رنگِ حیات

رنگِ حیات

ـــ’’میرا باپ اس عورت کو پناہ دینے کے لیے اس گھر میں لایا تھا ‘ یہ میری ماں کی طرح ہے۔ آپ اس طرح کیسے اسے …….‘‘ اس کا گلا رندھ گیا تھا۔
یہ پہلی بار تھا کہ وہ اس قدر بلند آواز میں گھر کے بزرگوں کے سامنے چیخا تھا ۔ جواباً ان لوگوں کو تنبیہ کرتی نگاہوں اور کچھ اس کے اپنے جذبات کی یورش نے اس پر ایسا غلبہ پایا تھا کہ وہ مزید کچھ کہہ نہ سکا اور خود پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے دونوں مٹھیاں بھینچتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
برآمدے کی سیڑھیاں سست روی سے چڑھتے ہوئے ماہین نے حیرت سے فاروق کو سرخ چہرہ لیے اپنے قریب سے گزرتے دیکھا لیکن اس سے پہلے کچھ پوچھتی ‘ وہ اپنے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ ایک دھماکے سے بند کر چکا تھا۔
وہ حیرت زدہ سی وسطی کمرے کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی اور پھر ٹھٹک کر رک گئی ۔ اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر اس نے کمرے میں موجود تمام افراد اور ان کے بیچ رینگتی سفاک سی خاموشی کو محسوس کیا تو باپ کے مرنے کے فوراً بعد پیدا ہونے والے عدم تحفظ کا احساس پوری شدت سے ایک بار پھر اس پر حملہ آور ہوا۔ وہ دبے پائوں چلتے ہوئے لیلیٰ کے عقب میں جا کھڑی ہوئی جو بھاری بھر کم صوفے میں پوری طرح سمائے ـ‘ سر جھکائے بیٹھی تھی…..بائیں ہاتھ کی بند مٹھی پر رخسار ٹکائے لیلیٰ کے تاثرات جاننے میں وہ قطعی ناکام رہی تھی۔ اپنی سرد ہوتی پوروں کو صوفے کی پشت میں گاڑتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں خود کو دلاسا دیتے ہوئے ماںکی طرف دیکھا۔
ان کا چہرہ زرد تھا …..اور پھٹی پھٹی آنکھیں چڑیا کے بے بال وپر بچے کی مانند گلابی رنگ میں ڈوبی ہوئی تھیں……نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے وہ کسی تکلیف کے ناقابل بیان تجربے سے گزر رہی تھیں۔
’’بیس سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا……بیس سال بیس صدیاں بن جاتے ہیں جب ایک عورت دوسری عورت کے شوہر پر قبضہ جمائے بیٹھی ہو۔ یہ بیس صدیاں میں نے بتائی ہیں زارا بیگم! میں نے …..کیونکہ میں پہلی تھی…..تمہارے زہریلے ڈنک کی اذیت میں نے برداشت کی ہے …..بے وقعتی کا قطرہ قطرہ زہر میں نے پیا ہے لیکن یہ صرف تب تک تھا ‘ جب تک جلید مرتضیٰ ہمدانی زندہ تھا ۔ اب تمہارے لیے اس گھر میں کوئی گنجائش نہیں ۔‘‘ اس پہلی عورت نے پل بھر میں سارا زہر اگل دیا تھا ۔
ماہین نے کسی حد تک ملامتی اور حیران نظروں سے اس عورت کو دیکھا جس کے دو جوان بیٹے اس کی ڈھال بنے کھڑے تھے اور پھر اپنی ماں کی طرف نگاہ اٹھائی ،جو اس وقت تنہا تھی اور بے حد کمزور ۔
’’ایسا مت کہو ہاجرہ……پلیز……بھا……بھائی جان…….آپ ہی ……‘‘ زارا بیگم نے بے سائبانی کے مہیب خوف میں گھرتے ہوئے ان بھاری بھر کم جثوں والے مردوں کو دیکھا جو اس کے شوہر کی وفات کے بعد اس گھر کے کرتا دھرتا تھے۔
’’یہ ہماری بھاوج ہی نہیں……ہماری بہن بھی ہے ۔ جلید نے اس پر سوتن لا کر جو ظلم توڑا تھا ……ہم اس کے سامنے مارے شرمندگی کے آج تک نگاہ نہیں اٹھا سکے۔ اس نے ہمیں پالا ‘ پوسا ‘ جوان کیا ……یہ ہماری ماں کی جگہ ہے ۔ ہماری موجودگی میں تم نے اس کے حق پر ڈاکہ ڈالا مگر تب بڑے بھائی کا لحاظ تھا جو ہم کچھ نہ کر سکے مگر اب اس کا کیا گیا ہر فیصلہ ‘ ہر حکم سر آنکھوں پر ۔ یہ تو بھرجائی کی ہمت ہے کہ اس نے اتنے سال بڑے دل سے سوتن کو برداشت کیا ۔ اب ہم اسے مزید دکھ نہیں دے سکتے۔ جو ہو گا انہی کی مرضی سے ہو گا۔‘‘ بڑے چچا نے لاتعلقی سے دونوں کندھے جھٹکے۔
’’لیکن ……بھا……‘‘
’’بس کیجئے مما! ‘‘ لیلیٰ تلملا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی پھر پلٹ کر بے خوفی سے ان لوگوں کو دیکھا۔
’’تم لوگ اس عورت کو گھر سے نکل جانے کے لیے کہہ رہے ہو جس کے شوہر کو مرے ہوئے آج پانچواں دن ہے۔ بیس سال ایک بے زبان جانور کی طرح تمہارے کھونٹے سے بندھی دوسری عورت جو تیسرے درجے کی زندگی اس گھرمیں گزارتی رہی ‘ ان پانچ دنوں میں ہی تم سب پر بوجھ بن گئی۔‘‘
ــ’’تم بیچ میں مت بولو لڑکی!‘‘ ہاجرہ بیگم کا غرور و طنطنہ آج کچھ اور ہی تھا۔ ’’ تمہارا واسطہ ہی کیا ہے آخر…..؟ جس رشتے سے تمہاری ماں یہاں آئی اور تم دونوں کو بھی اپنے ساتھ کھینچ لائی….وہ رشتہ ‘ وہ تعلق ختم ہو چکا ہے تو اب یہاں قیام کا سبب ہی کیا ہے …..؟ اور پھر ….گھر بھرا ہوا ہے مردوں سے …..ہم کس کس کو بچاتے پھریں گے اس کے شر سے۔‘‘
ــ’’بکواس بند کرو …..ہاجرہ…..‘‘ زارا بیگم پوری قوت سے چلاّئی تھیں۔ ان کا کمزور سا وجود بری طرح لرز رہا تھا۔
لیلیٰ پر جیسے یکایک کسی نے ٹھنڈے پانی کی بالٹی الٹ دی تھی۔ ماہین نے انہیں ایک پل کے لیے زردی میں نہاتے دیکھا تو اپنا ضبط کھوتے ہوئے بے اختیار ہی سسک اٹھی۔
’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم میں سے کوئی بھی اس حد تک گری ہوئی بات کہہ سکتا ہے ۔‘‘ زارا بیگم نے سہارا لینے کے لیے کرسی تھام لی تھی ۔ ان کی آواز مدھم ہو گئی تھی اور پسینے کے ننھے ننھے قطرے پیشانی سے پھوٹ بہے تھے۔
’’ہم جلد یا بدیر یہاں سے چلے ہی جاتے۔ افسوس کہ تم لوگوںکے دل تنگ پڑ گئے اور حوصلے تمہارا ساتھ چھوڑ گئے اور تم لوگوں نے اس شخص کے کفن میلا ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا جو ….‘‘وہ بات مکمل کیے بغیر دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر سسک اٹھیں۔
’’بیس سال ایک شخص کی غلطی بھگتنے کو کافی ہوتے ہیں۔ یہ ایک کڑا وقت تھا جو میں نے گزارا۔ اس ایک دن کی آس میں ‘ جب میں تمہارا ہاتھ پکڑکر تمہیں اس گھر کی دہلیز سے نکال باہر کروں ۔‘‘ ان کے لہجے کی کرختگی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔
لیلیٰ چند لمحے انتہائی تنفر سے ان سب کے چہروں کو دیکھتی رہی اور پھر ایک دم پلٹی اور بنا کچھ کہے ماں کے بے جان وجود کو گھسیٹتی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ماہین نے اپنی ماں اور بہن کی تقلید میں کمرے سے باہر نکل جانا چاہا مگر اپنے پیروں میں ہلنے جلنے کی سکت نہ پا کر وہیں کھڑی بے آواز آنسو بہاتی رہی ۔ یہاں تک کہ قدموں کی مانوس آوازیں…..اس سے دور ہوتی چلی گئیں۔
بڑی امی…..بڑے اور چھوٹے چچا…..سلمان بھائی…..آفاق بھائی…..شہلا بھابی…..حتیٰ کہ چھوٹی چچی بھی…..کسی نے اسے رونے سے منع نہیں کیا تھا۔
خالی کمرے میں اس نے اپنی ہی سسکیوں کی آواز سنی تو وہیں بے دم ہو کر کارپٹ پر بیٹھ گئی اور تذلیل کے گہرے احساس میں ڈوب کر با آواز بلند رونے لگی۔اسے معلوم تھا کہ وہ ‘ اس کی ماں اور بہن اس گھر میں پسندیدہ اور من چاہے نفوس کبھی بھی نہیں رہے مگر یہ معلوم نہ تھا کہ ایک دن اس طرح بے دردی اور سفاکی سے انہیں بے امانی اور بے سائبانی سونپ دی جائے گی اور وہ بھی اس وقت جب اس کے باپ کو مرے ہوئے صرف پانچ روز ہوئے تھے اور دل ابھی مزید غم کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا ۔
’’لیلیٰ! یہ کیا کر رہی ہو تم؟‘‘ زارا بیگم کے لہجے میں حیرت تھی ‘ نہ سوال ‘ بس لیلیٰ کو روکنے کی ایک کمزور سی کوشش کی تھی۔ ماہین نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔
وہ بیڈ پہ ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھیں۔ دونوں ہاتھ گود میں دھرے ‘ دوپٹہ سرہانے رکھا تھا ۔ رو رو کر ان کا گلا بیٹھ گیا تھا اور دو دھیا سپید گردن پر ابھری ہوئی سبز رگیں دور سے دکھائی دے رہی تھیں۔ آنکھیں سرخ اور ان کے گرد سیاہ حلقے پچھلے چند گھنٹوں میں مزید گہرے ہو گئے تھے۔
’’لیلیٰ! تم میری بات کیوں نہیں سن رہیں۔ چھوڑ دو یہ سب ۔‘‘ لیلیٰ کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر انہوں نے دوبارہ اسے ٹوکا جو الماری کھول کر نجانے کون کون سی چیزیں اپنے بیگ میں ٹھو نستی جا رہی تھی۔
’’یہ چیزیں ہمیں بابا نے لے کر دی تھیں۔ انہیں لے جانے سے کون روک سکتا ہے ہمیں؟‘‘ کتنی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ ایکدم چٹخ کر بولی تھی۔
وہ اس کی بات سن کر کچھ دیر اپنی انگوٹھی کو نازک سی انگلی میں گھماتی رہیں پھر دھیرے سے بولیں۔
’’ہم کہیں نہیں جا رہے ۔ ہمیں کہیں نہیں جانا۔‘‘ اور لیلیٰ ان کی بات سن کر یوں اچھلی تھی جیسے کسی زہریلے سانپ نے اسے ڈس لیا ہو۔
خود ماہین حیران نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’کیا کہا آپ نے؟ آپ یہاں سے نہیں جائیں گی!‘‘ لیلیٰ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے بدتمیزی سے ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
ماہین کو وحشت سی ہونے لگی۔ لیلیٰ کے اس انداز سے وہ ہمیشہ خائف رہتی تھی۔
’’نہیں۔ آخر ہم کیوں چھوڑ کر جائیں یہ گھر ۔ دنیا میں بے شمار عورتوں کے شوہر مر جاتے ہیں۔ کیا وہ سب کی سب گھروں سے نکال دی جاتی ہیں اور….اورمیں نے بیس سال دیے ہیں اس گھر کو ۔ ایک ایک کی خدمت کی ہے میں نے ۔ میرا حق…..حق ہے اس گھر پہ….میں….‘‘
لیلیٰ نے بڑے سکون سے طنزیہ انداز میں انہیں بات مکمل کرنے دی تھی لیکن وہ خود ہی کہتے کہتے ہانپ گئیں تو لیلیٰ سپاٹ چہرے کے ساتھ ان کے سامنے سے ہٹ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی۔
’’جو عورتیں دوسری عورتوں کے مردوں پر قبضہ جما لیتی ہیں۔ وہ شاید اسی طرح سے شوہروں کے مرنے کے بعد گھروں سے نکال دی جاتی ہوں گی۔‘‘
لیلیٰ نے کھڑکی سے باہر اندھیرے میں دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا ماہین نے لرز کر اس کے بے رحم چہرے کو دیکھا۔
’’اور بیس سال …..جو آپ نے اس گھر کو دیے۔ کیا اس کے بدلے میں آپ نے اور آپ کی بیٹیوں نے کھایا ‘ پیا ‘ پہنا ‘ اوڑھا نہیں ہے۔ اب کون سے حق کی بات کرتی ہیں؟ آپ کے سب حقوق دینے والا اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔ یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔‘‘
’’بکو مت ….تم ہمیشہ سے اتنی ہی بد مزاج اور اکھڑ ہو ۔ ماہین ! تم اسے سمجھاتی کیوں نہیں ؟ آخر مجھے کسی سے بات تو کرنے دے ۔ اس میں حرج….‘‘
’’فار گاڈ سیک مما! کیا بات کریں گی اور کس سے ؟ جا کر بھیک مانگیں گی….منت سماجت کریں گی ان گھٹیا لوگوں کی…..‘‘ اس کی آواز بہت بلند تھی۔
وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے زیر لب کچھ کہا بھی مگر لیلیٰ سننے کو تیار ہی نہ تھی۔
’’اس بد تمیز عورت نے آپ کی بزرگی ‘ بیوگی کا لحاظ لیے بغیر آپ کے کردار پر حملہ کیا ۔ اب اس کے بعد کوئی امید باقی رہ گئی ہے کیا؟ اور وہ جانور …..سب کے سب دم سادھے کھڑے تھے جن کی خدمت میں آپ نے شب و روز کا فرق مٹا دیا تھا ۔ کوئی بولا آپ کی حمایت میں؟ کسی نے اس عورت کی زبان روکنے کی کوشش کی….؟ نہیں …..کوئی بھی نہیں تھا …..کوئی ایک بھی ہمارا اپنا نہیں تھا ….جو آگے بڑھ کر ہماری ڈھال بن جاتا ۔ ہم تینوں غیر عورتیں ہیں مما…..غیر عورتیں…جن کی عزت کرنے پر کوئی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا….آج آپ کے کردار پر حرف آیا ہے ….کل یہ انگلیاں ہماری طرف بھی اٹھ سکتی ہیں ‘ اس لیے بہتر ہو گا کہ دوسروں کے سامنے گھگیانے کے بجائے اپنا بوریا بستر باندھ لیں۔‘‘ لیلیٰ درشتی سے کہتی ایک بار پھر چیزیں بیگ میں ٹھونسنے لگی تھی۔
ماہین نے جانے کس امید کے تحت ماں کی طرف دیکھا جس کے دونوں بازو بے جان ‘ خشک ٹہنیوں کی طرح اس کے پہلو میں لٹکے ہوئے تھے۔
’’لیکن ہم جائیں گے کہاں ….؟‘‘ اس کی سر سراتی آواز میں ان کا سوال سن کر ماہین کو جانے کیا ہوا کہ اٹھ کر تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے کمرے سے باہرنکل گئی۔ لیلیٰ نے ایک پل کو ہاتھ روک کر اسے باہر جاتے دیکھا ور پھر منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑاتے ہوئے سارے کمرے میں چکرانے لگی۔
ماہین گھر والوں کی نظروں سے بچتی بچاتی پچھلی طرف کی راہداری سے ہوتی ہوئی لان میں آ گئی ۔ اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی اور دل ایک بار پھر رونے کو چاہ رہا تھا مگر باپ کی موت سے لے کر اب تک وہ اتنا رو چکی تھی کہ اب آنسو بھی نہ رہے تھے۔ وہ اسی اضطرابی کیفیت میں چلتی ہوئی لان کے دائیں طرف کونے میں آ بیٹھی ۔ رات پوری طرح پھیل چکی تھی اور وہ یہاں بیٹھ کر ڈائننگ ہال میں جلتی روشنیوں اور کھڑکیوں سے ابھرتے ‘ ڈوبتے سایوں کو حرکت کرتے بخوبی دیکھ سکتی تھی۔ ڈائننگ ہال کئی دنوں کے بعد آج کھولا گیا تھا۔اتنے دنوں سے گھر پہ چھایا ہوا موت کا سناٹا آج ٹوٹا تھا….ہاجرہ بیگم کو اس نے ابھی آتے ہوئے نہایت پر جوش اور سر گرم انداز میں باورچی خانے سے نکلتے دیکھا تھا …..اپنا سارا زہر اگل کر وہ خوب ہی ہلکی پھلکی ہو چکی تھیں۔
ماہین بینچ پر دونوں پائوں رکھے مایوس ‘ پژمردہ انداز میں ڈائننگ ہال کی سرگرمیوں کے بارے میں سوچتی رہی۔
واثق ‘ منزہ کو تنگ کر رہا ہو گا۔
آفاق اور سلمان بھائی کسی بزنس ڈیل کو ڈسکس کر رہے ہوں گے ۔ پنکی فیشن کیٹلاگ اٹھائے فریحہ کے پیچھے پیچھے ہو گی۔
بھابی باورچی خانے میں آوازیں لگاتی ۔ بڑ بڑاتی ہوئی مہراں بھاگ بھاگ کر میز پہ کھانا چنتی۔
’’اور ہم تینوں…..؟‘‘
اس نے غائب دماغی سے مما ‘ لیلیٰ اور اپنے بارے میں سوچا۔
’’وہ دونوں اس کمرے میں بند اور میں یہاں اس تاریکی میں کسی مجرم کی طرح منہ چھپائے۔‘‘
کوئی چیز اس کے حلق میں بری طرح اٹک گئی تھی۔دل پہ بوجھ بڑھتا ہی گیا تو اس نے طویل سانس لیتے ہوئے اپنی گردن بینچ کی پشت پر گرا دی۔
آسمان مہیب سائے کی طرح اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔ ستاروں کی لو مدھم تھی اور آم کے درخت سے جھانکتا ‘ آخری تاریخوں کا چاند اداس اور زرد دکھائی دے رہا تھا۔ دھیرے دھیرے چلتی ہوا کو محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنے اعصاب کو پر سکون کرنا چاہا مگر سوچ کے ننھے ننھے بے شمار کیڑے اس کے دماغ میں کلبلاتے ہی رہے۔
’’بابا زندہ رہتے تو …..مما نے ساری عمر کتنی مشقت کی ان سب کے لیے۔ گھر کے ہر فرد کی ایک ایک ضرورت کا خیال رکھا۔ نوکروں کے ساتھ گھن چکر بنی رہیں ۔ مجھے اور لیلیٰ کو بھی فراموش کر دیا ۔ صرف اس ایک احسان کا بدلہ چکانے کے لیے کہ جلید مرتضیٰ ہمدانی ایک بیوہ عورت پر ترس کھا کر اس کی دو بیٹیوں سمیت اسے اپنے سایہ پناہ میں لے آ ئے تھے اور اس ایک احسان کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی مما کو ….وہ ایک کارپٹ کی طرح اپنا آپ دوسروں کے قدموں تلے بچھاتی چلی گئیں اور جب جب ‘ جس جس کا دل چاہا انہیں روندتا چلا گیا حتیٰ کہ مجھے اور لیلیٰ کو بھی لیکن لیلیٰ …..ہاں وہ بہادر لڑکی ہے۔ اس نے کسی کو ضرورت سے زیادہ اپنے سر پر چڑھنے نہیں دیا۔ لیکن اب کیا ہو گا؟‘‘
دماغ میں رینگتے سوچ کے ایک کیڑے نے بڑی سفاکی سے اس کی رگوں میں دانت گاڑے تو اس نے بے اختیار کراہ کر دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام لیا۔ کچھ دیر تک یونہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ سیدھی ہو بیٹھی۔
’’اور کیسی ہو گی کل کی سویر۔ کیا ہم سچ مچ ہم یہاں سے چلے جائیں گے؟۔‘‘ گھنے درختوں میں چھپا کوئی پرندہ پر پھڑ پھڑا کر دوبارہ سے شاخوں میں دب گیا تھا۔
