NaeyUfaq Oct-18

اقرا

طاہراحمد قریشی

العلیم

(بہت جاننے والا)

العلیم:مبالغے کا صیغہ ہے اس کا مادہ (ع‘ل‘م) ہے اس کے معنی جاننے والا‘ واقف‘ آگاہ‘ علیم‘ بذات خود علم سے مبالغے کا صیغہ ہے اس کے معنی ہیں بے پناہ علم والا‘ بہت زیادہ اور ہرطرح کا علم رکھنے والا‘ حدودوقیود سے بھی زیادہ علم رکھنے والا‘ اللہ العلیم کا علم اس قدر زیادہ اور بے پناہ ہے کہ اس کے علم سے کوئی شے‘ چاہے وہ کہیں بھی ہے وہ العلیم کے علم سے باہر نہیں ہے‘علیم ہرشے کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت‘ عمل‘ ضرورت‘ کام‘ سوچ وتخیل کی پرواز ورسائی تک کا علم رکھنے والا ہے۔ کسی بھی چیز کی کوئی بھی اور کیسی ہی حرکت کیوںنہ ہو اللہ علیم اس سے پوری طرح باخبررہتاہے‘ اللہ تعالیٰ خود تمام علوم کا سرچشمہ ہے‘ وہ کائنات کے ذرے ذرے سے پوری طرح باخبراور اسے جاننے والا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت محدود علم دیاہے جبکہ دیگر مخلو قات نہ صرف محدودبلکہ ان کی ضرورت کے مطابق ہی ان کے مخصوص شعبوں کاعلم دیاہے جبکہ خود اللہ علیم کاعلم لامحدود اور وسیع سے وسیع تر ہے۔ ہرحقیقت کا علم اسی علیم کو ہے۔
ترجمہ:۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرمارہا ہے اور اﷲ تعالیٰ علم وحکمت والا ہے۔ (النور۔۱۸)
اللہ تبارک وتعالیٰ جوہرچیز کا علم رکھتا ہے وہ اپنی مخلوقات کے ہرعمل‘ہرسوچ تک سے باخبر رہتا ہے‘ اہلِ ایمان سے جوکوتاہیاں ہوتی ہیں‘ جو ہوچکی ہیں‘ اللہ علیم ان سب کو خوب اچھی طرح جانتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ہی اپنی آیتوں کے ذریعے قرآنِ حکیم میں اپنے احکام نازل فرمائے ہیں تاکہ لوگ سیدھی راہ پرچلنے والے بنیں اور شیطان کے بہکائے میں پھنس کر اپنی آخرت کی زندگی کو بربادنہ کرلیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے جو حکمت وتدابیر اختیار کرتاہے جو قوانین وضع کرتا ہے وہ سب کے سب بڑی گہری حکمت پرمبنی ہوتے ہیں‘ ان میں لوگوں کی صلاح وفلاح ہوتی ہے۔
ترجمہ:۔(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک آپ کو اللہ حکیم وعلیم کی طرف سے قرآن سکھایاجارہاہے۔ (النمل۔۶)
آیتِ کریمہ میں ربِ علیم وحکیم اپنے محبوب اور رسول آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کوہدایت فرمارہاہے یہ قرآنِ کریم جو ربِّ کائنات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوسکھارہاہے یہ حکمت ودانائی اور علم ودانش میں کامل ہے۔ کیونکہ ذاتِ باری تعالٰ تو اپنی تمام مخلوقات کے حالات اور ان کے ماضی‘ حال اور مستقبل تک کاپوری طرح علم رکھتا ہے۔ اﷲاپنے بندوں اوردیگر مخلوقات کی اصلاح وہدایت کے لئے بہترین تدابیر اختیار فرماتاہے۔ قرآنِ حکیم میں جو کچھ ہدایات‘احکامات‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشادفرمائے ہیں وہ کوئی ہوائی‘خیالی باتیں نہیں ہیں اورنہ ہی کسی بھی طرح کسی انسانی قیاس ورائے پرمبنی ہیں بلکہ یہ تو علیم بذات الصدور کا ارشادِ حقانی ہے۔ جیسا کہ المومن کی درج ذیل آیت میں ارشاد ہو رہا ہے۔
ترجمہ:۔اس کتاب(قرآنِ کریم) کانزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے‘ اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (المومن۔۲)
