چاند میرے آنگن میں

چاند میرے آنگن میں

تیسری بیل پر بھی وہ سیاہ گیٹ جوں کا توں بند رہا تو چوتھی مرتبہ وہ دانستہ بیل پر سے ہاتھ اٹھانا بھول گیا تھا۔ ڈیڑھ دن کے خوار کر دینے والے سفر کے بعد اگر ایک بندہ اپنی ٹوٹی پھوٹی حالت سمیت گھر کے دروازے پر کھڑا ہو، اور گھر والے اس کی آمد کی اطلاع دیتی گھنٹی پر کان دھرنے کو تیار نہ ہوں تو پھر وہی حربہ اختیار کیا جا سکتا تھا ،جو اس نے کیا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے بیل پر سے ہاتھ ہٹائے بغیر اپنی دراز قامت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قدرے اچک کر گیٹ کے اس پار دیکھا تھا، جہاں سے ایک محترمہ بھاگتی کم اور لڑھکتی ہوئی زیادہ چلی آ رہی تھیں۔ انہیں دیکھ کر باآسانی یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ گیٹ اب تک کیوں نہیں کھلا۔
’’معلوم نہیں محترمہ کب تک یہاں پہنچیں گی۔‘‘ وہ قدرے جھنجھلا کر سیدھا ہوا، تب ہی گیٹ کھلا اور فوراً ہی بارہ من وزنی دھمکی برآمد ہوئی۔
’’اگر تم نے فوراً سے پیشتر بیل پر سے ہاتھ نہیں ہٹایا تو میں گملا اٹھا کر تمہارے سر پر دے ماروںگی۔‘‘
اور اس نے واقعی فوراً سے پیشتر اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا، کیونکہ ان محترمہ کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر انہیں زیادہ غصہ آ گیا تو کچھ بعید نہیں کہ وہ اسے ہی اٹھاکر گملے پر دے ماریں۔
’’جی…مجھے ظہیر نعمان کہتے ہیں۔‘‘
’’میری بلا سے تیر کمان کہتے ہوں۔ یہ بتایئے یہاں کس خوشی میں نازل ہوئے ہیں؟‘‘
اس کی بھرپور شائستگی کے جواب میں ایسا سنسناتا تیر پھینکا گیا تھا کہ وہ بس آنکھیں جھپکتا رہ گیاتھا۔
’’دیکھئے جی۔ میں کمال صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ وہ میرے تایا…‘‘
’’کیا…؟‘‘ وہ لڑکی ایک دم چیخ پڑی تھی۔ ’’آپ ظہیر نعمان ہیں۔ وہی والے نا جو ہمارے خاندان کے پہلے اور شاید آخری چارٹرڈ اکائونٹنٹ بنے ہیں؟‘‘
’’جی…یہ نادانی مجھ ہی سے سرزد ہوئی ہے۔‘‘ اس نے بڑی انکساری سے اپنا جرم تسلیم کر لیا تھا کہ اب کھڑے رہنے کی تاب ختم ہو چلی تھی۔ مگر آفرین ان محترمہ پر، جو اسے اندر بلانے کے بجائے خود اندر کی جانب لڑھک گئی تھیں۔ صد شکرکہ گیٹ کھلا تھا سو وہ طویل سانس لے کر سر جھٹکتا ہوا بیگ اٹھا کر گیٹ پار کر گیاتھا۔
جس طویل روش کے ایک سرے پر وہ کھڑا تھا اس کا اختتام برآمدے کی سیڑھیوں پر ہو رہا تھا۔ جن کے دائیں طرف بنے سنگی ستون کو سبز پتوں سے بھری بیل نے ڈھانپ رکھا تھا۔ بائیں ستون کے گرد ترتیب سے رکھے گئے گملوں میں سے دو گملے وہ محترمہ یقینا چند لمحے قبل زمین برد کر کے گئی تھیں۔ وہ ابھی اپنی سمت کا تعین نہیں کر پایا تھا جب برآمدے میں کھلنے والے تین دروازوں میں سے ایک دروازہ کھلا اور قدرے لمبے قد کی لڑکی بھاگتی ہوئی برآمد ہوئی یا پھر برآمد ہونے کے بعد بھاگنا شروع ہوئی تھی۔ وہ ٹھیک سے اندازہ نہیں کر پایا تھا۔ تاہم پریشانی کی بات تو یہ تھی کہ اس کا رخ سیدھا اسی کی جانب تھا۔
’’یا اللہ!‘‘ وہ ایک دم گڑبڑا گیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے تو اس کا یہی دل چاہا تھا کہ وہ بھی پلٹے اور اسی رفتار سے بھاگتا ہوا گیٹ سے باہر نکلے اور سیدھا گھر جا کر دم لے، لیکن چونکہ اسے اندازہ تھا کہ دادی اور امی نے اسے واپس اسی رفتار سے بھگا کر یہاں پہنچا دینا ہے اس لیے وہ اپنی جگہ چپکا رہا۔ یہاں تک کہ وہ لڑکی اس سے چند قدم دور آ کر رک گئی تھی۔ دوسرے معنوں میں اسے روکا ہوا سانس بحال کرنے کا موقع دیاتھا۔
’’آپ…آپ ظہیر نعمان ہیں؟‘‘ سر تا پا اس کا جائزہ لینے کے بعد لڑکی نے اس کے چہرے کوبغور دیکھا تھا۔
’’جب میں اپنے گھر سے چلا تھا تب تو ظہیر نعمان ہی تھا۔ آپ کے گھر تک پہنچتے پہنچتے نہ جانے کیا ہو جائوں گا۔‘‘ وہ قدرے چڑ کر بولاتھا۔
’اوہ…اوہ…تو پھر آیئے نا۔‘‘ آنے والی نے آگے بڑھ کر اس کے بازو کو اس طرح دبوچا تھا گویا اس کے بھاگ جانے کا خدشہ ہو۔
’’وہ میرا بیگ!‘‘
’’وہ بھی آ جائے گا۔‘‘ لڑکی نے اسے گھسیٹا۔
’’لیکن اس کے پائوں نہیں ہیں۔‘‘ اس نے اطلاع دینی چاہی، مگر وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھی۔ سو وہ بھی کسی بے بس بچھڑے کی طرح اس کے پیچھے گھسٹتا چلا گیا۔
’’امی! دیکھئے تو کون آیاہے؟‘‘ برآمدہ عبور کر کے وسطی دروازے سے ایک کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ چلّائی تھی۔ حالانکہ جس انداز سے اس نے ظہیر کوپکڑ رکھا تھا کہنا تو یہ چاہئے تھا کہ۔
’’دیکھئے…میں کیا لائی ہوں…!‘‘
کمرے میں ایک سے زیادہ افراد کو دیکھ کر ظہیر نے پہلی مرتبہ مزاحمت کرتے ہوئے اپنا بازو اس شیرنی کے نوکیلے پنجوں سے آزاد کرایا اور فوراً ہی تائی اماں کی طرف متوجہ ہوگیا، جو سنگھاڑوں کی پلیٹ سامنے رکھے حیران پریشان سی اسے دیکھ رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک اور خاتون بیٹھی تھیں، جو چہرے مہرے سے تائی اماں کی بہن ہی لگ رہی تھیں۔ وہ اس اچانک افتاد پر ایسی گھبرائی تھیں کہ ہاتھ میں پکڑا سنگھاڑا منہ میں رکھنا بھول گئی تھیں۔ (منہ البتہ ابھی تک کھلا ہوا تھا)
’’امی ! یہ ظہیر ہیں۔ چچا سلیمان کے بیٹے۔‘‘ اسی لڑکی نے تعارف کا فریضہ بھی نبھایا۔
’’ارے…لو بھئی۔ میں تو پہچان ہی نہیں پائی تھی۔‘‘ وہ خوش دلی سے کہتی ہوئے صوفے سے اتر آئیں۔ساتھ ہی ساتھ اس لڑکی کو آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا اور جب اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے کے بعد وہ پلٹیں تو لڑکی سنگھاڑوں کی پلیٹ سمیت غائب ہو چکی تھی۔ چھلکے البتہ سینٹرل ٹیبل پر جوں کے توں پڑے تھے (ظاہر ہے ان کی طرف سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا تھا)
’’ماشاء اللہ قد کاٹھ تو بہت اچھا نکالاہے۔‘‘ اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے تائی اماں نے ستائشی نظروں سے اس کا جائزہ لیا تھا۔ جبکہ دوسری خاتون بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا پوسٹ مارٹم کر رہی تھیں۔
’’سناہے بڑی اچھی جگہ ملازم ہوگئے ہو۔ خیر سے کتنی تنخواہ ہوگی۔‘‘ وہ ابھی ڈھنگ سے بیٹھنے بھی نہ پایاتھا، جب تائی اماں نے سوال داغ دیا۔
’’کچھ زیادہ نہیں تائی اماں! بس یہی بیس، بائیس ہزار۔‘‘
’’ہائیں!‘‘ تائی کا منہ حیرت سے کھلتا دیکھ کر اسے اپنا منہ بند کرنا پڑا تھا۔ دوسری خاتون بھی چونک گئی تھیں۔
’’ماشاء اللہ۔‘‘ تائی اماں نے قدرے سنبھلتے ہوئے کہا۔
’’اے لڑکیو…کہاں رہ گئیں سب کی سب۔ ارے کوئی چائے پانی تو لے آئو۔ بچہ کب سے آیا بیٹھا ہے۔‘‘ حسب توقع تائی اماں نے پینترا بدلا تھا اور لڑکیوں کو پکارنے لگی تھیں۔
’’بینا سے تو تم مل ہی چکے ہو۔ وہی جس کے ساتھ تم ابھی یہاں آئے ہو۔ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے وہ۔ اس سے چھوٹا توقیر ہے اور سب سے چھوٹی کامنی ہے۔ اس سے ابھی ملواتی ہوں تمہیں۔ خیر سے بڑا ہی یاد کرتی ہیں اپنی چاچی کو۔‘‘انہوں نے جھٹ پٹ تعارف کروایا تو دوسری خاتون پہلو بدل کر رہ گئیں۔
’’یہ کامنی تو ابھی کل ہی ذکر کر رہی تھی کہ کسی روز چاچی سے ملنے جائیں گے، لیکن تمہارے تایا مصروف ہی اتنے رہتے ہیں کہ بس۔ اے بیٹا! چائے بنا رہی ہو کہ پائے گلا رہی ہو۔ ‘‘ انہوں نے بات ادھوری چھوڑ کر بینا کو پکارا۔ ظہیر نعمان اس دوران پورے کمرے کا جائزہ لے چکا تھا۔
تائی اماں کی بار بار پکار کا یہ اثر ہوا تھاکہ جلد ہی چائے اور دیگر لوازمات سے بھری ٹرالی اس کی نگاہوں کے سامنے تھی۔
’’یہ کامنی ہے۔‘‘ تائی کے کہنے پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ یہ وہی محترمہ تھیں، جنہوں نے گیٹ کھولاتھا۔
’’ارے آپا…یہ تمہاری بھانجیاں بے چاری مہمان سے ملنے کو کھڑی ہیں، ان کا بھی تو تعارف کروا دو۔‘‘ دوسری خاتون زیادہ برداشت نہ کر سکیں کہہ ڈالا۔ تائی اماں نے بظاہر مسکراتے ہوئے اور حقیقتاً مردودنیوں کو ہزار کوسنوں سے نوازتے ہوئے تعارف کروانا شروع کر دیا جو بینا کے ساتھ اس کمرے میں آ دھمکی تھیں۔
بڑی کا نام مہرین تھا۔ چوڑی دار پائجامے اور کُرتے میں ملبوس، نفیس چشمہ، ستواں ناک پر ٹکائے وہ یوں حیران حیران سی کھڑی تھی گویا ابھی دنیا میں قدم رکھا ہو۔ اس سے چھوٹی کا نام نازنین تھا۔ معلوم ہوا اسپورٹس کی شوقین ہے۔ غالباً اسی لیے اس کے ہاتھ میں اس وقت بھی ریکٹ نظر آ رہاتھا۔بلیک جینز اور ڈھیلی ڈھالی لانگ شرٹ پہنے وہ خاصی بے نیاز اور لاپروا سی دکھائی دے رہی تھی۔ جب تک تعارف ہوتا رہا تب تک وہ خالی پلیٹ ہاتھ میں لیے اپنے چیختے چلّاتے معدے کو صبر کی تلقین سے نوازتا رہا جو بے چارہ صبح سے خالی تھا۔ خدا خدا کر کے وہ چاروں بلائیں اس کے سر سے ٹلیں تب کہیں جا کر اسے پیٹ پوجا کا موقع ملا۔
’’اور سنائو بیٹا ! تمہاری امی اور دادی تو بالکل ٹھیک تھی ناں۔‘‘
’’جی ہاں۔ بالکل خیریت سے تھیں۔ امی نے سلام بھجوا یا ہے آپ کو۔‘‘ اس نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے جواب دیا۔
’’ارے بھئی، ہمیں بھی تو پتا چلے کیا بھجوایا ہے ہماری دیورانی جی نے۔‘‘
ایک تیز سی آواز عقب سے ابھری تھی۔ ظہیر نے پلٹ کر دیکھا۔ چھوٹی تائی اپنی اکلوتی صاحبزادی کے ساتھ خراماں خراماں چلی آ رہی تھیں۔
’’سلام بھجوایا ہے آپ کی دیورانی جی نے۔‘‘ بڑی تائی اماں نے لفظوں کو چبا کر جواب دیا۔ چھوٹی تائی کی آمد انہیں سخت ناگوار گزری تھی۔
’’خالی خولی سلام۔ خیر یہاںکس چیز کی کمی ہے؟‘‘ چھوٹی تائی نے کندھے جھٹکے اور پھر اپنی بیٹی کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’ظہیر! پہچانا تم نے اسے …فروا ہے ہماری اکلوتی بیٹی۔ ایک آدھ دفعہ گئی تھی تمہارے ہاں بچپن میں۔‘‘ وہ بڑے طنزیہ انداز میں مسکرائی تھیں۔ ’’بغیر کمبل اور ہیٹر کے ریشمی لحافوں میں سکڑ کر سونا پڑا تو اگلے ہی روز اپنے پاپا کے ساتھ واپس آ گئی تھی۔ ‘‘ ان کے لہجے سے آتی امارت کی بو نے ظہیر کا دل متلا دیا تھا۔
’’ہاں کافی سال پرانی بات ہے۔ آئندہ یہ آئیں گی تو فل ہیٹڈ روم میں انہیں شاید کمبل اوڑھنے کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔‘‘ اس نے بہت اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ جمائی تھی۔ تائی اماں کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی، جبکہ چھوٹی تائی جز بز ہوتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
’’اچھا بھئی! میں تو شاپنگ کے لیے نکل رہی تھی۔ دیر ہو جائے گی اس لیے چلتی ہوں۔‘‘ وہ لمحوں میں دہلیز پار کر گئی تھیں۔
’’او کے۔ سی یو اگین۔‘‘ وہ اپنے ہی دھیان میں تھا جب فروا کا مومی ہاتھ اس کی نظروں کے سامنے آ گیا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا۔ فیروزی رنگ کے قیمتی سوٹ میں اس کا دودھیا رنگ دمک رہا تھا۔ دھان پان سا وجود تھا، صراحی دار گردن نے نیکلس کابوجھ بھی جانے کیسے اٹھا رکھا تھا۔ اس کے چہرے پر پرخلوص سی مسکراہٹ دیکھ کر اس کا ہاتھ بے اختیار ہی حرکت میں آ کر اس نازک ہاتھ کو ذرا سا چھو گیا تھا۔ تائی اماں معنی خیز انداز میں کھنکھارنے لگی تھیں۔ مگر وہ بے نیاز سا بن کر وہاں سے اٹھ گیا تھا کہ اب وہ آرام کرنا چاہتا تھا۔
آج تک اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ ا س کی دادی اور ماں آخر کس دنیاکی مخلوق ہیں۔ (معلوم ہو جاتا تو انہیں ان کی دنیا میں پہنچا کر ہی دم لیتا) چلیں مان لیا کہ وہ یعنی ظہیر نعمان اپنی بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا اور دادی کی آنکھ کا چاند تارا (بلکہ پورا نظام شمسی) شادی کے قابل ہو چکا ہے۔ مگر کیا یہ ضروری تھا کہ شادی بھی اسی خاندان کی لڑکی سے کی جاتی، جس نے ابا کی وفات کے بعد انہیں پوچھا تک نہیں تھا اور جس کے ہر فرد نے ان کے گھر پہ چھائے غربت کے سائے دیکھ کر اپنی آنکھیں ماتھے پر ٹانگ لی تھیں (بلکہ اس سے بھی کچھ اوپر) اور ناک اتنی اونچی کر لی تھی کہ اس سے آگے کبھی کچھ دیکھ ہی نہ سکے تھے اور آج جب وہ ایک ایک سیڑھی طے کر کے ان کے برابر آ کھڑا ہوا تھا تو ان میں سے اکثریت نے نہ صرف اسے دیکھ لیا تھا، بلکہ چوم چاٹ کر سینے سے بھی لگا لیاتھا، مگر اس کے باوجود ظہیر نعمان کی رائے ا ن کے بارے میں آج بھی وہی تھی جوکئی برس پہلے۔ یعنی یہ کہ اس خاندان میں کوئی فرد بھی ایسا نہیں تھا، جسے قدرے ’’معقول‘‘ کہا جا سکے۔ مگر اس کے باوجود دادی اور امی کی ضد تھی کہ شادی ہو گی تو اسی خاندان میں۔
’’ارے اتنا اچھا گھر بار۔ اتنا نیک اور فرماں بردار بچہ، اتنی اچھی تنخواہ۔ بھلا مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ باہر کی لڑکیوں کو لا کر عیش کروائوں جبکہ میرا اپنا خاندان بھرا ہوا ہے جوان بچیوں سے۔‘‘
یہ رائے خالصتاً دادی کی تھی اور امی کی رائے کچھ اور کیونکر ہو سکتی تھی۔ جھٹ تمیز دار بہو کی طرح اثبات میں سر ہلایا۔ ساس کی ہاں میں ہاں ملائی اور لے کے کڑوا گھونٹ پلا دیا ظہیر نعمان کو۔ کبھی جو اس بے چارے نے اس خود غرض خاندان کی ہسٹری پر روشنی ڈالنی چاہی تو دونوں خواتین نے مل کر اپنے بڑھاپے کا ایسا واسطہ دیا کہ اسے خاموش ہوتے ہی بنی۔
’’خدا جانے باہر کی لڑکیاں کیسی ہوں۔ ذرا کوئی اونچ نیچ ہوگئی اور تمہیں لے کر اس گھر سے چلتی بنی تو؟ اور اگر ہمیں ہی چونڈا پکڑ کر گھر سے نکال باہر کیا تو؟ نہ میاں صاحبزادے شادی تو تمہیں خاندانی لڑکی سے ہی کرنی پڑے گی اور آخر کو دیکھی بھالی تو ہوں گی نا۔ پھر اپنا خون اپنا ہی ہوتا ہے۔‘‘
دادی طویل دلائل دیتیں اور تمیز دار بہو جھٹ سے ’’اور کیا‘‘‘ کہہ کر اپنے نمبر بڑھوا لیتیں۔
’’کبھی ناخن بھی گوشت سے جدا ہوتا ہے۔‘‘
’’ہاں تو اور کیا۔ اپنا مارے گا بھی تو چھائوں میں ڈالے گا۔‘‘
’’یعنی مار کھانے کا ارادہ پکا ہے آپ لوگوں کا۔‘‘ وہ کلس کر رہ گیا تھا۔ مگر انہوں نے اپنی قصیدہ خوانی میں محاوروں کی ایسی مار ماری کہ وہ اگلے ہی روز بیگ اٹھا کر نکل کھڑا ہوا تھا۔ ’’خاندانی دلہن‘‘ کی تلاش میں۔
اور یہاں آکر وہ سخت مایوس ہوا تھا۔ کوئی لڑکی بھی تو ایسی نہ تھی، جسے دیکھ کر اس کے دل کا تار محبت کے انوکھے سر بجانے لگے۔ چلو یہ نہ سہی کم از کم وہ عادات و اطوار ہی دکھ جاتے جن کی بنا پر وہ دادی اور امی کو فون کھڑکا دیتا کہ لیجئے آپ کی ’’خاندانی بہو‘‘ ڈھونڈ لی گئی ہے۔
یہاں تو بڑے تایا کی بینا تھی، جو اس عمر میں بھی اودھم مچانے اور کڈکڑے لگانے کو تیار تھی۔ دادی تو اسے دوسرے دن ہی چوٹی سے پکڑ کر نکال باہر کرتیں اور پھر کامنی۔ اسے تو دنیامیں بھیجا ہی کھانے کے لیے گیا تھا، مگر اب امی میں اتنادم خم کہاں تھاکہ دیگیں پکا پکا کر بہو کے سامنے رکھتیں اور کامنی کی تو چوٹی بھی نہ تھی گھرسے باہر نکالنے کو دادی کو یقینا کرین کا استعمال کرنا پڑتا۔
اور بڑے ناز نخرے والی محترمہ فروا بیگم چھوٹے تایا کی اکلوتی صاحبزادی۔ وہ تو اس کے میک اپ، جیولری اور شاپنگ کا بوجھ اٹھا کر اگلے ہی روز کنگال ہو کر سسرال والوں کے سامنے ناک رگڑ رہا ہوتا۔
تو اب باقی کون رہ گیا تھا؟ صرف ایک چچا جن کی زوجہ محترمہ ایک زمانے میں پھوہڑ اور بدسلیقہ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ اگر ان کی بیٹی کا انتخاب کرتا تو چار جوتوں کی مار سہتا۔ دو امی کے اور دو دادی کے۔ کہ خیر دونوں خواتین سلیقہ مندی اور سگھڑ پن میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھیں۔
تو پھر اب کیا کیا جا سکتا تھا؟ یہ وہ سوال تھا جس نے ظہیر نعمان کو زچ کر دیاتھا۔
’’تو پھر اب یہی کیاجاسکتا ہے کہ علی الصبح جاگوں اور پہلی ٹرین سے واپس جاپہنچوں اور صاف صاف کہہ دوں کہ ’’مجھے شادی نہیں کرنی۔‘‘
اس نے اکتا کر فیصلہ کیا اور دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔ اردگرد کے کمروں میں مکمل خاموشی تھی۔ وہ لائونج سے ہوتا ہوا برآمدے میں آگیا جہاں بائیں ستون کے ساتھ گملے ابھی بھی اوندھے پڑے تھے۔ وہ طویل سانس لے کر سر جھٹکتا ہوا آگے بڑھا۔ بڑے تایا اور چھوٹے تایا دونوں اسی کوٹھی کے علیحدہ علیحدہ پورشنز میں رہتے تھے۔ گیٹ کے اطراف میں دونوں لان تھے اور دونوں ہی اس وقت آباد تھے۔
ایک طرف چھوٹے تایا اور تائی خوش گپیوں میں مگن تھے تو دوسری طرف بینا اور کامنی شام کی چائے سمیت موجود تھیں۔ وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اسے کس طرف قدم بڑھانے چاہئیں کہ کامنی کی نظر اس پر پڑ گئی۔
’’ظہیر بھائی جان!‘‘ اس نے پوری قوت سے پکارا تھا۔ پھر وہ تو خاموش ہوگئی ، مگر ’’جان‘‘ کی بازگشت کافی دیر تک سنائی دیتی رہی۔ وہ خوامخواہ خجالت محسوس کرتا ہوا ان کے سامنے جا بیٹھا۔ تب ہی ہارن کی تیز آواز نے انہیں چونکا دیا۔ یہ فروا تھی جو بڑی تمکنت سے سفید گاڑی میں بیٹھی اسے ساتھ چلنے کی دعوت دے رہی تھی۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے معذرت کی تو فروا کے چہرے پہ یکلخت ہی ناراضی کے آثار نمودار ہو گئے تھے اور اگلے ہی لمحے وہ زن سے گاڑی لے کر گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔
’’ہونہہ، مزاج دیکھو محترمہ کے۔ نہ شکل نہ عقل …مولی نہ ہو تو…‘‘ بینا نے چڑ کر اسے دیکھا تھا۔
’’مولی نہیں…پھیکا شلجم…کھی…کھی۔‘‘ دونوں بہنیں ایک دوسرے سے سر ٹکرا کر زور زور سے ہنسنے لگی تھیں۔ وہ ہونق سا بنا ان کو دیکھتا رہا۔
چند لمحوں کے بعد وہ اس کی طرف متوجہ ہوئیں تو ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ارے…ارے…آپ کہاں چل دیئے؟‘‘
’’صبح میں واپس جا رہا ہوں۔ سوچا ابھی چچا جان سے مل آئوں۔‘‘ بینا کے استفسار پر اس نے سرسری انداز میں بتایا جواباً وہ پھر قہقہے لگانے لگی تھی۔
’’تو یوں کہیے ناں غریب آباد جا رہے ہیں جہاں غریب قومیں بستی ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں تضحیک کا عنصر نمایاں تھا۔
’’جی ہاں اور جہاں بچے اسکول سے واپس آنے کے بعد یہ نہیں پوچھتے کہ آج کیا پکا ہے بلکہ یہ پوچھتے ہیں کہ آج کون سی دال پکی ہے؟‘‘ یہ ٹکڑا کامنی نے لگایاتھا۔
اور اس کے بعد قہقہوں کا ایک طوفان ابل پڑا تھا، جس کے درمیان ظہیر نعمان نے خود کو غصے سے بڑبڑاتے ہوئے سنا تھا۔ اور یہاں اس کی ساری ہمدردیاں چچا جان کے ساتھ اس لیے بھی تھیں کہ بڑے اور چھوٹے تایا ابا کے سوتیلے بھائی تھے اور چچا ابا کے سگے بھائی تھے۔ برے حالات میں اگر کسی نے دادی یا امی کی تھوڑی بہت معاونت کی بھی تھی تو وہ چچا فیضان ہی تھے۔
m
جس وقت وہ چچا فیضان کے گھر پہنچا سورج غروب ہو رہاتھا۔ ننھی چڑیوں کے غول آسمان پر اُڑے جا رہے تھے اور گھروں کی دیواروں اور چھتوں پر سرخی سی پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے دروازے کی کنڈی کھٹکھٹائی تو کچھ دیر انتظار کے بعد جو چہرہ دروازے پر نمودار ہوا وہ چچی جان کا تھا۔ اسے دیکھتے ہی پہچان گئی تھیں کیونکہ دو سال قبل دادی کی کولہے کی ہڈی چٹخ گئی تھی تب وہ گائوں گئی تھیں اور ظہیر سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔
پرتپاک اندا زمیں اس کا استقبال کرتے ہوئے انہوں نے اسے اندر بلا لیا۔ ڈیوڑھی سے گزرنے کے بعد اس نے صحن میں قدم رکھا ہی تھا جب ٹھک سے اسٹیل کا گلاس اس کے پائوں سے ٹکرایا اور پھر لڑھکتا ہوا دور چلا گیا۔ اس نے سٹپٹا کر چچی جان کی طرف دیکھا۔ معلوم نہیں وہ جان بوجھ کر متوجہ نہیں ہوئیں کہ ان کے ہاں یہ روز کا معمول تھا بہرحال وہ جی ہی جی میں خوب شرمندہ ہوا اور اسی شرمندگی سے بچنے کے لیے نگاہیں زمین پر گاڑ دی تھیں تا کہ آئندہ سامنے آنے والی ہر چیز کو پھلانگا جا سکے۔ تب ہی اس کی آنکھوں کے سامنے زنانہ چپل میں مقید دو پائوں آ گئے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ انہیں پھلانگنے کی تدبیر کرتا دو ہاتھ آگے بڑھے تھے اور اسے دھکا دے کر کئی فٹ پیچھے دھکیل دیاگیا تھا۔ اس نے ہڑبڑا کر نگاہ اٹھائی تب تک وہ آندھی و طوفان کی مانند اپنا رخ دوسری سمت میں بدل گئی۔ ایک نظر میں وہ بس ماتھے پر پڑی سلوٹیں ہی دیکھ سکاتھا۔