’’کیا سب لوگ یونہی خاموش رہیں گے۔ کوئی بھی ہمیں نہ روکے گا؟‘‘ اس نے اپنے دھیان میں ایک ایک چہرے کو کھوجا ۔ پھر چونک کر بر آمدے میں کھلنے والے دروازے کو دیکھا جو شام سے اب تک بند تھا۔
’’فاروق بھائی!‘‘ اس کے لبوں نے بے اختیار سرگوشی کی اور بند دروازے کو تکے گئی۔
’’کب تک بیٹھی رہو گی یہاں؟‘‘ وہ بری طرح چونکی پھر بے اختیار اٹھ کر اس سے لپٹ گئی۔ وہ ابھی ابھی باہر سے آیا تھا اور اسی کی طرح بے چین اور نڈھال نظر آ رہا تھا ۔
’’مت روئو‘ مت روئو ماہین! ایسا کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ وہ کسی بزرگ کی طرح اس کا سر تھپتھپاتے ہوئے دلاسا دے رہا تھا۔
’’ہم سب مل کر رہیں گے۔ تم لوگ کہیں نہیں جائو گے۔‘‘ اس کے بہتے آنسو پونچھتے ہوئے فاروق نے اسے بینچ پر بٹھایا اور خود بھی اس کے برابر ٹک گیا۔
’’بڑی امی نے ایسا کیوں کہا فاروق بھائی! کیا سچ مچ ہم ناقابل برداشت ‘ قابل نفرت لوگ ہیں صرف اس لیے کہ…..‘‘
’’اونہوں ‘ کم عقلی کی باتیں مت کرو۔ امی صرف ڈپریسڈ ہیں ۔ بابا کی اچانک موت نے …..وہ نجانے کب کا غصہ نکال بیٹھی ہیں…..‘‘ اٹھ کر ٹہلنے لگا۔
’’لیکن میں انہیں سمجھا لوں گا ….تم زیادہ فکر مند نہ ہو۔‘‘ وہ اپنی ہی کسی سوچ سے دامن چھڑا کر اسے تسلی دیتے ہوئے کسی جھکی ہوئی شاخ کے پتے نوچنے لگا تھا۔
’’اتنے برس بیت گئے ہم سب کا ساتھ رہتے ‘ مل جل کر ہنستے ‘ روتے کیا سب واسطے سب رشتے ایک اسی شخص کے دم سے تھے اور اسی کے ساتھ سب ناطے بھی ختم ہو گئے؟ محبت ‘ چاہت ‘ اپنا ئیت ….کیا ہمارا ہرجذبہ اتنا ارزاں ‘ اتنا خام تھا کہ دوسروں کو ہمارے ہاتھوں سے اپنے پلّوچھڑانے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوئی۔ میں نے ہمیشہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھا ہے۔ میں آپ سب سے بہت محبت کرتی ہوں میں یہاں سے نہیں جانا چاہتی۔‘‘
فاروق از حد پشیماں سا ایک بار پھر اس کے قریب آ کر بیٹھا۔
’’پھر وہی بات ….تم سے کہا ہے ناں….امی کا غصہ ایک آدھ دن میں اُتر جائے گا اور تمہیں اس قدر جذباتی ہونے کیا ضرورت ہے؟ کوئی تمہیں یہاں سے نہیں نکالے گا۔ تمہارے باپ کا گھر ہے یہ…..پورا پورا حق ہے تمہیں یہاں رہنے کا ۔ چلو اٹھو ‘ اب سو جائو جا کر ۔ مما کو بھی تسلی دینا ۔ میں بات کر لوں گا سب سے۔‘‘
یکسوئی سے سوچنے کی مہلت کے لیے اس سے بہت عجلت میں ماہین کو وہاں سے اٹھا دیا۔ اور پھر دیر تلک وہیں چکراتا اس سارے مسئلے کا حل سوچتا رہا۔
’’اور شاید یہ سب یونہی ہونا تھا۔‘‘ دریچے سے باہر رات دھیرے دھیرے بہہ رہی تھی اور کوئی اس کے قریب بہت دیر سے لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا ۔ اس کے اجنبی منظر سے نگاہ ہٹا کر گردن گھمائی۔
یہ مما تھیں ۔ بے چین و بے قرار ۔ نیند آنے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا ۔ پھر وہ تنگ آ کر اتریں اور دبے پائوں چلتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر نکل گئیں ۔ دروازہ ہولے سے چر چرایا اور رات کے دوسرے پہر کے سناّٹے کو کاٹتا چلا گیا۔
اس نے نیم تاریک کمرے میں بیڈ کے پرلے سرے پہ لیٹی لیلیٰ کو دیکھا ۔ وہ بہت دیر سے یونہی ساکت و صامت لیٹی تھی۔
’’معلوم نہیں سو رہی ہے یا……‘‘ وہ ٹھیک سے جان نہ سکی تو اسی زاویے پر بیٹھے بیٹھے ایک بار پھر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔
مما گرل کے ساتھ فرش پہ بیٹھی تھیں۔ پیر ننگے تھے اور بال بکھرے ہوئے …..وہ آج صبح سے یونہی گم صم تھیں۔ بس چپ کی بکل اوڑھے جیسے ساری دنیا سے خفا ہو گئی تھیں۔
وہ ایک ہی زاویے پر بیٹھے بیٹھے تھک گئی تو تکیے پہ سر گرا کر لیٹ گئی۔
’’اور شاید یہ سب یونہی ہونا تھا۔‘‘ چند لمحے پہلے کا خیال اس کے ذہن میں دوبارہ سر سرایا اور صبح کا واقعہ تمام تر جزئیات کے ساتھ اس کی آنکھوں میں گھوم گیا۔
مما کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی۔ وجہ پچھلے کئی پہروںکی بھوک تھی۔
’’مہراں ! جلدی سے کچھ کھانے کو دو ‘ مما کی طبیعت بہت خراب ہے ۔‘‘ بہت پریشانی اور عجلت میں اس نے دو گرم سلائس اٹھا کر پلیٹ میں رکھے ۔ مہراں نے فرائی انڈہ پلیٹ میں رکھ کر چائے کا کپ بھرا اور ٹرے اٹھا کر اس کے ہاتھوں میں دے دی وہ دروازے کی طرف پلٹی ہی تھی جب بڑی امی نے ٹرے اس کے ہاتھوں سے چھین کر میز پہ پٹخ دی تھی۔
’’نکلو یہاں سے …..‘‘
’’بڑی امی کا حقارت بھرا لہجہ سن کر وہ ششدر سی کھڑی رہ گئی۔
’’سنا نہیں تم نے ….دفعان ہو جائو یہاں سے …..کوئی لنگر خانہ کھلا ہے…..؟ انہوں نے بازو سے دبوچ کر اسے ایک جھٹکے سے باہر دھکیلا۔
ذلت کے شدید احساس نے اسے سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا…..کتنی دور تک وہ لڑکھڑاتی چلی گئی اور پھر نجانے کس چیز سے ٹھوکر کھا کر گری تو وہیں بیٹھ کر ہانپنے لگی۔
’’ماہین!‘‘ لیلیٰ نے ازحد حیرت سے پکارا تو وہ ڈبڈبائی آنکھیں لیے بے بسی سے اسے دیکھے گئی۔
پھر اس کے بعد جو ہوا۔ وہ اس قدر آنا فاناً ہوا کہ کم از کم ماہین تو اپنی سمجھ بوجھ ہی کھو بیٹھی تھی ۔ بہت سی چیختی چلاتی آوازوں میں اس نے تو بس اپنا ہاتھ لیلیٰ کے ہاتھ میں دیکھا جو دوسرے ہاتھ سے مما کو سہارا دیے ہوئے تھی۔
کب ٹیکسی لی …..کہاں جا اترے…..؟ اسے کچھ خبر نہ تھی۔ بہت وقت گزرا تب اس نے اپنے بحال ہوتے حواسوں کے ساتھ بے سدھ لیٹی مما کو دیکھا اور لیلیٰ کو جو دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھامے بیٹھی تھی۔
’’یہ ان لوگوں نے اچھا نہیں کیا۔ وہ میرا بھی گھر تھا ۔‘‘ مما عالم بے ہوشی میں بڑ بڑاتی رہیں اور لیلیٰ کے ماتھے پر شکنوں کا جال پھیلتا گیا اور تب سے اب تک وہ بغیر کسی سے کچھ کہے ‘ بنا کچھ کھائے یونہی سب سے ناراض ‘ سب سے خفا بیٹھی تھی۔ حالانکہ اس کی دوست ‘ جس کی ٹیکسی میں وہ صبح سے قیام پذیر تھیں ‘ آ کر کتنی ہی دیر تک اس کا دھیان بٹانے کو ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی تھی۔ مگر لیلیٰ اسے بھی زیادہ دیر برداشت نہ کر سکی اور یوں لب بھینچے بیٹھی رہی کہ اس بے چاری کو مجبوراً وہاں سے اٹھ کر جانا ہی پڑا۔‘‘
’’میری کتنی بہت سی چیزیں وہیں کمرے میں بکھری پڑی رہ گئیں۔‘‘ اسے سوچ سوچ کر دکھ ہونے لگا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اپنی بچھڑ جانے والی چیزوں کی فہرست مرتب کرتی رہی۔‘‘
کتابیں ‘ شعروں سے بھری ہوئی ڈائریاں۔فوٹو البم ‘ ریڈیو ‘ سیپیوں سے بنے ہوئے زیورات جو بابا اس کے لیے کراچی سے لائے تھے اور لکڑی کے منقش بکس میں محفوظ پڑے تھے۔ پرفیومز ‘ میک اپ کٹ ‘ تحائف میں ملنے والی سی ڈیز…..بے شمار ادبی رسائل جو اس نے مختلف اسٹالز پر لگے پرانے اخباروں رسالوں میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کیے تھے۔
دو پالتو بلیاں۔
ہرا بھرا لان …..جس کی کیاریوں میں وہ اپنی تنہائی کے مردہ بیج بویا کرتی اور وہ لڑکیاں جو اسے اپنے کسی راز میں شریک نہ کرتی تھیں لیکن ہر کھیل میں اسے اپنا ساتھی ضرور بناتی تھیں۔
’’اور….اور فاروق بھائی۔‘‘ اس نے با آواز بلند ان کا نام لیا اور پھر دھیرے دھیرے سسکنے لگی۔
’’کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔ خاموشی سے سو نہیں سکتیں۔‘‘ کمرے کی نیم تاریکی میں لیلیٰ بری طرح گرجی تو اس نے ایک دم سے اپنی آواز کا گلا گھونٹا اور بے آواز آنسو بہانے لگی۔
اس کا شدت سے دل چاہا اٹھے اور اس بد تمیز لڑکی کا منہ نوچ لے۔
’’کیا ضرورت تھی اسے اتنی جلد بازی کی۔ پتہ نہیں اس وقت فاروق بھائی وہاں تھے یا نہیں۔ اگر ہوتے تو ضرور ہی ہمیں روک لیتے۔ انہوں نے کہا تو تھاکہ مگریہ لیلیٰ کی بچی اسے ہمیشہ سے ہی اس گھر میں رہنا نا پسند تھا۔ جب ہی تو اتنی تیزی دکھائی لیکن میں کیا کروں ۔ مجھے سب یاد آ رہے ہیں اور اجنبی کمرے میں کسی اور کے بیڈ پہ سونا کتنا برا لگ رہا ہے ۔ بابا‘ آپ نے کچھ روز اور جی لیا ہوتا۔‘‘
اس نے تھک کر کروٹ بدلی لیکن جانتی تھی۔ اب کئی روز تک اسے نیند نہیں آنی تھی۔
’’انکل! ہمارے پاس رہنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ہے میں چاہتی ہوں کہ اگر مما کے حصے میں کچھ جائیداد وغیرہ آ رہی ہے تو ہمیں اس کی نقد ادائیگی کر دی جائے۔‘‘ لیلیٰ موبائل پہ بات کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔
’’شکریہ انکل! لیکن گھر وہی ہے …..جو اپنا ہو…..ہم سے زیادہ اس حقیقت کو اب اور کون جان سکتا ہے؟‘‘ لیلیٰ کی غم زدہ مسکراہٹ پر ماہین نے تکیے کا غلاف درست کرتے ہوئے اسے دیکھا۔
وہ آج سارا دن باہر گزار کر آئی تھی۔ پیر دھول مٹی میں اٹے ہوئے تھے۔ لباس شکن آلود ….. چہرے پہ تھکن کے آثار بے حد نمایا ں تھے۔
مختصر سی بات کے بعد اس نے موبائل بند کر کے اپنے پرس میں رکھا۔ اور اسے بیڈ پہ اچھال کر خود کرسی پہ ڈھے گئی پھر ہاتھ میں پکڑا لفافہ ماہین کی طرف بڑھایا۔
’’وردہ کو میں نے کھانے کے لیے منع کر دیا تھا۔ یہ برگر نکال لو پلیٹ میں۔‘‘ ماہین نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا اور خود لفافہ ہاتھ میں لے کر اٹھ گئی۔
’’مما واش روم میں ہیں۔ ان کا انتظار کر لیتے ہیں؟‘‘
اس نے کہتے ہوئے لیلیٰ کی رائے معلوم کرنی چاہی مگر وہ گھونٹ گھونٹ پانی پیتے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم ہو چکی تھی۔
ماہین نے کمرے میں حبس محسوس کرتے ہوئے باہر کے رخ کھلنے والی کھڑکی کے دونوں پٹ وا کر دیے۔
چلچلاتی دھوپ میں نرمی آ گئی تھی اور ہوا میں قدرے ٹھنڈک آ گئی تھی ۔ وہ کھڑکی پہ جھکی لان میں درختوں پہ اترتے پرندوں کو دیکھتی رہی۔
’’لیلیٰ ! تم کہاں رہیں سارا دن …..؟‘‘ مما کی آواز سن کر وہ پلٹی ۔ گیلے ہاتھ تولیے سے خشک کرتے ہوئے وہ عجلت میں لیلیٰ کے سامنے آ بیٹھیں۔
’’اور بتلائو ‘ بھلا ہم مزید کتنے دن یہاں رہیں گے۔ دیکھو ناں ‘ تینوں وقت کا کھانا ٹرے میں سجا سجایا آ جاتا ہے۔ بہت سبکی محسوس ہوتی ہے یوں مفت کی کھاتے ہوئے۔‘‘
’’ہاں ‘ مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ ان بیس برسوں میں ہم اپنا ہی حق چوروں کی طرح کھانے کے عادی ہو چکے ہیں شاید اس لیے …..‘‘ لیلیٰ کا لہجہ سرد و سپاٹ تھا۔
ماہین نے مما کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا تو بے حد ناراضی سے لیلیٰ کو ٹوکا۔
’’میرا خیال ہے ہم لوگ پہلے ہی کافی پریشان ہیں۔‘‘ جواباً لیلیٰ اسے گھورتے ہوئے مزید کچھ کہے بغیر اٹھ کر واش روم میں گھس گئی۔
’’یہ مجھ سے ٹھیک طرح سے بات کیوں نہیں کر رہی۔‘‘ مما نے انگلیاں چٹخائیں۔
’’کون سی نئی بات؟ یہ شروع سے اتنی ہی رئوڈ ہے……‘‘‘ ماہین نے برگر نکال کر مما کے سامنے رکھا اور دانستہ لاپروائی کا اظہار کرتی خود بھی کھانے لگی۔
پھر اگلے کئی روز ان دونوں نے لیلیٰ کو یونہی بے حد مصروف دیکھا تھا۔
صبح کی گئی شام کو لوٹتی۔
وہ پہلے سے کافی دبلی ہو گئی تھی اور رنگ بھی پہلے سے سنولا گیا تھا۔
مما اس کی پڑھائی کے سلسلے میں سخت پریشان…..وہ میڈیکل کے تیسرے سال میں تھی اور پڑھائی کے سلسلے میں اتنی لاپروائی قطعاً مناسب نہیں تھی۔ ایک رات انہوں نے دبے دبے لفظوں میں اسے احساس دلانے کی کوشش کی تو خلاف توقع اس نے بڑے آرام سے ان کی بات سنی اور رسان سے جواب بھی دے دیا۔
’’کالج سے چھٹیاں لی ہیں۔ چند دنوں میں جانے لگوں گی۔‘‘ اور اس سے اگلے ہی روز لیلیٰ معمول سے ذرا جلدی گھر آ گئی تھی۔ اس کے ساتھ وکیل انکل بھی تھے۔ بابا کے بہت گہرے دوست۔
انہوں نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ ماہین کے سر پر ہاتھ رکھا اور انہیں یوں بے سروسامانی کے عالم میں دیکھ کر سرد آہ بھر کر رہ گئے۔
مما چادر اوڑھے بیڈ کے ایک کونے پہ سمٹی بیٹھی تھیں۔
انہوں نے تعزیت کرنے کے بعد کچھ کاغذات مما کی طرف بڑھائے جن پر ان کے دستخط ہونا تھے۔
جلید مرتضیٰ ہمدانی نے کچھ رقم منافع بخش اسکیموںمیں لگا رکھی تھی۔ ان کی وفات کے بعد یہ رقم دونوں بیوائوں میں مساویانہ طور پر تقسیم ہونی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی جائیداد میں سے بھی قاعدے کی رو سے زارا بیگم کو حصہ ملا تھا۔ جس کی ادائیگی نقد رقم کی صورت میں ان کے بیٹوں کی طرف سے کر دی گئی تھی انہوں نے کاغذات ہاتھ میں لے کر لیلیٰ کی طرف دیکھا پھر اس کے اثبات میں سر ہلانے پر انہیں جہاں جہاں کہا گیا ‘ وہ دستخط کرتی چلی گئیں۔
ذرا دیر بعد ماہین نے لیلیٰ کو وکیل انکل کے ساتھ بیرونی گیٹ کی طرف جاتے دیکھا۔
اسے یاد تھا ‘ لیلیٰ وکیل بننا چاہتی تھی لیکن بابا کی خواہش پر اس نے میڈیکل میں داخلہ لے لیا تھا۔ پھر بھی اکثر و بیشتر وکیل انکل آتے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسٹڈی روم میں بابا کے پاس جا بیٹھتی تھی…..وہاں وہ ان سے نئے آنے والے کیسوں کے بارے میں سنتی ‘ ڈھیروں سوال ‘ جواب کرتی پھر اپنی رائے دیتی تو وکیل انکل ہنس دیا کرتے۔
’’ یہ ہمارے قبیلے کی لڑکی تھی ہمدانی! مگر تم نے اسے قصائیوں کے سپرد کر دیا۔‘‘ اور بھری دنیا میں واحد بابا ہی تو تھے جو اس کی صلاحیتوں کا اعتراف سن کر خوشی سے پھول جایا کرتے تھے۔ ورنہ مما کو تو شاید خبر بھی نہیں تھی کہ ان کی بڑی بیٹی اتنی ذہین ‘ اتنی حاضر دماغ ہے۔ اس نے پلٹ کر مما کو دیکھا جو سرتاپا چادر اوڑھے ہولے ہولے لرز رہی تھیں۔
’’لیلیٰ واقعی بہت بہادر اور جی دار لڑکی ہے۔‘‘ ماہین نے ہزار بار کے سوچے ہوئے خیال کو پھر دہرایا۔ ’’ میں نے کبھی اسے اپنا کام دوسروں کے سپرد کرتے نہیں دیکھا ۔ گھر کی لڑکیاں جن کاموں کو لے کر سارا دن گھر کے لڑکوں کے پیچھے پیچھے رہا کرتی تھیں۔ لیلیٰ ان جیسے بیسیوں کام ایک گھنٹے میں نمٹا دیا کرتی تھی۔
اور یہ ساری اسٹرگل بھی تو مما ہی کو کرنی تھی…..مگر لیلیٰ کا ہمت و حوصلہ دیکھ کر مما خود ہی کسی ننھے چوزے کی طرح اس کے پروں میں جا چھپی ہیں اور میں…..میرا شمار تو خیر کسی گنتی میں ہے ہی نہیں۔‘‘ اس ایک لمحے میں اسے اپنا آپ نہایت فضول اور غیر اہم لگا تھا۔
چھوٹا سا صحن تھا……بمشکل دوچار پائیوں جتنا، اس سے آگے برآمدہ جس کی لکڑی کی کڑیوں میں ابابیلیں گھونسلے بنا چکی تھیں ۔ اس کے بعد دو کمرے آمنے سامنے جن کے دروازے پتلی راہداری میں کھلتے تھے۔ دائیں کمرے سے ملحقہ ایک اور بڑا کمرہ تھا جس کی پرلی دیوار گول تھی اور اسی گولائی میں سے ایک محرابی دروازہ پچھلے برآمدے سے آگے کی ساری جگہ پھل دار درختوں اور جھار جھنکاڑ سے اٹی ہوئی تھی ۔ حالانکہ یہ جگہ بھی زیادہ وسیع نہیں تھی بلکہ درختوں اور لمبی گھاس کی وجہ سے زیادہ ہی تنگ محسوس ہو رہی تھی۔
’’کوئی بات نہیں ہم رفتہ رفتہ اس گھر کو بہت بہترحالت میں لے آئیں گے صفائی ستھرائی اور رنگ و روغن کے بعد یقینایہ اچھا لگنے لگے گا اور پیچھے پھل دار درخت بھی تو ہیں۔ گھاس کی تراش خراش کر لی تو لان کی کمی پوری ہو جائے گی اور….‘‘
لیلیٰ دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے چاروں طرف گھومتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں کہتی رہی ۔ پھر ان دونوں کی طرف سے کوئی رسپانس نہ پا کر وہ ایک دم چیخ گئی۔
’’کس بات کا سوگ منا رہی ہو تم دونوں۔ جتنے پیسوں میں یہ پورا گھر خریدا ہے میں نے ۔ اتنے پیسوں میں کسی پوش علاقے میں دو کمرے نہیں خریدے جا سکتے صرف زمین کی قیمت دی ہے۔ سر چھپانے کو ٹھکانہ مل گیا ‘ کیا یہ کافی نہیں؟‘‘ مما ایک دم گھبرا گئیں۔
