ایک بار کہوں تم میری ہو

اک بار کہو تم میری ہو

عالیہ حرا

’’سنو…! میر اانتظار کروگی؟‘‘بے حد آس‘ نراس میں ڈوبا یہ جملہ اس کے کانوں میں پڑا۔
اس نے دھیرے سے نگاہ اٹھائی… دراز قد سمیر درانی اس کے سامنے کھڑا تھا۔ چہرے پر اطمینان تھا‘ شیو بڑھی ہوئی تھی‘ آنکھوں میںہلکی ہلکی سرخی تھی۔ گہری سنجیدگی نے اس کااحاطہ کیاہواتھا۔ کل تک وہ اجنبی تھا۔ مگراس وقت دل کے بے حد قریب محسوس ہو رہاتھا۔ اتنا کہ ہاتھ بڑھائے اور اسے گلے لگالے اوراس کے شانے پر سررکھے اور سارے تھکے ہوئے آنسو بہاڈالے۔ اپنے ہونے کا یقین اس کی رگوں میں اتار دے۔
سمیر کے اندر کانیک انسان زندہ تھا۔ اور وہ نیکی اسے پیاری تھی۔
’’تمہارے لئے‘ تمہاری خاطر جارہا ہوں‘ تمہارے لئے تمہاری خاطر لوٹ آئوں گا۔‘‘
اس کا دل دھیرے دھیرے دھڑک رہاتھا۔ نظریں یوسف ثانی پر تھیں۔
’’قانون مجھے جتنی بھی سزا دے‘ میں نے تمہاری خاطر اقبال جرم کیا ہے۔ تمہاری نیکی نے میرے وجود میں سوئے نیک انسان کو جگادیاہے۔ میں مرد مومن بن کر لوٹوں گا۔‘‘
وہ ساکت کھڑی سن رہی تھی اوراس کے لفظوں کو دل پر محسوس کر رہی تھی۔
سمیر کا دل رو رہاتھااور آنسوئوں سے اس کاوجود بھیگ رہاتھا۔
’’کچھ بولوگی نہیں…امید‘یقین‘ آس کے جگنو…‘‘
پھربھی ہونٹوں کا بند قفل نہ ٹوٹا۔
’’ایک بار…‘‘ دھیرے سے اس کے قریب جھکا… اس کے زرد کپڑوں سے اٹھتی جیسمین کی مخصوص خوشبو اس کی سانسوں میں اترنے لگی۔
’’تمہارے اپنے ہونے کایقین کرلوں۔‘‘
’’نہیں…!‘‘
’’زاد راہ بھی نہیں۔‘‘ آنکھوں میں یاس‘ پیاس کے بادباں تھے۔
اس کاسرانکار میں ہلا۔ ’’نہیں۔‘‘
’’بہت ظالم ہو۔ بہت سنگدل ہو۔ بہت پتھر دل ہو۔‘‘ سمیر کی آواز سرگوشی میں ڈھلی۔
’’سمیر…‘‘ دروازے پر دستک زور دار تھی۔
’’جان من…جان دل…تمہارے لئے بدلا ہے‘ تمہارے لئے جارہاہے۔ تمہارے لئے لوٹوں گا۔ میرا انتظار کرنا۔‘‘
’’سمیر…! سمیر…!‘‘دستک کی شدت میں اضافہ ہوا۔
’’اک بدلا ہوا انسان تمہیں نئی زندگی دے گا۔ اس کے ل ئے میری جان… دعا کرنا۔‘‘ سمیرنے سراٹھایا۔ آبگینے نے سرجھکالیا۔
’’یا آبھی جائو اب…‘‘ باہر جمال زچ ہو رہا تھا۔
’’شکریہ۔‘‘ شرارتی نظروں سے دیکھا۔مقام دل پر ہاتھ رکھا۔’’یہ گوشہ دل یونہی مہکتا رہے گا۔‘‘وہ دھیرے سے پلٹا… اور دروازے کی جانب بڑھ کر رک گیا۔
’’آبگینے کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا۔
’’خداحافظ…‘‘ سمیر کا ہاتھ اٹھا۔ اور وہ ہاتھ بھی نہ اٹھاسکی۔
اسے آنکھوں میں جذب کرتا وہ بند دروازہ کھول کر باہ رنکلا اور دروازہ بند ہوگیا۔
وہ بھاگتی ہوئی پیچھے آئی اور بند دروازی سے سرٹیک کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ دروازہ کھول کرباہرجانا چاہتی تھی‘ اسے الوداع کہہ دے جاتے مسافر کوزاد راہ دے دے۔ مگر باہر کیسی خونیں نظریں تھیں۔ قاتل لفظ تھے‘ جگر کو چھلنی کردینے والے چہرے تھے۔ مگراس کا دل مطمئن تھا‘ اس نے زاد راہ کے لئے نیکی کمائی تھی اپنے مستقبل کومحفوظ کرلیاتھا۔
باہر گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ آبگینے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ مستقبل اس کے ساتھ ہی تو تھا۔ بند کمرے میں تنہائی جو پچھلے برسوں سے اس کی سہیلی تھی اس کے گرد آکربیٹھی اور اس کے آنسو پونچھنے لگی۔
دھیرے سے اس نے کمرے سے باہر قدم نکالا۔ بھوک بھی تھی‘ پیاس بھی‘ اور وہ زندہ بھی تھی۔ لائونج خالی تھا۔ وہ سیڑھیاں اتر کر کچن میں آگئی۔کل شام سے اب تک کوئی اس کے کمرے میں نہیں آیا تھا۔ اوراسے اپنام ستقبل اپنا حال تاریک لگ رہاتھا۔برکتی بوا آٹا گوندھ رہی تھیں۔ ان کی بیٹی ریشماں سالن بھون رہی تھی۔
’’آپ…؟‘‘ دونوں نے ایک ساتھ اسے دیکھا۔
’’اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو؟‘‘ قدرے جرات بھرے انداز میں کہتی وہ اپنے لئے چائے بنانے لگی۔ جام‘ بریڈ‘ مکھن‘ ٹیبل خالی تھی۔ پورٹ میں پراٹھے پڑے تھے پلیٹ میں نکالا‘ ساتھ اچار لیا اور چائے مگ میں نکال کر ڈائننگ ٹیبل پرآکرناشتہ کرنے لگی۔ گھرمیں غیر معمولی خاموشی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک خوف کا آکٹوپس اس کے گرد سمیٹنے لگا۔اور اب اسے ہمت کرنی تھی۔ اس گھر میں اپنا مقام بناناتھا… دلوں میں جگہ بنانی ھی۔
دائیں جانب تیسری کرسی پر نگاہ کی… اور آنکھ بھرآئی۔ وہ اسی کرسی پربیٹھتاتھا۔ کچن میں آتے جاتے اسے دیکھتا اور ناشتہ کرتا تھا‘اور وہ اک نگاہ اس پر نہیں ڈالتی تھی۔ اور یہ سلسلہ پچھلے ایک سال سے جاری تھی۔ وہ اسے چرالایاتھا۔ مگراسے اس کی رضا سے مانگتاتھا۔ اس کی موجودگی میں جو آنکھ خشک رہتی تھی آج اس کی غیر موجودگی میں بھرارہی تھی۔
تبھی دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھلااوراس کی ساس برآمد ہوئیں۔ دوسرے لمحے ہاتھ میں پکڑا شیشے کا گلاس زمین پر دے مارا۔
’’تم…تم… تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم یہاں بیٹھو… اس گھر کی خوشیاں کھاگئی… اس گھر کے سکون کو ڈس لیا… ناگن…نکل یہاں سے… دفعہ ہو۔‘‘ اس کے سامنے چیخ رہی تھیں۔ بیٹے کا دکھ ان کے چہرے ٖپر رقم تھا۔ شوہر کی جدائی کا دکھ سینے میں جاگنے لگا۔
’’اسے نکالو… کرم دین… کرم دین…اسد… ا سد… نوکر کو گھر کے افراد کو چیخ چیخ کر بلانیلگیں۔ ان کا سانس پھولنے لا۔ تبھی اوپر سے اس کی جٹھانی شاہینہ بھاگتی ہوئی آئی۔
’’ممی…ممی کیاہوا… کیوں ایسے چیخ رہی ہیں طبیعت خراب ہوجائے گی…‘‘ انہیں شانوں سے سنبھال کر صوفے پربٹھایا۔ وہ دھیرے سے سراٹھا کر انہیں دیکھنے لگی۔
’’اسے نکالو… یہ مجھے مار دے گی۔ اس نے میرے سمیر کو سلاخوں کے پیچھے کردیا ہے۔ یہ کیسے یہاں رہ سکتی ہے۔ سکون سے‘ وہ ننگے ٹھنڈے‘گندے فرش پر سویاہوگا۔ اور یہ گرم بستر پر پائوں پسارے پڑی ہوگی۔ جانے اس نے ناشتہ کیاہوگایا نہیں اور یہ…یہ‘‘ ان کی حالت غیر ہورہی تھی۔ سانس پھولنے لگاتھا۔ اس کی جانب اشارہ کرتاہاتھ نیچے گر گیا۔ ان کی آواز سن کر ہمدانی صاحب بھی چلے آئے۔ عینک کے پیچھے سے جھانکتی انکی آنکھیں شب بیداری کی غماز تھیں ان کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے۔ چہرے پر برسوں کی تھکن۔ان کا جوان بیٹا سلاخوں کے پیچھے تھا۔ انہیں سکون کیسے مل سکتاتھا۔ ان کی ہر کوشش رائیگاں گئی۔مظلوموں کاخون رنگ لے آیا تھا۔
اس کی پلکیں جھک گئیں۔ ’’کیااس نے غلط کیا…؟‘‘دل کی سطح پر سوال ابھرا۔
’’خود کو سنبھالیں ساجدہ… کیاہوگیا ہے معلوم ہے آپ کو آپ انجائنا کی مریضہ ہیں۔آپ کابلڈپریشر بڑھ جائے گا۔‘‘ دھیرے سے کلائی تھام لی۔
’’میں… میں اس عورت کی شکل دیکھنا نہیں چاہتی۔ اگر… اگرمیری زندگی چاہتے ہیں تو اس عورت کو نکال دیں۔ یہ قاتل ہے۔ لٹیری ہے میرے بچے کی۔‘‘ ہائے… ہائے وہ سینہ پیٹنے لگیں۔ میرے بچے کو بھری جوانی میں لٹ لیا۔ پانچ سال… پانچ طویل سال پانچ صدیاں… ہائے! ہائے! میں اپنے بچے کی شکل نہیں دیکھ سکوں گی۔ وہ زاروزار رونے لگیں۔ منجھلی بہو… پانی کا گلاس لے آئی۔ شاہینہ کوئی گولی نکال کر ان کے منہ میں ڈالنے لگی۔ گلاس ہونٹوں سے لگادیا۔
ہمدانی صاحب نے اخبار تہہ کرتے ہوئے اس پرنظر ڈالی۔ آبگینے نظریں چرا کر کھڑی ہوئی‘ اپنے برتن سمیٹ کر کچن میں چلی گئی۔اس کا دل خود اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ وہاں سے نکل کر اپنے روم میں آگئی۔ اس کی ساس کے کوسنے‘صلواتیں‘ گالیاں اس تک باآسانی پہنچ رہی تھیں۔ کائوچ پربیٹھ کرپخائوں سمیٹے اور کشن گھٹنوں پررکھ کر اس پر چہرہ ٹکالیا۔ ساتھ ہی آنکھوں کے جھرنے بہہ نکلے۔
آبگینے ابراہیم… اب زندگی کس طرح گزرے گی۔ اب زندگی کا آئندہ کیاہوگا؟ اس گھر سے نکلنے کے بعد؟‘‘ اس نے بھگیں پلکیں بند کرلیں۔
’’سنو! میراانتظار کروگی نا؟‘‘ سمیر کی حقدارانہ آواز اس کے گرد سرگوشی بن گئی۔
’’نیک سیرت‘ باکردار‘ شریف مرد میرا آئیڈیل ہے سمیر ہمدانی۔ میں کسی طور اس نہج پرسمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ اس لئے میں نے تمہیں زادراہ نہیں دیا۔‘‘
آبگینے کے آنسو خاموشی سے اس کے وجود کو بھگورہے تھے۔ اور سوچیں بے اختیار ہو رہی تھیں۔ ساجدہ ہمدانی کے بین ابھی تک جاری تھا۔ گھٹنوں پرسرجھکالیا۔ صرف ہمدانی صاحب کے سہارے اس گھر میں زندگی نہیں گزاری جاسکتی تھی۔ ان کے سوااس گھر میں اس کا کوئی رہبر‘ رہنما‘ ہمدرد دوست اور رفیق نہیں بناتھا۔
///
وسیع وعریض لان اس کی نگاہوں کے سامنے تھا۔کناروں پر ناریل اور کھجور کے درخت تھے جن میں نھی منی کلیاں سر اٹھائے سردھن رہی تھیں۔ اب توانا سی کیفیت تھی ان کے انداز میں اوپر جاتی سیڑھیوں کی آخری سیڑھی پر گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے آبگینے کی نگاہیں لان پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ڈالتے رات کا راجہ پر ٹھہر گئیں۔
’’ریشماں یہاں رات کا راجہ ہے رات کی رانی کیوں نہیں‘جبکہ رات کی رانی کی مہک زیادہ ہوتی ہے۔‘‘
اولین دنو ں میں لان کی سیر کرتے پودوں س ملتے‘ اس نے ریشماں سے پوچھاتھا۔ پودے‘ نیچر اور بچے اس کی کمزوری تھے۔
’’یہ لان کی خوبصورتی چھوٹے صاحب کی محنتاور ان کاشوق ہے۔ یہ سب گملے پودے‘ کانٹ چھانٹ چھوٹے صاحب کرتے ہیں انہوں نے ہی مالی رکھا ہوا ہے۔ اسے ہی ہدایتیں دیتے رہتے ہیں۔‘‘ ریشماں نے تفصیل سے جواب دیاتھا۔
’’آپ فکر کیوں کرتی ہیں مادام…! آپ کا حکم سر آنکھوں پر کل ہی یہ ٹلوبیل ہٹ کر رات کی رانی سج جائے گی اوررات کے راجے کی رونق بڑھائے گی۔‘‘
سمیر درانی کی گھمبیر آواز اس کے شانوں کے پاس ابھری تھی۔ وہ ڈر کر پلٹی تھی اور سمیر نے اپنے بازو پھیلا دیئے تھے۔
زہے نصیب… خوش آمدید۔‘‘
وہ تڑپ کراس کے حصار سے نکلی تھی۔
’’اور کوئی حکم سرکار…!‘‘
پسند تومجھے مہندی کی باڑھ بھی ہے۔ مجھے نیم ججن اور انناس بھی اچھا لگتا ہے کب تک تم دوسروں کی خواہشوں پر نظر رکھوگے۔‘‘ اس کالہجہ سخت اور کرخت تھا۔ اسے مخاطب کرتی ہی نہیں تھی اگر کرنا پڑہی جائے تو یونہی سنگدلانہ لب ولہجہ اور خون اگلتی آنکھیں ہوجاتی تھیں۔ اور وہ جانے کس مٹی کابنا ہواتھا۔ نرم‘ میٹھااور لو دیتا لہجہ ہوتاتھا۔
مجھے مہندی کی خوشبو اس کے رنگ پسند ہیں اور محبوب کی مہندی کی بات ہی کیا ہے؟ اس کی سپید ہتھیلی کو اس نے اپنی ہتھیلی پررکھ لیا۔
میرے نام کا رنگ کیوں اتاردیا… وہ چونکا تھا۔
’’پہناہی کب تھا۔‘‘ ہتھیلی کھینچ لی۔
اس نے دونوں شانوں پر ہتھیلیاں ٹکا کرقریب کیا۔
اتنی سخت دل مت بنو کہ میں…!
آہ! اس کی خود پر جھکنے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کرب سے چلائی۔
تبھی آسٹریلین طوطے کی تیز آواز پرہڑبڑا کر ہوش میں آئی۔ ٹیرس کی سیڑھیاں تھیں‘ اور اوپر کھلا آسمان تھا۔ ایک ڈار زرانیچے کو محو پرواز تھی۔ ایک پرندہ پیچھے رہ گیاتھا جوتیز تیز اڑ کر اپنے ساتھیوں کی سمت جاتے ہوئے آوازیں نکال رہاتھا۔
آبگینے کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
اس کے ساتھاس کے ہمنوا کہاں ہیں‘ وہ کسے پکارے‘ کسے آواز دے‘ کسے ہمدرد سمجھے…؟
’’سمیر… سمیر تم نے میرے ساتھ بہت براکیا ہے‘ میری ہنستی کھیلتی زندگی میں آگ لگادی۔ میرا میکہ‘ میرا گھربرباد کردیا۔ میرے بابا…میرے بابا جان…! آبگینے کی ہتھیلی گھٹنوں کے گرد سے اٹھ کر ماتھے پر ٹکی اور وہ بے چارگی سے سسک اٹھی۔ میں تمہیں معاف کرنابھی چاہوں تو نہیں کرسکتی۔ پیچھے دیکھوں تو کچھ نظر نہیں آتا‘ آگے دیکھوں تو کوئی اپنا نہیں‘ تمہارے ساتھ چلوں تو احساس ہی مرجاتا ہے‘ یہ… یہ… یہ کس جرم کی تم نے مجھے سزا دی ہے۔ تمہارے اعمال مجھے کیوں لے ڈوبے۔ میں نے تو کسی کابرابھی نہیں چاہاتھا۔
وہ بھل بھل ساون بھادوں تھی۔ شام نیچے اتر رہی تھی۔ پورے کہ پورے الجنت میں سکوت کی سی کیفیت تھی۔ اس کے عمل نے سب کو سانپ سنگھا دیا تھا۔ پچھلیتین دنوں میں اسے احساس ہوگیاتھا وہ کیا تھی اورکیا بن گئی تھی۔
شاہینہ بھابی اور ارم بھابی کی آنکھوں میں کیسی تضحیک آمیز طنز تھی۔ رابطہ تو انہوں نے کبھی بھی نہیں رکھ اتھا۔ سمیر کے انداز انہیں چپ رہنے پرمجبور کرتے تھے وہ ایک گستاخ بدتمیز اور نڈر انسان تھا۔ جو برائیوں سے کھیلتا اور دوسروں کا حق چھیننا جانتاتھا۔ اوراپنی عزت سے سب کو ڈر لگتاہے۔ ایک تووہ سمیر جیسے انسان کی بیوی تھی جو سرپھرا‘ اور منہ زور تھا دوسرے وہ بھگا کر لائی گئی ھی‘ عزت کے ساتھ نہیں آئی تھی۔ جو اس گھر کے لوگ اور درودیوار اسے قبول کرتے۔ تو اس نے کون سا زورستم‘ جبروزبردستی کے اس بندھن کو قبول کیا تھا۔برے انسان کے ساتھ رہنا خود کو برا بنانے کے مترادف ہے۔ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اور آبگینے ابراہیم کے لئے یہ سوچ ہی سوہان روح تھی کہ ایک برے انسان کے ساتھ تازندگی رہنا۔
نہیں… نہیں…! اس کے بابا نے اسے ساری عمر نیکی کا درس دیا اچھائی کا سبق پڑھایا‘بدبخت مردوں کے لئے بدعورتیں ہیں۔ نیک عورتوں کے لئے نیک مرد۔ کیا وہ اتنی بری تھی‘ اس نے زندگی میں کوئی نیکی نہیں کی اس کے ماں باپ نیک نہیں تھے۔ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوئیں کہ اس کی زندگی میں بدبخت مرد آیا تھا۔ یہ خیال ہی مرجانے کے لئے کافی تھا اور اولین دن سے وہ اس احساس کی تپش سے اشکبار تھی۔ اور یہ ہی احساس اسے خاکستر کررہاتھا۔
اس نے آہٹ پر سراٹھایا۔ اپنے بیڈروم سے نکل کر نیچے جاتی ارم بھابی خاصی بے پروائی بدلحاظی اور طنزیہ نظروں سے اسے دیکھتی نیچے جارہی تھیں۔ اس نے تو نیکی کی تھی‘ اس کا یہ اجر…!سرگھما کر سامنے دیکھنے لگی۔ شام کا سماں رات کے اندھیرے میں چھپنے لگا تھا۔وہ دھیرے سے اٹھی اور اپنے بیڈروم میں آنے لگی۔ تبھی نیچے سے آتے شور نے قدم روک لئے۔
’’میرابیٹا کھاگئی‘ دل کے ارمان پورے ہوگئے‘ اب کیوں سینہ کوبی کررہی ہے‘ کیوں ماتم کناں ہے‘ می کہتی ہوں اس کااس گھر میں ہونا مجھے مار دے گا۔ ہمدانی صاحب اس ڈائن کو‘ کلموہی کو اس گھر سے نکالیں ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔‘‘ساجدہ ہمدانی اس کی ساس چیخ رہی تھیں۔
’’اب اس گھر میں اس کی کیا ضرورت ہے۔ اسے کہیں جہاں سے آئی ہے چلی جائے‘ جہنم رسید ہوجائے‘ جہاں مرضی جاکر منہ کالا کرلے۔‘‘
اس کے رکے ہوئے آنسو پھر آنکھوں میں بھر آنے لگے۔ اپنے بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر آگئی۔ مجھے بھی یہاں نہیں رہنا وہ صوفے پر گری۔ ’’پھر کہاں جائوں گی؟‘‘ قد آور شیشے میں اس کے عکس کا بت تھا۔
’’گھر…! باباکے گھر‘زعم سے سر اٹھایا۔
ان کا گھر تو کرائے پر ہے‘ اوپر زیرتعمیر کمروں میں سارا سامان ہے دکانیں کرائے پر ہیں۔
میں اسی اپنے سامان کے ساتھ رہ لوں گی مگر یہاں نہیں۔
آبگینے ابراہیم‘ زندگی سامان نہیں ہوتی۔ میں اپنی پیاری شفیق پھپھو کے گھر چلی جائوں گی۔‘‘ اس ڈیڑھ سال کے عرصے میں انہوں نے تمہاری کتنی خبر گیری کی اور وہ تو جانے کیا سمجھتی ہیں۔‘‘
آبگینے کا اٹھا ہوا سر جھکنے لگا۔
’’سمیر…سمیر…‘‘ اس کے اشک بہہ نکلے۔ ’’میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔ میں کیا تھی اور تم نے کیا بنادیا۔ میں کہاں جائوں‘ کہاں پناہ لوں۔خدا کرے‘ تم مرجائو… مرجائو… مرجائو۔‘‘
قالین پر گر کر صوفے پر سررکھ کر پھوٹ پھوٹ کررودی۔ ہر بار کارونا یوں ہوتاتھا جیسے ابھی ابھی کوئی مرا ہو۔ شام غریباں اس کے وجود سے آکاس بیل کی ماندن لپٹنے لگے۔
///
دریچے سے لگی چپ چاپ سوگار باہر دیکھ رہی تھی۔ پچھلی جانب ذیلی سڑک تھی‘ نوتعمیر گھر تھے‘ ادھورا پارک تعمیل کے مراحل میں تھا۔ سڑک زیر تعمیر تھی‘ گہری خاموشی تھی‘سخت تیز دھوپ ہرسوپھیلی ہوئی تھی۔
آہٹ پر مڑی۔
ریشماں خوان لئے کھڑی تھی۔
’’بی بی یہ آپ کا کھانا ہے‘ رات کابھی میں آپ کو کھانا کمرے میں ہی دے جایا کروں گی۔ بڑے صاحب کہ ہرہے ہیں کہ آپ نیچے نہیں آئیں جب تک بیگم صاحبہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوجاتی۔‘‘
گویا وہ محصور کردی گئی ہے اس مکان کی قیدی ہے۔ اس کی مرضی‘ اس کی عزت نفس اس کی خوداری‘ ریشماں چلی گئی‘ آنگینے بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔ اس کی صلاحیتیں‘ اس کی ذہانت‘ اس کی قابلیت اس کے عزائم سب قیدی‘ سب رائیگاں‘ سب زمین بوس۔
اس کی سوچیں ساکت ہونے لگیں۔ اسے تو لیکچرار بننا تھا۔ اسے تو پروفیسر بننا تھا۔ اسے تو اسکالر بننا تھا‘ یہ… یہ‘یہ کیاہوگیا…؟ اس کے بابا کے خواب‘ اس کی خواہش کیا اس لئے‘ اس دن کے لئے اتنی محنت کی تھی کہ اس کی زندگی دوسرے گزاریں۔
اس کے وجود میں چھپا ہوا جنون کروٹ لینے لگا۔ پچھلے دوسالوں کی زندگی صرف اس طرح گزری کہ ساعتوں کو سمجھ رہی تھی کہ ہوکیارہا ہے۔ اس کے ساتھ‘ کیوں ہو رہا ہے‘ اس کی غلطی‘ اس کی کوتاہی‘مگر کہیں پروف کی غلطی بھی نظر نہیں آرہی تھی۔
’’نہیں…!‘‘ دھیرے سی کھڑے ہو کر ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔اپنے خواب اور بابا کی خواہش ضرور پوری کرے گی۔ زندگی میں رکھاہی کیاہے۔کتنی عزت تھی اس کے خاندان میں اس کی جو سمیر نے داغ داغ کردی۔ خدا کرے… سمیر…سمیر تم مرجائو… مرجائو…! دریچے سے سرٹکا کر بے حد درد سے سوچا…کیاسوچتے ہوں گے خاندان والے بڑی پھپھو‘پھپھو‘ چاچو… اسے ہی قصور وار ٹھہراتے ہوں گے۔ بابا کی موت کا ذمہ دار…وہ تو پہلے ہی کہتے تھے بھائی صاحب نے آبگینے کو بہت ڈھیل دی ہوئی ہے اوریہ اسی چھوٹ کانتیجہ ہے جو آبگینے اڑی اڑی پھرتی ہے۔ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتی۔ اور وہ کسی کو خاطر میں کیسے لاتی… وہ تو اپنے بابا کی بیٹی بھی تھی اور بیٹا بھی…
’’بابا…‘‘ بے حد آہ بھر کرسوچا۔ آپ واقعی نیک دل تھے‘ اتنی توہین‘ اتنی ذلت سہہ ہی نہیں سکتے تھے۔ کاش! کاش! میرا کوئی بھائی ہوتا‘ میرا درد بانٹ کر درد کاحساب مانگتا۔ میرا مان بڑھاتا۔ مجھے سرخرو کرتا۔ میرا ساتھ دیتا۔ شاید اسی دن کے لئے بہنیں بھائی مانگتی ہیں۔
دھیرے سے پلٹی قالین پر بیٹھ کرٹرے اپنے سامنے رکھی اور کھانا کھانے لگی۔ زندہ رہنے کے لئے یہ بہت ضروری تھا۔ اسے پاپا سے بات کرنا چاہئے۔ وہ اس کمرے میں محصور ہو کرنہیں رہ سکتی۔ اور… اور نہ ہی سمیر ہمدانی کے نام کی مالا جپ سکتی ہے۔
’’سمیر…!‘‘ اس کا نوالہ درمیان میں معلق ہوا۔’’میں تمہارے لئے‘ تمہاری خاطر جارہا ہوں۔ تم نے مجھے نیک بنایا ہے۔ میرے اندر کے نیک انسان کو جگا کر تمہارے لئے ہی لوٹ کرآئوں گا۔ میرا انعام! دوگی نا… ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔
اور وہ… اک ٹک ساکت! اس کی مرضی‘ اس کی خواہش‘ اس کے خواب‘ نوالہ پلیٹ میں رکھ دیا۔ اور کیا وہ واقعی ایک نیک انسان بن کرلوٹے گا؟‘ اوراس بات کی کیاگارنٹی ہے کہ وہ مرد مومن ہوگا۔
ٹرے سینٹر ٹیبل پررکھ کے خوان ڈھک دیا۔ بھوک پیاس‘ سب ختم ہوگئی۔ بیڈ سے ٹیک لگا کربیٹھ گئی اور خالی الذہنی سے سامنے دیوار کو تکتی رہی۔
///
اس کی ہتھیلیاں پھیلیں تھیں‘ نظریں ہتھیلیوں پر تھیں‘ مگر حرف دعا ذہن سے محو تھی۔ کتنی دیر گزر گئی۔ آہٹ پر چونکی اور گھوم کر دیکھا‘ دروازے پر سمیر کے بابا کھڑے تھے۔ جائے نماز سمیٹ کر کھڑی ہوگئی۔ آئیے پاپا۔‘‘
’’تم ٹھیک ہوبیٹا!‘‘ صوفے پرٹکے… اس نے سرجھکالیا۔’’تمہاری ماما کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے اس لئے میں نے تمہیں نیچے آنے سے منع کیا ہی‘ ان کاردعمل فطری ہے۔ سمیر ان کابیٹا ہے۔‘‘
آبگینے سرجھکائے بیٹھی انگلیاں مسلتی رہی۔
’’مسلسل بیماریوں نے ویسے ہی انہیں چڑچڑا بنادیاہے۔ مجھے یقین ہے سمیر جب واپس آئے گا تو سب ٹھیک ہوچکاہوگا۔‘‘ اس پرنگاہ کی۔ ’’تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھ سے کہہ دینا۔‘‘ دھیرے سے آگے ہو کر اٹھنے لگے۔
’’پاپا…!‘‘
’’جی بیٹا۔‘‘
’’میں جاب کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے ایم ایس سی‘ فزکس میں کیا ہے‘ لیکچرار بننا اور تعلیم جاری رکھنا میرا خواب اوربابا کی خواہش تھی۔ میں ان کی بیٹی ہی نہیں بیٹا بھی ہوں۔‘‘
’’مگر اب تو…‘‘ کہتے کہتے رکے۔
’’میری بھی خواہش ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔میں سمیر سے بات کرتاہوں۔‘‘
آبگینے ان کی شکل دیکھنے لگی۔ ہمدانی صاحب نے نگاہ چرالی۔ اس معصوم صورت لڑکی پرانہیں بے پناہ ترس اور رحم آتاتھا جو ان کے بیٹے کے ہاتھوں جانے کن گناہوں کی سزا بھگت رہی تھی۔ ساجدہ کا اصرار تھا سمیراسے طلاق دے دے۔ اور سمیر کہہ رہاتھا میں نے اسے طلاق دینے کے لئے اس سے شادی نہیں کی۔ اور آبگینے… آبگینے سوچتی تھی‘ شادی ایسے ہوجاتی ہے کیا جب دل نے ہی قبول نہ کیا ہو۔ تو…!
ان کا دل خود ہی اس بچی کو تحفظ دینا چاہتاتھا۔ اورہرممکن کوشش بھی کرتے تھے۔ ’’مگر…! دھیرے سے پلٹ کر باہر آئے اور گہرا سانس لے کر سیڑھیاں اترنے لگے۔
ان کی ہر کوشش رائیگاں تھی۔
ساجدہ وہمی تو تھیں ہی‘ اب شکی بھی ہوگئیں تھیں۔ ’’کی اس لڑکی سے ب ات؟‘‘ لائونج میں وہ بیٹھی تھیں شاید انہوں نے انہیں اوپر جاتا دیکھ لیاتھا۔ وہ لمحہ بھر کو گڑبڑاگئے۔
’’کیا کہہ رہی ہے‘ کب جائے گی وہ؟‘‘
’’ساجدہ! وہ کہاں جائے گی۔ وہ کہیں نہیں جاسکتی۔‘‘
’’اپنی ماں کے گھر جائے۔‘‘
’’اس کی ماں چند سال پہلے مرچکی ہے اور باپ کاانتقال ہارٹ اٹیک سے ہوا ہے۔ اس کاگھر سمیرنے کرائے پر دے دیاہے۔ کوئی گھر نہیں ہے اس کا۔‘‘ گول مول بات کرنے سے بہترتھا ساجدہ کو سمجھادیا جاتا۔
’’کوئی رشتہ دار نہیں ہے اس کا۔‘‘۔چتون تیکھے اور لہجہ درشت تھا۔
’’آپ کے بیٹے نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس صورت میں کون منہ لگاتا ہے۔‘‘ ہمدانی صاحب کہنا چاہتے تھے مگر ساجدہ کی طبیعت کے خیال سے کہہ نہ سکے۔
’’نہیں…! سمیر سے نکاح کے بعد سب نے منہ موڑ لئے ہیں۔‘‘
’توسمیر سے کہیں کہ اسے طلاق دے‘ اک بدکردار لڑکی میری بہو نہیں بن سکتی۔‘‘ ان کا لہجہ چٹخ گیا۔’’میں اس گھر میں اک لمحہ اسے برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ انہوں نے صوفے پربیٹھ کر اخبار اٹھالیا۔ ’’خودکوٹینشن میں مت کریں‘ الجھنا کسی بات کا حل نہیں ہے‘ میں دیکھتا ہوں۔‘‘ ہمدانی صاحب نے رسان سے کہا۔ اور وہ انہیں گھورتی رہیں۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ وہ اخبار پر نگاہ دوڑا رہے تھے۔ ایک جانب بیٹا تھا۔ دوسری جانب مظلوم لڑکی جو ان کے بیٹے کے ہاتھوں برباد ہوگئی تھی۔ تیسری جانب ذہنی مریضہ ساجدہ…تینوں ہی انہیں عزیز تھے۔ وہ سکون آور ادویات کی زیر اثر تھیں ورنہ ابھی چیخنا چلانا شروع کردیتیں۔
///
اس کی محبت کے لئے سمیر نے کیا کیا کردیا تھا اور اس کا دل ساکت تھا کوئی عکس اس کے نام کا ابھر نہیں رہا تھا۔
وہ جانے کس امکان کی بات کررہاتھا۔ کوئی جگنو بھی ہاتھ میں نہیں تھا۔ دوبارہ پڑھے بغیر گلابی لفافہ دراز میں ڈال دیا۔
تم سے ذلت ورسوائی منسوب ہے۔
تم سے دکھ اور ہجر ملے…
تم سے درد دل ملے۔ میں کیسے تمہیں قبول کرلوں۔
کیسے…!