’’یا اللہ!‘‘ وہ سر جھٹکتا ہوا فوراً چچی جان کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیاتھا۔ چچی اسے بٹھا کر خود باہر نکل گئیں۔
’’کیا اونٹوں کی طرح منہ اٹھائے چلی آ رہی تھیں۔ اور ہزار بار تمہیں کہا ہے کہ دوپٹہ ہر وقت اوڑھا کرو۔‘‘ وہ بیٹھ کر سانس بحال کر رہا تھا جب چچی کی غصیلی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
’’وہ بھی تو شتر بے مہار کی طرح چلا آ رہا تھا۔ کم از کم آپ ہی آواز دے کر اطلاع دے دیتیں۔ اب میں کام کیا کروں یا اس تنبو کو سنبھالا کروں۔‘‘ جواباً جھنجھلا کر کہا گیا تھا اور ظہیر کو چونکہ ’ـ’شتر بے مہار‘‘ کا خطاب پسند نہیں آیا تھا اس لیے اس نے ارادتاً اپنی توجہ ادھر ادھر کر لی تھی۔
جس کمرے میں وہ بیٹھا تھا اسے یقینا ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال کیاجاتا تھا۔ چھ کرسیاں تھیں، جو کمرے کی بائیں دیوار کے ساتھ لگی تھیں، ان کے سامنے ایک لکڑی کی میز تھی جس پر بچھے سفید کور پر چائے کا داغ خاصا نمایاں تھا۔ دائیں دیوار کے ساتھ چارپائی بچھی ہوئی تھی، اس پر البتہ دھلی دھلائی چادر موجود تھی۔ چارپائی کی پائنتی کی طرف اسٹینڈ والا پنکھا کھڑا تھا جو غالباً استعمال میں نہ ہونے کے باعث گرد و غبار سے اٹا ہوا تھا۔ سامنے کی دیوار کے اوپر ایک آئینہ لگایا ہوا تھا اس آئینے کے عین نیچے چھوٹی سی میز پر چھوٹا سا ٹیپ رکھا ہوا تھا۔ آئینے کے برابر میں کھونٹی تھی جس پر دو ایک سوٹ لٹک رہے تھے۔ اس کے برابر کمرے کا دروازہ تھا جہاں سے باہر صحن کا منظر صاف دکھائی دے رہاتھا۔ صحن کے وسط میں جو چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پر ایک اسکول بیگ اور ڈھیروں ڈھیر کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ چارپائی کے پاس ہی جوگرز اور ان سے ابلتی ہوئی جرابیں تھیں۔ برآمدے کے ستون کے ساتھ غالباً کسی زمانے میں بیل لٹکائی گئی تھی اب وہاں صرف ایک خشک گملا اور ستون سے لپٹاہوا دھاگاموجود تھا۔ عجیب بے ترتیبی سی پورے گھر میں نظر آ رہی تھی۔
’’بدسلیقہ ماں کی پھوہڑ بیٹی۔‘‘ اس کے ذہن میں گونجا اور وہ بس تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا۔ تب ہی چچی جان چلی آئیں۔ ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔
پندرہ بیس منٹ بعد چچی جان پہلو بدلنے لگیں۔ کبھی منہ ہی منہ میں بڑبڑاتیں۔ ادھر ان کی صاحبزادی دوپٹہ سر پر تانے، سٹر پٹر کرتی ،کبھی ڈیوڑھی کی طرف جاتی، کبھی واپس کچن میں آتی اور کبھی دروازے کی اوٹ سے ماں کو ’’شی…شی‘‘ کر کے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی۔ اب معلوم نہیں چچی کی سماعتوں میں نقص تھا یا وہ باتوں میں اس قدر مگن تھیں کہ وہ بے چاری ہر بار ہی ناکام و نامراد پلٹ جاتی۔ تھوڑی دیر بعد جب ’’شی…شی‘‘ کا سلسلہ مفقود ہوگیا اور کچن سے ڈیوڑھی تک کی آمد و رفت بھی مفقود ہوگئی، تب چچی جان اٹھ کر باہر نکل گئیں۔
’’میں پوچھتی ہوں، آج کی تاریخ میں چائے بنے گی کہ نہیں۔‘‘ کچن اس کمرے کے بالکل برابر میں تھا۔ لہٰذا آواز خودبخود سنائی دے گئی تھی۔
’’چائے گھنٹے سے بنا رکھی ہے، لے جایئے۔‘‘
’’ارے خالی چائے لے جا کر اس کے سر پر انڈیلوں گی کیا؟‘‘
’’سر پر انڈیلیے یا اس میں ڈبکی لگوایئے، میری بلا سے۔ میں کیک پیسٹریاں کہاں سے لا کر سجا دوں۔‘‘ عجیب جلا کٹا سا انداز تھا۔ ظہیر پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔
’’گھنٹے بھر سے کسی بچے کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ خدا خدا کر کے بلّو ملا تو دکاندار نے کہہ دیا کہ ’’ادھار اگلے چوک پر۔‘‘ اب بے چارہ اگلے چوک پر جا کر تو ادھار بسکٹ لانے سے رہا۔ اپنا سا منہ لے کر واپس آ گیا۔‘‘
’’ظاہر ہے اپنا منہ لے کر ہی واپس آنا تھا ، کسی اور کا تو لانے سے رہا۔‘‘
چچی جان دانت پیستے ہوئے کچن سے باہر نکلیں۔ ظہیر نے مسکراہٹ چھپانے کو سر جھکا لیا۔ اور جب وہ وہاں سے اٹھنے کا سوچ رہا تھا تب چچی ٹرے میں چائے اور بسکٹ کی پلیٹ سجا کر چلی آئیں۔
’’ارے چچی جان! آپ نے خوامخواہ تکلف کیا۔ مجھے ضرورت محسوس ہوتی تو میں خود آپ سے کہہ دیتا۔‘‘ وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔ جواباً چچی جان نے بس مسکرانے پر ہی اکتفا کیاتھا۔ چائے کے بعد وہ بے چینی سے چچا جان کا انتظار کرنے لگا۔ چونکہ صبح جانے کا ارادہ اب پختہ ہو چکا تھا لہٰذا اس کی خواہش تھی کہ وہ ان سے مل کر ہی جاتا۔ ایسی مصروف زندگی میں پھر جانے کب ملاقات ہو۔ چچا فیضان آئے تو ہلکا ہلکا اندھیرا ہر طرف پھیل رہا تھا۔ انہوں نے پہلے خوب پیا رکیا پھر خوب لتاڑا۔
’’ارے تم سے اتنا نہیں ہوتا کہ اپنے چچا کو دو حرف خیریت کے لکھ کر خط ہی ڈال دیا کرو۔ چلو اور کچھ نہیں تو ہماری بھاوج اور ماں کی خیریت تو پہنچا دیا کرو۔‘‘
’’ارے تو بچے کو کیوں ڈانٹ رہے ہیں۔ کبھی آپ سے تو ہوا نہیں کہ دو حرف لکھ کر اپنی بھاوج اور ماں کی خیریت معلوم کر لیا کریں۔ ‘‘ چچی جان لحاظ کرنے والوں میں سے نہیں تھیں، سو چچا کو بھی کھری کھری سنا دیں۔
’’ارے بھئی! میں تو ٹھہرا بال بچے دار۔ ہزار بکھیڑے ہیں، سینکڑوں ذمہ داریاں ہیں اور یہ تو ابھی چھڑا چھانٹ ہے۔ کل کو بیوی بچے ہوں گے تو شاید ملنے پر کہنے لگے کہ کون سے چچا، کہاں کے چچا… کیوں میاں ظہیر؟‘‘
چچا جان بوجھ کر اسے چھیڑنے لگے۔ وہ حقیقتاً بہت خوش ہوئے تھے اس کی آمد پر۔ مرحوم بھائی کو گویا اس کی صورت چلتے پھرتے دیکھ رہے تھے۔ پھر برسوں بعد کوئی ایسا ملاتھا جس سے جی بھر کے اپنے گائوں کی، وہاں کے لوگوں کی اور سب سے بڑھ کر اپنی ماں کی باتیں کی تھیں۔ بڑے دونوں بھائی اسی شہر میں تھے، مگر سوتیلے پن اور امارت کی چکاچوند نے فاصلے اس قدر بڑھادیئے تھے کہ کبھی اتفاقاً بھی سامنا ہوا تو نظریں چرا کر ادھر ادھر ہوگئے۔ اور پھر کتنا دل چاہتا تھا کہ ماں کے پاس جائیں اسے اپنے پاس بلائیں، مگر جب بھی ارادہ کیا کوئی نہ کوئی مجبوری آڑے آ گئی۔ سو اب ظہیر کو سامنے پا کر خلاف عادت خوب چہک رہے تھے۔
کچھ دیر بعد اس نے اجازت لینی چاہی مگر انہوں نے زبردستی روک لیا۔
’’میاں! کھانا تم ادھر ہی کھائو گے اور صبح سے پہلے تمہیں ہر گز نہیں جانے دیں گے۔‘‘ چچا کے بے حد اصرار پر اس نے رک جانا ہی مناسب سمجھا۔
’’سعدیہ بیٹی! کھانا کب تک ملے گا بھئی۔ اب تو کافی بھوک لگ گئی ہے۔‘‘ چچا نے باہر جاتی سعدیہ کو پکارا تو وہ بھی چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
’’لا رہی ہوں ابا۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئی۔ معلوم نہیں وہ اب تک کن بکھیڑوں میں پڑی ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب جب بھی ظہیر نے اسے دیکھا وہ یوں ہی بوکھلائی ، جھنجھلائی سی پھرتی نظر آئی۔ آخر احمد نے کھانا لا کر میز پر چن دیا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ اس سے چھوٹے تینوں بھائی غالباً کچن میں ہی کھانے بیٹھ گئے تھے۔ چچی جان کسی ہمسائی کی عیادت کو چلی گئی تھیں۔ سو اس وقت وہ تینوں ہی کمرے میں موجود تھے۔
’’بیٹا! یہ پانی کا جگ دینا ذرا۔‘‘ چچا نے ظہیر سے کہا۔ احمد نے پھرتی دکھاتے ہوئے فوراً جگ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ نجانے کیسے اس کی کہنی سالن کے ڈونگے سے ٹکرائی اور اگلے ہی لمحے سالن سے بھرا ہوا ڈونگا زمین پر اوندھا پڑا تھا اور کمرے میں موجود تینوں نفوس قدرے صدمے کے عالم میں ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ چوتھا منہ سعدیہ کا تھا ،جو گرم گرم روٹیاں پہنچانے آئی تھی مگر یہاں کی صورت حال دیکھ کر کافی سے زیادہ پھول گیا تھا۔
’’اب اس پر فاتحہ پڑھنا بند کرو۔ احمد! جا کر مزید سالن لے آئو۔‘‘ چچا کے ٹوکنے پر احمد منہ بناتے ہوئے اٹھ گیاتھا۔
’’اب میں یہ لے کر جائوں!‘‘ چند لمحے بعد کچن سے احمد کی حیران اور پریشان آواز سنائی دی تھی۔
’’نہیں…وہ جو دیگ پکا رکھی ہے بھنے مرغ کی ، وہ لے جائو…‘‘ خاصے اطمینان سے جواب دیا گیا تھا، تھوڑی دیر بعد احمد سالن کا ڈونگا لایا اور ادھر ادھر دیکھے بغیر اسے میز پہ رکھ کر فوراً ہی پلٹ گیا، ڈونگا اب بھی بھرا ہوا تھا، مگر بھنے ہوئے مرغ سے نہیں بلکہ شوربے سے۔ ہو سکتا ہے چند ایک بوٹیاں بھی نچلی سطح پر موجود ہوں، جنہیں کھرچنے کی زحمت کیے بغیر اس نے اپنی رکابی میں شوربا ڈالا تھا اور کھانے لگا تھا۔ چچا نے البتہ ایک حسرت بھری نگاہ اس ڈونگے پر ڈالی تھی جو ابھی تک اوندھا پڑا تھا اور جس کے نیچے بھنا ہوا مرغ بھی تھا۔ پھر ایک ’’آہ ‘‘ بھرتے ہوئے انہوں نے ڈونگا اپنی طرف کھسکایا اور بسم اللہ پڑھتے ہوئے شوربے میں چمچ گھمانے لگے تھے۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو گھر میں ایک ہنگامہ بپا تھا، احمد کالج جاتا تھا باقی تینوں بھائی اسکول جاتے تھے۔ سو اس وقت افراتفری اپنے عروج پر تھی۔ چچی کی پاٹ دار آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔
’’ارے سعدیہ…!تمہارے ابا کی واسکٹ کدھر ہے…؟ اور احمد کی جرابیں بھی تو نہیںمل رہیں۔ گھنٹہ بھر سے بچہ ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ اے لو…یہ ظفر سائیکل اٹھا کر کہاں چل دیا، ارے ناشتہ تو کرتے جائو۔ ہزار بار اس لڑکی سے کہا ہے ذرا جلدی اٹھ جایا کرے مگر اس پر کسی بات کا اثر ہو تب نا…؟‘‘
چچی نے اپنا روئے سخن سعدیہ کی طرف کیا تو پھر اسے لتاڑتی چلی گئیں۔ اپنے بستر میں لیٹے ظہیر کو اس بے چاری پر بے تحاشا ترس آیا جو اپنی منمناتی آواز میں پکار پکار کر بتا رہی تھی کہ ظفر ناشتہ کر چکا ہے مگر چچی کی اپنی بولتی بند ہوتی تو ہی کچھ سنائی دیتا۔ نتیجتاً وہ تھک ہار کر خاموش ہو گئی تھی۔
اس نازک صورتحال میں اس کا اٹھنا ایک نئے ہنگامے کا سبب بن سکتا تھا۔ سو وہ چپ چاپ دبکا رہا یہاں تک کہ ایک ایک کرکے گھر کے سب افراد اپنے کام پر روانہ ہو گئے اور گھر کی فضا بھی قدرے پرسکون ہو گئی۔ تب وہ اٹھا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا۔ فریش ہو کر باہر نکلا تو چچی جو کچھ دیر پہلے دیوار پر سے کسی ہمسائی سے گفتگو فرما رہی تھیں۔ اب وہاں سے غائب ہو چکی تھیں۔
وہ گیلا تولیہ صحن میں بندھی تا ر پر لٹکا کر کمرے کی طرف بڑھا تو کچن کے دروازے پر ٹھٹک کر رک گیا۔ سعدیہ کچن کے دروازے تک بکھرے جھوٹے برتن سمیٹ رہی تھی اس کے کھنکھارنے پر چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی اور پھر ایک دم سیدھی ہو گئی۔ کندھے پر بے نیازی سے رکھا ہوا دوپٹہ اس نے جھٹ سر پر ڈال لیاتھا۔
’’چی جان کہاں ہیں؟‘‘ اس کے متوجہ ہونے پر اس نے یونہی پوچھ لیا۔
’’ابھی تو یہیں تھیں، شاید سبزی والے کو دیکھنے گئی ہیں۔‘‘
’’سبزی والے کو دیکھنے؟‘‘ ظہیر کے حیرت سے کہنے پر سعدیہ نے چونک کر اسے دیکھاا اور پھر اس کے مذاق کو سمجھتے ہوئے زیر لب مسکرا دی۔
’’میرا مطلب سبزی خریدنے سے تھا۔ آپ کمرے میں چلیں میں ناشتہ لے کر آتی ہوں۔‘‘ اس کے کہنے پر ظہیر نے قدم آگے بڑھا دیئے تھے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ اگر یہ لڑکی مسکراتی رہے خاصی معقول نظر آئے۔
وہ کمرے میں آیا تو بستر اور ان پر کمبل جوں کے توں بکھرے پڑے تھے۔ یہ وہی کمرہ تھا، جو کل تک ڈرائنگ روم کے طور پر بھی استعمال ہو رہا تھا، مگر رات کو ساری کرسیاں سامنے دیوار کے ساتھ لگا کر ایک اور چارپائی بچھا کر اس کے سونے کا انتظام کیا گیا تھا۔ دوسری چارپائی پر چچا جان سوئے تھے۔ اس نے ایک نظر چاروں طرف ڈالی اور پھر کندھے جھٹک کر اپنے کمبل کو تہ کرنے لگا۔ سعدیہ ناشتے کی ٹرے لیے کمرے میں آئی تو اسے بستر کی چادر جھاڑتے دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہوگئی۔
’’سوری ظہیر بھائی…! میں کچن میں مصروف تھی اس لیے…‘‘
’’ارے کوئی بات نہیں، ہو جاتا ہے اس طرح…‘‘ اس نے ایک نظر اس کے سرخ ہوتے چہرے پر ڈالی اور اس کی تسلی کے لیے بے اختیار ہی کہہ ڈالا۔
’’لایئے…میں ٹھیک کر دیتی ہوں۔‘‘ سعدیہ نے ٹرے اس کے ہاتھوں میں تھمائی۔ اور چادر لے کر اسے ایک دو بار جھٹک کر چارپائی پر بچھا دیا۔ میز اٹھا کر چارپائی کے نزدیک رکھی اور ٹرے اس کے ہاتھوں سے لے کر میز پہ رکھتے ہوئے باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ پانی کاجگ لے کر آئی تو اس کی شرمندگی کو دفع کرنے کے لیے وہ اس کی پڑھائی کے متعلق پوچھنے لگا۔
’’اماں تو کہہ رہی تھیں کہ ایف اے کر لیا ہے، بہت ہے۔ مگراباکی خواہش تھی کہ میں بی اے کا ایگزام بھی دے دوں۔ ‘‘ اس نے کرسی پر پڑے کپڑے اٹھا کر کھونٹی پہ لٹکاتے ہوئے بتایا۔
’’پھر دیا کیوں نہیں؟‘‘
’’نہیں…دیا تو تھا اسی سال مگر…‘‘ اس کی ادھوری بات پر وہ استفہامیہ انداز سے اسے دیکھنے لگا۔
’’مگر…؟‘‘
’’مگر میں دو مضامین میں فیل ہوگئی تھی۔‘‘ کمبل اٹھاتے ہوئے اس نے اتنی سادگی سے بتایا تھا کہ چند لمحے اسے حیرت سے دیکھنے کے بعد وہ بے اختیار ہنس دیا تھا۔
’’اس میں ہنسنے والی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ شاید برا مان گئی تھی۔
’’ہاں…لیکن میں تو اس بات پر خوش ہو رہا ہوں کہ تم صرف دو مضامین میں فیل ہوئی ہو جب کہ میں تو تین مضامین میں ناکام ہوا تھا۔‘‘ اس نے ہاتھ صاف کرتے ہوئے سر اٹھایا تو وہ بے یقین آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’آپ یقینا جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اتنا تو میں بھی جانتی ہوں کہ آپ بہت ذہین ہیں۔‘‘ چند لمحے بعد وہ طویل سانس لے کر بولی تھی۔ شاید اس کے چہرے پہ بکھری مستقل مسکراہٹ کو دیکھ کر اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
’’یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟‘‘
’’ظاہر ہے ذہین تھے جب ہی تو سی اے کر لیا۔‘‘ اس نے گویا اس کی ذہانت کا ثبوت پیش کیا اور پھر کمبل اٹھا کر کمرے سے باہر نکلنے لگی۔
’’سنو…‘‘ اس سے بے اختیار ہی اسے روکنے کی حرکت سرزد ہوئی تھی۔
’’کل تمہیں میرا یہاں آنا ناگوار گزرا تھا۔‘‘ وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی تھی، تب فوراً ہی اس نے بات بنائی تو وہ جو گھڑی بھر کے لیے رکی تھی ایکدم سیدھی ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
’’نہیں تو …بھلا مجھے آپ کا یہاں آنا ناگوار کیوں لگے گا اور آپ نے یہ کیسے سوچ لیا؟‘‘
’’بس ایسے ہی مجھے محسوس ہوا تھا اسی لیے پوچھ لیا۔‘‘ اس کے سادہ اور شفاف لہجے کو محسوس کرتے ہوئے ظہیر نے اسے ٹالناچاہا۔ وہ چند لمحے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتی رہی پھر جیسے کوئی بات اس کی سمجھ میں آ گئی تھی۔
’’کل میرا موڈ کسی اور وجہ سے خراب تھا شاید اس لیے آپ کو محسوس ہوا ہو، ورنہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔‘‘ وہ عام سے انداز میں کہہ کر باہر نکل گئی تھی۔
ظہیر چند لمحے دروازے کو پرخیال نظروں سے دیکھتے رہنے کے بعد سیدھا ہو گیا تھا۔ کچھ تو تھا اس لڑکی میں ایسا ،جو دل کو بھلا محسوس ہوا تھا۔ وہ کسی کو متاثر کرنے کی شعوری کوشش نہیں کرتی تھی ، شاید اس لیے متاثر کن تھی۔ مگر بیوی اور بہو بننے کے لیے سادگی اور شخصیت کا ظاہری تاثرہی کافی نہیں ہوتا، اس کے لیے اور بہت سی صلاحیتوں کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور ان ہی صلاحیتوں کی کمی اس لڑکی میں ظہیر نے پوری محسوس کی تھی۔ گرد آلود چیزیں، بکھرا ہوا بے ترتیب گھر اور مہمان نوازی کے نام پر کل سے جوکچھ اس کے ساتھ ہو رہاتھا وہ کچھ ایسا خوشگوار نہیں تھا کہ وہ دل کی آواز پر لبیک کہہ اٹھتا۔ آج تک جس گھرمیں وہ رہتا چلاآیا تھاوہاں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی مقام متعین تھا۔ کسی مہمان کے آنے پر لمحوں کی دیر ہوتی اور انواع و اقسام کھانوں سے میز بھر دی جاتی۔ دادی اگر سگھڑ خاتون کے نام سے مشہور تھیں تو امی نے بھی ’’سلیقہ مند بہو‘‘ کا خطاب پورے وقار سے حاصل کیا تھا۔ لہٰذا ایسی خواتین کو سعدیہ جیسی بہو تو ایک آنکھ نہ بھاتی۔ خود وہ بھی ایک سلیقہ شعار، نفاست پسند بیوی کا خواہش مند تھا لہٰذا دل کی ہر خواہش کے ساتھ ساتھ چچا اور چچی کو بھی خدا حافظ کہہ کر وہ اسی شام گھر واپس چلا آیا تھا۔
’’ظہیر میاں…! اتنی ساری لڑکیوں میں آخر کوئی تو ہو گی، جو نظر میں جچتی ہو۔ جو ذرا اچھے مزاج کی ، ہم تم میں گھل مل جانے والی ہو، جس کے رنگ ڈھنگ نیک اور شریف لڑکیوں جیسے ہوں۔ یہ کیا کہ ایک بار ’’نہیں‘‘ میں سر ہلایا اور بات ختم۔‘‘
یہ دادی اماں تھیں جو تیسرے روز بھی اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آرہی تھیں۔ امی نے تو اس کی ’’نہیں‘‘ کو حرف آخر سمجھ کر چپ سادھ لی تھی، مگر دادی اماں…، فائل بند کر کے دراز میں رکھتے ہوئے اس نے پلٹ کر دیکھا دادی اس کے بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں اور قدرے خفا خفا سی لگ رہی تھیں۔
’’دادی ! آپ لوگوں نے خود ہی تو کہا تھا کہ لڑکی مجھے پسند آئی تو ٹھیک ورنہ نہیں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے ان کے قریب چلا آیا۔ ’’پھر آپ مجھ سے ناراض کیوں ہو رہی ہیں؟‘‘
’’ارے اسی بات پر تو ناراض ہو رہی ہوں کہ لڑکیاں تو ساری کی ساری اچھی ہوتی ہیں لیکن تم جانے کسی حور پری کی تلاش میں ہو۔ ورنہ اتنی ساری لڑکیوں میں کوئی ایک تو ایسی ہوگی جو …‘‘ دادی اماں کی تان پھر اسی جگہ جا کر ٹوٹی تھی۔
’’کوئی ایک…‘‘ اس نے زیر لب دہرایا تو جہاں ایک سادہ سا چہرہ آنکھوں میں آ کر ٹھہرا وہاں ایک نام بھی ہونٹوں پر آ گیا۔ دادی اماں چونک گئیں۔
’’سعدیہ…فیضان کی بیٹی…ارے وہ پسند تھی تو پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘
’’دادی! وہ اچھی تو ہے مگر…؟‘‘
’’مگر کیا…؟‘‘ دادی اس کا چہرہ کھوجنے لگیں تو اس مگر کے جواب میں اس نے پوری روداد کہہ ڈالی۔ جسے سن کر دادی بھی سوچ میں پڑ گئی تھیں۔
’’بیٹیاں تو ماں کا پرتو ہوتی ہیں بیٹا ! ماں کی تربیت کا عکس ہوتی ہیں اور مجھے امید ہی نہیں یقین بھی ہے بیٹا کہ تمہاری چچی نے تربیت کے نام پر اپنی بچی کو سوئی پکڑنا بھی نہیں سکھایا ہوگا۔ بہرحال تم فکر مت کرو میں خود وہاں جائوں گی۔ کچھ عرصہ وہاں رہوں گی اور خوب اچھی طرح دیکھ بھال لوں گی۔ تم محض ایک آدھ دن وہاں رہے ہو۔ ہوسکتا ہے جو کچھ تم نے دیکھا وہ محض اتفاق ہو۔ پڑھی لکھی بچی ہے۔ آخر کتابوں سے بھی کچھ سبق تو سیکھا ہوگا اس نے۔‘‘
دادی نے تسلی آمیز لہجے میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ بے اختیار ہنس دیا۔
’’یہ تو ٹھیک ہے دادی! اب ساری کی ساری ذمہ داری آپ کی ہے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں اور تم بھی جان لو کہ تمہاری دادی کو ذمہ داری نبھانا بہت اچھی طرح آتا ہے۔ ‘‘ دادی نے پراعتماد لہجے میں کہا تو اس نے بے اختیار ان کی تائید کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