’’نہیں ‘ نہیں ٹھیک ہے بہتر ہے بہت بہتر…..ُُ‘‘وہ یونہی دیواروں کو چھوتی ہوئی کسی کمرے کے اندر گھس گئیں۔
لیلیٰ منہ بسور کر برآمدے کی سیڑھیوں پر جا بیٹھی۔ ماہین گھومتی گھامتی پچھلی طرف چلی آئی۔
’’توبہ …..پتہ نہیں کیسے لوگ رہتے تھے یہاں …..‘‘ غسل خانے کی پھسلواں اینٹیں دیکھ کر ماہین نے منہ بنایا۔ دیواروں کی جڑوں میں کائی جمی تھی۔ وہاں سے نکلی تو مما کو باورچی خانے کی حالت کافی بہتر تھی۔ بڑی بڑی جالی دار کھڑکیاں تھیں۔ ایک برآمدے کی طرف کھلتی تھی اور دوسری باہر باغ کی جانب ۔
’’باورچی خانہ اچھا ہے نا؟ ہوادار اور روشن بھی۔‘‘ ماہین نے خوش ہو کر کہا۔
’’ہاں ‘ گھر بھی اچھا ہے۔ بس ذرا محنت کرنی پڑے گی اور گھر بنانے کو محنت تو کرنا ہی پڑتی ہے۔‘‘ ان کے لہجے کی اداسی پر ماہین نے ذرا چونک کر انہیں دیکھا اور پھر خاموش سی ہو گئی۔
’’پچھلے بہت سے دن کتنے عجیب تھے جو بیت گئے۔‘‘ لوہے کی گول کرسی پہ دونوں پائوں اوپر رکھتے ہوئے اس نے کتاب بند کی اور سر اٹھا کر درختوں کے بیچ سے نظر آتے آسمان کو دیکھنے لگی جہاں ساون شروع ہوتے ہی سفید بدلیاں یہاں سے وہاں چکراتی پھر رہی تھیں۔ ہوا دھیرے دھیرے چل رہی تھی اور کمروں کی نسبت درختوں کی سایہ دار جگہوں پر ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے گردن گھما کر پاس والی کیاری کو دیکھا۔ ابھی تک خشک اور مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ کافی دیر پہلے پانی کی ٹونٹی کھول کر آئی تھی مگر یہ زمین اتنی پیاسی تھی کہ پانی ابھی تک صرف شروع کی مٹی کو ہی سیراب کر رہا تھا۔
اس نے کتاب کرسی پہ رکھی اور درخت کی شاخوں میں پھنسائی کھرپی نکال کر کیاریوں کی حالت درست کرنے لگی۔ گھاس پھونس‘ خشک پتے ‘ مٹی کے ڈھیلے وہ تمام چیزیں نکال کر باہر پھینکتے ہوئے پانی کے لیے راستہ بنانے لگی۔ حالانکہ یہ کام اس کے آج کے شیڈول میں شامل نہیں تھا۔ مگر ایک بے وجہ کی بے چینی تھی جو اسے سارا دن ڈھنگ سے بیٹھنے بھی نہ دیتی تھی۔
اتنے سارے دن بیت گئے۔ وہ اور مما مل کر خوب ہی کھپ چکیں مگر اس گھر کی حالت تھی کہ سدھرنے میں ہی نہ آ رہی تھی۔ کسی روز لیلیٰ اپنے کالج سے ایک بوڑھے مالی کو گھسیٹ لائی تھی اس نے یہ مہربانی کی کہ اس ڈیڑھ مرلے کے جنگل کو بیٹھنے کے قابل بنا دیا تھا۔ مگر ابھی بھی بہت سارے کام ایسے تھے جو ہونا باقی تھی۔ مثلاً موتیے کے جھاڑ کی تراش خراش ‘ جوبے طرح پھیلا ہوا تھا۔ انار کی شاخوں کو ڈھنگ سے باندھنا جو اپنے ہی پھل کے بوجھ سے زمین پہ لگی جو رہی تھیں۔ خشک پتوں ‘ سوکھی ٹہنیوں کو جمع کرنا۔
’’ماہین! چائے پیو گی؟‘‘ مما باورچی خانے کی کھڑکی سے لگی پوچھ رہی تھیں۔ ماہین نے لمحہ بھر کو سوچا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ کھرپی دوبارہ سے درخت کی شاخوں میں پھنسائی اور ہاتھ دھو کر اپنی کرسی پہ آ بیٹھی۔ پانی شرر شرر بہتا ہوا اس کے پاس کی کیار ی کو تر کرنے لگا اور پھر آگے جا کر کسی رکاوٹ کے سبب کمزور کنارے سے باہر بہنے لگا تھا۔ وہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ڈھیٹ بنی پانی کو کسی حقیر کیچوے کی طرح خشک گھاس کے بیچوں بیچ راہ بناتے دیکھتی رہی۔
کچھ دیر بعد مما چائے کا مگ لے کر اس کے پاس آ گئیں۔اس نے کرسی ان کے لیے چھوڑی اور خود گھاس پہ ادھر ادھر ٹپکے ہوئے آم اٹھانے لگی۔
’’ماہین! یہ لیلیٰ سارا دن کہاں رہتی ہے…..؟‘‘ مما کی بات سن کر اس نے ایک پل کے لیے سوچا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
’’پتہ نہیں مما ! میں نے کبھی پوچھا نہیں۔‘‘
اس کے اس قدر لاپروائی سے جواب دینے پر مما نے خاصے دکھ سے اس کی طرف دیکھا۔
’’کیا تمہیں نہیں لگتا ماہین! کہ اس گھر سے نکلنے کے بعد ہم تینوں…..تینوں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں؟‘‘
ماہین نے سیدھے کھڑے ہوئے مما کو دیکھا ،جنہوں نے ہاتھوں کی لرزش سے گھبرا کر چائے کا مگ زمین پر رکھ دیا تھا اور خود انگلیاں چٹخانے لگی تھیں۔
اور یہ ہی سوال رات گئے صحن میں بیٹھ کر پڑھتی ہوئی لیلیٰ سے اس نے کیا تو وہ بس ایک زہریلی اور طنز بھری مسکراہٹ اس کی طرف اچھال کر خاموش ہو رہی۔
’’نئیں بتائو ناں لیلیٰ ! ہم لوگ کیا واقعی ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں؟ کیا ہم ویسے نہیں رہ سکتے تھے جیسے پہلے رہتے تھے‘ اس گھر میں…..‘‘
پہلے ہم کیسے رہتے تھے ماہین؟‘‘
لیلیٰ نے بہت اطمینان سے پوچھا تھا۔ اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دیے پائے گی ‘ خود ہی بول اٹھی۔
’’تمہاری یادداشت میں محفوظ ہے کوئی ایک بھی ایسا دن…..جب ہم دونوں نے مل بیٹھ کرڈھیر ساری باتیں ایک دوسرے سے کی ہوں۔ جب ہم مل کر زور زور سے قہقہے لگا کر ہنسے ہوں ‘ کیا پہلے ایسا ہوا کرتا تھا کہ تم بیٹھ کر مجھے اپنے سارے دن کی روداد سناتی ہو۔ یا میں نے کبھی اپنی دوستوں کے قصے چھیڑے ہوں۔ مائی ڈیئر! ہم لوگ ہمیشہ سے یونہی رہتے آ ئے ہیں۔ ایک ہی کمرے میں پرورش پانے والے اجنبی لوگ ‘ جو اپنی اپنی ذات میں پل کر جوان ہوئے ‘ جنہوں نے اپنے دکھ اپنی خوشیاں ‘ بس اپنے ساتھ ہی شیئر کی ہیں۔‘‘ لیلیٰ بے وجہ ہی کتاب کے صفحے پلٹتی گئی۔
ماہین پر لی دیوار پر بنتے لیلیٰ کے مضحکہ خیز سائے کو تکتی اس قدرسنگ دلانہ تجزیئے پر دل ہی دل میں اس سے خفا ہو بیٹھی تھی۔
’’ماہین! تم سے مما نے کچھ کہا ہے ۔ اس طرح رہنے کے بارے میں ؟ مطلب…..‘‘
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد لیلیٰ نے یونہی گھما پھرا کر اس سے پوچھنا چاہا ۔ وہ بنا کچھ کہے صحن میں لگے بلب کے گرد اڑتے اور مر کر گرتے پروانوں کو دیکھے گئی۔
’’مت بتائو۔ لیکن میں جانتی ہوں۔‘‘
دیوار پہ بیٹھی چھپکلی نے سرعت سے ایک پروانے کو اپنے جبڑوں میں دبوچا تو ماہین نے جھرجھری سی لے کر نگاہ لٹا لی۔
’’برسات کے دنوں میں یہ ایک الگ مصیبت…..اتنے بہت سے کیڑے مکوڑے…..‘‘
ماہین نے خوامخواہ ہی پیر جھٹک کر کرسی پر رکھ لیے۔ پھر کن اکھیوں سے لیلیٰ کو دیکھا وہ ابھی تک اسی سنجیدگی سے ‘ نوٹ بک پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔
’’میں جانتی تھی کہ انہیں ایک نہ ایک دن احساس ہو گا۔ اپنی زمین پر بیج بونے کے بجائے دوسری زمینوں کی آبیاری کی جائے تو آخر میں بس پچھتاوے کی فصل ہی ہاتھ آتی ہے۔ ان گزشتہ برسوں میں‘ ہم بھی اپنی ماں سے ایسے ہی بچھڑ گئے ماہین! جس طرح کوئی ٹرین پوری رفتار سے اسٹیشن چھوڑ گئی ہو۔ اور مسافر پلیٹ فارم پر کھڑا بس ہاتھ ملتا رہ گیا ہو۔‘‘
’’پچھلے برآمدے میں بلب ابھی تک نہیں لگا۔رات کو باتھ روم جانا پڑے تو اتنا اندھیرا …..‘‘ ماہین نے اس تکلیف دہ موضوع سے جان چھڑانا چاہی ‘ جسے شروع کرنے کی ذمہ دار سرا سروہی تھی۔
’’اس ایک گھر میں پناہ لینے کی خاطر ہم نے کیا کیا قربانیاں نہیں دی تھیں۔ ہماری ماں‘ ہمارا بچپن ‘ ہمارا لڑکپن ‘ ہماری ہنسی ‘ ہماری خوشیاں ‘ سب کچھ چھین لیا اس گھر نے ۔ تم نے کبھی سوچا ماہی! ہم وہاں کیسی زندگی گزار رہے تھے؟‘‘ ماہین نے بلب کی زرد روشنی میں بھی اسی کے چہرے سے جھلکتی سرخی کو بہت واضح طور پر دیکھا۔
’’ایک بوجھ بھری…..خوفزدہ ‘ پر حقارت زندگی۔ کوئی یہ نہ کہہ دے۔ کوئی یہ نہ سن لے۔ کسی کو جواب نہیں دینا۔ سب سے آخر میں کھانا ‘ اتنے کپڑوں میں گزارا کرنا ہے۔‘‘ اس کی آواز ایک لخت بلند ہو گئی تھی۔ ماہین نے گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا۔
’’تم نہیں جانتیں ماہی! میں نے اس گھر کے ایک ایک فرد سے ہمیشہ نفرت کی ہے‘ ہاں صرف وہ ایک شخص جسے میں بابا کہتی تھی جو میرے دکھوں سے ناواقف لیکن میری خوشیوں میں شریک رہا۔ اس گھر میں صرف وہی ایک انسان تھا جو چاہے جانے کے قابل تھا۔ شاید اسی لیے کہ وہ بھی ہماری طرح اس گھر میں دوسرے درجے کا فرد تھا۔‘‘ لیلیٰ بے فکری کے اظہار کے لیے زور سے ہنسی اور پھر فوراً ہی چپ ہو رہی۔
’’اور میں…..؟ لیلیٰ…..تم مجھ سے …..‘‘ نجانے کیسے اس کے منہ سے پھسلا ۔ لیلیٰ نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ پھر ہولے سے سر جھٹک کر اس نے دوبارہ کتاب کھول لی۔
’’تم اس گھر میں سے نہیں ہو ماہین! تم میری بہن ہو۔‘‘
’’افوہ! ایسا بے معنی سا اظہار…..‘‘ وہ اسے پڑھتا ہوا چھوڑ کر وہاں سے اٹھ آئی۔ جانے کیوں دل پہ بوجھ سا بڑھ گیا تھا۔
راہداری سے ہوتی ہوئی وہ گول کمرے میں آ گئی۔ اس کا اور مما کا بستر یہیں لگا ہوا تھا۔
’’مما! سو گئیں کیا؟‘‘ وہ اندازے سے آگے بڑھی اور باغیچے میں کھلنے والی کھڑکی چوپٹ کھول دی۔
’ماہین! یہ لیلیٰ ابھی کیا کہہ رہی تھی۔ کیا واقعی۔ کیا واقعی…..میں تم دونوں کو کھو چکی ہوں؟‘‘ کمرے کی تاریکی میں مما کی سر سراتی آواز سن کر وہ جہاں کی تہاں رہ گئی۔
’’نہیں مما! میں آپ کی بیٹی ہوں۔ اور لیلیٰ بھی ….‘‘ وہ جانے کیوں ہکلا سی گئی۔
’’وہ تو بس خوامخواہ…..یونہی…..آپ کو تو پتا ہے ناں…..؟ وہ شروع ہی سے…..‘‘ وہ گھبرا سی گئی۔
(مما نے سب سن لیا…..یہ لیلیٰ کی بچی بھی ناں بس…..)
’’یہ سارا دن کن فضول کاموں میں الجھی رہتی ہو تم؟‘‘ چھٹی کا دن تھا۔ لیلیٰ بھی گھر پہ تھی اور ماہین معمولات دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔ پہلے ایک ڈنڈے پہ جھاڑو لگا کر اس نے گھر کے سب درو دیوار صاف کیے تھے۔ اور اب ایک اسٹول پہ چڑھی پچھلے برآمدے میں لگا بلب اتار رہی تھی۔ جو ایک عرصے سے فیوز تھا۔
لیلیٰ کی بات کا جواب دیے بغیر ماہین نے بلب گرد بنے مکڑی کے نازک جالے کی مہین تاروں کو بغور دیکھتے ہوئے اور اسے بچانے کی بھر پور کوشش کرتے ہوئے بلب اتارا مگر وہ تنی ہوئی تاریں پل بھر میں ہی بے جان ہو کر اس کے ہاتھوں پہ جھول گئیں ۔
ـ’’سن رہی ہو ماہی! میں تم سے مخاطب ہوں۔‘‘ وہ ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی اور ہلکا پھکاناشتہ کرنے کے بعد چائے لے کر باغیچے میں آ گئی تھی۔
’’ہاں ‘ کیا کہہ رہی ہو تم ؟‘‘ نیا بلب لگا کر وہ پرسکون سی اسٹول سے نیچے اتر آ ئی۔
’’سارا دن انہی کمروں ‘ راہداریوں میں گھومتی رہتی ہو۔ یوں فضول وقت برباد کرنے سے بہتر ہے ۔ کچھ پڑھ لکھ لیا کرو۔‘‘
’’کیا پڑھ لیا کروں۔ رزلٹ آئے تو پھر کچھ کروں۔ باقی جو گھر میں دو ایک کتابیں ہیں ‘ انہیں ہزار بار پڑھ چکی ہوں۔ ‘‘ اس نے ایف۔ایس۔سی کے پیپر دیے تھے۔
لیلیٰ نے کچھ چونک کر اسے دیکھا۔
پھرچائے کا کپ منہ کی طرف لے جاتے ہوئے رک کر نجانے کیوں اپنا ہونٹ کچلنے لگی۔ باورچی خانے میں مما ‘ ماہین کو پکار رہی تھیں۔
’’اوہ خدایا!‘‘ لیلیٰ نے تاسف سے اپنی پیشانی مسلی۔
کئی روز پہلے کسی نے اسے ایف اے کا رزلٹ آئوٹ ہونے کی خبر سنائی تھی۔ اور اس نے گھر جاتے ہی ماہین سے رول نمبر لینے کا ارادہ بھی کیا تھا۔ اور پھر …..’’پھر کیا ہوا کہ میں اتنی اہم بات بھول گئی۔‘‘ پشیمانی کے گہرے احساس نے اسے ماہین کا سامنا نہ کرنے دیا تو وہاں سے اٹھ کر کمرے میں آ گئی۔ کچھ دیر خود پر قابو پانے میں لگی پھر کچھ سوچ کر باورچی خانے کے دروازے میں آ کھڑی ہوئی۔
’’تم اپنا رول نمبر دو مجھے…..میں رزلٹ کا پتہ کرواتی ہوں۔‘‘
ماہین نے خاموشی سے ناشتہ وہیں چھوڑا اور ہاتھ دھو کر باہر نکل آئی۔
’’لیلیٰ! مما بہت اکیلی ہوتی ہیں گھر میں۔ میں آگے پڑھنا نہیں چاہتی۔‘‘ برآمدے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے اس نے بہت آرام سے کئی دنوں سے سوچی ہوئی بات کہی۔
’’کیا کہہ رہی ہو ؟‘‘ لیلیٰ نے تعجب سے اسے دیکھا۔ ’’ہاں نا…..تم تو صبح کی گئی شام گئے لوٹتی ہو۔ اگر میں بھی۔‘‘
’’کیا تم بھی…..؟ اور لوگ گھروں میں اکیلے نہیں رہتے کیا؟ مما ٹھیک ٹھاک ہیں ‘ چاق و چوبند ہیں۔ تم خوامخواہ…..‘‘ لیلیٰ فوراً ہی بگڑ گئی تھی۔
ماہین نے خاموش نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’وہ ٹھیک ٹھاک نہیں ہیں لیلیٰ ! وہاں سے آنے کے بعد وہ بالکل ٹوٹ پھوٹ گئی۔
’’تو ٹھیک ہے دوا نہیں اپنی محبت اور توجہ…..ایک اسی چیز کی کمی رہی ہے ان کے پاس ہمیشہ سے۔‘‘
’’لیلیٰ …..‘‘ ماہین نے گھبرا کر باورچی خانے کی طرف دیکھا۔
’’ٹھیک انہی کے نقش قدم پر چل رہی ہو تم ’’آج‘‘ کے بارے میں سوچنے لگی ہو ’’کل‘‘ تک نگاہ نہیں جاتی تمہاری ۔ اور پھر کبھی زندگی میں کرائسز کا سامنا ہوا تو تم بھی خزاں رسیدہ پتے کی طرح اسی انتظار میں رہنا کہ ہوا تمہیں کس طرف لے جاتی ہے۔‘‘
دھیمے لہجے میں دانت پیستے ہوئے اس نے سفاک حقیقت کو اس پر آشکار کرتے ہوئے ایک طرف دھکیلا اور تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ تب ہی باورچی خانے کے دروازے سے لگی مما تیر کی طرح ماہین کی جانب بڑھیں۔
’’کیا…..؟ کیا کہہ رہی تھی لیلیٰ!‘‘
’’کچھ نہیں…..‘‘ ماہین کو فوری طور پر کوئی بہانہ نہیں سوجھا تو نیچے گرے ہوئے کچے انار اٹھا کر ان کا جائزہ لینے لگی۔
’’کیا کچھ نہیں؟ وہ یہاں سے بہت غصے میں گئی ہے۔‘‘
’’غصہ تو اس کی ناک پہ دھرا رہتا ہے۔‘ ‘ اس نے انار کیاری کی طرف اچھالا۔ پھر مما کی آنکھوں میںجھولتے وہم کو دیکھ کر طویل سانس لی۔
’’مجھے اپنا رول نمبر یاد نہیں…..وہ بس اسی بات پر خفا ہو رہی تھی۔‘‘
’’بس اتنی سی بات…..؟‘‘ انہوں نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
’’جی…..‘‘ وہ کندھے اچکا کر ایک طرف کو بڑھ گئی۔ اور دن بھر بظاہر نہایت اطمینان سے سب کام نمٹاتی رہی۔
ایک دوبار لیلیٰ کے کمرے کی طرف بھی آئی مگر وہ میز کتابوں سے بھرے نہایت مگن انداز میں بیٹھی تھی۔ ماتھے پر شکنوں کا جال۔
ماہین نے اندازہ لگایا کہ اس کی توجہ کتابوں کی طرف نہیں ہے۔
’’لیکن پوچھے کون…..ہر لمحہ تو کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے اور پچھلے کچھ روز سے تو زیادہ ہی غصے میں رہنے لگی ہے۔ پتا نہیں کیوں؟‘‘ وہ ایک بار پھر کمرے کے دروازے سے ہی لوٹی تو بہت دیر سے اس کے سلیپر کی سپڑ سپڑ سنتی لیلیٰ جھنجھلا سی گئی۔
’’کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟‘‘
’’ہائیں…..کیا…..؟‘‘ ماہین نے نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھا۔
’’تم ڈھنگ سے کیوں نہیں بیٹھ جاتیں کہیں۔ اس کمرے سے اس کمرے ‘ راہداری برآمدے ‘ سارا دن لور لور پھرتی ہو۔ تھکتی نہیں ہو تم؟‘‘
’’لو خوامخواہ ہی ‘ تمہیں بھلا کیا…..؟‘‘ ماہین نے ناراضی سے اسے دیکھا۔
’’بے وجہ کی روک ٹوک …..‘‘ وہ دانستہ سلیپر گھسیٹتے ہوئے باہر نکل گئی۔
لیلیٰ نے ہاتھ میں پکڑی کتاب میز پر پھینکی اور کرسی زور زور سے جھلّانے لگی۔ باورچی خانے سے برتن پٹخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
پھر شاید مما نے پکار کر کچھ کہا۔
وہ کچھ دیر یونہی آنکھیں بند کیے جھولتی رہی پھر ایک دم کرسی سے اٹھ کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اپنا آپ بغور دیکھا۔
’’میں پہلے سے کتنا بدل گئی ہوں۔‘‘ دوپٹہ کندھے سے ڈھلک کر اسٹول پہ جھول گیا تھا ۔ وہ چپ چاپ‘ ساکت کھڑی اپنا آپ دیکھتی رہی۔
رنگت پہلے سے سنولا گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد حلقے جسم دبلا پتلا…..وہ ذرا مسکرائی۔
چہرے پہ سجی خوشی کا کوئی عکس نہ ابھرا تھا۔ فکریں ہی فکریں…..پریشانیاں ‘ لامتناہی سوچیں۔