میرے میکے کی آخری امید‘ آخری خوشبو تمہارے طرز عمل کے ہاتھوں خاک نشین ہوئی۔ میں کیسے تمہیں مسند دل پربٹھالوں۔
میرا دل‘ میرا ذہن…
دھیرے سے اٹھ کر دریچہ کھول دیا۔ گرم ہوا‘ گرد کے ساتھ اندر بھاگی چلی آئی۔ سامنے ذیلی سڑک پر نوتعمیر مکان کے آگے ریت کا ٹرک اتر رہاتھا۔
گرد خاک اس کے حلق میں اترنے لگی۔ آنکھوں میں چبھنے لگی۔گرم لہو سا آنکھوں میں اترنے لگا۔
گرد کے پار دیکھتی جانے کیا کیا سوچے گئی۔

وہ ایک کمرے میں محصور نہیں رہ سکتی تھی۔ اپنی صلاحیتوں کو زنگ آلود نہیں کرسکتی تھی۔ اس روز وہ ریشماں سے پوچھ کر ہمدانی صاحب کے کمرے میں آگئی۔
’’آئو! بیٹا…!‘‘
’’میں نے آپ سے جاب کے لئے کہا تھا۔‘‘
’’میں نے سمیر سے پوچھا نہیں۔‘‘
’’مجھے آپ کی اجازت درکار ہے۔‘‘
’’بیٹا…! وہ کچھ شش وپنج میں لائیٹر ہاتھ میں لئے اس کے سامنے کھڑے ہوئے۔ ’’ہمارے خاندان میں کسی نے نوکری نہیں کی۔‘‘
’’مجھے تو اس گھر میں کسی نے قبول نہیں کیا میں گھر کا حصہ کیسے ہوں۔‘‘
’’اس گھر کی بہو تو ہوناں۔‘‘
’’بہو…!‘‘خود ترسی کی سی کیفیت اس کے وجود میں سرائیت کرنے لگی۔ کتناخوبصورت لفظ ہے کتنی حرمت کتنی عظمت اور عزت والا۔کیسے ایک شخص کے ہاتھوں اس لفظ کی عزت پامال ہوئی ہے۔
’’اورشاید… سمیر بھی اس کوپسند نہ کرے۔‘‘
اب اس شخص کے ہاتھوں اپنا مستقبل دائو پر نہیں لگنے دے گی۔ اس کی زندگی ختم ہوگئی ہے‘ذلت لے کے بھی اس کاحکم مانے۔ نہیں…!
دھیرے سے نگاہ اٹھائی۔ اوراس نگاہ میں جانے کیا تھا کہ ہمدانی صاحب نے نگاہ چرالی۔ اپنے بیٹے کے ہاتھوں درد دل سمیٹے آزدہ‘دکھی‘آبگینے ابراہیم کو خوش دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے بیٹے کامستقبل اس سے بندھا ہوا تھا۔ اتنامطمئن‘ اتناخوش‘ اتنا آسودہ‘انہوں نے اسے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔ اک سیمابی کیفیت‘ اک اضطراب‘ اک بے چینی‘ سی اس کے اندر تھی اب اس کے اندر ایک ٹھہرائو‘ اک طمانیت سی آگئی تھی۔ ہمدانی صاحب یہ بھی جانتے تھے کہ اس لڑکی پر ظلم ہوا ہی‘ مگر اب تو ظلم ہوچکاتھا۔ اس کی ساری کشتیاں جل چکی تھیں۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا‘بیٹے نے بھی صراط مستقیم کی راہ اپنالی تھی۔ اب انہیں اس لڑکی کو جذباتی طور پر مضبوط کرنا تھا۔
’’تم نوکری اس لئے کرناچاہتی ہو کہ تمہارے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔‘‘ بغوراس کاجائزہ لے کر اسے بیٹھنے کااشارہ کیا۔
’’نہیں… پاپا…میں نوکری اس لئے بھی کرنا چاہتی ہوں کہ میرا حال مضبوط ہے‘ اور نہ مستقبل… ہرچیز آپ کے سامنے ہے‘ میں اتنی کمزور نہیں ہوں جتنا سمجھ لیا گیا تھا۔‘‘ اس کا گلہ رندھ گیا۔ ’’نوکری اس لئے بھی کرنا چاہتی ہوں کہ یہ میرے پاپا کی خواہش تھی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی جگہ کوئی لے…وہ مجھے ایک پروفیسر‘ اک اسکالر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کابیٹا نہیں تھا کوئی اورمیں ان کابیٹا بھی تھی۔‘‘ اس کی نگاہ سامنے دیوار پر غیرمرئی نقطے پر تھی اور ہمدانی صاحب اس کے مضبوط لہجے کے زیروبم کومحسوس کررہے تھے۔
’’اورسمیر؟‘‘
آبگینے کاسرجھک گیا۔ دونوں ہتھیلیاں ایک دوسرے کوسہارادینے لگیں۔
’’میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گی۔ میں فی الہال اس موضوع پربات نہیں کروں گی۔ اور کچھ عرصے تک میں اس کے خیال کو بھی جھٹک د ینا چاہتی ہوں۔‘‘
ہمدانی صاحب کا دل رکنے لگا… ان کی نگاہوں نے اس کا احاطہ کیا۔
’’اس گھر میں میری پوزیشن بھی آپ کے سامنے ہے۔‘‘
ہمدانی صاحب کا انداز کچھ سوچتا ہوا ہوگیا۔ وہ ایک عاقل بالغ شخص تھے۔ ان کی سوچ میں گہرائی اور گیرائی دونوں موجود تھی۔
’’یونیورسٹی بہت دور ہے یہاں سے اور کوئی پوائنٹ بھی نہیں گزرتا۔‘‘
’’فی الال مجھے یونیورسٹی میں نہیں کسی کالج میں جاب کرنا ہے۔‘‘
’’ہوں…میں تمہیں پتہ کرکے بتاتاہوں۔‘‘
اور وہ دھیرے سے اٹھ گئی۔
///
’’میراخیال ہے اب پرکٹی چڑیا اڑنے میں دیر نہیں لگائے گی۔‘‘ لان میں الجنت کی دونوں بڑی بہوئیں بیٹھی مالٹے کھاتے ہوئے محو گفتگو تھیں۔
’’بڑی جی دار لڑکی ہے۔ ہٹے کٹے خود سر کو جیل کی سیرکروادی۔‘‘ ارم کا لہجہ استہزائیہ تھا۔
’’ہے کیااس لڑکی میں‘ جووہ گھٹنوں کے بل ایسا گرا کہ سارے کس بل نکل گئے۔‘‘ کم شاہینہ بھی نہیں تھی۔
’’اسے تو بڑا غورور تھا خود پر۔‘‘
’’غرور کاسر نیچا ہی ہوتا ہے۔‘‘
’’میں نے ممی کو کہاتھا میری بہن کارشتہ لے لیں‘ مگر انہوں نے پھٹ سے انکار کردیا۔ اک طرح سے اچھاہی ہوا۔ میری ناک کٹ جاتی۔‘‘
’’اپنی پسند کی کرناتھی تو ڈھنگ کی تو کرتا۔ انہہ… عشق نہ پچھے ذات…!‘‘ استہزائیہ ہنسی تھی۔
دونوں نے معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’پاپا کل اس کے کمرے میں گئے تھے۔‘‘ رازداری سے اس کی جانب جھکی۔
’’اچھا!‘‘ تحیر آمیز انداز میں دیکھا۔
’’اور اب تو یہ آناجانا لگارہے گا۔‘‘ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسیں۔
’’لاڈلے بیٹے کی لادلی بیوی‘ لاڈلی بہو ہے۔‘‘
’’لادلے ہی لنکاڈھاتے ہیں۔ لاڈپیار نے ہی تو اسے بگڑا ہوا اک رئیس زادہ بنایا تھا۔‘‘
’’ممی تواسے رکھنے کوتیار نہیں ہیں۔‘‘
’’مگر سمیر کی ضد اور پاپا کی سپورٹ کی وجہ سے رہے گی۔‘‘
’’سمیر کے آنے میں پانچ سال ہیں۔‘‘ معنی خیز لہجہ تھا۔
’’اور پانچ سالوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’مثلاً؟‘‘ شاہینہ نے تعجب سے ارم کودیکھا۔
’’مثلاً گھر سے بھگائی گئی لڑکی بھاگ بھی سکتی ہے۔ سیڑھیوں سے گر کر مربھی سکتی ہے۔ ہارٹ اٹیک بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
دونوں ایک بار پھر ہنس دیں۔ یہ سارا ردعمل سمیر کے لہجے اور رویے کا تھا۔ پیسے کی فراوانی‘ کھلی چھوٹ نے اسے اک بگڑا ہوا نواب بنادیاتھا۔ کہ گھر میں کسی سے اس کے مزاج نہیں ملتے تھے۔ لئے دیئے رہنے والا انداز‘ صبح کو دیر سے اٹھنا رات ڈھلے لوٹنا‘ اس کی سرگرمیاں بھی خفیہ ہونے لگیں تھیں۔ اس کے پاس پیسہ تھا اس کے دوست بیروزگار…خوب عیاشی ہوتی اور اس عیاشی اور تھرل کے نام پر یہ لوگ ڈکیتی کرنے لگی۔ یہ سنسنی خیز بھاگ دوڑ‘ صاف بچ جانا‘ اور منافع بیگ بھر کر نقدی اور زیورات‘تھرل ہی تھرل ہی تھرل…
گاڑی اس کی ڈرائیونگ اس کی جاسوسی پوش ایریے میں جاکر وسیع کرتا‘ اور ڈاکے کے لئے سب اکھٹے جاتے۔ وحید راستے کی پہریداری کرتا‘ وسیع‘عتیق اور راحیل گھر میں کودتے‘سمیر ڈرائیونگ سیٹ پر تیار رہتا…محض چالیس پچاس منٹ کی کارروائی ہوتی‘ اور یہ لوگ نکل جاتے۔ سب سے پہلے گٹ اپ اور نمبرپلیٹ کو آتش زدہ کرتے پھر کولڈ ڈرنکس لے کر لانگ ڈرائیو پر نکل جاتے‘ رقم کے حصے ہوتے۔ زیور کو بیچنے کے لئے دے دیا جاتا۔ لوگوں کو اپنی زندگی اتنی پیاری ہے کہ اک گولی کے خوف سے ہرچیز آگے ڈھیر کردیتے ہیں۔
لوگوں کے خوفزدہ چہروں کا یہ لوگ مذاق اڑاتے… اور ان کی گاڑی سیاہ کولتال کی سڑک پر بھاگتی جاتی۔
سمیر کسی کیساتھ گھر کے اندر نہیں جاتاتھا اس کی ڈیوٹی باہر کی ہوتی تھی۔ اس روز اس کے ستارے گردش میں تھے۔ جانے کیا سوچ کر وہ عتیق کو ڈرائیونگ سیٹ پربٹھا کر اس کاپستول لے کر اندر کود گیا۔ مگر اندر داخل ہوتے ہی انہیں احساس ہوگیا کہ یہ لوگ غلط جگہ پر آگئے ہیں۔ برابر والا گھر تھاوہ جہاں نقب لگانی تھی۔ یہ کسی پروفیسر کا گھر تھا‘ جو اپنی بیٹی کو زندگی کیاسرار ورموز سے مطابق سبق پڑھارہاتھا۔ زیست کے نشیب وفراز سے مطابق سمجھا رہاتھا۔ بیٹی شاید طفل مکتب تھی۔
راحیل نے اندر داخل ہو کر انہیں بندوق کی زد پر لے لیا۔ بوڑھا پروفیسر جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
’’جو کچھ بھی ہے نکال دو۔‘‘ نقاب کے پیچھے سے وسیع غرایا… سہمی خوف زدہ سی لڑکی دیوار سے لگ گئی۔
’’ہمارے گھر میں کتابوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘‘ پروفیسر کے انداز میں اعتماد تھا۔ سمیر کی نظریں لڑکی پر تھیں۔ سہمی ہوئی لڑکی اپنے حواس پر کنٹرول کررہی تھی۔ اسکی نظرین اپنے باپ کی جانب اٹھی ہوئی گن پر تھیں اور سب ایک دم سے چونکے۔لڑکی نے فلائنگ کک لگا کر اپنے باپ کی جانب اٹھی ہوئی بندوق کو اچھال دیاتھا۔
لڑکی بلیک بیلٹ تھی۔
دوٹھوکریں راحیل اور وسیع کوبھی مار دیں۔ بے حد پھرتیلی تھی وہ اور شاید گھر میں کوئی اور نہیں تھا۔ ی جی داری سمیر ہمدانی کے دل میں کھپ گئی۔
سنبھلنے کے لئے دومنٹ کافی تھے راحیل اور وسیع کو۔
’’نکال بڈھے جو کچسھ ہے۔ ایک ضرب اس کے شانے پر لگائی۔
’’کچھ نہیں ہے ہمارے پاس سوائے کتابوں کے‘عزت کے‘میرے بابا ایک پروفیسر ہیں‘ استاد ہیں شرم کرو… لڑکی مچل کر غرائی۔‘‘
’’اچھا…‘‘ سمیر معنی خیزی سے اس کی گردن کے پاس جھکا۔
’’پھرہم…’عزت‘ ہی لے جاتے ہیں۔ آج کل بڑی ضرورت ہے اس کی۔‘‘
’’نہیں…‘‘ پروفیسر خوفزدہ انداز میں اچھلا۔
راحیل نے اس کے سر پر ضرب لگائی۔ صدمہ اور ضرب دونو ں شدید تھیں۔ بڈھا وہیں گر گیا۔ لڑکی چیخنا چاہتی تھی۔ سمیر نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور اسے گڑیا کی طرح اٹھا کر لے اڑے۔
اس کاطنطنہ‘ اس کاغرور سب نکل گیا۔ زہر بھرگیااس کے اندر۔ ان لوگوں نے لڑکی کو خالی فلیٹ پر دو دن رکھا۔ لڑکی لاناان کے کسی پلان میں شامل نہیں تھا۔ جانے کیسے یہ سب ہوگیا۔ اسے زیادہ دن اپنے پاس رکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ لڑکی انہیں گالیاں دیتی‘ کوسنے دیتی اورپھر ہاتھ جوڑ کر انہیں چھور دینے کی فریاد کرتی۔
لڑکی بے حد خوبصورت تھی‘ اس کے دراز ریشمی برائون بال‘بھوری آنکھیں‘ ستواںناک بوٹا سا قد‘ دودھیا رنگت اور نزاکت… سمیر کا دل مائل ہوگیا۔ آج تک کسی لڑکی نے اتنا متاثر نہیں کیا تھا۔ اس کے حلقے میں دوست لڑکیاں ہی تھیں۔ غصہ دکھاتی‘ بدعائیں دیتی‘ یہ لڑکی دل میں پیوست ہوگئی تھی۔
وہ شرمیلی‘ گھریلو اور عبادت گزار تھی۔ کسی نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی جرات نہیں کی تھی۔ یہ سمیر کا حکم تھا مگر جو بدتمیزی یہ لوگ کرچکے تھے اس کاازالہ ممکن نہیں تھا۔ فلیٹ پر دولڑکے موجود ہوتے۔
راحیل چٹخ جاتا۔
’’پھرہم کیا کریں گے اس کا۔ اگر یہ نہیں کریں گے تو… نمازیں پڑھانے کے لئے لایا ہے ادھر… یااس کی امامت میں نماز پڑھنے۔‘‘
اسے دیکھتا سمیر ہمدانی چپ تھا۔
’’اس کی امامت میں نماز…‘‘ دل گداز ہو رہا تھا۔ بعض اوقات اک لمحہ ہی زندگی بدل دیتاہے۔ دل میں براجمان ہوتایہ لمحہ اس کی زندگی کا سنسنی خیز لمحہ تھا۔ اس لمحہ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس لڑکی کے انداز نے زندگی بدل دی۔ خدااس لڑکی کے ساتھ تھا۔ اس کے سجدوں کا اس کی پھیلی ہتھیلیوں کا‘ اس کے آنسوئوں کا اعجاز تھا کہ اس کے دل سے بے اختیار نکلا۔
’’وسیع لڑکی کو گھر چھوڑ آئو۔‘‘ اس کے دل میں خدانے رحم ڈال دیاتھا۔ اور رحم کدا ان لوگوں کے دلوں میں ڈالتاہے جنہیں صراط مستقیم پر چلاناچاہتا ہے۔ جن پر مہربان ہوجائے۔
’’کیا…؟!‘‘ تینوں کے کے منہ کھلے رہ گئے۔
’’اس کاانجام جانتا ہے‘ راحیل نے گھورا۔
’’ہاں…!‘‘ گہرا سانس لیا۔
’’نا…نہیں میں یہ رسک نہیں لے سکتا۔‘‘ وسیع نے ہاتھ اٹھا کر صاف منع کردیا۔ سمیر عتیق کو دیکھنے لگا۔
’’مجھ سے تو امید ہی نہیں رکھو‘ صاف خطرہ ہے اس کے گھرجانے کا…پروفیسر کا گھر تھا۔‘‘
’’اورمیں تو بالکل نہیں جاسکتا۔وسیع جھک کربولا۔ ’’فی الحال میرا جیل جانے کاکوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘
سمیر ان کی شکلیں دیکھنے لگا۔
’’تو یہ کام تم کرلو۔‘‘ عتیق مسکرایا۔
’’ہاں… یہ کام میں ہی کروں گا… مگر اس کے ساتھ ایک کام اور کروں گا۔‘‘ تینوں چونک گئے۔
’’کیا…؟‘‘
’’یہ تھرل‘ یہ رسک یہ خوف‘ اور یہ خوامخواہ کی درد سری۔‘‘
تینوں ایک دوسرے کی شکل د یکھنے لگے۔
’’کیا کام…‘‘ یک بیک کہا۔
’’یہ میں تمہیں آکر بتائوں گا۔‘‘ وہ اٹھ گیا۔
’’چلو!‘‘ سمیر تحکم آمیز لہجے میں لڑکی کے پاس جاکربولا۔سکڑی سمٹی‘ گھٹنوں میں سردیئے اس لڑکی نے بے حد خوفزدہ ہو کر سر اٹھایا۔
’’ک…کہاں…؟‘‘
’’تمہارے گھر۔‘‘ اس کے بھیگے ہوئے غمناک چہرے سے نگاہ چرائی۔
وہ اچھل ہی توپڑی۔ اس کے آنسو بھی رواں ہوگئے۔جانے خوشی کے تھے یا…دکھ کے… سمیر اتنا حساس نہیں تھا۔
’’تمہارے کتنے بہن بھائی ہیں؟‘‘ بیک مرر سے اس کا ستا ہوا چہرہ متورم پپوٹے دکھ کے رنگ میں بھیگا چہرہ اماوس کی رات ایسا لگا دھوپ اس کے چہرے پر پڑرہی تھی۔
///
’’کوئی نہیں۔‘‘
سمیر کودھچکا سا لگا۔
’’میں اپنے بابا کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں۔ میری امی کا کچھ سال پہلے انتقال ہوگیاہے۔‘‘
لڑکی کے چہرے پر جانے کیسا گداز تھا کہ اس کے دل میں ہل چل سی مچ گئی۔اس کے اغوا کے بعد اس کے بوڑھے باپ پر کیا بیتی ہوگی۔ یہ جاکر پتہ چلتا۔ مگراس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا۔ اسے گھر سے ذرا فاصلے پر اتار دیا۔
’’میں دوبارہ آئوں گا۔‘‘ نظر چرا کر سامنے دیکھا۔
’’کیوں اب کیا لینے آئوگے۔ اب کیا رکھا ہوگا وہاں۔ اک باپ کی عزت چلی جائے توزندگی ساتھ ہی چلی جاتی ہے۔‘‘ وہ تقریباً بھاگے ہوئے پلٹ گئی۔ اور سمیر تاحد نگاہ تک اسے دیکھتا رہا۔ اس کاچٹختا چلاتا لہجہ اس کی سماعتوں میں رہ گیا۔
یہ کیا ہوگیا یہ کیسے ہوگیا کسی لڑکی کااغوا ان کے پلان میں تھاہی نہیں۔ وہ تھرل کے نام پر یہ سب کرتے تھے۔ کچھ نیا کے چکر میں…ان کے حلقے میں اتنی خوبصورت اسمارٹ ویل ڈریس خوبصورت آنکھوں کو جلادیتی لڑکیاں تھیں کہ اس طرح کی کسی حرکت کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔
اس ہرکت نے سمیر کا دل بدل دیاتھا۔ یہ بہت غلط تھا۔ اور اس کاازالہ کرناتھا۔
’’کیا…!‘‘ عتیق اوراحیل چونک گئے۔
’’ہاں‘…یار‘ بس اب میرا دل بھرگیاہے‘ میں یہ سب نہیں کرسکتا۔‘‘
’’ہمیں راستے میں چھوڑ دے گا۔‘‘ وسیع اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
’’یہ راستے منزل نہیں ہیں میرے یار۔ ہمیں کیا نامی گرامی ڈاکوبننا ہے کیا…اور میں تو کہہ رہاہوں چلوتم سب بھی راستہ بدل لویہ نیک نامی نہیں ہے۔‘‘
’’اب نیک نامی تو ہمیں سمجھائے گا۔ ہمیں تولگتاہے یہی کرنا ہے۔ اب نوکری نہیں…بیروزگاری حد سے بڑھ رہی ہے اور گھر کے اخراجات کے لئے ہمیں کچھ تو کرناہے۔‘‘
راحیل راہ بدلتانظر نہیںآرہاتھا۔
’’یہ تم سب کامسئلہ ہے۔ میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔‘‘
’’اس لڑکی کااغوا کرتے‘ نہ یہ بدلتا۔‘‘ عتیق صوفے پر دراز ہوتے ہوئے بولا۔ سمیر اس کی جانب دیکھنے لگا۔
’’تو کہیں اس سے نکاح تو نہیں کرنے جارہا۔ راحیلل نے ہوائی اڑائی۔ سمیر چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔
سمیر کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں۔
’’ہاں…!
’’پاگل ہوگیا ہے کیا۔ ہمیں بھی پھسوائے گا۔‘‘
’’اس لئے تو راہ بدل رہا ہوں۔‘‘
’’وہ لڑکی پہچانے گی نہیں تجھے۔‘‘
’’میں نے اسے بحفاظت گھر بھی تو پہنچایا ہے۔‘‘
’’اس نیکی کا ثمر تو لے گا۔‘‘
’’وہ بے حد نیک‘ سلجھی ہوئی‘ سمجھدار لڑکی ہے۔انجانے میں اس کے ساتھ زیادتی ہوگئی ہے اس کاازالہ کروں گا۔‘‘
’’اس ازالے میں انکل آنٹی گھروالے تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘
’’نہیں… وہ نہیں مانیں گے‘ اس لئے میں صرف نکاح کرکے ان کے سامنے لے جائوں گا۔‘‘
’’واہ فلمی سچویشن! سمیر اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کررہ گیا۔
’’اور رشتہ لے کر کون جائے گا؟‘‘
’’میں خود۔‘‘
’’وہ لڑکی مان جائے گی تجھے پہچانے گی نہیں۔‘‘
’’جس حالات سے وہ گزر رہی ہے ماننا پڑے گا۔‘‘ جانے کیوں اسے یقین تھا۔
اس یقین کے سہارے ہی وہ اس کے گھر پہنچ گیا۔ خود کو پروفیسر ابراہیم کے شاگردوں میں سے بتایا۔
گھر میں موجود بزرگ خاتون نے پروفیسر کے روبروپہنچادیا۔ انہیں دیکھ کر اسے دھچکا لگا۔ وہ بستر لیٹے اک ٹک دیوار کی طرف دیکھے جارہے تھے۔
’’بیٹا حادثے کے بعد سے یہ حالت ہے‘ نہ بولتے ہیں نا کوئی بات کرتے ہیں‘ انہیں سکتہ ہوگیا۔ ڈاکٹر بھی ان کی حالت سے مایوس ہیں۔ جب سے آبگینے واپس آئی ہے ان کی حالت اور بگڑ رہی ہے۔‘‘بزرگ خاتون دکھی دل سے انہیں بتارہی تھیں۔’’رشتے داروں نے منہ موڑلئے ہیں سگی پھوپھی نے منگنی توڑ دی‘ اس گھر پر تو قیامت گزر گئی۔ ایسے نیک دل انسان کے ساتھ یہ ہوسکتا ہے‘ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا۔‘‘
بزرگ خاتون جو رشتے میں شاید خالہ تھیں‘ دھیرے دھیرے بتارہی تھیں۔
’’بے شک وہ واپس آگئی ہے مگر جو داغ لگ گیا وہ تو نہیں دھویاجاسکتا۔‘‘
منوں بوجھ سمیر کے سینے پر آگرا۔
پھر وہ انکے گھر جاتارہا۔ وہ لڑکی اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھتی۔گھر سے نکل جانے کی دھمکی دیتی مگر وہ اثر ہی نہیں لیتا۔ پروفیسر صاحب کی حالت بگڑتی جارہیتھی۔
’’بیٹا کوئی رشتہ ہوتوبتانا۔ بھائی صاحب کی جان صرف اس لئے اٹکی ہوئی ہے کہ اپنی بیٹی کو کوئی تحفظ دے دیں۔ کون اسے قبول کرے گا۔ اتنی پیاری لڑکی ہے سچ جان کر یوں بھاگتے ہیں گویا ڈنک مار لیا ہو‘ سانپ نے۔ ڈھکے چھپے ہم رشتہ نہیں کرسکتے۔ اور یہ باتیں چھپ بھی نہیںسکتیں۔ کوئی ہو تو۔‘‘ بڑی آس‘امید‘ لاچاری‘ بے چارگی بھرے اندز میں کہہ رہی تھیں۔
وہ شرمندگی کے سمندر میں غرق ہونے لگا۔ ہمارا تھرل‘ ہمارا شوق کیا کیا رنگ دکھاتاہے‘ کاش اگر ہم لوگ پیچھے مڑ کر دیکھ لیں تو راہ شوق میں غلط قدم نہ اٹھائیں۔ سمندر کے کنارے بھیگی ریت پر چلتے ہوئے وہ ندامت بھرے انداز میں سوچ رہاتھا۔ اور سنجیدہ تھا کل اپنے رشتے کے لئے انہیں کہہ دے گا۔ جب جب انہیں دیکھتاتھا‘ تب تب شرم وندامت سے اس کا سر جھک جاتاتھا اس کی وجہ سے کیسے ہنستے مسکراتے گھر پر قیامت گزر گئی۔
’’میں پروفیسر صاحب کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتاہوں۔‘‘ دھیرے سے پروفیسر صاحب کے بستر کے آگے لگی کرسی پربیٹھ کر بزرگ خاتون کے آگے سرجھکا کر دھیرے سے کہا۔
وہ خاتون اسے دیکھے گئیں۔
’’کیا کہہ رہے ہو بیٹا‘سب کچھ جان کربھی۔‘‘
اس کا سر جھک گیا۔ قصور وار بھی تو میں ہی ہوں۔ کاش کاش‘ وہ کہہ نہ سکا۔
’’جی۔‘‘
’’تمہارے گھر والے…‘‘
’’فی الہال تو میں ہی ہوں‘مگر مجھے یقین ہے کہ میں انہیں منالوں گا۔‘‘ یقین بھرے انداز میں کہا۔
’’اور…باہر کھڑی آبگینے ابراہیم سن سی کھڑی رہ گئی۔ جنہوں نے زندگی برباد کی وہی آباد کریں گے۔ اس کا خون کھولنے لگا۔ خالہ جان کے سامنے اس نے صاف منع کردیا۔
’’مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔‘‘
’’بیٹا… تمہاریوالد کی طبیعت تمہارے سامنے ہے‘ تم پر جو بیتی وہ تم جانتی ہو… رشتے داروں نے کیسے منہ پھیر لئے وہ تمہارے سامنے سگی پھوپھی نے رشتہ توڑ لیا۔ پیچھے کیا بچا… محلے والوں کے تیور تم دیکھ رہی ہو ایسے میں یہ رشتہ نعمت نہیں۔‘‘
’’خالہ!‘‘ اس نے ان کے ہاتھ میں دبا ہاتھ کھینچ لیا۔ ’’میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ نگاہ چرالی۔
’’شای تو بہرحال تمہاری ہونی ہے‘ لڑکا اچھا اور خاندانی ہے۔ دوسری بات کہ سب گزری جانتا ہے۔‘‘ رسان سے سمجھایا۔
’’اپنے گھر ولوں کو کیوں نہیں لایا اگر اتناہی خاندانی ہے تو۔‘‘لہجہ چٹخ گیا خالہ ٹھنڈی آہ بھر کر اسے دیکھنے لگیں۔
’’یہ رشتہ آگیا ہے اسے قبول کرلوبیٹا‘ تمہارے باپ کی جان گلے میں اٹکی ہے۔ یہ سہارا بھی نہ رہاتو کیا کروگی۔ کون قبول کرے گا تمہیں اکیلی لڑکی کو معاشرہ جینے نہیں دیتا۔‘‘
’’تو ایک لچے‘لفنگے‘آوارہ‘ بدمعاش‘ ڈاکو کو قبول کرلوں جس نے میرے گھر کو برباد کردیا۔‘‘
اس کے دماغ میں زہر ابلنے لگا۔
’’اس کے سوا چارہ نہیں ہے۔ تمہیں بچا بھی تو لایا تھا‘ تمہار ابال بھی بیکا نہیں ہوا۔ اگر وہ غلط ہوتاتو نہ تمہیں لاتا‘ نہ بچاتا‘ نہ واپس آتا‘ اور تم اصل میں برباد ہوجاتیں۔‘‘ چولہے کی آگ میں سے لفظ چٹک چٹک کر نکل رہے تھے۔ سرگھما کر خالہ کو دیکھا ان کا چہرہ پر سکون تھا۔ انہیں یہ رشتہ قبول تھا۔
’’اپنے لئے نہیں تو اپنے بابا کے لئے سوچو‘ ان کا لحاظ کرو‘ ان کے دکھ کادرماں کرو‘ کتنی اذیت میں ہیں وہ۔‘‘ دھیرے دھیرے بولتی وہ کالہ کامنہ دیکھنے لگی۔
’’ان کی یہ حالت تمہارے دکھ سے‘ تمہارے جانے سے ہوئی ہے‘ اب بھی ان کی جان تمہارے اندر ہے۔ میں تمہاری ماں نہیں ہوں مگر ماں بن کربیٹی کا دکھ جانتی ہوں۔ ایسے نصیبوں سے رشتے طے نہیں ہوتے‘بہتر یہ نہیں ہے کہ اس کے لئے ہاں کردو…جو…‘‘ کہتے کہتے رک گئیں۔
’زندگی برباد توہے ہی تو ایسے ہی سہی۔‘سوچوں نے اس کاگھیرائو کرلیا۔پھوپو کی خاموشی‘ زاد کی چپ اور محلے والوں کی نظریں… اس کے سامنے تھیں مگر کوئی اس کے حوالے سے کیوں نہیں سوچتا۔ اس کی ذات کی گواہی کیوں نہیں مانگتا۔
اس کے اشک بہہ بہہ جاتے‘بابا‘ کوسنبھالتے سنبھالتے خود بے دم ہوجاتی۔ شاید یہی اس کی قسمت ہے‘ مقدر شاید یونہی بگڑ کر سنوریں گے۔وہ نیک نام تھی مگر بدنام ہو رہی تھی۔ یہ رسوائیاں‘اس شخص کے نام کی ہی تھیں جو اسے سمیٹنے آیاتھا۔ تو…توکیا وہ صحیح تھا۔
پھر اس کا دل کیوں بے قرار تھا کیوں نہیں جان رہاتھا… یایاپھر اس دل کو ٹوٹ کر‘بکھرکر‘ پھرسنبھلناتھا۔
سمیر ہر تیسرے چوتھے دن آرہاتھا۔
خالہ نے کچھ بتایاتھا۔ اسے دیکھ کر بابا کی آنکھیں چمک جاتی تھیں۔ اور اس چمک کی زندگی کے لئے آبگینے نے سر جھکادیا۔اورسمیر نے اس سے نکاح کرلیا۔ اس روز وہ بے حد خوش تھا۔ اندرونی خوشی کے احساس سے اس کاچہرہ چمک رہاتھا۔ دوست چھیڑ رہے تھے۔ اس نے خاموشی سے نکاح کیا تھا۔ اس کے گھروالے شامل نہیں تھے۔ وہ شاید گھروالوں سے ٹکرانے کی صلاحیتیں رکھتاتھا۔
اس شام رخصت ہو کر وہ الجنت میں آگئی۔
اورالجنت کے مکین لائٹ پنک سلور امتزاج کے چوری دار پائجامے‘ہلکے ہلکے میک اپ‘بھری بھری چوڑیاں‘سر پرسمٹے دوپٹے میں کھری آبگینے کو دیکھ کر چونکے‘اور وجیہہ اسمارٹ خوبرو کرتاشلوار میں مسکراتے سمیر احمد کو دیکھا جو مسکرا رہاتھااوراس کے لفظ ہتھوڑے کی طرح گھروالوں کے سرپر گرے۔
’’میں نے اس سے نکاح کیا ہے۔ آبگینے نام ہے اس کا۔‘‘
///
زیلی سڑک زیر تعمیر تھی۔ موٹے سے پانی کی دھار میں بچے کنستر اور بوتلیں بھر رہے تھے۔ چمکتی دھوپ میں نہارہے تھے۔
کیوں میرا سخت دل نرم نہیں ہوتا۔ سینے پر بازو کو لپیٹ لیا۔ دھیرے سے سر دیوار سے ٹکرادیا۔بابا کا دکھ‘ ان کی موت‘ اپنی بے بسی‘ اور اپنی خانہ بربادی کے ساتھ اپنوں کا نارواسلوک‘ کسی نے تو اس کا اعتبار نہیں کیا تھا۔وہ کیسے اس ستمگر کو اپنا سمجھ لے… کیسے اس کے آگے ہار جائے۔ آبگینے ابراہیم کی آنکھیں بنجر‘ ویران‘خشک تھیں۔ اور دل…دل رو رہاتھا۔
دل کا روناکس نے دیکھاتھا۔
دور کہیں اذان ظہر ہونے لگی۔
تبھی آہٹ پر مڑی‘ ریشماں کمرے میں آرہی تھی اواس کے پیچھے ہمدانی صاحب تھے۔وہ دریچے سے ہٹ کر بیڈ کے کنارے لگ کرکھڑی ہوگئی۔
’’بیٹھو!‘‘ کہتے ہوئے صوفے پر ٹک گئے۔
’’میں نے تمہارے لئے قریبی کالج میں بات کی ہے‘ کل ویک اینڈ ہے۔ پرسوں سے جوائن کرلو۔ قریب بھی ہے محض دس بیس منٹ کی واک پر۔‘‘
’’اچھا…‘‘ آبگینے کا دل چمک اٹھا۔
’’بس صرف اک احتیاط کرنا۔ اپنی ماں کے سامنے آنے جانے سے‘ ان کاردعمل تمہارے سامنے ہے۔‘‘ دوسری بات جانے کی کی ہے‘ توکہاں جائو گی‘تمہارا گھر کرائے پر ہے‘ کرایہ بینک میں جمع ہو رہا ہے اوپر کے حصے میں سامان ہے۔ تم اکیلی وہاں رہ بھی نہیں سکتیں۔ پھر سمیر بھی اس کے لئے راضی نہیں۔‘‘
تبھی ان کے ہاتھ میں موجود سیل بجنے لگا۔ انہوں نے کان سے سیل لگا کر ہیلو کہااور پھر فون اسکی جانب بڑھا کر سائیڈ میں پڑا میگزین اٹھالیا۔
’’میر افون؟‘‘ فون تھام کر تذبذب سے دیکھا۔ اور کان سے لگالیا۔
’’ہیلو! جان سمیر کیسی ہو! میں بہت بے کل وبے قرار دن گن گن کرکاٹ رہا ہوں۔ تمہیں جاب کرنے کی اجازت دے رہاہوں کیونکہ مجھے گھر کے ماحول کاپتہ ہے۔ تمہیں بکھرنے نہیں دینا… مگر تم کہیں جانے کا مت سوچو‘ جو امان گھر میں ہے‘میرے نام کے تحفظ میں ہے وہ تمہیں کہیں نہیں ملے گی۔’’ہیلو‘‘ میری سن رہی ہو بات…؟‘‘
سمیر کالہجہ اس کی سماعتوں میں اتررہاتھا۔ اس کادماغ سن ہونے لگا۔
’’ہیلو… کچھ تو بول۔ تمہاری مسحور کن آواز سنے کتنے دن ہوگئے ہیں۔بس تمہاری تصویر سے دل بہلاتا ہوں اورتمہارے تصور میں کھوجاتاہوں۔ یہاں مصروفیت تو ہے ہی نہیں‘ مگر اپنی لئے قید بامشقت تجویز کررہاہوں۔ اور ہاں… نماز کی پابندی کی عادت ڈال رہاہوں میرے لئے دعا گوہونا۔ تمہاری وجہ سے‘ تم تک آنے کے لئے ہی تو یہاں ہوں نا۔ ہے نا۔‘‘
آبگینے گہرا سانس لے کررہ گئی۔
’’اور ان سانسوں کی قسم‘ میں تمہارا ہوں‘ صرف تمہارا۔‘‘
اس نے کان سے سیل ہٹالیا۔ اورفون بند کرکے انہیں دیکھا۔
’’میں نے ٹھیک کیانا‘‘ پاپا اس سے پوچھ رہے تھے۔ اس کا سرجھک گیا۔ وہ کھڑے ہوگئے۔ ’’اوکے! پرسوں تیار رہنا میں چھوڑ دوں گا۔اور سنو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھ سے کہہ سکتی ہو۔ کچھ نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھادیئے۔ اس نے کچھ شش وپنج سے دیکھا‘ انہوں نے نوٹ آگے بڑھ کر اس کی مٹھی میں دبادیئے اور دھیرے سے سر پر ہاتھ رکھ کر پلٹ گئے۔
ان کا دل گدازد ہورہاتھا۔ بعض اوقات بچوںکے ہاتھوں میں کن کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے۔ بچے یہ نہیں سوچتے اور کرگزرتے ہیں۔
سمیر ان کا سب سے چھوٹا بیٹاتھاماں کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا تھا۔ اس کا چال چلن ٹھیک نہیں تھا۔ اس کے دوست اچھے نہیں تھے ان کے علم میں تھا۔ اسے سمجھاتے رہتے تھے مگر کچھ لوگ ٹھوکر کھا کر سنبھلتے ہیں۔ اس ٹھوکر کھا کرگرنے… اور پھر سنبھلنے تک کیاکیا مرحلے ہوتے ہیں کس پر کیا گزرتی ہے‘ کیا نقصان ہوتا ہے‘ کسے کتنا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے انہیں احساس ہوتا ہے مگر بہت بعد میں اور پھر اس کے ازالے کے چکر میں پڑجاتے ہیں۔
جیسے سمیر…!