گلی کے کچی پکے، اونچے نیچے راستے پر چلتے ہوئے دادی ہانپ سی گئی تھیں۔ کوئی تیسری مرتبہ سیدھی ہو کر انہوں نے ایک ہاتھ کمرپر رکھا ،دوسرے سے آنکھوں پر چھجا بناتے ایک قطار میں بنے مکانوں کو دیکھا اور پھر نفی میں سر ہلا کر سیدھی ہوگئیں۔ ظہیر نے کتنا کہا تھا کہ اماں میں آپ کو چھوڑ آئوں گا مگر انہوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ دیکھا بھالا راستہ ہے آرام سے پہنچ جائوں گی۔ اسے صاف منع کر دیا تھا مگر اب تو کوئی مکان بھی فیضان کا نہیں لگ رہا تھا یا پھر سب ہی مکان فیضان کے مکان جیسے لگ رہے تھے۔ تھک ہار کر انہوں نے قریب سے گزرتے ایک نوعمر لڑکے کو پکارا ،جو تھیلا کندھے پر رکھے، کنچے گنتا ہوا جا رہا تھا اس نے کھڑے ہو کر مؤدب انداز میں ان کی بات سنی اور پھر سیدھا ہو کر اشارتاً بتانے لگا۔
’’دو گھر چھوڑ کر جو گلی آپ کو نظر آ رہی ہے اس میں داخل ہو جایئے وہاں ایک مکان گرا ہوا ہے، وہ ہمارا ہے۔ اس کے ساتھ دوسرا مکان جو گرنے والا ہے، وہ فیضان صاحب کا ہے۔‘‘
’’ارے…‘‘ اس کی بے تکی بات پر دادی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’آپ کو حیرت ہو رہی ہے نا؟ مجھے بھی ہوتی ہے کہ اس مکان کو تو بہت پہلے گر جانا چاہیے تھا، پھر اب تک گرا کیوں نہیں۔ بہرحال آپ پریشان مت ہوں۔ آیئے میں آپ کو وہاں تک پہنچا آتا ہوں۔‘‘
لڑکا کچھ زیادہ ہی ہوشیار تھا، انہیں بولنے کا موقع دیئے بغیر ان کا ہاتھ پکڑا اور آگے آگے چل دیا۔ دادی بھی اسے گھورنے اور کوسنے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے اس کے پیچھے چل دی تھیں۔
فیضان کے گھر کے ساتھ والا مکان غالباً تعمیر نو کے لیے گرا دیا گیا تھا، اطراف میں بھی کافی اچھے اور جدید طرز کے مکانات بن چکے تھے۔ جن کے درمیان فیضان کا گھر واقعی بہت بوسیدہ لگ رہا تھا۔ لڑکے نے دروازے کے سامنے بنی دو پختہ سیڑھیاں چڑھنے میں انہیں مدد دی۔ پھر کنڈی کھٹکھٹا کر دروازہ کھولا اور آدھے سے زیادہ اندر گھس گیا۔
’’سعدیہ باجی…آپ کے مہمان آئے ہیں۔‘‘ اس نے پکار کر کہا پھر دادی کو اندر دھکیلا اور خود وہیں سے پلٹ گیا۔ دادی نے نیم تاریک ڈیوڑھی میں اڑتی ہوئی گرد کے درمیان کھڑے اس سائے کو دیکھا جو ایک ہاتھ میں جھاڑو لیے حیران حیران سا کھڑا تھا۔
’’سعدیہ بچی اپنی دادی کو پہچانا نہیں۔‘‘ ان کے کہنے پر وہ دو قدم آگے بڑھی تھی بغور انہیں دیکھاتھا اور پھر جھاڑو پھینک کر ایک دم ان کے سینے سے لگ گئی تھی۔ محبت اور اپنائیت کا بہت بے ساختہ اظہار تھا۔ دادی مسرور سی ہوگئیں۔
’’آیئے نا دادی اماں!‘‘ اس نے سفری بیگ ان کے ہاتھ سے لیا۔ اماں اس وقت گھر پر نہیں تھیں۔ سعدیہ نے انہیں صحن میں بچھی چارپائی پر بٹھایا اورخود فوراً دیوار پر سے دوسری طرف جھانکنے لگی۔ پھر کسی کو پکار کر کچھ کہا اور واپس ان کے پاس آ گئی، دادی تب تک اپنی چادر اتار کر ململ کا بڑا سا دوپٹہ اوڑھ چکی تھیں۔
’’میں نے بچے کو بھیجا ہے امی کو بلانے کے لیے۔‘‘سعدیہ انہیں بتا کر کچن میں چلی گئی، اور دادی بڑی فرصت سے گھر کا جائزہ لینے لگیں۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا ظہیر انہیں پہلے بتا چکا تھا۔ تب ہی سعدیہ کی اماں چلی آئیں۔ انہوں نے آتے ہی شور مچا دیا۔
’’ارے سعدیہ! اماں کو کب سے یونہی بٹھا رکھا ہے…کمرے میں بٹھائو ناں، ذرا چارپائی پر لیٹ کے کمر ہی سیدھی کر لیں۔ اتنا لمبا سفر کرنا اور وہ بھی اس عمر میں کوئی ایسی آسان بات تو نہیں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں بہو!… میں یہیں ٹھیک ہوں۔‘‘
’’اچھا چلو تکیہ ہی لا دو، ذرا آرام سے بیٹھ تو جائیں۔‘‘ دادی کے کہنے پر انہوں نے دوبارہ کچن کی طرف منہ کر کے آواز لگائی۔ تب ہی سعدیہ نکلی اور صحن کے آخر میں بنے اسٹور نما کمرے میں گھس گئی۔ کچھ دیر بعد وہاں سے نکلی اور دوبارہ کچن میں۔
دادی نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھربہو کی طرف متوجہ ہوگئیں جو زور و شور سے انہیں اپنے جیٹھ اور جٹھانیوں کی بے اعتنائی کی داستان سنا رہی تھیں ذرا دیر بعد انہیں دوبارہ یاد آئی تو پھر تکیے کی آواز لگا دی۔ سعدیہ ایک مرتبہ پھر اسٹور میں گھس گئی اور جب نکلی تو خالی ہاتھ ہی تھی۔ کچن کی طرف جاتے ہوئے اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی اماں کو کچھ اشارے کیے۔ دادی جان بوجھ کر انجان بن گئیں۔
’’ارے غلاف نہیں چڑھایا تو ایسے ہی لا دو، یہ کوئی غیر تھوڑی ہیں تمہاری اپنی دادی ہیں۔‘‘ بہو نے خود ہی اس کے اشاروں کو زبان دے دی تھی۔
’’رہنے دو زبیدہ خاتون! کمرے میں چلتے ہیں وہیں گھڑی بھر کو لیٹ جاتی ہوں۔‘‘ دادی نے انہیں زیادہ مشکل میں ڈالنا مناسب نہیں سمجھا، اس لیے فوراً اٹھ کر کمرے میں آ گئیں۔ سعدیہ نے گویا سکون کا سانس لیاتھا۔
انہیں باتیں کرتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی، جب سعدیہ چائے لے کر آئی چائے کا اکلوتا کپ اور ایک پلیٹ میں گنے چنے بسکٹ ان کے سامنے رکھ دیئے گئے تھے وہ چند لمحے کو دیکھ کر رہ گئیں۔ بہو بھی پاس بیٹھی تھی اکیلے کھاتے پیتے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا، سو بے اختیار ہی سعدیہ کو ایک کپ مزید لانے کا کہہ دیا۔ جواباً اس نے قدرے بوکھلا کر ماں کی طرف دیکھا۔ وہ بھی آخر سعدیہ کی ماں تھیں فوراً سمجھ گئیں۔
’’نہیں…نہیں اماں! میں تو ابھی کچھ دیر پہلے ہی ناشتے سے فارغ ہوئی ہوں۔ چائے رہنے دو سعدیہ تم جا کر دوپہر کے کھانے کا بندوبست کرو۔‘‘۱ نہوں نے ٹال دیا۔
دادی بھی جان گئیں کہ چائے کا صرف ایک ہی کپ بنایا گیا ہے سو چپ چاپ کپ اٹھاکر لبوں سے لگا لیا۔ اس کے بعد سعدیہ جتنی دفعہ ان کے سامنے آئی وہ بہ نظر غائر اس کا جائزہ لیتی رہیں۔ اس نے ہلکے سبز رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے زرد پھولوں والا بلو دوپٹہ تھا جو غالباً کسی دوسرے سوٹ کا تھا۔ قد و قامت بہت اچھا تھا، جسم نہ تو فربہی مائل تھا نہ ہی بہت دبلا پتلا، کھلتی ہوئی گندمی رنگت تھی نین نقش البتہ بہت خوبصورت تھے۔ اس کے ملگجے سے حلیے کے باوجود انہوں نے جانچ لیا کہ بن سنور کر، پہن اوڑھ کر ظہیر کے برابر کھڑی ہوگئی تو یقینا چاند سورج کی جوڑی کہلائے گی۔ سوچ ہی سوچ میں ان دونوں کو برابر کھڑے دیکھا تو بے اختیار ہی ایک نرم سی مسکراہٹ ان کے لبوں کو چھو گئی۔
’’کیا دیکھ رہی ہیں اماں؟‘‘ بہو کی نگاہ تیز تھی ساس کو بیٹی کا جائزہ لیتے دیکھا تو فوراً پوچھ لیا۔ وہ ذرا سا چونک گئیں۔
’’ہاں…دیکھ رہی ہوں کہ نین نقش توبالکل تمہارے مگر رنگت اپنے باپ کی لی ہے سعدیہ نے…‘‘ دادی نے زبیدہ کی سرخ و سپید رنگت کو دیکھا جو آج بھی ماند پڑنے کے باوجود بہت سوں کو مات دیتی تھی۔
’’رنگ تو اس کا بھی بہت اچھا تھا اماں! بس گھر کے کام کاج میں لگ کر ایسی ہوگئی ہے۔ ویسے اپنے ظہیر نے بھی قد کاٹھ خوب نکالا ہے ماشاء اللہ، بچپن میں تو ایسا دبلا پتلا سا ہوا کرتا تھا۔‘‘ زبیدہ خاتون نے چابک دستی سے بات ظہیر کی طرف موڑی اور پھر قدرے اشتیاق سے پوچھنے لگیں۔
’’ظہیر کی شادی وادی کا کیا پروگرام بنایا ہے ثریاآپا نے، خیر سے اب تو نوکری بھی کر رہا ہے…کوئی لڑکی ہے نظر میں۔‘‘
ان کے لہجے میں ویسی ہی امید تھی، جیسی کسی جوان بیٹی کی ماں کے لہجے میں ہو سکتی ہے۔ مگر قبل ازوقت انہوں نے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں سمجھا ، اس لیے بے نیازی سے ٹال دیا۔
’’اللہ جانے کیاپروگرام ہے دونوں ماں بیٹے کا۔ میں نے تو ثریا پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘
’’پھر بھی اماں…! آخر آپ نے اور ثریا نے مل کر ہی اس کی پرورش کی ہے۔ آپ کی رائے بھی تو لی جائے گی ناں؟‘‘ انہوں نے کریدنا چاہا۔
’’ہاں بھئی،اس میں تو کوئی شک نہیں، مگر میں نے ثریا سے کہہ رکھا ہے کہ جو تمہاری اور تمہارے بیٹے کی پسند وہی میری پسند، اب دیکھو نا زندگی تو ظہیر نے گزارنی ہے اس لیے لڑکی بھی اسی کی پسند سے لائی جائے تو میرے خیال میں کوئی مضائقہ نہیں، خیر تم یہ بتائو…‘‘
دادی نے زبیدہ کا بجھتا چہرہ دیکھا تو فوراً بات بدل دی اور پھر دونوں اسی وقت خاموش ہوئیں جب سعدیہ نے دوپہر کے کھانے کی اطلا ع دی۔
فجر کے وقت دادی وضو کرنے کے لیے کمرے سے باہر نکلیں تو سرد ہوا نے ان کے جسم میں کپکپی سی دوڑا دی تھی۔ انہیں بے اختیار ہی اپنی بہو ثریا کی یاد آ گئی۔ اکتوبر کے آخر میں ہی جب سردی کا آغاز ہوا تھا تو وہ ان کے اٹھنے سے پہلے ہی وضو کے لیے گرم پانی رکھ دیا کرتی تھیں۔ جب کہ یہاں ابھی تک سب ہی سو رہے تھے انہوں نے گرم اونی چادر کو خوب پھیلا لیا اور جب وہ ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے کمرے میں واپس آئیں تو خوب کپکپا رہی تھیں سو نماز پڑھتے ہی دوبارہ اپنے بستر میں گھس گئیں اور ایک ایک کر کے تسبیح کے دانے گرانے لگیں۔
’’سعدیہ…! بھئی میری بنیان کہاں ہے؟‘‘ فیضان کی زور دار آواز پر وہ ہڑبڑا کر اٹھ گئیں۔ چارپائی پر کمبل میں سمٹے ہوئے دیوار سے ٹیک لگائے نجانے کب انہیں اونگھ آ گئی تھی۔ تسبیح جوں کی توں انگلیوں میں دبی ہوئی تھی۔ وہ پوری طرح بیدار ہوتے ہوئے سیدھی ہو بیٹھیں۔ فیضان غالباً کام پر جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے انہیں دیکھ کر خوش دلی سے مسکرائے۔
’’اماں اٹھ گئیں آپ…سعدیہ! بھئی جلدی سے اماں کے لیے ناشتہ لے آئو۔‘‘
وہ پہلے اماں سے مخاطب ہوئے پھر سعدیہ سے جو بہت عجلت میں کمرے میں داخل ہو کر کھونٹی پر سے ابا کی بنیان تلاش کرنے لگی تھی۔
’’ارے کر لیں گے ناشتہ، جلدی کاہے کو ہے۔ کون سا اسکول، کالج جانا ہے۔ بچوں کو اطمینان سے ناشتہ کرنے دو پھر ہم بھی کر لیں گے۔‘‘ انہوں نے رسان سے کہا۔
’’سعیدہ باجی!پراٹھا جل گیا۔‘‘ باورچی خانے سے کوئی چیخا تھا، سعدیہ الٹے پائوں باہر کو بھاگی، فیضان چند لمحے ادھر ادھر دیکھتے رہے پھر تنگ آ کر دوبارہ اسے پکارنے لگے۔
’’سعدیہ! مجھے دیر ہو رہی ہے بھئی، پہلے بنیان۔‘‘
اب کے سعدیہ غالبا! چولہا بند کر کے آئی تھی۔ سخت جھنجھلائی ہوئی جلی بھنی، آتے ہی ایک الماری کے دونوں پٹ کھول کر اندر گھس گئی۔ کافی دیر تک بنیان برآمد نہ ہوئی تو ابا کی بڑبڑاہٹیں شروع ہوگئیں۔ ادھر باورچی خانے میں چھوٹے بھائی ناشتے کے لیے آوازیں لگا رہے تھے پانچ دس منٹ کی مشقت کے بعد اس نے ڈھیروں ڈھیر کپڑے نکال کر چارپائی پر پھینکے اور الماری کے نہ جانے کس کونے سے مڑی تڑی بنیان نکال کر ابا کے ہاتھ میں تھمائی اور پھر باورچی خانے کی طرف لپکی۔ دادی نے دیکھا وہ اس قدر بوکھلائی ہوئی تھی کہ بس رونے کی کسر باقی تھی۔
’’چھوٹی بہو! تم اٹھ کر بچوں کے لیے ناشتہ ہی بنا دو، وہ اکیلی بچی آخر کیا کیا کام کرے۔‘‘ وہ بہو سے کہے بغیر نہ رہ سکیں جو کتنی ہی دیر سے ہل ہل کر قرآن پاک پڑھ رہی تھیں اور اب قرآن پاک رکھنے کے بعد آرام سے بستر میں آ بیٹھی تھیں۔
’’ارے اماں! کرنے دیں اسے…ہر روز یہ ہی کرتی ہے سب کچھ، آج آدھا کام میرے سر پہ ڈال دے گی تو کیا کل کو سسرال میں بھی مجھے ساتھ لے کر جائے گی۔ کام کاج کرے گی تو ہی گھر سنبھالنے کے قابل ہو گی ناں۔ اب ہم ملوں فیکٹریوں کے مالک تو ہیں نہیں کہ دو چار نوکر جہیز میں اس کے ساتھ کر دیں۔‘‘ وہ اپنا ہی رونا لیے بیٹھ گئیں۔ دادی ایک طویل سانس لے کر رہ گئی تھیں۔
’’چھوٹی بہو! اس طرح تو یہ بیس سال بھی لگی رہے تو گھر سنبھالنے کے قابل نہیں ہو سکے گی۔ ارے یہ تو گُر ہوتے ہیں’’گر‘‘ جنہیں سکھانے پڑھانے والی ذات صرف ’’ماں‘‘ ہی کی ہوتی ہے۔ ماں نہیں بتائے گی تو بیٹی کو کیونکر معلوم ہو گا کہ پراٹھے میں سات بل کیسے ڈالے جاتے ہیں۔ زردے کے چاولوں کو ٹوٹنے سے کیسے بچایا جاتا ہے، پرانی چیزوں کو نیا کیسے بناتے ہیں۔ قلیل آمدنی کے باوجود خوشحالی کا تاثر کیسے دیا جاتاہے۔ اور گھر بھر کے افراد کی ضروریات کو کیسے اور کس طرح پورا کیا جاتاہے۔ ارے یہ تو مائوں کے سینے کے ’’راز‘‘ ہوتے ہیں جو بیٹیوں کے سینے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اور گھر جنت بن جاتا ہے۔ لیکن اگر مائوں کے سینے ہی اس ’’راز‘‘ سے خالی ہوں وہی گھر سنبھالنے اور تربیت کے ’’گر‘‘ سے ناواقف ہوں تو پھر بیٹیاں جان بھی مار لیں تب بھی گھر کا وہی حال رہے گا جو آج تمہارے گھر کا ہے۔‘‘
دادی کی تلخ سوچ ان کے دل و دماغ تک ہی محدود رہی تھی۔ ایک تو بہو کی طبیعت سے واقف تھیں دوسرے خود بھی مہمان تھیں۔ نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی بدمزگی پیدا ہو اسی لیے خاموش رہ گئیں۔ وگرنہ اتنا تو وہ جان ہی گئی تھیں کہ ان کی پوتی کاہل یا سست ہر گز نہیں تھی بس تربیت کی کمی تھی اسی لیے کام کرنے کے ہنر اور طریقے سے نابلد تھی۔
’’خیر اب آئی ہوں تو یہ کام بھی کر کے ہی جائوں گی۔‘‘ وہ مصمم ارادہ کرتے ہوئے اٹھ کر باہر چلی آئیں جہاں ہلکی ہلکی دھوپ دیواروں سے نیچے اتر رہی تھی۔ وہ وہیں چارپائی بچھا کر بیٹھ گئیں۔
سعدیہ دھونے والے برتن اکٹھے کر رہی تھی۔ رات کے کھانے کے برتن بھی یونہی پڑے تھے اس کے ساتھ ناشتے کے برتن بھی دھونے بیٹھی توگھنٹہ بھر وہیں لگ گیا۔ باہر سبزی والا آوازیں لگا رہاتھا، زبیدہ خاتون تھیلا لے کر باہر نکل گئیں۔ دادی چارپائی پر نیم دراز سعدیہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے لگیں۔ برتن دھو کر کچن میں رکھنے کے بعد اس نے کمروں سے بستر اکٹھے کیے اور جھاڑو لگانے لگی۔ صحن میں جھاڑو دینے کے بعد وہ ڈیوڑھی تک پہنچی تھی، جب زبیدہ خاتون سبزی لے کر آ گئیں۔
’’اے سعدیہ ! ٹوکری اور چھری لا کر دو، میں تمہیں سبزی بنا دوں۔‘‘ دادی کے ساتھ چارپائی پر بیٹھتے ہی انہوں نے آواز لگائی، سعدیہ جھاڑو ڈیوڑھی میں رکھ کچن میں گئی۔ ٹوکری اور چھری لا کر اماں کے سامنے رکھی اور پھر سے جھاڑو اٹھا لی ابھی دو منٹ گزرے ہوں گے جب زبیدہ خاتون نے پھر سے پکا ر لیا۔ اس دفعہ پیاز اور لہسن منگوایا تھا۔ اس کے بعد جو جو سبزی زبیدہ خاتون تیار کرتی گئیں اس کے چھلکے اور کچرا چارپائی سے نیچے صحن میں پھینکتی گئیں۔ دادی جتنی دیر وہاں بیٹھی رہیں انہیں اختلاج قلب ہوتا رہا۔
’’سعدیہ! مرغیوں کو دانہ ڈالا کہ نہیں؟‘‘
زبیدہ خاتون نے اچانک یاد دلایا تو وہ سر پہ ہاتھ مارکر رہ گئی۔ جلدی میں کوڑا اکٹھا کر کے ڈیوڑھی میں ہی دیوار کے ساتھ لگایا وہیں جھاڑو رکھی پھر پانی اور دانہ لے کر چھت پر چلی گئی۔ وہاں سے واپس آئی تو دودھ والا دروازہ کھٹکھٹا رہاتھا ۔ اس سے دودھ لے کر ابلنے کے لیے چولہے پر رکھا اور خود فرش پر کپڑا پھیرنے لگی۔ زبیدہ خاتون سبزی کچن میں رکھنے گئیں تو دودھ سارا ابل ابل کر دیگچی سے باہر آ رہاتھا، انہوں نے چولہا بند کیااور خود شروع ہو گئیں۔ سعدیہ روہانسی ہو کر چپ چاپ سنتی رہی۔ ایک آدھ بار چپکے سے اسے آنسو صاف کرتے دیکھا تو دادی کو اس پر بے تحاشا ترس آیا، مگر چونکہ ابھی بولنے کا موقع نہیں تھا اس لیے خاموش رہیں۔ دودھ کا کام نبٹا کر وہ کپڑے دھونے بیٹھ گئی تھی۔ واشنگ مشین کی سہولت نہیں تھی سو یہ کام بھی ہاتھ سے ہی کرنا تھا ابھی دو چار کپڑے ہی دھو پائی تھی، جب زبیدہ خاتون نے دہائی مچا دی۔
’’بارہ بجنے کوآئے ہیں، بچے اسکول سے واپس آنے والے ہیں ان بے چاروں کو کچھ کھانے کو بھی ملے گا کہ نہیں۔‘‘ بارہ بجنے کا سنتے ہی سعدیہ باقی کے سب کپڑے ویسے ہی چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’کھانا اب وقت پر بنا لیا کرو، اماں سے بھی اس عمر میں بھوک کہاں برداشت ہوتی ہوگی۔ صبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے انہوں نے، اب تک تو دوپہر کا کھانا بن جانا چاہیے تھا۔‘‘ زبیدہ خاتون نے اسے لتاڑا تو ان کے قریب سے گزرتے ہوئے سعدیہ کے قدم جیسے زمین نے روک لیے تھے۔
’’صبح کا ناشتہ…‘‘ اس نے جیسے غائب دماغی سے جیسے دادی کو دیکھا جو بڑی نرم مسکراہٹ چہرے پہ سجائے کہہ رہی تھیں۔
’’اب میں اتنی پیٹو بھی نہیں کہ بارہ بجے ہی دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھ جائوں۔ ایک ڈیڑھ تو بج ہی جاتا ہے ہمیں بھی۔‘‘
’’اچھا اماں…! یہاں جاننے والوں میں ایک خاتون بیمار ہیں، میں ذرا وہاں ہو آئوں کافی دنوں سے جا ہی نہیں سکی اب آپ یہاں ہیں تو مجھے گھر کی فکر نہیں رہے گی۔‘‘
زبیدہ خاتون چپل پہن کر چلتی بنی تھیں، سعدیہ مرے مرے قدم اٹھاتی کچن میں آ گئی، صبح اماں نے ناشتہ کچن میں آ کر ، کر لیا تھا خود وہ بھی کام میں اس قدر الجھی ہوئی تھی کہ جلدی میں بس دہی کی پیالی اور دو چار لقمے پراٹھے کے لیے تھے۔ دادی سے ناشتے کا پوچھا تھا تو اس وقت انہوں نے انکار کر دیاتھاکہ بچے اسکول چلے جائیں پھر اطمینان سے ناشتہ کر لیں گے۔ انہوں نے یقینا اس پر کام کی زیادتی کے سبب منع کیا تھا مگر وہ ایسی بھولی کہ اب بارہ بجنے کو آئے تھے اور دادی اس وقت سے بھوکی بیٹھی تھیں۔ وہ اس قدر پشیمان ہوئی کہ وہیں گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھ گئی۔
باہر دادی نے ایک دو بار اسے آواز دی جب وہ باہر نہیں نکلی تو وہ خود ہی باورچی خانے میں چلی آئیں۔ اس کے قریب آ کر اسے ہلایا جلایا تو معلوم ہوا کہ زار و قطار رونے میں مصروف ہے۔
’’ارے…رے…کیا ہوگیا چندا تمہیں؟‘‘ ان کا اتنا کہنا بھی غضب ہو گیا تھا کہ اگلے ہی لمحے وہ ان کے گلے میں بانہیں ڈالے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
’’دادی اماں! قسم سے مجھے بالکل بھی خیال نہیں آیا، آپ صبح سے بھوکی بیٹھی ہیں اور…‘‘
’’تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے بھئی، اگر میں نے ناشتہ نہیں کیا تو اس میں تمہارا کیا قصور؟‘‘ انہوں نے بڑے پیار سے اسے خود سے علیحدہ کرتے ہوئے اس کے آنسو صاف کیے۔
’’قصور تو ہے دادی اماں! اگر ایک مرتبہ آپ نے منع کر دیا تھا تو میرا فرض بنتا تھا کہ میں دوبارہ آپ سے ناشتہ کا پوچھتی۔‘‘ وہ پوری طرح احساس جرم کا شکار ہو رہی تھی۔
’’بے وقوف لڑکی! تمہارا کیا خیال ہے میں اس انتظار میں بیٹھی تھی کہ کوئی مجھ سے ناشتے کا پوچھے تو تب ہی کچھ کھائوں گی۔ بھئی یہ میرے بیٹے کا گھر ہے، میرا اپنا گھر اور تو تو میری بہت اچھی بیٹی ہے۔ جب ضرورت محسوس ہو گی جب دل چاہے گا تم سے کہہ دوں گی۔ ہم دادی پوتی میں کوئی تکلف تھوڑی ہے۔‘‘
’’تو پھر آپ نے صبح سے ناشتے کے لیے کہا کیوں نہیں۔‘‘ سعدیہ کو ان کی بات پر بالکل یقین نہیں آیا تھا۔
’’ارے بھئی جب میں کوئی لمبا سفر کر لیتی ہوں تو کئی روز تک ٹھیک طرح سے بھوک نہیں لگتی۔ آج بھی ناشتے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔‘‘ انہوں نے بڑے آرام سے کہا۔
’’پھر بھی دادی اماں! اور کچھ نہیں تو کم از کم چائے ہی لے لیتیں۔‘‘ وہ دوپٹے کے پلو سے چہرہ صاف کرتے ہوئے اٹھی پھر دودھ کا گلاس بھر کر دادی کے سامنے رکھا اور خود الماری میں گھس گئی کچھ دیر بعد واپس پلٹی تو ہاتھ میں بسکٹوں کا ڈبہ تھا جو غالباً کل کے بچا رکھے تھے۔
’’جب تک میں کھانا تیار کرتی ہوں، آپ یہ کھایئے۔‘‘ دادی دودھ نہیں پیتی تھیں ، مگر اس کا دل رکھنے کو ایک دو بسکٹ اور دودھ کا گلاس پی لیا۔
’’اب آپ لیٹ جائیں دادی! صبح سے یوں ہی بیٹھی ہیں۔‘‘ سعدیہ نے اصرار کرتے ہوئے انہیں وہاں سے اٹھا دیا۔ وہ کمرے میں جا کر لیٹیں تو غنودگی سی چھانے لگی کچھ دیر بعد وہ پوری طرح غافل ہو چکی تھیں۔
دو ڈھائی گھنٹے بعد ان کی آنکھ اس وقت کھلی تھی، جب کوئی ہولے ہولے ان کے پائوں گدگدا رہاتھا۔
’’کون ہے بھئی؟‘‘ نیم تاریک کمرے میں انہیں بس ایک ہیولا سا نظر آیا تھا۔
’’دادی اماں…! اٹھ کر کھانا کھا لیجئے۔‘‘ فاروق کی معصوم سی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