’’کالج سے ٹیوشن ……ٹیوشن سے اکیڈمی ‘ پڑھنا پڑھانا ساتھ ساتھ۔‘‘
’’کیا دیا ہے اس زندگی نے ہمیں؟‘‘ اس نے قدرے بے بسی سے سوچا۔ کھلی کھڑکی سے ہوا کا جھونکا اندر آیا تھا۔
’’تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔ ہر لباس کے ساتھ اپنا رنگ بدلتی ہیں۔‘‘ بھاری لہجہ کمرے میں گونجا۔
میز پہ دھری کتابوں کے صفحے ہوا کے زور سے پھڑ پھڑانے لگے تھے۔
اس نے اپنی نیلے رنگ میں رنگی آنکھوں کو دیکھا ۔ پھر سر جھٹک کر اس خیال سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
’’ابھی وقت نہیں آیا ‘ کچھ بھی سوچنے کا۔ مستقبل غیر محفوظ ہے۔ اور پھر صرف میں ہی تو نہیں ناں…..ماہی اور مما بھی تو ہیں۔ ہمارا ایک دوسرے کے سوا اور ہے ہی کون؟‘ آنکھوں کی صاف شفاف سطح پانی سا ابھرا تھا۔ جسے اس نے اپنی ہتھیلیوں سے سے رگڑ ڈالا۔ ‘ پھر نیم تاریک راہداری میں نکل آئی۔ اخیر جولائی کی ہوا معمول کی تپش سے عاری تھی اور آزادانہ کمروں ‘ راہداریوں میں گھوم پھر رہی تھی۔ وہ پچھلے برآمدے سے ہو کر باورچی خانے میں آ گئی۔ یہاں کوئی نہیں تھا اور چولہا جل رہا تھا ۔ چائے کا پانی پک پک کر پیندے سے جا لگا تھا۔ اس نے بٹن گھما کر چولہا بند کر دیا۔
’’پتہ نہیں ‘ ان دونوں میں سے کس کی یادداشت خراب ہے۔‘‘ اس نے کھڑکی کی جالی میں سے جھانکا۔
ماہین لمبی سی چھڑی لیے درختوں سے پکی ہوئی جامنیں نیچے گرا رہی تھی۔ کالی ٹوکری اس کے قریب گھاس پر اوندھی پڑی تھی۔ تیز ہوا اس کے بالوں دوپٹے کو اڑا رہی تھی۔
’’اور یہ کیا کہہ رہی تھی آج ۔ آگے نہیں پڑھے گی…..‘‘ اس نے فکر مندی سے سوچ کا رخ بدلا۔
’’کیا ہو گا اس کا مستقبل…..؟ نہیں‘ یہ بے وقوف ہے۔ اسے سمجھانا پڑے گا۔ یوں زندگی نہیںگزر سکتی خیر سمجھ جائے گئی خود ہی۔ ٹپکے ہوئے آموں اور پکی ہوئی جامنوں کے سہارے زیادہ وقت بتایا نہیں جا سکتا۔ جلد ہی اکتا جائے گی تو خود بخود اپنے بارے میں سوچنے لگی گی۔‘‘ وہ جالی سے ٹکی ماہین کو دیکھتی رہی وہ شاید کچھ گنگنا رہی تھی دھیرے…..دھیرے اور اب گھٹنے گھاس پہ ٹکائے جامنیں ٹوکری میں جمع کرنے لگی تھی۔
’’یہ ماہی بھی ناں بہت ہی بونگی لڑکی ہے۔ اس کے ساتھ کچھ بھی تو شیئر نہیںکیا جا سکتا …..‘‘ وہ باورچی خانے سے واپس کمرے میں آ گئی ’’اور خود سے یہ کبھی کچھ جان ہی نہیں سکتی‘ ایک وہ ہے عبیدالرحمان۔‘‘ اس نے بتی بجھائی اور صاف ستھرے بستر پہ چت لیٹ گئی۔
’’کون سا جادو بھرا ہے اس کے اندر بنا کہے سب جان لیتا ہے۔
’’آج تم اداس ہو۔‘‘
’’آج تھک گئی ہو۔‘‘
’’مطمئن دکھائی نہیں دے رہی ہو۔‘‘
’’کام کرنے کو دل نہیں چاہ رہا؟‘‘
اور میں زمانے بھر سے چھپ بھی جائوں تو اس کے سامنے عیاں ہو جاتی ہوں۔‘‘ اسے دل میں ابھرتی سرخوشی کے ساتھ عجیب سی تکلیف بھی محسوس ہوتی۔
’’نہیں عبیدالرحمان! ابھی مجھے مجبور مت کرو۔ ابھی سب سوالوں کو بے جواب رہنے دو۔ ابھی دل کی دھرتی پہ محبت کے بیج بونے کا وقت نہیں آیا…..‘‘
اس نے جلتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر کتابیں کھنگالنے لگی۔‘‘ اس بے چاری کو کیا خبر کہ چشمہ ہمیشہ کمزور زمین سے پھوٹتا ہے اور زمین کی رائے ‘ رضا سے ماورا ہوتی ہے۔‘‘
’’کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے…..میں پڑھائی چھوڑ دوں…..‘‘ دفتر کے سکون خنک ماحول میں وہ ہمیشہ ہی خود کو کمزور پڑتے محسوس کرتی تھی آج بھی ایسے ہی کسی لمحے میں نجانے کیسے اس کے منہ سے پھسل گیا۔ ’’اونہوں…..سوچنا بھی مت۔‘‘ وہ میز کے دوسری طرف کرسی سے اٹھ کر عین اس کے سامنے آٹکا تھا۔
’’تم اتنہائی ذہین لڑکی ہو اور ذہانت ضائع کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ تم جانتی ہو ذہانت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ‘ عام لوگ اپنے تجربات سے سیکھتے ہیں سر پٹخ پٹخ کر اور تمہیں تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔‘‘ اس کے لہجے کی ٹھنڈک ‘ کلون کی مخصوص خوشبو ‘ آواز کا زیرو بم ۔ لیلیٰ نے پل بھر کے لیے اسے اپنے بہت قریب محسوس کیا۔
’’لیکن میں تھک گئی ہوں…..ہر روز اتنی مشقت ‘ بسا اوقات …..‘‘ وہ روانی سے کہتے ایک دم چپ ہو رہی اسے لگا وہ خوامخواہ ہی اپنی کمزوریاں ظاہر کر رہی ہے …..ایک ایسے شخص کے سامنے، جس سے فی الحال اس کا ایسا کوئی تعلق نہیں تھا کہ وہ ایسی باتیں شیئر کرتی پھرے۔
’’ہاں تو اس میں ایسی کیا بات ہے؟ مشقت ہر انسان کو تھکا دیتی ہے۔ بس مایوسی اچھی چیز نہیں۔ ہاں اگر تم ریلیکس ہونا چاہو۔ تو چند روز اکیڈمی نہ آ ئو لیکن ۔‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر دھیرے سے جادوئی ہنسی ہنسا۔
’’اتنے دن میرا کیا بنے گا…..؟‘‘
وہ سر جھکائے ‘ سامنے میز پہ دھرے اس کے مضبوط ہاتھ تکتی رہی۔
’’جانتا ہوں…..کچھ نہیں کہو گی….یہ خاموشی۔‘‘ وہ ایک دم اس کی طرف جھکا اس نے سٹپٹا کر نظریں اٹھائیں۔
’’جانتی ہو یہ خاموشی مار دیتی ہے بعض اوقات …..‘‘ اس کی محبت سے معمور ‘ تاثر انگیز آنکھیں….. لیلیٰ مبہوت سی دیکھتی رہی۔
’’وہ سب جو تمہاری آنکھیں کہتی ہیں تمہارے لب کیوں نہیں کہتے۔؟‘‘ اس کی آنکھیں اپنے چہرے پہ سرکتے محسوس کیں تو کرسی دھکیل کر تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میرا خیال ہے مجھے اب چلنا چاہیے۔‘‘ وہ کرسی کی پشت پہ انگلیاں گاڑے کھڑی تھی۔
سنجیدہ چہرہ…..مضبوط لہجہ ‘ ہموار مستحکم آواز۔ عبیدالرحمان نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھا۔ (تم بہت گہری ہو لڑکی! بہت گہری‘ اسی لیے قابل قدر اور قابل احترام ہو)
’’آئو تمہیں ڈراپ کر دوں۔ ‘‘ لیلیٰ کے جواب کا انتظار کیے بغیر اس نے میز پر سے گاڑی کی چابیاں اور موبائل اٹھا لیا۔
اس کے ساتھ ساتھ چلتے…..اس کے برابر گاڑی میں بیٹھتے اور راستے میں آمنے سامنے بیٹھ کر چائے پیتے لیلیٰ نے کتنی بار ان فسوں خیز لمحات سے کود کو آزاد کرانے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر سامنے عبیدالرحمان تھا۔
باندھ رکھنے کے سب ہنر آتے تھے اسے۔
’’دیر ہو رہی ہے۔‘‘
ریستوران کی روشنیاں جلا دی گئیں ‘ تب اسے شدت سے احساس ہوا۔
’’گھر پہ چھوڑ دوں…..‘‘ عبیدالرحمان نے اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ ہمیشہ بس اسٹاپ پہ اتر جایا کرتی تھی۔
’’نہیں……بس اب مزید دیر نہ کریں…..‘‘ اس نے عجلت میں کہا اور جس وقت وہ بس سے اتر کر گھر کے راستے پر تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔ آس پاس کے گھر تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے اور بند کمروں کے اندر کہیں روشنیاں جل رہی تھیں۔ گھر کے سامنے رکتے ہوئے اس نے گھڑی بھر کے لیے اپنی سانس برابر کی۔ سال خوردہ لکڑی کا دروازہ پہلی دستک میں ہی کھل گیا تھا۔
وہ سلام کے بعد خود کو بے حد تھکا ہوا ظاہر کرتی ادھر ادھر دیکھے بنا آگے بڑھ گئی۔ برآمدے میں زرد روشنی کا بلب جھول رہا تھا اور کمروں میں مسالا بھوننے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
’’کھانا لگنے میں ابھی کچھ دیر ہے۔ کہو تو چائے لے آئوں۔؟‘‘ مما سائے کی طرح دروازے میں ایستادہ تھیں۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ٹیوب لائٹ جلائی اور بیگ رکھ کر جوتے اتارنے لگی۔
’’نہیں …..چائے پی چکی ہوں۔‘‘
پھر الماری میں سے کپڑے نکال کر وہ نہانے کے لیے باہر نکل آئی۔ نجانے کیوں ابھی وہ ان دونوں کا سامنا کرنے کی جرأت خود میں نہ پا رہی تھی۔
’’مما! آ جائیے نا…..ذرا سالن ہی چکھ لیں۔‘‘ ماہین باورچی خانے میں دہائیاں دے رہی تھی۔
لیلیٰ دبے پائوں وہاں سے گزر کر غسل خانے میں آ گئی۔
’ـ’اور میں اب تک انہیں نہیں بھول پائی…..‘‘ کتاب بند کر کے گود میں رکھتے ہوئے اس نے اداسی سے سوچا۔
’’مصروفیت بھرے دن کے کسی پہر میں ‘ رات کی خوابیدہ گھڑیوں میں…..کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی میرے آس پاس موجود ہوتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا پھر بھی نجانے کیوں…..؟‘‘
’’شاید ہم نے بہت سا وقت اکٹھے گزارا ہے اس لیے۔‘‘
یہ ایک گرم رات تھی اور جھینگروں کی اونچی آوازیں باغیچے میں گونج رہی تھیں۔ درخت اندھیرے میں گھرے ہوئے تھے۔ بالکل ساکت کبھی کبھار کسی پرندے کی ہلکی سی آواز اٹھتی اور درخت کے پتوں میں خفیف سی سر سراہٹ پھیل جاتی ‘ وہ برآمدے کی سیڑھیوں پہ بیٹھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سامنے دیکھتی اور سوچتی رہی۔
’’کیا وہاں کوئی ہمیں یاد نہ کرتا ہو گا…..؟ کوئی اور نہ سہی…..صرف فاروق بھائی‘ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ اور وہ یقینا ہمیں روک لیتے اگر…‘‘عقب میں قدموں کی آواز ابھری تھی۔
’’اتنی گرمی میں بیٹھی ہو یہاں……؟‘‘ لیلیٰ نے پوچھا۔
’’ہوں…..‘‘ اسے اپنی سوچوں میں مداخلت بری لگی تھی۔ اس لیے مختصر سا جواب دیا۔
لیلیٰ باورچی خانے میں چلی گئی۔
وہ غالباً چائے بنانے آئی تھی۔ کالج میں اس کے ٹیسٹ ہو رہے تھے۔ سو اکیڈمی جانے کے بجائے سر شام ہی گھر آ کر اپنے کمرے میں گھس جاتی تھی۔
’’کتنی دیر ہو گئی ہمیں وہاں سے آئے ہوئے۔‘‘ اس نے انگلیوں پر حساب لگانا شروع کیا۔
’’ماہی! چائے پیو گی…..؟‘‘ جالی دار کھڑکی کے اس پار روشنی میں کھڑی لیلیٰ نے پوچھا۔
’’افوہ…..نہیں بھئی ‘ میںنے کوئی میڈیکل کی موٹی موٹی کتابیں تھوڑی پڑھنی ہیں جو دن میں چھتیس کپ چائے کے پیوں۔‘‘ وہ جھنجھلا کر بولی۔ سارا حساب کتاب جو غلط ہو گیا تھا۔
’’مبالغہ آرائی کی حد کر دی تم نے بھئی…..بمشکل پانچواں کپ ہو گا آج کے دن میں۔‘‘ وہ چائے کا مگ لیے اس کے برابر آ بیٹھی۔
’’مما سو گئیں؟‘‘
’’ہوں…..‘‘
’’اور یہ تم رات گئے یہاں بیٹھی کیا گتھیاں سلجھا رہی ہو….. ؟‘‘
اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ چپ چاپ بیٹھی فضا میں پھیلی لیموں کے پتوں کی ترش مہک میں چائے کی خوشبو کو مدغم ہوتے محسوس کرتی رہی۔
’’لیلیٰ !‘‘ کچھ خیال آنے پر وہ اس کی طرف پلٹی۔
’’تم تو باہر آتی جاتی رہتی ہو….. کبھی کسی سے ملاقات ہوئی یا یونہی راہ چلتے کسی کو دیکھا…..؟‘‘
’’کس کو …..؟‘‘ لیلیٰ فوری طور پر کچھ سمجھ نہ پائی۔ پھر خیال آنے پر اس کی ساری حیرت سنجیدگی میں بدل گئی۔
ماہین اپنی دھن میں بولے گئی۔
’’کسی کو بھی…..منزہ کو…..شہلا بھابی کو یا واثق وغیرہ سلمان بھائی کا آفس….تو تمہاری راہ میں پڑتا ہے نا…..؟‘‘
’’سینکڑوں لوگوں پر نظر پڑتی ہے ہر روز…..اب کون پہچانتا یا شناخت کرتا پھرے…..اتنا وقت تھوڑی ہوتا ہے ہمارے پاس……‘‘ اس نے لا پروائی سے کندھے جھٹکے۔
’’لیلیٰ تم…..‘‘ اس نے غصے سے لیلیٰ کو دیکھا۔
’’بوڑھی ہو گئی ہو ‘ ایک دم بوڑھی ۔‘‘ وہ اس کے مردہ اور سرد جذبات کے حوالے سے ٹوکنا چاہ رہی تھی مگر غصے میں اتنے نا مناسب الفاظ منہ سے نکلے کہ خود ہی ہونق سی ہو گئی۔
جواباً لیلیٰ نے جس خفگی بھرے متعجب انداز میں اسے دیکھا۔ وہ اپنی کہی گئی بات کا اثر زائل کرنے کو ہنسی تو پھر ہنستی چلی گئی۔ لیلیٰ کچھ دیر اسے گھورتی رہی پھر بے اختیار مسکرا دی۔
’’ٹھیک کہتی ہو میں اسی دن بوڑھی ہو گئی تھی جس روز بابا مرے تھے۔‘ ‘ اس کے لہجے میں افسردگی کو محسوس کرتے ہوئے ماہین بھی ہنسنا بھول گئی۔
’’اور اس دن جب میں تم دونوں کو لے کر گھر سے نکلی تھی۔‘‘
’’نہیں میں تو یونہی مذاق میں کہہ رہی تھی۔ تم نے شاید سنجیدگی سے لے لیا اس بات کو۔ تمہارے ٹیسٹ تو اچھے ہو رہے ہیں ناں…..اتنی ٹف پڑھائی ہے۔‘‘ وہ اس کا دھیان بٹانے لگی۔
اس کی اس شعوری کوشش پر لیلیٰ سر جھکا کر اس کی سادگی پہ مسکرانے لگی۔
’’پھر ٹیوشنز اور اکیڈمی کا وبال……تم کیوں خود کو اتنا کھپا رہی ہو……اپنی پڑھائی پر توجہ دو صرف…..باقی سب رہنے دو……ہم گزارا کر ہی لیں گے جیسے تیسے پھر کچھ عرصے میں تمہاری جاب بھی شروع ہو جائے گی…..‘‘
’’یہ کتنا بدل گئی ہے…..پہلے اپنے آپ میں گم رہتی تھی مگر اب…..لیلیٰ نے اسے روانی سے بولتے ہوئے بڑے دھیان سے سنا ۔
’’ماہی! ہمارے پاس جو کچھ بچا ہے۔ وہ بہت تھوڑا ہے‘چند مہینوں کے لیے بھی نا کافی۔ یہ گھر خریدنے کے بعد تمہیں پتہ ہے ناں جب ہم یہاں آئے تو صرف دیواریں کھڑی تھیں اور چھتیں…..’’ اس نے ماہین کو دیکھتے ہوئے اسے کسی درد بھری حقیقت سے روشناس کرانا چاہا۔
’’میں پرانے مال سے بھری دکانوں میں خوار ہو ہو کر یہ سارا سامان سستے داموں لائی تا کہ ہماری دال روٹی کے لیے کچھ روپے بچ رہیں اور تم نے دیکھا ہے ناں …..؟ میرے کمرے میںپنکھا بھی نہیں لگا‘ میں نے سوچا’’ میں اپنے لیے اگلے سال……اس کی آواز بھرائی تو چند لمحوں کے لیے خاموش رہی۔
’’میں اگر ٹیوشنز نہ پڑھائوں ‘ اکیڈمی نہ جائوں تو اپنی پڑھائی کا خرچ کہاں سے پورا کروں….؟‘‘
’’لیکن اتنا سب کرنے کے لیے تمہیں اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ میں دیکھتی ہوں تم پہروں بھوکی رہتی ہو۔ اس طرح تو تم جلد ہی بیمار پڑ جائو گی۔ مما بھی کہہ رہی تھیں ‘ لیلیٰ سارا دن گھر سے باہر رہتی ہے۔ پتہ نہیں کچھ ڈھنگ سے کھاتی بھی ہے یا نہیں۔ ہم اس کے لیے لنچ باکس تیار کر دیا کریں۔ ہیں لیلیٰ! کیا واقعی میں تمہارا لنچ باکس تیار کردیا کروں……تمہیں سہولت ہو جائے گی۔‘‘ لیلیٰ بے اختیار مسکرا دی۔
’’اب ایسا بھی نہیں ہے۔ اسکول گرلز کی طرح لنچ لے جاتی اچھی لگوں گی کیا…..؟‘‘
’’ہاں تو اس میں حرج بھی کوئی نہیں۔‘‘ ماہین نے کہا تو وہ دونوں مل کر ہنسنے لگیں۔
یونہی……بے وجہ ہی……
رات کے ان چند گنے چنے لمحوں نے ان دونوں کو مان بھری چاہت کے انوکھے رشتے سے روشناس کرانا تھا۔
دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خوش اور سرشار تھیں۔
’’پت جھڑکی دہلیز پہ بکھرے بے چہرہ پتوں کی صورت
ہم کو ساتھ لیے پھرتی ہے
تیرے دھیان کی تیز ہوا۔‘‘
’’ارے…..مردوں کی آواز بھی اس قدر خوب صورت ہو سکتی ہے…..‘‘ موبائل کان سے لگائے لگائے ماہین نے لمحہ بھر کے لیے سوچا۔
’’میرا خیال ہے آپ غلط نمبر ملا بیٹھے ہیں۔‘‘ دوسری طرف خاموشی ہوئی تو اس نے فوراً ہی کہہ ڈالا۔
’’آن…..کون…..آپ کون…..؟‘‘ ہلکی سی ہچکچاہٹ کے ساتھ پوچھا گیا۔
’’آپ نے کس سے بات کرنی ہے۔؟‘‘
’’نئیں سوری…..معذرت خواہ ہوں واقعی غلط نمبر مل گیا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی دوسری طرف سے رابطہ ختم کر دیا گیا۔
’’کس کا فون تھا……؟‘‘ وہ ابھی موبائل ہاتھ میںلیے کھڑی تھی جب لیلیٰ کمرے میں داخل ہوئی ساتھ ہی موبائل اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’رانگ نمبر تھا….لیکن جی بھر کے خوب صورت آواز تھی۔ اس پر شاعری بھی۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
لیلیٰ کے چہرے پہ عجیب سی سختی در آئی۔ ’’تمہیں کیا ضرورت تھی اٹینڈ کرنے کی…..؟‘‘
’’ارے …..لگاتار بجے جا رہا تھا۔ تم جانے کب نہا کر نکلتیں…..‘‘
’’میرا نمبر صرف میرے جاننے والوں کے پاس ہے ……تم سن بھی لیتیں تو کیسے ڈیل کرتیں کسی کو…..‘‘ لیلیٰ نے بڑبڑاتے ہوئے موبائل اپنے پرس میں ڈالا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا……؟ فون پر مسیج لینے یا دینے لیے کسی کوالی فیکیشن کی ضرورت ہوتی ہے….. میرا فون آئندہ نہ ہی سننا تو اچھا ہو گا۔‘
ماہین نے قدرے دکھ سے اسے دیکھا۔
وہ رات والی لیلیٰ تو قطعاً نہ تھی وہی پہلے والی جھگڑالو بد تمیز سی لیلیٰ…..
