NaeyUfaq Jul-18

گفتگو

اقبال بھٹی

عزیزان محترم… سلامت باشد۔عید الفطر مبارک
تاریخ میں ایسے لوگ بہت عنقا ہیں جنہوں نے اپنے کردار و عمل اور تجربہ سے تاریخ کا رخ موڑ دیا ہو، ایسے لوگ پیغمبر اور اللہ کے نبی ہوتے ہیں جو بنی نوح انسان کی زندگی میں انقلاب لا کر ان کی زندگی کا دھارا بدل دیتے ہیں انہیں اچھے برے کی تمیز دیتے ہیں ختم المرتبت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کا سلسلہ بند کردیا قرآن مجید کو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے علم کا منبع قرار دیا اور ہدایت کی کہ تحقیق کر کے فلاح کا راستہ تلاش کرو مجھے اپنے اندر تلاش کرو، لیکن ہم نے خود تحقیق کے دروازے بند کردیے اور دنیا بھر میں احساس کمتری کا شکار ہو کر ذہنی غلام بن گئے گو اللہ تعالیٰ نے انبیا کا سلسلہ بند کردیاہے مگر ہدایت اور رہنمائی کا سلسلہ نہیں روکا اپنے ہدایت یافتہ نیک بندوں کے ذریعے وقتا فوقتا ہماری رہنمائی کرتا رہتا ہے جب 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد قوم ہمت ہار بیٹھی تو سرسید احمد خان کے ذریعے ہم میں علم کی روشنی پھیلائی اور احساس دلایا کہ ہم علم حاصل کر کے ہی غلامی کی زنجیریں توڑ سکتے ہیں علامہ اقبالؒ جیسی عظیم ہستی ہمارے درمیان بھیج کر ایک انقلاب آفریں سوچ کو بیدار کیا یہ علامہ اقبال ہی تھے جس نے بکھرے ہوئے جتھوں کو ایک قوم کی شکل دی جس نے نہ صرف آزادی کا نعرہ لگایا آزادی کا خواب دیکھا بلکہ اس خواب کو شرمندہ تعبیر بھی کیا اسی طرح اردو ادب میں ہمارے ادیب جب مغرب کی فحش نگاری کا شکار ہوئے اور اسی کو ادب اور پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھنے لگے تو اسرار احمد جیسی شخصیت نے ابن صفی کے نام پر ایسے تفریحی ادب کی بنیاد ڈالی جس نے عام آدمی کی سوچ کا دھارا ہی بدل دیا۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف تفریحی مواد تھا بلکہ قانون سے محبت کا سبق بھی تھا ان میں طنز و مزاح کی چاشنی بھی تھی اور ادب کا تڑکا بھی دیکھتے ہی دیکھتے فحش نگاری کسی کونے میں گم ہوگئی اور لوگ ان کی تحریروں کا دیوانہ وار انتظار کرنے لگے محترم ابن صفی دنیا کے واحد ادیب ہیں جن کی زندگی میں سیکڑوں لوگوں نے ان کے کرداروں پر لکھا اور لکھ رہے ہیں انہوں نے جعلی صفی بن کر پیسہ تو کمایا اور کما رہے ہیں لیکن ان کے تخلیق کردہ کسی کردار سے انصاف نہیں کرسکے بلکہ اس کی نفسیات تک کو نہ سمجھ سکے محترم ابن صفی ہم انہیں مرحوم نہیں لکھ رہے کہ وہ اپنی تحریروں میں آج بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ اس عظیم ہستی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نئے افق جو ان ہی کا لگایا گیا پودا ہے کی طرف سے ایک چھوٹی سی کوشش کر رہے ہیں ابن صفی نمبر کے لیے جن لوگوں، ادیبوں اور ان کے چاہنے والوں نے ہم سے تعاون کیا ہم ان کے بھی شکر گزار ہیں اور جنہوں نے مصروفیت یا کسی اور وجہ سے تعاون سے معذرت کی ان کے بھی شکر گزار ہیں۔(مشتاق احمد قریشی)
