتا ڈاکہ ڈالتا تو یہ اختلاف اور دبائو سمجھ میں بھی آتا تھا‘ محض ٹھیلہ لگانے میں تو کوئی قباحت نہ تھی۔ پھر یہ بات اتنے سنگین مسئلے کا روپ کیوں دھارتی جارہی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
٭…٭…٭
گرمی عروج پر تھی‘ اس موسم کے عروج میں عید اپنے ہمراہ بہار جیسی خوشیاں لیے چلی آئی۔ فہد نے اپنی حیثیت کے مطابق جتنی بھی ہوسکی تیاری کی تھی۔ حنین کی شاپنگ اور ثانیہ کے لیے بھی… ثانیہ کے والدین ان کے نئے گھر میں پہلی مرتبہ آرہے تھے فہد نے جوس‘ کولڈ ڈرنکس‘ اسنیکس کی علاوہ اسے گوشت وغیرہ بھی لادیا تھا۔ ساس سسر کو وہ اپنے والدین کا درجہ دیتا تھا۔ ایسے ہی احترام اور محبت سے ان سے پیش آتا ثانیہ کے والد بہت سادہ اور نیک دل انسان تھے۔ والدہ کو البتہ ان کے حالات کی سب آگاہی تھی۔ انہیں ثانیہ سے خصوصی لگائو تھا‘ احساس بھی تھا کہ شادی کے بعد سے بیٹی مسائل کا شکار ہے اور باقی بیٹیوں کی طرح اس کی فطرت میں گریز اور حیا کا عنصر زیادہ ہے۔ جب ہی ہمیشہ کچھ نہ کچھ اس کی مٹھی میں خاموشی سے دے دیتیں وہ احتجاج کرنا چاہتی تو خاموشی کا اشارہ کر ڈالتیں۔
’’رکھ لو… کام آئے گا… فہد کو بھی نہ بتایا کرو۔‘‘ اور کام تو آتے رہتے تھے‘ وہ سیونگ ہی نہ کرپاتی‘ اس نے ماں باپ کے لیے بڑی چاہ سے کھانا پکایا‘ امی اس کی عیدی لائی تھیں۔ حنین کے اس کے اور فہد کے کپڑے اور جانے کیا کچھ… جاتے ہوئے پھر عیدی کے نام پہ پیسے دے دیئے‘ حنین کے الگ۔
’’بیٹے دن ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے‘ بس ہمت نہ ہارنا کبھی‘ مجھے اس بات کا بھی دکھ ہے کہ جتنی چاہ سے میں نے تمہاری شادی کی اتنی خاطر داری ہم فہد کی نہ کرسکے‘ سارے ارمان دل میں ہیں گویا۔‘‘ وہ بیٹی کے سامنے شرمندہ تھیں۔ ثانیہ نے جلدی سے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’اللہ آپ کو اور فہد کو سلامت رکھے امی… اللہ نے چاہا تو سب ارمان پورے ہوں گے حنین کی شادی پر۔‘‘ اس کے ساتھ امی نے بھی ان شاء اﷲ کہا اور مسکرانے لگیں۔
٭…٭…٭
شام سے رات تک اس کی تینوں بہنیں اور بھائی بھی آکر مل گئے۔ اسے جو بھائی بہنوں سے تھوڑے گلے تھے وہ بھی جاتے رہے۔ وہ ویسے بھی بہت گداز دل رکھتی تھی اپنے رشتوں کے لیے کسی کا ذرا سا جھکائو اس کے دل سے سارے شکوے مٹا جاتا۔
’’آج کا دن بہت مصروف گزرا۔‘‘ فہد رات کو سونے لیٹا تو حنین کو پیار کرتے ہوئے بولا۔ وہ مسکرادی۔
’’جی اور بہت اچھا بھی۔‘‘
’’ظاہری بات ہے ہماری بیگم صاحبہ کے میکے والے تشریف لائے تھے اچھا تو ہونا ہی تھا۔‘‘ فہد نے اسے چھیڑا وہ کھل کر مسکرانے لگی۔ جب سونے کے لیے حنین اور فہد کے پاس آکر لیٹی تو سوچ رہی تھی‘ خدانخواستہ اگر اس بے بنیاد بات کو لے کر میں اپنا گھر برباد کرلیتی تو آج اتنی خوشیاں کبھی میرے پاس نہ ہوتیں‘ امی کی بات صحیح ہے‘ دن ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے‘ ویسے بھی عورت خاص کر بیوی کی وفا کا اندازہ اس کے شوہر کی سختی کے دنوں میں ہوتا ہے‘ کہ وہ کتنی وفا نبھاتی ہے‘ اس نے وفا کا ثبوت پیش کردیا تھا۔ اب آنے والا دن اللہ نے چاہا تو ان کے لیے اپنے جلو میں خوشیاں اور امن لانے والا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close