انہیں سمیر پر بہت غصہ تھا اس نے کیا کیا‘ مگرا کا غصہ اسے اور بھٹکاسکتاتھا‘ ایک قدم اسے واپس لارہاتھا نیک بنا رہا تھا‘ اس لئے وہ خود پر کنٹرول کئے تھے مگر ساجدہ کنٹرول نہیں کرپارہی تھیں۔ خود پران کیلئے غصے کا اظہار بہتر تھا ان کی صحت کے لئے ضروری تھا۔
اس سارے میں آبگینے ابراہیم کاکیا قصور تھا۔
حالات کی چکی میں وہ پس رہی تھی۔ برداشت کررہی تھی اور سہہ رہی تھی۔ اور ہمدانی صاحب کو سمیر کی زیادتی پرغصہ اور آبگینے کی حالت پر ترس آتاتھا۔
وہ فطرتاً رحم دل انسان تھے۔
///
دوہزار گز پربنے اس کالج کامعیار خاصابلند تھا۔ رزلٹ بھی بہت اچھا ہے آرٹس اور کامرس کالج ہے علاقے کا بہترین کالج ہے گاڑی کالج کے پارکنگ ایریا میں روک کر آبگینے کو دیکھا۔اپنابیگ لے کر وہ نیچے اتری اور ہمدانی صاحب کے برابر چلتی ادھر ادھر دیکھتی آگے بڑھنے لگی۔ اسٹاف روم کے آگے سے گزر کر پرنسپل کے کمرے میں آگئے۔ ہمدانی صاحب نے بڑے تپاک سے اس کاتعارف کر وایا۔ آبگینے یہ ہیں پرنسپل زینب انہاج۔‘‘
آبگینے نے مسکرا کر انہیںسلام کیا۔ کچھ دیر بعد ہی ہمدانی صاحب کافی پی کر چلے گئے۔ پرنسپل اس سے باہمی دلچسپی کے امور پر اوراس کے پسندیدہ سبجیکٹ پر بات کرنے لگیں۔
اس نئے آسمان کو بڑے فخر سے تسخیر کرنا تھا۔ اس کے بابا کا خواب ’ذہین انٹلکچول معروف اسکالر آبگینے ابراہیم‘ کو تعبیر دینی تھی۔ اور کچھ دیر کے لے اس تعلیمی درسگاہ‘ تعلیمی ماحول‘ لڑکیوں کاساتھ اسے ذہنی تکان سے نجات بھی دے سکتاتھا۔ اس کے پاس پانچ سال…پانچ سال تھے اپنی زندگی بنانے کے لئے۔ سمیر سے پیچھاچھڑانے کے لئے اور نئی زندگی کی جانب نیالائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے۔
///
ساجدہ ہمدانی بستر پر دراز تھیں۔بیماری نے انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کردیاتھا۔ اور پھر سمیر کا دکھ انہیں لاغر کرتا جارہاتھا۔ انہیں اس لڑکی سے نفرت شدید ترین نفرت ہوتی جارہی تھی۔ ا ک لمحہ اس کاوجود برداشت نہیں تھا۔ اسے گھر سے نکال دینا چاہتی تھیں مگر اب ہمدانی صاحب درمیان میں تھے۔
پہلے سمیر اور پھر اب اس کے پاپا۔
انہوں نے گہرا سانس لے کر کروٹ بدل لی۔ صبح ہی ایک لمبی بحث ہوئی تھی جس نے ان کی طبیعت کو بوجھل کردیاتھا۔ دوائی کے زیراثر سوتی اب جاگیں تھیں تو پھر اک درد مسلسل تھا۔
’’ساجدہ میں ایسا نہیں کرسکتا یہ دیکھو نکاح نامہ۔ سمیر نے زبردستی ہی سہی اس سے نکاح کیا ہے۔ مجھے امانت دار بنا کر گیاہے وہ۔ مجھے فون کرتا رہتا ہے۔ ملنیجائوں تو تاکید کرتا ہے‘ اس کا خیال رکھنے کی۔ میں کیسے اسے نکال سکتاہوں۔‘‘ان کا ہاتھ تھام کر رسان سے سمجھاتے ہوئے نکاح نامہ بھی دکھایا تھا۔
’’میں اسے زہر دے دیتی ہوں۔ کہہ دینا مرگئی۔‘‘
’’بچوں والی باتیں مت کرو۔ اور اسے قبول کرلو۔ وہ تمہارے بیٹے کی پسند ہے۔ ایک اچھی لڑکی ہے۔‘‘
’’اچھی لڑکی…‘‘ ان کا لہجہ چٹخ گیا تھا۔ ’’ایسی ہوتی ہیں اچھی لڑکیاں دو کپڑوں میں اٹھ کر آگئی‘ کیا ہے اس کا حسب ونصب ہمارے خاندان کے آگے۔ کیا کیا نہیں سوچاتھا میں نے سمیر کے لئے۔‘‘
’’یہ بات سمیر کوبھی سوچنی چاہئے تھی کہ کیا کرنے جارہا ہے۔‘‘ ہمدانی صاحب کالہجہ سخت ہوگیا۔جو وہ جانتی تھے وہ کوئی دوسرا نہیں جانتاتھا‘ شہر کاایس ایچ او ان کا دوست تھا۔ وہ انہیں اکثر وارننگ اطلاعات فراہم کرتا رہتا تھا۔ وہ سب ساجدہ کوبتا کر اس کی حالت غیر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے لئے یہی بہت تھان کا جوان بھٹکا ہوا بیٹا لڑکی کے لئے ہی سہی مگر راہ راست پر آگیاتھا۔ سدھر گیاتھا۔ اب اس کا ساتھ نہ دے کر اسے دوبارہ سے بھٹکانہیں سکتے تھے۔ جیل میں وہ بہت خوش تھا۔ ان سے شرمندہ تھا‘ وہ کہہ رہاتھا اس نے وعدہ کیا تھا کہ باہر آکر وہ پاپا کاہاتھ بٹائے گا۔ زندگی کو ازسرنوشروع کرے گ ا۔ ساری بری عادتیں چھوڑ دے گا۔ اور وہ لڑکی کیسی بھی سہی‘ انہیں اس کی حفاظت کرنی تھی اپنے بیٹے کی حفاظت کے لئے۔‘‘
ساجدہ کو انہوں نے میڈیسن دے کر سلادیاتھا۔
اب ساجدہ کی آنکھ کھلی تھی۔ اب وہ کسی اور نہج پر کام کرنا چاہتی تھیں۔ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
///
سمیر‘ منزل‘ اور محبت…
اس کے دل کی زمین پر خاک اڑ رہی تھی۔
محبت اب کہیں دور رہ گئی تھی۔ اب تو صرف زندگی کو گزارنا تھا۔ اور… زندگی گزررہی ھی۔
موسم تبدیل ہو رہ اتھا۔ اک خشک ساموسم ہرسوپھیلا تھا۔ بائیں جانب بنے بنگلے میں لگے درختوں کے خشک پتے اس کی جڑوں کے پاس زمین بوس تھے۔ پیلے‘ سوکھے‘ خشک‘ پتے‘ بالکل اس کی زندگی کی طرح بنجر وویران اور حرماں نصیب۔
کالج میں اس کا دل لگ گیاتھا۔ لگناہی تھااس کی من پسند جاب اور من پسند ادارہ تھا۔
تمام پروفیسر‘ لیکچرر سے اس کی علیک سلیک ہوگی تھی۔ کچھ لیکچرر لیو پر تھیں‘ لڑکیاں اسے پسند کرنے لگی تھیں۔ وہ پڑھانے والے اساتذہ میں شامل ہونا چہاتی تھی۔ جان چھڑانے والوں میں سے نہیں۔
ساتھ ساتھ آئندہ کیلئے لائحہ عمل بھی بنا رہی تھی‘ مستقبل کی پلاننگ‘ اب اسے کالج تک کاراستہ ازبر ہوگیا تھا۔ انکل ہمدانی اسے ایسے راستے سے چھوڑتے تھ جو پیدل کا تھا۔
اور…!
اور آج اسے خود جانا تھا۔ تیار ہوت ہوتے اس کا دل دھک دھک کررہاتھا۔
آج کا دن بے حد اہم تھا۔ آج تک وہ گھرسے اکیلی نہیں نکلی تھی‘پاپا نے چڑیا کی بوٹ کی طرح اس کی حفاظت کی تھی۔ سینت سین کر سنبھال سنبھال کر رکھا‘دنیا میں رہنا سکھایا‘ لوگوں کے روئیوں کو جانچپنا سکھایا‘ چہرے پڑھنا سکھایا‘ اوراب بابا کی تصویر کو بھرپورانداز میں دکھ کر سلام سلوٹ پیش کرکے الماری بند کردی۔ آج سے ابھی سے بابا کا دیاہوا تجربہ ان کی صلاحیت اور ان کے سکھائے گئے سبق کا استعمال کرناتھا۔
آج کا دن بہت اہم تھا۔
دنیا کی بھیڑ میں اس کاپہلا قدم۔ تنہااور بے سہارا…
چہرے کے گرد اسکارف لپیٹ کر کاٹن کا وائیٹ دوپٹہ شانوں پر پھیلا لیا۔ بیگ شانے پر لٹکا کر سیاہ گلاسز ہاتھ میں لے کر فائل اٹھائی اور باہر نکل آئی۔آٹھ بج کر پندرہ منٹ ہو رہے تھے۔ ساڑھے نو بجے پہلی کلاس تھی کیونکہ پیدل جانا تھااس لئے تیزی سے سیڑھیاں اتررہی تھی اور…اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی ساجدہ ہمدانی نے بڑی حیرت سے اسے دیکھا۔ اسے اول دن سے ہی اس عورت کی نوکیلی کاٹ دار نگاہوں سے خوف آتاتھا‘ اس کی جانب اٹھی ہوئی نگاہیں یوں محسوس ہوئیں گویا آر پار اتر رہی ہوں۔
دھیرے سے ڈائننگ ٹیبل کے گرد رک کر پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگالیا۔تنقیدی اور عقابی نظریں۔
’’چلی جائوگی نابیٹا‘ ڈرتو نہیں لگ رہا۔ ڈرائیور سے کہہ دوں۔‘‘ اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے حیدر ہمدانی… کسی فرشتے کی طرح کسی مسیحا کی مانند لگے۔
’’جی…پاپا…‘‘مسکرا کر انہیں دیکھااور دوسرے لمحے شیشے کا داخلی دروازہ کھول کر باہرنکل گئی۔گہرا سانس لے کر کارڈور کی سیڑھیاں اترنے کو تھی کہ اک پائوں ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔
’’کہاں جارہی ہے یہ اتنا بن ڈھن کر…اور آپ‘آپ نے اسے سمجھایا نہیں‘ اس کا مکان خالی کروا کر دے دیں‘ میں کب تک اسے برداشت کروں گی۔‘‘ اس کی ساس کا زہر میں بجھا لہجہ تھا۔
’’تم نے صبح کی میڈیسن لی۔ ریشماں میرے لئے پہلے قہوہ لادو۔ اور بچے اسکول گئے کیا۔‘‘ ہمدانی صاحب کا انداز بے حد ہلکاپھلکا تھا۔
’’میں کیا پوچھ رہی ہوں؟‘‘ ان کی سوئی ہنوز ایک جگہ اٹک گئی تھی۔
’’اس نے کالج میں جاب کرلی ہے۔‘‘
’’کیوں؟ اسے یہاں سے چلتانہیں کررہے؟‘‘
’’میں اسے اس کی زندگی سے نکال دینا چاہتی ہوں‘ ایسے نہ سہی تو ویسے ہی سہی لوگ مربھی تو جاتے ہیں۔‘‘ ان کالہجہ سفاک تھا۔ اک ٹھنڈی س لہراس کے وجود میں اتر گئی۔دھیرے سے سرخ روش سے گزر کر برائون گیٹ کا داخلی دروازہ کھولا…اور باہر نکل گئی۔
خوشی کی جگہ اداسی نے لے لی… وہی اداسی جو اس کے وجود کا حصہ تھی۔ بائیں جانب مڑ کر سیدھی سڑک پر فٹ پاتھ کے کنارے کنارے چلنے لگی۔ خزاں رسیدہ دھوپ اس کے ساتھ ساتھ تھی اور سایاہمراہ… اور ساجدہ ہمدانی کا کسیلا لہجہ۔
کوئی بھی انداز سہی…سمیر کی زندگی سے نکلے تو…اس کاساتھ تو اسے بھی منظور نہیں۔
دھیرے سے کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوگئی اور اسٹاف روم میں داخل ہوتے ہی اس کاوجود ساکت رہ گیا۔ سامنے سامنے ہی جمیلہ بیٹھی تھی۔ وہ بھی شاید ادھرہی لیکچرر تھی اورچھٹی پر تھی۔ اس نے دھیرے سے رخ موڑ لیا۔ آ کا دن تھاہی سیاہ۔ ماتم کناں‘ شام غریباں ایسا۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ اور زندگی نے شاید اب ان دھڑکنوں کے ساتھ ہی گزرناتھا۔ جمیلہ اس کے محلے میں رہتی تھی اور جس کابھائی اس کے لئے جوگ لے کر ملک چھوڑ گیاتھا۔
وہ جلدی سے اپنی کلاس میں چلی جانا چاہتی تھ۔ مگر وہ بھی اسے دیکھ چکی تھی۔ اور لپک کر اس کے قریب آئی تھی۔
’’تو…تم ہو نئی لیکچرر آبگینے ابراہیم…میں تمہارا نام سن کر چونکی تھی۔‘‘
’’تم…‘‘ زبردستی کی مسکراہٹ سے مڑ کر اسے دیکھا۔’’کیسی ہو؟‘‘
’’بالکل‘ ویسی جیسی تم نے چھوڑا تھا۔ اکیلی‘ تنہا‘ اور ویران بغور جائزہ لیتی سینے پر ہاتھ باندھ کر دیوار سے ٹیک لگالی۔
’’اور تم… تم تو کسی مل اونر کے ساتھ بھاگی تھیں۔ تمہیں یہ معمولی جاب کی کیاضرورت پڑگئی۔‘‘ اس کاانداز طنزیہ اور استہزائیہ تھا۔
آبگینے نے ایک دم سے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ سب مصروف تھیں۔ جمیلہ کا دبا دبا لہجہ اپنے اندر پھنکار لئے تھا۔
’’میں چلوں… میری کلاس ہے۔‘‘ باہر نکلنے لگی۔
’’جائو…ضرورجائو…تم بھی ادھر ہو اورمیں بھی ادھر ہوں‘ حساب کتاب چلتا رہے گا۔ اور سنو…!‘‘ جاتے جاتے اس کے قدم رکے۔ ’’وہ بھی اگلے ہفتے آرہاہے جس کوتم نے اپنے نام کے سپنے دکھا کراس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی۔‘‘
اس کاسانس رکنے لگا۔ پلٹ کر اسٹاف روم سے باہر نکل گئی۔سارے جرم اس کے‘ ساری سزائیں آبگینے کے لئے! ساری خطائیں آبگینے ابراہیم کے نام! دل سے نکلے آنسو درد بن کرآنکھوں میں ٹھہر گئے۔ اس نے سال دوئم کی اسلامک اسٹڈیز کی کلاس میں قدم رکھ دیئے۔
بعض لوگوں کی قسمت شاید اتنی ہی منحوس ہوتی ہے‘ جیسے آبگینے ابراہیم۔ کیا وہ خوبصورت تھی… آئینہ تو ہمیشہ قبول صورت کہاتھا۔ اور محبت… محبت کیا ہوتی ہے؟
جمیلہ کے گھروالے اس کے محلے میں ہی رہتے تھے اور اس کابڑا بھائی فیروز‘ اس کے لئے دیوانہ تھا۔ اس کی محبت کااسے احساس جب ہوا جب پانی سر سے گزر گیا۔ ان دونوں بہن بھائیوں کی منگنی تایا کے گھر طے تھی۔ مگر اس نے توڑ دی۔ جمیلہ اس کی دشمن ہوگئی‘ اور جمیلہ کے منہ سے ایسی نازیبا باتیں سن کر آبگینے ہکابکا رہ گئی۔
پھرفیروز کی امی بیٹے کی خاطر اس کارشتہ لے کر آئیں مگر ابراہیم صاحب نے انکار کردیا۔ فیروز آتے جاتے‘ اسے دھمکیاں دینے لگا۔ جمیلہ بدلحاظ اور زبان دراز لڑکی تھی۔ بنا مروت کے وہ دوسرے کی ذات کے بخیے ادھیڑ دیتی تھی۔ انہی دنوں اس کابی کام کا رزلٹ آیاتھا۔ انہی دنوں رضیہ بانوں بیمار رہنے لگیں تھیں ان کی شوگر لیول ہائی ہوگئی۔ اور محلے والوں کی سرگوشیاں انہیں ڈرانے لگیں۔ اورانجائنا کے معمولی سے اٹیک نے ان کی جان لے لی۔
بابا کاسہارا مضبوط تھا۔ فیروز کا رشتہ ایک بار پھر آیا۔ وہ بہت سیریس تھا۔ مگر ابراہیم صاحب نے انکار کردیا تھاایک بار پھر۔ وہ زبردستی کرنے لگا۔اٹھوانے کی دھمکی دی… اغوا کروالوں گا مگر ابراہیم ان دھمکیوں میں آنے والے نہیں تھے۔ فیروز چھچھورے پنے پر اتر آیا۔ جمیلہ نے اسے پورے محلے میں بدنام کردیا۔ کہ یہ میرے بھائی کے پیچھے پڑی ہے‘ اس کی وجہ سے میری شادی بھی نہیں ہوئی… وہ اسکول میں پڑھاتی تھی۔ بابا نے گھر تبدیل کرلیا۔ زندگی میں سکون درآیاا ور وہ بھی اچانک غائب ہوگیا۔ پاپا کے کہنے پر اس نے ایم اے کرلیا۔ انہی دنوں باباریٹائرڈ ہوگئے اور اسکی زندگی پر نحوست کے بادل چھاگئے۔
اور سمیرہمدانی اس کی زندگی پر سیاہ بادل بن کر چھاگیا۔
پہلے فیروز اور جمیلہ‘ پھر سمیر!
’’نہیں… اس نے سراٹھا کر آنسوئوں کو جھٹک دیا۔ اب وہ اپنی مرضی سے جئے گی‘ کوئی کون ہوتا ہے اس کی زندگی سے کھیلنے والا‘ زندگی کو ازسرنو شروع کرے گی۔
اپنی زندگی سے جمود‘ اداسیاں اور سیاہیاں مٹادے گی۔
اور پھر اس کی نگاہ اٹھی۔ ٹیلی ویژن کی وائیڈ اسکرین کے پہلو میں سمیر کی پوسٹر سائز تصویر سینے پر ہاتھ باندھے مسکرارہی تھی۔
آج ریشماں نے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے یہ پردہ ہٹادیاتھا۔
اس نے پردہ کھینچ کر تصویر پر پھیلادیا۔
تم نے تومیرے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے‘بدنامیاں‘رسوائیاں میرے نام کردی ہیں۔ میں کیسے تمہیں سرشار اور آباد کرسکتی ہوں۔ میں کیسے تمہیںاپنا آپ دے سکتی ہوں جس نے میرے بابا کو جیتے جی مار دیاہو۔ پائوں سمیٹ کر اوپر کئے اور کشن پر چہرہ جھکالیا۔ تم نے اپنے بدصورت انداز سے‘اپنی وجاہت کو گہن لگالیا ہے اور تمہارے گہن نے میری زندگی کو کھالیا ہے۔ آنسو بے آواز بہنے لگے… اک بار پھر آزردگی نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
صبح کالج جاتے ہوئے‘ وہ ایک بارپھر ڈر رہی تھی‘ نیچے بیٹھی اس کی ساس ساجدہ ہمدانی کا خوف‘جمیلہ کا ڈر اس کے قدم رکنے لگے۔
’’آبگینے ابراہیم…‘‘
دھیرے سے خود کومضبوط کیا۔
’’مت ڈرو مت خوفزدہ ہو‘بدنامی کی کسی بھی کہانی میں تم ملوث نہیں ہو‘ تمہیں دھکیلا گیاہے۔ اب تو تم زندگی کو اپنے طور گزارنے کا فیصلہ کرچکی ہو تو خوف کیسا؟‘‘ دھیرے سے سیڑھیاں اترنے لگی۔
’’یہ گھر تمہاری عارضی پناہ گاہ ہے۔‘‘ لائونج خالی تھا۔ اس کی ساس کی طبیعت خراب تھی یا انہیں پاپا نے روک لیا تھا۔ وہ باہر نکلتی چلی گئی تھی۔ اپنے پیر مضبوط کرنے ہیں۔ یہ کالج تمہاری منزل نہیں…تمہیں تو…
آنکھیں بھیگنے لگیں… سیاہ گلاسز آنکھوں پر لگا کر سیدھی چلتی گئی۔
///
اسے ایک ماہ ہو رہاتھا کالج میں پڑھاتے ہوئے۔ وہ خوش مطمئن تھی۔ مگر اس جمیلہ نے اس کی خوشیوں پر پانی پھیر دیاتھا اگرچہ اس سے دور دور تھی‘ اس سے قریب ہونے کا کوئی موقع نہیں دے رہی تھی۔ مگر وہ ہٹ دھرم جانے اس سے کیا چاہ رہی تھی۔ کون ساانتقام اس کے اندر پرورش پارہا تھا وہ ان لوگوں میں سے تھی جو ساری عمر انتقام کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔
بریک بیل بج گئی تو آبگینی اسٹاف روم میں جانے کے بجائے پلے گرائونڈ کی سیڑھیوں پر آکربیٹھ گئی۔
’’اچھا تو تم یہاں چھپ کر بیٹھی ہو۔‘‘
جمیلہ جانے کیوں کھوج میں نکلی ہوئی تھی۔
’’تم کتنا ہی چھپ کر بیٹھ جائو جانے کیا بات ہے‘ کہ میں تمہیں ڈھونڈ ہی لیتی ہوں۔ یا پھر تم خود ہی میرے سامنے آجاتی ہو۔‘‘
آبگینے سامنے لڑکیوں کو کھیلتے دیکھے گئی۔
بیگ سائڈ میں رکھ کر اس کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
’’کوئی کام تھا کیا؟‘‘
’’کام؟‘‘ اس کی ہنسی استہزائیہ تھی۔ ’’تمہاری جانب بہت سے حساب نکلتے ہیں۔‘‘
’’حساب…! کیسا حساب جو کھاتے بند ہوچکے ہیں ان کا کیا حساب۔ ان بند کھاتوں نے کس کس کی زندگی تباہ کی ہے۔‘‘ اس کے ہاتھ بیگ کی زپ سے کھیل رہے تھے۔
’’فیروز نے ابھی شادی نہیں کی۔ اور وہ آبھی رہا ہے۔ میں سوچ رہی ہوں اس کوہی خوشی مل جائے۔‘‘
’’جمیلہ!‘‘ اس کالہجہ چٹخ گیا۔ ’’تم ابھی بھی ناقص العقل ہو‘ میں شادی شدہ ہوں‘جاب میری مجبوری نہیں میر اشوق ہے۔ میرے شوہر باہر ہوتے ہیں۔‘‘
کہتے کہتے نگاہ چرا کر سامنے دیکھنے لگی۔
’’بہتر یہ ہے کہ زندگی میں سکون رہنے دو۔‘‘
’’سکون…! جب میری زندگی میں سکون نہیں تو تم کیوں سکون سے رہو۔ جانتی ہو تمہاری وجہ سے میرابستا گھر اجڑ گیا۔‘‘
’’جمیلہ…!‘‘ ترحم نگاہی سے اسے دیکھا۔جمیلہ ان لوگوں میں سے تھی جو اپنی ذات کی کوتاہیوں کاالزام دوسروں پر دھرتے ہیں۔ انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اور اپنی اصلاح نہیں کرتے۔ چہرے کی خوبصورتی سے زیادہ کردارکی خوبصورتی اہم ہوتی ہے۔ زندگی میں آج بھی ایسے خاندان‘ ایسے لوگ موجود ہیں جو بیوی لانے سے پہلے کردار دیکھتے ہیں۔ اور جمیلہ…!
بدزبان‘ بدلحاظ‘ بے مروت لڑکی تھی۔ اس کارشتہ خاندان میں طے تھا اور خاندان میں ایسی باتیں کب چھپتی ہیں۔
’’میری وجہ سے؟‘‘
’’ہاں‘ نہ تم فیروز کی زندگی میں آتیں نہ وہ ناہیدکے لئے انکار کرتا نہ نادرمیرے لئے انکار کرتا۔‘‘
’’انہہ! یہ سب قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ تمہارا نصیب وہاں نہیں تھا۔ میرا نصیب تمہارے بھائی کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ اک جذباتی شخص تھا میں نے اس کی کبھی بھی پذیائی نہیں کی۔ ہمیشہ اسے سمجھایا تھا۔… اور…‘‘
’’اور تمہارے نصیب میں تو بھاگنا تھاہی تو میرے بھائی کے ساتھ بھاگ جاتیں۔‘‘
آبگینے جھٹکے سے سرگھما کر اسے دیکھنے لگی۔اس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی۔
’’میری… زندگی میں…ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔‘‘ آبگینے نے لفظوں کو چبا ڈالا۔
’’اور گھر سے جو چار دن غائب رہی ہو…‘‘
آبگینے کا سانس رکنے لگا‘ اسے سب اطلاعات تھیں۔
’’میں تم سے کوئی ربط ضبط نہیں رکھنا اہتی بہتریہ ہے کہ آئندہ تم میرے راستے میں مت آنا۔‘‘آبگینے فائنل‘ کتاب اور بیگ تھام کر کھڑی ہوگئی۔
’’مگر فیروز کو تمہاری چا آج بھی ہے اور طلاق تو بہت معمولی بات ہوگئی ہے۔‘‘ اس کی ہتھیلی تھام لی۔ آبگینے نے جھٹکے سے چھرالی۔
’’میری زندگی کھلونا نہیں ہے کہ تم لوگ کھیل کر گزر جائو۔‘‘ سخت لہجے میں کہتی وہ سیڑھیاں اتر کر لائبریری کی سمت بڑھنے لگی۔ اس کے سر پر دھماکے ہو رہے تھے۔
اک اور آزمائش…’’نہیں! جب ارادہ کرلیاہے کہ زندگی کو اپنے طور گزارنا ہے تو پھراس عزم کو ٹوٹنے نہیں دینا۔ اب جتنے بھی پہاڑ ہوں‘ کٹھنائیاں ہوں یا کھائیاں‘ خود کو سربلند رکھناہے۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ اس کے لئے دعا کرنے والے ہاتھ نہیں ہیں… اسے شانیسے لگا کر تسلی دینے والی بانہیں نہیں ہیں۔ روز محشر سرجھکا کرنہیں سراٹھا کر اسے اپنے ماں باپ سے ملنا ہے۔
بھیگیں پلکیں صاف کرکے بیگ لائبریری کی ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ کر کتاب کھول لی۔
///
بیٹا کوئی پرابلم تو نہیں ہو رہی۔‘‘
اس روز کالج سے آرہی تھی کہ لان میں ہمدانی صاحب سے ملاقات ہوگئی۔
’’جی نہیں انکل۔‘‘ گلاسز اتار کر ہاتھ میں لے لئے۔
’’تم سے کافی دن ہوگئے ملاقات نہیں ہوئی۔ بہت مصروف ہوگئی ہو۔‘‘ لان کی کرسیوں پر بیٹھے وہ اسے بھی بیٹھنے کااشارہ کررہے تھے۔
’’آنٹی کی وجہ سے میں نیچے نہیںاترتی۔ وہ مجھے دیکھ کر بہت ہرٹ ہوتی ہیں۔‘‘ دھیرے سے چیئر سنبھال کر گویا ہوئی۔
’’ہوں…! ماں ہیں ناں دکھ فطری ہے جو ہم جانتے ہیں‘ وہ اس سے لاعلم ہیں اور تمہاری یہ نیکی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘‘
’’انکل میں آپ سے ایک بات کہنا چاہ رہی تھی۔‘‘
’’بولوبیٹا… تم ہمیں کچھ سمجھویانہ سمجھو مگر تم میرے بیٹے کے حوالے سے مجھے بہت عزیز ہو۔‘‘
’’انکل…!‘‘ لمحہ بھر کے تذبذب سے انہیں دیکھا۔ ’’میں چاہ رہی تھی آنٹی اتنی ہٹ اور جذباتی ہوجاتی ہیں مجھے دیکھ کر میں ہوسٹل منتقل ہوجاتی ہوں۔‘‘
ہمدانی صاحب اک ٹک اسے دیکھے گئے۔ان کے بیٹے کے ہاتھوں بے گھر‘برباد ہوئی لڑکی… کاش کاش سمیر تم ایک بار اپنے خاندانی وقار‘ شرافت‘ عظمت اور اپنے باپ کے کردار کے بارے میں سوچ لیتے۔ اپنی ذات میں ٹوٹی یہ لڑکی… دوسروں کے حوالے سے کتنی نرم ہے۔
’’کچھ عرصے کے لئے میں منظر سے ہٹ جائوں گی تو شاید سب ٹھیک ہوجائے۔حالانکہ کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا‘ دل سے اترے لوگ گھر سے اٹھوائے گئے لوگ‘ کبھی بھی عزت نہیں پاسکتے۔‘‘
’’تم میری بیٹی ہو… بیٹی جیسی سمجھتاہوں تم کومیں بے یارومددگار چھوڑ سکتا ہوں؟ ہوسٹل کی زندگی کیسی ہوتی ہے مجھ سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے۔‘‘
’’انکل ہوسٹل میرے کالج سے ملحق بلڈنگ میں کالج کاہی حصہ ہے۔ کوئی پرابلم نہیں ہوگی۔ پھر آپ ہیں نا۔ میں آنٹی ہی کی طبیعت کے حوالے سے سوچ رہی تھی۔ جب تک…‘‘ کہتے کہتے اک پل کو رکی۔
’’جب تک سمیر بھی آجائیں گے۔ میں سمجھتی ہوں میرے لئے منظر سے ہٹ جاناہی بہتر ہے۔‘‘
وہ کسی گہری سوچ میں اتر رہے تھے۔
’’فی الحال میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ آئندہ اس موضوع پر بات کریں گے۔ تم چلو فریش ہو کر کھانا کھائو۔‘‘
’’آپ آفس نہیں گئے۔‘‘ دھیرے سے کھڑی ہوئی۔
’’نہیں میں آفس کے کام سے اسلام آباد جارہا ہوں۔‘‘
’’اسلام آباد؟‘‘ اس کا دل دھڑکا۔ دوسرے لمحے دل کو سنبھال لیا۔
کچھ لوگ ایسے ہی بدقسمت ہوتے ہیں۔ انہیں حسب حال نہیں ملتا‘دنیا انہیں ٹھوکروں میں رکھتی ہے۔ زندگی انہیں سسکاتی ہے اور انہیں زیست کی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
دھیرے دھیرے لان کی سیڑھیاں چڑھتی کاریڈور سے گزرتی اوپر کا زینہ چڑھتی وہ سوچے گئی۔
اس گھر کی اجبیت میں اپنائیت کاحصہ ہی نہیں مل رہاتھا۔ وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔
’’سمیر میں کسی طور بھی تمہیں قبول نہیں کرسکتی‘ دکھ اتنے زیادہ ہیں کہ تمہاری محبت بے حد کمزور ہے۔ اب مجھے زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنا ہے بہادری سے‘ہمت سے‘ لڑ کر… میری زندگی کی باگ اب کوئی دوسرا نہیں پکڑ سکتا۔
اک عزم وارادہ اس کے اندر پنپنے لگا۔
///
’’سنو میں نے فیروز کو فون پر سب بتادیاہے تمہارے بارے میں اور وہ جلدی آئے گا پاکستان۔‘‘جمیلہ اس کے کانوں مین زہر اگل رہی تھی۔ فائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
’’میں ایک شادی شدہ عورت ہوں یہ بات نہیں بھولو۔ میرا ماضی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا۔
’’اور ہمیں تعلق بنانا خوب آتا ہے۔‘‘ جمیلہ کی ہنسی میں زہر تھا۔’’جب میری زندگی ویران ہے تو تمہاری زندگی آباد کیوں ہو۔‘‘
’’آباد…‘‘ ا سکے دل میں درد پھیل کر سکڑنے لگا۔
اک ٹک جمیلہ کے زہر میں بجھے چہرے کو دیکھے گئی۔ اس کی آنکھوں میں بڑی شاطرانہ سی چمک تھی۔ تبھی بیل بجی اور سب اسٹاف کلاس لینے کے لئے نکلنے لگا۔ جمیلہ آفس میں ہوتی تھی لیب ٹیچر کے طور پر۔
اس سے پہلے فیروز جیسا سر پھرا آدمی آسیب کی طرح اس کی زندگی میں مزید زہر بھردے اسے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ہوسٹل کے ساتھ ساتھ اسے کالج بھی بدلنا ہوگا۔ مگر فی الحال یہ ممکن نہیںاس کے لئے‘ اسے پہلے انکل سے بات کرنا ہوگی۔ وہ تو ہاسٹل کے حق میں ہی نہیں ہیں۔ چہ جائیکہ کالج…
کالج واپسی پر پیدل چلتے ہوئے وہ سوچتی رہی۔ اپنی سوچوں مین گم وہ اس موٹر سائیکل والے کو دیکھ ہی نہیں سکی جو اپنی دھن میں جاتے ہوئے اک اچٹتی سی نگاہ فٹ پاتھ پر سرجھکائے چلتی لڑکی پر ڈال کر آگے بڑھ رہا تھا۔ ہیلمٹ کے پیچھے چھپی آنکھوں میں شناسائی ابھری۔ بائیک روک کر وہ واپس پلٹا اور گزرتے ہوئے بغور اس کاجائزہ لیااور حقیقت میں پہچان لیا۔ کاٹن کا گرین دوپٹہ‘بلیک اسکارف‘قدموں میں مضبوطی… بیگ اورہاتھوں میں دبی فائل کے اوپر کتابیں۔
’’آبگینے…یہاں؟‘‘ آنکھوں میں تحیر آبھرا… اور بائیک اس کے آگے لاکر روک لیا۔
آبگینے کے قدم رکے وہ بائیک سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔غصے سے اوپر دیکھا…اور ہیلمٹ اتارتے شخص کو دیکھ کر چونکی۔ دنیا گول ہے۔ بے شک‘ مگر یہ دور کی بات ہے۔ایک ہی شہر کے لوگ کیسے نہ ملیں گے۔
’’جواد!‘‘… سے نکلا۔
’’تم یہاں کہاں… کدھر غائب ہوگئیں تھیں ماموں کی وفات کے بعد۔کیا خاندان والے اتنے برے تھے۔‘‘
برے… اس کی دل میں ہوک سی اٹھی۔
’’مصیبتوں اور دکھوں میں تو پہچان کے رشتے جاگتے ہیں۔‘‘
’’ممانی‘ماموں سب کیسے ہیں؟‘‘
’’بالکل ٹھیک…تم کہاں رہ رہی ہو اس کالج میں پڑھتی ہو۔‘‘
’’تم کنیڈا سے کب آئے؟‘‘
’’ایک سال ہوگیا۔ پھوپھا کا سن کر بہت افسوس ہواتھا۔ تمہارے بارے میں بھی پتہ چلا تھا۔ اب کہاں ہو تم؟‘‘
’’میںکالج میں پڑھاتی ہوں اور اپنے گھر میں رہتی ہوں۔‘‘ دھیرے سے کہا۔
’’گھر چلو… امی تمہیں بہت یاد کرتی ہیں۔‘‘ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
’’جواد… جن رشتوں نے مجھے جیتے جی مار دیاہو‘ وہ مجھے کیسے یاد کرسکتے ہیں۔‘‘ مضبوطی سے کہا۔
’’میں تمہاری خاطر گھر والوں سے لڑا تھا۔‘‘
’’میری خاطر۔‘‘ اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔’’میری خاطر ایسا کچھ مت کرنا۔ جواد‘ جائو تم اور میرے بارے میں کسی کو کچھ مت کہنا… اور نہ بتانا۔‘‘
’’آبگینے۔‘‘ اس کی آنکھوں کی جوت مانند پڑنے لگی۔سن گلاسز آنکھوں پر لگا کر اس نے قدم آگے بڑھادیئے۔
اس کے پاس کچھ کہنے کے لئے کچھ تھااور نہ سننے کے لئے۔بڑھتے قدموں اور پیچھے ہٹتی زمین کے ساتھ ساتھ اس کے آنسو آنکھوں کے آگے دھند بھرنے لگی تھی۔
جواد جوہمیشہ سے وائل عمر سے ہی آبگینے کی خواہش رکھتاتھا۔ اسے پانے کے لئے اپنا مستقبل سنوارنے کے لئے باہر گیاتھا اس کی خواہش ادھوری رہگئی۔ لوٹاتو دل کا درسوناہوگیا تھا۔
بائیک پر آگے کو جھکا وہ بے حد یاس سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔
واپس آیا تھاتو امی نے‘ دوسرے لوگوں نے آبگینے سے متعلق ڈھیروں باتیں کیں مگراس کے دل نے کسی بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ اسے ڈھونڈتا رہا‘ ابناامید ہو کر جارہاتھاواپس کہ یوں سرراہ بالکل اچانک آبگینے مل گئی۔
’’ملی…کیا بچھرنے کے لئے‘دل کا درد بڑھانے کے لئے۔‘‘ ایک بار پھرملال رنگ ہاتھوں میں ٹھہر گیا۔ دھیرے سے بائیک اسٹارٹ کرکے آگے بڑھالی۔ آبگینے سے ایک بار پھر ملے گااس کادردسنے گا۔ اس کا دکھ بانٹے گا۔ سارے خاندان نے اسے اکیلا چھوڑ دیا تھ ااب وہ مل گئی ہے تو اسے اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
’’جواد…!‘‘ وہ اپنے کمرے میں آکر روپڑی۔
روتے روتے اس کی سسکیاں بندھ گئیں اس کی زندگی تو ماتم ایسی…شام غریباں جیسی ہوگئی تھی۔
جس کی منڈیروں پر اداسی بال کھولے سو رہی تھی۔
سمیر…سمیر…اک بار پھر اس کے دل سے آہ نکلی۔
جواد‘ضرور آئے گا دوبارہ… اس کاراستہ روکے گا۔ اپنے گھر والوں کے ناروا سلوک کی بابت بات کرے گا۔
مگر دھیرے سے اٹھ بیٹھی۔ آنچل سے چہرہ صاف کیا۔
اسے بجھی ہوئی راکھ نہیں کریدنی تھی۔ نہ ہی اسے شعلوں کوہوا دینی تھی۔ کسی نے جب قبول نہیں کیا جب اسے سر پرستی کی سائبان کی ضرورت تھی۔
تسلی وتشفی کی ضرورت تھی‘ بے یارومددگار تھی۔ اک در‘ گھر چاہئے تھا‘ سب نے منہ موڑ لئے۔ کہیں اس کا بوجھ انہیں ہی اٹھانا نہ پڑجائے۔
تواب جواد…اب تو بہت مشکل ہے‘ اب تومیری زندگی میں داغ ہی داغ ہے۔ اب تو رسوائیاں‘ بدنامیاں ہیں تو پھر اب کیسے مجھے قبول کریں گے۔ اب تو میں اپنی بدنصیبی کی کتاب پڑھ چکی ہوں‘ دنیا کے زیر وبم دیکھ چکی ہوں۔ اب واپس پلٹنا بہت مشکل ہے۔ جواد…!