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ محترمی و مکرمی جناب انچارج گفتگو السلام علیکم سب سے پہلے تمام قارئین نئے افق اور اس کی ٹیم کو عید الفطر کی مبارک قبول ہو، اس بار ماہ جون 2018ء کا شمارہ مارکیٹ سے 25 مئی کو ملا اور یہ تیسرے چکر پر ملا۔ بہرحال سرورق خوب صورت اور قابل ستائش ہے دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب اس بار جتنے منہ اتنی باتیں لے کر آئے اس کے متعلق کچھ کہنا کچھ اندازے لگانا اب سانپ کے گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے والی بات ہے بہرحال وجہ جو بھی ہے ہماری تو صرف یہ دعا ہے کہ خدا بزرگ و برتر ہمارے پیارے وطن کی حفاظت فرمائے اور دشمنوں کے عزائم خاک میں مل جائیں آمین۔ گفتگو میں محترم اقبال بھٹی صاحب تاجروں اور دکانداروں کو آئینہ دکھاتے نظر آئے واقعی ماہ رمضان میں مہنگائی کے جن کو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے اور قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اگلے ماہ کے لیے یہ نوید بہت خوش آئند اور شادی مرگ والی بات ہے کہ اگلا شمارہ ابن صفی نمبر ہوگا یہ تو ادارے کی بہت بڑی نوازش اور مہربانی ہے کہ عید کا لطف دوبالا کرنے کے لیے محترم ابن صفی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہ کام کرنے والے ہیں ویل ڈن محفل میں کرسی صدارت پر محمد رفاقت صاحب میرے قریبی پڑوسی بیٹھے ہیں واقعی آپ کا محبت نامہ اس سلوک کا مستحق تھا کیونکہ لفظ بولتے ہیں اور اپنی قیمت خود بتاتے ہیں ویسے رفاقت بھائی اخبار جنگ میں میں بھی کبھی لکھتا رہا ہوں بچوں کے صفحے کے لیے ایم حسن نظامی قبولہ شریف آپ کے خیالات سے میںمتفق ہوں ریاض حسین قمر بھائی آپ کا خط محفل کی جان ہوتا ہے بجٹ میں جو امیدیں ہم لگائے بیٹھے تھے وہ تو اپنی موت آپ مر گئیں جب دس فیصد کا لولی پاپ تھما دیا گیا مہنگائی کے اونٹ کے منہ میں زیرہ دے دیا گیا اب دیکھتے ہیں لوگ بلکہ عوام الیکشن میں ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں آپ کا تبصرہ حسب معمول بہت جاندار اور مدلل ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ پرنس افضل شاہین آپ کا قطعہ ہر بار کی طرح بہت فٹ ہے سرورق پر عمران خان کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس کی پارٹی میں بھی فصلی بٹیرے شامل ہو رہے ہیں خیر دیکھیں کیا ہوتا ہے جاوید احمد صدیقی صاحب ویل کم آپ کا خط ہر بات کا احاطہ کیے ہوئے ہے مشتاق احمد قریشی صاحب کی جن تصانیف کا ذکر نہیں کیا گیا ان کا ذکر ضروری ہے آپ نے اس کے متعلق یاد دہانی کرا کے خوب دوستی کا ثبوت دیا ہے کبھی وقت نکال کر فون پر بات بھی کرلیا کیجیے اب بڑھتے ہیں کہانیوں کی طرف محترم سلیم اختر صاحب کی کہانی جھوٹی پجارن پڑھی بہت اچھی کہانی لگی عورت ایک پہیلی ہے اس کو سمجھنا بہت مشکل ہے فریال آخر ایک طوائف تھی جس کا پیار جھوٹا، محبت بناسپتی اور ادائیں جھوٹی ہوتی ہیں ناصر بے وقوف تھا جو سائے کے پیچھے بھاگتا رہا اپنی دولت فریال کی جھوٹی ادائوں پر نچھاور کرتا رہا بقول ارسطو کے عشق محبوب کے عیبوں کے ادراک سے حس کا اندھا ہونا ہے محمد رفاقت صاحب کی بلیو وہیل موضوع کے اعتبار سے ایک اچھی کہانی ہے لیکن اسے ذرا وضاحت سے لکھا جاتا تو اور بھی اچھی ہوسکتی تھی بہت جلدی میں کہانی کا گلہ گھونٹ دیا گیا بہرحال کوشش اچھی ہے اور تعریف کرنا تو بنتا ہے نا نسیم سکینہ صدف کی سمجھوتہ بھی پسند آئی بات وہی ہے کہ عورت کو کوئی نہیں سمجھ سکا۔ کہیں یہ وفا کی دیوی ہے اور کہیں فریال جیسی بے وفا، خود غرض اور مطلبی، تربیت یافتہ، محمد اکرم مپال کی کہانی میں ایک فرض شناس سیکورٹی گارڈ نے اپنی جان پر کھیل کر مالکان کی جان و مال بچالی باقی کہانیوں میں خواہش سعادت مندی بہترین لگیں فن پاروں میں سارا انتخاب اچھا ہے اب بات ہوجائے ذوق آگہی کی اس میں پرنس افضل شاہین، عبدالجبار رومی، ایم حسن نظامی اور محمد جاوید بٹ کا انتخاب بہترین ہے خوش بو سخن میں سارا انتخاب اپنی مثال آپ ہے۔
ایم حسن نظامی… قبولہ شریف۔ قابل احترم بھٹی صاحب آداب عرض سلام خلوص و مسرت امید ہے آپ اور نئے افق سے جڑے سبھی احباب خیریت سے ہوں گے رمضان المبارک نمبر بابرکت ماہ کی سعادت بھری گھڑیوں میں جلوہ افروز ہوا ٹائٹل پر خوبرو حسینہ مقدس ماہ کے احترام میں دوپٹہ اوڑھے سر نہوڑے نگاہ نیچی کیے براجمان پائی۔ خوشی ہوئی کہ رحمتوں بھرے مہینے کا احترام و تقدس بر قرار رہا ذرا آگے جناب مشتاق احمد قریشی صاحب اپنی پر معنی سیاسی گفتگو اور موجودہ سیاستدانوں پر باریک بینی سے اپنا تجزیہ فرما رہے تھے۔ اپنوں کی گفتگو میں بھٹی صاحب موجودہ مہنگائی پر روشنی ڈالتے نظر نواز ہوئے انہوں نے ابن صفی نمبر کی بھی نوید سنائی اردو ادب میں لاکھوں کروڑوں لوگوں نے انہیں پڑھتے ہوئے اپنی اصلاح کی اور آج کے کامیاب لکھاری ٹھہرے۔ محمد رفاقت کرسی صدارت پر براجمان پائے جی مبارکباد قبول فرمائیں انہوں نے پر معنی گفتگو کی پرنس افضل شاہین، جاوید احمد صدیقی اور ریاض بٹ سبھی اپنی گفتگو کی باری پر عمدہ اور پیاری گفتگو کرتے پائے سبھی احباب نے میرے تبصرے اور نگارشات کو سراہا جس کے لیے ڈھیروں شکریہ اور ذرہ نوازی کہ ہم سبھی احباب مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے دکھ سکھ اور مسرتیں شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ طاہر قریشی صاحب خداوند کریم کی برکتوں، رحمتوں اور نوازنے والے نام کا ترجمہ تشریح اور فضائل اپنی قابلیت کی بنیاد پر بیان فرما رہے تھے یہ نئے افق کا ایمان پرور سلسلہ ہے جسے پڑھتے ہوئے دل ودماغ منور ہوجاتا ہے پرچے کی پہلی تحریر فرخ ندیم ملک کے حصہ میں آئی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر عمدہ ریسرچ کی بلیک ہارٹ اپنے انجام کو پہنچا اور جونی مبارکباد کا مستحق ٹھہرا بہت خوب جی۔ وسیم بن اشرف نے بھی انگریزی ناول کو اردو کے خوب صورت قالب میں ڈھالا جو بہت بڑا کارنامہ ہے ان کی ذہانت کی داد دیتا ہوں۔ خلیل جبار کا انداز تحریر بھی سراہنے کے قابل ہے انہوں نے پر اسرار گمشدگی پر گہرا قلم چلایا اور اسماعیل کو ماورائی یاسمین کا پتا چل گیا۔ عمارہ خان کی تحریر ’’وہ تیس دن‘‘ کی پہلی کڑی معیاری انداز تحریر سے پر پائی سر سلیم اختر جھوٹی پجارن میں جلوہ گر پائے انہوں نے نجی زاویوں سے اس تحریر میں نئی روح پھونک دی اور جھوٹی پجارن سے خلاصی ہوئی۔ ابراہیم جمالی کے نوکیلے قلم سے نکلی تحریر بھی بہت سے اسباق دے گئی۔ محمد رفاقت نے نیٹ ورک پر اور اس کے استعمال پر خوب صورتی سے روشنی ڈالی نسیم سکینہ صدف، معاشرتی رویوں پر انمول لفظوں سے سمجھوتہ کرتی پائیں جیسا کہ راشدہ نے کیا۔ عرفان رامے صاحب کانچ کی محبت میں محبت کو مذاق، سودے بازی یا محض دل لگی سمجھنے والوں کے لیے عبرت کا مقام بتایا تو زریں قمر صاحبہ تاریخی اوراق پلٹنے میں مصروف پائیں جو انتہائی دشوار مرحلہ ہوا کرتا تھا۔ محمد اکرم مپال تربیت یافتہ گارڈز کی روداد بیان فرما رہے تھے جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مالکوں کی حفاظت کرتے ہیں مظہر سلیم بھی عورت کی خواہش کو اچھے لفظوں کی مالا میں لیے جلوہ گر پائے۔ رانا زاہد حسین متکبرانہ حکمرانوں اور وڈیروں کی بڑائی کا تذکرہ بیان فرما رہے تھے بلا شبہ غرور کا سر نیچا ہوا کرتا ہے مگر یار یہ تو تحریر پہلے بھی ’’جوتیاں‘‘ کے عنوان سے لاہور کے ایک پرچے میں شائع ہوئی ہے آئندہ احتیاط کرنا۔ فن پارے میں نفیسہ سعید، عائشہ بٹ اور سلمان بشیر ٹاپ پر رہے خوش بوئے سخن شاعری دل کا آئینہ ہوتی ہے اور اچھی شاعری میں پورا عکس نظر آتا ہے نوشی صاحبہ نے اسے اچھا ترتیب دیا۔ ساحر جمیل سید بارہویں زینے پر جکڑے پائے اور تحریر مرشد کو منفرد مقام پر لے آئی۔ لوجی تبصرہ مکمل ہوا آپ نے عید الفطر کیسے منائی اور اپنے پڑوسیوں اور رشتے داروں سے کیسے پیش آئے ضرور بتائیے گا اور آخر میںؔ
عید میرے سپنوں کی سعید نہ سہی
سنگ تری یادوں کا سہارا ہی تو ہے
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ مدیر محترم نئے افق سلام مسنون امید کامل ہے کہ آپ اور آپ کا عملہ فضل رب کریم خیریت سے ہوں گے اور ہم قارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے شب و روز مصروف عمل ہوں گے خدائے لم یزل آپ سب کو صحت مند رکھے دستک میں جس طرح محترم و مکرم جناب مشتاق احمد قریشی صاحب جس طرح حالات حاضرہ سے ہمیں آگاہ فرماتے ہیں وہ ان ہی کو زیبا ہے رب اللعالمین انہیں ہمیشہ خوش و خرم رکھے اور ان کے قلم میں مزید قوت عطا فرمائے ہمارا پالا جس طرح ایک شاطر، فریبی اور غلیظ ترین دشمن سے پڑا ہے وہ ہمارے لیے سوہان روح ہے ایک تو اس نے پاکستان کی شہہ رگ ریاست جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے وہ اس کی مکاری اور انتہائی کمینگی کو ظاہر کرتا ہے اب سننے میں یہی آرہا ہے کہ وہ دریائے نیلم کا رخ موڑ رہا ہے اس طرح وہ تائو بٹ سے لے کر مظفر آباد تک وادی نیلم کو خشک اور بنجر بنانا چاہتا ہے رب کریم اس کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملائے یہ ہمارا ذلیل ترین پڑوسی اس طرح آبی دہشت گردی کر کے ہمارے لیے لا ینحل مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے اللہ رب العزت اس کے اپنے ملک میں چلنے والی درجنوں آزادی پسند تحریکوں کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے آمین، اس بار گفتگو میں مختصر سے دوستوں نے شرکت فرمائی ایک ماہ بوجوہ محفل سے غیر حاضری ہوئی جسے بعض دوستوں نے محسوس فرمایا میں تہہ دل سے ان کا شکر گزار ہوں پیارے بھائی ریاض بٹ صاحب آپ کیسے ہیں اور پیارے رمضان المبارک کی فیوض و برکات سے مستفیض ہو رہے ہوں گے رب کریم آپ کو صحت مند اور خوش و خرم رکھے، آمین۔ پیارے ویر عمر فاروق ارشد صاحب بھی کبھی کبھار غوطہ لگا جاتے ہیں پیارے محفل میں باقاعدگی سے تشریف لاتے رہا کریں آپ تو محفل کی جان ہیں مایوس نہ کیا کریں باقی قارئین کے خطوط اور تبصرے خوب ہیں ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن میں انتخاب لا جواب ہے کہانیوں کا انتخاب تو ہوتا ہی بے مثال ہے اللہ تعالیٰ ہمارے اس پیارے جریدے کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچائے، آمین۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ محترم مشتاق احمد قریشی صاحب اور محترم اقبال بھٹی صاحب کو اور تمام اسٹاف کو میری طرف سے عید مبارک قبول ہو اور السلام علیکم ہمارا پیارا رسالہ نئے افق مل گیا اور اس میں اپنی کہانی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی یعنی دو دو خوشیاں ملی ہیں ایک عید کی دوسری بھی عید ہی کی طرح وہ اس لیے کہ میری کہانی جو رسالے میں تھی جناب اقبال بھٹی صاحب کا بہت بہت شکریہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت مند رکھے اور بہت خوشیاں دے آمین۔ محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے دستک میں جو نقشہ احسن اقبال کا کھینچا ہے وہ بالکل درست ہے یعنی نیب سے حاضری سے محفوظ ہوگئے ہیں اس دفعہ گفتگو میں صرف چھ عدد ہی خط تھے کیا بات ہے کہ خط وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے شامل نہ ہوسکے یا ہمارے دوستوں کے پاس وقت نہیں میری گزارش ہے کہ سب دوست وقت نکال کے اپنے خط وقت پر ارسال کریں تاکہ ان کی معلومات سے ہم جیسے بھی فائدہ حاصل کرسکیں ایم حسن نظامی صاحب، محترم ریاض حسین قمر صاحب، جناب پرنس افضل شاہین صاحب، محترم جاوید احمد صدیقی، جناب ریاض بٹ صاحب میں آپ سب کا دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے گفتگو میں شرکت کی اور اپنی حاضری یقینی بنائی آپ سب نے میرے خط کی تعریف کی جس کے لیے میں آپ کا مشکور ہوں امید ہے کہ آئندہ اور دوست بھی شرکت کریں گے۔ ان شاء اللہ فرخ ندیم ملک صاحب کی کہانی روحوں کا شکاری بہت پسند آئی مشتاق احمد قریشی صاحب سے گزارش ہے کہ ایسی کہانیاں رسالے کی جان ہیں انہیں ضرور جگہ دیں شکریہ رسالے کی دوسری کہانی گورکھ دھندہ، محترم وسیم بن اشرف صاحب کی یہ کہانی بھی خوفناک نمبر کی کہانی تھی جو اس رسالے میں شائع ہوئی اچھی کہانی ہے اس طرح کی ایک کہانی ضرور رسالے میں شامل ہوتی رہے تو رسالے میں جان پڑ جائے گی۔ محترم خلیل جبار صاحب بھی اچھی کہانیاں لکھنے میں بہت مہارت رکھتے ہیں ان کی کہانی اصول روپ اس بات کی گواہی ہے قسط وار کہانی ’’وہ تیس دن‘‘ عمارہ خان کی پڑھتے ہوئے دل ہی نہ کرے چھوڑنے کا دل کرے پڑھتے جائو دیکھو ابھی تک تو ٹھیک ہی ہے مرشد بھی نئے نئے موڑ مڑتی ہوئی خوب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے سلیم اختر کی ’’جھوٹی پجارن، متبادل، سمجھوتہ، کانچ کی محبت، تربیت یافتہ، خواہش، تکبر، سعادت مندی، فن پارے میں عائشہ بٹ کی کہانی نے متاثر کیا رسالے میں زرین قمر کی کہانی بالا کوٹ ایک بہترین کہانی ہے خوب صورت لکھتی ہیں مبارک ہو، ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن نے بھی اپنے صفحوں کا حق ادا کیا ہے بہت خوب جناب۔
وقت دیتا نہیں اجازت آگے بڑھنے کا
اس بات پر کے پھر ملیں گے دی زندگی نے اجازت
پرنس افضل شاہین… بہاولنگر۔ اس بار جون کا نئے افق رمضان المبارک نمبر خوب صورت سرورق سے سجا پچیس تاریخ کو ملا اور اٹھائیس تاریخ کو تبصرہ ارسال کر رہا ہوں نئے افق واقعی اس بار دلکش سرورق سے سجا تھا۔ سرورق پر یہ قطعہ ہونٹوں پر مچلنے لگا۔
تم وہ پہلی لڑکی ہو جس کو دیکھ کے
دھوپ کا ہر اک ٹکڑا بادل ہوسکتا ہے
جس کو دیکھ کے چاند کسی شب
پورا پاگل ہوسکتا ہے
دستک میں انکل جی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کے بارے میں بتا رہے تھے یہ حملہ چاہے ڈرامہ ہو چاہے حقیقت ہو ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا ہر سیاسی جماعت کو حق ہے وہ عوامی رابطہ مہم چلائے وہ الگ بات ہے کہ اس بار نون لیگ کو الیکشن میں دن کو بھی تارے نظر آجائیں گے۔ کیونکہ اس بار پینتیس پنکچروں والا کام بھی نہیں ہوگا۔ ان سطور کی اشاعت تک نگراں حکومت قائم ہوچکی ہو گی اللہ کرے وہ بغیر دھاندلی کے الیکشن کرا دیں اور آنے والی حکومت عوام کے لیے رول ماڈل ہو اور عوامی خدمت کے ریکارڈ قائم کرے، آمین یہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ جولائی کا شمارہ ابن صفی نمبر ہوگا ابن صفی کے بعد جاسوسی کہانیاں لکھنے کا آغاز کرنے والے مظہر کلیم ایم اے بھی دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ابھی پرسوں ہی ان کی نمازہ جنازہ ملتان میں ادا ہوئی ہے اللہ تعالیٰ ابن صفی اور مظہر کلیم اور ایم اے راحت کو جنت میں جگہ دے آمین۔گفتگو میں آپ نے درست کہا کہ تاجر حضرات کرسمس اور بلیک فرائڈے پر اشیا پر پچاس فیصد کی رعایت دیتے ہیں مگر مسلمانوں کے ماہ مقدس رمضان میں پچاس فیصد اضافہ کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں انہیں خدا کا کوئی خوف نہیں ہوتا یہ لوگ روز محشر اپنے نبی پاک ﷺ کے سامنے اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے محمد رفاقت صاحب کرسی صدارت پر براجمان تھے رفاقت بھائی میں وہی پرنس افضل شاہین ہوں جو پہلے جنگ میں بھی لکھتا تھا آپ نے درست پہچانا ہے آج کل تو جنگ سنڈے میگزین، ایکسپریس، اخبار جہاں، روزنامہ دنیا میں لکھ رہا ہوں ایم حسن نظامی، ریاض حسین قمر، جاوید احمد صدیقی میری تحریریں پسند فرمانے کا بے حد شکریہ۔ ریاض بٹ صاحب آپ نے مجھے شعروں کا شاہین کہا یہ آپ کا حسن نظر ہے اس بار بھی خطوط کی تعداد بہت ہی کم تھی یعنی صرف چھ خطوط اتنے خطوط تو میرے ضلع بہاولنگر کے لکھاری لکھتے تھے یعنی فورٹ عباس، منچن آباد، بہاولنگر اس بار چلبلی اقرا جٹ کا خط بھی نہیں تھا جو کہ منچن آباد کی پہچان ہیں خطوط نگاروں سے اپیل ہے نئے افق میں حاضری لگوائیں ذوق آگہی میں عبدالجبار رومی، ریاض بٹ، اقرا افضل، غلام فاطمہ، کامران شاہد، خوش بوئے سخن میں فوزیہ شیخ، طاہرہ غفور، ایم حسن نظامی، نائلہ جبین، ریاض حسین قمر، اقرا جٹ چھائے رہے دعا ہے نئے افق اور ترقی کرے آمین۔
