NaeyUfaq Sep-18

حصار

امجد جاوید

اس دن ثانیہ علی اپنی ہی منگنی پرخود ہی حیران ہوتی چلی جا رہی تھی ۔ یہ اسے یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ سب کچھ اس طرح بھی آناً فاناً ہو جائے گا۔ وہ یہی سوچے چلی جا رہی تھی کہ اس نے ذیشان احمد کو چاہا اور وہی اپنے ماما پاپا کے ساتھ منگنی کرنے ان کے شاندار لائونج میں بیٹھا ہوا تھا۔کیا یہ سب کچھ سچ ہے ؟ کہیں خواب تو نہیں؟ جو منظر وہ دیکھ رہی ہے ، یہی حقیقت ہے ؟ جیسے ہی اسے یہ احساس ہوتا کہ یہ سب سچ ہے، وہ نیند میں نہیں بلکہ جاگتی آ نکھوں سے یہ سارے منظر دیکھ رہی ہے توایک لامتناہی خوشگواریت اس کے رگ و پے میں سرائیت کر جاتی ۔ وہ مسرور سی اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ بیوٹیشن اسے تیار کرکے آخری ٹچ دے رہی تھی ۔ لائونج میں گونجتے ہوئے قہقہے اُسے سنائی دے رہے تھے۔ اتنی بڑی حقیقت اسے کسی خواب کی مانند لگ رہی تھی۔یو ں جیسے وہ کسی دوسری دنیا میں موجود ہو ۔
یہ سب کچھ کتنی جلدی ہو گیا تھا ، اس نے یہ سوچا بھی نہیں تھا ۔ حالانکہ یہ دورانیہ دو برسوں پر محیط تھا ۔ذیشان سے اس کی پہلی ملاقات کل ہی کی بات لگ رہی تھی ۔ ذیشان اس کا یونیورسٹی میں سینئر کلاس فیلو تھا ۔کلاس میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی گپ شپ کب لمبی لمبی ملاقاتوں میں بدل گئی انہیں احساس ہی نہیں ہوا۔ یوں ہنسی مذاق ،گپ شپ اور باتوں میں ایک برس بیت گیا ۔ اسے سب کچھ آج بھی اچھی طرح یاد تھا۔
ذیشان شہر کے ایک بزنس مین چوہدری نذیر کا اکلوتا بیٹا تھاتو ثانیہ بھی اسی شہر کے بزنس مین مراد علی کی اکلوتی بیٹی تھی ۔دونوں ہی کے انداز اور سٹائل میں امارت جھلکتی تھی ۔وہ بہت جلدی ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے ۔سال بھر کی ملاقاتیں رنگ لانے لگیں ۔ وہ ایک دوسرے کو چاہنے لگے ۔جہاں ذیشان کو یہ زعم تھا کہ اس کے والدین اس کی پسند کو ترجیح دیں گے وہاں ثانیہ کو بھی مان تھا کہ اس کی پسند کو قبول کیا جائے گا ۔چاہتوں بھری ملاقاتوں میں خواب نہ ہوں یہ ممکن نہیں ہوتا۔ وہ اپنی آ ئندہ زندگی کے بارے میں خواب دیکھنے لگے ۔ایک برس کب ختم ہو گیا انہیں پتہ ہی نہیں چلا۔انہیں ہوش اس وقت آ یا جب ذیشان یونیورسٹی سے فری ہوا اور امتحانات سے فراغت کے بعد اپنے پاپا کے ساتھ بزنس میں شامل ہوگیا۔
وقت تھوڑا آ گے بڑھا ۔ ذیشان کی ماما الماس بیگم نے اپنے بیٹے کی شادی کرنے کی بات چھیڑ دی ۔وہ چاہتا تھا کہ اپنی ماما کو اپنی چاہت کے بارے میں بتا دے ۔اسی کشمکش میں ایک برس مزید گزر گیالیکن گھر میں یہ بحث عروج پر پہنچ گئی کہ ذیشان کے لئے کس لڑکی کا انتخاب کیا جائے ۔تبھی اس نے اپنی ماما کو اپنی پسند کے بارے میں بتا دیا ۔انہی دنوں اس کے پاپا چوہدری نذیر اپنے بزنس ٹور کے لئے لندن کا پروگرام فائنل کر چکے تھے ۔اس کی پسند کے بارے میں سن کر اس کے والدین نے ہاں کر دی ۔تب اس نے پاپا کے لندن جانے سے پہلے منگنی کر دینے پر زور دیا ۔یوں چند دنوں ہی میں ایک دوسرے کے یہاں آ نا جانا ہوا اور منگنی طے ہو گئی۔
اس بنگلے کے مکینوں کی امارت کا اظہار شاندار لائونج سے ہو رہا تھا۔وہاںلائونج میں چند مہمان بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔دھیمی دھیمی سی گفتگو میں کسی بات پر قہقہے پھوٹ پڑا۔ اس قہقہے کی بازگشت ابھی ختم نہیںہوئی تھی کہ ثانیہ علی کے پاپا مراد علی نے انتہائی سنجیدگی سے سامنے بیٹھے ذیشان کے پاپا، چوہدری نذیر احمد کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’جی یہ توبہت اچھی بات کہی آپ نے ، لیکن میں نے توایسا نہیںسوچا تھا ۔ ہماری اکلوتی بیٹی کی منگنی اور وہ بھی اتنی سادگی سے؟ آپ چند دن مزیدرُک جاتے نا تو بہت دھوم دھام سے یہ منگنی کر لیتے ۔ کوئی بڑی سی پارٹی ارینج کرتے جس میں سبھی دوستوں کو بلاتے ۔‘‘
اس پر نذیر احمد نے اپنا کوٹ درست کرتے ہوئے بڑے تحمل سے کہا۔
’’ مراد علی صاحب، ہمیں اپنے بچوں کی خوشیاں چاہئیں،منگنی اگر سادگی سے ہو گئی تو کیا ہوا ۔ شادی ،دھوم دھام سے کر لیںگے۔ مجھے کچھ عرصہ کے لئے لندن جانا پڑ گیا ورنہ ، ویسے ہی ہوتا ، جیساآپ سوچ رہے ہیں۔میں بھی یہ سب دھوم دھام سے کرنا چاہتا تھا ۔‘‘
’’ آپ نے تو قریبی ملنے والوں کو بھی نہیں بلانے دیا۔‘‘ مراد علی نے ہنستے ہوئے کہا تو چوہدری نذیر احمد قہقہ لگاتے ہوئے بولا۔
’’ اگر ایک کو بھی بلا لیتے ناتو نجانے کتنے ناراض ہو جاتے ، فی الحال میں یہ افورڈ نہیں کر سکتا،ہم اور آپ ہیںنا ، بہت ہیں منگنی کے لئے۔‘‘
انہوں نے کہا تو چند لمحوں کے لئے ان میں خاموشی آ گئی ۔ اسی خاموشی کو ذیشان کی ماما بیگم الماس نے توڑا ۔
’’یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ،کہاں ہے ثانیہ ؟ بھئی اُسے بلائیں نا،رسم ادا کریں۔‘‘
اس پر ثانیہ کی ماما بیگم طلعت نے اندر کی جانب دیکھتے ہوئے دھیمے سے لہجے میں کہا۔
’’بس ابھی آتی ہی ہوگی ۔‘‘لفظ اس کے منہ ہی میں تھے کہ بیوٹیشن کے ساتھ ثانیہ اندر سے شاہانہ انداز میں دھیرے دھیرے آ تے ہوئے دکھائی دی۔ وہ انہی کی طرف بڑھتی چلی آ رہی تھی تبھی بیگم طلعت نے بے ساختہ کہا ،’’لو یہ آ گئی۔‘‘
سبھی اس کی طرف دیکھنے لگے۔ پہلی بار سب نے اسے تیار ہوئے دیکھا تھا۔ وہ اس جہان کی لگ ہی نہیں رہی تھی۔کیا روپ اُترا تھا اس پر ۔ ہر ایک کی نگاہ میں اس کے حسن کی ستائش تھی۔ ذیشان تو کھلی آ نکھوں سے دیکھتا ہی رہ گیا۔ ثانیہ کا ایسا روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا ۔ آج تک اس نے وہی عام سی ،میک اپ سے بے نیاز ثانیہ کو دیکھا تھا۔ وہ تو ویسے ہی اس پر مر مٹا تھا۔ یہاں تو بن سنور کر وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔ اس کے چہرے سے خوشی چھلک رہی تھی۔ بیوٹیشن نے اسے لے جا کر ذیشان کے ساتھ صوفے پر بٹھا دیا۔
’’ ماشا اللہ ، چشم بدور، کیا پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی۔‘‘ بیگم الماس نے یوں بے ساختہ کہا جیسے اس سے تعریف کئے بنا رہا نہ گیا ہو۔
’’ جی جی کیوں نہیں۔‘‘بیگم طلعت نے کہا۔
’’ تو چلیں پھر ، کریں منگنی کی رسم ۔‘‘ الماس بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ایسے میں بیگم طلعت نے بے چین سی ہو کر داخلی دروازے کی جانب یوں دیکھا جیسے اسے کسی کی آمد کا انتظار ہو ۔اس کی نگاہیں ہر بار مایوس ہو کر پلٹ آتی تھیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ انہی لمحوں میں اسے باہر پورچ میں گاڑی رُکنے کی آواز آ ئی ۔ سب باہر کی جانب دیکھنے لگے ۔سبھی کے ذہن میں یہ سوال بہرحال آیا ہوگا کہ اس وقت کون آ سکتا ہے؟
چند لمحے گزرنے کے بعد ادھیڑ عمر بیگم ثروت اپنی نند فاخرہ کے ساتھ داخلی دروازے میں نمودار ہوئی ۔ بیگم طلعت تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔ بیگم ثروت سب کی جانب دیکھتی ہوئی لائونج میں آ چکی تھی ۔اس وقت تک بیگم طلعت اس کے پاس پہنچ گئی تھی۔
’’اچھا ہوا تم آ گئی ہو ۔ بس منگنی کی رسم کرنے ہی والے ہیں۔‘‘ بیگم طلعت نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ اس پر بیگم ثروت نے چند لمحے اس کے چہرے پر دیکھا پھر شکوہ بھرے لہجے میں بولی۔
’’ مجھے توجیسے ہی اطلا ع ملی ، میں تو فوراً چلی آئی ۔یہ بھی شکر ہے دیر نہیں ہوئی، تم لوگوں نے تو مجھے یوںبے خبر رکھا،پتہ ہی نہیں لگنے دیا اس منگنی کا۔‘‘
ان کی باتوں کے دوران مراد علی ان کے قریب آ گیا تھا۔ اس کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار واضح تھے۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنی اندرونی کیفیت کا اظہار کر دے ۔تبھی بیگم طلعت نے اپنے شوہر مراد علی کی طرف خجالت سے دیکھا ۔ پھر ثروت کی جانب دیکھ کر یوں شرمندہ سی بولی جیسے اپنے شوہر کو سنا رہی ہو۔
’’ میں اپنی بہن کو تھوڑا بھول سکتی ہوں ، پر کیا بتائوں ثروت اس منگنی کا، یو ں سمجھو سب اتنا افراتفری میںہوا ، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔بس سارا کچھ جلدی میں ہوا ہے ۔‘‘
’’تم نے یہ تک نہیںبتایا، کن لوگوں میں رشتہ کر رہی ہو؟ اتنی راز داری؟‘‘ بیگم ثروت نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا تومراد علی کے چہرے پر خفگی پھیل گئی ۔ ایسا سوال کرنا اسے بہت برا لگا تھا۔ بیگم طلعت نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، پھرگھبرا تے ہوئے بولی۔
’’ثروت ، چل آ ، منگنی کی رسم ادا کریں، پھر باتیں تو ہوتی رہیں گی۔میں بتا دوںگی تمہیں ساری تفصیل، چل آ، مہمان انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ بیگم ثروت کا ہاتھ پکڑکر اسے لئے آ گے بڑھ گئی ۔
ان دونوں بہنوں کے درمیان جتنی دیر تک باتیں ہوتی رہیں، مراد علی انتہائی ناپسندیدگی سے انہیں دیکھتا رہا ۔ جبکہ پھوپھو فاخرہ بے نیاز بنی ان تینوں کو اپنی نگاہوں سے یوں تولتی رہی جیسے سب کے اندر تک کو ٹٹول لینا چاہتی ہو ۔وہاں پر فاخرہ اور مراد علی دونوں رہ گئے ۔ فاخرہ نے لمحہ بھر اپنی تیز نگاہوں سے مراد علی کو یوں دیکھا جیسے اس کے دل میںچھپی انتہائی نفرت اور اس کا رویہ بھانپ رہی ہو ۔ اس نے اپنی تذلیل محسوس کی ۔مراد علی کی نگاہوں سے غصہ چھلک رہا تھا۔ اگلے لمحے فاخرہ بھی ان کے پیچھے چل پڑی ۔اس کے اندر غصہ ابل پڑا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہیں مراد علی کو ذلیل کر کے رکھ دے ۔ وہ تو پہلے ہی مراد علی سے خار کھاتی تھی ۔ وہ یہیں اس کی حقارت کا بدلہ چکا دینا چاہتی تھی ۔پھوپھو فاخرہ نے محسوس کیا تھا کہ طلعت نے اس سے بات نہیں کی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ بیگم طلعت نے اسے نظر انداز نہیں کیا۔ وہ اپنے شوہر مراد علی کے باعث اس سے بات نہ کر سکی تھی ۔اسے مراد علی پہلے ہی اچھا نہیں لگتا تھا، اس بار تو اس کے دل میں نفرت ہی ابل پڑی تھی ۔ وہ سبھی وہاں پہنچ گئے جہاں سارے مہمان جمع ہو چکے تھے۔
ذیشان کے چہرے پر خوشی دمک رہی ہے ۔ الماس بیگم نے اپنے پرس میں سے سرخ ڈبیہ نکال کر ذیشان کی جانب بڑھا دی ۔اس نے ڈبیہ پکڑ کر کھولی۔ اس میں چمکتی ہوئی ہیرا جڑی انگوٹھی نکالی اور ثانیہ کی جانب بڑھائی ۔ وہ ایک دم سے گھبرا گئی ، پھر حیا بار انداز میں نزاکت سے ہاتھ آ گے کر دیا ۔ ذیشان نے بڑے نازک سے انداز میں ثانیہ کا ہاتھ پکڑا اور وہ انگوٹھی ثانیہ کی انگلی میں پہنا دی ۔ بیگم طلعت نے ثانیہ کے آگے ایک انگوٹھی کر دی ۔ ثانیہ نے وہ انگوٹھی پکڑی اور ذیشان کو پہنا دی۔ سبھی ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے ۔جب وہ ایک دوسرے کومبارک باد دے چکے تو مہمانوں کو کھانے کی میز کی طرف جانے کا کہا گیا۔ وہ سب ادھر بڑھ گئے۔ تبھی مراد علی نے اپنی بیوی کے قریب جا کر غصے اور حقارت سے پوچھا۔
’’ان لوگوں کو، تم نے بلایا تھا؟‘‘
اس کا واضح اشارہ فاخرہ اور بیگم ثروت کی طرف تھا۔ تبھی بیگم طلعت نے خفگی سے اپنے شوہر کو دیکھا، اور ایک طویل سانس لے کر انتہائی سنجیدگی سے یوں بولی جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے کہہ رہی ہو۔
’’ہاں، میں نے بلایا ہے اور یہ لوگ ہوں گے تمہارے لیے … وہ میری بڑی بہن ہے ۔میری سگی بہن،میرے خون کا رشتہ ہے وہ … سمجھے آپ ۔‘‘ وہ باوجود کوشش کے اپنے لہجے سے غصہ اور طنز چھپا نہ پائی تھی ۔مراد علی نے غصے میں دوسری جانب دیکھا ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنی بیگم کو یہیں باتیں سنا دے ۔وہ چند لمحے کھڑا رہا پھر غصے بھرے لہجے میں بولا۔
’’میں مہمانوں کے سامنے انہیں بے عزت نہیں کرنا چاہتا ۔ یہ بہت اچھا ہوگا کہ تم انہیں خود ہی جلدی جانے کا کہہ دو ۔ سمجھی تم …‘‘
بیگم طلعت نے یوں آ نکھیں بند کر لیں جیسے اپنے اندر کے دکھ کو سہہ رہی ہو ۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی آ نکھوں میں آ ئے آ نسو روک لئے ۔ یہ دیکھے بنا مراد علی مہمانوں کی جانب بڑھ گیا تھا۔
کچھ دیر بعد سبھی میز پر بیٹھے ڈنر میں مصروف تھے ۔ان کے درمیان خوشگوار انداز میں باتیں چل رہی تھیں۔ بیگم ثروت ایک جانب بیٹھ گئی تھی ۔ بیگم طلعت کھانا لے کر اس کے پاس ہی آ گئی ۔وہ جانتی تھی کہ اس کی بہن بیمار ہے اور پر ہیزی کھانا کھاتی ہے ۔ وہ چند منٹ اس کے پاس بیٹھی تھی کہ مہمانوں میں سے کسی نے اسے بلالیا۔بیگم ثروت نے جیسے تیسے تھوڑا بہت کھایا۔ فاخرہ نے کسی شے کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا ۔ وہ اپنے غصے اور تذلیل پر ہی کڑھ رہی تھی ۔ چند نوالے لینے کے بعد بیگم ثروت نے طلعت کو اشارہ کیا ۔ وہ اس کے پاس آ گئی ۔ اس نے کافی سارے نوٹ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ لے ، میری طرف سے ثانیہ کو کوئی تحفہ لے دینا ، جو اسے پسند ہو ۔ میں اب چلتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ اس نے بے بسی سے کہا ، اس کے ساتھ ہی اس کے آنسو نکل پڑے ۔اس نے جلدی سے منہ پھیر لیا۔
’’میں سمجھتی ہوں طلعت ۔ اللہ تم پر رحم کرے ۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھ گئی ۔ اس کے ساتھ ہی فاخرہ پھوپھو بھی اٹھ کر جانے کو تیار ہو گئی ۔ دونوں دھیرے دھیرے باہر کی جانب چل دیں۔
بیگم ثروت جتنی دیر بھی وہاں رکی ،اسے اپنے سینے پر بوجھ ہی محسوس ہوا تھا۔اس کے من میں کیا چل رہا تھا ، یہ اس نے ذرا سا بھی محسوس نہیں ہونے دیا تھا۔ دل پر پتھر رکھے وہ اپنی بہن اور اپنی بھانجی کی خوش میں شامل ہو گئی تھی۔ لیکن یہ اس کا دل ہی جانتا تھا کہ وہ اندر سے کس قدر لہو لہو ہو رہی تھی۔وہ جانے کے لئے پورچ میں آ ئی تو اس کے پیچھے ہی بیگم طلعت آ گئی ۔ اس نے مٹھائی کی ٹوکری اور پھول دیتے ہوئے دکھی سے دل کے ساتھ کہا۔
’’ثروت۔! دعا کرنا،میری ثانیہ کے لئے۔‘‘
’’وہ میری بھی بیٹی ہے ، کیا ہوا جو وہ میری بہو نہ بن سکی ۔اللہ اسے خوشیاں نصیب کرے ، میری تو یہی دعا ہے ۔‘‘ بیگم طلعت نے بھیگے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’دل پر کوئی بوجھ مت رکھنا ، تم جانتی ہو کہ میری ایک نہیں چلتی ۔ وہی ہوتا ہے جو باپ اور بیٹی چاہتے ہیں۔‘‘
’’ میں سمجھتی ہوں ۔‘‘ وہ دھیمے سے لہجے میں بولی تو پھوپھو فاخر ہ نے کہا۔
’’ویسے طلعت ، یہ جو تیرا شوہر ہے نا مراد علی ، اسے رشتوں کی قدر تو نہیں مگر…‘‘
’’ چل چھوڑ فاخرہ ، یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں۔‘‘ بیگم ثروت نے اسے ٹوک دیا۔’’بس دعا کرنا۔‘‘ بیگم ثروت نے بھاری دل سے کہا۔
’’ اللہ سب کا بھلا کرے ، چلتی ہوں ۔‘‘ وہ سکون سے بولی اور کار میں بیٹھ گئی ۔ فاخرہ اس کے بعد بیٹھ گئی۔اُسے یہ سب فضول لگ رہا تھا۔ جیسے یہ سب اوپری دل سے کہا اور کیا جا رہا ہو۔
ایک ہی شہر میں رہنے والی دونوں بہنیںبیگم ثروت اور بیگم طلعت کے درمیان ایک ان دیکھا فاصلہ پیداہو گیا تھا۔ یہ فاصلہ صرف اور صرف مراد علی کی نفرت نے پیدا کیا تھا۔کوئی وقت تھا ، جب بیگم ثروت کا شوہر زندہ تھا۔اس کا شمار شہر کے بڑے کاروباری لوگوںمیں ہوتا تھا۔ تب یہی مراد علی اس کے ہاں کام کرتا تھا۔ انہیںمراد علی پر اندھا اعتماد تھا۔یہ اعتماد اس قدر بڑھا تھا کہ انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے شعیب کی منگنی ان کی بیٹی ثانیہ سے کر دی تھی ۔ ظاہر ہے اس فیصلے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ان کا یہ تعلق آئندہ نسل تک بھی جاری رہے ۔ بہت اچھے دن گزرتے چلے جا رہے تھے لیکن جیسے ہی اس کے شوہر ایک حادثہ میں اس جہاں سے چلے گئے ، مراد علی نے نگاہیں پھیر لیں۔شعیب ابھی اس قابل نہیںتھا کہ اپنے باپ کا بزنس سنبھال سکے ۔ یہ بہت بڑا جھٹکا تھا ۔ بزنس دنوں میں ختم ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ مراد علی نے اپنا بزنس شروع کردیا۔سبھی یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس نے کیا کھیل کھیلا تھا ۔ اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھاتاکہ اپنا بزنس جما سکے۔
بیگم ثروت کو مراد علی کی اس محسن کشی کا دُکھ تو تھا ہی لیکن یہ امید نہیںتھی کہ وہ ان سے یوں نفرت کرے گا ۔وہ شاید سب کچھ بھول جاتی اگر مراد علی تھوڑا بہت رشتوں کا خیال کر لیتا۔ بیگم ثروت اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا بیٹا شعیب پورے دل سے ثانیہ کو چاہتا ہے ۔ یہ محبت اس لئے بھی بڑھ گئی تھی کہ ثانیہ اس کی منگیتر تھی ۔ وہ اس سے جلد از جلد شادی کرلینا چاہتا تھا ۔گزرتے وقت اور حالات میں دوریاں بڑھتی چلی گئیں ۔ شعیب اور ثانیہ کی منگنی تو تھی لیکن کبھی اس کی بات بھی نہیں ہوئی تھی ۔بیگم ثروت لوگوں سے سنتی رہتی تھی کہ مراد علی نے ہر طرح کا رشتہ ختم کر دیا ہے ۔وہ جانتی تھی کہ مراد علی کبھی اپنی بیٹی اس کے بیٹے سے نہیں بیاہے گا ۔لیکن ایک دن وہ اپنے بیٹے کی محبت سے مجبور ہو کر ثانیہ کی شادی بارے بات کرنے ان کے گھر جا پہنچی تھی ۔ پھروہی ہوا جس کا اُسے اندیشہ تھا۔ اس کی بہن تو چاہتی تھی کہ یہ رشتہ ہو جائے مگر مراد علی نے انتہائی حقارت سے انکار کر دیا تھا۔اس طرح رشتے ناتے کی جو تھوڑی بہت امید تھی ، وہ بھی ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ کبھی کبھار وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے سے مل لیا کرتی تھیں ۔ بس یہی ان کے درمیان خون کا تعلق رہ گیاتھا۔ ورنہ اگلی نسل میں یہ تعلق بھی نہیں رہنے والا تھا۔اس پر وہ دونوں بہنیں دکھی تھیں ۔
بیگم ثروت جانتی تھی کہ شعیب اب تک ثانیہ کو نہیں بھول پایا تھا وہ اب بھی ثانیہ سے محبت کرتا تھا اور اسی ہی کو چاہتا تھا ۔مراد علی نے اسے طعنہ دیا تھا کہ وہ ہے کیا ، جس کے ساتھ اپنی بیٹی بیاہ دے ۔ یہ کہتے ہوئے وہ وقت بھول گیا تھا جب اس کے پاس کچھ نہیںتھااور وہ ان کے ہاں ایک تنخواہ دار ملازم تھا۔لیکن وقت کی حقیقت یہی تھی کہ جب مراد علی نے یہ لفظ کہے تھے ، تب شعیب اپنے بچے کچھے بزنس کو سنبھالنے کی کوشش میں تھا جبکہ مراد علی اپنا بزنس مضبوط کرچکا تھا۔
بیگم ثروت چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی تھی۔وقت پھر بدل گیا تھا ۔بیگم ثروت اپنے اسی شاندار بنگلے میں تھی ، جو اس کے شوہر نے بنایا تھا۔ شعیب نے دن رات محنت کے بعد اپنا بزنس بہت پھیلا لیا تھا۔ وہ سخت جد وجہد کے بعد اس قابل ہو گیا تھا کہ مراد علی کے بزنس کو بھی پیچھے چھوڑ دے ۔ اس کے دل میں اب بھی ثانیہ کی محبت تھی ۔ وہ اب بھی ناامید نہیں تھا۔وہ اسی زعم میں تھا کہ ثانیہ اسی کی ہے لیکن اسے یہ خبر نہیںتھی کہ ثانیہ کسی دوسرے کو پسند کر چکی ہے ۔
تھکی ہوئی بیگم ثروت لائونج میں آکر ایک صوفے پر بیٹھ گئی ۔ ڈرائیور میز پر مٹھائی کی ٹوکری اور پھول رکھ کر پلٹ گیا تھا۔ تبھی پھوپھو فاخرہ بھی دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی سامنے ہی دھرے صوفے پرآبیٹھی ۔ ان کے درمیان خاموشی رہی لیکن پھوپھو فاخرہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنا چاہتی تھی ، اس لئے بڑبڑاتے ہوئے دکھ سے بولی
’’ اللہ قسم ،تھک گئی آج تو، ویسے ایک بات کہوں ثروت ، برا مت منانا، یہ جوتیری بہن ہے نا، اس کا رویہ توٹھیک تھا… مگر وہ تیرا بہنوئی… دیکھا تھا اسے ، اللہ معاف کرے ، کتنی رعونت آگئی ہے اس میں۔ کیسے گردن اکڑائے ہو ئے تھا۔ بھول گیا سب کچھ، وہ وقت بھی اس کے دماغ میں نہیں جب …‘‘
’’ہاںفاخرہ ،وہ واقعی ہی بھول گیاہے، وہ کیا ، پتہ نہیںکون کون بھول گیا ہمیں۔ یہ تووقت وقت کی بات ہے نا، ہوتا ہے ایسا،دنیا داری ہے ۔‘‘ بیگم ثروت نے ٹھنڈی سانس لے کر بے بسی سے کہا۔ اس پرپھوپھوفاخرہ تنک کر بولی
’’یہ جو آج اتنا بڑا بزنس مین بنا ہوا ہے نا، یہ جو کاریں بنگلے بنائے ہیںنا، سب میرے بھائی کی وجہ سے بنے ہیں، ورنہ آج بھی وہی معمولی ملازم ہی ہوتا۔یہ دولت بھی رشتے ناطے تک بھلا دیتی ہے۔‘‘
’’چل چھوڑ ، یہ تومیری بہن کے دل میں اب بھی میری محبت ہے، ورنہ کون کسی کو پوچھتا ہے۔ اپنے بھی پرائے بن جاتے ہیں۔‘‘وہ اکتائے ہوئے لہجے میں بولی
’’پرایا پن تو دکھایا تمہاری بہن نے بھی ، ارے ہوا تک نہیںلگنے دی منگنی کی۔ کہاں کر رہی ہے؟ کون لوگ ہیں؟ کیا ہم سے بھی اچھے ہیں وہ لوگ،؟خون کے رشتوں سے بھی اچھے؟‘‘ وہ غصے میں بولی تو بیگم ثرو ت آہ بھر تے ہوئے دکھ سے بولی
’’بس میرے بیٹے کی قسمت میں نہیںتھا۔‘‘
لفظ ابھی اس کے منہ ہی میں تھے کہ شعیب داخلی دروازے سے اندر آ گیا ۔ وہ بڑے خوشگوار موڈ میں تھا۔ اس نے سامنے صوفے پر بیٹھی اپنی ماما اور پھوپھو کو دیکھا تو ٹھٹک گیا، پھر صوفے پر بیٹھتے ہوئے عام سے خوشگور لہجے میںپوچھا
’’کیا قسمت میں نہیںتھا ماما ؟ اور یہ آپ اتنی اداس کیوں بیٹھی ہیں، خیریت تو ہے نا ؟‘‘اس کے یوں پوچھنے پر دونوں ہی نے ایک دوسرے سے آنکھ چرا لیں۔ جبکہ شعیب نے میز پر دھری مٹھائی اور پھولوں کو دیکھتے ہوئے پھر سے پوچھا ،’’آج کہیں گئی تھیں آپ ؟‘‘
’’ہاں بیٹا، میں تیری آنٹی طلعت کے ہاں گئی تھی۔ ‘‘ بیگم ثروت نے دبے ہوئے سے لہجے میں بتایا توپھوپھو فاخر ہ نے تیزی سے انکشاف کرنے والے انداز میں کہا
’’ ایسے کیوں نہیں بتاتی ہو بیٹے کو ، مراد علی نے اپنی لاڈلی بیٹی ثانیہ کی منگنی کر دی ہے آج ، یہ مٹھائی اس کی منگنی ہی کی تو ہے۔‘‘
یہ لفظ تھے یا کوئی بم پھٹا تھا،شعیب یوںچونکا جیسے اسے شاک لگا ہو۔ یہ لفظ نہ ہوں بلکہ اسے موت کی سزا سنا دی گئی ہو ۔وہ حیرت سے کبھی ماں کو اور کبھی مٹھائی کے ڈبے کو دیکھنے لگا۔ پھر غصے اور بے بسی بھرے لہجے میں بولا
’’ ماما، یہ کیا؟ آپ نے مجھے بتایا تک نہیں، ایسے کیسے منگنی کر لی انہوں نے ؟آپ کو بھی پتہ ہے ثانیہ میری منگیتر ہے۔ وہ کسی دوسرے کی نہیںہو سکتی ؟‘‘
اس کے یوں پوچھنے پربیگم ثروت چند لمحے خاموش رہی جیسے خود کو سمیٹ رہی ہو، پھر ہمت کر کے بڑے دکھی لہجے میں کہا
’’ منگیتر تھی بیٹا ، وہ تب بھی نہیں رہی تھی جب انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ ہم کیا کریں بیٹا، ان کی بیٹی ہے ۔‘‘
’’ ماما…وہ میرے بچپن کی منگیتر ہے ۔ میںاسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘شعیب نے ضدی لہجے میںکہا توبیگم ثروت نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا
’’ارے بیٹا، بھول جا بچپن کے اس تعلق کو۔ تم خود بتائو، کتنی بار کہا ہے ان سے ،اب نہ دیں رشتہ تو میںکیا کروں۔ آج کسی اور سے منگنی کردی ۔ اب بتائو کیا کروں میں۔ بیٹی ان کی ہے،وہ دیں یا…‘‘
انہوں نے کہنا چاہا لیکن پھوپھوفاخرہ بات کاٹتے ہوئے کہا
’’اے ہے ثروت، کیا کمی ہے، ہمارے بچے میں، ماشاللہ وجیہ ہے ، اپنا بزنس کرتا ہے ، ان لوگوں سے زیادہ دولت ہے اب اس کے پاس، رشتے دار ہے، مراد علی پر اسی کے باپ نے احسان کئے ہوئے ہیں ۔کیوں انکار کیا، کوئی وجہ تو ہو؟‘‘
’’ میں کیا کہہ سکتی ہوں، اللہ جانے ان کے دل میںکیا تھا۔سب کچھ تمہارے سامنے ہی تو ہے۔‘‘ بیگم ثروت بے بسی میں بولی
’’ اصل میں یہ تیرا بہنوئی ہے نا ، وہ نہیں چاہتا ، وہ تو اسی وقت سے ہمارا دشمن ہے جب میرا بھائی زندہ تھا۔‘‘ پھوپھو فاخرہ نے نفرت سے کہا اس کے دل کی بھڑاس ابھی پوری طرح نہیں نکلی تھی ۔
’’بند کرو یہ سب ، تم ہی اس کی طرف داری کرکے ،اس کا دماغ خراب کرتی ہو ۔ لڑکیاں کیا کم پڑ گئی ہیں، اس سے کہیں اچھی لڑکیاں … ‘ ‘ بیگم ثروت غصے اور بے بسی میں اسی سے الجھنے لگی
’’ماما ، بات دماغ خراب ہونے کی نہیں،میری انا کا سوال ہے ، میں ثانیہ کو کسی اور کا ہو جانے دوں ؟ ایسا ہو گا نہیں۔ناممکن ہے یہ ، میںدیکھتا ہوں کیسے ہو گئی منگنی اور اب کیسے کرتے ہیں کہیں اورشادی۔‘‘وہ بپھرتے ہوئے بولا
’’خبردار… اگر تم نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو، بھول جائو اُسے ،اگر مجھے پتہ چل گیا، تم نے کوئی ایسا ویساکچھ کیا ہے… تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے ، میںمر جائوںگی۔‘‘بیگم ثروت نے گھبرا تے ہوئے کہا وہ چند لمحے یونہی کھوئی رہی پھر روتے ہوئے اٹھی اور وہاں سے چلی گئی ۔ پھوپھو اور شعیب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ شعیب کی حالت یوں ہو گئی تھی جیسے انہونی ہو گئی ہو ۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔ پھوپھو اس کی طرف دیکھتی رہی پھر اس کے قریب جا کر بولی
’’ بیٹا۔! وہ …‘‘
’’پھوپھو، یہ ماما کیا کر رہی ہیں؟ ایسا کیوں کہہ گئی ہیں؟‘‘ اس نے پھوپھو کی بات کاٹتے ہوئے دکھی لہجے میںپوچھا توپھوپھو فاخرہ نے کہا
’’تم بیٹاپریشان مت ہو ، اپنے کمرے میں جائو ، دیکھتی ہوں میں اسے سمجھاتی ہوں۔‘‘
’’ دیکھیں پھوپھو، کہیں ان کی طبیعت نہ خراب ہو جائے، ہم پھر بات کر لیں گے ۔‘‘ شعیب نے بے چارگی اور دکھ سے کہا
’’ دیکھتی ہوں ۔‘‘ پھوپھو بولی اور اندرکی جانب چلی گئی ۔
شعیب بہت زیادہ اذیت محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی ماما نے ایسا کیوں کہا تھا، وہ بے بسی محسوس کر رہی تھی ۔ وہ یہ بھی نہیںچاہتی تھی کہ ضد اور غصے میں آ کر وہ کچھ غلط کر بیٹھے ۔ اُسے خود پر غصہ آ رہا تھا ۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے؟ایک طرف اس کی بیمار ماں اور دوسری جانب اس کی محبت ،جو اب ضد اور انا بن چکی تھی ۔وہ کسی طور بھی ثانیہ کو کسی دوسرے کی ہوتا دیکھنا نہیں سکتا تھا ۔
وہ اپنے کمرے میں آ گیا ۔اس کے دماغ میں غصہ بھرا ہوا تھا لیکن دل اپنی ماما کے لئے دکھی ہو رہا تھا ۔وہ عجیب کشمکش میں پھنسا ہوا تھا ۔ وہ ثانیہ کو کسی دوسرے کا ہوتا دیکھے یہ تو ممکن نہیں تھا مگر وہ اپنی ماما کی قیمت پر ثانیہ کو حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اسے لگا جیسے وہ ان دیکھی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے ۔
ژ… ژ… ژ
روشن دن کی دھوپ لائونج کی کھڑکی سے اندر آرہی تھی ۔ ثانیہ علی ایک صوفے پر بیٹھی بظاہر ایک کتاب میں مگن تھی ، لیکن اس کے ذہن میں رات ہونے والی منگنی چھائی ہوئی تھی ۔ ایک ایک لمحہ اسے خوبصورت لگ رہا تھا، جسے یاد کرتے ہوئے وہ سرشار ہو رہی تھی ۔ انگوٹھی پہناتے ہوئے جب ذیشان نے اس کی طرف دیکھا تھا، وہ نگاہوں کی تاب نہ لا سکی تھی ۔ نجانے اتنی حیا کہاں سے آ گئی تھی کہ وہ اسے نگاہ بھر کے بھی نہ دیکھ پائی تھی۔ورنہ عام حالات میں وہ تو پتہ نہیں کتنی کتنی دیر تک آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کر اس سے بحث کرتے نہیں تھکتی تھی ۔اس وقت تو وہ ذیشان سے کوئی بات نہ کرپائی تھی لیکن جاتے ہی اس نے فون کیا تو ثانیہ کو لگا جیسے اس کے لہجے میںاتناپیار گھلا ہوا ہے کہ وہ چھوئی موئی بن گئی تھی۔اسے ایک ایک لفظ یاد تھا
’’آج تم بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔‘‘ذیشان نے بڑے ہی رومانوی لہجے میں کہا تھا ۔گویا اس کے کانوں میں رس گھل گیا ۔ تبھی وہ اپنے سارے جذبے اور کیفیات کو چھپاتے ہوئے شوخی سے بولی تھی
’’ تو اس کا مطلب ہے ، میںپہلے خوبصورت نہیںلگتی تھی، آج ہی تمہیں…‘‘
’’ارے ، اسی معصوم حسن پر تو ہم فدا ہوئے ہیں۔ہم تو اسی دن آپ پر مر مٹے تھے ، جب پہلی بار یونیورسٹی میں آپ کو دیکھا تھا۔یہ بھنورا آنکھیں، یہ گلاب کے جیسا کھلا کھلا چہرہ، یہ خوابوں …‘‘ ذیشان نے کہنا چاہا مگر وہ تاب نہ لا سکی فورا ہنستے ہوئے بولی
’’ بس بس ، تم نے تو شاعری ہی شروع کر دی۔‘‘
’’تمہارا حسن ہی ایسا ہے ،شاعری کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اسی لئے تو اتنی کوشش کرکے پاپا کو منایا۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے بتایا
’’ویسے یہ اتنی جلدی منگنی …؟‘‘اس نے پوچھا تو وہ بات کاٹتے ہوئے بولا
’’ارے میرا تو دل کرتا ہے ، کل ہی ہماری شادی ہو جائے، ابھی تو مجھے تمہارے آدھے حقوق ملے ہیں، سچ پوچھو نا ثانیہ، میں اب تمہارے بنا نہیںرہ سکتا۔بس اب جلدی سے شادی ہو جانی چاہئے ۔‘‘
’’اور تمہارا کیا خیال ہے ، میں ایسا نہیںچاہتی؟‘‘ وہ شرماتے ہوئے بولی
’’تمہاری یہی ادائیں تو مار دیتی ہیں، اچھا یہ بتائو، ہنی مون کے لئے کہاں کا پلان کیاجائے؟‘‘ اس نے پوچھا
’’ابھی صرف منگنی ہوئی ہے ، ہنی مون کے لئے شادی کے بعد جاتے ہیں۔جب شادی ہوئی تو پلان بھی کر لیں گے۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا
’’یار وہ دن کب آئے گا۔‘‘ وہ حسرت سے بولا توثانیہ نئے خوابوں میں جا گری لیکن جلد ہی خود پر قابو پاتے ہوئے بولی
’’وہ دن جب آئے گا سو آئے گا، اس وقت مجھے نیند آ رہی ہے، میں سونے لگی ہوں، بہت تھک گئی ہوں۔ خدا حافظ۔‘‘
ذیشان ہیلو ہیلو کرتا ہی رہ گیا اور اس نے فون بند کر دیا تھا ۔ وہ کتنی دیر اُن خوابوں جیسے لمحوں میں گھری رہی تھی۔ اسے وہ ایک ایک پل یاد آ رہا تھا ۔ وہ یہ سارے لمحے سوچتے ہوئے انجانی کیفیات سے سرشار تھی ۔ یہی سب سوچتے ہوئے وہ نجانے کب سو گئی تھی ۔
ثانیہ ہاتھ میںکتاب پکڑے صوفے پر آلتی پالتی مارے سہانے خیالوں میں گم تھی ۔ یوں جیسے ارد گرد کا ہوش ہی نہ ہو ۔ اسے ذیشان سے ایک ملاقات یاد آ رہی تھی
اس دن وہ دونوں ریستوران میں ملے تھے ۔جب وہ پہنچی تو ذیشان اس کے انتظار میں تھا ۔وہ اس کے سامنے جا کر بیٹھ گئی تو وہ بولا۔
’’مجھے یہاں آ ئے بیس منٹ ہو گئے ہیں ۔تم نے اتنی دیر کہاں لگا دی ۔‘‘
’’میں نے دیر نہیں لگائی ، بلکہ رش میں پھنس گئی تھی ۔بری مشکل سے ڈرائیو کرکے یہاں آ ئی ہوں ۔‘‘ اس نے وضاحت کر دی
’’لیکن میں بہر حال منگنی میں دیر نہیں کرنے والا، جھٹ منگنی تو ہو جانے والی ہے ، کاش پٹ بیاہ بھی ہو جائے ۔‘‘ اس نے شرارت سے کہا
’’مجھے تم پر یقین ہے ذیشان ، تم جیسا چاہو ۔‘‘ اس نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو وہ خمار آ لود لہجے میں بولا
’’ بس انہی ادائوں نے تو ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔‘‘
’’اچھا زیادہ باتیں نہ بنائو ، جلدی آ رڈر کرو ، مجھے بھوک لگی ہے ۔‘‘ ثانیہ نے بات بدلتے ہوئے کہا ۔
ثانیہ انہی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا کب باہر پورچ میں کوئی گاڑی رکی ہے اور کب داخلی دروازے سے شعیب آگیا ۔ وہ اس کے قریب آیا تو ثانیہ نے چونک کر اسے دیکھا۔وہ اسی کی جانب دیکھتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ثانیہ نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا۔
’’ہائے ثانیہ ، کیسی ہو ؟‘‘ شعیب نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ثانیہ کو اس کا آنا بہت برا لگا تھا۔ وہ اسے تحمل سے جواب دینے کی بجائے اکتائے ہوئے لہجے میں بولی
’’تم یہاں کیا کر رہے ہو،تمہیں اس گھر میں آ نے کس نے دیا؟‘‘
’’ میں تم سے ملنے آیا ہوں ۔‘‘شعیب نے سکون سے کہا
’’کیوں ، مجھ سے ملنے کیوں آئے ہو تم ؟‘‘ اس نے اجنبی لہجے میں سختی سے پوچھا
’’ صرف یہ بتانے کہ میں تمہارے بغیر نہیںرہ سکتا۔ میںنے بچپن سے تمہارے خواب دیکھے ہیں، بہت چاہتا ہوں تمہیں۔تم کسی اور کی ہو جائو ایسا ہوتا ہوا نہیںدیکھ سکتااور نہ ہی میں برداشت کر سکتا ہوں۔‘‘ اس نے بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں اسے اپنا حال دل سنا دیا لیکن ثانیہ نے اجنبیت بھرے لہجے میں کہا
’’یہ کیا پاگل پن ہے شعیب، میرے والدین نے جہاں ٹھیک سمجھا، وہاں میرا رشتہ کر دیا۔ تم کیوں مجھے ڈسٹرب کر رہے ہو ۔ مجھے سمجھ میں نہیںآ رہا ، تم ایسا کیوں کر رہے ہو ؟‘‘
’’میں جانتا ہوں ، تمہارے پاپا، تمہاری مرضی کے بغیر یہ رشتہ نہیں کر سکتے ، اور …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات قطع کرتے ہوئے بولی
’’تو پھر تمہیں سمجھ جانا چاہئے۔تمہارا اس طرح یہاں آنا ٹھیک نہیںہے۔‘‘
’’ تمہارے بچھڑ جانے کا احساس مجھے پاگل کر رہا ہے ، تم نہیں جانتی ہو محبت کیا ہوتی ہے ، پلیز میرے جذبات سمجھنے کی کوشش کرو، چھوڑ دو اسے اور…‘‘ شعیب بے بس ہو کر بولاتوثانیہ طنزیہ لہجے میں اُسے سمجھاتے ہوئے بولی
’’جس طرح تم اپنی محبت جتانے کا حق رکھتے ہو ، اسی طرح مجھے یہ حق کیوں نہیںدیتے ہو کہ میں تم سے شادی کروں یا نہ کروں، یہ محبت ہے یا مذاق؟‘‘
’’ یہ جو محبت ہے نا،جب یہ کھو جائے نا تو… پلیزثانیہ…‘‘ وہ سمجھاتے ہوئے کہنا چاہتا تھا لیکن بے بسی میں کچھ بھی نہیں کہہ پایا
’’چلے جائو یہاں سے اورمجھے میری زندگی جینے دو ۔ میرے والدین نے میرا نام ذیشان کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔اب مجھے اسی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے ۔‘‘ثانیہ انتہائی غصے اور بے بسی میں بولی
’’ میری محبت کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔تمہارا نام پہلے مجھ سے جڑا ہے ۔اب میری منگیتر کسی کی ہو جائے ، یہ تو میں نہیں ہونے دوں گا ۔‘‘ وہ تیزی سے سخت لہجے میں بولا