اللہ تبارک وتعالیٰ جوبڑاہی قوت وحکمت والا اور علم والا ہے وہ بڑاہی صاحبِ فضل ہے آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نزولِ قرآنِ حکیم کے ساتھ ہی اپنی عظیم صفت علیم ارشاد فرمائی ہے اس سے یہ اظہار ہورہاہے کہ یہ کتاب صاحبِ کتاب کے علم کانہ صرف اظہارہے بلکہ الٰہی حکمت وعلم کا ذریعہ بھی ہے۔ اس طرح اللہ نے نہ صرف اپنے بندوں کی ہدایت ورہنمائی فرمائی اور انہیں اس کتاب کے ذریعے دین ودنیا کے علم سے بھی روشناس کرایاہے۔ انسانی شعور کے احساس کوتیز کرنے اس کے اندر امید پیدا کرنے اوراپنا خوف اور تقویٰ پیدا کرنے کاعلم بھی عطا کیا ہے۔
ترجمہ:۔اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کربیان کرے اور تمہیں‘ تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔ (النساء۔۲۶)
آیتِ کریمہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہو رہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان پر ان طریقوں کوواضح کرے اس کاارادہ ہے کہ تم پر اپنی حکمت ودانائی کا انکشاف کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان حکمتِ الٰہی کو دیکھے‘ سوچے سمجھے اور اسے اس طرح قبول کرے کہ وہ پوری طرح اس کی سمجھ میں آجائے پھر وہ اپنی کھلی آنکھوں اور کھلے دل ودماغ سے احکامِ الٰہی تعلیماتِ الٰہی یعنی دینِ اسلام اور اسلامی نظامِ حیات کو قبول کرے‘کیونکہ اسلامی احکامات نہ تو اس قدر پیچیدہ ہیں نہ ہی پہیلیوں کی طرح پراسرار ہیں کہ سمجھ میں نہ آسکیں اور نہ ہی آمرانہ تحکم لئے ہوئے ہیں کہ ان میں حکم تو ہو لیکن حکمت سے خالی ہوں‘ اللہ تبارک وتعالیٰ جوبڑاحکیم و داناہے اس کے احکام وہدایت میں بھی بڑی حکمت ودانائی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے لئے جو طریقۂ حیات‘طرزِ معاشرت اور نظامِ حیات منتخب کیا ہے اُسے مستحکم اور مضبوط بنیاد پر قائم کیاہے‘ اس کے اصول ایک ہیں‘جس کے مقاصد اور اہداف ہم آہنگ ہیں‘ ایک اکیلے اللہ کی عبادت یہی طریقہ اطاعت وبندگی زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے‘ صدیوں سے کیا بلکہ آفرنیش سے ہی نظامِ اطاعت وبندگی ایک ہے‘ وہ ہے اللہ واحد کی اطاعت وبندگی‘یعنی ’’لاالہٰ الااﷲ‘‘ ہرقوم ہرقبیلے کے مومنین کے درمیان یہ سنتِ الٰہی ایک مستحکم رابطے کا کام کرتی رہی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ بڑاہی رحیم و کریم ہے انسان اگر راہِ راست سے بھٹک جائے‘ شیطان کے چنگل میں پھنس جائے تو جب اسے اپنی غلطی کااحساس وادراک ہوجائے اور وہ اپنے احساسِ ندامت وشرمندگی کے اظہار کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو کر اپنی غلطی پرندامت کااظہار کرتے ہوئے معافی مانگ لے تووہ رحیم وکریم اپنے بندے کومعاف فرمادیتاہے یہی اس کی صفتِ عالی شان ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہستی بڑی دانا وعلیم ہے اس نے اپنے بندوں کے لئے جوقوانین بنائے ہیں وہ پوری حکمت وعلم کے ساتھ بنائے ہیں۔ وہ اپنے بندوں کو جو ہدایت ورہنمائی دے رہا ہے وہ سب کی سب بڑی علم وحکمت پرمبنی ہے۔ کیونکہ وہ خالق ومالک اپنی مخلوق کے مزاج و نفسیات سے پوری طرح باخبر وآگاہ ہے۔ وہ ان تمام تدابیر سے بھی پوری طرح باخبر ہے جن کے ذریعے انسان کی اصلاح ہوسکتی ہے اور جوانسانوں کے لئے مفید اور فلاح پانے کاذریعہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلامی تعلیمات واحکامات کوانسان کی بھلائی بہتری کے لئے نافذ فرمایاہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close