Aanchal Sep-18

حمد و نعت

بہزاد لکھنوی/اختر شیرنی

حمد باری تعالیٰ
پایا نہ جب سہارا‘ اے دو جہاں کے مالک
میں نے تجھے پکارا‘ اے دو جہاں کے مالک
مغموم ہوں بدل دے اب تو مسرتوں سے
تقدیر کا ستارا‘ اے دو جہاں کے مالک
طوفاں کی تیزیوں میں جب ڈگمگائی کشتی
تو نے دیا سہارا‘ اے دو جہاں کے مالک
مخلوق کی اذیت مخلوق کی مصیبت
تجھ کو ہے کب گوارا‘ اے دو جہاں کے مالک
گر دور ناخدا ہے شامل تری عطا ہے
ہر موج ہے کنارا‘ اے دو جہاں کے مالک
حقا ہمارے بگڑے کاموں کو ہے بناتا
ادنیٰ ترا اشارہ‘ اے دو جہاں کے مالک
دنیائے بندگی میں بہزاد نے ہمیشہ
سجدہ تجھے گزارا‘ اے دو جہاں کے مالک

بہزاد لکھنوی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
سحر دم رحمت حق کا یہ مستانہ پیام آیا
مبارک اہل ایماں کو کہ وہ خیر الانام آیا
خدائی جس کے جلوئوں سے ہمیشہ جگمگائے گی
شبستان حرا کا آج وہ ماہ تمام آیا
زمین و آسمان بھی جس کے در پر سر جھکائیں گے
ہیں چرچے قدسیوں میں آج وہ عالی مقام آیا
بشر تھا وہ مگر ایسا جسے خیر البشر کہیے
غریبوں کی خبر لی اس نے بیماروں کے کام آیا
زباں چپ ہوگئی جب دل نے چھیڑا تذکرہ ان کا
دلوں کو وجد آیا جب زباں پر ان کا نام آیا
تھے جتنے داغ کثرت کے دلوں سے دھل گئے سارے
لیے ہاتھوں میں ساقیٔ عرب و حدت کا جام آیا
مزا جب ہے کہ جائیں خلد میں ہم اس طرح اختر
کہیں حوریں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مستانہ غلام آیا

اختر شیرانی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close