’’آ گیا میرا بچہ اسکول سے…‘‘ انہوں نے بڑے پیار سے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرا۔ دوسرے بچے ابھی ان سے جھجکتے تھے مگر فاروق نے اپنائیت اور انسیت کے غیر معمولی مظاہرے کے باعث جلد ہی دادی سے بے تکلفی اختیار کر لی تھی۔ اب بھی کمرے سے باہر نکلتے ہوئے فوراً ان کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
صحن کی رونق اور چہل پہل بتا رہی تھی کہ سب بچے اسکول سے واپس آچکے ہیں۔ فاروق سے چھوٹا حسن چارپائی پر کتابیں بکھرائے ہوم ورک کر رہا تھا، سعدیہ دوپہر کا کھانا بنانے کے بعد دوبارہ کپڑے دھونے میں مصروف ہو چکی تھی۔ انہیں دیکھ کر فوراً کھانا دینے کو اٹھی مگر انہوں نے منع کر دیا، پہلے وضو کر کے ظہر کی نماز پڑھی اور پھر باورچی خانے میں آ کر خود ہی کھانا نکال کر کھانے لگیں۔ فاروق پھر سے ان کے پاس آ بیٹھا تھا۔
’’دادی اماں آپ کو کہانی آتی ہے؟‘‘
’’ہاں بھئی، کہانی نہیں مجھے تو کہانیاں آتی ہیں۔‘‘ان کے کہنے پر فاروق کی آنکھیں چمک سی گئی تھیں۔
’’ہیں…سچی…آپ مجھے سنائیں گی نا، بہت معصوم سا پرجوش انداز تھا اس کا، دادی نے مسکراتے ہوئے بے اختیار ہی اثبات میں سر ہلا دیا تو وہ خوشی سے اچھل ہی پڑا۔
پھر باہر صحن میں چارپائی پر بیٹھتے ہوئے انہوں نے کہانی کا آغاز کیا ہی تھا جب حسن بھی کتابیں چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس چلا آیا۔ کچھ دیر بعد تمام دھلے ہوئے کپڑے تار پر پھیلانے کے بعد سعدیہ بھی ہاتھ خشک کرتی ہوئی ان کے پاس چلی آئی اور ابھی اسے بیٹھے ہوئے چند لمحے ہی گزرے تھے جب احمد چلا آیا۔ اس کے کچھ دوست آئے تھے جن کے لیے چائے بنانی تھی۔ سعدیہ فوراً باورچی خانے میں گھس گئی۔ چائے بنا کر فاروق کے ہاتھ باہر بھجوائی ، تب ہی زبیدہ خاتون چھت سے نیچے اتر آگئیں۔ ہاتھ میں دو چار انڈے تھے اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا رہی تھیں۔ نیچے آنے پر معلوم ہوا سعدیہ کو کوسا جا رہا ہے۔
’’کیا ہوا بہو…؟‘‘ دادی پوچھے بغیر نہ رہ سکیں۔
’’ہونا کیا ہے اماں! مجھے تو اس لڑکی نے تنگ کر رکھا ہے۔ اللہ جانے اسے کب عقل آئے گی اور معلوم نہیں آئے گی بھی کہ نہیں ارے اس سے کم عمر لڑکیوں نے یوں گھر سنبھال رکھے ہیں کہ مائوں کو فکر تک نہیں اور یہاں سارے عذاب میرے سر پر مسلط ہیں۔‘‘ وہ ایک بار پھر شروع ہوگئیں تو دادی جھنجھلا سی گئیں۔
’’ارے کچھ پتا بھی تو چلے، آخر ہوا کیا ہے؟‘‘
’’کیا بتائوں… ذرا اوپر جا کر مرغیوں کے ڈربے کی حالت دیکھیے، وہاں تو سانس لینا محال ہے۔ خدا معلوم مرغیاں اب تک زندہ کیسے ہیں۔ پھر بھی دیکھیے بے چاری انڈے دیئے جا رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے چار انڈے دادی کی آنکھوں کے سامنے لہرائے۔
’’احسان ہے مرغیوں کا، ورنہ انہیں تو چاہیے تھا کہ ہڑتال کے طور پر انڈے دینے بند کر دیتیں۔‘‘ دادی جان نے سعدیہ کو پہلی بار چڑتے ہوئے دیکھا تھا مگر زبیدہ خاتون معاف کرنے والوں میں سے کہاں تھیں۔ اسے یوں گھورا کہ وہ بس جھاڑو اٹھائے دھڑ دھڑ سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔
’’بس ایک زبان ہی تو ہے جو قینچی کی طرح کتر کتر چلتی ہے۔ جتنی چاہے بکوس کروا لو نہ بڑوں کا لحاظ نہ چھوٹوں کی پروا۔‘‘ زبیدہ بیگم بڑبڑاتی ہوئی کمرے میں چلی گئیں۔
دادی بس ایک لمبا سا سانس کھینچ کر رہ گئی تھیں، کہانی ختم ہو چکی تھی۔ بچے دونوں باہر بھاگ گئے تھے۔ انہوں نے بڑی فرصت سے صحن کا جائزہ لیا تھا۔ ان کی چارپائی کے پاس صبح والے سبزیوں کے چھلکے اور کچرا یوں ہی پڑا تھا۔ ڈیوڑھی میں کوڑے کی ڈھیری بھی ابھی تک دیوار کے ساتھ موجود تھی۔ حسن اپنی کتابیں اور بیگ جوں کا توں چھوڑ گیاتھا۔
صحن کی دائیں دیوار کے ساتھ کونے میں بنے نل کے پاس کپڑے دھونے والا ڈنڈا، صابن نیل حتیٰ کہ ٹب میں صابن والا گدلا پانی بھی موجود تھا۔ وہیں پر ٹرے میں چار، چھ چائے کے کپ پڑے تھے جوغالباً احمد یہاں رکھ گیا تھا اور ان پر خوب مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ دادی کو زیادہ ہی کوفت محسوس ہوئی تو وہ چپل پہن کر نل کی طرف آ گئیں۔ اپنی عمر رسیدگی کے باوجود انہوں نے کام کاج سے مکمل طور پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ گھر میں بھی ثریا کے روکنے کے باوجود وہ اکثر کسی نہ کسی کام میں مشغول رہتی تھیں۔ اس وقت بھی اٹھ کر انہوں نے ٹب سے گدلا پانی گرا کر ٹب کو ایک طرف اوندھا کر کے رکھ دیا۔ صابن، نیل اور دوسری چیزیں ایک کونے میں ترتیب سے رکھ دیں اور کپ دھو کر کچن میں لے آئیں۔ کچن کی حالت بھی قابل رحم لگ رہی تھی۔ برتنوں کے لیے بنائی گئی الماریاں خالی پڑی تھیں اور برتن سارے جھوٹے، ایک کونے میں ڈھیر تھے۔ ہنڈیا اور ڈوئی پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ دودھ والی دیگچی کا بھی تقریباً یہی حال تھا۔ چولہے پر کہیں خشک آٹا گرا ہوا تھا تو کہیں گھی کے داغ دھبے موجود تھے۔ ایک جگہ ذرا سا پانی گرا ہوا تھا جس پر چلنے پھرنے کے باعث کیچڑ سا بن گیا تھا۔ ان کا دل وہاں ایک لمحہ ٹھہرنے کو بھی نہیں چاہ رہا تھا۔ حالانکہ یہی باورچی خانہ تھا جو صبح ٹھیک ٹھاک لگ رہا تھا۔ تب ہی سعدیہ چلی آئی۔ ملگجا گرد آلود لباس، بکھرے ہوئے بال تھکن زدہ اترا ہوا چہرہ۔ معلوم نہیںدوپہر میں بھی اس نے ڈھنگ سے کھانا کھایا تھا کہ نہیں۔
’’اور اگر ظہیر کی ماں ثریا ایک بار بھی سعدیہ کے حلیے اور اس گھر کو دیکھ لے تو زندگی بھر اسے بہو بنانے کو تیار نہ ہو۔‘‘ انہوں نے دل ہی دل میں سوچا مگر چونکہ وہ اس ناممکن کو ممکن بنانے کا تہیہ کیے بیٹھی تھیں، اس لیے سعدیہ کو دیکھ کر خوش دلی سے مسکرا دیں۔
’’دادی اماں! کچھ چاہیے تھا آپ کو؟‘‘ انہیں باورچی خانے میں کھڑا دیکھ کر فوری طور پر اس کے ذہن میں یہی بات آئی تھی۔
’’ہاں بیٹی! ایک کپ چائے چاہیے مگر میں خود ہی بنا لیتی ہوں ، تم ذرا مجھے چینی پتی وغیرہ پکڑا دو۔‘‘
وہ چولہے کے پاس بیٹھنے لگیں، مگر سعدیہ نے بصد اصرار انہیں وہاں سے اٹھا دیا اور خود چائے بنانے لگی۔ مگر چائے کا پانی ابھی ابلنے بھی نہ پایاتھا کہ جب احمد عجلت میں چلا آیا۔
’’اس کا بٹن ٹوٹ گیا ہے، ذرا جلدی سے لگا دو۔‘‘ اس نے شرٹ سعدیہ کے ہاتھ میں تھمائی اور خود باتھ روم میں گھس گیا۔ سعدیہ شرٹ لے کر سیدھی اسٹور میں گھس گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہاں سے ہونق سا چہرہ لیے باہر نکلی۔
’’سعدیہ ! بیٹی کیا ڈھونڈ رہی ہو؟‘‘ اسے بوکھلائے سے انداز میں ادھر ادھر بھاگتے دیکھا تو دادی پوچھے بغیر نہ رہ سکیں۔
’’اماں…سوئی نہیںمل رہی۔‘‘ وہ ایک ڈونگا ہاتھ میں لیے سوئی کھوج رہی تھی اور ڈونگے میں نہ جانے کیا الم غلم ٹھونسا ہوا تھا۔
’’سعدیہ! تولیہ کہاں گیا؟‘‘ باہر سے احمد چیخا تھا۔
’’مجھے کیا پتا۔ مجھے بتا کر گیا ہے؟ ‘‘ جواباً وہ بھی چلاّئی تھی۔ سوئی ڈھونڈنے کے عمل میں ذرا تیزی آ گئی تھی۔
’’افوہ۔ تو پوچھ لیا کرو ناں اس سے کہ وہ کہاں گیا ہے؟‘‘ احمد اب آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔
’’بٹن لگ گیا ہے تو جلدی سے شرٹ دے دو۔ باہر میرا دوست انتظار کر رہاہے۔‘‘
’’لگا رہی ہوں۔ تھوڑا صبر تو کرو۔‘‘ احمد کو ٹال کر وہ کمرے میں گھسی تھی۔ اماں چادر لیے اونگھ رہی تھیں۔ جلدی سے انہیں جگایا۔
’’اماں! کل آپ قمیص کی ترپائی کر رہی تھیں سوئی کہاں رکھی تھی؟‘‘ اس نے عجلت میں پوچھا۔ اماں بے چاری کچی نیند سے جاگی تھیں۔ جواباً ٹکر ٹکر اس کی شکل دیکھتی رہیں۔
’’افوہ اماں! جلدی بتائیں نا۔‘‘ اس نے ایک بار پھر انہیں جھنجھوڑا۔
’’ارے بھئی۔ کھونٹی پہ پڑی ہے قمیص۔‘‘ ان کے کہنے پر وہ تیر کی طرح کھونٹی کی طرف لپکی اور پھر ان کی بات سمجھ کر اپنا سر پیٹتی ہوئی واپس پلٹی۔
’’اماں! میں سوئی کا پوچھ رہی ہوں۔‘‘ مگر اماں دوبارہ چادر کے پیچھے گم ہو چکی تھیں۔
’’سعدیہ! کیا کر رہی ہو تم؟ اب تک ایک بٹن نہیں لگا تم سے؟‘‘ احمد اس کے سر پر کھڑا پوچھ رہا تھا۔ اسے اور کچھ نہیں سوجھا تو ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگی ۔
’’سوئی نہیں مل رہی احمد! میں ڈھونڈ رہی ہوں نا۔ تم تھوڑا سا انتظار کر لو۔‘‘ اس نے بڑی بے چارگی سے کہا تو احمد بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔ اگر وہ اس سے ایک سال بڑی نہ ہوتی تو اب تک وہ بری طرح برس چکا ہوتا۔
’’اس گھر میں بندہ گم جائے تو وہ نہیں مل سکتا۔ سوئی کیا خاک ملے گی۔‘‘
وہ دانت پیس کر کہتا ہوا الماری کی طرف بڑھ گیا۔ الماری کھول کر ، عرق ریزی کے بعد جو شرٹ اسے ملی وہ اس قدر مڑی تڑی حالت میں تھی کہ پہننے کے قابل نہیں لگ رہی تھی۔ وہ بڑبڑاتا ہواکھونٹی کی طرف گیا۔ وہاں ایک شرٹ میلی حالت میں پڑی تھی باقی دو باہر تار پر بھیگی لٹک رہی تھیں اور جب تک سعدیہ نے سوئی دھاگا ڈھونڈ کر اس کی شرٹ پر بٹن ٹانکا تھا وہ اپنے موجودہ حلیے سمیت اپنے دوست کے ساتھ جا چکا تھا۔
’’اماں ٹھیک کہتی ہیں۔ مجھے کبھی عقل نہیں آئے گی۔ مجھے عقل آ ہی نہیں سکتی۔‘‘
آنسو خود بخود اس کی آنکھوں میں بھاگے چلے آ رہے تھے۔ احمد اپنی میلی سی مسلی ہوئی شرٹ میں اپنے دوستوں کے سامنے کس قدر شرمندہ ہو رہا ہو گا۔ یہ سوچ سوچ کر ہی اسے رونا آ رہاتھا۔ کتنی کوشش کرتی تھی وہ کہ ہر کام اپنے وقت پر ٹھیک ٹھاک طرح سے ہو جائے۔ کسی کو اس سے شکایت نہ ہو، مگر کتنی بار عہد کرنے کے باوجود وہ ہر بار یونہی ناکام ہو جاتی تھی۔
’’کوئی ایک کام بھی تو ڈھنگ سے نہیں ہوتا مجھ سے ۔ میں واقعی بہت پھوہڑ اور بدسلیقہ ہوں۔ وہ نازیہ اور مہوش بھی تو ہیں۔ انہیں میں نے کبھی پریشان ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ ٹی وی، وی سی آر بھی دیکھتی ہیں۔ خود کو بھی مین ٹین رکھتی ہیں، گھر بھی ہر وقت چمکتا رہتا ہے اور میں کتنی کوشش کرتی ہوں مگر گھر کو صاف ستھرا نہیں کر سکتی۔ اس روز خالہ سکینہ بھی کتنی باتیں بنا کر گئی تھیں اور وہ مینا…مجھ سے ملنے آئی تھی مگر کتنا مذاق اڑاکر گئی تھی میرا کہ ’’لگتا ہے محلے کے خاکروب چھٹی پر ہیں اور اپنی جگہ سعدیہ کے لیے خالی کر گئے ہیں۔‘‘ اب میں ہرو قت اس کی طرح رنگ برنگ چوڑیاں اور کیوٹکس کا خیال کیسے رکھا کروں۔ یہاں تو نہانے اور کپڑے بدلنے کا وقت بھی نہیں ملتا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ …‘‘
’’سعدیہ!‘‘ وہ زور و شور سے رونے میں مصروف تھی جب باہر سے دادی نے پکار لیا۔ وہ کرنٹ کھا کر سیدھی ہوگئی۔
’’کیا سوچیں گی دادی، اس لڑکی کو رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں آتا۔‘‘
دل میں یہ خیال آتے ہی اس نے جھٹ اپنا چہرہ صاف کیا۔ دوپٹے کے پلو سے آنکھیں رگڑیں اور اٹھ کر باہر آ گئی۔ دادی کچن میں اس کے حصے کی چائے کپ میں ڈالے بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اس کا بھیگا بھیگا چہرہ اور سرخ ہوتی آنکھیں بغور دیکھیں مگر پھر انجان بنتے ہوئے اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے دیکھا کہ وہ رات تک یوں ہی گھن چکر بنی رہی تھی۔ کبھی حسن کو حساب کے سوال سمجھا رہی تھی، کبھی فاروق کی کاپیوں پر اخبار چڑھا رہی تھی۔ دھلے ہوئے کپڑے اتار کر تہہ کر کے الماری میں رکھنے لگی تو ابا آ گئے۔ انہوں نے آتے ہی کھانا مانگ لیا تو وہ عجلت میں کپڑوں کا ڈھیر یوں ہی چارپائی پر رکھ کر ابا کے لیے کھانا گرم کرنے لگی تھی۔ پھر رات کے کھانے کی تیاری شروع ہوگئی۔ کھانا کھلانے کے بعد کمرے کی ترتیب ایک مرتبہ پھر بدلی گئی۔ چارپائیاں جو دن کے وقت کمرے سے باہر نکالی جاتی تھیں، انہیں دوبارہ کمرے میں بچھا کر ان پر سب کے بستر لگائے۔ بستر لگاتے ہوئے دھلے ہوئے کپڑوں کا ڈھیر اٹھا کر اس نے جیسے تیسے الماری میں ٹھونس کر الماری بند کر دی اور دادی کو سو فیصد یقین تھا کہ جس کسی نے بھی الماری کھولنے کی غلطی کی ، اس کا استقبال کپڑوں کے اسی ڈھیر سے ہوگا۔ اور پھر یہ غلطی بھی سعدیہ ہی سے اس وقت سرزد ہوئی تھی جب ابا نے اس سے لوئی (گرم چادر) مانگ لی اور الماری کھولتے ہی سارے کپڑے اس کے قدموں میں آ گرے تھے۔ اس نے سٹپٹا کر ابا اور دادی کی طرف دیکھا اور ان دونوں کو باتوں میں مشغول دیکھ کر اس نے جلدی سے لوئی نکالی کپڑوں کو الماری میں ٹھونسا اور ابا کو لوئی دے کر خود باہر آ گئی۔ چھت پر جا کر مرغیوں کا ڈربہ بند کیا۔ صحن میں بکھری چیزیں سمیٹیں اور تھکن زدہ وجود لیے کمرے میں آ گئی۔
اماں تو شام پڑتے ہی اپنی چارپائی سنبھال لیتی تھیں، اس وقت بھی وہ ہلکے ہلکے خراٹے لیتے ہوئے اردگرد کے ماحول سے بے خبر لگ رہی تھیں۔ ابا ابھی تک دادی اماں کی پائنتی پر بیٹھے ان سے محو گفتگو تھے۔ وہ چپ چاپ اپنی چارپائی تک آ گئی اور ابھی اس نے اپنا لحاف کھولا ہی تھا جب ابا نے اسے پکار لیا۔
’’اماں کی ٹانگیں دبا کر پھر سونا۔ ثریا آپا تو ہمیشہ ہی رات کو اماں کے پاس دبا کر سوتی ہیں۔‘‘
فیضان کے کہنے پر دادی نے فوراً انکار کر دیاکہ انہیں سعدیہ کی تھکن کا پورا پورا احساس تھا۔ مگر سعدیہ ان کے انکار کو سنی ان سنی کرتے ہوئے ان کی ٹانگیں دبانے لگی۔ دادی اماں نے چند منٹ انتظار کیا اور جوں ہی فیضان وہاں سے اٹھے انہوں نے فوراً اٹھ کر اسے روک دیا۔
’’ارے سارا دن بیٹھ بیٹھ کر مجھے کیا تھکن ہو گی بھلا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں دادی اماں! میں صرف ابا کے کہنے پر تو ایسا نہیں کر رہی۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے آپ کی خدمت کرنا۔‘‘ سعدیہ کی جواب پر وہ کھل کر مسکرائی تھیں۔
’’جیتی رہو بیٹی! سدا خوش رہو۔ لیکن ابھی تو میں بہت سارے دن ہوں تمہارے پاس۔ جتنی چاہے خدمت کر لینا فی الحال تو یہاں میرے پاس آ کر لیٹو۔ ہم باتیں کرتے ہیں۔ دن بھر تو تم بہت مصروف رہتی ہو نا۔‘‘ دادی اسے بہت پیار سے کہہ رہی تھیں۔ اس نے ایک نظر اپنے حلیے پر ڈالی اور پھر چارپائی کے ایک طرف سمٹ کر بیٹھ گئی۔
’’میں یہیں ٹھیک ہوں دادی اماں! آپ باتیں کریں۔‘‘ اس نے بڑے سبھائو سے انکار کیا تو دادی حیران سی ہوگئیں۔
’’تو بیٹی! یہاں میرے پاس آنے میں کیا قباحت ہے؟‘‘
’’دادی اماں! وہ تین دن سے کپڑے نہیں بدلے۔ ہلدی، مسالوں کی بو سے آپ کا جی متلانے لگے گا۔‘‘ وہ بہت شرمندگی سے جھجکتے ہوئے بتا رہی تھی۔
’’تو بیٹی! دن میں نہا دھو کر کپڑے بدل لیا کرو نا۔‘‘ انہوں نے بہت سرسری انداز میں کہاتھا تا کہ وہ مزید شرمندگی محسوس نہ کرے۔
’’دادی اماں! وقت ہی نہیں ملتا۔‘‘ اس نے بے چارگی سے اپنی مجبوری بیان کی۔
’’وقت نہیں ملتا۔ اچھا خیر تم یہ بتائو کہ یہاں آس پڑوس میں تمہاری کوئی سہیلی بھی ہے کہ نہیں۔‘‘ ایک لمحے کو ان کا دل چاہاتھا کہ وہ اسے وقت بچانے کا طریقہ سمجھائیں۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بتائیں مگر پھر سوچا وعظ کا طریقہ اختیار کیا تو ہو سکتا ہے اگلے روز وہ ان کے پاس پھٹکے بھی نا لہٰذا اسے خود سے بے تکلف کرنے اور اس کی باقی ماندہ جھجک دور کرنے کے لیے وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں۔ اس کی سہیلیوں کی باتیں، پڑھائی کی باتیں، اس کی پسند و ناپسند کی باتیں اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ بے تکلف انداز میں انہیں اپنی ایک سہیلی کی ناراضی کا واقعہ سنا رہی تھی کہ کس طرح کام میں الجھے رہنے کے سبب وہ اس کی منگنی پر نہیں جا سکی تھی اور نتیجتاً وہ اب تک اس سے ناراض تھی۔ تب دادی کہے بغیر نہ رہ سکی تھیں۔
’’دیکھو سعدیہ بیٹی! وقت تو سب کے پاس ایک جتنا ہی ہوتا ہے یعنی چوبیس گھنٹے۔ لیکن اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ وقت کی کمی کا شکار نظر آتے ہیں تو کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف گھریلو ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے ہیں، بلکہ اپنے دوستوں، رشتہ داروں سے اپنے بہترین تعلقات بھی بحال رکھتے ہیں۔ وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ دن کو کھینچ کر لمبا کر لیتے ہیں یا ان کے پاس چوبیس کے بجائے چھتیس گھنٹے ہوتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہوتی ہے کہ وہ اپنی زیرک نگاہی، اپنے مشاہدے، اپنی سمجھ داری اور اپنی انتہائی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ با ت جان لیتے ہیں کہ کون سا کام کیسے، کس طرح اور کس وقت پر کیا جانا چاہیے کہ نہ صرف گھر کا انتظام بخوبی چلایا جا سکے، بلکہ دوست احباب کو بھی شکوے شکایت کا موقع نہ ملے۔‘‘
’’لیکن دادی اماں! اتنا سب کچھ ایک ساتھ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ سعدیہ نے فوراً پوچھا تو دادی اس کی بے صبری پر مسکرا دی تھیں۔
’’یہ بھی بتائوں گی بیٹی! لیکن پھر کسی وقت۔ اب کافی دیر ہو چکی ہے اس لیے تم سو جائو۔ صبح تمہیں جلدی اٹھنا ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے جان بوجھ کر اسے ٹال دیا تھا۔ انہیں معلوم تھاکہ محض ’’باتوں‘‘ سے کوئی تبدیلی آئی بھی تو وہ ہر گز دیر پا ثابت نہیں ہو گی لہٰذا وہ کسی موقع کی تلاش میں تھیں جب یہ سب اسے عملاً کر کے دکھا سکیں اور خوش قسمتی سے یہ موقع انہیں بہت جلد مل گیا تھا۔
’’سعدیہ! جلدی سے چائے بنا دو اور ساتھ میں کچھ کھانے کے لیے بھی۔ ابا کے کوئی دوست آئے ہیں سعودی عرب سے۔‘‘
احمد نے آ کر سعدیہ سے کہا تو وہ چند لمحے کے لیے اس کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔ سوچ کے گھوڑے دوڑانے پر معلوم ہواکہ اس وقت گھر میں کچھ بھی نہیں جو چائے کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔
’’اچھا۔ ایسا ہے کہ میں انڈے ابالتی ہوں۔ تم بھاگ کر بسکٹ لے آئو۔‘‘
’’پیسے؟‘‘ احمد کی آواز پر وہ کچن کی طرف جاتے ہوئے ٹھٹک گئی۔
’’میرے پاس پیسے کہاں سے آئے؟‘‘
’’قارون کا خزانہ تو میرے پاس بھی دفن نہیں ہے۔‘‘ سعدیہ نے ہونق بن کر کہا تو جوابا ً وہ بھی طنز کر گیا۔
’’اب کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو۔ جو کچھ اس وقت گھر میں ہے وہی پیش کر دو۔‘‘ اسے ساکت و صامت کھڑے دیکھ کر احمد جھنجھلا گیا تھا۔
’’کباب پڑے ہیں فریج میں۔ وہ تل دوں، یا پھر پائن ایپل کیک رکھ دوں؟‘‘ کہو تو پیٹیز بھی اوون میں رکھ کرگرم کر دوں؟ ہونہہ… جو کچھ گھر میں ہے وہی پیش کر دو۔‘‘ اس نے جل بھن کر کہا اور پھر اس کی نقل اتارتی کچن میں چلی گئی۔
’’یہ…یہ کچے آلو اور پالک پڑی ہے گھر میں۔ نوش فرما لیں گے ابا کے سعودی عرب سے آئے ہوئے دوست، یا پھر مسور اور چنے کی دال ہے گھرمیں۔ اسے مکس کر دیتی ہوں تا کہ نمکو کی جگہ پھانک سکیں ابا کے سعودی عرب سے آئے ہوئے دوست۔‘‘ وہ غصے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہتی گئی تو اس صورت حال میں بھی احمد کی ہنسی نکل گئی۔
’’بند کرو اپنا منہ۔ ورنہ تمہاری بتیسی پلیٹ میں رکھ کر چائے کے ساتھ پیش کر دوں گی محترم کو۔ ‘‘ وہ غصے میں بس ایسی کی تیسی کیا کرتی تھی۔
’’اب تائو کھانے سے کیا فائدہ؟ پہلے نہیں پتا ہوتا کہ گھر میں کوئی مہمان بھی آ سکتا ہے۔ انسان کوئی تو بندوبست کر رکھے۔‘‘ احمد بھی آخر کہاں تک چپ رہتا۔
’’ہاں لاٹری نکلی ہوئی ہے ناں اماں کی، ابا کی جو ٹوکریاں بھر بھر کے منگوایا کروں اور …‘‘
’’بھئی کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘ دادی اماں اندر نماز پڑھ رہی تھیں، ان کی آوازوں نے ان کے خشوع و خضوع میں خلل ڈالاتو سلام پھیر کر چلی آئیں۔
احمد نے جھٹ پٹ ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو وہ سعدیہ کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ جو اس صورت حال سے سخت پریشان لگ رہی تھیں۔