عبدالجبار رومی انصاری… بورے والا۔
جھکی جھکی پلکیں احساس پاکیزہ ہے
شرم و حیا کی پیکر دوشیزہ ہے
کیسی مہرومہ سی لگتی ہے
جھلکتا ہر ادا سے احترام کا فریضہ ہے
اس دفعہ نئے افق کا سرورق بہت پسند آیا اور دستک کی سچائی کے تو ہم دل سے قائل ہیں باقی بنگلہ دیش تو جغرافیائی طور پر بھی الگ تھا سو انڈیا کو کھل کے وار کرنے کا موقع مل گیا تھا اور پاکستان کی طرف تو وہ میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات ہی نہیں کرسکتا ہاں سازشیں کرنا اس کا کام ہے جو وہ شروع دن سے ہی کر رہا ہے اقبال بھٹی صاحب کی مختصرا گفتگو اچھی لگتی ہے جو چھوٹے سے پیرائے میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں اور جو حال دو غلے تاجروں کا بتایا اللہ کی پناہ بس رمضان ہی انہیں پورے سال کی کمائی میں نظر آتا ہے یہ نہیں کرسکتے کہ اس مہینے میں وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرلیں پتا نہیں یہ دنیا خرید کر آخرت میں کیا کریں گے اور ابن صفی نمبر کا تو خاص کر انتظار ہے چلو ایک مہینہ ہی رہ گیا ہے باقی تمام قارئین کو عید الفطر بہت بہت مبارک ہو ستاروں کی کہکشاں میں محمد رفاقت کا تبصرہ بھی زبردست رہا جو پرانی یادیں تازہ کرتے احسن طریقے سے انٹری دے رہے تھے بہت اچھے لگے۔ مسرتیں بانٹتے ایم حسن نظامی بھی بہترین رہے عمدہ رہی آپ کی غزل اور مراسلہ بھی بہت اچھا ہوتا ہے انکل ریاض حسین قمر کا تبصرہ بھی بے مثال تھا بہت اچھا لگا اور سچے دل سے آبیاری کیجیے ہر ماہ کی طرح غزل بھی بے حد عمدہ تھی جھانکتے خلوص کے ساتھ پرنس افضل شاہین بھی قطعے کے ساتھ بہترین موازنہ کر رہے تھے بہت عمدہ جاوید احمد صدیقی کا پر اثر تبصرہ بھی لائق تحسین رہا سچی باتیں اچھی لگتی ہیں اور قوم کو دعائوں کے ساتھ ساتھ اپنے ووٹ سے بھی اپنی تقدیر بدل لینی چاہیے لیجیے بھائی ریاض بٹ نے تو ان کے حسن کا نظارہ کرنے کے انہیں خفا رکھا ہوا ہے کہیں ایسا نہ ہو ان کا نظارہ کرتے کرتے انہیں کھو ہی دیں بہرحال اپنی تحریروں کی طرح لا جواب تبصرہ بے حد پسند آیا پچھلی دفعہ اقرا جٹ کی منچن آباد سے انٹری خوب رہی تھی اس دفعہ تو نظر نہیں آتیں کہیں منچن آباد کا تعارف تو نہیں کرانا تھا لیکن ہم تو منچن آبادکو اچھی طرح جانتے ہیں بہرحال غیر حاضر دوست جلدی حاضری دیں۔ بالا کوٹ 2005ء کا حادثہ جان لیوا تھا جہاں زلزلہ زدگان کی مدد کرنے والے تھے وہیں طارق سلمان جیسے بھی تھے جو رقم کی خاطر دشمن بن گئے اور ننھی نادیہ کو بھی اغوا کرلیا اور ایسے میں جاوید کو بھی پھر سے لوگوں کی مدد کرنے کا موقع مل گیا زرین قمر کی کہانی اچھی رہی سعادت مندی کا منا بھی قائم رہا اور نعیم بھی اپنی اور گھر والوں کی نظروں قابل فخر فرزند ثابت ہوا مختصر کہانی اچھی لگی بلو وہیل نے بھی انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا اور معصوم طالب علم جنہوں نے بھی اسے ڈائون لوڈ کیا اور تکلیفوں میں گھرتے گئے تو نوبت خود کشی تک پہنچ گئی اور دنیا میں اس گیم سے اموات بھی واقع ہوئیں اور میڈیا میں آنے اور عوام کی آگاہی حاصل کرنے سے اس سے کچھ نہ کچھ چھٹکارا ملا اب پھر بتا رہے ہیں کہ اس سے بھی خطرناک ایک گیم آگئی ہے جس کے کھیلنے والے اپنے ہی لگائے ہوئے زخموں پر نمک پاشی کرتے دکھائی دیتے ہیں بہرحال ایسی سب گیموں سے بچنا چاہیے روحوں کا شکاری، روحیں بھی کنٹریکٹ پر لیتا تھا اور پھر کرتب باز جونی نے عفریت کا روپ دھانے کے بعد اپنی محبت روکسین کو بچانے کے لیے بلیک ہارٹ کا خاتمہ کردیا اور بوڑھے شیطان ایگار سے بھی نجات پائی عمدہ کہانی میری جاب اور روزی روٹی کا مسئلہ ہے وقاص چاہے بچوں کے ساتھ مکان کی بھینٹ چڑھ جائے دوسری طرف رافی سادھو کے ہاتھوں کھیل رہی تاکہ بچے لے سکے اور کالی بلی اف دہشت سے بھرپور کہانی ’’وہ تیس دن‘‘ کی پہلی قسط نے ہی سہما دیا زبردست کہانی آخر عمارہ خان نے انتظار ختم کرا ہی دیا کانچ کی محبت، شہاب جولی سے پیار تو کرتا تھا مگر اس کی کوکھ میں اپنے ہی بچے کا سن کر بد دل ہوگیا اس محبت کو کانچ کی طرح ریزہ ریزہ کردیا اس سے اچھی تو اس کی ماں تھی جس نے جولی کو بیٹی بنا لیا تھا سکون کی تلاش میں نشے کا سہارا لینے والوں کا انجام بھی برا ہی ہوتا ہے جائز و ناجائز خواہشات پوری ہوں تو آنکھوں پر ہوس کی پٹی بندھ ہی جاتی ہے پھر آنکھیں بند کیے اصل مال پر ہی ہاتھ صاف ہوتا ہے جیسے سونیا اور فرہاد مرغ مسلم پر ہاتھ صاف کرتے نظر آئے اصل روپ کو دیکھتے ہی اسماعیل اور عمر دراز شرم سار ہوگئے یاسمین اسماعیل کی تو بیوی تھی لیکن عمر دراز سے جسمانی تعلق قائم کیا اور دھوکے بازی سے دونوں کو بے وقوف بنایا پر اسرار یاسمین آسیبی خاندان سے نکلی اصل روپ کچھ ڈرائونی اور دلچسپ رہی بوڑھی امرتا نے اپنے چاہنے والے دلیپ ورما کے لیے کچھ نہیں کیا مگر اس کی بیٹی کملا نے خود کو شادی کے لیے پیش کر کے بہترین متبادل ثابت ہوئی عمدہ کہانی مرشد میں چوہدری اکبر نے حسن آرا اور زینت کو بے بس کر کے پیٹرول میں نہلا دیا اور دوسری طرف مرشد بھی دشمنوں کے ہتھے چڑھ کر بے بس ہوچکا ہے دیکھو مرشد کی خاموشی اب کون سا طوفان اٹھائے گی اور اٹھائے تو زبردست ایکشن ہوگا، بے شک رزق کسی کے پاس چل کر نہیں آتا اس کے لیے جستجو کرنا پڑتی ہے رازق بہترین کہانی تھی طوطا چشم میں طوطے نے تو اپنی وفاداری ثابت کردی لیکن پتھر کی بنی کوثر کو اپنی گھر داری کا احساس نہ ہوا کہانی اچھی لگی شاہ جی کی کہانی افسردہ کرگئی چار بیٹے اور وہ بھی ان کی خدمت نہ کرسکے آخر ایک بیٹے کو رحم آیا اور شاہ جی پر سکون نیند سوئے آخری امید ٹھیک رہی ذوق آگاہی سے اقرأ افضل، غلام فاطمہ اور اشفاق حسن کے مراسلے اچھے رہے جبکہ غزل سے شہزاد نیر، انجیل صحیفہ اور نائلہ جبین کا منتخب کلام اچھا لگا۔ والسلام

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close