’’مجھے کیا معلوم تھا۔ تمہارے اتنے پرسنل فون آنے لگے ہیں۔ نہیں سنوں گی آئندہ سے۔‘‘ وہ تلخی سے کہتی باہر نکل آئی۔
لیلیٰ کتنی ہی دیر تک کمرے میں کھڑی اسے بد تمیز ‘ ال مینرڈ کے القابات سے نوازتی رہی۔
ماہین ڈبڈبائی آنکھیں لیے باغیچے میں جا بیٹھی۔
وہ تو ابھی تک رات کی گفتگو کے زیر اثر بہت نرم گرم جذبات اپنی بہن کے متعلق لیے پھر رہی تھی۔
’’اور بہن…..ہونہہ۔‘‘ اس نے دوپٹے سے اپنی آنکھیں رگڑ کر سارا غصہ نکالا۔
’ایسی ہوتی ہیں بہنیں…..فضول ‘ مجھے کوئی ضرورت نہیں آئندہ اس سے بات کرنے کی…..‘‘
مما نے لیلیٰ کو ناراض ہوتے سنا تو وہ بھی ماہین کو ہی منع کرنے لگیں۔
’’ہاں ٹھیک ہے…..کہہ دیا نا نہیں سنوں گی آئندہ سے…..‘‘ وہ ایک دم چیخی اور پھر بھاگ کر اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔
باہر ایک دم خاموشی ہو گئی۔ وہ جی بھر کر روئے گئی۔ اگلا پچھلا سارا غبار نکال دیا۔
بابا کو یاد کیا…..فاروق بھائی کو ‘ پنکی کو ۔ وہ شب و روز جو اس سے بچھڑ گئے پر سکون اور مگن۔
اور انہی سوچوں میں گھرے آنسو بہاتے جانے کب اس کی آنکھ لگی….دن بے حد گرم تھا۔ وہ پنکھے تلے پسینے میں شرابور ہوتی۔ بڑی دیر تک سوتی رہی پھر رفتہ رفتہ تپش میں کمی آتی رہی۔ جالی دار کھڑکیوں سے ہوا کے زور دار جھونکے کمرے میں آزادانہ گھومنے لگے۔
یونہی بے خبری میں کروٹ بدلتے ہوئے خنک مٹی کی خوشبو اس کی ناک سے ٹکرائی تو اس نے مندی مندی آنکھیں کھول کر دیکھا۔
سارے کمرے میں غبار سا پھیلا ہوا تھا۔ کمرے کی فضا بھی پہلی سی گرم نہ تھی۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو جیسے یک دم کسی نے مٹھی میں بھری مٹی اس کی طرف اچھا ل دی ہو۔اپنے عقب میں ٹھک سے دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے برآمدے میں نکل کر دیکھا۔ ساری فضا دھواں دھواں ہو رہی تھی۔ باغیچے کے درخت جھوم رہے تھے اور پرندے عجیب افراتفری میں ادھر ادھر چھپنے کے لیے اڑتے نظر آ رہے تھے۔
ایک ننھی سیاہ چڑیا ہراساں سی برآمدے کے فرش پہ بیٹھی تھی۔
اس نے گھبرا کر اس زور دار آندھی کی شروعات کو دیکھا اور پھر انار کی نازک ڈالیوں کو جو باندھنے کے باوجود تنے سمیت زمین پہ جھکی جا رہی تھیں۔
’’بے فکر رہو ‘ لچک دار ہے ٹوٹنے والا نہیں۔ ‘‘ اسے مما کی آواز سنائی دی مگر جواباً کچھ کہے بغیر چپ رہی۔
’’لیلیٰ نہیں آئی ابھی تک ‘ مجھے بہت فکر ہو رہی ہے کہیں راستے میں ہوئی تو…..‘‘
’’خوامخواہ فکر مند ہو رہی ہیں…..یہ آندھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی…..‘‘ اسے خود سمجھ میں نہیں آ یا کہ اس کے لہجے میںجو ہلکا سا طنز تھا وہ کس کے لیے تھا۔
’’ماہین! ایک لیلیٰ ہی کم ہے کیا؟ جو تم بھی مجھے ستانے لگی ہو؟۔‘‘
’’نہیں ‘ میں کیوں ستانے لگی۔ یہ حق بھی صرف اسی کو حاصل ہے۔ جس وقت جی چاہے ڈانٹ کر رکھ دے جب چاہے تذلیل کر دے…..‘‘ اس کے لہجے میں غصہ بھرا تھا۔
’’پگلی!‘‘ مما نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا اور کمرے میں لے آئیں۔ ’’ہم دونوں جانتے ہیں کہ وہ دل کی بری نہیں۔ ڈپریسڈ رہتی ہے۔ ساری ذمہ داری اسی پر آن پڑی ہے۔ ہمیں اس کے مزاج کا خیال رکھنا چاہیے۔‘‘
’’مما ! کیا صرف وہی ڈپریسڈ ہے۔ ہم بہت انجوائے کر رہے ہیں اس لائف کو ‘ یہ میرے ہاتھ دیکھ رہی ہیں آپ ‘ کتنے کھردرے اور بے رنگ ‘ میں گھر میں جھاڑو لگاتی ہوں، پوچا لگاتی ہوں، برتن بھی دھونے پڑتے ہیں۔کیا میں بھی سب پہ چیخناچلانا شروع کر دوں؟‘‘
’’نہیں …..تم ایسا کیوں کرو گی…..تم تو بہت صابر ‘ بہت سمجھ دار بیٹی ہو۔ مجھے علم ہے تم کبھی اپنی ماں کو دکھ دینا نہیں چاہو گی۔‘‘
مما اس کی پیشانی چوم کر اسے تھپکنے لگیں۔ تو اس کے دل پہ لگی چوٹ بھی اسی دم مندمل ہونے لگی تھی۔
’’پہلی بار سننے پہ میں اسے تمہاری آواز ہی سمجھا تھا‘ حیرت انگیز مشابہت ۔‘‘ پیپر ویٹ گھماتے ہوئے وہ دلچسپی سے مسکرایا۔
’’ہاں ‘ مگر دوبارہ بولنے پر ایک واضح فرق سامنے آیا۔ تمہاری آواز میں بہت یکسانیت اور ٹھہرائو ہے۔ جبکہ اس کی آواز معصوم ہے اور لہجہ رنگ بدلتا ہوا ہے۔ خیر۔ جونہی اندازہ ہوا ‘ میں نے فون رکھ دیا۔ سوچا معلوم نہیں تم نے کسی کو میرے بارے میں بتایا ہے یا نہیں۔‘‘
’’اور کبھی میں ایسے تعلق کو چوری کہا کرتی تھی ’’چوری‘‘ جو میرے نزدیک ایک قابل نفرت فعل ہے۔‘‘
عبیدالرحمان کھڑکیوں کے پردے ہٹا رہا تھا۔ تیز آندھی کے بعد بارش شروع ہو گئی تھی۔
وہ گم صم سے انداز میں شیشے پہ پھسلتے پانی کے قطروں کو دیکھتی رہی۔
’’کیا سوچنے لگیں؟‘‘ وہ سینے پہ بازو باندھے کھڑکی سے لگا کھڑا تھا۔
عبیدالرحمان اور پس منظر میں برستی ہوئی بارش۔ ایک خوب صورت اور بھرپور منظر کو پوری طرح آنکھوں میں سمیٹتے ہوئے لیلیٰ ذرا سا مسکرائی۔
’’اور اسی بات پر میری اس سے ٹھیک ٹھاک جھڑپ ہو گئی۔ اب تک خفا بیٹھی ہو گی۔‘‘ لیلیٰ کو اس کا پھولا ہوا منہ یاد آیا۔
’’وہ بہت نازک سی ہے بچپن میں بہت بیمار رہی ۔ پڑھائی کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار رہا مگر ایف ایس سی میں اس نے بہت اچھے نمبر لیے ہیں۔ میں اس کے کالج سے رزلٹ کارڈ لے آئی مگر میں اس کا ایڈمیشن نہیں کرا سکی کیونکہ…..‘‘ وہ بولتے بولتے حسب عادت ایک دم چپ ہوئی۔
’’تمہارے پاس فیس جمع کرانے کے پیسے نہیں تھے۔‘‘
وہ ایک دم سن سی ہو کر رہ گئی…..’’نہیں۔ وہ خود ہی…‘‘
’’مت جھوٹ بولا کرو میرے سامنے لیلیٰ …..!تم مجھ سے کچھ نہیں چھپا سکتیں…..‘‘ اس کے انداز میں خفگی نمایا ں تھی۔
’’اور یوں بھی نہیں کرتے عبید الرحمان…..‘‘ اسے سخت غصہ آیا تھا۔ لب بے اختیار کپکپا اٹھے۔
’’کسی کا بھرم….تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ تم…..‘‘ اس کاگلا رندھ گیا(یہ شخص سب پردے اٹھانے پر کیوں تلا ہے آخر)
’’لیلیٰ ! تم خود کو مجھے سے الگ سمجھتی ہو کیا…..؟‘‘ وہ خود بھی بے چین ہو اٹھا۔
’’تمہارے مسئلے میرے مسئلے اور میری پریشانیاں تمہاری نہیں ہیں کیا…..؟ تم یہ کیسے تصور کر لیتی ہو کہ تم دکھی ہو اور میں چین و سکون سے رہ رہا ہوں۔ تمہاری آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں مجھ سے…… میں ہر دکھ ‘ ہر مصیبت میں تمہارا حوصلہ بننا چاہتا ہوں تمہارے دکھ سکھ بانٹ لینا چاہتا ہوں۔ آخر تم کس دن کے انتظار میں ہو ایک سکھ بھری زندگی صرف تمہاری ایک ہاں کی منتظر ہے پھر تم خود کو اذیت۔‘‘
’’چپ رہو تم…..‘‘ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور اپنا بیگ لے کر پل بھر میں کمرے سے باہر نکل گئی۔
’’لیلیٰ!‘‘ جب تک عبید الرحمان کچھ سمجھتے ہوئے اس کے پیچھے لپکا وہ بیرونی گیٹ تک پہنچ چکی تھی۔
’’اف یہ لڑکی…..‘‘ اس نے بری طرح اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے لیلیٰ کی حماقت کو کوسا اور پھر واپس پلٹ گیا۔
بارش تیز ہو رہی تھی لیکن اسے خبر تھی لیلیٰ کے پیچھے جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
’’بہت ضدی لڑکی ہے۔‘‘
وہ اپنے دفتر میں بیٹھا فکر مندی سے اس کے بارے میں سوچتا رہا جو تیز بارش میں بھیگتی کھوئی کھوئی آنکھوں کے ساتھ بس کا انتظار کر رہی تھی۔ کچھ ہی وقت بیتا تھا جب ایک گاڑی زن سے آئی اور اس کے بالکل سامنے آر کی وہ ذرا سا چونکی۔
فرنٹ ڈور کھول دیا گیا۔ ساتھ ہی کسی نے بیٹھنے کے لیے کہا۔ بارش کے شور میں وہ آواز پہچان نہ پائی تھی۔ذرا جھک کر ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے شخص کو دیکھا اور اگلے ہی پل سپاٹ چہرہ لیے کئی قدم پیچھے جا کھڑی ہوئی ‘ تب ہی وہ گاڑی سے اترا اور عجلت میںچلتا اس کے مقابل آ کھڑا ہوا۔
’’کیوں تماشا بنی کھڑی ہو ۔ بیٹھو گاڑی میں…..‘‘ استحقاق بھرا لہجہ لیلیٰ کو آگ لگا گیا۔
’’جسٹ شٹ اپ! تم ہوتے کون ہو مجھے یہ آفر کرنے والے ۔ دو سیکنڈ میں اپنا چہرہ گم کرو ورنہ۔‘‘
یہ کس لہجے میں بات کر رہی ہو تم…..تمیز نہیں ہے کیا…..؟‘‘
’’تم اس قابل ہو کہ تم سے تمیز سے بات کی جائے…..‘‘ لیلیٰ نے نفرت سے اسے دیکھا۔
’’بکو مت…..چلو گاڑی میں بیٹھو۔‘‘ وہ بڑے آرام سے ڈھیٹ بنا اس کے سامنے کھڑا تھا۔
بارش کے پانی کی دبیز چادر ان دونوں کے بیچ تنی تھی۔ لیلیٰ آگے بڑھی اور رکشہ کو اشارہ کرنے لگی۔ نظروں سے گھورتی رہی۔
’’تم انتہائی خود سر اور غیر ذمہ دار لڑکی ہو…..لیکن میں واپس آ چکا ہوں اگر تم اسی شہر میں ہو تو یقین رکھو‘ میں کل تک ….رکشے کی پھٹ پھٹ اور بارش کے شور میں اس کی آواز کہیں دب کر رہ گئی تھی۔
’’خدا کرے ایسی کل کبھی نہ آئے۔‘‘ وہ راستے بھر فاروق مرتضیٰ ہمدانی کو جی بھر کر گالیاں دیتی رہی۔
’’اچھا…..تو رات بارش خوب ہوئی۔‘‘ وہ ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی۔ باہر آ کر کھلی فضا میں بازو پھیلا کر لمبے لمبے سانس لیے…..صبح کی تازہ ‘ خوشگوار ‘ مہک بھری ہوا نے اسے بھی پل بھر میںتازہ دم کر دیا تھا۔
’’ماہین! منہ ہاتھ دھو لیا ہو تو ناشتہ کر لو …..‘‘ مما صحن کی صفائی کر رہی تھیں۔
’’ابھی دل ہی نہیں چاہ رہا…..‘‘ اس نے گہرے نیلے آسمان کو دیکھا اور باغیچے کی طرف بھاگی ۔ یہاں بارش کا پانی جمع تھا ۔ گھاس پوری طرح گدلے پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ جامن کے درختوں کی پوری پوری شاخیں نیچے آ گری تھیں۔
اس نے باورچی خانے سے ٹوکری اٹھائی اور شلوار کے پائنچے چڑھا کر کچی زمین پہ اتر آئی۔
’’کیا ضرورت ہے پانی میں اترنے کی…..کسی چیز نے کاٹ لیا تو…..؟‘‘ مما اس کے لیے چائے بنانے باورچی خانے میں آ رہی تھیں۔
’’تم سن نہیں رہیں…..جامن کی لکڑی کتنی کچی ہوتی ہے اور رات کی بارش نے تو کئی درختوں کو کمزور کر دیا ہو گا۔‘‘ مما نے ذرا سختی سے ٹوکا۔
’’بس ابھی واپس آ رہی ہوں ناں…..؟‘‘
مما چند لمحے اسے فکر مندی سے دیکھتی رہیں۔پھر اللہ کے سپرد کر کے باورچی خانے میں چلی گئیں۔
سیاہ پڑتے جامنوں کے گچھے پانی میں گرے ہوئے تھے۔
وہ سنبھل سنبھل کر چلتی اپنی ٹوکری بھرتی رہی۔ فضا میں بارش کی نمی ابھی بھی باقی تھی۔ پرندے درختوں پر بیٹھ کر پر پھڑپھڑاتے تو پتوں پہ رکا پانی بھی قطرہ قطرہ نیچے گرنے لگتا۔
چڑیاں سر شار سی ہو کر گدلے پانی میں بال بال نہا رہی تھیں اور ان کی آوازوں نے ٹھیک ٹھاک شور مچا رکھا تھا۔
وہ شٹر اپ شٹر اپ کرتی کھڑے پانی میں ادھر سے ادھر چلتی رہی۔
لیلیٰ سے اس کی بول چال ابھی تک بند تھی۔
’’رات نجانے کیوں وہ اتنا بپھری ہوئی تھی۔‘‘ ماہین کو یاد آیا۔
وہ اس سے کھانے کا پوچھنے گئی تو اس نے صاف انکار کر دیا تھا….بعد میں بھی رات گئے اس کے کمرے سے چیزوں کی اٹھا پٹخ کی آوازیں آتی رہی تھیں۔
اور ابھی مما بتا رہی تھیں‘ وہ وقت سے پہلے اور ناشتے کے بغیر ہی گھر سے نکل گئی تھی۔
’’پتا نہیں…..اس لڑکی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ آم کے گھنے درخت میں چھپی کوئل کوکی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر آسمان پہ اڑتے پرندوں کی ڈار کو دیکھا پھر زور سے مما کو پکارا۔
’’میرے لیے ناشتہ مت بنائیے گا۔ بس آج کے دن کے لیے یہ پکی ہوئی میٹھی جامنیں ہی کافی ہیں۔‘‘
چنبیلی کے بے شمار ادھ کھلے پھول ٹوٹ ٹوٹ کر گدلے پانی میں تیر رہے تھے۔ وہ ہاتھ کا چپو بنا کر پانی کی لہروں سے انہیں ادھر ادھر بہانے لگی……پھر پیروں میں ہلکی ہلکی خارش محسوس ہوئی تو جلد ہی پانی سے باہر نکل آئی۔
برآمدے کی سیڑھیوں کے ساتھ لگے نل کو کھول کر اس نے رگڑ رگڑ کر ہاتھ ‘ پیر دھوئے پھر جامنوں میں صاف شفاف پانی گزارا۔
’’ماہین! ادھر دیکھو بیٹا…..!‘‘ مما کی آواز پر اس نے بہت مگن سے انداز میں پلٹ کر دیکھا…..پھر جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی۔
آنکھوں میں پانی اس قدر تیزی سے آیا کہ پھر روکے نہ رکا۔
’’میں جانتی تھی ‘ میں جانتی تھی آپ ایک دن ضرور آئیں گے…..‘‘ ٹوکری اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری اور وہ ہچکیوں سے روتی فاروق بھیا کے کھلے بازوئوں میں جا سمائی تھی۔
’’یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ آپ میرے پاس نہ آتے ۔ میں نے اپنے خوابوں میں آپ کو ہزار بار اس گھر کی دہلیز پہ کھڑے دیکھا تھا۔ آپ نے آنا ہی تھا فاروق بھیا!‘‘ وہ بچوں کی طرح روتی گئی اور بولتی گئی۔
فاروق نادم نادم سا کھڑا اس کے بال سہلا تا رہا۔
’’میں جانتا ہوں۔ میری بہن مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔ ہاں لیکن مجھے آنے میں دیر ہو گئی۔‘‘
’’میں نے لاکھ سر پٹخا لیکن گھر میں کوئی بھی میری بات سننے کو تیار نہ ہوا۔ بڑے اور چھوٹے چچا‘ امی کے کاندھے پہ بندوق رکھے چلا رہے تھے۔ تنگ آ کر میں صبح سویرے اپنے ایک دوست کے پاس پہنچا ‘ وہ اسٹیٹ ایجنٹ تھا۔ میں نے اسے فوری طور پر کرائے کے مکان کے لیے کہا۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر آپ اس گھر سے باہر قدم نکالیں گی تو میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ مجھے پتا ہے اس معاشرے میں اکیلی عورتوں کا کوئی مقام نہیں ہوتا……‘‘ فاروق کے سامنے رکھا چائے کا کپ ٹھنڈا ہو چکا تھا اور اس پر جھلی کی تہہ جم چکی تھی۔
ماہین بہت مدبر بنی بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی۔
’’ہاں اور ایک با عزت مقام حاصل کرنے کے لیے ہی تو…..‘‘ مما فاروق کے سامنے اب تک کئی بار رو چکی تھیں سو‘ اب پلکیں جھپک جھپک کر آنسو پینے کی کوشش کرنے لگیں۔
’’پھر میں لیلیٰ کے کالج گیا مگر وہ چھٹی پر تھی۔ اس کی کسی دوست کا بھی مجھے علم نہیں تھا۔‘‘
وہ دن میں نے سخت اذیت میں کاٹے تھے…..میں سمجھتا تھا مجھے اپنے بابا کے قول کی حفاظت کرنی چاہیے ان کے وعدے کو نبھانا چاہیے جو انہوں نے آپ کا سہارا بنتے وقت آپ سے کیا تھا۔ امی کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ انہوں نے مجھے دوبئی بھجوا دیا اور آپ جانتی ہیں۔ مائوں کے پاس اپنی اولاد کو مجبور کرنے کے سو حربے ہوتے ہیں۔صد شکر کہ جلد ہی آفاق اور سلمان بھائی کا دوبئی شفٹ ہونے کا ارادہ بن گیا۔ امی نے اپنے فرمانبردار بچوں کے ساتھ رہنا پسند کیا…..اور میں یہاں آ گیا۔‘‘
’’اور گھر میں…..وہاں اب کون رہتا ہے؟‘‘ ماہین نے حسرت سے پوچھا۔
’’بڑے چچا…..انہوں نے ہمیں اور چھوٹے چچا کو نقد ادائیگی کے بعد وہ گھر اپنے نام کرا لیا تھا۔ چھوٹے چچا گلبرگ میں شفٹ ہو گئے۔‘‘
’’ایک جلید کے نہ ہونے سے سب کچھ بکھر گیا۔ حالانکہ وہ کسی کام میں حصہ نہیںلیتے تھے لیکن پھر بھی سارے خاندان کو ایک لڑی میں پرو رکھا تھا۔‘‘ سارے کمرے میں سوگ کی سی فضا طاری تھی۔
مما کی سسکیاں وقفے وقفے سے کمرے کی خاموشی میں گونجتی رہیں۔
’’یہاں آ کر میں کئی بار لیلیٰ کے کالج میں گیا تا کہ آپ لوگوں کا ایڈریس معلوم ہو سکے لیکن وہ ہم سے اتنی متنفر ہے کہ…..ہاں جو کچھ امی نے کیا ‘ وہ قطعی طور پر غلط تھا لیکن اس کی سزا ہر ایک کو تو نہیں ملنی چاہیے ناں۔‘‘ وہ تائید طلب نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
’’آپ …..آپ کی چائے تو ٹھنڈی ہو گئی۔ میں اور بنا لاتی ہوں۔‘‘ ماہین کو اچانک ہی مہمان نوازی کا خیال آیا تھا۔
’’نہیں اب چلتا ہوں آفس کی مین برانچ اب یہاں میرے ذمہ ہے ‘ اتنی دیر کی غیر حاضری سراسر غیر ذمہ داری …..‘‘ وہ ہنسا اور پھر جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’میں جلد ہی کسی اچھی جگہ گھر خرید لیتا ہوں۔ فلیٹ میں رہ رہ کر اور ہوٹل کے کھانے کھا کھا کر میں تنگ آ چکا ہوں۔‘‘ وہ باہر صحن تک جاتے جاتے سر سری نگاہ میںہی سارے گھر کا جائزہ لے چکا تھا۔
اور اپنے پیاروں کو اس مفلوک الحالی میں بستے دیکھ کر اسے خاصا دکھ ہوا تھا۔
تھک کر چور ہوتے ہوئے اس نے نگاہ اٹھا کر گھڑی کی سمت دیکھا۔
پورے سات بج گئے تھے۔
اکیڈمی کا سارا اسٹاف چھ بجے ہی جا چکا تھا ۔ تمام طالب علم بھی رفتہ رفتہ نکل گئے تھے۔ اب صرف گن مین تھا جو اس کے جانے کا انتظار میں تھا۔