’’ یہ کیا بات کر رہے ہو تم نان سینس ، دفعہ ہو جائو، میرا دماغ مت خراب کرو ۔میں اب ذیشان کی ہوں اور …‘‘ اس نے کہنا چاہا تووہ بھڑکتے ہوئے بولا۔
’’ اور اگر ذیشان ہی زندہ نہ رہا تو، اورتم … تم کیا سمجھتی ہو ، کیامیری زندگی برباد نہیں ہو گی ، میں تمہیںبھی نہیںچھوڑوں گا۔‘‘
لفظ اس کے منہ ہی میں تھے کہ اسی دوران بیگم طلعت لائونج کے اندر آ گئی ۔وہ یہ سب سن کر حیرت سے بت بن گئی۔ وہ پریشان ہو تے ہوئے بولی
’’شعیب…، تم …یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو ، میرے ہی گھر میں میری بیٹی کو دھمکیاں دے رہے ہو؟‘‘
’’آنٹی آپ بھی جانتی ہیں کہ میںایسا کیوں کہہ رہا ہوں۔ میں ثانیہ اور ذیشان کی شادی نہیںہونے دوں گا۔ یہ میری منگیتر ہے۔‘‘ وہ ادب سے بولا توبیگم طلعت انتہائی غصے میں بولی
’’ ہے نہیں، منگیتر تھی …‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ تحمل سے بولی ،’’شعیب، فورا یہاں سے چلے جائو، ابھی اور اسی وقت، چلے جائو۔‘‘
’’ آ نٹی میں …‘‘ اس نے کہنا چاہا لیکن بیگم طلعت نے اس کی بات سنے بنا غصے میں کہا
’’ میںنے کہا نا فوراً یہاں سے چلے جائو اور آئندہ کبھی مت آ نا ۔ چلے جائو ۔‘‘
یہ توہین کی انتہا تھی۔ شعیب نے پہلے اپنی آ نٹی کی طرف اور پھر ثانیہ کی جانب دیکھا۔ وہ یونہی کتاب پر دیکھنے لگی تھی ۔ وہ یہی ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اسے شعیب سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ شعیب نے ایک طویل سانس لی اور پلٹ کر اس گھر سے نکلتا چلا گیا۔ اسے اپنا آپ سمیٹنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔توہین کا احساس اسے مار رہا تھا ۔اسے خود سے زیادہ اپنی محبت کی توہین پر دکھ ہو رہا تھا ۔
ژ… ژ… ژ
اس وقت بیگم ثروت کاریڈور میں اخبار پڑھ رہی ہے ۔ ایسے میں گیٹ سے کار اندر آکر اس کے پاس رک گئی ۔ اس میں سے بیگم طلعت اور مراد علی باہرآگئے ۔ بیگم ثروت خوشگوارحیرت سے دیکھتے ہوئے اٹھ گئی ۔ کتنے عرصے بعد وہ ان کے گھر آ ئے تھے ۔ اس کا دل خوشی سے بھر گیا۔ وہ دونوں میاں بیوی چلتے ہوئے اس کے قریب آئے تو بیگم ثروت خوشی بھرے لہجے میں کہا
’’او ہ ہو ، خیر سے آج کہاں راستہ بھول گئی ہو، بہرحال خوش آمدید،آئو بیٹھو۔‘‘
’’ سور ی ثروت، میں یہاں بیٹھنے کے لئے نہیں آئی ۔ صرف ایک بات سمجھانے آئی ہوں۔‘‘اس نے دکھ بھرے لہجے میں اجنبیت سے کہا
’’یہ کیا کہہ رہی ہو تم ؟‘‘ ثروت نے حیرت سے پوچھا
’’ اپنے بیٹے کو سنبھال لو، ورنہ اس کے ساتھ بہت برا ہوگا، یہی بات کہنے آ ئی ہوں ۔‘‘ بیگم طلعت نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے اجنبیت سے کہا توبیگم ثروت بوکھلائے ہوئی بولی
’’ کیا ہوگیا ، کیا کردیا اُس نے؟‘‘
اس پر مراد علی نے نفرت بھرے لہجے میں کہا
’’وہ میرے گھر میں غنڈہ گردی کرے گا ، ہمیں دھمکائے گا، مرنے مارنے کی دھمکیاں دے گاتو کیامیں یہ بر داشت کر لوں گا۔ یہ بات میںفون پر بھی کہہ سکتا تھا، لیکن خود آیا ہوں سمجھانے،آئندہ اس نے کوئی ایسا کمینہ پن کیا ، تو میںاسے شوٹ کر دوںگا۔‘‘
’’ کیا ہو گیا ہے، ایسا کیا کر دیا شعیب نے؟‘‘بیگم ثروت نے حیرت اور گھبراہٹ میں پوچھا
’’اسی سے پوچھ لینا جو میرے گھر میں گھس کر مرنے مارے کی دھمکیاں دے کر آ یا ہے ۔ میں گھر پر نہیںتھا، ورنہ بتاتا کیسے دھمکیاں دیتے ہیں۔‘‘
’’ شعیب گیا تھا تمہارے گھر ؟‘‘ اس نے حیرانگی سے پوچھا
’’تو اور کیا ، میری بیٹی کو مارنے کی دھمکی دے کر آ یاہے ۔‘‘طلعت نے جذباتی لہجے میں کہا تومراد علی نے نفرت سے کہا
’’تم ماں بیٹایاد رکھنا،میںاپنی بیٹی کی خوشیوں پر ایسے کسی بھی منحوس کا سایہ نہیں پڑنے دوں گا۔یہ تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو ۔ ‘ ‘
’’معاف کر دو بھائی ، میں تمہارے ہاتھ جوڑتی ہوں، اگر اس نے ایسا کچھ کیا ہے تو… خدا کے لئے طلعت، میں اسے سمجھا لوں گی ۔‘‘ بیگم ثروت ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی
’’ہم سے معافی مانگنے کی بجائے اسے سمجھائو،جو کچھ اس نے کیا، وہ کوئی بھی ماںباپ برداشت نہیںکر سکتا، میری جگہ تم بھی ہوتی نا تو بھی نہیں۔ ‘‘بیگم طلعت نے منہ پھیرتے ہوئے کہا
’’چلو طلعت، آخری بار سمجھا لیا۔‘‘مراد علی نے پلٹے ہوئے کہا تو بیگم ثروت نے تیزی سے کہا
’’طلعت ، مراد علی بھائی، بات تو سنیں۔ میں …‘‘
’’بس ، پہلے ہی تمہیں منگنی پر بلا کر میری بیوی نے غلطی کی، اب کچھ نہیں بچا ۔ کوئی تعلق ، کوئی رشتہ نہیںبچا۔اب میں اسے معاف کرنے والا نہیں، شوٹ کر دوں گا اسے ۔‘‘مراد علی نے نخوت سے کہا اور کار کی جانب بڑھ گیا ۔ بیگم طلعت بھی اس کے پیچھے چل پڑی ۔
انہی لمحات میں پھوپھو فاخرہ بھی اندر سے باہر آ گئی ۔ اس نے مراد علی کی باتیں سن لی تھیں۔ وہ تو پہلے ہی مراد علی پر بھری پڑی تھی ، تیزی سے آ گے بڑھتے ہوئے حقارت بھرے لہجے میںبولی
’’ہائے ،کیا ہو گیا، کیا کر دیامیرے بچے نے، کسے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہو ؟ تمہاری یہ جرأت ہے ہمارے بیٹے کو مرنے مارنے کی دھمکی دینے والے…رُک ذرا، میں بتائوں تمہیں چور کہیں کے … ہمارے بچے کو دھمکیاں … میں چیر کے رکھ دوں گی ۔‘‘
ان دونوں نے پھوپھو فاخرہ کی بات سنی ان سنی کردی جیسے وہ اسے اہمیت ہی نہ دے رہے ہوں لیکن پھوپھو کہتی چلی جا رہی تھی
’’کسی نے شعیب کی طرف انگلی بھی اٹھائی نا تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گی ۔تم کل کے ہمارے ملازم آ ج تم ہمیں یہاں دھمکیاں دینے آ جائو ۔کیسا زمانہ آ گیا چور اچکے بھی شرفاء کو دھمکیاں دیں گے ۔‘‘
وہ دونوںکوئی جواب دئیے بنا کار میںبیٹھے اور وہاں سے چلے گئے ۔
بیگم ثروت یوں کرسی پر بیٹھی ، جیسے اسے اب تک سمجھ نہ آ ئی ہو کہ ہوا کیا ہے ۔اس نے دکھ سے آنکھیں بند کرلیں جن سے آنسو ٹپک پڑے۔ پھوپھو فاخرہ حیرت زدہ سی کھڑی کی کھڑی رہ گئیں ۔ وہ چند لمحے یونہی کھڑی رہی پھر اندر کی جانب پلٹ گئی ۔
کافی دیر بعدجب پھوپھو فاخرہ ہاتھ میں ٹرے پکڑے دوبارہ کاریڈور میں آ ئی تو بیگم ثروت یونہی گم صم سی بیٹھی ہوئی تھی ۔پھوپھو فاخرہ نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے حیرت زدہ لہجے میں بولی
’’ارے یوں کیسے بیٹھی ہو ،مجھے تو لگتا ہے کہ تم نے مراد علی کی بات دل کو ہی لگا لی ہے۔ کچھ نہیںکر سکتا وہ ۔اب سوچنا چھوڑ بھی دو، بھول جائو ۔ لو یہ تم اپنی دوا کھائو ۔‘‘ اس نے ٹرے میں پڑی ہوئی دوا اٹھا کر دی ۔
’’کیسے بھول جائوں فاخرہ ، میںنے پوری زندگی میں کبھی کسی کی اتنی باتیں نہیں سنیں ، جتنی مجھے شعیب کی وجہ سے سننی پڑی ہیں، مجھے ذرا سی بھی بھنک مل جاتی نا تو میں اسے وہاں جانے ہی نہ دیتی ۔‘‘بیگم ثروت نے دوا پکڑ کر کھوئے ہوئے لہجے میں کہا ۔پھر دوا پھانک کر گلاس سے پانی پیا تو پھوپھو فاخرہ نے اسے چائے کا مگ تھماتے ہوئے کہا
’’سچی بات تو یہ ہے ثروت ، شعیب نے کچھ غلط نہیںکیا، آخر اس کے بچپن کی منگیتر ہے ، وہ کیوں چھوڑے اسے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے انکار ہی کیوں کیا۔ یہ گڈی گڈے کا کھیل ہے بھلا۔ میں توکہوں، شعیب نے جو کیا ٹھیک کیا۔میرا بس چلے تو میں ثانیہ کو شعیب کی دلہن بنا دوں۔‘‘
’’ لیکن اب تم یہ کیوں گڑے مردے اکھاڑ رہی ہو ، کیوں جلتی پر تیل ڈال رہی ہو، ثانیہ اب شعیب سے شادی نہیںکرنا چاہتی ۔ تم شعیب کو یہ سمجھانے کی بجائے اپنی ہی رٹ لگا ئے ہو ئے ہو۔‘‘بیگم ثروت بھنا کر بولی
’’میں تو سیدھی بات کرتی ہوں ، بھلے کسی کو بری لگے ۔ غلط کہہ رہی ہوں کیا؟‘‘پھوپھو فاخرہ نے ٹرے سے چائے کا مگ اٹھاتے ہوئے سکون سے کہا
’’خبردار فاخرہ ، میرے گھر کے معاملات میںدخل دینا بند کردو۔ اگر تم نے یہاں رہنا ہے تو۔ خدا کی پناہ، کوئی سمجھتا ہی نہیں، کیا کروں میں۔ ‘‘بیگم ثروت نے غصے میں کہا، ہاتھ میںپکڑا ہوا مگ واپس ٹرے میں رکھا اور غصے میںاٹھ کر اندر چلی گئی ۔ پھوپھو فاخرہ چند لمحے بیٹھی رہی پھر طنزیہ انداز میں مسکردی۔ مگ اٹھا کر چائے کا سپ لیا اور بڑبڑاتے ہوئے بولی
’’اونہہ ، بڑی آئی دھمکی لگانے والی، اری بنّو، اس گھر میںہوگا وہی جو میںچاہوں گی۔ تم جو مرضی کر لو۔‘‘
وہ مسکراتے ہوئے سکون سے چائے پینے لگی تھی ۔
فاخرہ کی شادی ایک بڑے گھر میں ہوئی تھی ۔بھائی نے اسے بہت کچھ دیا تھا ، کوٹھی کار اور وہ سب کچھ جو دیا جانا چاہئے تھا ۔جلد ہی وہ اپنے شوہر کے ساتھ الگ ہو گئی ۔ اس کی خاندان سے نہیں بنی ۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور خوش تھی ۔ دس برس گزر گئے ، اس کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ اس کا شوہر اس سے مایوس ہو گیا ۔ ا س نے دوسری شادی کر لی ، جس سے اسے اولاد ہو گئی ۔ وہ اپنی زندگی میں خوش تھا۔ اس نے فاخرہ کو نہیں چھوڑا ، اس کے ساتھ ہی رہا ۔ کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہوگیا ۔ وہ اکیلی رہ گئی ۔ اس کا کوئی پرسان نہیں تھا ۔ یہ بیگم ثروت ہی تھی جو اسے اپنے ہاں لے آ ئی ۔ یہاں آ کر وہ بڑے سکون سے تھی ۔ اس نے اپنا گھر کرائے پر دے دیا تھا اور ان کے ہاں آ کر سکون سے زندگی بسر کر رہی تھی۔
ژ… ژ… ژ
مراد علی سائیڈ ٹیبل کی روشنی میں بیڈ پر نیم دراز میگزین دیکھ رہا تھا ۔بیگم طلعت دھیمے قدموں سے آکر خاموشی سے بیڈ کے ایک طرف اپنے بال سنوارتے ہوئے لیٹ گئی ۔ مراد علی نے میگزین ایک جانب رکھا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
’’بیگم، میں دیکھ رہا ہوں، تم بہت ڈسٹرب ہو۔‘‘
’’ اتنا کچھ ہو گیا،اب بھی مجھے ڈسٹرب بھی نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ وہ دکھ سے بولی تو مراد علی نے غصے میں کہا
’’ اب کیا ہو گیا ہے ؟‘‘
’’ اس دنیا میںمیری ایک ہی بہن ہے، اب اس سے بھی تعلق نہیںرہا۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے رو پڑی۔مراد علی چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر نرم سے لہجے میںبولا
’’میں سمجھتا ہوں، میں ثروت آپا کی بہت عزت کرتا ہوں ،کیا کروں ، میں شعیب کو برداشت نہیں کر سکتا، وہ مجھے ویسے ہی بہت برا لگتا ہے۔‘‘
’’کیا یہ حقیقت نہیں ؟ کیاثانیہ اس کی منگیتر نہیںرہی ؟ دونوں کی ہم نے منگنی کی تھی، اب ذیشان سے منگنی کا فیصلہ آپ نے کیا یا ثانیہ نے ،یہ الگ بات ہے، لیکن شعیب سے منگنی توڑنے کا بھی کوئی جواز نہیںہے آپ کے پاس ، ہمیں حقیقت…‘‘ وہ دُکھ سے کہتی چلی گئی لیکن مراد علی اس کی بات کاٹ کر بے پروائی سے بولا
’’ہمیں اپنی بیٹی کی خوشیاں چاہئیں، میں نے یہ فیصلہ ثانیہ کی خواہش پر کیا۔ تم بھی جانتی ہو۔ یہ جواز کیا کم ہے؟ تمہیں اس قدر دُکھی نہیں ہونا چاہئے ۔‘‘
’’جس طرح ثانیہ ہماری اکلوتی ہے ، شعیب بھی ایسا ہی اکلوتا ہے۔ اگر اسے کچھ ہوگیا، میری بہن تو جیتے جی مر جائے گی ، کیا کچھ نہیںکیا اس نے ہمارے لئے اور ہم اسے دُکھ دیںگے۔ آپ نے ثروت کے ساتھ اس قدر اجنبیت دکھائی اورمجھے دکھ بھی نہ ہو ۔‘‘بیگم طلعت نے بھیگے ہوئے لہجے میںکہا تومراد علی بولا
’’دیکھو، اگر میںسختی نہ دکھاتا تو…‘‘
’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ثروت کو اذیت دیں؟اور پھر شعیب،آپ اس کے بارے میںاچھی طرح جانتے ہیں، وہ کس قدر سر پھرا لڑکاہے،وہ ضد میںآ کر کچھ بھی کر سکتا ہے،نقصان کسی کا بھی ہو ، وہ نقصان تو ہمارا ہی ہے نا۔وہ بھی اپنا ہی خون ہے۔‘‘ وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولی
’’وہ خون ہوگا تمہارا، اور تم مجھے یہ جذباتی بلیک میل نہ کرو۔تم کچھ زیادہ ہی اوٹ پٹانگ سوچ رہی ہو۔‘‘ وہ زچ ہوتے ہوئے اکتا کر بولا
’’میںاپنی بہن کو دکھ نہیں دینا چاہتی۔‘‘ وہ حتمی لہجے میںبولی تومراد علی مفاہمانہ انداز میں بولا
’’خیر، میں نے سوچ لیا ہے ۔اس معاملے کا کوئی بہتر حل نکالتا ہوں ، تم فکر نہ کرو، سکون سے سو جائو۔‘‘
’’کسی کا نقصان نہیںہونا چاہئے ۔‘‘بیگم طلعت نے یاد دہانی کے انداز میں کہا
’’ٹرسٹ می ، کچھ نہیںہوتا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب تم سو جائو۔‘‘مراد علی نے یہ کہتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کی لائیٹ بجھادی ۔ بیگم طلعت بھی سونے کیلئے پہلو میں لیٹ گئی لیکن اس کے آ نسو رواں تھے جو اس کا شوہر نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔
اسی شام مراد علی اور بیگم طلعت نے چوہدری نذیر احمد کو اطلاع کرکے ان کے ہاں جا پہنچے۔ ان کا استقبال دونوں میاں بیوی نے کیا۔ کچھ دیر تک وہ سبھی آمنے سامنے بیٹھے ہوئے باتیں کر تے رہے ، پھر مراد علی نے ہی بڑے سکون سے کہا
’’یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ، میں آپ سے ایک مشورہ کرنے آیا ہوں۔‘‘
’’ جی ،جی کہیںکیا کہنا چاہتے ہیں آ پ ۔‘‘ نذیر احمد نے تیزی سے کہا ، وہ تب سے یہی سننے کو بے چین تھا۔ چند لمحے رک کر مراد علی بولا
’’میں چاہتا ہوں کہ ثانیہ اور ذیشان کی شادی جلدی کر دی جائے، اس کی وجہ شعیب ہے۔ جس کے بارے ،میں آپ کو تفصیل سے بتا چکا ہوں۔میں نہیںچاہتا میرے ہاتھوں کچھ بھی ایسا ہو جائے ، جس کا بہرحال نقصان ہمیں ہی ہوگا ۔‘‘
’’اوہو!…میں سمجھ رہاہوں آپ کی بات، عقل مندی تویہی ہے ۔ویسے اگر آپ چاہیں توکئی سارے طریقے ہیں، اسے ہر طرح سمجھایا جا سکتا ہے۔ کوئی پرابلم نہیںہوگا۔‘‘ نذیر احمد نے معنی خیز انداز میں کہا توبیگم طلعت یہ سب سمجھتے ہوئے جلدی سے بولی
’’ نہیںبھائی ، ایسا کرنے سے پرابلم بڑھیں گے ۔وہ میری بہن کا اکلوتا بیٹا ہے،اسے اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو سمجھیں ہمارا ہی نقصان ہے…اگر ہم بچوں کی شادی ہی جلد کردیں ؟‘‘
’’ہاں مگرمیں تو یہی کوئی نو دس دن ہوں یہاں پاکستان میں ۔ مجھے لندن جا نا ہے۔ اتنی جلدی اور ایسے میں کیا ہو سکتا ہے۔‘‘نذیر احمد نے حیرت سے کہا
’’ہم انہی نو دس دنوں ہی میں یہ فرض ادا کر دیں‘‘، یہ کہتے ہوئے الماس کی طرف دیکھ کر بولی،’’ کیا خیال ہے الماس ، تم بھی تو کچھ کہو۔‘‘
’’مجھے تو کوئی اعتراض نہیں، بس یہی ہو گا کہ شادی بھی سادگی سے ہوگی، ہماری اکلوتی اولاد ہے ، کس طرح سے… ‘‘بیگم الماس کہتے کہتے رُک گئی ۔ اس پرنذیر احمد نے سوچتے ہوئے کہا
’’اگر انہی چند دنوں میںشادی کر کے ہم سب کسی بھی حادثے سے بچ جائیں تو میرا خیال ہے ، شادی کر دیں۔کافی دن ہیں، ہم اپنے سب دوستوں کو بلا سکیں گے۔ ٹھیک ہے ، میرے خیال میںیہی بہتر ہے، ورنہ لندن سے میری واپسی یہی کوئی دو ڈھائی ماہ بعد ہوگی۔‘‘
’’بہت شکریہ ، بہت بڑا بوجھ اتر گیا میرے دماغ سے ۔‘‘ مراد علی نے سکون بھرے لہجے میں کہا تو نذیر احمد نے الماس اور طلعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’اب تو یہ ان دونوں خواتین پر ہے، کتنی جلدی شادی کی تیاریاں کرتی ہیں۔‘‘
’’باقی باتیں پھر کرتے ہیں، پہلے ڈنر لے لیں۔‘‘بیگم الماس یہ کہتے ہوئے اٹھ گئی تو وہ بھی اٹھنے لگے ۔ کھانے کے دوران بہت ساری باتیں ہوتی رہیں ۔
اسی رات ثانیہ اپنے کمرے میںبیٹھی پڑھ رہی تھی ۔ بیگم طلعت کمرے میں آ کر اس کے پاس بیٹھ گئی پھر بڑے پیار سے بولی
’’چھوڑو بیٹا، اب یہ کتابیں اور میری بات سنو ۔‘‘
اس کے یوں کہنے پر ثانیہ نے خوشگوار حیرت سے اپنے ماما کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ کوئی اہم بات ہے ماما ؟‘‘
’’ہاں ، تمہاری شادی آج سے آٹھ دن بعد ہو رہی ہے ۔‘‘بیگم طلعت نے لاڈ سے کہا تو ثانیہ ایک دم سے پریشان ہو کر بولی
’’ کیوں ماما، اتنی جلدی ، یہ کیسے ممکن ہے ۔ میںنہیںکروں گی اتنی جلدی شادی ، آٹھ دن بعد تو میرے امتحان ہورہے ہیں، میں کیسے کر سکتی ہوں شادی ؟ میری پڑھائی ادھوری رہ جائے گی ۔‘‘
’’ہم یہ شادی طے کرچکے ہیں۔اس لئے اب کوئی امتحان نہیں ،تم ایسے کرو…‘‘ بیگم طلعت نے کہنا چاہا تو ثانیہ نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا
’’نہیںماما آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ میرے امتحان ہیں اور میں اس کے بعد ہی …‘‘
’’دیکھو، یہ منگنی تمہاری مرضی سے ہوئی ، تم نے کہا ہم نے فوراً کر دی ، لیکن اب ہم تمہاری شادی چاہتے ہیں، اب یا تو شادی کر لو یاپھر امتحان دے لو ؟‘‘بیگم طلعت نے سختی سے کہا تو اس نے سوچتے ہوئے پوچھا
’’ کیا آپ نے فیصلہ شعیب کی وجہ سے کیا ہے ؟‘‘
’’ہاں ، ہم نہیں چاہتے ، کوئی بھی ایسی ویسی بات ہو جائے ، تمہیں اپنے پاپا کا توپتہ ہی ہے۔‘‘
’’ وہ تو ٹھیک ہے لیکن پاپا…‘‘ اس نے کہنا چاہا توماما نے ٹوکتے ہوئے سختی سے کہا
’’ تم سمجھتی کیوں نہیں ہو ۔اب یہ پڑھائی چھوڑو اور اپنی شادی کی شاپنگ کے بارے میں سوچو۔‘‘ بیگم طلعت نے کہا اور کچھ سنے بغیر کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی ۔
ثانیہ حیران و پریشان سی جاتی ہوئی اپنی ماما کو دیکھتی رہی ۔ماما کا لہجہ ، اس کا انداز ، وہ ساری پریشانی ظاہر کر رہا تھا جسے وہ خود بھی سمجھتی تھی ۔ کافی دیر سوچتے رہنے کے بعد اس نے فون اٹھایا اور نمبر پش کرنے لگی ۔دوسری طرف بیل جارہی تھی ۔
’’بولو سویٹ ہارٹ، ذیشان حاضر ہے۔‘‘ ذیشان نے بڑے رومانوی انداز میںکہا تو ثانیہ منتشر لہجے میں بولی
’’میں اتنی پریشان ہوں اور تمہیں رومانٹک ڈائیلاگ سوجھ رہے ہیں۔‘‘
’’میرے ہوتے ہوئے تم پریشان ہو ، ایسا ہو تو نہیںسکتا ۔‘‘ وہ سکون سے بولا
’’یہ جوآٹھ دن بعد میری شادی رکھ دی گئی ہے ، پتہ ہے انہی دنوںمیرے امتحان شروع ہوں گے۔میں کیسے…‘‘ اس نے کہا چاہا مگر ذیشان نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے سکون اور پیار سے کہا
’’ سنو۔! شادی صرف تمہاری نہیں، میری بھی ہو رہی ہے، تمہارے ساتھ، مجھے پتہ ہے کہ ایگزام ہوں گے ، پر تم کیوں فکر کرتی ہو ۔ تم ایگزام دو گی، چاہئے اس دن میری بارات ہو یا ولیمہ۔‘‘
’’ مطلب شادی ہونی ہے چاہے ایگزام ہو ، تم بھی یہی چاہتے ہو ، سب کی طرح…‘‘ وہ پریشانی اور دبی دبی خوشی میں بولی
’’جب حالات ہمیں اتنی جلدی ملا دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیںکرنا چاہئے۔‘‘ اس نے شوخی سے کہا
’’تم بھی نا…‘‘ وہ حیا بار لہجے میں بولی
’’اور ہاں …سکون سے ، جو تھوڑی بہت شاپنگ کرسکو تو کر لینا،باقی ہم ساری شاپنگ وہاں سے کریں گے جہاں ہنی مون کے لئے جائیںگے۔‘‘ اس نے پھر اسی شوخی میں کہا توثانیہ نے تیزی سے کہا
’’اوکے، میں پھر بعد میںفون کرتی ہوں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔ پھر کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے خوشگوار خیالوں میںکھو گئی۔اس کے خواب بھی رنگین ہو گئے تھے ۔
ژ… ژ… ژ
دن کافی چڑھ آ یا تھا۔شعیب ابھی تک بیڈ کے ساتھ لگا سوچ رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر سختی اور غصہ تھا ۔ وہ نجانے کیاکچھ سوچ چکا تھا۔اس کے لئے مراد علی سے ٹکر لینا کوئی مشکل نہیںتھا۔ کب سے وہ اپنے دل میں یہی خواہش لئے بیٹھا تھا۔لیکن ہر بار اس کے سامنے ماما کا چہرہ آجاتا تھا۔ اس کا بس نہیںچل رہا تھا کہ کیا کرے ۔ وہ کوئی ایسا راستہ سوچنا چاہتا تھا، جس سے وہ مراد علی کو جھکا سکے۔بزنس کی دنیا میں ایسا بہت کچھ تھا کرنے کے لئے ، مگر یہ ایک لمبا راستہ تھا۔ ممکن ہے وہ اس طرح ثانیہ کو کھو دیتا؟اس کی سمجھ میں اس مسئلے کاکوئی حل نہیں آ رہا تھا۔ ایسے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور پھوپھو فاخرہ اندر داخل آگئی۔ اس نے شعیب کو حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
’’اے بیٹا۔! یوں کیسے پڑا ہواہے ،آفس نہیںجانا کیا؟‘‘
’’نہیںپھوپھو، میرا دل نہیں کر رہا جانے کو۔‘‘شعیب نے بیزاری سے کہا
’’دیکھ بیٹا۔!تیری ماں تو مانتی نہیں، ماننا تودرکنار ، وہ بات بھی نہیںکرنا چاہتی ثانیہ کے بارے میں۔ لیکن ،اگر تجھے مجھ پر بھروسہ ہے نا توپھرفکر مت کر… میرے ہوتے ہوئے تیری ہار نہیں ہو سکتی ۔‘‘ پھوپھوفاخرہ نے انکشاف کر دینے والے انداز میں کہا تو شعیب نے اس کی جانب دیکھا کر کہا
’’میری تویہ ضد ہے ، میں یہ شادی نہیںہونے دوںگا، چاہے کچھ بھی ہو جائے لیکن ماما …‘‘
’’وہی توکہہ رہی ہوں،تم حوصلہ کیوں ہارتے ہو، میں تیرے ساتھ ہوں ۔ میں …‘‘ لفظ ابھی پھوپھوفاخرہ کے منہ ہی میں تھے کہ بیگم ثروت نے کمرے میںداخل ہوکر خشمگیں نگاہوں سے پھوپھوفاخرہ کو دیکھا۔ اس نے یہ سب سن لیا تھا۔ اس لئے وہ طنزیہ لہجے میں بولی
’’اے فاخرہ ، میرے بیٹے کو الٹی پٹیاں نہ پڑھا، اس کے دماغ سے ثانیہ کا خیال کیوں نہیںنکلنے دے رہی ہو تم، کیوں ہماری دشمن بنی ہوئی ہے ۔ جو بات اب ناممکن ہے ، تم اسے کیسے ممکن بنا دو گی ؟‘‘
’’اپنے بیٹے کی حالت دیکھ۔ تم کیوں اس کی دشمن بنی ہو ئی ہو ۔ کم از کم ان لوگوں سے بات تو کریں،وہ کیوں…‘‘ پھوپھو فاخرہ نے بے چارگی سے کہا توبیگم ثروت ہاتھ کے اشارے سے اسے روکتے ہوئے بولی
’’ میں کیا کروں گی ان سے بات اور کیا دیکھوں اس کی حالت؟ تم دونوں سن لو ، انہوں نے شادی کے دن طے کر دئیے ہیں۔ آج سے آٹھ دن بعد ثانیہ کی شادی ذیشان سے ہورہی ہے۔‘‘
یہ دھماکا خیز اطلاع تھی ۔ اتنا مختصر وقت؟ یہ سن کر شعیب تڑپ کر اٹھتے ہوئے بولا
’’شادی ،میںیہ شادی نہیںہونے دوں گا۔ چاہے مجھے کسی کی جان بھی لینا پڑی۔‘‘
وہ دونوں ششدر رہ گئیں ۔ شعیب نے یوںکرب سے آنکھیں بند کرلیں جیسے اسے خود پر قابو پانے میں بہت مشکل ہو رہی ہو۔بیگم ثروت ماں تھی ۔وہ اندر تک دہل گئی۔اس کے سامنے وہ سارے حالات آ گئے جو وہ سوچتی رہتی تھی ۔سو اس نے وارننگ دیتے ہوئے کہا
’’ بکواس بند کرو ،اور میری بات غور سے سنو،انہوں مجھے یہ پیغام خودبھیجا ہے۔اگر تم نے کچھ بھی کرنے کی کوشش کی تو اس کا انجام بہت برا ہوگا۔‘‘
’’مجھے کسی انجام کی پروا نہیںہے، میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گا۔ یہ اچھا ہوا کہ انہوں نے خود پیغام بھجوا دیا۔اب میں دیکھتا ہوں انہیں۔‘‘ شعیب غصے میں بولا
’’تو پھر سن لو ، جتنا میں ذلیل ہو چکی ہوں ، اتنی ذلت میںنے کبھی نہیں دیکھی ، اگر تم نے کچھ بھی کیا تو نہ میں انہیںکہہ سکتی ہوں اور نہ تمہیںکہوں گی ، میں خود مر جائوں گی ، مجھ میں اب ذلتیں سہنے کی سکت نہیںہے ۔نہیں ہے سکت…‘‘ یہ کہتے ہوئے بیگم ثروت رو پڑی ۔ پھر اس نے حسرت آمیزنگاہوں سے شعیب کو دیکھا اور باہر کی طرف چلی گئی ۔ شعیب اور پھوپھو اسے ہونقوں کی طرح دیکھتے رہے۔ شعیب بے چین ہو گیا ۔ اس کے اندر لگی آگ اسے بے سکون کر رہی تھی ۔پھوپھو خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آ ئی ۔
پھوپھو فاخرہ لائونج میںصوفے پر بیٹھی ہوئی چائے پی رہی تھی۔ وہ اس قدر اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ ُاسے بیگم ثروت کے آنے کا احساس ہی نہیںہوا ۔ وہ کہیں جانے کو تیار ہو کر آ ئی تھی ۔ اس نے قریب آ کر پھوپھو فاخرہ سے پوچھا
’’یہ ماسی رضیہ آج پھر نہیںآئی کیا؟‘‘
’’ابھی تک تو نہیںآئی ، شاید آجائے ابھی تھوڑی دیر میں۔‘‘پھوپھوفاخرہ نے چائے کا لمبا سا سپ لے کر کہا
’’یہ بھی نا ، آئے دن بنا بتائے کام پر نہیںآتی۔‘‘ اس نے کافی حد تک اکتائے ہوئے لہجے میں کہا، پھر لمحہ بھر رُک کر ہلکے سے لہجے میں پوچھا،’’ شعیب نے ناشتہ کر لیا ؟‘‘
’’وہ بے چارہ تو ابھی تک کمرے میںہے۔‘‘پھوپھوفاخرہ نے سارے جہان کا دُکھ اپنے لہجے میں سمیٹتے ہوئے کہا تو بیگم ثروت نے اکتاکر بولی
’’بے چارہ …میں ذرامسز فارحہ کے ہاں جا رہی ہوں، اسے ناشتہ کروا دینا، اور اسے کہو آفس چلا جائے ، کب تک یوں گھر میںبیٹھا سوگ مناتا رہے گا۔اسے سمجھائو۔‘‘
’’تم جائو خیر سے، میں کرادوں گی ناشتہ اور سمجھا بھی دوں گی۔‘‘پھوپھوفاخرہ نے اطمینان سے جواب دیا اور خالی مگ ایک جانب میز پر رکھ دیا توبیگم ثروت کو کچھ یاد آ گیا۔
’’اور ہاں وہ ماسی رضیہ آجائے نا تواسے کہنا… ‘‘
’’تم تو یوں کہہ رہی ہو جیسے مجھے پتہ ہی نہیںگھر کے کاموں کا، تم جائو ۔‘‘وہ ایک جانب سر مارتے ہوئے بولی تو بیگم ثروت اس کی طرف گھور کر دیکھتے ہوئے باہر کی جانب چل دی ۔ تبھی پھوپھو یوں اٹھی جیسے اس کے جانے کا انتظار کر رہی ہو ۔ وہ شعیب کے کمرے کی جانب لپکی ۔
وہ ہنوز بیڈ پر پڑا تھا۔ اس کی حالت خستہ ہو رہی تھی ۔ اس کی آ نکھیںسرخ تھیں، جن میں نمی تیر رہی تھی ۔ گال بھی آ نسوئو ںسے تر تھے۔ایسے میں پھوپھو فاخرہ اس کے کمرے میں جا کر ٹھٹک گئی۔ اسے یوں دیکھ کر پھوپھو فاخرہ نے انتہائی طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’واہ، واہ، واہ … کیسے مرد ہو تم، بجائے کچھ کرنے کے یہاں بیٹھے آ نسو بہا رہے ہو ۔ ادھر تمہاری اماں کہہ رہی ہے ، کب تک گھر میںبیٹھا سوگ منائے گا۔ نہ تیری سمجھ آتی ہے اور نہ تیری اماں کی ۔‘‘
اس پر شعیب نے انتہائی غصے اوربے بسی میں دیکھتے ہوئے کہا
’’تو پھر اور کیا کروں پھوپھو، میری ماما نے جو اتنی قسمیں دے دی ہیں، خود کشی کی دھمکی دے کر میرے ہاتھ پائوں باندھ دئیے ہیں،تو بولو کیا کروں میں؟‘‘
’’نہ مجھے یہ بتا ، یہاں پڑے رہنے سے اور اس طرح آنسو بہانے سے کیا کچھ ہو جائے گا؟‘‘ پھوپھو فاخرہ نے طنزیہ لہجے میں کہا توشعیب انتہائی غصے میںاُکتا کر بولا
’’میں اب اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتاہوں۔کیا مجھے اپنی بے عزتی کا دکھ نہیںہے ، مگر ماما ہے کہ …‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔’’ میں ان کا وہ حشر کر سکتاہوں، پر کیا کروں یہ میری ماما…‘‘
’’ارے بیٹا ، جب وہ ثانیہ ہی تم سے شادی نہیںکرنا چاہتی ، اسے کیسے منائوگے؟ پھر وہ مراد علی، اس کاتو ویسے ہی دماغ ساتویں آسمان پر ہے۔‘‘ وہ نفرت سے بولی
’’اس کے باپ نے ثانیہ کا دماغ خراب کیا ہوا ہے ، اس کاباپ بچپن ہی میرے ساتھ دشمنی رکھتا ہے ۔ جب پاپا تھے تو کس طرح آگے پیچھے پھرتا تھا۔‘‘ شعیب نے غصے میں کہا تو پھوپھو فاخرہ حتمی لہجے میں بولی
’’ اچھا میری ایک بات سنو غور سے ۔!‘‘ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر رک کر تجسس بھرے لہجے میں بولی،’’ بھلے ثانیہ کی منگنی ہوگئی ہے، لیکن اگر میں تمہاری شادی اسی ثانیہ سے کروا دوں تو؟‘‘
پھوپھو نے کچھ ایسے اعتماد سے کہا کہ شعیب نے حیرت سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا
’’پھوپھو، کیا کہہ رہی ہو؟ کیسے ہوگا یہ ؟‘‘
’’تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے،میں جو کہوں گی ، تم نے وہی کرتے جانا ہے ، خود سے کچھ نہیں کرنا۔ میرا نام بھی فاخرہ نہیں اگر ثانیہ کو اس گھر کی بہو نہ بنایا تو۔ یہ مراد علی بھی کیا یاد کرے گا۔‘‘ آخر پھوپھو نے وہ زہر اگل دیا ، جو اس کے من میں نجانے کب سے تھا۔ اس پر شعیب پرجوش انداز میں بولا
’’ اگر ایسا ہو جائے نا پھوپھو، تو میں ساری عمر تمہارا غلام بن کر رہوںگا۔‘‘
’’نہ نہ میرا بیٹا۔ ایک تم ہی تو ہو میرے بھائی کی نشانی ، ہماری اولاد ہو تم، مجھ نگوڑی کی تو اولاد نہ ہو ئی ، تجھے ہی تو بیٹا مانتی ہوں۔ تیرا غم مجھ سے دیکھا نہیںجاتا۔میں کرائوں گی تمہاری شادی ثانیہ کے ساتھ۔‘‘ اس نے پتہ نہیں کیا سوچتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا ۔
’’پھوپھو پھر تو کمال ہو جائے گا ۔ایسا کیا…‘‘ اس نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے پوچھا تو فاخرہ بولی۔
’’ تم یہ سب مجھ پہ چھوڑ دو ۔چل اب اٹھ کے تیار ہو جا، میںناشتہ لگاتی ہوں، پھر آفس جائو۔ کسی کو احساس مت ہونے دو کہ تمہیںکوئی دکھ ہے۔ اٹھ جا میرا بیٹا۔‘‘پھوپھو نے چاپلوسی سے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی ۔ شعیب چند ثانئے سوچتا رہا ۔ اس کے ذہن میں کچھ اور چلنے لگا تھا۔
ژ… ژ… ژ
مین روڈ سے وہ سڑک اندر کی طرف ایک کالونی میںجاتی تھی ۔کالونی ختم ہوتے ہی سرے پر ایک بنگلہ نما دو منزلہ گھر بنا ہوا تھا۔ پہلی نگاہ میں وہ ایک اکیلا ہی لگتا تھا ، تاہم اس کے ساتھ پچھلی طرف کافی کوراٹر نما گھر تھے۔اس گھر کا بڑا سا آ ہنی گیٹ سیاہ رنگ کا تھا۔جس کے اندر کی جانب ایک چوکیدار بیٹھا رہتا تھا۔یہی کوئی سہ پہر کا وقت تھا ، جب ایک ٹیکسی اسی گیٹ پر آ ن رُکی ۔ اس میں سے فاخرہ باہر نکلی ۔ ٹیکسی آ گے بڑھ گئی تو وہ گیٹ کے اندر داخل ہو گئی ۔
اند رکی دنیا ہی نرالی تھی ۔ ایک بڑا سارا برآمدہ تھا، جہاں چند خواتین اور مردبیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک طرف کمرے بنے ہوئے تھے ۔جس کے ساتھ راستہ اندر کی جانب جاتا تھا۔کافی بڑا سا صحن پار کرنے کے بعد پھر برآمدہ تھا۔ اس کے ساتھ کمرے تھے ۔اندر سے وہ گھر یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی پرانا قلعہ ہو ۔ کچھ پرانا طرز تعمیر ہونے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا اور کچھ جان بوجھ کر ایسا بنایا ہوا تھاکہ وہ پراسرار لگے ۔ کیونکہ وہ شہر کے مشہور جادو گر، کالے علم کے ماہر بابا کرامت شاہ کا گھر تھا۔ برآمدے میں کھڑی ایک ادھیڑ عمر عورت آ گے بڑھی ، وہ فاخرہ سے یوں ملی جیسے وہ اسے برسوں سے جانتی ہو ۔اسے دیکھتے ہی بولی
’’ آجائو ، تمہارے فون کرتے ہی میں نے وقت لے لیاتھا، جلدی آ جائو،بابا کے پاس اس وقت کوئی نہیںہے ۔‘‘
فاخرہ کچھ نہیںبولی بلکہ لمبے لمبے قدم اٹھاتی اس کے ساتھ اندرونی کمرے میں چلی گئی ۔ ایک چھوٹی سی راہدری پار کرنے کے بعد سامنے والا کمرہ بابے کرامت شاہ کا تھا۔ وہ اندر کمرے میں چلی گئی ۔بابے کرامت شاہ کا کمرہ ایسا تھا ، جس کی دیواریں سیاہ تھیں۔ مدہم سرخی مائل روشنی میں وہ آنکھیں بند کئے یوں بیٹھا تھا، جیسے گہرے مراقبے میں ہو ۔ اس کا لباس بھی سیاہ تھا ۔گلے میں سرخ منکوں والا ہار تھا۔ہاتھوںمیںکئی ساری رنگ برنگی انگوٹھیاں، چھوٹی چھوٹی سرخ آنکھیں ، جن میں گہرا کاجل ڈالا ہوا تھا۔ سر اور داڑھی کے بال برف کی مانند سفید تھے۔اس کے چہرے سے خباثت ٹپک رہی ہے۔ پھوپھو فاخرہ اندر آ ئی تو اس نے آنکھیںکھول کر دیکھا پھر گونج دار آواز میں بولا
’’آئو …فاخرہ آئو… بیٹھو۔‘‘
سلام کرتے ہوئے بیٹھ گئی تو وہ اس کے چہرے پر دیکھ کر طنزیہ سے انداز میں ہنستے ہوئے بولا
’’ بڑی بے چارگی ٹپک رہی ہے تیرے چہرے پر، کچھ زیادہ ہی پریشان لگ رہی ہو ۔‘‘
’’ کیا کہوں بابا جی۔ کوئی ایک پریشانی ہو توبتائوں۔ ایک بہت بڑی مہم آن پڑی ہے ، اسی لئے تو آپ کے پاس آئی ہوں۔‘‘ فاخرہ نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا
’’اب کیا ہو گیا تجھے، کیا پریشانی ہے؟ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ بابے کرامت نے پوچھا توفاخرہ دکھی لہجے میں بولی
’’مجھ اکیلی جان کو بھلا کوئی ایک مسئلہ ہے ۔اپنا بھی اور دوسروں کا بھی ۔ یہ مسئلہ ہے میرا نہیں، میرے بھتیجے شعیب کا ہے۔ میں …‘‘
’’وہی ۔! جسے تو نے اپنے قابو میںرکھنے کے لئے عمل کروایا تھا۔ کیا اب وہ قابو میں نہیں رہا ؟ ‘‘بابے کرامت نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا
’’نہیںبابا، وہ بے چارہ تو قابو میںہے ،اب بھلاآپ ہی بتائیں، میں اسے اگر قابو میں نہ رکھوں تو کہاں جائوں،میں بیوہ عورت ہوں،اکیلی کہاں دھکے کھاتی پھروں۔اس کی ماں کا بس چلے تو مجھے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دے۔وہ ایک لمحہ برداشت نہ کرے مجھ کو ۔‘‘ فاخرہ دیدے نچاتے ہوئے بولی تو بابا کرامت اکتاہٹ سے بولا
’’یہ رونا دھونابند کر ، مسئلہ بتا کیا ہے؟‘‘
تبھی فاخرہ نے انتہائی اختصار سے ساری روداد سنا دی ۔جب سارا کہہ چکی تو اپنی بات یہ کہتے ہوئے ختم کی
’’…بس ثانیہ کی منگنی ٹوٹ جائے اور اس کی شادی شعیب سے ہو جائے۔ اور یہ منگنی ختم ہو جانے والا کام تو فوراً ہو جائے نا، بس آناً فاناً ۔ ہتھیلی پر سرسوں جما دو بابا۔‘‘
بابا کرامت ساری بات سن کربڑا خوش ہوا ، پھر ذراجھوم کر ، خوش کن لہجے میں بولا
’’ معاملے محبت کے ہیں ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر بولا،’’مسئلہ تو بہت بڑا ہے لیکن … ہو جائے گا، جتنی لمبی رقم دوگی ، اتنی جلدی کام ہو جائے گا، ہتھیلی پہ سرسوں جما دیں گے۔‘‘
’’بابا جی، رقم کی تو آپ فکر نہ کریں۔جتنی چاہیں لے لیں،جو کہیں گے وہ کروں گی ، بس یہ کام جھٹ پٹ میں ہو جائے۔ وقت نہ لگے ذرا بھی۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے پرس سے نوٹوں کی گڈی نکال کر بابا کرامت کے سامنے رکھ دی۔ نوٹ دیکھ کر بابا کی آنکھیں کھل گئیں ۔ بابا کرامت گڈی اٹھاتے ہوئے خوش ہو کر بولا
’’ سمجھو ٹوٹ گئی منگنی… جم گئی ہتھیلی پہ سرسوں… جھٹ پٹ… لو پھر…‘‘
