NaeyUfaq May-18

پراسرارگھر

وسیم بن اشرف

 

وکیل صاحب نے اپنی عینک کے موٹے موٹے شیشوں کے پیچھے سے سلیم اور اس کی بیوی کو غور سے دیکھا۔ پھر انہوں نے اپنی کھردری اور کرخت آواز میں وصیت نامہ پڑھنا شروع کیا۔
’’… میں کلیم شیرازی ولد جمیل شیرازی اپنے اکلوتے بھائی سلیم شیرازی کو اس کی ذہانت اور اچھے کردار کی بدولت اپنے تمام تر اثاثوں کا وارث قرار دیتا ہوں۔ وہ اس تمام رقم اور جائیداد کا مالک ہو گا جو میں مرتے وقت چھوڑوں گا۔ میرا ایک بنگلہ جو کہ ’’احمد نگر‘‘ میں ’’شیرازی ہاؤس‘‘ کے نام سے موجود ہے وہ بھی اسی کی ملکیت ہو گا‘‘۔
سلیم شیرازی نے اپنے قریب ہی کرسی پر بیٹھی ہوئی نعیمہ کو ایک نظر دیکھا جو عجیب سی نظروں سے وکیل صاحب کی طرف دیکھ رہی تھی۔ شاید وہ سوچ رہی تھی کہ ان دلکش الفاظ کے پیچھے کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں؟
’’تاہم تم کوئی زیادہ توقعات مت رکھو۔‘‘ وکیل صاحب نے مشورہ دیا۔ ’’تمہارا بھائی کسی لحاظ سے بھی امیر آدمی نہیں تھا‘‘۔
سلیم شیرازی نے اپنے بھائی سے کچھ زیادہ توقعات رکھی بھی نہیں تھیں۔ کیونکہ اس کے بھائی کلیم نے کبھی اپنے بزنس یا شیئرز کے بارے میں کسی خط میں کچھ نہیں لکھا تھا۔ سلیم شیرازی کی امیدیں اور دلچسپی تو صرف بنگلے تک محدود تھی۔
’’شیئرز اور دیگر دولت والی بات فضول ہے‘‘۔ وکیل صاحب نے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔
’’لیکن ان کا ایک بنگلہ تو واقعی ہوا کرتا تھا‘‘ سلیم شیرازی نے کہا۔
’’وہاں بنگلہ ہو گا۔ لیکن برا مت مانیے۔ اسے بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ مجھے اس کے متعلق کچھ علم ہے کہ وہ کس حالت میں ہے۔ تمہارا بھائی بہت سادہ طبیعت کا آدمی تھا اور میرے خیال میں وہ کفایت شعاری کے ساتھ زندگی بسر کرتا تھا۔‘‘
’’ہمارا رہن سہن بھی خاصا سادہ ہے‘‘ نعیمہ نے آہستگی سے کہا۔
’’کیا آپ بھی اس بنگلے میں قیام کرنے کے متعلق سوچ رہی ہیں؟‘‘ وکیل نے قدرے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں۔ میرا خیال ہے ہم وہیں مستقل قیام کریں گے‘‘۔نعیمہ نے جواب دیا۔ ’’لیکن تم لوگوں کو معلوم ہوناچاہیے کہ نام تو اس کا ’’شیرازی ہاؤس‘‘ ہے لیکن دراصل وہ ایک کاٹیج نما گھر ہے۔ اس میں صرف دو کمرے ہیں۔ ایک بیڈ روم اور دوسرا ڈرائنگ روم‘‘ وکیل صاحب نے کاغذوں کے ایک بنڈل سے میز کو بجاتے ہوئے بتایا۔
سلیم شیرازی اپنی زندگی کی تلخ کہانی اور اپنے مسائل وکیل صاحب سے بیان کرنا نہیں چاہتا تھا۔وہ وکیل صاحب کو یہ بھی نہیں بتا سکتا تھا کہ اس کے بھائی کی موت نے درحقیقت ان کا ایک مسئلہ ایک بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ اس قدرتی سانحے کا فائدہ اس کے نقصان سے زیادہ تھا۔ یہ بنگلہ اسے نعمت غیر مترقبہ کے طور پر بڑے مناسب وقت پرملا تھا۔ آنکھوں میں بہت معمولی سی خرابی کے سبب اسے وقت سے بہت پہلے ریٹائر کر دیا گیا تھا اوراسے پنشن اتنی کم ملتی تھی کہ وہ زندگی بھر نعیمہ کو ایک گھر فراہم نہیں کر سکتاتھا۔ اس کے بھائی کی غیر متوقع موت نے انہیں ایک چھوٹے سے گھر کا مالک بنا دیا تھا۔ خواہ وہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو۔ اس چھوٹے سے گھر میں وہ اپنی بڑی بڑی خواہشات کی تکمیل کر سکتے تھے۔
’’ہم کل سویرے والی گاڑی سے وہاں کے لئے روانہ ہوں گے‘‘۔ سلیم شیرازی نے وکیل کو بتایا۔ وکیل صاحب نے چند ضروری کاغذات پر دستخط کروانے کے بعد بنگلے کی چابی اس کی طرف بڑھا دی۔ ’’وکیل صاحب! کیا آپ کو اندازہ ہے کہ میرے بھائی کی موت کس طرح واقع ہوئی؟‘‘ سلیم نے اچانک پوچھا۔
’’کیوں؟‘‘
’’جب میں نے آخری بار انہیں دیکھا تو وہ ہر طرح سے تندرست اور ہشاش بشاش تھے۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’احمد نگر سے موصول ہونے والی رپورٹ میں ان کی موت کی وجہ ہارٹ فیل ہونا لکھا ہے۔ وہ دل کے مریض تھے۔‘‘
’’لیکن حیرت ہے… اس بارے میں انہوں نے کبھی مجھے کچھ نہیں لکھا اور پھر وہ تو بیل کی طرح مضبوط تھے۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’بیل کا بھی ہارٹ فیل ہو جانا بعیداز امکان نہیں ہے‘‘
وکیل صاحب نے ہنس کر کہا۔ پھر کچھ خیال آتے ہی فوراً چہرے پر سنجیدگی اور تاسف طاری کرتے ہوئے بولے ’’اگرچہ یہ سانحہ ایک دوسرے صوبے میں رونما ہوا ہے تاہم میں اس علاقے کے ڈاکٹر سے تفصیلی اطلاعات منگوانے کی کوشش کروں گا۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا۔ اس دردانگیز واقعے سے قطع نظر میں ایک بار پھر تم دونوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘
دونوں نے وکیل صاحب کو آداب کیا۔ ان کا شکریہ ادا کیا اور پھر اٹھ کر باہر آ گئے۔ نعیمہ نے تازہ ہوا میں گہرا سانس لیا‘ ان دنوں، ’’احمد نگر‘‘ کا موسم یقینا خوشگوار ہو گا‘‘ سلیم نے خیال ظاہر کیا۔ ذاتی گھر کے تصور سے ہی نعیمہ کی سبزی مائل آنکھوں میں بھی چمک سی آ گئی۔
’’شیرازی ہاؤس… واہ کس قدر خوبصورت اور باوقار نام ہے۔ مجھ یقین ہے کہ وہ ایک خوب صورت رہائش گاہ ہو گی۔‘‘ اس نے خوابناک لہجے میں کہا۔
’’شیرازی ہاؤس سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ نہ کرو تو بہتر ہے۔ کلیم بھائی بہت مختصر وسائل کے آدمی تھے۔ حیرت ہے انہوں نے ایک گھر کیسے بنا لیا‘‘
’’شیرازی ہاؤس خواہ کس قدر ہی معمولی کیوں نہ ہو تمہیں اس جگہ سے محبت ہونی چاہیے‘‘ نعیمہ نے سخت لہجے میں کہا اور سلیم اس تصور سے کسی قدر اداس سا ہو گیا کہ اس جگہ سے اس کے بھائی کی وابستگی رہی ہے۔ وہ بھائی جو اس کی شادی میں بھی شرکت نہ کر سکا تھا۔ شاید یہ قسمت کا فیصلہ تھا کہ کلیم کبھی نعیمہ کو نہ دیکھ سکے۔
انہوں نے وہ رات دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں گزاری۔ یہ ہوٹل صدر بازار کی ایک پرسکون گلی میں تھا جہاں انہوں نے خود کو دنیا کے ہنگاموں سے بہت دور اور ایک دوسرے کے بہت قریب محسوس کیا۔ صبح کو سلیم نے تجویز پیش کی کہ ایک دو ہفتے یہاں مزید قیام کیا جائے۔ ان کا کمرہ خوابوں اور ارمانوں کی تکمیل کا طلسم کدہ بن گیا تھا اور ان کا جی نہیں چاہ رہا تھا کہ اس خوبصورت اور رومان پرور ماحول کو اتنی جلدی خیرباد کہہ دیں۔ لیکن دور مضافاتی علاقے میں ان کا بنگلہ ان کا منتظر تھا۔ جہاں اس سے بھی زیادہ سکون اور تنہائی میسر آنے کی توقع تھی۔ اور جہاں رہنے سے وہ ہوٹل میں ہونے والے اخراجات سے بھی بچ سکتے تھے۔ یوں بھی ان کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز پیسہ تھی۔ انہیں ہر قیمت پر پیسہ بچانا تھا۔ اپنے مستقبل کے لئے… اور اسی لئے خواہش کے باوجود انہوں نے ہوٹل چھوڑ دیا اور احمد نگر روانہ ہو گئے۔
جب ٹرین نے دارالحکومت سے باہر مغربی علاقے میں سفر شروع کیا تو راستے کی خوبصورتی کا نظارہ کرتے ہوئے سلیم کو احساس ہوا کہ انہوں نے دارالحکومت چھوڑنے کا فیصلہ درست کیا تھا۔ نعیمہ نے بھی وہ رسالہ جو وہ پڑھ رہی تھی بند کر کے کھڑکی سے جھانکنا شروع کر دیا۔ اس کے ہونٹوں پر ملکوتی مسکراہٹ تھی۔ ہر چند لمحوں بعد وہ مڑ کر ایک نظر سلیم پر بھی ڈال لیتی تھی۔ گہری خاموشی کے باوجود ان کے درمیان باتیں ہو رہی تھیں۔
جب ٹرین احمد نگر پل پر سے گزری تو گاڑی کے پہیوں سے پل پر پیدا ہونے والی گڑگڑاہٹ سے سہم کر نعیمہ نے سلیم کا ہاتھ تھام لیا۔ اسی لمحے ساتھ والی سیٹ پر رکھی ٹوکری میں موجود بلی بھی میاؤں میاؤں کرنے لگی۔ یہ بلی جس کا نام مونی تھا نعیمہ اپنے ساتھ شیرازی ہاؤس لے جا رہی تھی اس کا خیال تھا کہ گھر چونکہ کافی عرصے سے خالی رہا ہے اس لئے وہاں چوہے وغیرہ ہوں گے جن کا موتی بخوبی صفایا کر دے گی۔
ٹرین لکڑی کے ایک پلیٹ فارم پر رکی جہاں اسٹیشن کی عمارت صرف ایک کمرے پر مشتمل تھی جس پر ’’احمد نگر‘‘ کا بورڈ آویزاں تھا۔ سلیم شیرازی اور نعیمہ پلیٹ فارم پر اتر آئے۔ ان کے اترتے ہی گاڑی چل پڑی اور جلد ہی بل کھاتی ہوئی پہاڑی سلسلوں میں گم ہو گئی۔ سلیم اسٹیشن کی عمارت میں داخل ہوا۔ اس کمرے کے دو حصے کئے گئے تھے۔ ایک حصے میں کھڑکی تھی جو غالباً ’’بکنگ ونڈو‘‘ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ سلیم نے دوسرے حصے کے دروازے پر دستک دی۔ ’’کوئی ہے یہاں…؟‘‘ اس کی آواز کا جواب دور کسی پرندے کی چیخ نے دیا۔ اس کے بعد پھر وہی بیکراں خاموشی چھا گئی۔ عجیب لاوارث قسم کا ریلوے اسٹیشن تھا۔ دور دور تک کسی ذی روح کا نام و نشان نظر نہ آتا تھا۔
نعیمہ پلیٹ فارم پر کھڑی ہو کر اسٹیشن سے قصبے کو جانے والی سڑک پر نظریں دوڑانے لگی۔ یہ تنگ سی سڑک بھی راستے میں نظر آنے والی دوسری سڑکوں کی طرح پہاڑیوں کے گرد بل کھاتی ہوئی غائب ہو جاتی تھی۔
’’جانم! ہمیں غالباً قصبے تک پیدل چلنا پڑے گا‘‘ سلیم شیرازی نے مایوسی سے کہا۔
’’کیا قصبہ یہاں سے کافی دور ہے؟‘‘ نعیمہ نے پوچھا۔
سلیم نے جیب سے نقشہ نکال کر دیکھا…’’ہاں… کئی میل دور‘‘ اس نے بتایا۔
’’لیکن سامان کا کیا ہو گا؟‘‘
’’مجبوری ہے اسے یہیں چھوڑنا پڑے گا‘‘ سلیم نے جواب دیا۔ انہوں نے صندوق وغیرہ ایک طرف شیڈ میں رکھ دئیے۔ ’’گاؤں پہنچ کر اسے منگوا لیں گے۔‘‘ سلیم نے کہا۔ نعیمہ نے بلی والی ٹوکری اٹھا لی اور سلیم نے نہایت ضروری سامان کا ایک ہلکا سا صندوق۔ پھر دونوں گاؤں کی طرف چل پڑے۔ راستے میں بھی انہیں کوئی شخص چلتا پھرتا یا کوئی سواری نظر نہیں آئی۔ حتیٰ کہ کھیتوں میں بھی کوئی کام کرنے والا نہیں تھا۔ یہ ویرانی سلیم کی رگ و پے میں رچی جا رہی تھی۔ حالانکہ وہ کوئی توہم پرست آدمی نہیں تھا لیکن نہ جانے کیوں سر پر چمکتے سورج کے باوجود اسے اپنی ہڈیوں میں سردی کی لہریں دوڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
جب وہ دوپہاڑیوں کے گرد موڑ کاٹ چکے۔ تب سورج کی روشنی میں خاصے فاصلے پر کوئی چیز سونے کی طرح چمکتی ہوئی دکھائی دی۔ یہ دو تین فرلانگ کے فاصلے پر واقع مسجد کا مینار تھا جس پر کسی بہت عقیدت مند نے سنہرا رنگ پھیر دیا تھا۔ نعیمہ نے اطمینان کا سانس لیا۔ منزل اب بالکل سامنے تھی۔
’’چلو بھئی ذرا پانچ منٹ کو سستا لیں‘‘ سلیم نے طویل سانس لے کر کہا۔ اور ذرا سا سستانے کے لئے قبرستان کی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ یہی وہ قبرستان تھا جہاں اس کا بھائی کلیم دفن تھا۔ چند لمحے کے بعد وہ قبرستان میں داخل ہوئے۔ ایک قبر ابھی تازہ تھی۔ زمین کے سینے پر کسی گھاؤ کی طرح۔ ابھی اس کی سطح سخت نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس پر کتبہ نصب ہوا تھا۔ لیکن سلیم کو پورا یقین تھا کہ اسی قبر کی تہہ میں اس کا بھائی ابدی نیند سو رہا تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے قبر کے قریب کھڑے رہے۔ لفظوں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔
’’جانے بھائی جان اچانک کس طرح مر گئے؟‘‘ یہ سوال سلیم کے ذہن میں رنج اور دکھ سے زیادہ چبھ رہا تھا۔
سورج غروب ہونے والا تھا۔ اس لئے وہ دونوں تھکے تھکے قدموں سے آگے چل پڑے۔ بستی شروع ہونے سے پہلے ڈھلان کے آخر میں ایک چائے خانہ تھا۔
’’میںاندر جا کر شیرازی ہاؤس کا ’’محل وقوع‘‘ معلوم کرتا ہوں۔اور شاید یہیں سے سامان منگوانے کا بھی کچھ بندوبست ہو سکے۔ تم یہیں ٹھہرو اور ہاں کسی اجنبی سے سے بات کرنے کی کوشش نہ کرنا ۔’’سلیم نے کہا اور چائے خانے کی طرف بڑھا۔ نعیمہ باہر ہی کھڑے ہو کر سورج کی الوداعی کندنی کرنوں کا نظارہ کرنے لگی۔
سلیم اندر داخل ہو گیا۔ کمرہ نیچی چھت کا تھا اور اس کی دیواریں دھوئیں سے سیاہ پڑ چکی تھیں۔ سلیم نے نیم تاریکی میں ادھر ادھر دیکھا۔ چند لوگ ٹوٹی پھوٹی میزوں کے قریب بیٹھے تھے۔ موسم کی حدت سے جھلسے ہوئے چہرے والا ایک بوڑھا شخص پاؤں گھسیٹتا ہوا ایک کونے سے نکل کر سلیم کی طرف بڑھا۔ اس سے پہلے کہ سلیم اس سے کچھ پوچھتا چائے خانے میں موجود لوگوں نے اٹھ اٹھ کر باہر جانا شروع کر دیا۔ چند لمحوں میں چائے خانہ بالکل خالی ہو گیا۔ دفعتاً چائے خانے کے عقبی دروازے سے چوڑے چکلے شانوں والا ایک بھاری بھرکم آدمی اندر داخل ہوا اور کاؤنٹر کے پیچھے آ گیا۔ جہاں سلیم کھڑا تھا۔
’’تم نے سب لوگوں کو بھگا دیا…‘‘ چوڑے شانوں والے نے ناگوار لہجے میں کہا۔
’’مجھے افسوس ہے لیکن میں نے ایسی تو کوئی حرکت نہیں کی تھی جو انہیں یہاں سے جانے پر مجبور کر دیتی‘‘ سلیم نے کہا۔ تھکا دینے والے ٹرین کے سفر، ویران ریلوے سٹیشن اور گرد آلود راستے کے تجربوں کے بعد یہ عجیب و غریب استقبال سلیم کے لئے بہت تکلیف دہ بھی تھا اور حیران کن بھی۔
’’میں یہاں اجنبی ہوں‘‘ سلیم شیرازی نے صلح کن لہجے میں کہا۔ وہ اس اجنبی جگہ پر جلد از جلد چند لوگوں سے تعلقات استوار کرنا چاہتا تھا۔
’’تبھی سب لوگ چلے گئے ہیں۔ وہ اجنبیوں کو قطعاً پسند نہیں کرتے۔ بہرحال پسند تو وہ مجھے بھی نہیں کرتے لیکن میں تیس سال سے یہاں ہوں‘‘
’’میں کلیم شیرازی کا بھائی ہوں‘‘ سلیم نے بتایا۔
’’اوہ کلیم شیرازی‘ وہ تو مر چکے ہیں‘‘
’’ہاں… مجھے معلوم ہے۔ میرا نام سلیم شیرازی ہے‘‘۔
موٹا تازہ آدمی پہلے کسی قدر ہچکچایا۔ پھر کاؤنٹر کا تختہ ہٹا کر قریب آ گیا۔ ’’تم سے مل کر خوشی ہوئی۔ میرا نام رحمان ہے‘‘ اس نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ ’’مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہیں کچھ زیادہ خوشگوار انداز میں خوش آمدید نہیں کہا لیکن خیر۔