میں منظر سے ہٹ جائوں گی۔ کسی کو نظر نہیں آئوں گی تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
اور اس گھر کی سلامتی بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔
آنٹی بھی تو یہی چاہتی ہ یں۔
اس کے اشک تھم گئے۔ فیروز کی خباثت اور کمینگی سے بھی بچ جائے گی۔
زندگی کی لگاموں کو خود تھام لوبلکہ تھامنا سیکھ لوآبگینے بہت کھیل لیا دوسروں نے تمہاری زندگی سے‘ اب اور نہیں۔
بالکل بھی نہیں…!
اس نے اپنے حواسوں کو مضبوط کیا۔ اپنے خیالوں کو مربوط کرکے اک فیصلہ کرلیااور بس اب یہی فیصلہ اٹل تھا۔ کی افائدہ ایسے گھروں میں رہنے کا‘ ایسے گھر تعمیرکرنے کا‘ جس کی دیواریں شک کی ہوں اور چھتیں کاغذی۔
اٹھ کر‘ دریچے میں آکھڑی ہوئی۔ سڑک سنسان ویران اور خالی تھی۔ بہت آگے ایک گاڑی دھول اڑاتی جارہی تھی۔
وہ بیڈ کے پاس قالین پر فلورکشن پربیٹھی… فائنل کے لئے نوٹس دیکھ رہی تھی۔ آج ویک اینڈ تھا۔ کمرے کی صفائی کے بعد… کپڑے دھولئے تھے۔ اسی پل دروازہ کھلااور ریشماں اندر آگئی۔
’’باجی… یہ کھانا۔‘‘
’’ہاں… رکھ دو۔‘‘ صفحے پلٹتے ہوئے کہا۔
’’باجی…آپ کو بیگم صاحبہ بلارہی ہیں۔‘‘
اس نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ ’’مجھے؟‘‘سماعت پر شک گزرا۔
’’جی…! آپ کو‘اپنے کمرے میں ہیں۔‘‘
’’ابھی…؟‘‘
’’نہیں کھانا کھا کرآجائیے گا۔‘‘ ٹرے رکھ کر ریشماں پلٹ گئی۔
انہوں نے کیوں بلوایا ہے کیا کہنا ہے۔ کیاوجہ ہوسکتی ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے مسلسل سوچے گئی۔
’’جی!‘‘ ان کے کمرے میں داخل ہوئی۔ بڑی بھابی شاہینہ ان کے بستر پربیٹھی تھیں۔
وہ اسے دیکھتی رہیں‘گھورتی رہیں‘ کس قدر نفرت تھی ان آنکھوں میں‘ اک زہر اسے اپنی رگوں میں اترتا ہوا محسوس ہونے لگا۔
’’تم جاب کرنے لگی ہو اور خود مختار ہو۔ تم چلی کیوں نہیں جاتی یہاں سے۔‘‘ان کا لہجہ پھنکار لئے تھا۔
آبگینے انہیں دیکھے گی۔
’’کہیں بہت دور…جہاں سے تمہاری خبر نہ آئے‘ سمیر کی زندگی سے نکل جائو تم۔ کیا لوگی…کتنے لاکھ…اس کی جان چھوڑنے کے۔‘‘
آبگینے نے سینے پر ہاتھ باندھ لئے۔
’’میں تمہیں اس گھر میں نہیں دیکھ سکتی۔ نکل جائو… دفع ہوجائو تم یہاں سے۔‘‘ ان کا سانس تیز تیز چلنے لگا۔ شاہینہ انہیں پانی پلانے لگی۔
’’غصہ مت کریں ماما…آپ کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’شاہینہ… چھوڑ دومجھے اوراس لڑکی سے پوچھو‘میرے بچے کا پیچھا چھوڑنے کا کیا لے گی یہ بد ذات۔‘‘
’’بدذات!‘‘ اس کا خون کھول گیا۔ ’’بد ذات‘ بدبخت کون ہے‘ کاش! انہیں بتاسکتی۔ اگر انکل کا مان نہ ہوتا تو ضرور بتادیتی۔ کوئی مجھے بتائے سمیر مجھے چھوڑنے کا کیا لے گا۔
’’میں تمہیں سمیر سے طلاق دلوادیتی ہوں منحوس تو اپنے گناہوں کی پوٹ لے کر ہمارے خاندان سے دور چلی جا۔ بھاگ جا… اپنا چہرہ کالا کرلے۔‘‘
دل چاہا اس عورت کو…اس جگہ پر بتادے کہ کس نے کس کامنہ کالا کیا ہے۔‘‘
’’اپنے بیٹے سے کہیں مجھے چھوڑ دے میں یہاں سے نکل جائوں گی۔‘‘
’’تجھے طلاق کے کاغذ مل جائیں گے تو اس کی زندگی سے نکل جا۔‘‘
’’ساجدہ…!‘‘ہمدانی صاحب ایک دم سے آگئے۔ شاہینہ گھبرا گئی اور ساجدہ ہمدانی اول فول بکنے لگیں۔
’’تمہیں میں نے منع کیاتھااس قسم کی بات کرنے سے۔‘‘
’’میں…میں کیا کروں…میں اپنے بیٹے کے مطالق جب بھی سوچتی ہوں‘ میر ادل ہولنے لگتا ہے‘ کس جرم کی سزا بھگتنے گیاہے۔ کیا کیا ہے اس نے…کیوں اس کی دشمن جان بننے لگی ہے۔‘‘
بولتے بولتے ان کے منہ سے کف نکلنے لگا۔ ان کی نظریں خون آشام ہورہی تھیں۔
آبگینے ساکت کھڑی تھی۔
’’اس کا کوئی جرم کوئی خطا نہیں ہے۔ اس نے جرم کیا۔ اس نے گناہ کیا‘تبھی تو اقبال جرم کیا۔ اقبال جرم کرنے والوں کے ساتھ نرمی اختیار کی جاتی ہے۔ جیل میں سمیر کا بی بیور بھی اچھا ہے‘ اس کی سزا میں مزید ترمیم ہوسکتی ہے۔‘‘ ان کے بستر پر ان کے پاس بیٹھ کر انہیں سمجھانے لگے۔ وہ بلک بلک کر بچوں کی طرح رودیں۔
آبگینے باہر نکل گئی۔
زندگی میری برباد ہوئی‘ گھر‘درمیرا اجڑا‘بدنام میں ہوئی اب چھوڑ وں بھی میں۔ میں چاہوں تو باقی ماندہ عمر میں اس کے نام کی مالا چپ سکتی ہوں۔ اپنے ساتھ ساتھ اس کی بھی زندگی اجیرن کرسکتی ہوں‘ جہنم بنا سکتی ہوں۔
انتہائی غصیلے انداز میں سوچتی وہ اپنے کمرے میں آگئی۔ میں تو خود یہاں رہنا نہیں چاہتی۔
صوفے پر گر گئی۔
ہمدانی صاحب اس کے سامنے سر جھکائے بیٹھے تھے۔ دونوں ہاتھوں سے انہوں نے سر تھام رکھا تھا۔ مضمحل‘ اداس‘ شرمندہ۔
آبگینے کوبے حد دکھ ہو رہا تھا۔ تھاتوباپ ہی بھلے سمیر کاتھا۔ اور باپ کیساہی کیوں نہ ہو باپ ہوتا ہے اولاد اس کی ساری عمر کی کمائی ہوتی ہے۔ ن یک اولاد زاد راہ بن جاتی ہے اور بدبخت اولادناسور بن جاتی ہے سینے کا۔
انتہائی شریف النفس انسان آج اپنے بیٹے کے ہاتھوں اک لڑکی کے سامنے شرمندگی سے سرجھکائے ہوئے تھا۔
کوئی ہٹ دھرم قسم کاباپ ہوتا تو بیٹے کے ساتھ ہی اسے بھی نکال دیتا۔ مگر آبگینے کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں تھی… اس کی شرافت کے گوارہ تھے۔
’’میں تم سے سخت شرمندہ ہوں بیٹی۔‘‘ انہوں نے سر اٹھایا۔
’’بیٹی…!‘‘ اس کا دل بھرآیا۔ عرصہ ہوا کسی نے اسے بیٹی کہہ کر نہیں پکارا تھا۔
’’انکل… دھیرے سے ان کے سامنے بیٹھ گئی۔’’شرمندگی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی‘ حل وہی ہے جو میں نے آپ کو بتایا ہے۔ ہوسٹل منتقل ہوجاتی ہوں۔‘‘
وہ چپ چاپ اس کی شکل دیکھنے لگے۔
’’میرا منظر سے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔‘‘
’’بیٹا…! انہوں نے اک اداس نگاہ اس پرڈالی۔ گلاسز کے پیچھے سے جھانکتی ان آنکھوں میں تیرگی سی تھی۔
’’سمیر تمہارے لئے نیک نامی کی جانب لوٹا ہے‘مجھے تمہاری حفاظت کرناہے۔‘‘
’’آپ ادھر آکر بھی تو میری خبرگیری کرسکتے ہیں۔‘‘
’’میں کیس اباپ ہوں جوبیٹی کو سمجھاسکتاہوں نااس کی حفاظت کی ذمہ داری لے سکتاہوں۔‘‘ ان کالہجہ بے حد تھکاہواتھا۔
’’نہیںانکل۔‘‘ دھیرے سے گھٹنوں پر ہاتھ رکھا۔
’’مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے‘آپ نے کٹھن حالات میں میرا ساتھ دیا ہے جب اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ میرا منظر سے ہٹ جانا آنٹی کے لئے بہتر ہے ان کی صحت کے لئے بس اس وجہ سے میں کہہ رہی ہوں۔‘‘
انہوںنے گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا۔ ’’ساجدہ انجائنا کی مریض ہے اسے ہم کچھ زیادہ بتانہیں سکتے‘ وہ صرف سے محبت کا قصہ سمجھتی ہے۔ اور سمیر کے لئے اپنی پسند کی لڑکی لانا چاہتی تھیں۔ سمیر سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے انہیںبہت عزیز ہے اور انہی کے لاڈ پیار‘بے جاآزادی نے سمیر کو بگاڑ دیااور وہ بگڑا ہوا رئیس زادہ بن گیا۔‘‘ انہوں نے رک کر دھیما سا سانس لیا۔ ’’ساجدہ کے لئے یہ معمولی بات تھی اس عمر کے لڑکے ایسی شرارتیں کرتے ہیں مگر انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کس دلدل میں اتر گیا ہے۔ ان کاموقف تھا کہ شادی ہوگی تو سدھرجائے گا۔ مگر جومیں جانتاتھاوہ ا نہیں سمجھا نہیں سکتا تھا۔ اس کی قسمت اچھی تھی یا کسی نیکی نے اسے کنویں میں گرنے سے بالیا اور تم اس کی زندگی میں آگئیں۔مجھے ایسا لگتا ہے جیسے اس کی کایاپلٹ گئی ہے‘ تم یقینا نیک ماں باپ کی ایسی اولاد ہو جو والدین کے لئے زاد راہ بھیجتی رہتی ہے۔ وہ جیل میں ہے مگر اک بدلاہواانسان بن کرنکلے گا۔‘‘
آبگینے ابراہیم کا سر جھک گیا۔
اس بدلے ہوئے انسان نے اس کی زندگی ب دل دی…اس کے دل کی نفرت کیسے محبت میں بدل سکتی ہے‘ جو قدم قدم پر دکھوں کا ساتھی ہو‘ وہ سکھ چھایا میں کیسے بدل سکتا ہے۔
’’انکل وہ ماں ہین‘ اورمیں ماں کادکھ سمجھ سکتی ہوں۔‘‘
’’ہوں…!‘‘ان کی نگاہ کسی غیر مرئی نقطے پر تھی… جب… جب میرا ان کا سامنا ہوگا جب جب ان کی طبیعت خراب ہوگی۔‘‘
’’ساجدہ کو ان حالات کو اس حادثے کوقبول کرلینا چاہئے۔ سمیر کو پلٹ کر اس گھر میں آنا ہے اسی گھر میں رہناہے۔ جب ساجدہ کیا کرے گی۔ نجانے کیوں وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتی۔‘
اس لمحے سے بچنے کے لئے تووہ راہ فرار اختیار کررہی ہے‘ زندگی میں وہ یہ وقت ہی نہیں آنے دینا چاہتی… دور جائے گی تو علیحدگی خودبخود ہوجائے گی۔ قدم مضبوط ہوں گے تو خلع خودبخود لے سکتی ہے۔
’’میں… سمیر سے پوچھ کر جواب دوں گا بیٹا‘یہ فیصلہ بہت بڑا ہے۔‘‘ دھیرے سے اس کے سرپر ہاتھ رکھا۔ گہر ا سانس لے کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوئے… اور باہر نکل گئے۔ قد آور ہمدانی صاحب وقت سے پہلے ہی بوڑھے لگنے لگے تھے۔
///
آج چار دن کی چھٹی کے بعد کالج جارہی تھی۔ اسے یقین تھا جواد ضرور آئے گا۔ اور اس سے نہیں ملنا۔
وہ بہت ذہین اور زیرک نگاہ تھا۔ اک گہری نظر میں اس کے دل میںجھانک لیتااور پھر… چلتے چلتے اس کے قدم رکے۔ آبگینے وہ کتناہی اپنا سہی…مگر اس سے کچھ بھی شیئر نہیں کرنا‘ کل خاندان نے تم کو نکال دیا تھا‘ آج تمہاری زندگی میں ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔
بیگ تھام کر باہر نکلی اور پھر نکلتی چلی گئی۔
اور…اسی رفتار سے نحوست اس کے تعاقب میں تھی۔ ساجدہ نے خون آشام نظروں سے جاتی آبگینے کودیکھا تھا۔ اور گیٹ پربیٹھے چوکیدار کوبلالیا۔
آبگینے کاکالج بالکل سامنے تھا۔ قدموں کی رفتار بڑھا کر کالج میں داخل ہوجانا اہتی تھی۔ اس کے آگے گرلز جارہی تھیں‘اس کو سلام کرتیں‘ اس سے پہلے کہ اس کے قدم آگے بڑھتے‘’’آبگینے‘‘ کی آواز پررک گئے۔ بے اختیار گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔ کس نے اتنے استحقاق سے بلایا ہے۔ اور دوسرے لمحے اس کے قدم ٹھٹکے اور خون رگوں میں جمنے لگا۔ جمیلہ اس کے پیچھے کھڑی تھی اوراس کے بالکل پیچھے عقب سے اس کے بھائی فیروز کا چہرہ ابھرا ہوا تھا۔آنکھوں میں شیطانیت لئے مونچھوں کو تائو دیتا ہوابولا۔
’’تم توبالکل ویسی ہو بالکل نہیں بدلیں۔‘‘ ذرااورقریب ہوا۔آبگینے نے جمیلہ کو دیکھااس ک آنکھوں میں زہریلی سی چمک تھی۔
’’فیروز واپس آگیا ہے‘آبگینے اوراسے تم چاہئے ہر قیمت پر۔‘‘
’’قیمت…؟‘‘ وہ سیدھی ہوئی۔ ’’آبگینے بے قیمت‘بے مول نہیں ہے‘ جمیلہ اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کرسکتا۔‘‘ اس نے فیروز پر نگاہ کی۔کہیں سے باہر سے آیا ہوا نہیں لگ رہاتھا۔ اوراس کاجواب سنے بغیر اندر کی جانب پلٹ گئی۔
اس کے بعد اس کی پوری کوشش تھی کہ جمیلہ سے اس کاسامنا نہ ہو۔ ایک کے بعد ایک کلاس لیتی گئی۔ بریک میں لائبریری میں آگئی۔ یہاں تک کہ آخری پریڈ لے کر نکل رہی تھی کہ جمیلہ سے ٹکرائو ہوگیا۔
’’وہ باہر تمہارا منتظر ہے‘اس سے مل لینا۔‘‘
بل کھا کر اسے دیکھا۔’’کیا چاہتی ہو تم…؟‘‘
’’وہی جو میرا بھائی چاہتا ہے۔‘‘ نظریں گھمائیں۔
’’تم نے اپنے بھائی کو سمجھایا نہیں کہ میں اک شادی شدہ عورت ہوں۔‘‘
’’شادی شدہ۔‘‘ جمیلہ نے سر سے لے کرپائوں تک اسے دیکھا۔’’اس کامطلب جانتی ہو…‘‘ تحقیر آمیز نگاہی تھی۔
’’ہٹ جائو میرے راستے سے۔‘‘ آگے بڑھ گئی۔
’’میں تو ہٹ جاتی ہوں اسے سمجھالو۔‘‘ آگے سے ہٹ بھی گئی۔ انہہ…!
وہ اپنی کتابیں لیکرکالج سے باہر نکلی۔ بے تحاشا غصہ آرہا تھا۔ لوگوں نے اسے کیا سمجھ لیا تھا۔ اس کی زندگی سے اب یوں کھیلیں گے۔
ادھر ادھر دیکھے بغیر اس نے اپنے راستے پر چلنا شروع کردیا۔
ہونہہ…اسے سنبھالو… بڑا طرم خان بنا پھرتا ہے۔ دیکھ لوں گیا سے بھی…تیز تیز قدم اٹھا کرموڑ مڑنے کو تھی کہ ’’آبگینے‘‘ کی آواز پر چونکی رخ موڑ کر دیکھا تو ہمدانی صاحب اس کے قریب گاڑی روک رہے تھے۔
’’آئو بیٹا۔‘‘
’’آپ اس وقت؟‘‘
’’ہاں… اک کام سے گزررہاتھا سوچا تمہیں بھی پک کرلوں۔‘‘
’’تھینک یو۔انکل۔‘‘ پچھلا دروازہ کھول کربیٹھ گئی۔
اوراس سے ملنے کی خوشی میں آتا جواد بائیک کو پیچھے ہی بریک لگا گیا… گاڑی آگے بڑھ گئی۔
’’تویہ بھی سلسلے میں شہزادی کے۔‘‘ اپنی گاری میں پیچھے آتا فیروز گاڑی کوسائیڈ پرکرکے انہیں آگے جاتا دیکھنے لگا۔
’’پھر تو کوئی مشکل ہی نہیں ہیں۔‘‘ مونچھوں کو تائو دیتا وہ ذومعنی انداز میں مسکرانے لگا۔ ویسے نہ سہی…ایسے ہی سہی۔ بڑا تڑپایا ہے شہزادی نے۔‘‘ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا اور بائیک اسٹارٹ کرتے جواد کی سرسری سی نگاہ اس کی جانب اٹھی اور دونوں ایک ہی خیال دل میں رکھ کر اپنے اپنے راستوں کی جانب چل پڑے۔
’’اوہو…شاہینہ نے ارم کوٹہوکادیا۔’’ادھر دیکھو گیٹ پر‘‘ دونوں ایک ساتھ ادھر دیکھنے لگیں۔ جہاں سے ہمدانی صاحب کی گاڑی اندر آرہی تھی۔ اور پیچھے آبگینے بیٹھی تھی۔
’’تواب یہ ہوگا۔‘‘
’’تبھی تو ماما کو فکر ہو رہی ہے اسے نکالنے کی۔‘‘
’’انکل اس کی بہت سائیڈ لیتے ہیں۔‘‘ ارم ہنسنے لگی۔
’’کوئی رنگ نہ دکھادے۔‘‘
’’اس رنگ کو تومٹا دینا چاہتی ہیں ماما۔‘‘
دونوں نے اندر جاتی آبگینے کو ایک ساتھ ٹیرس سے جھک کر دیکھا۔ اندرجاتی آبگینے ذہنی طور پر سخت الجھی ہوئی تھی۔ اسے فوراً کوئی اقدام کرنا تھا۔ فیروز جیسے خبیث لوگ کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ انہیں برے اور بھلے کی تمیز نہیں ہوتی۔ خود سری اور خودپسندی شدت اختیار کرجاتی ہے تو پھر یہ لوگ کچھ نہیں دیکھتے۔ دھیرے سے کھڑکیوں کے پردے کھینچ دیئے۔ اب اپنے لئے جو کچھ بھی کرنا ہے اسے خود کرنا ہے۔ اس کا دل بھرآنے لگا۔ اس کی حفاظت کرنے والا اب اس زمین پر کوئی نہیں۔آنسو پھسلنے لگے۔ اس کے لئے ہوسٹل ہی ٹھیک رہے گا۔ نہ وہ باہر نکلے گی‘ نہ کسی سے ملاقات ہوگی۔ جواد بھی آیا ہوگا۔
’’جواد۔‘‘ انگلیوں سے آنسوئوں کوسمیٹا۔ ایک اپناپن‘ ایک ادھوراخیال‘ اک قریبی تعلق… ایک دم سے بڑھ کر بیڈ پر بیٹھی اور پھوٹ پھوٹ کررودی۔ قریبی تعلق کی تو ساری طنابیں ٹوٹ گئیں کسی نے اپنا سمجھانہیں پھوپھو نے تو سب سے پہلے نگاہیں پھیرلیں… ممانی نے تو اس کے اغوا کے بعد اس جانب رخ ہی نہیں کیا۔خاندان والے یہ رائے رکھتے تھے تو پھر تعلق ٹوٹے ہوئے ہی ٹھیک ہیں۔
جواد ہویا کوئی اور…نہ ملناہی بہتر ہے۔
ویسے بھی زندگی کو ازسرنوشروع کرنے چلی ہے۔
دھیرے سے سائیڈ کی دراز کو کھولنے بند کرنے لگی۔رونے سے دل کا بوجھ ہلکاہوگیاتھا۔
اس کا دل وذہن ہوسٹل میں قیام کامشورہ دے رہاتھا۔
آسیب زدہ لوگوں سے چھپنے اور بچنے کا واحد طریقہ۔
صبح وہ ہمدانی صاحب کے ساتھ کالج گئی اور انہیں راستے میں بتادیا کہ وہ آج کالج سے ملحق ہوسٹل میں جائے گی اور بات کرلے گی۔
’’تمہیں کوئی پرابلم ہے‘ مجھے سمیر سے بات کرلینے دو۔‘‘
’’آپ بات کرلیں انکل مگر فائنل یہی ہوگا۔ ہم سب کی بہتری اسی میں ہے۔‘‘ ہمدانی بیک مرر میں سے اسے دیکھ کررہ گئے۔
’’آنٹی ہارٹ پیشنٹ بھی ہیں… ایک اور نقطہ اٹھایا۔ ’’اور میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے انہیں کچھ ہو۔‘‘
’’تم یہ بات کیوں نہیں سوچتی کہ آخر تمہیں اسی گھر میں رہنا ہے سمیر کے ساتھ۔ جلد ہی سمیر آجائے گا۔ ساجدہ کو حالات سمجھنے چاہئے۔‘‘
(اس کے آنے سے پہلے ہی میں اس کی زندگی سے نکل جانا چاہتی ہوں…)
’’انکل یہ بعد کی باتیں ہیں۔ پہلے سمیر کو آنے تودیں ہمیں کوئی رسک نہیں لینا چاہئے۔‘‘
وہ کچھ سوچتے ہوئے گاڑی چلانے لگے۔ کچھ لمحوں بعد کالج آگیا۔ اور وہ انہیں خدا حافظ کہتی اتر کر اندر چلی گئی۔
ان کا ذہن اک اور نکتہ پر سوچ رہاتھا۔
تبھی وہ چونکے ان کے گھر کے چوکیدار کابیٹا…دلاور برائون چادر اوڑھے دور دخت کے نیچے کھڑا تھا۔
’’یہ یہاں؟ اک سے پہلے کہ وہ مڑ کر پیچھے جاتا‘ گاڑی اس کے قریب لے گئے۔
’’خیریت تو ہے دلاور تم یہاں؟‘‘
’’وہ… ہاں جی…ادھرکام سے آیا تھا۔‘‘ ایک دم سے گھبرا گیا اوراس کا گھبرانا ہمدانی صاحب کی زیرک نگاہی سے چھپانہ رہ سکا۔
’’آئو چھوڑ دوں گھر۔‘‘ بغور اس کاجائزہ لیا۔
’’نا…نہیں جی میں چلاجائوں گا میرا دوست آتاہی ہوگا۔‘‘ وہ مڑ کر مخالف سمت پر دیکھنے لگا۔
’’تمہاری مرضی… اسے دیکھ کرگاڑی آگے بڑھالے گئے۔ مگران کی چھٹی حس انہیں کسی خطرے کاسگنل دینے لگی۔
اور ہینڈسم سے ہمدانی صاحب کو دیکھتا فیروز‘ کسی اور نکتہ پر سوچنے لگا۔
تو یہ ٹھاٹھ ہیں۔‘‘
’’ایک نہ شد… دو شد… اور وہ بھی اتنے مالدار…
آپ کی تو دسوں کی دسوں گھی میں ہیں… مہارانی جی…‘‘
مونچھوں کوتائودیتے ہوئے آخر تک نظر آتی گاڑی کودیکھتا رہاتھا۔
کالج سے نکلتی آبگینے خاصی مطمئن تھی۔ اسے ہوسٹل میں تھرڈ فلور پر کمرہ مل گیاتھا مگر پندرہ دن بعد خالی ہونا تھا۔
ہرقسم کے خطرے سے بچ جائے گی۔
پھر اندر ہی اندر کوشش کرکے کسی دوسرے کالج میںاپلائی کرتی رہے گی۔ یہ کون ساگورنمنٹ کالج ہے‘ ٹرانسفر کاانتظار کرے۔ اور پھر کسی دوسرے شہر‘ دوسرے کالج کے ہوسٹل میں قیام کرے گی اس طرح سے وہ سمیر کی زندگی سے نکل جائے گی…وہ ڈھونڈتا رہ جائے گا۔ اک اطمینان سا اس کے اندر اترنے لگا۔
پھرزندگی ازسرنو سانس لے گی۔
اسے کون ساشادی کرناہے اب…اب زندگی کوباباجیسی گزارے گی۔ ایک لائق فائق پروفیسر کے روپ میں۔ اک اچھی اسکالر بن کرتعلیمی درسگاہوں میں۔ بابا کی روح ضرور اس سے خوش رہے گی۔ ایک گہرا اطمینان بھراسانس لیا اور قدموں کی رفتار تیز کردی۔ تبھی بائیک اس کے قریب آکر رکی۔’’آبگینے۔‘‘اس کا دل دھڑک کر۔
یہ سب لوگ منظر سے ہٹ کیوں نہیں جاتے۔)
مڑ کر دیکھا… جواد…اسے دیکھ رہاتھا۔
’’تمہیں میرا انتظار نہیں تھا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آس تھی۔
’’کس امید پر‘‘ اس کی جانب گھومی۔ ’’جوتعلق ٹوٹ چکے ہیں جواد انہیں جوڑنا ممکن نہیں ہیں‘ ہم جہاں جس جگہ کھڑے ہیں‘ ادھر ہی رہیں تو بہتر ہے۔ اور میں مل کرکیا کروں گی۔ خاندان کی نظر میں میں گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہوں۔ بس پھر…‘‘
’’آبگینے… غلط فہمیاں دوربھی تو ہوسکتی ہیں۔‘‘
’’مگر کیوں…!‘‘ اس کی آنکھوں میں گرد پھیلنے لگی۔
’’میں…میں چاہتاہوں میرے لئے کہ تم عزت نفس کے ساتھ جیو اور کچھ ممکن نہیں تو یہ ہی سہی۔‘‘
’’پلیز جواد… اب کچھ بھی ممکن نہیں ہے تم روز روز آکر یوں خودکوہلکان مت کرو۔‘‘
’’آبگینے‘‘ بے حد درد سے پکارا۔’’تم جانتی ہو ناتمہارے ساتھ مجھے جینا کس قدر اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’ان راہو کوچھوڑ دو‘ راستہ بدل لو جواد‘ دل کوسمجھا لو‘ میں اب کسی کی پراپرٹی بن چکی ہوں۔‘‘ بے حد زہریلے لہجے میں کہا۔
’’پراپرٹی…‘‘ جواد چونکا۔آبگینے پلٹی اور گلاسز آنکھوں پر لگا کر آگے بڑھنے لگی۔
اس کے قدموں کی رفتار دیکھتا جواد سوچے گیا۔
’’پراپرٹی…‘‘ اس کا لہجہ‘ اس کاانداز‘ اور وہ آنکھوں کا بھیگا ساتاثر… تو…توآبگینے خوش نہیں ہے۔ اسے یہ ماحول‘اپنا گھر‘ اپنا شوہر‘ پسند نہیں ہے۔ اس کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے۔ آخری موڑ مڑنے تک اسے دیکھتا رہا۔
وہ آبگینے کوسمجھائے گا‘ دونوں مل کر کوئی راستہ نکال لیتے ہیں اسے راضی کرلے گا۔دونوں مل کر ازسرنوزندگی شروع کریں گے ایک بار…ایک بار موقع تو دے۔ وہ اسے اس بدنامی سے نکال کر دور لے جائے گا۔ امید کی کونپلیں سر اٹھانے لگیں۔ اوربائیک اسٹارٹ کرکے روڈ پر لے آیا۔