یہ کہہ کر اس نے ساتھ پڑا ہوا لکڑی کا سیاہ صندوق کھولا ۔ اس میں نجانے کیا الم غلم بھراہوا تھا ۔ وہ چند لمحے اس میں دیکھتا رہا پھراس میں سے کپڑے کی بنی ایک گڑیا نکالی۔وہ گڑیا بالشت بھر کی تھی۔ سیاہ رنگ کی ہونے کی وجہ سے بڑی خوف ناک لگ رہی تھی۔ بابا کرامت نے اس کپڑے کی بنی ہوئی گڑیا کو اپنے سامنے رکھا ۔پھر صندوق سے ایک سوئی نکال کر زیر لب پڑھتا چلا گیا۔ بابے کا چہرہ کبھی خوف ناک ہو جاتا ، کبھی اس سے نفرت ٹپکنے لگتی اور کبھی خباثت ظاہر ہو جاتی ۔ کچھ دیر پڑھنے کے بعد اس نے و ہ سوئی گڑیا کے سر میں تھوڑی سی پیوست کر دی ۔ وہ کافی دیر پڑھ چکا تو اس نے دھیرے دھیرے وہ پن سوئی گڑیا کے ماتھے میں ساری کی ساری پیوست کر دی۔ ایسے کرتے وقت اس کے چہرے پر انتہا درجے کی نفرت تھی فاخرہ اس کے سامنے بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ وہ اپنا جاپ مکمل کر چکا تو اس نے ماتھے میں سوئی لگی گڑیا کو اٹھایا، اس پر نگاہیں گاڑے رکھیں اور پھرفاخرہ کو دیتے ہوئے تیزی سے کہا
’’ اس کے ساتھ بھی وہی کر ، جو پہلے گڈے کے ساتھ کیا تھا، جا ، سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کر ،جا اب جلدی سے چلی جا ۔‘‘
فاخرہ نے لرزتے ہاتھوں سے وہ گڑیا پکڑی، اسے اپنے پرس میں رکھا اور اٹھ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔
سورج غروب ہونے کو تھا۔پھوپھو قبرستان میں سہمی ہوئی ایک درخت پاس کھڑی تھی۔ وہ جگہ سنسان تھی۔ اس نے احتیاط سے اِدھر ُاُدھر دیکھا۔ وہاں آ س پاس کوئی نہیںتھا۔ پوری طرح اطمینان کر لینے کے بعد اس نے پرس میں سے وہی گڑیا نکالی اور انتہائی تیزی سے وہ سیاہ گڑیا درخت پرپھندے کی صورت میں لٹکانے لگی ۔ چند منٹ میں اس نے وہ سیاہ گڑیا لٹکا دی ۔ پھر اسی سیاہ گڑیا کو پھندے پر لٹکتے ہوئے ایک گہری نگاہ سے دیکھا۔ وہ سیاہ گڑیا جھولنے لگی تھی ۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھر آ ئی پھر تیزتیز قدموں کے ساتھ قبرستان سے نکلتی چلی گئی ۔
ژ… ژ… ژ
شام کا اندھیرا ابھی رات میں پوری طرح نہیں بدلا تھا۔ثانیہ اپنے بیڈ پر بیٹھی ہوئی کتاب پڑھ رہی تھی ۔ اس کی نگاہیں تو کتاب پر تھیں مگر وہ حد درجہ بے چینی محسوس کر رہی تھی۔ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنا ماتھا بھی مسل رہی ہے ۔وہ بے چین ہوتی چلی جا رہی تھی۔اس کے چہرے پر ایسے تاثرات ہونے لگے جیسے وہ درد سہہ رہی ہو ۔ درد تھا کہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ چند لمحوں ہی میںدرد کی لہر ٹیس بن کر اٹھی اور وہ اس کی شدت سے کراہتے ہوئے دہری ہوتی چلی گئی ۔اسے لگا جیسے اسے خود پر اختیار ہی نہ رہا ہو ۔اس نے بے بسی میںمدد کے لئے زور سے پکارا۔
’’ماما… ماما…ماما…‘‘
اس کی آواز گھر میں گونج کر رہ گئی ۔ ثانیہ چند لمحوں ہی میں تڑپنے لگی تھی۔ بیگم طلعت اور نوکرانی آگے پیچھے ہی کمرے میں تیزی سے اندر آئی تھیں ۔ بیگم طلعت نے اپنی بیٹی کو لوٹتے ہوئے دیکھا توبد حواسی میں پوچھنے لگی
’’ثانیہ … ثانیہ کیاہو ا بیٹا۔ کیا ہوا تجھے؟‘‘
’’ماما… میرا سر،بہت درد ہو رہا ہے۔پھٹ رہا ہے ۔ ‘‘ثانیہ نے اپنا ماتھاپکڑے درد کی شدت سے کراہتے ہوئے دھیمے سے یوں کہا جیسے اس سے بولا نہ جا رہا ہو۔یہ کہتے ہوئے اس کی آ نکھیںبند ہونے لگیں اور وہ لمحوں میںبے ہوش ہو تی چلی گئی۔تبھی بیگم طلعت نے چیختے ہوئے زور سے کہا
’’ثانیہ ، ہوش کرو۔ ہوش کرو بیٹا۔ کیا ہو گیا میری بچی کو ۔آنکھیںکھولو ثانیہ ۔ اللہ میری بیٹی کو کیا ہو گیا،‘‘ پھر بے بسی میںنوکرانی کی طرف دیکھ کر کہا،’’مراد علی کو فون کرو جلدی۔یہ کیا ہو گیا میری بچی کو ؟‘‘
’’ بیگم صاحبہ میں ڈرائیور کو بلاتی ہوں ، بی بی کواسپتال لے …‘‘
’’ جو کر نا ہے جلدی کرو ،‘‘ بیگم طلعت نے کہانوکرانی تیزی سے پلٹ گئی اور وہ ثانیہ کو سنبھالنے لگی ۔
بے ہوش ثانیہ اسٹریچر پر پڑی تھی۔نرس اور ڈاکٹرز اسے ٹریٹمنٹ دیتے ہوئے ہوش میںلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ان سے ذرا فاصلے پر بیگم طلعت اورمراد علی انتہائی پریشانی میں کھڑے تھے۔ تبھی بیگم طلعت بے چینی سے بولی
’’ڈاکٹر کیاہوا ہے میری بیٹی کو … خدا را ، آپ بتاتے کیوں نہیںہیں۔‘‘
تبھی سینئر ڈاکٹر نے سر اٹھا کر پاس کھڑے ڈاکٹر ظہیر کی طرف دیکھا۔ ڈاکٹر ظہیر اس کی نگاہوں کا مقصد سمجھتے ہوئے پیچھے ہٹا ، بیگم طلعت اور مراد علی کے پاس آکر انہیںایک طرف لے جا کے بولا
’’آنٹی۔! میںفقط ایک ڈاکٹر ہی نہیں، ذیشان کا بہت قریبی دوست بھی ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ اس وقت بزنس میٹنگ کے لئے لاہور میںہے ۔اسی نے مجھے ثانیہ کے بارے بتایا ہے ۔ہم پوری ذمہ داری اور توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔آپ پریشان مت ہوں ، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے بیٹا۔‘‘ مراد علی نے اس کی بات سمجھ کر اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
’’آپ میرے کمرے میںبیٹھیں، میںابھی آپ کے پاس آ تا ہوں ۔ آپ پلیز جائیں۔،‘‘ اس نے منت بھرے انداز میں کہا توبیگم طلعت نے تڑپ کر پوچھا
’’ یہ ہوش میںکیوں نہیںآ رہی ہے۔‘‘
’’ابھی …ابھی آ جائے گی ہوش میں … انکل پلیز۔‘‘ اس نے باہر جانے کا اشارہ کیا۔
مراد علی سر ہلاتے ہوئے اور آنکھوں کے اشارے سے اس کی بات سمجھ جانے کا عندیہ دیتے ہوئے اپنی بیوی کا ہاتھ نرمی سے پکڑا اور کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی باہر کی جانب مڑتی چلی گئی ۔ ڈاکٹر ظہیر نے انہیںباہر جاتے ہوئے دیکھا اور واپس اپنے سینئر ڈاکٹر کے پاس چلا گیا ۔
کوئی دو گھنٹے کے بعد جب ڈاکٹر ظہیر اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اس کا سیل فون بج رہا تھا۔ وہ فون نکالتے ہوئے اپنی میز تک گیا۔ اپنا اسٹیتھواسکوپ رکھا اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے کال رسیو کرلی۔
’’ہاں ذیشان،سب ٹھیک ہے۔پریشانی والی کوئی بات نہیں،ثانیہ ٹھیک ہے اب۔انکل اور آنٹی اس کے پاس ہیں۔‘‘ اس نے اطمینان سے بتایا
’’ہوا کیا تھا؟ کیوں اسے ہاسپیٹل آنا پڑا؟‘‘ ذیشان نے پریشانی میں پوچھا تو وہ بولا
’’ سینئرڈاکٹرز کا خیال ہے کہ اس نے کوئی شدید قسم کی ٹینشن لے لی ہے ۔ یہ اسی کا ری ایکشن تھا۔ ساری رپورٹس نارمل ہیں۔ ویسے خطرے والی کوئی بات نہیں۔‘‘
’’ہاں ٹینشن تولی ہوگی اس نے لیکن اس قدر شدید ؟ اب کیسی ہے وہ ؟‘‘ ذیشان نے پوچھا
’’اب وہ نارمل ہے ۔اسے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ بس وہ ابھی گھر جانے کے لئے نکل جائیں گے ۔‘‘ اس نے بتایا
’’چلو اچھا ہوا ۔میںآج رات کی فلائٹ سے واپس آ رہا ہوں۔ ملتے ہیںصبح، پھر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، میںآ جائوں گا تمہاری طرف۔ اب مجھے تھوڑا کام کرنا ہے اورتم بھی اپنے معاملات دیکھو۔ اللہ حافظ۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے کہا اور کال بند کر دی ۔
ژ… ژ… ژ
دن کا پہلا پہر ختم ہونے کو تھا۔بیگم ثروت لائونج میں صوفے پر بیٹھی ہوئی اپنی سوچوں میںگم تھی۔اس کے چہرے پر اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے پاس تازہ اخبار دھرا ہوا تھا جسے وہ پڑھنے کو اٹھاتی اور پھر رکھ دیتی۔ایسے میں فاخرہ داخلی دروازے سے اندر داخل ہوئی ۔ وہ صوفے پر بیٹھ کر بڑبڑاتے ہوئے ا کتا کر بولی
’’آئے ہائے۔!اب تو بازار جانا بھی مشکل ہو گیا۔خدا کی پناہ ، رستہ ہی نہیں ملتا کہیں سے۔اتنی ٹریفک، اتنا شور ، دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ تو بہ تو بہ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی ۔ اس نے بیگم ثروت کا کوئی رسپانس نہ پا کرپو چھا ، ’ ’ خیریت توہے نا ثروت، تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘
’’میں تو ٹھیک ہوں۔پر ثانیہ ٹھیک نہیںہے؟‘‘بیگم ثروت نے اداسی اور دکھ سے بتایا تو فاخرہ نے انتہائی تجسس سے پوچھا
’’ کیاہوا اُسے؟‘‘
’’پتہ نہیںکیا ہو ا، بس بیٹھے بٹھائے سر میں شدید درد ہوا ، لوٹ پوٹ ہی ہو گئی بچی بے چاری۔ اسپتال لے جانا پڑا۔‘‘ بیگم ثروت نے دکھی لہجے میں کہا تو فاخرہ ایک دم سے خوش ہوگئی ، اتنی جلدی کام ہو جانے پر وہ حیرت زدہ رہ گئی ۔ پھر اسی لمحے خود پر قابو پاتے ہوئے حیرت بھرے لہجے میں کہا
’’ہائے میری بچی،اسے تو نظر کھا گئی ہے لوگوںکی ۔منگنی والے دن کتنی خوبصورت لگ رہی تھی ۔اب کیسی طبیعت ہے اس کی؟‘‘
’’طلعت بتا رہی تھی اب ٹھیک ہے۔میری بہن کتنی پریشان ہوگی اس وقت۔ اس شعیب نے تو میری بہن ہی مجھ سے جدا کر دی ۔ میںثانیہ کو دیکھنے بھی نہیںجا سکتی۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ رُو دی ۔ تبھی فاخرہ نے اسے دلا سہ دیتے ہوئے کہا۔
’ اس میں شعیب کا کیا قصور ، وہ موا تیرا بہنوئی ہی پھوٹ ڈالتا ہے ۔ وہی نفرت کرتا ہے ۔ خیر تومت رو ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم چلیں گے اسے دیکھنے ۔‘‘ وہ بڑے سنجیدہ لہجے یوں بولی جیسے اسے ثانیہ کا سن کر بڑا دُکھ ہوا ہو ۔ ان دونوں کے درمیان خاموشی آ ن ٹھہری تھی۔ پھوپھو اندر ہی اندر سے بے انتہا خوش تھی ۔ اس کے من میں اپنی کامیابی کا احساس پھیل گیاتھا۔پھوپھو اپنی کامیابی سے سرشار تھی ۔لیکن بیگم ثروت ایک ماں تھی ، اس نے دکھی دل سے کہا
’’ شعیب کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ اب اس کے لئے کوئی لڑکی تلاش کرنا ہو گی ورنہ میرا بیٹا کہیں یہ بات اپنے دل کو ہی نہ لگا لے ۔اس طرح اس کا دھیان تو بٹ جائے گا ۔‘‘
’’اس کا دل تو ثانیہ ہی میںہے۔‘‘ پھوپھو آ نکھیں مٹکاتے ہوئے بولی توبیگم ثروت نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا
’’اب کیا کروں ، میرا بس چلے تو اپنے بیٹے کی خوشیاں خرید کر لے آئوں ۔ ثانیہ میری بھانجی ہے۔وہ مجھے بھی پیاری ہے، میری خواہش ہے وہ میری بہو بنے ، لیکن تم نے ان کا رویہ دیکھا؟میں کوشش کر بھی لوں ، مگر ثانیہ کا من نہیں ہے شعیب کی طرف ، پھر بعد میں وہی جھگڑے فساد ہونے ہیں۔‘‘
’’سچی بات تو یہ ہے ثروت، اگر تم نے اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ رویہ ٹھیک رکھا ہوتانا تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا، جب بھائی تھا تب تم بھی ناک پر مکھی نہیںبیٹھنے نہیں دیتی تھیں۔‘‘ فاخرہ نے اسے یاد دلانے والے انداز میں کہا تو وہ بھڑک کر غصے میں بولی
’’میں نے کیا کر دیا ان کے ساتھ ،میں نے کبھی ان کا برا نہیںچاہا، جیسا وہ سلوک رکھتے تھے، ویسا میں ان کے ساتھ رکھتی تھی۔میں نے ہمیشہ ان کی مدد ہی کی ہے ۔ جو بھی طلعت نے مانگا، میں نے اُسے دیا ۔میں سمجھتی تھی کہ مراد علی اسے آ گے کر دیتا ہے ۔ میں اپنی بہن کا مان رکھتی تھی ۔‘‘
’’ اب دیکھ لو ، وہی تیرا کتنا مان رکھ رہی ہے ۔اب دیکھا، یہ مراد علی جو ہے، کیسی بڑھ بڑھ کے باتیں کر رہا تھا، بھائی جب تھا تو اس کی جرات نہیںہوتی تھی۔‘‘ فاخرہ نے پینترا بدلتے ہوئے کہا تو وہ دُکھ سے بولی ۔
’’کیا یاد دلا رہی ہو فاخرہ۔آج وہ ہوتے تو یہ ہماری چوکھٹ نہ چھوڑتے ،منہ سے بات نکالتے تویہ … چل چھوڑ، کیا باتیںلے کر بیٹھ گئی ہو ۔ چل جا ، اب تُو بھی آرام کر۔‘‘
’’ہائے ہائے ، کیا وقت آ گیا۔‘‘فاخرہ نے اٹھتے ہوئے کہا، جس پر بیگم ثروت نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ پھر سے خیالوں میںکھو گئی ۔ جاتے جاتے فاخرہ اسے ماضی میںدھکیل گئی ۔
ژ… ژ… ژ
دوپہر سے پہلے کا وقت تھا ۔ثانیہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی ۔ ذیشان اس کے پاس کرسی پر بیٹھا ہوا تھا،سائیڈ ٹیبل پر پھول پڑے تھے۔وہ اس کی عیادت کو آ یا ہوا تھا ۔ ثانیہ کے چہرے پر پیلاہٹ پھیلی ہوئی تھی ۔ ان دونوں کے بیچ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ذیشان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے بات کرے ، تبھی اس نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا
’’یہ تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے ثانیہ ،اب تم ٹھیک ہو ۔ ساری رپورٹس بالکل کلیئر ہیں، کوئی خطرے والی بات نہیں ہے۔‘‘
’’ میں جس کرب سے گزری ہوںنا ذیشان ،اس کا بس مجھے ہی پتہ ہے۔یہ دردمیری برداشت سے باہر تھا۔مجھے نہیںپتہ یہ اچانک کیوں ہو گیا۔‘‘ ثانیہ دھیمے لہجے میں بولی
’’تم نے صرف ایگزام کی ٹینشن لی ہے ۔جب میںنے کہہ دیا تھاکہ تم پریشان نہ ہو تو پھر تمہیںٹینشن لینے کی ضرورت نہیںتھی۔‘‘ اس نے شکوہ بھرے لہجے میںکہا توثانیہ دبے دبے غصے میں بولی
’’لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی ہے، ایسا کیا ہو گیا۔ اتنی جلدی شادی؟ میرے ایگزام ہو جائیںتو… کیا سارے لوگ شعیب سے اتنا ہی ڈر گئے ہیں؟‘‘
اس پر ذیشان نے کچھ کہنا چاہا لیکن اگلے ہی لمحے اس کی حالت کو سمجھتے ہوئے بڑے نرم سے لہجے میں بولا
’’ بات شعیب سے ڈرنے کی نہیں۔ ہماری والدین یہ چاہتے ہیں کہ یہ شادی…‘‘
’’کچھ بھی نہیںہونے والااورنہ وہ ایسا کر سکتا ہے اور ہمارے والدین کا فیصلہ؟ تم نے بھی مجھ سے نہیںپوچھا، بس فیصلہ دے دیا؟ چاہے بارات یا ولیمہ … جیسے میری کوئی اہمیت ہی نہیںہے؟‘‘ثانیہ نے اس کی بات کاٹ کر غصے میںکہا تووہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولا
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟ ہمارے والدین تو ہمارا اچھا ہی چاہیں گے اور پھر… اتنی جلدی شادی کی خواہش تمہارے والدین کی طرف سے تھی ، میرے والدین نے نہیں کی ۔‘‘
’’میں کہاں ہو ں؟ تم کہاں ہو ؟تمہاری اور میری کوئی اہمیت نہیںاس فیصلے میں؟ شادی ہم دونوں کی ہونی ہے نا؟‘‘ اس نے پوچھا
تبھی ذیشان ایک دم سے چونک کر سمجھتے ہوئے بہلانے والے انداز میں بولا
’’ریلکس۔!تم آرام کرو۔ہم اس پر پھر بات کریں گے ۔ ابھی میں آ فس جا رہا ہوں ، وہاں کچھ لوگ انتظار کر رہے ہیں۔تم تیار رہنا۔شاپنگ کے لئے جائیںگے۔کچھ چیزیں ایسی ہیں جو صرف تم ہی پسند کر سکتی ہو ۔‘‘
’’ نہیں میں شاید کہیں نہ جا سکوں۔‘‘ اس نے اکتائے ہوئے اندا ز میں کہا
’’ اوکے ، اگر طبیعت چاہے تو مجھے فون کر دینا ۔ اب میںچلتا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا ۔ اس پر ثانیہ نے اسے رُکنے کے لئے ایک لفظ بھی نہیںکہا ۔ ذیشان نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا اور گہری سنجیدگی کے ساتھ باہر کی جانب چل دیا ۔ ثانیہ کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پھیل گئے تھے جیسے اسے کچھ اچھا محسوس نہ ہو رہا ہو ۔ اس نے آ نکھیں بند کر کے بیڈ سے ٹیک لگا لی ۔
اسے ذیشان پر سب سے زیادہ غصہ آ رہا تھا۔ وہ ایک شعیب سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔اس کی وجہ سے یہ سب آ ناً فاناً ہو رہا تھا ۔وہ کل کوئی اور دھمکی دے دے گا تو کیا ہوگا ؟اس ایک کی وجہ سے اتنے سب لوگ ڈسٹرب ہو گئے تھے ۔ کیا مسئلے کا حل یہی ہے ؟وہ کون ہوتا ہے ان کی زندگی زہر گھولنے والا،کیا وہ اپنی مرضی سے جی بھی نہیں سکتے ؟ پھر کیا فائدہ ایسا سب کرنے کا ۔ یہی سو چتے ہوئے اس کی آ نکھ لگ گئی ۔
سہ پہر کا وقت ہوگا ۔ ثانیہ پر سکون سی کمرے سے باہر آ کر کاریڈور میں کر سی پر بیٹھ گئی ۔وہ کافی فریش دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میںکتاب تھی مگر وہ پڑھنے کی بجائے اپنے خیالوں میںکھوگئی ہوئی ہے اسے بیٹھے وہاں زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اس کے پاس ماما آ گئی۔ وہ اس کے قریب آ کر بڑے پیار سے بولی
’’آج تومیری بیٹی بہت فریش لگ رہی ہے۔‘‘
’’ہاں ماما۔! اچھا محسوس کر رہی ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی تبھی ماما نے اس کے ہاتھ سے کتاب لیتے ہوئے لاڈ سے کہا
’’تو پھر چلو تیار ہو جائو، شاپنگ کے لئے چلتے ہیں۔‘‘
’’ آں … چلیں۔‘‘ثانیہ سوچتے ہوئے بے دلی سے بولی تو مامانے خوشگوار لہجے میںکہا
’’ باہر نکلو گی ، تھوڑاماحول بدلے گا تو اچھا لگے گا نا ۔‘‘
’’ٹھیک ہے ۔ ‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔وہ ایک لمحے میں مان گئی تھی۔
’’میں ڈرائیور سے کہتی ہوں وہ گاڑی نکالے۔ تم جا کر تیار ہو جائو ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ اس نے کہا اوراٹھ کر اندر چلی گئی۔ بیگم طلعت نے اپنی ایک ملازمہ کو آواز دے کر رک گئی ۔
اس وقت ثانیہ اور اس کی ماما شہر کے ایک مشہور شاپنگ مال کے سامنے آ کر رُکے ہی تھے ۔ڈرائیور اس انتظار میں تھا کہ سامنے کی کاریں ایک طرف ہوں تو وہ پارکنگ میں چلا جائے۔انہی لمحات میں ثانیہ کی نگاہ ذیشان پر پڑی ، وہ بھی اپنی کار میں ان سے آ گے تھا۔وہ مسکرا دی ۔ اسی نے ماما سے کہا ہو گا شاپنگ کے لئے توماما اسے لے کر یہاں آ گئی ۔ ابھی ان کے ڈرائیور نے کار پارکنگ میں نہیں لگائی تھی کہ ثانیہ نے دوبارہ ذیشان کو دیکھا ،اس کے ساتھ لڑکی کو دیکھ کر چونک گئی ،جو اسی کی کار سے اتر ی تھی۔ وہ عشناء تھی جو اسی کے آفس میں ملازم تو تھی لیکن ذیشان کی یونیورسٹی فیلو بھی تھی۔ وہ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔اس نے اپنے لئے یہاں جاب کر لی ۔ذیشان اس پر بہت اعتماد کرتا تھا۔ ثانیہ انہیں دیکھتی رہی ، وہ دونوں بے تکلفی سے ہنس رہے تھے ۔ ثانیہ کو ان کا بے تکلف ہونا اچھا نہیںلگا۔ ان دونوں کا یہ رویہ باس اور ملازم والا نہیں تھا ۔وہ چند لمحے سوچتی رہی ، پھر اپنا سیل فون نکال کے نمبر پش کر دئیے ۔
ثانیہ دیکھ رہی تھی ۔ ذیشان کا فون بج اٹھا تو اس نے پاس کھڑی عشناء کو اپنے سیل فون کی اسکرین دکھائی ۔ صاف ظاہر تھا کہ ذیشان اسے ثانیہ کے فون کے بارے میں بتا رہا تھا ۔ دونوں ہنس دئیے تھے۔ ذیشان نے کال ریسو کی اور شاپنگ مال کے اندر کی جانب چل دیا۔
’’ ہیلو ثانیہ ۔‘‘ ذیشان کی آ واز ابھری
’’ذیشان کہاں ہو؟‘‘ اس نے پوچھا
’’میں آفس میںہوں ، خیریت؟ ‘‘ اس نے کہا تو ثانیہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ، اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
’’ آ فس میں کیا کر رہے ہو ؟‘‘ اس نے تند لہجے میں پوچھا
’’ظاہر ہے آ فس میں کام ہی ہوتا ہے، خیر کوئی کام تھا ؟ ‘‘اس نے ہنستے ہوئے پوچھا
’’اوکے ، کچھ نہیں، بعد میںفون کرتی ہوں۔‘‘فون بند کرتے ہوئے اس کا دل خون کے آ نسو رو یا تھا ۔ وہ خود کو سمیٹ رہی تھی کہ اس کی ماما نے پوچھا
’’کیا بات ہے بیٹا،ذیشان ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’ ماما، واپس چلیں، میرے سر میں درد ہونے لگا ہے۔ ‘‘وہ اس قدرشدت سے بولی کہ بیگم طلعت بری طرح گھبرا گئی ۔ ثانیہ نے سیٹ کی پشت گاہ سے اپنا سر لگالیا۔تبھی بیگم طلعت نے تیزی سے ڈرائیورکو کہا
’’ڈرائیور جلدی اسپتال چلو ۔‘‘
یہ سنتے اس نے کار پارکنگ سے نکالی اور باہر کی سمت چل پڑا۔ثانیہ آنکھیں بند کیے سیٹ سے سر لگائے کراہ رہی تھی۔
اس کی نگاہ سے عشناء ہٹ ہی نہیں رہی تھی ۔ اس پر دکھ یہ تھا کہ ذیشان نے جھوٹ کیوں بولا ۔ وہ اگر یہی بتا دیتا کہ میں شاپنگ مال میں عشناء کے ساتھ ہوں تو کیا فرق پڑ جاتا ۔ کم ازکم سچ بولنے پر وہ دکھی تو نہ ہوتی ۔وہ ان کے ساتھ مل کر شاپنگ کرتی تواسے زیادہ اچھا لگتا ۔اسے ذیشان پر تو یقین تھا لیکن اسے عشناء پر بالکل بھی اعتبار نہیں تھا ۔ ایسی لڑکیا ں اونچے گھروں کے خواب دیکھتے ہوئے کچھ بھی کر سکتی تھیں ۔اسے یسے عشناء کسی رنگین سانپ کی مانند ذیشان سے لپٹی محسوس ہوئی ۔اس کی لپلپاتی ہوئی زبان کسی بھی وقت ذیشان کو ڈس سکتی تھی ۔وہ جس قدر سوچ رہی تھی ، اس کا غصہ اتنا ہی بڑھتا چلا جا رہا تھا ۔اتنی کی درد ہونے کے باعث وہ دہری ہوتی چلی جا رہی تھی ۔ جس وقت وہ اسپتال پہنچے ،ثانیہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔
اس وقت اسپتال میں ڈاکٹر ظہیر نہیں تھا ۔تاہم دوسرے ڈاکٹر اس کی کیس ہسٹری کے بارے میں جانتے تھے ۔ کچھ دیر بعد ہی وہ اُسے ہوش میں لے آئے ۔ آ دھے گھنٹے میں وہ نارمل تو ہو گئی لیکن اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ صدیوں کی بیمار ہے ۔ تقریباًایک گھنٹے بعد انہیں گھر بھیج دیا تھا ۔
رات ڈھل چلی تھی ۔ثانیہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کے ذہن میں یہی بات گھوم رہی تھی کہ ذیشان نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟ وہ عشناء کے ساتھ کیوں تھا؟ اتفاق ہی سے سہی ، اگر وہ خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتی تو ذیشان کا کہا سچ ہی سمجھتی۔وہ یہی سوچے چلے جا رہی تھی کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔ اسکرین پر ذیشان کے نمبر جگمگا رہے تھے ۔ اس نے فون کال رسیو کرتے ہوئے کہا
’’ہیلو…‘‘
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ ذیشان نے پیار بھرے لہجے میں پوچھا تو ثانیہ کو وہ زہر لگا۔ اس لئے اس نے کھردرے لہجے میں میں اتنا ہی کہا
’’ٹھیک ہوں۔‘‘
’’مجھے پتہ چلا، پھر سے پین ہوا تھا؟‘‘ اس نے پوچھا
’’لیکن یہ تو پتہ نہیںہوگا نا،یہ پین ہوا کیوں؟‘‘
’’کیا مطلب ، میںسمجھا نہیں؟وہ تو ڈاکٹر ظہیر کے کو لیگ نے بتایا مجھے کہ تم …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو ثانیہ نے بات کاٹتے ہوئے تیکھے لہجے میں کہا
’’ مجھے سمجھانے کی ضرورت بھی نہیںہے، کوئی کام تھا؟‘‘
’’ثانیہ ، یہ تم ہو، کیسی باتیںکر رہی ہو ، اور کس انداز میں؟‘‘
ذیشان نے حیرت سے پوچھا تو وہ طنزیہ انداز میں بولی
’’ خود پر غور کرو ، پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’یہ کیا کہہ رہی ہومجھے کچھ سمجھ میں نہیںآرہا؟‘‘ذیشان نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا
’’مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں اور نہ مجھے تمہاری سمجھ آ رہی ہے ۔اس وقت میںبزی ہوں ، پھر بات کرتے ہیں۔ بائے۔‘‘ثانیہ نے خود اکتائے ہوئے انداز میںکہا
’’اُو سنو…‘‘ ذیشان نے کہا لیکن اس نے کوئی مزید بات نہ کرنے کے لئے کال کاٹ دی۔ پھر سیل فون ایک طرف پھینک کر لیٹ گئی ۔ اس کے اندر آ گ لگ چکی تھی ۔وہ بس یہی سوچے چلی جارہی تھی کہ ذیشان نے اس سے جھوٹ کیوں بولا ؟
یہ جو شک کا زہر ہوتا ہے نایہ انسانوں ہی کو نہیں مارتا بلکہ گھروں میں آ گ لگا کر انہیں اجاڑ دیتا ہے ۔ثانیہ بھی شک کے بھنور میں پھنس چکی تھی ۔ وہ بے چین ہو چکی تھی ۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا ۔ وہ اچانک ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی ۔ وہ بیدار ہو کر اپنے ارد گرد دیکھ رہی تھی ۔ ملجگے اندھیرے میں اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں پر ہے ؟ اس کے بیدار ہو نے کی وجہ اس کا وہ خواب تھا جو اب بھی اس کی آ نکھوں سے چپکا ہوا تھا ۔اسے تھوڑا ہوش آ یا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کا پورا بدن پسینے سے بھیگا ہوا تھا ۔
اس نے بڑا ڈرائونا خواب دیکھا تھا ۔جس کا اثر ابھی تک اس پر طاری تھا ۔ اس کا بدن ہولے ہولے لرز رہا تھا۔وہ خواب اسے پوری جزئیات کے ساتھ یاد تھا ۔اس نے دیکھا کہ وہ ایک سبز باغ میں چہل قدمی کے سے انداز میں آگے ہی آ گے بڑھتی جا رہی ہے ۔اس کے ارد گرد ہر طرح کے رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کا انتظار کر رہی ہے ۔ کس کا انتظار تھا یہ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔وہ جدھر بھی دیکھتی ہر جانب ہریالی تھی ۔ سر سبز و شاداب درخت ، جس میں قسم قسم کے پھل لگے ہوئے تھے ۔ خوبصورت پودے جن پر پھول کھلے ہوئے تھے ۔ خوبصورت سفید سنگ مر مر کی روشوںپر وہ دھیمے دھیمے سے قدم رکھتی چلی جا رہی تھی لیکن باغ ختم ہونے ہی میں نہیںآ رہا تھا ۔اچانک اسے احساس ہوا کہ اس کا سفید آ نچل وہاں تک پھیلا ہوا ہے ، جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا ۔ وہ جتنا آ گے بڑھتے اتنا ہی آ نچل پھیل جاتا ۔یوں جیسے کہیں پیچھے محل میں کسی نے اس کا آ نچل تھام رکھا ہو۔
وہ ایک فوارے کے پاس آ کر رک گئی ۔ اس میں سے نکلتا ہوا پانی پھوار کی صورت ہر جانب پھیل رہا تھا ۔ ایک رنگین دھنک اس کے اطراف میں پھیلی ہوئی تھی ۔ لیکن وہ اداس تھی ، کوئی آ نے والا تھا ۔ جس کی وہ منتظر تھی ، وہ سامنے نہیں آ رہا تھا ۔ لیکن اس کا احساس چاروں جانب پھیلا ہوا تھا ۔وہ جس فوارے کے پاس کھڑی تھی ۔ اس سے چاروں جانب سفید سنگ مر مر کے راستے جا رہے تھے ۔وہ تنہا کھڑی تھی ۔تبھی اس نے دیکھا، ایک سیاہ گھوڑا دلکی چال چلتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ وہ سوار کو پہچان نہیں پا رہی تھی ۔ وہ سیاہ لبادے میں تھا ۔ گھوڑے کے قدموں کی آ واز پورے باغ میں پھیلنے لگی تھی۔وہ اس طرف دیکھنے لگی ۔ اس کا تجسس یہی تھا کہ وہ گھڑ سوار کون ہے جو آ ہستہ آ ہستہ اس کے قریب آ تا چلا جا رہا ہے ؟
وہ گھڑسوار اس کے قریب آ کر رک گیا ۔ اس کا چہرہ سیاہ لبادے میں چھپا ہوا تھا ۔ وہ اس کی جانب تجسس بھرے انداز میں دیکھ رہی تھی ۔دونوں چند لمحے آ منے سامنے رہے پھر گھڑ سوار نے اپنے چہرے سے لبادہ ہٹایا تواس کی چیخ نکل گئی ۔ وہ کوئی انسا ن نہیں تھا ۔ انسان کے دھڑ پر کسی بھیانک جانور کا چہرہ تھا ۔ اس کے باہر نکلے ہوئے دانت تھے جن میں سے رال ٹپک رہی تھی ۔اس کی شعلہ اگلتی سرخ آ نکھیں اسے گھور رہی تھیں ۔اس کا تھوتھنی جیسا ناک پھنکار رہا تھا ۔ وہ دہل گئی تھی ۔ وہ قدم قدم پیچھے ہٹنے لگی ۔ وہ جتنا پیچھے جاتی ، وہ گھوڑا اتنا ہی آ گے لے آ تا ۔ وہ فوارے سے دور ہوتی چلی جا رہی تھی ۔تبھی گھڑ سوار نے اپنے سیاہ لبادے میں سے ہاتھ نکالا تو وہ نری ہڈیاں ہی تھیں ۔ سیاہ ہڈیاں ، جن پر گوشت کا شائبہ تک نہیں تھا ۔ وہ اس کی جانب بڑھا تو وہ بھاگ اٹھی ۔
وہ سفید سنگ مرمر کی روش پر بھاگتی چلی جا رہی تھی ۔ اس کا محل چند قدموں کے فاصلے پر رہ گیا تھا کہ وہ گھڑ سوار ایک دم سے غائب ہو گیا ۔ ایک پر ہول سناٹا ہر طرف چھا گیا تھا ۔ اس نے سکون کا سانس لیا ہی تھا کہ وہ پھر سے دہل گئی ۔ اس کے سامنے ایک دھویں کا مرغولہ سا اٹھ رہا تھا ۔ جس میں کئی رنگ برنگے سانپ اڑتے پھر رہے تھے ۔ وہ دھویں کا مرغولہ اس کے محل کے اطراف میں پھیلنے لگاتھا ، یہاں تک کہ سارے دورازے بند ہو گئے ۔وہ چیخ چیخ کر مدد کے لئے پکارنا چاہتی تھی ، مگر اس کے حلق سے کوئی آ واز نہیں نکل رہی تھی ۔کچھ ہی دیر میں اس دھویں کے مرغولے نے اس کے محل کو یوں نگل لیا، جیسے وہ محل وہاں پر تھا ہی نہیں ۔
وہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی کہ اب وہ کدھر جائے گی ۔ اس کے سامنے دھویں کا مرغولہ بھی اس کا محل نگل کر غائب ہو چکا تھا ۔وہ واپس پلٹی تو اس کا آ نچل پھر سے بڑھنے لگا ۔ وہ بھاگتی ہو ئی اس کی جانب بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔ وہ کسی کو مدد کے لئے پکارنا چاہتی تھی مگر اس کی آ واز نہیں نکل رہی تھی ۔وہ بھاگتی چلی جا رہی تھی ۔اچانک باغ ختم ہو گیا ۔ اس نے دیکھا وہ ایک بے آ ب و گیا سڑی ہوئی مٹی والے ایک پہاڑ پر کھڑی ہے ۔اس کے سامنے ایک بڑی ساری کھائی ہے ۔ جس میں کئی سارے ڈھانچے پڑے ہوئے ہیں ۔ وہ دہل گئی ۔ اس کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔ وہ پلٹی تو اس کے سامنے ایک سیاہ رنگ کی عورت کھڑی تھی ۔اس کے بدن پر لباس نہیں تھا ۔ وہ قہقہ لگا تے ہو ئے اس کی جانب بڑھی ۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی گردن پر ڈال کر د بانے لگی ۔ وہ تکلیف سے کراہنے لگی کہ اچانک اس کے آنچل نے اسے اس عورت سے بچا لیا ۔ تبھی اس کی آ نکھ کھل گئی ۔
ژ… ژ… ژ
کرامت شاہ آنکھیںبند کئے بیٹھا تھا۔ جب فاخرہ بڑی مودب سی اس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔ کرامت شاہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور اس وقت تک دیکھتا رہا ، جب تک وہ اس کے سامنے بیٹھ نہیں گئی ۔ کرامت شاہ نے اسے پریشان دیکھ کر عام سے لہجے میں پوچھا
’’کیا بات ہے فاخرہ، پریشان کیوں ہو ، کام نہیںہوا کیا؟‘‘
’’کام تو ہوا بابا جی ، پر ایسے تو نہیںچاہا تھا، جیسے ہو گیا۔‘‘وہ دھیمے سے لہجے میں بولی
’’کیا ہو گیا، بتائو گی کچھ؟‘‘اس نے اکتائے ہوئے انداز میں پوچھا تو فاخرہ حیران کن انداز میں بولی
اس بے چاری بچی کی تو جان پر بن گئی ہے، اسپتال جانا پڑا اسے ، ایسا سر درد ہوا اس کے… کہ کیا بتائوں ۔‘‘
’’ ارے فاخرہ …اسے کچھ نہیںہوتا ، یہ تو ابھی شروعات ہیں،ہم نے عمل ہی ایسا کیا ہے، دو چار دن صبر کرو، پھر دیکھنا ،ہوتاکیا ہے۔‘‘ کرامت شاہ نے بے پروائی سے کہا
’’دیکھنا بابا بیچاری کہیں…‘‘ اس نے کہنا چاہا تھا کہ کرامت شاہ غصے میں بولا
’’ کہہ جو رہا ہوں ، کچھ نہیںہوتا۔‘‘
’’ مان لیا کچھ نہیں ہوتا ، لیکن اسے تو اپنی پڑ گئی ، ہماری طرف کیسے مائل ہو گی ؟‘‘ پھوپھو نے اپنا اصل مدعا بیان کیا توبابا کرامت شاہ چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا
’’ ہاں ، یہ ہے اصل بات ۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ چند لمحے رکا پھر پاس پڑے اپنے صندوق میں سے ایک شیشے کی بوتل نکالی ۔اس میں چینی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ اس نے وہ بوتل سامنے رکھی اور اس پر کچھ پڑھنے لگا ۔ کچھ دیر پڑھتے رہنے کے بعد فاخرہ کی جانب بڑھا تے ہوئے بولا
’’ یہ لو۔‘‘
’’یہ چینی…؟‘‘ فاخرہ نے حیرت سے پوچھا توکرامت شاہ مسکراتے ہوئے بولا
’’میٹھی ہو تی نا… کسی طرح کھلا دو اسے۔ تمہارے ساتھ اسی طرح میٹھی ہو جائے گی۔ پھر دیکھنا۔‘‘
’’جی ، میں کھلا دوں گی۔‘‘فاخرہ نے یوں سر ہلاتے ہوئے کہا ، جیسے سب کچھ سمجھ گئی ہو ۔ اس نے وہ بوتل اپنے پرس میں رکھی ، پرس میں سے نوٹ نکال کر بابا کے سامنے رکھ دئیے۔ کرامت شاہ نے وہ نوٹ اٹھاتے ہوئے خوش کن لہجے میں کہا
’’ فاخرہ ، یہ بات تم بہت اچھی طرح سمجھتی ہو ، بس نوٹ دیتی جائو اور کام لیتی جائو ۔‘‘
اس پر فاخرہ ذراسامسکرائی اور اٹھ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی ۔ وہ وہاں سے پورے یقین کے ساتھ نکلی تھی ۔
فاخرہ واپس آ کر صوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی تھی جب بیگم ثروت اندر سے آ کر سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی
’’ کہاں گئی ہوئی تھی صبح سے ؟‘‘
’’ اے کیا بتائو ں، یہیں ساتھ والے پارک میں گئی تھی ، تمہیں توپتہ وہاں دوسری کئی آ جاتی ہیں میرے جیسی ۔ نہ کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی ۔ بس وہیں باتیں کرتے ہوئے پتہ ہی نہیںچلا۔اتنا دن چڑھ آیا ۔‘‘
’’آج پھر طلعت کا فون آیا تھا ، بتا رہی تھی ثانیہ بے چاری ابھی تک ٹھیک نہیںہوئی۔ کل پھر اسپتال جانا پڑا۔‘‘ بیگم ثروت نے انتہائی دُکھ سے کہا
’’ہائے ہائے …کیاہو گیا بے چاری کو۔‘‘ وہ واقعتاً حیرت زدہ ہوتے ہوئے بولی
’’کچھ سمجھ میں نہیںآ رہا، میرا توبہت دل چاہتا ہے ، میں اسے دیکھ کر آئوں، پتہ نہیںبے چاری کوکیا ہو گیا ہے ۔‘‘ وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولی
’’تو دیکھ آئو نا، آج ہی چلتے ہیں، چل میںبھی تیرے ساتھ چلتی ہوں۔‘‘فاخرہ فوراً تیار ہو گئی تو بیگم ثروت نے ہچکچاتے ہوئے کہا
’’وہ کہیں مراد علی ہی برا نہ مانے،ادھر شعیب ہے ،وہ نجانے …‘‘
’’اے ہے ، پھر کیاہوا ، اگر مراد علی نے ایک سنائی نا تو اب کے میںچار سنائوں گی۔ میں نہیں ڈرتی اس سے ، کیا بگاڑ لے گا ۔یہ بھلا کیا بات ہوئی ، رشتے ناتے بھی ٹوٹ جائیں گے کیا؟ اور شعیب کوبھی میں ہی سمجھا لوں ۔‘‘
’’دیکھ لو ۔‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے یقین کر لینا چاہا تو اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولی
’’ اس وقت اپنے آ فس میں ہوںگے ۔ ممکن ہے ان سے سامنا ہی نہ ہو ، انہیں پتہ ہی نہ چلے ، چل اٹھ ابھی چلتے ہیں۔‘‘
’’تو کیا ہمیںجانا چاہئے ، دیکھ لو؟‘‘ اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا تو پھوپھو فاخرہ نے تیزی سے کہا
’’تم تو اپنی بہن کا دکھ بٹانے جا رہی ہونا، ہم بے چاری پھول سی بچی کو دیکھنے جا رہے ہیں۔‘‘
’’ فاخرہ ، چل پھر چلتے ہیں۔‘‘بیگم ثروت بے چارگی سے کہا تو پھوپھو فاخرہ کھڑے ہوتے ہو ئے بولی
’’چلو، ابھی چلتے ہیں۔ تو آ ، میں ڈرائیور سے کہتی ہوں۔‘‘
وہ جانے کے لئے تیارہو گئی تھیں ۔
تقریباً دو گھنٹے بعدوہ ان کے ہاں جا پہنچیں ۔انہیں طلعت کے پاس بیٹھے زیادہ وقت نہیںہوا تھا کہ ثانیہ بھی وہیں آ گئی ۔ وہ چاروں بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔ثانیہ چند دنوں میں کملا گئی تھی ۔
’’بس کیا بتائوں ثروت، شاپنگ کے لئے گئے ہیں، وہیں اس کی پھر طبیعت خراب ہو گئی ، فوراً اسپتال گئے ، وہاں سے پھر گھر واپس آ ئے۔ میرا تو بہت دل گھبرا رہا ہے۔‘‘
’’ میری بیٹی کو کیا ہو گیا ہے۔ کس کی نظر کھا گئی ۔ چند دن ہی میںکملا کر رہ گئی ہے۔‘‘ پھوپھو نے پیار جتاتے ہوئے کہا۔
’’یہی سمجھ نہیںآ رہا کچھ بھی پتہ نہیںچل رہا۔‘‘ بیگم طلعت نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا
’’ اللہ کرم کرے گا ، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔‘‘ ثروت نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا تو ثروت نے ثانیہ سے کہا
’’ وہ دیکھو بیٹی، کسی سے چائے کا تو کہو ۔‘‘
’’میں خودچائے بھیجتی ہوں آپ کے لئے۔‘‘ ثانیہ نے اٹھتے ہوئے کہا تو فاخرہ نے چونک گئی ۔ اسے بڑا بہترین موقعہ مل گیا تھا ۔وہ سمجھ رہی تھی اور خود بھی حیرت زدہ ہو رہی تھی کہ کالا جادو اس قدر سر چڑھ کر بولتا ہے ۔اسے یقین ہو رہا تھا کہ اگر آج وہ باباکرامت کی دی ہوئی چینی انہیں کھلانے میں کامیاب ہو گئی تو پھر سمجھو کایا ہی پلٹ جائے گی ۔وہ اس موقعہ کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی تھی ۔ اس لئے جلدی سے بولی
’’ ارے بٹیا ، تم لوگ بیٹھو، باتیںکرو، میںبنا کر لاتی ہوں۔ اپنی بیٹی کو میںاپنے ہاتھوں سے پلائوں گی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ جلدی سے اٹھی اور کچن کی طرف چلی دی۔
فاخرہ نے بڑے دھیان سے چائے بنا ئی ۔ ٹرے میںدھرے ایک کپ کو اٹھایا پھر اِدھر اُدھر دیکھا۔ کسی کو نہ پاکر اس نے جلدی سے اپنے پرس میں سے پڑیا نکالی۔ اسے کھولا اور چینی چائے میںملا دی۔وہ کپ میں چمچ سے ہلاتے ہوئے مکاری سے مسکرا دی تھی ۔
پھو پھو ٹرے میں چائے کے مگ رکھے آ گئی۔جہاں وہ تینوں بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔ سب کو چائے دینے کے بعد وہ آخر میں ثانیہ کی طرف کپ بڑھا دیا ، سب کے ساتھ وہ بھی پینے لگی ہے ۔ سپ لینے کے بعدثانیہ بولی
’’پھوپھو چائے میںمیٹھا کچھ زیادہ نہیں ہے؟‘‘
اس پر فاخرہ پہلے تو گھبراگئی پھر فوراً ہی خود کو نارمل کرتے ہوئے زبردستی مسکرا کر بولی
’’ اچھا۔! بیٹا مجھے پتہ ہی نہیںچلا ، چل تو یہ سمجھ کر پی لے، اس چائے میںمیرا پیار بھی شامل ہے۔اس لئے زیادہ میٹھی بھی اچھی لگے گی ۔‘‘
’’اگر ایسا ہے تو پھر پی لیتی ہوں۔‘‘ ثانیہ نے مسکرا تے ہوئے کہا اور دوسرا سپ لے لیا۔فاخرہ کی جیسے جان میں جان آ گئی ۔
’’کتنی اچھی ہے میری بچی، خدا کرے نظر بد سے بچی رہے ۔‘‘ فاخرہ نے پیار سے کہا تو بیگم ثروت حسرت سے بولی
’’میری تو دعا ہے ثانیہ کی شادی ہو جائے تو میںبھی شعیب کی شادی کر دوں۔‘‘
’’کوئی لڑکی دیکھی ہے تم نے ؟کوئی نظر میںہے کیا؟‘‘بیگم طلعت نے نگاہیںچراتے ہوئے پوچھا۔
’’لڑکیاں تو کئی ساری ہیں میری نگاہ میں، پر شعیب بھی تو مانے۔ اب ثانیہ کی شادی ہو گئی نا ، پھر خود ہی مان جائے گا۔ نہیںمانے گا تو ہم منا لیںگی۔‘‘ بیگم ثروت نے حتمی انداز میں کہا۔
’’ اچھا ، میں ایک بات خاص طور پر اپنی بیٹی ثانیہ سے کہنے آ ئی ہوں ۔وہ بات یہ ہے کہ شعیب دل کا بڑا اچھا ہے ۔ ظاہر ہے اسے شاک لگا تو اس کاری ایکشن دے رہا ہے ۔ اس کی دھمکیوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ۔ جب تک میں ہوں ۔وہ کچھ نہیں کرے گا۔ مجھ پر یقین رکھو ۔‘‘ ثروت نے انہیںسمجھاتے ہوئے کہا۔
’’ وہ تو میں بھی سمجھتی ہوں لیکن یہ …‘‘ ثانیہ کہتے کہتے رک گئی
’’یہ کیا …؟‘‘ ثروت نے پوچھا
’’یہ ماما پاپاہی اس کی دھمکیوں کو زیادہ سر پر سوار کر چکے ہیں، ورنہ میں بھی جانتی ہوں وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔‘‘ثانیہ نے کہا توگویاوہاں ایک اطمینان سا پھیل گیا ۔
چائے پیتے ہوئے وہ اسی موضوع پر بات کرنے لگی تھیں ۔ فاخرہ کو ان کی کسی بات سے غرض نہیں تھی ۔ وہ تو بس یہی دیکھ رہی تھی کہ کسی طرح ثانیہ وہ چائے کا کپ خالی کر دے ۔وہ باتوں کے ساتھ ساتھ چائے پی رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد وہ چائے ختم کر چکی تھی ۔
وہ چاروں بیٹھی کافی دیر سے باتیں کر رہی تھیں ۔ ایک بار بیگم ثروت نے فاخرہ سے کہا بھی کہ واپس چلیں ، وہ اٹھنے ہی والی تھی کہ داخلی دروازے میں سے مراد علی اند رآ گیا۔ اس نے پہلے بیگم ثروت کو دیکھا ، پھر پر نگاہ ڈالی ۔ ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے غصے اور طنزیہ انداز میں اپنی بیوی سے بولا
’’ انہیں یہاں کیوں بٹھایا ہوا ہے ، جب میںنے منع کیا ہو ا ہے ان لوگوں کو تو پھر یہ کیوں آئیںہیں میرے گھر میں؟‘‘
یہ سنتے ہی فاخرہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ اس کے چہرے پر غصہ انڈ آ یا جبکہ بیگم ثروت کے چہرے پر ندامت چھا گئی ۔ بیگم طلعت کے چہرے پہ بے چارگی در آئی اور ثانیہ نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا۔ چند لمحے کسی نے بات تک نہ کی ۔ پھربیگم طلعت نے دبے دبے غصے میں کہا
’’کیا کہہ رہے ہیںآپ ،کیا قیامت آ گئی ہے۔یہ ثانیہ کی عیادت کو… ‘ ‘
’’ تمہارا کیا خیال مجھے میرے ہی گھر میں ہونے والی بات کی خبر نہیں ہوتی۔ یہ جس وقت یہاں آ ئیں میں اسی وقت اپنے آفس سے نکل پڑا تھا۔‘‘ اس نے حقارت سے کہا۔وہ ابھی کہہ ہی رہا تھا کہ بیگم ثروت اپنی بے عزتی پر رُو پڑی۔ فاخرہ نے شعلہ بار نگاہوں سے مراد علی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
’’اچھا نہیںکر رہے ہو مراد علی۔ ہم تو بچی کو دیکھنے آ گئے ۔ تمہیں یہ بھی برا لگا۔ یہ گھر ، جس سے تم آج ہمیںروک رہے ہو ، کس نے دیا، میرے بھائی نے، جب میرا بھائی تھا تو… ‘‘
’’چپ کر جا فاخرہ،ایک لفظ بھی مزید مت کہنا۔ آئو چلیں ۔ ‘‘ بیگم ثروت نے فاخرہ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے کہا تو فاخرہ بے قابو ہوتے ہوئے بولی
’’نہیں، میں ذرا اس سے بات کر ہی لوں۔ یہ کون ہوتا ہے ہمیں اس گھر سے روکنے والا۔ آج تک میں خاموش رہی ہوں ۔ کبھی جتایا نہیں اسے۔ کم از کم اس عورت کی تو عزت کرو ، جن کے تم پر اتنے احسان ہیں۔‘‘
’’لیکن میں اپنا گھر …‘‘مراد علی نے کہا چاہاتو فاخرہ نے غصے میں کہا
’’ تم ہو ہی احسان فراموش ،تم …‘‘
’’کون سا احسان جتا رہی ہو۔‘‘ مراد علی نے غصے میں کہا
’’جب تم میرے بھائی کے در پر پڑے رہتے تھے ۔ جس عورت کو اس گھر سے جانے کا کہہ رہے ، اسی کے ملازم تھے تم ۔یہ گھر بھی انہیں کے پیسوں سے بنا ہے ۔اللہ کی شان دیکھو ،کل کا ملازم آج …‘‘
’’خدا کے لئے فاخرہ، چپ ہو جائو، چلو یہاں سے‘‘بیگم ثروت نے روتے ہوئے اسے باہر کی جانب لے جاتے ہوئے کہا۔ فاخرہ اس کے ساتھ بڑھتی چلی گئی ۔ بیگم ثروت روتے ہوئے وہاں ہوئے نکلی تھی ۔فاخرہ نے جاتے ہوئے کہا
’’ مراد علی بہت پچھتائو گے ، بتارہی ہوں ۔‘‘
لائونج میں کھڑی ثانیہ اور بیگم طلعت بے بسی میں انہیں جاتا ہوا دیکھتی رہیں۔ مراد علی نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا ، جس کے چہرے پر غصہ پھیلا ہوا تھا۔
’’اپنا غصہ ختم کرو ، چلی گئی ہیں وہ ۔‘‘
’’مراد علی۔! میری بہن کس طرح رو کر یہاں سے گئی ہے ۔ احساس ہے آپ کو، اگر میں آپ کے کسی لگتے کو یہاں سے اس طرح ذلیل کر کے نکالوں تو…؟‘‘بیگم طلعت نے دھیمی آواز میں کہا
’’جب انہیں روکا گیا تھا، پھر کیا کرنے آئی تھیں وہ دونوں؟‘‘مراد علی نے ہٹ دھرمی سے کہا
’’وہ تو ثانیہ کی عیاد ت کو آ ئی تھیں ، وہ میری بہن ہے ، میں کیسے چھوڑ دوں اُسے…؟ میں نہیںچھوڑ سکتی اسے۔‘‘ اس نے حتمی لہجے میں جواب دیا
’’اس کا بیٹا جو یہاں دھمکیاں دے کر گیا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، بولو؟‘‘ اس نے تیز لہجے میں پوچھا توبیگم طلعت بولی
’’اس میںمیری بہن کا کیا قصور؟ کم از کم ثروت کے ساتھ آپ کو ایسا رویہ نہیںرکھنا چاہئے تھا، بہت دکھ ہواہے مجھے۔‘‘
’’ ہاں پاپا۔! آپ کوثروت خالہ کے ساتھ اس طرح پیش نہیںآ نا چاہئے تھا۔ ہمارے سوا ان کا آخر ہے کون؟‘‘ ثانیہ نے دُکھی لہجے میں کہا تو مراد علی نے یوں حیرت سے اس کی طرف دیکھا، جیسے اس نے کوئی انہونی بات کر دی ہو ۔ وہ چند لمحے ان دونوں کو حیرت سے دیکھتا رہا ، پھر غصے میںپلٹ کر باہر نکلتا چلا گیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خود کو ان سے نفرت کرنے سے روک کیوں نہیں پا رہا ہے ۔ آج تو اس کی بیٹی نے بھی اسے غلط کہہ دیا ۔
ژ… ژ… ژ
ذیشان کے آ فس میں ڈاکٹر ظہیر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ عشناء بھی تھی ۔ جب ڈاکٹر ظہیر آ یا تو ذیشان نے عشناء کو بھی بلا لیا ۔ ان تینوں کے چہروں پر گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ اس خاموشی کو ذیشان نے توڑتے ہوئے کہا
’’یار مجھے یہ سمجھ نہیںآ رہی ،آخر ثانیہ کو ہوا کیا ہے؟ وہ اب تک نارمل کیوں نہیں ہو رہی ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ ظہیر نے سنجیدگی سے پوچھا
’’مطلب… وہ بات بات پر غصہ کرتی ہے۔ جیسے وہ کچھ بھی برداشت نہیںکر پارہی ہے۔ذرا سی بات پر ہائیپر ہو جاتی ہے۔‘‘
’’یہ تمہارا اندازہ ہے یا تمہیںیقین ہے؟‘‘عشناء نے پوچھا
’’مجھے یقین ہے۔‘‘ وہ بولا
’’ کیسے ؟ یہ تو بتائو ۔‘‘ ظہیر نے پوچھا
’’ یار میں نے اسے فون کیا ، اسے کہا کہ ماما تمہاری طرف آ نا چاہتی ہے ۔ وہ شادی کی شاپنگ کرنا چاہتی ، تم سے تمہاری پسند کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہے ، مگر اس نے بات تو کی لیکن اس قدر روکھے انداز میں جیسے میں اس کے لئے اجنبی ہو گیا ہوں ۔‘‘ ذیشان نے دکھ سے کہا
’’ آنٹی کو بتایا؟‘‘ ظہیر نے پوچھا
’’ وہ تو ، میں اب اسی الجھن میں ہوں ، کیا کروں ، ماما کو بتائوں یا نہ بتائوں ؟‘‘ وہ پریشانی میں بولا
’’ بتانا تو پڑے گا ، ورنہ آنٹی کیا سوچیں گی۔‘‘ عشناء نے سوچتے ہوئے کہا
’’ اسی لئے تو تم دونوں سے بات کر رہا ہوں ۔‘‘ وہ بے بسی میں بولا
’’مسئلہ وہی ہے ،اتنی جلدی شادی ہو جانے پر وہ کمپرومائیز نہیں کر پارہی ۔ ہرلڑکی کے خواب ہوتے ہیں۔اس نے بہت کچھ سوچا ہوتا ہے۔ کیوں عشناء؟‘‘ظہیر نے اسی سکون سے وضاحت کرتے ہوئے رائے لی
’’بالکل ، وہ ان خوابوں کے ٹوٹ جانے پر ڈسٹرب ہوتی ہے ۔ بلکہ خود ٹوٹ جاتی ہے۔اس وقت ثانیہ کو بہت زیادہ محبت اور کیئر کی ضرورت ہے۔‘‘عشناء نے کہا توذیشان اسے مخاطب کرتے ہوئے بولا
’’پھر تم ہی اس سے بات کرو،اسے سمجھائو۔اگر وہ اتنی جلدی شادی پر کمپرو مائیز نہیں کر پارہی تو شادی لیٹ کر لیںگے۔‘‘
’’اس میںکوئی حرج بھی نہیں ہے۔ثانیہ جسمانی طور پر صحت مند ہے لیکن اس کا پرابلم نفسیاتی ہے۔اس بات کا خیال رہے۔‘‘ظہیر نے سمجھانے والے انداز میں کہا
’’ٹھیک ہے ۔ میںبات کرتی ہوں اس سے ۔ آج ہی جا کر اسے سمجھاتی ہوں ۔‘‘ اس نے سرہلا کر کہا جیسے وہ بات کو سمجھ رہی ہو ۔
’’اچھا یار ، میںچلتا ہوںمجھے اسپتال پہنچنا ہے۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گیا ۔ تبھی ذیشان نے عشناء کی طرف دیکھ کر کہا
’’ تم ابھی چلی جائو ثانیہ کی طرف اور مجھے آ کر بتائو ، تاکہ پھر ماما سے بات کی جا سکے ۔‘‘
’’ اوکے میں جاتی ہوں ۔‘‘
اس کے ساتھ ہی عشناء بھی آفس سے باہر نکل آ ئی ۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ ثانیہ کے گھر میں ان کے لائونج میں صوفے پر بیٹھی ہوئی ثانیہ کے آ نے کا انتظار کر رہی تھی ۔ کافی دیر بعد جب وہ لائونج میں آئی تو ثانیہ کاچہرہ کافی تَنا ہوا تھا۔ اس نے سامنے والے صوفے پر آ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا
’’ بولوکیسے آ ئی ہو آپ ؟‘‘
’’مجھے تمہاری طبیعت کے بارے میں پتہ چلتا رہا ہے، لیکن دفتر کے کام ہی اتنے تھے کہ آ ہی نہ سکی۔ آج وقت ملا تو پہلی فرصت میںآگئی ۔ سنائو اب کیسی ہو؟‘‘ وہ خوشگوار لہجے میں بولی تو ثانیہ نے کافی حد تک طنزیہ لہجے میں کہا
’’لیکن مجھے نہیںپتہ چلا تمہارے بارے میں؟ کیا کر رہی ہو تم ،خیر اچھا کیا تم آ گئی ۔‘‘
’’ماشا اللہ ، تم بالکل صحت مند ہو ،ڈاکٹر ظہیر آج آفس ہی آ گیا تھا۔ میری اور ذیشان کی تمہارے بارے میںتفصیل سے بات ہوئی ۔ وہ کہہ رہا تھا … ‘ ‘ عشناء اس کی بات بالکل بھی نہ سمجھتے ہوئے اپنی رو میں کہتی چلی گئی تھی کہ ثانیہ اس کی بات کاٹ کر بولی
’’ تم اور ذیشان ، دونوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رکی جیسے اس وقفہ میں وہ برداشت کررہی ہو ، پھر طویل سانس لے کر بولی ،’’ جب تمہیں ڈاکٹر ظہیر سے میرے ٹھیک ہو جانے کے بارے میں پتہ چل گیا تھا، پھر تم نے یہاں آنے کی زحمت کیوں کی؟‘‘
’’ میں سمجھی نہیں، یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘عشناء نے چونکتے ہوئے پوچھا تو طنزیہ لہجے میں بولی
’’ اب بھی سمجھ جائو ،تو اچھا ہے۔ میری بیماری کا ناجائز فائدہ مت اٹھائو۔‘‘
’’ جو تم سمجھ رہی ہو ، وہ بالکل نہیںہے۔ میں تمہیںیہ سمجھانا چاہ رہی تھی کہ تم بالکل ٹھیک ہو۔‘‘عشناء مسکراتے ہوئے بولی اس پر ثانیہ نے چیختے ہوئے غصے میں بے قابو ہو کر کہا
’’یہ تو مجھے پتہ ہے ۔تم کیا سمجھانا چاہتی ہو مجھے،میرے مر جانے کا انتظار کر رہی ہو۔ جائوچلی جائو یہاں سے۔‘‘
’’ ثانیہ ، کیا ہو گیا ہے تمہیں؟‘‘عشناء نے مسکراتے ہوئے کہا
’’میںکہہ رہی ہوں ، چلی جائو یہاں سے۔ میری حالت کا تماشا کرنے آئی ہو ۔ ہنستی ہو مجھ پر، نکل جائو ۔‘‘ثانیہ نے چیختے ہوئے کہا
اس کے ساتھ ہی اس کے سر میں درد کی شدید لہر اٹھی ۔ وہ اپنا سر پکڑ کے زور زور سے دبانے لگی ۔ شدید درد کے احساس سے وہ چکرا کر گر گئی ۔ عشناء ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔وہ حواس باختہ ہو گئی تھی ۔
شاید نوکرانی نے ثانیہ کو چیختے ہوئے سنا تھا، اس لئے وہ تیزی سے لائونج میں آ ئی تھی۔مگر جب اس نے ثانیہ کو صوفے پر گرے ہوئے دیکھا تو بھاگتی ہوئی اس کی جانب بڑھی ۔ عشناء کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔ اسے کچھ سمجھائی نہ دیا تو وہ ذیشان کو کال کرنے لگی ۔
ژ… ژ… ژ
شعیب اپنے آفس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے اس کا دوست صوفے پر بے ترتیب نیم دراز تھا ۔سامنے میز پر چائے پڑی ہوئی تھی ، جس کے ساتھ کافی سارے لوازمات دھرے ہوئے تھے ۔ شعیب بہت افسردہ اور پریشان دکھائی دے رہا تھا ۔ ان کے درمیان خاموشی کافی طویل ہو گئی تو دوست نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
’’یار شعیب۔! تم کس طرح مایوس بیٹھے ہوئے ہو ۔ابھی تو ثانیہ کی ذیشان سے شادی میںبڑا وقت پڑا ہے،بلکہ کہاں ہونی ہے یہ شادی ، ہم تو نہیںہونے دیں گے ۔اگر تم کچھ نہیں کر سکتے ہو تو پھر ہمیں بتا دو۔‘‘
’’کیاکرو گے تم ؟‘‘شعیب نے قدرے غصے میں پوچھا تو دوسرا دوست بڑی سنجیدگی سے بولا
’’ کچھ بھی ۔ ثانیہ کو اغوا کر لیتے ہیں۔اپنے فار م ہا ئوس پر لاکر ا س کی شادی تم سے کروا دیتے ہیں۔پھر دیکھتے ہیں وہ مراد علی کیا کرتا ہے ۔ اسے بھی دیکھ لیں گے، لگے ہاتھوں۔یا پھر…ذیشان ہی کا پتّہ صاف کر دیتے ہیں …جب وہ ہی نہیںرہے گا تو ثانیہ بھابی کی شادی کس طرح ہو گی؟یہ اپنے یار شعیب سے ۔ سات دن تو بہت ہیں، ارے صرف دو دن…صرف دو دن۔‘‘ دوست اپنی گردن پر انگلی پھیرتے ہوئے قتل کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’نہیں،میں ایسا کچھ نہیںکروں گا۔‘‘شعیب نے سوچتے ہوئے کہا تو دوست نے حیرت سے پوچھا
’’تو پھر تم کرنا کیا چاہتے ہو،یار ثانیہ بھابی تمہارے بچپن کی منگیتر ہے،اسے کیسے چھوڑ دو گے تم ؟‘‘
’’چھوڑ نہیںرہا یار۔ میں اسے چھوڑ سکتا ہی نہیں۔وہ میری محبت ہے لیکن اب … وہ میری اَنا بن گئی ہے ۔‘‘شعیب نے کہا
’’مان لیا،لیکن کیسے حاصل کرو گے ؟‘‘ دوست نے پوچھا
’’میں ثانیہ کو اس کی مرضی سے حاصل کرنا چاہتاہوں۔‘‘ وہ پر سکون لہجے میں بولا
’’تو پھر تم خواب دیکھ رہے ہو۔جھوٹا خواب ۔ایسا کبھی نہیں ہو گا ۔ ناممکن … ‘‘ دوست نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا
’’مجھے ایک بار کوشش کر لینے دو۔‘‘ شعیب نے کہا تودوست نے گہری سنجیدگی سے پوچھا
’’ باس ، اب تک تم نے یہ نہیںبتایا کہ کرنا کیا ہے، اور دن پر دن گزرتے جا رہے ہیں۔‘‘
’’یار، ایک تو میری ماما مجھے کچھ نہیںکرنے دے رہی ہیں۔ بات بات پر خود کشی کی دھمکی دے دیتی ہیں۔‘‘ وہ بے بسی سے بولا
’’اور وہ جوتمہاری پھوپھو ہے ، وہ کیا کہتی ہے۔‘‘ دوست نے پوچھا
’’وہ تو حوصلہ دیتی ہے، کہتی ہے کہ کچھ دن صبر کرو۔‘‘ شعیب نے بتایا تو دوست نے مایوسی سے کہا
’’تجھ سے کچھ نہیںہو گا، یہ مجھ سے لکھوا لو۔‘‘
’’لیکن میں کچھ اور سوچ رہا ہوں۔‘‘شعیب نے کہا
’’وہ کیا؟‘‘ اس نے پوچھاتوشعیب نے خیالوں میںکھو کر گہرے لہجے میں کہا
’’یار یہ جو منگنی کے فوراً بعد ثانیہ اسپتال جا پہنچی ہے،ڈاکٹر کہتے ہیں ٹینشن لی ہے ، مجھے لگتا ہے ، یہ ٹینشن ایویں نہیں ہے ، ثانیہ دل سے مجھے چاہتی ہے، محبت کرتی ہے مجھ سے ۔ مجھے یقین ہے وہ میرے بغیر نہیںرہ سکتی۔‘‘
دوست اس کی طرف حیرت سے شعیب کی طرف دیکھتے مسکرا دیا پھر بولا
’’دیکھ لے، کہیں دھوکا نہ کھا جانا۔‘‘
’’اُو نہیں یار،میرا دل کہتا ہے ۔‘‘ شعیب یہ کہتے ہوئے ہنس دیا تو دوست نے کہا
’’ خیر ، جو تم چاہو ، ہم تو تمہارے لئے ہر طرح سے حاضر ہیں۔ ہمیں جو بھی کرنا پڑا، کر دیں گے ، بس تم حکم کرنا باقی ہمارا کام ہے ۔‘‘
’’ تمہیں ہی کہوں گا ۔‘‘شعیب نے خیالوں میں کھوجاتے ہوئے کہا اور چائے کے کپ کی جانب ہاتھ بڑھا دیا۔
سہ پہر کے بعد جب شعیب گھر پہنچا تو لائونج میں کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اندر چلا گیا۔ دوسری طرف لان میں اس کی ماما کے ساتھ پھوپھو فاخرہ بیٹھی ہوئی تھیں ۔ شعیب نے صاف دیکھ لیا کہ اس کی ماما رو رہی ہے ۔ اسے دیکھتے ہی اپنے آ نسو صاف کرتے ہوئے بولیں
’’آ گئے بیٹا۔‘‘ان کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔ شعیب نے ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے دبے دبے غصے میں پوچھا
’’مجھے صرف یہ جاننا ہے کہ آ پ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘
’’ کچھ نہیں۔‘‘ بیگم ثروت اس سے نگائیں چراتے ہوئے بولی تو شعیب نے پھوپھو فاخرہ کی طرف دیکھا۔وہ چند لمحے خاموش رہیں پھر اس نے مراد علی کے رویے کے بارے میں ساری بات کہہ دی ۔ وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر خود پر قابو پا کر بولا
’’ پلیز ماما مت روئیں ۔ آپ کو جانا ہی نہیںچاہئے تھا،میںانکل مراد علی کو بڑا سمجھ کر نظر انداز کر رہا تھا لیکن اب مجھے لگتا ہے۔ اس کا دماغ ٹھیک کرنا ہی پڑے گا۔ اسے دولت کا جو خمار ہے نا ، وہ میں ہی اتار وں گا ۔ اسے اس کی اوقات سمجھانا ہی پڑے گی۔‘‘
’’شٹ اپ شعیب، کیا تم تمیز سے بات کرنا بھول گئے ہو ؟‘‘بیگم ثروت روتے ہوئے کہا توشعیب بھنّاکربولا
’’ماما۔! جب وہ شخص آپ کی تذلیل کر رہا تھا، تب اسے کسی رشتے ناتے کی شرم نہیںآ ئی ۔اب مجھے مت روکیں۔صرف آپ کے کہنے پرمیں نے اس بندے کو بہت برداشت کر لیا،اب نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
’’مراد علی کے دیدوں میں تو پانی ہی نہیںرہا۔ کہتا ہے اس گھر میں برداشت نہیںکر سکتا ،کوئی پوچھے ، وہ گھر کس نے دیا اس ناہنجار کو ۔مجھے تو بہت غصہ آرہا ہے اس پر ۔‘‘پھوپھو فاخرہ تلملاتے ہوئے یوں بولی جیسے اس سے برداشت نہ ہو رہا ہو ۔ تب بیگم ثرو ت نے بے بسی سے کہا
’’بس کر فاخرہ،ختم کروغلطی ہماری تھی۔ہم کیوں گئے اس کے گھر۔نہ جاتیں تو ایسا نہ ہوتا۔‘‘
’’لیکن اس مراد علی کو اب میںچھوڑنے والا نہیں،ماما جب تک اس نے آپ سے معافی نہ مانگی، تب تک، وہ بہت پچھتائے گا۔ ‘‘
’’تم کچھ نہیں کروگے شعیب،میںکہہ رہی ہوں۔‘‘بیگم ثروت نے خوف زدہ ہو کر کہا
’’نہیںماما، بہت مان لی آپ کی ،اس معاملے میںکوئی سمجھوتہ نہیں،میں اسے بتانا…‘‘شعیب نے غصے میں کہا توپھوپھو فاخرہ نے چونکتے ہوئے کہا
’’ نہیںبیٹا۔!صبر کرو۔ ابھی کچھ نہیں کرنا۔ میںنے پہلے بھی تمہیں سمجھایا تھا۔ تم سمجھ رہے ہو نا میری بات۔‘‘
’’ مگر کیوں ، اب میں آپ کی بھی نہیں مانوں گا ۔ میںاس سے بدلہ …‘‘
’’ پہلے بات تو سنو ۔ ‘‘ ماما نے جھڑکتے ہوئے کہا
’’ سنائیں ۔‘‘ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
’’ ثانیہ پھر سے اسپتال جا پہنچی ہے ۔ اس وقت وہ وہیں پر ہے ، مجھے فون کیا تھا طلعت نے ، معافی مانگ رہی تھی بے چاری ،‘‘ ماما نے کہا اور گہری سانس لے کر رہ گئی ۔شعیب اس اطلاع پر چونکا اور کچھ کہے بنا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ وہ دونوں خوف زدہ سے انداز میں اسے دیکھتی رہ گئیں ۔
شعیب نے اپنی کار اسپتال کی پارکنگ میں روکی ۔ سیٹ پر پڑا ہوا پھولوں کا بوکا اٹھایا ۔ پھر اپنی جیب کو ٹٹولا ، جس میں پسٹل پڑا ہوا تھا۔ وہ سوچ کر آ یا تھا کہ آ ج وہ کچھ نہ کچھ کر کے جائے گا ، چاہے کچھ ہو جائے ۔ وہ گاڑی سے اترا اور تپتے ہوئے دماغ کے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گیا ۔ اس کے ذہن میں یہی بات تھی کہ وہ مراد علی اس کے ساتھ چاہے جیسا مرضی سلوک کر لے ، وہ برداشت کیا جاسکتا تھا لیکن اس کی ماما کے ساتھ کوئی بد تمیزی کرے یہ اس سے برداشت نہیں ہو سکتا تھا ۔اس کے دماغ میں جو آ یا تھا، وہ اسی سوچ کے تحت وہاں جا پہنچا ، جہاں سامنے ثانیہ بیڈ پرلیٹی ہوئی تھی۔
اس کی آ نکھیںبند تھیں۔اس کے گیسو تکیے پر بکھرے ہوئے تھے ۔ گیسوئوں کے ہالے میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ شعیب کمرے میںداخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں پھول تھے۔ بیگم طلعت نے اس کی طرف چونک کر دیکھا ۔ شعیب نے اس کی جانب نہیں دیکھا بلکہ ثانیہ پر نگاہیںٹکائے آگے بڑھتا چلا گیا ۔ وہ ثانیہ کے قریب جا کر کھڑا ہوگیا ۔چند لمحے اسے دیکھتا رہا ۔ پھر اس کے پاس سائیڈ ٹیبل پر پھول رکھ دئیے ۔ چند لمحے کھڑا ثانیہ کے چہرے پر بہت جذباتی انداز میںدیکھتا رہا پھر واپس پلٹ گیا۔ پلٹتے ہی اس کا سامنا بیگم طلعت سے ہوگیا ۔ شعیب اس کے پاس آ کر ٹھہر گیا۔ وہ چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ۔ بیگم طلعت کا تنا ہوا چہرہ نرم ہو گیا تو شعیب نے دھیمے سے لہجے میں کہا
’’ بتا دیں مراد علی کو ، میں آیا تھا۔یہ اس کی قسمت اچھی نکلی جو وہ یہاں نہیں ملا۔اب اگر اس میں ہمت ہے تو میرا سامنا کرے ۔ میں سب کچھ قربان کرسکتا ہوں لیکن اپنی ماما کی آ نکھوں میں آ نسو برداشت نہیں کر سکتا ۔ یہ آپ بھی جانتی ہیں۔میں اپنی ماما کے ایک ایک آ نسو کا حساب اس سے لینے والا ہوں ۔ بتا دیجئے گا اسے ۔‘‘
یہ کہہ کر شعیب وہاں سے چلتاچلا گیا۔ بیگم طلعت ایک تبدیل ہوئے شعیب کو دیکھتی ہی رہ گئی اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیںنکلا تھا ۔اسے کمرے سے گئے چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ ثانیہ نے آ نکھیں کھول دیں۔ اس نے پھولوں کو دیکھا اور بڑی نرماہٹ سے اس پر ہاتھ پھیرنے لگی ، تبھی بیگم طلعت نے جھجکتے ہوئے بتایا
’’ وہ … شعیب آیا تھا۔‘‘
’’ پتہ ہے ۔‘‘ثانیہ مسکراتے ہوئے بولی توبیگم طلعت حیران رہ گئی۔ وہ آ نکھیں پھاڑے اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی ۔ وہ چند لمحے وہاں کھڑی رہی پھر باہر نکل گئی ۔ثانیہ نے پھول اپنے ساتھ رکھ لئے تھے اور وہ خیالوں میں کھو گئی تھی یوں جیسے ان لمحوں کو یاد کر رہی ہو ۔
پہلی محبت انسان کو کبھی نہیں بھولتی ۔پہلی بار جب شعیب کا نام اس کے نام کے ساتھ جڑا تھا ، وہ پوری دنیا میں ایک الگ ہی مقام اختیار کر گیا تھا ۔لڑکپن تک وہ اسی کا نام سنتی رہی تھی ۔ پھر اس کے باپ کی نفرت نے اسے شعیب سے متنفر کر دیا تھا ۔ شاید وہ اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شعیب کا نام مٹا نہیں پائی تھی ۔
ژ… ژ… ژ
فاخرہ بہت زیادہ ہی خوف زدہ ہو گئی تھی ۔ جیسے ہی شعیب گھر سے نکلا ، وہ بھی بہانہ کر کے سڑک پر آ گئی ۔ اس نے جلدی میں ایک ٹیکسی پکڑی اور سیدھی کرامت شاہ کے پاس جا پہنچی ۔ اسے کرامت شاہ تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ گیا تھا ۔ وہ اپنے کمرے میں آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھاتھا۔ اس کے لب ہولے ہولے ہل رہے تھے۔پھوپھو فاخرہ کمرے میںداخل ہو کر بیٹھ گئی تو اس نے آنکھیںکھول کر اسے دیکھا۔ پھرخباثت سے مسکراتے ہوئے مزہ لینے والے انداز میںپوچھا۔
’’بول فاخرہ…خوش خبری سنا، ٹوٹ گئی منگنی کیا؟‘‘
’’ نہیں بابا۔! منگنی کیا ٹوٹنی ہے اس بچی کا تو بہت برا حال ہو گیا ہے۔ بے چاری کو پھراسپتال لے گئے ہیں۔بابا، میرا مقصد اسے مارنا تو نہیں ہے ۔وہ پھول سی بچی…‘‘ فاخرہ نے ڈرتے، جھجکتے ہوئے بتایا۔
’’ارے نہیں، میں کون سا اسے مار رہا ہوں، یہ کالا جادو ہے،اس کا اپنا طریقہ ہے، جس میںکسی کا بھلا نہیںہوتا۔ تم نے کہا منگنی ٹوٹ جائے تو وہ ٹوٹ جائے گی، فکر نہ کر ۔‘‘ اس نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا ۔
’’بابا، صرف منگنی ہی نہیںتڑوانی ، اس بچی کی شادی شعیب سے کروانی ہے ،بہو بنانا چاہتی ہوں میں اُسے، کہیں وہ پاگل ہو گئی تو؟مر گئی تو؟ اور … وہ شعیب …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو کرامت شاہ اس کی بات کاٹ کر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’ ارے ، کچھ نہیںہوتا۔ایک طرف جلدی بھی کر رہی ہو ،ایک طرف ڈر بھی رہی ہو ،اب کچھ نہیںہوتا اسے۔ ٹھیک ہوجائے گی ۔‘‘
’’ بابا بات تو سن نا ، وہ شعیب تو مرنے مارنے پر اتر آ یا ہے ، وہ گیا ہے مراد علی سے جھگڑنے تبھی میں آ ئی ہوں اس وقت ۔‘‘ فاخرہ نے تیزی سے کہا۔
’’ کچھ نہیں ہوتا ، تم فکر نہیں کرو ،سب ٹھیک ہو جائے گا ‘‘ اس بار وہ سنجیدگی سے بولا تھا ۔
’’ میں چاہتی ہو ںشعیب سے اس کی شادی بھی ہوجائے ،وہ…‘‘پھوپھو فاخر نے کہا تو کرامت شاہ بولا۔
’’ ہو جائے گی ۔ بالکل ہو جائے گی۔فکر نہ کر ، لیکن … اگر تو بہت جلد یہ سب کچھ کروانا چاہتی ہے تو پھر یہ عمل بڑا ہی بھاری ہے۔اس لئے چڑھاوا بھی بڑا ہی دینا پڑتا ہے۔‘‘
’’ پہلے میں نے کبھی ایک روپیہ بھی کم دیا ،چڑھاوا دوں گی جو بولو،میں کب انکار کر رہی ہوں؟ پہلے کبھی انکار کیا ہے۔ بولو۔‘‘ فاخرہ نے تیزی سے کہا۔
’’ تو سنو پھر ۔! جس طرح کمان سے نکلا ہوا تیر اپنے ہدف پر لگتا ہے نا ، اسی طرح تمہاری خواہش کے مطابق کا م ہوگا مگر چڑھاوا ذرا مختلف قسم کا ہے ۔‘‘ وہ انتہائی خباثت سے مسکراتے ہوئے بولا ۔
’’ آ پ بولو تو بابا، کیسا ہے یہ چڑھاوا ؟‘‘
’’ چڑھاوے کی رقم تو ہوگی لیکن اس کے علاوہ ایک کنواری لڑکی کا بندو بست کرنا ہوگا۔‘‘ اس نے اپنے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔
’’کنواری لڑکی…؟‘‘ فاخرہ نے حیرت سے پوچھا توکرامت شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کنواری لڑکی پر عمل کرنا ہوگا،پھر یہ دیکھنا، چند دن میںہی تیرے بھتیجے کی شادی کیسے ہو تی ہے۔ جتنی جلدی لے آ ، اتنی جلدی عمل کر دوں گا، پھر اتنی جلدی شادی بھی ہو جائے گی ۔ ہتھیلی پر سرسوں جما دوں گا ، آ زمائش شرط ہے ۔‘‘
’’یہ کنواری لڑکی ، کیسے کروں گی ۔ کہاں سے تلاش کروں۔ خیر،ٹھیک ہے، میں کرتی ہوںبندو بست۔‘‘وہ بے بسی سے بولی تو اس نے کہا۔
’’جس دن یہ سب لے آئو گی ، اسی دن عمل شروع کر دوں گا۔دن کے وقت اس لڑکی پر اور رات کے وقت دریا میںکھڑے ہو کر عمل کرنا ہے ، تین دن میں کام، گارنٹی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ، اب میںچلتی ہوں۔ پر وہ بچی بے چاری …‘‘ وہ منمناتے ہوئے بولی۔
’’ کچھ نہیںہوتا ، کہا ہے نا ۔‘‘ اس بار وہ رعب سے بولا تو فاخرہ نے کافی سارے نوٹ اس کے سامنے رکھ دئیے ۔ کرامت شاہ نے ان نوٹوں کی طرف دیکھ کر کہا ۔
’’ اٹھا لے یہ نوٹ ، اب ایک بار ہی لوں گا۔ لے جا یہ۔‘‘
فاخرہ نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ وہ نوٹ پرس میں رکھ کر اٹھی اور واپس چلی گئی ۔ کرامت شاہ کے چہرے پر یوں خباثت بھری مسکان بکھر گئی جیسے صیاد اپنے شکار کر دیکھ کر مسکراتا ہے ۔
سورج ڈھلنے تک وہ واپس آگئی ۔ کوئی انہونی خبر نہ سننے پر وہ مطمئن ہو گئی ۔ شعیب بھی اپنے کمرے میں تھا۔رات کا کھانا کھا نے وہ سب اکٹھے ہوئے تب بھی کوئی بات نہ ہوئی تو اس نے سکون کا سانس لیا۔وہ تھوڑی دیر بیگم ثروت کے پاس بیٹھ کر واپس اپنے کمرے میں آ گئی ۔
وہ بیڈ پر بیٹھی انتہائی پر یشان تھی ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ اتنی بڑی رقم کہاں سے لوں گی ؟شعیب سے مانگوں تو سب پتہ چل جائے گا۔یہ میں وہیں سے لے لیتی ہوں،جہاں سے پہلے لیتی ہوں۔ یہ سوچ کر وہ کا فی حد تک مطمئن ہو گئی ۔ اس سے چڑھاوا چڑھ جائے گا، جو بھی لینا ہوگا وہ خود ہی لے لے گا۔ پھر ایک دم سے پریشان ہو کر سوچنے لگی ، لیکن یہ… کنواری لڑکی… یہ میںکہاں سے لائوںگی ؟ یہ کہیں رستے میںپڑی ہوئی ہے۔یہ تو ناممکن بات ہے، بابا سے بات کروں گی ، خود ہی کر لے کہیں سے بندوبست، میںکہاں سے لائوں ۔ کہیںوہ … انکار نہ کردے۔بات کر کے دیکھتی ہوں اس سے۔ لیکن پہلے رقم کا تو بندو بست کرلوں۔ پیسہ پھینک کر کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔یہ سوچ کر وہ اطمینان سے اٹھی گئی۔
بیگم ثروت کے بیڈ روم میں ملجگا اندھیرا تھا ۔ فاخرہ یہ بات اچھی طرح سے جانتی تھی کہ ثروت رات جب دوا کھا لے تو گہری نیند سو جایا کرتی تھی ۔ دوا کھلانے کی ذمہ داری اسی کی ہوتی تھی ۔ ثروت گہری نیند سو رہی تھی ۔ فاخرہ گھبرائی ہوئی کمرے میںداخل ہو گئی۔ وہ کچھ دیر کھڑی ثروت کی طرف دیکھتی رہی جو کروٹ لئے گہری نیند میں تھی ۔ پورا اطمینان کر لینے کے بعد وہ ایک الماری کے پاس گئی۔ اسے بڑی احتیاط سے کھولا اور اس میںسے چابیاں نکال لیں۔ پھر اس چابی سے الماری کھو ل لی۔ سامنے نوٹوں کی گڈیاں پڑی ہوتی تھیں۔ اس کے ساتھ زیوارت کے ڈبے بھی پڑے تھے ۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر صرف نوٹوں کی چند گڈیاں اٹھائیں ۔انہیں اپنے آنچل میں چھپا کرتیزی سے وہ الماری بند کردی ۔ چابیاں واپس اسی جگہ پر رکھ کر اطمینان سے واپس چلی گئی۔ چڑھاوے کے لئے رقم کا وہ بندو بست کر چکی تھی ۔
اگلی صبح فاخرہ کاریڈور میں بیٹھی ہوئی چائے پی رہی تھی۔ اس کے ذہن میں یہی تھا کہ وہ بابا کرامت کے پاس جائے گی ، اسے رقم دے کر کہے گی کہ کسی بھی کنواری لڑکی کا وہ خود بندو بست کر لے ۔ وہ کہاں سے لائے گی ۔ اتنی بڑی رقم دیکھ کر بابا اسے منع نہیں کر پائے گا ۔ وہ مطمئن تھی اور تھوڑی دیر بعد بابا کے پاس جانے کے لئے نکلنے والی تھی ۔وہ اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ ایک جوان سال لڑکی گیٹ کے اندر آ گئی ۔
فاخرہ نے اسے غور سے دیکھا۔ اگرچہ وہ اپنے حلیے سے ایک غریب لڑکی دکھائی دے رہی تھی ۔لیکن وہ کافی نکھری ہوئی اور اچھی لگ رہی تھی۔ وہ جیسے جیسے قریب آتی گئی ، فاخرہ اس پر نگاہیں جمائے اسے دیکھتی رہی ۔ اسے وہ لڑکی بلا کی حسین لگی تھی۔ اس نے چشم تصور میں دیکھا تو ایک دم سے اس لڑکی کے کپڑے تبدیل ہوگئے ۔ کچھ میک اپ کیا ہوا ، بدلی ہوئی ، جیسے بہت ماڈرن سی لڑکی ہو ۔ یہ فاخرہ کی نگاہ کا کرشمہ تھا۔ اس نے تصور میں جو دیکھا تب فاخرہ کی آ نکھیںچمک گئیں۔ وہ مسکرا اٹھی۔اس کے چہرے پر مکاری آ گئی یہاں تک کہ اُس کے منہ سے سرسراتے ہوئے نکلا ۔
’’کنواری لڑکی!‘‘
وہ لڑکی آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب آ گئی تھی ۔لڑکی نے جھجکتے ہوئے فاخرہ سے پوچھا۔
’’ جی ، بیگم ثروت صاحبہ سے ملنا ہے ۔‘‘
’’ پر تم ہو کون ؟‘‘ فاخرہ نے خود پر قابو رکھتے ہوئے پوچھا۔ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی بیگم ثروت اندر سے نکل آئی ، اس کی نگاہ جیسے ہی لڑکی پر پڑی تو اس نے پوچھا۔
’’خیر ہے جو تیری اماں دو دن سے نہیںآ ئی ؟ اور آ ج تجھے بھیج دیا۔تم صفیہ کی بیٹی ہی ہو نا ؟‘‘
’’ جی میں انہی کی بیٹی ہوں فرزانہ ۔دو دن سے اماں بیمار ہے ،اسی لئے وہ تو نہیں آئی … ان کی جگہ میںآ گئی ہوں کام پر۔ان سے اٹھا ہی نہیں جا رہا ہے ۔‘‘فرزانہ نے دھیمے لہجے میں جھجکتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہو گیا صفیہ کو ،کہیں زیادہ بیمارتو نہیںہے ، ڈاکٹر کودکھایا؟‘‘بیگم ثروت نے تشویش سے پوچھا، وہ ایک دم سے پسیج گئی تھی ۔
’’بس ایویں چار پائی سے لگ گئی ہے۔ہمارے محلے میں ڈاکٹر ہے ، اس سے لی تھی دوائی ۔‘‘ وہ منمناتے ہوئے بولی۔
’’فرزانہ ، سچ بتانا، وہ تیرا رشتہ جہاں ہو رہا تھا،کیا نام تھا اس کا ، ہاںاسلم، اس کا کیا بنا، وہ ہو گیا ؟‘‘ بیگم ثروت نے پوچھا، گویا وہ صفیہ کی بیماری تک پہنچ گئی تھی ۔
’’نہیں، اسی کا تو صدمہ لے کر بیٹھ گئی ہے اماں۔ وہ لوگ تو بڑا جہیز مانگتے ہیں۔‘‘ فرزانہ نے بتایا۔
’’پتہ ہے مجھے ، صفیہ نے بتایاتھا۔ میں نے تب بھی کہا تھا، اسلم کی ماں بڑی لالچی عورت ہے۔ یہ بیل منڈھے نہیںچڑھنے والی ۔پر ماں توماں ہے نا، کیا کرے بے چاری۔ کچھ نہیںکر سکتی ۔ ‘‘ بیگم ثروت نے بے بسی سے کہا۔
’’اماںتو کام پہ آنا چاہتی تھی لیکن میں نے ہی نہیںآنے دیا۔ اب میںکر لوں گی گھروں کے کام ۔‘‘فرزانہ نے کہا اور بات ہی بدل دی۔
’’اچھا چل جا، سارا کام پڑا ہے کرنے والا، دو دن سے ۔‘‘بیگم ثروت نے کہا۔
’’جی، ٹھیک ہے ۔‘‘فرزانہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور اندر چلی گئی ۔