’’اب تم آئے ہو تو تمہیں ایک پیالی چائے پی لینی چاہیے۔‘‘ رحمان کا انداز اب مکمل دوستانہ ہو چکا تھا۔ اس نے جلدی سے چائے کی ایک پیالی بھر کر اس کی طرف بڑھائی۔ سلیم کو شدید پیاس لگی تھی لیکن وہ باہر نعیمہ کو زیادہ دیر انتظار میں کھڑا رکھنا نہیں چاہتا تھا۔
’’پہلے یہ پی لو، پھر جاؤ… میں خود تمہیں زیادہ دیر روکنا نہیں چاہتا کیونکہ مجھے اپنے گاہکوں کی ضرورت ہے…‘‘ رحمان نے کہا۔
سلیم نے ایک سانس میں پیالی خالی کر دی۔
’’تمہارے بھائی کی موت کا مجھے افسوس ہے‘‘ رحمان نے کہا۔ ’’میرے خیال میں تم بنگلے کے سلسلے میں آئے ہو گے‘‘
’’ہاں‘‘
’’کیا تم وہاں رہنا چاہتے ہو؟‘‘
’’کیا کوئی ایسی وجہ ہے کہ میں وہاں نہیں رہ سکتا؟‘‘ سلیم نے قدرے تیز لہجے میں پوچھا۔
’’یہ تو میں نہیں جانتا لیکن اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو اسے فروخت کر کے چلا جاتا‘‘۔
’’لیکن کیوں… میرا بھائی بھی تو وہیں رہتا تھا‘‘
’’اور وہیں وہ مر گیا‘‘
تب سلیم نے دوبارہ اپنے تکلیف دہ سفر اور اپنی بڑی بڑی خواہشوں کے متعلق سوچا۔ اس نے اپنے ذاتی گھر کے خواب کی تکمیل کے لئے اس قدر تکلیف اٹھائی تھی اور یہاں کا دیہاتی، سادہ سا ماحول اسے ترغیب دے رہا تھا کہ اس پرفضاء مقام پر زندگی بسر کرنا خاصا خوشگوار ہے۔ وہ محض یہاں کے فرسودگی پسند لوگوں کی وجہ سے واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔
’’مجھے امید ہے کہ ہم اس گھر کو سجانے اور سنوارنے کے بعد وہاں ایک پرسکون زندگی گزار سکیں گے‘‘ سلیم نے کہا۔
’’ہاں شاید۔‘‘ رحمان نے کہا۔
’’میری بیوی بھی میرے ساتھ ہے‘‘
کمرے میںگہرا سکوت چھا گیا۔
’’کیا تم بنگلے تک میری رہنمائی کر سکتے ہو…؟‘‘ بالآخر سلیم نے یہ سکوت توڑا۔
تم آسانی سے اسے ڈھونڈ لو گے۔ ’’شیرازی ہاؤس‘‘ دو میل بعد سڑک کے اختتام پر بائیں جانب ایک پہاڑی پر واقع ہے‘‘
’’اوہ مزید دو میل…‘‘ یہ سن کر ہی سلیم کا دل ڈوب گیا۔ لیکن اب وہ واپس جانے کے متعلق سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ کیا کوئی چھکڑا نہیں مل سکتا کہ ہم اسٹیشن سے اپنا سامان منگوا سکیں… ہم کرایہ ادا کر دیں گے‘‘
’’بے شک تم کرایہ ادا کر سکتے ہو مگر یہاں کوئی بھی کسان اسٹیشن تک نہیں جائے گا‘‘ رحمان نے چائے کی پیالی دھوتے ہوئے کہا۔
سلیم نے اب بھی اپنی مستقل مزاجی میں کوئی فرق نہیں آنے دیا اور باہر آ گیا۔ نعیمہ سبزے کی ایک روش پر بیٹھی تھی۔
’’یہ تو معلوم ہو گیا کہ بنگلہ کہاں ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہ وہاںتک بھی پیدل چلنا پڑے گا‘‘ سلیم نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ نعیمہ نے خاموشی سے بلی والی ٹوکری اٹھائی اور وہ دونوں آگے چل دئیے۔ یہ بستی جس پر سے وہ گزر رہے تھے ایک اجاڑ اور غیر مہذب سی بستی تھی۔ پگڈنڈی کے دونوں طرف لمبی لمبی جھاڑیاں اور گھاس پھونس پھیلا ہوا تھا۔ جو پھیلتے اندھیرے میں اپنا سبز رنگ کھو رہا تھا۔ سورج ڈوبنے کے خدشے سے سلیم نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ تھوڑے سے احتجاج کے بعد نعیمہ بھی تیز تیز چلنے لگی۔ بالآخر وہ پہاڑی کے قریب پہنچ گئے… بنگلہ قدرے بلند پر درختوں کے درمیان واقع تھا۔
’’آخرکار ہم پہنچ ہی گئے…‘‘ سلیم نے طویل سانس لی جو تھکن سے بوجھل تھی۔
’’گھر تو بالکل میرے خیالوں کے مطابق ہے‘‘ نعیمہ نے دور سے بنگلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔ سلیم کو یقین نہیں تھا کہ بنگلہ واقعی نعیمہ کے خیالوں کے مطابق ہے۔ غالباً وہ اس کی دلجوئی کے خیال سے ایسا کہہ رہی تھی۔ بنگلے کے قریب پہنچتے پہنچتے وہ بچوں کی طرح خوشی سے دوڑنے لگے۔
بنگلے کے دروازے پر گلاب کے پودے تھے جن پر پھول اور کلیاں مہک رہی تھیں۔ یہاں ہوا بھی قدرے خوشگوار اور بنگلے پر ویرانی کا راج تھا۔ اس کے باوجود وہ انہیں خوش آمدید کہہ رہا تھا اور یہ استقبال راستے کی دشواریوں کے بعد خاصا سہانا تھا۔ سلیم نے جیب سے چابی نکال کر تالا کھولا اور دروازے کو دھکیلا۔ معمولی سی مزاحمت کے بعد دروازہ چرچرا کر کھل گیا۔ کمرے کے اندر سامان اور فرنیچر کی حالت دیکھ کر انہیں ایک لمحے کے لئے رک جانا پڑا… ایک میز الٹی پڑی تھی اور اس کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ کرسیاں بھی ٹوٹی پھوٹی تھں۔ کھڑکوں کے پردے تار تار تھے۔ میز پوش پھٹا پڑا تھا۔ دیوار گیر الماری کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے۔ سلیم نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اگلی دیوار کے قریب چولہا الٹا پڑا تھا۔ اس کا ڈھکن کھلا تھا اور قالین پر دھوئیں کی سیاہی جمی ہوئی تھی۔ تمام برتن ریزہ ریزہ ہوئے پڑے تھے۔
اگلے کمرے سے تنگ سیڑھیاں نیم دائرے کی شکل میں خوابگاہ تک جا رہی تھیں۔ سلیم نے باقی ماندہ جگہ کا معائنہ وہیں کھڑے ہو کر کر لیا۔ پھر وہ اور نعیمہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ مدھم روشنی میں سلیم نے نعیمہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ ’’جانم!‘‘ اس نے اسے سینے سے لگا لیا۔ ’’مجھے واقعی افسوس ہے‘‘ بلاشبہ اس بدترین استقبال پر اسے نعیمہ سے معذرت طلب کرنی چاہئیے تھی۔ یقینا یہاں آنے کی بہتر صورت یہ ہوتی کہ پہلے وہ خود یہاں آ کر چند ضروری کام نمٹا جاتا اور پھر نعیمہ کو لے کر یہاں آتا۔ لیکن اس کابھی قصور نہیں تھا۔ وہ تو جلد از جلد ’’شیرازی ہاؤس‘‘ پہنچ کر ازسرنو زندگی شروع کرنا چاہتا تھا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ نے اس کی زندگی کو بہت ویران کر دیا تھا اور اسی لمحے وہ ایک نئے قصبے میں بسنے کے خیال سے بہت خوش تھا۔ اس نے فوراً احمد نگر کا رخ کیا تھا۔
نعیمہ نے اس سے علیحدہ ہو کر آستینیں چڑھائیں اور بیگ سے برش نکال کر زمین پر بیٹھ گئی۔ ’’ہمارے گھر کو صفائی کی ضرورت ہے‘‘ اس نے کہا۔ سلیم کو اس کے روئیے سے بے حد مسرت ہوئی۔ اور اپنے معذرت خواہانہ الفاظ کو بھول کر جیکٹ اتار کر وہ بھی صفائی کے لئے تیار ہو گیا۔ وہاں انہیں ایک آئل لیمپ بھی مل گیا۔ توڑ پھوڑ مچانے والے کی نظر غالباً اس پر نہیں گئی تھی۔ اس لئے اس کا شیشہ محفوظ تھا۔ نعیمہ صفائی کرنے لگی اور سلیم ان چیزوں کو ٹھونکنے پیٹنے لگا جو معمولی مرمت سے کسی حد تک قابل استعمال ہو سکتی تھیں۔ ایک گھنٹے میں انہوں نے خاصا کام نمٹا لیا۔
’’میں اب چائے خانے میں جا کر ضرورت کی چند چیزیں خریدنے کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہوں۔ سامان منگوانے کے لئے بھی ایک کوشش اور کر دیکھوں… اور میرا خیال ہے مجھے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ آخر بنگلے کا سازوسامان کس نے اس قدر بیدردی سے برباد کیا ہے‘‘ سلیم نے کہا۔
’’تم جاؤ ضرور… لیکن خدارا اس اجنبی جگہ پر کسی سے لڑنے جھگڑنے کی کوشش نہ کرنا‘‘ نعیمہ نے اسے سمجھایا۔
’’میں احتیاط کروں گا‘‘ سلیم نے کہا اور جیکٹ پہن کر باہر نکل گیا۔ رات سرد تھی لیکن وہ اپنی دھن میں مگن تھا۔ اسے راستے بھولنے کا خطرہ بھی نہیں تھا کیونکہ فوج میں ملازمت کی بدولت سمتوں کے تعین کی حس اس میں خاصی تیز تھی۔
چائے خانے کی کھڑکیاں اب روشن تھیں اور اندر سے قہقہوں اور باتوں کی بلند آوازیں باہر تک آ رہی تھیں۔ لیکن جیسے ہی سلیم اندر داخل ہوا وہاں پھر وہی پہلے کا سا سناٹا چھا گیا جس کا تجربہ سلیم کو ایک مرتبہ پہلے بھی ہوا تھا۔ اس نے چائے خانے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالی۔ وہ سب اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہے۔
’’کسی شخص نے میرے بھائی کے بنگلے کا سارا سامان تباہ کر دیا ہے‘‘۔ سلیم نے اس ناگوار سکوت کو توڑا۔ وہ جواب کا انتظار کرتا رہا مگر سب یونہی بیٹھے رہے جیسے کسی نے اس کی بات سنی ہی نہ ہو یا اس نے کوئی غیر ملکی زبان بولی ہو۔
’’میں یہاں اجنبی ہوں‘‘ سلیم نے نرمی سے کہا۔ ’’اور میں چاہتا ہوں کہ انسانیت کے ناتے مجھ سے دوستانہ سلوک کیا جائے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ تم سب لوگ مجھے دشمن تصور کرتے ہو۔ اگر تم میں سے کسی شخص کا میرے بھائی سے جھگڑا تھا تو وہ سامنے آ جائے۔ اس کا فیصلہ رسم و رواج کے مطابق کیا جا سکتا ہے‘‘
دفعتہ رحمان ایک گوشے سے نمودار ہوا۔ وہ غالباً اب تک کی صورت حال سے لاعلم تھا۔ ’’آؤ بھائی سلیم شیرازی۔ میں نے تمہارا سامان منگوا لیا ہے۔ بوڑھا خلیل خان اسے اسٹیشن سے لے آیا ہے‘‘ اس نے ایک خمیدہ کمر بوڑھے کی طرف اشارہ کیا جو چمنی کے پاس بیٹھا تھا۔ ’’تم اندازہ کر سکتے ہو کہ اسے کس قدر زحمت ہوئی ہو گی‘‘
اس سے پہلے کہ سلیم بوڑھے خلیل خان کا شکریہ ادا کرتا۔ وہ غصیلے انداز میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے کچھ دیر پہلے کئے ہوئے سوال کے جواب میں بولا۔
’’ہم میں سے کسی نے تمہارے بنگلے کے سازوسامان کو ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘
’’تب آخر وہ کس طرح برباد ہو گیا۔‘‘ سلیم نے پوچھا۔
’’یہ مجھے معلوم نہیں… میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ گاؤں کے لوگوں میں سے کوئی ایسا نہیں کر سکتا اور میں ایسے آدمی کا کوئی کام کرنا قطعاً پسند نہیں کرتا جو الزام تراشی کرتا ہو۔‘‘ بوڑھا خلیل خان مزید ایک لفظ کہے بغیر باہر نکل گیا۔ اس کے باہر جانے کے بعد سلیم کاؤنٹر کی طرف بڑھا جہاں رحمان موجود تھا۔’’دیکھو تم نے دوبارہ میرا چائے خانہ خالی کر دیا ہے۔ لگتا ہے تم میرے کاروبار کا بیڑا غرق کر دو گے۔‘‘ رحمان نے کہا۔
سلیم نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔ ’’اس میں میرا کیا قصور… میں بھی تمہارا گاہک ہوں۔ ایک پیالی چائے مجھے دو۔ اور ہاں ایک پیالی میری طرف سے تم خود پی لو‘‘
رحمان نے اس کی پیشکش تو قبول کر لی لیکن اپنے چہرے سے کوئی خوشگوار تبدیلی ظاہر نہیں ہونے دی۔ مگر اس کی پروا کئے بغیر اپنے اصل موضوع پر آ گیا۔
آخر بنگلے کا سامان کس نے تباہ کر دیا‘‘۔ اس مرتبہ اس نے رحمان سے پوچھا۔
’’میں ان دیہاتیوں کی عادت سے اچھی طرح واقف ہوں۔ یہ اس بنگلے میں گھسنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتے۔ خصوصاً تمہارے بھائی کی موت کے بعد… یہ غالباً خانہ بدوشوں کی حرکت ہے‘‘
’’اچھا یہ بتاؤ یہاں کھانے پینے کی چیزوں کے لئے کوئی دکان ہے…؟‘‘ سلیم نے پوچھا۔
’’کیا تم دارالحکومت سے اپنے ہمراہ کچھ نہیں لائے؟‘‘
’’افسوس کہ میں نے اس بارے میں سوچا بھی نہیں تھا کیونکہ مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ میرا واسطہ کس قسم کی بستی سے پڑنے والا ہے‘‘
’’تب شاید تمہیں تقریباً چوبیس گھنٹے محض دھول پھانکنی پڑے۔ یہاں پیچھے کی طرف ایک پنساری کی دکان ہے وہاں دیکھ لو۔ شاید خوش قسمتی سے کچھ چیزیں موجود ہوں۔ میں تمہیں اپنا چھکڑا دیتا ہوں۔ اپنا سامان بھی لیتے جاؤ۔ کیا تم گھوڑے کو ہانک لو گے؟‘‘
’’میرا خیال ہے میں ہانک لوں گا…‘‘
’’یہ ایک مریل سا گھوڑا ہے۔ اسے زیادہ مارنا مت۔ میں تمہیں ایک لالٹین بھی دئیے دیتا ہوں‘‘ اس سے پہلے کہ سلیم کوئی سوال کرتا رحمان نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ ’’میرے پیچھے پیچھے آ جاؤ‘‘۔
٭……………٭
سلیم کے واپس آنے سے پہلے نعیمہ نے ممکن حد تک گھر کی حالت بدل لی تھی۔ تاہم تباہی اور بربادی کے بعض پختہ نقوش ابھی تک برقرار تھے اور سازوسامان میں کوئی خاص ترتیب پیدا نہیں ہو سکی تھی۔ اس کے کپڑے نہایت گندے ہو چکے تھے لیکن سامان آنے سے پہلے وہ لباس بھی تبدیل نہیں کر سکتی تھی۔ اس تمام تر بدحالی کے باوجود اسے خوشی تھی۔ اپنے ذاتی گھر کی خوشی! گھر… یہ لفظ اس کے نزدیک دنیا بھر کے لفظوں سے خوبصورت تھا۔
نعیمہ نے سیاہ کیتلی اٹھائی اور پانی لینے نیچے نل کی طرف چل دی۔ جب وہ باہر نکلی تو گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ چاند پہاڑیوں کی اوٹ میں چلا گیا تھا اور جھاڑیوں کے صرف تاریک سائے نظر آ رہے تھے۔ پانی کا نل گھر کے سامنے ہی تھا۔ اس نے کیتلی بھری اور واپس آنے لگی۔ دفعتہ اس نے گھر کے دروازے کے قریب ایک سائے کو حرکت کرتے دیکھا۔ وہ وہیں رک گئی۔ ’’سلیم‘‘ اس نے پھنسی پھنسی خوف زدہ آواز میں پوچھا۔
سائے نے لنگڑاتے ہوئے آگے قدم بڑھایا۔ اس کے قدموں کی آہٹ اس کے وجود سے زیادہ دہشت انگیز تھی۔
’’کون ہو تم…؟‘‘ نعیمہ تقریباً کانپنے لگی۔
’’میرا نام ڈاکٹر امجد ہے…‘‘ سائے نے پرسکون لہجے میں کہا… ’’شاید تمہیں علم ہو۔ میں یہاں نزدیک ہی رہتا ہوں۔ اس بنگلے کے عقب میں… پہاڑی کے دوسری طرف۔‘‘
’’نہیں… ہمیں کوئی علم نہیں۔‘‘ نعیمہ نے جواب دیا۔
’’کوئی بات نہیں… یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ نووارد نے اسی پرسکون لہجے میں جواب دیا۔ اس سے زیادہ اطمینان کے ساتھ وہ گھر کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ ’’میں کسی کی تلاش میں ہوں مسز سلیم!‘‘ اس کے چہرے سے کرختگی نمایاں تھی۔ ’’کیا تم نے کسی کو یہاں دیکھا ہے؟‘‘
’’نہیں…‘‘ نعیمہ نے آگے بڑھنے کی کوشش کی کہ شاید وہ ایک طرف ہٹ کر اس کے لئے راستہ چھوڑ دے گا لیکن وہ اس سے پہلے ہی گھر میں داخل ہو گیا۔ وہ کمرے میں اس طرح ادھر ادھر مرمت شدہ فرنیچر اور پردوں کے پیچھے دیکھ رہا تھا گویا کوئی وہاں چھپا بیٹھا ہو۔
نعیمہ نے کیتلی نیچے رکھ دی۔ ’’ڈاکٹر امجد کیا تمہیں میری بات پر یقین نہیں آیا۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ یہاں کوئی نہیں ہے‘‘۔