دور کھڑا گاڑی سے ٹیک لگائے فیروز اسے دیکھ رہ اتھا۔ ایک دن یہ لڑکا‘ وہ گاڑی والاہینڈسم‘ اس کا شاطرانہ ذہن تیزی سے کام کررہاتھا۔ وہ گنگا جل میں دونوں ہاتھوں سے تیرنا چاہتاتھا۔
مونچھوں کو بل دیتابڑی کمینگی سے مسکرادیاتھا۔
///
دل جانے کیوں آج گھبراہراتھا۔ ہرسوتاریک شب کا راج تھا۔ رات کا پہلا پہر تھا مگر سردی کی وجہ سے سب اپنے کمروں میں تھے۔ آج ساجدہ ہمدانی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ دھیرے سے دروازہ کھول کر باہر آئی اور ٹیرس پر کھڑی ہوگئی۔ ہوامیں بھیگی بھیگی سردی کا تاثر تھا۔ اپنے شانوں پر پڑی شال کو اپنے گرد لپیٹا اور سیڑھیاں اتر کرلان میں چلنے لگی۔ بھیگی بھیگی گھاس‘ سرد ساتاثر اس کے اندر اترنے لگا۔ اک اداسی سی وجود کاحصہ بن رہی تھی۔ زرد چاند کی روشنی لان میں پھیلی تھی۔
جواد کا ملنا اسے اداس کررہاتھا۔
کیسے اچھے دن رات تھے‘بابا امی کے زمانے میں کیسی کیسی خوبصورت محفلیں ہوئی تھیں۔ وہ گرم کمرے میں کافی پینا‘ ہال کمرے میں آتش دان کے گرد جمع ہو کر سب کا ہاتھ سیکنا۔مونگ پھلیاں اور چلغوزے کھانا۔ جواد کابہانے بہانے سے آنا۔ سب کزن ویک اینڈ ان کے گھر گزارتے تھے۔ خوبصورت لان تھااور سب سے بڑی وجہ ہال کمرہ…آتش دان کا رومانس… رومانٹک ماحول… سب کزن کو اس کے بابا بہت پسند تھے‘ چاچو‘ تایا‘ ماموں‘ کہتے بہت کچھ پوچھتے۔ سیکھتے اور سمجھتے تھے۔ بابا کا…بہت اچھا تھا۔ انہیں موسیقی کی بہت اچھی سمجھ تھی۔ آتش دان کے پاس بیٹھ کر کمبل ٹانگوں پر ڈال کر جب بانسی بجاتے تو اک سماں سابندھ جاتا۔ بانسری بجانا انہوںنے ہی اسے سکھایاتھا۔
بانسری!‘‘اک دم سے چونکی۔
ایک عرصہ ہوگیاتھااس نے بانسری نہیں بجائی تھی۔ حالات ایک دم سے اتنے خراب ہوتے گئے کہ وہ سب کچھ بھول گئی۔
جواد‘بینا اور ایاز کے ساتھ بس اسے بانسری بجانے کا شوق تھا۔ بابا بہت اچھا ہارمونیم بھی بجاتے تھے۔ جواد کی آواز اچھی تھی۔ ہارمونیم کے ساتھ غزل بہت اچھی گاتاتھا۔
وہ ماحول سے غافل اورماضی کی سیڑھیاں اترکرہال کمرے میں کھڑی تھی۔ باہر سردی اوراندر آتش دان کی گرمی تھی اس کا دل یادوں کی آنچ سے جلنے لگا۔ دم گھٹنے لگا‘ آنسوئوں نے رستہ دیکھ لیا۔
’’باجی…!‘‘
’’باجی…‘‘ کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کرچونکادیا۔اور ناریل کے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑی… وہ ایک دم سے چونکی۔ ریشماں اس کے برابر میں کھڑی تھی۔
’’آپ یہاں اتنی رات کو طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘
آبگینے اسے دیکھے گئی۔
’’آپ کے کمرے میں گئی تھی۔ وہ خالی تھا تو آپ کو ڈھونڈتی ہوئی ادھر آگئی۔‘‘
’یہ میرے لئے فکرمند تھی…‘ آنکھیں بھگینے لگیں۔
’’کیا ہوا باجی؟‘‘
’’آں…ہاں۔‘‘ ایک دم سے چونکی۔ ’’کچھ نہیں۔‘‘
’’اچھا…دھیرے سے مسکرائی۔’’آپ کو چھوٹے صاحب یاد آرہے ہیں‘ہاں کتنے دن سے انہوں نے کوئی خط بھی تو نہیں بھیجا۔ مجھے بھی جب رمضو خط نہیں لکھتا باجی تو مین بھی ناراض ہوجاتی ہوں۔ وہ گائوں میں زمینوں پر کام کرتا ہے۔ بہت محنتی کسان ہے۔ پچھلی بار جب وہ آیا تھا ناتو میں نے وہ ادھر لان کے کونے میں اس سے گلاب کا پودا لگوایا تھا۔ اوراس کے ساتھ میں نے بھی چھوتی سی بیل لگائی تھی۔دونوں ساتھ ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ مجھے جب بھی اس کی یاد آتی ہے تو وہاں بیٹھ جاتی ہوں۔ وہاں کی صفائی کرتی ہوں۔ پانی دیتی ہوں‘ سوکھے پھیکے پیلے پتے نکال دیتی ہوں‘ اس کی یاد تازہ ہوتی جاتی ہے خودبخود ہی میرا حسن شانت ہوجاتا ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر بڑی خوبصورت چمک تھی۔
آبگینے اسے دیکھے گئی۔
’’اگلے سال ہماری شادی ہے۔‘‘ شرمیلی سی مسکان تھی۔’’آپ بھی نا…‘‘اچانک کسی خیال سے چونکی۔’’اپ بھی ناں…جب تک چھوٹے صاحب نہیں آجاتے ان کے لگائے ہوئے پودے کو پانی دیا کریں‘ اس کا خیال رکھا کریں۔ آپ کا من شانت ہوجائی گا۔ یہ جو بے چینی سی ہے ختم ہوجائے گی۔‘‘
آبگینے اسے دیکھے گئی۔
گائوں کی گوری اسے کیسا سبق دے رہی تھی۔
اس کے بابا کا لان تو ہرابھراتھا۔ ان کے ہاتھ کے لگائے پودے تو سدابہار تھے۔ ان کا اس نے دھیان ہی نہیں رکھا۔ ان کاخیال کس نے رکھا ہوگا۔ مرجھاگئے ہوں گے۔‘‘
’’یہ جو ناریل کے درخت کے ساتھ آپ کھڑی ہیں نایہ سمیر صاحب کے دادا نے لگایا تھا۔ اماں ب تاتی ہے کہ…‘‘
’’ریشماں‘‘ دھیرے سے سیدھی ہوئی۔ ’’تم سوئی نہیں۔‘‘
’’میںکچن صاف کررہی تھی برتن لینے آپ کے کمرے میں گئی تو آپ نہیں تھیں۔ اس لئے میں ادھر آگئی۔ اور وہ جو رات کی رانی اور دن کاراجہ دیکھ رہی ہیں وہ چھوٹے سرکارنے لگائے تھے انہیں پانی دیاکرو۔‘‘
اس نے نگاہ چرا کر گھمائی تو خود بخود ہی دور گوشے میں دن کاراجہ اور راس کے پہلو میں رات کی رانی پر ٹھہر گئی۔ کیسا خوبصورت تاثر تھا…سینے پر ہاتھ باندھے… کیسی گھنائونی وتلخ اور اذیت ناک سچائی تھی۔
’’اندر چلیں… ٹھنڈ نہ لگ جائے۔‘‘
’’آنٹی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ گہراسانس لیا۔
’’بس ٹھیک ہے۔ صاحب بڑے پریشان ہیں۔‘‘
آسمان کا ساکت چاند گہری کاموشی کا تاثر دے رہاتھا۔
اس نے اندر کی جانب قدم بڑھادیئے۔ دل کی اداسیاں‘ ویرانیاں‘ غیر محسوس طریقے سے اس کے ساتھ ساتھ تھیں۔ اس کا دل بانسری پر کوئی اداس سی دھن بجانا چاہتاتھا۔اس کی چیزیں‘ اس کی کتابیں‘ اف…
بسترپرلیٹتے لیٹتے اٹھ بیٹھی۔
سمیر اس سے نکاح کرکے گھر لے آیا تھا۔ چند دن بعد بابا کا انتقال ہوگیا۔ پھراس نے ادھر کا رخ ہی نہیں کیا۔ بابا کاگھر کس حال میں تھا‘ چیزوں‘فرنیچر‘ کتابوں کا کیا حال ہواسوچاہی نہیں۔وہ تو اپنا دل‘ اپنا درد‘ اپنا سکون ڈھونڈتی رہی سمیر سے بجتی رہی‘ بند باندھتی بناتی رہی۔ کیاحال ہوا اس کے گھر کا…کیا گزری ان درودیوار پر محلے والوں کے خیال سے گزرہی نہیں کیا اس طرف۔ اف… اس کے اشک بہہ نکلے۔ کلینڈر پر نگاہ گئی۔ دوسرے لمحے اک اذیت ناک احساس رگ وپے میں سرائیت کرتا چلا گیا۔ٹھیک آج کے دن اکیس جنوری کواس کے بابا کے دکھوں کی زنجیر ٹوٹ گئی تھی۔اوراس کو محفوظ ہاتھوںمیں دے کر سمجھے کہ اسے اک گھر‘اک امان‘ اک تحفظ دے دیا ہے۔ سکون سے آنکھیں بند کرگئے۔
روتے ہوئے بیڈ سے پائوں لٹکالئے۔آنسو گریبان بھگونے لگے۔اس لئے آج بابا‘ گھر‘ سب لوگ ان کی باتین اک فلم کی طرح چل رہی تھیں۔ یاد ختم اس کو اپنے حصار میں لے کر اس سے لپٹ کر رو رہی تھی۔
دھیرے سے کھڑی ہوئی باتھ روم کا رخ کیا۔ وضو کرکے نکلی اور پھرجاء نماز بچھا کر کتنی دیر تک ان کے لئے بہت کچھ پڑھتی روتی انہیں بخشتی رہی… رات دھیرے دھیرے گزرتی رہی۔ یہاں تک رات کا اندھیرا سب ک سپیدے سے اپنے پرسمیٹنے لگا۔
اس کے متورم پپوٹوں پرشبنم ٹھہری تھی کہ نیند نے اسے سمیٹ لیا۔ تنہائی‘ سناٹااور اداسی اس کے تکئے پر اس کے پہلو میں سمٹ کر سونے لگے۔
///
الجنت سے نکل کر لمبی سڑک کراس کرکے موڑ کاٹااور سیدھی سڑک پر آگئی۔ یہ سیدھی سڑک دس منٹ کی واک کے بعد دائیں جانب مڑتی تھی۔ اور چند فرلانگ کے فاصلے پر کالج تھا۔ یہ فاصلہ وہ کلاس میں دینے والے لیکچر کی تیاری ذہن میں کرتے ہوئے گزرتی۔ پچھلے کچھ دنوں سے جمیلہ سے ٹکرائو نہیں ہو رہاتھا۔ وہ لیب میں مصروف رہتی تھی۔ خدا کرے وہ ہمیشہ مصروف رہے۔ اور نہ ہی اس کاناہنجار بھائی نظر آیا۔ شاید اسے عقل آگئی تھی۔
ویسے بھی چند دن کی بات ہے۔ گھر سے ہاسٹل تک کا راستہ طے کرلے پھر کالج خود بخود بدل جائے گا۔ اک درکھلے گادوسرے در کھولتے چلیں جائیں گے۔
اک حزن سااس کے وجود سے لپٹا اور چہرے پر ٹھہر گیا۔ دوسرے لمحے زور سے چونک کر سرگھمایا اور سانس رکنے لگا۔
گردش دوراں شاید اس کے تعاقب میں تھی۔
فیروز اپنی کمینی سی مسکراہٹ لئے اسے ہوسناک نگاہوں سے تک رہاتھا۔
’’آجائو سوئٹی!‘‘ اس نے سیٹی بجائی۔
اس کا خون کھولنے لگا۔
’’اس موٹر سائیکل والے سے تو بہتر ہوں گاڑی ہے میرے پاس۔‘‘اسے کہہ کر نیچے اترا… اس سے پہلے کہ سرجھٹک کر آگے بڑھتی وہ قلانچ بھر کر روبروہوا۔
’’چند سال میرے ساتھ رہوگی تواس بڈھے سے اچھا گریس آجائے گا۔ جس کی گاڑی اکثر تمہیں لفٹ دیتی ہے۔‘‘
’’کیا چاہتے ہو تم؟‘‘
’’تمہارے ساتھ بہت سا وقت گزارنا۔‘‘ بے ساختہ کمینگی لئے لہجہ تھا۔
’’میں شریف اور عزت دار گھرانے کی بہو ہوں۔ تم نے مجھے کیا سمجھ لیا ہے۔ ان اوچھی حرکتوں سے باز آجائو ورنہ۔‘‘ انگلی اٹھا کر ہمت سے وارننگ دی۔
’’ورنہ کیا مائی سوئٹ ہارٹ۔‘‘ ذرا سا جھکتا وہ سستی رومانی فلموں کاگھٹیا سا کردار لگ رہا تھا۔
’’کس کو بلوائو گی۔سیاں تو تمہارے انگلیوں پر دن گن رہے ہیں جیل میں۔‘‘
اک دم سے جیسے دنیا گھوم گئی ہو۔ اک سردسی لہر وجود میں اترنے لگی۔
’’تمہارے فراق میں تمہارے حسن خیال میں گم‘ سمیر احمد ہمدانی۔‘‘
اسے سب معلوم تھا… وہ سب معلومات رکھتاتھا پکا گھاگ کھلاڑی اس دفعہ تیاری کے ساتھ آیا تھا۔
’’شطرنج کی بساط پر میں نے اسے بہت دفعہ مات دی ہے سلاکوں کے پیچھے۔ بہت اچھا وقت گزرتا تھا ہمارا۔‘‘
اس کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔ کھلے آسمان تلے وہ بے یارومددگار تھی اور بھیڑیے منتظر۔ مگر وہ کسی گیدڑ کالقمہ نہیں بنے گی۔
’’ہمت…ہمت…آبگینے ابراہیم… جس کا خدا ہوتا ہے وہ بے یارومددگار نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’مجھے یقین ہے۔‘‘ آبگینے نے خود کوسنبھال کر سنا۔’’تم اپنے شوہر کے دوست کا خیال رکھوگی۔‘‘اور سینے پرہاتھ باندھ کر اسے دیکھا۔ ’’تمہیں اپنے خاندان کی‘ سسرال کی شرافت کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ اور…‘‘
اسے بے پناہ کراہیت کااحساس ہوا۔
اور…
آبگینے نے قدم آگے بڑھادیئے۔
وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
’’وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے صراط مستقیم پر چلنے کی پریکٹس کررہا ہے۔بتارہاتھا وہ مجھے کہ تم نے اس کی زندگی بدل دی۔‘‘
آبگینے کے قدم رکے اور پھر چل پڑے۔ اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔
انکل‘ اسجد بھائی یا کوئی بھی اسے یوں چلتے دیکھ کر کیاسوچے گا‘ کہاں سے اپنے کردار کی گواہی لائے گی۔ جبکہ اس کا تو کردار ہی مشکوک ہے۔ ساجدہ ہمدانی اس کی تباہی کے درپے ہیں۔
قریب سے گزرتے رکشے کو ہاتھ دیااور بھاگ کر اس میں آبیٹھی۔
فیروز نے بڑھ کر راڈ پکڑے اس کے ٹھنڈے برف ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کربولا۔
’’ہماری بھی زندگی بدل دو نا۔‘‘ جیب سے ایک نوٹ نکال کر رکشے والے کو پکڑا دیا۔
’’ذرا…آرام سے‘احتیاط سے…لے کرجانا‘ جناب۔‘‘ آبگینے نے سرگھمالیا۔رکشے والا مسکراتے ہوئے رکشہ آگے بڑھانے لگا۔
تباہی… اس کا دل سسکا۔
تباہی اور کیسی ہوتی ہے…آنسو گرنے لگے۔
رکشے والا سامنے والے شیشے سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اس نے منہ پھیرلیا۔
اب جو کچھ بھی کرنا تھا۔ بہت جلد کرنا تھا۔ جواد… فیروز… اس کا اکیل اپن… اکیل ذات…ہمدانی صاحب کا اعتماد…کوئی ایک شخص توتھا جوا سے اچھا سمجھتاہے اس پراعتماد کرتا ہے۔
’’بس ادھر اس موڑپر کالج کے سامنے روک دو۔‘‘ راستہ بتایا۔
کالج کے سامنے رکشے سے اتر کر اسے پیسے دیئے۔
’’لیکن پیسے تو… رکشے والے نے واپس کرنے چاہے مگر وہ پلٹ کر تیزی سے اندر چلی گئی۔
’’آبگینے ابراہیم!‘‘ کاریڈور کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بے اختیار اندر کی آواز پرچونکی۔ کوئی اور بھی ہے جو تمہیں اچھا سمجھتا ہے۔ جو تمہارے کردار کا گواہ ہے۔ اور تمہارے لئے مکمل ہونے کے لئے سزا کاٹ رہاہے۔ اک لمحہ کو اس کے پائوں رکے… اور آگے بڑھ گئے۔
اور پیپل کیدرخت سے ٹکا کھڑا چوکیدار کابیٹا دلاور‘اسے دیکھ کر معنی خیزی سے ہنسا… اب اسے مکمل کارروائی کرناتھی…ایک پرکشش رقم معمولی سے کام کے لئے کوئی زیادہ بری نہیں تھی۔ اور آبگینے کو یوں عجلت بھرے انداز میں رکشے سے اتر کر اندرجاتا دیکھ کر جواد دل مسوس کرکے رہ گیا۔
’میں توتمہارا خاندانی اپنائیت بھرارشتہ ہوں‘ مجھ سے یوں گھبرائو مت۔ میں تمہاری زندگی میں زہر گھولنے نہیں آیا میں تو تمہیں اپنا پن دینا چاہتاہوں… د ل تو میں کھوچکاہوں‘ تمہارا خاندانی بھرم لوٹادوں میں جانتاہوں میرے گھر والوں نے بھی برا کیا۔ تم گناہ گارنہیں ہو ابراہیم پھوپھا کی بیٹی کیسے گناہ گار ہوسکتی ہے۔ اس کے دامن میں تو فرشتے نماز پڑھتے ہوں گے تم اتنی پاک دامن‘پاکباز ہو‘ جواد کا دل بھرآیا۔
کاش…! کاش! اس نے بائیک اسٹارٹ کرکے آگے بڑھائی۔
///
اسے خود سے ڈرلگنے لگا۔ باہر موجود بھیڑیے اس کی تاک میں تھے۔ اک حتمی فیصلہ اسے فوراً کرنا تھا ہوسٹل میں رہنے کا۔ انکل کو راضی کرناتھا۔
اپنے کمرے سے نکل کر ٹیرس پر آگئی۔سہ پہر کا سورج ڈھل رہاتھا۔ دھوپ منڈیروں پر تھی۔ ناریل کے درخت کے پتے چمک رہے تھے۔ آہٹ پر مڑی۔
ارم بھابی اپنے کمرے سے نکل کر جارہی تھیں۔
مڑ کر اس نے سر سے پائوں تک اس کاجائزہ لیا تھا۔
ایک کپ چائے کی خواہش دل میں جاگی… ریشماں جانے کہاں ہوگی وہی اس کا خیال رکھتی تھی۔ جانے کس خیال سے اس نے نیچے کی جانب قدم بڑھادیئے۔اور کچن میں آکر چائی بنالی۔تبھی ریشماں آگئی۔ اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔ یقینا وہ فون سن کر آئی تھی۔ کیسی روشن آنکھیں ہو رہی تھیں۔ محبت…اس کی آنکھوں میں جھلک رہی تھی۔ مسکراکر اسے دیکھا۔
’’تمہارا منگیتر آیاہے کیا…؟‘‘
’’نہیں‘ اس کافون آیا تھا۔ شرم سے گلول ہو رہی تھی۔آبگینے مسکرا کر باہر نکل آئی۔ اور ساکت ہوگئی۔ سامنے ساجدہ ہمدانی کھڑی تھیں۔ وہ کنی کترا کر پہلو بچا کر نکل جانا چاہتی تھی مگر انہوں نے بازو سے پکڑ کر اسے جھٹکے سے سامنے کیا۔ اس کے ہاتھ سے چائے چھلک پڑی۔
’’تم…! بتائو… کس کس کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی ہو۔ تمہیں میرے بیٹے کی کیا ضرورت ہے۔ کیوں نکل نہیں جاتی اس کی زندگی سے؟‘‘خون آشام نظروں سے دیکھتی لہجے کا زہر اگل رہی تھیں۔
وہ موٹر سائیکل والا‘ کار والا‘ کون ہیں وہ؟‘‘
اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
’’تو بدنام زمانہ میرے بیٹے کی زندگی میں کہاں سے آگئی۔‘‘ بالوں سے جھٹک کر اسے دو تھپڑ ماردیئے۔ ارم سینے پر ہاتھ باندھے تمسخرانہ انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
عزت داروں کے لئے یہ بات بہت بڑی ہوتی ہے اس کی عزت اس کی حرمت‘ اس عورت کے بیٹے کے ہاتھوں رسوا اور برباد ہوئی وہ تہی دامن ہوگئی پھر بھی قصور وار۔کپ اس کے ہاتھ سے گر پڑا۔ ریشماں بھاگی آئی۔
’’دفعہ ہو جاکہیں‘ منہ کالا کرلے نہیں تو…‘‘ کہتے کہتے انہیں گویا جلال سا آگیا۔ ’’میں تیرے منہ پرف تیزاب پھنکوادوں گی‘تجھے اٹھوا کر غائب کرادوں گی۔‘‘
اس کا سانس رکنے لگا… ریشماں نے… ہا…کہہ کر منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
’’بول کیا قیمت لے گی ادھر سے نکلنے کی۔ باپ‘بیٹے کو جانے کیا گھول کر پلادیا ہے۔ جو تیرا دم بھرتے ہیں۔‘‘
دھیرے سے خود کو سنبھال کر کھڑی ہوئی۔ گرا ہوا دوپٹہ شانے پر ڈالا۔
جس نے اسے برباد کیاتھا وہ تہی دامن کھڑی تھی۔
یہ کیساانصاف…کیسا انصاف تھا‘ کیسی حقیقت تھی۔ اس کا قصور…!
آبگینے ابراہیم کا دل آبشار بن رہاتھا۔ ایک ٹک انہیں دیکھے گئی۔ جوبین کررہی تھیں۔ اسے بددعائیں دے رہی تھیں۔ اپنے بیٹے کے لئے آہ وبکا کررہی تھیں۔
دھیرے سے اس نے اوپر کی جانب قدم بڑھادیئے یوں کہ جیسے نیند میں چل رہی ہو۔ ان کابیٹا آجائے گا اسے یقین تھا‘ سمیر اپنے اچھے عمل اور چال چلن سے اپنی سزا معاف کروالے گا۔ وہ ایک بدلے ہوئے اچھے‘نیک انسان کی صورت لوٹ آئے ا۔ اک ماں کو کچھ عرصے بعد اس کابیٹا مل جائے گا۔مگر…! اس کی ذات جو پامال ہوئی۔
وہ آخری سیڑھی پر ڈھے گئی۔
اس کی ذات کے بخیے ادھڑ گئے۔ وہ کھلے آسمان تلے آگئی‘ باہر بھیڑیے اوراندر آسیب… کس سے دامن بچائے گی۔ اس کی رسوائیوں کا ساتھی… کون ہوگا؟
اس کا دل چاہا وہ بھی روئے۔ وہ بھی ماتم کرے۔ وہ بھی تو بھری بہار میں اجڑی تھی۔ اس نے دھیرے سے گھٹنوں پر سر رکھ لیا۔ کبھ کبھی بہت سا رونے کی خواہش میں آنسو بھی نہیں نکلتے۔
سناٹا‘ تنہائی‘ اداسی اور دکھ اس کی سہیلیاں آئیں اور دھیرے سے اسے اٹھا کرکمرے میں لے گئیں۔
ایک بار پھر رات کو ہمدانی صاحب اس کے سامنے گم صم‘اداس‘ پریشان ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھے تھے۔ وہ ان کے سامنے بیڈ کے پاس قالین پر رکھے فلور کشن پربیٹھی تھی۔ سر گھٹنوں پررکھا تھا۔ سسکیاں اس کے وجود میں دم توڑ چکی تھیں۔ سناٹے وجود میں پرپھیلاچکے تھے۔
’’جو کچھ آج ہوااس کا مجھے بہت افسوس ہے بیٹا۔‘‘
بہت دیر بعد سر اٹھایا۔ اس سے سر بھی نہیں اٹھایا گیا۔
’’میں تمہیں ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دے رہاہوں۔‘‘ ان کے لہجے میں دکھ تھا۔ ’’سمیر سے میں خود بات کرلوں گا۔‘‘ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ’’وہ کچھ نہیں کہے گا۔ کل اتوار ہے پرسوں میرے ساتھ کالج چلنا‘ میں خود ہاسٹل جائوں گا تمہارے ساتھ۔‘‘ دھیرے سے اٹھے اوراس کے سر پرہاھ رکھا۔ اس مان بھرے اعتبار پر اس کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ دھیرے سے باہر نکل گئے۔
اور وہ چپکے چپکے بے آواز روئے گئی۔
اپنے کپڑے‘ اپنی کتابیں‘ اپنی چیزیں سمیٹ کر اک بیگ میں ڈال لیں۔ اس کی کوئی نشانی اب اس کمرے میں نہیں تھی۔ اور اب آئندہ اسے اس کمرے میں‘ اس گھر میں نہیں آنا تھا۔ سفر کا اک سلسلہ شروع ہونے کوتھااس گھر سے ہوسٹل تک‘ ہوسٹل سے دوسرے کالج تک‘ اس شہر سے دوسرے شہر تک‘ اس شہر میں وہ اب کبھی نہیں آئے گی۔
رات گئے تک دریچے سے لگی اداس سوگوار کھڑی رہی۔ اس گھر سے ہی نہیں ان سب کی زندگی سے بھی نکل رہی تھی۔ اس پر ستم کرکے ستم گر آئے گا‘ تنہائی کے دن‘ اماوس کی راتیں کاٹ کر واپسی پر اسے ماں کی بانہیں‘ گھر والوں کی محبتیں ملیں گیں‘ گھر‘چھت‘ سکون‘ آسائش‘آرام ملے گا اوراس کی زندگی؟
دل میں اک ہوک سی اٹھی۔
کسی قدر خطرناک ہوجائے گی‘ اکیلی‘ تنہا‘ بے یارومددگار۔
’’جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا خدا ہوتا ہے کبھی خود کو اکیلا مت سمجھنا۔‘‘بابا کی آواز کانوں میں اترنے لگی۔ تو اشک سینے پر گرنے لگے۔ ذیلی سڑک سامنے سکون سے لیٹی تھی۔ زیر تعمیر گھرمکمل ہورہاتھا۔ ایک سناٹا‘ ایک سکون سا پھیلا تھا۔ آخری راتوں کا چاند بادلوں سے کھیل رہا تھا۔ فضا میں باسی پھولوںکی مہک اور ہوامیں اک اداس تیرگی تھی۔
رات دھیرے دھیرے گزررہی تھی۔
صبح اس نے یونہی الماری کھولی‘ اپنی کوئی بھی ممکنہ چیز اٹھالے۔ سمیر کے کپڑے لٹکے تھے۔ تہہ کئے رکھے تھے‘ اس نے کبھی ان کو ہاتھ نہیں لگایاتھا۔ وہ خود ہی رکھتاتھا‘ استری کرتاتھا‘ ریشماں کے حوالے کردیتاتھا دھونے کے لئے۔ وہ خود ہی لاکر الماری میں رکھ دیتی تھی۔
کلون کی باسی مہک اس کی سانسوں میں اترنے لگی۔ اس کی سب چیزیں جون کی توں تھیں۔
وہ جلد ہی آئے گاانہیں استعمال کرے گا…!
جانے یہ محبت ہے‘ خدا ترسی ہے‘ ہمدردی ہے‘ یا پھر جو کچھ تم میرے ساتھ کرچکے ہو اس کا مداوا ہے۔ بھلا… جس کو سرعام ذلیل کیا ہو اس سے محبت ہوسکتی ہے اور میں…!