پھوپھوفاخرہ چائے پیتے ہوئے اسی لڑکی کے بارے سوچنے لگی ۔
کیا بھر پور سراپا تھا اس لڑکی کا ۔اٹھتی ہوئی جوانی ، بدن تراشیدہ تھا ۔اس کے انگ انگ سے جوانی پھوٹ رہی تھی ۔ وہ عورت ہونے کے ناتے جانتی تھی کہ یہ جو سادہ سے کپڑوں میں لپٹی ہوئی لڑکی ہے کسی بھی مرد کو پاگل کر سکتی تھی ۔ یہی لڑکی اگر بنی سنوری ہو اور اسے اپنے حسن کا احساس ہو تو مرد کو گھما سکتی ہے ۔ جبکہ بابا کرامت شاہ جو اب ادھیڑ عمری میں تھا ، وہ تو اس لڑکی کے لئے ویسے پاگل ہو جائے گا ۔صرف اسے یہ پتہ چل جائے کہ وہ کسی مرد کو اپنے حصار میںلینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اگر یہ لڑکی میری بات مان جائے اور کسی طرح بابا کرامت شاہ تک پہنچ جائے تو پھر شعیب اور ثانیہ کی شادی ہو نے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا ۔پھر میں دیکھوں گی مراد علی کو ، اسے اپنے پیروں پر نہ گرایا تومیرا نام فاخرہ نہیں ، اس کی ساری امیدیں اس لڑکی سے بندھ گئی تھیں ۔فاخرہ سوچتی ہوئی نجانے کن جہانوں کی سیر پر نکل گئی تھی۔
ژ… ژ… ژ
سورج ڈھل گیا تھا ، جب فرزانہ اپنے گھر کے اکلوتے کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کی ماں صفیہ بستر پر پڑی ہوئی تھی۔ جس طرح وہ صبح اسے چھوڑ کر گئی تھی ، اسی طرح اس کا سر بندھا ہوا تھا۔وہ اسی طرح حسرت بھری نگاہوں سے سے فرزانہ کو دیکھ رہی تھی۔ فرزانہ نے ہاتھ میںپکڑا ہوا شاپر بیگ ایک طرف رکھا اور بیٹھتے ہوئے اپنی ماں سے نرم لہجے میں پوچھا۔
’’کیسی طبیعت ہے اماں، کچھ کھایا، دوا لی؟‘‘
’’میری چھوڑ۔ یہ بتا، کسی نے تجھے ڈانٹا تو نہیں؟کسی نے کوئی دوسری ماسی تو نہیںرکھ لی؟ تو نے کچھ کھایا؟‘‘صفیہ نے کراہتے ہوئے پوچھا۔ اس کے لہجے میں سارے جہاں کا پیار اور بے بسی سمٹی ہوئی تھی ۔آخر ماں تھی ، بھلے غریب تھی ۔فرزانہ نے اپنی مانںکی طرف دیکھا، پھر اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولی
’’نہیں اماں،نہیں، ایسا کچھ نہیںہوا ۔اب تم میری فکر کرنی چھوڑ دو۔میں سب گھروں میںکام کر لیاکروں گی۔بس تم جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔‘‘
اس کے یوں کہنے پر صفیہ رودی ، پھر بڑی بے بسی میں بولی
’’ہائے میری پھول سی بچی…میں نہیںچاہتی ، تم لوگوں کے گھروں میںکام کرو۔میںنے تجھے لاڈوں سے پالا۔ پر نصیب میںنجانے کیالکھا ہے۔کاش تیری شادی اسلم سے ہو جاتی اور تم اپنے گھر میں…‘‘
’’اماں اب چھوڑ بھی دے اُن کا خیال، جہاں میری شادی ہونا ہو گی ، ہو جائے گی ۔ نہیں تونہ سہی۔‘‘فرزانہ دکھ بھرے لہجے میںکہا
’’رَبّ غریبوں کے گھروں میںبیٹیاں نہ دے۔اگر دے تو ان کا نصیب اچھا کردے۔یا پھر لڑکے والے اتنے لالچی نہ ہوں ،منہ بھر کے جہیز مانگتے ہیں۔‘‘وہ روتے ہوئے بولی
’’اماں مجھے لگتا ہے تُو سارا دن اکیلی پڑی یہی سوچتی رہی ہے۔جب انہوں نے انکار کر دیا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘‘ فرزانہ نے تلخی سے کہا
’’اسلم بے چارہ تو اچھا ہے ،پر اس کی ماں کے دماغ میںاتنا لالچ بھرا ہوا ہے کہ خدا کی پناہ…‘‘ صفیہ ہاتھ ملتے ہوئے بولی توفرزانہ نے اٹھتے ہوئے کہا
’’بس کردے اماں،اب اٹھ کر کچھ کھا پی لے، میں لائی ہوں کھانا،پھر تمہیں دوا بھی دیتی ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ باہر کی جانب چلی گئی۔صفیہ سوچ میں ڈوبی دیوار سے لگ گئی ۔اس کے چہرے پر بے چارگی بھری دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ غربت بھی کیا شے ہے ، آنکھوں سے خواب چھیننے کے ساتھ ساتھ خوابوں کا خراج بھی لے جاتی ہے ۔اس نے غربت میں نہ صرف خود کو سنبھال کر رکھا تھا ، بلکہ کوشش کی تھی کہ بیٹی کو وہ عذاب نہ دیکھنے پڑیں ، جو اس نے دیکھے ہیں ۔مگر ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا تھا ۔اسی صدمے نے اسے بستر پر ڈال دیا تھا ۔
فرزانہ بچپن ہی سے اسلم کی منگیتر تھی ۔دونوں کو علم تھا کہ ان کی شادی ہو گی ۔ یہ احساس ان کے ساتھ ہی پروان چڑھا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ قربت میں بدلتا گیا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کا خواب دیکھتے ہوئے جوان ہوئے ۔اسلم ایک اچھا لڑکا تھا ۔ اس نے خوب محنت کرکے تعلیم حاصل کی ۔ کوئی بہت بڑا عہدہ تو نہیں ایک محکمے میں کلرک بھرتی ہو گیا تھا۔اسلم اور ا س کے گھر والوں کے دن پھرنے لگے ۔غربت میں جہاں تھوڑا بہت معاشی استحکام آ تا ہے ، وہاں خواب اور خواہشیں بھی سر اٹھانے لگتیں ہیں ۔ اسلم کی ماں کو تھوڑا سکھ نصیب ہوا تو اسے اپنے بیٹے کے لئے ارد گرد کئی ایسی لڑکیاں دکھائی دینے لگیں جو اپنے ساتھ ڈھیروں جہیز لا سکتی تھیں ۔اس کی سوچ بھی بدلنے لگی اور اس نے فرزانہ کی ماں کو صاف جواب دے دیا۔ اس کی نگاہ میں ایک ایسی لڑکی جچ گئی تھی جو نہ صرف بڑا جہیز لانے والی تھی بلکہ ایک مکان بھی اس لڑکی کے نام تھا ۔ان لوگوں کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی کی شادی اسلم سے ہو جائے ۔ سو اسلم کی ماں انہی کے قصیدے گانے لگی تھی ۔ وہ یکسر بھول گئی کہ اسلم اور فرزانہ ایک دوسرے کے لئے کیا جذبات رکھتے ہیں۔
فرزانہ بھی اسی دنیا کی لڑکی تھی ۔جہاں اس نے اپنی مجبوریوں کو سمجھا ، وہاں وہ اپنی متوقع ساس کے رویے کو بھی سمجھ چکی تھی ۔ساری زندگی اس کی ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کیا تھا ۔اس نے اپنی مجبوری کو کمزوری نہیں بنایا اور محنت کرتی رہی مگر اتنا نہ بنا سکی کہ اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کر سکے ۔اسے اسلم سے تھوڑی بہت امید تھی کہ شاید وہ اپنی ماں کی خواہش کے بر عکس فیصلہ کرکے اسے اپنا لے ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا تھا ۔اسلم نے اپنی ماں کی خواہش کو تسلیم کرلیا تھا۔ اس کی بات پکی ہوگئی تھی ۔ چند دن بعد ہی اس کی منگنی ہو نے والی تھی ۔ فرزانہ نے جب ہوش سنبھالا تھا، تب سے اپنے نام کے ساتھ اسلم ہی کا نام سنا تھا۔ بچپن کا یہ ساتھ جوانی میں آ کر محبت میں ڈھل چکا تھا۔ وہ پوری جان سے اسے محبت کرتی تھی ۔ اس نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کی محبت میں جہیز ، پیسہ اور لالچ بھی آ ڑے آ جائے گا ۔یہ سوال اسے مار کر رکھ دیتے تھے کہ کیا اسلم اس سے محبت نہیں کرتا؟کیا وہ بھی لالچی ہے ؟ فرزانہ نے یہ ساری صورت حال کو سمجھ کر اسے اپنی قسمت کا فیصلہ سمجھا اور پھر خود فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی ماںکو سکون دینے کے لئے اس کی جگہ گھروں کے کام کرنے کو نکل پڑی تھی۔وہ لاشعوری طور پر اپنے آپ سے ، اپنی غربت سے اور لالچ سے انتقام لینے نکل پڑی تھی ۔وہ اپنی بے بسی سے بھی لڑنا چاہتی تھی جس نے اپنے مجبور محض بنا دیا تھا۔ اسے یہ دکھ نہیں تھا کہ وہ کام کر نے پر مجبور ہو گئی ہے ۔ بلکہ اسے یہ غم تھا کہ اسلم نے اس کا ساتھ نہیں دیا ۔ کیا یہ ہوتی ہے محبت؟
اس رات تھک کر چُور ہو جانے کے باوجود اس کی آ نکھوں میں نیند نہیں اتر رہی تھی ۔ اس نے جو بہت سارے خواب دیکھے تھے وہ سب چکنا چور ہو چکے تھے ۔ ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں اس کی آ نکھوں میں چبھ رہی تھی ۔ اسے یقین تھا کہ اندھیرے میں اس کی ماں اس کے آ نسو نہیں دیکھ پائے گی ۔
ژ… ژ… ژ
اس صبح چوہدی نذیر لائونج میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا ۔ایسے میں بیگم الماس چائے کے دو مگ لائی ۔ ایک اس نے اپنے شوہر کو تھمایا اور دوسرا مگ پکڑ کر اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی ۔چوہدری نذیر نے اخبار تہہ کر کے ایک طرف رکھا اور مگ اٹھاتے ہوئے بولا
’’بیگم کتنی شاپنگ کر لی ، کیا کیاتیاریاںکر لی ہیں شادی کی؟اب دن ہی کتنے رہ گئے محض پانچ دن ؟‘‘
اس پر بیگم الماس چند لمحے خاموش رہی جیسے کوئی بھی بات کرنے کے لئے مناسب لفظ تلاش کر رہی ہو ۔ پھر بڑے دھیمے سے لہجے میںبولی
’’کیا کرنی ہیں شادی کی تیاریاں۔پتہ نہیںیہ ثانیہ کو ہو کیا گیا ہے۔ اس کا تو رویہ ہی بدل گیا ہے۔‘‘
’’کیا ہوا ؟‘‘چوہدری نذیر نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا
’’میں نے آج جانا تھا ان کے ہاں، وہی ثانیہ کا ماپ لینے، میری خواہش تھی کہ اسے ساتھ لے جائوں اور اس کی پسند کا خریدوں۔ ذیشان نے اسے فون کیا تو اس نے صاف انکار کردیا۔اب اس بات کو کیا سمجھیں؟‘‘بیگم الماس نے الجھتے ہوئے لہجے میں کہا توچوہدری نذیر نے حیران ہو کرکہا
’’ اگر جلدی شادی کی خواہش تھی تو انہی کی طرف سے تھی ، اب بیٹی منع کر رہی ، اتنی ٹینشن لے رہی ہے، بیگم مجھے تو کچھ اور ہی لگتا ہے۔اس سارے معاملے میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہے ، جو یہ لوگ ہم سے چھپا رہے ہیں ۔ورنہ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں، فورا منگنی فورا شادی ، اور اب جبکہ سارا کچھ طے ہوگیا تو شادی سے گریز، تمہیں کیا لگتا ہے ؟‘‘
’’مجھے تو خود یہی محسوس ہوتا ہے۔اب ثانیہ دودھ پیتی بچی توہے نہیں ، جورشتے داری معاملات کو نہ سمجھے۔وقت اور حالات کی نزاکت کا خیال نہ کرے ۔‘‘بیگم الماس نے یوں کہا جیسے وہ اس معاملے پر کافی پریشان ہو رہی ہو
’’ مجھے نہیں لگتا وہ اتنی پاگل ہے ، مگر اس کا رویہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ وہ لوگ شعیب سے ڈر رہے ہیں ۔ لیکن ، جب سارا کچھ ہوگیا تو اب ان کا بلکہ ثانیہ کا رویہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔‘‘ چوہدری نذیرنے شک زدہ لہجے میںکہا تو بیگم الماس اکتاتے ہوئے بولی
’’سچ پوچھیں تومجھے تو بہت برا لگا ہے۔ جس لڑکی کے اتنے لچھن اب ہیں، وہ بعد میںکیا کرے گی ۔‘‘
’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے بیگم،لیکن ایک بار اس کے ماں باپ سے تو بات کر لیں،وہ کیا کہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ور چائے کا سپ لے لیا
’’بات چاہئے کر لیں، مگر اب میرا دل اس لڑکی کو نہیںچاہتا۔‘‘ وہ اکتائے ہوئے لہجے میںبولیں
’’خیر ایسی بھی کیا بات ہو گئی ، بات کر لیں ، پھر دیکھتے ہیں۔اتنی جلدی کوئی فیصلہ نہیں کرتے ہیں۔ تم جانتی ہو ثانیہ اپنے ذیشان کی پسند ہے۔ یہ بات سمجھتی ہو نا۔ اس لئے جلد بازی نہیں کرنی ۔ ‘‘چوہدری نذیر نے سمجھاتے ہوئے کہا تو بیگم الماس نے سوچتے ہوئے کہا
’’ یہی وہ وجہ ہے ، جس کے باعث میں اب تک خاموش ہوں ورنہ مجھے وہ لوگ اور خاص طور پر یہ ثانیہ اچھی نہیں لگی تھی ۔ میں تو کہہ رہی ہوں ،اگر اس لڑکی نے ایسا رویہ دکھایاتو میں صاف انکار کر دوں گی ۔ آ پ کے بیٹے نے اس سے شادی کر نی ہوگی تو پھر کرتا رہے ، میری طرف سے صاف انکار ہے ۔‘‘
’’ سمجھداری سے کام لیتے ہیں بیگم ، خود انکار نہ کرو بلکہ ثانیہ کی بیماری ہی ایسا معاملہ ہے کہ وہ کچھ مزید وقت لیںگے ، ایسامجھے لگتا ہے ۔ میں نے بھی لندن چلے جانا ہے ۔سو میرے واپس آ نے تک یہ شادی ٹال دیتے ہیں۔ اس دوران سب پتہ چل جائے گا کہ اصل میںمعاملہ کیا ہے ۔‘‘ چوہدری نذیر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو بیگم الماس سر ہلا کر رہ گئی ۔ وہ کچھ دیر تک سوچتی رہی پھر بولی
’’ چلیں ٹھیک ہے ۔ مجھے ان سے کسی قسم کی کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں، ذیشان جیسے کہے گا، ویسے ہی کرلیں گے ۔‘‘
’’ ہاں ، یہی بہتر رہے گا ۔ اس شادی کو ٹالنے کے لئے میرے پاس لندن جانے کا ایک معقول بہانہ ہے ۔‘‘چوہدری نذیر نے کہا اور اخبار اٹھاکر دیکھنے لگا۔ بیگم الماس وہیں بیٹھے چائے پیتی رہی اور ساتھ میں سوچتی بھی رہی کہ اسے اب کیا کرنا ہوگا۔
ژ… ژ… ژ
اس صبح پھوپھو ناشتہ کرتے ہی کاریڈور میں آ بیٹھی تھی ۔ وہ بڑی بے چین تھی ۔ اس کی نگاہیں گیٹ پر لگی ہوئیں تھیں۔شعیب اپنے آ فس جا چکا تھا ۔بیگم ثروت لائونج میں بیٹھی اخبار پڑھ رہی تھی ۔دن کافی چڑھ آ یا تھا۔وہ بے یقین تھی کہ کہیں وہ لڑکی آج آ ئے ہی نا ۔ہوسکتا ہے وہ کام کرنے سے انکاری ہوگئی ہو اور آج اس کی ماںرضیہ کام پر آ جائے ۔پھر کیا ہوگا ؟ یہ سوچتے ہوئے وہ بے چین ہوگئی ۔ اسے بیٹھے بٹھائے ایک کنواری لڑکی مل گئی تھی ۔اب اگر وہ نہ ملی تو کہاں سے تلاش کرے گی ؟ وہ انہیں سوچوں میں الجھی ہوئی تھی فرزانہ گیٹ پار کر کے اندر آگئی
اسے دیکھا تو پھوپھو کی جان میں جان آ ئی ۔معمولی سے کپڑوں میں ملبوس فرزانہ کی جوانی چھپ نہیں رہی تھی ۔ یہی لڑکی اگر اچھے لباس میں ہو تو کیا غضب ڈھائے ۔ پھوپھو نے پھر یہی سوچا۔شاید اسکے اندر کوئی تشنگی تھی جو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی ۔ فرزانہ نے قریب آ کر پھوپھو کو سلام کیا تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی
’’ لگتا ہے تیری اماں ٹھیک نہیں ہوئی جو تم کام پر آ گئی ہو؟‘‘
’’ اب وہ ٹھیک ہو یا نہ ہو ، اب میں ہی کام پر آ یا کروں گی ۔‘‘فرزانہ نے حسرت سے کہا اور اندر کی جانب بڑھ گئی ۔
پھوپھو موقع کی تلاش میں تھی کہ کب فرزانہ سے بات کرے۔ وہ اسی تاک میں رہی ۔ اس وقت فرزانہ کچن کا کام ختم کر کے سستانے کو وہیں بیٹھی ہوئی تھی کہ پھوپھو اس کے پاس چلی گئی ۔
’’ فرازانہ ، لگتا ہے تھک گئی ہو ؟‘‘پھوپھو فاخرہ اس کے پاس جا کر بیٹھتے ہوئے بولی
’’ہاں بس ذرا سستانے کو بیٹھ گئی ۔کام بھی تو کوئی نہیں ہے ؟‘‘ اس نے جلدی سے کہا اور اٹھنے لگی تو پھوپھو نے بڑے پیار سے کہا
’’کہاں چلی ، بیٹھ جا ۔‘‘
’’ جی ، ‘‘ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی ۔
’’ میں بھی اکیلی ہوتی ہوں گھر میں ، دل چاہتا ہے باتیں کرنے کو ۔تمہیں دیکھا تو تیرے پاس آ گئی ۔میں بھی دکھوں کی ماری ہوں ۔‘‘
’’ ہاں جی ، اس دنیا میں جسے دکھ ملتے ہیں تو پھر ملتے ہیں تو پھر ملتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ شاید ان کا نصیب ایسا ہوتا ہے ۔‘‘ فرزانہ نے دکھی لہجے میں کہا تبھی پھوپھو نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
’’ میں نے جب تیرے بارے میں تفصیل کے ساتھ ثروت سے سنا تو مجھے تم پر بڑا ترس آیا ۔لوگ کتنے لالچی ہوتے ہیں ۔ اپنے مفاد کے لئے پرانے رشتے تک بھول جاتے ہیں۔‘‘
’’ پر کیا کریں ۔ ہم غریب لوگ کچھ بھی تو نہیں کر سکتے ۔‘‘ فرزانہ نے حسرت سے کہا تو پھوپھو سارے جہان کا درد اپنے لہجے میں سموتے ہوئے بولی
’’ ایسا بھی نہیں ہے ،اگر بندہ تھوڑی سی ہمت کرے نا، تو اپنی تقدیر خود آ پ بدل سکتا ہے ۔‘‘
’’تقدیر تو تب بدلے نا ، جب ہماری قسمت ہمارے ساتھ ہو ، اس دنیا میں سب سے بڑا سچ دولت ہے ، میرے پاس آ ج دولت ہو تو سارے رشتے میرے پاس ہوں ۔میں جو چاہوں کروں ۔‘‘ وہ تنک کر بولی۔ اس کے لہجے میں بغاوت در آ ئی تھی ۔
’’ دیکھ سارے رشتے ناطے دولت سے نہیں ملتے ، میرے پاس بھی دولت ہے لیکن میں یہاں اپنے بھائی کے گھر میں رہنے پر مجبور ہو ں۔انہیں میری دولت سے کوئی غرض نہیں ، بلکہ مجھے ان کی ضرورت ہے ۔‘‘ پھوپھو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آ پ ؟‘‘ فرزانہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا
’’میرے کہنے کا مطلب ہے کہ بنا دولت کے بعد بھی بہت سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں ۔‘‘پھوپھو نے تیزی سے کہا
’’ایسا کیا طریقہ ہے ، مجھے پتہ چلے تو میں فوری اس پر عمل نہ کر لوں ۔‘‘ فرزانہ نے بیزاری سے کہا
’’اگر ایسی بات ہے نا تومیرے پاس تیرے مسئلے کا حل ہے ۔‘‘ پھوپھو نے اپنے لہجے میں سارے جہان کا درد سموتے ہوئے کہا توفرزانہ نے حیرت اور خوشی سے پوچھا
’’ کیا ہے وہ حل ؟‘‘
’’ بتا تو دوں تجھے لیکن اس میں سب سے بڑی شرط راز داری ہے ۔‘‘پھوپھو نے محتاط انداز میں کہا
’’ کیسی راز داری ؟‘‘ فرزانہ نے حیرت سے پوچھا
’’ دیکھ میں ایک ایسے پہنچے ہوئے بزرگ کو جانتی ہو جو پل بھر میں بگڑی سنوار دیتا ہے ۔اگر تم میرے ساتھ اس کے پاس چلو تو جو چاہو سو کر سکتی ہو ۔‘‘ پھوپھو نے دھیمے لہجے میں اسے سمجھاتے ہوئے کہا
’’ ایسا ہو جائے گا ، وہ تو بہت رقم مانگے گا، مفت میں تو وہ کچھ کرنے سے رہا۔‘‘ فرزانہ نے اس کی بات سمجھتے ہوئے پوچھا
’’ اگر تھوڑے سے پیسوں میں تمہاری زندگی بن سکتی ہے تو خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ، میں دے دوں گی وہ ساری رقم جتنی بھی وہ مانگے گا ۔ایک بار آ زما لینے میں کیا حرج ہے؟‘‘ پھوپھو نے کہہ کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ اسے چہرے سے رضامند لگی تو پھوپھو نے مزید کہا،’’تم ایسا کرو، جن گھروں میں کام کرنا ہے ، کر لو ، پھر شام ہونے سے پہلے چلتے ہیں۔‘‘
’’ کام ہو نہ ہو لیکن میں آ پ کو پیسے کیسے لوٹا سکوں گی ؟’’
’’ ارے نہیں ، پیسے جائیں بھاڑ میں ، اتنے تھوڑے سے پیسوں سے مجھے فرق نہیں پڑتا ، لیکن دل میں حسرت تو نہیں رہے گی ۔لیکن مجھے یقین ہے ، جو تم چاہو گی وہ ہو جائے گا ۔یہ پکی بات ہے ۔‘‘ پھوپھو نے پریقین لہجے میں کہا
’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ فرزانہ مان گئی تو پھوپھو نے اطمینان کا سانس لیا۔
سہ پہر کا وقت تھا ، جب پھوپھومین روڈ پر آ گئی ۔اس نے دور ہی سے دیکھ لیا فرزانہ منتظر کھڑی تھی ۔ اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔وہ تیزتیز قدموں سے چلتی ہوئی اس کے پاس جا پہنچی ۔اگلے چند منٹ میں انہوں نے ٹیکسی لی اور کرامت شاہ کے گھر کی جانب چل دیں۔
کرامت شاہ کے گھر میں اتنا رش نہیںتھا لیکن پھوپھو نے پہلے ہی فون بھی کر دیا تھا۔ اس کے جاتے ہی وہاں موجود عورت نے اسے اندر جانے کا کہہ دیا ۔ پھوپھو فاخرہ نے فرزانہ کو ساتھ لیا اور کرامت شاہ کے اس پر اسرار کمرے میں داخل ہو گئی ۔ اگر بتیوںکی تیز بو نے فرزانہ کے حواس ایک لمحے کو مختل کر دئیے۔ کرامت شاہ کی نگاہ جیسے ہی فرزانہ پر پڑی اس کی آ نکھوں میں شیطانیت جاگ اٹھی۔ وہ اس کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا ۔اس کی حالت ایسی تھی جسے کوئی شکاری اپنے جال میں شکار پھنسے ہوئے دیکھ کر بے تاب ہو جاتاہے ۔ وہ اسی لمحے ہونٹوں میں بڑبڑاتے ہوئے کوئی منتر پڑھنے لگا ۔ وہ پڑھ چکاتو بڑی گھمبیر آ واز میں بولا
’’ بو ل کیا بات ہے ، کیا مسئلہ ہے ؟‘‘
’’ یہ بچی بے چاری بہت دکھی ہے ، کنواری ہے، اس کی شادی کا مسئلہ ہے ۔ بہت غریب ہے بے چاری ۔‘‘ پھوپھو نے اس کا مسئلہ بتاتے ہو ئے کرامت شاہ کو اشارہ دے دیاتو کرامت شاہ کے ہونٹوں پر خباثت بھری مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی ۔اس نے فرزانہ کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا
’’ اچھا بیٹھو ،مسئلہ بتائو ؟‘‘ اس نے بارعب لہجے میں پوچھاتو پھوپھو نے فرزانہ کو پکڑ کر بٹھا دیا ۔ اس نے بیٹھ کر بڑے اختصار سے اپنا مسئلہ بیان کر دیا۔کرامت شاہ بڑے غور سے فرزانہ کے جسم کے نشیب فراز دیکھتا رہا ۔ اسے شاید ا س کے مسئلے سے اتنی دلچسپی نہیں تھی ۔وہ جب خاموش ہو گئی تو کرامت شاہ بولا
’’آج ہی اس کو ایسا اشارہ ملے گا ، جس سے یہ مطمئن ہو جائے گی کہ اس کا کام بن جائے گا ۔ لیکن جب تک میرا عمل پورا نہیںہوگا،اسے ہمارے پاس آ تے جاتے رہنا پڑے گا۔جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی ، تب تک ۔‘‘
’’ کیوں نہیں ، یہ آ ئے گی ، ضرور آ ئے گی ۔‘‘ پھوپھو فاخرہ نے کہتے ہوئے فرزانہ کو ٹہوکا دیا تو وہ بھی تیزی سے بولی
’’ جی میں آ تی رہوں گی ۔‘‘
’’اگر تجھے آ ج ہی اشارہ مل جائے تو کل تم اکیلی ہی میرے پاس آ نا ، یہ فاخرہ کو زحمت مت دینا۔‘‘ کرامت شاہ نے کہا تو پھوپھو نے اطمینان کا سانس لیا ۔ اس نے کنواری لڑکی والی شرط پوری کر دی تھی ۔
پھوپھو نے اسی وقت اپنے پرس میں سے نوٹوں کی ایک گڈی نکالی اور کرامت شاہ کے سامنے رکھ دی ۔ دونوں ہی سمجھ رہے تھے یہ کس مقصد کے لئے دی جا رہی ہے ۔کرامت شاہ نے نوٹوں کی گڈی کی جانب للچائی ہوئی نگاہ سے دیکھا اور اسے اٹھا کر جیب میں رکھ لیا۔ پھر اپنے قریب پڑے صندوق کو کھولا ، اس میں سے ایک پڑیا نکالی ، جسے اس نے کھولا اور زور زور سے نجانے کس زبان میں منتر پڑھنے لگا۔ کافی دیر تک ہلکان ہو جانے والے انداز میں جاپ کرتا رہا ۔ پھر خاموش ہو کر بولا
’’ اے لڑکی، یہ راکھ ہے ، بڑی خاص قسم کی راکھ ۔ اس کی ایک چٹکی سورج غروب ہونے سے پہلے جلتے ہوئے چولہے میں پھینک دینا۔ دیکھنا وہ آ ج رات ہی تم سے ملنے چلا آ ئے گا ۔مگر تم نے اس کی کوئی بات نہیں ماننی ۔ اسی طرح روزانہ یہ راکھ ایک چٹکی جلتی ہوئی آ گ میں پھینکتی رہنا۔ وہ تیرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہوتا رہے گا ۔اس وقت تک جب تک وہ تیری بات نہ مان لے ، یہی عمل کرتی رہنا۔‘‘
’’ جی بابا جی ۔‘‘فرزانہ نے اپنے اندر کے اضطراب کو چھپاتے ہوئے تیزی سے کہا توکرامت شاہ رعب دار لہجے بولا
’’ لیکن کل یہاں آ کر بتانا مت بھولنا کہ وہ تمہیں ملنے آ یا تھا یا نہیں؟ پھر میں تمہیں بتائوںگا کہ اس کے ساتھ کیا عمل کرنا ہے ۔‘‘
’’ جی ٹھیک ہے ، میں آ جائو ںگی ۔‘‘ فرزانہ نے ہاں میں سرہلاتے ہوئے کہاتو کرامت شاہ نے انہیںاٹھنے کا اشارہ کر دیا ۔ جیسے ہی وہ دوازے سے باہر جانے لگیں تو اس نے پھوپھو کو آ واز دے کر روک لیا۔ فرزانہ دروازہ پار کر گئی تھی ۔ پھوپھو واپس پلٹ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی تو اس نے کہا
’’ٹھیک ہے ، تم اسے میرے پاس لے آ ئی ، تیرا اتنا ہی کام تھا ، میں آج ہی عمل کرتا ہوں ۔کل شام تک وہی ہو جائے گا جو تم چاہتی ہو ۔بے فکر ہوجا ، تو نے مجھے خوش کیا، میں تجھے خوش کردوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خباثت سے ہنس دیا۔
’’ بس میرے شعیب کی خواہش پوری ہو جائے ۔‘‘ پھوپھو نے حسرت سے کہا تو وہ بولا
’’ ہو گئی سمجھو ۔ جائو اب کل شام کو دیکھنا ۔‘‘
پھوپھو اٹھی اور باہر کی طرف چل دی ۔
ژ… ژ… ژ
سورج غروب ہونے میں تھوڑا سا وقت رہتا تھا جب فرزانہ اپنے گھر میں داخل ہوئی ۔اس کی ماں ہنوز کمرے میں بستر پر پڑی تھی ۔ اسے دیکھ کر وہ یوں اٹھ بیٹھی جیسے اسی کے انتظار میں ہو ۔
’’ آ گئی میری بچی، دیر کیوں ہو گئی تمہیں ۔‘‘ ماں کو جیسے سکون سا آ گیا ہو تو فرازنہ نے دھیمے سے لہجے میں کہا
’’ہاں اماں ، بس آج ویگن ملنے میں تھوڑی دیر ہو گئی ۔‘‘
’’ہاں یہ ویگنیں بھی نا ۔‘‘ وہ بڑبڑا کر رہ گئی
’’ اچھا اماں کھانا گرم کردوں ۔‘‘ اس نے کہا اور اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا گرم کرنے کے لئے چولہا جلا دیا۔چولہے میں آگ بھڑک اٹھی تھی ۔وہ مسلسل یہ سوچے جا رہی تھی کہ اگر بابا کرامت کے کہنے پر اسلم آج رات اس کے پاس آ گیا تو پھر …؟ شاید اسے یقین نہیں ہو رہا تھا ۔اس لئے خود ہی سے سوال کرتی ۔
’’ اگر آ گیا ؟‘‘ اس نے سوچا ۔
’’ آ گیا تو پھر جو بابا کہے گا وہی کروں گی ۔ میں اس اسلم کو اس کی اوقات بتائوں گی ۔‘‘ اس نے انتہائی غصے میں کہا
’’ تو چل ڈال دے پھر راکھ ۔‘‘ اس کے دماغ نے کہا
اس نے پڑیا کھول کر اس میں سے ایک چٹکی راکھ جلتی ہوئی آگ میں پھینک دی ۔
فرزانہ چولہے میں راکھ کی چٹکی ڈال کر آگ کو تکتی رہی پھر ایک طویل سانس لے کر اٹھ گئی۔اس نے اپنی ماں کے سامنے کھانا رکھا اور خود بھی پاس آکربیٹھ گئی۔اس نے سارے دن کی روداد اپنی ماں کو سناتے ہوئے کرامت شاہ کے ہاں جانے کا ذکر ہی نہیں کیا۔وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے اپنی ماں سے کرامت شاہ کے پاس جانے کا ذکر کیا تو وہ سو طرح کے سوال کرے گی ۔ جن کا اس کے پاس کوئی جواب نہیںتھا۔وہ اپنی ماں کو ایک نئی طرح کی فکر نہیں دینا چاہتی تھی ۔کبھی کبھار اس کی ماں اکثر یہ خواہش کرتی رہتی تھی کہ کاش ایسا کوئی جادو ہو جائے کہ اس کی بیٹی کسی اچھے گھر کی بہو بن جائے ۔ فرزانہ نے یہ سوچ لیا تھا کہ اگر کرامت شاہ کی کوئی کرامت اس کے سامنے آ گئی اور جو وہ چاہتی ہے ویسا ہوگیا تو اپنی ماں کو بتا دے گی ۔ وقت سے پہلے بتا دینے کا کیا فائدہ ؟سورج غروب ہو گیا تھا ۔ وہ اپنی ماں کو کھانے دینے کے بعد دوا پلا کر بستر پر جا لیٹی تھی ۔ آج اس کی تھکن کل کی نسبت کم تھی لیکن وہ ذہنی طور پر بہت بے چین تھی ۔وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ جو کچھ کرامت شاہ نے کہا ہے کیا ایسا ہونا ممکن ہے ؟ یہ کیسے ہوگا؟ یہی سوچتے ہوئے اس کی آنکھ لگ گئی۔
اس کی آنکھ ماں کی آواز پر کھلی ۔وہ ہڑبڑا کر ٹھ بیٹھی
’’ کیا ہے اماں ؟‘‘ اس نے بستر سے اٹھتے ہوئے پوچھا
’’باہر کوئی دروازے پر ہے ، دیکھ کون ہے اس وقت ۔‘‘ اماں نے اسے کہا تو ایسے میں دروزے پر دستک کی آ واز اس نے بھی سنی ۔ایک خیال اس کے ذہن میں لہرا گیا۔ وہ تیزی سے اٹھ کر دروازے تک گئی اور لرزتے ہوئے لہجے میں پوچھا
’’ کون ہے ؟‘‘
’’ میں ہوں اسلم ، دروازہ کھولو۔‘‘ دوسری طرف سے دھیمی آ واز میں جیسے ہی کہا گیا تو فرزانہ کی حیرت انتہا کو چھونے لگی ۔ اس کا من خوشی سے بھر گیا۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا ہو جائے گا ۔ اس کا سانس تیز ہوگیا گیا ۔ یہ تو چمتکار ہو گیا ؟ اس نے سوچا پھر اس نے لمحوںمیں خود پر قابو پایا اور دروازہ کھول دیا۔ اس کے سامنے اسلم کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر کافی حد تک سنجیدگی پھیلی ہوئی تھی ۔ تبھی فرزانہ نے پوچھا
’’ اسلم ، اتنی رات گئے ، خیریت تو ہے نا؟‘‘
’’ ہاں ، ابھی اتنی رات بھی نہیں ہوئی ،میں تم سے بات کرنے آ یا ہوں ۔‘‘
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی، کمرے میں سے اس کی ماں کی آواز ابھری
’’ کون ہے باہر ؟‘‘
’’چل اندر چل ۔‘‘ اسلم نے کہا اور دروازہ پار کرکے صحن میں آ گیا۔وہ آگے آ گے چلتا ہوا کمرہ میں چلا گیا۔اس کی ماں اسلم کو دیکھ کر حیران رہ گئی ۔ وہ ایک دوسری چارپائی پر بیٹھ کر دھیمے سے بولا،’’ کیسی طبیعت ہے خالہ ؟‘‘
’’ بس ٹھیک ہوں پتر ، تم سنائو ، تیرا کام ٹھیک چل رہا ہے؟‘‘
’’ ہاں خالہ سب ٹھیک ہے ۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولا
’’ کیسے آ نا ہوا پتر؟‘‘ اماںنے پوچھا تو وہ چند لمحے خاموش رہا پھر بولا
’’ میں نے سنا ہے کہ یہ فرزانہ اب تمہاری جگہ لوگوں کے گھروں میں کام کرنے جا رہی ہے ، کیا میںنے ٹھیک سنا ہے؟‘‘
اس کے لہجے میں جیسے شرمندگی تھی ۔اس سے پہلے کہ اماں جواب دیتی ، فرزانہ نے تیزی سے تلخ لہجے میں کہا
’’ ہاں ، میں جاتی ہوں اب ، میرا باپ یا بھائی نہیںہے جو کما کر لائے ۔ ہمیں اپنی روزی روٹی کے لئے خود کمانا ہے ۔کوئی ہمیں گھر بیٹھے نہیں دے کر جائے گا ۔میری ماں بیمار ہے ، اس کی دوا کون لائے گا ۔اس لئے مجھے کام تو کرنا ہی پڑے گا نا۔‘‘
’’ ٹھیک ہے میں مانتا ہوں ،لیکن کل سے تم کام پر نہیں جائو گی ۔تم لوگوں کا جتنا ماہانہ خرچ ہے مجھے بتائو ،وہ میں دوں گا۔‘‘ اس نے حتمی لہجے میں کہا
’’ نا تم خیرات دو گے ہمیں ؟‘‘ فرزانہ نے بھپرے لہجے میں پوچھا
’’ نہیں خیرات کون کہہ رہا ہے ، بس میں دوں گا ۔‘‘ اسے سمجھ میںنہیں آ رہا تھا کہ ہو کیسے بات کرے ۔
’’لیکن کس ناطے سے ؟‘‘ فرزانہ نے تلخ لہجے میں طنزیہ کہا
’’ کوئی ناطہ بھی سمجھ لو ۔مگر تم کام نہیں کرو گی ۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا
’’اور جس دن تمہاری اماں کو پتہ چل گیا تو وہ ہمارا جینا حرام کردے گی ، اگلے پچھلے سارے پیسے نکلوا کر دم لے گی ۔نہیں ہمیں ایسے پیسے نہیں چاہئیں ۔‘‘ فرزانہ نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو وہ تیزی سے بولا
’’دیکھو، میں بہت سوچ کر یہاں آ یا ہوں ۔مجھے انکار مت کرو ۔‘‘
’’اسلم ، جب تیرا ہمارے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ، کوئی ناطہ نہیں تو ہم کیسے تمہاری یہ بھیک قبول کر لیں۔‘‘ اس نے جواب دیتے ہوئے کہا
’’ممکن ہے ، ایسا بھی ہو جائے ، مجھے کوئی موقعہ تو دو ۔‘‘ اسلم نے آہستگی سے کہا تو اماں ایک دم سے پسیج گئی ۔اسے لگا کہ جیسے اسلم لوٹ آ یا ہے ۔ اس لئے وہ اپنی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے بولی
’’ مان لو اسلم کی بات ، وہ بے چارہ …‘‘
’’ نہیں اماں ، جس بندے کی اپنی کوئی رائے نہیں، جس کا اپنا کوئی فیصلہ نہیں، ہم اس کی بات کیسے مان لیں ۔ہاں اگر یہ کوئی ایسا تعلق جوڑتا ہے ، جس سے کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے تو ٹھیک ہے ۔ ورنہ ہمیں تو اپنی روٹی خود کما کر لانی ہے ۔‘‘ فرزانہ نے دوٹوک انداز میں کہا تو اسلم کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا پھر اٹھتے ہوئے بولا
’’ سوچ لو فرزانہ ، ابھی ہمارے درمیان کوئی اتنا زیادہ فاصلہ نہیںہے ۔‘‘
’’ یہ فاصلہ بھی تم نے ہی ختم کرنا ہے ،کیونکہ یہ فاصلہ تم لوگوں نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جس دن یہ فاصلہ ختم کردو گے میں تمہاری بات مان لوں گی ۔‘‘ فرزانہ نے فیصلہ کن لہجے میں کہا
’’ ٹھیک ہے ، بہت جلد یہ سب ہو جائے گا ۔‘‘ اسلم نے کہا اور باہر نکلتا چلا گیا۔فرزانہ جب دروازہ لگانے گئی تو اسلم گلی میں جا چکا تھا۔ اس رات فرزانہ کے خواب پھر سے رنگین ہو گئے ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا بھی ممکن ہے ۔ اسے کرامت شاہ پر رشک آ نے لگا تھا ۔جس نے انہونی کو ہونی بنا دیا تھا۔
اگلی صبح جب وہ بیگم ثروت کے ہاں گئی تو پھوپھو فاخرہ کاریڈور میں بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔ فرزانہ اس کے پاس جا بیٹھی ۔
’’ بتا کوئی بات بنی ؟‘‘ پھوپھو نے ادھر ادھر دیکھ کر آہستہ سے پوچھا
’’ بات کیا بنی پھوپھو، یہ توچمتکار ہو گیا ہے ، وہ رات آ گیا تھا ہمارے گھر ۔‘‘ یہ کہہ کر فرزانہ نے حیرت زدہ انداز میں ساری روداد سنا دی ۔جسے سنتے ہوئے پھوپھو کی آ نکھیں پھیلتی چلی گئیں ۔سب کچھ سن لینے کے بعد پھوپھو نے فرزانہ کو ڈرا دینے والے انداز میں سمجھایا
’’دیکھو، اب سارے گھروں میں اپنے کام ختم کرنے کے بعد سیدھی کرامت شاہ کے پاس چلی جانا۔ جس طرح تو نے ان سے وعدہ کیا تھا۔ ویسے ہی کرنا،ورنہ سیدھا ہوتا ہوا کام کہیں الٹا ہی نہ پڑ جائے ۔‘‘
’’ ہاں ، پھوپھو یہ تم ٹھیک کہتی ہو۔ چل ٹھیک ہے ، میں وہیں مین روڈ پر آ پ کا انتظار کروں گی ۔‘‘ فرزانہ نے کہا توپھوپھو بولیں
’’نہ ، نہ، میںنے اب تمہارے ساتھ نہیںجانا۔ کسی کو بھی شک پڑ سکتا ہے ۔سب کیا کرایا ختم ہو جائے گا ۔میںنے تجھے کرامت شاہ سے ملا دیا،یہی بہت ہے ۔ ہاں ، تجھے رکشے ٹیکسی کا کرایہ دے دیا کروں گی ، وہ لے لینا مجھ سے ۔باقی تمہیں پتہ ، تیرے سامنے میں نے اتنے نوٹ دے دئیے تھے اسے ، اب وہ تم سے کچھ نہیں مانگے گا ۔‘‘
’’ ہاں پھوپھو ، یہ بات تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو ، میں چلی جائوں گی ۔‘‘ فرزانہ نے جھٹ سے کہا تو پھوپھو نے اطمینان کا سانس لیا ۔اب وہ جانے اور کرامت شاہ ۔ اسے تو بس اب یہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ ذیشان اور ثانیہ کی شادی میں بس چار دن باقی رہ گئے تھے ۔لیکن ابھی تک کوئی ایسی بات نہیںہوئی تھی جس سے یہ اندازہ ہوجاتا کہ ان کی شادی نہیں ہو رہی ۔
فرزانہ نے سہ پہر ہونے تک سارے گھروں کے کام ختم کر لئے ۔ وہ سیدھی مین روڈ پر آ ئی ، وہاں سے اس نے رکشہ لیا اور سیدھی کرامت شاہ کے گھر جا پہنچی ۔فوراً ہی اسے اندر بلا لیا گیا ، جہاں کرامت شاہ اکیلا ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اسے دیکھتے ہی کرامت شاہ کے ہونٹوں پر خباثت پھیل گئی ۔اس نے بھوکی نگاہوں سے فرزانہ کو دیکھا اور اپنے سامنے بیٹھ جانے کو اشارہ کیا۔کچھ دیر تک وہ جن نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا ، فرزانہ اس کا مطلب خوب سمجھ گئی تھی ۔وہ خاموش بیٹھی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ بولا
’’ہاں بولو، وہ آ یا تھا؟‘‘
’ ’جی ، بالکل ، وہ آیا ،مجھے تویقین ہی نہیں ہوا ۔‘‘ وہ دبے دبے لہجے میں بولی تو کرامت شاہ ایک قہقہ لگا کر بولا
’’وہ تم سے شادی کرے گا ۔جو چاہو گی وہی کرے گا ۔ اس کی ماں اگر تیرے راستے کی رکاوٹ بنی تو اسے مار دیں گے ۔تو کسی قسم کی فکر نہ کر ، بس ایک چھوٹا سا کام کر دے ہمارا۔تیرا کام بھی ہو جائے گا اور ہمارا بھی ۔‘‘
’’ آپ کا کیا کام ہے بابا؟‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
’’ایک عمل کرنا ہے۔اس میں تجھے سامنے بٹھانا ہے ۔ہمارا کام تو ہو ہی جائے گا ،لیکن تیری طاقت کتنی بڑھ جائے گی تو اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔جو تم کہو گی ، وہ سب مانتا چلا جائے گا ۔ہتھیلی پر سرسوں جما دوں گا۔‘‘ کرامت شاہ نے اس کی طرف بھوکی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا
’’یہ کب ہوگا عمل ؟‘‘اس نے پھر ڈرتے ہوئے پوچھا