دفعتہ ڈاکٹر امجد نے نعیمہ کی جانب بڑی غمناک نظروں سے دیکھا۔ ’’بدقسمتی سے مجھے اس بات کا کوئی تجربہ نہیں کہ ہر شخص سچ ہی بولتا ہے۔ مسز سلیم میری اپنی بیٹی بھی اکثر مجھ سے جھوٹ بولتی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ دکھ سے بوجھل تھا۔
’’تو… کیا تم اپنی بیٹی کی تلاش میں ہو؟‘‘ نعیمہ نے کسی قدر نرمی سے پوچھا۔
’’ہاں… وہ میرے لئے ایک مصیبت بن گئی ہے‘‘
’’اگر وہ مجھے نظر آئی تو میں ضرور اسے بتا دوں گی کہ تم اسے ڈھونڈتے پھر رہے ہو۔‘‘ نعیمہ نے ہمدردی سے کہا۔
’’یہ تو اسے خود ہی معلوم ہو جائے گا۔‘‘ اس نے تھکے تھکے انداز میں کندھے جھٹکے۔‘‘ بہرحال میں معذرت خواہ ہوں مسز سلیم‘‘
’’تمہیں میرے نام کا علم کیسے ہوا جب کہ میں اور میرا شوہر ابھی چند گھنٹے قبل یہاں آئے ہیں‘‘ نعیمہ نے چونک کر پوچھا۔
’’اگرچہ میں گاؤںوالوں کی مصروفیات میں حصہ نہیں لیتا لیکن حالات کا مجھے علم رہتا ہے۔ اور میری قوت مشاہدہ بھی خاصی بہتر ہے۔‘‘
’’کیا تم میرے شوہر کے بھائی کلیم شیرازی کو جانتے ہو…؟‘‘ نعیمہ نے اچانک پوچھا۔
ڈاکٹر امجد ہچکچایا۔ ’’نہیں… مجھے ان سے ملنے کااتفاق نہیں ہوا…‘‘
’’ان کی موت یہاں حال ہی میں واقع ہوئی ہے‘‘
’’ہاں… مجھے ان کی موت کا علم ہے‘‘
’’کیا تمہیں معلوم ہے ڈاکٹر کہ وہ کیسے ہلاک ہوئے؟‘‘
’’میں نہیں جانتا۔‘‘
’’میرا خیال ہے وہ تمہارے ہی زیرعلاج تھے‘‘
’’میرے زیرعلاج…؟‘‘ ڈاکٹر پریشان سا ہو گیا۔ پھر وہ بڑے بردبارانہ انداز میں مسکرایا۔
’’نہیں مسز سلیم… وہ کبھی میرے زیرعلاج نہیں رہا۔ شب بخیر پھر ملاقات ہو گی…‘‘ اس نے دروازے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ نعیمہ دروزے میں کھڑی اسے جاتے دیکھی رہی۔ حتیٰ کہ وہ رات کے اندھیرے میں تحلیل ہو گیا۔ دروازہ بند کر کے وہ واپس پلٹی۔ کمرہ باہر کی نسبت خاصا گرم تھا۔ نعیمہ نے تنہائی کا خوف ذہن سے جھٹکنے کیلئے ادھر ادھر کی باتیں سوچنا شروع کر دیں۔
صبح وہ اور سلیم مل کر ڈاکٹر امجد کا گھر تلاش کر لیں گے۔ شاید اس کی بیٹی اچھی دوست ثابت ہو سکے۔ اس کے علاوہ بھی وہ آس پاس کے لوگوں سے دوستی بڑھانے کی کوشش کریں گے… وہ خریداری اور سیروتفریح کے لئے باہر جایا کرے گی۔ لوگوں سے میل جول بڑھائے گی۔ اور اس قصبے کی عورتوں سے تعلقات پیدا کر کے اپنی تنہائی کو دور کرے گی۔
پھر وہ دعا کرنے لگی کہ سلیم جلد گھر آجائے۔
٭……………٭
گھوڑا بوڑھا تھا مگر مشقت پسند تھا۔ وہ اس کہنہ مشق مسافر کی طرح جسے راستے کے نشیب و فراز کا بخوبی علم ہو۔ اپنی منزل کی طرف چلا جا رہا تھا۔ سلیم نے مطمئن ہو کر باگیں ڈھیلی چھوڑ دی تھیں اور گھنٹوں پر ہاتھ رکھے اطمینان سے بیٹھا تھا۔ رات خاموش اور تاریک تھی۔ کبھی کبھار کوئی نرم پتھر پہیوں تلے آ کر چٹخ جاتا یا پھر قصبے میں کوئی کتا بھونک اٹھتا۔ اس کے علاوہ کوئی ایسی آواز نہ تھی جو رات کے سناٹے کو مجروح کر سکتی۔
اچانک گھوڑا رک گیا اور منہ اٹھا کر اس طرح ادھر ادھر دیکھنے لگا جیسے کوئی آواز سننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سلیم کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔ دور کہیں مدھم سروں میں ایک اجنبی سی طرز کی موسیقی ابھر رہی تھی۔ یہ موسیقی نہ تو مشرقی تھی اور نہ مانوس معلوم ہوتی تھی۔ اس دور دراز علاقے میں یہ اجنبی موسیقی حیران کن تھی۔
سلیم خاموش بیٹھا رہا۔ موسیقی کی لہریں رفتہ رفتہ قریب آتی محسوس ہو رہی تھی۔ موسیقی رقص کی معلوم ہوتی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر غیر مانوس تھی۔ دفعتہ ایک کتے نے کہیں بڑے خوف زدہ انداز میں بھونکنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی گھوڑے نے بھی زمین پر ٹاپیں مار کر ہنہنانا شروع کر دیا۔ یکبارگی وہ پچھلی دونوں ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا اور سلیم چھکڑے سے نیچے جا گرا۔یہ سب کچھ خوف زدہ کر دینے والی باتیں تھیں لیکن سلیم اپنے آپ کو سنبھال کر بڑی حوصلہ مندی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ابھی وہ کچھ سمجھنے بھی نہ پایا تھا کہ کوئی شخص اس پر جھپٹا۔ اور اس کے دونوں کندھے گرفت میں لے کر اسے نیچے گرانے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن سلیم کو قابو میں کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ اس نے ایک جھٹکے میں حملہ آور کو نیچے گرا دیا اور اس سے پہلے کہ وہ اٹھتا اس کا گلا دبوچ لیا۔ دونوں کچھ دور تک زمین پر لڑھکتے چل گئے۔ جھاڑیوں سے آگے جہاں چاندنی پہنچ رہی تھی۔ سلیم نے زرد روشنی میں اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ بڑی بڑی آنکھوں والا ایک خوبصورت مگر شکستہ حال چہرہ تھا۔ حادثات زمانہ کے ہاتھوں برباد ہو جانے والے بدقسمت شہزادوں کا سا۔ سلیم نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی کیونکہ اس کے اندازے کے مطابق اس نوجوان نے حملہ تو ضرور کیا تھا مگر وہ کوئی خطرناک شخص معلوم نہیں ہوتا تھا۔
’’کتنے خطرناک آدمی ہو تم… مجھے مارنے ہی لگے تھے‘‘۔ نوجوان نے اس کی گرفت سے نکل کر کہا۔ اپنے انداز گفتگو سے وہ بالکل احمق نظر آتا تھا۔
’’میں تمہیں مارنے لگا تھا یا تمہارا ارادہ مجھے مار ڈالنے کا تھا‘‘ سلیم نے غصیلے لہجے میں کہا۔ ’’اب تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو۔ اور مجھ پر حملہ کیوں کیا تھا؟‘‘
’’میں نے اپنا دفاع کیا تھا‘‘ نوجوان نے اپنی گردن سہلاتے ہوئے کہا۔ اس جواب سے سلیم نے اندازہ لگایا کہ وہ پاگل نہیں تو نیم پاگل ضرور ہے‘‘
’’میں پوچھتا ہوں تم ہو کون؟‘‘ سلیم نے سختی سے کہا۔
’’ہا…ہا… ہا… تم مجھے نہیں جانتے۔ حالانکہ میں تمہیں جانتا ہوں… تم کلیم شیرازی کے بھائی ہو… کلیم جسے ان لوگوں نے قتل کر دیا جس طرح دوسرے بہت سے انسانوں کو قتل کیا ہے… میرا نام محمود ہے۔ لوگ مجھے پاگل محمود کہتے ہیں‘‘ نوجوان کا جواب بے ربط تھا۔
’’قتل کر دیا‘‘ سے تمہاری کیا مراد ہے؟ ‘‘ سلیم سنبھل کر کھڑا ہو گیا۔
’’کیا تمہیں علم نہیں کہ وہ مر چکا ہے؟‘‘ محمود نے پوچھا۔
’’وہ تو مجھے علم ہے لیکن قتل…‘‘
’’یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ کتنے آدمیوں کی شرارت تھی‘‘ محمود نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
’’لیکن وہ تھے کون…؟‘‘
’’میں نہیں جانتا لیکن تم ان کی آوازیں سن سکتے ہو‘‘ محمود نے خلاء میں گھورتے ہوئے کہا۔ اس کی باتیں ایسی تھیں کہ اس کی تمام تر دیوانگی کو نظرانداز کر کے سلیم بھی خاموش ہو کر کان لگا کر کوئی انجانی آواز سننے کی کوشش کر نے لگا لیکن وہاں کوئی آواز نہ تھی۔ سوائے اس مدھم مدھم اجنبی موسیقی کے جو لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی جا رہی تھی اور بالآخر وہ بھی معدوم ہوگئی۔
سلیم نے محسوس کیا کہ اب وہ زیادہ دیر اس سناٹے میں اس دیوانے سے مغز نہیں کھپا سکتا اس لئے وہ جانے کے ارادے سے چھکڑے کی طرف مڑا۔
’’سنو…‘‘ محمود نے اسے روک لیا‘‘ کیا تم مجھے ایک پیالی چائے اور بسکٹ کھلا سکو گے؟‘‘ اس نے بڑے ملتجیانہ لہجے میں پوچھا۔ اس کے شکستہ حال چہرے کے ہر نقش سے بھوک جھانک رہی تھی۔ اس لمحے وہ سلیم کو بے حد قابل رحم محسوس ہوا۔
’’آؤ… میرے ساتھ آ جاؤ۔ تم ہمارے پہلے مہمان ہو گے‘‘
’’مہمان؟‘‘
’’ہاں… میں اور میری بیوی تمہارے میزبان ہوں گے‘‘
محمود کا کملایا ہوا چہرہ کھل گیا۔ اور وہ بڑی سعادت مندی سے اس کے ساتھ چھکڑے پر آ بیٹھا۔ پانچ منٹ کے سفر کے بعد سلیم اپنی دنیا تک واپس پہنچ گیا۔ نعیمہ نے اس کے لئے دروازہ کھولا۔ اندر آ کر سلیم نے محمود کا تعارف نعیمہ سے کروایا۔ نعیمہ انہیں کمرے میں بٹھا کر سامان لے کر ان کے لئے کھانا بنانے کچن میں چلی گئی۔
کھانے کی میز پر محمود بغیر کسی تکلف کے کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ اور نعیمہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتی رہی۔ نہ جانے وہ بے چارہ کب سے بھوکا تھا۔
’’اچھا تو محمود…‘‘ سلیم نے کھانا ختم کرتے ہوئے بات شروع کی۔
’’کھانا بہت عمدہ تھا۔‘‘ محمود نے اس کا جملہ کاٹ دیا۔
’’ہم انتظار کر رہے ہیں کہ تم ہمیں کچھ حقائق بتاؤ گے۔‘‘ سلیم نے اپنی بات جاری رکھی۔
’’اچھا…‘‘ محمود نے اس انداز سے کہا گویا اسے اس بات سے مایوسی ہوئی ہو کہ سلیم ابھی تک اصل موضوع کو نہیں بھولا۔
’’نعیمہ صاحبہ کیا اور چائے مل سکے گی؟‘‘
نعیمہ نے چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھانی چاہی لیکن سلیم نے اسے روک دیا… ’’نہیں… جب تک تم ہمیں وہ باتیں نہیں بتاؤ گے جو تمہیں معلوم ہیں، اس وقت تک چائے نہیں ملے گی…‘‘
محمود نے برا سا منہ بنایا اور سنجیدہ ہو کر بیٹھ گیا۔ ’’کیا پہلے میں تمہیں اپنے متعلق کچھ بتاؤں… لیکن نہیں۔ اس کی بھلا کیا اہمیت ہے‘‘ اس نے پردرد لہجے میں کہنا شروع کیا۔ ’’لیکن شاید اس سے آپ کو اندازہ ہو سکے کہ جو کچھ میں بتاؤں گا وہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہو گی‘‘
’’ہاں… ہاں، تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہتے جاؤ‘‘ نعیمہ نے اس کی ہمت افزائی کی۔
’’شکریہ… لوگ مجھے پاگل سمجھتے ہیں اور آپ بھی سمجھ رہے ہوں گے۔ کیونکہ میں اکثر اوقات بے تکی باتیں کرتا رہتا ہوں۔ دراصل اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے نہ جانے کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔ میں شاید اداکاری کرتا ہوں لیکن درحقیقت میں بے حس اور دنیا کے معاملات سے بے نیاز نہیں ہوں۔ میں بہت حساس ہوں اور ہر اچھائی اور برائی کو بھی سمجھتا ہوں‘‘۔ اس کا سر میز پر جھک گیا اور کچھ توقف کے بعد اس نے آہستگی سے کہا ’’یہ جگہ برائیوں کا گھر ہے۔‘‘
سلیم نے نعیمہ کی طرف دیکھا۔ وہ محمود کی گفتگو انہماک سے سن رہی تھی لیکن اس کا چہرہ کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری تھا۔
’’یہاں برائیوں اور شیطانی طاقتوں نے ڈیرے ڈال لئے ہیں لیکن دس سال پہلے جب میں یہاں آیا تھا اس وقت یہ ایک اچھی جگہ تھی۔ یہاں کے لوگ خداترس اور مہربان تھے۔ اس وقت میری عمر شاید پندرہ سال تھی۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے لگے۔
’’پھر وہ تشدد پسند لوگ یہاں آ گئے‘‘
’’کون لوگ آگئے…؟‘‘ سلیم نے چونک کر پوچھا۔
’’پلیز مجھے بات کرنے دو۔‘‘ محمود نے ہاتھ اٹھا کر کہا… اور دوبارہ اپنی داستان حیات کی طرف آ گیا۔ ’’میرے والدین کو مجھ سے بڑی امیدیں تھیں۔ وہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ اور انہوں نے میری تعلیم کیلئے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا۔ لیکن میں انتہائی نالائق ثابت ہوا۔ میں پڑھنے لکھنے کا سارا وقت مضافات میں آوارہ گردی کر کے گزارتا تھا‘‘۔ بیتے دنوں کی یادوں نے اس کے چہرے پر معصوم سی خوشی کی چمک بکھیر دی تھی۔ اس نے ایک نظر کمرے میں چاروں طرف دیکھا اور جلد ہی اس کے چہرے پر اداسی لوٹ آئی۔
’’لیکن اب میں یہ سب کچھ بھول چکا ہوں۔‘‘ اس نے گویا خود سے مخاطب ہو کر کہا۔ سلیم بے چین تھا کہ وہ اصل موضوع کی طرف آئے۔ کمرے پر مکمل سکوت طاری تھا۔ دفعتہ سڑک کی طرف سے چند مدھم مدھم سی آوازیں سنائی دیں۔ سلیم نے توجہ سے سننے کی کوشش کی۔ یہ اسی موسیقی کی آواز تھی جو سلیم نے راستے میں سنی تھی۔
’’خاتون… کیا تم یہ آوازیں سن رہی ہو؟‘‘ اس نے خوفزدہ لہجے میں نعیمہ سے پوچھا۔ نعیمہ نے دور سے آتی ہوئی اجنبی سی موسیقی کی مدھم آواز سنی اور نہ جانے کیوں اس کے جسم میں سردی کی لہر سی دوڑ گئی۔ ’’یہ کس قسم کی موسیقی ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’موت کی موسیقی ہے؟ ‘‘محمود نے جواب دیا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’میں نے یہ موسیقی اس رات سنی تھی جب تمہارے بھائی کی موت واقع ہوئی تھی۔‘‘ محمود نے ہزیانی سے انداز میں کہا اور تیزی سے اٹھ کر باہر جانے کے لئے لپکا۔
’’تم پوری بات بتائے بغیر نہیں جا سکتے۔‘‘ سلیم نے اسے پکڑ لیا۔ محمود کے چہرے پر ایسا اذیت ناک کھنچاؤ پیدا ہو گیا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے باہر کی طرف کھینچ رہی ہو۔ اور سلیم کے پکڑ لینے سے اس کی جان ایک مہلک کشمکش میں مبتلا ہو گئی ہو۔ سلیم نے گھبرا کر اپنی گرفت نرم کر دی اور محمود شور مچاتا ہوا خود کو چھڑا کر کمر ے سے نکل کر دوڑتا ہوا تاریکی میں غائب ہو گیا۔
’’سلیم مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ نعیمہ نے چند لمحے کے سکوت کے بعد کہا۔ سلیم کو افسوس ہو رہا تھا کہ وہ کیوں محمود کو ساتھ لے آیا اور اگر لے ہی آیا تھا تو مکمل بات سنے بغیر اسے کیوں جانے دیا۔ کلیم کی موت کس طرح واقع ہوئی؟ یہ سوال ابھی اپنی جگہ باقی تھا۔
اگلا دن تھکا دینے والا تھا کیونکہ گزشتہ رات کے واقعات کا بوجھ سلیم کے ذہن پر بدستور تھا۔ نعیمہ کھانا پکانے اور صفائی وغیرہ کرنے میں مصروف ہو گئی اور سلیم بستر پر ہی لیٹا اونگھتا رہا۔ شام ڈھل چکی تھی جب نیم غنودگی کے عالم میں سلیم نے کچھ عجیب سی آوازیں سنیں جیسے کوئی فریادی انداز میں چلا رہا ہو۔ سلیم نے محسوس کیا کہ شاید یہ اس کے نیم غنودگی کے خوابوں کا ہی کوئی حصہ ہے لیکن جلد ہی اسے آنکھیں کھولنا پڑیں۔ گیٹ پر شاید کوئی کتا بھونک رہا تھا۔