’’اس گھر میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے جب بھی مہمان آئے…یہ تماشا شروع۔ اتنے عرصے بعد آئے ہیں ابا کے دوست کیا سوچیں گے کہ …‘‘ احمد جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا۔
’’احمد! تم اگر بکواس کرنے کے بجائے اماں کو پڑوس سے بلا لائو تو زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘
’’اماں کیا کریں گی؟‘‘ سعدیہ کے کہنے پر احمد نے استفسار کیا۔
’’اور کچھ نہیں تو کہیں سے ادھار پیسے ہی پکڑ لیں گی۔‘‘ چائے کا پانی چولہے پر رکھتے ہوئے وہ خاصی بیزار اور نالاں سی لگ رہی تھی اور اس سے پہلے کہ احمد جواب میں کچھ کہتا دادی نے اسے روک دیا تھا۔
’’رہنے دو۔ گھر میں ہی تیار کر لیں گے کچھ نہ کچھ۔‘‘
’’گھر میں…دادی اماں گھرمیں اس وقت صرف کچے آلو اور …‘‘
’’احمد…تم جائو یہاں سے اور آدھے گھنٹے بعد آ کر چائے لے جانا۔‘‘ دادی نے دیکھا کہ احمد کی باتیں سعدیہ کی پریشانی میں اضافے کا سبب ہی بن رہی ہیں سو اسے فوراً وہاں سے بھگا دیا۔
’’سعدیہ بیٹی! تمہاری امی سبزی کون سی دے کر گئی ہیں۔‘‘ پیڑھی پر بیٹھتے ہوئے دادی نے بہت اطمینان سے پوچھا تھا۔
’’آلو پالک۔‘‘ سعدیہ نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’بیسن گھر میں ہے کہ نہیں۔‘‘ ان کے پوچھنے پر وہ جیسے ایک پل میں سمجھ گئی۔
’’ہاں…بیسن تو ہوگا۔‘‘ وہ فوراً اٹھ کر الماری کی طرف بڑھی۔ یہاں بیسیوں ڈبے بند پڑے تھے۔ دادی کو ایک نظر میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ مہینوں سے اس الماری کی صفائی نہیں کی گئی۔ خوب تلاش بسیار کے بعد وہ بیسن کا شاپر نکال کر پلٹی تو دادی اماں پالک کے چند بڑے بڑے پتے الگ کر کے بقیہ تھوڑے سے پتوں کو باریک باریک کتر چکی تھیں۔ سعدیہ نے بیسن مل جانے کا مژدہ سنایا تو اسے چھاننے کی ہدایت کرتے ہوئے دادی نے ایک دو آلو کاٹ لیے تھے اور جب تک سعدیہ نے بیسن گھولنے کے بعد تیل کی کڑاہی چولہے پر رکھی تھی دادی اماں نے چائے تیار کر لی تھی۔ اس نے خالی چولہے پر فوراً انڈے ابالنے چاہے مگر دادی نے روک دیا۔
’’کل تم نے حلوہ بنایا تھا۔ تھوڑی سوجی جو باقی بچی تھی وہ کہاں ہے؟‘‘
’’اس کا کیا کریں گی اماں؟‘‘ اس نے سبز دھنیا اور مرچیں بیسن میں ملاتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔
’’سوجی اور انڈوں کا حلوہ بنائیں گے اور کیا؟ اور یہ پکوڑوں میں خشک دھنیا باریک پیس کر ملائو اس سے خوشبو بہت اچھی آئے گی۔‘‘ انہوں نے اس کی حیرت دور کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایت بھی جاری کی۔
’’مگر مجھے تو یہ حلوہ بنانا نہیں آتا۔‘‘ سعدیہ خوب گھبرا رہی تھی۔
’’ارے تو میں کس لیے بیٹھی ہوں یہاں۔‘‘ ان کے دلاسا دینے پر سعدیہ کو کچھ حوصلہ ہوا تو فوراً اٹھ گئی۔ شکر ہے سوجی ذرا جلدی مل گئی تھی۔ دادی اماں میں اس عمر میں وہ پھرتی اور دم خم تو نہیں رہا تھا مگر اس کے باوجود جب تک وہ واپس آئی انہوں نے تھوڑی سی ادرک اور چار، چھ جوئے لہسن کے پیس کر ان کا پیسٹ سا تیار کر لیا تھا۔
’’اس سے ذائقہ میں تو کوئی فرق نہیں آئے گا، مگر تاثیر غضب کی ہوگی۔ میری عمر کے لوگ بھی کھائیں گے تو انہیں قبض یا پکوڑے ہضم نہ ہو نے کی شکایت نہیں ہو گی۔‘‘ سعدیہ کے استفسار پر انہوں نے بتایا تھا۔
’’لائو اب میں تمہیں پکوڑے تل دیتی ہوں، تم حلوے کی تیاری کرو۔‘‘ انہوں نے بیسن والا برتن ہاتھ میں لیتے ہوئے اسے بتانا شروع کیا۔
’’پہلے آدھا کپ سوجی لو اور اسے گھی میں بھوننا شروع کیا۔ پھر ہم وزن چینی لے کر اس میں تین عدد انڈے ڈال کر انہیں خوب اچھی طرح مکس کر لو۔ یوں تو تین انڈے بھی ٹھیک ہیں، لیکن اگر زیادہ نرم حلوہ بنانا ہو تو ان کی تعداد چار یا پانچ بھی ہو سکتی ہے۔‘‘
’’یہ کام تو بلینڈر میں بہت اچھی طرح ہو جائے گا۔‘‘ اس نے گھی گرم ہونے کے لیے چولہے پر رکھا اور پھر بلینڈر نکال کر اس میں انڈے اور چینی ڈال کر چند لمحوں بعد ہی اس مکسچر سمیت واپس آ گئی۔
’’اگر مزید انڈے ہیں تو لائوایک انڈا بیسن میں مکس کر لیتے ہیں اس سے پکوڑے نہایت خستہ اور مزیدار بنیں گے۔‘‘
’’دادی اماں! انڈے بہت ہیں۔ یہ لیجئے۔‘‘ سعدیہ نے شاداں و فرحاں انداز میں انڈا توڑ کر بیسن میں ڈال دیا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی توجہ حلوے کی سوجی کی طرف بھی تھی۔ جب چند منٹ گزرنے کے بعد سوجی کا رنگ ہلکا برائون ہوگیا اور خوشبو پھیلنے لگی تب اس نے دادی کی ہدایت کے مطابق انڈوں اور چینی کا مکسچر اس میں ڈالا اور پھر خوب بھون لیا۔ زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ لگے تھے اس حلوے کی تیاری میں۔ ادھر دادی اماں پلیٹ پکوڑوں سے بھر چکی تھیں۔ وہ بھاگ کر چائے کے لیے برتن نکالنے لگی۔ اور جب اس نے چھوٹی پلیٹوں میں حلوہ ڈالنا چاہا تو دادی نے اسے روک دیا۔
’’بیٹی ایک بڑی پلیٹ میں حلوہ ڈالو اور ساتھ میں چھوٹی پلیٹیں رکھ دو۔‘‘
سعدیہ نے ایسا ہی کیا تھا پھر ٹرے میں چائے کا تھرماس، کپ، حلوہ اور پکوڑے رکھنے کے بعد وہ پلٹی تو دادی ابھی تک مصروف تھیں۔
’’دادی! اب کیا بنا رہی ہیں؟‘‘
’’ابھی پتا چل جائے گا۔ تم ذرا ایک خالی پلیٹ میری طرف کرو۔‘‘ سعدیہ نے پلیٹ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے بغور دیکھا۔ پکوڑوں کے لیے جو بیسن گھولا گیا تھا آخر میں اس کی تھوڑی سی مقدار برتن میں رہ گئی تھی۔ دادی نے جو بڑے بڑے پتے پالک کے شروع میں الگ کیے تھے انہیں اچھی طرح اس بیسن میں ڈبو کر تل لیا تھا۔ ساتھ میں ایک آدھ آلو کے باریک قتلے بھی تھے اور ان دونوں چیزوں کوایک الگ پلیٹ میں سجا کر وہ احمد کو بلا لائی تو کچن میں قدم رکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گیا تھا۔ از حد حیرت سے اس نے ایک نظر ٹرے پر ڈالی تھی۔ دوسری سعدیہ کے چہرے پر اور تیسری دادی اماں پر۔
’’یہ من و سلویٰ آج سے پہلے تو ہمارے گھر میں نہیں اترا۔‘‘ اس نے پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے بغور ان تمام چیزوں کا جائزہ لیا۔
’’اچھا اب جلدی سے لے جائو۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ سعدیہ نے اسے ٹوکا تو وہ کندھے اچکاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’ویسے اطلاعاً ایک بات عرض کر دوں میڈم کہ آج سے پہلے کسی مہمان کو اتنی جلدی چائے پیش نہیں کی گئی۔‘‘ باورچی خانے سے باہر نکلتے ہوئے احمد نے صاف گوئی سے جواب دیا تو وہ کھسیا کر اسے آنکھیں دکھانے لگی۔
’’ویسے دادی اماں! آپ نے تو واقعی کمال کر دیا ہے۔ میں توپہلے گھنٹہ بھر پریشان ہوتی اور پھر اگر وقت پر اماں نہ آتیں تو صرف انڈے ابال کر چائے کے ساتھ رکھ دیتی۔ ‘‘ دادی کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے بڑی آسانی سے اپنے پھوہڑ پن کااعتراف کیا تھا۔
’’ارے چندا! وہ زمانے اور تھے جب ہم کمال کیا کرتے تھے اور پھر کمال بھی کیا، اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کا ایک طریقہ ہے یہ بھی۔ گھر گھر میں غربت اور افلاس کا یہی عالم ہے انسان کس کس کے سامنے اپنا روناروئے۔ اور میں تو کہتی ہوں سعدیہ! لباس چھوٹا بھی ہو تو سمٹ کر تن ڈھانپ لینا چاہیے۔ جسم ننگا ہو گاتو اپنی لیے ہی باعث شرمندگی ہو گا نا۔ تو کوشش کیا کرو کہ بہ وقت ضرورت جو بھی چیز میسر آئے اسے اس انداز سے استعمال کرو کہ لوگ تمہاری صلاحیتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ خیر اب تم ایسا کرو یہ تھوڑی بہت چیزیں جو بکھری ہیں انہیں سمیٹ لو۔‘‘
دادی نے کہا تو وہ جو بہت غور سے ان کی باتیں سن رہی تھی، ایک دم چونک گئی۔
’’یہ کچرا اٹھا کر ابھی کوڑے دان میں ڈال دو۔‘‘ دادی نے اپنی بات کہنے کے بعد غور کیا تھا کہ کچن میں کوڑے دان سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’خیر یہ کام پھر کسی وقت کے لیے سہی۔‘‘ وہ چونکہ کافی تھکن محسوس کر رہی تھیں۔ اس باقی کام کو اگلے وقت پر ڈال کر خود کچن سے باہر آ گئیں۔
اگلا دن بہت مصروفیت میں گزرا تھا، کیونکہ جوں ہی سعدیہ صفائی ستھرائی سے فارغ ہوئی تھی دادی اسے ساتھ لے کر کچن میں گھس گئی تھیں اور سب سے پہلے الماری کا تمام سامان نکال کر فرش پر ڈھیر کیاتھا۔ گھی کے خالی ڈبے، اچار کی خالی شیشیاں اور بوتلیں سب الم غلم نکال کر الماری کو خالی کیا۔ دالیں لفافوں میں پڑی تھیں اور چند ایک ڈبے جو دالوں کے لیے استعمال ہوتے تھے وہ جوں کے توں خالی پڑے تھے۔ دادی اماں نے چوکی پہ بیٹھے بیٹھے ضرورت کی کچھ چیزیں الگ کیں اور فالتو سامان اکٹھا کر کے فاروق کے ہاتھ کباڑیے کو بھجوا دیا۔ اس کے بدلے جو روپے ملے ان سے محلے کی دکان سے ہی پلاسٹک کے چھوٹے بڑے ڈبے منگوا لیے گئے تھے۔
سعدیہ کا جوش و خروش تو دیدنی تھا۔ وہ گھر میں ایسی ہی تبدیلی چاہتی تھی۔ سو اب بھی دادی کی ہدایت کے مطابق الماری کی خوب جھاڑ پونچھ کر کے اس میں اخبار بچھا رہی تھی۔ اس کام سے فارغ ہوئی تو دادی نے دالیں صاف کرنے پر لگا دیا۔ ساتھ میں فاروق اور ظفر کو بھی بٹھا لیا۔ خود دادی اماں کی نظر تو اس قابل نہیں تھی سو انہوں نے بچوں کو کہانی سنانی شروع کر دی تھی۔ تا کہ وہ بور ہو کر بھاگ نہ نکلیں اور وہی ہوا کہ جب تک دادی اماں کہانی سناتی رہیں بچے بڑے اطمینان سے دالوں میں سے کنکر چننے میںمصروف رہے تھے اور جوں ہی دادی خاموش ہوئیں وہ فوراً وہاں سے کھسک گئے یہ اور بات ہے کہ وہ اسی وقت خاموش ہوئی تھیں جب دالیں ختم ہوگئی تھیں۔
دالوں کو ڈبوں میں ڈال کر انہیں ترتیب سے الماری میں رکھ دیا گیا تھا جو تھوڑی بہت دالیں مختلف لفافوں میں پڑی ضائع ہو رہی تھیں۔ انہیں سعدیہ نے ملا کر بھگو دیا تھا تا کہ رات کو پکا سکے۔
اس کے بعد برتنوں کی باری آئی تھی۔ تمام برتن دھو کر، خشک کرنے کے بعد الماری میں ترتیب سے لگائے جو برتن اضافی تھے انہیں ایک ٹوکری میں رکھ کر دادی نے سختی سے ہدایت کر دی تھی کہ تینوں وقت کھانے پر صرف یہی برتن استعمال ہوں گے۔ اس کے بعد دادی اماں نے اچار کی خالی شیشیاں اور چٹنی کی شیشیاں خوب اچھی طرح دھو کر خشک ہونے کے لیے دھوپ میں رکھ دی تھیں اور گھی کا ایک بڑا سا ڈبہ لے کر اس کا ڈھکن کاٹ کر اسے کوڑے دان کے طور پر باورچی خانے کے کونے میں رکھوا دیا تھا۔ دوپہر سے شام تو ہو گئی تھی مگر باورچی خانے کی حالت سدھر گئی تھی۔ اس کے بعد سعدیہ نے رات کے کھانے کی تیاری شروع کر دی تھی چنانچہ دادی اماں بھی اٹھ کر چھت پر چلی آئیں جہاں دھوپ ہلکی سی تپش کے ساتھ موجود تھی۔ وہاں جھلنگا سا چارپائی پر بیٹھ کر دادی اماں آئندہ کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے لگی تھیں۔
’’دیکھو سعدیہ بیٹی! اگر غور کیا جائے تو گھر کے تمام افراد کی صحت کی زیادہ تر ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے، اور اب ذرا سوچو کہ جہاں تم کھانا پکاتی ہو وہاں اگر میلے، جھوٹے برتنوں پر ہر وقت مکھیاں بھنبھناتی ہوں اور کوڑے دان سے کچرا باہر کو ابل رہا ہو تو ایسی صورت حال کا کھانے پر اور پھر کھانا کھانے والوں پر کیا اثر مرتب ہوتا ہوگا؟ لہٰذا میری ایک نصیحت پلے سے باندھ لوبیٹی کہ رات کو باورچی خانہ چھوڑنے سے پہلے جھوٹے برتن ضرور دھو لینے چاہئیں اور کوڑے دان سے کچرا پھینک کر اسے دھو کر اوندھے منہ رکھ دینا چاہیے۔ مجھے معلوم ہے دن بھر کے کام کاج کے بعد اس وقت ہر انسان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ فوراً سے پیشتر اپنے بستر میں جا گھسے، لیکن صبح بیدار ہونے کے بعد گندا سندا کچن دیکھ کر جو کوفت ہو گی وہ یقینا اس تکلیف سے بہت زیادہ ہو گی۔ اور پھر اگر تمہاری جگہ کوئی اور باورچی خانے میں کام کرنے کے لیے آئے تو جہاں دوسرا فرد تمہارے بارے میں بہت غلط انداز سے سوچے گا وہاں خود تمہیں بھی بہت شرمندگی ہو گی۔ اور جب گھر کے سب افراد ناشتے کے منتظر ہوں گے اور تمہیں ناشتے کے لیے دھلے دھلائے برتن نہیں ملیں گے تو ذرا تصور کرو کہ افراتفری کا عالم کیا ہوگا؟‘‘
’’تصور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے اماں! ہمیشہ سے یہی تو ہوتا چلا آیا ہے۔ ‘‘ دادی اپنی بات کہہ کر خاموش ہوئیں تو وہ بہت مایوسی سے بولی تھی۔
’’ہاں۔ لیکن آئندہ ایسانہیں ہوگا۔ اگر تم میری باتوں کو پلے سے باندھ لو تو یقین مانو چندا کہ تمہاری سہیلیاں ، رشتے دار، گھر والے سب تمہاری عقل اور سلیقے کی داد دیں گے اور یہ ایسی باتیں نہیں کہ ایک دو دن کام آئیں پھر سب ختم۔ یہ تو وہ سبق ہے جو اگر خوب اچھی طرح ذہن میں بٹھا لو گی تو ساری عمر کام آئے گا۔‘‘ دادی نے کہا تو سعدیہ نے فوراً ان کی تائید کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’ویسے سعدیہ! تم سوچتی توہوگی کہ دادی خوامخواہ ہی میرے پیچھے پڑ گئی ہیں۔‘‘
انہوں نے بغور سعدیہ کو دیکھتے ہوئے وہ بات کہہ ڈالی تھی جو کافی دنوں سے ان کے دماغ میں آ کر کھلبلی مچا دیتی تھی۔
’’ارے نہیں دادی اماں! ایسا تو سوچیے گا بھی مت۔ آپ تو مجھے وہ راستہ دکھا رہی ہیں، جس پر چلنے کی مجھے ایک عرصے سے خواہش تھی۔ میں تو ہمیشہ یہ سوچا کرتی تھی کہ مجھ جیسی لڑکیاں جو زندگی کے دوسرے میدانوں میں کوئی اعلا کارکردگی نہیں دکھا سکتیں انہیں کم از کم گھر گرہستی میں ضرور طاق ہونا چاہیے۔‘‘
’’بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔ کیونکہ اگر ایک عورت اپنے گھر کے افراد کو پرسکون ماحول مہیا کرتی ہے۔ اپنی آئندہ نسل کی بہترین تربیت کرتی ہے تو میرے خیال میں اس سے بڑھ کر اعلا کارکردگی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اور جو عورت یہ دونوں کام احسن طریقے سے انجام دیتی ہے وہ گویا اس معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔‘‘
’’یہ کیا باتیں ہو رہی ہیں دادی، پوتی میں جو ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہیں۔‘‘
رات کا وقت تھا۔ برابر چارپائی پر لیٹی زبیدہ خاتون ان کی مسلسل آتی آوازوں سے ڈسٹرب ہوئیں تو کروٹ بدلتے ہوئے کہے بغیر نہ رہ سکیں۔ سعدیہ اور دادی اماں نے بے اختیار ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا کر استادی ، شاگردی کا کام ملتوی کرتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی تھیں۔
صبح وہ تھوڑا جلدی بیدار ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے حسب معمول نماز پڑھی اور پھر کچن میں آ گئی تھی۔ چائے کا پانی چولہے پر رکھا اور چائے کے تیار ہونے تک آٹا بھی گوندھ لیا تھا۔ پھر کمرے میں آ کر ابا کے جوتے، کپڑے، جرابیں، رومال، بنیان ایک جگہ رکھے باقی سب بھائیوں کے یونیفارم بھی تیار شدہ حالت میں تھے۔ تب اس نے پانی گرم ہونے کے لیے رکھا اور دوسرے چولہے پر ناشتہ تیار کرنے لگی۔ پراٹھے بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھے پھر گرم پانی غسل خانے میں رکھا اور سب کو بیدار کرنے کے بعد باورچی خانے میں دسترخوان بچھا کر ناشتے کا سارا سامان اس پر رکھ دیا تھا۔
دادی کے ساتھ رہ رہ کر ، ان کی باتین سن سن کر خود اس کا اپنا دماغ بھی خوب کام کرنے لگا تھا۔ سو دادی، اماں اور ابا کو کمرے میں ناشتا دے کر وہ خود صفائی میں جت گئی تھی اور جب تک سب لوگ اپنے اپنے کاموں کو سدھارے، وہ دو کمروں کے سوا صفائی کا باقی کام نمٹا چکی تھی اور خلاف عادت وہ مرغیوں کو دانا ڈالنا بھی نہیں بھولی تھی۔ صحن میں ابھی دھوپ صرف دیواروں تک ہی آئی تھی، چنانچہ پہلے اس نے برتن دھونے کا کام کر لیا تھا اور جوں ہی دھوپ نکلنے پر دادی اماں کمرے سے باہر اور اماں سبزی لینے گھر سے نکلی تھیں۔ وہ کمروں میں گھس گئی تھی اور اماں کے سبزی لانے تک بالکل فارغ ہو چکی تھی۔ اپنی اس حیرت انگیز کارنامے پر وہ خاصی خوش نظر آ رہی تھی۔ دادی اماں بھی قدرے مطمئن تھیں۔
’’سعدیہ! ٹوکری اور چھری لائو بھئی۔ میں سبزی تیار کر دوں۔‘‘ اماں نے ایک مرتبہ پھر سعدیہ کی پریڈ کروانی تھی، مگر دادی نے بے اختیار ہی انہیں روک دیا تھا۔
’’رہنے دو بہو! سبزی اسے دو، یہ خود ہی بنا لے گی۔‘‘ دادی کے کہنے پر سعدیہ نے اماں کی آنکھوں سے جھلکتی حیرت کو نظرا نداز کرتے ہوئے سبزی ان سے لے لی تھی۔
’’سبزی بنانے سے پہلے دھونے والے کپڑوں کو سرف میں بھگو دو۔کچن کی طرف جاتے ہوئے سعدیہ نے دادی کی آواز سنی تھی۔ کپڑے بھگونے کے بعد وہ پیاز کاٹ رہی تھی جب دادی نے کچن میں جھانکا۔ وہ پیاز کاٹنے کے بعد گوبھی کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھی۔
’’اگر اپنی اماں کی طرح کام کرو گی تو ایک گھنٹہ سبزی بنانے میں لگے گا اور ایک گھنٹہ پکانے میں۔ پیاز برائون ہونے کے لیے ہلکی آنچ پر رکھ لو اور باقی سبزی کاٹ لو۔‘‘
دادی اتنا کہہ کر لوٹ گئی تھیں۔ سعدیہ نے کھسیا کر اپنے سر پر ہاتھ مارا اور پھر پیاز چولہے پر رکھ دی اور پھر بچوں کے اسکول سے آنے سے پہلے ہی وہ کھانا تیار کر چکی تھی۔ اب کپڑوں کی باری تھی جنہیں پہلے سے بھگو دینے کی وجہ سے زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑی تھی۔ کپڑے پھیلانے کے بعد اس نے نہا دھو کر کپڑے تبدیل کیے تھے۔ بالوں کو سمیٹ کر چٹیا کی شکل دی تھی۔ اپنا صاف ستھر احلیہ خود اسے تو بہتر لگاہی تھا مگر بھائی بھی نوٹ کیے بغیر نہ رہ سکے تھے۔
’’اوہو! دیکھنا ذرا بچے اپنی مائوں سے عیدی مانگنا نہ شروع کر دیں۔‘‘ احمد نے اسے دیکھتے ہی کہا تھا۔
’’ہیں…آپی! آپ کو کیا ہوا ہے؟‘‘ ظفر نے حیرت سے کہا تھا۔ وہ ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی۔ مگر جب فاروق نے گھر میں داخل ہوتے ہی بڑے تجسس سے پوچھا تھا کہ
’’آپ ! کہیں جا رہی ہیں؟‘‘ تو وہ روہانسی ہو کر رہ گئی تھی۔
’’لو…اب کیا میں نہا کر کپڑے بھی نہیں بدل سکتی۔‘‘ وہ پائوں پٹخ کر وہاں سے ہٹ گئی تھی اور سوکھے کپڑے اتارنے لگی تھی۔ کپڑے رکھنے کمرے میں گئی تو دادی اماں پہلے سے وہاں موجود تھیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھاکہ اس الماری کو بھی پوسٹ مارٹم کی اشد ضرورت ہے۔ چنانچہ اگلی صبح یہ مہم بھی سر کر لی گئی۔ تمام غیر ضروری کپڑے جو الماری میں خوامخواہ جگہ گھیرے رکھتے تھے انہیں الگ کر دیا گیا تھا۔ باقی کپڑے تہہ کر کے رکھ دیئے گئے۔ ایک خانے میں احمد اور ابا کے کپڑے تھے، دوسرا خانہ ظفر اور فاروق کے کپڑوں کے لیے مخصوص کر دیاگیا تھا۔ تیسرے میں حسن، سعدیہ اور اماں کے کپڑے تھے۔ آخری خانے میں گھر بھر کے تکیوں کے غلاف ، بستر کی چادریں اور دوسرے کورز وغیرہ ڈھونڈ کر رکھ دیئے تھے اس کے علاوہ ازار بند، رومال، جرابیں اور دیگر چھوٹی چیزیں جن کے گم ہونے کا خدشہ رہتا ہے وہ ایک شاپر میں باندھ کر رکھی گئی تھیں۔
سعدیہ اس بات پر خاصی پریشان تھی کہ غیر ضروری اور ناقابل استعمال کپڑوں کا جو ڈھیر پڑا ہے آخر اس کا کیا کیا جائے۔ مگر دادی اماں اس معاملے میں بھی بہت مطمئن تھیں اور مطمئن کیوں تھیں اس بارے میں سعدیہ کو بعد میں معلوم ہوا تھا ، جب انہوں نے چھوٹے چھوٹے رومال بنا کر اسے دیئے کہ جب بھی ہنڈیا بنائی جائے یا دودھ ابالا جائے ان رومالوں سے ہنڈیا یا دیگچی کو ڈھانپ دیا جائے تاکہ وہ مکھیوں سے محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ کچھ ٹرے کورز، ایک دو میز پوش بنائے گئے تھے جن پر دادی کا خیال تھا کہ اگر کڑھائی کر لی جائے تو نہایت خوب صورت لگیں گے۔ سعدیہ کے ذہن نے بروقت کام کیا تھا اور اس نے محلے کی ہی دکان سے فیبرک پینٹس منگوا لیے تھے جو نہ صرف بے حد سستے تھے بلکہ دیکھنے میں خوبصورت بھی لگتے تھے۔ چنانچہ کسی پر کوئی خوبصورت منظر پینٹ کیا گیا اور کسی پر مختلف رنگوں کے پھول بنائے گئے تھے۔ چونکہ یہ تمام مردانہ کپڑے یا اسکول یونیفارم سے کاٹ کر بنائے گئے تھے، اس لیے فیبرک پینٹس ان پر خوب جچ رہے تھے۔ جو رنگ دار یا پھول دار کپڑے تھے ان سے دو تین بڑے بڑے رومال بنا کر کچن میں رکھ دیئے تھے۔ ایک کپڑا کھانا وغیرہ بنانے کے بعد چولہا صاف کرنے کے لیے تھا، جو چولہے کے پاس رکھا گیا تھا اور جسے ہر روز دھونے کی تاکید بھی دادی نے کی تھی۔ دوسرا دھلے ہوئے برتن خشک کرنے کے لیے تھا۔ ایک دو سوٹ ایسے بھی تھے جو خاصی اچھی حالت میں تھے، مگر سائز چھوٹا ہونے کی بنا پر یوں ہی پڑے رہتے تھے۔ انہیں اٹھاکر ٹرنک میں رکھا گیاتھا کہ یہ پھر کسی کام آ جائیں گے۔