’’یہ اماوس کی راتیں ہیں۔انہی دنوں میں ہوگا وہ عمل ۔تجھے ایک رات میرے پاس رہنا ہوگا۔اسی رات عمل مکمل ہو جائے گا ۔‘‘اس نے اپنی سرخ آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑتے ہوئے کہا
’’میں رات باہر کیسے رہ سکتی ہوں ؟‘‘اس نے حیرت سے پوچھا
’’ اب یہ تمہارا کام ہے ۔کل اور پرسوں صرف دو راتیں ہیں تمہارے پاس ،آجائو ، سب کچھ تمہاری مرضی کا ہو جائے گا ۔‘‘ اس بار کرامت شاہ نے بڑے گھمبیر لہجے میں کہا تھا ۔
’’ ٹھیک ہے ، میں سوچتی ہوں ۔‘‘اس نے ڈرتے ہوئے کہاتو کرامت شاہ نے اسے جانے کا اشارہ کردیا ۔ وہ اٹھی اور تیزی سے باہر نکلتی چلی گئی ۔
ژ… ژ… ژ
شام کے سائے پھیل رہے تھے ۔مراد علی گھر واپس لوٹ آ یا تھا۔وہ ایزی ہو کر لائونج میں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ بیگم طلعت اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔ چند لمحے پہلو بدلتے رہنے کے بعد وہ دھیمے سے لہجے میں بولی
’’ثانیہ کی شادی کو صرف چار دن رہ گئے ہیں۔لیکن کوئی تیاری نہیں ہوئی ۔نہ کوئی کپڑا خریدا ہے ، نہ کسی قسم کی کوئی چیز لائے ہیں جو ہم اپنی بیٹی کو دیں گے ۔شادی والے گھر میں اس قدر سناٹاہے ۔ میرا تو جی گھبرا رہا ہے ۔کیا ہوگا ، کیسے ہوگا یہ سب ؟‘‘
’’ بیگم ، تمہیں بھی پتہ ہے ثانیہ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی ۔میں نے ڈاکٹر ظہیر سے کافی تفصیل سے بات ہوئی ہے ۔ اس کا کہنا یہی ہے کہ ثانیہ نے ذہنی طور پر اس شادی کو قبول ہی نہیںکیا ہے ۔اگر یہ شادی ہو بھی جاتی ہے تو ثانیہ اسے بہت عرصہ تک قبول ہی نہیں کر پائے گی ۔‘‘ مراد علی نے کہا تو بیگم طلعت نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا
’’ میری بیٹی ، نجانے کس کی نظر لگ گئی ہے اسے ، اچھی بھلی تھی ، یہ کیا ہوگاہے اسے ۔‘‘
’’ جہاں تک نظر لگنے کی بات ہے ، وہ تمہاری بہن ہی ہو سکتی ہے ۔جس کو ہماری خوشیاں ایک آ نکھ نہیںبھاتی، اور اس کا بیٹا جو بات بات پر لڑنے مرنے کی دھمکیاں دیتا ہے ۔ بہت ممکن ہے ثانیہ نے اس کا بھی اثر لیا ہو ۔مجھے پتہ ہے تمہیں میری باتیں بہت بری لگ رہی ہوں گی لیکن حقیقت یہی ہے ۔‘‘ مراد علی نے زہر خند لہجے میں کہا تو بیگم طلعت نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
’’میری بہن تو خود بے چاری اس کی صحت کے لئے دعائیں مانگ رہی ہے ۔ اسے بالکل بھی اعتراض نہیں ہے کہ ہم ثانیہ کی شادی کہاں کر رہے ہیں ، خیر چھوڑیں اس بات کو ،کیا کیا ہے اب تک آ پ نے کچھ مجھے بھی تو بتائیں ۔‘‘
’’دیکھو بیگم ، میںنے شہر کے مشہور ہوٹل میں ہال بک کروا لیا ہے ، جتنے بھی مہمان ہوں گے ، وہیں آ جائیں گے ۔کل بیگم الماس اپنے ساتھ ثانیہ لے جا کر اس کا جوڑا پسند کروا لائے گی ، تم بھی ساتھ چلے جانا، جو بھی شاپنگ کرنا ہو کر لینا۔ باقی رہی جہیز کی بات تو میں نے ایک معقول رقم ثانیہ کے اکائونٹ میں ڈال دی ہے ۔شادی کے بعد جو چاہے وہ خرید سکتی ہے ۔‘‘ مراد علی نے سکون سے کہا تو بیگم طلعت کو کچھ ڈھارس بندھی ۔مگر اس کے چہرے پر سے پریشانی پھر بھی ظاہر ہو رہی تھی ۔وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی
’’ لیکن بیگم الماس نے تو آ ج آ نا تھا، میں اس کا انتظار بھی کرتی رہی ہوں ۔انہوں نے کوئی فون بھی نہیں کیا مجھے ، کیا آ پ کو کال کرکے انہوں نے کل آ نے کا بتایا؟‘‘
’’ہاں ، مجھے چوہدری صاحب کا فون آ یا تھا، آج ان کے کوئی مہمان آ گئے تھے ۔اس لئے وہ نہیں آ پائے ہیں ۔ میںنے تمہیں بتانا تھا ، لیکن بس مصروفیت میں یاد ہی نہیں رہا۔‘‘ مراد علی نے ٹی وی پر نگاہیں جمائے کہا
’’مہمان کون کون سے ہوں گے ، انہیں کیا بتا دیا آ پ نے ؟‘‘ بیگم طلعت نے پوچھا تو مراد علی نے طنزیہ لہجے میں کہا
’’بس تمہاری بہن صاحبہ کو نہیںبلایا،باقی میںنے اپنے بہت قریبی دوستوں کی لسٹ بنا لی ہے ، انہیں کل فون کروں گا ۔تم چاہو تو اپنی بہن کو فون کر دینا تاکہ شادی میں کوئی نہ کوئی بد مزگی ضرور ہو جائے ۔‘‘
’’ مراد علی یہ آپ اچھا نہیں کر رہے ، اس طرح …‘‘ بیگم طلعت نے کہنا چاہا مگر مراد علی نے بات کاٹتے ہوئے نفرت سے کہا
’’ میں اسے برداشت نہیں کرسکتا ہوں ۔ میںنے کہہ دیا ، وہ مجھے وہاں دکھائی نہ دے ۔ اور ہاں اس کے علاوہ جسے بھی بلانا چاہو ، ثانیہ سے بھی پوچھ لو ، اس کی کوئی قریب ترین سہیلی ہو تو اسے بھی بلا لو ۔‘‘
بیگم طلعت نے دکھی دل کے ساتھ اپنے شوہر کی ساری بات سنی۔ اس کے آ نسو پلکوں پر آ گئے تو وہ وہاں سے اٹھ گئی ۔
وہ بیڈ روم میں جا کر کھل کے رُو دی ۔ایک ہی بہن تھی ، اس سے بھی ناطہ چھوٹ رہا تھا ۔ اب یہ اس کی مجبوری تھی ۔ وہ اپنے گھر بار ، اپنے شوہر کے لئے بہن کو چھوڑنا ہی تھا ۔ کافی دیر بعد تک وہ خود کو سمجھا پائی تھی ۔ اپنے آپ کو حوصلہ دینے کے بعد وہ ثانیہ کے کمرے کی جانب چل دی ۔
ثانیہ بیڈ پر لیٹی ہوئی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی ۔ طلعت بیگم کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے کتاب ایک طرف رکھتے مسکرا کر کہا
’’ آئیں ماما،ادھر میرے پاس بیٹھیں ۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اٹھ کے بیٹھ گئی ۔ بیگم طلعت اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی ۔ثانیہ نے اپنا سر ماما کے کاندھے سے لگا دیا۔تبھی بیگم طلعت نے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا
’’ بیٹی ، تمہاری شادی کو چار دن رہ گئے ہیں۔اپنی کسی سہیلی کو شادی پر بلایا ہے تم نے ؟‘‘
’’ ماما، میں نے کسی کو بھی نہیںبلانا۔کوئی سہیلی نہیں ہے میری ۔‘‘ ثانیہ اکتائے ہوئے انداز میں بولی
’’ایسا کیوں کہہ رہی ہو ؟مانا کہ جیسے تمہیں رخصت کرنا چاہئے تھا ، ویسا سب کچھ نہیں ہو رہا، لیکن اس میں ہم نے تو نہیں چاہا۔ تمہاری اور ذیشان کی مرضی تھی ۔اس لئے …‘‘ وہ کہہ رہی تھیں کہ ثانیہ نے انہیںٹوکتے ہوئے کہا
’’میرا دل نہیں چاہ رہا۔شاید وہ سب وقتی اُبال تھا ۔ شاید جذبات اور حقیقت میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔جس کی سمجھ مجھے اب آ رہی ہے ۔‘‘
’’ لیکن بیٹی اب تو سب کچھ طے ہو گیا ہے ۔سب کچھ تمہاری مرضی سے ہوا ہے ۔ ‘‘یہ کہہ کر اس نے وہ ساری باتیں ثانیہ کو بتا دیں جو تھوڑی دیر پہلے مراد علی نے اس سے شادی کی تیاریوںکے بارے میں کہیں تھیں ۔ وہ چپ چاپ سنتی رہی ۔اس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔یونہی باتیں کرتے رہنے کے بعد بیگم طلعت اسکے پاس سے اٹھ کر چل دیں ۔ نجانے کیوں وہ اپنے دل پر بھاری بوجھ محسوس کر رہی تھی ۔
ژ… ژ… ژ
اس وقت سورج ڈھلنے کو تھا جب فرزانہ اپنے گھر میں داخل ہوئی ۔اس کی ماں کمرے سے اٹھ کر باہر صحن میں بیٹھی ہوئی تھی ۔وہ نہ صرف صحت مند دکھائی دے رہی تھی بلکہ نہا دھو کر کپڑے بھی بدلے ہوئے تھے ۔اس نے کھانا لے جا کر رکھا تو اس کی ماں نے کہا
’’ ادھر آ بیٹھ تجھے ایک بات بتائوں ۔‘‘
’’ ایسی کیا بات ہے اماں ۔‘‘ اس نے تجسس سے ماں کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا تو اس کی ماں نے خوشگوار لہجے میں بتایا
’’تیرے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی اسلم آ یا تھا۔ اس نے مجھے کافی ساری رقم دی ہے اور منّت کر کے کہا ہے کہ اب میں تجھے کام پر نہ بھیجوں ۔‘‘
’’ تو پھر کیا کہتی ہو تم ؟‘‘ فرزانہ نے ماںسے پوچھا
’’دیکھ اگر اب وہ تیری طرف مائل ہو رہا ہے تواب تم بھی اس کی بات مان لو ۔ کہیں وہ غصے میں آ کر اپنا ارادہ ہی نہ بدل دے ۔‘‘اس کی ماں نے ڈرتے ہوئے کہا۔تب اس نے حتمی لہجے میں کہا
’’اماں ، میرا کام کرنا ہی اگر اسے برا لگتا ہے تو پھر اپنی ماں کو لے کر آ جائے ۔پہلے کی طرح منگنی کرے اور میں اسی دن سے کام چھوڑ دوں گی ۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر خاموش رہی پھر سمجھاتے ہوئے بولی،’’ اماں شاید اسلم تو اب بھی مجھے چاہتا ہوگا لیکن اس کی ماں کا کیا کرو گی ۔ میں کام کرتی رہوں گی نا تو وہ جلدی ہی اپنی مان کو راضی کر لے گا ۔‘‘
’’ چل بیٹی ، جیسے تمہاری مرضی ۔‘‘ اس کی ماں نے دھیمے سے لہجے کہا تو وہ چولہے میں آ گ جلانے لگی ۔اسے جلتی ہوئی آ گ میں راکھ پھینکنا تھی ۔ اس نے ماں کو اندر جانے کا کہا۔وہ چلی گئی تو کھانا گرم کرنے سے پہلے اس نے راکھ چولہے میں ڈال دی ۔ فرزانہ کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی کہ اگر کرامت شاہ کے عمل نے ایک ہی دن میں اپنا چمتکار دکھا دیا ہے تو اب اسلم اس کا ہو کر رہے گا ۔ جیسے وہ چاہے گی ویسا ہی اب اسلم کرے گا ۔ شاید اس سوچ کے پیچھے انتقام بھی تھا۔ یہی سوچتے ہوئے اسے کرامت شاہ کی باتیں یاد آ نے لگیں۔اگر وہ آ ج ہی عمل کے لئے چلی جائے تو کیسا ہو ؟ لیکن اپنی ماں سے بہانہ کیا کرے گی؟ کھانا گرم کرتے اور ماں کو کھلاتے ہوئے آ خر بہانہ سوجھ ہی گیا ۔ اس وقت فرزانہ دوا پلا چکی تھی جب اس نے اپنی ماںسے کہا
’’ اماں ، وہ بیگم ثروت ہیں نا ، وہ بڑی بیمار ہیں ۔ ‘‘
’’ اوہ کیا ہو گیا بیگم صاحبہ کو ؟‘‘ ماں نے تشویش سے پوچھا
’’پتہ نہیںکیا ہوا ہے انہیں، مجھے تو پھوپھو نے کہا تھا کہ اگر میں رات ان کے پاس رک جائوں تو انہیں تیمار داری میں سہولت ہو گی ۔مگر میں تو انہیں یہ کہہ کر آ گئی اگر اماں نے اجازت دی تو آ جائوںگی ۔‘‘
’’ تو بیٹی تم وہاں رک جاتی۔ وہ بڑی اچھی خاتون ہے ۔ان کا خیال کرنا چاہئے تھا تمہیں۔‘‘اماں نے تشویش سے کہا
فرزانہ کو اندازہ نہیں تھا کہ ماں اتنی جلدی مان جائے گی ۔ اس نے چند لمحے سوچا اور اوپری دل سے بولی
’’ اگر تم کہتی ہو تو چلی جاتی ہوں ۔‘‘
’’ ہاں بیٹی اگر اب بھی تم جا سکتی ہو تو چلی جائو۔ اس عورت کے مجھ پر بڑے احسان ہیں ۔آج ان کے کام آ ئو گی تو کل وہ تیرا خیال کریں گے ۔‘‘ اماں نے سمجھایا تو وہ جانے کے لئے تیار ہونے لگی ۔
اس وقت رات ڈھل چکی تھی جب فرزانہ ایک ٹیکسی لے کر کرامت شاہ کے گھر جا پہنچی ۔جیسے ہی اس کی آ مد کے بارے میں کرامت شاہ کو بتایا گیا، اسے فوراً اندر بلا لیا گیا۔کرامت شاہ اس وقت اپنے کمرے میں تھا۔ اس نے بھوکی نگاہوں سے اس کے بدن کو دیکھتے ہوئے پوچھا
’’ تم آج ہی میرے عمل میں میرا ساتھ دو گی ؟‘‘
’’ جی میں تیار ہوں ۔‘‘ اس نے آ ہستگی سے کہا
’’ ٹھیک ہے ، عمل کی تیاری کرتے ہیں ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے باہر کسی کو آواز دے دی ۔
کرامت شاہ کی آواز دینے کی بازگشت میں وہاں کی خادمہ اندر آ گئی ۔اس نے پہلے فرزانہ کو دیکھا، پھر کرامت شاہ کی طرف دیکھ کر کہا
’’ جی بابا جی حکم ۔‘‘
’’یہ لڑکی آج کے عمل میں میرا ساتھ دے گی ، جائو اسے تیار کرکے ، عمل والے کمرے میں لے کر آ ئو ۔‘‘ اس نے حکم دیا تو ادھیڑ عمر عورت نے ذرا سا جھک کر کہا
’’ جیسے آپ کا حکم بابا جی ۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے فرزانہ کو باہر آ نے کا اشارہ کیا۔وہ اس ادھیڑ عمر عورت کے ساتھ چل دی ۔
وہ ادھیڑ عمر عورت اسے ایک ایسے کمرے میں لے گئی ، جس کی چار دیواری تو کیا چھت بھی سیاہ تھی ۔کمرے میں اگر بتی سلگ رہی تھی ، جس کی مہک سے اس کا دماغ خمار آ لود ہونے لگا تھا ۔ فرش پر ایک دری پڑی ہوئی تھی ۔ فرزانہ کو اس پر بٹھا دیا گیا ۔
’’ ایسے ہی بیٹھی رہنا میں ابھی آ ئی ۔‘‘ ادھیڑ عمر عورت نے کہا اور کمرے سے نکل گئی ۔ وہ اسی طرح ساکت بیٹھی ہوئی تھی ۔زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ ادھیڑ عمر عورت واپس پلٹ کر آ ئی تو اس کے ہاتھ میں ایک پیتل کا پیالہ تھا ۔ اس نے گہرے عنابی رنگ کا سیال تھا ۔ وہ اس نے فرزانہ کی جانب بڑھاتے ہوئے پی جانے کا اشارہ کیا ۔ فرزانہ نے وہ پیالہ پکڑا اور اسے ہونٹوں سے لگالیا۔ مشروب کافی مزیدار تھا ۔ اس نے چند گھونٹوں میں وہ پیالہ ختم کر دیا ۔ اس ادھیڑ عمر عورت نے پیالہ واپس لے کر ایک جانب رکھ دیا ۔ادھیڑ عمر عورت نے فرزانہ کے پاس بیٹھ کر اس کے بال کھول دئیے پھر آہستہ آ ہستہ ان میں کنگھی کرنے لگی ۔ فرزانہ سکون محسوس کر نے لگی تھی وہ یونہی بیٹھی رہی تھی ۔کچھ دیر تک اس کے بال سنوارتے رہنے کے بعد کھلے چھوڑ دئیے ۔ فرزانہ پر جیسے نشہ طاری ہو گیا تھا ۔ وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی لیکن اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں تھی ۔اس کے اپنے جذبات بھڑک اٹھے تھے ۔ اس ادھیڑ عمر عورت نے اس کے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔ جس پر فرزانہ نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا بلکہ وہ مچلنے لگی تھی ۔ اس کا من چاہ رہا تھا کہ کوئی اسے توڑ کر رکھ دے ۔ وہ ادھیڑ عمر عورت سمجھ گئی کہ فرزانہ اب پوری طرح تیار ہو چکی ہے ۔ اس نے فرزانہ کے بدن پر سے سارے کپڑے اتار دئیے ۔ انہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔ ادھیڑ عمر عورت نے اس کے گرد ایک مختصر سی سیاہ چادر اوڑا دی گئی ۔وہ چادر میں لپٹی ہوئی بیٹھی رہی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ ادھیڑ عمر عورت اسے اس کمرے سے اٹھا کر عمل و الے کمرے میں لے گئی ۔
عمل والے کمرے کی دیواریں بھی سیاہ رنگ کی تھیں ۔ہلکی ہلکی سرخ روشنی نے اسے مزید خوفناک بنا دیا ہوا تھا ۔ کرامت شاہ کمرے کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کے گرد بھی ایک چھوٹی سی سیاہ چادر تھی ۔ اس کے آ گے چھوٹے سے برتن میں آگ جل رہی تھی ۔وہ منہ میں تیزی سے کچھ پڑھتا جا رہا تھا ۔ تھوڑی تھوڑی دیر کا وقفہ کر کے وہ آگ میں کئی چیزوں سے بنایا برادہ پھینکتا، جس سے ایک دم سے سڑاند اٹھتی تھی اور دھواں کمرے میں پھیل جاتا تھا ۔ وہ اور زور زور سے منتر پڑھنے لگتا تھا۔ ایسے میں وہ ادھیڑ عمر عورت آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی فرزانہ کو لے کر آ ئی، اسے کمرے میں چھوڑ کر فوراً ہی پلٹ گئی۔
فرزانہ کے گرد ایک مختصر سی سیاہ چادر تھی ۔اس کے بال یوں کھلے ہوئے تھے جیسے چھوٹے چھوٹے سانپوں نے اس کی گردن کو گھیرا ہوا ہو ۔وہ کرامت شاہ کو دیکھ کردھیرے دھیرے آ گے بڑھ رہی تھی جیسے اس پر سکتہ طاری ہو گیا ہو یا پھر کسی ربورٹ کی مانند بے حس ہو چکی ہو ۔اسے دیکھتے ہی کرامت شاہ نے زور زور سے منتر پڑھتے ہوئے آگ میں برادہ پھینکا تودھویں کے ساتھ سڑاند اٹھی ۔ کرامت شاہ کے پاس آتی ہوئی فرزانہ کو ابکائی آئی اور خود پر قابو پاتے ہوئے اس نے قے کر دی ۔اس کے ساتھ ہی وہ دہری ہوتی چلی گئی ۔ سیاہ چادر پر اس کی قے بکھر گئی تھی ۔ تیز بدبو کمرے میں پھیل چکی تھی ۔اس پر کرامت شاہ کی آ نکھوں میں ایسی چمک در آ ئی جیسے اس کا عمل کامیاب ہو گیا ہو ۔ وہ زور زور سے منتر پڑھنے لگا۔فرزانہ اس کے سامنے دہری ہو کر فرش پر گر گئی تھی ۔تیز سڑاند اور بدبو سے وہ نیم پاگل سی ہو گئی ۔کرامت شاہ نے اس بس نہیں کی۔وہ فرش پر گری ہوئی فرزانہ کے گرد چکر کاٹنے لگا ۔ا کی ہوس بھری شیطانی آ نکھیں اس کے بدن پر یستادہ تھیں۔ جبکہ فرزانہ فرش پر بے بس پڑی ہوئی تھی ۔ کرامت شاہ نے اپنے بدن پر پڑی ہوئی سیاہ چادر اتار کر پر پھینک دی تو کمرے میں شیطان پوری طرح ناچنے لگا تھا۔
ژ… ژ… ژ
ناشتے کی میزپر چوہدری نذیر اخبار پڑھ رہا تھا ۔ ملازمہ ناشتہ لگا رہی تھی ۔ایسے میں بیگم الماس آگئی ۔ وہ میز پر بیٹھی ہی تھی کہ ذیشان بھی اپنا بیگ لئے آ گیا۔ وہ ماں کے ساتھ بیٹھا تو چوہدری نذیر نے اخبار تہہ کر کے ایک طرف رکھتے ہوئے ذیشان کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’ کیسے ہو بیٹا؟‘‘
’ ’میں ٹھیک ہوں پاپا۔‘‘ اس نے لبوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا
’’ وہ تو تمہاری شکل سے دکھائی دے رہا ہے کہ تم کتنے ٹھیک ہو ، خیر ، تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری شادی کو کتنے دن رہ گئے ہیں۔‘‘ پاپا نے مسکراتے ہوئے کہا
’’ یہی تین دن ۔‘‘ وہ انجان بنتے ہوئے بولا
’’اور میرے لندن جانے میں چار دن باقی ہیں ۔تمہیں معلوم ہے کہ میں کتنا مصروف ہوں ۔لیکن تم ماں بیٹے نے بھی شادی کی کوئی تیاری نہیںکی ، نہ کوئی شاپنگ کی اور میرے خیال میں تو تم لوگ دوبارہ ثانیہ کے گھر بھی نہیں گئے ۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے ؟‘‘ پاپا نے پوچھا تو ذیشان نے بڑے تحمل سے اپنی ماں کی طرف دیکھا ، پھر ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولا
’’ ایسی تو کوئی بات نہیں پاپا، بس آج جائیں گے ان کی طرف ،شام تک شاپنگ ہو جائے گی جو بہت ضروری ہے ۔میں اور ماما آج انہی کے گھر جا رہے ہیں ۔‘‘
’’ لیکن تم تو بیگ اٹھائے ہوئے ہو ؟‘‘ پاپا نے کہا تو ذیشان ایک دم سے پریشان ہوگیا ، وہ کچھ کہنے کو سوچ ہی رہا تھا کہ پاپا نے کہا،’’ دیکھو بیٹا، والدین ہی وہ رشتہ ہے ، جو بنا کسی لالچ کے اپنی اولاد سے پیا ر کرتا ہے ۔ ان کی جائز ناجائز سبھی مانتا ہے ۔اور یہ بھی یاد رکھو وہ اپنی اولاد سے غافل نہیں رہتا۔تمہیں جو پریشانی ہے ہمیں بتائو ۔‘‘
’’ پریشانی کی ایسی کو ئی بات تو نہیں ہے ۔‘‘ اس نے سرجھکاتے ہوئے کہا
’’ نہیں بیٹا تم پریشان ہو ۔ہم نے تمہارے کہنے پر ثانیہ سے تمہاری بات طے کر دی ۔شادی کے اس کے والدین نے کہا ، ہم نے وہ بھی مان لیا۔ لیکن مجھے لگتا ہے اب ان کے روئیے میں کہیں سرد مہری ہے ، جو تم ہم سے شیئر نہیں کر رہے ہو، جو بات بھی ہے بیٹا وہ ہم سے کہو ۔ ا س طرح خاموش رہنے سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔‘‘
ذیشان نے اپنے پاپا کی بات بڑے سکون سے سنی پھر چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد الجھے ہوئے لہجے میں بولا
’’پاپا منگنی تک وہ بالکل ٹھیک تھی ۔ ہم میں انڈر سٹینڈنگ تھی۔جیسے ہی یہ شعیب والا معاملہ درمیان میں آ یا ، اسی وقت سے ثانیہ کا رویہ بدل گیا۔اس کی بیماری کی بھی کوئی سمجھ نہیں آ رہی ۔ میں ڈاکٹر ظہیر سے …‘‘
’’بیٹا، میںنے بھی اس سے تفصیل کے ساتھ بات کی تھی ۔اسے بھی کسی بیماری کی سمجھ نہیں آ رہی۔ سوائے نفسیاتی بیماری کے دوسرا کچھ نہیںکہا جا سکتا ہے ۔اچانک ایسی کسی نفسیاتی بیماری کا سامنے آ جانا ،نارمل نہیں ہے ۔ اسے سمجھنا بہت ضروری ہے ۔‘‘ پاپا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو اس کی ماما بولیں
’’ دیکھو بیٹا، میں کوئی ثانیہ پر الزام تراشی نہیں کر رہی ہوں بلکہ عورت کی ایک نفسیات بتانا چاہتی ہو،اور وہ یہ ہے کہ جس مرد کے ساتھ عورت کا نام جڑ جائے وہ اسی کے ساتھ رہنا پسند کرتی ہے ۔‘‘
’’ کیا کہنا چاہ رہی ہیں آپ ؟ مطلب شعیب سے وہ اب بھی …‘‘ اس نے جان بوجھ کر فقرہ ادھورا چھوڑ دیا ۔
’’اس کے رویے سے ، ا س کے اچانک بیمار ہو جانے سے ،اندازہ تو یہی لگایا جا سکتا ہے ۔ورنہ اور کیا بات ہو سکتی ہے ۔‘‘ ماما نے سکون سے کہا
’’ ایک بات اور بھی ممکن ہے ، وہ شاید شعیب سے ڈر گئے ہوں ؟‘‘ ذیشان نے کہا تو پاپا نے بولے
’’ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو ، لیکن مراد علی کے پاس ایسے بہت سارے حل ہیں جن سے وہ استفادہ کر سکتا ہے ، میں نے بھی اسے آ فر کی تھی ۔میرا نہیںخیال کہ وہ ڈر گئے ہیں ۔اصل معاملہ صرف اور صرف ثانیہ ہی کا ہے ۔‘‘
’’میرے خیال میں آج ہم ان سے حتمی بات کر لیں ۔‘‘ ماما نے دوٹوک انداز میں کہا تو پاپا نے پوچھا
’’ مثلاً کیا کریں گی یہ بات ؟‘‘
’’یہی کہ شاپنگ کے لئے جانا ہے ، چلیں ہمارے ساتھ ۔ خوش خوش ہمارے ساتھ چل دیں تو ٹھیک ۔ ورنہ سیدھی سی بات ہے ، وہیں پتہ چل جائے گا کہ ان کے دل میں کیا ہے ۔ ‘‘ماما نے کہا
’’ اور اگر وہ خوش خوش نہ گئیں تو ؟‘‘ پاپا نے پوچھا
’’ میرا خیال ہے پھر ہمیں ان سے وقت لے لینا چاہئے کیا خیال ہے بیٹا؟‘‘ پاپا نے پوچھا حالانکہ وہ اپنی بیگم کے ساتھ پہلے ہی طے کرچکا تھا کہ کرنا کیا ہے ۔ اس پر ذیشان خاموش رہا ۔ کچھ لمحوں بعد بولا
’’ پاپا جیسا آ پ اور ماما چاہیں ۔میرا بھی وہی فیصلہ ہوگا ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے بیٹا، تم یہ بیگ واپس رکھو، ہم کچھ دیر بعد تینوں ہی ان کے ہاں جاتے ہیں ۔‘‘
’’ جی ٹھیک ہے ۔‘‘ ذیشان نے سرہلاتے ہوئے کہا اور ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
مراد علی اور بیگم طلعت دونوں لائونج میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان کے درمیان خاموشی طاری تھی۔کچھ ہی دیر پہلے انہیں چوہدری نذیر کا فون آیا تھا کہ وہ تینوں ان سے ملنے کے لئے آ رہے ہیں۔دونوں ہی کو معلوم تھا کہ وہ کس مقصد کے لئے آ رہے ہیں۔مگر ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیںتھا۔وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھے سوچ رہے تھے کہ وہ تینوں لائونج میں آگئے ۔ دونوں نے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ سکون سے بیٹھ جانے پر بیگم طلعت نے پوچھا
’’ کیا لیں گے آپ ، کافی چائے یا ٹھنڈا؟‘‘
’’ کچھ بھی نہیں،ابھی ناشتہ کیا ہے ، کچھ دیر بعد چائے پی لیں گے ۔‘‘ چوہدری نذیر نے سنجیدگی سے کہا تو بیگم الماس نے پوچھا
’’ یہ ثانیہ دکھائی نہیں دے رہی ، کہاں ہے ؟ اسے ہماری آ مد کے بارے میں نہیں بتایا؟‘‘
’’ اپنے کمرے میں ہے ۔ میں نے سوچا آ پ آ جائیں تو بتاتی ہوں۔‘‘
’’ اوہ ، ہم نے تو اسے اپنے ساتھ لے کر جانا تھا ، کیا شاپنگ نہیں کرنی ، شادی میں بھلا دن کتنے رہ گئے ہیں ۔ ‘ ‘ بیگم الماس نے حیرت سے کہا
’’میں بلاتی ہوں اسے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے بیگم طلعت اٹھ گئیں۔تبھی چوہدری نذیر نے اپنا رُخ مراد علی کی جانب موڑتے ہوئے پوچھا
’’بچوں کی خوشی کے لئے انتہائی جلدی میں منگنی کر لی ، پھر فوراً شادی کا بھی کہہ دیا ، دن بھی طے کر لئے لیکن اب آپ کی طرف سے سرد مہری کیوں؟‘‘
’’ دراصل ، وہ ثانیہ اچانک بیمار ہو گئی ،اس لئے کوئی سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں ۔انتہائی پریشانی میں یہ دن گزر رہے ہیں ۔ ورنہ سرد مہری والی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘مراد علی نے تحمل سے کہا
’’ تو پھر کیا کہتے ہیں آپ ؟شادی اسی دن ہونا ہے ، جس دن ہم نے طے کی ہے یا آپ کا کوئی خیال بدل گیا ہے ؟‘‘چوہدری نذیر نے بھی سکون سے پوچھاتو مراد علی نے جھجکتے ہوئے کہا
’’ اب دیکھیں ، ثانیہ کی حالت ایسی نہیں ہے، آپ کو بھی پتہ ہے ۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ، کیا کروں اور کیا نہ کروں۔‘‘
’’ بات تو آپ کی بالکل ٹھیک ہے ، میں اگر آپ کی جگہ ہوتا تو میری حالت بھی آ پ کے جیسی ہونا تھی ۔ خیر ، ثانیہ سے بھی مشورہ کر لیں ۔ اگر وہ خود کوٹھیک سمجھتی ہے تو شادی میں کو ئی تاخیر بھلا کیوں کریں۔‘‘چوہدری نذیر نے کہا تومراد علی خاموش ہو گیا
زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ بیگم طلعت کے ساتھ ثانیہ آ گئی۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے کئی دنوںکی بیمار ہو ۔ اس نے سب کو سلام کیا اور اپنی ماما کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی ۔ اس نے ایک بار بھی ذیشان کی طرف نہیں دیکھا۔بیگم الماس نے یہ رویہ بہت غور سے نوٹ کیا تھا ۔
’’ اب کیسی طبیعت ہے بیٹی ؟‘‘چوہدری نذیر نے ثانیہ سے پوچھا
’’ ٹھیک ہوں ۔‘‘ اس نے سرہلاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا
’’شاپنگ کے لئے کچھ سوچا، کہاں جانا ہے ، کب جانا ہے ، کیا کچھ لینا ہے ؟‘‘ بیگم الماس نے پوچھا تو ثانیہ کے چہرے پر ہلکی سی ناگواریت پھیل گئی ۔
’’ نہیں آ نٹی میں نے تو کچھ بھی نہیں سوچا۔ مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا، مجھے سمجھ نہیں آ رہی، کیا کروں کیا نہ کروں ۔‘‘چند لمحوں بعد وہ الجھتے ہوئے بولی
یہ کہہ کر وہ چند لمحے بے چین سی وہاں بیٹھی پہلو بدلتی رہی اور پھر اٹھ کر اندر کی جانب چلی گئی ۔گویا اس نے یہ بتادیا تھا کہ اسے وہاں بیٹھنا، اس موضوع پر بات کرنا یا سننا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔ وہ سب اس کی طرف دیکھتے رہے ، پھرچوہدری نذیر نے مراد علی کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں پوچھا
’’ مطلب ، ثانیہ ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہے ؟‘‘
’’ اب میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔‘‘ اس نے شرمندہ سے لہجے میں کہا
’’ تو چلیں ٹھیک ہے ، ہم ثانیہ کے بالکل تندرست ہو جانے کا انتظار کر لیتے ہیں۔میں لندن سے واپس آ جائوں تو پھر پورے چائو سے یہ شادی کر لیں گے ، کیا خیال ہے آ پ کا ۔‘‘چوہدری نذیر نے دبے دبے غصے میں کہا اور ذیشان کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ مراد علی یا کوئی جواب دیتا، وہ جھجکے ہوئے بولا
’’ میں اگر ایک منٹ ثانیہ سے بات کرلوں تو …‘‘
’’ جائو ، جا کر بات کر لو۔‘‘ بیگم طلعت نے جلدی سے کہا تو وہ اٹھ کر ثانیہ کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
ثانیہ اپنے کمرے میں ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ہلکی سی دستک دے کر ذیشان اندر آ گیا تو ثانیہ نے اس کی جانب دیکھا بھی نہیں۔
’’ تمہیں یوں وہاں سے اٹھ کر نہیں آ جانا چاہئے تھا۔‘‘وہ ہولے شکوہ بھرے لہجے میںسے بولا
’’میں جانتی ہوں ،تم لوگ اپنے گھرہی سے یہ سوچ کر آ ئے تھے کہ اس شادی سے انکار کرنا ہے ۔تمہارے پاپا نے بات ہی اس طرح کی ہے ۔پھر میں وہاں کیا کرنے بیٹھی رہتی ؟‘‘ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا تو وہ حیران رہ گیا۔اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے سکون سے کہا
’’ایسا نہیں ہے ، میں اور ماما تو آ ج شاپنگ …‘‘
’’ غلط کہہ رہے ہو تم ، جھوٹ بولتے ہو ۔میں کسی جھوٹے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔‘‘ اس نے انکار میں سر مارتے ہوئے کہا
’’ ثانیہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو، شاید تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ۔ مجھے بتائو ، بات کیا ہے ۔‘‘ ذیشان نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے سکون سے پوچھا
’’میں کچھ نہیں جانتی ، مجھے بس اکیلا چھوڑ دو ۔‘‘ اس نے انتہائی غصے میں کہاتو ذیشان اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا۔ اس قدر وہ آ پے سے باہر ہو رہی تھی ۔اس کے ساتھ جتنا تحمل اور سکون سے بات کر رہا تھا، وہ اسی قدر غصے میں آ تی چلی جا رہی تھی ۔ تبھی ذیشان کو خیال آ یا کہ معاملہ کافی سیریس ہے ۔ ان دنوں میں اگر ان کی شادی ہو بھی گئی تو ان کے درمیان ذرا سی بھی خوشگواریت نہیں ہوگی۔ جس طرح پاپا نے کہاکہ کچھ دیر انتظار کر لینا چاہئے تو ویسا ہی ٹھیک ہے۔ ممکن ہے اچھا ہونے کی بجائے بالکل ہی غلط ہوجائے ۔ اس نے اپنے تئیں فیصلہ کرتے ہوئے دھیمے سے کہا
’’ ثانیہ میں تمہیں بہت چاہتا ہوں۔ یہ تمہیں بھی پتہ ہے ۔ میں تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔تم کیسے یہ سوچ سکتی ہو کہ میں تمہارا خیال نہیں کرتا۔خیر ، اب جو بھی تمہارا فیصلہ ہو میں اسے مان لوں گا۔ہم اس شادی کو موخر کرتے ہیں۔پاپا جب واپس آ جائیں گے تو پھر ہو جائے گی یہ شادی بھی ۔ تم پر سکون ہو جائو۔اب خوش ہو ؟‘‘
’’ ہاں ، میں خوش ہوں ۔ہمیں ایسا ہی کرنا چاہئے ۔‘‘ اس نے پرسکون لہجے میں کہا تو ذیشان فوراً ہی اٹھ گیا۔وہ اپنے تئیں مسئلہ سمجھ چکا تھا کہ کیا ہو سکتا ہے ۔
وہ واپس لائونج میں آ یا تووہ سب چائے پی رہے تھے ۔ وہ سکون سے صوفے پر آ بیٹھا۔ سب کی نگاہیں اس پر تھیں ۔ اس لئے وہ بولا
’’ میرا خیال ہے ، پاپا لندن سے واپس آ جائیں تو ہی شادی کرنا بہتر ہوگا۔‘‘
اس کے یوں کہنے پر ان سب کے درمیان جیسے ماحول ساکت ہو گیا ہو ۔ کچھ دیر انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ پھر چوہدری نذیر ہی نے کہا
’’ چلیں اچھا ہوا ، ہمیں شادی کی تیاری کے لئے کافی وقت مل جائے گا۔دھوم دھام سے کریں گے شادی۔‘‘
’’ہاں ایسا ہی ہونا چاہئے ۔‘‘ مراد علی نے بے دلی سے کہا تو ذیشان اٹھتے ہوئے بولا
’’ پاپا، میں آ فس جاتا ہوں ، آپ ماما کے ساتھ گھر چلے جائیں۔‘‘
’’ چائے تو پی لو بیٹا۔ کچھ لیا بھی نہیں تم نے …‘‘ بیگم طلعت نے دکھی لہجے میں کہا تو وہ سنی ان سنی کرتا ہوا باہر کی جانب چل دیا۔ اب اس کے لئے وہاں رکھا ہی کیا تھا ۔
ژ… ژ… ژ
اس وقت بیگم ثروت اور پھوپھو، باہر کاریڈور میں بیٹھی ہوئی چائے پی رہی تھیں۔کچھ دیر پہلے ہی شعیب آ فس کے لئے نکلا تھا ۔ وہ دونوں خاموشی سے یوں چائے پیتی چلی جارہی تھیں جیسے ان کے پاس بات کرنے کے لئے کوئی موضوع ہی نہ ہو ۔ چائے پینے کے بعد بیگم ثروت نے اٹھتے ہوئے کہا
’’ میں تو چلی اندر ، تھوڑا آ رام کر لوں ۔پھر مجھے مارکیٹ بھی جانا ہے۔‘‘
اس پر پھوپھو نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اندر چلی گئی۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ فرزانہ گیٹ پار کر کے اندر آتی ہوئی دکھا ئی دی ۔ وہ معمول سے کچھ پہلے ہی آ گئی تھی ۔وہ سیدھی پھوپھو کے پاس آ کر فرش پر بیٹھ گئی ۔
’’ آج اتنی جلدی آ گئی ہو ؟‘‘ پھوپھو نے شک بھرے لہجے میں پوچھا
’’میں گھر سے نہیں آئی ۔‘‘اس نے افسردگی سے کہا
’’ توپھر کہاں سے آ ئی ہو؟‘‘ پھوپھو نے تیزی سے پوچھا
’’ میں کرامت شاہ کے گھر سے آئی ہوں، رات وہیں تھی عمل کے لئے ۔‘‘ اس نے دکھی لہجے میں منہ پھیرتے ہوئے کہا تو پھوپھو کی آ نکھیں چمک اٹھیں ۔اس نے جلدی سے سیدھی ہوتے ہوئے ارد گرد دیکھا، پھر ہولے سے پوچھا
’’کیسے کیا عمل ؟‘‘
اس پر فرزانہ کچھ نہیںبولی ، بلکہ اس کی آنکھوں میں آ نسو آ گئے ۔وہ لمحوں میں نڈھال دکھائی دینے لگی تھی ۔پھوپھو نے سب کچھ سمجھتے ہوئے فقط تصدیق کے لئے اپنا سوال دہرایا تو وہ بھیگے ہوئے لہجے میں بولی
’’ میرا سب کچھ لٹ گیا ہے پھوپھو۔ انہوں نے مجھے نشہ پلا دیا تھا۔پھر پتہ نہیں میرے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا۔ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی ۔ تین گھنٹے پہلے مجھے ہوش آ یا تو میں گندگی میں لپٹی ہوئی تھی۔‘‘
’’ اوہ ، …‘‘ پھوپھو کے منہ سے سرسراتے ہوئے بس یہی نکلا، پھر چند لمحوں بعد تجسس سے پوچھا،’’ رات ، اپنی ماں کو کیا بتایا؟‘‘
اس پر فرزانہ نے ساری روداد پھوپھو کو سنادی ۔یہاں تک کہ اس نے نوٹوں کی ایک گڈی پھوپھو کے سامنے پھینکتے ہوئے بولی
’’ یہ دئیے ہیں انہوں نے مجھے اور ساتھ میں دھمکیاں بھی دی ہیں ۔ کہا ہے کہ میں دوبارہ آ تی جاتی رہوں ورنہ وہ میرا سب کچھ ختم کر دیں گے اور میں کسی کو بتائوں بھی نہ ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ رُو پڑی ۔
’’ اچھا ، صبر کر ، میں بات کروں گی ان سے ۔میں کہوں گی ان سے کہ تیری شادی جلد ازجلد اسلم سے ہو جائے ۔ اب اگر ہم یہ بات منہ سے نکالتے ہیں تو ہماری کوئی نہیں مانے گا ۔اب میں ہی بات کروں گی ان کے ساتھ، عقل مندی یہی ہے کہ بس خاموش رہا جائے ، واویلا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔‘‘ یہ کہہ کر اس کی نگاہ نوٹوں پر پڑی ۔وہ اٹھا کر اس نے فرزانہ کو دیتے ہوئے کہا،’’ یہ رکھ لے اپنے پاس ، کام ا ٓئیں گے ۔‘‘
’’ اپنے پاس ہی رکھ لو ، میں لے لوں گی پھر ۔‘‘ فرزانہ نے کہا اور جلدی سے اٹھ کر اندر کی جانب چلی گئی ۔ پھوپھوچند لمحے سوچتی رہی ، پھر اس کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ رینگ گئی ۔ پھوپھو کو اسی لمحے یہ بے چینی ہونے لگی کہ ثانیہ کے بارے میں پتہ کرے ۔ وہاں کوئی نہ کوئی خبر ضرور ہو گی ۔
دن کا پہلا پہر گزر چکا تھا ۔ پھوپھو کچن میں جا کر فرزانہ کو زبردستی دودھ پلا کر نکلی تھی۔ بیگم ثروت مارکیٹ جانے کے لئے لائونج میں آ کر بیٹھ گئی ہوئی تھی ۔ وہ ڈرائیور سے گاڑی نکالنے کا کہہ کر انتظار میں تھی ۔ انہی لمحات میںبیگم ثروت کا فون بج اٹھا۔ وہ دوسری طرف سے سنتی رہی ۔ وہ کچھ دیر تک فون سنتی رہی ۔ پھر فون بند کرتے ہوئے پھوپھو کو آواز دے ڈالی۔پھوپھو اس کے پاس جا کر بیٹھتے ہوئے بولی ۔
’’ کیا بات ہے ، بڑی پریشان لگ رہی ہو ؟‘‘
’’ بات ہی ایسی ہے ۔‘‘ وہ افسردگی میں بولی
’’ بتائو تو ۔‘‘ پھوپھو کا تجسس عروج پر تھا
’’ وہ ثانیہ اور ذیشان کی شادی ہو رہی تھی چار دن بعد ، اب نہیں ہو رہی ۔‘‘ بیگم ثروت نے بتایا تو پھوپھو کا دل بلیوں اچھل پڑا۔ بڑی مشکل سے خود پر قابو پاتے ہوئے بولی
’’ کیوں کیا ہوا ؟‘‘
’’ وہی ثانیہ کی بیماری ، انہوں نے سوچا ، ٹھیک ہو جائے تو پھر دیکھتے ہیں ۔ ثانیہ کا سسر بھی تو لندن جا رہا ہے نا ۔‘‘یہ کہہ کر اس نے نمبر پش کرتے ہوئے کہا
’’ میں شعیب کو بتادوں ۔‘‘
پھوپھو اپنی کامیابی پر جھوم گئی تھی۔
دور کھڑی فرزانہ انہیں غور سے دیکھ رہی تھی۔ ان کی آوازیں اس تک پہنچ رہی تھی ۔پھوپھو فاخرہ کے چہرے پر پھیلی ہوئی آ سودگی نے حیرت زدہ کر دیا تھا ۔نجانے اسے یہ احساس کیوں ہونے لگا کہ اس اطلاع کے ساتھ اس کا بھی کچھ نہ کچھ جڑا ہوا ہے ۔ فرزانہ کافی دیر تک سوچتی رہی ۔ پھر وہ سمجھ گئی کہ وہ استعمال ہوگئی ہے۔ پھوپھو فاخرہ نے اسے بابا کرامت کے سامنے چارے کی مانند پھینکا تھا ۔