سلیم اٹھ کر ڈرائنگ روم میں آیا۔ کھڑکی کے شیشے سے باہر پھیلی ہوئی نیم تاریکی میں سے ایک ڈراؤنا چہرہ اندر جھانک رہا تھا۔ سلیم نے سانس روک کر اپنے آپ کو ہر طرح کے حملے کے لئے تیار کرتے ہوئے آہستگی سے دروازہ کھولا۔ ڈراؤنے چہرے والا سایہ نما انسان لڑکھڑاتا ہوا دہلیز پر آ کر ڈھیر ہو گیا۔ سلیم اسے گھسیٹ کر کمرے میں لایا۔ نعیمہ بھی دوسرا لیمپ اٹھا کر وہاں پہنچ چکی تھی۔ اس نے اس خوفناک چہرے پر روشنی ڈالی۔
’’اوہ… یہ تو ہمارا مہمان محمود ہے‘‘ سلیم نے چونک کر کہا۔ محمود کا چہرہ اس طرح سیاہ پڑ چکا تھا جیسے اس نے پلاسٹک ماسک پہن رکھا ہو۔ سلیم نے اس کا کالر پکڑ کر ہلایا۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں خوفناک حد تک سکڑ گئی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے اس کا منہ کھلا اور صرف ایک دردناک سی پھنسی پھنسی آواز نکل کر رہ گئی۔
’’شاید یہ مر گیا…‘‘ سلیم نے تاسف سے کہا۔
’’نہیں۔ میرا خیال ہے ابھی زندہ ہے‘‘ نعیمہ گھٹنوں کے بل اس کے قریب جھک گئی۔ محمود کے لب آہستگی سے ہلے۔ شاید وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نعیمہ نے کان لگا کر سنا۔
’’ڈاکٹر… ڈاکٹر…‘‘ وہ بڑبڑا رہا تھا۔
’’میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔‘‘ سلیم نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’ڈاکٹر امجد…‘‘ محمود ٹوٹتی آواز میں بڑبڑڑایا۔
’’نزدیک ترین ڈاکٹر وہی ہے‘‘ نعیمہ نے سلیم کو بتایا۔
’’پہاڑی کے پچھلی طرف اس کا بہت بڑا سا مکان ہے‘‘
سلیم ڈاکٹر امجد کو بلانے کے لئے چل دیا۔ مکان اسے جلد ہی مل گیا۔ وہ اونچے اونچے پرانے درختوں اور گنجان جھاڑیوں میں اس طرح چھپا ہوا تھا کہ شاید روشنی کی کوئی کرن اس تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ اس کی کھڑکیوں سے بھی کسی قسم کی روشنی نہیں آ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہاں کوئی ذی روح رہتا ہی نہیں۔ سلیم نے دروازے پر دستک دینا چاہی تو وہ ہاتھ لگاتے ہی کھل گیا۔ سامنے سیڑھیوں پر ایک لیمپ روشن تھا جس کی بیمار روشنی میں سیڑھیاں یوں نظر آ رہی تھیں جیسے قبرستان میں ترتیب سے قبریں بنی ہوئی ہوں۔
’’ ڈاکٹر امجد…‘‘ سلیم نے پکارا مگر اس کی آواز سناٹے میں گونج کر رہ گئی۔ وہ اندر ہال تک چلا گیا۔ وہاں بھی ویرانی کا راج تھا۔ اگر محمود کی زندگی کا سوال نہ ہوتا تو شاید سلیم واپس چلا جاتا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانے لگا۔ دفعتہ اس کے عقب میں ایک آواز گونجی… ’’کون ہو تم اور منہ اٹھائے کہاں چلے جا رہے ہو…؟‘‘ سلیم آواز کی سمت مڑا… ایک مضبوط جسم کا آدمی ہال سے نکل کراس کی طرف آ رہا تھا۔ اپنے انداز سے وہ گھر کا مالک معلوم ہوتا تھا۔
’’میرے گھر میں ایک آدمی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے‘‘ سلیم نے کہا۔
’’تو پھر میں کیا کروں…؟‘‘ اس شخص نے سنگدلانہ لاتعلقی سے کہا۔
’’میرا خیال ہے میں اپنا مطلب واضح نہیں کر سکا…‘‘ سلیم نے کہا۔
’’تمہارا مطلب بڑی اچھی طرح واضح ہو گیا ہے کہ تمہارے گھر میں ایک آدمی مر رہا ہے… لیکن اس سے میرا کیا تعلق۔ مسٹر سلیم؟‘‘
’’کیا تم ڈاکٹر نہیں ہو؟‘‘
’’ڈاکٹر تو میں ہوں… لیکن پی ایچ ڈی والا ڈاکٹر ہوں۔ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا…‘‘
سلیم مایوس ہو کر واپس جانے کے لئے مڑا۔ پھر اسے خیال آیا کہ ڈاکٹر امجد یہاں کا پرانا باشندہ ہونے کی حیثیت سے اس مصیبت میں اس کا کچھ تو ہاتھ بٹا سکتا ہے۔ اس نے کہا۔
’’ڈاکٹر امجد… آپ اسے صرف دیکھنے کے لئے ہی میرے ساتھ چلے چلیں کیونکہ میں اور میری بیوی یہاں نئے نئے آئے ہیں۔ ہمیں نہ تو دواؤں وغیرہ کے متعلق ہی کچھ معلومات ہیں اور نہ اپنے گرد رہنے والوں کے بارے میں۔ اس صورت میں ایک اجنبی کا ہمارے گھر میں قریب المرگ ہونا ہمارے لئے زیاہ پریشان کن ہے…‘‘سلیم نے اپنا مطلب سمجھانے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر امجد نے گہرا سانس لیا۔ گویا سوچ میں پڑ گیا ہو… ’’میرا خیال ہے اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہے‘‘ سلیم صرف پلکیں جھپکا کر رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ مزید کیا کہے۔
’’بہرحال…‘‘ ڈاکٹر امجد نے تقریباً آمادگی سے کہا… ’’یہ سمجھ لو کہ بیماریوں کے بارے میں میرا علم انتہائی محدود ہے‘‘ اتنا کہہ کر وہ سلیم کے ساتھ چل پڑا۔ درختوں اور جھاڑیوں کے جھنڈ میں سے ہوتے ہوئے وہ بنگلے تک پہنچ گئے۔ ڈرائنگ روم میں پہنچ کر ڈاکٹر امجد نے محمود کا معائنہ کیا… ’’ہم دیر سے پہنچے ہیں…‘‘ اس نے محمود کی اکڑی ہوئی ٹانگ کو جنبش دیتے ہوئے کہا… ’’یہ برف کی طرح یخ ہو چکا ہے‘‘
’’کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ اسے کیا ہوا ہے…؟‘‘ سلیم نے پریشان ہو کر پوچھا ’’اور اس کے چہرے پر یہ سیاہی کیسی پھیل گئی ہے…؟‘‘
’’میں صرف یہ جانتا ہوں…‘‘ ڈاکٹر امجد نے تیز و تند لہجے میں کہا کہ ’’یہ بھی انہی پراسرار لوگوں کا شکار ہوا ہے۔ اس معاملے کا تعلق مجھ سے ہے اور اس کی تجہیز و تکفین کا بندوبست بھی میں خود کروں گا‘‘
’’براہ کرم ہمیں بھی اس معاملے کے متعلق کچھ بتائیں…‘‘ سلیم نے کہا۔
’’میں ان لوگوں کو جانتا ہوں اور ان کے طریق کار کو بھی… لیکن یہ معاملہ آپ مجھ پر ہی چھوڑ دیں۔ اس بارے میں مجھ سے یا کسی اور سے بحث و تمحیص کی ضرورت نہیں۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے فیصلہ کن لہجے میں کہا اور جانے کے لئے مڑا۔ پھر وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
رات کے سناٹے میں وہ دونوں دھڑکتے دلوں کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اور ان کے سامنے ایک یخ بستہ لاش پڑی تھی جس کا چہرہ سیاہ ہو چکا تھا۔
’’ڈارلنگ…‘‘ نعیمہ نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔ اور اس سے پہلے کہ سلیم اسے بازوؤں میں لے کر حوصلہ دیتا ہلکی سی سرسراہٹ کے ساتھ دروازہ کھلا اور سرد ہوا کے جھونکے کے ساتھ ایک شخص اندر داخل ہوا۔ یہ سیاہ فام نسل کا ایک تنومند شخص تھا۔ اس کے سیاہ چہرے پر ساکت اور سفید آنکھیں ہر قسم کے تاثر سے عاری تھیں۔ نعیمہ خوفزدہ ہو کر سلیم کے قریب ہو گئی۔
’’میرا نام مالے ہے اور میں ڈاکٹر امجد کا خادم ہوں‘‘ نووارد نے پرسکون لہجے میں کہا۔ اس نے ایک لمحے توقف کیا۔ پھر ان دونوں کی طرف ایک نظر دیکھ کر جھکا اور محمود کی لاش کندھے پر ڈال کر خاموشی سے باہر نکل گیا۔
٭……………٭
پاگل محمود کے جنازے میں صرف تین افراد تھے۔ سلیم، نعیمہ اور رحمان۔ سلیم، رحمان کو نعیمہ سے متعارف کرا چکا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کی مدد سے محمود کا تابوت قبر میں اتارا۔ قبر پر چند پتھر رکھے اور اس کی مغفرت کی دعا کر کے واپس روانہ ہو گئے۔
’’رحمان صاحب… آپ کے علاوہ بھی محمود کے کچھ دوست ہوں گے۔ انہوں نے اس کے جنازے میں شرکت کیوں نہیں کی؟‘‘ نعیمہ نے راستے میں پوچھا۔
’’اس لئے کہ وہ کالی موت مرا ہے۔‘‘ رحمان گویا خود سے مخاطب ہو کر بڑبڑایا۔
’’کالی موت…؟ کیا مطلب؟‘‘ نعیمہ اور سلیم نے بیک زبان پوچھا۔ سلیم کی نظروں میں محمود کا چہرہ گھوم گیا جو مرتے وقت بالکل سیاہ پڑ گیا تھا۔ اور اسے اپنے سوال کا جواب خودبخود مل گیا۔ اسی اثناء میں وہ رحمان کے گھر کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔
’’آئیے… آپ دونوں کچھ دیر میرے ہاں رک کر سستالیں‘‘ رحمان نے پیشکش کی۔
’’مجھے تو گھر جا کر کھانا وغیرہ تیار کرنا ہے‘‘ نعیمہ نے معذرت کی۔ سلیم اکیلا ہی رحمان کے ساتھ ٹھہر گیا۔
نعیمہ گھر واپس آئی تو دروازہ کھلا تھا۔ وہ اسے مقفل نہیں کر سکے تھے کیونکہ تالا خراب تھا اور شاید اسی خرابی سے فائدہ اٹھا کر پہلے کسی نے سازوسامان تباہ کر دیا تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گئی کہ پورا کمرہ گل و گلزار ہو رہا تھا۔ ہر چیز پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ گلاسوں اور پیالیوں کو بھی کسی نے گلدان کی جگہ استعمال کیا تھا۔ اور ان میں پھول سجا دئیے تھے۔ کمرہ ان پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔
نعیمہ ابھی کمرے میں گھوم پھر کر پھولوں کا جائزہ لے رہی تھی کہ سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ ابھری۔ نعیمہ نے مڑ کر دیکھا۔ انیس بیس سال کی ایک سنولائے ہوئے چہرے والی، پھولوں جیسی نرم و نازک سی لڑکی ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری اٹھائے نیچے آ رہی تھی۔
’’اچھا ہوا کہ میں نے آپ کے آنے سے پہلے ہی اپنا کام ختم کر لیا تھا… ‘‘ لڑکی نے اسی طرح معصومیت سے کہا۔ گویا نعیمہ ہی اسے اس کام پر لگا گئی تھی۔
’’لیکن تم ہو کون…؟‘‘ نعیمہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’مجھے معلوم ہے کہ آپ کو یہاں آ کر کچھ خوشگوار حالات کا سامنا نہیں ہوا۔ میں نے سوچا کہ شاید ان پھولوں کی خوشبو میں آپ کی ناخوشگوار یادیں دب جائیں…‘‘ لڑکی کے لہجے میں خلوص تھا۔
’’میں نے پوچھا تھا کہ تم ہو کون؟…‘‘ نعیمہ نے اپنا سوال دہرایا۔
’’میرا نام مونا ہے… مونا امجد۔ میں آپ کے پڑوس میں رہتی ہوں‘‘
’’اوہ… ہاں میں تمہارے والد سے مل چکی ہوں‘‘
باپ کے ذکر پر لڑکی کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ ’’کیا واقعی…؟‘‘ اس نے سہمے سہمے لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں… رات وہ تمہیں ڈھونڈتے پھر رہے تھے‘‘
’’اچھا…‘‘ لڑکی کی گرفت پھولوں کی ٹوکری پر نرم پڑ گئی۔
’’بہرحال… تم بیٹھو… میں تمہارے لئے چائے بناتی ہوں۔ میرا نام نعیمہ سلیم ہے۔ یہ تو غالباً تم جانتی ہی ہو گی‘‘ نعیمہ نے کہا۔
’’کوئی کمرہ رہ تو نہیں گیا‘‘ مونا نے پوچھا۔
’’نہیں… شکریہ! تم نے نہایت خوشبودار پھول جمع کئے ہیں‘‘
’’اچھے ہیں نا…؟‘‘ وہ خوش ہو کر بولی ’’میرے پاپا کو پھول لگانے کا بہت شوق ہے‘‘
’’تم ابھی تک کھڑی کیوں ہو… بیٹھ جاؤ نا‘‘ نعیمہ نے کہا۔
’’نہیں… میں بیٹھوں گی نہیں… دراصل میں آپ کو آج رات اپنے ہاں کھانے پر آنے کی دعوت دینے آئی تھی‘‘ مونا نے بتایا۔
نعیمہ کو اس نامہربان بستی میں اس قسم کی نوازش کی قطعاً توقع نہیں تھی۔ ’’ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستی کا آغاز کر کے خوشی ہو گی۔‘‘ نعیمہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ… بس اب میں چلتی ہوں۔‘‘ مونا باہر نکل گئی۔ لیکن پھر فوراً ہی نعیمہ نے اس کے واپس آنے کی آہٹ سنی۔ وہ دائیں کمرے میں داخل ہوئی تو اس کا سنولایا ہوا چہرہ کچھ اور تاریک سا ہو گیا تھا جیسے وہ دیر تک تیز دھوپ میں بیٹھ کر آئی ہو۔ اس کے پیچھے پیچھے ڈاکٹر امجد اندر داخل ہوا۔
’’تم یہاں کیا کر رہی ہو مونا…؟‘‘ ڈاکٹر نے سخت لہجے میں پوچھا۔
’’میں معافی چاہتی ہوں پاپا…‘‘ مونا نے بالکل بچوں کی طرح سر جھکا کر انگلیاں مروڑتے ہوئے کہا۔
’’تم مجھ سے اجازت لئے بغیر گھر سے کیوں نکلیں…؟‘‘
’’کیا ایک بیس سال کی لڑکی کو گھر سے باہر قدم رکھنے کے لئے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے؟‘‘ نعیمہ نے احتجاج کیا۔
’’تم ہمارے معاملات میں مداخلت مت کرو مسز سلیم۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے بدستور سخت لہجے میں کہا۔ ’’تمام معاملات ایسے نہیں ہوتے جیسے وہ بظاہر نظر آتے ہیں‘‘
’’میں معذرت خواہ ہوں، اگر میری مداخلت آپ کو ناگوار گزری ہے۔ بہرحال میں آپ کی ممنون ہوں کہ آپ نے ہمیں کھانے کی دعوت بھجوائی‘‘۔ نعیمہ نے نرمی سے کہا۔ یہ سن کر ڈاکٹر امجد کا چہرہ اتر گیا۔ اس نے سوالیہ نظروں س مونا کی طرف دیکھا۔
’’پاپا پلیز…‘‘ مونا نے آنکھوں ہی آنکھوں میں انجانی التجا کی۔ غالباً ڈاکٹر امجد کو دعوت کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا اور دعوت مونا نے صرف اپنی ہی خواہش پر دی تھی۔
’’خیر… خیر ٹھیک ہے…‘‘ ڈاکٹر امجد نے گویا بادل نخواستہ کہا اور مونا کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا۔ کس قدر فاصلے ہیں باپ بیٹی کے درمیان… ان کے جانے کے بعد نعیمہ نے سوچا۔
٭……………٭
رحمان نے چائے کی پیالی سلیم کی طرف بڑھائی۔ پھر وہ دونوں خاموشی سے چائے کی چسکیاں لینے لگے۔ یہ کمرہ جس میں وہ بیٹھے ہوئے تھے کسی جہاز کے کیبن سے مشابہہ تھا۔ کارنس پر ایک بوتل میں ننھے ننھے جہاز تیر رہے تھے۔ ایک طرف طاق میں چند کتابیں رکھی تھیں۔ کھڑکی میں آرائش کی خاطر چند رنگین سمندری پتھر رکھے ہوئے تھے۔
’’میرے بھائی سے پہلے کتنے افراد کالی موت کا شکار ہو چکے ہیں… پاگل محمود کی طرح…؟‘‘ سلیم نے گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا۔
’’صرف چند آدمی…‘‘ رحمان نے آہستگی سے کہا۔
’’تمہارے خیال میں انہیں درحقیقت کس نے مارا ہے؟‘‘ سلیم نے پوچھا۔
’’کیا مطلب…؟ کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسانی طاقت ان کی موت کی ذمہ دار ہے؟‘‘
’’تم میرا مطلب اچھی طرح سمجھ رہے ہو رحمان… میں ایک پیشہ ور سپاہی ہوں، مجھے کتنے ہی عجیب و غریب حالات کا سامنا کرنا پڑے لیکن اگر میں انہیں نہ سمجھ پاؤں تو میرا ذہن ان کی توجیہہ اور وضاحت چاہے گا۔‘‘
’’میں ایک پیشہ ور ملاح تھا۔ میں نے پوری دنیا کی سیاحت کی ہے اور ایسے ایسے حیرتناک واقعات کا سامنا کیا ہے کہ ان کی تشریح اور وضاحت دلائل کے ساتھ ممکن ہی نہیں ہے۔‘‘ رحمان نے کہا۔
’’تمہارا مطلب ہے جادو وغیرہ…؟‘‘
’’ہاں وہی کچھ… جسے جادو کہا جا سکتا ہے‘‘ رحمان نے جواب دیا۔
’’تو کیا تم کالی موت کو بھی جادو وغیرہ میں شمار کرتے ہو؟‘‘