دھیرے سے کشن پرچہرہ رکھ لیا۔
میں اس شخص سے محبت کرسکتی ہوں جس نے مجھے دکھ دیا‘ میرے غم میں بابا گزر گئے۔ میرا گھراجڑ گیا۔ اور میں یوں‘ اب دردر کی خاک چھانوں گی…اس کے دل سے اک بھیگی ہوئی گھٹا اٹھی اور وجود پرچھاگئی۔ دھیرے سے کشن میں منہ چھپالیا۔ اوراس کے کمرے میں آتی ریشماں دکھ ورنج سے اسے دیکھے گی۔
’’باجی بہت اچھی ہے‘ چھوٹے صاحب ان سے بہت پیار کرتے ہیں اے اللہ! ان کا دل بھی ان کی طرف پھیردے۔‘‘ دھیرے سے پلٹی اور باہر نکل آئی۔ باہر آکر ٹیرس کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ اس کے سامنے دن کاراجہ اور رات کی رانی کے پربہار پودے تھے‘ دونوں پر بہار آئی ہوئی تھی۔ دونوں سبک ہوا کے زور سے سرشار جھوم رہے تھے۔
ریشماںکی نظروں کے سامنے چھوٹے صاحب سمیر ہمدانی کاسراپا تھا۔ اس کی آنکھوں سے چھلکتی محبت تھی۔ اسے وہ بالکل اقبالے کی طرح لگا کرتاتھا۔ وہ بھی تو اس سے کتنی محبت کرتاتھا۔ اس کے لئے کیسے اچھے اچھے گانے گاتا تھا۔ گفٹ لاتاتھا‘ ٹوٹ کر محبت کرتاتھا۔
سمیر صاحب بھی کیسے باجی سے پیار کرتے تھے دیوانہ بن کر گھومتے تھے۔ ان کی خاطر‘ تو انہوں نے سزا کاٹی ہے۔ پھر…پھر بھی باجی کا دل موم نہیں ہوتاپھر…پھر…انہوں نے شادی کیوں کی تھی؟
نکاح تو رضامندی سے ہوتا ہے۔
ریشماں گھر کی نوکرانی تھی‘ بہت کچھ جانتی تھی مگر سب نہیں جانتی تھی‘ گھر میں اس کا ووٹ دونوں کے حق میں تھا۔دونوں کی جوڑی شاندار تھی۔ آبگینے بہت خوبصورت تھی‘ بھورے دراز بال‘ خوبصورت قد‘ کھڑی نازک سی ناک‘برائون آنکھیں‘ سمیر صاحب اکثر انہیں بھوری بلی کہتے تھے۔ ان کے لئے کتنے گفٹ لاتے تھے مگر وہ کپڑے وہ چیزیں انہوں نے استعمال ہی نہیں کیں‘ جوں کی توں الماری کے نچلے خانے میں پڑی تھیں۔
ہائے! یہ ہوسٹل چلی جائیں گیں…کیسے رہیں گیں وہاں۔ اتنی پیاری باجی کوبیگم صاحبہ کیوں جھڑکتی‘مارتی‘ بددعائین دیتی ہیں۔ ان کو کیوں پسند نہیں وہ… کس بات کی کمی ہے‘ ان کے اندر۔ میں باجی سے کہوں گی کہ آپ سمیر صاحب کو مت چھوڑیں‘ وہ بہت چاہتے ہیں آپ کو‘ اگر بیگم صاحبہ ان کی دوسری شادی کرناچاہتی ہیں تو کرنے دیں‘ ان کاشوق پوراہوجائے گا۔ چھوٹے صاحب آپ کے ہیں اور آپ کے رہیں گے۔
دکھ بھرے ملال سے پودوں کو دیکھے ریشماں سوچے گئی۔
اور تصور میں چھوٹے صاحب کی شرارتی آنکھیں اور باجی کاسنجیدہ چہرہ تھا۔
الجنت سے وہ ہوسٹل میں آگئی۔ ہمدانی صاحب نے سارے واجبات ادا کئے تھے‘ اور اسے بینک کی کاپی بھی تھمادی تھی۔ ’’یہاں تمہارے گھر کا کرایہ جمع ہوتا ہے‘ جب چاہو کہہ دینا میں لے چلوں گا۔یہ موبائل فون رکھ لو۔ سمیر تم سے بات کرلے گا۔ میں آتارہوں گا‘ مگر مجھے یہ سب اچھا نہیں لگا‘ مگر…‘‘ انہوں نے گہرا سانس لیا۔
’’تم شاید ٹھیک کہتی ہو منظر سے ہٹ جاناہی حالات کی بہتری ہو۔‘‘ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور یہ لمس‘ یہ دبائو‘ یہ رشتہ اسے لہو رنگ کردیتاتھا۔ اس محبت بھرے رشتے کو بھی دھوکہ دے گی یہ اس سے ہوسکے گا؟ سرجھکائے مضبوط قدموں سے واپسی کا سفر طے کرتے ہمدانی صاحب کو دیکھے گئی۔ جو اک بیٹے کے باپ ہونے کا حق ادا کررہے تھے۔ اس کے شکرگزار تھے کہ وہ حق‘ سچ اور فلاح کے راستے پر آرہاتھا۔ زندگی کو ویسے ہی گزارنا چاہتاتھا جیسا وہ چاہتے تھے۔ وہ سمجھ گیا تھا برائی کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے سزا اس سے بھی زیادہ لمبی مگر…اگر بندہ سچے دل سے مومن ہونے کی کوشش کرے تو کچھ بھی توناممکنات میں سے نہیں تھا۔
سمیر فرشتہ نہیں تھا‘ مگر فرشتوں جیسا بن کر آرہاتھا۔
اک گہرا سانس لے کر وہ اپنے روم میں پلٹ آئی۔
اگلے دن‘ اس سے اگلے دن‘ اورپھر لگاتار آتے جواد اور فیروز انتظار کرتے رہے۔
’’کب تک گھربیٹھے گی مہارانی‘ گھرسے تو نکلنا ہوگا‘ کتنی چھٹیاں لے گی۔‘‘ فیروز نے کمینگی سے سوچا… میں جمیلہ سے پوچھتا ہوں کہ کتنی چھٹی پر گئی ہے وہ۔ گاڑی کا رخ گھر کی جانب موڑ دیا۔ آج کتنے دن بعد گھر جارہاتھا۔ وہ جیل سے آنے کے بعد الگ اپنے دوستوں کے ساتھ رہتاتھا۔
جواد تفکر آمیز انداز میں آبگینے کامنتظر تھا۔ وہ پورا ہفتہ گزرنے کے بعد آج بھی نہیں آئی تھی۔ کیوں؟ کہیں کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو۔ بائیک لاک کرکے چوکیدار سے آفس کاپتہ پوچھ کر آفس میں آگیا۔ اور میڈم زینب التہاج سے اس نے آبگینے ابراہیم سے ملنے کی درخواست کی۔ اس کے لئے یہ بات ہی حیرت آمیز تھی۔ میڈم نے بوا سے کہہ کر آبگینے کو بلوالیاتھا۔ وہ کالج آرہی تھی‘ کیسے؟ وہ تو روز صبح آرہاتھا۔ چھٹی میں کھڑا ہوتاتھا۔ وہ کیسے جاتی تھی۔ کس راستے سے گزرتی تھی۔
اور آبگینے ابراہیم جواد کودیکھ کرچونک گئی۔ اگر جواد آگیا ہے تو فیروز بھی آسکتا ہے۔ جمیلہ اسی کالج میں ہے اس نے بتایا ہوگا۔
’’تم…تم…کیسے چھپ گئی ہو۔ کیوں آبی‘ کیا مجھ سے بھی۔‘‘ اس نے نگاہ اٹھا کر پریشان حال پر تفکر چہرہ لئے جواد کو دیکھا۔
’’میں ہوسٹل میں رہتی ہوں یہ کالج سے ہی ملحق ہے۔‘‘
’’کیوں…؟ وہ ششدر رہ گیا۔ ’’تمہارا گھر کتنا بڑا‘ کتناخوبصورت ہے آبی‘ پھراس ہوسٹل میں تم خوش نہیں ہو۔ مجھے بتائو آبی…‘‘ وہ بے چین تھا۔
’’گھر خوبصورت ہونے سے کیا ہوتا ہے جواد جب گھروالے قبول نہ کریں تو… گھر مکان ہوتے ہیں‘ میرے لئے کیا فرق پڑتا ہے‘ مکان ہو یا ہوسٹل! تم جائو جواد آئندہ کبھی مت آنا۔‘‘ رخ پھیر لیا۔
’’تمہارا شوہر؟‘‘
’’میرا سوہر…‘‘ اک حزن سااندر اترنے لگا۔ ’’وہ ملک سے باہر ہوتے ہیں جب آئیں گے تو حالات خودبخود ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘ اک جھوٹ بولا۔
’’آبگینے تم گھر چلو‘ ہم سب تمہارے منتظر ہیں‘ میں نے سب کو تمہارے بارے میں بتادیاہے۔ تم دیکھنا تمہیں کتنی عزت ملے گی۔‘‘ بے تابی سے سامنے آیا۔
’’نہیں جواد‘ تم جائو‘ جوراستے بند ہوگئے وہ دوبارہ نہیں کھل سکتے۔ کھل بھی جائیں تو ہمسفر ویسے نہیں ہوتے۔ تمہارااتنا خیال رکھنے کاشکریہ۔ پلیز آئندہ مت آنا۔‘‘
جواد اسے دل شکستگی سے دیکھتا رہا۔ اور پھر کارڈ نکال کر اسے تھمادیا۔
’’یہ میرا نمبر رکھ لو… میں آتا رہوں گا جب تک آبگینے ابراہیم کو خوش نہ دیکھ لوں‘ جب تک۔میں تمہارے شوہر سے بھی ملوں گا۔‘‘ جاتے جاتے کہا۔ اور جھٹکے سے مڑ کرآبگینے اسے دیکھے گئی۔ اس کی خوشیاں اس کا مسکراتا چہرہ اسے کتنا عزیز تھا۔ وہ جانتی تھی مگر اب‘ اب تو زندگی میں خوشی کا تصور ہی نہیں تھا تو پھر ہنسنا مسکرانا کیسا۔ بوجھل دل لئے اسٹاف روم میں پلٹ گئی۔
///
’’کیا…! وہ کالج آتی ہے مگر کیسے…؟ فیروز ہونق رہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گزرجاتی ہے۔
جمیلہ کا بتاناغضب ہوگیا۔
اگلے دن جب جمیلہ نے یہ معلوم کرکے بتایا کہ وہ ہوسٹل میں شفٹ ہوگئی ہے تووہ ہاتھ مل کررہ گیا۔
’’ت کہیں بھی چھپ جائو‘ تم مجھ سے نہیں بچ سکتی۔
اور اگلے دن ہوسٹل کے ویٹنگ روم میںدیکھ کر خوفزدہ ہوگئی۔
’’تم میرا حق ادا کئے بغیر کیسے جاسکتی ہو؟‘‘ وہ خباثت سے مسکرادیاتھا۔
’’کیا چاہتے ہوتم؟‘‘ بہادری سے کہا۔
’’تمہارا ساتھ‘تمہاری دوستی‘ تمہاری محبت‘ جس کامیں مدتوں سے پیاسا ہوں۔آخر ہم تمہارے شوہر کے جگری دوستوں میں سے ہیں۔ بہت دل بہلایا ہے اس کاجیل کی سلاخوں کے پیچھے بہت اداس رہتا ہے وہ تمہارے لئے… بہت خیال ہے اسے تمہارا۔ تمہاری تصویر کو دل سے لگا کررکھتاہے وہ۔‘‘ اس کے گرد گھومتا وہ بتارہاتھا۔
اور بے عزتی کی لہر اسے پور پور دفن کررہی تھی۔
’’اور تم…!‘‘اس کے سامنے رکا۔ ’’تم نے تو اور کچھ سناہی نہیں‘ اور نہ کچھ اپنے پیارے شوہر کے متعلق پوچھا۔
’’تم آئندہ یہاں مت آنا۔‘‘
’’تمہار اخیال رکھنے کے لئے بڑے دھیان میںرہتی ہو تم میرے۔‘‘
اس کا دل چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ کوئی چیز اٹھا کر اس کے سر پردے مارے۔ یہ مرجائے… یا کوئی ایسامنتر پڑھے کہ سب کچھ غائب ہوجائے اور زندگی سب سے دور اک نئے سفر پر گامزن ہوجائے۔
مگر…سامنے کھڑا خبیث انسان اک اٹل تلخ حقیقت تھی اور اسے اس کاسامنا کرناتھا۔
’’مجھے بار…بار… روز روز آنا پڑے گا…‘‘ مسکرارہاتھا۔
’’میں زہر کھا کر مرجائوں کیا؟ کیوں میری زندگی میں زہر گھولنے آگئے ہو۔‘‘
’’ہم تو تم کرامرت پلانے آئے ہیں۔‘‘
وہ مڑ کر جانے لگی…فیروز نے جھٹکے سے ہاتھ پکڑ لیا۔وہ ناگن کی طرح پھنکار کرپلٹی۔
’’بڑا خوش قسمت ہے سمیرہمدانی‘ کیسی شفاف عورت ملی ہے اسے۔‘‘ سرتاپا اسے گھورا۔
’’میں کل نیشنل پارک میں تمہارا انتظار کروں گا تمہیں کچھ بتانا ہے‘ بلکہ بہت کچھ سنانا ہے۔ اگر تم نہ آئیں تو پھر ہوسٹل کے اک اک مکین کوسنائوں گا۔‘‘ اس کے قریب جھک کر پھنکارہ۔
اک خوف کی سرد لہر وجود میں دوڑ گئی۔ وہ باہر نکل گیا۔
اور وہ ادھرکائوچ پر ہی ڈھے گئی۔
اس نے تو عزت وحرمت کے ساتھ زندگی گزاری تھی۔ پھر بدنامیاں کیوں اس کے تعاقب میں ہیں۔ اس نے تو کبھی کسی کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا تو یہ کیسے داغ دامن پر لگ رہے ہیں۔
’’دیکھو…دیکھو سمیر‘ آکر…تمہارے لگائی داغ… مجھے کہاں کہاں‘ رسوا اور بدنام کررہے ہیں۔دیکھو میرے بابا کی حرمت کیسے ذلیل ہو رہی ہے۔
آنسو تسبیح کے دانے بنتے دامن پر گرتے رہے۔
’’میں کیسے تم سے محبت کرسکتی ہوں۔ تم نے اس شخص کو کیا کیا بتایا ہوگا اور یہ کیسے مجھے بلیک میل کررہا ہے۔ یا…اللہ‘‘ وہ ہتھیلیوں پر چہرہ ٹھکا کر رو دی۔
یہ بدنامیاں مجھے کہاں لے جائیں گیں۔‘‘
ہوسٹل کے سیکنڈ فلور پر ملے کمرے کے یخ بستر پر لیٹ کر اس نے بے حد حزن سے سوچا۔
مجھے یہاں سے چلے جانا چاہئے۔ کھلی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آسمان بالکل خالی اور تاریک تھا۔ اس کے دل کی طرح۔ اس کی زندگی کی طرح نہیں۔ مجھے فیروز کی آخری حد تک اسے دیکھنا چاہئے۔ میں ہوسٹل سے باہر نہیں نکلوں گی۔ میں جواد سے بھی نہیں ملوں گی۔ اب اس کی زندگی میں میرا کوئی دخل نہیں… یہ میرے دکھ‘ میرے مسئلے اور میرے کرب ہیں…انہیں مجھے ہی جھیلنا ہے۔ نمناکی سے سوچا۔
اگلے دن وہ کالج سے ہوسٹل آگئی۔ نیشنل پارک نہیں گئی‘ اور جاتی بھی کیوں… اس کو کسی کا کوئی قرض نہیں ادا کرنا تھا۔
اگلے دن جمیلہ بڑے تضحیک آمیز انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
’’تم مل لو فیروز سے‘ ورنہ وہ تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔‘‘
’’اس سے کہنا آئندہ ادھر کارخ نہ کرے‘ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
’’برا…‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔’’برے کے ساتھ ہی توبرا ہوتا ہے۔ بہت چاہتا ہے وہ تمہیں‘ اس کی چاہت کی قدر کرو۔ ورنہ…‘‘ لمحہ بھرکورکی۔’’ورنہ وہ محبت چھین لیتا ہے۔‘‘
’’میں مال غنیمت نہیں ہوں کہ مجھ پر کوئی شب خون مارے‘ کیا کرے گا وہ۔‘‘ آبگینے کا لہجہ چٹخ گیا۔
’’یہ تو تمہیں وہی بتائے گا کہ کیا کرے گا۔‘‘
’’اس سے کہنا کہ ادھر کا رخ بھی نہ کرے۔ ورنہ چوکیدار ٹانگیں توڑ دے گا اس کی۔‘‘ شعلہ بار لہجے میں کہااور پلٹ گئی۔
جمیلہ طنزیہ انداز میں دیکھتی رہ گئی۔
بے غیرت…بے عزتی کے سوا کچھ نہیں کرسکتا… جھوٹ کے سوا کیا ہوتا ہے ان کے پاس… مگر وہ کسی بے غیرتی کاشکار نہیں ہوسکتی تھی۔
کوئی ایسا ہمدروشناس نہیں تھا جواس کا سایہ بنتا… جوکام اس کو کچھ عرصے بعد کرناتھا وہ اس نے چند دنوں میں کرنے کا فیصلہ کیا۔ جانے سے پہلے وہ اپنے بابا کے گھر گئی۔ کرائے داروںنے بہت اچھی طرح گھر رکھا ہواتھا۔ مگر آتش دان کا وہ خوبصورت کونہ بند کردیا تھا۔ بابا کے ہاتھ کے لگائے انار سیب کے پودے اب جوان ہورہے تھے۔ بڑی مسرت سے ان کے تنوں پرہاتھ پھیرا۔ اب ان کے سائے میں کوئی اور بیٹھے گا ان کا پھل کسی اور کے نصیب میں ہوگا۔ اس کے آنسو گرنے لگے۔
دھیرے سے سیڑھیاںچڑھ کراوپر آگئی۔ سارا سامان ان کمروں میں بند تھا۔ بابا کی کتابیں‘ ان کی چیزیں‘ ان کا سگار‘ سگریٹ کیس‘ ان کی عینک…عینک اٹھا ک آنکھوں سے لگالی۔
کتنی ہی دیر تک ان سب چیزوں کودیکھتی رہی یاد اس کے گرد حصارباندھ کرناچتی رہی… اور وہ اپنی کم نصیبی بحوست کاماتم کرتی رہی۔ آتی دفعہ اس نے ایک چھوٹے سے بیگ میں بابا کا چشمہ‘ ان کی پسندیدہ کتاب‘ امی کی رسٹ واچ جس کے نگ آج بھی چمک رہے تھے۔ کانوں کے جڑائو ٹاپس جو وہ ہر وقت پہنے رہتی تھیں‘ امی کی گرم شالیں‘ جن سے آج بھی ان کی مہک آرہی تھی۔ ان کا برش‘ رکھ لئے۔ہنستا مسکراتا وہ فریمبھی رکھ لیا ان کے پہلو میں اس کا وجود نمایاں تھا۔ آنکھیں بار بار دھندلارہی تھیں۔ اپنی بانسری بھی اٹھالی… اسے شوق نہیں تھا مگر بابا نے بہت شوق سے اسے سکھایا تھا۔ بے ساختہ ہونٹوں سے لگالی… اور بابا کا سکھایا ہوا سبق درد بن کر سروں میں ڈھلنے لگا۔
کس قدر تہی دامن اور اکیلی تھی اس کی ذات کوئی اس کے دل سے پوچھتا۔ گھر لاک کرکے پلٹ آئی۔
اس نے ساری پیکنگ کرلی۔ اس کے پاس غیر ضروری کچھ بھی نہیں تھا۔ کپڑوں اور کتابوں کے دوبیگ بس… جنہیں وہ آسانی سے اٹھا سکتی تھی۔ اسے کسی سے نہیں ملنا۔ انکل ہمدانی سے بھی نہیں… انہیں کیا بتاتی وہ سمیر کی ہی نہیں اس شہر ک بھی زندگی سے نکل رہی تھی۔
بے نشان مسافروں کی بے نام منزلوں کو کوئی نہیں ڈھونڈ سکتا۔ ہوسٹل کی کھڑکی سے لگی وہ جانے کیا کیا سوچتی رہی‘ کیا کیا یاد آتا رہا تبھی ماسی نے آکر بتایا آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔
’’مجھ سے ملنے…!‘‘ خوف نے سراٹھایا۔ ’’نام…؟‘‘
’’احمد ہمدانی… اوران کے ساتھایک اور آدمی ہے۔
’’اوہو…‘‘ اوہ اسکارف ٹھیک کرتی باہر نکل آئی۔ ویٹنگ روم میں انکل کے ساتھ جواد کودیکھ کر چونکی۔ انکل نے اسے ساتھ لگا کر پیار کیا۔
’’ٹھیک ہو بیٹا؟‘‘
’’جی…دزدیدہ نگاہ جواد پر ڈالی۔ دوسرے پل یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ الگ آیا ہے۔
’’کوئی مشکل تو نہیں۔‘‘
’’نہیں انکل سب ٹھیک ہے۔‘‘
’’میں سمیر سے ملنے گیا تھا‘ اسے بتادیاہے اسے اعتراض تھا تمہارے یہاں رہنے پر مگر میں نے ساجدہ کے بارے میں بتایا کہ وہ کس قدر جنونی ہو رہی ہے اور جنون انسان سے کچھ بھی کروالیتا ہے۔ تو کچھ نیم رضامند ساتھا۔اس نے تمہیں فون کیا تھا تم نے اٹینڈ نہیں کیا۔‘‘
اس کا سر جھک گیا۔ اس نے تو فون اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔
’’اب تو اسے معاف کردو بیٹا‘وہ بہت شرمندہ ہے۔ اب تو اپنے جرم کی سزا بھی کاٹ رہا ہے۔‘‘
جواد سب سن رہاتھا۔ وہ کچھ بول نہ سکی۔
انہوں نے دھیرے سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔چند لمحوں بعد گہرا سانس لے کر بولے۔
’’بیٹا میں اپنے کام کے سلسلے میں جرمنی جارہاہوں‘ آفس کی طرف سے۔ اس لئے تمہیں بتادیا کہ تم پریشان نہ ہو۔‘‘ جیب سے نکال کر دولفافے اس کی جانب بڑھادیئے ایک سمیر نے بھیجا ہے اور اس میں کچھ رقم ہے‘ رکھ لو۔‘‘
’’انکل! رہنے دیں اب تو میں…‘‘ تذبذب سے انہیں دیکھا۔
’’رکھ لوبیٹا مجھے خشی ہوگی۔ میں جانتاہوں کہ تمہارے پاس بہت ہے۔ مگر کمی میرے پاس بھی نہیں ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں شرارت تھی۔
جواد… اخبار دیکھتا ان کی جانب متوجہ تھا۔ آبگینے جانتی تھی۔
’’آنٹی ٹھیک ہیں؟‘‘
’’ہاں اب تو بہتر ہے شوگر کا اتار چڑھائو ہوتارہتاہے۔ دراصل وہ ہر چیز کے بارے میں ٹینشن لیتی ہے تو بس نارمل نہیں رہتی۔‘‘
اوردوچار باتوں کے بعد وہ اٹھ گئے۔ انہیں گیٹ تک چھوڑ کر وہ واپس آئی۔
’’جود… تم… میںنے کہا تھا آئندہ ادھر مت آنا۔‘‘ قدرے غصے سے کہا۔
’’ہمارا رشتہ ایساہے کہ تعلق ٹوٹ جائے؟‘‘ اخبار سائیڈ پر رکھا۔
’’تعلق ٹوٹ چکے ہیں جواد… بابا کی زندگی میں اب… اور کیا ٹوٹیں گے۔‘‘ اس کالہجہ بہت دھیما ساتھا۔
’’میں تمہیں گھر لے جانا چاہتاہوں‘ امی‘ ابو‘زین سب تمہارے منتظر ہیں۔‘‘ جواد اسے دیکھے گیا۔
(اب میرے لئے گھر بے معنی ہوگئے ہیں۔ جب سے میرا گھر ٹوٹ گیا ہے)
’’جہاں عزت نہیں ہو وہاں کیا جانا۔ جواد خاندان کی نظروں میں میرا وجود بہت گھٹیا ہے۔‘‘ رخ پھیرلیا۔
’’وہی تو عز ت نفس دلانے آیا ہوں‘ داغ دھونے آیا ہوں‘ محبت کرنے والوں کی نظرمیں محبوب معتبر ہی ہوتا ہے۔ کوئی دل کی نگاہ سے دیکھے نا۔ اب تم اگرچہ میری پہنچ سے دور ہو مگر تمہیں تمہارا پنا پن‘ عزت نفس ضرور ملنی چاہئے آبگینے‘ تم پھوپو کی آخری نشانی ہو‘ اور پھوپھو خاندان والوں کو کتنا عزیز تھیں۔‘‘
’’امی…!‘‘ اس کی انکھیں بھیگنے لگیں۔ ’’جواد‘‘ اس کالہجہ ٹوٹ گیا۔
’’مرنے والوں کے ساتھ سب رشتے ختم کردیئے‘ میرا اکیلا وجود ان سب کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ورنہ میرا درد بٹاتے‘ مجھ سے پوچھتے مجھ پر کیا گزری۔ امی بابا اور اس خاندان کے سوا میرا کون تھا۔ تم سب ہی میرے اپنے تھے۔ تم سب کو اپنا سمجھا تھا۔ جواد‘ پھر بھی…‘‘آبگینے کالہجہ بھرارہاتھا۔ ممکن طور پر وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر یہ آنکھیں…
’’میں گھروالوں سے ناراض ہوں‘انہیں تمہارا حق ادا کرنا ہوگا۔‘‘
’’اب بہت دیر ہوچکی ہے جواد… اب میں منزلوں کو چھوڑ چکی ہوں‘ رسوائیاں میرا گھر دیکھ چکی ہیں۔‘‘ اس کے تصور میں فیروز آگیا‘ گھٹیا‘ کمینہ اور ذلیل۔ اس کے بارے میں جواد کوکچھ نہیں بتاسکتی تھی۔ اس کے حوالے سے بدنامیاں ایک بار پھر خاندان والوں تک پہنچ جاتیں۔ ایک بار پھر اس کی ذات کے پرخچے اڑائے جاتے۔
ایک بار پھر اسے مصلوب ہونا پڑتا۔
’’اب اسے زندگی کی جنگ جتنے کے لئے دائو پیچ خود ہی سیکھنے تھے۔ جواد گہرا سانس لے کر اسے دیکھے گیا۔
’’تمہارا شوہر؟‘‘
’’باہر ہوتے ہیں۔‘‘ نگاہ چرالی۔
’’کہاں…؟ ملک سے‘شہر سے‘ یاگھر سے۔‘‘
آبگینے نے پہلو بدلا۔
’’یہ تمہارے سسر تھے؟‘‘
’’ہوں…!‘‘
’’کس سزا کی بات کررہے تھے کس معافی کی… اور تم اسے معاف نہیں کررہیں۔ اس کافون نہیں اٹینڈ کررہیں۔‘‘
جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھ رہاتھا۔’’کیوں!‘‘ جواد نے لفظ جیل استعمال نہیں کیا جووہ سن چکاتھا۔
’’یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔‘‘
اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
’’تمہارا ذاتی مسئلہ میرا نہیں ہوسکتا۔ کیا ہم دونوں ایک راہ کے مسافر بن سکتے ہیں آبی…کیا تمہارے شوہر سے ناراضگی ہے تو…تو…‘‘ جواد یکدم ہی جذباتی ہوگیا۔
آبگینے اسے دیکھے گئی۔ امید کی کرن جاگی… نہیں‘دل کو سنبھالا۔
’’میں سب سنبھال لوں گا۔ تم اس سے طلاق لے لو…ہم باہر چلے جائیں گے‘ ایک نئی دنیا‘ ایک نیا گھر بسائیں گے۔‘‘ اس کا لہجہ ملتجی تھا۔ آنکھوں میں محبت کے جگنو راستہ دکھا رہے تھے۔
’’نہیں!‘‘ دل کوسختی سے روکا۔
ممانی کامزاج‘ماموں کی سختی‘ خاندان والوں کا رویہ‘ جواد کاپیار اوراس کاساتھ۔ ساری عمر کے لئے اک اور دلدل…نہیں جواد…میاں بیوی میں ناراضگیاںہوجاتی ہیں۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ میرا ہوستل میں رہنا‘ اس لئے ہے کہ میری ساس مجھے پسند نہیں کرتیں‘ وہ بیمار ہیں‘ سمیرمجھے بلوانے کے انتظام کررہا ہے۔ میں عنقریب چلی جائوں گی۔ ہوسکتا ہے اب تم آئو تو میں نہ ملوں۔‘‘ اسے سمجھاتے ہوئے نگاہ اٹھالی۔
جواد دکھی نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کاشوہر جیل میں ہے‘ اوریہ مجھ سے چھپا رہی ہے۔ یہ کہاں جائے گی؟
’’آبگینے…‘‘ جواد کھڑا ہوگیا۔ ’’میں دوبارہ آئوں گا اور آتارہوں گا۔میرے بارے میں سوچ لینا۔ اور یاد رکھنا‘دنیا میں ایک شخص ہے جو تمہیں سب سے زیادہ چاہتا ہے۔ آس کے دیپک روشن تھے۔
’’کوئی بھی مسئلہ ہو مجھے بتانا… اسے دیکھتاہوں۔‘‘ دھیرے سے پلٹ گیا۔
اور…! رکے ہوئے آنسو چھلک پڑے۔
’’آپ کا فون ہے۔‘‘ ماسی دروازے پر کھڑی تھی۔
’’میرا؟‘‘وہ چونکی۔ اس نے تو کسی کو فون دیاہی نہیں۔
’’تمہیںغلط فہمی تو نہیں ہوئی۔‘‘
’’نہیں جی… وہ آپ کاہی نام لے رہے تھے۔ آبگینے ابراہیم۔‘‘ اوروہ چوکنی ہوگئی۔ دھیرے سے اٹھ کر باہر آگئی۔
انچارج اپنا کام کررہی تھیں۔ ریسیور اٹھالیا۔
’’ہیلو!‘‘
’’ہیلو جان تمنا۔‘‘ فیروز کی گھنائونی آواز کانوں میں پڑی۔
’’تم آئی نہیں‘ نیشنل پارک میں تمہارا انتظار کرتارہا۔‘‘
’’تم…!‘‘ پیچ وتاب کھا کر تحمل کا دامن پکڑا۔
’’ہاں میں… اگر تم کل نہیں آئیں تو میں خود تمہیں لینے آجائون گا۔ کون سا مشکل ہے اس انچارج کو خریدنا۔‘‘
اس نے دھیرے سے فون رکھ دیا۔ پلٹی ہی تھی کہ فون پھر بجا۔ انچارج شگفتہ الیاس نے ریسیور اٹھایا۔ اسے دیکھااور پھر اسے فون بڑھا۔
’’آبگینے تمہارا فون…‘‘
’’میں اس شخص کونہیں جانتی آئندہ اس کا فون آئے تو مت بلائیے گا۔‘‘
’’پہلے تم جیسی لڑکیاں دوستیاں کرتی ہیں‘ حسن کے جال بچھاکرپنچھی قید کرتی ہیں‘ جب فائدہ اٹھالیتی ہیں‘ کام نکل جاتا ہے تو پائوں سمیٹ لیتی ہیں۔ جان چھڑانا چاہتی ہیں۔‘‘ کہتے کہتے وہ کھڑی ہوگئی۔
’’اس ہوسٹل کو تم بدنام کرنا چاہتی ہو کیا سمجھ رکھا ہے تم نے۔‘‘
آبگینے کے پائوں زمین میں گڑ گئے۔ وہ ہکابکا کھڑی‘ شگفتہ الیاس کا منہ دیکھے گئی۔
’’اپنے مسئلے بی بی ہوسٹل سے باہر نمٹائو‘ ہمیں ہوسٹل کی عزت بہت عزیز ہے۔‘‘ اسے دوٹوک سنادی۔اور آبگینے سناٹے کی سی کیفیت میں تھی۔ اور دوسری جانب ریسیور کان سے لگائے فیروز سب سنتا انتہائی کمینگی سے ہنس رہاتھا۔
اب کہاں جائے گی بلبل…
آبگینے کے لفظ گنگ تھے۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے… یہ… یہ‘‘
’’ایسی ہی بات ہے‘ جو یہ یہاں ہے آج فون تک‘ کل ہوسٹل کے اندر تک ہوگا! یہاں سے چلتی بنو۔‘‘
ابگینے نے اس کاہاتھ میں پکڑے ریسیور کو دیکھااور کانپ گئی۔ وہ سب سن رہا ہوگا۔
اور اس کا ہوسٹل سے باہر نکلناکامیابی کی کنجی تھا۔ جب بھی آبگینے ہوسٹل چھوڑتی‘ فیروز اسے ہوسٹل کے گیٹ سے اغواکرلیتا۔