اسلم سے شادی کرنے کی خواہش اُسے بہت مہنگی پڑی تھی ۔ جس کی اُسے بہت بڑی قیمت چکانا پڑی تھی ۔دکھ تھا کہ اس کے پورے وجودمیں پھیلتا چلا گیا تھا ۔وہ پھوپھو فاخرہ سے نفرت کرنے لگی تھی ۔اس نے سوچا وہی لالچ میں آ گئی تھی ۔اگر وہ اپنا فائدہ نہ سوچتی تو شاید وہ اس کے چنگل میں نہ پھنستی ۔ وہ کچن میں آ کر بیٹھ گئی ۔اس کی سوچ اسی محور پر گھومنے لگی ۔اسلم کو پانے کے لئے وہ اپنی عزت کھو چکی تھی ۔اگر وہ غریب نہ ہوتی تو شاید اس کے ساتھ یہ ظلم نہ ہوتا۔ پھوپھو فاخرہ نے اپنے بھتیجے کی شادی کا مقصد حل کرنے کے لئے اسے بھینٹ چڑھا دیا۔اس کے اندر غصہ سر اٹھانے لگا ۔ اس کا جی چاہا کہ وہ پھوپھو فاخرہ کا گلا دبا دے ۔مگر اگلے ہی لمحے اس کے دماغ میں یہ سوچ ابھری ، پھر کیا ہوگا؟کیا اس طرح اس کی عزت واپس آ جائے گی ؟ ابھی تک تو سوائے چند لوگوں کے کسی کو معلوم نہیں، پھوپھو فاخرہ کے قتل کے بعد تو سب کو پتہ چل جائے گا ؟ کیا پھر وہ زندہ رہ پائے گی ؟کیا موت صرف اسی کا مقدر ہے ؟ ان سب کو موت کیوں نہ آ ئے ، جنہوں نے اس پر ظلم کیا ہے ؟ اس میں پھوپھو فاخرہ ، کرامت شاہ ، اسلم اور اسلم کی ماں کے ساتھ اس کی اپنی غربت بھی شامل تھی ۔ ایک کو اگر قتل کر بھی دے گی تو باقی بچ جائیں گے ، کوئی اور فرزانہ ان کے بھینٹ چڑھے گی ۔تو پھر مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ اس کے اندر کی کیفیات پل پل بدلتی چلی جا رہی تھیں ۔اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔اسے احساس اس وقت ہوا جب اسے اپنے گالوں پر نمی محسوس ہوئی ۔اس نے اپنی ہتھیلی کی پشت سے اپنے گال پونچھے اور اٹھ گئی۔ اس نے سوچ لیا تھا ، جو کچھ وقت نے، اس زمانے نے اسے دیا ہے ، وہ وہی کچھ وقت اور زمانے کو لوٹائے گی ،کیسے ؟ یہ اس نے وقت پر ہی چھوڑ دیا۔
ژ… ژ… ژ
شعیب اس وقت اپنے آ فس میں تھا۔ اس کے پاس اس کا دوست بیٹھا ہوا تھا۔دونوں میں خاموشی تھی ۔خاموشی کا یہ وقفہ کافی طویل ہوگیا تو دوست نے کہا
’’مجھے نہیں پتہ تم کیا سوچ رہے ہو ، کیا کررہے، کیوں اس کام میں اتنی دیر لگا رہے ہو۔ لیکن میں ہر وقت حاضر ہوں ، میں نکاح ہونے سے پہلے تک سب کچھ کرنے کو تیار ہوں ۔ بس تم ایک بار ہاں کر دو ۔‘‘
’’یار میںنے تم سے کوئی بات نہیں چھپائی ، مجھے ایک بار ، صرف ایک بار ثانیہ کی ہا ں مل جائے ، چاہے معمولی سا اشارہ ہی کیوںنہ ہو۔‘‘
’’شادی کو دن کتنے رہ گئے ہیں ،محض چار دن کے بعد شادی ہے ۔کب ملے گا تمہیں اشارہ ؟‘‘
اس سے پہلے کہ شعیب جواب دیتا، اس کا سیل فون بجا۔ اس نے اسکرین پر پھوپھو فاخرہ کے نمبر دیکھے تو کال رسیو کر لی ۔ پھوپھو نے کسی تمہید کے بنا تیزی سے کہا
’’ لوبیٹا، دو اپنی پھوپھو کو دعائیں ، تمہارا آ دھے سے زیادہ کام تو ہوگیا۔ ‘‘
’’ مطلب، میں سمجھا نہیں۔‘‘ اس نے الجھتے ہوئے کہا
’’ ارے مبارک ہو ، ثانیہ کی شادی رُک گئی ہے ۔بلکہ یوں سمجھو کہ اب ہو گی ہی نہیں۔‘‘ پھوپھو فاخرہ نے جوشیلے انداز میں کہا تو اس نے حیرت سے پوچھا
’’ کیسے پھوپھو، یہ کیسے ہوا ، اطلاع ٹھیک توہے نا؟‘‘
’’ بالکل درست اطلاع ہے ، یقین نہ آ ئے تو اپنی ماں سے پوچھ لو ۔ایک طرح سے جواب ہو گیا ہے ۔‘‘ پھوپھو نے کہا
’’ پوری بات بتائیں ۔‘‘ اس نے تجسس سے کہا
پھوپھو نے اپنے انداز میں ساری بات اسے بتا دی ۔وہ خوشگوار حیرت میں سب سنتا رہا ۔ساری بات سن کر بولا
’’ ٹھیک ہے ۔ میں کچھ دیر میں آ تا ہوں ۔‘‘فون بند کر دینے کے بعد اس نے اپنے دوست سے کہا،’’ وہی ہوا نا ، جس کے بارے میں تجھے کہہ رہا تھا۔‘‘
’’ کیا ہوا ؟‘‘
اس پر اس نے وہ سب بتا دیا جوابھی پھوپھو نے اسے فون پر بتایا تھا ۔اس کا دوست حیرت سے سار ی بات سنتا رہا،پھر سمجھ آ جانے والے انداز میں سر ہلاتے ہوئے بولا
’’یار ، اب اس سے بڑی کیا ہاں کیا ہوگی ۔مجھے تو یہی سمجھ آ یا ہے کہ وہ تمہیں چاہتی ہے ۔ بس کوئی وجہ تھی جو یہ سب ہوا، میری صلاح یہی ہے کہ تم خود اس کی طرف بڑھو، اسے اپنی محبت جتائو، یہی وقت ہے۔‘‘
’’ ہاں ، یہی وقت ہے ۔‘‘ شعیب نے سوچتے ہوئے کہا اور اپنا سیل فون اٹھا لیا۔پھر ثانیہ کے نمبر پش کرنے کے بعد رابطہ ہو جانے کا انتظار کرنے لگا۔
’’ ہیلو ۔‘‘ دوسری طرف سے ثانیہ کی منمناتی ہوئی آ واز آ ئی تو شعیب نے کہا
’’میں تم سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ تم کیسی ہو ؟ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ کوئی دکھ کوئی سوگ منانے کی بجائے ،گھر سے نکلو ، کسی پر سکون اور خوشگوار جگہ پر بیٹھتے ہیں ۔ بہت ساری باتیں کرتے ہیں ۔جس میں آ ج کے کسی واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔‘‘
’’ میں خود بہت ڈسٹرب ہوں ، مجھے یہاں اکیلے میں بہت وحشت ہو رہی ہے ۔میں خود کسی کھلی جگہ جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے وہ بہت پریشان بیٹھی ہوئی ہو
’’ ایسا کرو ، تیار ہو جائو ، میں تمہیں لینے کے لئے آ رہا ہوں ۔‘‘ شعیب نے تیزی سے کہا
’’ہاں ، پاپا ، آ فس چلے گئے ہیں ، تم آ جائو ۔‘‘ وہ عجیب سے لہجے میں بولی
’’ میں اندر نہیں آ ئوں گا ، بلکہ گیٹ ہی سے پک کر لوں گا ۔ بس تم جلدی سے تیار ہو جائو ۔‘‘ اس نے کہا اور فون بند کر دیا ۔
شعیب یوں خاموش ہو کر بیٹھ گیا جیسے یہ سب خواب میں ہو رہا ہو ۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ثانیہ یوں اس کے ساتھ جانے پر راضی ہو جائے گی یا پھر اس قدر اچھے انداز میں بات ہی کرلے گی ۔وہ کچھ دیر ساکت سا بیٹھا رہا ، پھر اس نے کھل کر قہقہ لگادیا ۔ اسے لگا جیسے اس نے ثانیہ کو جیت لیا ہو ۔
’’ کیا ہوا ؟‘‘ اس کے دوست نے حیرت سے پوچھا
’’یار ، وہ میرے ساتھ کہیںباہر جانے پر راضی ہو گئی ہے ۔وہ میری کمپنی چاہ رہی ہے ۔‘‘ شعیب نے یوں کہا جیسے ایک جہان فتح کر لیا ہو ۔
’’ اب دیر مت کرو ، جائو اسے لے لو جا کر ۔‘‘اس نے کہا تو شعیب اٹھتا چلا گیا۔
شعیب نے ثانیہ کے گھر کے قریب پہنچ کر اسے کال کی کہ میں پہنچ گیا ہو ، آ جائو ۔ وہ کچھ دیر بعد گیٹ پر آ گئی ۔ثانیہ نے ہلکے کاسنی رنگ کا شلوار سوٹ پہنا ہوا تھا۔ اس کی گیسو ہوا سے اُڑ رہے تھے ۔اس نے سیاہ چشمہ پہنا ہو ا تھا ، وہ آئی تو شعیب نے جلدی سے اتر کر اس کے لئے پسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا تو وہ بڑے سکون سے بیٹھ گئی ۔ شعیب نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
’’ کہاں چلیں؟‘‘
اس کے ساتھ ہی اس نے کار بڑھا دی ۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد اس نے کہا
’’ جہاں تمہارا دل چاہے ۔‘‘
’’ میرا دل بھی وہی چاہے گا ، جو تمہارا دل چاہتا ہے ۔‘‘ شعیب نے کچھ اس طرح دل سے کہا کہ ثانیہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا پھر بڑے مان سے بولی
’’ چلو ، آج کا دن تمہارے نام ، جو تم چاہو ۔‘‘
’’ اوکے ۔‘‘ اس نے کہا اور سامنے دیکھتے ہوئے رفتار بڑھا دی ۔شعیب کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ یہ سب خواب میں دیکھ رہا ہے ۔
وہ ریزارٹ میں موجود خوبصورت لان کے پر سکون گوشے میں آ منے سامنے سفید کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ثانیہ کا چہرہ گلابی گلابی لگ رہا تھا ۔ ویسا بالکل نہیں تھا ، جیسے چند دن پہلے اس نے ہسپتال میں دیکھا تھا۔ابھی تک ان کے درمیان ذیشان کے شادی موخر ہو جانے کی بات نہیں ہوئی تھی ۔شعیب خود بھی ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا اور شاید وہ بھی نہیں بات کرنا چاہتی تھی ۔ ان کے درمیان موسم ، پرسکون جگہ اور خوشگوار ماحول بارے باتیں چلتی رہیں جو بلاشبہ بہت پھیکی اور اوپری اوپری سی تھیں ۔تبھی فریش جوس کا ایک سپ لے کر گلاس رکھتے ہوئے ثانیہ نے کہا
’’ مجھے یہ آ زادی کے لمحے بہت اچھے لگ رہے ہیں۔‘‘
’’ آ زادی ؟ مطلب تمہیں کسی نے قید کیا ہوا تھا؟‘‘ شعیب نے ساری بات سمجھتے ہوئے بھی انجان بنتے ہوئے پوچھاتو وہ مسکراتے ہوئے بولی
’’پتہ نہیں کیوں ، ذیشان سے منگنی ہوتے ہی مجھے یوں لگا جیسے میں قید کر لی گئی ہوں ۔ کوئی میرے اندر بیٹھا ، مجھے مسلسل یہ باور کرا رہا ہے کہ میں قید ہو نے جا رہی ہوں ۔ذیشان ایسا نہیں ہے جیسا وہ دکھائی دے رہا ہے ۔ ‘‘
’ ’ کیا تم اسی لئے پریشان تھی ؟ یہی وجہ تھی کہ تم ہسپتال جا پہنچی ہو ؟‘‘ اس نے پوچھا
’’ میں کچھ نہیں جانتی ، شاید میںنے بہت سوچا ، یا جوکچھ بھی تھا، میں پاگل ہو گئی تھی ۔‘‘ وہ الجھتے ہوئے بولی
’’ اب تو پر سکون ہو نا ؟‘‘ اس نے پوچھا
’’ ہاں ، بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی ، تب شعیب نے سنجیدگی سے کہا
’’ دیکھو ثانیہ ، ایسی بات نہیں ہے کہ ذیشان سے تمہاری منگنی ختم ہو نایا نہ ہونا میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ مجھے یہ سب قبول ہی نہیں تھا۔اور اب اگر تمہارے ساتھ بیٹھا ہوں تو اس کی وجہ یہ حالات نہیں ۔میںنے تمہیں پہلے بھی بتایا ہے اور اب دہرا رہا ہوں کہ مجھے تمہاری خوشی چاہئے ۔ جیسے تم خوش رہو۔کیونکہ مجھے تم سے محبت ہے ۔‘‘
’’ یہ محبت بھی نہ جانے کیا چیز ہے ؟‘‘ اس نے کہا اور طویل سانس لے کر رہ گئی
’’ میرے نزدیک محبت دوسرے کی خوش میں خوش رہنے کا نام ہے اور بس ۔‘‘ شعیب نے مخمور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بولی
’’ یہ محبت زندگی بھی دیتی ہے اور مار بھی جاتی ہے ۔‘‘
’’ اچھا ، چھوڑو ان باتوں کو ، اب تم نے خود کو بالکل پر سکون رکھنا ہے ۔ تم جو کرنا چاہو کرو ۔ تم شاید امتحان دینا چاہتی تھی ، سکون سے دو ۔بس صحت مند ہو جائو۔ باقی سارے مسئلے ، سارے معاملے بعد کے ہیں ۔‘‘ شعیب نے بہت جذباتی لہجے میں کہا تو وہ دھیرے سے مسکرا دی ۔وہ اس کی طرف دیکھتی رہی پھر ہنستے ہوئے بولی
’’ اتنے دن ہو گئے مجھے یوں پر ہیزی کھانے کھاتے ہوئے ، کوئی اچھا سامصالحے دار کھانا نہیں کھلا ئو گے یا باتوں سے ٹر خاتے رہو گے ۔‘‘
اس پر شعیب نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا
’’ آ ئو چلیں ۔‘‘
وہ دونوں اٹھ کر چل دئیے ۔
ژ… ژ… ژ
رات کا پہلا پہر ختم ہونے کو تھا ۔فرزانہ اپنے بستر پر پڑی سوچوں میں گم تھی ۔ اسے یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ ان چند ہی دنوں میں اس کے ساتھ ہو کیا گیا ہے ۔ کیا دنیا اس قدر ظالم ہے کہ جیسے ہی اس نے گھر سے قدم نکالا، وہ ظلم کا شکار ہو گئی ۔ کس طرح اس کی خواہشوں اور مجبویوں کو استعمال کیا گیا ۔ ایک جھٹکے ہی میں اس سے سب کچھ چھین لیا گیا۔ کیا کبھی وہ اپنا بدلہ لے پائے گی یا یونہی سسک سسک کر اس دنیا سے چلی جائے گی ؟ کیا کبھی یہ معاشرہ اسے عزت دے گا؟ یا یونہی کیڑے مکوڑوں کی مانند زندگی بسر کر کے مر جائے گی ؟وہ اچھی طرح سمجھتی تھی کہ اسے کس طرح استعمال کر لیا گیا تھا ۔ وہ اگر احتجاج بھی کرے گی تو اس کی آ واز دبا دی جائے گی۔ اور اگر کسی نے ا س کی کسی نے آواز سن بھی لی تو کوئی کان نہیں دھرے گا ۔ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی ۔ شاید اب وہ معاشرہ نہیں رہا ، جس میں رحم دلی ،ہمدردی یا بے غرض ہو کر دوسروں کی مدد کی جاتی ہے ۔وہ انہی خیالات میں کھوئی ہوئی تھی کہ باہر دروازے پر دستک ہوئی ۔ وہ اس مخصوص دستک کو جانتی تھی ۔ ایسی دستک صرف اسلم دیتا تھا ۔ اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔فرزانہ نے دیکھا کہ ایک بار تو ماں نے بھی دستک سنی لیکن پھر یوں سوئی ہوئی بن گئی ، جیسے اس نے دستک سنی ہی نہ ہو ۔ وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ فرزانہ باہر جا کر اسلم سے بات کرے ۔اس نے تلخی سے سوچا، غربت کیا کیا تماشے دکھاتی ہے ۔ عام حالات میں اگر کوئی لڑکا یوں رات گئے دروازے پر دستک دیتا، وہ چاہئے اسلم ہی کیوں نہ ہوتا تو اس کی ماں شیرنی کی طرح گرج پڑتی ۔دوسری دستک پر وہ اٹھی اور دروازے تک گئی ۔ تب تک اسلم نے تیسری بار دستک دے دی تھی ۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے اسلم ہی کھڑا تھا۔ وہ فوراً اندر آ گیا۔ اس نے آ تے ہی ہولے سے پوچھا
’’ خالہ کہاں ہے ؟‘‘
’’ وہ اندر سو رہی ہے۔‘‘ فرزانہ نے خمار آ لود لہجے میں کہا تو اسلم نے کھسیانے سے انداز میں کہا
’’ وہ میں خالہ ہی کا پتہ کرنے آ یا تھا۔ کیسی ہے وہ ؟‘‘
’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ اس نے مختصر سے کہا
’’ میں دراصل تمہارے لئے ایک چیز لایا تھا، سوچا ابھی تمہیں دے آئوں ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سستا سا سیل فون نکال کر اس کی جانب بڑھا کر بولا،’’ یہ لو ،میں تم سے باتیں کر لیا کروں گا ۔‘‘
وہ چند لمحے سیل فون کی طرف دیکھتی رہی پھر اکتائے ہوئے لہجے میں بولی
’’ کس لئے اسلم ، ہم کس لئے باتیں کریں گے ۔ان باتوں کانجام کیا ہے ؟‘‘
’’ دیکھوفرزانہ ، میںنے اپنی امی سے کہہ دیا ہے کہ جہاں وہ میری منگنی کرنا چاہتی ہے ۔ میںوہاں نہیں کرنا چاہتا۔ وہ رُک گئی ہے ۔اب وہاں میری منگنی نہیںہوگی ۔ کچھ دنو ں تک میں امی سے بات کرلوں گا کہ میں کیا چاہتا ہوں ۔‘‘اس نے تیزتیز انداز میں کہا
’’ اسلم ، میںنے کہا ہے نا کہ جب تمہاری ماں مان جائے ، تب مجھ سے بات کرنا۔میری شادی اب مسئلہ نہیںرہی ۔ میں اب خود کمانے لگی ہوں ۔ اور یاد رکھنا، جس جہیز کی وجہ سے تمہاری ماں نے مجھے حقارت سے دیکھا تھا، وہ میں چند ماہ میں بنا کر دکھائوں گی ۔‘‘ فرزانہ نے انتہائی جذباتی لہجے میں کہا
’’ تم ناراض ہو رہی ہو ۔ میں تو ایسا نہیں چاہتا نا ، میں آ گیا ہوں نا تمہارے لئے ۔تم جو کہو گی وہی ہوگا۔‘‘ اسلم نے اسے منانے والے انداز میں کہا
’’یہ راتوں کو چھپ چھپ کر ملنا، کیا یہ ٹھیک ہے ؟‘‘ اس نے پوچھاتو وہ کھسیانے لہجے میں بولا
’’ٹھیک تو نہیں ہے پرکیا کروں، مجھ سے رہا نہیں جاتا، مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے ۔ میں برداشت نہیں کر پا رہا ہوں ۔‘‘
’’ تو جائو ، اسی دن آ نا ، جب تمہاری اور میری منگنی ہو جائے ۔ ‘‘ اس نے پھر اکتائے ہوئے انداز میں کہا
’’ نہیں فرزانہ ، ایسے نہ کہو ،میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولا
’’ دیکھو ، میں پھر کہہ رہی ہوں ، اب شادی میرا مسئلہ نہیں ہے ، کوئی بھی مجھ سے شادی کر لے گا۔اب اگر میں تم سے شادی کرتی ہوں تو عزت کے لئے ۔ احترام کے لئے ،اس گھر میں مان کے لئے ۔ کیونکہ تمہاری ماں نے مجھے ٹھکرایا ہوا ہے ، میں کس منہ سے وہاں پر جائوں گی؟‘‘ وہ پھر جذباتی انداز میں بولی تو اسلم نے تڑپ کر کہا
’’ میں دوں گا تمہیں عزت ۔‘‘
’’ ہاں تمہی دے سکتے ہو ۔مجھے اب تم سے محبت نہیں ،عزت چاہئے ، وہ اگر دے سکتے ہو تو۔‘‘ اس نے دھیمے سے لہجے میں کہاتو اسلم نے محبت بھرے لہجے میں کہا
’’ دیکھو، اگر میری ماں نہ مانی تو میں تم سے کورٹ میرج کرلوں گا ۔لیکن شادی میں نے تم ہی سے کرنی ہے ۔‘‘اسلم نے جذباتی لہجے میں کہا
’’ نہیں اسلم ، اس طرح عزت نہیں ملتی ۔جس طرح ہمارے معاشرے کا چلن ہے ویسے تم مجھے بیاہ کرلے جائو تب ، تمہاری ماں آ ئے ، مجھے دوبارہ مانگے ، تم بارات لائو تب ۔فکر نہ کرو ، میں بہت جہیز لائوںگی ۔‘‘ اس نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا ۔ اس کی آ واز تو کسی دوسری وجہ سے بھرائی تھی لیکن اسلم تڑپ کر رہ گیا۔ اس نے آ ہستگی سے اس کا ہاتھ پکڑااور بولا
’’تم بس میرا انتظار کرنا، میں تمہیں پورے مان کے ساتھ اپنے گھر لے جائوں گا ۔اب تم میری محبت ہی نہیں ،میرا فرض بھی ہو ۔‘‘
’’ میں انتظار کر لوں گی ۔‘‘اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا
’’یہ لو یہ فون لے لو ، بات …‘‘اسلم نے کہا
’’نہیں ، ابھی نہیں ۔اس دن لوں گی ، جب تیری اور میری منگنی ہوگئی ۔اب تم جائو ، کسی نے دیکھ لیا تو بہت باتیں بنیں گی۔‘‘ فرزانہ نے کہا تو اسلم اس کے چہرے پر دیکھتا ہوا واپس مڑا اور دروازہ پار کرکے چلا گیا۔ فرزانہ نے دروازے کی کنڈی چڑھائی اور کمرے میں آگئی۔ اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے اس نے اپنی ماں کو دیکھا۔وہ یونہی سو رہی تھی ، وہ بھی لیٹ گئی ۔ اس نے جو سوچا تھا ، اس کی ابتدا کر دی تھی ۔وہ اب اس دنیا کو بخشنے والی نہیں تھی ۔
اس صبح جب وہ بیگم ثروت کے ہاں کام پر گئی تو اس کا من بوجھل تھا۔رات اسلم سے کی ہوئی باتیں اس کے ذہن پر سوار تھیں ۔وہ ہی سوچتے ہوئے معمول کے کام کرتی رہی ۔اس وقت وہ بیگم ثروت اور پھوپھو کو چائے دینے باہر کاریڈر کی طرف جا رہی تھی ۔ تبھی دونوں کی باتیں اس کے کانوں میں پڑیں ۔ وہ ثانیہ کے ہاں جانے کی باتیں کر رہی تھیں ۔ بیگم ثروت الجھے ہوئے لہجے میں پوچھ رہی تھی
’’ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا بہانہ کر کے جائیں گی اور انہیں کیا پوچھیں گی ، کہیں وہ برا ہی نہ منا جائیں ۔‘‘
’’ بہانہ کیا کرنا ، سیدھے جائیں گی اور ان سے پوچھ لیں گی کہ بھئی منگنی کیوں ٹوٹی ، اس میں سمجھ نہ آ نے والی کون سی بات ہے ۔‘‘پھوپھو نے تیز لہجے میں کہا
’’ سچی پوچھو نا فاخرہ ، میرا تو دل کر رہا ہے آ ج ہی طلعت سے کہہ دوں کہ ثانیہ مجھے دے دو ۔‘‘ بیگم ثروت نے پر شوق لہجے میں کہا
’’تو کیا ہوا کہہ دینا۔‘‘ پھوپھو سکون سے بولی
’’ نہیں اچھا نہیں لگتا۔لیکن باتوں باتوں میں اسے احساس ضرور دلا دوں گی ۔‘‘ اس نے کہا
فرزانہ کے قدم چند لمحے ہی رکے تھے ۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ سارا کھیل کیا کھیلا جا رہا ہے ۔ اس سے پہلے کہ وہ باہر جانے کو قدم اٹھاتی ، اس نے فیصلہ کر لیا۔ تبھی اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکان پھیل گئی ۔
ژ… ژ… ژ
بیگم ثروت تیار ہونے کے اٹھ کر اندر چلی گئی۔پھوپھو وہیں باہر کاریڈور میں بیٹھی نجانے کن سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔ جیسے ہی اس کی نگاہ فرزانہ پڑی ، وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی ۔پھر ادھراُدھردیکھ کر اس نے اپنے قریب آ نے کاا شارہ کیا۔ وہ پھوپھو کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی ۔ پھوپھو نے پھر اسے بیٹھنے کا شارہ کیا تو وہ فرش پر بیٹھ کر اس کی طرف دیکھنے لگی ۔ تبھی پھوپھو نے منمناتے ہوئے ہولے سے کہا
’’ فرزانہ وہ جو تو نے مجھے رقم دی تھی ، وہ آ ج واپس لے جا ، سنبھال کر رکھ لے اپنے پاس ۔‘‘
’’ میں کہاں رکھوں گی اسے ، میری ماں نے کبھی اتنی رقم نہیں دیکھی، اگر اسے پتہ چل گیا تو مجھے بتانا پڑے گا کہ میرے ساتھ کیا ہوا اور یہ رقم کہاں سے آ ئی ہے ۔‘‘ فرزانہ یوں سکون سے بولی ، جیسے اس نے یہ سب پہلے ہی سے سوچ رکھا ہو ۔پھوپھو نے درزیدہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا، اس کے اندر خوف بھر آ یا تھا ۔ وہ جانتی تھی کہ فرزانہ کی کہی ہوئی ایک بات بھی سارا کھیل ختم کر سکتی ہے ۔ انہی لمحوں میں پھوپھو کو احساس ہو گیا کہ اب اسے فرزانہ کو اہمیت دینا ہوگی ۔ نجانے کیوں اسے فرزانہ انتہائی خطرناک لگی ۔
پھوپھو نے چند لمحے فرزانہ کے چہرے پر دیکھا، پھر خوشگوار انداز میں رسان سے بولی
’’ ایک کام کرتی ہوں، میں یہ رقم صفیہ کو خود دے آتی ہوں ، اسے کہوں گی کہ یہ تمہارے جہیز کے لئے رکھ لے ۔‘‘
’’ نہیں، سیدھے رقم مت دو، بلکہ ایک بڑا صندوق لو تھوڑے مزید پیسے ڈال کر اس میں چیزیں رکھو اور میری ماں کو دے کر آئو ۔ مزید یہ کہنا کہ اس میں فرزانہ کے جہیز کی چیزیں رکھتی چلی جانا۔‘‘فرزانہ نے اسے سمجھایا تو ایک پھوپھو ایک لمحہ میں سمجھ گئی۔وہ جانتی تھی ، جب تک شعیب کی شادی نہیں ہو جاتی فرزانہ کو قابو کر کے رکھنا ہوگا۔اس لئے ہنستے ہوئے بڑے پیار سے بولی
’’ چل ٹھیک ہے ، میں کل ہی جا کر یہ سب لیتی ہوں ، اور پھر تمہارے گھر خود لے جاتی ہوں۔‘‘
’’ بس یہی بات تھی ؟‘‘ فرزانہ نے پوچھا
’’ ہاں ، یہی بات تھی ۔ مجھے اور ثروت کو ابھی کچھ دیر میں جانا ہے ادھر ثانیہ کے گھر، مجھے لگا شاید مجھے بعد میں وقت نہ ملے ۔‘‘پھوپھو نے وجہ سمجھائی
’’ ٹھیک ہے ، جیسے پھوپھو آ پ کہتی ہو ، ویسے ہی کرلینا ، میں اندر جاتی ہوں ۔‘‘ یہ کہتے ہئے وہ اٹھی اور اندر کی جانب چل دی ۔ پھر یوں واپس پلٹی جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو ۔اس نے پھوپھو سے مسکراتے ہوئے کہا،’’ اور ہاں ، مجھے ایک سیل فون لے دیں ، آ پ سے بات کرنا پڑتی ہے ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے ، آ ج ہی منگوا دیتی ہوں ۔‘‘ پھوپھو نے کہا تو مڑ کر جانے لگی ۔پھوپھو اسے جاتا ہوا دیکھ کر بہت کچھ سوچنے لگی تھی ۔اس بار پھوپھو کو یقین ہو گیا تھا کہ فرزانہ خطرنا ہو گئی ہے ۔
ژ… ژ… ژ
اس وقت ثانیہ اپنے کمرے میں تھی۔طلعت بیگم ٹی وی لائونج میں بیٹھی ہوئی تھی۔ باہر پورچ میں کار رکی اور کچھ ہی دیر بعد پھوپھوفاخرہ اور بیگم ثروت اندر آ گئیں ۔طلعت بیگم انہیں دیکھتے ہی کھل گئی ۔ وہ صوفے پر آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں۔اسی دوران ثانیہ بھی وہیں آ گئی ۔وہ بھی ان سے بڑی خوشی کے ساتھ ملی ۔طلعت بیگم اپنی بیٹی کی خوشی دیکھ رہی تھی ۔ تبھی اسے خیال آیا کہ چائے کے لئے کہہ دے ۔ وہ اٹھنے لگی تو بیگم ثروت نے پوچھا
’’ کہاں جا رہی ہو ؟‘‘
’’ ارے کسی کو کہوں، چائے لائے ۔‘‘ وہ تیزی سے بولی
’’ ماما میں نے کہہ دیا ہے، ابھی لاتی ہے وہ ۔‘‘ ثانیہ نے کہا اور اپنی ماما کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر مزید باتیں کرتے رہنے کے بعد پھوپھو ہی نے ہمت کر کے پوچھا
’’ اچھا طلعت مجھے یہ بتا ، اپنی ثانیہ کی منگنی کیوں ٹوٹی ؟‘‘
طلعت بیگم اس پر کچھ دیر سوچتی رہی ،پھر ثانیہ کی طرف دیکھ بولی
’’ شاید میری بیٹی کو وہ رشتہ پسند نہیں تھا ۔‘‘
’’ یہ تو نہ کہو تم ، منگنی تو پسند سے کی تھی لیکن بات کیا ہوئی ؟‘‘ پھوپھو نے اپنی عادت سے مجبور طنزیہ انداز میں پوچھ لیا
’’ میںبتاتی ہوں پھوپھو۔‘‘ ثانیہ نے کہا پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولی ،’’ منگنی میری ہی پسند سے ہوئی تھی ،لیکن نجانے کیوں مجھے ذیشان سے خوف آ نے لگا تھا ۔ مجھے لگا جیسے شادی کے بعد وہ مجھے مار دے گا ۔ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا ۔‘‘
ثانیہ کے لہجے میں خوف تھا۔ اس پر سبھی خاموش ہو گئیں ۔ کچھ دیر بعد ثروت بیگم نے کہا
’’ طلعت ، پتہ نہیں تم میری بات کو کس انداز سے لو ، مگر ثانیہ میرا خون ہے ، مجھے اس کا دکھ ہے ۔کیوں نا ہم اسی تعلق کو پھر سے بحال کر لیں ۔ ‘‘
’’ سچی بات تو یہی ہے ثروت ، میرا بھی یہی من چاہتا ہے ۔ہم دونوں بہنیں بھی ملتی رہیں گی اور میری بیٹی بھی تمہارے گھر میں رہے گی تو مجھے سکون رہے گا ۔لیکن …‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی
’’ میں جانتی ہوں ، یہ مراد علی نہیں مان رہا ۔ہم دونوں گھروں میں وہی ہے نا جو اس رشتے سے انکار کر رہا ہے ، باقی ثانیہ تو راضی ہے نا، کیوں بیٹی ؟‘‘ ثروت بیگم نے براہ راست ثانیہ سے پوچھا لیا تو وہ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولی
’’ ہاں ، میں راضی ہوں ۔‘‘
اس کے یوں کہنے پر پھوپھو فاخرہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی ۔ ثروت بیگم کو اس ناطے پر حقیقی خوشی ہوئی ۔ اس کے دل کی مراد بر آ ئی تھی ۔
’’ اب مسئلہ صرف مراد علی کا ہے۔اسے کیسے منایا جائے ؟‘‘ طلعت بیگم نے کہا تو پھوپھو بولی
’’ اری طلعت ، جب سارے مان گئے ہیں تو وہ بھی مان جائے گا ۔ تم اس سے بات کرو ۔اور جتنی جلدی ہو سکے ، ہم یہ معاملہ نمٹا لیں ۔‘‘
’’ میں کرتی ہوں بات ۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے کہا ، پھر ثانیہ کی طرف دیکھ کر بولی ،’’ ثانیہ بیٹی پھر سوچ لو ،اچھی طرح سوچ لو ، مجھے پتہ ہے تمہارے پاپا کو قائل کرتے ہوئے مجھے کتنی مشکل ہو گی ۔‘‘طلعت نے کہا تو ثانیہ یوں بولی ، جیسے پہلے ہی اس کے ذہن میں یہ بات ہو ۔ اس نے کہا
’’ ماما، آپ بات کریں ۔میں شعیب ہی سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘
ثانیہ کے یوں صاف لفظوں میں کہہ دینے کے بعد ان تینوں خواتین کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا ۔
٭…٭…٭
شام ڈھلے جب فرزانہ گھر پہنچی تو اس کی ماں کمرے سے باہر صحن میں خوشی سے نہال بیٹھی ہوئی تھی ۔فرزانہ کو گھرمیں کہیں سامان دکھائی نہیں دیا۔ اس نے لایا ہوا کھانا ایک طرف رکھا اور اپنی ماں کے پاس بیٹھ کر خوشگوار لہجے میں بولی
’’ اماں آج تم بڑی خوش لگ رہی ہوں ۔ لگتا ہے آج طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ۔‘‘
’’ بیٹی ، میری جو بیماری ہے نا، جب اس کا علاج ہو جائے تو میں صحت مند ہوں ۔‘‘ امان نے خوشی سے کہا
’’ ہوا کیا ہے ؟‘‘ اس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا
’’آج نا ، وہ فاخرہ آئی تھی ، وہی جو بیگم ثروت کی نند ہے ۔‘‘ اماں نے کہا تو وہ خاموش رہی تب وہ کہتی چلی گئی ،’’ وہ آج آ ئی تھی میرے پاس ، اس بے چاری کی کوئی اولاد نہیں ہے نا ۔ اس لئے مجھ سے مشورہ کرنے آ ئی تھی کہ میں کسی بچی کا جہیز دینا چاہتی ہوں ۔ فرازنہ کو دے دوں ؟ میںنے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ ۔ مجھے سے باتیں کرتی رہی کہ کیا کیا دینا چاہتی ہوں ۔ ‘‘
’’ پھر کیا کہا تم نے ؟‘‘ اس نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا تو اماں خوشی سے بولی
’’یہی جو بچیوں کے دیتے ہیں ۔ اب وہ کل صبح آ ئے گی میرے پاس ، کہہ رہی تھی سارا سامان لے آ ئوں گی ۔ چل تو کھانا لا ۔‘‘
یہ سب سن کر فرزانہ اٹھ گئی ۔
ژ… ژ… ژ
مراد علی سونے کے لئے اپنے بیڈ پر آ گیا تھا ۔وہ حسب معمول بیڈ کی ایک جانب لیٹا میگزین دیکھ رہا تھا کہ طلعت بیگم آ کر اس کے پاس بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد اس نے کہا
’’ مراد ، یہ میگزین چھوڑیں اور میری بات سنیں ۔‘‘
’’ خیر تو ہے نا بیگم ؟‘‘ اس نے میگزین ایک جانب رکھتے ہوئے پوچھا
’’ خیر ہی ہے ، میںآپ سے ایک اہم بات کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘ طلعت بیگم نے پھر اسی لہجے میں کہا تو متجسس لہجے میں کہتے ہوئے اٹھا
’’بات کرو ۔ کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘
’’ آ پ نے یہ سوچا کہ اپنی ثانیہ ایک دم سے بیمار ہو گئی اور پھر اسی طرح اچانک ٹھیک بھی ہوگئی ۔ یوں کس طرح ہو سکتا ہے ؟‘‘اس نے تجسس سے پوچھا
’’ بات تو تمہاری سوچنے والی ہے ، میرا اس طرف دھیان ہی نہیں گیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چند لمحے خاموش رہا ، پھر متفکر لہجے میں بولا،’’ تم کیا کہتی ہو ؟‘‘
’’شاید مجھے بھی اس بات کا خیال نہ آ تا ، لیکن آ ج ثروت اور فاخرہ آئیں تھیں …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو مراد علی نے بات کاٹتے ہوئے کہا
’’ وہ پھر آ گئیں ، بیگم تم انہیں …‘‘اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے بات قطع کر دی تووہ غصے میں بولی
’’ پہلے بات سن لیا کریں ۔‘‘
’’ اچھا سنائو ۔‘‘ اس نے ماتھے پر تیوریاں ڈال کر کہا تو وہ بولی
’’ان سے مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ اپنی ثانیہ اور شعیب کہیں ملے ہیں ۔‘‘
’’ وہ دونوں ملے ہیں ؟‘‘ مراد علی نے حیرت سے پوچھا جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہوں تو طلعت بیگم نے بتایا
’’ ہاں ، میںنے ثانیہ سے بھی اس کی تصدیق کر لی ہے ۔‘‘
’’ یہ کیا کہہ رہی ہو تم ،ایسا کیسے کر لیا اس نے ؟‘‘ اس نے حیرت بھرے دکھ سے کہاتو وہ بولی
’’بات یہ نہیں ہے کہ وہ ملے ، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کیوں ملے؟آپ بھی یہی سوچ رہے ہیں ، میں نے بھی یہی سوچا تھا لیکن میرے خیال میں اصل بات کچھ اور ہے؟‘‘
’’ ہاں یہ تو ہے ؟سامنے کی بات ہے ۔‘‘ اس نے کہا
’’میرے خیال میں ثانیہ کے دل سے شعیب کبھی نکلا ہی نہیں تھا ، یہ جو ذیشان کے ساتھ اس نے منگنی کی ۔یہ صرف ایک دکھاوا تھا ۔وہ اب تک شعیب ہی کے بارے میں سوچتی ہے ۔‘‘ طلعت بیگم نے کہا تو مراد علی بے بس انداز میں بولا
’’ ایسا کیوںکیا اس نے وہ ہمیں پہلے ہی بتا دیتی ۔اتنا کچھ تو نہ ہوتا ۔‘‘
’’ ہماری تو دشمنی چل رہی ہے نا ، شعیب لوگوں کے ساتھ ، پھر وہ بے چاری کیا کرتی ، اس نے ہماری خوشی دیکھی ، لیکن ہمارا یہی دعوی رہا کہ ہم ثانیہ کی خوشی چاہتے ہیں ۔میرے خیال میں اس نے ہمیں احساس دلایا ہے ۔ اس میں توشک کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولی تو مراد علی نے دکھ سے کہا
’’ ایک بار تو کہتی ، ہم اتنا آ گے تک نہ جاتے … خیر ، اب کیا کہتی ہے وہ ؟‘‘
’’میری اس معاملے میں اس سے ابھی کوئی بات نہیں ہوئی ، میں پہلے آ پ سے بات کرنا چاہتی تھی ، تاکہ آپ کی رائے لے سکوں ۔‘‘ اس نے کہا
’’ میری رائے کیا خاک حیثیت رکھتی ہے ۔‘‘ اس نے ناراضگی سے کہا
’’ ویسے میرے خیال میں ثانیہ نے شعیب سے مل کر ہمیں ایک پیغام دے دیا ہے ، ہمیں اسی پر سوچنا چاہئے ۔‘‘ وہ بولی
’’ کیا سوچنا چاہئے ، وہ بھی بتا دو ۔‘‘ اس نے سخت لہجے میں کہا
’’دیکھیں اس میں غصے اور ناراضگی سے زیادہ ٹھنڈے دماغ سے سوچنے والی بات ہے ۔ اگر ہم ثانیہ کی خوشی چاہتے ہیں تو اُس کی خوشی شعیب ہی ہے ۔یہاں پر اگر ہم نے منفی سوچا تو بات بگڑ جائے گی ۔ ‘‘ بیگم طلعت نے سمجھاتے ہوئے کہا
’’بیگم مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ مجھے ایک دودن دو سوچنے کے لئے ۔ اس دوران تم بھی ثانیہ سے اچھی طرح تصدیق کر لو ۔ ہم پھر بات کریں گے اس پر ۔‘‘ مراد علی نے حتمی لہجے میں کہا اور لیٹ گیا ۔ اس کے انداز سے یوں لگ رہا تھا جیسے اسے یہ سب سن کر بے حد افسوس ہوا ہو ۔ طلعت بیگم کچھ دیر بیٹھی رہی پھر وہ بھی لیٹ گئی ۔ان کے لئے ایک نیاامتحان در پیش تھا ۔
ژ… ژ… ژ
اس وقت بیگم ثروت اور پھوپھو فاخرہ لائونج میں تھیں ۔ ابھی تک فرزانہ کام پر نہیںآئی تھی۔شعیب تیار ہو کر آ فس جا چکا تھا
’’ ارے یہ فرزانہ ابھی تک نہیں پہنچی ، خیرہے اُسے؟‘‘ بیگم ثروت نے یونہی عام سے لہجے میں پوچھا تو پھوپھو بولی
’’ آ تی ہو گی کہیں نہ کہیں ۔ ویسے ہے بڑی شوقین مزاج ، تنخواہ کیا ملنے لگی ،فوراً فون لے لیا ہے اس لڑکی نے ۔‘‘
’’ ارے واہ ۔ نوجوان ہے نا ، اس کابھی دل کرتا ہوگا نئی نئی چیزیں لینے کو ۔‘‘ بیگم ثروت نے کہا تو پھوپھو فاخرہ نے اطمینان کا سانس لیا ۔ پھر بولی
’’ آ ج آ تی ہے نا تو اس سے لیتی ہوں نمبر ، ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ سوچ کر بولی ،’’ ارے ثروت ، فون سے یاد آ یا ، تم ذرا فون تو کرو اپنی طلعت کو ، پوچھو تو سہی اس نے مراد علی سے بات کی بھی یا نہیں ؟‘‘
’’ ہاں ، ابھی کرتی ہوں ۔‘‘ بیگم ثروت نے کہا اور اپنا سیل فون نکال کر اس نے نے نمبر پش کئے ۔کچھ دیر بعد ان کا رابطہ ہو گیا ۔ چند تمہیدی باتوں کے بعد اس نے ایک ہی سانس میں پوچھا۔
’’ ہاں طلعت، کیا تمہاری بات ہوئی مراد علی سے ، کیا کہا اس نے ؟‘‘
’’ ہاں بات تو ہو گئی ، مگر یہی کہا کہ میں سوچ کر جواب دوں گا ۔‘‘ طلعت نے بتایا تو ثروت بولی
’’ ہاں ، سوچنا تو ہوگا ، ایک بار تو اسے شاک ہی لگا ہوگا نا ۔‘‘
’’ ہاں ، ایسا ہی تھا کچھ ،جو نہی کوئی بات ہوتی ہے نا تومیں بتائوں گی ۔ ویسے میں ایک بار ثانیہ سے بھی حتمی بات کروں گی ۔ یہ کوئی گڈے گڈی کا کھیل تھوڑی ہے ۔‘‘ اس نے کہا تو ثروت نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا
’’ بالکل ، ہر طرح سے تصدیق کرنا ۔ پھر ہی کچھ بھی طے ہوگا ۔‘‘
وہ دونوں کچھ دیر باتیں کرتی رہیں ، پھر فون بند کر دیا۔ وہ دونوں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں کہ فرزانہ بھی آ گئی ۔اس نے اپنے معمول کے کام شروع کر دئیے ۔ پھوپھو فاخرہ اس کے پاس جا کر کا م بتاتی رہی ۔ پھر دھیمے سے پوچھا
’’ تمہیں سامان پسند آ یا ؟‘‘
’’ ہاں ، سب اچھا ہے ۔ لیکن ابھی تھوڑا ہے ، اب اسے پورا تو کرنا ہے ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو پھوپھو کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا ، پھر خود پر قابو پاتے ہوئے بولی
’’ ہاں ، دھیرے دھیرے سب ہو جائے گا ۔ تم فکر کیوںکرتی ہو۔‘‘
’’ نہیں میں نے اب فکر کرنا چھوڑ دیاہے ،اب اگر فکر ہوگی تودوسروں کو ۔‘‘ اس نے دبے دبے لفظوں میں اپنی بات کہہ دی ۔ پھوپھو فاخرہ نے چند لمحے سوچا اور پھر مزید کوئی بات کئے بغیر اس کے پاس سے ہٹ گئی ۔