’’میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا اور جاننا بھی نہیں چاہتا کیونکہ مجھے اپنی بھی فکر ہے۔ میں بڑے ارمانوں سے اس جگہ آ کر آباد ہوا تھا۔ اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ میں کالی موت مروں‘‘
’’یعنی تم ڈر گئے ہو…‘‘
’’ہاں… میں زندگی میں پہلی مرتبہ خوفزدہ ہوا ہوں‘‘
’’تب تو مجھے افسوس ہے۔ مجھے تم سے اس موضوع پر گفتگو ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’نہیں… اس سے کوئی فرق نہیں پڑتالیکن مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں… مجھے اس کا قطعاً افسوس نہیں ہے‘‘ سلیم نے اٹھتے ہوئے کہا۔
وہ گھر پہنچا تو نعیمہ گھر میں اس کی منتظر تھی۔ ’’سناؤ رحمان سے کیا کیا باتیں ہوئیں…؟‘‘ اس نے سلیم کے گلے میں بانہیں ڈال کر زندگی سے بھرپور ایک بوسہ لیتے ہوئے پوچھا۔ سلیم نے اسے اپنی اور رحمان کی گفتگو کے متعلق بتایا۔
’’ہر چیز پراسرار اور الجھی ہوئی ہے اور واقعات سے زیادہ یہاں کے لوگ پراسرار ہیں۔‘‘ اس کے خاموش ہونے پر نعیمہ نے کہا اور پھر اسے مونا کی آمد، اس کے پھولوں کے شوق اور شام کے کھانے کی دعوت کے متعلق بتایا۔
’’خوب۔‘‘ سلیم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ’’میرے خیال میں ڈاکٹر امجد جیسے پڑھے لکھے آدمی سے کھانے کی میز پر دوستانہ ماحول میں گفتگو کرنے سے شاید کچھ مسائل ہمارے ذہن میں صاف ہو سکیں‘‘
انہوں نے فیصلہ کیا کہ رات کو ڈاکٹر امجد کے ہاں ضرور جائیں گے۔
٭……………٭
ڈاکٹر امجد کا گھر غیر معمولی حد تک گرم تھا۔ جب وہ کھانے کی میز پر پہنچے تو مونا غائب تھی۔ ’’ڈاکٹر کیا مونا ہمارے ساتھ کھانے میں شریک نہیں ہو گی۔‘‘ نعیمہ نے پوچھا۔
’’نہیں… وہ ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھائے گی۔‘‘ ان کے میزبان کے چہرے پر سخت گیری آ گئی۔ ’’اسے اس کی نافرمانی کی سزا کے طور پر میں نے تنہائی میں کھانا کھانے کا حکم دیا ہے‘‘۔
کھانے کی میز پر سکوت چھا گیا۔ وہی سیاہ فام ملازم مالے جو محمود کی لاش اٹھانے آیا تھا، کھانا لگا رہا تھا۔ ڈاکٹر امجد کے سامنے شراب کی ایک بغیر لیبل والی بوتل پڑی تھی۔ اس نے اس میں سے ایک گلاس بھر کر سلیم کی طرف بڑھایا۔ ’’مجھے امید ہے کہ تم اسے پسند کرو گے۔ یہ انگور کی نہیں چاول کی شراب ہے‘‘ اس نے کہا۔ سلیم نے گلاس تھامنے میں قدرے تامل کیا۔
’’سوچ میں نہ پڑئیے مسٹر سلیم… یہ زہر آلود نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر امجد قدرے طنزیہ انداز میں مسکرایا۔ زہر کے نام پر سلیم کی نظروں میں پاگل محمود کا سیاہ چہرہ گھوم گیا۔ لیکن تکلفاً اس نے شراب کا گلاس تھام لیا۔ مالے ان کے سامنے گرم گرم ڈشیں رکھ رہا تھا۔ کمرے کی فضاء پرعجیب سی خاموشی اور تناؤ چھایا ہوا تھا۔ ڈاکٹر امجد کی گفتگو میں کوئی خلوص اور گرمجوشی نہیں تھی اور کھانے کی دعوت دینے والی اصل میزبان مونا کو کھانے میں شریک ہونے سے ہی روک دیا گیا تھا۔ غرض کہ یہ ایسا گھر ہرگز نہیں تھا جہاں مہمان بننا کوئی خوشگوار بات ہو۔
کھانے کے اختتام پر سلیم کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ مالے اور ڈاکٹر امجد غیر محسوس اشاروں میں آپس میں کچھ باتیں کرتے ہیں اور ان کا تعلق محض مالک اور نوکر کا تعلق محسوس نہیں ہوتا۔
’’میرا خیال ہے کہ کافی لائبریری میں پی جائے‘‘ کھانے سے فارغ ہو کر ڈاکٹر امجد نے کہا۔ وہ لوگ اٹھ کر لائبریری کی طرف چل دئیے۔ ہال سے گزرتے ہوئے سلیم نے ایک گوشے میں خاموش کھڑی ایک مغموم سی لڑکی کو دیکھا۔ وہ ندامت آمیز نظروں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’مونا… یہ ہیں تمہارے مہمان…‘‘ ڈاکٹر امجد نے لڑکی سے مخاطب ہو کر کہا۔
’’شکریہ پایا…‘‘ لڑکی نے بجھے بجھے لہجے میں کہا اور ان کے استقبال کے لئے آگے بڑھ آئی۔ اس کے چلنے سے کمرے میں بھینی بھینی مہک سی پھیل گئی۔
’’سلیم… یہ مونا ہے…‘‘ نعیمہ نے سلیم سے اس کا تعارف کرایا۔ اس نے سلیم سے ہاتھ ملایا۔ اس کا ہاتھ گداز اور گرم تھا۔
’’مونا… میرا خیال ہے تم انہیں اپنا چڑیا گھر دکھانا پسند کرو گی…‘‘ ڈاکٹر امجد نے اسے مخاطب کیا اور مونا کے چہرے کی مسکراہٹ خوف کے پردے میں چھپ گئی۔ گویا ڈاکٹر امجد نے اسے کوئی نہایت کٹھن کام سونپ دیا ہو۔
’’غالباً مسٹر سلیم کو تو جانوروں سے کوئی دلچسپی نہیں… البتہ آپ شاید عام خواتین کی طرح انہیں دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے نعیمہ سے کہا۔
’’ہاں… میں انہیں دیکھنا پسند کروں گی۔‘‘ نعیمہ نے کہا اور اجازت طلب نظروں سے سلیم کی طرف دیکھا۔ سلیم اسے ایک لمحے کے لئے بھی تنہا چھوڑنے کے حق میں نہیں تھا لیکن آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اپنی ناگواری کو چھپائے رکھنا پڑا۔ وہ ڈاکٹر امجد کے ساتھ لائبریری کی طرف چل دیا۔ مالے نے حسب معمول خاموشی کے ساتھ لائبریری کا دروازہ کھولا کافی کی ٹرے میز پر رکھی اور اسی خاموشی سے باہر چلا گیا۔
’’تم اب بے تکلفی سے گفتگو کر سکتے ہو۔‘‘ ڈاکٹر نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ سلیم نے کرسی پر بیٹھ کر سرسری نظر سے اردگرد کا جائزہ لیا۔ یہ کمرہ لائبریری کے بجائے ایک چھوٹا سا میوزیم معلوم ہوتا تھا۔ الماریوں میں تھوڑی سی کتابیں تھیں ان کے علاوہ پورا کمرہ نوادرات سے بھرا پڑا تھا۔
’’ڈاکٹر… معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کافی سفر کئے ہیں…‘‘ سلیم نے کہا۔
’’ہاں… اور میرا خیال ہے تمہیں بھی یہاں سے کہیں اور کے لئے سفر اختیار کرنا چاہیے مسٹر سلیم… کیا میں تمہیں میجر سلیم کہہ کر مخاطب کر سکتا ہوں‘‘
’’کیپٹن سلیم…‘‘ سلیم نے تصحیح کی۔ ’’کیا اس مشورے کی کوئی معقول وجہ ہے…‘‘
’’احمد نگر کی زمین بڑی حاسد ہو گئی ہے‘‘ ڈاکٹر نے فلسفیانہ لہجے میں کہا۔ ’’خصوصاً جب تم کسی کام سے طویل عرصہ کے لئے شہر جاؤ گے تو نعیمہ کے لئے تنہا یہاں رہنا مناسب نہ ہو گا‘‘
’’لیکن آپ نے خود اپنی جوان بیٹی کی موجودگی میں اس جگہ کا انتخاب کیا ہے‘‘ سلیم نے کہا۔
’’کبھی میں بھی اسے ناپسند کرتا تھا۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے سرد آہ بھر کر کہا ’’لیکن اب یہ جگہ میری مجبوری بن چکی ہے۔ تمہیں یہاں کوئی دوست بنانے کی کوشش سے بھی پرہیز کرنا ہو گا۔ ورنہ تمہاری بیوی کو کسی قسم کا حادثہ پیش آ سکتا ہے‘‘
’’اب تک تو میرا ارادہ یہاں سے جانے کا ہرگز نہیں ہے۔‘‘ سلیم نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’لیکن اگر کوئی حادثہ پیش آ گیا تو اس کے بعد تم پچھتانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکو گے‘‘
’’مثلاً کس قسم کا حادثہ…؟‘‘ سلیم نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا۔
اس سے پہلے کہ ڈاکٹر کوئی جواب دیتا نعیمہ اور مونا کمر میں داخل ہوئیں۔
’’آؤ ادھر بیٹھ جاؤ تم دونوں۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے کرسیاں ان کی طرف کھسکائیں۔‘‘ مونا تم اپنے مہمانوں کے لئے کوئی خاص اہتمام کیوں نہیں کرتیں۔ میرا خیال ہے انہیں موسیقی سے ضرور دلچسپی ہو گی‘‘ پھر وہ سلیم اور نعیمہ سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’مونا کو موسیقی سے بہت دلچسپی ہے۔ خصوصاً وہ ستار بہت اچھا بجاتی ہے‘‘
’’بہت خوب۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کیونکہ ہم اچھی موسیقی شوق سے سنتے ہیں۔‘‘ سلیم نے سر ہلایا۔
مونا نے ایک گوشے میں رکھا ہوا ستار اٹھایا اور کمرے کے درمیان قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔ نظروں ہی نظروں میں اس نے اجازت طلب کر کے ستار کے تار چھیڑے۔ رفتہ رفتہ ایک انوکھی سی موسیقی کمرے میں ابھرنے لگی۔ لمحہ بہ لمحہ مونا کی انگلیوں کی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی۔ اور اس کی آنکھیں خمار آلود ہوتی جا رہی تھیں۔ ان خمار آلود آنکھوں، شانوں پر بکھرے ہوئے کھلے سیاہ بالوں اور ملاحت آمیز سانولے چہرے کے ساتھ شانے سے ستار ٹکائے وہ کسی دیومالائی کہانی کا کردار لگ رہی تھی۔ موسیقی کی ترتیب جوں جوں واضح ہوتی جا رہی تھی سلیم ایک عجیب سی بے چینی میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے جسم میں سردی کی لہریں سی اترتی جا رہی تھیں۔ اس نے اپنے ذہن کو ٹٹول کر اس کیفیت کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی اور تب اسے یاد آیا کہ بالکل ایسی ہی موسیقی اس نے اس رات سنی تھی جس سے اگلی صبح محمود مر گیا تھا۔ اور جسے اس نے موت کی موسیقی کہا تھا۔ سلیم نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ مونا کے عقب میں درواز ے میں مالے کھڑا تھا۔ اور اس کے سیاہ فام چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ پراسرار خوفناک اور معنی خیز مسکراہٹ! موسیقی اپنے عروج پر پہنچ رہی تھی اور مونا پر جنونی سی کیفیت طاری ہو رہی تھی۔ عین اس وقت ڈاکٹر امجد نے زور سے زمین پر پاؤں مار کر اس موسیقی کا سحر توڑ دیا۔ ’’بند کرو اسے‘‘ وہ دہاڑا۔
ستار کے تاروں پر مونا کی انگلیوں کی جنبش رک گئی۔ مونا نے آنکھیں کھول کر وحشی نظروں سے باپ کی طرف دیکھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اسے اس وقت گردوپیش کا کوئی احساس نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ میں معلوم نہیں ہوتی تھی۔ وہ اس وقت اس مونا سے قطعی مختلف تھی جو اپنے باپ کا نام سن کر ہی سہم جاتی تھی۔ ڈاکٹر امجد نے اس کے ہاتھ سے ستار چھین کر ایک طرف پھینک دیا۔ مونا نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور اس نگڑائی میں نشے اور اتھاہ مدہوشی کا کچھ ایسا غلبہ تھا کہ سلیم نے ایک لمحہ کے لئے سوچا کہ اگر نعیمہ ساتھ نہ ہوتی تو وہ یقینا مونا کو بازوؤں میں بھر لیتا۔
’’میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے درشتگی سے کہا۔ اس کا انداز ایسا ہی تھا جیسے مونا نے اس کی توقعات اور پسندیدگی کے خلاف کوئی سنگین حرکت کی ہو۔ غالباً جب اس نے مونا کو موسیقی سنانے کے لئے کہا تھا تو اس کی مراد وہ دھن ہرگز نہیں تھی جو مونا نے سنانا شروع کر دی تھی۔ باپ کی ڈانٹ سن کر مونا خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔ وہ غالباً کسی نزدیکی کمرے میں ہی گئی تھی کیونکہ چند لمحوں بعد ہی سلیم نے اس کی مدھم مدھم سسکیوں کی آواز سنی۔ وہ غالباً اپنی توہین اور دل شکستگی کے احساس سے رو رہی تھی۔
’’ڈاکٹر… مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے گھر میں مہمان کی حیثیت سے تمہارے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ ورنہ اس وقت تم نے بہت نازیبا حرکت کی ہے‘‘ سلیم نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ خاموش رہو۔‘‘ ڈاکٹر نے سردمہری سے کہا۔ سلیم کا دل چاہا کہ ٹھوکریں مار مار کر اس شخص کا چہرہ مسخ کر دے۔
’’آؤ نعیمہ ہم چلیں…‘‘ سلیم نے نعیمہ کا ہاتھ پکڑا اور کسی قسم کے رسمی جملوں کے تبادلے کے بغیر وہ دونوں کمرے سے نکل آئے۔ ڈاکٹر بھی کمرے سے نکل کر اس طرف بڑھ گیا جدھر سے مونا کی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔
وہ دونوں اپنے گھر واپس آ گئے۔
’’تمہیں اس کو مونا کے ساتھ ایسا سلوک کرنے سے روکنا چاہیے تھا۔‘‘ نعیمہ نے سلیم سے کہا۔
’’غصہ تو مجھے بہت آ رہا تھا۔ لیکن وہ اس کا اپنا گھر تھا اور مونا اس کی اپنی بیٹی۔ میں کوئی سخت قدم کیسے اٹھا سکتا تھا‘‘ سلیم نے کہا۔
’’غالباً وہ مونا کے کمرے کی طرف اسے مارنے کے ارادے سے جا رہا تھا۔‘‘ نعیمہ نے متاسفانہ لہجے میں کہا۔
’’شاید…‘‘سلیم نے کہا… ’’وہ ایسا ہی درندہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید اپنی جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھانے سے بھی دریغ نہ کرتا ہو‘‘
’’سلیم…‘‘ نعیمہ نے دوسرا لیمپ جلاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ ایک عجیب سی بات ہے کہ میں وہاں تمام وقت ایک عجیب سی بے چینی محسوس کرتی رہی۔‘‘
’’اور میں بھی…‘‘ سلیم نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔ ’’وہ گھر۔ وہ ملازم۔ وہ فضاء۔ وہاں کی ہر شے پراسرار تھی۔‘‘
’’اور وہ جانور بھی جو مونا مجھے دکھانے کے لئے لے گئی تھی۔‘‘ نعیمہ نے بتایا۔ ’’ان میں قابل دید یا انوکھی چیز تو کوئی بھی نہیں تھی‘‘ وہ سب چوہے، پرندے اور چھوٹے چھوٹے جانور تھے جو ایک ہی پنجرے میں ٹھونس دئیے گئے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ عارضی طور پر ایک چھوٹا موٹا چڑیا گھر بنانے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب لیٹے اس ناخوشگوار دعوت کے باے میں سوچتے رہے۔ پھر سلیم اسے اپنی اور ڈاکٹر کی گفتگو کے متعلق بتانے لگا کہ کس طرح اس نے جلد از جلد احمد نگر چھوڑنے کا مشورہ دیا اور کسی انجانے مگر متوقع حادثہ سے ڈرایا۔
’’ارے۔‘‘ اچانک گفتگو کے دوران نعیمہ کو کچھ خیال آیا۔ وہ اٹھ کر سامنے پڑی ہوئی ٹوکری کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی جس میں وہ رات کو موتی کو بند کر دیتی تھی۔ لیکن اب اس وقت موتی ٹوکری میں نہ تھی۔ ان دونوں نے سارا گھر دیکھ ڈالا لیکن بلی پورے گھر میں کہیں بھی نہیں تھی…
٭……………٭
علی الصبح گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ سلیم دروازے کی طرف لپکا کہ شاید کوئی دیہاتی ان کی بلی کو کہیں پھرتے پا کر پکڑ لایا ہو۔ یا اس کے متعلق کوئی اطلاع دینے آیا ہو لیکن دروازے پر رحمان ایک بھاری بھرکم ٹوکرے کے ساتھ موجود تھا جس میں کھانے پینے کی چیزیں، سبزیاں اور پھل وغیرہ تھے۔