غرض اسی طرح محض دو ماہ میں گھر میں حیرت انگیز مگر نہایت خوشگوار تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔ دادی اس بات پر بے حد خوش تھیں کہ سعدیہ گھر گرہستی کا ذوق و شوق رکھتی تھی۔ دادی اماں نے اس کو انگلی تھام کر چلنا سکھایا تھا مگر وہ بھاگنے لگی تھی۔ انہوں نے اپنے تجربے سے کام لیتے ہوئے اسے دس چیزیں سکھائی تھیں تو سعدیہ نے اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر دس کو بیس بنا دیا تھا۔ دادی کروشیے کا کام اچھی طرح جانتی تھیں۔ سعدیہ نے ایک ہی دن میں یہ ہنر بھی حاصل کرلیا تھا اور پھر ایک ہفتے میں اس نے کروشیے سے اون کی نہایت خوبصورت ٹوکری تیار کر لی تھی۔ اسے مضبوط بنانے کے لیے اس نے اندر کی سائڈ پر موٹا سا گتہ لگا دیا تھا۔ دیکھنے میں یہ نہایت خوب صورت ڈیکوریشن پیس کا تاثر دیتی تھی۔ لیکن سعدیہ نے اس میں سلائی کا تمام سامان رکھنے کے ساتھ ساتھ نیل کٹر، انچی ٹیپ جیسی چیزیں بھی رکھ دی تھیں جن کو ڈھونڈنے کے لیے اس سے پہلے اسے پورا گھر چھاننا پڑتا تھا۔ ہاں البتہ ایک چیز سے وہ اب بھی سخت نالاں تھی وہ یہ کہ بچوں کی کتابیں، کاپیاں اور بستے یوں ہی چارپائیوں پر بکھرے رہتے تھے۔ دادی سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا۔
’’اگر بچوں کے پاس کتابیں رکھنے کا کوئی مستقل ٹھکانا نہیں ہو گا تو وہ ایساہی کریں گے۔‘‘
’’لیکن اب مستقل ٹھکانا کہاں سے لایا جائے؟‘‘ وہ عجیب مخمصے میں پڑ گئی تھی۔
دادی اماں چند لمحے کے لیے سوچتی رہیں، پھر پورے گھر کا جائزہ لیا جو دو کمرے زیر استعمال تھے، ان میں ہر ایک میں دو دو الماریاں بنی ہوئی تھیں۔
’’سعدیہ ! یہ کمروں میں دیواروں کے بیچ جو الماریاں ہیں۔ ان میں کون سی چیزیں پڑی ہیں۔‘‘
’’کچھ بھی نہیں۔ پرانی کتابیں اور اخبار وغیرہ ہیں۔‘‘
’’بس پھر تو کام بن گیا۔‘‘ دادی کے معنی خیز لہجے پر سعدیہ نے چونک کر انہیں دیکھا اور پھر ان کی بات سمجھ کر ایک دم کھل اٹھی۔
’اگلے روز فراغت پاتے ہی سعدیہ ردی جمع کرنے میں لگ گئی تھی۔ دادی دروازے کے آس پاس منڈلانے لگیں۔ زبیدہ خاتون حسب معمول محلے کی سیر کو نکلی ہوئی تھیں۔
ردی والا آیا تو دادی نے ساری ردی اس کے حوالے کر دی۔ اس سے جو پیسے ملے ان میں کچھ پیسے مزید شامل کیے اور ہمسائے کے لڑکے کو ساتھ لے کر باہر نکل گئیں۔ ارادہ تو بازار جانے کا تھا مگر جب ہمسائے کے لڑکے کی زبانی معلوم ہوا کہ یہیں دو گلیاں چھوڑ کر ایک نرسری موجود ہے تو وہ سیدھی ادھر کو ہو لیں۔ واپس آئیں تو نرسری کا ایک آدمی سائیکل پر ادھر ادھر لٹکتے تھیلوں میں گملے رکھے ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ گھر میں گملوں سمیت داخل ہوئیں تو سعدیہ حیرت زدہ سی آگے بڑھی تھی۔
’’دادی اماں ۔ یہ کیا؟‘‘ چھوٹے بڑے کتنے ہی گملے تھے۔ کسی میں بیل لگی ہوئی تھی تو کسی میں پھولدار پودے۔
’’بس بیٹی! اچانک ہی ارادہ بن گیا۔ سوچا گھر میں سبزہ ہو تو آنکھوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ گملے اٹھا لائی اور پھر سستے بھی تو مل رہے تھے۔ یہ جو چھوٹے چھوٹے ہیں، ان میں سے کوئی پندرہ روپے کا ہے تو کوئی بیس روپے کا۔ بس پھر میں تو اٹھا لائی۔‘‘
’’بہت اچھاکیا۔ مجھے تو خود بہت شوق ہے گھر میں گملے رکھنے کا۔ ‘‘ سعدیہ نے کہا اور گملے رکھنے کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے لگی۔
احمد اور فاروق وغیرہ اسکول سے واپس آئے تو وہ سیدھی انہیں کمرے میں لے گئی۔ صاف ستھری الماریاں اور ان پر لٹکتے جالی کے پردے۔ فاروق کی تو گویا عید ہو گئی۔ فوراً اپنے جمع شدہ اسٹکرز نکال کر الماری سجانے لگا۔ اپنے رنگین مارکرز، ہاتھ سے بنائی ہوئی تصویریں ، بچپن کے ٹوٹے پھوٹے کھلونے۔ اس نے سب کے سب الماری میں رکھ لیے تھے۔ احمد بھی کافی خوش نظر آ رہا تھا۔ کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی چیزیں رکھنے کے لیے کسی مستقل ٹھکانے کی تلاش میں رہتا تھا۔ ظفر اور حسن کا بھی یہی حال تھا۔ سعدیہ ان کی طرف سے مطمئن ہو کر باہر نکلی تب ہی اماں چلی آئیں۔ ایک مٹھی میں مونگ پھلی دبا رکھی تھی کڑکڑکرتی آ رہی تھیں۔ چند چھلکے ڈیورھی میں پھینکے، چند صحن میں، باقی سعدیہ سے گملوں کی بابت پوچھتے ہوئے برآمدے میں بکھیر دیئے۔ دادی نے دیکھا تو بے اختیار ٹوک دیا۔
’’اے بہو…! بچی نے اتنی محنت سے صفائی کی تھی اور تم پھر سے گند ڈالنے لگی ہو۔‘‘
جواباً زبیدہ خاتون نے لاپروائی سے انہیں دیکھا بے نیازی سے آخری چھلکا بھی ہوا میں اچھالا اور پھر ہاتھ جھاڑتے ہوئے ان کے برابر آ بیٹھیں۔
’’کچھ نہیں ہوتا اماں تھوڑے چھلکے ہی تو ہیں۔ اٹھا لے گی۔ اور یہاں کون سا وزیر دورے پر آ رہے ہیں جو ہنگامی حالت نافذ ہو۔ ویسے اماں مونگ پھلی تھی بڑی میٹھی ہے۔ سکینہ کا بیٹا بازار سے لایا تھا ورنہ یہاں تو کسی کام کی نہیں ملتی۔‘‘
زبیدہ خاتون کی اپنی ہی دلچسپیاں تھیں اور جب سے دادی یہاں آئی تھیں وہ گھر کی طرف سے زیادہ ہی لاپروا ہوگئی تھیں۔ دادی نے بس ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر طویل سانس لے کر ان کی بے تکی باتیں سننے لگیں۔
رمضان کی آمد میں محض چند دن رہ گئے تھے، لیکن گھر میں اس کے استقبال کی کوئی خاص تیاریاں دیکھنے میں نہیں آ رہی تھیں۔ دادی نے سرسری سے انداز میں بہو سے ذکر کیا تو جواباً انہوں نے کہا تھا۔
’’تیاری کیا کرنی ہے اماں! رمضان آئے گا اور روزے رکھ لیں گے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔‘‘
’’لیکن پھر بھی بہو! ماشاء اللہ بھرا پرا گھر ہے کچھ آنے جانے والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ افطاری … سحری…آخر کچھ تو انتظام کرنا چاہیے نا؟‘‘ دادی نے قدرے حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’ہاں وہ تو میں سعدیہ کے اباسے کہہ دوں گی۔ سارا سودا سلف وہی لے آئیں گے۔‘‘
’’اے لو…ارے اسے کیا معلوم کیا کیا چیزیں خریدنی ہیں۔ کتنے داموں میں خریدنی ہیں۔ وہ تو سارے پیسے بھاڑ میں جھونک آئے گا۔ جتنے پیسے کسی نے مانگے اتنے دے دیئے۔ ‘‘ وہ بیٹے کی قلندرانہ صفت سے خوب واقف تھیں۔
’’ایسی بھی بات نہیں اماں! پہلے بھی سارا راشن وہی لے کر آتے ہیں۔ ‘‘ زبیدہ خاتون نے انہیں تسلی دینی چاہی تھی۔
’’اسی لیے تو ساری تنخواہ دال، مرچ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔‘‘
انہوں نے جل کر کہاتھا۔ بہو کی گھریلو معاملات میں عدم دلچسپی انہیں کبھی بھی پسند نہیں آئی تھی اور نہ ہی کبھی بہو نے یہ سننے سمجھنے کی کوشش کی تھی کہ یہ بڑی اماں کہتی کیا ہیں۔ چنانچہ دادی بھی خاموش ہو رہی تھیں۔ لیکن دو روز بعد جب تنخواہ ملنے پر سعدیہ نے اماں کی بنوائی ہوئی سودا سلف کی لسٹ ابا کے ہاتھ میں دی تھی تو دادی نے بڑے آرام سے وہ لسٹ اور روپے فیضان سے لے لیے تھے۔
’’یہ خریداری میں خود کروں گی۔‘‘ انہوں نے بڑے مان سے کہا تھا۔ فیضان کے سر سے تو بوجھ اترگیا تھا بخوشی انہیں پیسے تھما دیئے۔ اگلے روز وہ احمد کے سر ہو گئیں کہ وہ انہیں بازار لے کر جائے۔ احمد نے شام تک کا کہہ کر ٹال دیا۔ شام ہوئی تو اگلی صبح کا کہہ کر دامن بچا گیا۔ دادی کو خوب علم ہوگیا تھا کہ وہ کنی کترا رہا ہے لہٰذا اگلی شام جب احمد گھر میں داخل ہوا تو وہ اسی وقت اٹھ کھڑی ہوئیں۔ احمد بس گردن کھجاتا رہ گیا۔
’’دادی! اب اس عمر میں آپ بازار میں کہاں خوار ہوں گی۔ لائیں میں چیزیں لا دیتا ہوں۔‘‘
’’اس عمر میں…! کیا مطلب ہے بھئی تمہارا…؟ کیا میں بوڑھی ہوگئی ہوں۔ ہیں؟ ارے بوڑھا تو وہ ہوتا ہے جس کے بدن میں دم خم نہ رہے ، ارے میرے ہاتھ پائوں تو آج بھی جوانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ دماغ اور نظر اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ دانت بھی بتیس کے بتیس پورے ہیں۔ تمہاری اماں سے زیادہ بوڑھی نہیں ہوئی ہیں، ہاں۔‘‘
دادی کہتے کہتے بیرونی دروازہ پار کر گئی تھیں۔ احمد نے بے چارگی سے پلٹ کر سعدیہ کو دیکھا اور پھر دعائے خیر کا اشارہ کرتا ہوا باہر نکل گیا۔ جبکہ سعدیہ اس کی عقب میں مسکراتی رہ گئی تھی پھر وہ اپنے کاموں میں لگ گئی۔ رفتہ رفتہ شام کی سرخی سیاہی میں بدلنے لگی تھی۔ وہ رات کا کھانا پکا کر فارغ ہوئی تو احمد اور دادی اماں کے انتظار میں ڈیوڑھی کے چکر لگانے لگی۔ کافی دیر ہوگئی تھی انہیں گئے ہوئے ۔ وہ فکر مند سی ہوگئی۔
کافی انتظار کے بعد خدا خدا کر کے بیرونی دروازہ کھلا۔ سب سے پہلے احمد اندر داخل ہوا تھا۔ چھوٹے بڑے تھیلوں میں لدا پھندا۔ ماتھے پہ تیوریاں، منہ غبارے کی طرح پھولا ہوا۔ سعدیہ نے فوراً آگے بڑھ کر سامان اس کے ہاتھوں سے لینا چاہا مگر وہ پائوں پٹختا ہوا برآمدے میں گیا اور سارا سامان وہیں ڈھیر کر کے خود کمرے میں گھس گیا۔
’’احمد …! دادی اماں کو بازار میں چھوڑآئے ہو کیا؟‘‘ دادی کو اس کے پیچھے نہ آتے دیکھ کر وہ فوراً اس کی طرف لپکی۔
’’اگر چھوڑ بھی آیا ہوں تو فکر نہ کرو، بازار انہیں خود یہاں چھوڑنے آ جائے گا۔ کیونکہ وہ بھی انہیں زیادہ برداشت نہیں کر سکے گا۔‘‘ احمد نے خاصے جلے بھنے انداز میں کہا تب ہی بیرونی دروازے میں دادی ایک ’’ہائے‘‘ کے ساتھ نمودار ہوئی تھیں۔ سعدیہ نے فوراً آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا اور تھام کر کمرے میں آ گئی۔
’’اف سعدیہ بیٹی! تھکن سے میرا تو برا حال ہوگیا۔‘‘ انہوں نے چارپائی پر بیٹھتے ہی اپنے پیر جوتوں کی قید سے آزاد کیے اور انہیں انگوٹھوں کی مدد سے مسلنے لگیں۔
’’آپ بھی تو خود کو جوان ثابت کرنے پر تل گئی تھیں دادی اماں۔‘‘ احمد نے جا ن بوجھ کر انہیں چھیڑا۔
’’تم تو خاموش ہی رہو۔‘‘ انہوں نے پہلے احمد کو گھورا پھر سعدیہ کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’سارا وقت اس لڑکے نے تنگ کیے رکھا مجھے۔ اب دیکھو نا اشیاء کی جانچ پرکھ میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے نا۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ بندہ الم غلم چیزوں پر پیسے خرچ کر کے مطمئن ہو جائے اور یہ دکاندار … توبہ … گاہک کو تو بے وقوف سمجھ لیتے ہیں۔‘‘
وہ دکانداروں کو کوسنا شروع ہوگئیں تو سعدیہ ان کے لیے کھانا لینے کچن میں آ گئی۔ وہاں اماں بیٹھی سارے سامان کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اسے دیکھتے ہی منہ بنایا اور ہاتھ میں پکڑا تھیلا کئی فٹ دور کھسکا دیا۔
’’اللہ جانے کیا الم غلم اٹھا لائی ہیں۔ یہ گاجر، مولیاں، آلو…میں نے تو ایسا کچھ نہیں لکھوایا تھا۔ اپنی مرضی سے ہی اٹھاکر لے آئیں۔ سارے پیسے برباد کر کے رکھ دیئے۔ اب اس عمر میں انہیں کچھ کہوں تو میں ہی بری بنوں گی نا؟‘‘
اماں بڑبڑاتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئی تھیں۔ سعدیہ نے حیران ہوتے ہوئے سامان کا از سر نو جائزہ لیا۔ اکثر چیزیں ان کی بنائی گئی لسٹ کے مطابق نہیں تھیں۔
’’اگر دادی یہ سب چیزیں لائی ہیں تو یقینا فائدہ مند ہی ہوں گی۔ دادی جیسی خاتون پیسے برباد کریں یہ تو ہوہی نہیں سکتا۔‘‘ سعدیہ کسی صورت بھی دادی کے خلاف غلط نہیں سوچ سکتی تھی۔ اور اس کی یہی سوچ اگلے روز بالکل درست ثابت ہوئی تھی۔
سعدیہ کی توقع کے برعکس اگلی صبح دادی اماں بالکل ہشاش بشاش تھیں۔ گزشتہ رات کی تھکن کے ان کے چہرے پر آثار تک نہ تھے۔ وہ روزمرہ کے کام کاج سے فارغ ہوئی تو دادی نے اسے آواز دے کر کچن میں بلا لیا۔ اماں خفا خفا سی دھوپ میں چادر لیے لیٹی ہوئی تھیں۔ وہ کچن میں آئی تو دادی نے تھیلے میں سے گاجریں نکال کر اس کے حوالے کر دیں۔
’’انہیں خوب اچھی طرح دھو کر ان کا چھلکا کھرچ دو۔‘‘
’’لیکن دادی اماں اس کا کرنا کیا ہے؟‘‘
’’تمہاری ماں نے بازار کا اچا رلانے کو کہا تھا مگر وہ تو یونہی برتنوں میں کھلا پڑا تھا۔ میرا دل نہیں چاہا لینے کو۔ جو اچار شیشیوں میں بند ملتا ہے ایک تو مہنگا تھا پھر اتنا کم تھا کہ دس پندرہ روز میں ہی ختم ہوجاتا لہٰذا میں مولی، گاجریں لے آئی ہوں۔ گھر میں اچار بنا لیں گے۔ صاف ستھرا ہو گا اور مہینہ بھر آرام سے چل جائے گا۔‘‘
دادی اماں نے مولیاں بھی ٹوکری میں رکھتے ہوئے اسے بتایا تو وہ ان کی عقلمندی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکی اور پھر ان کے ساتھ مل کر اچار بنانے لگی۔ اس کا خیال تھاکہ کافی وقت لگے گا اس کام میں لیکن دادی نے تو اس کام کو بھی چٹکی بجا کر تمام کر دیا تھا۔ گاجروں اور مولیوں کو دھو کر چھیلنے کے بعد انہوں نے اسے مناسب سائز میں کاٹ کر سرسوں کے تیل سے نکال کر ٹھنڈا کرنے کے بعد ان پر اندازے سے ہی پسی ہوئی سرخ مرچ، نمک اور ٹاٹری چھڑک دی تھی۔ پھر اسے اچا ر کی شیشیوں میں ڈالنے کے بعد اس میں سرسوں کا وہی تیل ڈال دیا تھا جس میں وہ فرائی کی گئی تھیں۔
’’لو بھئی، مجھے یقین ہے کہ اتنا مزیدار اور جھٹ پٹ تیار ہونے والا اچار تم نے کبھی نہیں کھایا ہوگا۔ ‘‘ دادی نے کہا تو وہ ایک دم حیران ہو گئی۔
’’ہیں۔ تو کیا یہ تیار ہو چکا ہے؟‘‘
’’ہاں بالکل۔ چاہو تو ابھی کھا کر دیکھ لو اور ہاں یہ بھی بتا دوں کہ اگر تمہیں پسند ہو تو مٹر کے دانے نکال کر انہیں تیل میں ہلکا سا فرائی کرنے کے بعد تم اس اچار میں شامل کر سکتی ہو، تمہیں یقینا وہ بہت مزے کے لگیں گے۔‘‘
دادی کے کہنے پر اس نے فوراً اچار چکھا تھا اور ہلکی سی کھٹاس لیے ہوئے یہ اچار واقعی بہت لذیذ تھا۔ سحری کے لیے دادی نے یہ اچار بنا دیا تھا اور افطاری کے لیے املی کی چٹنی بنا کر بوتلوں میں بھر دی تھی۔
سعدیہ نے دادی کے کہنے پر تمام مسالے پیس کر رکھ لیے تھے اور پہلے روزے میں رات کو ہی سحری کا زیادہ تر انتظام کر لیا تھا تا کہ صبح اگر دیر سے آنکھ کھلے تب بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شام کو افطاری کے وقت اس نے دادی کی مدد سے گھر میں سموسے تیار کیے تھے جو سعدیہ کی توقع کے برعکس بہت ہی اچھے بنے تھے۔ دادی کے لیے تو یہ عام سی بات تھی کہ وہ اور ثریا اکثر ہی سموسے گھر پر تیار کر لیا کرتی تھیں۔ سعدیہ البتہ اپنی کارکردگی پر بہت خوش نظر آ رہی تھی۔ جتنے پیسوں میں بازار سے سموسے لا کر بانٹ بانٹ کر کھائے جاتے تھے اتنے ہی پیسوں میں سب گھر والوں نے جی بھر کے سموسے کھائے بھی بلکہ آس پڑوس میں بھی بھجوائے تھے۔ اس کی دیکھا دیکھی مینانے بھی کوشش کی مگر بری طرح ناکام ہوئی نتیجتاً خوب ڈانٹ کھائی اپنی بے بے سے۔
’’میں نے کہاتھا ناں کتابیں پڑھ لینے سے کچھ نہیں ہوتا۔گُر تومائوں کے سکھانے سے ہی آتے ہیں۔‘‘ سعدیہ کو دادی کی بات سے پورا اتفاق تھا مگر اماں کا منہ بن گیا تھا۔
تب ہی ایک روز محلے کی ایک خاتون چلی آئیں۔ باتوں ہی باتوں میں وہ بچوں کی پڑھائی اور ان کی نالائقی کا رونا رونے لگیں۔ سعدیہ نے انہیں بچوں کو ٹیوشن رکھوانے کا مشورہ دیا تو جواباً انہوں نے یہ ذمہ داری اسی کے سر ڈال دی اور ڈالی بھی اس لجاجت بھرے لہجے میں کہ اسے ’’ہاں‘‘ کرتے ہی بنی۔ ٹیوشن فیس کی بات ہوئی تو سعدیہ ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گئی۔ اس عورت کی گھر میں تین چار بھینسیں تھیں اورمحلے کے ہر گھر میں ان ہی کے گھر سے دودھ جاتا تھا۔ چنانچہ سعدیہ نے کہہ دیا کہ پیسے کے بجائے وہ ہر روز دودھ ان کے گھر پہنچا دیا کریں۔ وہ عورت بہ خوشی راضی ہوگئی اور اگلی ہی صبح خالص اور تازہ دودھ گھر میں آنے لگا۔ گوالے کا حساب کتاب کر کے اسے فارغ کر دیا گیا اور اس پانی ملے دودھ سے جان چھوٹنے پر سب ہی نے شکر ادا کیا تھا۔
شروع میں وہ سارا دودھ ابال کر رکھنے لگی مگر ایک تو روزے اور دوسرے کوئی بھی دودھ اتنے شوق سے نہیں پیتا تھا چنانچہ وہ روز رات کو کچھ دودھ کی سویٹ ڈش بنا لیتی اور باقی کو جاگ لگا کر دہی بنا لیتی۔ جو دہی سحری میں استعمال ہونے سے بچ جاتا اس کی لسی بنا کر مکھن نکال لیاجاتا۔ اب اتنی سردی میں لسی تو کوئی پیتا نہیں تھا سو دادی کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد سعدیہ اس سے اپنے بال دھونے لگ گئی اور دادی کی ڈانٹ ڈپٹ کا نتیجہ اتنے خوب صورت بالوں کی شکل میں سامنے آیا کہ اس نے دونوں گھٹنے ٹیک کر باقاعدہ طور پر دادی کو ’’گرو‘‘ مان لیا تھا کہ ان ہی کی بدولت اس کی زندگی ایک پرسکون ندی کی مانند رواں دواں ہو گئی تھی۔ وہ تو مطمئن تھی ہی ،گھر والوں کی باتوں نے اسے مزید پراعتماد بنا دیا تھا۔ ابا میٹھے کے بہت شوقین تھے۔ رات کو مزے سے سویٹ ڈش لیتے اور ساتھ ہی کہتے۔
’’لگتا ہے اس دفعہ شروع کی تاریخوں میں ہی تنخواہ پار ہو جائے گی۔‘‘
’’سعدیہ! تمہاری لاٹری نکل آئی ہے کیا؟یا پھر قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیاہے؟‘‘
احمد کو بھی دوستوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑتا تھا، اس لیے ہر وقت خوش مزاجی کا مظاہرہ کرتا رہتا۔ ہر روز نیا صاف ستھرا لباس پہن کر باہر نکلتا تو واپسی پر اس کے لیے کوئی نہ کوئی چیز ضرور لے آتا۔ اماں جو پہلے ہر وقت اسے کوسنے میں لگی رہتی تھیں اب ہر آنے جانے والے کے سامنے اس کی تعریف کرتے نہ تھکتیں۔ اور سعدیہ دل ہی دل میں سارا کریڈٹ دادی اماں کو دے دیتی۔
ظہیر نعمان کا خط آیا تھا جس میں ثریا نے سارے گھر والوں کو رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہونے پر مبارک باد دی تھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ دادی اماں کو بے حد تاکید بھی کی تھی کہ وہ عید سے قبل اپنی آمد کے پروگرام سے آگاہ کر دیں تا کہ ظہیر انہیں لینے کے لیے آ سکے۔ احمد نے خط پڑھ کر سنایا تھا اور یہ بات سنتے ہی سب لوگ چیخ اٹھے تھے کہ
’’نہیں۔ دادی اماں اس دفعہ ہمارے ہاں عید منائیں گی۔‘‘
’’ارے نہیں بھئی۔ ثریا نے اتنے دن بھی جانے کیسے کاٹ لیے میرے بغیر۔ وہ تو میکے بھی جائے تو ایک آدھ دن میں ہی لوٹ آیا کرتی ہے کہ اماں پیچھے اکیلی ہوں گی۔‘‘دادی نے بڑے میٹھے لہجے میں انکار کیا تھا پھر بھی سب کے منہ بن گئے۔
’’لیکن دادی اماں! ہمارا بھی تو آپ پر کچھ حق ہے نا؟‘‘ ظفر نے فوراً انہیں یاد دلایا۔
’’اور پھر ظہیر بھائی ہیں نا ان کے پاس۔‘‘ احمد نے بھی لقمہ دیا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے بیٹالیکن یہ لڑکے بالے ایسے موقعوں پر گھروں میں کب رہتے ہیں۔ وہ بھی نکل جائے گا اپنے دوستوں میں۔ ثریا بے چاری ہولتی رہے گی خالی گھر میں۔‘‘ دو طرفہ پرخلوص محبتوں کے اس مظاہرے نے انہیں عجیب مخمصے میں ڈال دیا تھا مگر بہو کی تنہائی کا احساس بھی شدت سے تھا جو ان کی عدم موجودگی کے باعث عید کے پرمسرت موقع پر یقینا مزید بڑھ جاتا۔
’’تو دادی اماں…ایسا کرتے ہیں کہ تائی ثریا اور ظہیر بھائی کو یہاں بلا لیتے ہیں۔ اس دفعہ ہم سب لوگ عید اکٹھے منائیں گے۔ سچ بہت مزا آئے گا۔‘‘ احمد نے دادی کو سوچ میں پڑتے دیکھا تو فوراً مشورہ دے دیا۔ باقی سب نے بھی اس کی پرزور تائید کی تھی۔
’’ہاں ایسا ہوتو سکتا ہے مگر…؟‘‘
’’مگر…؟‘‘