اس نے اٹھ کر میز کا سارا سامان سمیٹا۔ کل کے لیے بنائے گئے ٹائم ٹیبل کو بورڈ پہ چسپاں کیا۔ نئے داخلوں کے لیے بنایا گیا ٹیسٹ لا کر میں رکھا اور اپنی چیزیں اٹھا کر باہر نکل آئی۔
باہر اندھیرا تیزی سے پھیل رہا تھا اور ملگجی سی روشنی آسمان کے وسط میں غائب ہوتی جا رہی تھی۔
فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے ٹریفک کے بے پناہ شور اور افراد کے ہجوم کو برداشت نہ کرتے ہوئے اس نے ایک خالی ٹیکسی کو ہاتھ دیا۔ یہ عیاشی بس کبھی کبھار تھکن کی انتہائی حدود کو چھونے کے بعد ہی وہ اپنے لیے منتخب کرتی تھی۔
’’اور آج تیسرا دن ہے کہ عبیدالرحمان سے میری ملاقات نہیں ہوئی۔‘‘ اس نے قدرے سہولت سے بیٹھتے ہوئے ٹیکسی سے باہر بھاگتی دوڑتی روشنیوں کو دیکھا۔
’’دل خالی ‘ نگاہ خالی ‘ مناظر ویران۔ ہر چیز بے رنگ و بو کیا کوئی شخص آپ کے جذبات پر اس طرح بھی حاوی ہو سکتا ہے…..؟‘‘ گھر ابھی بہت دور تھا۔
اس نے سیٹ کی پشت پر سر گرا دیا۔
’’کیا کر رہا ہو گا وہ اس وقت؟‘‘ اس نے بند آنکھوں کے پیچھے اسے دیکھنا چاہا ‘ فون پر عبید الرحمان نے اس سے بہت عجلت میں بات کی تھی۔
’’کچھ روز کے لیے گائوںجا رہا ہوں ایمر جنسی ہے۔ تم کچھ روز کے لیے اکیڈمی سنبھال لینا۔‘‘
وہ جانتی تھی۔ صبح کو چلنے والا کمپیوٹر کالج اور شام میں چلنے والی یہ اکیڈمی اسے اپنی جان سے بھی عزیز تھی۔ شہر بھر میں یہ دونوں ادارے بہترین نتائج ظاہر کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔
عبیدالرحمان جاگیردارانہ نظام سے تعلق رکھنے والا ایک علم دوست انسان تھا۔ شہر کے تعلیم یافتہ طبقے میں اسے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
’’عبید الرحمان بہت شائستہ مزاج رکھتا ہے اچھا آدمی ہے۔‘‘ وہ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے بے دھیانی میں مسکرائی۔
’’دوسروں کے احساسات کا خیال رکھتا ہے…..اور پھر…..مزاج آشنا ہے۔‘‘ اس نے کھڑکی کا شیشہ پورے کا پورا نیچے کھسکایا۔ تیز ہوا جھر جھر اس کے چہرے سے ٹکرانے لگی۔
’’پتا نہیں یہ وقت کب گزرے گا‘ میںچاہتی ہوں اس وقت اس کا ہاتھ تھاموں جب میں سر اٹھائے‘ باعزت طریقے سے اچھے اسٹیٹس کے ساتھ اس کے بالکل برابر کھڑی ہو سکوں۔ کہیں کوئی احساس کمتری نہ ہو۔ ابھی تو خود پہ ترس کھانے کے دن ہیں۔‘‘ اس نے اپنے بے حد عام سے لباس پر نظر ڈالی۔
’’لیکن خیر وہ وقت بھی جلد آئے گا۔ عبیدالرحمن مجھ سے محبت کرتا ہے۔ اتنا انتظار کر ہی لے گا‘ اف کیسی ہوں گی وہ گھڑیاں جب وہ پورے کا پورا میرا ہو گا۔ یااللہ! کیا واقعی زندگی کبھی اتنی خوب صورت بھی ہو گی؟‘‘ گھر آنے تک وہ ان ہی خیالات میں کھوئی رہی ….ٹیکسی گھر کے سامنے رکی تو وہ کرایہ دے کر اتر آئی۔ مرے مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی تو ماہین گنگناتے ہوئے سارے گھر میں ادھر سے ادھر چکراتی پھر رہی تھی۔
وہ اتنا تھکی ہوئی تھی کہ نہانے کے فوراً بعد بس چند لقمے روٹی کے کھائے اور جا کر اپنے بستر پہ لیٹ رہی۔
’’طبیعت تو ٹھیک ہے ناں…..؟‘‘ مما اس کے پیچھے چلی آئیں۔
’’ہوں….‘‘
’’پڑھنا نہیں ہے کیا…..؟‘‘ اس کے پوچھنے پر اس نے ادھ کھلی آنکھوں سے میز پہ پڑے کتابوں کے ڈھیر کو دیکھا۔ پھر بے دلی سے کروٹ بدل لی۔
’’نہیں …..آج کچھ نہیں کرنا۔ بعض خواب زندگی کی سب حقیقتوں سے زیادہ خوب صورت ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے خود سے سر گوشی کی اور جب ماہین اس کے لیے چائے لے کر آئی وہ خواب نگر میں پائوں رکھ چکی تھی۔
رات جلدی سونے کے سبب اس کی آنکھ علی الصبح کھل گئی تھی۔ کچھ دیر صحن میںواک کرنے کے بعد وہ باغیچے میں چلی آئی۔
ملگجے سے اجالے میں پرندوں کی بے شمار‘ معصوم بولیوں کے ساتھ ماہین کی کھلکھلا ہٹیں بھی گونج رہی تھیں۔
مما چنبیلی کے کنج کے پاس بیٹھی تسبیح کر رہی تھیں اور ماہین بلی کے ننھے سے بلو نگڑے کے پیچھے سارے باغیچے میں بھاگی پھر رہی تھی۔
’’یہ لڑکی اپنے لیے خوشیاںخود تلاش کرتی ہے۔‘‘ اس نے دلچسپی سے ماہین کو دیکھا جو بلونگڑے کو پکڑنے کے بعد اسے گد گداتے ہوئے سبز گھاس پر چت لیٹ گئی تھی۔ اس کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا اور بدستور ‘ ہنستی جا رہی تھی۔
’’مجھے پتا تھا مما! وہ ہمیںلے جانے کے لیے ضرور آئیں گے۔‘‘ ماہین نجانے کس کی بات کر رہی تھی۔
لیلیٰ بے دھیانی سے بلونگڑے کو دیکھے گئی۔ جو ایک بارپھر اس کے ہاتھ سے نکل کر تیزی سے بھاگ کر آم کے درخت پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا اور کچھ اوپر جا کر دھپ سے کیاری میں آن گرا تھا۔
ماہین ابھی تک نرم سبز گھاس پر اوندھی لیٹی ٹانگیں جھلا رہی تھی۔
’’آج پھر بارش ہو گی۔‘‘ ماہین کی پیشین گوئی۔
لیلیٰ نے سر اوپر اٹھایا۔
آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا…..سرمئی بادل برسنے کو تیار…..اس نے دل ہی دل میں کالج سے چھٹی کا پروگرام بنایا اور سامنے والے برآمدے میں آ گئی۔ ہوا میں تیزی آ گئی تھی…..دور کہیں بادل گرجے۔ ایک ابابیل سامنے دیوار پہ بیٹھی اپنی میٹھی آواز سے ہوا میں سُر گھولنے لگی تھی۔ ہوا کے زور سے برآمدے کے ستون سے لپٹی بوگن ویلیا کی نازک بیل بری طرح لچکنے لگی۔
اِکاّ دُکا پھول ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اس کے گود میں آ گرے ۔ کچھ بالوں میں اٹکے۔
من کرتا ہے
آج رو پہلی چیزی اوڑھوں
زرد بسنتی مالا پہنوں
شوخ چمکتا کجرا ڈالوں
تازہ تازہ گجرا پہنوں
مہندی سے ہر پور سجائوں
خس میں اپنا آپ بسائوں
نین اٹھا کے‘ نین جھکا کے
دھیرے سے مسکائوں
اپنے خواب کسی کو دے کر
چپکے سے کھو جائوں
’’ٹھک …..ٹھک……‘‘ بیرونی دروازے پہ دستک ہوئی۔ اس نے بند آنکھیں کھولیں۔
گہرے سیاہ بادل کسی اور دیس سے بھاگے چلے آ رہے تھے…..تاریکی ایک دم بڑھ گئی تھی۔ دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی….پہلے سے زور دار اور عجلت بھری۔
’’کون ہو سکتا ہے؟‘‘ وہ تیزی سے اٹھی اور اسی تیزی سے کنڈی گرا کر دروازہ کھول دیا۔
’’ہائیں…..تم؟‘‘ وہ ایک لحظے کے لیے جھجکا پھر اس کی حیرت سے فائدہ اٹھاتے پل بھر میں اندر آ گیا۔
’’تم…..؟‘‘ وہ چند لمحوں بعد ہی خود کو سنبھال پائی تھی۔ ’’کیا کرنے آئے ہو یہاں…..؟‘‘
’’کیا مطلب…..کیا کرنے آیا ہوں یہاں…..؟میری ماں رہتی ہے یہاں…..؟‘‘
میری ماں رہتی ہے کہاں…..‘‘ وہ فی الحال اس کی کڑوی کسیلی باتیں سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ لیکن لیلیٰ نے کسی جنگلی بلی کی طرح اس کا بازو دبوچ کر اسے پیچھے گھسیٹ لیا تھا۔
’’ارے ‘ رے یہ چیزیں تو رکھنے دو۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑے بڑے بڑے شاپر بے ڈھنگے پن سے ادھر ادھر لہرائے۔
’’وہی ماں….جسے آوارہ قرار دے کر گھر سے نکال باہر کیا تھا۔ اب وہ اتنی با کردار ہو گئی ہے کہ تم روابط بڑھانے کو مرے جا رہے ہو۔ نکلو یہاں سے ابھی اور اسی وقت یہ گھر میرا ہے اور میں ایک پل کے لیے تمہیں یہاں برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘
’’افوہ! کیا پاگل پن ہے؟‘‘ فاروق نے جھٹکے سے اپنا بازور چھڑایا اور اس سے کترا کر بر آمدے کی سیڑھیوں پہ شاپر رکھنے لگا۔
’’یہ خیرات نہیں چاہیے ہمیں ۔ اپنے ساتھ لے کر جائو۔‘‘ وہ قطعی لہجے میں کہہ رہی تھی۔
فاروق سنجیدگی اور غصے سے کھڑا اسے سرخ ہوتا دیکھتا رہا…..بادل زور سے گرجا۔
تب فاروق کو احساس ہوا ‘ بارش ہو رہی تھی۔ اسے گویا بہانہ مل گیا۔
’’بارش رک جائے تو چلا جائوں گا۔‘‘
وہ چہرے پہ مسکینی طاری کیے…..التجائیہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
’’کون فاروق……! لیلیٰ……!‘‘ مما اچانک ہی ان دونوں کے بیچ حائل ہوئیں۔ وہ بری طرح بوکھلائی ہوئی تھیں۔
ماہین راہداری کے سرے پہ کھڑی بے بسی سے ان دونوں کو دیکھے جا رہی تھی۔
’’اتنی بارش…..کیوں کھڑے ہو اس طرح؟ چلو کمرے میں۔‘‘ مما نے ان دونوں کو برآمدے کی طرف دھکیلا۔
’’نہیں مما! میں آپ کو یہ نہیں کرنے دوں گی۔ کہیں بھی…..میرے دل میں‘ نہ اس گھر میں….. کوئی گنجائش نہیں نکلتی…..یہ قابل نفرین قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص میں ان میں سے کبھی ‘ کسی کو معاف کرنا جائز نہیں سمجھتی…..اسے یہاں سے واپس بھجیں۔‘‘ وہ تند لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’لیلیٰ…..میری جان…..! اتنی جذباتیت ٹھیک نہیں…..یہ چلا جائے گا موسم تو دیکھو۔‘‘ مما نے اسے پیار سے ٹھنڈا کرنا چاہا…..مگر بارش اس پر آگ بن کر برس رہی تھی۔
’’آپ اس کی طرف داری مت کریں…..‘‘ وہ اتنے زور سے چیخی کہ مما کانپ کر رہ گئیں۔
’’ہم زمانے کا سرد و گرم سہہ سکتے ہیں تو یہ موسم کی سختی کیوں نہیں جھیل سکتا …..‘‘
’’تم کیا سمجھتی ہو…..میں آج یہاں سے چلا گیا…..تو پھر دوبارہ نہیں آئوں گا…..؟‘ ‘ وہ مما کو ایک طرف دھکیل کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
بارش کے پانی کی کڑواہٹ تھی یا ضبط کی شدت کہ اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔ لیلیٰ ایک پل کے لیے لاجواب ہو گئی۔
’’نہیں لیلیٰ! میں آئوں گا بار بار آئوں گا۔ اس عورت کے لیے جسے میرے باپ نے عزّت کی چادر اوڑھائی، اس لڑکی کے لیے ،جسے میں نے گودوں کھلایا اور تمہارے لیے۔‘‘
’’تم بار بار یہاں آئو بھی تو ہر بار یونہی ذلیل کر کے نکال دیے جائو گے…..آنا تم اور آتے رہنا۔ جب تک تمہارے دل سے دھتکارے جانے کا شوق ختم نہ ہو جائے اور جب جب آنا۔ فاروق مرتضیٰ ہمدانی! یہ سوچ کر آنا کہ تم اس عورت کے بیٹے ہو۔جس نے پانچ دن کی بیوہ عورت کو بے سائبانی بخشی تھی۔ اور یہ لڑکی جس پہ تمہیں بہت پیار آ رہا ہے ۔ اس کے ہاتھوں سے رزق کے چند نوالے چھیننے والی بھی تمہاری ماں ہی تھی۔‘‘
’’اوہ میرے خدا…..یہ اتنا زہر اگلنے والی لیلیٰ ‘ میرے صبر کا کچھ حصہ اسے بھی دے دیا ہوتا۔ تم چپ کر جائو لیلیٰ! تم کو اللہ کا واسطہ…..‘‘ مما اس حد درجہ بد تمیزی پر مارے شرمندگی کے رو دیں۔
’’بولنے دیں اسے ‘ خود کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگی ہے یہ …..پٹی بندھی ہوئی ہے اس کی آنکھوں پر ‘ سارے زمانے کو ایک ہی آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔ نہ دوست کی پہچان نہ دشمن کا پتہ…..۔‘‘ اس نے دانت کچکچائے ۔ پھر دروازے کی طرف بڑھا۔ مگر چند قدم لوٹ کر پھر اس کے سامنے آ گیا۔
’’حق چھیننے والے اور دلانے والے میں بہت فرق ہوتا ہے……اس فرق کو پہچانو تمہیں کورٹ ‘ کچہری کا راستہ دکھا کر ناکوں چنے چبوا دیتے وہ لوگ اور ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے یہ ‘ میں تھا جس نے اپنی شہ رگ پہ خنجر رکھ کر تمہیں تمہارا حق دلوایا وہ جنہوں نے تم لوگوں کو چٹکیوں میں مسل کر رکھ دیا۔ تمہاری طرف پلٹ کر دیکھنے کے بھی روادار نہیں۔ یہاں آتا ہوں تو یہ میری محبت ہے جو مجھے کھینچ لاتی ہے۔ آئندہ تم نے میری محبت کو میری کمزوری سمجھایا اسے میری بے عزتی بنایا تو یاد رکھو لیلیٰ ! میں اپنے ہاتھوں سے تمہارا گلا دبا دوں گا۔‘‘ وہ انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کرتا ‘ لمبے لمبے ڈگ بھرتا دروازے سے باہر نکل گیا تو ماہین روتی ہوئی راہداری کے اندھیرے میں غائب ہو گئی۔
’’اب اس گھر میں کبھی نہ آنا۔‘‘ وہ اس کے پیچھے بے بسی سے چلاّئی۔
’’بس کرو لیلیٰ…..‘‘ مما نے جیسے اس کی ذہنی حالت پہ ترس کھاتے ہوئے چھوا تو وہ ایک دم کرنٹ کھا کر ان کے ہاتھوں سے نکلی۔
’’یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔ میری زندگی میں جتنی شرمندگی ‘ جتنی بے بسی ہے‘ وہ سب آپ کی وجہ سے ہے۔‘‘ وہ بد تمیزی سے چلاّئی ۔ برستی بارش میں ان کا چہرہ دھلے لٹھے کی مانند سپید پڑ گیا۔
’’میں نے جب جب سر اٹھا کر جینا چاہا‘ جب اپنی عزت نفس کوبحال کیا۔ آپ کی وجہ سے سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔‘‘ وہ اب اونچی آواز میں رونے لگی تھی’’کب تک ہم آپ کی غلطیوں کی سزا بھگتتے رہیں گے۔ یہ شخص جو منہ اٹھائے اپنے احسانات گنوا کر چلا گیا۔ کیا رشتہ ہے ہمارا اس سے اور ایسے ایک نہیں کئی ہوں گے جو ہمارے فخر سے اٹھتے سروں کو کچلنے کے لیے اپنے احسانات کا بار ہم پر ڈالنے کے لیے چلے آئیںگے۔‘‘
بجلی بہت زور سے کڑکی تھی۔
’’چلو یہاں سے…..‘‘ مما نے کپکپا کر اسے برآمدے کی طرف دھکیلا۔
وہ کسی ضدی بچے کی طرح سیڑھیوں پہ اڑکے بیٹھی رہی۔
’’کیوں کی آپ نے جلید مرتضیٰ سے شادی؟ شوہر مر گیا تھا۔ اس سے جڑے رشتے تو زندہ ہوں گے۔ وہیں بیوگی کی زندگی کیوں نہ گزار دی۔ ہم اپنے سگے باپ کے خونی رشتوں میں بے خوفی سے پرورش پاتے۔ ہم ان پر حق جتاتے ‘ وہ اپنے فرض نبھاتے آپ کی ایک غلطی ہمارے لیے زندگی بھر کا روگ ٹھہری۔‘‘ وہ بلا سوچے سمجھے بولی گی۔
اوروہ خود کو اذیت دینے کے لیے دھائیںدھائیں برستی بارش میں بیٹھی کپکپاتی رہی۔
’’عبیدالرحمان! کب واپس آئو گے…..؟ لوٹ آئو۔ دل کا درد ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔‘‘ سینے میں گھٹن سی محسوس ہوئی تو وہ اپنی کلاس کسی اور ٹیچر کے سپرد کر کے آفس میں آ بیٹھی۔
’’میںہر مصلحت ‘ ہر جواز بھلائے تمہارا ساتھ دینے کو تیار ہوں…..میرے اپنوں نے میرے سب حوصلے چھین لیے ہیں ۔ مما نے گہری چپ اوڑھ لی ہے اور ماہین کی آنکھوں میں شکوے اگ آئے ہیں۔میں جانتی ہوں وہ میری غیر موجودگی میں آتا رہتا ہے ان دونوں نے اسے بہت جلد معاف کر دیا ہے۔‘‘ وہ بہت سکون سے بیٹھی حالات کا تجزیہ کر رہی تھی۔
’’اب میں ان لوگوں کو آزادانہ فیصلے کا حق دینا چاہتی ہوں لیکن ضروری ہے کہ پہلے میں اپنے بارے میں کچھ سوچ رکھوں، میں نہیں چاہتی کہ کل کلاں مجھے یہ طعنہ ملے کہ وہ دونوں میری وجہ سے زندگی کی آسائشات سے محروم رہ گئیں۔‘‘ بے کلی بڑھتی جا رہی تھی…..وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔
اکیڈمی بند ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ سب کام معمول کے مطابق جاری تھے۔ وہ گھڑی بھر سوچنے کے بعد بیگ اٹھا کر باہر نکل آئی۔
’’لیں وہ رہیں مس لیلیٰ! ‘‘ کوریڈور میںکھڑے دو میل ٹیچرز نے اسے مڑ کر دیکھا۔ ایک فوراًکلاس میں گھس گیا جبکہ دوسرا مسکراتا ہوا اس کی طرف بڑھ آیا۔
’’مس لیلیٰ ! مٹھائی کھائیے بھئی…..‘‘
’’کس خوشی میں؟‘‘ وہ حسب عادت بہت رکھائی سے بولی۔
’’ارے آپ کو نہیں پتا کیا….؟ عبیدالرحمان صاحب کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔‘‘
’’کیا…..؟‘‘ لیلیٰ نے نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھا۔
مسکراتا چہرہ ‘ محظوظ ہوتی آنکھیں( یہ کس قسم کا مذاق ہے؟)
وہ پلکیں جھپکے بنا اسے دیکھتی رہی۔
’’کیا کہا ہے آپ نے ابھی؟‘‘
اس کے چہرے پہ کوئی بھی رنگ نہ پا کر اس شخص کو جیسے ترس آ گیا تھا اس پر۔
’’افوہ….شاید آپ کو معلوم نہیں۔ پہلے بیٹی تھی ان کی اب بیٹا ہوا ہے۔ سنا ہے ہفتہ بھر گائوں کے غریب غرباء نے پیٹ بھر بھر کر کھانے کھائے ہیں…..ہاں بھئی روپے پیسے کی…‘‘
ان چند لمحوں میں کتنی بار اس شخص کا چہرہ غائب ہوا…..کتنی بار اس کی آواز کھوئی مگر وہ پھر بھی کھڑی تھی….بڑی سختی سے اپنے پیر زمین میں گاڑے۔
’’کیا کہہ رہے ہیںآپ…..؟‘‘ اس نے ایک بار پھر پوچھا‘ ساتھ ہی ذرا سا ہنس دی(کوئی بات سمجھو میں کیوں نہیں آ رہی….؟) اس نے اپنے آپ کو ہوا میں معلق محسوس کیا۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں…..؟‘‘
پھیکے پڑتے ہونٹ….بے رنگ چہرہ ‘ تاثر سے عاری آنکھیں۔
وہ جواب دیے بغیر اسے ایک طرف دھکیلتی بڑی ہموار اور متوازن چال چلتی گیٹ سے باہر نکل گئی۔
فٹ پاتھ پر رش تھا مگر اسے کہیں نہ کہیں جگہ ملتی رہی۔
بس اسٹاپ بہت پیچھے رہ گیا۔
وہ بے دھیانی میں آگے …..آگے ہی آگے چلتی رہی۔ کہیں پہ ٹھوکر کھائی کسی سے کندھا ٹکرایا مگر وہ چلتی رہی۔
ہوا کو اتنی خبر کرو تم!