کی رنگ گھماتا فیروز کمینگی اور خباثت سے مسکرارہاتھا۔
’’ٹھیک ہے میڈم میں منع کردوں گی انہیں۔‘‘ بمشکل کہہ کر پلٹی اور اپنے کمرے تک آگئی۔انچارج سے کچھ بھی کہنا عبث تھا۔ فیروز کے ہاتھ بہت لمبے تھے۔ برائی اپنا آپ منوا کررہتی ہے۔
اسے آج یا کل میں ہوسٹل چھوڑ دینا چاہئے۔
اسے صرف امی کے شہر ایبٹ آباد کا راستہ آتاتھا۔ وہاں کے راستوں سے واقف تھی۔ دوچار دفعہ جابھی چکی تھی۔ اورسب سے چھپ کر رہنے کے لئے وہ جگہ بالکل مناسب تھی۔ فیروز‘جواد یاسمیر۔ کوئی اس تک نہیں پہنچ سکتاتھا۔
اس نے گہرا سانس لیا۔
ابھی نکلنا ٹھیک نہیں‘ فیروز اس کی تاک میں ہوگا۔ کل ضرور آئے گا وہ۔ اک بار اس سے مل کراسے مطمئن کردے انچارج بھی مطمئن ہوجائے گی۔
پرسوں شام…
آبگینے کا ذہن تیزی سے کام کررہاتھا۔
اگلی صبح سنڈے تھا۔ اپنی تمام چیزیں پیک کرلی تھیں۔
تبھی ماسی نے آکر بتایا کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے۔
کوئی کون ہوسکتاتھا‘ جواد…یاانکل نہیں… دھیرے سے اٹھ کر باہر نکلی اور ویٹنگ روم میں آگئی۔
اس کا شک درست تھا۔
فیروز کمینگی سے ہنستا صوفے پرٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ اس کودیکھا تو پھیلا ہوا بازو سمیٹ کر کھڑا ہوگیا۔
’’تم!کیا چاہتے ہو تم۔‘‘ سنبھل کر اسے دیکھا۔
’’صرف اچھا وقت۔‘‘ اس کے سامنے آگیا۔
’’تم سن لو… نہ میں اس قسم کی لڑکی ہوں‘ اور نہ میں ایسا کروں گی۔ میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔‘‘
’’مجھے اس سے کب انکار ہے۔ تمہارے شوہر کی شرافت کی‘اس کی محبت کی‘ تو میں بھی گواہی دے سکتاہوں۔‘‘
’’اس کے باوجود؟‘‘ وہ پھنکار کر پلٹی۔
’’ہاں…اس کے باوجود۔ دل تم پر جو آگیا ہے۔‘‘ اس کے قریب جھکا۔
’’چونکہ دل تم پر آگیاہے‘ مگر تم دوست کی امانت بھی ہو‘ اس لئے تمہارا خیال دھیان رکھنا ہمارا فرض بھی ہے۔ آخر تم اکیلی بھی تو ہو۔ میری بھی تو محبت ہو۔‘‘ وہ اپنی رام کہانی سنا رہاتھا۔
’’اب تم سے روز روز ملنے ادھر آنا پڑے گا۔
’’نہیں!‘‘ آبگینے کی آنکھوں میں خون اتر رہاتھا۔’’آئندہ ادھر انے کی ضرورت نہیں یہ گھر نہیں ہے ہوسٹل ہے۔‘‘
’’پھر تم ملنے کی ڈیٹ دے دیا کرو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ آبگینے نے دل پر پتھر رکھ لیا۔
’’نیشنل پارک۔‘‘ اس کے قریب جھکا۔
’’نہیں…‘‘لب بھینچ کر اسے دیکھا۔ ’’سی ویو۔‘‘
وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا اور بے یقینی سے اسے دیکھا۔
’’کب؟‘‘
’’اگلے سنڈے کو۔‘‘
’’تم…تم…‘‘
’’ہاں میں کہہ رہی ہوں‘ مگراس کے لئے ایک شرط ہے۔‘‘
’’کیا…کیا بولو…تمہارے لئے ہر شرط بنا سنے قبول ہے۔‘‘
’’تم… باربار ہوسٹل نہیں آئوگے۔ فون نہیں کروگے۔‘‘
’’وعدہ۔‘‘ ہاتھ پھیلایا۔
’’ٹھیک ہے اب تم جائو۔‘‘ رخ پھیر لیا۔
’’تم نے مجھے خوش کردیا ہے۔‘‘وہ خوش تھا۔
آبگینے مسکرا بھی نہ سکی۔
’’ویسے مجھے تمہارے بابا کا سن کربہت افسوس ہواتھا۔ کتنی اکیلی ہوگئی ہوتم… اس بات کا سمیر کو بھی افسوس ہے۔وہ بھی اس کی تلافی کرنا چاہتا ہے۔ وہ بھی بہت اچھا انسان ہے۔‘‘
دانتوں سے ہونٹ کترتی‘وہ اک تنائو کی سی کیفیت محسوس کررہی تھی۔
’’میں جارہی ہوں‘ مجھے نوٹس تیار کرنے ہیں کل کے لئے۔‘‘ ایک نگاہ اس پر ڈالی۔ فیروز اسے چاہت بھری نظروں سے دیکھتا باہر نکل گیا۔ خدا حافظ۔ زہریلی نظروں سے وہ بھی باہر نکلی۔
تیزی سے آتی شگفتہ الیاس اسے ذومعنی نظروں سے دیکھتی رک گئیں۔
’’واقعی چاہنے والوں کو ستانا اچھا نہیں۔‘‘
اور وہ بس اک نگاہ دیکھ کر رہ گئی۔
اگلا دن اس کے لئے بہت اچھا تھا۔
وہ کالج نہیں گئی۔
صبح کے وقت تقریباً ہوسٹل خالی ہوجاتاہے۔ ہوسٹل میں قیام کرنے والی خواتین‘ لڑکیاں اپنے اپنے کاموں پرنکل جاتیں ہیں۔ کچھ آفس اور کچھ جاب کے سلسلے میں۔ دور دراز سے آئی یہ خواتین بہت محنتی تھیں۔
صبح دس بجے کائونٹر اور کاریڈور خالی ملا۔ ماسی اوپر کے پورشن کی صفائی کررہی تھی جھاڑو کی آواز آرہی تھی۔ گیٹ تک کاجائزہ لیا چوکیدار بھی نہیں تھا۔
قسمت اس کاساتھ دے رہی تھی۔ پلٹی اور جاگتے ہوئے اپنے کمرے تک کا راستہ طے کیا۔
بیگ تیار تھے۔ ایک بیگ شانے پر لٹکایا۔ دوسرا اٹھالیا۔ اک طائرانہ نگاہ ڈالی اور پھر پلٹ آئی۔
بڑی سہولت وسکون سے گیٹ تک پہنچی۔ باہر نکلتے ہوئے دل دھڑکا‘ دنیا کی بے ثباتی نظروں کے سامنے تھی۔ سامنے ہی خالی رکشہ کھڑا تھا۔ اس میں بیٹھ گئی۔ مڑ کرایک بار ہوسٹل کی جانب نگاہ کی۔
گھر کے سکون وتحفظ کے لئے ادھر آئی تھی۔ مگر… آنکھں دھندلانے لگیں۔ چوکیدار…نسوار منہ میں ڈالتا ہوسٹل میں داخل ہو رہاتھا۔ اس نے رخ پھیر لیا۔ رکشہ تیزی سے آگے بڑھنے لا۔
آنسو رخسار پرگرنے لگے۔
اپنی تنہائی‘ اکیلے پن کا احساس شدت سے ہونے لگا۔
///
ٹرین اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ وہ کھڑکی سے ٹیک لگائے اپنی زندگی کو فلم کی طرح اپنی نظروں کے سامنے چلتے دیکھ رہی تھی۔ اپنے اور اپنا پن سب اس کی زندگی سے نکل گیا تھا۔
اب بس اس کی ذات اوراس کی تنہائی اس کی سہلیاں تھیں۔ کوئی بھی نشان چھوڑے بغیر وہ ان سب کی زندگیوں سے نکل آئی تھی۔
جواد… وہ اسے نہ پاکر بہت پریشان ہوگا۔ وہ کیا کرتی خاندان والوں نے اس کے بغیر اسے قبول نہیں کیا تھا۔ توس کے سامنے کیسے قبول کرلیتا۔ ممانی تو اسے زندہ جلامارتی۔
فیروز… اتوار کواسے لینے آئے گااور منہ کی کھائے گا۔
شگفتہ الیاس کی شامت… چوکیدار کی بر طرفی… اسے نظر آرہی تھی۔ا لجنت سے ہمیشہ کے لئے نکل آئی تھی۔
سمیر…اک آہ اس کے دل سے نکلی۔
ٹرین اک جھٹکے سے رکی۔ ساتھ ہی بیگ میں پڑا سیل فون بجنے لگا۔ اسے بجنے دیا… ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگی۔ سمیر کانام جگمگارہاتھا۔ جانے کتنی بار فون آتاتھا‘ اسے علم ہی نہیں ہوتاتھا۔ اک سائیڈ پر پڑا رہتا تھا۔ آج ساتھ تھا تو ہونے کااحسا س بھی ہو رہاتھا۔
تمہاری پہنچ سے ہمیشہ کے لئے دور نکل ائی ہوں۔ مجھے کون سا شادی کرناہے جو طلاق کی آس ہوگی… فون بیگ میں ڈال دیا۔
اور دھیرے سے آنکھیں موند لیں۔
ایبٹ آباد میں آبگینے ابراہیم کی زندگی نے ازسرنو سانس لیا۔ ہوسٹل اور کچھ فاصلے پر بنا گرلز کالج…اور پرسکون زندگی اور کچھ فاصلے پر بنا خوبصورت پارک۔
یہاں کے راستوں سے واقف تھی۔
جب بھی چھٹیوں میں مل کرآتے تھے تو جواد‘فہیم‘ رضیہ اسے بتاتے تھے جگہوں کے بارے میں خوبصورت راستوں کے متعلق۔ سرسبز راستے‘ سیاہ لمبی سڑکیں‘ سائیڈوں پر لگے درخت‘بہت تھوڑا سا آگے جاکر کیڈٹ کالج… وہ میدان جہاں پریڈ پریکٹس ہوتی تھی۔
اس کے ساتھ کوئی میٹ نہیں تھی اور آبگینے نے تھرڈ فلور کاکمرہ لیا تھا۔ بائیں جانب کی بڑی سی کھڑکی سے بہت خوبصورت منظر نظر آتاتھا۔ لمبی سیاہ سرک… خوبصورت ٹریکس اور سرو‘ سفیدے اور پوکلیٹس کے درخت‘ بچوں کے کھیل اک گرائونڈ‘ ملحق پارک…
کچھ عرصے بعد ایک ٹی وی بھی لے لیا۔ کتابیں اس کی تنہائی کی ساتھی تھیں۔
کسی کو دوست بناہی نہ سکی۔ ساری لیکچرر سے اس کی دوستی تھی۔ اکثر خیال آتا کہ انکل نے اس کے بارے میں کیا سوچا ہوگا۔ جواد نے اسے کہاں کہاں ڈھونڈا ہوگا اور پھر دل ہار کر واپس چلا گیا ہوگا۔ فیروز… اسے مختلف جگہوں پر ڈھونڈتا ہوگا۔ اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نکلی تھی۔
اور سمیر… ایک دم سے چونکی۔
سمیر کی سزاختم ہو رہی تھی اور وہ آنے ہی والا تھا۔ اسے بھی اس کے بارے میں پتہ چل گیا ہوگا۔
وہ اسے ضرور ڈھونڈے گا۔
اور…
گہراسانس لے کر قطار درقطار لگے یوکلیٹس کے درختوں کے سائے میں چلنے لگی۔
وہ اسے ضرور ڈھونڈے گا۔
مگراسے کوئی نہیں ڈھونڈ سکتا۔ وہ بے نشاں راستوں کی مسافر تھی۔ اور سیاہ فام سڑکیں مسافروں کا پتہ نہیں دیتیں۔
///
سمیر احمد ہمدانی‘ساکت وجامد کھڑا تھا۔ اپنے کمرے کے درمیان۔ بیڈروم کی ساری ٹھنڈک اس کے وجود میں اتر رہی تھی۔
’’میںنے تمہارے نام کا ہجر کاٹا ہے… تمہارے دکھ کی سزا کاٹی ہے آبگینے… پھر بھی معافی نہیں ملی۔ اب بھی تلافی کی گنجائش ہے۔
دائیں جانب لگی اس کی تصویر…آبگینے پھول تھامے اس کے پہلو میں کھڑی تھی۔ وہ اسے چھوڑ گئی۔
اسے تصویر نہیں چاہئے تھی…اور اسے تصویر والی چاہئے تھی۔ جانے کیسی محبت تھی اس کے نارواسلوک کے باوجود بڑھتی جارہی تھی۔کیساپیار تھا جو بپھری ہوئی موجوں میں بدل رہاتھا۔وہ نہیں تھی مگر اس کی مہک ہرسو پھیلی ہوئی تھی۔ سامنے صوفے پر جہاں وہ سوتی تھی‘ اس دریچے پر آہٹ ہوئی جہاں کھڑی وہ باہر بائیں باغ میں دیکھتی رہتی تھی۔ اکثراس کے پہلو میں جاکر کھڑا ہوجاتاتھا۔ دیوار سے ہاتھ ٹکا کر اس کے بالکل قریب… جھک کر اس سے سرگوشی کرتا۔
اس کے شانے پر چہرہ تکا کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا۔
چوکھٹ پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتاتھا۔
وہ ہاتھ ہٹاتی نہیں تھی۔
اسے آبگینے کی سردمہری نہیں چاہئے تھی۔
اس کامحجوب انداز چاہئے تھا۔
اوراس کی رضا کے لئے تو اماوس کی سیاہ راتوں ایسا ہجر کاٹات ھا۔
بسترپر پیچھے کوگرگیا۔ اس کے اپنے ہاتھ اپنے ہی گھنے بالوں میں الجھ گئے۔
وہ تو پھر اسے ہجر ایسا فاصلہ دے گئی تھی۔
’’آپی… مجھے تم معاف نہیں کروگی تو خدا کیسے معاف کرے گا۔‘‘
بند آنکھوں کی سطح بھیگ رہی تھی۔ دریچے سے ہوا کا جھونکا اندر آیا اور رات کی رانی کی مہک سانسوں سے ٹکرائی۔ آنکھیں کھول دیں آہٹ پر یوں لگا وہ کمرے میں آئی ہو۔ بے اختیار چونکا۔
وہ بیڈروم میںکبھی بھی دبے پائوں نہیں آتی تھی۔ آنے سے پہلے آہٹ کرتی تھی۔ اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا۔
آبگینے… آبگینے‘میں تو اپنے کئے پر نادم ہوں پشیمان ہوں‘ سزا بھی کاٹ لی‘ دکھ بھی جھیل لیا۔ پھر کیوںخود کو ہجر دے دیا۔ تمہیں کہاں تلاش کروں۔ تم کس حال میں ہوگی…کہاں کس شہر میں ہوگی۔ کہاں سے سلسلہ شروع کروں۔
سیمابی سی اضطرابی کیفیت وجود میں سرائیت کرگئی۔
بے اختیار اٹھ بیٹھا۔ اس کا دل جیسے ہوائوں کی زد پر تھا۔تبھی دروازہ بجا کر ریشماں اندر آگئی۔ بڑی آس‘ امید سے اسے دیکھا۔ شاید ابھی کچھ کہے‘ کچھ بتائے‘ کوئی پتہ کوئی نشان…
’’آپ کوبیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔‘‘نگاہ چرالی۔ سمیر صاحب کا درد اسے اپنے سینے میں محسوس ہوا۔
’’تم سے جاتے ہوئے کچھ بھی نہیں کہا تھا اس نے۔‘‘سمیر اٹھ کر قریب آگیا۔
’’بس یہ کہا تھا‘ تم مجھ سے ملنے ہوسٹل آنا۔‘‘
’’تم گئیں تھیں؟‘‘
’’جب میں گئی تھی تووہ وہاں سے جاچکی تھیں۔ وہاں کی میڈم نے بڑی عجیب عجیب باتیں کیں۔ مجھے غصہ آگیا کہ میری باجی ایسی نہیں ہوسکتیں۔ اقبال مجھے واپس لے آیا ورنہ میں اسے مارتی۔‘‘
’’کیا کہہ رہی تھیں وہ…‘‘ ایک دم سے اضطراری کیفیت امنڈنے لگی۔
ریشماں نے ایک نظر اسے دیکھا۔
’’آپ کو بیگم صاحبہ بلارہی ہیں۔‘‘ پلٹنے لگی۔
’’ریشماں بتائو مجھے۔‘‘ اس کاراستہ روکا۔
وہ تذبذب کاشکار تھی۔
’’بتائو۔‘‘
’’کہہ رہی تھی کہ سب باجیاں ایسی ہی ہوتی ہیں پہلے بھاگتی ہیں اور پھر بھگاتی ہیں۔ اپنے پیچھے پیچھے۔ کتنے لوگ اس سے ملنے آتے تھے‘ جانے کس کے ساتھ رات کے اندھیرے میں بھاگ گئی۔‘‘
اک لمحہ کو رکی… اس کا گلہ رندھ گیاتھا۔
’’میری باجی ایسی نہیں تھیں۔ وہ بہت اچھی‘ نیک اور نمازی تھیں۔ مجھے بھی کہتی تھیں نماز پڑھا کرو۔ بس چپ رہتی تھیں‘ اکثر میں ہی بولے جاتی تھی ان کے ساتھ۔‘‘
ریشماں بولے گئی۔ سمیر بغور اسے دیکھتا سنے گیا۔
وہ کیسی تھی یہ اس کا دل جانتاتھا۔
’’ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔ انہیں ڈھونڈلیں چھوٹے صاحب۔‘‘
سمیر ہمدانی پلٹتا پلٹتا رکا۔ ریشماں کی آنکھیں ب ھیگ رہی تھیں۔ چھپاک سے باہر نکل گئی۔
وہ گہرا سانس لے کردریچے میں آکھڑا ہوا۔
’’میں تمہارا قصور وار‘ تمہارا مجرم ہوں‘ کاش میں ایسانہ کرتا‘ ایک نگاہ کی محبت کاشکار نہ ہوتا‘ غلط دوستوں کی گیدرنگ میں نہ رہتا‘ مجھے کسی قسم کا مسئلہ تھا جومیں نے یہ راہ اپنائی‘ کیوں سمیر کیوں؟‘ تم تک پہنچنے کا جائز راستہ اپناتاتو…تو تم یوں خوار وبرباد نہیں ہوتیں۔‘‘
دھیرے سے اپنی آنکھوں کو دبایا۔ ’’تمہارے ملنے تک میں بھی یونہی آزردہ ودکھی اور برباد رہوں گا خوشی مجھے بھی نہیں چھوئے گی۔‘‘ چوکھٹ پر ہاتھ رکھ کر باہر دیکھنے لگا زیر تعمیر مکان کب کا مکمل ہوچکا تھا۔ ذیلی سڑک پر گاڑیاں جارہی تھیں۔
ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی ساجدہ ہمدانی کے چہرے پر بے حد تازگی تھی۔ آج ڈائننگ ہال کی تمام کرسیاں بھری ہوئی تھیں۔
سمیر کے واپس انے کی سب کو خوشی تھی۔
ہمدانی صاحب سمیر کے دل کا درد جانتے تھے۔ اسے وہ دل کے قریب محسوس کررہے تھے مگر بیٹ کا دامن نہیں بھرسکتے تھے۔ اس کا دل نہیں آباد کرسکتے تھے۔ آبگینے کے یوں جانے کاانہیں بھی افسوس تھا۔
’’ارم‘ شاہینہ‘ اب تم سمیر کے لئے لڑکیاں دیکھو‘ اس کے معیار کی‘ اس کی برابری کی ہم عصر۔ اس ک شادی دھوم دھام سے کریں گے۔‘‘
وہ سرجھکائے کھانا کھارہاتھا۔
’’کیوں سمیر ٹھیک ہے نا۔‘‘ ہاتھ بڑھا کر اس کے بازو پر ہاتھ رکھا۔
’’فی الحال امی ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ ابھی مجھے پاپا کے ساتھ کام کرنا ہے۔ پڑھنا ہے۔ بزنس سیکھنا ہے اس کے بعد۔‘‘ سنجیدگی سے کہا۔
’’سب ساتھ ساتھ چلے ا۔ بس کہہ دیاہے میں نے۔‘‘
وہ انہیں دیکھ کررہ گیا۔
’’بہت من مانی کرلی ہے تم نے‘ اور اس کاحشر بھی دیکھ لیا ہے۔ یہ چھوٹے گھروں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ سب کی ہوتی ہیں اور کسی کی نہیں ہوتیں۔ دولت سے پیار ہوتا ہے انہیں۔‘‘
’’ساجدہ۔‘‘ ہمدانی صاحب نے انہیں اپنی جانب متوجہ کیا۔
’’بد پرہیزی نہ ہی کرو تو بہتر ہے۔‘‘ ہمدانی صاحب نے ان کے آگے سے سوئیٹ ڈش اٹھالی۔
’’میرابیٹا گھر آیا ہے‘ سب بدپرہیزیاں جائز ہیں اب کچھ نہیں ہوگا مجھے۔‘‘ لگاوٹ وپیار سے اسے دیکھا۔
اور ماں کی دوہری شخصیت‘ دوہراانداز دیکھ کر سمیر اندر تک ٹوٹ رہاتھا۔ کیا تھااگر ماما اسے اپنالیتیں۔ بیٹے کی غلطی کو قبول کرلیتیں۔ ان کی وجہ سے‘ ان کے لئے گھر چھوڑا اس نے‘ہوسٹل گئی‘ جانے کیا مسئلہ ہوا کہ ہوسٹل چھوڑناپڑا… اس کی وجہ سے گھر بدر ہوئی۔
بھوک پیاس بھک کرکے اڑ گئی۔ اس کا دل اچاٹ ہوگیا۔ اس کا سیل فون بجنے لگا۔ دھیرے سے ایکسیکوز کرکے اٹھ گیا۔ سب اسے جاتا دیکھتے رہے۔
’’اسے سمجھائیں… اور سمجھاتے رہیں۔ اب اس منحوس کا خیال دل سے نکال دے جو ہم کہہ رہے ہیں وہ کرے۔‘‘ ساجدہ کو غصہ آنے لگا۔
’’اتنی جلدی وہ شادی پر رضامند نہیں ہوگا۔‘‘ ہمدانی صاحب نے پلیٹ کھسکادی۔
’’لڑکی ڈھونڈنے میں بھی وقت لگے گا آپ اسے سمجھاے رہیں اور اسے ادھر ادھر بھٹکنے مت دیں۔‘‘
’’ہوں!‘‘ ان کا انداز کچھ سوچتا ہوا تھا۔
ارم اور شاہینہ آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں کررہی تھیں۔
دونوں بھائی کسی اور ہی نہج پر سوچ رہے تھے۔
اگلے دن وہ پاپا کے ساتھ آفس جارہاتھا۔ اس نے اپنا بہت وقت برباد کیا تھا۔ تعلیم ادھوری تھی۔ کچھ نہیں آتاتھا‘ کوئی ہنر نہیں تھا‘ تھرل کے نام پر زندگی ہار دی تھی اس نے۔ اب کم سے کم باپ کو تو خوش کردے۔ ان کا ہاتھ بٹا کر بزنس سنبھال کر۔
شیراز بھائی بینک میں تھے انہیں بینکنگ پسند تھی۔
شیزان بھائی کو ملٹی نیشنل فرم میں جاب ملی تھی کیسے انکار کرتے تاہم دونوں بھائی پاپا کو سپورٹ تو کرتے تھے۔ مگر عمر کے اس حصے میں انہیں اب فل ٹائم سپورٹ کی‘ بائیں بازو کی ضرورت تھی اورآگہی کے راستوں سے گزرتاسمیر بہت کچھ سیکھتاجارہاتھا۔زندگی پر ہمارا ہی حق نہیں ہوتا‘ مارے ساتھ منسلک‘ ہمارے ساتھ رہنے والوں کا زیادہ حق ہوتا ہے۔ اور پھر خود کوبھی تو بہلانا تھا۔ خیال ہروقت اس کے ہی دھیان میں رہتاتھا۔
کہاں ہوگی؟ کس حال میں ہوگی؟ تلاش کا سلسلہ کہاں سے شروع کرے؟
’’میرے خیال میں بیٹا تم ابھی آرام کرلو۔‘‘ سرگھما کر انہوں نے سمیر کو دیکھا۔ ذرا گھوم پھر لو… سیر کرآئو۔ جہاں جانا ہو ٹکٹ منگوادیتاہوں۔‘‘
’’آرام…سیرسپاٹے۔‘‘ ایک تلخ جام نے ہونٹوں کو چھولیا۔
’’آرام ہی آرام تو کیا ہے پاپا‘ اب تو صرف کام ہی کام کرنا ہے۔‘‘ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
’’اسے ڈھونڈو گی یا پھر ماں کے کہنے پر چلوگے؟‘‘موڑ کاٹتے ہوئے انہوں نے سامنے دیکھا۔
(اسے ڈھونڈنا ہی تو مشن ہے کہاں سے رابطہ کروں کس سے اس کے متعلق پوچھوں؟)
’’پاپا ابھی میں نے اس بارے میں سوچانہیں ہے۔‘‘
’’تمہاری ماما بہت فاسٹ ہیں اس معاملے میں۔‘‘
’’ہوں…!‘‘اس نے دانتوں سے ہونٹ کترے۔ ’’آپ انہیں سمجھائیں‘ فی الحال میرا خیال دل سے نکال دیں اور نہ ہی مجھے شادی کرنا ہے۔ مجھے اپنا مستقبل سنوارنا‘ آپ جیسابننا ہے۔‘‘ سرگھما کرپاپا کو دیکھا اور مسکرادیا۔
’’ہوں!‘‘ انہوں نے تائید کرتے ہوئے اسے دیکھا۔’’کیا کرنا چاہتے ہو‘ نیا آفس کھلوادوں۔کوئی نئی فرم‘ جو تمہیں پسند ہو۔‘‘ بیٹے نے دل ہاراتھا اس کا حوصلہ بڑھانا چاہتے تھے۔
’’ابھی نہیں… ابھی تو بس مجھے کام کرنا ہے سیکھنا ہے‘ آپ کا ساتھ دینا ہے‘ کچھ نیا نہیں کرنا۔‘‘
’’اوکے‘‘ ان کا آفس آگیاتھا۔ گاڑی پارکنگ ایرے میں کھڑی کی اور نیچے اترنے لگے۔
ازسرنو شروع ہونے والی اس کی زندگی میں خوشبو کا جھونکا ہی نہیں‘ دل سے خواہشیں اور آنکھوں سے خواب ختم ہوگئے تھے۔ اخروٹ‘ یوکلیٹس کے درختوں کے سائے میں بیٹھی‘ آبگینے ابراہیم نے اخروٹ کے نے سے ٹیک لگالی۔ کالج کے ساتھ وہ وزٹ پر کوئٹہ آئی ہوئی تھی۔ایبٹ آباد میں داخل ہونے کے بعد یہ پہلا سفر تھا اس کا‘ نہ ہوسٹل سے نکلی نہ شہر سے‘اس کی زندگی اسی مدار میں گردش کرتی رہی۔
خواہشیں… ہو تو پھرخواب نہیں جاگتے۔
اس نے سر اٹھا کر اڑتے پرندوں کو دیکھا۔
کھلی فضا میں پرپھیلائی تیررہے تھے۔ تبھی‘چونکی‘ وہ دونوں لڑکے اس کی جانب دیکھتے ہوئے جارہے تھے۔ ایک کی آنکھوں میں حیرت تھی‘ جانے کیوں وہ اسے دیکھا ہوا لگا بابا کا کوئی اسٹوڈنٹ ہوگا۔ تبھی وہ مڑ کر آئے اور بغور اسے دیکھتے ہوئے گزرے اب کے گرے شرٹ والے نے گلاسز لگالئے تھے۔ اگر بابا کا کوئی اسٹوڈنٹ ہواتو ضرور ملے گا۔ مگر وہ دونوں اسے دیکھتے ہوئے گزر گئے۔ آگے جاکر وہ موبائل پر بات کرنے لگے۔ اوراس کی چھٹی حس اسے خبردار کرنے لگی۔ یہ کون تھے؟ فیروز کے آدمی‘ جواد کے دوست یا…یاپھر سمیر کے خیرخواہ۔ اپنا شہر چھوڑنے کے بعد یہ پہلا اتفاق تھا۔
اسے کسی کا اپنا پن نہیں چاہئے تھا۔
کوئٹہ میں اس کا دو دن کا قیام تھا۔ کل فائنل تھا‘ لڑکیوں کا ان کاکالج جیت رہاتھا۔ تیسرے دن لڑکیوں کو کوئٹہ کی سیر کرنا تھی۔ چوتھے دن روانگی۔
یہ چار دن…!
اس کے دل میںخوف پرپھیلانے لگا۔
اگر…اگر فیروز ہواتو…
جواد ہوا…پھر…
سمیر آگیا تو…؟
لڑکیوں کی سرپرست بن کر آئی تھی ہوسٹل میں بھی نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ لڑکیاں اس کی ذمہ داری تھیں۔ مگر اگلے دو دن خیریت سے گزر گئے۔ اسے اپنا وہم لگا تھا۔ ان کا کالج ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن مقابلے میں جیت گیا۔
اگلے دن لڑکیوں کو سیر کرواتے ہوئے بہت محتاط تھی۔ وہ آدمی پھر نظر نہیں آئے۔ شام کو ہوسٹل میں داخل ہوتے ہوئے اس کی نگاہ بائیں جانب اٹھی اور سانس ساکن ہونے لگی۔ فیروز ایک آدمی کے ساتھ کھڑا باتیں کررہاتھا۔ تواس کا شک یقینی تھا۔ وہ فیروز کے آدمی تھے۔ ابھی اس کی نگاہ اس پر نہیں پڑی تھی۔ ڈھونڈ رہی تھیں۔ وہ اندر بھاگتی چلی گئی۔ خوف کے آکٹوپس نے اسے جکڑ لیا۔
فیروز کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نکلی تھی‘ وہ کیا کرے گا کہیں اس کواغوا نہ کرلے۔ اف! ایک دم سے اپنی تنہائی اپنی ویرانگی کااحساس شدت سے ہونے لگا۔ کسی سے اس دکھ کوشیئر نہیں کرسکتی تھی۔ سب جانتے تھے اپنی ذات میں خوش‘ مطمئن اور خوشحال ہے۔
مگر اس کی زندگی کتنی اکیلی‘ تنہااور ویران تھی کوئی اس سے پوچھتا۔
مگر کب تک…!
اپنے بستر میں چھپ کروہ پھوٹ پھوٹ کررودی۔
کب تک ان عیار ومکار گدھوں سے بچتی رہیگی۔ جو اکیلی لڑکی کو لوٹ کامال سمجھ لیتے ہیں۔
’’نہیں!‘‘ اس نے آنسو پوچھ لئے۔ اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کسی کمزور لمحے کی گرفت میں نہیں آئے گی۔ اب دیکھ لے گی فیروز کیا کرتا ہے۔ اگراس نے کچھ بھی ایسا کیا… تو…تو…وہ خود کو ہی مارڈالے گی۔ تیزاب گرالے گی اپنے چہرے پر درندگی کے خوف سے تو نجات مل جائے گی۔
بڑی بہادری سے سوچا۔
اور ایک بار پھر وہ شہر بدری کے متعلق سوچنے لگی۔
اگر فیروز ایبٹ آباد اس کے ساتھ داخل ہوتاہے تووہ اس رات ہوسٹل چھوڑ دے گی۔ کچھ سن گن تھی جووہ یہاں نظر آیاتھا۔
اگلے دن وہ بہت محتاط ہو کر گاڑی میں بیٹھی تھی۔ گلاسز اور اسکارف اچھی طرح اوڑھ رکھا تھا۔
ایبٹ آباد تک کا سفر آرام سے کٹا۔ وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ اس نے شکر ادا کیااس کا وہم تھا وہ فیروز نہیں تھا۔ دنیا کی بھیڑ میں اسے کون تلاش کرسکتا ہے۔
ہوسٹل میں اس کی معمول کی زندگی پھر سے شروع ہوگئی۔
آج کل ایبٹ آباد کا موسم بے حد خوبصورت اور پربہار ہو رہا تھا۔ ہرابھرا سبزہ‘ پھولوں کی آبیاری‘ اور رنگارنگ شگوفے… سرے شام ہی وہ ہوسٹل سے باہر نکلتی‘ اور اپنے ٹریک پر آجاتی‘ درختوں کے سائے سائے چلتی وہ ایک لمبا چکر کاٹ کربچوں کے پارک میں آجاتی۔
اس کی مخصوص جگہ گوہر کے درخت کے نیچے بنی سیمنٹ کی بینچ تھی یا پھر برگد کے چوڑی جڑوالے تنے کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتی۔ آج اسے گوہر کے درخت کے نیچے خالی بینچ مل گئی۔ اطراف میں سرخ سفید اور پیلے پھول کلیاں اور شگوفے گرے ہوئے تھے۔ فضا میں ہلکی ہلکی سردی کا رومانس تھا۔
رومانس…!