’’بیٹا اٹھنے بیٹھنے کی بہت تنگی ہو جائے گی۔ دو ہی تو کمرے ہیں گھر میں۔ پھر خرچ بھی پہلے سے بہت بڑھ جائے گا خوامخواہ میں…‘‘ دادی اماں بات کے ہر پہلوکو مدنظر رکھتی تھیں۔
’’لیں دادی اماں یہ کیا بات ہوئی بھلا؟‘‘ سعدیہ برا مان گئی تھی۔
’’دل میں جگہ ہو تو گھرمیں جگہ خود بخود بن جاتی ہے۔ باقی رہی خرچ کی بات۔ آنے والے اپنا رزق ساتھ لے کر آئیں گے۔ ہم خود روکھی سوکھی کھا لیں گے، مگر ان کی مہمان نوازی میں فرق نہیں آنے دیں گے۔ بس اب آپ جلدی سے انہیں خط لکھوا کر یہاں آنے کی دعوت دے دیں۔‘‘ سعدیہ نے انہیں قائل کر کے ہی چھوڑا تھا۔
’’چلو ٹھیک ہے بھئی۔ میں آج شام ہی اس کو ٹیلی فون کر دوں گی۔‘‘
’’ٹیلی فون کیوں دادی؟ خط لکھوا لیں نا؟‘‘ سعدیہ نے ان سے کہا مگر وہ مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی تھیں۔
’’جو بات میں نے اسے بتانی ہے وہ خط میں نہیں لکھی جا سکتی وہ بھی اس صورت میں جب کہ خط تم سے لکھوانا ہو۔‘‘
انہوں نے ہلکی سی چپت اس کے سر پر لگاتے ہوئے مبہم سی بات کی تھی۔ سعدیہ کو ان کی بات سمجھ میں تو نہیں آئی تھی مگر کریدا اس لیے نہیں تھا کہ اس وقت اس کے ذہن پر اک نئی فکر سوار ہو چکی تھی۔ گرمیوں میں پھر بھی سہولت رہتی تھی، مگر سردیوں میں وہ سب بمشکل چارپائیاں کمروں میں ٹھونس کر پورے آتے تھے۔ رات گئے تک وہ اس مسئلے کے بارے میں سوچتی رہی اور پھر ایک فیصلہ کر کے اطمینان سے سوگئی۔ اگلے روز جب دادی اماں فاروق کے ساتھ پی سی او پر فون کرنے گئیں تو صحن کے آخری کونے میں بنے اسٹور کو خالی کرنے کے لیے وہ کمر بستہ ہو چکی تھی۔ یہاں پہلے صرف اماں کی جہیز کی پیٹیاں، صندوق اور ٹرنک وغیرہ پڑے تھے بعدمیں کاٹھ کباڑ بھی اسی کمرے میں بھرتا چلاگیا اور بعد میں اسٹور کی شکل اختیار کر گیاتھا۔ اسٹور خالی کرنا شروع کیا تو کئی چیزیں ایسی نکل آئیں جو دادی کی ٹریننگ کے بعد اب کارآمد بنائی جا سکتی تھیں۔ انہیں نکال کر سعدیہ نے الگ کر لیاتھا۔ باقی کچھ مرمت کے قابل کرسیاں تھیں، کوئی ایک ٹانگ کی میز تھی، کچھ پرانے بیگ، پرانے جوتے اور اسی قسم کی الم غلم چیزیں جن میں کچھ تو اماں سے آنکھ بچا کر اس نے باہر پھنکوا دیں، باقی کا سارا سامان چھت پر موجود کوٹھڑی میں پہنچا دیا جہاں سردیوں کے لیے ایندھن وغیرہ رکھا جاتا تھا۔
دو دن کی لگاتار محنت کے بعد اس نے پانی کا پائپ لے کر فرش اور دیواروں کے ساتھ ساتھ چھت بھی دھو ڈالی تھی۔ یہ کمرہ باقی کمروں کی نسبت کافی کشادہ تھا۔ اماں کی پیٹیاں ایک دیوار کے ساتھ لگائیں تو چار چارپائیوں کی جگہ آسانی سے نکل آئی۔ اس نے کورز ڈھونڈ ڈھانڈ کر دھوئے اور پیٹیوں پر ڈال دیئے۔ چارپائیوں پر چادریں بچھا کر تکیے رکھ دیئے۔ کمرے کی دائیں دیوار کے ساتھ ابھی بھی کافی جگہ بچ رہی تھی۔ وہاں اس نے اسٹور سے نکلی ہوئی ایک موٹی سی دری کو دھو کر، پیوند کاری کر کے بچھا دیا تھا۔ اوپر ایک چادر ڈال کر گائو تکیہ رکھ دیا تھا۔ گھر میں عبادت کے لیے بالخصوص رمضان کے دنوں میں پرسکون جگہ کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی تھی، سو اب وہ بھی پوری ہو گئی تھی۔
کمرے کی بساند دور کرنے کے لیے اس نے دونوں کھڑکیاں کھول کر کمرے میں اگربتی لگا دی تھی۔ دروازے اور کھڑکیوں کا میل کچیل صاف کرنے کے لیے اس نے دادی کی ہدایت کے مطابق سرسوں اور مٹی کے تیل میں کپڑا بھگو کر ان پر رگڑا تھا جس سے وہ قدرے نئے معلوم ہونے لگے تھے۔ اسٹور کی صفائی کے دوران پیتل کے دو نہایت خوب صورت گلدان نکلے تھے مگر ان کا رنگ اس قدر سیاہ پڑ چکا تھاکہ اس نے یونہی اوپر کوٹھڑیوں میں پھینک دیئے بعد میں دادی سے سرسری انداز میں ذکر ہوا تو انہوں نے فوراً گلدان واپس منگوا لیے پھر سنگترہ کاٹ کر اس پر لیموں لگا کر گلدان پر رگڑا توچند منٹ میں ہی گلدان خوب چمک اٹھے تھے۔
’’یہ تو کمال ہو گیا بھئی۔‘‘ سعدیہ کمرے میں آتے جاتے گلدانوں کو دیکھتی تو بے اختیار کہہ اٹھتی۔
’’یہ چھوٹے چھوٹے کمال ہی مل کر بڑا کمال دکھاتے ہیں سعدیہ بیٹی! لہٰذا انہیں اچھی طرح ذہن میں بٹھا لو۔‘‘ دادی لگے ہاتھوں اسے نصیحت کرنے سے نہ چوکتیں۔
’’چاقو، چھریوں کے دستے مسلسل استعمال سے سیاہ پڑ جاتے ہیں۔ ان پر نمک اور لیموں رگڑا جائے تو ایک دم صاف ہو جائیں گے۔ لوہے کی چیزوں پر عموماً زنگ لگ جاتا ہے روئی کو سرکے میں بھگو کر زنگ پر پھیردو اور پھر نتیجہ دیکھو۔‘‘دادی کے بتانے پر وہ تمام ٹوٹکے آزماتی اور انہیں صد فیصد درست پا کر حیرت کا اظہار کیے بغیر نہ رہ پاتی۔
’’ارے عمر بھر سیکھا ہی کیا ہے اس کے سوا۔ ہمارے زمانے میں پڑھائی لکھائی کا تو رواج ہی نہ تھا بس بڑی بوڑھیاں چوبیس گھنٹے گھر داری کا سبق پڑھاتی رہتیں۔ اس وقت ان کی نصیحتیں نہایت بری لگتی تھیں مگر وقت آنے پر خود بخود ان کی قدر و قیمت کا احساس ہوگیا۔‘‘
دادی اپنے زمانے کی باتیں بتانے لگتیں اور وہ ہمہ تن گوش ہو جاتی۔
اس روز بھی یونہی باتیں کرتے کرتے دادی نے سنگترے کے چھلکوں کو نہایت باریک کاٹ کر سعدیہ سے انہیں دھوپ میں رکھنے کو کہا تووہ بے دھیانی میں ہی ان کی بات پر عمل کرنے کے بعد اپنے کاموں میں مصروف ہو گئی تھی۔ دھوپ ختم ہوئی تو دادی نے چھلکے اٹھاکر کمرے میں رکھ لیے۔ اگلے دو تین دن تک وہ مسلسل یہ چھلکے دھوپ میں سکھاتی رہیں پھر انہیں باریک پیس کر ایک پائو گیہوں کے آٹے میں ملا دیا۔ ساتھ ہی ایک پائو بیسن اور تھوڑی سی ہلدی بھی ملا دی اور لے جا کر سعدیہ کے سامنے رکھ دیا۔ وہ ابھی ابھی قرآن پاک پڑھ کر فارغ ہوئی تھی۔
’’یہ کیا ہے دادی؟‘‘
’’ابٹن ہے۔‘‘
’’ہائیں۔ اس عمر میں آپ کو ابٹن کی کیا ضرورت پیش آ گئی۔‘‘ وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’بے وقوف! یہ میرے لیے نہیں تمہارے لیے ہے۔ ابھی اور اسی وقت اس کی تھوڑی سی مقدار لے لو۔ ذرا سا سرسوں کا تیل اس میں ڈالو اور دودھ ڈال کر لئی سی بنا کر چہرے پر پندرہ بیس منٹ کے لیے مل لو۔‘‘ انہوں نے سختی سے ہدایت جاری کی تو وہ گڑبڑا سی گئی۔
’’لیکن دادی…میں…اس کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’ضرورت تھی جبھی تو بنایا ہے۔ ذرا رنگت دیکھواپنی کیسی جھلس کر رہ گئی ہے۔ ایک دم روکھی پھیکی حالانکہ بچپن میں تو اچھی بھلی تھیں تم۔ یہ صرف اور صر ف تمہاری غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ ہے اور کچھ نہیں۔ اور ہاں اسے احمد کی نظر سے بچا کر رکھنا وہ تم سے زیادہ خیال رکھتا ہے اپنا۔‘‘ وہ سختی سے کہتی ہوئی باہر نکل گئیں اور آخری بات پر سعدیہ کے لیے اپنا قہقہہ دبانا محال ہوگیا تھا۔
رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوا تو ساتھ ہی ثریا بیگم کی آمد کا انتظار بھی شروع ہوگیا۔ ثریاظہیر کی بے تحاشا مصروفیت کے باوجود اسے ساتھ لے کر ہی آئی تھیں کیونکہ راستوں سے ناواقف تھیں۔ ظہیر ان کی ہدایت کے مطابق انہیں بڑے تایا کے ہاں چھو ڑکر واپس لوٹ گیا تھا اگر ثریا چاہتیں تو سیدھی فیضان کے پاس بھی جا سکتی تھیں، مگر وہ اپنی جٹھانیوں کو شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں۔ اس لیے پہلی رات ان ہی کے ہاں گزاری تھی۔
اگلے روز فیضان کے ہاں جانے کا پروگرام بنا تو بڑی تائی جھٹ سے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئیں اور جب وہ لوگ گھر سے باہر نکلیں تو بینا اور کامنی بھی ان کے ساتھ ہو لی تھیں۔ دل میں یہی ارادہ تھا کہ ایک ساتھ دھاوا بول کر غریب آباد کے غریبوں کا تماشا دیکھیں گے اور لطف اندوز ہوں گے۔ راستے بھر وہ دونوں بہنیں عجیب و غریب حرکات کرتی آئی تھیں۔ پہلے سر جو ڑکر کھسر پھسر کرتیں اور پھر قہقہے لگانے لگتیں۔ ثریا بیگم ان کے انداز و اطوار دیکھ کر دل ہی دل میں پریشان ہوئی جا رہی تھیں۔
’’اگر اماں نے ان ہی میں سے کسی کو پسند کر لیا ہو تو…؟‘‘ ان کے ذہن میں اماں کی بات گونج رہی تھی کہ ’’ثریا میں نے تمہارے لیے بہو تلاش کر لی ہے، تم بھی آ کر دیکھ لو۔‘‘
خدا خدا کر کے فیضان کے گھر پہنچے تھے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ بڑی تائی دستک دیئے بغیر اندر گھس گئیں تو ثریا بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے اندر چلی آئیں۔ انہوں نے حسب عادت سب سے پہلے گھر کا جائزہ لیا تھا۔ صاف ستھری ڈیوڑھی کی دائیں دیوار کے ساتھ چھوٹے چھوٹے گملے مناسب فاصلہ چھوڑ کر ترتیب سے رکھے گئے تھے۔ صحن کی سامنے والی اور دائیں دیوار کے ساتھ بھی گملوں کی یہی ترتیب تھی۔ برآمدے کے ستونوں کو ہری بھری بیل نے اس طرح ڈھانپ رکھا تھا کہ ستون تقریباً چھپ کر رہ گئے تھے۔ صاف ستھرا کشادہ صحن کسی بھی آلائش سے پاک تھا۔ وہ دل ہی دل میں اپنی دیورانی کو داد دے کر رہ گئی تھیں۔
’’ارے…گھر میں ہے کوئی؟‘‘ شام کا وقت تھا مگر ہر طرف بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بڑی تائی کی پاٹ دار آواز صحن میں گونجی تو کمرے میںاونگھتی اماں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔ دادی نوافل پڑھنے کے بعد کمر سیدھی کرنے کو لیٹی تھیں وہ بھی چونک گئیں۔ سعدیہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے لمحہ بھر کو ٹھٹک گئی تھی۔
چند لمحے انتظار کے بعد اماں چپل گھسیٹتی باہر نکلی تھیں۔
’’بسم اللہ، آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں ہمارے گھر میں۔‘‘ ان کے پرتپاک انداز اور خصوصاً ’’بڑے لوگوں‘‘ کا سنتے ہی بڑی تائی کی گردن کچھ مزید اکڑ گئی تھی۔ اتنے میں سعدیہ اور دادی بھی آ گئیں۔ سعدیہ بڑی تائی کے ساتھ ساتھ بینا اور کامنی کی آمد پر خاصی حیران تھی۔ خیر سب لوگوں کوکمرے میں بٹھا دیا گیا تھا جہاں بائیں دیوار کے ساتھ کرسیاں رکھی گئی تھیں اور ان کے سامنے چٹائی پر کشن رکھے ہوئے تھے۔
سعدیہ نے سب سے پہلے روزے کے متعلق پوچھا تھا بینا اور کامنی کا روزہ تو نہیں تھا مگر سب کے سامنے انکار کرتے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تو فوراً اقرار میں سر ہلا دیا۔ کچھ دیران کے پاس بیٹھ کر گپ شپ کرنے کے بعد وہ کچن میں آ گئی تھی۔
’’چیونٹی کے بھی پر نکل آئے۔‘‘ اپنے پیچھے اس نے بینا کی سرگوشی سنی تھی مگر نظر انداز کر دیا تھا۔
باورچی خانے میں آ کر اس نے سب سے پہلے وقت دیکھا تھا۔ روزہ کھلنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا اور اس ایک گھنٹے میں ہی اسے سب کچھ کرنا تھا۔ اس نے سب سے پہلے ان چیزوں کا جائزہ لیا تھا جو اس کے پاس موجود تھیں اور پھر ان چیزوں کو ذہن میں رکھا تھا جو اس نے بنانی تھیں۔ آج افطاری میں اس نے دہی بڑے بنانے کا ارادہ کیا تھا لہٰذا اس کا سامان تو مکمل تھا۔ پکوڑوں کے لیے بیسن وہ پہلے ہی گھول کر رکھ چکی تھی۔ لہٰذا سب سے پہلے پکوڑیاں تل کر ٹھنڈے پانی میں ڈالی تھیں۔ پھر باقی سب چیزیں کھلے برتن میں ڈال دی تھیں۔ دہی بڑوں میں ڈالنے کے لیے جو آلو اس نے ابالے تھے اس میں آدھے اس نے بچا لیے تھے۔ دہی بڑے تیار کر کے اس نے ایک طرف رکھ دیئے۔ کل افطاری میں اس نے سموسے بنائے تھے تھوڑا سا میدہ بچ گیا تھا، جسے اس نے گیلے کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اب تک جوں کا توں نرم تھا۔ سعدیہ نے جلدی سے اس کی پوریاں بنائیں۔ ابلے ہوئے آلوئوں میں سے دو چار آلو بچا کر باقیوں کا بھرتا بنایا اور سات آٹھ سموسے تیار کر لیے۔ بچے ہوئے آلوئوں کو کاٹ کر اس نے ایک بائول میں ڈالا، پھر چنے جو کہ اس نے دہی بڑوں میں ڈالنے کے لیے ابالے تھے، کچھ زیادہ ابال لیے تھے ارادہ تھا کہ تڑکا لگا کر سالن بنا لے گی مگر اب اس نے یہ ارادہ ملتوی کرتے ہوئے آلوئوں اور چنوں کو مکس کیا تھا۔ اس میں سرخ مرچ اور نمک کے ساتھ املی کی چٹنی بھی ڈالی تھی۔ پھر ٹماٹراور پیاز باریک باریک کاٹ کر اس پر ڈالی اور آخر میں کٹی ہوئی سبز مرچ، تھوڑا ساکٹاہوا دھنیا اور لچھے دار پیاز بنا کر سجاوٹ کے طور پر چاٹ کے اوپر رکھ دیئے تھے۔
تینوں چیزیں تیار ہوچکی تھیں۔ تب ہی دادی اماں نے اسے پکار لیا۔ وہ گئی تو اسے تسبیح دینے کا کہتے ہوئے انہوں نے مبہم سا اشارہ میز پر پڑے فروٹ کی طرف کیا تھا جو تائی ثریااپنے ساتھ لائی تھیں۔ واپس کچن میں آتے ہوئے وہ فروٹ کے شاپرز اٹھا لائی تھی۔ پھر فروٹ دھو کر ڈش میں رکھا تو ایک لمحے میں ذہن میں خیال آیا کہ اگر فروٹ چاٹ بنا لی جائے تو وہ یقینا بہت مزہ دے گی بہ نسبت سادہ فروٹ کے ۔ لہٰذا اس نے فوراً ہی اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہنا دیا۔ اور پھر سب تیار شدہ ڈشز کو کچن میں میز پر رکھنے کے بعد انہیں ایک بڑے رومال سے ڈھانپ دیا تھا۔ افطار میں صرف بیس منٹ رہ گئے تھے۔ اس نے جلدی سے سب چھلکے وغیرہ سمیٹ کر کوڑے دان میں ڈالے۔ خشک کپڑا فرش پر پھیرنے کے بعد وہ ہاتھ وغیرہ دھو کر سموسے تلنے کے لیے بیٹھ گئی تھی تب ہی کامنی اور بینا کچن میں آ گئیں۔
’’کیا بنا رہی ہو بھئی؟‘‘ انہوں نے آتے ہی کڑاہی میں جھانکا تھا۔ پھر اطراف کا جائزہ لیا اور غالباً یہی سمجھیں کہ صرف سموسے ہی تلے جا رہے ہیں۔
’’اللہ…ہمارے ہاں تو افطاری میں اتنی زیادہ ڈشز تیار ہوتی ہیں کہ چکھتے چکھتے ہی پیٹ بھر جاتا ہے۔‘‘ کامنی نے اترا کر اسے بتایا۔
’’ہاں تو اور کیا؟ ہر فرد کی پسند کے مطابق ایک ڈش بنتی ہے۔‘‘ بینا نے بھی کامنی کا ساتھ دیا۔ سعدیہ چپ چاپ مسکراتی رہی۔
سموسے تل کر فارغ ہوئی تو ابا اور باقی سب بھائی آ گئے۔ ابا حسب معمول کھجوریں لے کر آئے تھے۔ سعدیہ نے ابلے ہوئے دودھ پر سے ساری بالائی اکٹھی کر کے ایک پیالی میں ڈالی اور پھر کھجوروں میں سے گٹھلیاں نکالنے لگی۔ ساتھ ہی ساتھ اسے بینا کی نگاہوں کی تپش کا احساس بھی ہو رہا تھا جو بڑی دیر سے اس کا جائزہ لے رہی تھی۔ آج اس نے نہا کر ہلکے زرد رنگ کا لباس پہنا تھا۔ ایک کلائی میں زردچوڑیاں بھی ڈال رکھی تھیں۔ کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپس بھی تھے جو فاروق اپنے جیب خرچ سے اپنی ’’آپی‘‘ کے لیے لے کر آیا تھا اور وہ اتنی خوش ہوئی تھی کہ اب انہیں مستقل پہنے رکھتی تھی۔ پائوں میں سیاہ انگوٹھے والی چپل تھی جس میں اس کے صاف ستھرے پائوں دمک رہے تھے۔ پیروں کا یہ حال تھا تو چہرے کی چمک دمک نے بینا کو زیادہ ہی الجھا کر رکھ دیا تھا۔
’’پتا نہیں اسے ہوا کیا ہے۔ پہلی تو ایسی نہ تھی؟‘‘ وہ کھجوروں میں بالائی بھرنے کے بعد ہاتھ دھونے کو اٹھی تو بینا نے فوراً کامنی کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
’’ہاں تو اور کیا…تم نے بال دیکھے ہیں اس کے۔ پہلے کیسے جھاڑ جھنکار بنے رہتے تھے اور اب اتنے سیاہ اور چمک دار۔ میرا خیال ہے اس نے شیمپو بدل لیاہے۔ ‘‘ کامنی کے دماغ میں یہی بات آئی تھی۔
’’ارے بے وقوف۔ شیمپو تو ہم بھی امپورٹڈ استعمال کرتے ہیں ، یہ خدا جانے کون کون سے ٹوٹکے آزماتی ہوگی۔‘‘ بینا کو فکر لاحق ہو گئی تھی۔
’’پوچھ کر دیکھوں؟‘‘
’’لو…وہ بتائے گی تھوڑی۔ گھنی اور میسنی ہے پوری۔ ‘‘ بینا زیادہ ہی جل بھن گئی تھی۔
تب ہی سعدیہ کے ابا نے کمرے سے آواز لگائی کہ ’’دسترخوان لگا دو صرف پانچ منٹ ہیں روزہ کھلنے میں۔‘‘ بینا اور کامنی بھی اٹھ کر کمرے میں چلی آئیں۔ سعدیہ نے کشن ایک طرف رکھ کر دسترخوان بچھایا تو حسب معمول احمد اس کی مدد کو اٹھ کر چلا آیا۔ تمام ڈشز لے جا کر دسترخوان پر رکھی گئیں تو تائی ثریا بے اختیار کہہ اٹھیں۔
’’سعدیہ بیٹی! اتنے تکلف کی کیا ضرورت تھی۔ بس کھجوریں ہی کافی تھیں۔‘‘
’’تکلف نہیں۔ یہ تو ہماری خوشی ہے تائی امی۔‘‘ وہ رسان سے کہہ کربرتن سیٹ کرنے لگی جبکہ بڑی تائی اندر ہی اندر جھلس کر رہ گئی تھیں۔
’کیسی چلترّ لڑکی ہے…سب ثریا کو پھانسنے کے طریقے ہیں۔‘‘ انہوں نے دل ہی دل میں کہا تھا۔ ادھر کامنی، بینا کے کان میں گھسی ہوئی تھی۔
’’تم ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں۔ واقعی بڑی گھنی اور میسنی ہے۔ کچن میں تو ہمیں نہیں بتایا کہ یہ اتنا سب کچھ تیار کر لیاہے۔ ہم کیا کھا جاتے۔‘‘
سعدیہ ان کی سوچوں کی برعکس سب کو ڈشز پیش کر رہی تھی۔ اور ثریا اس بات پر حیرت کا اظہا رکر رہی تھیں کہ اس نے اتنی جلدی یہ سب کیسے تیار کر لیا۔ ان کی اس بات کے جواب میں سعدیہ نے ایک نظر دادی کو دیکھا تھا جو توصیفی نظریں اس پر جمائے بیٹھی تھیں۔
’’بس…یہ بھی تمہاری طرح ہی پھرتیلی ہے ثریا! پلک جھپکتے ہی کام کر لیتی ہے۔‘‘
دادی کے لہجے کی شفقت کو محسوس کرتے ہوئے تائی اماں پہلوبدل کر رہ گئی تھیں۔
نماز اور پھر افطاری کے بعد اندھیرا اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ ابا بڑی تائی، بینا اور کامنی کے گھر واپس جانے پر کسی طور پر راضی نہ ہوئے تھے۔
’’یہ کوئی غیر کا گھر نہیں ہے بھابی جان! آپ آرام سے یہاں ٹھہریں، میں بھائی صاحب کو فون پر اطلاع کر دوں گا۔ ‘‘ سب کے اصرار پر وہ رک گئی تھیں۔ سعدیہ کو رات کے کھانے کی فکر لاحق ہو گئی تھی۔ ابا نے احمد سے مرغ منگوا دیا تھا۔
’’کھانا بھی دستر خوان پر ہی لگادینا۔ ایسا نہ ہوظہیر بھائی کی طرح بعد میں سب کو شوربے میں ڈبکیاں لگانا پڑیں۔‘‘ گوشت اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے احمد نے کہا تھا اسے اب تک وہ شرمندگی یاد تھی۔ سعدیہ بے اختیار ہنس دی۔
’’فکر نہیں کرو اس دفعہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ ‘‘ اس نے اطمینان سے کہا تھا۔ اماں بھی بھاگی چلی آئی تھیں پریشانی میں کہ اتنے ساری لوگوں کو کیسے بھگتایا جائے گا۔ سعدیہ نے انہیں مطمئن کر کے واپس بھیج دیا۔ پھر گوشت پکاتے ہوئے اس نے اس میں مٹر اور آلو شامل کر کے سالن بڑھا لیا تھا تا کہ کم نہ پڑ جائے اور ساتھ ہی ساتھ دادی کو دعائیں بھی دی تھیں جو دو روز قبل چھٹی کے دن احمد کے نانا کے باوجود منڈی گئی تھیں اور ڈھیر ساری تازہ سبزیاں لے کر آئی تھیں۔ میٹھے میں اس نے فروٹ کسٹرڈ تیار کر لیا تھا۔
چپاتیاں بنانے سے قبل اس نے کمرے میں جا کر کھانا لگا دینے کا پوچھا تو سب ہی نے انکار کردیا کہ کچھ دیر بعد کھائیں گے۔ وہ اطمینان سے واپس آ گئی اور پھر جتنا وقت بچا تھا اس میں اس نے مونگ کی دال سبز مسالے کے ساتھ بھون لی تھی۔ یوں دس گیارہ بجے کے قریب کھانا بھی اس قدر اہتمام سے پیش کیا گیا تھا کہ بڑی تائی کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔ سب نے ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھایا سوائے سعدیہ کے کیونکہ جب تک وہ لوگ کھانا کھا رہے تھے تب اس نے سب کے بستر لگا دیئے تھے۔
کھانا کھاتے ہی اس نے برتن سمیٹ لیے۔ جھوٹے برتنوں کا ایک ڈھیر تیار ہو چکا تھا۔ ایک لمحے کو دل چاہا کہ یوں ہی رکھ کر سو جائے مگر پھر خیال آگیا کہ صبح سحری بھی تیار کرنی ہے اگر برتن نہ دھوئے تو صبح پریشانی ہوگی۔ یہی سوچ کر اس نے باوجود بے تحاشاتھکن کے برتن دھو کر خشک کرنے کے بعد الماری میں رکھے تھے۔ باقی صفائی معمول کے مطابق کی تھی اور جب وہ سونے کے لیے بستر پر آئی تھی تو تھکن کے باعث چند لمحوں میں ہی غافل ہو گئی تھی۔

صبح سحری کے وقت اس کی آنکھ کھلی تو دادی اور تائی ثریادونوں کی چارپائیاں خالی تھیں۔ وہ منہ ہاتھ دھو کر باورچی خانے میں آئی تو دونوں وہاں سر جوڑے بیٹھی نہ جانے کون سی باتوں میں مصروف تھیں ۔ اس کی آمد پر تائی ثریا تو ایک دم خاموش ہوگئیں۔ دادی البتہ مسکرا کر بولی تھیں۔
’’آئو بھئی سعدیہ…ابھی تمہارا ہی ذکر ہو رہا تھا۔ ‘‘
’’آپ اتنی جلدی اٹھ گئیں۔ لیکن یہ کام وام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ میں خود کر لیتی سب کچھ۔‘‘ چولہے پر چائے کی دیگچی دیکھی تو وہ شرمندہ سی ہو گئی۔ آٹا بھی گوندھ کر رکھاہوا تھا۔