ہوا جو مجھ سے الجھ رہی ہے!
ہوا جو مٹی میں دفن ہوتی ہوئی اداسی سے اجنبی ہے ہوا جو رستے مٹا رہی ہے۔
ہوا جو میرے اجاڑ دل کا دیا بجھانے کی ضد میں
’’عبید الرحمان! میرے ساتھ یوں مت کرنا۔‘‘ آندھی بلا کا شور ڈالے ہوئے تھی۔ اردگرد کی سب انسانی آوازیں کھو گئی تھیں سکوت گہرا ہوتا چلا گیا۔ آس پاس کے سب لوگ باریک نقطوں کی شکل اختیار کر گئے تھے۔
ہوا کو اتنی خبر کرو تم۔
کہ میرے احساس کا اثاثہ!
یہ میرا دل ہے
یہ میرا اپنا اجاڑ دل ہے
جو خیمۂ جاں کے کنج ویراں کا
آخری کم نفس دیا ہے!
یہ ہی دیا ہے
جو شام ویراں میں
صبح امید کا سبب ہے
ہوا کو اتنی خبر کرو تم
یہ ہی دیا ‘ کائنات میری
یہ ہی متاع حیات میری
اداسیوں سے اٹے ہوئے دشت بے کراں میں یہ ہی مسافر کا’’رخت شب‘‘ ہے
’’میںنے کسی کو نہیں چاہا آج تک تمہارے سوا …..‘‘ دھوبی کے بے جان کپڑوں کی طرح کوئی اسے زمین سے آسمان اور آسمان سے زمین تک پٹختا رہا۔
’’پھر کیسے…..تم کیسے کر سکتے ہو یہ سب…..‘‘
کسی نے اسے کندھے سے پکڑ کر روکا تھا….وہ ایک جھٹکے سے اس کی گرفت سے آزاد ہو کر چلتی رہی۔
یہ اٹھتے گرتے قدم اس کے بس میں نہیںتھے…..سامنے دھند تھی اور اندھیرا۔ آنکھیں گہری نیند سونے کو بے تاب تھیں۔
بس ذرا سی جھپکی لی تھی۔ آنکھ کھلی تو ڈاکٹر سرفراز چودھری اپنی نفیس عینک کے پیچھے سے اسے گھور رہے تھے۔
’’بائیو گلیسمیا…..ڈائٹنگ وائٹنگ کا کوئی چکر ۔ اونہوں۔‘‘ انہوں نے کاغذات سائیڈ ٹیبل پر پٹخے۔
’’مستقبل کی ڈاکٹر کا یہ حال…..بھئی تمہارا ویٹ ایک آدھ کے جی بڑھ بھی گیا تو موٹی ہر گز نہیںکہلائو گی‘ ہوں؟‘‘ انہوں نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا پھر اپنے آفس میں آنے کا اشارہ کرتے ہوئے چلے گئے۔
اسے یونہی ساکت دیکھ کر فاروق سہارا دے کر اٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو اس نے اشارے سے منع کر دیا۔
’’میں ٹھیک ہوں اب…..‘‘ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آفس میں آ بیٹھی…..سینے میں دل کی جگہ بالکل خالی محسوس ہو رہی تھی۔
’’ڈپریشن کا بھی کچھ چکر ہے…..خود کو ریلیکس رکھو ورنہ مسئلہ ہو جائے گا سمجھ رہی ہو ناں؟ کیا کہہ رہا ہوں۔‘‘
اس نے گہری سانس لے کر اثبات میں سر ہلایا۔دوائیوں والا پرچہ فاروق کے ہاتھ میں آیا تو وہ خود بخود اٹھ کھڑی ہوئی اندر باہر ہر طرف گہری خاموشی تھی۔
فاروق نے شاید کچھ کہا تھا۔ وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بہری بنی بیٹھی رہی راستے میں اس کے لیے جوس فروٹ لیا گیا‘ تب بھی کچھ نہیں بولی۔ فاروق سچ مچ اس کے لیے پریشان ہو گیا۔
’’تم کیسا محسوس کر رہی ہو….؟‘‘
’’مجھے نیند آ رہی ہے…..‘‘ سڑکوں پہ لگے نیون سائن جگمگا رہے تھے…..وہ بے تاثر نگاہوں سے باہردیکھتی رہی۔
فاروق نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔کچھ دیر بعد ہی وہ لوگ گھر کے سامنے تھے۔ لیلیٰ ادھر ادھر دیکھے بغیر اپنے کمرے میںبستر پہ جا گری ‘ سونے سے ایک لمحہ قبل تک اس کا دماغ مائوف اور کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا۔
’’فاروق بھائی ! وہ ایک غیر معمولی سوچ سمجھ رکھنے والی لڑکی ہے آپ کو پتا ہے وہ کتنی ذہین اسٹوڈنٹ ہے۔ اسکول سے لے کر اب تک کوئی ایسا مشاعرہ‘ کوئی ایسی ڈبیٹ اور کوئی ایسا عملی مقابلہ نہیں تھا جس میں اس نے فتح نہ پائی ہو۔‘‘ دھوپ ہر طرف پھیل چکی تھی اور سبزگھاس کی تازہ خوشبو فضا میں رچ بس سی گئی تھی۔
ماہین برآمدے میں کرسی ڈالے بڑی سنجیدگی سے اسے لیلیٰ کی کیفیت کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی اور فاروق دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے ایک ٹک سامنے دیکھے چلے جا رہا تھا۔
’’لیکن اس نے انعام میں پائی جانے والی ٹرافی کبھی سنبھال کر نہ رکھی تھی…..کس لیے؟ کہ گھر بھر میں اس کی قابلیت کو سراہنے والا کوئی ایک بھی نہ تھا گھر سے باہر لوگ اس پر رشک کرتے تھے اور گھر کے اندر۔‘‘ وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوئی۔
’’اس نے بیک وقت نہایت اعلا اور نہایت ادنیٰ زندگی گزاری ہے اور اس پر نقصان یہ کہ مما بھی اسے بہت سمجھ دار تصور کرتے ہوئے اس کی طرف سے بالکل ہی لاپروائی برت گئیں۔ نتیجتاً وہ اس گھر اور ماحول سے متنفر ہوتی چلی گئی ہاں بابا سے اس کی خوب بنتی تھی لیکن آپ جانتے ہیں ناں‘‘ اس گھر کی یہ عملی زندگی میں بابا کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر تھا حتیٰ کہ کبھی جو میرا ان سے سامنا ہوتا تو وہ بے اختیار پوچھتے ۔
’’ہاں بھئی ماہین! تم کون سی کلا س میں ہو۔‘‘ اور میںکھلکھلا کر ہنس دیتی۔
’’ابھی پچھلے ہفتے ہی تو بتایا تھا…..ہر ویک اینڈ پر کلاس تھوڑی بدل جاتی ہے۔‘‘ جواباً وہ ہنس دیتے۔‘‘
فاروق نے دیکھا وہ ہنس رہی تھی اور آنکھوں میں نمی کی چمک۔
وہ بھی ذرا مسکرا دیا۔
خاموشی کے چند لمحے آہستگی سے سرکے تب وہ ذرا سا چونکی۔
’’میں لیلیٰ سے کچھ کھانے کا پوچھ آئو ں …..پتہ نہیں کیوں ایک دم ہی چہرہ اتر گیا ہے اس کا ۔ صبح آپ کو یہاں دیکھ کر کچھ کہا بھی نہیں۔ ہے ناں کہیں کوئی مسئلہ نہ ہو…..؟‘‘ اس کا انداز پر سوچ تھا۔
’’کیسا مسئلہ…..؟‘‘ فاروق چونکا۔ ’’اگر کوئی پرابلم ہے تو مجھے بتائو۔‘‘
’’آں۔ نہیں ۔ یہ تو نہیں معلوم ‘ ہو سکتا ہے کسی ٹیسٹ وغیرہ میں فیل….‘‘ وہ اندازے لگا رہی تھی۔
’’افوہ…..بھئی بیماری کا مسئلے سے کیا تعلق…..؟ کھاپی کر ٹھیک ہو جائے گی…..‘‘
’’ہاں شاید ‘ پچھلے دنوں اس نے محنت بھی تو بہت کی کہاں کہاں سر نہیں کھپایا اف یہ لڑکی!‘‘ وہ ماتھے پہ ہاتھ مارتی لیلیٰ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
فاروق اس کے انداز پہ سر جھٹک کر مسکرا دیا۔
’’انسان کتنا ہی زیرک نگاہ ‘ معاملہ فہم کیوں نہ ہو ‘ زندگی میں کچھ نہ کچھ پچھتاوے اس کے حصے میں ضرور آتے ہیں۔ اگر انسان جان سکے کہ آج سے چند سال بعد اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو وہ یقینا آج ایک بہتر فیصلہ کر سکتا ہے لیکن یہی تو مصیبت ہے۔ انسان کو اپنی عقل اور سمجھ لڑانے کے بعد بہت حد تک اپنی تقدیر پہ بھروسا کرنا پڑتا ہے۔‘ ‘ سو تی جاگتی کیفیت میں اس نے مما کو بہت کچھ کہتے سنا تھا۔
’’میرا قصور صرف اتنا تھا کہ میںنے اپنی بچیوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایک جاہل اور اجڈ خاندان سے تعلق توڑ کر ایک ایسے شخص کا ہاتھ تھاما جس کی معاشرے میں ایک عزت تھی۔ ایک نام تھا۔ وہ میری بچیوں کی تربیت کے لیے ایک شائستہ ‘ مہذب ماحول فراہم کر سکتا تھا جہاں لوگوں کے روّیے نا مناسب ہو سکتے تھے لیکن گالی گلوچ‘ طعنے جسمانی اذیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا تمہارے باپ کے خاندان میں‘ میں ایک بیوہ نہیں میراث تھی، جسے ہر طرح سے استعمال کرنے کی خواہش ہر فرد کی آنکھوں سے جھلکتی تھی۔ پھر کیا برا کیا میں نے جو …..جلید مرتضیٰ ہمدانی کا ہاتھ تھام لیا۔
اس گھر کی چار دیواری میں‘ میں نے جیسی بھی زندگی گزاری…..لیکن اس گھر سے باہر مسز جلید مرتضیٰ ہمدانی کے نام سے مجھے جو مقام و احترام ملا۔ اس کے لیے میں جلید کی احسان مند ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہوں گی۔ اور آج تک جلید کے جاننے والوں میں یہ ہی کہا جاتا ہے کہ اس کے جانے سے اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں یتیم ہو گئیں۔‘‘
رات لمبی اور گرم تھی۔
چاند آسمان پر پوری طرح روشن تھا ۔ سلگتی چاندنی میں اسے مما کی کھلی آنکھوں میں چمکتے آنسو صاف دکھائی دے رہے تھے۔
ماہین اپنے کمرے میں ہی سو رہی تھی۔
لیلیٰ نے اپنی ہی سانس کی سرسراہٹ سنتے ہوئے دوسری جانب کروٹ بدل لی۔
اسے زندگی میں پہلی بار اس عورت پہ ترس آ رہا تھا۔
’’اور شاید ایسا کبھی نہ ہوتا عبید الرحمان! جو تم مجھے نہ ملے ہوتے۔‘‘ اسے اپنا اور اپنی ماں کا دکھ مشترک لگ رہا تھا۔
اگلی صبح معمول کے مطابق ہوئی تھی۔
باغیچے میں چڑیوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا‘ ماہین برآمدے کا فرش دھو رہی تھی۔
لیلیٰ نے نہا دھو کر کپڑے بدلے تو مما چونک سی گئیں۔
’’کہاںجا رہی ہو…..؟‘‘ ان کی آنکھیں کم خوابی کے سبب سرخ اور بجھی ہوئی تھیں۔
’’کچھ کام ہے باہر۔‘‘
’’حبس بہت ہے آج۔ ہو سکتا ہے آندھی یا بارش۔‘‘
’’ساون‘ بھادوں میں یہ ہی کچھ ہوتا ہے‘ اب کام تو نہیںروکے جاسکتے ناں۔‘‘ وہ بہت ملائمت سے کہتی باہر نکل گئی۔
مما نے دور امڈتی گھٹائوںکو دیکھا ‘ پھر ماہین کو منع کرنے لگیں۔
’’کیوں کھپ رہی ہو…..؟ رہنے دو صفائی ستھرائی‘ ابھی کچھ دیر میں بارش شروع ہو جائے گی۔‘‘
’’افوہ….روز ‘ روز بارش اور مجھے دیکھیں ابھی تک جھولا بھی نہیں ڈال سکی۔‘‘ اسے خاصا افسوس ہو رہا تھا۔
اور بادل اس تیزی سے آسمان پرچھائے کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا‘ دن میں رات کا سا سماں ہو گیا۔
چھابڑی ‘ ٹھیلے والے ہراساں ہو کر سامان سمیٹنے لگے۔ مسافر بھاگ کر بھاگ دکانوں کے شیڈ تلے پناہ لے رہے تھے اور چند لڑکیاں کالج یونیفارم پہنے سیاہ بادلوں کی گرج چمک سے خوف زدہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے تیزی سے بھاگی چلی جا رہی تھیں۔
اور لیلیٰ ایک نہایت پر سکون ماحول میں کھڑی اس سارے منظر کو بے تعلق سی نگاہ سے دیکھتی رہی پھر ایک طویل سانس لے کر کھڑکی سے نظر ہٹا کر عبید الرحمان کو دیکھنے لگی جو بولتے بولتے تھک گیا تھا اور اب بالکل خاموش تھا۔
’’اور تم سے دس سال بڑی وہ عورت تمہارا دوسرا بچہ پیدا کر چکی ہے۔ باوجود اس کے تمہیں اس سے محبت نہیں۔‘‘
’’محبت…..؟ ہر عورت سے محبت نہیںکی جا سکتی خواہ وہ بیوی ہو اور دو بچے بھی پیدا کر چکی ہو ‘ لیکن بیوی کو اس کا حق دینا پڑتا ہے۔ یہ خاندانی معاملات تم کیا جانو! ہمارا سسٹم ہمیں کہاں کہاں مجبور کرتا ہے۔‘‘
لیلیٰ نے پہلی بار عبیدالرحمان کے چہرے پہ تھکن کے آثار دیکھے تھے۔
’’اور مجھے اپنانے کے بعد تمہارا یہ ہی سسٹم تمہیں‘ مجھے رد کر دینے پر مجبور کر دے گاناں…..؟‘‘ وہ اس کے سامنے میز کے دوسری جانب آ بیٹھی۔
’’یہ نہیں ہو گا لیلیٰ ! مجھے پورا حق ہے کہ میں ذہنی آسودگی کے لیے اپنے لیے کوئی بھی بہتر فیصلہ کر سکوں۔‘‘ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ لیلیٰ کو کس طرح مطمئن کرے۔
’’یہ ہو جایا کرتا ہے عبیدالرحمان! تم نہیں کرو گے کوئی اور کر دے گا۔‘‘ وہ یاسیت سے عبیدالرحمان کی آنکھ میں ہلکورے لیتے دکھ کو دیکھ رہی تھی۔
’’تمہاری خاندانی بیوی یا تمہارے جوان ہوتے بچے جس روز بھی ان کا بس چلا وہ اس دوسری عورت کو تمہاری زندگی سے نکال باہر کریں گے اور میں جانتی ہوں دوسری عورت کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوتا۔‘‘
وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بول رہی تھی۔
’’مجھے تمہاری محبت پر شبہ نہیں مگر کاش تم نے یہ سب مجھے پہلے بتا دیاہوتا۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑتا لیلیٰ ! ہاں اگر میں تمہیں پہلے بتا بھی دیتا تو؟ کیا محبت جانچ پرکھ کر اونچ نیچ دیکھ کر کی جاتی ہے۔‘‘ اس کے ہاتھوں کی گلابی پوروں میں اضطراب کی کپکپاہٹ اتر آئی تھی۔
’’اور….کیا تم میرے معمولات سے واقف نہیں ہو…..میرے روز و شب کیسے گزرتے ہیں‘ کیا تم نہیں جانتیں؟ اس عورت کی زندگی میںمیری صرف چند پل…..پھر کیسا خوف ‘ کیسا اندیشہ تم چاہو تو میں حق مہر میں کوٹھی ‘ بنگلہ ‘ کار ‘ کیش…..جتنا تم چاہو۔‘‘
’’عبیدالرحمان! تمہیں کھونا میرے لیے اتنا اذیت ناک ہو سکتا ہے مجھے خبر نہ تھی۔‘‘
وہ نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے دل میں اٹھتی درد کی تیز لہروں کی بمشکل برداشت کر رہی تھی۔
’’آج سے بیس برس قبل میری ماں نے ایک فیصلہ کیا تھا عبیدالرحمان ! جس نے میری زندگی کے بیس برس نگل لیے‘ کاش میںدکھا سکتی تمہیں اپنی مجروح انا اور زخم خوردہ عزتِ نفس…..جو اس دنیا میں مجھے ہر چیز سے بڑھ کر پیاری تھی…..‘‘ وہ لب بھینچے دونوں ہاتھ میز پہ رکھے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
’’لیکن میری ماں کی زندگی نے مجھے بہت سے سبق بن کہے سکھا دیے ہیں وہ ایک کمزور عورت تھی۔ اس کی اولاد‘ اس کی مجبوری تھی۔ میری مجبوری صرف میری محبت ہے۔
اور…..
