NaeyUfaq May-18

اقرا

طاہر قریشی

التواب
(توبہ قبول کرنے والا)

تواب: مبالغہ کا صیغہ توبہ سے مشتق ہے۔ لغت میں توبہ کرنے والے اور توبہ قبول کرنے والے دونوں کو ’’تواب‘‘ کہا گیاہے۔ بندہ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتاہے۔ اس لئے اس کا استعمال اللہ تعالیٰ اوراُس کے بندے دونوں کے لئے ہوتاہے۔ اس کے لغوی معنی‘ پھرآنے والا‘توبہ کرنے والا‘معاف کرنے والا‘توبہ قبول کرنے والا۔جب یہ اسمِ تواب کسی بندے کی صفت کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی کثرت سے توبہ کرنے والا ہوں گے اور جب صفتِ الٰہی کے لئے استعمال ہوتو اس کامطلب ہوا کہ ربِّ التوا ب کثرت سے اپنے بندوں کی باربارتوبہ قبول فرمانے والا ہے۔
امام ابوسلیمان خطابیؒ فرماتے ہیں کہ ’’تواب وہ ہے جو اپنی بندوں پرمہربانی فرماکر ان کی توبہ کوقبولیت بخشے چاہے جتنی دفعہ توبہ دہرائی جاتی رہے اتنی ہی بار قبولیت کی تکرار ہو۔(کتاب الاسماء والصفات۔لغات القرآن مولانا عبدالرشید نعمانیؒ)
’’تواب‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظیم صفت ہے اللہ تعالیٰ جوبڑا ہی رحیم وکریم ہے وہ اپنے بندوں کی اپنی بداعمالی یااپنی طرزِ زندگی پراظہارندامت وشرمندگی کوپسند فرماتاہے جب بندہ اپنے کسی عمل یا طرزِعمل پر ندامت محسو س کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتاہے اور توبہ کی درخواست کرتاہے تو اُس وقت اللہ کی صفتِ توابی زور پر آتی ہے اور وہ اپنے بندے کی درخواست کو قبول فرمالیتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے وقت جہاں اس میں بہت سی خاصیتیں جمع فرمادی ہیں اس میں ایک حس ایک صفت یہ بھی اس کی فطرت کاحصہ بنادی کہ ہر قسم کے خطرات کے وقت اس کے اندر خطرے کی گھنٹی بجنے لگتی ہے‘ اُسے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ جو کچھ کررہاہے یاجس راہ پر چل رہاہے وہ غلط ہے‘ اللہ کے حکم کے خلاف ہے‘اگر اللہ نے اسے اس احساس کی نعمت سے نوازاہوتاہے اوراس کے دل میں خو فِ الٰہی موجزن ہوتا ہے تووہ فوراً ہی توبہ استغفار کرلیتاہے اور اپنے رب سے رجوع کرلیتا ہے یہ احساس اللہ نے انسانی فطرت میں رکھا ہے‘ توبہ کی توفیق بھی اللہ ہی دیتاہے۔
ترجمہ:۔بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ۔۳۷)
قرآنِ کریم اس نظریے کی تردید کرتاہے کہ گناہ کے نتائج لازمی ہیںجو ہر حال میں انسان کو بھگتنا ہی ہوں گے۔ یہ نظریہ دراصل انسان کا خودساختہ ہے جو اس میں مایوسی پیداکردیتاہے۔جبکہ قرآنِ حکیم اس کے برعکس یہ بتاتاہے کہ بھلائی کی جزااور برائی کی سزا د ینا خالص اللہ تبارک وتعالیٰ کااختیار ہے۔وہ ذاتِ عالی ہرچیز پرہرہرطرح سے قادرِمطلق ہے‘ وہ ہماری بھلائی پرانعام یعنی جزا دے یہ کوئی ضروری نہیں یانیکی وبھلائی کالازمی طبیعی نتیجہ بھی نہیں‘بلکہ یہ تو اللہ کافضل ہے‘ چاہے وہ عنایت فرمائے یانہ فرمائے۔اسی طرح برائی پروہ قادرِ مطلق سزا دیناچاہے تو دے نہ چاہے تو نہ دے۔ اللہ کافضل اس کی رحمت وحکمت سے ہم رشتہ ہے۔ اللہ کی ایک صفت حکیم بھی ہے‘ وہ اپنے اختیارات کا قطعی اندھااستعمال نہیں فرماتا‘ بھلائی ونیکی پرجزاضروردیتاہے بشرطیکہ خالص رضاِئے الٰہی کی نیت سے کی گئی ہو۔ظاہری نمائشی نیکی پرنہیں‘ اسی طرح وہ سزااس قصور وغلطی پردیتاہے جوباغیانہ جسارت کے ساتھ کی جائے جس کے پیچھے ندامت شرمساری کے بجائے ارتکاب جرم کی خواہش موجود ہو۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس قصور پرمعافی دیتاہے جس کے بعد بندہ شرمندہ ونادم ہواور آئندہ اپنی اصلاح پرآمادہ بھی ہو۔ اور بغاوت کی روش چھو ڑ کراطاعت کی روش اختیار کرلے۔
ترجمہ:۔اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے سکھااور ہماری توبہ قبول فرما‘ توبڑاتوبہ قبول فرمانے والا او ر رحم وکرم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ۔۱۲۸)
یہ ایک ایسی دعاہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ دلِ مومن کی پہلی تمناکیاہوتی ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہی ایک مومن کامحبوب مشغلہ ہوتاہے۔ وہ اطاعت وبندگی کے تقاضے پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اور دین اور کتاب وحکمت کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور ہر قسم کی گندگیوں‘آلودگیوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں ہمیشہ ہرمخلصانہ دعاقبول ہوتی ہے۔
ترجمہ:اوراللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمت کرنے میں کامل ہے۔ (التوبہ۔۱۰۴)
اللہ تبارک وتعالیٰ کی یہ صفتِ عظیم ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نہ صرف توبہ قبول فرماتاہے بلکہ وہ اپنی صفتِ رحیمی وکریمی کے ذریعے انہیں معاف بھی فرمادیتاہے۔ انسان غلطیاں کرتا رہتاہے اس سے دانستہ اور نادانستہ گناہ سرزدہوتے رہتے ہیں‘ انسان غلطی کرے اور اس کااحساس ہوجانے پر فوراً اپنی شرمندگی وندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے‘ اللہ بڑاہی مہربان او ر رحم وکرم کر نے والا ہے وہ اپنے بندے کی شرم وندامت سے کی گئی توبہ کو قبول فرماکراسے معاف فرمادیتاہے۔
فضائل :۔جوشخص اس صفتِ مبارک کاورد اپنا معمول بنالے اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام سنواردیتاہے اوراس کا نفس پرقابو رہتا ہے۔ اللہ اسے خوش حالی اور فراغت عطا فرماتاہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close