’’ہم لوگ سوئے ہی کب تھے۔ پہلے عبادت کرتے رہے پھر باتیں کرنے لگے تو سوچا فارغ ہی بیٹھے ہیں چلو تمہارا کچھ بوجھ ہلکا کر دیتے ہیں۔ یوں بھی فارغ رہنے کی عادت نہیں ہے مجھے۔‘‘
تائی ثریانے وضاحت کی تھی۔ پھر سعدیہ نے پراٹھے اور آملیٹ بنا لیے تھے۔ سحری کے لیے سب کو جگایا تو کامنی اوں…آں کر کے دوبارہ بستر میں گھس گئی۔ بڑی تائی کو اس وقت اٹھنے کی عادت نہیں تھی لہٰذا چھینکوں پہ چھینکیں آنا شروع ہو گئیں۔ ہاتھ میں رومال تھا نہ ٹشو پیپر، وہ عجیب شرمندگی سے دوچار ہونے لگیں۔ سعدیہ نے الماری میں سے ایک شاپر نکالا اور استری کیا ہوا تہہ شدہ رومال ان کے ہاتھ میں تھما دیا تب کہیں جا کرانہوں نے سکون کا سانس لیا۔ سحری کے بعد ابا اور احمد مسجد چلے گئے تھے۔ باقی بستر میں گھس گئے۔ سعدیہ صفائی ستھرائی میں لگ گئی۔ اور جب بڑی تائی گھر جانے کو تیار ہوئیں تو وہ مکمل طور پر فارغ ہو چکی تھی۔
’’بھئی، عید کی شام ہم گھر میں ایک پارٹی ارینج کر رہے ہیں۔ آپ سب لوگوں نے ضرور ہی آنا ہے۔‘‘ جاتے جاتے بڑی تائی ایک نیا شوشہ چھوڑ گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ تائی ثریا سے یہ بھی کنفرم کر لیا کہ ’’ظہیر تو عید پر آئے گا نا؟‘‘
ان کے جانے کے بعد تائی ثریاا ور دادی کی کھسر پھسر ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی تھی۔ اماں خاصی متجسس تھیں۔ اس معاملے میں ایک دو بار سعدیہ سے ٹوہ لینے کو کہا، مگر اس پر ایک نئی فکر سوار ہو گئی تھی۔ کیونکہ عید کے روز اس نے جو سوٹ پہننا تھا وہ ابھی تک خراید ہی نہیں گیا تھا۔ چند ماہ پہلے گھر کے سب افراد ایک شادی پر گئے تھے اور سب نے نئے سوٹ بنوائے تھے لہٰذاعید پر وہ کپڑے پہنے جاتے۔
سعدیہ ابا کے ساتھ گھر پر ہی رہی تھی لہٰذا نہ تو اس وقت ہی نیا سوٹ بنوایا تھا نہ ہی عید پر بنوانے کا ارادہ تھا۔ خیال تھا کہ گھر پر ہی رہنا ہے کوئی قدرے بہتر سوٹ نکال کر پہن لوں گی۔ لیکن اب جب کہ بینا اور کامنی اصرار کر کے گئی تھیں اور دادی کا بھی کہنا تھا کہ اسے ضرور اس پارٹی میں شرکت کرنی چاہیے تو اسے فوراً ہی فکر لاحق ہو گئی تھی۔ سارے ٹرنک اور صندوق کھنگالنے کے بعد اسے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ ملا تھا اسے ہی غنیمت جان کر گہرے رنگ کے دھاگے منگوائے اور اس پر کڑھائی شروع کر دی۔
رات کو کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ عبادت میں مصروف ہو جاتے کیونکہ رمضان المبارک کے آخری ایام تھے۔ سحری کے وقت سب لوگ سو جاتے مگر وہ کڑھائی کرنا شروع ہو جاتی۔ لیکن اس روز جب سحری کے بعد وہ کچن سمیٹ کر کمرے میں آئی تو صورتحال کافی مختلف تھی۔ ابا جو اس قت تک مسجد جا چکے ہوتے تھے دادی کی پائنتی پر بیٹھے ہوئے تھے ، اماں جو اس وقت تک سو جایا کرتی تھیں ، وہ تائی ثریا کے لحاف میںدبکی بیٹھی تھیں۔
چاروں کے درمیان بہت ہلکی آواز میں گفتگو ہو رہی تھی اس نے کمرے میں قدم رکھا تو سب ہی ایک دم خاموش ہوگئے۔ وہ عجیب سی شرمندگی محسوس کرتے ہوئے اپنی قمیص اور فریم اٹھا کر دوسرے کمرے میں آ گئی۔
’’پتا نہیں کیا ہوا ان لوگوں کو؟‘‘ وہ حیران تھی مگر ذہن چونکہ اپنے سوٹ کی تیاری میں اٹکا ہوا تھا اس لیے زیادہ سوچنے کے بجائے کڑھائی پر توجہ دینے لگی۔ جب فاروق وغیرہ کے اسکول جانے کا وقت ہوا تو وہ اٹھ کر دوبارہ کمرے میں آ گئی۔ میٹنگ ابھی بھی جاری تھی۔ اسے کمرے میں آتا دیکھ کر ابا ایک طویل سانس لے کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے پھر اس کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کا سر پیار سے تھپتھپایا اور باہر نکل گئے۔ اس نے قدرے حیرت سے باقی خواتین کی طرف دیکھا وہ تینوں ہی مسکراتے ہوئے اس پر نظریں جمائے بیٹھی تھیں۔
’’یا اللہ…یہ کیا ہوگیا ہے ان سب کو…‘‘ وہ گڑبڑا سی گئی تھی اور فوراً فاروق کو جھنجھوڑنے لگی۔
آج ستائیسواں روزہ تھا۔ وہ سب افطاری کے لیے بیٹھے ہی تھے جب دروازہ بجنے لگا احمد بڑبڑاتا ہوا دسترخوان سے اٹھ گیا تھا لیکن جب واپس آیا تو مسکراتی آواز میں اماں کو پکار رہا تھا کہ ’’دیکھیں کون آیا ہے؟‘‘ اس کے پیچھے پیچھے ظہیر کمرے میں داخل ہوا تھا اور ابھی وہ سب سے ٹھیک طرح سے مل بھی نہیں پایا تھا کہ سائرن بجنے لگا۔
’’بیٹھو بھئی بیٹھو، پہلے روزہ افطار کر و…‘‘ ابا نے فوراً ہی سب کو متوجہ کیا تھا۔
افطاری کے بعد کھانا چونکہ دیر سے ہی کھایا جاتا تھا اس لیے سعدیہ سب کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر فوراً دوسرے کمرے میں آ گئی تھی۔ قمیص کے دامن پر کڑھائی کرنے کے بعد اس نے گلے پر کڑھائی شروع کی تھی اور کوشش کر رہی تھی کہ کم از کم آج ہی قمیص کا کام ختم ہوجائے تا کہ صبح آستینوں کی باری بھی آ جائے۔ اور جب فاروق نے اسے کھانا لگانے کا پیغام آ کر دیا تو وہ گلے پر آخری پھول کاڑھ رہی تھی۔
’’بس ابھی آئی…‘‘ اسے واپس بھیج کر اس نے قمیص کو فریم سے نکالا اور دھاگے سوئیاں سمیٹ کر قمیص اٹھائے کمرے کی طرف بھاگی۔ وہ قمیص دادی کو دکھانا چاہ رہی تھی کیونکہ یہ کڑھائی ا س نے ان ہی سے سیکھی تھی۔
’’دادی اماں دیکھیں…‘‘ اپنی ہی روانی میں کہتے ہوئے وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی تھی کہ اگلے ہی پل پوری قوت سے ظہیر نعمان سے ٹکرا گئی تھی، جو چائے کا ایک کپ ہاتھ میں لیے دادی اماں کی طرف بڑھ رہا تھا اس زور دار ٹکر کے نتیجے میں چائے کا کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیاتھا۔ سعدیہ نے لڑکھڑاتے ہوئے فوری طور پر دروازے کے پٹ کو تھام کر خود کو گرنے سے بچا لیا تھا، لیکن جب حواس قدرے بحال ہوئے تو وہ ایک دم چیخ اٹھی تھی۔ اس کی نئی قمیص زمین پر گری ہوئی تھی اور اس پر چائے کا کپ کرچیوں کی صورت میں پڑا تھا۔ ایک جھٹکے سے اس نے قمیص کو اٹھایا مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکاتھا۔ قمیص پر چائے کے بڑے بڑے بدنما دھبے دیکھ کر اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا تھا قمیص گول مول کر کے دوبارہ وہیں پھینکی اور خود زور زور سے روتی ہوئی باہر بھاگ گئی تھی۔ اس کے باہر نکلتے ہی کمرے میں بیٹھے باقی افراد میںجان پڑ گئی۔ ثریا نے تو ہوش میں آتے ہی ظہیر کو ڈانٹنا پھٹکارنا شروع کر دیاتھا۔ وہ بے چارہ پہلے ہی ہونق بنا کھڑا تھا اب مزید سر جھکا لیا تھا اماں بے چاری شرمندہ ہو کر رہ گئیں۔
’’ارے آپا! رہنے دو وہ بے وقوف ہے ذرا سی بات ہوئی نہیں اور رونے بیٹھ گئی۔ ابھی خود ہی ٹھیک ہو کر واپس آ جائے گی۔ ایک قمیص کے پیچھے اتنے لوگوں کو ناحق پریشان کر دیا۔‘‘
وہ فوراً اٹھ کر کرچیاں سمیٹنے کے بعد باہر نکل گئی تھیں۔ اور الٹا جا کر سعدیہ پر ہی برسنے لگی تھیں جو ابھی تک دونوں بازوئوں میں منہ چھپائے روئے چلی جا رہی تھی۔
’’غضب خدا کا، سوٹ پر ذرا سی چائے گر گئی اور اس نواب زادی نے پورا گھر سر پہ اٹھا لیا، اس سے تو اچھاتھا اس کو فوراً دھو لیتی۔ اسی وقت صاف ہو جاتا۔ ‘‘ وہ دھیمی آواز میں اسے ڈانٹے جا رہی تھیں۔
’’دھونے سے کیسے صاف ہو جاتا۔ کاٹن سے چائے کا داغ اترا ہے کبھی۔‘‘ وہ روتے روتے بولی تھی۔
’’تو پہلے ہی ڈھنگ سے کام کرلیا کرو ، منہ اٹھائے بھاگے چلی آ رہی تھیں۔ غلطی بھی تمہاری ہی تھی اور اس پر ڈانٹ پڑوا دی ظہیر کو۔ کسیے شرمندہ کھڑا تھا بے چارہ سب کے درمیان۔ چلو بس کرو اب یہ ٹسوے بہانا، تمہاری دادی کے پاس بیسیوں نسخے ہوتے ہیں کوئی ٹوٹکا پوچھ لینا۔ اتر جائیں گے چائے کے داغ بھی۔‘‘ آخر میں انہوں نے تسلی دی ۔
’’اور اگر نہ اترے تو…؟‘‘ آنسو پونچھتے ہوئے اس نے کہا تو اماں پلٹ کر غصے سے اسے گھورنے لگی تھیں۔
’’تو مت جانا پارٹی پر، گھر پر ہی رہ لینا…‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئیں۔ ان کی بات پر اس نے ایک بار پھر کھل کر آنسو بہانے چاہے، مگر عین اسی وقت اماں پھر پلٹ آئیں۔
’’خبردار جو اب دوبارہ شروع ہوئیں۔ اٹھو اور چل کر کھانا لگائو سب کے لیے۔‘‘ اماں کے سخت لہجے پر اٹھتے اٹھتے اس نے دو چار آنسو مزید بہائے اور پھر بھیگی پلکوں سرخ ہوتی ناک کے ساتھ دسترخوان لگا کر احمد کے ہاتھ سب چیزیں بھجوا دیں۔ وہ رات اس نے عبادت کرتے اور روتے ہوئے گزاری تھی۔ اگلی صبح دادی نے خوب تسلی دی۔ کئی ٹوٹکے بتائے اور دلاسا دیا کہ سوٹ نہ بھی سل سکا تو وہ اسے نیا سوٹ لا دیں گی۔
’’کہاں سے دلا دیں گی؟ آج اٹھائیسواں روزہ ہے، ،اگر انتیس کی عید ہو گئی تو؟‘‘
وہ دل ہی دل میں کڑھتی رہی۔ صفائی کرتے ہوئے دیکھا اماں نے سوٹ دھو کر رات کوہی پھیلا دیا تھا۔ لیکن ہلکے ہلکے داغ جوں کے توں موجود تھے، وہ اس قدر بد دل ہوئی تھی کہ دادی کا نسخہ آزمانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ قمیص یونہی گول مول کر کے ٹرنک میں رکھ دی ۔ دل ہی دل میں ظہیر کو خوب کوسا جس کی بدولت عید کی خوشی کا ستیاناس ہو کر رہ گیاتھا۔ اسی روز تائی ثریا اور اماںبازار چلی گئیں۔ دادی گھر پہ موجود تھیں انہوں نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ آیا سوٹ پہننے کے قابل ہوا کہ نہیں۔
’’ہو سکتا ہے دادی نے نیا سوٹ منگوا لیا ہو۔‘‘ ایک خیال اس کے دل میں آیا تھا اسی امید کے سہارے باقی کا سارا دن ٹھیک ٹھاک گزار لیا تھا۔ جب تائی اور اماں بازار سے آئیں وہ افطاری بنانے کے لیے کچن میں مصروف تھی رات کو جب انہوں نے سب کے لیے شاپنگ دکھائی تو ہر شاپرکھلتے وقت اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آ جاتی کہ شاید اسی میں سے میرا سوٹ برآمد ہوگا۔ مگر ایک ایک کر کے سارے شاپرز کھلے اور پھر بند ہوگئے۔
تائی سب گھر والوں کے لیے کچھ نہ کچھ لائی تھیں۔ اس کے لیے بھی چوڑیوں کے دو سیٹ تھے جو انہوں نے باقی سامان کے ساتھ اماں کو دے دیئے تھے۔ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو سیدھی چھت پر آ گئی۔ مرغیوں کا ڈربا بند کرنے کے بہانے، وہاں پہلے رو کر اندر کا غبار نکالا پھر خیال ہی خیال میں ایک ایک فرد کے ساتھ خوب جھگڑا کر کے نیچے اتر آئی۔
اگلی صبح انتیسواں روزہ تھا ، بچوں کی چونکہ آج کل چھٹیاں تھیں اسی لیے گھر میں خوب رونق تھی ہر کوئی خواہش کر رہا تھا کہ آج ہی عید کا چاند نظر آ جائے۔ غرض ایک ہنگامہ سا گھر میں مچا ہوا تھا۔ نجانے کن باتوں پر قہقہے لگ رہے تھے۔ ابا بار بار احمد کو تاکید کر رہے تھے کہ وہ ابھی جا کر دھوبی سے سوٹ لے آئے۔ اماں بیٹھی شیر خورمے کے لیے میوہ صاف کر رہی تھیں اور ظفر کو بار بار ڈانٹ بھی رہی تھیں۔ تائی ثریا دادی کے کان میں گھسی بیٹھی تھیں ہر کوئی بے حد خوش تھا یا پھر اس کو چڑانے کے لیے خوش نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا، کم از کم سعدیہ کو تو ایسا ہی لگ رہا تھا کسی کو بھی تو فکر نہیں تھی کہ وہ اتنی گم صم کیوں پھر رہی ہے یا پھر یہ کہ اب وہ عید کے روز کیا پہنے گی۔
سب کی بے حسی پر اسے زیادہ ہی رنج ہوا تو باقی سب کام چھوڑ چھاڑ کر چھت پر چلی آئی۔ وہاں دھوپ میں جھلنگا سی چارپائی پر لیٹے لیٹے اسے نیند آ گئی۔ اور جب آنکھ کھلی تو شام کے سائے ہر طرف پھیل رہے تھے۔ اس نے الجھے الجھے بالوں کو سمیٹ کر انگلیوں کی مدد سے سنوارتے ہوئے نیچے صحن میں جھانکا ۔ خاصی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صحن میں حسن اور فاروق کھیل رہے تھے، احمد بھی موجود تھا۔
’’میں ہی پاگل ہوں جو سب کی خدمتیں کر کر کے ہلکان ہوئی جاتی تھی یہاں کسی کو اتنی بھی پروا نہیں کہ اوپر آ کر یہ ہی دیکھ لیں، سعدیہ مر گئی ہے یا زندہ ہے۔‘‘
اسے ایک بار پھر غصہ آ گیا تو سر سے پائوں تک دوپٹہ تان کر دوبارہ لیٹ گئی۔ آس پڑوس سے کھانا پکنے کی خوشبوئیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ اس نے بھی ٹھان لی تھی کہ آج اس وقت تک نیچے نہیں اترے گی جب تک کوئی بلانے نہیں آئے گا۔ تھوڑا وقت مزید سرک گیاتھا وہ بے چین ہو گئی۔
’’ان کم بختوں کو کبھی عقل نہیں آئے گی۔‘‘ سب سے زیادہ ناراضی بھائیوں سے تھی۔ جب دیکھا کہ افطاری کا وقت سر پہ آ گیا ہے تب وہ خود ہی دانت کچکچاتی، پائوں پٹختی نیچے اتری تھی۔
’’افطاری کا وقت بھی ہوگیا اور مجھے کسی نے اٹھایا ہی نہیں۔‘‘ اس نے جان بوجھ کر احمد کے سامنے فاروق سے کہا۔
’’وہ ظہیر بھائی افطاری کا سامان بازار سے لینے گئے ہیں۔ انہوں نے ہی منع کر دیا تھا۔‘‘ فاروق نے اسے اطلاع دی۔ تب ہی دروازہ کھلا اور ظہیر کتنے ہی شاپرز سمیت اندر چلا آیا۔ ’’یہ لو بھئی، سارا سامان پلیٹوں میں نکال لو۔‘‘
اس نے آتے ہی شاپرز اس کی طرف بڑھائے تو وہ کلس کر رہ گئی۔
’’جب اتنی دور سے لے کر آئے ہیں تو پلیٹوں میں بھی خود ہی نکال لیں۔‘‘ وہ پائوں پٹخ کر کمرے میں آ گئی۔ ظہیر نے حیرت سے احمد کو دیکھا۔ وہ بے چارہ کندھے اچکار کرمسکرا دیا تھا۔
سعدیہ کمرے میں گئی تو اماں اور باقی لوگوں کو موجود نہ پا کر خاصی پریشان ہوئی تھی۔ ظفر بیٹھا ہوا تھا اس سے پوچھا تو معلوم ہوا ابا، دادی ، اماں اور تائی ثریا سب بڑے تایا کے ہاں گئے ہیں۔
’’مگر کیوں…؟‘‘ خاصا تعجب ہوا تھا اسے، اس کے پوچھنے پر ظہیر نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا اور پھر قدرے جھینپتے ہوئے ’’پتہ نہیں‘‘ کہہ کر کروٹ بدل لی۔ وہ الجھتے ہوئے باورچی خانے میں آگئی۔ روزہ کھلنے میں تھوڑی ہی دیر تھی جب باہر صحن میں شو ر سا مچ گیا۔ اس نے اچک کر کچن کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔
بڑے تایا، تائی کے ساتھ بینا کامنی اور فروا بھی آ رہی تھیں۔ وہ پریشان سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اوہو…محترمہ نے اتنا بڑا تیر مار لیا اور اب یہاں چھپی بیٹھی ہیں۔‘‘ بینا اس کے باہر نکلنے سے پہلے ہی کچن میں چلی آئی تھی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ اس نے گلے ملتے ہوئے حیرت سے پوچھا تو بینا طنزیہ انداز میں اسے دیکھ کر مسکرانے لگی تھی۔
’’میں نے کہا تھا نا؟ ہماری کزن بہت معصوم ہے اسے تو کسی چیز کی خبر ہی نہیں ہوتی۔‘‘
بینا کامنی اور فروا سے کہتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی تھی۔ وہ اس کی بات کا مطلب ہی کھوجتی رہ گئی۔ اسی دوران سائرن بجنے لگا تھام سب لوگ کمرے میں روزہ افطار کرنے لگے تھے وہ چپ چاپ کچن میں بیٹھ کر ماچس کی تیلیاں جلانے لگی۔ آج اس کی جگہ سارا کام احمد نے کیا تھا۔ وہی ایک پلیٹ میں مختلف چیزیں رکھ کر بھاگا آیا تھا، اور اس کے سامنے رکھ کر واپس چلا گیا۔
اس نے بس کھجور کھا کر روزہ افطار کر لیا تھا۔ پھر نماز پڑھنے کے لیے دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ نماز پڑھنے کے دوران بھی وہ بے چین سی رہی، کوئی نہ کوئی بات ایسی تھی ضرور، جو اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔
نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو فروا اسے بلانے چلی آئی۔
’’دادی اماں تمہیں پکار رہی ہیں۔‘‘
’’بڑی جلدی یاد آ گئی دادی اماں کو میری۔‘‘ وہ خاصی تلخ ہو رہی تھی۔
’’اوہو…بڑی بے چینی ہو رہی ہے جناب کو…‘‘ فروا زور سے ہنسی تھی۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تو ایکدم ٹھٹک گئی۔ سب ہی لوگ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھے۔
’’آئو…آئو سعدیہ بیٹی…‘‘ دادی کے پکارنے پر ان کی طرف بڑھی تو انہوں نے اسے ہاتھ پکڑ کر فوراً اپنے پاس بٹھا لیا۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے سر پہ پیار دینے کے بعد انہوں نے اس کی پیشانی چوم لی تھی۔ تب ہی تائی ثریا اپنی جگہ سے اٹھی تھیں، انہوں نے میز پر چند ڈبے رکھے تھے اور پھر اس کی طرف بڑھی تھیں۔ چھوٹی سی ڈبیہ میں سے سونے کی انگوٹھی نکال کر انہوں نے دادی اماں کی طرف بڑھائی تو سعدیہ کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا تھا۔
’’بسم اللہ کریں اماں!‘‘
دادی اماں نے انگوٹھی ان سے لے کر سعدیہ کی انگلی میں ڈال دی تھی۔ وہ ہکاّ بکاّ سی انہیں دیکھے گئی تھی۔
’’بے وقوف لڑکی۔ اس موقع پر شرم سے سر جھکایا جاتا ہے۔‘‘ احمد اس کے پیچھے سے چیخا تھا مگر اس کے حواس ہی قابو میں نہ آ رہے تھے۔ یہ سب اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہ پا رہی تھی۔ اس نے الجھی سی نظر سب پر ڈالی۔ اماں اور ابا پر شفقت مسکراہٹ چہرے پر لیے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’میرا ظہیر تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا۔‘‘ تائی ثریا نے ا س کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہا تھا، اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا چند لمحے ہاتھ میں چمکتی انگوٹھی پر نظریں جمائے بیٹھی رہی اور اگلے ہی لمحے دادی اماں کے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’ہائیں…ارے…ارے…یہ کیا؟‘‘ دادی گھبرا گئی تھیں۔
جب کہ باقی لوگ بے اختیار ہنس دیئے تھے پھر بڑی شفقتوں اور منتوں کے بعد اسے خاموش کروایا گیا تھا، احمد سب کا منہ میٹھا کروانے لگا تھا۔ تائی نے مختلف ڈبے کھول کر اس کے سامنے رکھ دیئے تھے۔
’’ لو بیٹی۔ دیکھو اور بتائو کہ میرے بیٹے کی پسند کیسی ہے؟‘‘ تائی ثریا نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ ذرا اونچا کیا تو جھلملاتے ہوئے جوڑوں کو بس ایک نظر ہی دیکھ سکی تھی۔
’’ارے سعدیہ کو دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ تمہارے بیٹے کی پسند کیسی ہے؟‘‘ دادی کے کہنے پر سب کا قہقہہ سن کر وہ بری طرح شرما گئی تھی۔ لہٰذا فوراً ہی ان سب کے درمیان سے کھسک گئی۔ اسی دوران باہر خوب شور سا مچ گیاتھا۔ غالباً عید کا چاند نظر آ گیا تھا۔ ابا بڑے تایا کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ احمد سب بھائیوں کے ساتھ چھت پر بھاگا۔ بینا وغیرہ بھی ان کے ساتھ تھیں، جب کہ وہ باورچی خانے میں تنہا کھڑی انگوٹھی پر نظریں جمائے مسکرا رہی تھی۔ سب نے جی بھر کے بے وقوف بنایا تھااسے۔
تب ہی دروازے پر ہلکا سا کھٹکا ہوا تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا اور پھر ظہیر نعمان کو آتے دیکھ کر فوراً رخ موڑ لیا۔ وہ ہلکا سا کھنکھار کر اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔
’’عید کا چاند نظر آ گیا ہے۔ میری طرف سے عید مبارک۔‘‘ اس نے اس کے عقب میں کھڑے کھڑے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا تھا جس میں سونے کا لاکٹ جھول رہا تھا۔
’’انگوٹھی تو امی نے پہنا دی تھی۔ میرا خیال ہے لاکٹ میں…‘‘
’’جی نہیں…میں خود پہن لوں گی…‘‘ اس نے گھبراکر فوراً لاکٹ اس کے ہاتھ سے لے لیا تھا۔ ظہیر بے اختیار ہنس کر پلٹنے لگا تھا۔
’’آپ کو بھی عید مبارک ہو…‘‘ اپنے پیچھے ہلکی سی سرگوشی سن کر وہ ٹھٹک گیا تھا۔
’’میری عید تو تب ہو گی جب یہ چاند میرے آنگن میں…‘‘ اس نے قدرے جھک کر اس کا چہرہ دیکھا تھا تب ہی دادی نے اسے پکار لیا ۔ وہ سٹپٹا کر سیدھا ہوتے ہوئے پلٹا تو دادی سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔
’’دادی اماں…وہ میں تو…‘‘ اس سے کچھ نہ بن پایا تو قریب سے گزر کر باہر نکل گیا۔ دادی اس کے جانے کے بعد مسکراتے ہوئے اس کی طرف آ گئیں۔
’’جانتی ہو وہ کیا کہہ رہا تھا؟ بالکل میرے دل کی بات تھی کہ میری عید تو اس وقت ہو گی جب یہ چاند میرے آنگن میں اترے گا۔ ‘‘ دادی اماں نے کہا تو سعدیہ نے جھینپ کران کے سینے میں منہ چھپا لیا۔ دادی نے دل ہی دل میں اسے دعائوں سے نوازتے ہوئے اس کی پیشانی چوم لی تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close