’’میں صرف یہ چیزیں چھوڑنے ہی نہیں آیا ہوں۔‘‘ رحمان نے کہا۔
’’بلکہ یہ بتانے بھی آیا ہوں کہ خوف کے جن اثرات نے مجھ پر غلبہ پا لیا تھا انہیں ذہن سے جھٹک کر میں نے اس گاؤں میں رونما ہونے والے پراسرار واقعات کی تہہ تک پہنچنے کا ارادہ کر لیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم میری مدد کرو گے‘‘
’’ہمیں کیا کرنا ہو گا اور کب؟‘‘ سلیم نے پوچھا۔
’’ہم دونوں نہیں… پہلے صرف میں کچھ کروں گا۔ تم آدھی رات کے بعد چائے خانے پہنچ جانا۔‘‘ رحمان نے واپس روانہ ہوتے ہوئے کہا۔ انہوں نے یہ گفتگو دروازے میں کھڑے کھڑے ہی کی تھی۔ نعیمہ اس وقت باورچی خانے میں تھی۔
سلیم جب سے یہاں آیا تھا پہلی بار کوئی ہاتھ اس کی طرف تعاون کے لئے بڑھا تھا اور وہ اس موقع سے ہر حال میں فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ رحمان اس علاقے کا پرانا باشندہ تھا اور اس کا ساتھ سلیم کے لئے خاصا مفید ہو سکتا تھا۔ سلیم نے نعیمہ کو بھی رات کے پروگرام کے متعلق بتایا۔
’’کیوں نہ میں بھی ساتھ چلوں‘‘ نعیمہ نے کہا۔
’’ہرگزنہیں… کیونکہ ابھی تو مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ رحمان کیا کرنا چاہتا ہے اور مجھے اس کی کیا مدد کرنا ہو گی۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’تم دروازے کھڑکیاں احتیاط سے بند کر کے سونا اور میری آواز کے بغیر دروازہ نہ کھولنا۔‘‘ اس نے ہدایت کی۔
سلیم جب گھر سے نکلا تو بارش شروع ہو چکی تھی۔ وہ بارش میں بھیگتا ہوا چائے خانے تک پہنچا اور عقبی دروازے پر آہستگی سے دستک دی۔ دروازہ رحمان نے ہی کھولا۔
’’اندر آ جاؤ۔‘‘ اس نے سرگوشی کی۔ اندر تاریکی تھی۔ رحمان نے کھڑکی بند کرنے کے بعد احتیاط سے لیمپ روشن کیا۔ تب سلیم نے دیکھا کہ چائے خانے کے عین وسط میں ایک میز پر محمود کی لاش رکھی تھی۔ وہی چہرہ جس کے نقوش کسی انجانی اذیت سے مسخ ہو کر رہ گئے تھے اور وہی سیاہ پڑی ہوئی رنگت…!
’’یہ یہاں کیسے آ گیا؟‘‘ سلیم نے ٹھٹک کر پوچھا۔
’’میں اسے کھود کر نکال لایا ہوں۔ وہ رہا کھدائی کا سامان‘‘ رحمان نے ایک کونے میں رکھے ہوئے بیلچے اور کدال کی طرف اشارہ کیا۔
’’لیکن کیوں…؟ یہ تو نہ صرف قانونی طور پر جرم ہے بلکہ مذہبی طور پر بھی مناسب نہیں۔‘‘
’’ہمیں اپنے مشاہدے کی ابتداء اسی سے کرنی ہے۔‘‘ رحمان نے سکون سے کہا۔ ’’اب مجھے اس سے دو دو ہاتھ کرنے دو‘‘ پھر اس نے سلیم کی مدد سے محمود کی لاش کو اس طرح اٹھایا کہ وہ میز پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھے ہوئے آدمی کی پوزیشن میں آ گئی۔ اس میں خاصی طاقت صرف ہوئی۔ پھر رحمان نے اس کی گردن اس طرح خم کی کہ اس پر روشنی پڑنے لگی۔ ’’ یہ دیکھو‘‘ رحمان نے اشارہ کیا۔ سلیم جھک کر دیکھنے لگا۔ محمود کی گردن پر دو ننھے ننھے گول زخموں کے نشان تھے جو اس کی سیاہ پڑی ہوئی رنگت سے بھی زیادہ سیاہ تر تھے۔ اس کے دانت بھی یوں سختی سے ایک دوسرے پر جمے ہوئے تھے جیسے مرنے سے پہلے اس کی گردن کسی درندے کے جبڑے میں رہی ہو۔ سلیم نے بغور ان نشانات کا مشاہدہ کیا اور لاش کو دوبارہ میز پر لٹا دیا۔
’’یہ کس جانور کے دانتوں کے نشان ہو سکتے ہیں۔ اور کیا وہ اس علاقے میں پایا جاتا ہے…؟‘‘ سلیم گویا خود سے مخاطب ہو کر بڑبڑایا۔
اس دوران رحمان نے الماری سے برانڈی کی بوتل نکال کر دو گلاس بھر لئے تھے۔ ایک اس نے سلیم کی طرف بڑھایا۔ میرا خیال ہے تمہیں ایک نظر اپنے بھائی کی لاش بھی دیکھ لینی چاہیے۔ اس کے بعد ہم کسی امکان پر غور کریں گے‘‘ رحمان نے کہا۔
’’نہیں… ‘‘ سلیم بے اختیار جھرجھری لے کر بولا ’’یہ تصور ہی اس کیلئے خوفناک تھا۔
’’ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔ پراسراریت کا جال توڑنے کے لئے اور شاید اپنے دفاع کے لئے بھی‘‘ رحمان نے اصرار کیا۔ ’’چلو چل کر میں محمود کی لاش کو دفن کرتا ہوں اور تم اپنے بھائی کی لاش نکالو‘‘
سلیم کوبادل نخواستہ اٹھنا پڑا۔ انہوں نے محمود کی لاش کو ہاتھ گاڑی پر رکھا اور قبرستان کی طرف چل دئیے۔ بارش ابھی تک ہو رہی تھی اور یہ ان کے حق میں اچھا تھا کیونکہ ان کے قدموں کے نشانات ساتھ ہی ساتھ مٹتے جا رہے تھے۔ محمودکی تدفین کے بعد انہوں نے قبر کھود کر کلیم شیرازی کی لاش بھی نکال لی۔ سلیم کی توقع کے مطابق کلیم کے چہرے پر بھی سپاہی چھائی ہوئی تھی۔
’’اس کا منہ اس طرف موڑ دو‘‘ رحمان نے بیتابی سے کہا۔ سلیم نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے بھائی کا سر پکڑ کر گھمایا۔ رحمان نے ٹارچ نیچے کر کے کلیم کی گردن پر روشنی ڈالی۔ ‘‘میرا اندازہ غلط نہیں تھا۔ رحمان نے سرد آہ بھری‘ کلیم کی گردن پر بھی وہ دو سوراخ نما زخم موجود تھے۔
’’میں نے ہندوستان میں کنگ کوبرا کے ڈسے ہوئے ایک آدمی کے جسم پر اس طرح کے نشان دیکھے تھے‘‘ سلیم کویاد آیا۔
’’لیکن اس علاقے میں کنگ کوبرا نہیں پایا جاتا۔ قطعی ناممکن‘‘ رحمان نے وثوق سے کہا۔
’’لیکن پھر آخر یہ کیا ہے… کس چیز نے میرے بھائی کو اس حالت تک پہنچایا۔ سلیم نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’بہتر ہے تم گھر واپس چلے جاؤ۔ تمہاری بیوی پریشان ہو رہی ہو گی۔ باقی کام تم مجھ پر چھوڑ دو‘‘ رحمان نے اس کا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔ سلیم گھر واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن نعیمہ کی تنہائی کا خیال آتے ہی اس ک قدم گھر کی طرف اٹھنے لگے۔ اس کا ذہن ایک عجیب نامعلوم سے بوجھ کی وجہ سے شل ہو کر رہ گیا تھا۔
نعیمہ کے گرمجوش استقبال، اس کے بانہوں کے گداز اور ہونٹوں کی نرمی نے اس میں زندگی کی حرارت کا احساس دوبارہ جگایا اور وہ گویا قبرستان کی تاریکی اور سرد ہواؤں کے طلسم سے نکل کر اپنی دنیا میں واپس آ گیا۔ نعیمہ اس کے لئے گرم گرم کافی بنا لائی۔ دفعتہ سلیم کی نظر مینٹل پیس پر رکھے ہوئے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر پڑی۔ ’’یہ کاغذ کیسا ہے ڈارلنگ…؟‘‘ سلیم نے پوچھا۔
’’یہ آج دروازے کے نیچے سے پھینکا گیا تھا۔ اس سے پہلے کسی نے تمہیں پکارا تھا مگر میں نے دروازہ نہیں کھولا۔ کیونکہ تم موجود نہیں تھے‘‘
سلیم نے کاغذ اٹھا کر دیکھا۔ بڑی مختصر سی عبارت تھی۔
’’مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ آ جائیے‘ اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے‘‘
’’مونا‘‘
اس نے نعیمہ کو یہ پیغام دکھایا… مدد طلب کرنے کے لئے اس نے مجھے ہی کیوں منتخب کیا…؟‘‘ اس نے کسی قدر تشویش سے کہا۔
’’یہاں ایسا اور کون ہے جس سے وہ مدد کے لئے کہہ سکتی۔‘‘ نعیمہ نے جواب دیا۔
’’میں جا کر دیکھتا ہوں کہ معاملہ کیا ہے؟‘‘ سلیم نے اپنا گیلا کوٹ دوبارہ کندھے پر ڈال لیا۔
’’تم تنہا ہو سلیم اور معلوم نہیں حالات کی نوعیت کیا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے تمہارے جانے سے‘‘ نعیمہ نے الجھن آمیز لہجے میں کہا۔
’’لیکن مجھے جانا چاہیے۔ ایک کمزور اور معصوم لڑکی کو میری مدد کی ضرورت ہے‘‘ سلیم دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ نعیمہ تشویش آمیز نظروں سے اسے جاتے دیکھتی رہی۔
٭……………٭
سلیم کے پاؤں کیچڑ میں لت پت تھے اور وہ ڈاکٹر امجد کے گھر کی عقبی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اندر جانے کا راستہ تلاش کر رہا تھا۔ بالآخر اسے عقبی دیوار میں ایک باقاعدہ دروازہ نظر آ گیا جو غالباً کئی سال سے کھولا نہیں گیا تھا۔ اس دروازے ہی میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جو بند نہیں تھی۔ سلیم اس راستے سے اندر کود گیا۔ اب اس کے سامنے ایک تنگ راہداری تھی جس کی دیواروں کا پلستر ادھڑا ہوا تھا اور اس میں دونوں طرف کمروں کی قطاریں تھیں… وہ کمروں کے دروازے ہاتھ سے ٹٹولتا ہوا آگے بڑھا۔ ایک کمرے کا دروازہ ذرا سے دباؤ سے کھل گیا۔ اور گرم ہوا سلیم کے چہرے سے ٹکرائی۔ یہ بغیر روشندانوں اور کھڑکیوں والا کمرہ تھا۔ اور اس کی فضاء میں نمی اور جانوروں کی مخصوص بو رچی ہوئی تھی۔ سلیم چوکنا ہو گیا یہاں کسی ذی روح کے سانس لینے کی آواز بھی محسوس ہو رہی تھی۔
شاید یہ ڈاکٹر امجد کا حنوط شدہ سانپ رکھنے والا کمرہ ہے۔ اس نے سوچا اور چند لمحے کے انتظار کے بعد ہمت کر کے ماچس کی تیلی جلائی اور اسے سر سے اونچا کر کے کمرے میں جھانکا۔ اندر مختلف جانوروں کے پنجرے تھے، کچھ دیواروں کے ساتھ رکھے تھے۔ کچھ فرش پر اور کچھ چھت پر بھی لٹک رہے تھے۔ ان پنجروں میں چوہے، خرگوش،ٔ گلہریاں اور دوسرے چھوٹے چھوٹے جانور بند تھے۔ مدھم مدھم روشنی میں ایک لمحے کے لئے ان کی ننھی ننھی خوف زدہ آنکھیں بلور کی طرح چمکیں اور وہ اپنے تنگ پنجروں میں ادھر ادھر دوڑنے لگے۔ ان میں کوئی سانپ نہیں تھا۔
شاید یہ سانپوں کے لئے خوراک کا کام دیتے ہوں۔ سلیم نے سوچا۔ اسے نہ جانے کیوں یقین تھا کہ اس گھر میں سانپ ضرور موجود ہیں۔تیلی کی دم توڑتی ہوئی روشنی میں اس نے دو خاص چیزیں دیکھیں۔ ایک بغلی کمرے کا دروازہ اور دوسرے نعیمہ کی ننھی بلی ’’موتی‘‘ جو دوسرے جانوروں کی طرح ایک پنجرے میں بند تھی۔ سلیم کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ یہاں کیسے پہنچ گئی لیکن فی الحال اسے اس کے حال پر چھوڑ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ اس کمرے میں گرمی بھی تھی اور اندھیرا بھی۔ اس نے دوسری تیلی جلائی۔ یہاں دیواروں کے ساتھ بڑے بڑے شیلف تھے اور ان میں چینی ماسک، جاپانی گڑیاں، قیمتی مشرقی نوادرات، افریقہ کے جنگلی قبائل کی مخصوص طریقے سے سکھائی ہوئی کھوپڑیاں، حنوط شدہ جانور اور موٹی موٹی کتابیں بھری پڑی تھیں۔ اس کمرے میں ایک دوسرے کمرے کی زرد چوکھٹ والی کھڑکی کھلتی تھی اور سلیم کی نظر جیسے ہی اس کھڑکی پر پڑی وہ اپنی جگہ سن ہو کر رہ گیا۔ کھڑکی کے دوسری طرف ایک خوفناک کنگ کوبرا پھن اٹھائے جبڑے کھولے نظر آ رہا تھا۔ سلیم جلتی ہوئی تیلی انگلیوں میں دبائے الٹے قدموں آہستہ آہستہ دروازے کی طرف واپس ہونے لگا۔ زہریلا ناگ اپنی جگہ بے حس و حرکت رہا۔
دروازہ بند کر کے دھڑکتے دل کے ساتھ وہ آگے بڑھا۔ مکان کا کوئی سرا نہیں مل رہا تھا اور سلیم کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس حصے میں پھر رہا ہے۔ مونا شاید گھر کے وسط میں کہیں اپنے باپ کے کمرے میں قید تھی۔ ایک اور کمرے کا دروازہ اسے کھلا ملا۔ اس میں کہیں اوپر سے لکڑی کا ایک زینہ بھی نیچے تک آ رہا تھا۔ ’’مونا‘‘۔ اس نے دبی دبی آواز میں کہا۔ لکڑی کے زینے پر ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ ہوئی جیسے کوئی اوپر والی سیڑھی پر آیا ہو۔ یہ ایک تاریک ہیولا تھا۔ قدموں کی مدھم مدھم چاپ کے ساتھ یہ ہیولا سیڑھیاں اترنے لگا۔ دفعتاً چاند بادلوں کی اوٹ سے نکل آیا اور کسی کھڑکی سے چاندنی چھن چھن کر کمرے میں پھیلنے لگی۔ ہیولا جو سیڑھیوں سے اتر کر کمرے کے وسط میں پہنچ چکا تھا روشنی میں آ گیا۔
یہ مونا تھی۔ لیکن اسے یقین نہ آیا کہ وہ مونا کو ہی دیکھ رہا ہے۔ اس کے بال سختی سے سر کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے اور سر ہی کا ایک حصہ معلوم ہو رہے تھے۔ جیسا کہ عموماً پانی میں غوطہ لگانے کے بعد ہو جاتے ہیں اور کھال چتکبری ہو چکی تھی۔ چہرہ سیاہ پڑ چکا تھا اور اس پر دو گول گول چھوٹی سرخ آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔ ایک خوفناک پھنکار کے ساتھ اس نے منہ کھولا اور دو نوکیلے دانتوں کے درمیان سے اس کی پتلی لمبی اور دوشاخہ زبان باہر کو لپکی۔ سلیم چیخیں مارتا ہوا باہر کو بھاگا لیکن ناگن اس پر جھپٹ چکی تھی۔ اس کے دانتوں کا نشانہ سلیم کی گردن تھی مگر اس کے بھاگ اٹھنے کی وجہ سے یہ نشانہ خطا ہو گیا۔ اور سلیم نے گردن سے چند انچ نیچے اپنے کندھے میں کوٹ کو چھیدتے ہوئے دو نشتروں کی سی چبھن محسوس کی۔ وار ہلکا مگر زہریلا تھا۔ اس کے رگ و پے میں درد کی ٹیس کے ساتھ سیال آگ سی دوڑنے لگی۔ زہریلی ناگن اپنے تیز حملے کے جوش میں اب بھی کمرے میں بل کھا رہی تھی۔ وہ گرتا پڑتا باہر بھاگا۔ اس کے حافظے میں ہر چیز دھندلا رہی تھی۔ اور ٹانگیں لمحہ بہ لمحہ اپنی طاقت کھو رہی تھیں۔
جیسے تیسے وہ اس شیطانی گھر سے نکل آیا۔ باہر کی شدید سردی نے ایک لمحے کے لئے اسے سہارا دیا۔ اور اس کا خون جو سیال آتش کی طرح کھولتا ہوا اس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا اس خون کی اذیت کچھ کم ہوئی۔ لمبی سانسیں لے کر وہ زندگی کے تار کو ٹوٹنے سے بچانے کی جدوجہد کرتا ہوا اپنے گھر کی طرف مشینی انداز میں بڑھنے لگا۔ اس کا ذہن اس کا ساتھ چھوڑ چکا تھا اور وہ بغیر کسی ارادے کے محض ایک حیوانی جبلت کے تحت گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جب وہ اپنے گھر کے دروازے سے ٹکرایا تو اسے احساس نہیں تھا کہ اس کے جسم کا کون سا حصہ حرکت کر سکتا ہے اور کون سا حصہ حرکت کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اس نے نعیمہ کی دھندلی دھندلی شکل دیکھی جو شاید رو رہی تھی۔
’’چاقو… ایک تیز دھار چاقو…‘‘ یہ شاید اس کی اپنی آواز تھی مگر وہ اسے پہچان نہیں سکتا تھا۔ ’’زخم کھرچ ڈالو… اس کے اردگرد گہرائی تک گوشت کاٹ دو… خدا کے لئے اسے کاٹ دو…‘‘ یہ بھی اس کی اپنی آواز تھی مگر کس قدر بھیانک اور پھٹی پھٹی…!