محبت کی مقتل گاہ ہمیشہ سر سبز ہی رہتی ہے…..‘‘
’’چپ کیوں ہو لیلیٰ! کچھ تو کہو…..‘‘ عبیدالرحمان نے اسے کسی گہرے خیال سے چونکا یا۔
’’کچھ نہیںکہنا مجھے…..‘‘ اس نے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے دھیرے سے کہا۔ ’’مجھے گھر سے باہر ہی نہیں گھر کے اندر بھی سر اٹھا کر جینا ہے۔‘‘
’’سنو عبیدالرحمان!‘‘ وہ چند قدم دور جانے کے بعد پھر اس کی جانب پلٹ آئی۔ ’’یہ ہماری آخری ملاقات ہے‘ آج کے بعد اگر کبھی اچانک ہمارا سامنا ہو بھی گیا تو شاید میں تمہیں پہچان نہ پائوں لیکن پلیز…..‘‘
نجانے کیسے اس نے اپنا کپکپاتا ہوا ہاتھ عبیدالرحمان کے سرد‘ بے جان ہاتھ پہ رکھا۔
’’اس محبت کو روگ مت بنا لینا۔ میری زندگی میں پہلے ہی بہت سے دکھ ہیں۔‘‘
اس کا پہلا اور آخری اظہار…..
عبید الرحمان اس کے ہاتھ کے لمس کو پوری طرح محسوس بھی نہ کر پایا تھا کہ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوٹل سے باہر نکل آئی ۔
بارش ابھی ہو رہی تھی۔
آنکھوں میں بہت سے جمع آنسو بہا دینے میں اسے کوئی پریشانی نہ ہوئی۔
کوئی پریشانی نہ ہوئی۔
’’میں جانتی ہوں عبیدالرحمان ! تم نے مجھ سے سچی محبت کی ہے…..لیکن یہ اس محبت کا دسواں حصہ بھی نہیں جو میں نے تم سے کی۔‘‘ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے اس نے بارش کی گھنی بوچھاڑ میں چھپتے ہوٹل کے دروازے کو دیکھا۔
وہ ابھی تک باہر نہیں آیا تھا ۔
’’تم پہلے مرد تھے جس نے مجھے سمجھا ‘ جانا‘ سہارا دیا‘ حوصلہ بڑھایا میری آنکھوں میں کچھ خواب سجائے لیکن اپنی محبت میں تم بھی شاید خود غرض ہو گئے تھے۔‘‘
اس نے سر جھٹکا اور سامنے دیکھتے ہوئے چلنے لگی۔
زندگی میں اب بہت لمبا سفرطے کرنا تھا اس نے۔
’’افوہ کتابیں‘ کتابیں۔ صرف کتابیں لیلیٰ ! تم تو سچ مچ بوڑھی ہو گئیں۔ دیکھو ناں باہر کا موسم۔‘‘
ماہین کا اپنا موڈخوشگوار تھا۔ اسے بھی کھینچ کر باغیچے میں لے آئی۔
سہ پہر ڈھلنے کو تھی۔
تیز ہوا چل رہی تھی۔ جامن کے درختوں میں چھپے طوطے ٹائیں ٹائیں کیے جا رہے تھے۔
’’جھولا جھولیں…..؟‘‘ ماہین نے اس کی طرف دیکھا۔
’’اونہوں‘ تم جھولو میں دیکھتی ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے کرسی پہ ٹک گئی۔ ماہین کندھے اچکاتی جھولے پہ جا بیٹھی۔
’’آج کل کتابوں پہ اتنا زور کیوں…..؟‘‘ اس نے بظاہر سر سری لیکن حساس لہجے میں پوچھا۔
’’پچھلے دنوں بہت حرج ہوا….سوچا جب تک نیا روزگار نہیں ملتا یہ کمی پوری کر لوں…..‘‘ کاش زندگی کی ہر کمی یونہی پوری کی جا سکتی۔
’’بہت آہستہ بول رہی ہو ‘ کچھ سنائی نہیں دیا۔‘‘
’’خود تو آسمان پہ چڑھی بیٹھی ہو…..میں کیا کروں؟‘‘ وہ اکتا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ ماہین بے اختیار ہنس دی۔
’’اب بھی تو سنائی دیا ہے۔‘‘ لیلیٰ ذرا سا ہنس کر چپ ہو رہی۔
’’تم نے دیکھا‘ میں نے کیاریاں بنا کر سبزیوں کے بیج بو دیے ہیں۔ یہ خرچا تو کم ہو۔‘‘ ماہین اس کی خاموشی توڑنے کو خوامخواہ بولے جا رہی تھی۔
’’یہ کتنی جلدی مانوس ہو جاتی ہے…..نئے ماحول سے ‘ نئے گھر سے۔ بے فکری ‘ آزادی سے بھرپور ‘ پر سکون شب و روز۔‘‘ لیلیٰ کو اس پہ رشک آنے لگا۔
’’لیلیٰ! یہ خط پڑا تھا بیرونی دروازے پر …..ڈاکیا ڈال گیا ہے شاید۔‘‘ مما نے بند لفافہ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
’’اوہو….نئے گھر میں ہماری پہلی چٹھی…..۔‘‘ماہین نے وہیں بیٹھے بیٹھے شور مچایا۔
ہلکے گلابی رنگ کے پھولوں سے سجے کاغذ پہ لکھے حروف نے لیلیٰ کو کچھ لمحوں کے لیے ساکت کر دیا تھا۔
خاموش تحریر میں بولتا لہجہ کس کا تھا؟
ایک سرد سی لہر پیر کے انگوٹھے سے لے کر سر کے پچھلے حصے تک گئی۔
اس نے ایک طویل سانس لیا اور مرے مرے قدم اٹھاتی اپنے کمرے میں آ گئی۔ نیم تاریک کمرے میں ٹھنڈک بھری تھی۔
وہ کرسی پہ گر کے اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی۔پھر بڑی ہمت سے وہ تحریر اپنے سامنے سجا لی۔
مجھے معجزوں پہ یقین نہیں
مگر آرزو ہے کہ جب قضا
مجھے بزم دہر سے لے چلے
تو پھر ایک بار یہ اذن دے
کہ لحد سے لوٹ کے آسکوں
تیرے در پہ آ کے صدا کروں
تجھے غمگسار کی ہو طلب
تو تیرے حضور میں آ رہوں
یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں۔
’’کس کا خط ہے لیلیٰ؟‘‘ ماہین دروازے پہ جھکی پوچھ رہی تھی۔ اس نے خط الٹ پلٹ کر دیکھا۔
اس کا نام کہیں نہیں تھا….نہ ہی بھیجنے والے کا۔
’’معلوم نہیں ۔ ڈاکیا غلط پتے پر دے گیا ہے شاید۔‘‘ اس نے کھوئے کھوئے سے لہجے میںکہا۔
اور بہت احتیاط سے اس کاغذ کو تہہ کر کے اپنی الماری میںرکھنے لگی۔
’’غلط پتے پر دیے جانے والے خط یوں سنبھال کر رکھے جاتے ہیں کیا؟‘‘ ماہین نے پوچھنا چاہا مگر پھر یونہی خاموش ہو گئی۔
کل شام اچانک گول کمرے کی چھت زمین بوس ہو گئی۔ ایک پل کے لیے ان تینوں کے حواس جاتے رہے۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ لیلیٰ اپنے کمرے سے ماہین اور مما باورچی خانے سے نکل کر باہر کو بھاگیں۔
پھر ٹھٹک کر رہ گئیں۔
راہداریوں اور گول کمرے کی چار دیواری میں گردو غبار ابھرا تھا۔ کہیں کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔
بھاری ملبے اور کمرے کے دیواروں پہ جھکے وسیع آسمان کو دیکھ کر وہ تینوں ہی اپنی اپنی جگہ خوف سے زرد چہرے لیے ساکت کھڑی تھیں۔
’’مما چھت گر گئی…. ‘‘ ماہین کی آواز سب سے پہلے لرزی۔
’’اگر ہم اندر ہوتے تو…..؟‘‘
’’اوہ میرے خدا!‘‘ مما جیسے اپنی جگہ تھرا کر رہ گئیں۔ پھر ان دونوں کو کھینچتے ہوئے باغیچے میں اتر گئیں۔
’’یہ دیواریں اور چھتیں پہلے ہی کمزور دکھائی دیتی تھیں۔ رہی سہی کسر بارش نے پوری کر دی۔‘‘
ماہین کے حواس بحال ہوئے تو مما سے لپٹ کر رونے لگی۔
’’اتنی بھاری چھت اتنے زور سے نیچے آ رہی اگر ہم کمرے میں ہوتے تو کس بری طرح کچلے جاتے۔‘‘
’’نہیں نہیں ‘ بری بات منہ سے نہیں نکالتے ۔ شکر کا کلمہ پڑھو‘ ہم تینوں محفوظ ہیں۔‘‘ مما بڑے حوصلے سے اسے دلاسا دے رہی تھیں۔
گھر کے آس پاس خالی پلاٹ تھے۔ عقب میں صرف ایک گھر تھا وہاں سے کوئی پوچھنے بھی نہ آیا۔
رات کو مما نے تینوں بستر صحن میں لگا دیے۔ ماہین نے ڈر کے مارے برآمدے میں بھی قدم نہ رکھا۔
لیلیٰ ان دونوں سے آنکھیں چراتی پشیمان سی پھرتی رہی۔
اگلی صبح فاروق آیا تو ماہین اسے دیکھتے ہی رونے بیٹھ گئی۔
’’شکر کریں۔ آپ کے سامنے زندہ سلامت بیٹھے ہیں ورنہ….‘‘
’’کیوں ملک الموت ہاتھ ملا گئے کیا؟‘‘
’’کمرے کی چھت گر گئی۔ آپ مذاق سمجھ رہے ہیں۔‘‘
’’ہائیں چھت ۔‘‘ وہ چونکا پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے تک گیا‘ چند لمحے وہیں کھڑا ہونٹ چباتا رہا پھر غصے سے انگارہ ہوتا باہر آ گیا۔
’’بس….اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ اٹھارویں صدی کا گھر…..معجزہ ہے کہ ابھی تک اپنے قدموں پہ کھڑا ہے ۔ اٹھو ماہین! سامان باندھوہم ابھی اور اسی وقت یہاں سے جا رہے ہیں۔ڈیڑھ مہینے سے وہ گھر خرید کر تم لوگوں کی منت سماجت کر رہا ہوں…..لیکن غلطی پر تھامیں۔ اب ایک ایک کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالوں گا اور لے جائوں گا۔‘‘
ماہین نے اجازت طلب نظروں سے ماں کو دیکھا۔ وہ بے بسی سے لیلیٰ کی طرف دیکھ رہی تھیں جو بغیر کسی سوال جواب کے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
’’کیا دیکھ رہی ہو کھڑی ‘ تمہیں سنائی نہیں دیتا۔‘‘ وہ ماہین پر گرجا۔
’’سامان تو سارا چھت کے نیچے۔‘‘ وہ منمنائی۔
’’اب ظاہر ہے‘ تم چھت اٹھا کر تو سامان نکالنے سے رہیں۔ اگر کچھ اور ضروری چیزیں ساتھ لے جانا چاہتی ہو تو اٹھا لو….اور اسے تو سب پہلے فولڈ کر کے بیگ میں ڈالو۔‘‘ اس کا اشارہ صاف صاف لیلیٰ کی طرف تھا۔
ماہین پھیکی سی ہنسی ہنس کر وہاں سے ہٹ گئی۔
اگر لیلیٰ نہیں مانی تو…..؟‘‘
لیلیٰ کو اندھیرے کمرے میں کرسی پہ جمے دیکھا تو وہ بددل سی ہو گئی۔
’’اسے کسی کا خیال نہیں…..‘‘ اس کے قدموں کی رفتار سست پڑ گئی۔ مما اس کے قریب سے ہو کر اس کے کمرے میں داخل ہو گئیں۔
’’لیلیٰ ! تم جانتی ہو‘ ہم تمہارے بغیر نہیں جائیں گے۔‘‘ وہ اس کے عقب میں کھڑی تھیں۔
’’وہ ہاجرہ بیگم کا سگا بیٹا ہے‘ کل کلاں اس نے پھر آپ کو نکال باہر کیا تو…..؟‘‘
’’فاروق بھیا نے وہ گھر مما کے نام پر خریدا ہے۔ کاغذات مما کے پر س میں ہیں۔ کوئی انہیں ان کے گھر سے کیسے نکال سکتا ہے…..؟‘‘ ماہین راہداری کے اندھیرے میں چڑ کر چلائی تھی۔
’’لیلیٰ میری جان ! زندگی یوں نہیںگزرتی…..تم نہیں جانا چاہو گی تو ہم نہیں جائیں گے لیکن رویوں میں لچک اور دلوں میں گنجائش رکھنی پڑتی ہے…..‘‘ مما اس کے بال سہلاتی بڑے سبھائو سے کہہ رہی تھیں۔
’’غلطی…..زیادتی ‘ نا انصافی ‘ جرم ‘ گناہ انسانوں سے ہی سرزد ہوتے ہیں کبھی انہیں بدلے میں سزا دی جاتی ہے اور کبھی انہیں بھلا کر معاف بھی کر دیا جاتا ہے۔ سوچو اگر یہ سب نہ ہو تو زندگی کتنی بھیانک کتنی سفاک ہو جائے اور یہ بھلاسا لڑکا جو اپنے باپ کے وعدوں کا پاس رکھنے کے لیے ۔ ہماری چاہ میں اپنوں کی ناراضی سہہ رہا ہے۔ اسے ہم کس بات کی سزا دیں؟ بتائو چل رہی ہو ناں ہمارے ساتھ….؟‘‘
لیلیٰ کچھ دیرتک گم صم بیٹھی رہی۔
’’آپ جانے کا فیصلہ کر چکی ہیں مما اور میں…..آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘ اس کی آواز میںآنسوئوں کی آمیزش تھی۔
مما نے بغیر کچھ کہے اسے سینے سے لگا لیا۔
ماہین چھلانگیں لگاتی باغیچے میں بھاگ گئی۔
لیلیٰ بد دلی سے اپنا سامان سمیٹ کر اسے بلانے آئی تو وہ دیوانوں کی طرح ایک ایک درخت کے پاس جا کر خدا حافظ کہہ رہی تھی۔
’’اگرچہ مجھے یہاں سے جانے کا بہت غم ہے۔ لیکن میرے بچو! اداس مت ہونا۔ ہم پھر بھی ملتے رہیں گے……‘‘ وہ کسی درخت کی ٹہنی سے جھولتی…..کسی کے تنے سے لپٹی جا رہی تھی۔ لیلیٰ اسے دیکھ کر بے اختیار مسکراتی چلی گئی۔
’’یہ لڑکی درختوں ‘ پودوں ‘ جانوروں اور انسانوں سے یکساں محبت کرتی ہے…..شاید اسی لیے جواباً بہت محبت پاتی ہے۔ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دینا۔اس کے لیے کتنا سہل ہے…..اور معاف کرنے کی یہ عظیم صفت ہی اس کو اتنا خوش رکھتی ہے۔‘‘ وہ حسرت سے اس کے چہرے پر پھیلی سچی خوشی کا عکس دیکھتی اور محسوس کر تی رہی۔
’’اور مجھ جیسے انا کے مارے ہوئے کٹھور دل لوگ شاید یونہی….ہمیشہ زخم خوردہ سی زندگی جیسے ہیں۔‘‘ اس کا دل دکھ سے بھر گیا تو بے اختیار ہی ہونٹ کچلنے لگی۔ فاروق صحن میں کھڑا مسلسل پکار رہا تھا۔
ماہین بھاگتی ہوئی آئی۔
’’میری اچھی لیلیٰ ! شکر ہے جھاڑو پوچے سے تو جان چھوٹے گی۔‘‘ وہ ایک دم آ کر اس لپٹ گئی۔
’’اچھا بس بس ….یہ بھی جا رہی ہے تمہارے ساتھ…..وہاںجا کر جی بھر کے پیار کر لینا ۔‘‘ فاروق نے آ کر اسے ٹوکا۔
’’ہاں جا رہی ہوں لیکن میں زیادہ تر تمہیں برداشت نہیں کروں گی۔ جس روز میری جاب ہو گئی۔ اسی روز اپنا فلیٹ خرید کر شفٹ ہو جائوں گی۔‘‘
اس کے پیچھے راہداری میں جاتے ہوئے لیلیٰ نے سنجیدگی سے کہا۔
فاروق ایک دم رک گیا ۔ اسے بھی ٹھٹک جانا پڑا۔ ماہین آگے نکل گئی تھی۔
’’ہاں ہاں چلی جانا لیکن اس سے پہلے کسی ٹھیک ٹھاک قوت برداشت رکھنے والے بندے کو ڈھونڈ لینا۔ ہم بخوشی تم سے جان چھڑا لیں گے۔‘‘ اس نے جان بوجھ کر اس کی بات کو مذاق میں ٹالا۔
لیلیٰ پل بھر کو چپ سی ہو گئی۔ کیا کچھ نہ یاد آیا تھا اس ایک پل میں پھر مدھم لہجے میں بولی۔
’’ہاں…..ڈھونڈ لوں گی…..میں اپنے لیے خود راستے بنا سکتی ہوں۔ لیکن فاروق!‘‘ وہ دانستہ کچھ دیر کو خاموش ہو گئی۔
’’میں چاہتی ہوں ماہین ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔ یہ خیال ابھی ابھی…..‘‘ نیم تاریکی میں بھی فاروق کے چہرے کی حیرت اس سے چھپی نہ رہ سکی۔
’’وہ بہت معصوم ہے ‘زمانے کے سرد و گرم سے نا واقف…..اس کی چھوٹی سی کائنات میں کسی مکر و فریب ‘ ریا کا کوئی دخل نہیں۔ اور یہ دنیا فرشتہ صفت لوگوں سے کچھ اچھا سلوک نہیں کرتی۔ میں جانتی ہوں ۔ تم بہت اچھے انسان ہو اسی کی طرح خالص۔ بے ریا تم اسے خوش رکھ سکو گے‘ ہے ناں؟‘‘
’’وہ مجھے اپنا بھائی سمجھتی ہے۔‘‘ فاروق نے بری طرح چڑ کر جتایا۔
’’رشتے بدل جائیں تو جذبات بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور وہ یوں بھی بہت کمپرومائزنگ ہے۔‘‘
’’ضروری نہیں ‘ میں بھی اتنا ہی کمپرومائزنگ ثابت ہوں اور ویسے بھی یہ بہت قبل ازوقت ہے اور ‘ اور تمہیں بھی بڑی بوڑھیوں جیسی باتیں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ ذرا ذرا سی خفگی ‘ ذرا ذرا سی گھبراہٹ میں وہ تیز تیز چلتا اور بولتا ہوا اچھا خاصا پریشان ہو رہا تھا۔
اور زندگی میں شاید پہلی بار یہ لمبا چوڑا جوان اسے کسی ننھے اور معصوم بچے کی طرح بہت بہت پیارا لگا تھا۔
’’اور دنیا میں کچھ لوگ بہت ہی خالص…..بہت پیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پھولوں طرح خوب صورت ‘ باتیں خوشبو دار اور جذبات کھلتی چاندنی سے نرمل اور کومل ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی …..جیسے یہ‘ ماہین اور فاروق…..‘‘
وہ فاروق کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے راہداری کی تاریکی سے نکل کر کھلے آسمان کی روشنی ‘ چمک دار صبح تلے آگئی تھی۔
مما اور ماہین اسی کے انتظار میں تھیں۔
ماہین جھٹ سے فرنٹ سیٹ جا بیٹھی۔ فاروق نے سٹپٹا کر لیلیٰ کو دیکھا پھر نظریں چرا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ لیلیٰ مما کے ساتھ عقبی سیٹ پہ بیٹھی۔
کچھ بھی تھا…..گزرے دنوں کی بے پناہ تھکن اسے زائل ہوتی ہوئی محسوس تو ہو رہی تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close