دھیرے سے اطراف کاجائزہ لے کر ہنسی۔
رومانس تو زندگی میں کبھی تھاہی نہیں… بچے گرائونڈ میں فٹبال کھیل رہے تھے۔ پچھلے دنوں کا خوف ذہن سے نکل گیا تھا۔ اس کی کسے پرواہ ہے۔ اسے کسے ڈھونڈنا ہے۔ پائوں اوپر کرکے سمٹ کر بیٹھی گرم چادر میں سمٹ کر بیٹھ گئی۔
آنسو جانے کون سے درد کو جان کر دامن بھگو رہے تھے۔
وہاں موجود اس کے آنسوئوں کومحسوس کرتے شخص کا دل چاہا کہ آگے بڑھے اسے اپنے حصار میں لے اور پھر ایک ہی دکھ پر دونوں پھوٹ پھوٹ کر رودیں‘ ایک دوسرے کے شانے دونوں کے آنسو سمیٹ لیں۔
جانے کتنا وقت گزر گیا۔
تبھی اڑتی ہوئی فٹبال آئی اوراس کے شانے سے لگی اوروہ اچھل پڑی۔
آبگینے مسکرا کربال بچوں کی جانب اچھالنے لگی۔
اور آنے والا ایک ٹک اسے دیکھے جارہاتھا۔
فضا میں درد کی تیرگی تھی۔
ہم گھوم چکے بستی بن میں
اک آس کی پھانس لئے من میں
کوئی ساجن ہو‘ کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو‘ کوئی تار اہو
جب جیون رات اندھیری ہو…
ایک بار کہو… تم میری ہو
سمیر ہمدانی نے بینچ کی پشت پرہاتھ رکھا۔
سمیر کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں‘ اک ٹک اسے دیکھے جارہاتھا۔
ہم کب تک پریت کے دھوکے میں
تم کب تک درد جھرونکے میں
دل کا دامن پھیلا ہو
کیوں گوری کا دل میلا ہو
کب میرے دل میں سویرا ہو
اک بار… کہو…
تم…تم…تم
اک بار کہو تم میری ہو
آبگینے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بچوں کو دیکھ رہی تھی۔
سمیر اسے دیکھے جارہاتھا۔
جس نے اس کی خاطر ہجر کابن باس لیا تھا۔ بھری بہار میں اماوس کی سیاہ رات بنی ہوئی تھی۔
تبھی وہ چونکی اور…سرگھمایا۔
ایک دم سے ساکت ہوگئی۔
سمیر اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔
’’کیسی ہو؟‘‘
س کے حواس بیدار ہونے لگے۔
تواس کاشک یقینی تھا۔ وہ… وہ سمیر کے دوست تھے۔ ایک دم سے سرگھمالیا۔ بھاگنا بے کار تھا۔ وہ اس کا ٹھکانہ یقینا دیکھ چکاتھا۔ تبھی وہاں کوئٹہ میں سامنے نہیں آیا۔
’’میں تو اپنے جرم کی سزا بھی کاٹ چکاہوں‘ اب بھی تمہارے دربار میں میری معافی نہیں۔‘‘ سراٹھایا…
’’تمہارے لئے گیاتھا‘ تمہارے لئے تمہارے کہنے پر مرد مومن بن کر لوٹا پھر بھی‘ پھر بھی میری خطامیرا گناہ… میراجرم۔‘‘
آبگینے سامنے دیکھ رہی تھی۔ سمیر اسے دیکھ رہاتھا۔ اک جذبہ دل سے تھکی ہوئی پیاس لئے من میں۔
’’جان دے دوں تمہارے سامنے قبول کرلوگی۔‘‘
’’ہمیشہ کے لئے چھوڑ کیوں نہیں دیتے میرا پیچھا۔‘‘ قفل چٹخ کرکھلا۔’’کیا ہے میری زندگی میں اب…‘‘ لفظ رونے لگے۔
’’میں‘تم اور زندگی کی خوشیاں۔‘‘ آس کے دیئے جلائے۔
’’انہہ… زندگی کی خوشیاں‘ وہ تو اسی دن خاک ہوگئی تھیں جس دن تمہاری نظر مجھ پرپڑی اور میرا نصیب خاکستر ہوگیا۔ میرے بابا…میرا خاندان‘ میرا گھر۔‘‘
’’آبگینے۔‘‘ سمیر کے لہجے میں درد تھا۔’’بری صحبت نے بگاڑ دیا تھا۔ تمہاری صحبت نے سنبھال لیا۔ کھائی میں گرنے سے پہلے بچ گیا۔ تمہارے ساتھ جو کیا اس کا مجھے دکھ‘ ملال سب کچھ ہے اور سک طرح کفارہ ادا کروں۔‘‘
آبگینے نے گھٹنوں پر سررکھ لیا۔
’’میں کوشش بھی کرلوں تو تمہیں اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتا۔ تم میری رگوں میں‘ میری دھڑکنوں میں سماگئی ہو۔ صدیوں کی پیاس لئے تمہیں ڈھونڈرہاہوں۔ اب تومیری سزا بھی ختم ہوگئی کیا اب بھی۔‘‘ دھیرے دھیرے اس کے قریب جھکا کہتاجارہاتھا۔
(تم سے ایسے درد کارشتہ ہے کہ کٹ سکتاہے نہ بھولاجاسکتا ہے)
وہ ایک دم سے اٹھی پائوں نیچے کئے اور تقریباً بھاگتے ہوئے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
سمیر بے ساختہ اسے دیکھے گیا۔
’’تم جتنا بھی بھاگو آبگینے اب نہیں اب تمہیں بھاگ کرمجھ تک ہی آنا ہے۔ ہمیں اب اپنے اپنے مدار میں نہیں بھاگنا۔
’’اف‘ اتنا خوبصورت اسمارٹ‘ڈیشنگ پرسنلیٹی۔ وہ تمہارا ہسبینڈ ہے؟‘‘
کام کرتی آبگینے نے بے ساختہ سر اٹھایا۔ اس کی کولیگ سارا کے چہرے پر خوشی‘ اور تحیر تھا۔ ’’اف سیاہ چشمہ لگائے… کاشہزادہ لگ رہاہے کب آیا تم نے بتایاہی نہیں۔ پہلی فرصت میں ملوائو۔‘‘
سارا بولے چلی جارہی تھی اور آبگینے اسے دیکھے جارہی گھی۔
کتنا شوق تھااس کے چہرے پر۔
’’گیٹ پر کھڑے ہیں انتظار میں۔وہ تو چوکیدار نے مجھ سے تمہارے متعلق پوچھ کر بتایا کہ ان کے شوہر آئے ہیں میں تو بھاگی گئی۔ سلام بھی کیا۔‘‘
آبگینے کا دل دھک دھک کرنے لگا۔
’’چلو اٹھو کیا یقین نہیں آرہا کہ وہ آئے ہیں؟ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
ساری رات جاگی تھی۔ ساری رات سوچا تھا۔ وہ نہیں آئے گا۔ کالج تو بالکل نہیں آئے گا۔ ہوسٹل میں آئے گا تو منع کردے گی۔ مگر وہ تو ایک بجے کالج کے گیٹ پر تھا۔
’’چلو… تم کوخوشی نہیں ہوئی‘‘ سارا اسے یوں ہی بیٹھے دیکھ کر حیران ہوئی۔’’اپریل نہیں ہے جوتمہیں فول بنائوں گی۔ یار…میرا یقین کرو آئو۔‘‘ کھینچ کر اسے اٹھاہی لیا۔ اور تقریباً کھینچتی ہوئی گیٹتک لائی۔
دور دور تک کوئی نہیں تھا۔
’’میں مذاق نہیں کررہی آبگینے۔‘‘ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’خان بابا… خان بابا… یہاں جو صاحب کھڑے مسز آبگینے کاپوچھ رہے تھے وہ کدھر گئے؟‘‘ سارا نے چوکیدار کوپکارا۔
’’وہ تو جی صاحب‘ اندر آفس میںچلے گئے۔ میڈم کے پاس۔‘‘
اس کادل اچھل کر حلق میں آگیا۔
’’دیکھا میں جھوٹ نہیں بول رہی تھی۔ اب جائو‘تم…سارا نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا کوئی سوچ ٹھہری ہوئی تھی۔ اور اسے جاناہی تھا۔
مسز لاثانی سے وہ بات کررہاتھا۔ اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔ اپنا بھرم رکھنے کے لئے اس کے قریب جاکر خندہ پیشانی سے مسکرا کر اس کاخیرمقدم کرناپڑا۔
’’کیسی ہو تم…؟‘‘ جذب دل کی شدتیں آنکھوں میں ٹھہر گئیں تھیں۔
’’آپ کب آئے…؟‘‘ میڈم کی جانب نگاہ کی۔ وہ مسکراتی نظروں سے اس شاندار کپل کو دیکھ رہی تھیں۔ آبگینے نے مسکرا کرانہیں دیکھا۔
’’چلیں۔‘‘
اوروہاس دیدہ دلیری پر حیران تھی۔
’’یہاں آپ کا گھر ہے؟‘‘ پرنسپل پوچھ رہی تھیں۔
’’جی ہے مگر اکیلے کی وجہ سے یہ وہاں رہ نہیں سکتی تھیں اب تومیں آگیا ہوں‘ تو بس پھر۔‘‘
آبگینے کی جانب پرتپاک انداز میںدیکھا۔ اور وہ اندرہی اندر پیچ وتاب کھارہی تھی۔
’’پھر تو جاب بھی نہیں۔‘‘ پرنسپل سے جانے کیا کیا باتیں کی تھیں کہ وہ ازخودنتائج اخذ کررہی تھیں۔
’’جی!‘‘ جواب سمیر نے دیا تھا۔
اور دوچار باتوں کے بعد اسے اپنی سنگت میں لے کر باہر آگیا۔
کاریڈور سے گزرتے ہوئے گلاسز آنکھوں پر لگا کر اس کی جانب جھکا۔
’’تمہارا بیگ۔‘‘
اس کے قدم رک گئے۔
’’جائو لے آئو۔‘‘
وہ چل پڑی۔
’’اور سون… جلدی آنا… میں گیٹ پر ہوں۔‘‘ جانثاری کے سے انداز میں کہااور اپنے لانبے قدم کے ساتھ مضبوط قدم اٹھاتا باہر نکل گیا۔
اس کاانداز‘ بہت کچھ بتارہاتھا۔
اب کوئی حتمی فیصلہ ہوجانا چاہئے۔ ادھر سے اب کہیں نہیں بھاگنا۔ دل کو سمجھایا۔ بیگ اٹھایا۔ اور اطراف میں دیکھے بنا باہر نکلتی چلی گئی۔
گیٹ پر اسے اپنے ہمراہ لے کر سمیر گاڑی میں بیٹھا… اس کاہرانداز استحقاق آمیز تھا۔
’’ایک بات کافیصلہ ہو کیوں نہیں جاتا۔ اب سب کچھ ختم ہوچکاہے۔ پھر…پھر‘‘ گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے آبگینے کالہجہ چٹخ گیا۔
’’کچھ ختم نہیں ہوا ہمارے درمیان‘ اور نہ کچھ ختم ہوگا نہ ہوسکتا ہے۔‘‘ سلوڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ سرگھما کر اسے دیکھنے لگا۔
’’مجھے کسی کے ساتھ نہیں رہنا۔‘‘
’’ہاں تمہیں کسی کے ساتھ نہیں رہنا۔ سوائے میرے۔ اور میں واپس آگیا ہوں کبھی نہ جانے کے لئے۔ اور تمہیں شہر شہر ڈھونڈ رہاہوں۔ کوئٹہ میں تمہیں سلیم نے دیکھا تھا۔ بس اسٹاپ پر‘اس نے مجھے بتایا اور میں پہلی فرصت میں بھاگا چلا آیا۔‘‘
آبگینے باہر دیکھتی رہی‘ وہ سلیم نہیں فیروز کے آدمی تھے۔
’’مجھے ڈائی ورس چاہئے۔‘‘اگلی بات سنے بغیر اس نے بہادری سے نپاتلا سوچاہوا جملہ کہہ دیا۔سمیر نے گاڑی سائیڈ پرروک دی۔
’’کیوں…؟ کس لئے۔ اب…سب کچھ تمہاری مرضی سے تو ہوا تھا۔‘‘ اس کی جانب رخ کرکے بیٹھا۔
’’میری مرضی سے۔‘‘ پھنکار کر پلٹی۔ تصور میں زور زبردستی‘ زیادتی کی تصویریں چلنے لگیں۔
’’ہاں…! تمہاری مرضی سے۔‘‘ انگلی اٹھا کر اس کی جانب اشارہ کیا۔’’تمہاری مرضی سے اقبال جرم کیا۔ اقرار جرم کیا‘ جیل کاٹی سزاپوری کی‘ ایک نیک انسان بنا‘ تھرل کے نام پر جو کچھ گناہ کرتا رہا‘ ان سب کی معافی مانگی اب… اب تم کہتی ہو کہ تمہیں طلاق دے دوں۔‘‘ سمیر کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔’’مجھے میرا حق تو دو‘میری جزا تو دو‘ تبھی تو خود پرتمہیں حرام کرنے کا سوچوں گا۔‘‘
آبگینے باہر دیکھنے لگی۔
آبگینے… سمیر کا لہجہ تھکا تھکا سا ہوگیا۔ دھیرے سے اس نے ٹیک لگا کر اپنی بھیگی پلکوں کو دبایا۔
’’میں…میں پہلے دن سے اپنے گناہ کی تلافی کررہاہوں۔ سزا بھگت رہا ہوں۔ میں نے غلطی کی‘ کفارہ ادا کیا۔ تمہارے دربار سے مجھے معافی کیوں نہیں مل رہی؟ آبی! کیوں؟میںاتنابرانہیں تھا‘ اب اتنابرانہیں ہوں۔ بس اک بار…اک بار مجھے قبول کرکے تو دیکھو… معاف کرکے تو دیکھو۔ میں…میں تمہارے لئے ہار گیاہوں۔‘‘
اونچالمبا مرد…اس کے سامنے سرنگو تھا۔
’’آبی! نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔’’ہمارے اس رشتے کو اس طرح سے ہی بننا تھا‘ قائم رہنا تھا‘ ہماری قسمت میں اسی طرح ملنا تھا‘ تو تو…‘‘
’’مجھے ہوسٹل چھوڑ دو… مجھے لیکچر تیار کرنے ہیں۔‘‘
’’نہیں! اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔’’مجھے تمہیں کہیں نہیں چھوڑنا۔ ورنہ‘ ورنہ تم مجھے چھوڑ دوگی۔ اک بار پھر مجھے تہی دامن کرجائوگی۔ میں اب نہ خود تہی دامن ہوں گاور نہ تمہیں رہنے دوں گا۔ یہ میرا خود سے وعدہ ہے۔ زبردستی ہی سہی۔‘‘ اس نے گاڑی کو کھلی سڑک پر فل اسپیڈ میں چھوڑ دیا۔
’’میں نے تمہیں تحفظ یونہی نہیں دیا تھا۔‘‘ وہ اپنی دھن میں کہہ رہاتھا اور پھر ہاتھ بڑھا کر ریکارڈ آن کردیا۔
اک بارک ہو‘ کی دھن اطراف میں پھیلنے لگی۔ وہ اپنی کہے جارہاتھا‘ اپنی سنائے جارہاتھا۔سمیر نے ہاتھ بڑھا کر آواز اور آہستہ کردی۔ اس کے کہے کوبالکل اہمیت نہیں دے رہاتھا۔ گاڑی جانے کن راستوں پر سفر کررہی تھی۔ قطار درقطار لگے درخت تیزی سے پیچھے گزررہے تھے۔ رفتار بتارہی تھی کہ اپنی جگہ سے بہت دور نکل آئے ہیں۔ سرگھما کر اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر سکون وطمانیت تھی۔
’’اس کے باوجود کہ میں نہیں رہنا اہتی۔‘‘
’’یہ… یہی تو جاننا چاہتاہوں کہ کیوں…تم کیوں ایسا چاہتی ہو۔‘‘ اسی انداز میں اس کی جانب دیکھا۔
’’اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی…کیوں آبگینے۔ اب کیا کروں‘ کون سی سزا خود کو دوں‘ کہ میری توبہ‘ میرا کفارہ‘میری سزا قبول ہو‘ میرے گناہوں کاکفارہ ہو۔ اک مومنہ کے لئے مومن بنا ہوں‘ اس جیسا بناہوں پھر بھی۔ پھر بھی۔پھربھی سزا میں تخفیف نہیں۔ کوئی گنجائش نہیں‘ اب تمہارے پاس کوئی ریزن نہیں ہے۔‘‘
’’مجھے تم پسند نہیں ہو۔‘‘ شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔
’’کیوں؟‘‘ وہ ہنس دیا۔’’کس بات کی کمی ہے میرے اندر۔ خوبصورت نہیں‘ مردانہ وجاہت نہیں رکھتا‘ دولت مند شریف النفس نہیں۔‘‘ اس کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے لب کاٹے۔’’میری شرافت کی گواہ تو تم خود ہو۔ اک لڑکی کو اور کیا چاہئے ہوتاہے اس کامستقبل محفوظ ہو۔‘‘
گاڑی نے ایک موڑ کاٹالمبا ٹرن لے کر ایک عمارت کے سامنے رکی۔ اور سیون اسٹار ہوٹل کانام پڑھ کر چونکی اور اس کی جانب دیکھنے لگی۔ وہ گہری سنجیدگی لئے گاڑی سے اتر رہاتھا۔ گاڑی لاک کرکے اس کے اس کی جانب آیا دروازہ کھولا۔ ’’آئو۔‘‘
’’مجھے کہیں نہیں جانا۔‘‘ اترنے سے انکار کیا۔
’’مجھے بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ ہاتھ پکڑ کر اتارلیا۔
کیسا استحقاق بھراانداز تھا۔
گھڑی پر نگاہ کی تین بج رہے تھے۔ بھوک اس کے اندر بھی تھی۔ دھیرے سے اترگئی۔ اور دونوں اندر ڈائننگ ہال میں آگئے۔
آڈر کرکے اس کے سامنے بیٹھا اور دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرکے کہنیاں ٹیبل پر ٹکاکر اس پر چہرہ ٹکایا…اوراسے نظروں کے حصار میں لے لیا۔
’’پاپاکوبھی تمنے ہوسٹل سے نکلنے کانہیں بتایا انہیں ہر وقت تمہاری فکر رہتی ہے جب میں نے انہیں بتایا کہ تمہارا پتہ مل گیاہے تو وہ بہت خوش ہوئے‘اور خود بھی میرے ساتھ آرہے تھے مگر میں نے منع کردیا۔ میںخود ان کی بہو کو لے کرآرہاہوں۔ بات کروائوں!‘‘ جیب سے موبائل نکالا۔
’’جومیںنے کہا ہے اس پر غور کرو۔‘‘ وہ غرائی۔
’’ہاں اس پر غور کرلیا۔ تمہارے کہنے پر چل لیا‘اب خوض کرنے کی باری تمہاری ہے۔ جس عدالت میں جائو اور کیس چلائو میں سزا کاٹ چکاہوں۔ جیت میری ہے۔‘‘
اس پل ویٹر کھانا لے آیا۔ وہ اس کی پلیٹ میں کھانا سرو کرنے لگا۔
’’یہ شخص اس کے ساتھ زبردستی کیوں کررہاہے‘ اس کی ناپسندیدگی کو اہمیت کیوں نہیں دے رہا۔ اس کے لفظوں پرغور کیوں نہیں کررہا۔ اپنی… اپنی منوائے جارہا ہے۔ اسے غصہ آرہا تھا۔
’’میں نے جیل میں ایم اے مکمل کرلیا‘اب میںایم بی اے کروں گا۔پاپا مجھ سے بہت خوش ہیں۔انہوں نے مجھے پورا بزنس سمجھایااور سکھایا ہے‘ جب ہم دونوں صبح آفس جاتے ہیں تو ان کے انداز میں فخر ہوتا ہے۔ میں نے انہیں اپنی ذات سے جتنے دکھ دیئے ہیں اس کا ازالہ سود کے ساتھ کروں گا۔ بلکہ ان تمام لوگوں کا جو مجھے جان سے پیارے ہیں۔‘‘ اک چاہت بھری نگاہ ڈالی۔
’’مجھے ہوسٹل جانا ہے۔‘‘ سنی ان سنی کی۔
’’ہوسٹل میں میرے لئے جگہ ہے؟‘‘
اس کی شکل دیکھے گئی۔
’’نہیں ناں وہ گرلز ہوسٹل ہے۔ میں نے ادھر ہی کمرہ بک کروایا ہے۔ ہم یہاں جب تک رہیں گے جب تک ہمارے درمیان کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوجاتا۔‘‘
آبگینے ابراہیم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’اور یہ پاپا کا مشورہ ہے۔‘‘
اس کے عزائم اس کے چہرے پر نظر آرہے تھے۔ سمیر ہمدانی اس کے تیکھے چتون‘ بے رخی‘ غصہ‘ کسی بات کو اہمیت نہیں دے رہاتھا‘ اب کے وہ بہت بدل کرآیا تھا۔ وہ دھیما سا‘پرملال لہجہ‘ معذرت طلب رویہ‘ شرمندگی‘ خفت و خجالت کہیں نہیں تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک نکھار ایک وقار تھا‘ لہجہ دھیمہ‘ مگر گھمبیر تھا۔
کتنا فرق تھا آج اس کے سامنے بیٹھے سمیر احمد ہمدانی میں۔
اور…
سات سال پہلے کے سمیر میں۔
تعلیم‘ شعور‘ آگہی‘ درس‘ تنہائی سوچ اور پختگی نے اس میں مثبت تبدیلی کی تھی۔
اک دم سے اس نے سر جھٹکا۔ وہ یہ کیا فضولیات سوچنے لگی۔ یہ شخص قاتل ہے‘ قاتل رہے گا اور قاتل خوشیوں کے ضامن کیسے ہوسکتے ہیں۔
’’تم کچھ کھانہیں رہیں۔‘‘
آبگینے نے پلیٹ کھسکادی۔
’’موسم اچھا ہو رہا ہے چلو لان میں۔‘‘ اٹھ گیا۔
آبگینے ادھر ہی بیٹھی رہی۔
’’تمہاری ضد بے جاہے۔‘‘ اسے شانوں سے پکڑ کر اٹھایا اور اسے چلنا پڑا۔
اس کا ہر انداز‘ ہر لہجہ‘ ہر اسٹائل محبت کی لو دے رہاتھا۔
’’سردی تو نہیں لگ رہی۔‘‘اس کے وائٹ پشمینہ کے سوٹ پر نگاہ کی۔
رات کااندھیرا ہرسوپھیلنے لگا۔ فضا میں سردی کی شدت میں اضافہ ہونے لگا۔
اسے لے کر اپنے لئے بک کرائے گئے کمرے میں آگیا۔
’’میں…میں تمہارے ساتھ…اس ایک کمرے میں نہیں رہ سکتی۔‘‘کمرے میںآکر سلگ گئی۔
’’ہمارے رشتے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہاں رہ سکتے ہیں۔‘‘
’’ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے مسٹر سمیر‘ ہمارے راستے ہمارے مزاج الگ ہیں۔ تم میرے قاتل ہو‘ اور میں ایک قاتل کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔میں نے بہت برداشت کرلیا ہے‘ مجھے ہوسٹل جانا ہے۔‘‘
’’میں قاتل نہیں ہوں۔‘‘ اس کالہجہ درد سے بوجھل تھا۔
’’میں نے کچھ بھی کیاتھا ماضی میں وہ تھرل تھا اور میں بھاگانہیں تمہارے دکھ نے مجھے احساس گناہ میں مبتلا کیا۔ میں نے اقرار جرم کیا سزا کاٹی اب میں صاف شفاف ہوں… بھاگانہیں تھا۔ برانہیں تھا‘ بری صحبت نے برا بنایا۔ اب بتائو‘ میں کیا کروں؟تم نے جوکہامیں نے کیا۔ ورنہ یہ ہاتھ بھر کا فاصلہ میرے لئے معنی نہیں رکھتا۔ مگر محبت‘ عزت وحرمت کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔ تم نے مجھے بدل دیا‘ مجھے اچھا انسان بنایا‘ میرے اندر کے نیک انسان کو جگایا‘ اب میں کیوں برا ہوا؟‘‘بہت دھیمے انداز میں اپنی صفائی دے رہا تھا۔ گواہی مانگ رہا تھا۔
آبگینے مڑ کر دریچے سے لگ کر کھری ہوئی۔ اس کا ذہن‘ دل خالی ہو رہا تھا۔
وہ عجیب کشمکش کاشکار ہو رہی تھی۔ دل اسے قبول نہیں کررہاتھا۔ لیکن اس کی اہمیت‘اس کی پناہ اور تحفظ‘ وہ بھی اپنی جگہ معنی رکھتاتھا۔ اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتاتھا۔اس کاذہن ماضی کوبھول نہیں رہاتھا مگر حال اور مستقبل بھی اہم تھے۔ ان سے نظریں نہیں پھیری جاسکتی تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔ وہ ابھی تک گومگو کی کیفیت سے دوچار تھی۔
صبح وہ معمول کے کام کرتا خاصاچپ تھا۔ ناشتہ کمرے میں ہی منگوالیا۔چپ کی بکل اس نے بھی مار لی تھی۔ دونوں کے پاس شاید کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا اپنے اپنے موقف پر برقرار تھے۔
’’تم نے ہوسٹل کیوں چھوڑا تھا۔‘‘ لان کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے اچانک اس نے پوچھا۔
آبگینے اسے دیکھے گئی۔
’’اک بار گھر کی امان چھن جائے تو پھر کوئی چھت نہ رہ سکی سر پر۔‘‘گہرا سانس لے کرناریل اور سفیدے کے درختوں پر چمکتی دھوپ دیکھنے لگی۔
’’شاید مجھے یہ جگہ بھی چھوڑنی پڑے۔ ایک دفعہ سر سے چادر کھینچ جائے تو بربادی گھر دیکھ لیتی ہے‘رسوائیاں دامن تھام لیتی ہیں۔ تمہارے گھر سے اس لئے نکلی کہ تمہاری ماں نے کہاتھا‘نکل جائو یہاں سے ورنہ میں تیزاب پھنکوادوں گی تمہارے چہرے پر‘ تمہیں اغوا کرادوں گی۔ ہوسٹل سے اس لئے نکلی لوگوں نے مجھے مفت کا مال سمجھ لیا تھا۔ مجھ سے کھیلنا‘ میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے میری قیمت لگائی تھی اورمیں بدکردار نہیں تھی۔‘‘
دھیرے دھیرے کہتی رہی‘ اشک دامن بھگوتے رہے‘سمیر دم بخود سنتا رہا۔ فیروز مجھے اغوا کرناچاہتاتھا‘ایک بار پھر… میں رسوااور بدنام ہورہی تھی۔ مجھے وہاں سے بھاگنا ہی تھا۔ کوئی مجھے امان نہیں دے سکتاتھا۔ کوئی گھر نہیں تھا میرے لئے…ادھر ہی مجھے جواد ملامیرا کزن‘ وہ مجھے گھر لے جانا چاہتاتھا‘ میری حیثیت میری عزت دلوانا چاہتا تھا۔ جنہوں نے پہلے میری نہیں سنی انہیں اب میں کچھ نہیں بتانا اہتی تھی اس لئے میں نے ہوسٹل چھوڑ دیا۔‘‘
بھیگی پلکوں سے آسمان کو دیکھا۔
’’بس یہی جگہ میری کچھ دیکھی ہوئی تھی‘ایبٹ آباد میں میرے نانا کا آبائی گھر ہے۔ راستوں کوجانتی تھی‘ اس لئے ادھرآکر چھپ گئی۔ یہاں سے جانے کیسے ڈھونڈ نکالا۔‘‘
سمیر کا دل درد سے بوجھل ہو رہا تھا۔
یہ لڑکی جانے کتنی پتھر دل ہوگئی تھی۔ اسے کیسے سمجھائوں‘کیسے بتائوں کہ میرا دل کیسے اس کے لئے بے قرار ہے۔ دل چاہا آگے بڑھے اور اسے اپنی بانہوں میںچھپا کر اس کے سارے آنسو دل پر گرالے‘ سارے دکھ سمیٹ کر آنکھوں میں سکون وطمانیت بھردے۔ برسوں کے بنجر دل کو خوشیوں سے بھردے۔ لمحہ لمحہ بیتی محبت کی داستان سنائے‘ اسے بتائے کہ اس کے لئے کتنی دعائیں مانگی تھیں‘کتنے خوبصورت خواب دیکھے تھے۔
’’اب اور نہیں۔
’’بس اور نہیں۔‘‘سمیر کا دل بھی دھڑکنے لگا۔ اک گہرا سانس سینے سے نکلا۔
ہم گھوم چکے بستی بن میں
اک آس کی پھانس لئے من میں
کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو‘ کوئی تارا
جب جیون رات اندھیری ہو
اک بار کہو…
تم میری ہو…
شاید! آنکھوں میں دھند بھرنے لگی۔
یہ موقع کبھی نہ ملے… یہ لڑکی اس کی دیپ بنی اسے یونہی ماضی کی عینک سے دیکھتی رہے گی۔
’’تمہاری ماما کی نظروں میں‘میں مجرم ہوں‘ ہمیشہ انہوں نے مجھ پرالزام لگائے۔ سچ انہوں نے سنا نہ سمجھا… بھابیوں کی طنزیہ ہنسی… مجھے جینے نہیں دیتی۔ میری زندگی میں اب کوئی رنگ نہیں جائواور اپنی خوشیاں سمیٹو اور اپنی ماما کے خواب پورے کرو۔‘‘ دھیرے سے چہرہ گھمالیا۔
’’میرے سارے خواب تم تک ہیں اور تم سے میری زندگی کی تکمیل ہے تم اگر نہیں تو کوئی بھی نہیں میں بھی خود کو بیکراں ہجر دیتاہوں اور آج سے اپنی زندگی شام سفر ہجر کے نام کرتا ہوں۔ میرا سفر رائیگاں ہی سہی۔
آنکھیں دھند سے بھرنے لگیں‘ گلاسز آنکھوں پر لگالئے۔
’’چلو۔‘‘ وہ ایک دم سے کھڑا ہوگیا۔
آبگینے نے سر اٹھایا۔
’’ہوسٹل چھوڑ دوں۔‘‘ اس نے چہرہ گھما لیا۔ آبگینے دھیرے سے کھڑی ہوئی اوراس کی ہمراہ چلنے لگی۔
’’میںنے ایک بار تمہارے ساتھ برا کیا تھا۔ برائی کے اس لمحے نے مجھے بدلا اور میں نے نیا جنم لیا۔ اس لمحے سے میں نے تمہیں عزت وحرمت دینے کے لئے خود سے لڑتا رہا۔ایک اچھی لڑکی کے ساتھ بہت بر اہوا ہے۔ مگر بعض لمحے بدقسمتی کی جونک لئے ہوتے ہیں اور زندگی سے چمٹ جاتے ہیں۔ میرا بھی کچھ ایساہی حال ہے۔ خوشیاں اب کبھی مجھے راس نہیں آئیں گی۔‘‘
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے دھیرے دھیرے کہتا رہا۔ ’’تمہارے ساتھ زیادتی کی تھی خود کو ہرسزا دی۔ مگر بعض لمحوں کا کفارہ کوئی بھی سزا دے کر پورا نہیں ہوتا۔ آبگینے!ہماری زندگی کی مثال ایسی ہے۔ ذراسا معاف کرنے کاحوصلہ پیدا کرلو‘ میں خود کو تمہارے نام کردوں گا مگر! دونوں کے ہی خواب تشنہ رہیں گے۔ میں تمہارا دل نہیں بدل سکتا… اور تم…میرا۔‘‘
سمیر احمد ہمدانی چپ ہوگیا۔
کالج آگیاتھا۔
’’میں واپس جارہاہوں یوکے جانے سے پہلے ایک بار پھر آئوں گا۔ شاید کل آئوں۔‘‘اس پر سے نگاہ ہٹا کر سامنی دیکھنے لگا۔ آنکھوں پر گلاسز لگالئے۔
’’تمہارا بہت فرض ہے مجھ پر تم اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کاحق رکھتی ہو۔محبت زبردستی نہیں ہوسکتی۔ زبردستی گھروں میں تو گھسا جاسکتا ہے مگر دل میں نہیں۔‘‘ اس کی آواز بھرا رہی تھی۔ ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھول دیا۔
دھیرے سے اتر کر دروازہ بند کیا اور نگاہ اٹھائی۔اور آبگینے ساکت ہوگئی گلاسز کے نیچے رخسار پر ایک آنسو پھسل رہاتھا۔ گاڑی آگے بڑھ گئی۔
آبگینے ایک لمحہ موجود گزرتا ہوا پل بن کر دل میں اتررہاتھا۔ اس کی سانس ساکن تھی۔
اس کے قدموں سے وہ ایک اکلوتا آنسو لپٹ گیا۔
///
اس شب… آبگینے ابراہیم نے دل کے سارے دروازے کھول دیئے۔ گلے‘شکوے‘ شکایتیں‘ حکایتیں‘ خفگی ناراضگی‘ غصہ‘انتقام سارے پنچھی اڑادیئے۔
خالی درودیوار کو اشکوں سے دھوڈالو۔اونچے طاقچے پر یاد کی اگربتیاں سلگائی اورا س کاآسن جمالی۔
گئے دنوں کاکوئی نمبر اسے یاد نہیں تھا‘ کہ مس کال ہی کرتی۔مس کال پر اس کابھیجا موبائل یاد آیا۔ بیگ کی نچلی سطح سے نکالا۔ گرد جھاڑی… مدتوں سے بند پڑا تھا۔
اس کے ہمراہ رکھا چارجر اٹھاکر لگایا‘ مگر بے سود رہا۔
اور پھر مس کال کا سلسلہ شروع رہا۔ مگر اس جانب شاید وہ یہ نمبر دے کر بھول گیا تھا۔ کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔ ہلکی ہلکی بارشوں کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ موسم اور خوبصورت ہوتاجارہاتھا۔ اور جانے والا شاید آنے کا راستہ بھول گیاتھا۔
اگر وہ چلا گیا۔
اس کے قدم ہوسٹل کے لان میں گردش کررہے تھے۔بادل کسی بھی لمحے برسنے کو تیار تھے۔
اس کے قدم یوکلیٹس کے درخت کی سائے میں رک گئے۔
دل ایک بار پھر درد سے بوجھل ہونے لگا۔
بہت زیادہ رونے کی خواہش آنکھیں بھگونے لگیں۔ بعض لوگ ہوتے ہی ازلی بدنصیب ہیں۔
’’مس کوئی صاحب آئے ہیں آپ کا پوچھ رہے ہیں۔‘‘چوکیدار لائونج میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے گم سم ہوتے حواس بیدار ہونے لگے۔ دوپٹہ سنبھال کر بھاگی اور گیٹ پر ساکت ہوگئی۔
ڈرائیونگ سیٹ پروہ بیٹھاتھا۔ فرنٹ دروازہ کھولے۔
’’آئو۔‘‘
اور وہ آگے بڑھ کر بیٹھ گئی۔ گاڑی چل پڑی۔
’’میں بہت مصروف تھا۔ کچھ ادھورے کام کرنے تھے۔ کچھ ڈاکومینٹس تیار کروانے تھے۔ اگلے سنڈے کومیری سیٹ ہے یوکے کی۔ بس یہی ہفتہ ہے۔‘‘ گاڑی جانے کن راستوں سے گزر رہی تھی۔
’’پاپا کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔‘‘
’’مگر میں نے پاپا کو کہہ دیا ہے کچھ عرصے بعد واپس آجائوں گا مگر اب شاید یہ ممکن نہ ہو۔‘‘
گاڑی ایک کاٹیج نما گھر کے سامنے رک گئی۔
وہ اس کی جانب دیکھ نہیں رہا تھا‘ اور آبگینے اس ک آمد کے احساس سے دم بخود تھی۔
اتر کر وہ اس کی جانب آیا۔ اور دروازہ کھولا۔ وہ دھیرے سے اتر گئی۔ آگے بڑھ کر اس نے کاٹیج کا گیٹ کھولا… اوراندرداخل ہوگیا۔
ہرابھرا سرسبز پھولو ں بھرالان۔
پیچھے پیچھے وہ بھی تھی۔
’’مجھے یہ گھر بہت پسند تھا‘رہنے کے لئے مجھے ایسے ہی گھر پسند تھے۔ بہت خوبصورت آدرش تھے میرے۔‘‘ دھیرے دھیرے کہتا ہواآگے بڑھ رہا تھا۔ ’’بہت بڑے گھر نہیں کہ لوگ گم ہوجائیں‘ اتنے چھوٹے گھر نہیں کہ برا لگے۔ بس ایک دوسرے کااحساس دینے والے گھر۔ یہ گھرمیں نے تمہارے نام کردیا ہے۔ تم یہاں رہو ہوسٹل میں کوئی ساری عمر نہیں رہ سکتا۔‘‘
’’تم جس سے شادی کرنا چاہتی ہو مجھے ملوادو۔ میں پیپرز پرسائن کردوں گا۔‘‘ وہ سنجیدہ تھا۔اس کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا۔
’’اس چاہت پراس دھیان پر آبگینے کے آنسو گررہے تھے‘ اب کے وہ بدلی تھی تووہ بھی بدل گیاتھا۔
’’تمہیں یہ جگہ پسند تھی اس لئے ادھر ہی گھر لے لیا ہے۔‘‘ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ بس میں ان کا یہ کہا نہیں مان سکتا کہ شادی کرلوں۔ دل سے کی گئی شادی ایک بار ہوتی ہے۔‘‘
وہ لائونج سے گزر کر ڈرائنگ روم دکھاتا‘ کچن سے ہوتا ہوا کمرے دکھا رہاتھا۔ ہر کمرہ‘کچن‘ لائونچ‘ ڈرائنگ روم سجاہواتھا۔ کچن میں ہر سہولت موجود تھی۔
اس کے گھمبیر لفظوں کا احساس رگوں میں اتررہاتھا۔
مڑ کر سفید لفافہ نکال کر اس کی جانب بڑھادیا۔
’’یہ تمہاری امانت۔‘‘ وہ تھام نہ سکی۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
’’میں تمہیں ہوسٹل چھوڑتا ہوا ہوٹل چلاجائوں گا‘ دراصل میں بائے روڈ آیاہوں تو بس بہت تھک گیاہوں۔ شام کو تم اس سے ملوادینا۔‘‘ باہر کی جانب قدم بڑھادیئے۔
’’تم شادی کے بعد یہاں رہنا‘اکیلے مت رہنا‘ میں تمہیں اب اور اکیلا‘تنہا اور اداس نہیں دیکھ سکتا آبگینے۔ زادراہ کے لئے مجھے معافی دے دینا۔ حالانکہ میری یہ بھی خواہش تھی کہ ندی کے دوکناروں کی طرح ہم ساتھ ساتھ رہ لیں مگر میں تم پر اور زیادتی نہیں کرسکتا۔ تم پر تمہارابھی حق ہے میری پابند نہیں ہو تم۔‘‘
آبگینے کے پاس لفظ گنگ تھے اور کہنے کو بہت کچھ‘ہمت کی کمی اور حوصلہ مفقود ہوتاجارہاتھا۔
وہ یونہی‘ لائونج میں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔
’’تم چاہو تو سیٹنگ چینج کرواسکتی ہو‘ بس خالی گھر اچھا نہیں لگ رہاتھا اس لئے… یہ سب‘‘ ادھر ادھر دیکھا۔
آبگینے اسے دیکھے جارہی تھی جواب اس سے نظر چرارہاتھا۔
کتنا تھکا ہوا‘اداس اور مضمحل لگ رہاتھا۔
بلکہ… دونوں ہی تھکے ہوئے تھے۔
’’کچھ کہو گی نہیں۔‘‘
’’تمشام کو آنے کا تردد مت کرنا۔ ابھی اس سے مل لو میں جس کے ساتھ رہناچاہتی ہوں۔‘‘ اس کے سامنے رکی۔
سمیر احمد ہمدانی نے ایک دم سے جھکا ہوا سر اٹھایا۔
وہ سنجیدہ تھی۔
’’آئو…‘‘ باہر چل پڑی۔ اس کاچہرہ بھیگاہواتھا۔ اور وہ بے اختیار اٹھااورپیچھے چلنے لگا۔ باہر کارویڈور میں جاکر رکی اس کی سائیڈ دیوار میں قد آدم شیشہ لگا تھا۔ اس کے سامنے رکی۔
’اوراس کے عکس کے پہلو میں سمیر کا قد آور سراپا ابھرا۔
آبگینے کے آنسو بہہ رہے تھے۔ آنکھیں سرخ تھیں۔
’’مجھے اس شخص کے ساتھ رہنا ہے اس گھر میں‘ ساری عمر ساری زندگی۔‘‘
اس کے لب سسکے۔
دوسرے لمحے وہ پلٹی۔
سمیر آنکھوں سے گلاسز اتاررہاتھا۔
اس کی آنکھوں میں حیرت کے بادل اتر رہے تھے۔
اگلا پل… شیشے میں مسکرا رہاتھا۔ آبگینے کا سرجھکااورسمیر احمد ہمدانی کی زندگی کو گلزار بنا گیا۔
اس کے سینے میں سمائی وہ پھوٹ پھوٹ کررو رہی تھی۔
اوراسے سمیٹا سنبھالتا سمیر اشکبار تھا۔
’’میں نے تمہیں معاف کیا‘ معاف کیا‘ معاف کیا۔‘‘
اس کارواں رواں پکار رہاتھا۔
’’میں گدھ اور بھیڑیوں کے درمیان نہیں رہ سکتی۔ مجھے تمہارے جیسا تحفظ کوئی نہیں دے سکتا۔ مجھے تمہاری طرح کوئی نہیں چاہ سکتا۔ میرا صبر اور تمہاری دعائیں رائیگاں نہیں گئیں۔ میرا دل بدل گیا۔‘‘ وہ کہتی چلی گئی اورسمیر سنتا گیا۔
دونوں کے تھکے ہوئے وجود محبت کے پلیٹ فارم پر اتررہے تھے۔
’’میں جانتاہوں مجھے سب خبر ہے اس لئے اس لئے اب کے میں نے تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔
اس کااشکبار چہرہ سامنے کیا۔
’’تم تو فرشتہ ہو۔‘‘ جھک کر بھیگے لبوں سے پیشانی چوم لی۔ اور مسکرا کراسے دیکھا۔
آبگینے نے دل سے اس کے رخساروں کو آنچل سے خشک کیا۔
’’فرشتوں کو فرشتے ہی ملتے ہیں۔‘‘
اوروہ جذب دل سے اسے دیکھے گیا۔
سمیر نے اک بار پھر اسے اپنی پناہ میں لے لیا۔ انہیں یہ بھی یقین تھا کہ تمہیں میرے علاوہ کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔
وہ معافی کے در سے گزر کر کیسی ہلکی پھلکی ہورہی تھی کوئی اس سے پوچھتا۔
تھکاہارا مسافر کیسے کھل گیاتھا۔ برسوں کی تھکن لمحوں میں اتر گئی تھی۔
’’میں تمہیں تمہارا اپناپن‘ عزت‘ حرمت سب دوں گا۔ سود کے ساتھ۔‘‘ اسے یقین دلارہاتھا۔ گواہی دے رہاتھا۔
اس کے لفظ سچ کے بیج بن کر دل کی زمین پر گر رہے تھے۔
آبگینے نے دھیرے سے نگاہ اٹھائی۔
سمیر اس پر نثار ہو رہاتھا۔محبت کاخمار دھڑکنوں کو گلول کررہاتھا۔ دنیا گول ہے اور یہی اس کے بخت کاستارہ‘ وہ قسمت سے لڑنہیں سکتی تھی۔ محجوب سی ہو کر مکمل سپردگی سے اس کے شانے پر سررکھ دیا۔
ختم شد