پھر اس نے اپنے کندھے میں ان دو دانتوں سے زیادہ تیز دھار اور زیادہ تکلیف دہ چیز پیوست ہوتے محسوس کی۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کے چاروں طرف گاڑھے سرخ سیال کا سمندر تھا اور وہ اس میں غوطے کھا رہا تھا۔ بلبلا رہا تھا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتا تھا مگر اس گاڑھے سرخ سیال نے اس کی ناک منہ اور کان بند کر دئیے تھے۔
’’وہ مونا نہیں ہو سکتی‘‘ وہ بڑبڑایا۔ اس کے پٹھے سن ہوتے جا رہے تھے۔ ’’مونا ابھی تک قید ہے… مونا‘‘ وہ بڑبڑائے جا رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے حواس پر مکمل تاریکی چھا گئی…!
٭……………٭
نعیمہ، سلیم کے قریب ہی بیٹھی تھی۔ وہ پوری رات سوتا رہا تھا۔ اور اب اس کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ اس کی بڑبڑاہٹ بھی بند ہو چکی تھی۔ نعیمہ کے ذہن میں ان گنت سوالات تھے جو اب ذرا سا سکون میسر آنے پر ایک بار پھر اسے بے چین کر رہے تھے۔ سلیم پر کیا گزری…؟ کیا وہ مونا تک پہنچ سکا تھا؟ کیا مونا کو اب بھی مدد کی ضرورت ہے…؟ یا اسے جو گزند پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا ہے…؟
جب سورج کی روشنی کمرے میں داخل ہوئی تو سلیم پھر سوتے میں بڑبڑانے لگا۔ ’’مونا… مونا…‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔ اسی اثناء میں دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ نعیمہ نے بیڈروم کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ نیچے رحمان کھڑا تھا۔
’’مجھے سلیم سے ملنا تھا‘‘ رحمان نے کہا۔
’’میں نیچے آتی ہوں‘‘
نعیمہ اسے ساتھ لے کر بیڈروم میں آئی۔ ’’آپ خود دیکھ لیں کہ سلیم کو کیا ہو گیا ہے…‘‘
رحمان نے گہری نظروں سے سلیم کو دیکھا ’’یہ عام نیند تو نہیں ہے‘‘ اس نے متفکرانہ لہجے میں کہا۔ نعیمہ نے آہستگی سے سلیم کا سر دوسری طرف کر کے اس کے کندھے پر موجود سیاہی مائل زخم کو دکھایا۔
’’یہ ڈاکٹر کے گھر کب گیا تھا؟‘‘ رحمان نے اچانک پوچھا۔
’’پچھلی رات… لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ امجد کے گھر گیا تھا۔‘‘ نعیمہ نے تعجب سے پوچھا۔
’’ایسا حادثہ اسی پراسرار گھر میں پیش آ سکتا ہے۔ لیکن وہ آخر وہاں گیا کیوں تھا؟‘‘ رحمان نے پوچھا۔ نعیمہ نے اسے مونا کے پیغام کے متعلق بتایا۔ ’’اور میرا خیال ہے اسے اب بھی مدد کی ضرورت ہے‘‘ نعیمہ نے کہا۔ ’’میں اس کے پاس جانا چاہتی ہوں‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ لیکن رحمان نے اس کا راستہ روک لیا۔ ’’آپ کو احساس ہونا چاہیے کہ آپ کا شوہر بستر پر بے ہوش پڑا ہے اور اسے مونا سے زیادہ توجہ اور نگہداشت کی ضرورت ہے۔ آپ کے حق میں بہتر یہی ہے کہ گھر سے قدم نہ نکالیں‘‘ رحمان کے لہجے میں بردباری بھی تھی اور سختی بھی۔ نعیمہ آرام کرسی پر نیم دراز ہو گئی۔ رحمن باورچی خانے میں جا کربڑی مستعدی سے دو پیالی کافی بنا لایا۔ میرا خیال ہے آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ رحمان نے ایک پیالی اس کی طرف بڑھائی۔
کافی پی کر نعیمہ کی پلکیں بوجھل ہونے لگیں۔ ’’غالباً آپ نے کافی میں کچھ ملایا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ہاں یہی آپ کے لئے بہترتھا۔‘‘ رحمان نے اطمینان سے کہا۔
’’میں جا کر قصبے میں ڈاکٹر کو پیغام بھجواتا ہوں۔ یا شاید مجھے خود ہی جانا پڑے‘‘ اس نے ایک چھوٹا سا سٹول اٹھا کر نعیمہ کے پیروں تلے رکھ دیا تاکہ وہ آرام سے نیم دراز ہو سکے اور خود باہر چل دیا۔
جب نعیمہ کی آنکھ کھلی تو رات کا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ اس نے اٹھ کر کھانا پکانے کے لئے چولہا جلایااور واپس آ کر ایک بار پھر سلیم کو دیکھا۔ اس کی نبض ٹھیک چل رہی تھی۔ اور وہ اب بھی گہری نیند میں تھا۔ نعیمہ پھر مونا کے متعلق سوچنے لگی اور سوچتے سوچتے اس نے ایک فیصلہ کر لیا۔ مونا کی مدد کے لئے پہنچنے کا فیصلہ!
درختوں اور جھاڑیوں سے گزرتی ہوئی وہ ڈاکٹر کے گھر تک پہنچی اور صدر دروازے سے بچتی ہوئی اسی کھڑکی سے اندر چلی گئی جس سے سلیم گھر کے اندر گیا تھا۔ تاریک اور سنسان راہداری میں غیر مرئی شیطانی سائے رقص کرتے محسوس ہوتے تھے۔ وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتی آگے بڑھی۔ اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھلا دیکھا۔ اس میں قطار در قطار خالی پنجرے پڑے تھے لیکن انہیں دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ کچھ دیر پہلے تک ان میں جانور موجود تھے۔ نعیمہ ایک اور دروازے کی طرف بڑھی جس کے نیچے سے روشنی آتی نظر آ رہی تھی۔ اس نے دروازے میں ذرا سی درز پیدا کر کے ایک آنکھ سے اندر دیکھنے کی کوشش کی۔ کمرے کے وسط میں اسے ایک اونچی کرسی کی پشت دکھائی دی۔ عین اسی لمحے اس کرسی پر بیٹھا ہوا کوئی شخص اٹھا۔ وہ ڈاکٹر امجد تھا۔ اس کے کندھے جھکے ہوئے تھے۔ وہ بڑے تھکے تھکے انداز میں اٹھ کر اس کونے کی طرف بڑھا جہاں تک نعیمہ کی نظر نہیں پہنچ رہی تھی۔ وہاں پر اس نے جھک کر کچھ اٹھایا۔ اور جب وہ واپس پلٹا تو نعیمہ نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں قدیم جاپانی طرز کی خمدار وزنی، ننگی تلوار تھی۔ تلوار لے کر وہ بغلی دروازے سے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔
یقینا وہ تلوار لے کر معصوم مونا کی طرف گیا ہے۔ نعیمہ نے سوچا اور آہستگی سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہو گئی۔ ڈاکٹر امجد کے پیچھے پیچھے اس نے بھی بغلی دروازہ کھولا۔ کمرہ خالی تھا۔ البتہ یہاں سے ایک تنگ سا راستہ گھوم کر کہیں جا رہا تھا۔ ڈاکٹر یقینا اسی راستے سے گیا تھا۔ اس راستے کا دروازہ ایک بیڈ روم میں کھلتا تھا اور یہاں چوہوں کی مخصوص بو آ رہی تھی۔ ایک طرف بستر پر کوئی جسم ساکت پڑا تھا۔ ایک خوبصورت، برہنہ نسوانی جسم… اس کا چہرہ غالباً تکیے کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ لیکن نعیمہ نے پہچان لیا۔ یہ مونا تھی۔ شاید ڈاکٹر امجد اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اور مونا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔ نعیمہ ڈوبتے دل کے ساتھ اس کے قریب پہنچی اور اسے ہلانے جلانے کے لئے اس کے جسم کو ہاتھ لگایا۔ اور یہ دیکھ کر وہ سن رہ گئی کہ جہاں اس نے ہاتھ لگایا تھا وہاں سے کھال چٹخ کر رہ گئی تھی۔ درحقیقت یہ کوئی جسم نہیں تھا۔ صرف ایک خول تھا۔ خالی انڈے کی طرح۔ جیسے کوئی سانپ اپنی کینچلی اتار کر چھوڑ گیا ہو۔ اور تب نعیمہ کو یہ بھی احساس ہوا کہ مونا کا سر تکیے کے نیچے نہیں چھپا تھا بلکہ سر موجود ہی نہیں تھا۔
نعیمہ خوفزدہ نظروں سے نسوانی جسم کی شکل کے اس خول کو دیکھتی ہوئی الٹے قدموں واپس ہوئی۔ وہاں سے وہ ہال میں پہنچ گئی۔ ہال کی سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ اس میں داخل ہوئی تو آگے پتھر کی سیڑھیاں مزید گہرائی میں جا رہی تھیں۔ ان سیڑھیوں کا اختتام ایک چھوٹے سے تہہ خانے میں ہوا جو تین طرف سے دیواروں سے بند تھا اور سامنے چوتھی دیوار کی جگہ نامعلوم حد تک تاریک خلاء تھا۔ تہہ خانے کی چھت بہت نیچی تھی۔ سامنے والے خلاء میں ایک تالاب تھا جو غالباً سیال گندھک سے بھرا ہوا تھا کیونکہ یہاں شدید گرمی اور گندھک کی بو محسوس ہو رہی تھی۔ اور تالاب سے دھوئیں کی پتلی پتلی لکیریں بھی بلند ہو رہی تھیں۔ سیال کی سطح پر کھولتے پانی کی سی سوں سوں جیسی آواز کے ساتھ چھوٹے بڑے بلبلے بن بن کر ٹوٹ رہے تھے۔ لیمپ کی تھرتھراتی روشنی میں نعیمہ نے دیکھا کہ ڈاکٹر امجد اپنی خون آشام تلوار لئے وہاں موجود تھا۔ وہ کوئی خوفناک قدم اٹھانے کے لئے تیار نظر آ رہا تھا۔ اس کے پیروں کے قریب کمبل میں کوئی جسم لپٹا پڑا تھا۔ دفعتہ ڈاکٹر جھکا اور اس نے بجلی کی سی تیزی سے وہ کمبل ہٹا کر ایک طرف پھینک دیا… ہلکی سی کراہ بلند ہوئی اور جسم نے کروٹ لے کر سر گھمایا اور ایک نظر ڈاکٹر کی طرف دیکھا… یہ مونا تھی۔ اس کی سرخ سرخ آنکھوں میں غنودگی تھی۔ جیسی عموماً پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ اور نعیمہ کے لئے حیرت ناک بات یہ تھی کہ برہنہ نعیمہ کی کھال سبز اور چتکبری تھی اور لیمپ کی روشنی میں چمک رہی تھی۔
ڈاکٹر امجد نے تلوار بلند کی۔ یقینا وہ مونا کی گردن اس کے تن سے جدا کرنے والا تھا۔ دفعتہ نعیمہ کے عقب سے بھاگتے ہوئے قدموں کے ساتھ کسی کی غیض وغضب سے چنگھاڑتی آواز بلند ہوئی۔ نعیمہ سہم کر تاریک گوشے میں دیوار کے ساتھ چپک گئی۔ آنے والا مالے تھا اور دیوانوں کی طرح شور مچاتا آندھی کے جھونکے کی طرح اس کے قریب سے گزرتا چلا گیا اور ڈاکٹر پر جھپٹ پڑا۔ ڈاکٹر کی تلوار مونا کے سر سے ایک انچ کے فاصلے سے گزر گئی اور فرش سے ٹکرا گئی۔ مالے اس سے لپٹ پڑا تھا۔ ڈاکٹر نے اپنی تلوار مضبوطی سے تھامنا چاہی لیکن مالے نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا آئل لیمپ اس پر کھینچ مارا۔ لیمپ لڑھکتا ہوا دور چلا گیا او ر اس سے تیل نکل کر پتھریلے فرش پر پھیلنے لگا۔ وہ دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔ ڈاکٹر قدآور اور جسیم آدمی تھا اور مالے اس کے مقابلے میں خاصا پستہ قد لیکن اس وقت اس کے جسم میں شاید شیطانی روحیں حلول کر گئی تھیں کہ وہ ڈاکٹر کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ڈاکٹر کا خون پی جانا چاہتا ہو لیکن بالآخر ڈاکٹر نے اسے قابو کر لیا۔ اس نے اسے دونوں ٹانگوں کے درمیان دبا کر اس کی گردن اپنی کلائی کے حلق میں پھنسالی تھی۔ دوسرے ہی لمحے اس نے مالے کو کسی بڑے فٹ بال کی طرح گندھک کے تالاب کی طرف اچھال دیا۔ مالے کی کربناک چیخ بلند ہوئی اور وہ تالاب کی گہرائی میں غائب ہو گیا۔ یہاں گندھک کی سطح پر دھوئیں کی لکیریں کچھ اور کثیف ہو گئیں اور دوسرے ہی لمحے وہاں صرف دائرے اورکچھ نئے بلبلے تیرتے رہ گئے۔
فرش پر پھیلتے تیل نے آگ پکڑ لی تھی اور یہ آگ رفتہ رفتہ گندھک کے تالاب کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دھوئیں کے مارے نعیمہ کو سانس لینا دوبھر ہو گیا اور جب اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنی کھانسی پر قابو نہیں رکھ سکے گی تو وہ پلٹ کر واپس بھاگی۔ وہ ہال سے نکلنے ہی والی تھی کہ کسی نے اس کا بازو پکڑ کر پیچھے سے کھینچ لیا۔
’’معاف کرنا نعیمہ…‘‘ یہ ڈاکٹر امجد تھا جو اسے قریباً کھینچتا ہوا اسی کمرے میں لے گیا جہاں وہ دعوت والے دن بیٹھے تھے اور مونا سے موسیقی سنی تھی۔ ڈاکٹر نے دروازہ بولٹ کر کے اس کا بازو چھوڑ دیا۔ نعیمہ نے تہہ خانے میں بلند ہونے والے شعلوں کے متعلق سوچا اور چیخ کر بولی۔ ’’آگ تھوڑی دیر میں یہاں تک پہنچ جائے گی‘‘
’’آرام سے بیٹھ جاؤ‘‘ ڈاکٹر نے گویا اس کی بات سنی ہی نہیں تھی۔ یا اسے آگ کی کوئی فکر نہیں تھی۔ ’’کیا تم جانتی ہو کہ نیچے کیا تھا اور وہ سب کچھ کیوں ہو رہا تھا جو غالباً تم نے چھپ کر دیکھ ہی لیا ہے‘‘ ڈاکٹر امجد نے تھکے تھکے لہجے میں کہنا شروع کیا۔ اس کے کندھے ایک بار پھر کسی غیر مرئی بوجھ سے جھک گئے تھے۔ ’’وہ میری بیٹی مونا تھی جسے میں قتل کرنا چاہ رہا تھا‘‘
’’مونا…‘‘ نعیمہ نے کسی قدر حیرت سے کہا۔ حالانکہ اس نے خود اس لڑکی کو دیکھا تھا، لیکن بیڈروم میں اس کی کھال کے بغیر سر والے خول اور تہہ خانے میں اسے سبز چتکبری کھال میں موجود پا کر اس کا خیال تھا کہ اصل مونا کو ٹھکانے لگایا جا چکا ہے اور یہ اس کی شکل و شباہت کے ساتھ کوئی شیطانی روح ہے۔