پھوپھو فاخرہ جب سے ثانیہ کے گھر سے آ ئی تھی ، اسے یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب ثانیہ کی شادی شعیب سے ہو جائے گی۔ اب صرف مراد علی کا مسئلہ تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ ایک بار بابا کرامت شاہ کے پاس جائے گی اور یہ معاملہ بھی حل ہو جائے گا ۔ وہ تو اسی وقت جانے کو بے تاب ہوگئی تھی لیکن اسے وقت نہیں مل پا رہا تھا ۔ آ ج وہ ہر حال میں جانے والی تھی ۔ شادی ہو جانے میں یہی ایک روکاٹ ہے ۔ وہی دور ہو گئی تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔وہ کچھ دیر ادھر اُدھر پھرتی رہی پھر بابا کرامت شاہ کے گھرکی جانب چل دی ۔
ٹیکسی سے اتر کر وہ سیدھے بابا کرامت کے گھرمیں گھس گئی ۔اس دن وہاں پر کافی رش تھا ۔ لیکن اسے ایسے کسی رش کی پروا نہیں ہوا کرتی تھی ۔ وہاں کے امور دیکھنے والی خاتون کی نگاہ جیسے ہی اس پر پڑی ۔ وہ اس کے پاس آ گئی ۔ دونوں اس وقت تک باتیں کرتی رہیں ، جب تک اندر گئی عورت باہر نہیں آ گئی ۔ کچھ دیر بعد پھوپھو فاخرہ بڑے اہتمام سے بابا کرامت شاہ کے سامنے بیٹھی تھی ۔
’’ ارے آ ئو فاخرہ ، کچھ زیادہ دنوں بعد نہیں آ ئی ہو کیا ؟‘‘
’’ بابا جی ، بس اسی الجھن میں پھنسی ہوئی ہوں ۔ ایسا ہے کہ کوئی معاملہ سرے لگ ہی نہیں رہا ۔‘‘پھوپھو نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا
’’ اب کیا ہو گیا ، اس لڑکی کی منگنی تو ٹوٹ گئی ، اب کیا ہے ؟‘‘ بابا کرامت نے پوچھا تو وہ بولی
’’ بات تو تب ختم ہو گی نا ، جب شادی ہو گی ۔ہم رشتہ مانگ رہے ہیں ، لڑکی کا باپ مان نہیں رہا ۔ اسی اکجھن میں پڑے ہوئے ہیں ۔اب تو بس جلدی سے ان کی شادی کروا دے ، سارا جھنجھٹ ختم ہو ۔‘‘ پھوپھو فاخرہ نے رسان سے کہا
’’کر دیتے ہیں یہ بھی کام …جما دیتے ہیں ہتھیلی پر سرسوں ۔‘‘ بابا نے کہا
’’مجھے بابا جی فیس بتائو ، جو مانگو گے دوں گی ، بولو۔‘‘ پھوپھو نے کہا تو بابا نے اپنے لبوں پر خباثت لاتے ہوئے کہا
’’ وہی لڑکی ایک بار لے آ ئو ، تیرا کام ہوجائے گا ۔‘‘
’’ نا بابا، اس سے تومجھے بڑا ڈر لگنے لگا ہے ۔بڑا گھور کے دیکھتی ہے ۔‘‘ پھوپھو نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا
’’ ارے اس سے کیا ڈرتی ہے ، میرا پیغام دینا ، فوراً آ جائے گی ، تجھے نہیں پتہ ، وہ بڑی جلالی ہو گئی ہے ۔ میری موکل جو رہ چکی ہے ۔‘‘ بابا نے ہنستے ہوئے کہا
’’ اسے کیا لانا ضروری ہے بابا؟‘‘ اس نے پوچھا
’’ ارے ہاں فاخرہ ، اس پر عمل ہو تا ہے نا ، توکام فوری ہو جاتا ہے ، دیکھا نہیں ہے تم نے، ہتھیلی پر سرسوں جمی تھی ، ہتھیلی پر …‘‘ بابا کرامت نے آ نکھیں گھماتے ہوئے جلالی انداز میں کہا
’’ دیکھیں بابا جی میں کوشش کرتی ہوں ، اگر مان گئی تو…‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے ہوئے کہا
’’ کہا نا تم میرا پیغام پہنچا دو ۔وہ خود ہی آ جائے گی ۔اب جائو ، باہر بڑا رش لگا ہوا ہے ۔‘‘ بابا کرامت نے خالص کاروباری انداز میں کہا تو وہ اٹھ گئی ۔
پھوپھوفاخرہ کے لئے سب سے مشکل مرحلہ ، فرزانہ سے بات کرنے کا تھا ۔وہ واپس آ کر بہت دیر تک اس سے بات کرنے کا موقع تلاش کرتی رہی ۔یہاں تک کہ سہ پہر کے بعد اس کا آ منا سامنا ہوگا ۔
’’ فرزانہ ، تمہیں مزیدکون سا سامان چاہئے ۔‘‘ پھوپھو فاخرہ نے ملائمیت بھرے لہجے میں پوچھا
’’ وہ میں بتا دوں گی ، ابھی پہلے والا تو ٹھکانے لگا لوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی
’’ اچھا ، وہ تمہارے لئے ایک پیغام ہے ۔‘‘ پھوپھو نے ہچکچاتے ہوئے کہا
’’ کون سا پیغام ، اور کس کا ؟‘‘ اس نے پوچھا تو پھوپھو فاخرہ نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے دھیمے سے کہا
’’ وہ بابا کرامت شاہ ، تمہیں بلا رہا تھا ، کہہ رہا تھا کہ اس کا عمل بڑا جلالی ہے ۔‘‘
’’ کب جانا ہے ؟‘‘ فرزانہ نے سوچتے ہوئے کہا
’’ چاہئے آ ج چلی جائو۔‘‘ پھوپھو فاخرہ نے تیزی سے کہا
’’ نہیں آ ج تو نہیں ، کل رات چلی جائوں گی ۔ کل اماں کو وہی بتا آئوں گی کہ پھوپھو فاخرہ نے روک لیاتھا ۔‘‘
’’ ہاں ، یہی کہہ دینا۔‘‘ وہ تیزی سے بولی
’’ اب میں جائوں ۔‘‘فرزانہ نے پوچھا
’’ ہاںہاں، جائو ۔‘‘پھوپھو فاخرہ نے کہا تو فرزانہ اپنے گھر جانے کے لئے تیاری کرنے لگی ۔ پھوپھو فاخرہ اسے دیکھتے ہوئے سوچنے لگی ۔بلاشبہ وہ اس کی کمزوری سمجھ چکی ہے ۔ اب توشادی کے بعد بھی اس کا منہ بند رکھنا ہوگا ۔ خیر ، ایک بار شادی ہو جائے ، اس کا بھی میں کام کر ہی دوںگی ۔ یہ کیا جانے کس سے پالا پڑا ہے ۔ یہ سوچتے ہوئے وہ دل ہی دل میں ہنس دی ۔
ژ… ژ… ژ
ذیشان اپنے گھر میں کے لان میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کے سامنے والی کرسی پر ڈاکٹر ظہیر براجمان تھا ۔ دونوں فریش جوش پی رہے تھے ۔ ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد ڈاکٹر ظہیر نے پوچھا
’’اچھا یار وہ ثانیہ والی مسٹری سمجھ میں آ ئی ہے یا نہیں ؟‘‘
’’ نہیں ، بالکل بھی نہیں سمجھ میں نہیں آ ئی ، میں آج تک حیران ہوں، میرے ساتھ ہوا کیا ؟‘‘ذیشان نے یوں کہا جیسے وہ پاگل ہو جائے گا
’’حیرت تو مجھے بھی ہے ۔دیکھو ، جب وہ پہلی بار ہسپتال لائی گئی تھی تو بلاشبہ وہ بے ہوش تھی ، میں اسے قطعا اداکاری نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی وہ اداکاری تھی ۔وہ جب بھی آ ئی تھی ، اس کی حالت خراب ہوتی تھی ۔ لیکن میرے لئے حیرت والی بات یہی تھی کہ اس کے تمام ٹیسٹ بالکل نارمل ہوتے تھے ، یہاںتک کہ اس کا بلڈ پریشر بھی نارمل تھا ۔مجھے اب بھی یقین ہے کہ وہ بالکل نارمل تھی ، اور اب بھی وہ نارمل ہی ہے ۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے یقین بھرے لہجے میں کہا
’’ میں جانتا ہوں ظہیر ، تم جھوٹ نہیں بول رہے ہو ۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ ثانیہ کے سارے ٹیسٹ نارمل تھے ۔لیکن بات سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی ؟ کہاں ایسا کچھ ہوا کہ ثانیہ بالکل ہی بدل کر رہ گئی ۔ مجھے سے کوئی غلطی ہوئی ، کسی دوسرے نے کچھ کہا ، کیا ہوا؟‘‘ اس نے متفکر لہجے میں کہا
’’بالکل ٹھیک ، وہی پوائیٹ تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، جہاں ثانیہ بدلی۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے سر ہلاتے ہوئے کہا
’’ دیکھو ، میں نہیں سمجھتا کہ وہ میرے ساتھ محبت نہیں کرتی تھی یا میں یہ سمجھ لوں کہ وہ اب تک میرے ساتھ ڈرامہ کرتی آ ئی ہے ۔وہ بڑی معصوم اور سادہ سی لڑکی ہے۔ یونیورسٹی کا پورا دور ہم نے ساتھ گزارا ہے ۔ کہیں نہ کہیں تو بندے کو پتہ چل جاتاہے ، ورنہ احساس ہی ہوجاتا ہے ۔ ایسا قطعاً نہیں تھا ۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولا
’’ جہاں تک میرا خیال ہے ، جو کچھ بھی ہوا۔ چاہے وہ ڈرامہ تھا ، ڈر خوف یا جو بھی تھا ، وہ منگنی کے بعد ہوا ۔ اس سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا ۔ ‘‘ڈاکٹر ظہیر نیاسے متوجہ کرتے ہوئے کہا
’’بالکل ، یہ ٹھیک ہے ، کیا ہمیں پتہ نہیں کرنا چاہئے کہ آ خر اس کے ساتھ کیا ہوا ؟‘‘ ذیشان نے سوچتے ہوئے پوچھا
’’ میرے خیال میں تم اسے بھول جائو اب ، وہ تمہارے ہاتھ آ نے والی نہیں، ورنہ اتنا سب کچھ نہ ہوتا ۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے اپنا خیال ظاہر کیا
’’ظہیر یار مان لیا وہ بے وفا ہے ، لیکن میرا دل نہیں مانتا ۔ فرض کریں وہ بے وفا ہی سہی لیکن مجھے اس سے محبت ہے ۔میں اس کاکبھی بھی برا نہیں چاہوں گا۔ ہمیں کم از کم اس کی وجہ تو معلوم کرنی چاہئے ۔‘‘ اس نے بے حد جذباتی لہجے میں کہا
’’دیکھو، اگر وہ ذرا سا بھی اشارہ دے ، کہیںبھی وہ مددکی طلبگار ہو ، توبلاشبہ اس کے بارے تحقیق کی جائے، پتہ چلایا جائے کہ آ خر وجہ کیا ہے ؟میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ تم اب اسے فون بھی کرو گے تو وہ تمہارا فون نہیں سنے گی اور اگر سنے گی تو تمہیں ٹال جائے گی ۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے اعتماد سے کہا
’’اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟‘‘ ذیشان نے پوچھا
’’ یار مجھے لگتا ہے وہ اندر سے بدلی ہے ، اس کا تمہارے ساتھ رویہ بدلا ہے ، تم سے ہی تمہارے ساتھ جڑے سبھی لوگوں سے ۔‘‘اس نے اپنی دلیل دی
’’ لیکن ظہیر ، اچانک ، یہ اچانک ایسا نہیں ہوسکتا ۔‘‘ اس نے انکار کرتے ہوئے کہا
’’ اچھا پھر کرو اسے فون ۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے کہا
’’ وہ میں کر لیتا ہوں ۔لیکن ٹال جانے کی وجہ تو کوئی نہ کوئی ہوگی نا ۔‘‘ اس نے دلیل دی
’’ تم یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ وہ اپنے کزن کو چاہتی تھی ، بس انجانے میں تمہارے قریب آ گئی یا پھر یہی وجہ ہو کہ گھر والے …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو ذیشان نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے کہا
’’نہیں، میںیہ وجہ ماننے کو تیار نہیں ہوں ۔اگر ایسا ہوتا تو وہ کبھی میرے اتنے قریب نہ آ تی ۔‘‘
’’ خیر تم فون کرو ۔اسے کہیں بلائو ، اس سے بات کرتے ہیں ، شاید کوئی وجہ مل جائے ، کوئی اشارہ ، کوئی اندازہ ہو جائے ۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے صلاح دی ۔
’’ میں کرتا ہوں اس سے بات ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ثانیہ کا نمبر پش کر دیا۔ کچھ دیر تک کال جاتی رہی پھر اس نے کال رسیو کر لی تو ذیشان نے دھڑکتے ہوئے دل سے کہا
’’ ہیلو ثانیہ کیسی ہو ؟ کیسی طبیعت ہے تمہاری ؟‘‘
’’ میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ تم سنائو ۔‘‘ اس نے عام سے انداز میں کہا
’’ میں بھی ٹھیک ہوں۔ بہت دن ہو گئے کوئی رابطہ ہی نہیں ہے ؟‘‘ذیشان نے پوچھا تو بیزار لہجے میںبولی
’’ بس میں اپنے امتحان میں بزی ہوں ۔صرف دو پیپرز رہ گئے ہیں ۔‘‘
’’ اچھا ، کسی دن آ ئو ، بیٹھ کر گپ شپ لگائیں ، کہیں کھانا کھائیں ۔‘‘ اس نے کہا
’’ یہ میں پیپرز دے دوں پھر فراغت ہی ہو گی ۔ پھر بیٹھتے ہیں کسی دن ۔‘‘ اس نے بڑے سکون سے بہانہ بنا دیا ۔
’’ چلیں ایسا کر لیتے ہیں ۔ ویسے تم تھوڑا سا وقت نکال کر مجھے گھر بھی بلا سکتی ہو ۔‘‘ اس نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا تو ہنستے ہوئے بولی
’’ وہ تو کوئی بات نہیں اب جب چاہئیں آ جائیں ۔ آ پ کو منع تونہیں کیا ۔‘‘
’’ اوکے ، میں پھر کرتا ہوںتمہیں فون۔‘‘ اس نے کہا
’’ اوکے ۔‘‘ یہ کہتے ہی ثانیہ نے کال بھی بند کر دی ۔ذیشان چند لمحے خود پر قابو پاتا رہا ، پھر روہانسا ہوتے ہوئے بولا
’’یا ر تم ٹھیک کہتے ہو ۔لیکن یہ میرا دل نہیں مان رہا ؟‘‘
’’ میں تمہاری صورت حال کو سمجھتا ہوں ۔ میرے پاس ایک اور ذریعہ بھی ہے ، میں کر لوں گا پتہ ۔‘‘ ڈاکٹر ظہیر نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا
’’ وہ کون سا ؟‘‘ ذیشان نے اشتیاق سے پوچھا
’’ میں میں تمہیں بتائوںگا ، فی الحال اٹھو ، میرے ساتھ چلو ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اٹھ گیا ۔ ذیشان متجسس سا اس کے ساتھ چل دیا ۔
ژ… ژ… ژ
شہر پر اندھیرا پھیل رہا تھا ۔ گھر روشن ہو نے لگے تھے ۔مغربی افق نارنجی ہو رہا تھا ۔ ایسے میں بابا کرامت کے گھر کے سامنے رکشہ رکا اور اس میں سے فرزانہ باہر آ گئی ۔ وہ ایک کالی چادر میں لپٹی ہوئی تھی ۔اس کا آ دھا چہرہ چھپا ہوا تھا ۔باقی آ دھا گلابی چہرہ اندھیرے میں بھی دکھائی دے رہا تھا۔ وہ گھر کے اند رچلی گئی ۔ اس وقت برآمدے میں کوئی نہیں تھا ۔آگے بڑے سارے صحن میں چند نشئی قسم کے لوگ دائرے میںبیٹھے ہوئے تھے ۔ ان کے درمیان آ گ جل رہی تھی ۔ وہ اپنی مستی میں بیٹھے ہوئے باتیں کرتے چلے جا رہے تھے ۔ وہ برآمدے سے آ گئے بڑھی ہی تھی کہ ایک نوجوان لڑکا ا س کی جانب لپکا ۔ اس نے قریب آ کر پوچھا
’’ کون ہو آ پ ؟ کدھر جا رہی ہو ؟‘‘
’’ مجھے بابا جی سے ملنا ہے ۔‘‘ اس نے دھیمے سے کہا
’’ وہ تو ابھی آ رام کر رہے ہیں ، آ پ ان سے صبح ملنا ۔‘‘ اس نوجوان نے کہا ، اتنے میں اندر کمرے سے وہی ادھیڑ عمر عورت باہر آ کر گھمبیر لہجے میں بولی
’’ آ نے دے آ نے دے ۔‘‘
اس نوجوان نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا ۔ وہ ادھیڑ عمر عورت اسے لے کر ایک سجے ہوئے کمرے میں لے گئی ۔جہاں ایک صوفے پر بابا کرامت نیم دراز تھا ۔
’’ ارے واہ ، تم آ بھی گئی ہو ۔ دیر نہیں کر دی ذرا ۔‘‘ بابا نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو وہ بولی
’’ بس گھر سے نکلتے ہوئے دیر ہو گئی ۔‘‘
’’ چلو کوئی بات نہیں ہے ۔ جائو ، جلدی سے عمل کے لئے تیار ہو جائو۔‘‘ اس نے شاہانہ انداز میں کہا تو فرزانہ بولی
’’ جی میں ابھی چلی جاتی ہوں ، ایک بات کرنا تھی آ پ سے ؟‘‘
’’ بولو ، بولو، کیا بات ہے ؟‘‘ اس نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’میری شادی اسلم سے کب ہو گی ، ان کی طرف سے کوئی نہیں آ یا ، آپ نے جو راکھ دی تھی ، وہ تو کب کی ختم بھی ہو چکی ۔‘‘اس نے رو دینے والے انداز میں کہا
’’ ایسا ہوا، ایسا ہو نہیں سکتا ۔‘‘ اس نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا
’’ اس کی طرف سے اب تک کوئی نہیں آ یا ۔‘‘ اس نے دوبارہ دہرا دیا
’’ ہونے کو تو اسی ہفتے میں تمہاری منگنی ہو جائے ، لیکن تمہیں جلدی کیا ہے ؟ ابھی کچھ عرصہ عیش کر لو۔‘‘ بابا کرامت نے پوری طرح خباثت سے کہا
’’ بابا، جب ذہن میں ہی سکون نہ ہو تو کاہے کی عیش ۔‘‘ اس نے بیزاری سے کہا
’’ ہاں ، بات تو تمہاری بھی ٹھیک ہے ، بس آ ج رات کے عمل میں یہ کام بھی ہو ہی جائے گا ؟‘‘ اس نے پھر شاہانہ انداز میں کہا ۔ لگتا تھا ، اس رات وہ بڑے خوشگوار موڈ میں تھا یا پھر فرزانہ کو دیکھ کر اس کا موڈ بن گیا تھا ۔
اس رات بابا کرامت شاہ نے سیاہ کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ ایک ہال نما لمبے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا ۔اس کے سامنے اُپلوں ڈھیر سامنے پڑا ہوا تھا ، جس میں سے گاڑھا دھواں نکل رہا تھا ۔اس نے اپنے اردگرد فرش پر سیاہ رنگ کا ایک دائرہ بنایا ہوا تھا ۔دھواں روشن دانوں سے باہر نکل رہا تھا ۔ وہ آ لتی پالتی مارے بیٹھا تھا ۔ اس کی آ نکھیں بند تھیں ۔وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا چلا جا رہا تھا ۔کچھ دیر بعد اس نے اونچی اونچی آ واز میں یوں بے سروپا آ وازیں نکالنا شروع کر دیں جیسے کسی کو ذبح کیا جا رہا ہو ۔ایسے میں مدہوش سی فرزانہ کمرے میں دھکیل دی گئی ۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس کے پاس چلی آ ئی ۔اس کے بدن پر صرف ایک سیاہ چادر تھی ، جس نے اس کے بدن کو ڈھانپا ہوا تھا ۔اس کے بال کھلے ہوئے تھے اور وہ وحشت ناک انداز میں دیکھتی ہوئی دائرے میں آ گئی ۔ بابے کرامت نے اسے تھام لیا اور وہ جھولتی ہوئی نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔ وہ دونوں آ منے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔بابا زور زور سے منتر پڑھنے لگا ۔ تبھی اس نے اپنا ایک ہاتھ بلند کیا، دوسرے ہاتھ میں چھری اٹھا کر لہرانے لگا۔ فرزانہ مدہوش سی اس کے سامنے بیٹھی ایک ٹک اسے دیکھے چلی جا رہی تھی ۔بابا کرامت دونوں ہاتھ آ منے سامنے کرتے ہوئے لہراتا رہا ، ساتھ میں زور زور سے منتر پڑھتا رہا ۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے ہتھیلی پر چھری پھیر دی ۔ سرخ سرخ لہو بہنے لگا تو اس نے اپنی ہتھیلی فرزانہ پر چھڑک دی ۔لہو کے قطرے جیسے ہی اس پر گرے وہ یوں چیخ اٹھی جیسے کسی نے اس پر انگارے پھینک دئیے ہوں ۔دونوں چیخ رہے تھے ۔ فرزانہ تڑپ رہی تھی۔تبھی بابے کرامت نے منتر پڑھنا بند کر دیا۔ فرزانہ پر سکون ہونے لگی ۔ بابے کرامت نے اسے پکڑ لیا ۔ اس کے سر کے بالوںمیں ہاتھ پھیرنے لگا ۔ فرزانہ جب تڑپ رہی تھی ، تب اس کی سیاہ چادر سرک گئی تھی ۔ دھویں کے بادل گہرے ہونے لگے اور اس ہال نما کمرے میں خباثت اپنے عروج کو پہنچ گئی ۔
ژ… ژ… ژ
طلعت بیگم صبح صبح لان میں ٹہل رہی تھی ۔ سورج کی روشنی ابھی پوری طرح نہیں پھیلی تھی ۔وہ لان کے ایک سرے سے چلتی ہوئی دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ، پھر پلٹ کر پہلے سرے تک آ جاتی ۔ موسم بہت ہی خوشگوار ہو رہا تھا ۔ایسے میں اسے مراد علی آ تا ہوا دکھا ئی دیا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی ۔وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اس کے پاس آ گیا ۔ تبھی بیگم طلعت نے خوش گوار لہجے میں کہا
’’ مراد ، آ ج موسم کتنا اچھا ہو رہا ہے نا۔‘‘
’’ ہاں ، اچھا ہے ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک طویل سانس لی ، پھر بولا،’’ میں تم سے رات بات نہیں کر سکا ۔‘‘
’’ کون سی بات ؟‘‘ اس نے عام سے لہجے میں پوچھا
’’ وہ ثانیہ کے بارے میں جو تم نے مجھے کہا تھا ۔‘‘ اس نے یاد دلاتے ہوئے کہاتو بیگم طلعت نے سنجیدگی سے پوچھا
’’ ہاں ، پھر کیا سوچا آ پ نے ؟‘‘
’’ میں نے تو جو سوچنا تھا ، وہ سوچ لیا ہے ، لیکن پہلے ایک بات بتائو ، کیا تم نے ثانیہ سے اچھی طرح بات کر لی ہے ، وہ اس رشتے پر راضی ہے ؟‘‘
’’ میرے لئے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔یہ بات آپ بھی جانتے ہیں ۔ آپ دونوں باپ بیٹی نے فیصلہ کیا اور صرف مجھے بتایا۔میں نے آپ دونوں کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اب بھی نہیں کروں گی ۔ میرے خیال میں یہ بات خود ثانیہ سے کرنی چاہئے ۔‘‘ بیگم طلعت نے تحمل سے سمجھاتے ہوئے کہا تووہ دھیمے سے بولا
’’ نہیں تب صورت حال کچھ اور تھی ، اب معاملہ دوسرا ہے ۔‘‘
’’اس سے تو میںبات کر لوں گی ، مجھے آپ بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا
’’ یہی کہ اگر ثانیہ چاہتی ہے کہ اس کی شادی شعیب سے ہو جائے تو اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔‘‘ مراد علی نے تشویش زدہ لہجے میں کہا
’’ کیا آ پ اس رشتے پر خوش نہیں ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا
’’ سچی بات تو یہ ہے طلعت ،، میرا دل نہیں مانتا، وہ شخص جسے میں نے کبھی پسند نہیں کیا، وہ میرا داماد بن جائے ۔ جنہیں میں اپنے گھر میں دیکھنا پسند نہیں کرتا ، وہ میرے سمدھی بن جائیں ۔‘‘ اس نے صاف لفظوں میںکہا
’’ میری بہن کے بارے میں آپ کی یہ نفرت میری سمجھ سے بالا تر ہے ، حالانکہ یہ وہی عورت ہے ، جس نے آ پ کی ہر طرح سے مدد کی ۔اس کے شوہر نے آپ کو …‘‘ وہ کہہ رہی تھی کہ مراد علی نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا
’’ انہوں نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا، میں وہاں کام کرتا تھا ، میں نے یہ سب اپنی محنت سے بنایا، لیکن یہ وقت اب ان باتوںکا نہیں ہے ۔ مسئلہ ثانیہ کے مستقبل کا ہے ، کیا وہ اس گھر میں رہ پائے گی ؟ ‘‘ اس نے پوچھا
’’ کیا کمی ہے ان کے ہاں ، ایک اکلوتا بیٹا ہے ۔ جو خود اپنے پیروں پر یوں کھڑا ہوا کہ اب آ پ سے کہیں زیادہ اثاثے رکھتا ہے ۔ ثروت خود اتنی جائیداد والی ہے کہ اسے شعیب کے پیسوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔اب یہ ثانیہ کا کام ہوگا نا کہ وہ اپنے گھر کو کس طرح بناتی ہے ۔میرے خیال میں سوائے آپ کی نفرت کے اس گھرانے میں کوئی کمی نہیں ۔‘‘بیگم طلعت نے سچ بات کہی تو وہ خاموش ہو گیا۔کچھ دیر تک یونہی خاموش رہنے کے بعد بولا
’’ تم ثانیہ کی مرضی اچھی طرح معلوم کرو ، پھر حتمی فیصلہ کر لیتے ہیں ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے میں بات کر لیتی ہوں ، لیکن آپ نے تو اپنا ارادہ بتایا ہی نہیں کہ آ پ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘ وہ طنزیہ اندازمیں بولی
’’ میں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ جو ثانیہ کی مرضی ، وہی میں چاہتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا تو وہ بولی
’’ چلیں ٹھیک ہے ، میں آ ج ہی بات کرتی ہوں ۔شام تک آ پ کو بتا دوں گی ۔اب تو اس کے پیپر بھی بس ختم ہی ہو گئے ہیں ۔ ایک آ دھ رہتا ہے شاید ۔‘‘
’’ جیسے تمہاری مرضی ۔‘‘ اس نے کہا اور ٹہلتا ہوا واپس اندر کی جانب بڑھ گیا۔ بیگم طلعت بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دی ۔
دن کا چڑھ آ یا تھا ۔بیگم طلعت لائونج میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ ایسے میں ثانیہ چائے کا مگ تھامے وہیں آ گئی ۔ وہ صوفے پر آ لتی پالتی مار کر بیٹھ گئی ۔ تب ماما نے نے اس کی متورم آ نکھیں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
’’ اب جاگی ہو ؟‘‘
’’ نہیں ، میں توصبح سویرے اٹھ گئی تھی ۔ تب سے پڑھ رہی تھی ۔کل میرا آخری پیپر ہے نا۔‘‘ اس نے بتایا پھر ایک سپ لے کر بولی ،’’میںنے دیکھا تھا ، آپ اور پاپا لان میں ٹہل رہے تھے ۔‘‘
’’ ٹہل کیا رہے تھے ، تیرے بارے ہی بات کر رہے تھے ۔‘‘ بیگم طلعت نے کہا اور پھر ساری بات اسے بتا دی ۔
’’ ماما، میں تو شادی شعیب ہی سے کروں گی ۔ ذیشان میرے دل ہی سے اُتر گیاہے ۔‘‘ ثانیہ سوچتے ہوئے دکھی لہجے میںبولی
’’ مجھے تو نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ وہ تمہارے دل سے اُتر اکیوں؟‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا
’’ذیشان جو سامنے ہے ، وہ ویسا نہیں ہے ۔خیر آپ اس کا ذکر ہی مت کریں ۔ آپ پاپا کو بتا دیں ، میرا یہی فیصلہ ہے کہ میں شعیب ہی سے شادی کروں گی ۔‘‘ اس نے حتمی انداز میں کہا اور چائے کا ایک لمبا سپ لے لیا ۔
’’ ٹھیک ہے بیٹی جیسا تم چاہو ۔‘‘ طلعت بیگم نے کہا اور سوچ میں پڑ گئی ۔ اب اس پر بہت بھاری ذمہ داری پڑنے والی تھی ۔
شام کے سائے پھیل چکے تھے ۔ مراد علی ٹی وی لائونج میں بیٹھا ہوا تھا۔ طلعت بیگم اس کے پاس جا بیٹھی اور پھر کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے ثانیہ سے بات ہونے اور اس کے فیصلے سے آ گاہ کر دیا ۔ مراد علی نے سنا اور کافی دیر تک خاموش رہا ۔ پھر بولا
’’ بس پھر اب سوچنا کیا ہے ۔شعیب کے ساتھ ہی کر دیتے ہیں شادی ، تم کہو ثروت سے وہ باقاعدہ رشتہ مانگنے آ جائے ۔‘‘
’’ میں کہہ دیتی ہوں ۔‘‘ طلعت بیگم نے کہا۔
ان دنوں میں خاموشی چھا گئی ۔ بیٹی کی مرضی سے شادی کر دینے کا فیصلہ شاید ایسا تھا ، جس پر نہ انہیں خوشی ہوئی اور نہ ہی دکھ ۔ بس ایک عجیب سی گو مگو کی کیفیت تھی ، جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔
٭…٭…٭
فرزانہ شام کے وقت گھر میںداخل ہوئی تو رضیہ صحن میں چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس نے کھانا اپنی ماں کو تھمایا اور سلام کر کے دوسری چار پائی پر بیٹھ گئی ۔ رضیہ نے کھانا ایک طرف رکھ کر اپنی بیٹی سے کہا
’’آج آ ئی تھی ، اسلم کی ماں اور سارا سامان دیکھ کر گئی ہے ۔‘‘
’’ اچھا کب آ ئی تھی ؟‘‘ فرزانہ نے بے دلی سے پوچھا
’’ یہی تیرے جاتے ہی آ گئی ۔ کسی نے بتا دیا تھا اسے کہ اتنا سامان آ یا ہے ، اس تواس وقت تک چین نہیں آ یا جب تک سارا سامان دیکھ نہیں لیا۔ اس کی تو آ نکھیں ہی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔‘‘ رضیہ نے بڑے جوش سے بتایا
’’ پوچھا نہیں کہ یہ سامان کہاں سے آ یا ؟‘‘ فرزانہ نے لرزتے ہوئے لہجے میں پوچھا تو وہ بولی
’’ کوئی ایک بار پوچھا، میں نے اسے یہی بتایا کہ جہاں پر پہلے میں کام کرتی تھی ، انہی جگہوں پر کام کرنے جاتی ہے فرزانہ ، ان میں ایک گھر تو اتنا اچھا ہے کہ مجھے کہہ دیا کہ وہ انہی کے ہاں کام کرے گی کسی دوسرے گھر میں نہیں ۔ وہ اتنے دریا دل لوگ ہیں کہ فرزانہ کے جہیز کا سامان بھی دے رہے ہیں ۔ ابھی تو آ دھا سامان دیا ہے صاحب لوگوں نے ، ابھی مزید دینے کا کہا ہے ۔‘‘
’’ اور کیا کہا اس نے ؟‘‘ فرزانہ نے پوچھا
’’ کہنا کیا تھا ، یہی ایک جہیز کی کمی تھی ، تب اس کا چہرہ دیکھنے والا تھا جب میںنے اسے جتایا ۔کہنے لگی غلطی ہو گئی میںنے منگنی توڑی ۔ فرزانہ اتنی اچھی ہے کہ میرا تو دل چاہتا ہے اسے ہی اپنی بہو بنائوں ۔‘‘ رضیہ نے بتایا
’’ اسے میرا نہیں سامان دیکھ کر اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے ۔‘‘ فرزانہ نے کہا تو رضیہ نے جلدی سے بتایا
’’ ہاں یہی تو، کہنے لگی ، فرزانہ سے بات کر لو ، اگر وہ اب بھی راضی ہے تو میں ادھرسے منگنی توڑ دوں ، اسلم بھی کئی بار اسے کہہ چکا ہے کہ وہ فرزانہ کے ساتھ ہی شادی کر ے گا ۔اب بیٹی ، جیسے تم چاہو گی ، ہونا توویسے ہے ۔ اگر تمہیں اسلم پسند ہے تو بات آ گے بڑھا لیتے ہیں ورنہ اسے جواب دے دیں گے ۔‘‘ رضیہ نے کہا
’’ابھی تو اماں تم یہ کھانا کھائونا، سوچتے ہیں کیا کرنا ہے ۔‘‘ فرانہ نے کہا اور اٹھ گئی ۔ اسے اپنی مان کی بات سن کر کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی ۔بلکہ ایک دُکھ کا احساس اس کے رگ و پے میں سرائیت کر گیا تھا ۔اس کی اپنی ذات، کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی بلکہ یہ ساز و سامان ہی اہم تھا ۔ کیا زندگی کی خوشیاں انہی چیزوں کے ساتھ ہے ؟کیا اس طرح اسلم کی ماں کے بارے میں محبت یا احترام ہوگا ؟ جو اس کی ذات سے زیادہ اس کے ساتھ آ نے والے سامان کو اہمیت دیتی تھی ۔ اسی لمحے اس نے اپنے دماغ سے یہ سب جھٹک دیا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ یہ جیسا معاشرہ ہے اور اس کے ساتھ اسی طرح رہنا ہے ۔
اس وقت وہ سو نے کی کوشش کر رہی تھی ، جب اسلم کا پیغام اسے فون پر ملا۔ اس نے لکھاتھا کہ وہ باہر گلی میں آ گیا ہے ۔ دروازہ کھولو، تاکہ میں اندر آ جائوں ۔ وہ اٹھی اور دروازے تک گئی ۔ باہر اسلم کھڑا تھا ۔ وہ اندر آ گیا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا مٹھائی کا ڈبہ تھا۔وہ اسے تھماتے ہوئے بڑے اشتیاق سے بولا
’’آج تو میری امی نے خود ہی مجھ سے پوچھ لیا کہ اگر میں فرزانہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو وہ راضی ہے ۔‘‘
’’ ہاں ، میری امی نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ آ ج یہاں آ ئی تھی ۔‘‘ فرزانہ نے اپنی دلی نفرت چھپاتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا
’’ تو پھر کیا خیال ہے ، میں دوں انہیں جواب ؟‘‘ اسلم نے پوچھا
’’ اسلم میں نے کتنی بار تمہیں کہا ہے کہ میرا کوئی مطالبہ نہیں ہے ، سوائے ایک بات کے ، تمہاری امی آ ئے ، جس طرح اس نے منگنی توڑی تھی ، اسی طرح انہی لوگوں کے ساتھ دوبارہ آ ئے ۔ عزت کے ساتھ منگنی کرے ۔پھر جب چاہئے شادی ہو جائے ۔اس میں میری بھی عزت ہے اور آپ لوگوں کی بھی ۔‘‘ فرزانہ نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا
’’ یہ تو میں جانتا ہوں ۔‘‘ اس نے جوش بھرے اندازمیں کہا کہا
’’تو بس پھر ، اس کے سوا ، میرا کوئی مطالبہ نہیں ہے ۔‘‘ وہ سکون سے بولی
’’لیکن ایک بات میری تم بھی مانو گی ؟‘‘ اس نے کہا
’’بولو ، کون سی بات ؟‘‘ اس نے پوچھا
’’ شادی کے بعد ، تم یہ کام نہیں کرو گی ۔کسی صورت میں بھی نہیں ۔‘‘ اس نے کہا تو فرزانہ دکھی مسکان کے ساتھ بولی
’’ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ میںلوگوں کے برتن مانجھوں۔ میں اپنے گھر میں رہوں گی سکون سے ۔‘‘
’’ بس پھرٹھیک ہے ۔ایک دودن میں اماں جائے گی ان کے گھر اور انہیں جواب دے آ گی ۔وہ بھی میری سرد مہری سے خوش نہیں ہیں ۔‘‘ اسلم رسان سے بولا تو فرزانہ نے کہا
’’ میں تو آ ج بھی تمہاری ہوں ، کل بھی تمہاری ،بس تیرا انتظار کر رہی ہوں تم کیا کرتے ہو ۔‘‘ ا س نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو اسلم سرشار ہو گیا ۔
’’ اچھا جائو ، جا کر سو جائو ۔ میں بھی چلتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا اور واپس جانے کے مڑ گیا۔ وہ بھی اپنے بستر پر آ گئی ۔ وہ اب سمجھ گئی تھی کہ اسلم کو کس طرح اپنے حصار میں رکھنا ہے ۔
اگلی صبح وہ اپنے معمول کے مطابق بیگم ثروت کے ہاں جا پہنچی ۔ شعیب اپنے آ فس چلا گیا تھا ، بیگم ثروت ابھی اپنے کمرے ہی میں تھی ، جبکہ پھوپھو فاخرہ کاریڈور میں بیٹھی مزے سے چائے پی رہی تھی ۔ اسے آ تاہوا دیکھ کر بولی
’’ سنا تیری اماں نے تونہیں پوچھا کہ رات کدھر رہی تھی ؟‘‘
’’ پوچھا تو تھا لیکن میںنے آ پ کا نام لے دیا تھا کہ انہوں نے مجھے روک لیا تھا ۔‘‘ فرزانہ نے صاف جھوٹ بولتے ہوئے کہا
’’ تو پھر ؟‘‘ اس نے تشویش سے پوچھا
’’پھر کیا، میںنے بتا دیا کہ آ پ کی طبیعت خراب تھی ۔اب آ پ بھی نہ پوچھنا ، کہیں شک ہی نہ پڑ جائے ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کچن کی جانب بڑھ گئی ۔ پھوپھو فاخرہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بہت کچھ سوچنے لگی ۔
اس دن شعیب بہت خوش تھا۔ اس کی منگنی ثانیہ سے ہونے جا رہی تھی ۔وہ تیار ہو چکا تھا ۔ثروت بیگم کے ساتھ لائونج میں چند مہمان بیٹھے تھے جنہوں نے ان کے ساتھ مراد علی کے گھر جانا تھا ۔پھوپھو فاخرہ بولائی بولائی سی پھر رہی تھی ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وقت جلدی سے سرک جائے اور شعیب کی ثانیہ کے ساتھ منگنی ہو جائے ۔وہ سب تیار ہو کر پورچ میں آ گئے ۔ ایک کے بعد ایک کار بڑھتی گئی ۔چار کاروں کا یہ قافلہ گیٹ سے پار ہو گیا۔ فرزانہ نے انہیں کچن کی کھڑکی سے جاتے ہوئے دیکھا تو ایک لمبی سانس بھر کر رہ گئی ۔وہ جانتی تھی کہ یہ سارا چمتکار کیسے ہو ا تھا ۔آخری کار میں پھوپھو فاخرہ تھی ۔ اس نے دیکھ لیا کہ فرزانہ بڑی حسرت سے دیکھ رہی ہے ۔ وہ کار میں بیٹھنے کی بجائے اس کی جانب چلی گئی ۔
’’ تم کیوں نہیں تیار ہوئی بھلا ؟‘‘ پھوپھو فاخرہ نے پوچھا
’’مجھے کہا ہی نہیں کسی نے ؟‘‘ اس نے بے دلی سے مسکراتے ہوئے کہا
’’ چل جلدی سے تیار ہوجا، چلو میرے ساتھ ۔‘‘ پھوپھو نے اسے کہا تو وہ بولی
’’کوئی بات نہیں آپ جائیں ، میں بارات والے دن چلی جائوں گی ۔‘‘ اس نے کہا تو پھوپھو جلدی سے بولی
’’ دیکھ لو ، میں تمہار ے لئے رُکی ہوں ۔‘‘
’’ نہیں آ پ جائو ،اگر مہمانوں کے لئے کچھ پکانا ہو تو مجھے پہلے فون کر دیں ۔‘‘ اس نے کہا تو پھوپھو فاخرہ سر ہلاتی ہوئی پلٹ کر کار کی جانب چل دی ۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ ثانیہ کے گھر پہنچ گئے ۔ لائونج میں مراد علی کے ساتھ چند اپنی فیملی کے ساتھ تھے ۔انہیں دیکھتے ہی بیگم طلعت آ گے بڑھی۔ان کے استقبال سے یوں لگ رہا تھا جیسے دنیا داری ہی نبھائی جا رہی ہے ورنہ اس میں کوئی جذبہ و جوش نہیں تھا ۔ شعیب کے ساتھ مراد علی نہیں بیٹھا بلکہ وہ اپنے ہاں آئے لوگوں کے ساتھ مصروف رہا ۔ جبکہ طلعت بیگم اپنی بہن اور اس کے مہمانوں کے پاس رہی ۔مہمانوں کی تواضع کے بعد خواتین ہی نے منگنی کی رسموں بارے کہنا شروع کیا ۔ ایسے میں ثانیہ بھی تیار ہو کر اندر سے آ گئی ۔
اس نے سرخ رنگ کا عروسی جوڑا پہنا ہوا تھا ۔وہ یوں لگ رہی تھی جیسے اس نے دلہن والے ملبوس میں ہے ۔اس کا بھاری میک اپ تھا ۔ بڑے بڑے جھمکے ، ، ناک میں بڑا چمکتا ہوا لونگ ۔کاندھوں کے ساتھ بڑا سارا آ نچل ، گلے میں سونے کا ہار ،وہ آ ہستہ آ ہستہ قدموں سے چلتی ہوئی صوفے کے پاس آ کر کھڑی ہوئی۔
اس نے شعیب کی طرف دیکھا۔ وہ ایک جانب صوفے پر بیٹھا ہوا تھا ۔ گھر والوں میں سے کسی نے یہ احساس ہی نہیں کیا تھا ۔ ایسے میں پھوپھو فاخرہ آ گے بڑھی ۔ اس نے شعیب کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور ثانیہ کے پہلو میں لا کھڑا کیا ۔ سبھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہو گئے ۔
بیگم طلعت اپنی بیٹی ثانیہ کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ ایسے میں بیگم ثروت بھی اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑی انگوٹھی نکالنے لگی ۔اس نے ہیرے کی انگوٹھی نکالی اور شعیب کو تھما دی ۔ شعیب نے وہ انگوٹھی پکڑی ، ثانیہ کے چہرے پر دیکھا ، جہاں دھیمی دھیمی سی مسکان مچل رہی تھی ۔اس نے ثانیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے انگوٹھی پہنا دی ۔ یہ وہ لمحے تھے ، جس کے لئے شعیب بے حد تڑپا تھا ۔یہی ثانئے اس کی زندگی کا حاصل بن گئے تھے ۔وہ اس وقت آ سودگی کی انتہا پر تھا ۔
’’ کہاں کھو گئے ؟‘‘ ثانیہ نے دھیرے سے کہا تو وہ چونک گیا ۔ ثانیہ اپنے ہاتھ میں انگوٹھی تھامے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا
’’ ثانیہ ، مجھے یقین نہیں آ رہا ، تم میری ہو گئی ہو ۔‘‘
’’ ہاں، میں تمہاری ہوں شعیب ۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے اس کی آ واز کہیں دور سے آ رہی ہو ۔
’’ لیکن یہ یاد رکھیں ، منگنی آ دھی شادی ہوتی ہے ، پوری تو اس وقت ہو تی ہے جب نکاح ہو جائے ۔‘‘ وہیں قریب کھڑی ایک خاتون نے کہا تو ثانیہ نے ایک بار شعیب کے چہرے پر دیکھا،جہاں خوشی دمکنے لگی تھی ۔تبھی پھوپھو فاخرہ نے کہا ۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)