’’ہاں وہ مونا تھی لیکن ایسی معصوم اور پیاری لڑکی نہیں جیسی تم اسے سمجھتی رہی ہو۔ وہ تو انسانیت کی پیروڈی ہے… تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا… میری بیٹی… آہ میرے خدا…‘‘ بے ربط الفاظ اس کے حلق میں اٹکنے لگے اور آواز رندھ گئی۔ پھر سرخ سرخ آنسو بھری آنکھوں سے اس نے کتابوں کے شیلفوں کو گھورتے ہوئے کہا۔ ’’یہ دنیا خونخوار وحشیوں کا جنگل ہے‘‘ ڈاکٹر کی دھندلائی ہوئی آنکھیں گویا ماضی کی گزرگاہوں میں بھٹکنے لگیں۔ ’’اس کی ماں اسے جنم دیتے ہی مر گئی تھی۔ میں نے ہی اسے پالا اور وہ میری زندگی کی واحد خوشی تھی۔ اس کے علاوہ مجھے دنیا کی کوئی چیز پیاری نہیں تھی۔ اور وہ جانتے تھے کہ میں اپنی بیٹی سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ اس لئے انہوں نے مجھے سزا دینے کے لئے میری بیٹی کو ہی ذریعہ بنایا…‘‘
’’وہ کون…؟‘‘ نعیمہ نے پوچھا۔
’’میں تمہیں شروع سے بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں علم الارواح کا ڈاکٹر ہوں اور میری ریسرچ کے مخصوص موضوعات مشرق بعید کے مذاہب رہے ہیں۔ میں نے ہندوستان، جاوا، سماٹرا اور بورنیو کا سفر کیا ہے۔ افریقہ کے گھنے اور تاریک جنگلوں سے گزرا ہوں۔ ایسی ایسی قوموں کے درمیان دن گزارے ہیں جن کے متعلق آج کی دنیا کے مہذب لوگ کچھ بھی نہیں جانتے۔ مثلاً افریقہ کے آدم خور قبیلے یا بورنیو کے سانپ پرست لوگ… دنیا صرف یہ جانتی ہے کہ آدم خوروں یا سانپ پرستوں کا وجود ہے لیکن یہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کی روایات کیا ہیں۔ وہ کس طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی مذہبی اقدار کیا ہیں اور کوئی یہ سب کچھ جان بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ لوگ اسے ہرگز پسند نہیں کرتے ہیں کہ کوئی ان کے بارے میں جان لے… اور ان کے متعلق یہ سب کچھ جان کر کوئی زندہ واپس نہیں آ سکتا اور اگر زندہ واپس آ جائے تب بھی ان کی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ ان کی ہر بات ہر روایت ایک راز ہے جس کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ ان سب جگہوں پر گھومنے پھرنے کے دوران مونا میرے ساتھ رہی۔ میں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کیا اور اس ہنس مکھ بچی نے بھی کبھی اپنی پیشانی پر بل نہیں آنے دیا۔ کبھی کسی بے آرامی کی شکایت نہیں کی‘‘ ڈاکٹر امجد اپنی کرسی میں کچھ اور سمٹ گیا۔ ’’بورنیو کے سانپ پرست قبیلے کے مطالعے کا جان لیوا کام مکمل کر کے میں ملایا آ گیا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بدبختی میرے پیچھے لگ گئی ہے۔ ملایا میں قیام کے دوران مونا غائب ہو گئی۔ میں نے اعلیٰ حکام اور اپنے احباب کے علاوہ بااثر حلقے میں واویلا برپا کر دیا اور تب مجھے بتایا گیا کہ ملایا میں بچوں کا غائب ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ہے اور اس پر وہ لوگ زیادہ تشویش میں بھی مبتلا نہیں ہوتے کیونکہ بچوں کو اغوا کرنے والے عموماً وہ لوگ ہوتے تھے جو بھوک کے ہاتھوں تنگ آ کر چھوٹے موٹے بے ضرر جرائم پر اتر آتے تھے۔ عموماً وہ چھوٹی موٹی رقم وصول کر کے بچوں کو کوئی گزند پہنچائے بغیر رہا کر دیا کرتے تھے۔ میں بھی خاموش ہو کر ایسے ہی کسی مجرم کے مطالبے کا انتظار کرنے لگا لیکن چند دن بعد مونا بغیر کسی مطالبے اور بغیر کسی اطلاع کے میرے پاس واپس پہنچ گئی۔ اس کچھ یاد نہیں تھا کہ اسے کون لوگ لے گئے تھے اور اتنے دن وہ کہاں رہی اور بظاہر اسے کوئی گزند نہیں پہنچایا گیا تھا۔ لیکن آہ… درحقیقت وہ پہلے والی مونا نہیں رہی تھی… وہ انہی زہریلے لوگوں میں سے ایک بن چکی تھی جو اپنے رازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور جن کا میں مجرم تھا۔ انہوں نے اپنا انتقام لے لیا تھا۔‘‘ ڈاکٹر اس طرح بولے جا رہا تھا جیسے نعیمہ کی بجائے کسی ان دیکھی ہستی سے مخاطب ہو۔
’’تب پھر پراسرار واقعات کالامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ مونا جہاں ہوتی وہاں لوگ کالی موت کا شکار ہونے لگتے۔ جونہی مجھے صورت حال کی نزاکت کا احساس ہوا۔ میں نے اس دور افتادہ ویران اور گرم علاقے کا رخ کیا۔گنجان آبادی میں مونا کی غیر انسانی طاقتوں کا راز فاش ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ سرد علاقوں کا موسم اس کی جان لے سکتا تھا۔ یہاں میں نے اس کے لئے اس گھر میں خصوصی انتظامات کئے۔ تہہ خانے میں گندھک کا تالاب بنوایا جو گھر کو ہمیشہ گرم رکھتا تھا۔ مجھے امید تھی کہ میں اس کے وجود کو غیر انسانی طاقتوں سے پاک کر سکوں گا لیکن میرا علم، میرا تجربہ، میری کوششیں سب کچھ بیکار رہا۔ وہ ہر موسم سرما کے آغاز پر کینچلی بدلتی، چھوٹے موٹے جانور کھا جاتی، سردی سے بچتی اور گرم جگہ پر گہری نیند سویا کرتی۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ انسانیت کو اس کے ضرر سے بچانے کے لئے میں دل پر پتھر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے اسے قتل کر دوں لیکن مالے آڑے آ گیا۔ وہ بھی درحقیقت انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ اور شاید بورنیو سے ہی میرے پیچھے لگا تھا۔ ملایا میں قیام کے دوران اس نے میرے پاس ملازمت حاصل کی اور پھر مونا کے مسئلہ پر مستقلاً مجھے بلیک میل کرنے لگا۔ ظاہر ہے کہ میں اپنی بچی مونا کا راز فاش ہو جانا برداشت نہیں کر سکتا تھا اور وہ اس راز سے واقف تھا۔ و ہ مونا کی حفاظت کرتا تھا۔ کیونکہ مونا کا مستقل طور پر ان شیطانی طاقتوں کے زیراثر رہنا ہی ان کا انتقام تھا۔ آج بھی وہ مونا کو بچانے کے لئے جان پر کھیل گیا۔ لیکن اب وہ آگ میں بھسم ہو کر مر جائے گی اور یہی اس کے لئے بہتر ہے‘‘ ڈاکٹر امجد نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
آگ کی بو اب لائبریری تک آ پہنچی تھی۔ نعیمہ دروازے کی طرف بڑھی لیکن ڈاکٹر نے پھر اس کا بازو پکڑ لیا۔ تمہیں یہیں ٹھہرنا ہو گا نعیمہ۔
’’شعلے یہاں تک پہنچ چکے ہیں‘ ڈاکٹر امجد کیا تم چاہتے ہو کہ ہم اسی بند کمرے میں جل کر مر جائیں‘‘ نعیمہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔
’’شعلے… ہاہاہا… ہاں یہ شعلے مونا کو حرارت پہنچائیں گے… وہ گرمی کو پسند کرتی ہے نا… ‘‘ ڈاکٹر نے عجیب سے انداز میں ہنستے ہوئے کہا۔ یقینا وہ دماغی توازن کھو چکا تھا۔
’’لیکن اتنی زیادہ آگ میں تو وہ مر جائے گی۔ آؤ اسے بچائیں‘‘ نعیمہ نے نفسیاتی طور پر اس کے پدرانہ جذبات ابھارنے کی کوشش کی کہ شاید اسی طرح وہ کمرے سے نکلنے پر آمادہ ہو جائے۔
’’مر جائے گی… ہاہاہا… ہم دونوں بھی اسی کے ساتھ مریں گے‘‘ اس نے دروازے کی طرف بڑھتی ہوئی نعیمہ کا بازو دوبارہ پکڑ کے اسے پیچھے دھکیل دیا۔ پھر خود اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔ شاید وہ تہہ خانے کی طرف جا رہا تھا۔ نعیمہ نے باہر تالے میں چابی گھومنے کی آواز سنی۔ معلوم نہیں ڈاکٹر امجد چابی ساتھ ہی لے گیا تھا یا تالے میں ہی چھوڑ گیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے اس نے ڈاکٹر کی حیرت زدہ آواز سنی۔
’’مونا…‘‘ ساتھ ہی ڈاکٹر نے ایک زوردار سسکاری لی اوراس کے بعد دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ چند ثانیے بعد دوبارہ قفل میں چابی گھومی۔ اور دروازہ کھول کر مونا اندر داخل ہوئی۔ اندر آ کر اس نے دروازہ بند کر دیا۔ اس کا چہرہ پتھر کی طرح بے جان تھا۔ اور سبز چمکیلی کھال میں لپٹا ہوا اس کا جسم لہرا رہا تھا۔
نعیمہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی اور مونا اس میز کے گرد چکر کاٹنے لگی جس کے ساتھ نعیمہ کھڑی تھی۔ دفعتاً دروازہ زورزور سے دھڑدھڑایا گیا۔
’’میں یہاں ہوں… اندر‘ ‘ نعیمہ زور سے چیخی‘‘ مجھے بچاؤ۔‘‘ دروازہ اور زور سے دھڑ دھڑایا جانے لگا۔ پھر کھڑکی پر بھی ضربیں پڑنے لگیں اور دوسرے ہی لمحے اس کا شیشہ جھناکے سے ٹوٹ کر فرش پر آ گرا۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ کھڑکی میں سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ سلاخوں کے دوسری طرف نعیمہ نے رحمان کا چہرہ دیکھا۔ دروازے کی طرف غالباً سلیم تھا۔
مونا اب بھی اس کے گرد چکر لگا رہی تھی۔ پھر اس کا جسم ٹوٹے ہوئے اسپرنگ کی طرح اچھلا۔ نعیمہ نے اس کے جبڑوں سے دو شاخی زبان کو لپکتے دیکھا۔ وہ اس کے حملے سے بچنے کے لئے اچھلی اور شیلف سے ٹکرا کر گری۔ لیکن دو نوکیلے دانت اس کے کندھے میں اتر چکے تھے۔ نعیمہ کے منہ سے چیخ نکلی۔
اپنے کامیاب حملے کے بعد مونا وسط میں فرش پر کھڑی جھوم رہی تھی۔
’’آہ… سردی…‘‘ اچانک مونا نے کہا۔ اس کی آواز چوہے کی چیں چیں سے مشابہہ تھی۔ ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے سرد ہوا کے جھونکے اندر آ رہے تھے۔
نعیمہ کے کندھے میں تکلیف ضرور تھی مگر صرف اتنی جتنی دو بڑے کانٹے چبھنے سے ہوتی ہے۔ اور بس… زہر کے جسم میں سرایت کرنے کی کوئی علامت اس نے محسوس نہیں کی۔ پھر اس نے دیکھا کہ مونا سردی سے سکڑ کر جلیبی کی سی شکل اختیار کر کے فرش پر بیٹھ چکی تھی۔ نعیمہ کانپتی ٹانگوں سے اٹھی اور دوڑ کر دروازے کا بولٹ گرا دیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ سلیم کے بازوؤں میں تھی۔ دھوئیں کے کثیف مرغولے اور شعلوں کی سرخ زبانیں کمرے میں لپک آئیں۔ آگ یہاں تک پہنچ چکی تھی۔
سلیم اس کا ہاتھ پکڑ کے باہر کی طرف بھاگا۔ بھاگتے وقت اس کے کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا تاکہ مونا باہر نہ نکل سکے۔ دروازے سے چند قدم کے فاصلے پر انہوں نے ڈاکٹر امجد کو مردہ پڑے دیکھا۔ اس کا چہرہ سیاہ ہو چکا تھا۔ مونا نے اپنے باپ کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔ ان پراسرار لوگوں کا انتقام پورا ہو چکا تھا۔
سلیم اس کا ہاتھ پکڑے بھاگنے لگا۔ اور ان کے عقب میں رحمان بھاگ رہا تھا۔ وہ لوگ لکڑی کے زینے کی طرف بڑھے۔ زینے کی ریلنگ آگ پکڑ چکی تھی۔ دھواں اس کے پھیپھڑوں میں گھستا جا رہا تھا اور آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ گرتے پڑتے وہ صدر دروازے تک پہنچے اور باری باری اس کی چھوٹی کھڑکی سے باہر نکلے۔
’’جلد از جلد عمارت سے دور نکل چلو… یہ کسی بھی لمحے ڈھیر ہو سکتی ہے‘‘ رحمان نے کہا۔ وہ اپنے بنگلے کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ دور جا کر انہوں نے پلٹ کر آتشزدہ عمارت کی طرف دیکھا۔ شعلے کھڑکیوں سے نکل رہے تھے اور بڑے بڑے تختوں اور شہتیروں سے چٹخ چٹخ کر گرنے کی ہلکی ہلکی آوازیں یہاں تک پہنچ رہی تھیں۔
’’تم وہاں تک کیسے پہنچے سلیم… ‘‘ نعیمہ نے اس کے سینے میں دبک کر روتی آنکھوں کے ساتھ پوچھا۔
’’اس کے لئے تمہیں رحمان کا ممنون ہونا چاہیے۔ یہ ہمارے ہاں پہنچا اور تمہیں موجود نہ پا کر سمجھ گیا کہ تم کہاں گئی ہو۔ تب اس نے مجھے جگایا اور ہم اس طرف بھاگے‘‘ سلیم نے کہا۔
آگ بڑھتی جا رہی تھی۔ اب اس کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔
’’سلیم… اس نے مجھے ڈس لیا تھا لیکن میں ابھی تک… میرا مطلب ہے سوائے کندھے میں تکلیف کے مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا…‘‘ نعیمہ نے اپنا شانہ سہلاتے ہوئے کہا۔
’’تم تک پہنچنے سے پہلے وہ اپنے باپ کو ڈس چکی تھی اور ایک ناگن ایک وقت میں دو ڈنگ نہیں مار سکتی۔ اپنے ڈنک میں دوبارہ زہر جمع کرنے کے لئے اسے کچھ وقت درکار تھا‘‘ سلیم نے جواب دیا۔
’’اوہ… وہ جھرجھری لے کر اس کے اور قریب ہو گئی۔
اور پھر عمارت ایک زوردار آواز کے ساتھ ڈھیر ہو گئی۔ اور بڑی بڑی چنگاریاں چاروں طرف ہوا میں اڑنے لگیں۔
’’اب ہم سکون سے یہاں رہ سکیں گے۔ ہے نا سلیم…؟‘‘ نعیمہ نے شعلوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’یقینا…‘‘ رحمان نے کہا۔
’’کیونکہ اس شیطانی طاقت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اور مجھے تو یہ خوشی ہے کہ میری زندگی میں ہی کالی موت کا معمہ حل ہو گیا‘‘
فلک بوس شعلوں کی دور دور تک پھیلتی روشنی میں نشیب کی طرف سے بستی کے لوگ ٹولیوں کی صورت میں اس طرف آتے نظر آ رہے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close